خدا کا آدمی

میں آدمی ہوں۔
آدمی ہوتا ہی کیا ہے؟ یہ لم دھڑنگ، بے ڈھنگ مشٹنڈہ؟ بے ڈول جسم اور حواس۔ سونگھنے کے لیے ایک ناک اور دیکھنے کو دو آنکھیں ہیں۔ سننا ہو تو دو ہی کان اور بولنے، چکھنے کو ایک منہ بھی ہے۔ سارا آدمی سمٹ کر ایک ہی دھڑ میں سمویا ہے۔ مضبوط بازو ہیں اور دو ہیں۔ چلنا پڑے تو ٹانگیں بھی دو ہیں۔ یہ آدمی ہے۔
ناک کو دیکھیے۔  میری ناک تھوڑی لمبی ہے، اونچی بھی ہے۔ تو کیا ہوا جو آپ کی جیسے پھس گئی ہو؟ ہم دونوں ہی ناک کو بندہ برادری میں اونچی رکھتے ہیں۔ جیسا میں، ویسے آپ۔ ضرورت پڑے تو ناک کو موڑ بھی لیتے ہیں۔ موم کی مثال۔ ناک چڑھاتے بھی ہیں اور ناک ہی کو کاٹنے کے در پہ رہتے ہیں۔ 
آنکھیں روشن ہوں یا نہیں، پھر بھی ایک جیسی ہیں۔ اب کیا کہوں، آپ کی آنکھیں بڑی بڑی ہیں۔ ماتھے پر سجتی ہیں۔ میری جیسے مینڈک کی ہوں۔ ہر وقت باہر کو ابلی رہتی ہیں۔ پھر بھی، ان کا کام دیکھنا ہے، سو یہ کام تو ایک سا کرتی ہیں۔ ہمیں ایک سا ہی تو دکھتا ہے۔ یا شاید نہیں، میں وہ دیکھتا ہوں جو آپ دیکھنا نہیں چاہتے۔ ارے نہیں، ہم دونوں ایک ہی زاویے سے کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ مگر دیکھتے تو بہرحال ضرور ہیں۔ ہاں، ضرورت پڑتی ہے تو میں بھی آپ کی ہی طرح آنکھیں دکھاتا ہوں اور آپ بھی تو میرے ہی جیسے آنکھیں پھیر لیتے ہیں، ہم کوئی الگ ہیں کیا؟
سننا آئے تو اس کے لیے دو عدد کان بھی ہیں۔ کسی کے کان اگر چھوٹے ہیں تو کچھ ایسے بھی ہیں، جن کے چپو جیسے ہوں۔ جیسا میں، ویسے آپ۔۔۔ ہم کم کم سنتے ہیں اور ایک دوسرے کی تو بالکل بھی نہیں سنتے۔ ہیں جی؟ بلکہ، جی نہ مانتا ہو تو ایک کان سے سنتے ہیں اور دوسرے سے نکال دیتے ہیں۔ کان بھی کوئی چیز ہیں؟ سن رکھیں تو بلا کا سنتے ہیں۔ جو نہ کہی گئی ہو، وہ بھی سنتے ہیں۔ دیواروں تک کو کان لگ جاتے ہیں۔ بسا اوقات تو یہ خود بخود بول پڑتے ہیں اور وہ سنتے ہیں، جو کسی دوسرے کو سنائی نہیں دیتا۔
پھر منہ ہے۔ اس کا کیا کہوں؟ اس کو سوائے بولنے، کھانے چکھنے اور بنائے رہنے کے سوا کوئی کام ہے کیا؟ یہ صرف منہ نہیں ہے۔ اس میں بتیسی بھی ہے۔ دانت چبانے کے کام آتے ہیں۔ ان کو پیسنے پر غصہ ظاہر ہوتا ہے۔ بولنے کا ایک ہی طریقہ ہے، منہ سے بولیں، چھٹانک کی زبان ہلانے میں کتنی محنت لگتی ہے؟ بعض لوگ منہ سے زہر اگلتے ہیں اور وہی میٹھی باتیں بھی کرتے ہیں۔ اس منہ کی دھواں دھار دیکھیں، اس سے سراہتے ہیں تو اسی سے اگلے کے چھکے چھڑا دیتے ہیں۔ معافی تلافی بھی منہ سے مانگی جاتی ہے۔ منہ زبانی، کچھ بھی کہہ لیجیے، وعدہ کیجیے، اور وقت آنے پر وعدے سے مکر بھی جائیے۔ چھوٹا سا منہ ہے اور واللہ، مجھے تو اس پر حیرانگی آتی ہے۔ بیک وقت، یہ ایک نہر کے جیسا ہے۔ جس میں سے ایک طرف شہد اور اسی طرف سے گوبر بہہ رہا ہے۔ استغفار۔ کیسی چیز ہے یہ؟ منہ کی بواسیر، منہ کی کھانا، منہ آئی بات، منہ بولا، منہ زبانی، منہ ماری، منہ چڑھانا، منہ کی یاری، منہ مانگے دام دینا دلانا، منہ ول مکے کے ، منہ نہ لگانا، منہ دھونا، منہ موڑ لینا، منہ کا سواد اور منہ توڑ دینا اس کی سینکڑوں میں سے چند ایک خصوصیات ہیں۔ منہ آدمی کا خاصہ ہوتا ہے۔
بس، میں سر دھڑ، ٹانگ اور بازو وغیرہ کا تذکرہ نہیں کروں گا۔ آدمی سے اتنی ہی آشنائی کافی ہے۔ آدمی، شناسا ہو جائے تو پھر وہ کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ توقعات پال لیتا ہے۔ دوسرے آدمی کے منہ، ناک، کان، آنکھ اور ہاتھ بازو کو اپنا سمجھنے لگتا ہے۔ اس کا مالک بننے میں جت جاتا ہے۔ وہ بولو، جو میں بولتا ہوں۔ میری کہی سن تو لو، میری ہی سنو۔ یہ کیا میری طرف ناک چڑھا رکھی ہے؟ ارے ۔۔۔ کیا میں تمھیں پڑا دکھائی نہیں دیتا ہوں؟ تم تو میرے ہو۔ آدمی ہو۔ کیسے آدمی ہو؟ میں تمھارا ہوں۔ مجھ سے ایسی کلفت؟ مجھ سے رشتہ پالو۔ مجھ سے بندھن باندھو۔ بندھن کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں۔ ہم آدمی نہیں ہیں۔ ہم جانور ہیں۔ ہم سماجی جانور ہیں۔ تم نہیں ہو تو ہم سے دور رہو۔ مر جاؤ۔ کہیں پہاڑوں میں جا بسو۔  یہ شرطیں پوری نہیں تو تم ہم میں سے نہیں۔ آدمی ہی نہیں۔ تمھاری آنکھ کیا اور تمھارے منہ میں جو زبان ہے، اس کی حیثیت ہی کیا؟ اچھا اچھا، اتنی جرح کی ضرورت نہیں۔ ٹھیک ہے، تم آدمی تو ہو مگر یہ کیسے آدمی ہو؟ ہماری مرضی کے آدمی نہیں ہو۔ آدمی کے کئی رنگ بنا لیے۔ میں سفید ہوں، تم کالے ہو۔ تمھاری ناک چپٹی اور میری لمبی ہے۔ میں مسلمان، تم کافر۔ عیسیٰ کو میں بھی مانتا ہوں مگر تم صرف عیسیٰ کو مانتے ہو۔ ہندو کی ایسی کی تیسی۔ مسلوں کی جڑ اکھاڑ دو۔ ارے بھائی، میں سرخ جھنڈے والا ہوں، تمھارا سبز ہے۔ سفیدی کا یہاں کیا کام؟
 بس، ہم تو آدمی کے بارے میں مزید کچھ کہنے سے باز آئے۔ ناک، کان، آنکھ اور منہ تو گروی رکھ دیے ہیں۔ اب کیا سر دھڑ، ہاتھ اور پاؤں بھی حوالے کر دیں؟ نہیں، ہر گز نہیں۔ ہمیں معاف رکھیے۔
چلو شکر ہے، مانتے ہو کہ آدمی تو ہوں۔ یہ کوئی اتنی خاص بات نہیں۔ زمین میں گاڑھ کر مانا ہوا آدمی ہوں۔ تو میں پوچھتا ہوں، آدمی ہو کر ایسا آسمان اٹھا رکھا ہے؟ ہم انوکھے تو نہیں ہیں۔ آپ اور مجھ جیسے سات ارب دوسرے بھی ہیں۔ ہاں، آپ چار روٹیاں زیادہ کھاتے ہوں گے۔ تھوڑا مہنگا کپڑا اوڑھ لیتے ہوں گے۔ میں پیدل چلتا ہوں تو آپ گاڑی پر سوار ہوں گے۔ پھر بھی، آپ مجھ سے بہتر آدمی کیونکر ہوئے؟ آپ کے سرخاب کے پر ہیں اور میں انسانی بالوں میں ڈھکا ہوں؟ آپ گورے چٹے ہیں تو کیا ہوا، میں بھی تو سانولا ہوں۔ سانولا ہوں تو کیا ہوا، میرا قد بھی تو چھ فٹ ہے ناں! خود کو دیکھا ہے؟ بس پانچ فٹ کے بونے ہیں۔ سر پر بال بھی کچھ خاص نہیں ہیں۔ آپ کو اپنے آپ پر ناز ہے تو میں بھی تو دل رکھتا ہوں؟ اچھا یعنی، صاحب کو اپنے کسرتی جسم پر ناز ہے۔ تو کیا ہوا۔ میں بے شک پتلا چھریرا سا ہوں گا مگر یہ بھی تو دیکھیے کہ دوڑنے میں کون آگے ہے؟ آئیے دوڑ لگا کر دیکھ لیتے ہیں۔ بھئی، بے شک آپ اچھے خاصے صحت مند ہیں، اور میں ایک عرصے تک سگرٹ پھونکتا رہا ہوں۔ مگر دیکھ لیجیے، دوڑنے میں دھول نہ چٹا دی تو میرا نام نہیں!
نام؟ آپ کا نام کیا ہے؟ آ ہاں۔۔۔آپ صاحب ہیں۔ اچھا، ہوں گے۔ چوہدری صاحب۔ نہیں، ایسی بات نہیں۔ میں بھی خان ہوں۔ آپ چوہدری ہیں اور میں خان ہوں۔ میں بھی سوچ رہا تھا، آپ اتنا اکڑ کیوں رہے۔ یہ سینہ کاہے کو پھیلا رکھا ہے۔ نام کا اثر ہے۔ بھئی، اس میں کاہے کا کمال ہے؟ میں خان ہوں۔ میرا باپ خان تھا، اس کا باپ اور اس کا باپ۔۔۔ آپ بھی تو اکیلے چوہدری نہیں ہیں۔ آپ کے چاچے مامے بھی چوہدری ہوں گے۔ ان کے شریکے بھی چوہدری ہوں گے۔ اب چوہدری، چماروں کا مقابلہ تو نہیں کرتے ہوں گے؟ لازم، جن سے آپ سینگ الجھاتے ہیں وہ آپ کے پائے کے لوگ ہوں گے؟ جن سے آپ حسد پالتے ہوں گے۔ ان کے پلے کچھ ہو گا، جس کو آپ چھین کر رکھنا چاہتے ہوں گے۔ نہیں؟ میں اور آپ، پھنے خاں ہوں گے، مگر ہم اس دریا میں اکیلے تو نہیں ہیں۔ کئی دوسرے بھی ہیں۔ وہ ہم سے بڑے مگرمچھ ہیں۔ آپ اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ ہمارا مسئلہ ہی یہ رہا ہے کہ ہر دوسرا ہم سے بڑا دوسرا ہے۔ اس دوسرے کے لیے، کسی تیسرے کی کوئی گنجائش نہیں۔ نام میں کیا رکھا ہے؟ اس میں ہمارا کیا کمال ہے؟ جس علم پر نازاں ہیں، اس کے بھی تو بے شمار وارث ہیں۔ دولت، امارت اور شہرت تو ہاتھ کی میل ہوتی ہے، پتہ نہیں کس کس کا بوجھ ہم اٹھائے بیٹھے ہیں۔
ارے بھئی، آپ زر، زمین کے مالک ہوں گے۔ میں بھی تو اپنی مرضی کا مالک ہوں۔ یقیناً، آپ مجھ سے اچھا کھاتے ہوں گے۔ مگر میں بھی تو وہی روٹی کھاتا ہوں۔ گھاس تو نہیں کھاتا؟ ہم دونوں ہی روٹی کھاتے ہیں۔ آخر کار، ہم دونوں ہی آدمی ہیں۔ اب روزی میں کیسا مقابلہ؟ ہم آدمی ہیں۔ ایک دوسرے سے، آدمیوں سا برتاؤ کرتے ہیں۔
آپ مان کیوں نہیں لیتے؟ ہم آدمی، برابر ہیں۔ جی کو کڑا کر کے مان لیجیے۔ اپنی انا، شان و شوکت، نمود اور اپنی غرض سے آگے نکلیں۔ ہم ایک جیسے آدمی ہیں۔ ہمارا برتاؤ بھی کوئی مختلف نہیں۔ اور کمزوریاں بھی یکساں ہیں۔ ہم اپنی خواہشات کے غلام ہیں۔ اب چھوٹی یا بڑی، اچھی یا بری، نیم یا پوری، حاصل اور لاحاصل کوئی پیمانہ تو نہیں؟ آدمی ہیں، کتے کی دم تو نہیں۔ مان لیجیے۔
اچھا تو یہ بات ہے۔ یہ اچھی کہی۔ کچھ اور نہ بن پڑا تو یہ کیا کہہ دیا؟ یہ کیسی بات کر دی؟ یہ بھی کوئی بات ہے؟ کہتے ہیں کہ یہ سب خدا کی دین ہے؟ خدا کا فیصلہ ہے؟ خدا نے ایسا بنایا ہے؟ خدا نے۔۔۔ خدا کی۔۔۔ خدا کے۔۔۔؟
(تیوری چڑھنے لگتی ہے)
دیکھیے صاحب، آپ ہم آدمیوں کے بیچ خدا کو مت لائیے۔ میں بول دیتا ہوں۔ خدا کو لائیں گے تو پھر بات دوسری ہو گی۔ ایسی صورت میں، پھر میں کون اور آپ کون؟ بلکہ آدمی ہی کون؟ خدارا، خدا کا نام مت لیجیۓ!


-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر