اول المسلمین - یتیم - 1

اس تاریک رات میں محمد صلعم کا تن تنہا پہاڑی پر عبادت کی غرض سے موجود ہونے کے سوا، کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے ۔ آپ خطہ حجاز کے شہر مکہ کے ایک شہری ہیں۔ قدیم ترین تاریخی ذرائع بھی ان کی شبیہ کو مبہم انداز میں بیان کرتے ہیں۔ جیسے، 'محمد صلعم کا قد نہ تو لمبا تھا اور نہ ہی چھوٹا۔۔۔' یا، 'وہ نہ تو گورے تھے اور نہ ہی کالے۔۔۔' اسی طرح، 'بہت بھاری بھرکم اور نہ ہی دبلے پتلے۔۔۔' وغیرہ۔ پھر بھی، بعض معلوم حقائق سے ہم ان کی ہئیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ جیسے، جو شخص مسلسل کئی راتیں تنہائی کے عالم میں مراقبہ میں بسر کرتا ہو۔ وہ یقیناً دبلا اور تنہائی پسند ہو جائے گا مگر اس مشقت کے قابل آدمی جسمانی اور اعصابی طور پر کمزور نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح جا بجا دہرایا گیا ہے کہ محمد صلعم کے رخسار گول اور کھلتے ہوئے تھے جبکہ روایتی عربوں کی طرح رنگت سرخی مائل تھی۔ قدرے بھاری ڈیل ڈول کا سخت جسم اور نسبتاً ابھری ہوئی چھاتی کی وجہ سے چال میں مخصوص انداز پیدا ہو گیا تھا۔ پیدل چلتے ہوئے کندھے میں خم پڑ جاتا، گویا کسی چیز کی جانب یا آگے کی طرف تیزی سے لپک رہے ہوں۔ محمد صلعم کے ہم عصر بتاتے ہیں کہ وہ مڑ کر کسی کی طرف دیکھتے تو بجائے اس کے صرف سر کو گھمائیں، پورے جسم کو موڑ کر دیکھتے تھے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی گردن میں لچک نہیں تھی۔ عربوں سے منسوب اگر کوئی روایتی وجاہت تھی تو وہ آپ کا خاندان اور چہرہ تھا۔ ناک لمبی اور خطف جو حجاز میں شرافت، اعتبار اور امانت داری کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
پس، عمومی لحاظ سے کہیں تو محمد صلعم مکہ کے ایک اوسط باشندہ تھے۔ اس رات وہ چالیس کے پیٹے میں ایسا شخص ہیں جس نے کبھی یتیمی میں آنکھ کھولی تھی مگر آج اپنے لیے ایک ایسی زندگی بنانے میں کامیاب ہو چکے تھے جو عام حالات میں شاید ممکن نہ ہوتی۔ آپ نے ایسا بچپن پایا کہ کنبے، قبیلے اور معاشرے کے لیے اجنبی ہو کر رہ گئے۔ پھر بھی چالیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے، خود کی پہچان منوا لی تھی۔ انتہائی مشکل حالات اور ہر طرح کے مسدود راستوں کے بیچ میں سے اپنے لیے اچھی خاصی دنیا بنا لی تھی۔ اس رات محمد صلعم خوش خرم، شادی شدہ، بھرے پرےگھر میں، منافع بخش کاروبار اور اپنے حلقہ احباب میں اچھے خاصے باعث عزت و تکریم۔۔۔ الغرض دنیاوی لحاظ سے ہر طرح کامیاب تھے۔ یہ ساری کمائی بے انتہا محنت کا نتیجہ تھا(تھی)۔ لوگ محمد صلعم کو اچھی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ان کے خیال میں، محمد صلعم امرا شہر میں وہ آدمی تھے جس نے اپنے بل بوتے پر اپنے لیے دنیا قائم کی تھی اور دلچسپ بات یہ کہ سب کچھ بنانے(میں) اخلاقی طور پر کوئی چوک نہیں ہوئی۔ محمد صلعم نے کسی بھی اوچھے ہتھکنڈے، زیادتی سے کام نہیں لیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ مکہ کا تقریباً ہر آدمی اپنے معاملات میں محمد صلعم سے رائے لیتا۔ لوگوں کے نزدیک محمد صلعم کے کوئی مخفی مفادات نہیں تھے۔ جس طرح کے حالات میں انہوں نے پرورش پائی تھی، قبیلے اور کنبے کی رکاوٹیں ان کے لیے بے معنی تھیں۔ وہ سیدھے سادھے، سچے اصولوں کو مانتے تھے۔ لہذا، فیصلہ کرنے میں وہ کسی بھی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ تھا کہ محمد صلعم کا کوئی فیصلہ ناانصافی پر مبنی نہیں ہوتا تھا۔ یوں، ادھیڑ عمری تک پہنچتے محمد صلعم نے معاشرے میں ہر طرح سے عزت اور تکریم پا لی تھی، رتبہ اور حق پا لیا تھا۔ اسی طرح تجارت میں اتنا مال بھی کما لیا تھا کہ اب باقی ماندہ زندگی، مکہ کے شہری علاقے میں آرام اور سکون سے بسر کر سکتے تھے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر سب کچھ ہونے کے باوجود محمد صلعم تن تنہا، رات کی تاریکی میں اپنا گھر بار چھوڑ کر اس پہاڑی پر شب بیداری کیوں کر رہے تھے؟ جب پورا شہر نیند میں ڈوبا ہوا تھا تو ایسے میں ایک خوشحال، شادی شدہ شخص آخر عبادت کی غرض سے سہولت اور آرام کو وداع کیوں کرے گا؟ سب کچھ ہوتے ہوئے، اس طرح تارک دنیا کیوں ہو جائے گا؟
اس بابت ایک اشارہ ہے۔ یہ اشارہ، محمد صلعم کے لباس میں ہے۔ جتنی دولت ان کے پاس تھی وہ یقیناً مہنگے، ریشمی لباس خرید کر پہن سکتے تھے۔ مگر اس وقت انہوں نے سستا، عام کپڑا زیب تن کر رکھا ہے۔ گھر کی کھڈی پر بُنا کپڑا، جس میں پیوند نہ لگے ہوتے تو تار تار ہو کر بکھر جاتا۔ یہ لباس صحرا کی ٹھنڈی راتوں میں تن ڈھانپنے اور سردی سے بچانے کے لیے کافی بھی نہیں ہے۔ جوتی ٹوٹی ہوئی ہے اور چمڑے سے بنے کمر بند، کوزے اور تسمے کا رنگ دھوپ میں اڑ چکا ہے۔ محمد صلعم پہاڑی پر، غار کے منہ پر آگے کو خم کھائے مراقبہ میں قیام کی حالت بنائے اس طرح کھڑے ہیں جیسے منہ زور ہوا کے سہارے پر ہوں ۔ ایسے میں جسم گویا زمین کی مساوی سطح پر ایک زاویہ بنا رہا ہے۔
غور و فکر کرنے کے لیے اس سے موزوں جگہ دوسری نہیں ہو سکتی۔ رات کے پچھلے پہر، اس حالت میں کوئی بھی دنیا پر سوچ دھرے تو وہ اس کو مختلف پائے گا۔ ایسی جگہ پر خیال جداگانہ انداز میں پنپتا ہے۔ ظاہر ہے، جس طرح کی طبیعت تھی، محمد صلعم کو خامشی(خاموشی) میں سکون ملتا ہو گا۔ یہاں، پہاڑی پر ان کا ساتھ دینے کے لیے صرف سنسناتی ہوئی ہوا ہے۔ دنیا اور مافیہا، معاملات اور واقعات سے دوری میسر ہے۔ شہر کے برعکس یہاں مکمل سکوت ہے۔ شہر میں تو لوگ صرف طاقت اور مال و دولت کی گردان پڑھتے (کرتے)ہیں۔ یہ واحد جگہ ہے جہاں دماغ سوچ اور مشاہدے کے لیے آزاد ہے۔ اس طرح کی خلوت میں ایک وقت ایسا آتا ہے کہ آدمی سوچنا ترک کر دیتا ہے۔ مشاہدے سے گریز کرنا ضروری ٹھہرتا اور بالآخر اس جہان اور قدرت سے منسوب بے پایہ وسعت سے تعلق، ایک رابطہ بن جاتا ہے۔
قریب سے دیکھیں تو محمد صلعم کی آنکھوں کے کونے کھدروں میں تنہائی نظر آئے گی۔ ایسے شخص سے واسطہ پڑے گا جس کی نظر تنہائی تلاش کرتی ہے۔ بلاشبہ ، محمد صلعم کو اس بات کا ادراک ہے کہ ایک وہ وقت تھا جب یہ اس معاشرے، قبیلے اور کنبے میں تقریباً نو وارد تھے۔ غربت کا وہ عالم تھا اور ابھی یہ دور ہے کہ سب کچھ میسر ہے۔ جب سب کچھ ہے تو یہ ایسے میں سچائی پھن پھیلا کر سامنے کھڑی ہے کہ دنیاوی معاملات، یہ حاصل بے معنی ہے۔ یہ تلخ حقیقت تنہائی کے عالم میں کسی بھی سوچنے سمجھنے، غور کرنے والے کسی بھی شخص کے رونگٹے کھڑی کر سکتی ہے۔ محمد صلعم کے ادھ کھلے ہونٹوں پر مراقبے کی حالت میں جو سرگوش ورد جاری ہے۔ اس میں محتاجی، اس خوف کی بابت ذات مقدس کے حضور التجا سنی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں محمد صلعم کی بحیثیت انسان محتاجی، بے بسی واضح ہے۔ جو بھی ہو پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ، آخر جب ایک شخص کو سب کچھ حاصل ہے۔ دنیاوی آرام اور سہولت بھی میسر ہو تو پھر اطمینان کیوں نہیں۔ آخر چین کیوں نہیں پڑتا؟ کیا اس کی وجہ یہ ہے کہ محمد صلعم نے یہ سب کچھ مشکلات کا سامنے کرنے کے بعد، انتہائی مشقت اٹھا کر کمایا ہے؟ اب بعد اس کے، جب سب کچھ حاصل کر لیا تو ان کو یقین نہیں کہ یہ باقی رہے گا یا یہ سب ان کے ہاتھ سے چھن بھی سکتا ہے۔ یا شاید، جیسا کہ معاشرے نے اپنے تئیں طے کر رکھا تھا، اس کمائی پر، عزت و تکریم پر ان کا حق نہیں تھا؟ یتیمی میں جنم لینے والا تو اس معاشرے میں صرف محتاجی کا مستحق ہوتا ہے۔ محمد صلعم نے جو رتبہ اور مقام بنا لیا تھا، کیا وہ اس معاشرے کے لیے انوکھی بات نہیں تھی؟ یا شاید، بات یہ نہیں تھی۔ معاملہ تو کچھ اور تھا۔۔۔
یہ کچھ اور کیا تھا؟ وہ کیا تلاش کر رہے تھے؟ شاید اپنے اندر روحانی سکون، اطمینان کی تلاش میں تھے؟ یا صرف اسی پر اکتفا نہیں، وہ تو اس سے کچھ بڑھ کر چاہتے تھے۔ شاید، وہ دل ہی دل میں رب ذوالجلال کا جلوہ یا اس کی طرف سے ایک اشارہ دیکھنا چاہتے تھے۔ یکتائی اور روحانی طلب سے بڑھ کر کوئی اشارہ، ایک کنایہ جو اس سب دنیا، جہان اور اس کے معاملات سے بڑھ کر ہوتا؟
ہم چاہے جیسا بھی گماں پال لیں مگر ایک بات طے ہے۔ اس بات کا اقرار خود محمد صلعم نے بھی کر رکھا ہے کہ سن 610ء کی اس رات مکہ شہر کے باہر حرا کی پہاڑی پر جو واقعات پیش آئے تھے، وہ ان کے لیے بھی غیر متوقع تھے۔ وہ اس واردات کے لیے ہر گز تیار نہیں تھے۔
اس رات ایک انسان کا سامنا ذوالجلال، حق ربانی سے ہوتا ہے۔ ایک عقل پسند کے لیے یہ بات حقیقت نہیں ہو سکتی۔ عقل پر یقین رکھنے والوں کے یہاں یہ زیادہ سے زیادہ ایک پر لطف، افسانوی قصہ شمار ہو گا۔ مگر محمد صلعم نے اس واقعے کے بعد انوکھا رد عمل ظاہر کیا ہوتا جیسا کہ اس طرح کے کسی بھی پر لطف، افسانوی قصے میں سوچا جا سکتا ہے تو ہم کہہ سکتے تھے کہ یہ ایک افسانہ، گھڑی ہوئی داستان ہے۔ حقیقت میں مگر، محمد صلعم کا رد بالکل مختلف رد عمل تھا۔ یہ خالصتاً انسانی تھا۔
وہ پہاڑ سے نیچے یوں نہیں اترے کہ ہواؤں میں اڑتے ہوں یا دوڑے دوڑے چلے آتے ہوں۔ نعرے لگاتے، تکبیر بلند کرتے شہر میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ محمد صلعم واپس ہوئے تو ان کے گرد کوئی روشنی بھی نہیں پھوٹ رہی تھی۔ انہیں فرشتوں نے گھیرے میں نہیں لے رکھا تھا اور نہ ہی وہ فرشتے جنت کے راگ الاپ رہے تھے۔ ایسا کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ وجدان کا عالم اور نہ ہی کوئی سنہری روشنی کا ہالہ۔۔۔ کچھ بھی نہیں۔ حتی کہ اس رات بحیثیت پیغمبر خدا، ان کا کردار بھی واضح نہیں کیا گیا تھا۔ بس قران کی چند ابتدائی آیات سونپ دی گئی تھیں۔ قصہ مختصر، محمد صلعم نے بعد اس واقعہ ایسا کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا، جس سے محسوس ہوتا ہو کہ اس شخص نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا ہے۔ بالآخر، کئی رتجگوں کے بعد حق واحدنیت کا جلوہ ہو گیا ہے۔ مراقبوں کے نتیجے میں انہوں نے دوسرے جہان سے ربط پیدا کر کے انہونی کر دی ہے۔ غور کریں تو اس واقعہ کے فوراً بعد محمد صلعم کا رویہ قطعاً ایسا نہیں ہے کہ اس واقعہ کی صحت پر شک کر سکیں۔ یک جنبش قلم اس واردات کو رد کر دیں یا اس کو اختراع کہنے کا موقع ڈھونڈیں۔۔۔ یا کہیں کہ محمد صلعم کو کوئی مغالطہ، کچھ وسوسہ سا ہوا ہے۔ اس معاملے میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ سب سے پہلے خود محمد صلعم نے اپنے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ کی صحت پر سوال اٹھایا۔ وہ خود شبہ میں گرفتار تھے۔ اس طرح کی واردات ایک عام شخص کے لیے زیادہ سے زیادہ نفسیاتی ہذیان ہو سکتا ہے۔ شاید حواس دھوکہ دے گئے۔۔۔ آنکھ اور کان چوک گئے ہوں ۔ نہیں تو شاید، دماغ کوئی کھیل کھیلتا ہو؟ سب سے بدتر صورتحال یہ ہو سکتی تھی کہ شاید کسی شریر جن کا سایہ آ گیا تھا۔ شیطان نے ان کے ساتھ یہ چال چلی ہو۔ یہ بات خطرناک تھی کہ اس صورت میں تو محمد صلعم کی جان بھی جا سکتی تھی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ خود محمد صلعم کو یہ گماں ہوا کہ وہ جنون کی حالت میں چلے گئے، مجنوں ہو گئے۔ یہی وجہ تھی کہ جب وحی ہو چکی تو انھوں نے خود کو زندہ پا کر اپنی جان لینے کے بارے میں بھی سوچا۔ انھوں نے فیصلہ کیا کہ اس دہشت اور ہیبت سے چھٹکارا پانے کے لیے بہتر یہ ہو گا کہ وہ اس پہاڑ کی اونچی چٹان سے کود کر جان دے دیں ۔ یوں، اس حالت، دہشت ناک کیفیت سے جان چھوٹ جائے گی۔
یہی وہ حالت تھی کہ اس واقعہ کے بعد، ہم دیکھتے ہیں کہ حرا سے واپسی پر محمد صلعم کی حالت ابتر تھی۔ وہ خوشی سے جھوم نہیں رہے تھے۔ محمد صلعم پر خوف طاری تھا۔ وہ شدت خوف سے کپکپا رہے تھے۔ ان پر ایقان نہیں شک اور شبہ کا غلبہ تھا۔ ہاں، ان کو اس ایک بات کا یقین ضرور تھا کہ یہ جو بھی معاملہ پیش آیا تھا، وہ خود کو اس قابل نہیں سمجھتے تھے۔ ایک ادھیڑ عمر شخص کے ساتھ یہ معاملہ کیسے پیش آ سکتا ہے جو صرف اور صرف سکون، اطمینان چاہتا تھا یا زیادہ سے زیادہ خدا کی طرف سے ایک جھلک اور اشارہ مانگتا تھا۔۔۔ اس قدر بھاری بھر کم، الہامی نزول کیونکر ہو سکتا تھا؟ اگرچہ محمد صلعم کو اپنی جان کی فکر نہیں تھی مگر ان کو اپنے ہوش اور حواس یقیناً عزیز تھے۔ ان کو ڈر یہ تھا کہ شاید تنہائی میں، شہر سے دور مراقبہ کی غرض سے گزاری ہوئی کئی راتوں کے نتیجے میں ذہنی حالت اپنی انتہا کو چھو گئی ہے۔ انتہائی صورت میں، شاید وہ اس حالت میں جانبر نہ ہو پائیں، مکمل طور پر ہوش و حواس نہ کھو دیں۔
غار حرا میں جو بھی ہوا۔۔۔ محمد صلعم کا رد عمل انسانی تھا۔ یہی رد عمل تاریخ میں اس واقعے کی سچائی کو ظاہر کرتا ہے۔ آپ شاید سوچتے ہوں کہ وہ الفاظ جو محمد صلعم نے سنے تھے، کیا وہ خود ان کے اندر کی آواز تھی یا یہ ان پر بیرون سے وارد ہوئے تھے؟ اس سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ محمد صلعم کا ان الفاظ، اس کیفیت سے سامنا ہوا۔ یہ اس قدر طاقت ور تجربہ تھا کہ ہوش اڑ گئے۔ ان پر طاری ہونے والی ہیبت فطری تھی۔ قدرتی طور پر ایک انسان کی نفسیاتی و اعصابی حالت، اس طرح کی واردات پر یوں ہی منتج ہوتی۔ دہشت اور نفی کی حالت۔ اگر محمد صلعم کا یہ رد عمل کسی کو بھی غیر فطری محسوس ہوتا ہے تو یہ اس بات کی غمازی ہے کہ ہمیں روحانی تجربات اور ان پر رد عمل بارے کس قدر گمراہ کن قصے اور کہانیاں پڑھائی جاتی رہی ہیں۔
یہاں ایک معاملہ اور بھی ہے۔ عقلیت پسندوں کو چھوڑ، اس بحث کو ایک طرف رکھ کر سوچیں۔ خود مسلمانوں میں، بالخصوص قدامت پسند مسلمان اس بات سے اتفاق نہیں کرتے کہ نزول وحی کے بعد محمد صلعم نے خود کشی کے بارے میں سوچا ہو گا۔ وہ اس بات کا تذکرہ کرنے سے کتراتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ محمد صلعم کی اوائل سوانح حیات میں اس کا بھر پور اور واضح ذکر موجود ہے۔ قدامت پسند اس بات پر مصر ہیں کہ محمد صلعم کو ایک لمحے کے لیے بھی ایسا کوئی گماں نہیں ہوا۔ ان کو کسی بھی طرح سے شک اور شبہ نے نہیں جکڑا۔ مایوسی تو بہت دور کی بات ہے۔ جیسے عقلیت پسندوں کے لیے روحانی تجربات افسانوی قصے ہیں، ویسے ہی قدامت پسند اس معاملے کو بے نقص ماننا چاہتے ہیں۔ قدامت پسند انسان سے متعلق جو ناتمامی، ادھورا پن یا کثافت ہے۔ اس کو محمد صلعم جیسی شخصیت کے لیے برداشت نہیں کر سکتے۔
شاید اسی وجہ سے آج یہ جاننا بہت مشکل ہو گیا ہے کہ اصل میں محمد صلعم کون تھے؟ ان کے اس کامل خاکے کے سبب انہیں، بطور ایک انسان سمجھنا مشکل ہو چلا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے محمد صلعم ایک آئیڈیل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ رسول، پیغمبر خدا جو کسی بھی طرح کے انسانی جذبات، معاملات اور نفسیاتی حالات سے مبرا ہیں۔ حالانکہ خدا نے ان کو قران میں بار ہا تاکید کی ہے کہ کہتے رہیں، 'میں تم میں سے ایک ہوں!'۔ ایک آدمی، مگر پھر بھی نسبت رسول اور عشق میں مبتلا مسلمان ان کو عقیدت میں لتھڑا، تبرک کی چاندی اور سونے سے بُنا ہوا لبادہ پہنانے سے نہیں چوکتے۔ محمد صلعم کی بابت مسلمانوں میں ایک مالکانہ سوچ پائی جاتی ہے۔ محمد صلعم کی نسبت آج بھی ہر مسلمان کے ہاں ایک محافظت، مرافعت نظر آتی ہے۔ یہ تب بھی جوں کی توں قائم ہے جب خود مذہب اسلام کے لیے شرق و غرب میں ایک کڑا وقت چل رہا ہے۔ محمد صلعم سے مسلمانوں کی یہ نسبت اس لحاظ سے بے مثال ہے۔
مگر دیکھیے، یہ قدرتی بات ہے کہ جب آپ کسی کو یوں مثالی، کامل بنا کر پیش کر لیتے ہیں تو دراصل یہ اس شخص کو انسانی خصائل سے محروم کرنے اور اس کی آدمیت کو سلب کرنے کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج لاکھوں اور کروڑوں صفحات پر لکھی گئی کئی سوانح عمریوں میں محمد صلعم کو بطور انسان، ایک آدمی کی طرح دیکھ پانا انتہائی مشکل ہے۔ اس سارے علمی مواد کے جکڑ میں جوں جوں آپ آگے بڑھتے، پڑھتے جاتے ہیں، یقینی طور پر محمد صلعم کے بارے میں جانتے جاتے ہیں مگر خود محمد صلعم کون تھے، یہ کبھی معلوم نہیں ہوتا۔ ان کی اپنی شخصیت، تشخص الفاظ کے اس کہر میں کہیں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔
عقیدت میں لتھڑے مقالات جب محمد صلعم کی زندگی کے حالات بیان کرتے ہیں تو ان پر دیومالائی روایات، حکایات، قصے اور داستان کا گماں ہوتا ہے۔ یہ تکریمی بیانات وہی کام کرتے ہیں جو انہیں کرنا چاہیے۔ یعنی، محمد صلعم ایک انسان کی بجائے علامت کے طور پر ابھر کر سامنے آتے ہیں۔ آج جب کہ اسلام، عیسائیت کے مقابلے میں دنیا کا سب سے بڑا مذہب بننے کی طرف گامزن ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ہم اس آدمی کی بابت بہت کم جانتے ہیں جس کو قران میں کم از کم تین بار تاکید کی گئی کہ وہ خود کو 'اول المسلمین' ، یعنی سب سے پہلا مسلمان کہلوائیں۔ ان کی زندگی بلاشبہ آج تک کے کسی بھی انسان کے مقابلے میں جی جانے والی بھرپور زندگی تھی۔ شاید ہم اس سے اتفاق نہ کرتے ہوں یا ہم انہیں صرف علامت کے طور پر جاننا چاہتے ہوں مگر پھر بھی محمد صلعم کے نام سے جڑے طلسم یا شاید اس نام اور کارناموں کی وجہ سے، تاریخ اور دنیا میں اونچے مقام کی نسبت سے۔۔۔ ہمیں ان کو بحیثیت انسان جاننے ، ان کی زندگی کے متعلق اس رخ پر تحقیق، مطالعہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
ذرا سوچیے۔ یہ کیونکر ہوا کہ ایک شخص جب وہ ایک نوجوان تھا اور اپنے سماج میں رد کر دیا گیا تھا، قران میں بھی، جس شخص کو مخالفین کی زبانی ان کو 'غیر اہم' گردانا گیا ہے، اپنی دنیا بدل کر رکھ دیتا ہے؟ ایک شیر خوار بچہ جس کا بچپن اپنے خاندان سے دور گزرا ہو، وہ بڑا ہو کر خاندان اور قبیلے کی رائج تعریف کو اس سے کہیں بڑے معنوں میں تبدیل کر دیتا ہے؟ یعنی امت مسلمہ کا تصور پیش کر دیتا ہے۔ یہ کیونکر ہوا کہ ایک تاجر ، بالآخر صاحب حکمت و فکر ہوا۔ اپنے زمانے میں رائج خدا اور سماج کے متعلق بنیادی نظریات کو بدل کر رکھ دیتا ہے، وہ بھی یوں کہ اس کا سامنا رائج معاشرتی اصولوں اور انتہائی مضبوط سیاسی قوتوں سے ہے؟ ایک ایسا شخص جس کو اپنے آبائی شہر سے نکال باہر کر دیا جاتا ہے، ہجرت پر مجبور کر دیا گیا مگر پھر وہ اسی شہر میں فاتح بن کر لوٹا اور ایک نئی شروعات کی، نئی بنیاد ڈال دی۔ یہ کیسے ہوا کہ صرف آٹھ سال بعد وہ اسی شہر میں ایک قومی ہیرو کے طور پر لوٹ آتا ہے؟ اس آدمی نے آخر ناممکنات کے بحر میں امکانات کی ندی کیسے نکال لی جو بالآخر ممکنات کا سمندر بن گیا؟
ان سب سوالات کا جواب تلاشنے کے لیے ضروری ہے کہ محمد صلعم کی شخصیت پر بات کرنے والوں، ان کی سوانح حیات لکھنے والوں کو یہ استحقاق اور آزادی میسر ہو کہ وہ صرف واقعات بیان نہ کریں بلکہ وجوہات، پس منظر اور اس وقت سے جڑے معنی بھی تلاش کریں۔ اس میں دلچسپی رکھنے والوں کو یہ سہولت ہو کہ وہ اس کی اصل میں خود کو غرقاب کر سکیں۔ وہ آزادی سے سوچ سکیں اور واقعات کا ہر لحاظ سے، انسانی افعال، نفسیات اور کئی دوسری بنیادوں پر جائزہ لے سکیں۔ یعنی، ان کی زندگی میں پیش آنے والے واقعات اور معاملات کو اس طرح بنُنے کی کوشش کریں کہ محمد صلعم کا قرطاس پر سہ جہتی خاکہ بن کر سامنے آئے۔ ایسی شبیہ کہ جو رائج اصولوں اور تصورات سے کہیں بڑھ کر ہو۔ یہ ایک انسان کی مورت ہو نہ کہ کسی علامت کا تذکرہ ہو۔
برطانوی فلسفی اور تاریخ دان، آر جی کولنگ ووڈ نے اپنی کتاب 'آئیڈیا آف ہسٹری' میں لکھا تھا کہ تاریخ کی کسی شخصیت بارے اچھی طرح لکھنا ہو تو آپ کو حقیقت اور تخیل دونوں کی ہی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ قصے گھڑنے لگیں۔ بلکہ، جو معلوم ہے اس کو زماں اور مکاں کی نسبت سے پوری طرح کھنگال لیں۔ تا کہ ایسی کہانی سامنے آئے جو حقائق پر مبنی ہو اور ہم کہہ سکیں کہ وہ حقیقت کے قریب تر معلوم ہوتی ہے۔ اگر ہم تاریخ کے کسی شخصی خاکے کی جہتوں کے متعلق بات کریں، جو بیان ہو سکتی ہیں۔ یا ایسی شبیہ جس میں کم سے کم ابہام ہے اور یہ کسی کی بے مثال زندگی سے متعلق بھی ہے۔ ایسی زندگی جو اپنے زمانے میں دنیا کو بدل کر رکھ دے گی اور آنے والے دور میں، حتیٰ کہ آج بھی ہماری زندگیوں، دنیا پر اثر انداز ہے گی تو ہمیں محمد صلعم کی زندگی کو ایمانداری اور تحقیق کی نظر سے دیکھنے کا حق دینا ہو گا۔ ہمیں ان کی زندگی کا اجمالی، بھرپور اور کلیت کے ساتھ جائزہ لینا ہو گا۔
محمد صلعم کی زندگانی ایک آدمی، اس آدمی کا اپنے زمان و مکاں اور اپنے دور میں رائج ثقافت کے بیچ غیر معمولی تعلق کی کہانی ہے۔ اس بابت پہلا سوال جو ابھرتا ہے وہ یقینی طور پر اس آدمی سے متعلق ہے۔ یعنی محمد صلعم ہی کیوں؟ ساتویں صدی کے حجاز عرب میں، محمد صلعم ہی کیوں؟
ان خطوط پر سوچنا اچھا خاصہ دلچسپ مگر بہرحال پریشان کن ہے۔ ایک طرف تو یہ سوال ایک دم عقائد، اس دور سے متعلق عصبیت اور ثقافتی مفروضات کی طرف دھکیل دیتا ہے جبکہ دوسری جانب یہی سوال ہمیں محمد صلعم کی شخصیت کو واضح طور پر دیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اسی سوال سے ہمیں یہ سمجھنے میں بھی مدد ملتی ہے کہ آخر محمد صلعم نے گمنامی سے ناموری، بے وقعتی سے اقتدار اور بے وقری سے صدا قائم رہنے والی اہمیت کیسے پائی؟
محمد صلعم کی زندگی میں جھانکنے کے لیے ہمارے پاس مشعل راہ، ابتدائی دور میں لکھی گئی دو اسلامی تواریخ ہیں۔ پہلی تو ان کی طویل سوانح حیات ہے جو آٹھویں صدی عیسوی میں، شہر دمشق میں ابن اسحاق نے تحریر کی۔ ابن اسحاق کی تحریر کردہ یہ سوانح عمری، آج تک محمد صلعم پر لکھی جانے والی تقریباً ہر سوانح کی بنیاد ہے۔ دوسری تاریخ، جو کہ اسلام کی سیاسی تاریخ ہے۔ یہ ال تبری نے نویں صدی عیسوی میں بغداد شہر میں لکھی۔ اس تاریخ اسلام کے تراجم کی کل انتالیس جلدیں ہیں جن میں سے چار صرف محمد صلعم کی زندگی کا احاطہ کرتی ہیں۔
ان اصحاب، یعنی ابن اسحاق اور الطبری کے متعلق یہ کہ، دونوں تاریخ دان ایماندار اور اصول پسند ہیں۔ ان کی لکھی گئی یہ تواریخ خاصی جامع ہیں۔ انہوں نے تاریخ بیان کرنے میں حقیقت پسندی سے کام لیا ہے۔ یاد رہے، ان کو یہ تواریخ قلم بند کرنے کے لیے صرف زبانی بیانات کا سہارا لینا پڑا تھا۔ یہ اس بات سے کلی طور پر آگاہ ہیں کہ وقت اور عقیدت کسی بھی شخص کے حافظے پر کس طرح اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس طرح یہ دونوں تاریخ دان حقیقت اور خواہش کے بیچ باریک خط کو واضح طور پر سمجھتے ہیں۔ جہاں کسی غلطی کا احتمال بھی ہوا تو اس پر بحث کا رجحان مکمل بیان، حوالے کی طرف ہے نہ کہ وہ خود اس پر فیصلہ صادر کریں۔ ان دونوں تواریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس کیا جا سکتا ہے کہ دونوں ہی اپنے شعبہ سے منسوب ذمہ داری اور روایت کے نہایت باریک خط پر انتہائی مہارت سے گزرتے ہیں۔ تاریخ اور عقیدے، حقیقت اور مفروضے کے بیچ یہ توازن برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش میں، جہاں مغالطے کا گماں ہو تو باقاعدہ اس کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ یہ کسی بھی تاریخ دان کی ایسی خاصیت ہے جو آج کے انتہائی جدید دور میں بھی جب کہ ہر چیز کئی طرح سے، چھاپی ہوئی مل جاتی ہے، اتنی ہی نا پید ہے جتنی کہ اس دور میں تھی۔ ایک مرتبہ پھر، یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان اصحاب کو صرف زبانی بیانات سے کام لینا پڑا تھا۔ اسی وجہ سے ان تواریخ میں انہوں نے متضاد بیانات کو بھی شامل کیا ہے اور فیصلہ کرنے کا اختیار پڑھنے والوں پر چھوڑ دیا ہے مگر اس کا کسی بھی طرح سے یہ مطلب نہیں کہ ان کا مقصد کسی بھی صورت ابہام پیدا کرنا تھا۔ ابہام سے بچنے کے لیے جہاں پر ضرورت محسوس ہوئی، انہوں نے اپنا نکتہ نظر واضح طور پر الگ سے بیان کیا ہے۔ مثال کے طور پر، ابن اسحاق کی لکھی تاریخ میں آپ کو جا بجا، 'ایسا گماں ہے کہ۔۔۔'، 'مجھے ایسے بتایا گیا۔۔۔' وغیرہ جیسی سطور ملیں گی۔ اسی طرح، جہاں پر کئی عینی شاہدین کے بیانات میں تضاد نظر آتا ہے تو وہ اس کو یوں لپیٹ کر کہ، 'خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ ان میں سے جو بیان درست ہے۔۔۔' آگے بڑھ جاتے ہیں۔ گویا، اس بابت وہ اپنی معذوری، علمی بے بسی کو بھی واضح کر دیتے ہیں۔
تاریخ میں محمد صلعم کے علاوہ کسی دوسری شخصیت کی زندگی بارے اگر اتنا کچھ لکھا گیا، وہ بھی یوں کہ ان کی شخصیت پھر بھی ایک بھید ہی رہے تو وہ عیسیٰ ہیں۔ مگر، عیسیٰ کے معاملے میں یہ ہے کہ پچھلی چند دہائیوں میں کئی عالمانہ مکالمے پیش کیے گئے ہیں۔ بحث کی گئی ہے۔ ان کوششوں کے نتیجے میں آج ان کا ایک انسانی خاکہ مل جاتا ہے ۔ عیسیٰ کے بارے یہ مقالات نہ صرف ان کے دور، در پیش حالات کو واضح کرتے ہیں بلکہ ان کی مدد سے اس شخصیت اور اس کے اپنے زمانے اور رہتی دنیا تک اثرات کا بھی بخوبی جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اس کاوش میں، عالمین نے تاریخ میں بیان کردہ داستانوں، سیاسیات، علوم مذاہب سے کہیں بڑھ کر نفسیات کا سہارا لیا ہے جس سے عیسیٰ کی شخصیت اور ان کا پیغام زیادہ واضح ہو جاتا ہے۔ یوں عیسیٰ کے متعلق جب اس طرح، اس زمانے کی مطابقت میں دیکھنے کی کوشش کریں تو وہ ہمیں اپنے جیسا ایک شخص، مگر ہر لحاظ سے غیر معمولی انسان نظر آتے ہیں۔
محمد صلعم اور عیسیٰ کے بیچ مماثلت غیر معمولی ہے۔ دونوں ہی سماجی ناانصافی کا شکار رہے۔ دونوں پر ہی وحی اتاری گئی اور ان دونوں شخصیات نے ہی اپنے زمانے میں رائج نظام کو للکارا۔ عیسیٰ کے یہاں عقائد ویسے ہی بیان کیے گئے ہیں جیسے کہ محمد صلعم نے بالترتیب بیان کیے یا دونوں کے لیے تاریخ ایسے ہی کھلتی ہے جیسی کہ در حقیقت پیش آئی۔ یعنی عقائد اور تاریخ کے بیان ریل کی پٹری کی طرح ایک ساتھ چلتے ہیں مگر جا بجا ایک دوسرے سے بہت دور بھی نکل جاتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان سے منسوب معجزات اور کرامات بھی جب بیان کیے جاتے ہیں تو گویا وہ بیان کرنے والے کی مرضی، منشاء کے مطابق ہیں۔ یعنی کہ جیسے وہ چاہتا تھا کہ ہوا کریں، گرچہ ایسا نہ ہوا ہو۔ حتیٰ کہ قران میں بھی جا بجا ان اصحاب کو پیش آنے والے واقعات کا بیان کسی معجزے یا کرامت کے طور پر نہیں کیا گیا پر پھر بھی لوگوں کو ایسا محسوس ہونا، انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔ یہاں، جب ہم دوسری جانب انہی واقعات کو عقائد کی رو سے دیکھیں تو پھر یہ ایمان کا معاملہ بن جاتا ہے۔ ان کو جوں کا توں ماننا لازم ہو جاتا ہے۔ جن واقعات کو ہم معجزے کہتے ہیں، عقل پسندوں کے لیے یہ شاید افسانوی حیثیت رکھتے ہوں مگر بحیثیت ایمان رکھنے والے کے لیے اس ناممکن پر یقین رکھنا کڑے امتحان کے جیسا ہے۔ یہ واقعات عقیدے کا تول بن جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ اسلامی قدامت پسند نظریہ اس بات پر مصر ہے کہ محمد صلعم کی پیدائش ایک نبی، رسول کی پیدائش تھی۔ وہ شروع سے ہی پیغمبر خدا تھے اور یہ ان کی قسمت میں پہلے سے لکھ دیا گیا تھا۔ اگر ایسا ہے تو پھر محمد صلعم کی اپنی کوئی زندگی نہیں تھی۔ اس طرح تو ان کی ساری عمر بس ربانی حکم ہے جو وقت کے ساتھ کھلتا چلا جاتا ہے۔ ان کی اپنی جدوجہد، کوشش اور مشقت بے معنی ہے۔ دوسری طرف، ان سارے تضادات اور اختلافات جو کسی بھی انسان سے متعلق ہو سکتے ہیں، اس صورت میں ان کو ہیچ ہو جانا چاہیے۔ کچھ لوگوں کے خیال میں، محمد صلعم کی زندگی امر مطلق تھی۔ یوں ان کی کوئی بھی سوانح حیات ہو، وہ لکھنا، پڑھنا اور سمجھنا بالکل بے سُود ہے۔ یہاں کئی دوسرے لوگ بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ پیغمبر کی زندگی کوئی معجزہ یا کرامت نہیں بلکہ ایک جدوجہد کا نام ہے اور اس کا حاصل، اسلام کا آفاقی پیغام اسی جدوجہد کا ثمر ہے۔ محمد صلعم کی زندگی اتنی بے مثال ہے کہ حقیقت کی آنکھ سے دیکھیں تو یہ اتنی کرشماتی ہے کہ حقائق پر کرامات کا گماں ہوتا ہے۔ ان کی حقیقی زندگی کی داستان اور انسانی جدوجہد کسی بھی دیو مالائی قصے سے کہیں بڑھ کر ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اگر کرامات ڈھونڈنے کی بجائے، معجزات تلاشنے سے زیادہ اگر صرف ان کی زندگی پر غور کیا جائے تو یہ انتہائی غیر معمولی زندگی ہے۔ ان کا بطور انسان جو خاکہ ابھر کر سامنے آتا ہے وہ شاید کسی دیو مالائی ، افسانوی کردار کا بھی نہ ہو سکے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ ہر لحاظ سے انسانی شبیہ ہو گی اور اس پر میں، آپ اور ہم سب یقین کر سکیں گے۔ یہ ممکنات کا واضح اور حقیقی بیان ہو گا کہ انسان، کس قدر بڑا، کتنا قابل ہو سکتا ہے۔ یوں، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ محمد صلعم کی حقیقی زندگی کسی بھی متاثر کن گھڑی ہوئی داستان سے بڑھ کر ہے۔ کیونکہ یہ ایک انسان کی داستان ہو گی۔ یہ سچ پر مبنی ہو گی۔
جوزف کیمپ بیل کی زبانی، محمد صلعم کی زندگی 'ایک ہیرو کا سفر' جیسی ہے جو کہ بے وقعتی سے شروع ہو کر کامیابی کے انتہائی درجے کو چھوتی ہے۔ مگر یہ سفر آسان نہیں ہے۔ اس میں ہمہ وقت جدوجہد ہے، خطرات کا سامنا ہے۔ مشکل فیصلے کرنے پڑے ہیں اور اس داستان میں کسی بھی بے مثال داستان کے ہیرو کی مانند ۔۔۔انفرادی اور اجتماعی تضاد ہیں۔ یوں، اگر اس بے مثال زندگی کے بارے میں پوری طرح جاننا چاہیں تو ہم متنازع واقعات کا بیان چھوڑ کر محمد صلعم ، ان کی جدوجہد اور پیغام کے ساتھ انصاف نہیں کریں گے۔ ہمیں اگر محمد صلعم کو جاننا ہے تو ان کو مکمل طور پر موقع فراہم کرنا ہو گا۔ ان کو انسان کی طرح دیکھنا ہو گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ ہمیں غیر جانبدار ہونا پڑے گا۔ عقیدت کو ایک طرف اور مفروضوں کو دوسری طرف رکھنا ہو گا۔ اس کے بیچ چوکس رہنا ہو گا اور کسی بھی طور، ان کے متعلق کوئی بھی اندازہ لگانے سے گریز کرنا ہو گا۔ یہاں کسی بھی طور ،کسی قسم کے اندازے، فیصلے صادر کرنے کی بجائے اور ان کو اپنے بنائے کسی بھی نظریاتی ترازو میں تولنے کی بجائےانسانی تعلق بنانا پڑے گا۔ یعنی اس مقصد کے حصول، سمجھ پانے کے لیے ہم عملیت اور تصوریت، عقیدے اور نظریے، تشدد اور عدم تشدد، قبولیت اور رد کرنے کے بیچ میں سے گزرنے کی کوشش کریں گے۔ محمد صلعم کے بارے نہیں، محمد صلعم کو جاننے کی کوشش کریں گے۔
بلاشبہ محمد صلعم کی ساری زندگی کا محور غار حرا کی وہ رات ہے۔ یہ اسی رات کا واقعہ ہے جب وہ اس دور میں داخل ہوئے جس کی بابت کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ محمد صلعم کی منزل ثابت ہوئی۔ اسی وجہ سے مسلمان اس رات کو لیلتہ القدر یعنی شب قدر کہتے ہیں۔ اسی رات محمد صلعم پہلی بار ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو جانے والی انسانی تاریخ کے دھارے میں داخل ہوتے ہیں۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ محمد صلعم کی زندگی میں بعد اس رات کے پیش آنے والے واقعات کا نتیجہ اس قدر بڑا ہے کہ آج بھی ہم ان واقعات کے اثرات اپنی زندگیوں پر محسوس کرتے ہیں۔ یوں ہم بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اس رات شروع ہونے والی تاریخ ابھی بھی جاری و ساری ہے۔ اس رات جو واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد جیسے جیسے واقعات پیش آتے رہے۔ ان کا واضح اثر آج کے دور، دنیا کی سیاست، عقائد اور مذہب پر ابھی بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
قبل اس کے ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ غار حرا میں محمد صلعم کا فرشتے جبرائیل سے سامنا کیسے ہوا اور وہاں کیا واقعہ پیش آیا یا بعد اس کے کیا ہوا۔۔۔ ہمیں یہ سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے کہ محمد صلعم غار حرا تک کیونکر پہنچے؟ یہ داستان، شروع سے بیان ہونی چاہیے۔ جس طرح کے دنیاوی معاملات محمد صلعم کو درپیش تھے اور اس زمانے میں جو رائج دستور اور سماجی کُلیے تھے، ان کی رو سے آپ کسی بھی طور پیغمبری کے لیے موزوں قرار نہ پاتے۔ اسی وجہ سے جب ہم حقیقت کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں، محمد صلعم کو ان حالات، ناممکنات اور مشکلات سے نبرد آزما دیکھیں گے تو ان کی زندگی سے جڑی جدوجہد مقدس اور کرشماتی ۔۔۔ ایک ہیرو کا سفر معلوم ہو گی۔
اول المسلمین: محمد صلعم کی کہانی۔ اگلے باب نمبر 2 کے لیے یہاں کلک کریں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر