ٹھنڈا تارا

ویسے تو موسم چار ہیں۔ مگر اب کے سال، معاملہ یوں ہے کہ خزاں نے چہرہ ہی نہیں کرایا۔ حبس سے بھر پور بھادوں کے فوراً بعد ہی سردیوں نے ڈیرہ ڈال لیا ہے۔ ایسا عام طور پر ہوتا نہیں ہے مگر ہو رہا ہے۔ خیر، جو ہو رہا ہے اس کے بارے سوچتا ہوں تو کچھ اور یاد آ رہا ہے۔
کوئی دو دہائیاں ہوتی ہیں، جب آج کے بڑے بوڑھے جوان جہاں اور حیات تھے، کہا کرتے کہ موسم دو ہی ہوتے ہیں، گرما اور سرما۔ یہ تو صرف قدرت کے کرتب ہیں۔ ایک سے دوسرے موسم میں ڈھلنے کے طریقے۔ جیسے، سرما تو اسی دن وارد ہو جاتا ہے جب آسمان پر ٹھنڈا تارا چڑھ آتا ہے۔
اب آپ پوچھیں گے کہ یہ ٹھنڈا تارا کیا ہوتا ہے؟ تفصیلات تو خیر مجھے بھی ازبر نہیں۔ مگر، ایسا سن رکھا ہے کہ بھادوں گزر ے، یعنی عموماً ستمبر کے اواخر میں شمال کی جانب آسمان پر ایک ستارے کا ظہور ہوتا ہے۔ جب شام کے دھندلکوں میں یہ ستارہ زمین پر نظر آنے لگے تو سمجھو، سرما کا موسم آ گیا۔ یہ بات مجھے بھی مضحکہ خیز سی لگتی تھی کہ یہاں پسینے نچڑ رہے ہیں اور لوگوں نے سرما کا شور ڈال رکھا ہے۔ ہاں، چلو راتیں کچھ ٹھنڈی ہو گئی ہیں مگر دن تو ویسے ہی تپتے ہیں۔ سرما تو تب ہو کہ دن میں سایے کی بجائے دھوپ تلاشیں۔ دھوپ بیشک تیز ہو مگر ٹھنڈی ہو۔ خیر، اب اللہ جانے اور یہ فلکیات والے بتائیں کہ وہ کون سا ستارہ یا سیارہ ہوتا ہے؟ چونکہ، ایسا بائیس ستمبر کے آس پاس ہوتا ہو گا، جب دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہوتی جاتی ہیں۔ موسم ڈھلنے لگتا ہے۔ تو یوں، ٹھنڈا تارا چڑھے یا نہیں، بڑے بوڑھوں کی منطق تو اس لحاظ سے ٹھیک ہی تھی۔ ہمارے پڑھے لکھے، موسمیات والے بابو لوگ بھی کہتے ہیں کہ ستمبر کے آخری ہفتوں کے بعد خزاں اور سرما کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ بھلے دن میں آپ گرمی سے بلبلائیں اور رات کے پچھلے پہر ٹھٹھرنے لگیں، موسم تبدیل ہونے کا عمل تو شروع ہو جاتا ہے۔ خنکی ہر گزرتے دن کے ساتھ رات میں یوں بڑھتی ہے جیسے سرطان آدمی میں سرایت کر جاتا ہے۔
گو میں سائنس کا طالب علم ہوں۔ جدید دنیا میں بسر ہے اور میں ان لوگوں کی بہت قدر کرتا ہوں جو کہ تحقیق کے پرچارک ہیں۔ مگر، پھر بھی مجھے سائنسی حقائق سے زیادہ ٹھنڈے تارے کی پبتا میں مزہ آتا ہے۔ مجھے یہ خاصا رومانوی سا لگتا ہے۔ بھئی، ایسا ہے کہ موسمیات والے اپنی ہوائیں ماپنے والی پلیوں، گز گز لمبے شیشے کے مرتبانوں اور سالہا سال کی تحقیق کو جب بوجھل الفاظ میں لپیٹ کر بیان کرتے ہیں تو مجھے قطعاً لطف نہیں آتا۔ مجھے تو موسموں کے ہیر پھیر کو سمجھنے کے لیے یہ ٹھنڈے تارے کی کہانی بھلی لگتی ہے۔ دل جو ہے، وہ ٹھنڈے تارے کو مانتا ہے۔
اب آپ کہیے گا کہ میں ضرورت سے زیادہ رومان پسند ہوں، یا شاید میں چونکہ لفظوں کا داعی ہوں تو اسی وجہ سے یہ پرانی باتیں، ایسی ٹھنڈے تارے جیسی افسانوی اصطلاح کا عاشق ہوں۔ یہ درست ہے۔ میں ایسا ہی ہوں۔ مگر، بات یہ ہے کہ یہ صرف اتنا سا معاملہ نہیں ہے۔ یہ صرف لفظ نہیں ہیں۔ لوگ بے وجہ ہی قصے، یہ باتیں نہیں گھڑتے۔ ٹھنڈے تارے سے کئی معاملات منسوب ہوا کرتے تھے۔ وہاں ٹھنڈا تارا چڑھا نہیں اور یہاں لوگوں کی دوڑیں لگ جاتی تھیں۔ مجھے یاد ہے کہ جتنے بھی ادھیڑ عمر ہوا کرتے تھے  اور وہ جو کچھ زیادہ ادھیڑ عمر تھے، یعنی جن کے پاؤں قبرں میں لٹکتے ہوں۔ ان کی  ستمبر کے مہینے میں اچھی خاصی پریڈ لگی رہتی۔ مغرب کی نماز پڑھتے ہی مسجد کے دیوار سے لگ کر کھڑے ہوجاتے۔ ایڑھیاں اچک کر اور آنکھیں جوڑ جوڑے گھنٹہ گھنٹہ بھر آسمان میں ٹھنڈا تارا تلاش کرتے رہتے۔
آخر کیوں؟ وہ اس لیے کہ ان میں تقریباً لوگ زمیندار تھے۔ زمینداروں کی اگلے موسم کی مصروفیات ٹھنڈے تارے سے جڑی ہوتی تھیں۔ وہاں ٹھنڈا تارا چڑھا نہیں اور یہاں انھیں ربیع فصل کے لیے زمین کی تیاری پریشان رکھتی۔ چونکہ اس کے بعد،  راتیں ٹھنڈی پڑیں گی تو زمین میں نمی زیادہ دیر تک برقرار رہتی۔ سو، کوشش یہ ہوتی کہ پہلی بارش برسنے سے پہلے پہلے بارانی زمین میں ایک ہل ضرور جوت دیں۔
دوسری بات یہ تھی کہ ٹھنڈے تارے کے چڑھنے کے چونکہ ساتھ موسم سرد ہوتا جائے گا، اور پہاڑوں کی چوٹیوں پر ایسا زیادہ تیزی سے ہوتا تھا۔ سو، گرما گزارنے کے لیے ریوڑ سمیت اونچی چراہ گاہوں میں گئے گلہ بانوں کی عافیت اسی میں تھی کہ پہاڑوں سے اتر کر میدانوں میں جا بسیں۔ اگر ان کے نکلنے سے پہلے برف گرنے لگی تو راستے مسدود ہو جاتے۔ یہی نہیں، برف، بارش اور اکڑا دینے والی ٹھنڈ سے مال مویشی کا بھی الگ نقصان ہوتا۔ یعنی، ریوڑ کا نقصان اتنا ہوتا کہ پورے گرما موسم کا سفر رائیگاں جاتا۔ ایک گلہ بان سفر کی سختی اور تواتر سے جفاکشی جیسے مسائل تو برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے ریوڑ کو یوں برباد ہوتا نہیں دیکھ سکتا۔ تو ٹھنڈے تارے کے ساتھ یہ گلہ بان، اپنے ریوڑ ہانکتے ہمارے یہاں سے گزر کر میدانوں میں جا بستے۔ان گلہ بانوں سے زمینداروں کو بڑی امید ہوتی تھی۔ زمیندار کئی کئی دن تک گلہ بانوں کی راہیں تکتے رہتے۔ جیسے گلہ بان کا ریوڑ، ویسا زمیندار کا کھیت۔ دونوں ہی ان پر جان چھڑکتے۔ ان سے لگ کر رہتے۔ میں سوچتا ہوں، جس قدر انہماک سے راہ دیکھی جاتی، کیا گلہ بانوں کو یہ اندازہ ہوتا تھا کہ کس بے چینی سے کوئی ان کی راہ تک رہا ہے؟ وہ جو گھر بار والے نہیں ہیں، جن کی کل برادری ان کے ریوڑوں کے ساتھ چلتی ہے۔ جن کی رشتہ داریاں ان کے ٹٹوؤں پر لدی پھرتی ہیں۔۔۔ ان کی راہیں دیکھی جاتی ہیں؟ سو، جہاں کوئی ریوڑ جاتا نظر آتا۔ یہ زمیندار دوڑے دوڑے جاتے اور چراہ گاہوں کے، جنگلوں کا احوال پوچھتے۔ تقریباً منتیں کر کے اپنی زمینوں میں ایک دو راتیں، ان سے ریوڑ سمیت پڑاؤ ڈلواتے۔ ان کو کھانے کھلاتے، خیال رکھتے۔ آؤ بھگت کرتے۔ یہ صرف اس لیے کہ ایک رات کے پڑاؤ میں بھیڑ بکریوں کے ریوڑ سے اتنی مینگنیاں اکھٹی ہو جاتیں کہ اگلی فصل کے لیے کھیتوں میں ڈالنے کے لیے اچھی خاصی قدرتی کھاد مفت میں مل جاتی۔
یہ تو زمینداروں کا حال تھا۔ ان کی بھی سنیے، جن کی بسر کچے کوٹھوں میں ہوتی تھی۔ ہم اور آپ شہر کے پکے سیمنٹ اور دریائی ریت کے مکانوں میں بابو بن کر رہتے ہیں۔ بست تو شاید، ہم نہیں جانتے کہ کچے کوٹھے اصل میں کیا ہوتے ہیں؟ آپ میں سے زیادہ تر چونکہ شہری بابو ہیں تو آپ کی آسانی کے لیے کہوں، کچے کوٹھے وہ ہیں جن کی آجکل آپ ٹی وی اخبار میں تصویریں دیکھتے ہیں۔ پتھر، مٹی اور لکڑی کا ڈھیر، جو زلزلے کے ایک جھٹکے سے منہدم ہو جاتے ہیں۔ خیر، وہ لوگ جو ایسے کچے مکانوں میں بسر رکھتے ہیں۔۔۔ وہ بھی ٹھنڈے تارے کے چڑھنے کا انتظار کرتے۔ ان کے ساتھ معاملہ یہ ہوا کرتا تھا کہ پورا گرما موسم گزرنے کی وجہ سے گھانس پھونس کو کچی چھتوں کے بنے بنیروں پر پھل پھولنے کا خوب موقع ملتا۔ یہی نہیں، جب ساون کھل کر برس جاتا تو اس گھاس پھونس کی جڑوں میں پانی بیٹھ جاتا، جو کسی طور بھی اچھی بات نہیں تھی۔ یعنی، کوٹھوں کی چھتیں کمزور پڑ جاتیں، لکڑیاں بودی ہونے لگتیں اور خدشہ یہ رہتا تھا کہ اگر مرمت نہ کی گئی تو سرما کی پہلی بارش کے ساتھ ہی یہ چھتیں ٹپکنے لگیں گی۔ بارش سے چھتوں کا ٹپکنا رہے گا ایک طرف، برف پڑنے کی صورت میں پوری کی پوری چھت نیچے آنے کا ڈر لگا رہتا۔ تو، یہ لوگ ٹھنڈے تارے کا چڑھنے کا انتظار کرتے کہ جیسے ہی جناب کا آنا ہو تو جلد از جلد چھتوں کی مرمت کر لی جائے۔ کیونکہ، ٹھنڈی پڑتی راتوں کے سبب گھانس پھونس کو پھر سے اگنے کا موقع نہیں ملتا تھا اور خنکی سے تازہ ڈالی ہوئی چھتوں کی مٹی کی ترائی قدرتی طور پر ہو جاتی۔ مٹی ہلکے سے دابنے پر بھی جڑ کر اپنی جگہ پر بیٹھ جاتی۔
اچھا، اگر آپ پہاڑوں میں جائیں تو جلانے کے لیے عمارتی لکڑی وافر ہوتی ہے۔ اسی پر لوگوں کا انحصار بھی ہوتا ہے۔ عمارتی لکڑی تو خیر چیڑ کے جنگلوں میں سردیوں میں بھی وافر مل جاتی ہے مگر سرما کے آنے سے پہلے، چیڑ کے جنگلوں سے خزاں کے سبب گر رہنے والا بھوسہ یا تو جانوروں کی خوراک ہوتا ہے، نہیں تو اس کو جمع کر کے سرما میں جلانے کے کام بھی لایا جاتا ہے۔ سو، ٹھنڈے تارے کا یہاں بھی دخل تھا۔ گو، ٹھنڈے تارے کے چڑھنے سے پہلے ہی جنگل کا بھوسہ جمع ہونا شروع ہو جاتا مگر لوگوں کی کوشش ہوتی کہ ٹھنڈا تارا چڑھے، ان دنوں کے آس پاس ہی اس مصروفیت سے بھی جتنی جلد ہو سکے، جان چھڑا لی جائے۔
ایسی کئی باتیں ہیں۔ کئی لوگ ہیں۔ کئی معاملات، جن کا جوڑ ٹھنڈے تارے کے ظہور سے جڑا ہوتا تھا۔ مگر، تب کیا ہوتا جب ایک بار ٹھنڈا تارا چڑھ جاتا؟
میں نے کبھی اس بارے، اس سے پہلے نہیں سوچا۔ مگر، ایک چیز جو کہ ہر سال ہوا کرتی وہ نزلہ زکام اور بخار کا دورہ تھا۔ بچے بڑے، مرد عورتیں، بوڑھے بزرگ جس کو دیکھو اسی کو بخار نے گھیر رکھا ہے۔ بچوں کی ناک بہہ رہی ہوتی اور ٹخ ٹخ کھانستے پھرتے۔ معاف کیجیے گا، بڑے بزرگ ہیں مگر تب لوگ خاصے توہم پرست ہوا کرتے تھے، کہتے کہ یہ بیماریاں اس نحس ٹھنڈے تارے کی مرہون منت ہیں۔ آج ہم جانتے ہیں کہ ایسا موسم کے بدلنے سے ہوتا ہے، ٹھنڈ پڑتے ہی یہ نزلے زکام وغیرہ کے جراثیم خوب پھولتے ہیں اور چونکہ موسم خشک اور سرد گرم سا ہوتا ہے تو ایسے میں لوگ احتیاط نہیں کرتے تو بیمار پڑ جاتے ہیں۔ بات بہرحال، توہم پرستوں کی بھی اپنی جگہ ٹھیک ہی ہوا کرتی تھی۔ صرف اتنا ہے کہ آجکل جن باتوں کو ہم کئی کئی توجیہات کی مدد سے بیان کرتے ہیں، وہ لوگ ایک ٹھنڈے تارے سے جوڑ لیتے تھے۔ جڑی بوٹی ابال کر اور جوشاندے کا قہوے وغیرہ پیتے تھے۔ ایسے نزلے بخار وغیرہ کا مقابلہ کرتے تھے۔ خوش رہتے تھے۔
خیر، ایسا نہیں کہ لوگوں کو تب اپنی صحت کی فکر نہیں ہوا کرتی تھی۔ صحت، انھیں بھی اتنی ہی عزیز تھی جتنی کہ آج ہمیں ہے۔ بلکہ، میں تو یہ کہوں گا کہ تب صحت کی زیادہ فکر رہتی تھی کیونکہ اس کی خرابی سے نبٹنے کے لیے زیادہ سہولتیں بھی نہیں تھیں۔ جیسے، سرما کے باقی جز، ایسے ہی ٹھنڈے تارے کے ساتھ صحت کے معاملات بھی جڑے تھے۔ گرما کی بارشیں جو شام میں برسا کرتی تھیں اور ساون کی جھڑیاں جو دن میں کئی بار آن گھیریں، اس میں پھرنے، گھومنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مگر، جب ٹھنڈے تارے کے بعد بارش ہوئی تو وہ سراسر بیماری ہے۔ جیسے راتیں، ویسے بارش کا پانی بھی ٹھنڈا ٹھار جاتا۔ جیسے رات میں پاؤں ٹھٹھریں، ویسے ہی اس بارش میں کچھ دیر رہو تو پورا جسم درد کرنے لگتا ہے۔ احتیاط نہ کرو تو ایک دم تاپ چڑھ جاتا ہے۔ تو، ایک بار ٹھنڈا تارا چڑھ گیا، جیسے دوسرے معاملات، ویسے بارش بھی احتیاط کا تقاضہ کرنے لگتی۔
الغرض، کیا ہے جو ٹھنڈے تارے سے جڑا نہیں۔ کون سا ایسا معاملہ ہے جس پر تب اس کا اثر نہیں ہوتا تھا۔  ٹھنڈا تارا اب بھی چڑھتا ہے۔ جیسے وہ دن، وہ لوگ بھول بسر گئے، ٹھنڈا تارا بھی کہیں گم ہو گیا۔ اب خود میں، موبائل میں موسم دیکھ کر جرابیں پہنتا ہوں۔ بارش سے بچتا ہوں۔ وہ کچے کوٹھے دس برس پہلے زلزلے میں گر گئے تو اب کسی کو ٹین چادر کی چھتیں مرمت کرنے کا قضیہ نہیں ہے۔
ہاں، میں کچھ لوگوں کو جانتا ہوں۔۔۔ دو طرح کے لوگ ہیں۔ ایک تو وہ ہیں جو آج بھی ٹھنڈے تارے کا انتظار کرتے ہیں۔ وہ زمین سے جڑے لوگ ہیں۔ وہ جو زمین پر بستے ہیں۔ وہ جو زمین میں سے اگا کر کھاتے ہیں۔ وہ جو زمین پر بھیڑ اور بکریاں ہانکتے پھرتے ہیں۔ یہ ٹھنڈے تارے کے وارث ہیں۔ موسموں کا حال جاننے والے، جنھیں ٹھنڈا تارا راہ دکھاتا ہے۔
دوسرے لوگ وہ ہیں، جن کو ٹھنڈے تارے اور اس جیسے دوسرے فلک کے عجوبوں سے ایسی چاہ نبھی کہ وہ اس کی کھوج میں نکل پڑے۔ وہ خلائی جہازوں پر بیٹھ کر ان ستاروں کے پیچھے پیچھے نکل لیے۔ خلا کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ طرح طرح کی مشینین، دوربینیں بنا کر ان ستاروں کو کھوجتے رہتے ہیں۔ ان کا حال معلوم کرتے ہیں۔ اگر وہ ٹھنڈے تارے کے وارث تھے تو یہ اس کے راج دلارے ہیں، ٹھنڈے تارے کی آنکھ کا ستارہ ہیں۔
(اکتوبر، 2015)

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر