اول المسلمین - یتیم - 3


جہاں حلیمہ نے یتیمی کے باوجود محمد صلعم کو گود لے لیا تھا۔ وہیں یتیمی کے باعث ہی محمد صلعم نے رواج کے برعکس دو سال کے بجائے مزید چند سال حلیمہ کے ہاں گزارے ۔ تاہم یہ اس کی واحد اور قابل قبول وضاحت نہیں ہے۔ ایک دوسری وجہ خود حلیمہ کے مطابق یہ تھی کہ محمد صلعم ان کے خاندان کے لیے خوش نصیبی لائے تھے۔ ان کے صدقے حلیمہ کے خاندان کی بدترین قحط کے دنوں میں بھی اچھی خاصی بسر ہو رہی تھی۔ بیان منسوب ہے، "ہم نے دو سال تک محمد صلعم کی کفالت کی ۔میں نے انہیں اپنا دودھ پلایا۔ اس کو خدا کا فضل سمجھا ۔ یہاں تک کہ دودھ چھڑانے کا وقت آ گیا۔" وہ مزید بتاتی ہیں، " ہماری بھر پور خواہش تھی کہ محمد صلعم کو مزید کچھ دیر اپنے پاس رکھتے، کہ یہ بچہ خوش بختی لایا تھا۔ مگر، ہمارے پاس محمد صلعم کو مکہ میں واپس آمنہ کے پاس لے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا '۔ میں نے آمنہ سے کہا، 'یہ بہتر ہو گا کہ آپ اپنے بیٹے کو مزید چند سال ہمارے پاس ہی رہنے دیں۔ اس طرح یہ مکہ میں بیماریوں سے دور، محفوظ رہے گا'۔ ہم نے اس پر اصرار جاری رکھا۔ حتی کہ آمنہ راضی ہو گئیں"۔
اگر یہ کہا جائے کہ شاید ایک بدو عورت بچے کو ہتھیانے کے لیے ہوشیار چالاکی سے حفاظت کا جواز بنا کر پیش کر رہی تھی تو وہیں یہ بھی عین ممکن ہے کہ آ منہ نے فرط جذبات میں محمد صلعم کو بانہوں میں بھر لیا ہو۔ وہ اپنی مامتا کے ہاتھوں محمد صلعم کو خود سے جدا کرنے میں مشکل محسوس کرتی ہوں۔ مادرانہ خواہش اور بچے کی صحت کے بیچ فیصلہ لینے میں مشکل سے دوچار ہوں۔ دونوں ہی صورتوں میں ایسے کسی ڈرامائی سین کا کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ ویسے بھی، یہ اکیسویں صدی کے جذبات ہیں اور چھٹی صدی عیسوی میں حقیقت خاصی مختلف رہا کرتی تھی ۔ آمنہ کو ہر حال میں محمد صلعم کی صحت ، مامتا سے بڑھ کر عزیز تھی۔ اسی لیے، واجبی پس و پیش کے انہوں نے محمد صلعم کو مزید چند سال صحرا میں بسر کرنے کے لیے حلیمہ کے ساتھ واپس روانہ کر دیا۔
یہاں ایک اور بات بھی ہے ۔ آمنہ نے عبد اللہ کی موت کے بعد دوبارہ شادی نہیں کی تھی۔ روایتی طور پر ایک بیوہ عورت، بالخصوص ایسی بیوہ جس کی عمر بمشکل بیس سال رہی ہو گی اور گود میں ایک شیر خوار بچہ بھی تھا۔ اس طرح کی صورتحال میں عین ممکن تھا کہ وہ فی الفور شادی کر لیتیں۔ ضرورت پڑنے پر اور جیسا عرب معاشرے میں رواج تھا، عبد اللہ کے بھائیوں میں سے ہی کوئی ایک آمنہ کے ساتھ شادی کے لیے تیار ہو جاتا۔ اس طرح وہ کسی شخص کی دوسری یا شاید تیسری بیوی ہوتیں مگر خود اپنی حفاظت اور محمد صلعم کی کفالت، معاشرے میں مقام کو یقینی بنا سکتی تھیں۔ مگر نئے دور کے شہر مکہ میں قدیم روایات دم توڑ رہی تھیں۔ اصولاً تو آمنہ اپنے سسر عبد المطلب کی پناہ میں تھیں۔ ماں بیٹے کی کفالت، ان کی ذمہ داری تھی مگر خود عبد المطلب کا حال یہ تھا کہ لاڈلے بیٹے کے تقریباً قتل کی قسط اور اس کے فوراً بعد اس کی ناگہانی موت نے کمر توڑ کر رکھ دی تھی۔ عبدالمطلب کی ہمت جواب دے رہی تھی۔ یہ بیٹے کے غم میں وقت سے پہلے ہی بوڑھے ہو چکے تھے۔ عبد المطلب کے اس طور زوال کے باعث اب بنی ہاشم کے اثر ورسوخ اور مال و دولت میں بھی خاصی کمی آ چکی تھی۔ مکہ میں بنی ہاشم کی بجائے، امیہ خاندان صبعود اور قیادتی کردار میں آ چکا تھا۔ گو حالت ایسی ابتر تو نہیں ہوئی تھی کہ مکہ کے لوگ اور قریش کے باقی کنبے ان کو محتاج اور غریب جانتے مگر پھر بھی کسی کو آمنہ سے شادی میں کوئی فائدہ نظر نہیں آیا۔ پھر محمد صلعم کے نام پر کوئی وراثت بھی نہیں تھی اور عبد المطلب کے دس بیٹوں میں بٹ جانے کے بعد شاید محمد صلعم کے حصے میں کچھ بھی نہ بچتا۔ یوں، عین ممکن ہے کہ آمنہ کی قسمت میں ہمیشہ کے لیے بیوگی اور محمد صلعم جو آمنہ کے اکلوتے بیٹے تھے، سدا اکلوتا رہنا ٹھہرا دیا گیا ۔ سبب اس کے، محمد صلعم کے کبھی سوتیلے بہن بھائی نہیں ہوں گے ۔ یعنی، محمد صلعم ان خاندانی تعلقات اور رشتوں سے محروم رہ جائیں گے جن کی بنیاد پر مکہ کا سماجی ڈھانچہ کھڑا تھا۔ سادہ الفاظ میں، مکہ میں محمد صلعم کا سماجی رتبہ نہ ہونے کے برابر اور یہ اپنے آباء، خاندان سے کٹ کر رہ گئے۔ اس طرح کے حالات میں جب کہ کوئی دوسری صورت نہ تھی۔ آمنہ کے پاس سوائے محمد صلعم کو حلیمہ کے ساتھ رخصت کرنے کے کوئی چارہ نہیں تھا ۔ ویسے بھی حلیمہ نے محمد صلعم کی کفالت کے عوض ابھی تک کسی بھی طرح کے معاوضے کا تقاضہ نہیں کیا تھا۔
یوں، رواج کے برعکس محمد صلعم دودھ چھڑانے کے بعد بھی واپس صحرا میں اپنے رضاعی ماں باپ کے یہاں پہنچ گئے۔ وہ مزید تین سال تک یہیں بسر کرنے والے تھے۔ ان تین برسوں میں بدو طرز زندگی آپ صلعم کے رگ و پے میں اتر جائے گی ۔ کیتھولک فرقے کے بانی فرانسس جیویر نے کہا تھا کہ، ' مجھے ایک کم عمر بچہ تربیت کے لیے دو۔ میں اس کی ساتویں سالگرہ پر تمہیں وہ مرد دے سکتا ہوں جو یہ باقی عمر رہے گا۔' اس مقولے میں فرانسس نے جدید نفسیات کی پیش بینی کی ہے ۔ یہی محمد صلعم کے ساتھ ہوا۔ بدوؤں کے یہاں بتائے بچپن نے آپ صلعم کو وہ مرد بنا دیا جو وہ رہا کرتے تھے۔
صحرائی زندگی کے بارے جو خالص ہونے کی بات مشہور ہے، وہ دراصل فقر اور غربت کی عفت ہے ۔ دودھ چھڑانے کے بعد محمد صلعم دوسرے بدو بچوں کی ہی طرح کا کھانا کھاتے۔ یعنی، اونٹنی کے دودھ اور صحرا میں اگنے والے قلیل جنگلی اناج پر صبر کرنا پڑتا تھا۔ کھانے کے لیے یہی سادہ اور چھدری خوراک میسر تھی جو بدو طرز زندگی کی طرح منتشر اور حیثیت میں کم تھی۔ گوشت صرف خاص تہواروں یا کبھی کبھار کوئی معزز مہمان آن نکلتا تو صرف اس کی خاطر مدارت کے لیے پکایا جاتا تھا۔ یہاں کسی قسم کی تعیش اور تکلف کا کوئی سامان نہیں تھا۔ یہاں تک کہ بدوؤں کو کھانے میں شہد اور کھجوریں بھی دستیاب نہیں تھیں۔ گو یہ سادہ اور معمولی ، بہرحال صحت مند زندگی تھی۔ محمد صلعم کا زیادہ تر وقت گھر سے باہر گزرتا تھا۔
لق و دق صحرا میں بسر کرنے کا مطلب خود قدرت کے ہاتھوں تربیت حاصل کرنا اور فطرت کی تمام تر رعنائیوں مگر دشوار گزار یوں کے ساتھ گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ صحراؤں کے باسی کو ان مشکلات کے ساتھ جینا سیکھنا پڑتا ہے اور ہر دم نبرد آزما، کم سے کم تر پر اکتفا، معمول پر قناعت کرنی پڑتی ہے ۔ یہاں کی زندگی خاصی دلچسپ بھی ہوتی ہے۔ سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے اور خالص عملی تجربات سے پالا پڑتا ہے۔ یہاں بھول چوک کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ مثال کے طور پر چراگاہوں کی بابت علم کو لے لیں۔ سرد سے گرم پڑتے موسم میں ریوڑ کو کہاں تک چرانے لے جا سکتے ہیں کہ یہ موسم کی سختی برداشت کر سکے؟ بھول ہوئی تو ریوڑ، یہاں تک کہ خود اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا تھا۔ اسی طرح ایسی جگہوں پر جہاں دور دور تک پانی کا نام و نشان بھی نہ ہو، وہاں پانی کیسے اور کہاں تلاش کیا جا سکتا ہے؟ تپتے ہوئے صحرا میں پیاس پر کیونکر قابو رکھنا ہے؟ یا پھر، اونٹ کے بالوں سے بُنے خیموں کو کس طرف نصب کریں کہ گرمیوں میں سورج سے سایہ اور سردیوں میں ضروری تپش مل سکے؟ بدوؤں کے یہاں بچوں کو بھی ہر وہ کام کرنا پڑتا جو ان کے بس میں ہوتا تھا۔ محمد صلعم ابھی صرف چلنے پھرنے کے قابل ہوئے تھے ، ان کی رضاعی بہن شائمہ جو آپ سے بس چند سال بڑی تھیں، بھیڑ بکریوں اور اونٹ کے ریوڑ چرانے جاتیں تو محمد صلعم کو ہمراہ لے جاتیں۔ آپ صلعم اس دوران شائمہ کے کندھے پر سوار یا ان کی بغل سے لگے رہتے۔ شائمہ کو بھیڑ بکریوں، اونٹوں کو ہانکتا، چراتا اور سنبھالتا دیکھتے رہتے۔ دن بھر بھاگ دوڑ اور محمد صلعم کو سنبھالتے رہنے کے باعث شائمہ کی ٹانگیں جواب دے جاتیں مگر انہوں نے کبھی محمد صلعم کو ساتھ لے جانا ترک نہیں کیا۔ وہ محمد صلعم سے بے انتہا محبت کرتی تھیں۔ صحرا میں ان کا خیال رکھتیں۔ محمد صلعم بھی اس دوران شائمہ پر نظر گاڑے رکھتے اور ان کو آنکھوں سے اوجھل نہ ہونے دیتے۔ یہیں پر محمد صلعم نے شائمہ سے بکریوں اور اونٹوں کو سنبھالنا سیکھا۔ آپ صلعم کم سنی میں ہی گویا ہر لحاظ سے ایک بدو لڑکے میں ڈھل چکے تھے۔ وہ بدوؤں میں سے ایک ہو چکے تھے۔ صرف ایک قباحت تھی کہ محمد صلعم کو نام کے برعکس 'قریشی' کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ یعنی، قبیلہ قریش سے تعلق رکھنے والا۔
یہ نام، 'قریشی' محمد صلعم کو یاد دہانی کراتا کہ گر چہ ان کی کل وقت گزر بسر حلیمہ کے خاندان میں ہے۔ ان کے رضاعی بہن بھائی اور ماں باپ ان سے بہت محبت رکھتے ہیں مگر پھر بھی وہ ان میں سے ایک نہیں ہیں۔ ان کا تعلق، خاندان اور اصل تو کسی اور جگہ میں ہے۔ باور کرایا جاتا کہ وہ پہاڑوں کے سلسلے حجاز کے اس پار واقع مکہ شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ حجاز کے لفظی معنی رکاوٹ کے ہیں۔ گو مکہ وہاں سے صرف پچاس میل کی دوری پر تھا اور اگر یہ فاصلہ ہزاروں میل بھی ہوتا تو بدوؤں کو فرق نہیں پڑتا تھا۔ ان کے نزدیک مکہ جہان دیگر، زمین غیر تھا۔ بدو اس شہر کے متعلق بات کرتے ہوئے وحشت، بیزاری کا اظہار کرتے۔ ان کے نزدیک مکہ اس قدر عجیب تھا کہ جہاں لوگ ہر وقت پتھر کی دیواروں کے اندر بند، پابند ہو کر رہنے پر خوش رہتے ہیں۔ یہ کیسی تنگ جگہ ہے کہ آزادی سے گھومنے، مٹر گشت کی کوئی صورت نہیں ہے؟ یہاں تک کہ گھر سے باہر بھی کھلی فضا نہیں ملتی۔ مکہ سنگلاخ پہاڑیوں اور گھاٹیوں میں گھرا ہوا تھا۔ یہ سوچ کر ہی بدو متنفر ہو جاتے کہ ایسے شہر میں بھلا کوئی کیسے بسر کر سکتا ہے؟ یہ کس طرح کے لوگوں کا شہر ہے؟ گو بدو مکہ کو ایک ذرہ پسند نہیں کرتے تھے۔ پھر بھی ان کے لہجے میں اس شہر کے لیے احترام سدا قائم رہتا تھا ۔ یہ شہر آخر کار ان کے معاشی تحفظ کا ضامن تھا۔ مشکل وقت میں مکہ ہی ان کی جائے پناہ ثابت ہوا کرتا اور گزر بسر کے لیے بدوؤں کا ہر حال میں مکہ کے شہریوں پر انحصار تھا۔ اس لحاظ سے بھی محمد صلعم کے لیے معاملہ الٹ تھا۔ آپ صلعم کا تعلق مکہ سے تھا، ان کا خاندان بھی مکہ کے شرفاء میں شامل تھا مگر فی الوقت، محمد صلعم کی گزر بسر بدوؤں پر منحصر تھی۔ جہاں محمد صلعم کو ہر وقت 'قریشی' پکارتے رہنے سے انہیں قریش سے اپنی نسبت یاد رہی وہیں ذہن میں یہ بات بھی اچھی طرح بیٹھ گئی کہ بدو، ان کے محسن ہیں۔
جب محمد صلعم پانچ سال کے ہو ئے تو وہ تن تنہا جانوروں کو سنبھال سکتے تھے۔ مثلاً کنویں پر اونٹوں کو سیر ہو کر پانی پیتا دیکھتے اور صبر سے انتظار کرتے رہتے، یہاں تک کہ اونٹوں کے کوہانوں میں سرخی پھول کر دوڑنے لگتی ۔ آپ صلعم جان لیتے کہ اب واپسی کا وقت ہو چلا ہے۔ اسی طرح رات بھر جاگ کر باڑے میں ریوڑ کا پہرہ کرتے۔ اونگھتے، اور رات بھر سوتے جاگتے، جانوروں کی دیکھ بھال میں ہاتھ بٹانا پڑتا۔ صحرا کے شکاری جانوروں سے بھیڑ بکریوں کو بچاتے، باڑے کے گرد آگ جلا کر حفاظت کا سامان کرنے میں مدد کرتے۔ رات بھر ارد گرد صحرائی لومڑیوں کو چیختا سنتے اور بعض اوقات محسوس ہوتا کہ شاید کوئی صحرائی شیر باڑے کے قریب ہی کہیں خاموشی سے راستہ کاٹ گیا ہے ۔ اس پر رات کے یہ پہرے دار سہم جاتے مگر پھر کمال ہوشیاری سے خاموشی سا دھ کر ایک طرف دبک کر بیٹھے رہتے ۔کئی بار ایسا ہوا کہ اگلی صبح باڑے کے پاس ریت پر شیر کے پنجوں کے نشان پائے گئے۔ یوں، ان حالات میں محمد صلعم کو خود صحرا نےعجز، انکساری اور حلم سکھا دیا تھا۔ محمد صلعم نے اسی عرصے میں ہر طرح کے نمود اور حرص سے نبٹنے اور بچ کر رہنے کا کڑا مگر عملی سبق پا لیا تھا۔ معصوم ذہن کے نہاں خانوں میں یہ بات جم کر بیٹھ چکی تھی کہ صحرا اور زندگی کس قدر سفاک اور بے رحم ہو سکتے ہیں ۔ اندر ہی اندر وہ جان چکے تھے کہ یہ دنیا کس قدر عظیم اور بقید حیات ہے اور اس میں ایک انسان کی حیثیت بہت معمولی ہے۔
یہ تو خیر اس مادی دنیا کی معلومات تھیں جس سے محمد صلعم بہر طور واقف ہو ہی رہے تھے۔ مگر صحرا میں تو ہر شے گویا جدا رنگ رکھتی ہے۔ جیسے دن بھر دھوپ میں جلتے رہنے والے پتھر بھی رات پڑتے ہی ایسے محسوس ہوتے کہ شاید رات کی ٹھنڈی ہوا میں گرمائش نکال کر سکھ کا سانس لیتے ہیں۔ جیتے جاگتے ہوئے معلوم ہوتے۔ رات میں سر پر تنی ستاروں کی چھتری ، جس میں ہر کہکشاں گویا ایک جدا کہانی کا کردار نظر آتی تھی۔ یہ منظر ایک بچے کے لیے مسحور کن مگر سمجھنے میں دشوار ہو سکتا ہے ۔ محمد صلعم کا معصوم ذہن اس دوسری دنیا کو سمجھنے سے قاصر تھا۔ یہاں ہر طرف انسانوں کے علاوہ ارواح اور چھو گر نفوس کا بھی بسیرا تھا ۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ہر طرح کے غیر ممکنات کے باوجود جنگل بیابان ، خشک صحرائی وادی میں جہاں دور دور تک پانی کی ایک بوند نہیں ملتی، وہاں ایک درخت ضرور سر سبز و شاداب ، اونچا تن کر کھڑا مل جاتا ہے ؟ یا لق و دق صحرا میں کہیں نہ کہیں کوئی بڑا بھاری بھرکم پتھر ریت میں دھنسا ہوا ضرور ہوتا تھا جو دیکھنے میں گویا یادگار ہو مگر غور کرنے پر لگتا کہ شاید آسمان سے کسی نے گرا یا ہے؟ یہ شہابیے تھے۔ ان یادگاروں، عجوبہ قدرت کے سامانوں کے بارے کہا جاتا کہ یہاں ارواح کا بسیرا ہے۔ یہ ارواح، یعنی جنات خاصے نا پیش بین تھے۔ ان میں اچھے اور برے، ہر طرح کے جنات مل جاتے تھے۔ ہر دو صورت یہ انسانوں سے احترام مانگتے تھے ۔ جس طرح عیسائی شیاطین سے محفوظ رہنے کے لیے اپنے سینے پر صلیب کا نشان بناتے ہیں، اسی طرح تب صحرا میں مسافر ، رات کے وقت بیابان میں پڑاؤ ڈالنے سے قبل با آواز بلند ٹونا کرتے۔ وہ کہا کرتے، 'آج کی رات میں جنات کی اس وادی کے رب کی شیاطین سے پناہ مانگتا ہوں جن کا یہاں بسیرا ہے۔' اسی طرح کہا جاتا کہ اگر کسی شخص کے ذہن میں ان قوتوں اور قدرت کی ان طاقتوں پر ذرہ برابر بھی ایمان لڑکھڑایا تو پھر اس صورت میں بعض اوقات پاؤں کے تلے زمین ایسے انسانوں کو خود اس حماقت پر سبق سکھاتی ہے۔ بیٹھے بٹھائے پیروں تلے سے زمین کھسکنے لگتی۔ مضبوط اور سخت چٹانیں لرزنے لگتیں۔ زمین چنگھاڑتی ہوئی معلوم ہوتی اور انسانوں کو چھپنے ، حتی کہ کھڑے رہنے کو بھی جگہ نہ ملتی۔ زلزلے قدرت، برتر ذات کا غضب کہلاتے۔
یوں، صحرا میں بسی ظاہری اور باطنی دنیا میں کسی کو تبلیغ کی ضرورت نہیں تھی کہ انسان سے برتر بھی کوئی طاقت وجود رکھتی ہے۔ آپ اپنی سہولت کے لیے اسے آج کے حساب سے قدرتی اصول یا پھر کوئی ما فوق الفطرت طاقت سمجھ لیں مگر چھٹی صدی عیسوی میں دونوں میں ہی کوئی فرق نہیں تھا۔ عام خیال یہ تھا کہ جو ان طاقتوں سے منکر ہو یا علیحدہ کر دیا جائے تو ایسے شخص کا اس جہان میں چل پانا مشکل تھا۔ اگر ایسا تھا تو پھر محمد صلعم کیونکر جانبر ہو پائیں گے جب ان کی ساری دنیا جس سے وہ واقف تھے، ایک دم چھن جائے گی؟ بغیر کچھ بتائے محمد صلعم کو اچانک، ان کی اس چھوٹی سی دنیا سے نکال دیا گیا۔ پانچ سال کے کمسن بچے کو اپنے بہن بھائیوں سے جدا کر کے پہاڑوں کے اس پار ایک ایسے شہر میں لا کر چھوڑ دیا گیا جو ان کے لیے نا گفتہ بہ الفاظ میں غیر، اجنبی ملک جیسا تھا۔ محمد صلعم کے ساتھ ایسا کرنے والا بھی کوئی دوسرا نہیں، خود حلیمہ تھیں۔ ماں ، جس کی گود میں انہیں اس دنیا کی پہچان ہوئی۔ محمد صلعم جب حلیمہ کے یہاں سے واپس مکہ آ رہے تو پھر جتنا ہم جانتے ہیں، انہیں اپنے رضاعی خاندان کو دوبارہ دیکھنے کا موقع پچاس سال بعد میسر آیا۔
حلیمہ، محمد صلعم کو اچانک واپس مکہ پہنچا گئیں۔ روایت میں اس کی بابت ایک واقعہ مشہور ہے۔ ابن اسحاق حلیمہ کی زبانی یہ بیان منسوب کرتے ہیں کہ، 'محمد صلعم اور اس کا رضاعی بھائی خیموں کی پشت پر بھیڑوں کے پاس تھے ۔ رضاعی بھائی ہانپتا ہوا آیا اور بتایا، 'سفید کپڑوں میں ملبوس دو آدمیوں نے قریشی کو زمین پر لٹا کر پیٹ چاک کر لیا ہے اور اس کی آنتوں کو دھو رہے ہیں'۔ یہ سن کر سب دوڑ کر خیموں کی پشت پر گئے ۔ ہم نے اسے وہیں کھڑا پایا ، محمد صلعم کا رنگ شوخ سرخ ہو کر دمک رہا تھا۔ میں نے اس کو بازوؤں میں اٹھا لیا اور پوچھ گچھ کی۔ محمد صلعم نے کہا، 'دو آدمی آئے اور مجھے زمین پر لٹا دیا۔ پھر میرا پیٹ چاک کیا اور اس میں نہ معلوم کیا تلاش کرتے رہے۔'
اس واقعہ کی دو مزید روایات ہیں ۔ یہ دونوں ہی محمد صلعم کے اپنے الفاظ میں ، بالغ عمری میں منسوب ہیں۔ پہلی روایت میں وہ یہ تو نہیں بتاتے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اس وقت ان کی عمر کیا تھی مگر کہتے ہیں کہ، 'دو آدمی میری طرف آئے۔ انہوں نے ہاتھوں میں سونے کے سنہری پیالے اٹھا رکھے تھے۔ جو برف سے لبریز تھے۔ انہوں نے مجھے زمین پر لٹا کر پیٹ چاک کیا اور میرا دل باہر نکال کر کھول دیا۔ دل میں سے سیاہ رنگ کا ایک قطرہ الگ کر کے نکال کر دور پھینک دیا۔ پھر دل کو برف سے دھویا، یہاں تک کہ یہ پاک صاف ہو گیا۔'
محمد صلعم سے منسوب دوسری روایت میں اس بابت پہلی روایات سے کہیں زیادہ تفاصیل اور جزیات بیان کی گئی ہیں۔ آپ صلعم یہاں بچپن کی بجائے اس وقت کا ذکر کرتے ہیں جب وہ مکہ سے مدینہ ہجرت کر چکے تھے۔ یہ روایت یوں ہے، 'دو فرشتے میرے پاس آئے۔ اس وقت میں مدینہ کی وادی میں کہیں موجود تھا۔ ان میں سے ایک فرشتہ زمین پر اترا اور دوسرا آسمان اور زمین کے بیچ معلق رہا۔ ایک نے دوسرے سے کہا، 'اس کا سینہ کھول دو' اور پھر، 'اس کا دل نکال لاؤ'۔ دوسرے فرشتے نے ایسا ہی کیا اور میرے سینہ اور دل چاک کر کے اس میں سے خون کا ایک سیاہ لوتھڑا نکال لیا۔ یہ میرے دل میں شیطان کے بھرے وسوسے تھے۔ اس لوتھڑے کو فرشتے نے نکال کر دور پھینک دیا۔ پھر پہلے فرشتے نے کہا، 'اس کے دل کو اس طرح دھو لو جس طرح تم کوئی پیالہ اندر سے مانجھتے ہو اور سینے کو یوں صاف کر دو جیسے تم کسی غلاف کو باہر سے دھو یا کرتے ہو' بعد اس کے، سکینہ کو بلا لیا ۔ سکینہ جو کہ پاک روح ہے وہ ایک سفید بلی کی صورت میں حاضر ہوئی۔ اس نے میرے سینے پر استراحت کی ۔ دوسرے فرشتے نے پھر کہا، 'اس کا سینہ سی ڈالو'۔ فرشتے نے سینے کو سی دیا اور میرے کندھوں کے بیچ رسالت کی مہر ثبت کر دی۔ میں محمد صلعم اس واقعے کو اپنی آنکھوں سے ایسے دیکھ رہا تھا جیسے قریب ہی کھڑا ہوں۔'
غور کریں توحلیمہ اور بالخصوص محمد صلعم سے منسوب بیانات میں ہر بار دہرانے پر واقعات میں نئی تفصیلات جیسے صحرا میں برف، پاک روح کی سفید صورت بلی، فرشتوں کے بیچ مکالمہ وغیرہ، کا اضافہ ہو رہا ہے۔ ہم ایک باقاعدہ کہانی کو بنتا ہوا دیکھ سکتے ہیں۔ یہ معاملہ جوں جوں بڑھتا ہے، عرب نہیں رہتا بلکہ قصے میں دنیا بھر سے افسانوی کردار شامل ہو تے جاتے ہیں۔ جیسے، یونانی اور مصری افسانوی کردار (سنہری پیالہ اور بلی)، عیسائیت میں مشہور شیطان سے منسوب قلب میں وسوسوں سے بھرا خون کا سیاہ لوتھڑا، یہودیوں میں مشہور سکینہ جو عرب لوک داستانوں کی کردار شیخینہ سے مشابہت رکھتی ہے۔ اسی طرح بدھ(مت) مذہب اور روایات میں مشہور، کندھوں کے بیچ پیغمبری کی مہر وغیرہ۔ یہ معاملہ غیر حقیقی، خواب سا ہوتا جاتا ہے۔
لڑکپن میں یا پھر جب وہ مرد تھے، محمد صلعم کی طبیعت میں جو ٹھہراؤ اور ان کے گرد و پیش مناظر سے منسوب بے انتہا سکون ہے۔ اس میں خوف کی کوئی جگہ نہیں جیسا انہوں نے حرا کی پہاڑی پر محسوس کیا۔ لوگوں کا اس پر اصرار اس سوانح کا حصہ ہے جو وہ محمد صلعم کے لیے چاہتے تھے یا وہ خواہش رکھتے ہیں کہ یہ ایسی ہی ہوا کرتی۔ یہ سوانح محمد صلعم کے بعد زمانوں میں اہل ایمان اور عقیدت مندوں نے اپنی تسلی اور غرض کے لیے گھڑ دی۔ گو قران نے بار ہا معجزات اور شگون سے اجتناب اور احتراز کی تاکید کر رکھی ہے مگر اس کے باوجود یہ ہو کر رہا کیونکہ یہ انسانی فطرت میں شامل اس خواہش کا تقاضا ہے کہ معجزات ہوا کریں اور شگون پورے ہو کر رہیں۔ لوگوں کو ایمان لانے کے لیے ایسے عقیدے کی ضرورت تھی جس میں مادی ثبوت بکثرت پائے جاتے ہوں۔ یوں محمد صلعم کی ایسی شبیہ پر اصرار ہونے لگا جس میں وہ معجزے کی روایت کے عین مطابق واقعتاً خدائے بزرگ و برتر کے پسندیدہ ترین شخص بن کر ابھر آئے۔ یہ قرانی احکامات کے متضاد تو تھا مگر بہرحال اس شبیہ پر لوگ ایمان لا سکتے تھے۔ اس کو باقاعدہ خصوصی اور مافوق الفطرت مان سکتے تھے۔ ایک ایسی دنیا جہاں پر اسراریت اپنے جوبن پر ہو وہاں محمد صلعم کے ساتھ اس طرح کی فوق الفطرت روایات جوڑنا صرف رواج نہیں بلکہ ضرورت بن گیا۔ یہ توقع کے عین مطابق تھا۔ اسی لیے کئی دوسری روایات جیسے شادی کی رات عبداللہ کی پیشانی پر روشنی یا حمل کے دوران آمنہ کے پیٹ سے روشنی پھوٹنا یا پھر حلیمہ کے یہاں محمد صلعم کو گود لینے کے بعد دودھ کی فراوانی وغیرہ بھی مشہور ہو گئیں۔ لوگ آنکھ بند کر کے ان واقعات کی بنیاد پر محمد صلعم پر ایمان لاتے اور عقیدت پالتے آ رہے ہیں ۔
حلیمہ کی زبانی جو روایت ہے یا جو ان سے منسوب ہے۔ اس میں کہیں بھی حلیمہ اور نہ ہی ان کے شوہر نے اس واقعہ کو فوق الفطرت سمجھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کے بیان کردہ واقعات پر بھی کان نہیں دھرے، بلکہ انہوں نے معقول والدین کی طرح اس کو بچے کے تخیل کی کارستانی سمجھا۔ علمی لوگوں کی طرح انہوں نے محمد صلعم کی اس کیفیت کو بیماری سے جوڑ دیا۔ "ہم محمد صلعم کو واپس خیمے میں لے آئے"، حلیمہ نے یاد کر کے بتایا، "میرے شوہر نے کہا، 'مجھے ڈر ہے کہ شاید اس بچے کو کوئی عارضہ لاحق ہے۔ اس سے قبل کہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ نمودار ہو، اس کو مکہ واپس لے جانا چاہیے۔' ان کو جو اصل ڈر یہ تھا کہ خدا نخواستہ محمد صلعم پر کسی جن کا سایہ نہ ہو گیا ہو۔ وہ کہتی ہیں، ' مجھے ڈر ہوا کہ بیماری محمد صلعم کو آن لے گی"۔
گو اس واقعہ میں محمد صلعم کی ڈاکٹر کے سامنے کرسی پر بیٹھے کسی مریض کی طرح تشخیص کرنا خاصی مضحکہ خیز بات ہے مگر جو معلومات میسر ہیں، ان کی بنیاد پر چند لوگوں نے یہ رائے قائم کی ہے کہ شاید محمد صلعم کو مرگی کی بیماری تھی۔ مگر یہ صائب رائے نہیں ہے۔ کیونکہ، یہ تو طے ہے کہ محمد صلعم کے ساتھ اس طرح کا واقعہ زندگی میں صرف ایک آدھ بار پیش آیا۔ ویسے بھی اگر ان کو مرگی یا اس طرح کی کوئی اور بیماری لاحق ہوتی تو مکہ میں ان کے مخالفین اس بات کو ضرور اچھالتے، ان کی دماغی حالت کا ضرور تذکرہ کرتے۔ جیسا کہ مخالفین نے محمد صلعم کی تعلیمات اور دعویٰ نبوت کو جھٹلانے کے لیے کئی حربے استعمال کیے۔ مشہور کیا گیا کہ محمد صلعم فضول قصے گھڑتے ہیں، جھوٹے ہیں یا پھر کوئی جادو گر یا ساحر ہیں۔ انہوں نے بہرحال کبھی محمد صلعم کی اس بیماری کا کبھی ذکر نہیں کیا۔ اس بات کو نہیں اچھالا۔
قصہ مختصر، آخر میں اس ملکوتی مداخلت کا ایک ہی مقصد باقی رہ جاتا ہے جو خالصتاً دنیاوی ہے۔ یہ آلہ داستان، بیانیے کو آگے بڑھانے کی سبیل ہے۔ اس واقعے کے باعث محمد صلعم کو مکہ واپس جانا پڑا۔ مسلمانوں کے لیے یہ واقعہ محمد صلعم کی مکہ واپسی کی دلیل کے طور پر کافی ہو سکتا ہے مگر کچھ اور وجوہات اور زمینی حقائق بھی ہیں جو بہرحال اٹل ہیں۔ جیسے، ابھی تک آمنہ اور بنی ہاشم کی قسمت جوں کی توں تھی بلکہ شاید بگڑ رہی تھی اور اس میں کسی بہتری کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی تھی۔ ان حالات میں حلیمہ اور ان کے شوہر کو محسوس ہوا کہ شاید انہیں محمد صلعم کی کفالت کا معاوضہ شاید کبھی نہیں مل پائے گا۔ پانچ سال کی عمر کا یہ کم سن بچہ حلیمہ اور ان کے شوہر کے لیے گھر میں ایک اضافی فرد تھا۔ صحرائی زندگی کی مشکلات اور مسلسل قحط سے نبرد آزما اس خاندان کے لیے، جس میں کئی کھانے اور صرف ایک کمانے والا تھا، محمد صلعم جو ان کی اپنی اولاد بھی نہیں تھے، بوجھ بن کر رہ گئے تھے۔
حلیمہ جس لڑکے کو ساتھ واپس لائیں، وہ قریش کم اور بدو زیادہ تھا۔ بلکہ وہ بدو ہی تھا۔ دبلا پتلا مگر پھرتیلا اور اپنی عمر سے بڑا لگتا تھا۔ جسم چھانٹا ہوا تھا اور اس پر اضافی چربی اور گوشت کا شائبہ تک نہیں تھا۔ محمد صلعم کے ہاتھوں پر صحرا جیسے نقش ہو کر رہ گیا تھا۔ انگلیوں کی پوروں تک میں صحرائی ریت بھر چکی تھی اور آنکھیں مسلسل دھوپ اور صحرا کی ریت سے بچاتے بچاتے چندھیا گئی تھیں ۔ پیر سخت، چوڑے اور پاؤں کی انگلیاں لمبی پھیل رہیں جبکہ ایڑھیاں پھٹ کر اکڑ چکی تھیں۔ محمد صلعم مکہ میں گدھے پر سوار ہو کر داخل ہوئے ہوں گے تو بلاشبہ ان پر کسی دیہاتی ، گنوار لڑکے کا گماں ہوتا ہو گا ۔ یہ لڑکا پہلی بار شہر آیا تھا۔ یعنی شہر کی گہما گہمی سے پریشان، ناگوار بو اور شور سے نالاں۔ شہر کا رنگ و رونق، لوگوں کا طریق، ان کے کپڑوں کی نفاست اور ملائم جلد۔۔۔ محمد صلعم کے لیے یہ سب اجنبی تھا۔ ذرا تخیل کو دوڑائیں تو ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جب حلیمہ محمد صلعم کو ہمراہ لیے ان کے گھر پہنچی ہوں گی تو شاید وہ ان کے پلو کے پیچھے چھپ کر شرمائے سے، پریشان کھڑے ہوں۔ یا شاید ایسا نہ ہو بلکہ محمد صلعم ایک صحرائی بدو لڑکے کی مانند سیدھے سادھے، بے نیاز ہو کر الگ تھلگ اکڑ کر کھڑے ہوں جیسے عام صحرائی لڑکے ہوا کرتے ہیں۔
بدو ماں باپ سے بچھڑ کر اب رات میں ان کی بسر سپاٹ دیواروں کے پیچھے بند ہو کر رہتی ہو گی۔ یہ مکان اور کمرے ہر گز اونٹ کے بالوں سے بنے خیموں جتنے نرم اور گداز نہیں تھے۔ ریتلی زمین پر بستر کی بجائے ایک پلنگ یا شاید سخت فرش پر اکیلے، اپنے رضاعی بہن بھائیوں سے گھل مل کر سونے کی بجائے اپنی اصل مگر اجنبی ماں کے ساتھ سونا پڑتا ہو گا۔ یقیناً محمد صلعم کا دم ان دیواروں میں گھٹتا ہو گا جیسا سارے بدوؤں کا جی یہاں آیا کرتے تو گھٹ کر رہتا تھا۔ اسی طرح شہر کے گرد پہاڑوں کے بیچ بھی ان کی کیفیت عجیب ہو جاتی ہو گی، جیسا کہ بدوؤں کے یہاں اس کیفیت کو 'مکہ شہر کا حبس زدہ خلا' کہا جاتا تھا۔ صحرا میں آسمان پر ستارےقریب معلوم ہوتے تھے، شہر میں آ کر وہ بہت دور ہو چکے ہوں گے۔ شہر میں بے شمار چولہوں اور تندوروں کے دھوئیں کی آلودگی کے سبب آسمان میں جھانکنا، تارے دیکھنا اتنا آسان نہیں رہا ہو گا۔ خالص ہوا اور کھلی فضاؤں، رضاعی خاندان کے لیے جو محمد صلعم کے دل میں بے چینی پیدا ہوتی ہو گی، یقیناً ا س کی وجہ سے وہ تنہائی بھی محسوس کرتے ہوں گے۔ ورنہ، محمد صلعم کی آنکھوں کے کونے کھدروں میں تنہائی کے خول کہاں سے آتے؟ بلاشبہ محمد صلعم صحرا میں رہنے کے بعد خلوت اور گوشہ نشینی کی کیفیات سے واقف ہو چکے تھے، ذائقہ چکھ چکے تھے مگر یہاں کا ماجرا یکسر مختلف تھا۔ یہاں گوشہ نشینی نہیں تھی۔ خلوت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ گھروں کے اندر اور باہر گلی کوچوں، شہر کے میدانوں الغرض، ہر طرف لوگ تھے۔ لوگوں کا ایک جم غفیر اس چھوٹی سی گھاٹی میں جمع ہو کر رہا کرتا تھا ۔ اتنے لوگوں کے بیچ رہ کر صحرا کی مانند، خلوت اور گوشہ نشینی کا میسر ہونا، ممکن ہی نہیں تھا۔ یہاں تو گویا تفرید تھی۔ ہر شخص دوسرے کے قریب تھا مگر اس کے باوجود جیسے یہ سب لوگ ایک دوسرے سے علیحدہ، کٹے ہوئے تھے۔ شاید، بدو مکہ کے بارے میں درست ہی کہتے تھے۔ انہی بدوؤں کے تربیت یافتہ محمد صلعم شہر کے لوگوں میں، اپنے آبائی قبیلے میں ایک اجنبی، نو وارد سے بڑھ کر کچھ نہ تھے۔
پھر محمد صلعم جس طرح بدو لہجے میں بات کرتے ، بدوؤں کی طرح بات کرتے ہاتھوں سے اشارے کرتے ، اس سے بھی ان کا اس جگہ سے بیر ہونا صاف ظاہر تھا۔ دوسرے لڑکے آپ صلعم کے لہجے اور ہتھ اشاروں کا اس وقت تک مذاق اڑاتے رہے جب تک آپ صلعم نے باقی قریش کے طور طریق سیکھ نہ لیے۔ اسی مشکل کے سبب، کڑے سبق کی وجہ سے محمد صلعم کی آنکھیں چوکس ہو گئیں اور ان کی مسکراہٹ خاصی سرسری اور محتاط ہوتی چلی گئی ۔ کئی دہائیوں کے بعد بھی جب محمد صلعم ادھیڑ عمر ی کو پہنچ گئے تھے، قریش میں مقبول اور حتی کہ رہنمائی پر بھی فائز ہو گئے۔ مگر تب بھی شاذ و نادر ہی کھلکھلا کر ہنسا کرتے تھے۔ مسکراتے بھی واجبی سا ہی تھے۔ وہ قریش تھے، قریش میں معروف بنی ہاشم سے تعلق تھا مگر اس کے باوجود وہ ان کے بیچ بے وقعت تھے۔ محمد صلعم کی بسر ایک ایسے معاشرے میں تھی جہاں والد کے ہاتھ تلے تربیت اور پدرانہ نسبت اہم ترین جز تھی۔ یہاں، محمد صلعم کے لیے یتیمی طعنہ بن کر رہ گئی۔ وہ اس کیفیت کو کوئی نام تو نہیں دے سکتے تھے مگر ہمہ وقت اسی حال میں رہتے کہ خود کو ثابت کرتے رہیں، بار بار اپنے وجود کا یقین دلاتے رہیں۔ اسی طرح ہر وقت ان پر یہ خیال سائے کی طرح چھایا رہتا کہ آخر وہ کس بنیاد پر جیتے ہیں اور ان کا یہاں والی، وارث کون ہے؟ ایسے میں، محمد صلعم کی مسکراہٹ کا واجبی یا ہنسی کا مفقود ہو جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔
یہ یتیمی کی دین تھی۔ محمد صلعم کے بچپن میں بے فکری کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ان کے لیے کوئی بھی چیز، کوئی بھی سہولت نعمت غیر مترقبہ نہیں تھی۔ آپ صلعم کا بچپن دوسرے بچوں کی طرح معصوم اور بے نیاز نہیں تھا۔ یہ پہلو جس قدر افسوسناک معلوم ہوتا ہے وہیں یہ بات بھی خوب ہے کہ محمد صلعم کی بحیثیت مرد کامیابی اور خصوصیات کی کنجی یہی محرومی اور پسماندہ حالات ہیں۔ جن لوگوں کا بچپن اور لڑکپن بے فکری میں گزرتا ہے، بنیادی ضروریات بغیر مانگے پوری ہو جاتی ہیں وہ اس کیفیت ، حالت کو سمجھ ہی نہیں سکتے۔ ان کے خیال میں شاید یہ سب کچھ یوں ہی ہے، سب کے لیے اسی طرح طے ہو کر رہتا ہے ۔ ان کے لیے وقت آسانی سے، بغیر کسی سوال اور کوئی مشکل لائے بیت جاتا ہے۔ حاجات پوری ہوتی رہتی ہیں۔ ایسے لوگ گویا اپنے حال سے آنکھیں چرائے گزرتے رہتے ہیں۔ دوسری جانب وہ لوگ ہیں جن کی اوقات، معاشرے بلکہ اپنے گھر تک میں بھی جگہ، رتبہ اور حیثیت غیر یقینی ہو۔ جن کے لیے اپنے وجود کو منوانا اتنا آسان نہ ہو، جو اس سب پر سوال اٹھا سکتے ہوں بلکہ ان کے لیے اپنے حال پر سوالات اٹھانا نا گزیر ہو۔ یہی لوگ، عام طور پر نئے جواب، نئے حالات، نئے خیالات ڈھونڈ کر لاتے ہیں۔ نئی راہیں نکال سکتے ہیں۔ ایسے لوگ شاید محرومیوں کا شکار تو ہوں مگر عامی نہیں ہوتے۔
نفسیات دانوں نے ایسے افراد کی ایک طویل فہرست بنا رکھی ہے جن کا بچپن یتیمی میں بسر ہوا تھا۔ اس فہرست میں چند نام، کنفیوشس، مارکس اوریلس، ولیم الفاتح، رشیلیو، جان ڈون، لارڈ برائن، آئزک نیوٹن اور نتشے وغیرہ کے ہیں۔ اسی فہرست میں عیسیٰ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ تحقیق کی بنیاد پر یہ مانا گیا ہے کہ تمام تر توقعات کے برعکس زندگی کے ابتدائی دور میں خسارے اور محرومی کے بعد بقایا عمر میں کامیابی کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ محرومی کا یہ احساس زندگی میں کچھ پا لینے اور انوکھا کر دکھانے کی جہد میں محرک کا کام کرتا ہے۔ جیسا کہ ایک ریسرچ سکالر نے لکھا تھا کہ محرومی اور محتاجی کا احساس نفسیاتی اور اعصابی طور پر بے پناہ قوت کا حامل ہوتا ہے۔ 'بلند اخلاق، با ضمیر شخصیت اور بے پناہ تخلیقی صلاحیتیں اوائل عمر میں یتیم ہو جانے والے بچوں کو نا انصافی اور محرومی کے ہر وقت طاری رہنے والے احساس کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ محرومی کا یہ احساس بلوغت اور بعد اس کے تقریباً تمام عمر ہی برقرار رہتا ہے۔' ایک وقت آنے پر یہ احساس بالآخر بڑھ کر جداگانہ انفرادی شناخت، خود کو منوانے کی پیاس بن جاتا ہے۔ اس طرح یہ بچے، دنیا پر اپنا وجود ثابت کرنے کے لیے تخلیق، سوچ میں گھل کر رہ جاتے ہیں۔'
یتیمی کے باعث اگر ایسی پیاس کا وجود، جو بلاشبہ محمد صلعم میں بھی پائی جاتی تھی ، جلد ہی دوگنی ہو گئی۔ جیسا کہ ہم اندازہ لگاتے آئے ہیں کہ آخر آمنہ نے محمد صلعم کو بدو قبائل کے یہاں روایت کے برعکس کئی برس تک کیوں رہنے دیا؟ یہ اندازہ لگانے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آمنہ تا دیر زندہ نہیں رہیں کہ ان کے بیانات قلمبند کیے جا سکتے، یاد رکھے جا سکتے یا منقول ہو سکتے۔ جس طرح ہم کبھی ان کے خیالات سے آگاہ نہیں ہو سکیں گے۔ ویسے ہی یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ محمد صلعم کی بدو قبائل کے یہاں سے مکہ واپسی کے صرف چند ماہ بعد ہی وہ ان کے ہمراہ دو سو میل دور مدینہ کے سفر پر کیوں نکل پڑیں؟
اس دور میں ایک عورت کے لیے اس طرح کا سفر آسان نہیں تھا۔ بالخصوص جب پلو کے ساتھ ایک کم سن بچہ بھی بندھا ہو۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر آمنہ نے یہ سفر کیوں اختیار کیا؟ کیا وہ جانتی تھیں کہ مرنے کا وقت قریب ہے؟ شاید وہ زچگی کے باعث خاصی کمزور ہو چکی تھیں۔ یہ ان کی دوبارہ شادی نہ کرنے کی وجہ بھی ہو سکتی ہے؟ اگر وہ پہلے سے بیمار تھیں تو یہ سفر گویا ان کے لیے موت کا سفر ثابت ہوتا۔ یہ جانتے ہوئے بھی وہ اس سفر پر نکل پڑیں۔ اس کی ضرور کوئی بڑی وجہ رہی ہو گی۔
جیسا کہ نظر آ رہا تھا، محمد صلعم کا مستقبل مکہ میں تابناک نہیں تھا۔ ان کے لیے یہاں کوئی خاص جگہ نہیں تھی۔ ہاں، مدینہ میں شاید مکہ کی زندگی سے بہتر متبادل مل سکتا تھا۔ محمد صلعم کے دادا کا ننہال مدینہ سے تعلق رکھتا تھا۔ عبد المطلب کا جنم بھی مدینہ میں ہی ہوا تھا۔ چنانچہ، آمنہ نے بیماری کی حالت میں یہ سفر اپنے بچے کے لیے دور کی رشتہ داری میں ایک محفوظ گھر کی تلاش کے لیے اختیار کیا ہو گا۔ مگر یہ سفر بے سود ثابت ہوا۔ آمنہ کو مدینہ میں محمد صلعم کے لیے کوئی مناسب گھر اور قریبی رشتہ نہیں ملا۔ اس سفر کے چھیالیس سال بعد محمد صلعم نے مدینہ میں پناہ لی تھی مگر اس وقت بھی ان کے رشتے داروں کا محمد صلعم سے قریبی رابطے یا تعلق، ہجرت مدینہ میں کردار کا کہیں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ تاریخ میں محمد صلعم کی مدینہ میں اپنے آباء کی نسبت یعنی عبد المطلب کے ننہال یا آمنہ کے اس سفر کے مختصر اور نا کافی تذکرے کے سوا کوئی اور حوالہ موجود نہیں ہے۔ اگر محمد صلعم کا مدینہ میں کبھی کوئی خونی رشتہ رہا بھی تھا تو وہ اب گم ہو چکا تھا۔
ہم نہیں جانتے کہ آمنہ کو کیا عارضہ لاحق تھا۔ صرف یہ معلوم ہے کہ مدینہ سے واپسی پر، جس قافلے کے ساتھ وہ سفر کر رہیں تھیں، اس نے ابوہ کے مقام پر پڑاؤ کیا۔ ابوہ مکہ اور مدینہ کے عین مرکز میں واقع ہے۔ یہیں، ابوہ میں محمد صلعم کے سامنے آمنہ وفات پا گئیں۔ جس قافلے کے ساتھ وہ سفر کر رہے تھے اس نے محمد صلعم کو بخیر و عافیت واپس مکہ میں عبد المطلب کے ہاں پہنچا دیا ۔ یوں صرف چھ سال کی عمر میں محمد صلعم دوبارہ یتیم ہو گئے اور وراثت میں مکمل عدم تحفظ اور بے انتہا دنیاوی بے وقعتی پائی۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر