اول المسلمین - یتیم - 2


اگر آپ فال میں یقین رکھتے ہیں تو محمد صلعم کا پیدا ہونے سے پہلے ہی یتیم ہو جانا کوئی اتنا اچھا شگون نہیں ہے۔ ان کی سوانح حیات لکھنے والے تقریباً تمام مورخین اس بات کو اہمیت نہیں دیتے ۔ ان کی زندگی کا احوال بیان کرتے ہوئے اس مرحلے سے فوراً آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ قسمت کا لکھا ایسا معاملہ ہے جس پر مزید بات کرنے کی ضرورت اور شاید گنجائش بھی نہیں ہے۔ حالانکہ محمد صلعم کی یتیمی نفسیاتی طور پر اس قدر بھاری وزن رکھتی ہے کہ اس کی وجہ سے تاریخ کا دھارا متعین ہوا ۔ بالخصوص، جن حالات میں محمد صلعم کی پیدائش ہوئی تھی۔صرف اسی پر غور کریں تو محسوس ہو گا کہ محمد صلعم کی پیدائش غالباً معجزہ ہے۔ ملاحظہ کریں کہ آمنہ محمد صلعم کو لے کر حاملہ ہوئیں تو اس سے چند گھنٹے قبل تک محمد صلعم کے دادا آپ صلعم کے والد کو تقریباً موت کے منہ میں دھکیلنے کا سامان کر چکے تھے۔ وہ شاید اس روز عبداللہ کو قتل کر چکے ہوتے۔ پھر چونکہ محمد صلعم کے والد کا ان کی زندگی میں واحد کردار پورا ہو چکا تھا۔ آپ صلعم کے والد کی وفات بھی شہر سے باہر ہوئی۔ جب عبداللہ کی موت واقع ہوئی تو وہ جانتے بھی نہیں تھے کہ ان کے یہاں ایک بیٹا بھی ہے۔ محمد صلعم کی پیدائش سے متعلق یہ حقائق افسانوی معلوم ہوتے ہیں۔
محمد صلعم کے دادا کا نام عبدالمطلب تھا۔ آپ قبیلہ قریش کے سربراہ اور شہر مکہ کی مختصر مگر شاندار روایات کے امین تھے۔جوانی میں عبدالمطلب نے گم شدہ زمزم کا چشمہ دوبارہ سے کھود کر نکالا تھا۔ یہ چشمہ کعبہ کے نزدیک ہی واقع تھا۔ چونکہ کعبہ عرب کے طول و عرض میں حجاج کے لیے مرکز تھا، اس لیے زمزم کی اہمیت بڑھ کر تھی۔ اسی طرح کعبہ کے پہلو میں زمزم چشمے کا دوبارہ سے دریافت کرنا بھی خاصی بڑی سعادت اور کامیابی شمار ہوتی تھی۔ پھر اس چشمے سے متعلق مقامی لوگوں کے یہاں خصوصی روحانی نسبت پائی جاتی تھی۔ اس وقت یہ مشہور تھا کہ پہلی بار یہ چشمہ تب پھوٹا تھا جب ہاجرہ نے اسماعیل کو جنم دیا اور ابراہیم نے اپنے ہاتھوں سے اس کے گرد پانی جمع کرنے اور کوزے بھرنے کے لیے تعمیرات کی تھیں۔ آنے والی کئی صدیوں میں یہ چشمہ مکہ کی گھاٹی میں پے در پے سیلابوں کے سبب دب گیا۔ اب بالآخر ، عبدالمطلب نے اس کو دوبارہ دریافت کیااور کھود کر نکالا تھا۔ عبدالمطلب کے اس چشمے کو کھودنے اور دریافت کرنے سے متعلق بھی کئی قصے مشہور تھے۔ جیسے، چشمے کے دہانے پر ایک سانپ کا پہرہ تھا جو اس قدر خطرناک تھا کہ کسی شخص میں اس کے قریب پھٹکنے کی جرات نہیں تھی۔ تب آسمان میں ایک دیو ہیکل شاہین نمودار ہوا ۔ شاہین نے سانپ کو پنجوں میں دبوچا اور پھر آسمان میں گم ہو گیا۔ اسی طرح، ایک قصہ یہ بھی مشہور تھا کہ چشمے کے مقام سے پانی کے ساتھ بیش بہا خزانہ بھی بر آمد ہوا تھا ۔ خزانے میں سونے، چاندی اور قیمتی پتھر ، یاقوت جڑی بھاری بھرکم تلواریں اور خنجر جو عام خنجروں سے قدرے بڑے تھے اور دستوں میں خالص سونا اور ہیرے جڑے ہوئے تھے ، برآمد ہوئے۔ زمزم سے منسوب ان تمام داستانوں میں معروف وہ واقعہ ہے جو آج بھی یا داشت، عمل اور روایت میں زندہ ہے۔ یہ ہاجرہ اور اسماعیل کی داستان ہے۔ اس کا ذکر قران میں بھی آیا ہے اور آج بھی مسلمان اسی روایت کو زندہ رکھتے ہوئے صفیٰ اور مروہ کے بیچ دوڑ لگاتے ہیں ۔ زمزم کے پانی کو متبرک جانتے ہیں۔
چونکہ زمزم کا چشمہ عبدالمطلب نے دریافت کیا تھا۔ فطری طور پر اپنے کنبے کا اس بابت حق جتایا کرتے تھے۔ ان کے مطابق، بنی ہاشم اس متبرک چشمے سے حاصل ہونے والی آمدن کا جائز حقدار تھا۔ بنی ہاشم، قبیلہ قریش کے چار میں سے ایک کنبہ تھا اور عبدالمطلب اپنے کنبے کے ساتھ پورے قبیلہ قریش کے سردار تھے۔ مکہ میں کئی دوسرے چشمے بھی تھے مگر ان میں سے کوئی بھی چشمہ کعبہ کے اتنے قریب واقع نہیں تھا۔ مکہ شہر کا کوئی چشمہ اس قدر میٹھا تھا اور نہ ہی کسی چشمے کے ساتھ اتنی مشہور اور تاریخی داستان، حکایات منسوب تھیں۔ یوں، عبد المطلب کا بنی ہاشم کے حق جتانے پر باقی قریش کا اس دعویٰ پر اعتراض کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ قریش نے نہ صرف اس دعویٰ پر اعتراض کیا بلکہ عبدالمطلب کی نیت اور قبیلے میں ان کے کردار اور ارادوں کی بابت بھی خاصی باز پرس کی۔ اس قدر شدید رد عمل پر عبدالمطلب کا جواب بھی اچھا خاصا جذباتی اور چونکا دینے والا تھا۔ انہوں نے ایک عجب قسم اٹھائی۔ قسم یہ تھی کہ جب ان کے دس بیٹے بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں تو وہ یعنی عبدالمطلب۔۔۔ بنی ہاشم کی عزت اور زمزم پر حق کی قسم اٹھاتے ہیں کہ دس میں سے ایک بیٹے کو کعبہ کے قدموں میں، زمزم کے دہانےپر اپنے ہاتھوں سے قربان کر دیں گے۔
اس قدر بھاری قسم نے ناقدین کی زبانوں پر تالا لگا دیا۔ ایک انسان کی قربانی پیش کرنا کوئی آسان بات نہ تھی۔ بالخصوص ابراہیم اور اسماعیل کی اس داستان کے بعد تو اس طرح کی قربانی کا دعوی کرنا بھی گویا کعبہ کی حرمت سے روحانی نسبت کی حدوں کو چھونے کے مترادف تھا۔ مکہ کے باسیوں کے اذہان میں ایسی قربانی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔کسی شخص میں اتنی ہمت نہیں تھی۔ اس عہد کا اثر اس لیے بھی بڑھ کر ہوا کہ اسماعیل اور ابراہیم کی داستان کا نشان ابھی تک کعبہ کے اندر موجود تھا۔ مبینہ طور پر کعبے کے اندر ابھی تک اس مینڈھے کے سینگ آویزاں تھے جس نے قربان گاہ میں اسماعیل کی جگہ لے لی تھی۔ علاوہ ازیں، اس دور میں کسی شخص کے دس فرزندوں کا بلوغت تک پہنچ پانا بھی معجزہ ہی شمار ہوتا۔ تب بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ تھی۔ عربوں کے یہاں کئی بیویاں ہونے کے باوجود، کسی شخص کے یہاں بلوغت کی عمر تک جانبر ہونے والے بیٹوں کی تعداد شاذ و نادر ہی دس ہوا کرتی۔ بہرحال، عبدالمطلب کے یہاں یہ معجزہ ہو گیا۔ 570ء میں ان کے یہاں دس بالغ بیٹے تھے۔ ابن اسحاق نے راویوں کی زبان میں ان دس بیٹوں کا تعارف نہایت شاندار الفاظ میں کیا ہے۔ لکھتے ہیں، 'پورے مکہ میں عبدالمطلب کے دس بیٹوں سے ہر ایک سے زیادہ طاقت ور اور قد آور جوان کوئی دوسرا نہیں تھا۔ سبھی نیک اور پارسا ۔ ان کی طرح ایماندار بھی شاید کوئی نہیں تھا۔ ہر ایک کی ناک اونچی اور لمبی تھی۔ اس قدر کہ پانی پیتے ہونٹوں سے قبل ناک پانی کو چھوا کرتی تھی۔ یعنی، عزت دار تھے'۔ عرب معاشرے میں لمبی ناک عزت و تکریم کی نشانی تھی جیسے بازنطینی یونانیوں میں مردوں کی سنہری رنگت عزت کی علامت ہوا کرتی تھی۔
بہرحال، اب عبدالمطلب پر قسم پوری کرنے کا وقت آچکا تھا۔ عرب معاشرے میں ایک مرد اپنی زبان،حلف اور ارادے سے پہچانا جاتا تھا اور عبدالمطلب نےدانستہ یا غیر دانستہ، انتہائی عجب قسم لی تھی۔ مرتے کیا نہ کرتے عرب روایات کی پاسداری، ناک اونچی رکھنے اور زبان کی حرمت برقرار رکھنے کے لیےعبدالمطلب پر قسم پوری کرنا لازم تھا۔ سوال قسم پوری کرنے کا نہیں بلکہ یہ تھا کہ دس میں سے آخر کون سا بیٹا قربان کیا جائے گا؟ ایک باپ کے لیے شاید اس سے مشکل فیصلہ کوئی نہ ہوتا، تبھی فیصلہ روایتی طور پر خدا کے ہاتھ میں دے دیا گیا۔ قریش قبیلے کے لیےمختص دیوتائی نشان ہبل کے پتھر سے رجوع کیا گیا جو کعبہ کے پہلو میں ہی نصب تھا۔ ہبل کے اس پتھر کے قدموں میں حلف اٹھائے جاتے تھے۔عہد لیے جاتے اور معاہدے طے پاتے تھے۔ اس کے سائے میں دوستی اور دشمنی کی قسمیں لی جاتی تھیں اور جب کوئی مشکل فیصلہ درپیش ہوتا یا دو گروہوں میں کسی مسئلے پر فیصلہ کروانا مقصود ہوتا تو ہبل کا یہ پتھر گویا سروش غیبی، کہانت کا کردار ادا کرتا۔ ہبل کے بارے میں عام خیال تھا کہ یہ 'اللہ' یعنی 'سب سے برتر ذات' کی ترجمانی کرتا ہے۔ اللہ کی ذات، اس پاک زمین مکہ کی مائی باپ اور سارے جہاں کا کرتا دھرتا، مالک ہے۔ یہ ذات اس قدر اونچی اور پراسرار ہے کہ انسانوں کی اللہ تک رسائی صرف اور صرف ثالثوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ ایسے کئی ثالثوں میں ایک ثالث، ہبل کا پتھر بھی تھا۔
معاملہ چاہے کتنا بڑا کہ کسی کی زندگی اور موت داؤ پر کیوں نہ ہوتی، ہبل کا پتھرمعاملات طے کر سکتا تھا۔ اس سے خدا کی مرضی طلب کی جا سکتی تھی۔ اس کا طریقہ یہ تھا کہ مطلوب نتیجے لکھ کرنیزوں پر چسپاں کر دیے جاتے تھے۔ مثلاً کسی معاملے میں وقت کا تعین کرنا ہوتا تو تین نیزے استعمال میں لائے جاتے۔ ان پر، 'ابھی'، 'بعد میں' یا 'کبھی نہیں' کے سرنامے چسپاں کر دیے جاتے۔ بسا اوقات، ضرورت کے مطابق دنوں کاتعین بھی کر دیا جاتا۔ جیسے، 'آج'، 'سات ایام میں' یا پھر 'تیس ایام میں' وغیرہ۔ جب یہ ہو رہتا تو پھر التجا، مناجات کی جاتیں۔ پھر ایک بکری یا بعض اوقات اونٹ کی بھینٹ چڑھائی جاتی۔ بعد اس کے ہبل کا رکھوالا یا تحویل دار اپنے ہاتھوں سے نیزوں کو جمع کر کے گٹھڑی سی بنا لیتا اور اس گٹھڑی کو زمین پر سیدھا کھڑا کر دیا جاتا۔ جیسے قدیم چینی تہذیب میں رواج ہوا کرتا تھا، اس گٹھڑی کو گرنے کے لیے چھوڑ دیتے کہ نیزے زمین پر آ گریں۔ ان میں جو نیزہ ہبل کی جانب یا بہت سارےنیزوں میں سے جس کا رخ بالکل ہبل کی طرف ہوتا، اس نیزے پر لکھا فیصلہ طے سمجھا جاتا۔ خدا کی مرضی قرار پاتا۔
اب کی بارکل دس نیزے تھے۔ دس نیزوںپر عبدالمطلب کے دس بیٹوں کے نام لکھ کر چسپاں کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر مکہ کا ساراشہرامڈ آیا تھا ۔ ہر طرف چہ مہ گوئیاں جاری تھیں اور معاملہ اس قدر گھمبیر کہ ہر شخص خوفزدہ بھی تھا۔ ایک انسانی جان داؤ پر تھی یا شاید مکہ میں پہلی بار ہبل اتنا انوکھا معاملہ طے کرنے جا رہا تھا۔ جوں جوں فیصلے کی گھڑی نزدیک آ رہی تھی، مجمع میں جوش اور بے چینی بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ جب تحویل دار نے نیزوں کی گٹھڑی کو آزاد چھوڑا تو سب کو سانپ سونگھ گیا۔ ہر شخص فیصلہ سننے کو بے تاب تھا ۔ لوگ ہبل کے اور قریب آ گئے۔ ہر شخص قرعہ میں نکلنے والے بیٹے کا نام سب سے پہلے سننا چاہتا تھا۔ جب نام پکارا گیا تو سناٹا چھا گیا۔ دس میں جو نیزہ ہبل کے رخ پر گرا تھا، اس پر عبدالمطلب کے سب سے چھوٹے اور لاڈلےبیٹے عبداللہ کا نام درج تھا۔
کہتے ہیں اگر عبدالمطلب کی داڑھی عمر رسیدگی کے سبب سفید نہ ہو چکی ہوتی تو اس وقت یہ فیصلہ سن کر ضرور ہو جاتی۔ مگر عبدالمطلب کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔ نہ صرف یہ کہ عبدالمطلب کی اپنی عزت بلکہ بنی ہاشم کی تکریم اور غیرت بھی داؤ پر لگ چکی تھی۔ عبداللہ اس عزت کی بھینٹ چڑھنے والے تھے۔عبدالمطلب کے باقی بیٹے وہیں دم بخود اور حیران و پریشان بت بنے کھڑے رہے اور یہاں عبدالمطلب نے عبداللہ کو قتل کرنے کی تیاری شروع کر دی۔ سارے ہی بیٹوں کی حالت ابھی تک ایسی تھی کہ کاٹو تو خون نہیں، یا باپ کے سامنے اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ انہیں اس فعل سے باز رکھتے۔ فطری بات یہ بھی ہے کہ بچ جانے والے بیٹوں میں سے ہر ایک نے سکھ کا سانس لیا ہو گا کہ قرعہ میں اس کا نام نہیں نکلا تھا۔ ہبل پر ایمان کا یہ عالم تھا کہ انہیں اب بھی اس سے ایک آخری اشارے امید تھی مگر پتھر بھلا کیا کر تا؟ عبدالمطلب کے بیٹوں کے ہوش اس وقت واپس آئے جب انہوں نے عبداللہ کو اپنے زانو پر کھڑے ہونے کا حکم دیا اور خنجر تھام لیا۔
اب پہلی بار عبد المطلب کے بیٹوں کو خیال آیا کہ انہیں باپ کو اس فعل سے روکنا چاہیے۔ چنانچہ، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید ہبل کی یہ مرضی نہیں تھی۔ ہبل، انسانی جان کو یوں داؤ پر نہیں لگا سکتا۔ وہ ایک باپ کے ہاتھوں بیٹے کا یوں خون ہونے کی اجازت کیونکر دے سکتا ہے ؟ یہ فیصلہ اس لحاظ سے بھی عجیب تھا کہ عبدالمطلب کے دس بیٹوں میں سے کوئی بھی اس قسم کی بھینٹ چڑھ سکتا تھا۔ یہ مشیت حق سے زیادہ ایک اتفاق لگتا تھا۔ پس، انہوں نے عبدالمطلب سے گذارش کی کہ اس معاملے میں، ہبل کے فیصلے کی تشریح کے لیے کسی کاہن سے رجوع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ کاہن، عربوں میں گویا پیشن گوئی کرنے والے نجومیوں جیسے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ کاہن علم نجوم جاننے کے علاوہ ارواح سے بھی رابطہ کر سکتے تھے۔ وہ روحوں کی مرضی، مشیت خدائی جانچ سکتے تھے۔ پورے عرب میں ایک کاہن سے زیادہ عزت و تکریم والا، خدا کا پیارا کوئی دوسرا شمار نہیں ہوتا تھا۔ بیٹوں نے باپ کو سمجھایا کہ اگر کاہن بھی عبداللہ کو قربان کرنے کا حکم دے تو پھر بے شک وہ عبداللہ کو قربان کر دیں اور اگر کاہن عبداللہ کی قربانی کے علاوہ کچھ بھی فیصلہ کرے تو انہیں اس بات پر راضی ہو جانا چاہیے۔
یثرب کے نخلستان میں بسنے والی ایک عورت کاہنہ مشہور تھی۔ اس کا نام بھی کاہنہ ہی تھا۔ یثرب مکہ سے دو سو میل شمال میں واقع ہے۔ اس دور میں دو شہروں کے بیچ اتنا فاصلہ دو ملکوں کے سفر جتنا شمار ہوا کرتا تھا۔ اتنا لمبا سفر بذات خود اس معاملے کی اہمیت کو اجاگر کرتا تھا۔ پھر، معاملے کی باریکی کو مدنظر رکھا جاتا توکاہنہ میں خوبی یہ تھی کہ وہ قبیلہ قریش نہیں بلکہ یثرب کے قبیلے خزرج کی ارواح تک رسائی رکھتی تھی۔ چونکہ، صرف روحیں ہی دوسری روحوں کو اچھی طرح سمجھ سکتی ہیں اور دوسرے قبیلے کی روحوں کی قریش سے کوئی نسبت بھی نہیں تھی ۔یوں، فیصلے کی جانچ غیر جانبدار ہوتی۔ ہر طرح سے یہ تسلی کر لینے کے بعد کہ ہبل کے فیصلے کی جانچ میں کسی بھی قسم کا جھول نہیں ہو گا ، اسی کاہنہ سے ثالثی کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ یہ ہبل کے تحویل دار، مکہ شہر کے لوگوں اور عبدالمطلب اور ان کے سارے کنبے کے لیے بھی قابل قبول صورتحال تھی کہ یوں عبداللہ کی جاں بخشی ہونے کی صورت نکل سکتی تھی اور ساتھ عبدالمطلب کو اپنی اس خوفناک قسم سے چھٹکارا مل جاتا۔
عبدالمطلب اپنے تمام بیٹوں کو ساتھ لیے، تازہ دم اور سریع اونٹوں کے قافلے پر سوار سات دن کے اندر یثرب جا پہنچے۔ وہ اپنے ساتھ کاہنہ اور قبیلہ خزرج کی ارواح کے لیے تحائف اور منت بھی لائے تھے۔ معاملہ پیش ہوا ۔ کاہنہ نے تیاری کر کے اپنی آنکھیں موند لیں۔ یہ سب بیٹھے کاہنہ کو بے چینی سے دیکھتے رہے ۔ انہوں نے انتظار کیا، کاہنہ کا جسم شدت سے کانپ رہا تھا اور منہ سے سرگوشیاں اور ورد جاری تھا۔ پھر کاہنہ پر خاموشی چھا گئی اور وہ سکون کی حالت میں چلی گئی۔ خاصی دیر کے بعد جب اس نے آنکھیں کھولیں تو بات چیت کے قابل ہونے میں اسے مزید کچھ دیر لگ گئی۔ حالت سدھرتے ہی، کاہنہ بجائے یہ کہ خداؤں اور ارواح کی منشاء بتاتی، اس نے ایک سادہ سا سوال کیا۔ یہ سوال، خون کے بدلے رقم کی بابت تھا۔ پوچھا کہ ، ' مکہ میں عام طور پر خون کے بدلے میں کتنی رقم ادا کی جاتی ہے؟'
'دس اونٹ' انہوں نے جواب دیا۔ کاہنہ نے یوں اثبات میں سر ہلایا، جیسے یہ وہ پہلے سے جانتی تھی۔ 'مکہ واپس جاؤ' اس نے کہا، 'عبداللہ کو دس اونٹوں سمیت کعبہ کے احاطے میں نصب ہبل کے پاس لے جاؤ اور اس کے آگے دس نیزے گراؤ۔ اگر پھر بھی فال میں عبداللہ کا نام نکلے تو اونٹوں کی تعداد میں دس کا اضافہ کر دو۔ پھر سے ہبل کے قدموں میں نیزے گراؤ، اور اس وقت تک نیزے گراتے رہو اور کل تعداد میں دس اونٹوں کا اضافہ کرتے رہو جب تک خدا اس خون کے بدلے اونٹوں کی قربان ہونے والی تعداد سے راضی نہ ہو جائے'۔
جیسا کاہنہ نے تاکید کی تھی، عبدالمطلب نے ویسا ہی کیا۔ مکہ پہنچتے ہی، کعبہ کے احاطے میں نصب ہبل کے پتھر کے سامنے نیزے گرائے جاتے رہے اور ہر بار عبداللہ کا نام نکلنے پر دس اونٹوں کا اضافہ کیا جاتا رہا۔ دسویں بار نیزے گرانے پر جب عبداللہ کی جان خلاصی ہوئی تو قربان کیے جانے والے اونٹوں کی تعداد سو ہو چکی تھی۔ سو کا ہندسہ اتنا بڑا تھا کہ مکہ کا ہر آدمی انگشت بدنداں رہ گیا۔ یوں، اس جانچ کے بعد اور کاہنہ کی ثالثی کی بدولت نہ صرف عبداللہ کی جان بخشی ہو گئی بلکہ پورے شہر میں یہ بات بھی پھیل گئی کہ خدا کی نظر میں عبداللہ کی زندگی کی قیمت دس عام مردوں سے بڑھ کر ہے۔
اسی شام عبدالمطلب نے بھرپور جشن کا انتظام کیا۔ وہ بیٹے کی جان بخشی پر انتہائی مطمئن اور مسرور تھے۔ اس موقع پر جہاں خون بہا کے سو اونٹ ذبح کیے گئے وہیں عبدالمطلب نے عبداللہ کی شادی آمنہ سے نہ صرف طے کر دی بلکہ اسی وقت اس کاانتظام بھی کر دیا۔ شاید یہ ضروری نہ ہوتا مگر اس معاملے میں اپنے کنبے اور عبداللہ کے لیے یہ عبدالمطلب کا اشارہ تھا کہ وہ عبداللہ کو جیتے اور نسل کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں۔
شادی سے متعلق راویوں نے پوری سنجیدگی سے قسم اٹھا کے بتایا ہے کہ اس رات عبداللہ کی پیشانی پر سفید روشنی جگمگا رہی تھی مگر اگلی صبح جب عبداللہ اپنے گھر سے نکلے تو ان کے ماتھے پر یہ روشنی نہیں تھی۔ عبداللہ کی پیشانی پرا یسی کوئی روشنی تھی یا نہیں۔۔۔شادی کے بعد عبداللہ اپنی دلہن کے ساتھ صرف تین دن گزار سکے۔ تین دن بعد عبداللہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ شام چلے گئے اور زندہ واپس نہیں آ ئے۔ مکہ واپس پہنچنے سے دس روز قبل، سفر میں ہی یثرب کے مقام پر چل بسے۔ لوگوں کے خیال میں، عبداللہ کا یثرب میں انتقال ارواح کا ان کی بابت ذہن تبدیل کرنے کے مترادف تھا۔ ارواح کی اصل مرضی یہ تھی کہ ان کی موت کاہنہ کے شہر میں، کاہنہ کے نزدیک ہو جس نے ان کی جان بچائی تھی۔ یہ خاصی مضحکہ خیز بات تھی۔
صحرا میں اونٹوں پر لدے قافلوں کا سفر آسان نہیں تھا۔ یہ خاصا مشقت کا کام ہوا کرتا۔ پھر حادثات، بیماریوں، بچھو اور سانپ کے کاٹے کا خطرہ اور ایسے کئی دوسرے جوکھم کا سامنا رہتا ہے۔ عبداللہ کے موت کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔ان کو یثرب میں ہی کسی نامعلوم مقام پر دفن کر دیا گیا اور ان کی قبر پر کوئی کتبہ بھی آویزاں نہیں ہوا۔ آمنہ بیوہ ہو گئیں اور محمد صلعم پیدائش سے قبل ہی یتیم ہو گئے۔ عبداللہ کو بچے کے بارے میں کبھی پتہ نہیں چل سکا۔
محمد صلعم کی پیدائش سے منسوب داستان کے بھی دو رخ ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بھر پور کوشش کے باوجود ان میں سےایک بھی روایت میں محمد صلعم کی بڑائی ثابت نہیں ہو پاتی۔ جیسے راوی کہتے ہیں محمد صلعم نے مکہ میں جنم لیا۔ مقدس شہر مکہ کے مرکز، کعبہ میں پیدا ہونے والے اس بچے کا باپ اور عزت دار خاندان کے خون کی نسبت، ایک عظیم روایت اور شاندار عرب روایات سے تعلق تھا ۔ انہی روایات کی بنیاد پر یہ شہر قائم تھا۔ یہاں غور کریں تو جہاں ایک طرف محمد صلعم کی بجائے ان کے خاندان کی بڑائی بیان ہوتی ہے، وہیں دوسری جانب یہی روایت محمد صلعم کے لیے کچھ اچھی خبر نہیں تھی۔ ایسا معاشرہ جو عزت اور بڑائی کو حسب نسب سے ۔۔۔ باپ سے جوڑتا تھا ۔ چھٹی صدی کا مکہ کا شہر اور معاشرہ بیواؤں اوریتیموں پر کسی صورت نرمی نہیں برتتا تھا۔
سادہ الفاظ میں،اس معاشرے میں یتیم پیدا ہونے کا مطلب وراثت کے حق سے محرومی یا حق وراثت سے متعلق کوئی امید باندھنا بھی خام خیالی تھی۔ وراثت صرف بیٹوں کو ملتی تھی اور انہیں بھی بلوغت سے قبل وراثت نہیں مل سکتی تھی۔ پھر، ایسی صورت میں جیسی آمنہ اور محمد صلعم کو درپیش تھی۔ یعنی، اگر بچے کے بالغ ہونے سے قبل ہی والد وفات پائے تو جائیداد والد کےقریبی بالغ رشتہ دار مرد کے حوالے ہو جاتی تھی۔ یہ بالغ رشتہ دارجائیداد کے ساتھ مرحوم کے خاندان کی کفالت اور فیصلہ لینے میں خود مختار ہوتا۔ روایتی قبائلی معاشرے میں یہ طریقہ قابل قبول بھی تھا۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ قبیلے میں کوئی بھی شخص واقعی ذاتی جائیداد کا مالک نہیں اور صرف قبیلے کا مفادعزیز رکھا جاتا ہو تو اس صورت میں لا وارث نہیں رہ سکتا ۔ قبیلے میں اس طرح ہر شخص چاہے وہ ایک بیوہ اور شیر خوار یتیم ہی کیوں نہ ہو، ان کی مناسب پیمانوں پر کفالت ممکن تھی۔ مگر مکہ میں صورتحال یکسر مختلف تھی۔ یہاں تجارتی قافلوں اور کعبہ کی تحویل داری سے آمدن کی ریل پیل تھی اور قبائلی روایات آہستہ آہستہ دم توڑ رہی تھیں۔ قبائلی نظام ہی کی مرہون منت، پچھلی چند دہائیوں میں دولت جمع ہو کر چند با اثر افراد کے پاس محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ اس طرح،چونکہ یہ شہری علاقہ تھا، یہاں عملاً ہر شخص خود اپنے معاملات کا ذمہ دارتھا ۔ ایک شیر خوار یتیم، چاہے وہ کتنے ہی برتر خاندان سے تعلق رکھتا ہو، رحمت سے زیادہ زحمت سمجھا گیا۔ محمد صلعم کے معاملے میں صنف نے گو کچھ بچت کر دی۔ اگر محمد صلعم بیٹی ہوتے تو شاید انہیں شہر سے باہر صحرا میں سفاک شکاری جانوروں کے رحم و کرم پر بے آسرا چھوڑ دیا جاتا یا وہ زندہ دفن کر دیے جاتے۔ نرینہ اولاد کے لیے شیر خوار بچیوں کی طفل کشی عرب میں بھی ویسے ہی عام تھی جیسی کہ قسطنطنیہ، ایتھنز اور روم میں رہی ہے۔ اس غیر انسانی روایت کے حوالے سے بعد ازاں قران میں باقاعدہ ذکر آیا اور اس کی شدید ترین الفاظ میں ممانعت بھی کی گئی۔
بہرحال، یتیمی کے باعث معاشرے نے محمد صلعم کی قسمت میں گمنامی اور ادنیٰ حیثیت لکھ دی ۔ پھر، مکہ شہر میں اپنے کنبے اور خاندان سے اجنبیت اور گمنامی کا معاملہ یوں بھی ثبت ہو گیا کہ محمد صلعم کو زندگی کے پہلے پانچ سال گھر سے دور، قریش کے نزدیک ادنیٰ اور کم حیثیت بدو قبائل کے بیچ، رضاعی ماں کے یہاں بسر کرنے پڑے۔ مکہ سے دور، صحرا کے بیچوں بیچ آباد یہ بدو قبائل شہروں کے تہذیب یافتہ معاشرے سے کٹ کر شمار کیے جاتے تھے۔
یہ قحط کا سال تھا۔ سننے میں یہ بات عجیب لگتی ہے مگر محمد صلعم کے لیے یہ قحط خوش قسمتی لے کر آیا۔مسلسل چند سال تک بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے صحرا میں شدید قحط پیدا ہو چکا تھا۔ یوں، بدو قبائل کو قحط کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات کے سبب شہری علاقوں کی طرف عارضی ہجرت کرنا پڑی۔ ان قبائلیوں میں ایک جوان بدو عورت حلیمہ بھی اپنے شوہر کے ہمراہ مکہ تشریف لائیں۔ عام طور پر یہ ہجرت معاش کی تلاش میں ہوا کرتی تھی۔ مردوں کے ساتھ قبائلی عورتیں بھی اس لیے آیا کرتیں کہ شہر میں کسی امیر خاندان کا شیر خوار بچہ رضاعت کے لیے گود لیں اور اس کے عوض معاوضہ کما سکیں۔ یہاں محمد صلعم کا معاملہ دیکھیں تو معلوم ہو گا کہ یہ ان کی خوش قسمتی تھی کہ اس برس قحط کے سبب بہت سی عورتیں، جن میں حلیمہ بھی شامل تھیں، ہجرت کر کے مکہ آنے پر مجبور ہوئیں۔ اگر اس سال حلیمہ محمد صلعم کو گود نہ لیتیں تو شاید آپ صلعم شیر خواری کی عمر میں جانبر نہ ہو پاتے۔
صحرا میں قحط کا کچھ لوگوں کو شاید عجیب لگتا ہو کہ صحرا سے مراد ایسا خطہ لیا جاتا ہے جہاں نباتات اور زندگی پنپ ہی نہیں سکتی۔ دنیا بھر میں ، صحراؤں میں بس چند ہی مقامات ایسے ہیں جہاں پر بارش کا ایک بھی قطرہ نہیں برستا۔ زیادہ تر صحرائی علاقے بشمول شمال اور وسطی عرب میں ہر سال تھوڑی ہی سہی مگر بارشیں ضرور برسا کرتی ہیں۔ موسم سرما میں برسنے والی یہ بارشیں گو مختصر ہوتی ہیں مگر ان کے باعث صحرا میں جیسے بہار آ جاتی ہے۔ معمولی نمی کے تڑکے سے ہی ریت میں دبے خوابیدہ جنگلی بیج جان پکڑ لیتے ہیں اور ہر طرف ہریالی ہو جاتی ہے۔ صحرا نخلستان کا منظر پیش کرنے لگتا ہے اور صحرائی سر سبز گھاس پھونس سے مال مویشی کے لیے چارہ مہیا ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ سردیوں کے موسم میں بارشیں نہیں برستی تھیں۔ جیسے کہ یہ سال تھا۔ بدو قبائل مال مویشی کو چرانے دور دراز علاقوں تک لے جاتے مگر چراہ گاہیں بنجر اور خشک ملتیں۔ نتیجہ، جانور کمزور ہو جاتے اور تھن سوکھ جاتے۔ بدو بے بسی سے جانوروں کو یوں برباد ہوتا دیکھتے رہتے۔ بدترین قحط میں، یعنی جب دو تین سال تک مسلسل بارشیں نہ برستیں تو صورتحال خاصی بگڑ جاتی۔ ایسی صورتحال میں جانور مرنا شروع ہو جاتے اور یوں خانہ بدوش صحرائی اپنے آبائی علاقوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو جاتے۔ بد ترین قحط کے دنوں میں یہ قبائلی مکہ جیسے شہری علاقوں کا رخ کیا کرتے اور شہر سے باہر ہی خیمے تان کر ان میں پڑے رہتے۔ شہر میں مردوں کو معمولی اجرت پر مزدوری تو مل جاتی تھی مگر اس میں مشقت خاصی ہوتی۔ پورے کنبے کو بہرحال اسی قلیل آمدن پر گزارہ کرنا پڑتا۔ یوں غیرت مند اور آزاد بدو مزدوری کی تلاش میں دربدر ہو جاتے۔ مکہ جیسے شہری علاقوں میں ان مجبور خانہ بدوشوں کی حالت غلاموں سے بھی بدتر ہو جاتی۔ غلاموں کو تومالکان کی سرپرستی حاصل ہوتی تھی مگربدو بے سر و سامانی اور محتاجی کی بدترین صورت میں جینے پر مجبور تھے۔
دوسری طرف ہجرت کر کے آنے والی بہت سی دوسری بدو عورتوں کی طرح، حلیمہ نے بھی قحط کے پیدا کردہ حالات سے نبٹنے کے لیے آیابننے کا فیصلہ کر لیا۔ یہ وہ دور تھا جب خطہ عرب اور دنیا بھر میں تقریباً ہر طرف غریب اور دیہی عورتوں کی اکثریت اسی پیشے میں تھی۔ آیاؤں کا رواج بیسویں صدی میں اس وقت تک عام رہا جب منڈی، بازاروں میں بچوں کے لیے خصوصی خوارکیں عام نہیں ہو گئیں۔ اس کے ساتھ جدید دور میں دیہی زندگی بھی روایتی نہیں رہی تھی۔ یوں، بیسویں صدی میں دنیا بھر سے آیاؤں اور رضاعی ماؤں کا تصور ختم ہونے لگا اور ان کی جگہ باقاعدہ تربیت یافتہ نرسوں اور شیر خوار کفالت سکولوں نے لے لی۔ یہ تو خیر جدید دور کا عالم ہے، بیسویں صدی تک کے سب ہی ادوار جیسے رومیوں اور یونانیوں کی شہنشاہی ، قرون وسطیٰ، نشاۃ ثانیہ اور حالیہ جدید دور سے پہلے تک شہری علاقوں کے خوشحال گھرانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو ابتدائی دو سال تک رضاعی ماؤں کا دودھ پلایا جاتا تھا۔ بلکہ اس دوران ان بچوں کی کفالت بھی یہی رضاعی مائیں کیا کرتی تھیں۔ بسا اوقات اور بعض معاشروں میں بچوں کے لیے رضاعت سماجی رتبے کی علامت بھی سمجھی جاتی تھی۔ پھر رضاعی ماؤں سے کفالت کے دوسرے کئی فوائد بھی تھے۔ جیسے رضاعت کے سبب خوشحال دولت مند گھرانوں کے بچوں کی بہتر، قدرتی ماحول میں پرورش جیسے مقاصد پورے ہوتے آئے تھے۔
تب دولت مند گھرانوں میں شاہانہ انداز سے زندگی بسر کرنے والی عورتوں کا شہری معاشرے میں واحد کردار نرینہ اولاد پیدا کرنے کی کوشش رہا کرتا تھا ۔ اس دور میں بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ تھی۔ اس لیےبہت کم شیر خوار بچے بلوغت کی عمر تک پہنچ پاتے، جانبر ہوتے ۔ اس لحاظ سے یہ کردار کہ عورتیں صرف نرینہ اولاد پیدا کرتے رہنے کی کوشش میں جتی رہتی تھیں، آسان نہیں تھا۔ رضاعت کے سبب نرینہ اولاد پیدا کرنے کے مواقع بڑھ جاتے تھے ۔ مطلب یہ کہ اگر عورت بچے کی پیدائش کے بعد جتنی جلد حمل سے ہو رہتی تو نرینہ اولاد پیدا کرنے کا موقع بڑھ جاتا۔ علاوہ ازیں، چونکہ ماں کا دودھ پلانے سےعورتوں کی تولیدی اہلیت بوجوہ قدرے کم ہو جاتی ہے تو اس مسئلے سے نبٹنے کا قابل عمل طریقہ بھی رضاعت ہی تھا۔ تب مزارعین اور خانہ بدوش عورتیں جو کہ رضاعی ماں کے طور پر دایہ کا کام کرتی تھیں، بہت کم حمل سے ہوا کرتیں۔ جس طرح آج عام ہے کہ غریب طبقے کی عورتیں زیادہ بچے پیدا کرتیں ہیں، تب معاملہ اس کے برعکس تھا۔ اس دور میں خوشحال طبقے کی عورتوں میں زیادہ بچے پیدا کرنے کا رواج ہوا کرتا تھا۔
حلیمہ کے مطابق، 570ء میں بہار کے اواخر میں جب وہ شہر مکہ میں دایہ کی نوکری تلاش کرنے نکلیں تو یہ ان کی سوچ سے بھی زیادہ مشکل کام ثابت ہوا۔ حلیمہ کا تعلق مکہ سے خاصا باہر صحرائی علاقوں میں آباد نیم خانہ بدوش بدو قبیلے سے تھا۔ قحط کے باعث کئی دوسرے بدوقبائلیوں کی طرح ان کا کنبہ بھی اپنی بقاء کی جنگ لڑ رہا تھا۔ حالات اس قدر ابتر ہو چکے تھے کہ جس گدھے پر سوار ہو کر حلیمہ یہاں تک پہنچی تھیں وہ بھی خاصہ کمزور اور لاغر ہو چکا تھا۔ خود حلیمہ کے پستانوں میں دودھ سوکھ رہا تھا اور ان کا اپنا شیر خوار بچہ بھوک سے بلبلاتا رہتا۔ وہ جانتی تھیں اس حالت میں وہ مکہ کے خوشحال، دولت مند گھرانوں کی نظر میں بطور دایہ جچ نہیں سکتیں مگر ان کے پاس کوشش کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ حلیمہ کے ساتھ آنے والی عورتیں، ایک کے بعد دوسری، مکہ سے شیر خوار بچوں کو گود لے کر واپس روانہ ہوتی رہیں ۔ یوں، دستیاب محدود مواقع اور بھی مسدود ہوتے چلے گئے۔ حلیمہ کی زبانی، جلد ہی ان کے ساتھ آنے والی ہر عورت کو گود لینے کے لیے شیر خوار بچہ مل گیا مگر وہ ویسی ہی ناکام رہیں جیسی پہلے دن تھیں۔ ان کی نظر میں،شہر بھر میں صرف ایک بچہ باقی رہ گیا تھا ۔ بشمول ان کے، ہر عورت نے اس بچے کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ یہ بچہ یتیم تھا اور دایہ کے کام کی اجرت بچوں کے والد سے وصول کی جاتی تھی ۔ بچے، بالخصوص ایک بیٹے کا والد عام طور پر مناسب اور بسا اوقات منہ مانگی اجرت دے دیا کرتا تھا۔ یوں، ایک یتیم کو قبول کرنے کا مطلب یہ تھا کہ کام کا منہ مانگا تو دور، شاید مناسب معاوضہ بھی نہ مل پائے۔ چنانچہ ہر عورت اس بچے کو قبول کرنے سے انکاری تھی۔
اس وقت تک حلیمہ نے اس بچے کے بارے میں ایسی کوئی بات نہیں سنی تھی جن باتوں کی بابت بعد میں لوگ قسمیں اٹھانے کو تیار تھے۔ جیسے، جس رات عبداللہ کی شادی ہوئی ان کی پیشانی پر سفید روشنی تھی یا یہ کہ جب آمنہ حمل سے تھیں تو ان کا پیٹ اس طرح جگمگاتا تھا گویا، 'آپ اس روشنی کو اتنی دور، یہاں تک کہ شام کے محلات سے دیکھ سکتے تھے'۔ اس طرح کے قصے کم از کم ایک سو سال بعد مشہور ہوئے۔ بہرحال، حلیمہ اور دوسری دایہ عورتوں کا معاملہ تب یہی تھا کہ وہ شیر خواری کے لیے ایک یتیم بچے کو بوجوہ قبول نہیں کر سکتی تھیں۔ ایک یتیم کسی کو بھی قبول نہیں تھا۔ حتی کہ خود عبدالمطلب کو بھی نہیں۔ اصولی طور پر تو آمنہ اور محمد صلعم بنی ہاشم کے سربراہ عبدالمطلب کی ذمہ داری تھے مگر عمر رسیدہ شخص پر ایک اور پوتے ، وہ بھی ایک یتیم کی ذمہ داری تھی۔ جس کی قسمت کا بھی کچھ علم نہیں تھا، وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ جانبر بھی ہو پائے گا یا نہیں؟ بلوغت تک پہنچ پائے گا یا نہیں؟ عبدالمطلب کے پاس محمد صلعم کی شیر خواری کے عرصہ دو سال تک رضاعت کا خرچہ اٹھانے کی کوئی مناسب وجہ نہیں تھی۔
آمنہ اور نہ ہی حلیمہ کو شماریات کا اندازہ تھا مگر وہ دونوں اس بات سے بخوبی واقف تھیں کہ شہر کی فضا، شیر خوار بچوں کی صحت کے لیے کسی طور بھی مناسب نہیں تھی۔ اگر بچہ کسی دایہ کے حوالے کر دیا جاتا جو اس کو شہر کی کثافت سے باہر قدرتی ماحول میں دو سال تک پرورش کرتی تو بچے کے لیے زندہ رہنے کے مواقع بڑھ جاتے تھے۔ یاد رہے، اس دور میں جب آج کی طرح جدید ادویات میسر نہیں تھیں ۔شیر خواری کی عمر میں بچے کا جانبر ہو پانا ہی اچھی خاصی کامیابی تصور کی جاتی تھی۔ چھٹی صدی عیسوی ہی کیا، حالیہ دور سےپہلے کی معلوم شماریات ملاحظہ ہوں۔ رومی سلطنت کے شہری علاقوں میں پیدا ہونے والے تمام بچوں کا صرف تیسرا حصہ ہی پانچ سال کی عمر تک پہنچ پاتا تھا۔ اسی طرح اٹھارہویں صدی میں لندن کی شماریات سے پتہ چلتا ہے کہ سولہ سال کی عمر تک پہنچتے ، بچوں کی آدھی آبادی مر جایا کرتی تھی۔ اس دور میں چاہے وہ یورپ کا شہر پیرس ہو یا مشرق وسطیٰ میں حجاز کا مکہ شہر۔۔۔ معمولی زخم، چاہے ذرا سی خراش ہی کیوں نہ ہو، جراثیمی وبا اور انفیکشن کے سبب مہلک ثابت ہو سکتا تھا۔ اس دور میں بیماریوں، غذائی قلت، پر تشدد واقعات، حادثات، زچگی، خوراک اور پانی کی آلودگی، جنگ اور جدل کی وجہ سے تقریباً آبادی کے صرف دس فیصد لوگ ہی پینتالیس یا اس سے زیادہ عرصے تک جی پاتے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں جب جرثوموں کے بارے تحقیق وضع ہوئی اور اینٹی بائیو ٹک ادویات دریافت کر لی گئیں تو حالات میں بہتری آئی۔ شرح عمر میں اضافہ ہوا۔ آج ان بہتر حالات کو ہم نعمت غیر متر قبہ جانتے ہیں۔
آج کے لحاظ سے تب ایک معاملہ اور بھی مختلف تھا۔ اس دور میں شیر خوار بچوں کی شرح اموات دیہی علاقوں میں بہت کم تھیں۔ پوری دنیا میں یہ معاملہ ایسا ہی تھا۔ اس کی اصل وجہ تو معلوم نہیں مگر تازہ ہوا اور پانی کا صحت پر اثر سمجھا جا سکتا ہے۔ شہروں میں پرورش کے لیے ماحول سازگار نہیں ہوتا ۔ یہ چھٹی صدی کے شہر مکہ کے لیے بھی اتنا ہی درست ہے جتنا کہ آج کے شہری علاقوں بارے مستند مانا جاتا ہے، یہاں سہولیات اور ماحول میں فرق ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔
موسم گرما میں، جب دن کے وقت درجہ حرارت چالیس درجے سے بڑھ جاتا تو ہوا ناقابل برداشت ہو جاتی۔ شہر کے اندر نہ صرف موسم کی گرمی بلکہ گھروں کی چمنیوں اور بھٹیوںمیں بھڑکتی آگ سے حدت کی وجہ سے حبس بڑھنے لگتا۔ چونکہ مکہ چاروں طرف سے پہاڑیوں میں گھرا ہوا ہے تو شہر میں گرمی شدید ہو جاتی۔ اسی طرح شہر سے قدرے باہر کوڑے کرکٹ کا ڈھیر تھا جس پر گدھ منڈلاتے اور جنگلی آوارہ جانور گھومتے رہتے تھے۔ کوڑے کے ڈھیر میں گرمی کے سبب جراثیم کی بہتات ہو جاتی جو ہوا کے دوش پر سارے شہر میں پھیل جاتے۔ اسی طرح شہر میں نکاسی کا کوئی انتظام نہیں تھا جس سے کنوؤں کا تازہ پانی بھی آلودہ ہو جاتا۔ یوں شہر بھر میں وبائی امراض عام تھے۔ جس برس محمد صلعم کی پیدائش ہوئی،اس سال بھی مکہ میں چیچک کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔ الغرض، یہ ماحول شیر خوار بچوں کے لیے ہر گز موزوں نہیں تھا۔
ایسے حالات میں کہا جا سکتا ہے کہ آمنہ محمد صلعم کے لیے دایہ، رضاعی ماں تلاش کرنے میں جان توڑ کوشش کرتی ہوں گی۔ دایہ جو شیر خوار محمد صلعم کو گود لے کر شہر سے باہر صحرائی علاقے میں منتقل ہو جائے۔ تب ہی تو وہ حلیمہ جیسی کمزور، بھوک و غذائی قلت کی شکار رضاعی ماں ، جس کی گود میں پہلے سے ایک شیر خوار بچہ تھا کے ہاتھ محمد صلعم کو گود دینے پر تیار ہو گئی تھیں۔ اسی طرح حلیمہ کی اپنی حالت کے باعث ان کے متعلق یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ہر طرف سے جب ناکام اور نا امید ہو چکیں تو بالآخر محمد صلعم سے یتیم کو گود لینے پر رضامند ہونا، ان کی مجبوری بن گیا۔
شاید حلیمہ نے محمد صلعم کو گود لینے کی حامی اس لیے بھی بھر لی تھی کہ وہ مکہ سے واپس جانے والی تمام عورتوں میں واحد عورت نہیں بننا چاہتی تھیں جو اپنے قبیلے، علاقے کو خالی ہاتھ لوٹ رہی تھی۔ چونکہ بدو قبائلی عورتیں اچھی خاصی انا پسند مشہور تھیں تو یہ ممکن تھا۔ یا پھر شاید، حلیمہ کو محمد صلعم پر ترس آ گیا تھا۔ خودحلیمہ کا بیان اس طرح قلم بند ہے کہ ، "جب ہم نے واپس جانے کا فیصلہ کر لیا تو میں نے شوہر سے کہا، 'بخدا، میں خالی ہاتھ واپس نہیں جانا چاہتی۔ میں جا کر اس یتیم بچے کو گود لے لوں گی'۔ اس پر شوہر نے کہا، 'جیسے تمہاری مرضی ہو۔ شاید اسی یتیم کے صدقے خدا ہم پر رحم کر لے۔' چنانچہ وہ واپس ہوئیں اور صرف اس وجہ سے کہ وہ خالی ہاتھ لوٹنا نہیں چاہتی تھیں، محمد صلعم کو گود لے لیا۔"
اس کہانی پر بھی بعض جگہوں پر مسیح مولود کی ولادت سے متعلق کہانی کا گماں ہوتا ہے۔ محمد صلعم کی کہانی میں حلیمہ اور ان کے شوہر کی مثال حلیم طبیعت چرواہوں سی ہے۔ گو اس کہانی میں بوڑھے، عقلمند لوگ تو نہیں ہیں جو تحائف لاتے ہوں یا رات میں آسمان سے شہابیےگر رہے ہوں یا کوئی فاسق شہنشاہ جنون میں انتقامی کاروائی کرتا پھر رہا ہو مگر اس کے باوجود مقبول عام روایت ان دونوں کہانیوں میں کرامات اور کرشمے کا تقاضا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوں ہی حلیمہ نے محمد صلعم کو گود لینے کا فیصلہ کیا، جیسا کہ ابن اسحاق نے روایت کی ہے، حلیمہ سے منسوب بیانات میں ان کا لب و لہجہ ایک دم بدل جاتا ہے۔ جیسے عیسیٰ کے قصے میں چرواہوں کے بارے احترام کا لہجہ اختیار کیا جاتا ہے، یہاں بھی حلیمہ اب صرف ایک باتونی، شوہر سے نوک جھوک کرنے والی انا پسند، بدو عورت نہیں بلکہ بی بی حلیمہ ہیں۔ راویوں کے بیان سے اخذ کریں تو محمد صلعم کو گود لیتے ہی حلیمہ اور ان کے خاندان کے ساتھ گویا معجزہ ہو گیا ہے۔ حلیمہ کے پستانوں میں دودھ بھر آیا ہے جو محمد صلعم اور ان کے اپنے شیر خوار کے لیے کافی تھا۔ جو اونٹنی وہ ساتھ لائے تھے اس سے بھی دوبارہ دودھ دوہا جانے لگا تا کہ وہ اور ان کا خاندان جتنا چاہتے، دودھ پی سکتے تھے۔ جس گدھے پر سوار ہو کر آئے تھے وہ بھی یکدم چست اور توانا ہو گیا۔ اسی طرح، روایت کیا جاتا ہے کہ جب وہ اپنے گاؤں میں واپس پہنچے تو بھیڑ بکریاں بھی اب کمزور اور لاغر نہیں رہی تھیں ۔ بدترین قحط کے باوجود موٹی تازی تھیں اور پھر سے دودھ دینے کے قابل ہو گئی تھیں۔ یوں، حلیمہ اور ان کے شوہر نے اندازہ لگایا کہ محمد صلعم کو گود لینے سے ان کے خاندان پر خدا کی رحمت ہو گئی ہے۔ شاید، حلیمہ نے جب یہ حالات بیان کیے تو وہ ماضی کو یاد کر رہی تھیں ۔ ماضی کا حال عام طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کئی دہائیوں بعد جب یہ واقعات دوبارہ اور سہ بارہ بیان کیے جانے لگے تو محمد صلعم کو گود لینے کے واقعہ بارے جس قدر ادب اور تعظیم کا تقاضہ تھا، معجزاتی اور کرشماتی انداز اپنایا جانے لگا۔ عقل اور حقائق سے دور یہ احوال بالکل عیسیٰ کی شیر خواری جیسا ہے۔ عیسیٰ اور محمد صلعم، دونوں کے بارے میں مشہور ان واقعات میں کافی مشابہت پائی جاتی ہے۔ عقیدت ٹپکتی ہے اور یہ معجزہ معلوم ہوتے ہیں ۔ ان پر لوگوں کا ایمان کی حد تک یقین قائم ہے۔
ہم یہ تو جانتے ہیں کہ ماں کا دودھ بچے کے لیے غذائی ضرورت اور قوت مدافعت بڑھانے کا ذریعہ ہے مگر ساتھ یہ بھی ماننا ہے کہ اس کی تاثیر ان ضرورتوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ قدیم روم میں مشہور تھا کہ رضاعی ماؤں کا دودھ پینے والا بچہ دودھ کے ساتھ یونانی زبان بھی پیتا ہے۔ یعنی بڑا ہو کر یونانی اور لاطینی، دونوں زبانیں بول سکتا ہے۔ یہ بات درست تھی۔ درست اس لیے کہ بچہ دودھ میں یونانی رضاعی ماؤں کی زبان گھول کر نہیں پیتا تھا بلکہ پہلے دو برس اس کی بسر یونانیوں کے یہاں ہوا کرتی تھی جو یونانی زبان بولتے تھے اور بچہ ان کی آوازیں سنتا تھا۔ آج ہم ماں اور شیر خوار بچے کے بیچ انس، تعلق ، فعلیات اور نفسیات کے بارے میں تحقیق اور بات کرتے ہیں ۔تحقیق سے ثابت ہے کہ کوئی بھی خصوصی خوراک، ماں کے دودھ کا نعم البدل نہیں ہو سکتی۔ اسی طرح زچہ و بچہ کے مابین دودھ اور انسیت بچے کی صلاحیتوں پر خوشگوار اثر ڈال سکتی ہے۔ یہ بات گو آج تحقیق سے ثابت ہے مگر چھٹی عیسوی صدی میں مکہ شہر کے لوگ بھی اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے ۔ مشہور تھا کہ بدو عورتوں کے دودھ میں تاثیر تھی۔ ان کے دودھ میں قوت حیات ہے۔ یہ صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی اور اخلاقی لحاظ سے بھی بچے پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔ آمنہ بھی اس بات پر یقین رکھتی تھیں، معاملے کو سمجھتی تھیں۔ جیسے دوسرے لوگ، وہ بھی یہ مانتی تھیں کہ حلیمہ کی گود میں ، ایک بدو رضاعی ماں کا دودھ محمد صلعم کی صحت اور طبیعت میں اصیل خصلتیں پیدا کرے گا۔ صحرا کا جوہر، صحرا کی روح۔ بدو قبائل کے بارے میں عام خیال یہ بھی تھا کہ یہ حجاز کے صحرائی، اصیل عرب ہیں۔
عزت، غیرت، وفاداری، آزادی، مہمان نوازی اور جفا کشی۔۔۔ یہ عرب، بالخصوص بدو قبائل کی وہ خصلتیں تھیں جو حجاز کے طول و عرض میں مشہور تھیں۔ یہ خصوصیات، طویل نظموں اور شیریں نغموں میں بیان کی جاتی تھیں۔ عرب روایات اور بدو قبائل کی جرات بارے شاعری، جیسے قصیدے، سہرے، رباعیاں اور گیت وغیرہ خاصے مشہور تھے۔ شاعروں کو انتہائی عزت دی جاتی تھی اور دھیان سے سنا جاتا تھا ۔ان شاعروں کے شہرہ آفاق کلام کی ہر طرف دھوم تھی۔ بسا اوقات تو شاعروں میں انعام کے طور پر خالص سونے کی اشرفیاں بھی بانٹ دی جاتیں۔ عربوں کی زیادہ تر آبادی دیہی علاقوں میں بسر رکھتی تھی۔ یہ بدو لوگ تھے جو اونٹ کے بالوں سے بُنے ہوئے خیموں میں بسر رکھتے تھے۔ ان میں تقریباً لوگ پڑھ اور لکھ نہیں سکتے تھے مگر اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ الفاظ کی خوبصورتی سے بے بہرہ ہیں۔ چونکہ تقریباً آبادی کا دارو مدار زبانی کلام پر تھا، عربی زبان کے لیے ہر ایک شخص چاہے شہری ہو یا بدو، دل اور دماغ میں خصوصی گوشہ رکھتا تھا۔ یوں، عربی صرف ایک زبان نہیں پہچان کے طور پر مشہور تھی۔ عرب اسی زبان کی بدولت قدیم روایت سے جڑے ہوئے تھے ۔ اسی طرح، پڑھنے لکھنے کی سہولت نہ ہونے کے سبب، لوگوں کو عربی زبان میں لکھی گئی یہ شاعری گویا حفظ تھی۔ بچوں کو روز رات لوریاں، داستانیں سنائی جاتیں۔ انتہائی طویل نظمیں اور بحریں لوگوں کو زبانی یاد ہوتیں اور یہ سینہ بہ سینہ نسل در نسل منتقل ہوتیں۔ شاعر محفلوں میں گزرے ہوئے زمانے کے نامور عرب قبائلیوں کے قصیدے اور نوحے پڑھتے جو وقت کے دھارے میں کہیں گم ہو گئے تھے۔ ان کی یاد، بہادری کے نت نئے قصے گھڑے جاتے ۔ اسی لیےشاعری کے ساتھ داستانیں بھی تھیں۔ عربوں کے جنگی کارناموں، فتوحات اور کمالات کی داستانیں، جن میں بہادری اور قربانی کا ذکر رہتا ، خاصی مشہور تھیں۔ یہ داستانیں بھی زیادہ تر شیریں اور رواں عربی میں بیان کی جاتیں اور اسی طرح یاد کی جاتیں۔ داستانیں اس قدر مشہور تھیں کہ ان میں سے بعض ، جیسے 'سات کا قصیدہ' نامی ادبی شاہکار آج بھی عرب دنیا میں مشہور ہے۔ اس داستان میں کثرت سے رومان، جان پر کھیل کر جوکھم، دکھ، بڑائی اور گمشدہ محبتوں کا ذکر ملتا ہے۔ چونکہ محبت، دکھ اور گمشدہ بڑائی عرب اور عربوں سی ہر قوم اور فرد کے ماضی کا معاملہ تھا، یہ قصے تا دیر مشہور رہے۔ جنگ ہمیشہ ہی لڑی جاتی رہی ہے، محبت ہر دور میں تازہ رہتی ہے اور کون ہے جس کو کوئی غم نہیں ہے؟ تب ہی تو، یہ قصے، داستانیں اور شاعری ہمیشہ ہی عام رہی۔ لوگ اس کو بار ہا دہراتے، ہر نئے موقع پر، تازہ ہونے والی یا داشت پر مجالس میں پڑھتے ۔ہر دور میں یہی اظہار کا ذریعہ رہی ہیں۔ اگر کسی قوم کا ماضی تابناک اور حال ابتر ہوتا جا تا ہو تو گم شدہ ماضی کی یاد ، خلا اور خسارے کا احساس بڑھتا جاتا ہے۔ عربوں کا حال بھی مختلف نہیں تھا۔ اسی لیے عرب معاشرے کے حافظے میں بیت چکے سہانے ماضی کی یہ داستانیں، شاعری اور موسیقی ہمیشہ کے لیے امر ہو گئی تھیں۔
چھٹی صدی عیسوی میں جدید دور کے امین، مکہ کے شرفاء اور با اختیار طبقے کے نزدیک بدو قبائلی شاعری اور داستانیں، اس حسرت کا اظہار تھیں جو وہ بننا چاہتے تھے ۔ بدوؤں کو بھی احساس تھا کہ شاعری وغیرہ میں جیسا بیان کیا جاتا ہے، حقیقت حال میں وہ باقی نہیں رہے۔ یہ جوش اور ہیجان ماضی کی یاد پر استادہ تھا۔ گزرے ہوئے وقت کی چاہ تھی۔ صحرائی قبیلوں میں نفاست اور خالص عرب روایات کا ارمان، رومان کی حد تک بڑھ چکا تھا۔ اس ہیجان کی وجہ یہ تھی کہ اب ان کی روایات اور معاملات میں تجارت اور نفع نقصان کا کھوٹ شامل ہو چکا تھا۔ ایک عرب بدو تو تعریف کی رو سے جنگجو، سادہ اور غیرت مند آدمی ہوا کرتا تھا۔ اس کی زندگی بہادری اور جرات، جفا کشی سے متعلق تھی۔ جیسے اٹھارہویں صدی عیسوی میں یورپ بھر میں چرواہوں کی سادہ زندگی سے رومان جڑا ہوا تھا یا بیسویں صدی عیسوی میں امریکیوں کا ہیرو کاؤ بوائے تھا۔ اسی طرح چھٹی صدی عیسوی کے مکہ میں بدوؤں کو عرب کی علامت، صحرا کا بیٹا سمجھا جاتا تھا۔مگر جیسے یورپ کے چرواہے اور امریکہ کے کاؤ بوائز کی حقیقت کچھ اور تھی۔ بدو اور بدوؤں کے لیے بھی معاملہ اس سے مختلف نہیں تھا۔
گو بدو قبائل ماضی کو یاد کرتے تھکتے نہیں تھے مگر حقیقت میں ان کا حال اب بھی ماضی سے مختلف نہیں تھا۔ قبائلی علاقوں کا حال مکہ جیسے شہروں کے مقابلے میں ماضی کا ہی کوئی دور معلوم ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے تو مکہ کے لوگ انہیں قدامت، خالص عرب روایات سے جوڑا کرتے تھے۔ دوسرے لفظوں میں یہ قبائل شہریوں کے نزدیک تہذیب یافتہ نہیں تھے۔ ان کے لیے غیر مہذب، جنگلی اور گنوار وغیرہ کی اصطلاحات اوائل اسلامی تواریخ میں عام ملتی ہیں۔ شہر کی پختہ عمارتوں میں بسر کرنے والوں کے نزدیک خیموں میں بسنے والے یہ بدو غیر شائستہ لوگ تھے۔ ان کی اوقات مال مویشی پالنے، شہریوں کے بچوں کی کفالت کرنے اور قافلوں کو صحرا میں راستہ دکھانے سے بڑھ کر نہیں تھی۔ مکہ کے شرفاء کے نزدیک بدو شہر وں میں بسنے کے لائق نہیں تھے۔ حالانکہ، خود مکہ کے یہ شہری، تہذیب یافتہ لوگ صرف پانچ نسل پہلے تک اسی قبیل سے تعلق رکھتے تھے۔
بدوؤں کو بھلے مکہ کے لوگ حقیر جانتے تھےمگر حقیقت میں مکہ کا شہر انکےبغیرچلنا مشکل تھا۔ اصیل گھوڑے ، چست اور توانا اونٹ جن پر مکہ کے لوگ تجارتی قافلے لے کر دور دراز علاقوں جیسے شام اور یمن تک جایا کرتے تھے، بدوؤں کے مرہون منت تھے۔ ان کے بغیر شاید مکہ تجارتی مرکز نہ ہوتا۔ اسی طرح بدو لوگ روزمرہ کے استعمال کی اشیاء پیدا کرتے تھے۔ جیسے گھوڑوں کی زین، کاٹھیاں، کپڑے اور کمبل، دودھ سے بنی مصنوعات ،گوشت، جوتے اور کوزے وغیرہ وغیرہ۔ یعنی ، ہر طرح کی ضروریات زندگی بدوؤں کے یہاں سے بن کر آتی تھیں۔ شہری آبادی اور بدو قبائل کے بیچ معیشت کا گہرا تعلق قائم تھا۔ یہ تعلق دونوں کے لیے نا گزیر تھا ۔ اس کے باوجود دونوں میں ایک دوسرے کے لیے گہری آزردگی بھی پیدا ہو گئی تھی جو اکثر ہتک کی حد تک بڑھ جاتی تھی۔ تعلق بہرحال جوں کا توں برقرار رہتا تھا۔
مکہ کے باسیوں کے لیے یہ ایک لحاظ سے آج امریکہ میں سیاسی مفادات کے تحفظ کی مثال جیسا بھی تھا ۔ امریکہ میں شہری سیاسی طبقہ دیہی علاقوں اور وہاں کی آبادی کی قدر اور منزلت کا دعوی کرتا ہے۔ امریکی دیہاتیوں کے محنتی ہونے، خلوص اور استقامت کے گن گائے جاتے ہیں۔ یہ اس لیے کہ دیہاتی لوگ ان کی سیاسی ضرورت ہیں۔ گو مکہ کے لوگوں کی ایسی کوئی سیاسی مجبوری تو نہیں تھی مگر پھر بھی وہ بدو قبائل کے شاندار ماضی، روایت، جفاکشی، بہادری اور استقامت کے گن گاتے تھے، کیونکہ بدو قبائل مکہ اور اس جیسے دوسرے شہروں کی معاشی ضرورت تھے۔ اس لحاظ سے کہیں تو آج امریکہ میں سیاسی شہری طبقے اور اس دور میں مکہ کے تاجر شہری معاشرے میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔
ایک طرح سے محمد صلعم کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ زندگی کے پہلے پانچ برس بدو قبائل کے بیچ بسر کرتے۔ محمد صلعم کی مانند، بدوؤں کی بھی زبانی کلامی قدرتوتھی پر حقیقت اس کے برعکس تھی۔ بدو عرب گو معاشرے میں مرکزی حیثیت رکھتے تھے، جیسے محمدصلعم اونچے خاندان کے فرزند تو تھے مگر بدو قبائلی اور محمد صلعم دونوں کو ہی منہ زبانی دھوم اور منزلت کا رتی بھر فائدہ نہیں تھا۔ پھر، جیسے روم میں شیر خوار بچے یونانی زبان کو سن کر بولنا سیکھ جاتے تھے۔ اسی طرح محمد صلعم نے بھی گویا، دودھ میں بدو قبائل کی عرب روایات اور اقدار کو گھول کر پی لیا۔ قدرت کے پوشیدہ اسرار اور روحانی منزلت پر یقین، انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی مفاد عامہ، روایتی موسیقی اور عربی زبان کی چاشنی، تاریخ اور اصلیت سے آگاہی وغیرہ ۔ یہی اقدار آگے چل کر محمد صلعم کو وہ شخص بنائیں گی جیسا کہ وہ ثابت ہوئے۔ یعنی، ایک طرف دنیاوی معاملات نبھانے کی باری آئی تو اپنے شہر میں محمد صلعم بدو قبائل کے یہاں سیکھی ہوئی انہی اقدار کی پاسداری اور روایات پر عمل پیرا ہونے کے باعث معتبر ٹھہرائے گئے۔ وہیں، دوسری جانب ان کا یہ طریق فطری طور پر اپنے آبائی شہر میں جہاں قدریں کچھ اور تھیں، محمد صلعم اجنبیت کا شکار ہو گئے، بیگانے قرار پائے۔
اول المسلمین: محمد صلعم کی کہانی۔ اگلے باب نمبر 3 کے لیے یہاں کلک کریں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر