مطالعہ گردی

ویسے تو بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ چند خیالات اس نیت سے سنبھال کر رکھ چھوڑے ہیں کہ کبھی فرصت میسر آ رہے تو لکھا کریں گے۔ ارادہ بھی پختہ ہے اور تقریباً روز ہی اس پر نئے پُل بھی باندھتا ہوں۔ مگر شو مئی قسمت کہ یہ نیت اور وہ ارادہ، ابھی تک کسی تبلیغی جماعت کے امیر صاحب کی لاج رکھنے کے جیسے، منہ پر سفید جھوٹ کی مانند باندھے گئے عہد سے بڑھ کر نہیں ہے۔ ہاں، اکا دکا بار لکھتا آیا ہوں مگر اس کا بھی کیا؟ اب بے ساختہ لکھنے سے بھی خوف آتا ہے۔ اس برس کے شروع میں، ایسا ہوا کہ انتہائی ردعمل، بغیر سوچے سمجھے بک دینے کی وجہ سے میں نے بہت کچھ کھو دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب سہم کر رہتا ہوں۔
خیر، لکھنے وغیرہ کو چھوڑیے۔ آج پڑھنے کی بات کرتے ہیں۔ میرے یہاں، لکھنے کا شوق ہے مگر میں پڑھنے کا کبھی اتنا خاص شائق نہیں رہا۔ پھر، طبیعت ایسی ہے کہ اگر پہلا پیرا، پہلا صفحہ یا پہلا باب ذائقے میں ترش محسوس ہو تو کتاب کو وہیں چھوڑ دیا کرتا ہوں۔ اس طرح وہ کتاب جوں کی توں پڑی رہتی ہے ۔ اب چونکہ میں لوگوں کا خیر خواہ ہوں۔ ایسی کتاب جو مجھے خود کے لیے پسند نہیں، ایک مومن کی مانند کسی دوسرے کے لیے اچھی نہیں جانتا، سو کبھی ادھار نہیں دیتا۔ حتی الامکان کوشش رہتی ہے کہ اس طرح کی کتابیں اتنی سنبھال کر رکھی جائیں کہ کوئی چوری بھی نہ کر سکے۔ چنانچہ، جب جامعہ میں سگرٹ نوشی ترک کرنے کی غرض (لنک) سے مطالعہ شروع کیا تھا تو، پیسے خرچ کرنا غرض تھا۔ یہ پیسہ دھوئیں کی بجائے کتابوں میں اڑا دیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میرے پاس ناپسندیدہ کتابوں کی بہتات ہو گئی۔ بات یہ تھی کہ جو کتابیں پسند تھیں وہ دانستہ چوری کروا لیں۔ جو باقی رہیں، ان کی تعداد اتنی تھی کہ جامعہ سے فراغت پر گھر تک ڈھونے میں اچھی خاصی کوفت ہوتی۔ پہلے تو جی چاہا کہ نہر میں بہا آؤں مگر نہر بھی تو تین کوس دور تھی۔ ردی والے کو اس ڈر سے نہ دیں کہ اگر شام کی چائے پر پکوڑوں کی ان لپٹوں کا چلو، کسی نے وقت گزاری کے لیے ہی مطالعہ کر لیا اور پڑھنے والے کا مطالعے  سے جی اٹھ گیا تو کون ذمہ دار ہوتا؟ سو، ٹرالی میں لاد کر یہ ڈھیر ہاسٹل کے پڑوس میں واقع لائبریری میں جمع کرا لیے۔ یوں جامعہ کی لائبریری میں نہ صرف یہ کتابیں بلکہ جوانان ملت ان کتابوں سے بھی محفوظ تھے۔ 
خیر، یہ تو تب کی بات تھی جب کتابیں صرف کاغذ پر چھپا کرتی تھیں۔ دیکھیے تو، یہ بس پانچ سات سال پہلے کی بات ہے۔ اس دوران منظر اتنی تیز ی سے بدلا ہے کہ یہ بات اچھی خاصی پرانی معلوم ہوتی ہے۔ جس قدر سرعت سے دنیا، بالخصوص ہمارے اس خطے نے ہر طرح سے زمانے میں قیامت کی دوڑ دوڑی ہے کہ تین سال پہلے کا بھی گویا، تیس برس کا قصہ ہے۔ کتابیں، رسالے، اخبارات سب کچھ اب ایک سکرین پر مل جاتا ہے۔
یہاں میں اب اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا کہ یہ اچھا ہوا یا بہت برا ہو چکا ہے۔ ماضی سہانا تھا اور حال برا ہے۔ ورق پلٹنے کا اپنا لطف ہوتا ہے۔ زمانے کو خدا کے ساتھ خود کا خوف بھی جاتا رہا اور ہم آخر چاہتے کیا ہیں، اخبارات کا معیار کہاں گیا۔ کہاں تھے اور کہاں نکل گئے؟ وغیرہ ۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا بدل رہی ہے۔ زمانہ نیا ہے اور میری رائے میں ہمیں اس نئے زمانے کے ساتھ دوڑنا سیکھ لینا چاہیے۔ بلکہ، ہم سیکھ رہے ہیں۔ جیسے، اردو انٹرنیٹ پر پھیل رہی ہے۔ لوگ پشتو میں ٹویٹس کرتے ہیں اور پنجابی میں بات، شاعری کرتے پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح، اردو بلاگز کا معیار بھلے گر گیا ہو، مگر پھر بھی موجود ہیں۔ بڑے بڑے اخبارات کاغذ سے شیشے کی سکرین پر منتقل ہو رہے ہیں۔ اسی طرح کی کئی دوسری مثالیں ہیں۔
جیسا کہ میں نے بتایا کہ جب صرف وہ کتابیں میسر تھیں جو کاغذ پر چھپا کرتی ہیں تو ہمارے پاس جو ڈھیر جمع تھا۔ اس میں، اچھی کتابیں ہم نے دانستہ، چوری کروا لیں۔ جو اچھی نہیں تھیں یا کہو ہم ایسا سمجھتے تھے، انھیں لائبریری میں سنبھال کر رکھوا دیا کہ وہاں کون جاتا ہے؟ ردی والے کو نہیں دی کہ جی نہیں چاہتا تھا کہ کوئی پڑھتا۔
یہ اچھی خاصی غلط فہمی تھی۔ وہ دور تھا چلا گیا۔ یہ نیا دور ہے اور اس میں جیسے باقی، جس کو ہم ایسا سمجھتے آئے ہیں، مجھ جیسے خودساختاؤں کے ساتھ یہ ظلم بھی خوب ہوا ہے۔ انٹرنیٹ کسی کے مائی باپ کا نہیں کہ اس کے دروازے پر دروغہ بن کر کھڑے ہو رہیں گے۔ ہم جیسے پہلے چھانٹی کر کے کتابیں چرانے کی اجازت دے دیتے تھے، یہاں ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ سب کچھ کھلا پڑا ہے جس کا جو جی چاہے چرا لے جائے۔ کوئی کسی پر اپنے ذائقے نہیں تھونپ سکتا۔ کوئی کسی کو مجبور نہیں کر سکتا۔ جس کا جو جی میں آئے حاصل کر سکتا ہے، کہہ سکتا ہے اور یہاں تک کہ کہلوا سکتا ہے۔ اب، اگر کوئی خبطی اٹھ کر یہ کہے کہ جی تم یہ کرو اور وہ نہیں تو اس نئے دور میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اب زنجیریں اور طرح کی ہیں۔ ایسے میں بھی اب بھی آپ کو یہاں وہاں کئی خبطی نظر آئیں گے جو روایت کا رونا روتے ہیں۔ وہ خود ساختہ معیار کا ڈھول پیٹتے نظر آتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو برداشت کا مادہ ہاتھ سے چھوڑ کر گالم گلوچ بھی کر لیتے ہیں۔ اسی دور میں، اپنی کہی، اپنی منوانے کی غرض سے لوگوں کو قتل کرتے دیکھ لیا۔ لوگ کہتے ہیں، زمانہ برا ہو گیا ہے۔ ارے بھائی، زمانہ تو لوگوں سے ہوتا ہے۔ لوگ برے نہیں ہوئے، ان کو آئینہ نظر آ گیا ہے۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ یہ میں مطالعے کی آزادی سے شروع ہو کر، کہاں کا راگ الاپنے لگا، یہ کونسا نوحہ پڑھ رہا ہوں؟ میں تو اس دور کا باسی ہوں۔ اس زمانے کا سپوت ہوں۔ میں نے یہ بات سیکھی ہے کہ پہلے پہل زمانہ بہت اچھا رہا ہو گا۔ اس کا اپنا لطف ہوتا ہو گا۔ سب کچھ تھا مگر دیکھیں، ہمارا یہ زمانہ ہے۔ ہمیں اسی زمانے میں جینا ہے تو ہمیں یہ سیکھ لینا چاہیے۔
تو صرف مطالعے کو لیں تو آج کا دور کاغذ پر چھپی کتابوں کے ساتھ ساتھ برقی کتابوں کا بھی دور ہے۔ بلکہ، جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے تو سب کچھ بدل رہا ہے۔ نت نئے طریقے ایجاد ہو رہے ہیں اور کئی نئی چیزیں آ رہی ہیں۔ میں پہیہ دوبارہ سے ایجاد نہیں کرنا چاہتا۔ آپ کو اس بابت انٹرنیٹ پر بیش بہا معلومات مل جائیں گی۔ ہاں، اردو کی اس نگری میں اس بابت آپ عدنان مسعود صاحب کی یہ بلاگ پڑھ لیں (لنک)۔ وہ اس مختصر تبصرے میں بتاتے ہیں کہ اس نئے دور میں مطالعے کی غرض سے ان کا ای ریڈر، صوتی کتابوں وغیرہ کا تجربہ کیسا رہا؟
اسی طرح، ریاض شاہد صاحب (لنک) بھی ہیں جو کئی ایک بار ڈھکے چھپے انداز میں اس بدلتی دنیا کا حوالہ دے چکے ہیں۔ شاید اب انھوں نے بھی اس بابت تھک کر ہاتھ کھینچ لیا ہے کہ، کود مرو۔۔۔ ہماری بلا سے۔ مگر، ہمیں ان کی بات سننی چاہیے۔ وہ کئی ایک جگہوں پر اپنے بلاگ میں ان تبدیلیوں، نئے دور کے تقاضوں کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے ہمیں برقی کتابیں بنانے کے طریقے بھی سمجھائے ہیں۔ آپ اپنے لیے کتابیں بنائیے یا ان کے یہاں دو چار اردو کتابیں بنی بنائی مل جائیں گی۔
پھر اپنے دوست ہیں، شاکر عزیر (لنک)، بہت عرصہ پہلے انھوں نے صوتی کتابوں پر معلومات مہیا کی تھیں۔ وہ اس بابت خاصے پرجوش تھے مگر پتہ نہیں کیا ہوا، ٹھنڈے پڑ گئے۔ مگر جو بھی ہے، ان کی کہی بھی ان کے بلاگ پر مل جاتی ہے۔
آپ جب یہ سب حوالہ جات پڑھ لیں تو میرے خیال میں میری اس ہانک کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ ان اصحاب کی دہائی، کسی بھی شخص کو برقی کتب کی طرف مائل کرنے کو کافی ہے۔ میں ایک عرصے تک اس تگ و دو میں رہا کہ کسی طرح میں ایک بار پھر مطالعے کی طرف مائل ہو رہوں۔ اول تو اتنا شوق نہیں رہا تھا۔ پھر وجہ یہ تھی کہ کتابیں سنبھالنا اپنے بس کی بات نہیں تھی اور پھر میں لکھنے کی دھن میں جانے کدھر نکل گیا  کہ مطالعہ سرے سے چھوٹ گیا۔ مگر جیسا کہ میں نے عرض کیا، شو مئی قسمت۔۔۔ اچھا لکھنے کے لیے اچھا پڑھنا ضروری ہے۔ اچھا مطالعہ بھی تبھی لطف دیتا ہے اگر اچھی طرح پڑھا جائے۔ یعنی، نہ صرف توجہ درکار ہوتی ہے بلکہ اس بابت جو ضروریات ہیں وہ بھی پوری ہوں۔ مثلاً، کئی بار سوچا کہ جیسے کبھی سگرٹ نوشی کی لت سے چھٹکارا پایا تھا، اس موبائل فون پر سوشل میڈیا کی بیماری کا بھی علاج کروں۔
مگر، موبائل فون پر مطالعہ اس لیے بے ہودہ بات ہے کہ اول، یہ چھوٹی سی سکرین ہے ۔ پہلے پہل، جب صرف موبائل ہوا کرتا تھا تو اس پر تدریسی کتابیں بھی پڑھ لیا کرتے تھے مگر اب اتنی توجہ برقرار نہیں رہتی۔ پھر اس پر یہ موا سوشل میڈیا ہر وقت سوار رہتا ہے۔ پھر دفتر اور یہاں وہاں سے فون کی ٹوں ٹوں اور ٹیکسٹ پیغامات کی ہو ہا الگ۔ تنگ آ کر، موبائل فون سے بڑا، 'فیبلٹ' لے لیا۔ سکرین تو بڑی ہو گئی مگر باقی کی بکواسیات جوں کی توں جاری رہیں۔ پھر کمپیوٹر وغیرہ ہیں۔ نیٹ بک، نوٹ بک وغیرہ، مگر اس کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ مطالعہ اور بھی مشکل ہو جاتا ہے کہ چونکہ ہر طرح کی آزادی ہے تو انٹرنیٹ پر بے سود گھومنا پھرنا آسان ہے اور پھر آپ اس کو اٹھا کر لمبے دراز نہیں ہو سکتے۔ معاف کیجیے گا، میں اس بابت بالترتیب قائل اور کاہل دونوں واقع ہوا ہوں۔
یوں، ٹیبلٹ کا سہارا لیا۔ ایپل کا آئی پیڈ کمال شے ہے مگر اس میں کئی دوسری علتیں بہت ہیں۔ سوشل میڈیا، کھیل، الا اور بلا۔ اینڈرائڈ ٹیبلٹ کا تو اور بھی برا حال ہے اس میں نہ صرف ہر طرح کی علت ہے اور یہ آئی پیڈ کی طرح کوئی کمال شے بھی نہیں ہے۔ دونوں کے فرق کے لیے یہ مثال کہ آئی پیڈ کی آئی بکس جیسی ایپلی کیشن سے مطالعے کو چار چاند لگ جاتے ہیں۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ فون، فیبلٹ ، ٹیبلٹ اور کمپیوٹر کی جو سکرین ہے، وہ آنکھوں میں چبھتی ہے۔ آپ زیادہ دیر تک نظر نہیں ٹکا سکتے۔ آنکھیں جلنے لگتی ہیں اور بالآخر کچھ بھی کر لو، حال مجھ سا ہو جاتا ہے۔ یعنی، صرف اچھی کتاب خریدو اور پڑھے بغیر چوری کروا لو یا برقی کتب سے متعلق جو قضیہ ہے اس سے تنگ آ کر بالآخر مطالعے سے باز آ رہو۔ وقت تو گزارنا ہے تو پھر لکھنا شروع کر دو یا پھر انٹرنیٹ پر ہا ہو کرتے پھرو۔ اس پر بھی معیار ایسا رکھو کہ کسی بھی طور، نہ تو خود سے اور نہ ہی دوسروں سے کسی طور مطمئن ہو سکو۔
شاید، صدا یہی غم رہتا مگر پچھلے دنوں کہیں سے ایک ای-ریڈر ہتھیا لیا۔ ای ریڈر، ایسے آلات ہیں جو صرف مطالعے کے لیے مختص ہیں۔ اس کی سکرین عام سے مختلف ہوتی ہے۔ اس میں برقی سیاہی استعمال کی جاتی ہے، یعنی چھپی ہوئی کتاب کا تجربہ ملتا ہے۔ یہ آلات ویسے تو ایک عرصے سے موجود ہیں مگر مسئلہ یہ ہے کہ آپ پاکستان میں رہائش پذیر ہوں تو اول ایسی چیزیں آپ کو عام بازار میں میسر نہیں آتیں۔ آن لائن بازار الا بلا بیچ دیں گے مگر کام کی چیز پر ہاتھ اور پانی دونوں چھوڑ دیتے ہیں۔ یہاں پیسے دے کر بھی اپنی مرضی کی شے نہیں ملتی۔ وہ تو بھلا ہو، چین کے علی بابا اور ہمارے عزیز محسن ترک کے کریڈٹ کارڈ کا، بالآخر ایک ای ریڈر میسر آ ہی گیا۔
یہ بھی اچھی داستان ہے۔ چاہتا تو ایمیزون کا کنڈل وغیرہ خرید لیتا مگر جیسے اب آئی پیڈ سے اس وجہ سے نالاں ہیں کہ وہ آپ کو اپنی مرضی نہیں کرنے دیتا۔ مصداق اس سانپ کے کاٹے، ایمیزون کی رسی سے بھی ڈر کر دور رہا۔ یہ بھی سنا ہے کہ کنڈل والے نہ صرف یہ کہ اپنی مرضی نہیں کرنے دیتے بلکہ وہ اپنی مرضی بھی آپ پر تھونپتے ہیں۔ یعنی، اپنی ہی کتابیں بیچتے ہیں۔ آپ اپنی مرضی کی کتابیں شاید استعمال کر سکتے ہوں مگر وہ بھی اچھا خاصہ قضیہ ہے کہ ہر طرح کی فائل نہیں پڑھ سکتے۔ سو باز آئے۔
پھر کئی دوسری کمپنیاں تھیں، جن کے نام سے ہی وحشت سی ہوئی۔ جیسے نوک اور جانے کیا کیا؟ ان کے بارے پڑھا تو الگ طرح کے قضیے تھے۔
لے دے کر، کوبو کمپنی کا یہ ریڈر جسے، کوبو گلو ایچ ڈی کہا جاتا ہے، بالآخر خرید لیا۔ وجوہات سادہ تھیں۔ اس پر اپنی مرضی جتا سکتے ہیں۔ مرضی سے مراد یہ ہے کہ اپنی مرضی کے فانٹ، کتاب کی ہئیت، یونی کوڈ (ہمارے لیے اردو) سپورٹ، ایچ ڈی ڈسپلے اور ایسے ہی کئی دوسرے معاملات تھے کہ سبب جن کے، اس پر فتن چیز کو اپنا لیے۔ بھئی، میں جانتا ہوں کہ آپ کہیں گے کہ آخر ای ریڈر سے تمہاری اس نئی نویلی رغبت کی وجہ کیا ہے تو میں کہوں گا، اگر آپ نے نہیں پڑھا تو ابھی بھی جا کر عدنان مسعود صاحب کا اس متعلق بلاگ ضرور پڑھ لیں۔
خیر، فائدہ یہ ہوا کہ مہینے بھر میں اس آفت پرور، جس کو محسن ترک نے 'برقی آلہ مطالعہ' کا نام دیا ہے، چار کتابیں پڑھ لیں اور آنکھیں بھی سلامت ہیں۔ رات کو نیند بھی اچھی آتی ہے اور دن میں جہاں جہاں انتظار کی کوفت رہا کرتی تھی، اب نہیں ہوتی کہ یہ صرف چھ انچ سکرین ہے۔ میری بغل کے جیب میں، جیسے نسوار کی پڑیا، یہ بھی اپنی جگہ خود بنا لیتی ہے۔ اب ہم دھوپ سینکتے ہوئے صرف کنو اور امرود نہیں کھاتے، اپنی مرضی کے مردود مصنفین کو بھی پڑھ لیتا ہوں۔ اسی طرح، انٹرنیٹ پر اگر کوئی آرٹیکل پسند آئے تو فٹ سے 'پاکٹ' میں ڈال لیا کرتا ہوں اور ہر طرح کے مغلظات سے دور، تسلی سے چھپی ہوئی کتاب جیسا لطف پاتا ہوں۔ فائدے کئی ہیں، گنواتا رہوں گا تو آپ سمجھیں گے شاید میں آپ کو ای ریڈر بیچ رہا ہوں۔ یاد رہے، میرا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ میں تو خود، پہلے ہی سوشل میڈیا پر سیاسی و مذہبی نظریات اور کمرشل مصنوعات بیچنے والوں سے نالاں ہوں۔ کہیے تو متاثرین میں سے ہوں۔
قصہ مختصر۔۔۔ اب کا حال یہ ہے کہ لکھنے کو جی چاہتا ہے کہ اس میں میرے لیے عافیت ہے۔ مگر تگ و دو جو مطالعے سے متعلق ہے، وہ بھی اس لیے جاری ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ کچھ اچھا پڑھوں تو ہی کچھ اچھا لکھوں۔ لکھیں گے، ضرور لکھیں گے مگر پہلے پڑھ تو لیں۔ پہلے جان تو لیں۔ جو لکھنا چاہتا ہوں اور وہ جو لکھنا قرض ہے، اس پر سود تو چڑھا لوں۔ یہ نیا دور ہے، شاید سود کا سن کر ہی لوگ پڑھنے کی طرف مائل ہو جائیں۔ اے شاید۔۔۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر