تماشا

مجھے شام کا انتظار اس طرح رہتا جیسے رات بھر جاگتے رہنے والے کو صبح کا ہوا کرتا ہے۔ رت جگے کے ماروں کو فکر کھائے جاتی ہے کہ کب سویرا ہو؟ کب پُو پھوٹے تو نکلیں۔ اندھیر، سوچ کی بوجھل گتھیوں سے جان چھوٹے۔ یوں ہی، میں شام کا راستہ دیکھتا ہوں۔ کب تپتی، تھکا دینے والی دوپہر اترے اور دن ڈھل جائے۔ شام آئے تو دن کا تماشا ختم ہو۔
اسی بے چینی کے سبب شام کے ڈھلنے سے قبل ہی گھر سے نکل لیتے۔ یہاں وہاں ٹامک ٹوئیاں مار تے، شہر کے بیچوں بیچ سے ہو کر پاؤں پیدل آبادی سے کوسوں دور مضافات میں جا نکلتے۔ شہر کے آس پاس علاقے کا حال یہ تھا کہ جدھر کو منہ کر کے نکل لو، ایک جیسی ہی صورتحال تھی۔ خود شہر تو اونچے نیچے ٹیلوں پر آباد تھا مگر آج باجوں باقاعدہ پہاڑیاں تھیں۔ یعنی، جدھر بھی جاؤ ضرور ہی چڑھائی چڑھنا ٹھہرتا۔ گویا، نقشے میں جیسے شہر ایسے پیالے میں دھرا ہوا تھا جس کا پیندا پچکا ہوا ہے۔ اطراف کا یوں تھا کہ شہر کی ایک طرف چیڑ کا جنگل ہے۔ دوسری اور تیسری جانب پتھریلی چٹانیں اپنی حدود سے تجاوز کرتی تھیں۔ اس بابت، ایک تواتر سے یہاں پتھریلی پہاڑیوں کا ایک سلسلہ سا بن رہا تھا۔ اب اطراف میں صرف  چوتھی سمت تھی۔ جہاں شہر میں کھڑے ہو کر آسما ن دیکھنے کے لیے سر اٹھانا لازم تھا۔ یہاں خاصہ اونچا، نیغ ترچھا  پہاڑ تھا ۔ اسے پہاڑ کو سر کرنے کے لیے ایک شام کافی نہیں تھی۔ یہ اس قدر اونچا تھا کہ چوٹی سر کر کے واپس آنے کے لیے پورا ایک دن درکار تھا۔
جنگل کی طرف کبھی کبھار ہی جانا ہوتا۔ بلکہ، جوں جوں شہر کی آبادی پھیل رہی تھی۔ جنگل میں جانا وقت کے ضیاع معلوم ہوتا تھا۔ گویا، آپ جنگل میں جا کر بھی شہر میں ہی رہتے۔ جنگل کے بیچ میں، باقاعدہ ٹورسٹ پوائنٹ بن چکا تھا۔ یہاں ایک نام نہاد پارک، دو چار کھوکھے اور جا بجا، کیمپنگ کی خرافات پھیلی ہوئی تھیں۔ ایک بات تھی کہ وہاں شہر جیسی سہولیات تھیں۔ 
چونکہ، ہم تو شہر میں دن بھر کے تماشے سے چھٹکارا پانے کے لیے شام کی راہ تاڑتے رہتے تھے تو بھلا ہم شہر سے نکل کر شہر کی طرف کیوں جاتے؟ اسی لیے ہم جب بھی نکلے، سنگ لاخ پہاڑیوں کا رخ کیا۔ یہ پہاڑیاں جنگل سی دلکش تو نہیں تھیں مگر یہاں شہر کی سی خفت بھی نہیں تھی۔ مثلاً، چوٹی پر کھڑے ہوں تو سلسلے کے ایک طرف شہر پاؤں میں بچھا تھا اور دوسری جانب وادی کی وسعت کا نظارہ مل جاتا۔ وادی کا وسیع، خوشحال دیہی میدان جیسے شہر کا سر سبز آنگن ہو۔ جا بجا آبادی کے ٹکے دھبے اور جہاں نظر ختم ہونے لگتی وہاں پہاڑوں کی سفید برفیلی چوٹیوں کے ابھار اٹھنے لگتے۔ جتنی دور تک دیکھ لیں، نظر ختم نہیں ہوتی تھی اور اس کے بھرنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ سمجھیے، دور فضا کے دھند لکوں میں برف سے ڈھکی چوٹیاں سر پر سفید تاج سجائے شہزادوں جیسے ہوں اور میدان ان کے سامنے کوئی ناری کھکھلا کر ہنستی ہو۔
صرف یہ دو طرح کے نظارے نہیں، یہاں شام میں ہمیں درکار فرصت بھی مل جاتی تھی ۔ جیسے، اول کوئی پوچھ تاچھ نہیں کرتا تھا کہ کہاں سے آ رہے اور کدھر کا ارادہ ہے؟ دوم یہ فکر نہیں تھی کہ رش میں کیوں چلے آئے؟ پھر یہاں تسلی سے بیٹھ کر سگرٹ سلگا سکتے تھے۔ اس سے بھی زیادہ یہ تھا کہ وہاں کوئی جاننے والا نکل بھی آتا تو خود ہی کنی کنارہ کر کے نکل لیتا۔ کوئی کسی کی محفل میں مخل نہیں ہوتا تھا۔ بیٹھے ہیں تو بیٹھے رہیں۔ چاہیں تو لمبی، چپٹے پتھروں کی بھاری بھرکم سلوں پر لیٹ جائیں۔ اکیلے چلے جائیں یا چاہیں تو کسی کو ہمراہ لے جائیں۔ دوست ہوں یا سنگی ساتھی ، وہ بھی ساتھ بیٹھے رہتے اور پہلو میں بیٹھے بھی، آپ کی اپنی سوچ میں دخل نہیں دیتے تھے۔ باتیں کرتے کرتے، اچانک چپ ہو گئے ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ ایسے، جیسے ایک دوسرے کی سمجھ ہوتی کہ بولنا محال تو نہیں مگر مناسب بھی نہیں ہے۔ کب تک خاموش رہنا ہے؟ چاہیں تو بول سکتے ہیں بلکہ کچھ بھی بول سکتے ہیں۔ اب چپ رہیے، اب کا وقت خود کے ساتھ بیتانے کا ہے۔ پہلے اگر محسوس کرتے تھے تو اب ایک دوسرے کو سمجھنے کا دور ہے۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں میں جانتا تھا کہ یہاں مصرف وقت گزارنے کا نہیں، بیتانے کا ہے۔ یعنی، یہاں جیسے اور جتنا وقت گزرتا جاتا، اس کے ساتھ ساتھ ہم جیتے چلے جاتے ۔
قصہ مختصر، کئی وجوہات تھیں کہ یہاں دوڑے چلے آتے۔ ویسے بھی، کون ہے جو ایسی جگہ پر نہیں جانا چاہے گا؟ کون ہے جو اپنے آپ کے ساتھ بیٹھنا پسند نہیں کرے گا؟ اور کون ہے جو ایسی جگہ پر آپ کے ساتھ نہیں ہونا چاہے گا؟ ہم پہاڑوں کے باسی لوگوں کو تو ویسے شہروں سے لگاؤ ہوتا ہے۔ شہر مسحور کر لیتے ہیں، ہم رونق کے شیدائی ہوتے ہیں۔ اونچی عمارتوں پر دل ہار دیتے ہیں۔ جہاں لوگ دیکھیں، ان پر جی وار دیتے ہیں۔ کوئی مائل ہو تو بنا سوچے سمجھے، سارا وقت اس کو دے دیتے ہیں۔ مگر جب شام پڑتی ہے تو ہمیشہ ہی ان پہاڑیوں، ٹیلوں اور مضافات میں جا کر چپ چاپ بیٹھنا پسند کرتے ہیں۔ پھر، بسا اوقات بعض لوگ پکارتے رہتے ہیں ، ہمارے رویے پر ہکا بکا رہ جاتے ہیں مگر ہم پہاڑیے، اپنی ہی کرتے ہیں۔ موقع ملتا ہے تو بیچ راستے میں سے واپس لوٹ آتے ہیں۔ دبک کر بیٹھ جاتے ہیں۔
خیر، اب کیا کہا جاوے؟ پہاڑیوں کے ساتھ آج تک کسی کی بنی ہے؟ میرے لیے اونچی جگہ پر جا کر بیٹھ رہنا ایک خاصہ ہے ۔ یہ بات نہیں تھی کہ مجھے لوگوں سے کوئی رغبت نہیں مگر دیکھیے تو صرف یہاں پر ہر طرف ہُو کا عالم ہوتا ہے۔ ہوا کھل کر سنسناتی ہے۔ یہاں صرف میں اور اونچائی ہوتی ہے۔ شہروں کے بیچ، یہ کسی اونچی عمارت کی چھت پر چڑھ کر بیٹھنے جیسا نہیں ہے۔ شہر کی بلندیوں پر تو اونچائی سے گر جانے کا خوف طاری رہتا ہے۔ یہاں ایسا کوئی خوف نہیں ہوتا۔ یہ لوگوں کے بیچ بابو بن کر، ان سے بہتر بن کر رہنے کی بخل جیسا نہیں ہے۔ یہاں پر تو صرف ہوا اور ہو کا دور دورہ ہے۔ ہوا کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور نہ ہی سکوت کو یہ فکر ہوتی ہے کہ آپ کی وجہ سے وہ بے وجہ ٹوٹ جائے گا۔ در حقیقت، آپ سکوت کا حصہ بن جاتے ہیں۔ سکوت کی پہچان ہی وہاں میرے جیسے کسی بھی نفس کی موجودگی سے مشروط ہوتی ہے۔ ورنہ، سکوت کا معاملہ تو جنگل میں مور کے ناچنے جیسا ہے۔ میں نہ ہوں تو اسے کون دیکھے گا؟ پہاڑی کی چوٹی پر جا کر بیٹھنا تو بس ایسے ہے جیسے وہ سماں آپ کو بلاتا ہو۔ وہاں آپ کے روبرو اور کبھی پہلو میں سکون ناچتا ہے۔
اس جگہ سے رغبت سہی مگر یہاں جانا اتنا آسان تو نہیں۔ بلندیوں پر پہنچنا کوئی کھیل تو نہیں ہوتا۔ مگر پھر بھی ہر روز ، ڈیڑھ پونا گھنٹہ ٹیلے، پگڈنڈیاں اور چھوٹی چھوٹی پتھریلی گلیاں پھلانگ کر ہانپے ہوئے پہاڑ کی تقریباً چوٹی پر پہنچتے تو یہ وہ وقت ہوتا جب عصر، مغرب میں گھل رہی ہوتی۔ شہر کا تماشا ایک طرف رہے۔ اس جگہ پر دلچسپی کا تماشہ ایک اور ہی رنگ کا سماں تھا۔ ادھر ایک دوسرا تماشا ہے جس کو دیکھنے کے لیے مجھے ہر روز شام کا انتظار رہتا تھا۔
قصہ یہ ہوتا کہ، جب یہاں پہنچتے تو سورج  سامنے اونچے پہاڑ کے افق پر مساوی کھڑا ہوتا۔  تھکا ہارا، شہر پر آخری نظریں ڈال رہا ہوتا۔ پیلا زرد، ٹھنڈا سورج جس کی سرد ہوتی ہوئی لوئیں خنک ہوا کے آگے ہتھیار ڈال رہی ہیں۔ وہیں، چٹانوں پر کھڑے، پیٹھ پیچھے شہر کی نظروں سے اوجھل وادی کا میدان آہستہ آہستہ دھندلانے لگتا۔ وادی میں اندھیرا پھیل جانے کو پر تول رہا ہے۔ یوں، پورے منظر میں چہار کی بجائے صرف دو سمتیں رہ جاتیں جہاں ایک طرف روشنی اور دوسری طرف اندھیرا، ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے۔ گوئی، جنگ کے میدان میں اپنے بھالے، برچھیاں، تلواریں اور خنجر تھامے دو قوی فوجیں ایک دوسرے سے بھڑ جانے کو تیار کھڑی ہوں۔
وادی میں اندھیرا پھیلنے لگتا توسبزے کا رنگ گہرا ہوتا جاتا۔ وادی کی حد پر بت بن کر کھڑے رہنے والے برفیلے شہزادوں، اونچے پہاڑوں کی چوٹیوں پر پیلی دھوپ چمک رہی ہوتی، جیسے سر پر سونے کا تاج سجا ہوتا ہے۔ گو دیکھنے میں تو بہت بھلا لگتا مگر جوں جوں وقت آگے بڑھتا، چوٹیوں کے سر پر سجے تاج لڑھکتے جاتے۔ گویا، میدان میں پھیلتے اندھیرے کو دیکھ کر، زندہ دل، سرسبز وادی کا حال دیکھ کر ان بانکے شہزادوں نے ہتھیار ڈال دیے ہوں۔ چوٹیوں کے سوا، یہاڑ ایک دم ایسے سرمئی ہو جاتے جیسے بچے نے خواب میں کسی کالے سیاہ دیو کو دیکھ لیا ہو اور اس ڈرپوک بچے کا رنگ فق پڑ گیا ہے۔ تک سیاہ رات کا کالا دیو، آہستہ آہستہ برفیلے پہاڑوں کی آنکھوں کے سامنے وادی کی نار، اس کی ہنسی کو نگلنے لگتا۔ شہزادوں کا دل سہم جاتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے، پوری وادی میں سایے کی حکمرانی قائم ہو گئی ہے۔
دوسری جانب شہر کے اس پار ابھی تک سورج کا راج ہے۔ مگر، روشنی اور حدت کے بادشاہ کی حالت غیر معلوم ہوتی ہے۔ سورج کا سنہری رنگ وادی کا انجام دیکھ کر پیلا پڑ گیا ہے۔ بوڑھے سورج کو جیسے، غش آتے ہوں۔ سورج کا حالت دیکھ کر شہر ، ہنستے بستے شہر، شور مچاتے ہوئے، دن بھر اٹھکیلیاں کرتے شہر پر ایک دم چپ طاری ہو جاتی ہے۔ کہیں دور، موٹر گاڑیوں کی دبی ہوئی اکا دکا ٹیں ٹیں سنائی دے جاتی یا بیچ میں کبھی کبھار دور کسی میدان میں کھیلتے بچوں کا مدھم سا شور، بو کاٹا۔۔۔ کھیل میں وہ مارا، ابھر کر معدوم ہو جاتا۔ مگر شہر کو گویا اچانک ہی پہاڑیوں کے پیچھے ہو رہی واردات کی بھنک پڑ گئی ہو۔ سرد اور سیاہ حملے کی خبر ہو گئی ہے۔ سفاک حملہ آور کےسر پر آنے کی اطلاع مل گئی ہو۔ سورج بادشاہ کی دن بھر کی شہنشاہی، اب ختم ہونے کو ہے۔سب جانتے ہیں کہ آنے والا لشکر اس قدر قوی ہے کہ بالآخر یہ معرکہ سر کر لے گا۔ یہ وقت، اس کا ہے۔ تو، سارا شہر زیر لب۔۔۔  ڈھلتے ہوئے سورج کو الوداع کہتا محسوس ہوتا۔ دھوپ کے ہاتھوں میں دن بھر بھرپور طریقے سے بس کر رہنے والے شہر پر اداسی کی تہہ در تہہ چڑھتی جاتی۔ ٹھنڈی پڑتی، تھکی ہاری، پیلی دھوپ کی کرنیں شہر کی عمارتوں کے اوپر چھتیں پھلانگتی ہوئی پیچھے کو ایسے نکلنے لگتیں ہیں جیسے ہاری ہوئی فوج کسی مفتوح شہر کو خالی کر تی ہیں۔ خوفزدہ، سہمی ہوئی۔ ان سپاہیوں کی فوج کو سپہ سالار نے ایک اشارے پر ہتھیار ڈالنے کا اشارہ کر دیا ہے۔ سورج شہر کے اوپر دھر اپنا ہاتھ کھینچ رہا ہے۔ شہر، سیاہ رات کے کالے دیو کو حوالگی کے لیے تیار ہے۔
رات کا دیو وادی کو زیر کیے، اوپر کو اٹھتا۔ اس کی فوجیں ابھی تک پوری وادی میں پھیل رہی ہیں۔ وہاں سیاہی بڑھتی جاتی ہے۔ پتھریلی چٹان پر شہر کی طرف منہ کھڑے میں دیکھ رہا ہوں کہ سرمئی دھندلکا میرے ارد گرد سے مجھے گھیر رہا ہے۔ کوئی دبی چال سے میری پیٹھ کے پیچھے سے آگے بڑھ رہا ہے۔ دیو، پتھریلی پہاڑیوں کی چوٹی کے اوپر پہنچ کراب میرے پہلو میں آ کر سینہ پھیلائے کھڑا ہو گیا ہے۔ سامنے اونچے پہاڑ پر بجھتا ہوا لاغر سورج اور یہاں مغرور، جوان رات کا دیو۔۔۔ دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شہر کو ایک بھرپور نظر بھر کر دیکھتے ہیں تو سارا شہر دو بادشاہوں کی ہٹ دھرمی کے بیچ سہما، اداس اور برباد محسوس ہو رہا ہے۔ کچھ دیر تک یہ توقف برقرار رہے گا۔ لمحے، جیسے تھم گئے۔ ان بلا کی ساعتوں میں یہاں اپنی سانس کے سوا کچھ سنائی نہیں دیتا۔
شہر پر حملے کا آغاز کالا دیو آہستہ سے آگے بڑھ کر کرتا ہے۔ یہ نیچے شہر کی طرف قدم بڑھانا شروع کرتا ہے تو سایے کی طرح اس سے جڑی سیاہ پوش فوج پیچھا کرتی، آگے بڑھنے لگتی ہے۔ دیو چال میں عجب مستی اور غرور ہے۔ ایک ہٹ دھرم فاتح بادشاہ سر اٹھائے، سینہ پھیلا کر یوں چل رہا ہے کہ اپنے سامنے آنے والی کسی بھی شے کو سیاہ فوج کے قدموں تلے روند ڈالے گا۔ میں دم بخود وہیں کھڑا اس کی پیش رفت کو دیکھتا ہوں۔ میرے ارد گرد جیسے جیسے سیاہی پھیلاتی فوج کی پیش قدمی بڑھتی جاتی، ہوا مزید خنک ہو رہتی۔ میری آنکھوں کے سامنے سیاہی کی فوج کے ہاتھوں، برچھیوں کی بوچھاڑ ہو رہی ہے۔ سورج کی بچی کھچی کرنیں ایک ایک کر کے قتل ہو رہی ہیں۔ پورے شہر میں سوائے اس کے، پورا شہر بغیر کوئی مزاحمت کیے اب کچھ ہی دیر میں رات کے کالے دیو کے ہاتھوں زیر ہو جاتا۔
جب ایک بار شہر قابو میں آ جاتا ہے تو اندھیرا روشنی کی پیچھے ہٹتی ہوئی کرنوں کو شہر سے نکل کربھی پیچھا کرتا ہے۔ روشنی نے جس طرح ہتھیار ڈالے ہیں،گماں ہوتا ہے کہ سورج نے شہر میں یہ لڑائی نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ مناسب نہیں سمجھا کہ وہ اپنے شہر کے سامنے شکست سے جا ملے۔ جب رات کا دیو آگے بڑھ کر اس پر آخری وار کرے تو تب، شہر اس کو دیکھتا نہ ہو۔ وہ ناکام ہو جائے اور شہر ہر جائے مگر اپنے ہاتھوں زندگی بخشے شہر کے سامنے مر نہیں سکتا۔ جہاں شہر بھر میں جو دن بھر حرکت رہتی، جس کے سبب یہاں کے باسی ہر طرح کا بیوپار کر لیتے ہیں۔۔۔ اس شہر کے سامنے اسے قتل ہونا منظور نہیں تھا۔ سورج، خود گمنامی میں مر جائے گا مگر شہر میں امید کو مرتے دیکھنا، اب اس کو گوارہ نہیں ہے۔
شہر بھی تو بھولا نہیں ہے۔ وہ سورج کو جانتا ہے۔ سورج کو چاہتا ہے۔ وہ اس کے احسانات کا قائل ہے۔ شہر بھر کو سورج کی اس جنگ میں آخری چال کی سمجھ آ گئی ہے۔ تب ہی تو، ڈوبتے سورج کو دیکھ کر ساکت شہر میں یکدم ایک ہڑ بڑ مچ گئی ہے۔ آسمان میں پرندوں کے غول چکر کاٹتے پھرتے، اتنا شور مچاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ شہر کی بستیوں میں سکوت بھی ٹوٹ گیا ہے۔ مسجد کے میناروں میں سے اذانیں بلند ہورہی ہیں۔ پرندوں کا کان چیر دینے والا شور اور ابھرتی ہوئی اذانیں جیسے جنگ کا بگل ثابت ہو رہی ہیں۔ شہر کا شہر، ایک دم سکتے سے نکل آیا ہے۔ کسی طلسم سے جاگ گیا ہے۔ شام کے بوڑھے سورج کے حامی شہر میں ایک دم بجلی بھر چکی ہے۔ سورج کی ایک ادا نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
پورا شہر روشنی کے شہنشاہ کی حمایت میں نکل آیا ہے۔ ہوتا کیا ہے کہ، شہر کے دور دراز کونے میں پہلے ایک، پھر دوسری، تیسری، چوتھی اور بعد اس کے ایک ایک کر کے کئی ہر طرف ہزاروں روشنیاں ٹمٹمانے لگی ہیں۔ شہر بھر میں ٹم ٹم کرتی کمزور دیے کی جیسے روشنیوں کو، اپنی کرنوں کی پتلی تلواریں، جلتی بجھتی برچھیاں اور لُو کے خنجر ، الغرض جو ملا۔۔۔ سنبھال کر دیدہ دلیری سے اندھیرے کی سیاہ زرہ بکتر پہنے تیز دھار سیاہی کی سرد تلواروں سے لیس یخ بستہ ہواؤں کے گھوڑوں پر سوار فوج کے ساتھ بھڑ جاتی ہیں۔ شہر بھر میں، روشنی اور تاریکی کے بیچ جنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ ہر طرف گھمسان کا کا رن پڑ رہا ہے۔ پہاڑی کی چوٹی پر کھڑے ہو کر اس دیکھنے والے کی آنکھوں میں نظرآتا ہے کہ روشن اور سیاہ جنگ کا شور، چیخ و پکار، آہ اور بکا مچ گئی ہے۔ بھرپور لڑائی جاری ہے۔
مگر، کہاں؟ لڑائی تو پوری ہے مگر پورا شہر ایک کے بعد دوسری شمع روشن کر لے؟ بھلے پوری قوت سے چنگاڑ کر پکارتا رہے، مگررات کا دیو بہرحال شہر کو فتح کر لیتا ہے۔ گھپ اندھیرا شہر کے کونے کھدرے، ہر گلی سڑک اور ہر مکان کی چھت میں گھس کر بیٹھ جاتا ہے۔
شہر دیو کی تحویل میں چلا گیا ہے مگر یہ صرف آغاز ہے۔ ایک لمبی، تک سیاہ، سرد رات شروع ہوا چاہتی ہے۔ شہر کی مدھم، روشنیاں رات بھر ہر طرف پھیلے اندھیرے سے نبرد آزما رہیں گی۔ جب پوری وادی میں رات کے اندھیرے کا بھرپور راج ہو گا اور سفید پوش پہاڑ گھٹنے ٹیک کر سرنگوں رہیں گے، تب بھی شہر جاگتا رہے گا۔ لڑتا رہے گا۔ کسی طور بھی ہار ماننے کو تیار نہیں ہو گا۔ شہر نے اپنے تئیں، تہیہ کر لیا ہے۔
جب شہر ایک لمبی رات میں پھیلی جنگ کی تیاری کر رہا ہے، وہیں پہاڑ کی اوٹ میں روشنی کی چاہ دینے والا سورج ایک ہارے ہوئے زخم خوردہ جنگجو کی مانند۔۔۔ کالے دیو کی فوجوں سے بدستور نبرد آزما ہے۔ سایہ اب سیاہی میں بدل کر خود بادشاہ کو گھیر رہا ہے اور سورج بیچ کہیں اپنی بجھتی ہوئی روشنی کی پیلاہٹ میں لت پت، ڈوب رہا ہے۔ سورج کی یہ حالت شہر سے اوجھل ہے۔ یہ پیچھے ہٹتے ہٹتے، اب کھائیوں میں ایک پاتال جیسی گہرائی میں جا لگا ہے۔ یہاں سے کوئی فرار نہیں۔ اس منظر کو آسمان مگر دیکھتا ہے۔ اس کی آنکھوں کے سامنے کالے دیو نے آگے بڑھ کر سورج کو آن لیا۔ ہوا میں خنکی در کر آئی اور کالی سیاہ تاریک تلوار نے ایک کاری وار سے  روشنی کی آخری رمق کے سینے میں کھب کر سورج کو گل کر دیا۔
کھلے آسمان میں اس دلخراش منظر کو دیکھ کر بھگدڑ مچ جاتی ہے۔ آسمان میں بے چینی سے اڑتے پرندے چیخنے لگتے ہیں اور پھر ایک دم سب شانت ہو جاتا ہے۔ آسمان میں چپ پھیل جاتی ہے۔  پرندے سہم کر اپنے گھونسلوں میں پناہ لیتے ہیں اور آسمان جو دن بھر سورج کی ہی روشنی میں تازہ نیلگوں رہا۔۔۔ یہاں سوگ جاری ہے۔ فلک میں سیاہی پھیل رہی ہے۔ مگر وہ مقام جہاں سورج نے جی ہارا ہے، افق پر سرخی پھیل رہی ہے جس میں آہستہ آہستہ سیاہی گھل رہی ہے۔ جلد ہی یہاں بھی رات کے دیو کی حکمرانی ہو گی۔ شہر بھر نے سرخی دیکھ کر جان لیا کہ وہاں کیا معاملہ پیش آیا ہے۔ سورج بادشاہ، اپنی جان اور یہ جنگ ہار چکا ہے۔
بعد اس کے، ہر طرف شکست کی خبر پھیل گئی۔ شہر، وادی، پہاڑ، ندیاں اور میدان سبھی سوگوار ہیں۔ دور دراز کہکشاؤں تک بھی اطلاع جا چکی ہے۔ یہاں شہر میں ٹم ٹم کرتے دیے ساری رات اپنی لڑائی خود لڑیں گے۔  کچھ ہی دیر میں دور کہکشاؤں سے جگ مگ کرتے ستاروں کی روشنی، سورج کی ہی بخشی لُو میں جگمگاتے ہوئے چاند کی سالاری میں، کمک کی صورت شہر کی مدد کو آن پہنچے گی۔ یہ قطار در قطار پہنچتی مدد طویل رات کی سیاہ جنگ میں، شہر کے ٹمٹماتے کمزور روشنی کے سپا ہیوں کے ہمراہ کالے دیو کی فوج، سیاہی کے سپاہیوں کے خلاف گوریلا لڑائی لڑتے رہیں گے۔
یہاں پہنچ کر تماشا ختم ہوجاتا ہے مگرکہانی جاری رہتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ کھائی کی پاتال میں سورج کی موت نہیں ہوئی تھی۔ سیاہ سپاہی بتاتے ہیں کہ عین وقت پر جب رات کے کالے دیو نے زرد پڑتے ہوئے سورج کے سر پر تاریک خنجر بلند کیا تھا، تبھی آسمان نے جھک کر اسے اوپر اٹھا لیا تھا۔ تبھی تو کالے دیو کی فوجیں، ابھی تک شہر سے بہت دور پیش قدمی کر رہی ہیں۔ سورج کا پیچھا کرتی ہیں۔ گماں ہے کہ سورج یہاں سے بہت دور، مغرب میں جگمگا رہا ہے۔ کالی رات میں گُم، رات کی سیاہی میں دبے شہر کے مکینوں کو ایمان کی حد تک یقین ہے کہ طویل، سیاہ رات کے بعد ایک بار پھر، سورج مشرق سے نمودار ہو گا۔ مسیحائی کرے گا۔ ان کو امید ہے کہ کچھ بھی ہو رہے، سویرا بالآخر پھوٹ کر رہے گا۔
(نومبر، 2015ء)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر