اول المسلمین - یتیم - 4

روایت سے منقول ہے کہ محمد صلعم اپنے دادا کے لاڈلے تھے۔ یہ اور اس طرح کی کئی دوسری روایات مسلمانوں کی محمد صلعم سے جذباتی نسبت اور استدلال کی ضرورت ہیں۔ ایمان والوں کے لیے محمد صلعم جیسی قد آور اور نادر شخصیت کو یوں بے توجہی کا شکار ہوتے دیکھنا تکلیف دہ بات ہے۔ اسی طرح خیر خواہوں، ایمان کی حد تک ماننے والوں نے رقم تاریخ میں چھٹی صدی کی تلخ حقیقتوں میں اپنی تشفی کے لیے روایات کو توڑنا مروڑنا شروع کر دیا گیا۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ دوہری یتیمی کا شکار لڑکا بالآخر اپنے دادا کے یہاں شناخت اور پدرانہ شفقت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ روایت کیا جاتا ہے کہ آپ صلعم زیادہ تر وقت دادا کے ہمراہ گزارتے اور عبد المطلب کنبہ بنی ہاشم اور قبیلہ قریش کے کارناموں کی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ ان داستانوں میں اکثر کا مرکزی کردار خود عبد المطلب رہا کرتے تھے۔
حالانکہ، حقیقت میں عبد المطلب اس قدر ناتواں اور ضعیف ہو چکے تھے کہ چھڑی کے سہارے بھی چلنا پھرنا دو بھر ہو چکا تھا۔ آپ ہر روز صبح پالکی، جس پر زریں قالین بچھا رکھی تھی، سوار ہو کر کعبہ کے احاطے میں تشریف لاتے اور سارا دن وہیں کھجور کے درخت تلے آرام کرتے۔ یہیں محدود رہا کرتے تھے۔ لوگ ان سے صلاح اور مشورہ لیتے اور آپ کے دبدبے و عمر رسیدگی کے باعث کنی کتراتے تھے ۔ یہ خاصہ جذباتی اور خوب صورت تصور ہے کہ عبد المطلب کی آنکھوں میں لاڈلے پوتے کو پالکی کے پائیوں سے لٹک کر اپنے سینے پر سوار ہوتے دیکھ کر آنکھوں میں چمک در آتی ہو گی اور وہ محمد صلعم کو سینے سے چمٹائے خاندان کی میراث جو پالکی پر بچھی زریں قالین کے نقش و نگار کی طرح حسین مگر پیچیدہ تھی، تاریخ بارے تفصیلات اور قصے ازبر کراتے۔ آباء، خاندان اور حسب نسب کی بابت بتاتے جو ان کی اصل تھا۔ محمد صلعم کی پیڑھی پر مکہ کے تقریباً سبھی باسی فخر کیا کرتے تھے۔ یہ اس حسب و نسب کی روداد ہوا کرتی تھی جس میں ہر شخص کی حیثیت خاندان اور بزرگوں کی نسبت سے طے ہوا کرتی ہے ۔ یہاں باپ دادا ، رنگ و نسل اور قبیلے سے نسبت کی عقیدے کی حد تک پرستش کی جاتی اور اس پر فخر کیا جاتا تھا۔ بزرگوں کے مزارات پر باقاعدگی سے حاضری دی جاتی اور مقبروں پر پرستش کی حد تک تعظیم سے چڑھاوے چڑھائے جاتے تھے۔ یہ رواج آج بھی شمالی افریقہ ، جنوبی ایشیاء اور مشرق وسطیٰ میں عام ہے۔ حبرون میں واقع ابراہیم کے مزار سے لے کر ہر طرف جا بجا قائم تقریباً ہر امام اور ولی اللہ ، راہب اور فقیر تک کے مقبروں کا عبادت کی حد تک احترام اور دیکھ بھال کی جاتی ہے۔
مگر سوچنے کی بات یہ ہے کہ کم سن محمد صلعم کو اپنے نسب کے قصے، روداد سن کر کیا ملتا ہو گا؟ وہ اپنی نسبت کہاں جوڑتے ہوں گے؟ غور کریں، چھ سالہ محمد صلعم کو اپنی پیدائش سے متعلق ڈرامائی کہانی کو سن کر کیا حاصل ہو سکتا ہے؟ اس قصے میں عبد المطلب تقریباً اپنے بیٹے کو قتل کر چکے تھے اور یہ کہ وہ ایسا صرف ایک پتھر کی ایماء پر کر رہے تھے؟ پانی کے ایک چشمے کی ملکیت پر حق جتانے کی غرض سے؟ جس طرح اوائل تاریخ کے مورخین کا خیال ہے، کیا محمد صلعم واقعی اس واقعہ سے کسی خاص نسبت کا اشارہ لیتے تھے؟ کیا محمد صلعم کو، جنہیں اپنے والد کی وفات کے سبب، ان کے نام کی بدولت آج تک کوئی عزت و تکریم نہیں ملی تھی، واقعی اس تعلق کو موروثی بڑائی سمجھتے تھے؟ یقیناً ان روایات سے یہی سب مقصود تھا کہ محمد صلعم بھی اپنے قبیلے، خاندان، نسل اور آباء پر فخر کرتے یا کہیے، محمد صلعم کی شاندار خاندانی نسبت اجاگر ہو سکتی مگر یہاں تو یہ خیال ہی عجب معلوم ہوتا ہے کہ ایک کم سن یتیم بچہ جس کے والدین، یعنی ماں اور باپ دونوں ہی باقی نہ رہے ہوں وہ اس کو یکسر مختلف انداز میں سوچ سکتا ہے۔ شاید، اس کی آنکھیں یہ کہانی سن کر فخر اور غرور سے نہیں بلکہ دہشت سے کھلی کی کھلی رہ جاتی ہوں گی۔ اس کو یہ ڈر ہو کہ یہ بوڑھا شخص اس کو بھی اتنی ہی آسانی سے قتل کر سکتا ہے، جتنی آسانی سے آپ صلعم کے والد تقریباً بھینٹ چڑھ چکے تھے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ ہر دو صورت یہ معاملہ خاصہ مشکوک ہے۔ یہ خلاف قیاس ہے کہ محمد صلعم کو یہ قصے اور نسبت کی روداد اپنے دادا کی زبانی سننے کو ملی ہو۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں فلپ ایریز نے ایک نظریہ پیش کیا تھا۔ اس کو 'بچپن کی ایجاد' کہا جاتا ہے۔ اس نظریے سے پیشتر دنیا بھر میں کم سن بچوں کو 'کم عمر بالغ ' سمجھا جاتا تھا۔ تب ،اتنی زیادہ شرح اموات اور مختصر انسانی عمر کے بیچ جذبات کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی، بالخصوص یتیموں کے لیے تو قطعاً نہیں تھی۔ اگر عبد المطلب نے کبھی محمد صلعم کی موجودگی محسوس بھی کی ہو تو وہ ان کے لیے یہاں وہاں، بھاگتا دوڑتا ہوا صرف ایک اور بچہ ہوں گے جو ان کی قد آور، رعب دار شخصیت سے کترا کر یہاں وہاں کھسکتا، چھپتا پھرتا رہتا ہو گا۔ اور اسی طرح اگر محمد صلعم نے کبھی اپنے دادا کو دیکھ رکھا تھا تو وہ شاید ان کے بیچ کافی فاصلے رہے ہوں۔ ان کے لیے عبد المطلب ایک بعید اور اجنبی شخصیت رہے ہوں گے جو اس قدر قد آور ہے کہ شاید اس تک رسائی تو دور، اس پر توجہ دینا بھی بے کار ہے۔ اتنے بڑے کنبے اور قبیلہ قریش کی ذمہ داری کے بیچ عبد المطلب کے لیے اپنے باقی کے نو بیٹے اور دوسرے پوتے زیادہ اہم رہے ہوں گے جن کے مستقبل سے وہ اپنے کنبے اور قبیلے کے لیے کچھ امید پال سکتے تھے۔ محمد صلعم نے شاید کبھی عبد المطلب کے قریب پھٹکنے کی جرات بھی نہ کی ہو گی۔ ان کو یقیناً ڈر رہتا ہو گا کہ شاید وہ ان کو دھتکار دیں یا شاید کسی قابل نہ سمجھیں۔ 'خود کو کار آمد بناؤ اور کسی کام میں لگ جاؤ'ان کو بتایا جاتا، 'ایندھن کی لکڑیاں ڈھو لاؤ یا کنویں سے پانی نکالنے میں مدد کرو'، یا جیسے بچوں کو دور بھگایا جاتا ہے، 'پرے ہو جاؤ، ٹک کر بیٹھو!' وغیرہ۔ یا شاید زیادہ سے زیادہ کبھی کبھار ایک آدھ بار بہت ہوا تو عبد المطلب آپ صلعم کے سر پر شفقت سے ہاتھ پھیر دیتے ہوں گے۔
غالباً محمد صلعم بھی یوں نظر انداز کیے جانے پر شکر ادا کرتے ہوں گے۔ کیونکہ اس طرح انہیں خود کے لیے وقت، اور اپنے آپ میں مصروف رہ کر سیکھنے کا موقع ملتا ہو گا۔ پسماندہ اور دھتکارے ہوئے یتیموں اور مساکین وغیرہ کے لیے حالات سے سمجھوتہ کرنا اور اپنے آپ کے ساتھ جینا سیکھ لینا خود ان کی اپنی بقاء کے لیے انتہائی ضروری ہوتا ہے۔ ایک کم سن لڑکا جس کی حیثیت اور پیدائشی حق تک نہ مانا جاتا ہو، اس کے لیے ایسے حالات میں اپنا وجود قائم رکھنا بھی، دشوار اور مشروط ہو کر رہ جاتا ہے۔ ایسے بچوں کو کم آمیز، کم گو اور منکسر المزاجی کے ساتھ پس منظر میں چھپ کر گزر بسر کرنی پڑتی ہے ۔ خاصا محتاط ہو کر جینا پڑتا ہے۔ یہ بھی ایک لحاظ سے آپ صلعم کے لیے بہتر تھا، یوں کہ وہ اپنے گرد و پیش کو کھلی آنکھوں کے ساتھ صاف دیکھ سکتے تھے۔ ان لوگوں کے رویے کا قریب سے مشاہدہ کر سکتے تھے جو انہیں کنبے اور قبیلے کا حصہ جانتے ہوئے بھی بیگانہ سمجھتے تھے۔ اسی طرح ارد گرد پھیلے تضادات کا اچھی طرح مشاہدہ کر سکتے تھے۔ یہ عملی سبق تھا۔ ہمہ وقت یاد دہانی تھی کہ وہ سماج جو ان کا اپنا تھا، اسی میں ان کے لیے کوئی جگہ ، حیثیت کی گنجائش نہیں تھی۔
اس چھ سالہ کم سن بچے کو اپنے گرد ایسا معاشرہ نظر آ رہا تھا جس میں دین اور بے دینی کچھ اس طرح گڈ مڈ ہو کر رہ گئی تھی کہ ان کے بیچ تفریق کرنا ناممکن تھا۔ لوگ ایساسمجھتے آئے ہیں مگر مکہ پسماندہ نہیں تھا بلکہ حجاز میں ابھرتا ہوا تجارتی مرکز رہا کرتا تھا۔ مکہ غربی عرب میں جنوبی یمن کی بندر گاہوں سے شمال کی طرف بحیر ہ روم اور شام میں دمشق اور اس سے کہیں آگے تک کے علاقوں کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی تجارتی راہدری کا مرکزی نقطہ تھا۔ یہاں قریش نے کمال ہوشیاری سے تجارت اور حج (یعنی سفر/زیارت مقدسہ) کی عبادات کے بل بوتے پر اپنے لیے اچھی خاصی خوشحال دنیا بسا لی تھی۔ عقیدے اور تجارت سے کمایا جانے والا نفع، ان کے شہر کی خوشحالی کا ضامن تھا۔
قریش کی تاریخ یہ تھی کہ اس قبیلے نے صرف پانچ نسل پہلے مکہ پر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا تھا۔ مکہ کی گھاٹی میں واقع قدیم درگاہ کو ایک بار پھر زندہ کیا تھا اور خود اس حرم کے والی بن کر یہیں بس گئے تھے۔ قریش نے یمن سے شمال کی جانب ہجرت کی تھی ۔ ان کا آبائی علاقہ یمن تھا۔ جیسا کہ تاریخ میں ہر عظیم ہجرت کی وجہ کوئی تباہی ہوتی ہے ، یہ بھی ایک آفت کے سبب مجبور ہو گئے تھے۔ قریش کی ہجرت کا سبب ماریب بندکا ٹوٹنا تھا۔ تباہ حال بند کے آثار آج بھی یمن کے شہر صنعاء سے باہر شیبا نامی قدیم مقام پر دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔
اس بند سے نکالی گئی کشادہ نہروں سے قریب ڈھائی لاکھ ایکڑ اراضی سیراب ہوا کرتی تھی۔ زرعی خوشحالی کے سبب یہاں ایک عظیم تہذیب پروان چڑھ رہی تھی اور قریش اس تمدن کا ادنی حصہ تھے۔ پیشے کے لحاظ سے یہ کاشتکار تھے اور گزران مقامی طور پر اگنے والے ایک جھاڑی دار پودے ،ببول کی کاشت پر تھی ۔ ببول میں سے سیپ رستی ہے جسے مرکلی گوند کہا جاتا ہے۔ مرکلی گوند خاصی مہنگی قیمت پر بک جایا کرتی اور اس کاروبار سے اچھا خاصا منافع مل جاتا تھا ۔ یہ خطہ عرب میں خاصا خوشحال مشہور تھا اور یہاں دولت کی ریل پیل تھی۔ فطری طور پر دولت کی افراط سے لالچ بھی بڑھنے لگا۔ تقریباً سبھی کی نظر اس خطے پر تھی اور ہر پڑوسی ریاست اور مقامی عرب سردار یمن کے اس علاقے پر ایک دوسرے سے الجھے رہتے۔ اسی وجہ سے اس علاقے میں جنگ و جدل اور حکمرانی کی کشمکش صدا جاری رہی۔ کئی دہائیوں تک جنگ اور جھڑپوں کے بعد انتظام جو کبھی بازنطینی پشت پناہی میں چلنے والی عیسائی ایتھوپیا کے پاس تھا، نکل کر آتش پرست سلطنت فارس اور پھر اسی طرح مقامی بادشاہوں اور سرداروں ( پانچویں صدی میں ان میں ایک بادشاہ یہودی بھی تھا) کے ہاتھوں میں بٹتا چلا گیا ۔ طویل جنگ و جدل پر اٹھنے والا خرچ اچھا خاصا تھا ۔ یہ خراج مقامی آبادی سے خراج کی صورت وصول کیا جاتا رہا۔ اس کشمکش میں ماریب بند یکسر نظر انداز ہو گیا ۔ مناسب دیکھ بھال نہ ہونے، بد انتظامی اور ضروری وسائل کی عدم دستیابی کے باعث بند وقت کے ساتھ کمزور پڑتا رہا ۔ آخر کار، ایک دن ایسا آیا کہ یہ بند ٹوٹ گیا۔ بند کے ٹوٹنے کی حتمی وجہ سادہ مگر خاصی مضحکہ خیز تھی۔ اس علاقے میں چھچھوندر بکثرت پائے جاتے تھے۔ چھچھوندروں نے بند کی بنیادوں میں اس قدر گہری سرنگیں کھود لیں کہ بند اپنے وزن کے بے انتہا دباؤ کو سہہ نہ سکا۔ بند ٹوٹنے سے علاقے میں سیلاب آ گیا ۔ اگلے موسم میں پانی کی عدم دستیابی کے سبب زرعی اراضی بھی بنجر ہو گئی ۔ یوں ہر طرف دشت اور بیاباں بن گیا۔ یمن کی یہ عظیم تہذیب دم توڑنے لگی اور تمدن غارت ہو کر رہ گیا۔ خطے کی مقامی آبادی کے پاس ہجرت کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ ایسے حالات میں، دوسرے لوگوں کی ساتھ کئی ایک کنبے قصیٰ کی سربراہی میں بھوک اور بد حالی سے جان بچاتے شمال کی جانب ہجرت پر نکل کھڑے ہوئے۔ قصیٰ عبد المطلب کے پڑدادا تھے۔ یہ کنبے ایک قبیلے کی صورت نکلے اور انہوں نے اپنے لیے قریش کا نام منتخب کیا۔ قریش کا مطلب 'یکجا ہونے والے' ہے۔ ہجرت کے بعد قریش نے نہ صرف یمن بلکہ کھیتی باڑی سے بھی منہ موڑ لیا۔ یہ یمن کے شمال میں پہنچ کر مکہ کی گھاٹی میں مستقل آباد ہو گئے ۔ مکہ میں مستقل سکونت اختیار کرنے کے بعد قریش کو احساس ہوا کہ اگر وہ یہاں واقع قدیم درگاہ کا اختیار سنبھال لیں تو پھر دوبارہ کبھی بھی بھوک کا شکار نہیں ہو سکتے۔
مکہ میں جس مامن، جائے حرمت کا انتظام قریش نے سنبھالا، وہ جلد ہی کعبہ کہلایا جائے گا۔ گو حرم اس وقت اونچا ، مکعب کی شکل میں، باقاعدہ عمارت کی طرح نہیں تھا۔ (لفظ 'مکعب' عربی کے لفظ کعبہ سے نکلا ہے جس کا مطلب گھر یا کوٹھے کے ہیں) ۔ یہی حرم آخر کار اسلام کا مرکز بن کر رہے گا۔ جب محمد صلعم نے پہلی بار اس حرم کو دیکھا ہو گا تو اس وقت تک یہ بطور عمارت جدید دور کے مقابلے میں خاصا سادہ رہا ہو گا۔ اس وقت تک اس کی پتھر اور ریت سے اٹھائی گئی دیواریں قد آدم جتنی اونچی اور چھت پر کھڈی پر بنا سخت کپڑا بچھا کر کھجور کے پتے پھیلا رکھے تھے۔ بدوؤں کے یہاں سے وارد ایک لڑکے کے لیے یہ کوئی انوکھی تعمیر نہیں تھی۔ خانہ بدوش، ریت اور پتھر کی دیواریں چن کر اور کھجور کے پتے پھیلا کر چھت والی ایسی تعمیر کو عریش کہا کرتے تھے۔ یہ لفظ بھیڑ بکریوں کے باڑے یا مال مویشی باندھنے کی جگہ کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہی نہیں، مشرق وسطیٰ کے ہر خطے میں عریش کی اصطلاح کے ساتھ متصوفانہ اور پراسرار روحانی نسبت مشہور تھی۔ عریش کا لفظ قدیم سامی زبان میں خیموں کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔ اسرائیلی یہ خیمے موسیٰ کے زمانے سے تعمیر کرتے چلے آ رہے تھے۔ عریش یا اس جیسی کسی بھی تعمیر کو اسرائیلیوں کے ہاں تکریم اور امان حاصل تھی۔ ان کے مطابق عریش سے مراد مقدس اور پاک جگہ ہے جس کے اندر انسان اور جانوروں کو خدا کی طرف سے امان حاصل تھی۔ خود خدا کا تصور صحرا میں انسانوں، جانوروں اور نباتات کے لیے ایک محافظ، پالن ہار کا تھا ۔ اسی طرح وہ جگہیں جہاں انسان، مال مویشی، چرند اور پرند کا بسیرا رہتا، ان مقامات کو اس پالن ہار، محافظ کی طرف سے پناہ حاصل ہوتی تھی۔ یہ تصور زمانہ قدیم سے یوں ہی رائج چلا آ رہا تھا۔ مثال کے طور پر زبور کی مشہور آیات، 'خداوند میرا چوپان ہے' وغیرہ بھی اسی سمجھ کی غماز ہیں۔ مکہ کے عین وسط میں قائم یہ قدیم حرم خدا کا گھر مشہور تھی۔ یعنی، اس میں خود خداوند مقدس کا مسکن تھا۔ عربوں کے یہاں خداوند کو 'اللہ' پکارا جاتا تھا جس کا مطلب 'سب سے برتر' کا ہے۔ عبرانی زبان میں اس کا مترادف 'الوہیم' یا اس سے بھی پہلے قدیم عراقی تمدن میں لفظ 'ال' استعمال ہوتا تھا جس سے ایک ایسی مقدس، مدبر اور عظیم و برتر ذات مراد تھی جو کہ کسی بھی قبائلی خدا ، کل دیوتا یا اوتار سے برتر ہے۔
صدیوں پرانے قد آور استعاروں اور عظیم تشبیہات سے مزین اس حرم کی بابت سوچیں تو ذہن میں ایک انتہائی شاندار اور چمچماتی ہوئی ایسی تعمیر کا خیال ذہن میں آتا ہے جو شہر بھر سے برتر اور اونچائی پر تعمیر کسی یادگار کا نظارہ ہے۔ اس طرح کی یادگاروں کی مثال ایتھنز میں قدیم پورتھی نون کی دیوی کا مجسمہ یا یروشلم میں قدیم گرجا لی جا سکتی ہے۔ مگر حرم کعبہ ایسی کسی بھی یادگار سے مختلف تھا۔ قدیم روایت میں خدائے ذوالجلال کی موجودگی اور اس سے رابطے کا سامان انسانی آبادی سے باہر گوشہ نشینی میں، بلند مقامات جیسے پہا ڑ کی چوٹی یا وادی کے دامن وغیرہ سے منسوب تھا۔ اس روایت کے برعکس، کعبہ مکہ کے زیریں علاقے میں، وادیوں اور گھاٹی کے عین بیچ مرکز میں واقع تھا۔ مکہ کی گھاٹی کا یہ مرکز اصل میں سیلابی پانی کی خشک گزرگاہ تھی۔ یہی حقیقت، کعبہ سے متعلق پر اسراریت کو تقویت بخشتی ہے۔ گھاٹیوں کے حصار میں واقع کعبہ کے گرد خالی اور قدرے کشادہ میدان بھی گھروں کی تعمیرات سے بھر چکا تھا ۔ تب، مکہ شہر کے اطراف میں جس جانب سے بھی داخل ہو رہیں، مرکز میں پہنچ کر حرم اچانک ہی گھروں اور عمارتوں کی اوٹ سے بالکل سامنے وا ہو جاتا۔ اسی طرح گھاٹیوں میں چونکہ سورج کی روشنی قدرے کم ہی پہنچتی ہے تو مکہ کی دھول سے اٹے گلی کوچوں سے بچ کر منعکس ہونے والی مدھم روشنی دیکھنے پر سیدھی کعبہ پر پڑتی ہوئی نظر آتی۔ گویا، کعبہ روشن نظر آتا۔ اونچائی سے دیکھنے پر محسوس ہوتا کہ شہر نے کعبہ کو اپنے حصار میں لے رکھا ہے اور اس کے گرد ول پے ول ایک لپٹا سا گھوم رہا ہے۔ یوں، دوسرے قدیم حرمین کے برعکس کعبہ پر شہر کا تاج نہیں بلکہ مرکز، ناڑ ہونے کا گماں ہوتا تھا۔ یہ ایک لحاظ سے مکہ کی اساس تھا جس کے گرد شہر کی ہر چیز گھومتی ، گردش اور رقص کرتی ہوئی محسوس ہوتی۔ یہ صرف تخیل، تصور کا استعارہ نہیں تھا بلکہ اس کی حقیقت بھی یہی تھی۔ مکہ کے لوگ سفر سے واپس شہر میں پہنچتے ہی سب سے پہلا کام کعبہ پر حاضری دیتے اور اس کے گرد مشق خرام عبادت یعنی عمرہ بجا لاتے۔ یعنی، بائیں ہاتھ سے شروع ہو کر اندر کی طرف کعبہ کے گرد سات چکر پورے کرتے۔ اس خراماں عبادت کے دوران، وہ لبیک یا حاضری کی صدائیں، جیسے 'میں حاضر ہوں' اور 'میں وہاں حاضر ہوں جہاں سے میرا تعلق ہے' وغیرہ بلند کرتے۔ یہ ریت ،عبادت ہر شخص کے لیے چاہے وہ اس شہر میں مستقل سکونت رکھتا ہو یا عارضی قیام کے لیے وارد ہوا ہو، لازم تھی ۔
کعبہ کے گرد زائرین کا یہ رش ذوالحجہ کے مہینے میں خاصا بڑھ جاتا تھا۔ ذوالحجہ کا مطلب 'حج سے متعلق' یا 'حج کا مہینہ' ہے۔ یہ ماہ سال میں تین مسلسل مقدس مہینوں میں، دوسرا مہینہ ہوا کرتا تھا۔ ان تین مہینوں کے دوران پورے مکہ شہر کو حرم کا درجہ دے دیا جاتا اور اس کی حدود میں ہر طرح کی لڑائی، جنگ اور جدل حرام قرار پاتی۔ عرب کے طول و عرض سے دسیوں ہزار زائرین ذوالحجہ کے مہینے میں یہاں جمع ہوتے، کعبہ پر حاضری اور اس سے نسبت کی صدائیں بلند کرتے جو پوری وادی میں گونجتی رہتیں۔ زائرین کی تعداد اس قدر زیادہ ہوتی کہ شہر کی آبادی عام دنوں کے مقابلے تین گنا ہو جاتی اور حجاج شہر کی گلیوں میں 'لبیک اللھم لبیک' یعنی، ' میں حاضر ہوں۔ اے لوگوں کے خدا، میں حاضر ہوں' اور 'لا شریک لک الا شریکون هو لک ' یعنی، 'تمہارا کوئی شریک نہیں سوائے اس کے جسے تو شریک بنائے' کی صدائیں بلند کرتے ہوئے چاروں اطراف سے مکہ شہر میں داخل ہوتے اور گلی کوچوں میں سے گزرتے ہوئے کعبہ کی طرف گامزن اور متوجہ رہتے۔ یہ ایک لحاظ سے پراسرار طریق عبادت تھا۔ اس موقع پر تمام قبائل کی نمائندگی یقینی ہوا کرتی تھی۔ تمام قبائلی اس لیے بھی ذوق و شوق سے حج میں شرکت کرتے تھے کہ تقریباً تمام ہی عرب قبائل کی مخصوص خدائی نشانیوں اور اوتاروں کے لیے کعبہ کے احاطے میں مقام اور رتبہ مختص تھا۔
اوتاروں کے لیے مختص مقام بذات خود کعبہ نہیں بلکہ کعبہ کے گرد کھلا احاطہ تھا۔ ان نشانیوں کی تعداد سے متعلق کوئی ایک رائے نہیں ہے۔ محمد صلعم کے زمانے سے تین سو سال بعد ایک شامی مورخ نے یہ مقولہ پیش کیا کہ کعبہ میں تین سو ساٹھ' بت' ہوا کرتے تھے۔ یہی تعداد اور روایت زبان زد عام ہو گئی اور آج تک عوام اس پر یقین اور جدید مورخین بھی اسے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ حالانکہ، عملی طور پر کعبہ کی مختصر دیواروں کے اندر اتنی بڑی تعداد میں 'خدائی نشانیوں' یا 'بتوں' کا سمانا ممکن نہیں تھا ۔ یہ تعداد بھی غالباً سہو ہے۔ نویں صدی میں جب شامی مورخ نے اوتاروں کی یہ تعریف اور تعداد مشہور کی ، اس وقت ہر طرف اسلامی تحقیق اور علم و معرفت کا چرچا ہوا کرتا تھا۔ مسلمان سائنس دان، بالخصوص جو حساب کا علم رکھتے تھے، انہوں نے اسی زمانے میں دائرے میں تین سو ساٹھ زاویوں کا نظریہ پیش کیا تھا جو خاصہ مشہور اور قابل عمل تھا۔ چنانچہ، کعبہ، اس کے احاطے کے گرد قائم ہونے والی آبادی اور زائرین کے گول دائرے میں عبادت کی نسبت سے یہ تعداد بھی مقبول عام ہو گئی۔ حقیقت یہ تھی کہ کعبہ کے اندر اور احاطے میں درجن بھر خدائی نشانیوں سے زیادہ کے لیے جگہ نہیں تھی ۔ ویسے بھی یہ نشانیاں خود خدا نہیں بلکہ کلدیوتا یا خدا کی نمائندہ، اوتار مشہور تھیں۔ یوں، اگر عملی طور پر دیکھا جائے تو کعبہ کے گرد دائرے میں نصب کیے گئے یہ اوتار اور بت اس بات کی عکاس تھے کہ یہ ایک خدا کے کئی نائب ہیں اور خود اللہ کی بسر کعبہ کے اندر رہتی ہے۔ شرک یا متعدد خداؤں کا دنیا بھر میں عام تصور یہی ہے۔ آج جدید دور میں کئی مذاہب سے متعلق قدیم افسانوی قصے مشہور ہیں اور یہ مغالطہ پایا جاتا ہے کہ آسمان، سمندر اور زمین پر کئی خدا ایک دوسرے سے نبرد آزما رہتے ہیں، شرک کا تصور اس کے بالکل برعکس تھا۔ یعنی یہ ایک خدائی سے جدا نہیں تھے بلکہ اس جہان کی بساط میں تمام ذیلی خدا ایک عظیم تر خدا کے نائب، نمائندہ ہوا کرتے ہیں۔ یہ اس لحاظ سے بجائے خدا ، خدا کے شریک مشہور تھے۔ یہی وجہ ہے کہ عبرانی تورات اور قران میں بھی ان اوتاروں کو خدا یا ذیلی خدا نہیں بلکہ خدا کا شریک کہا گیا ہے۔
جس طرح اوتاروں پر خدا ہونے کا تصور خام ہے وہیں مادی لحاظ سے بت گرداننے کا نظریہ بھی درست نہیں ہے۔ لفظ 'بت' سے ذہن میں سجی دھجی، چمچماتی ہوئی مورتیوں کی شبیہ ابھر آتی ہے۔ حجاز میں کعبہ کے گرد انصرام کا مقصد کوئی مورت یا بت کھڑے کرنا نہیں تھا۔ جس طرح عبرانی تورات میں واضح کہا گیا ہے کہ قربان گاہ کے بارہ پتھر نا تراشیدہ تھے۔ یعنی، ان پر انسانی ہاتھوں سے معماری یا مجسمہ سازی نہیں کی گئی تھی۔ اسی طرح مکہ کے جو کلدیوتا تھے وہ بھی زیادہ سے زیادہ ایک پراسرار طاقت کے نمائندہ کہلائے جا سکتے ہیں۔ ان میں بھی، کم از کم انسانی ہاتھوں سے تراشی ہوئی کوئی مورت شامل نہیں تھی۔ اگر کسی پتھر پر ایسی کسی شبیہ یا نشانی کا گماں ہوتا بھی تھا تو اس میں انسانی عمل دخل کار فرما نہیں ہوتا تھا۔ بلکہ یہ قدرتی طور پر گڑھے ہوئے نشان تھے۔ جیسے ان میں تیز ہواؤں سے کٹ جانے والے پتھر، وقت اور موسم کے باعث چھر جانے والے ریتلے پتھر، آتش فشاؤں سے برآمد ہونے والے چھریرے مگر قیمتی پتھر، ملائم اور قدرتی تراشیدہ معدنی فلسپار یا آسمان سے گرتے ہوئے رگڑ کھا کر گول ہو جانے والے شہابیوں کے ٹکڑے وغیرہ شامل تھے۔ ان اوتاروں میں چھوٹے اور بڑے ہر طرح کے پتھر شامل تھے۔ مثال کے طور پر فٹ بال جتنا سیاہ پتھر اگر کعبہ کی ایک طرف تو وہیں درمیانے درجے کے گول مٹول، 'خدا کی بیٹیوں' کے نام سے تین ایک جیسے منات، لات اور عزا دوسرے اور نسبتاً چپٹا اور قد آدم سے اونچا ہبل کا پتھر ، کعبہ کے تیسرے کونے پر نصب تھا۔ شاید ناپ، شکل یا چمک دمک کی وجہ سے یہ خاصے پر اسرار نظر آتے تھے۔ اس قدر کہ عین ممکن ہے ،آج جدید دور کا کوئی منکر سے منکر اور سیکولر شخص بھی ان میں روحانیت تلاش لاتا، ان میں اسرار دیکھ پاتا اور نسبت جوڑنے کی کوشش کرتا۔ ان پتھروں کو اپنے گھر کی زینت بنانے، اپنانے کی تدبیریں سوچنے لگتا۔
پس، ان پتھروں سے لوگوں کی عقیدت بھی بہتیری تھی۔ وہ ان کے گرد ہار اور مالائیں سجاتے، منتیں نچھاور کرتے اور بھینٹ چڑھاتے مگر کوئی ان کے سامنے جھکتا یا ان کے حضور دعا نہیں مانگتا تھا۔ ان کے نزدیک پتھروں کی اپنی کوئی طاقت نہیں تھی بلکہ یہ اس عظیم طاقت کی نمائندگی کرتے تھے جس نے یہ پتھر تخلیق کیے تھے۔ یہ قوت، ذات جو کعبہ کے اندر بستی ہے۔ جس کا گھر ، یہ حرم ہے۔ لوگ اللہ کو دیکھ نہیں دیکھ سکتے تھے مگر ان پتھروں کو ضرور تاڑ، چھو سکتے تھے۔ کعبہ اور یہ پتھر خدا کی موجودگی کا مظہر تھے، ایک انسان کی جبلت کو تسکین دینے کے اہل تھے۔ وہ خدا سے ان کے ذریعے مخاطب ہو سکتے تھے، خدا کی ذات کو محسوس کر سکتے تھے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ہر شخص کے لیے خدا سے خالصتاً ذاتی تعلق رکھنے کی سہولت جیسا تھا۔ یہ پتھر ہر آدمی کے لیے انفرادی طور پر اس پوشیدہ، پراسرار اور عظیم قوت کی نمائندگی کے قابل تھے جس نے یہ سارا جہان بچھا رکھا ہے۔
کعبہ کے اندر کا حال بھی باہر کی طرح خاصا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔ اوائل تاریخ اسلام کے چند مورخین کا اصرار ہے کہ کعبہ کے اندر صرف اس مینڈھے کے سینگ آویزاں تھے جس نے قربان گاہ میں ابراہیم کی چھری تلے اسماعیل کی جگہ لے لی تھی۔ اسی طرح کئی یہ روایت کرتے ہیں کہ کعبے کے اندر صرف ایک، خالص سونے سے بنی فاختہ کی مورت سجا رکھی تھی ۔ وہیں کچھ یہ بھی کہتے ہیں کہ کعبے کے اندر بتوں کی بہتات تھی ۔ بتوں کی یہ تعداد عرب قبائل جتنی تھی، یعنی کعبہ میں ہر قبیلے کی نمائندگی موجود تھی۔ بتوں کے علاوہ، عیسائیوں کی نمائندہ عیسیٰ اور مریم کی تشبیہات بھی آویزاں تھیں۔ پھر قیمتی جواہرات کے ذخیرے، قدیم تلواروں کی بٹورن اور انتہائی قدیم مسودات کی موجودگی کی بھی روایت ملتی ہے۔ ان تمام حوالہ جات میں راویوں نے حلف اٹھایا ہے کہ ایسا انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا یا پھر کسی ایسے شخص کی گواہی دی جو ان کے انتہائی قریب تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے ہر روایت دوسری کی نفی کرتی ہے۔ بہرحال، ان تمام روایت سے سوا یہ بھی ممکن ہے کہ جیسے یروشلم کے قدیم یہودی مندروں میں ہوا کرتا تھا، کعبہ بھی اندر سے خالی ہو۔ یعنی، اللہ کی ذات کی جس طور تعریف بیان کی جاتی ہے تو اس لحاظ سے کسی بھی دنیاوی، مادی شے کے اندر اس کے تصور کا سمانا ممکن نہیں ہے۔ یوں، کعبے کے اندر اس خالی پن سے ایک برتر اسرار کا اظہار ہو سکتا تھا جو شاید خزانے کے ڈھیر ،بتوں کی بہتات، تشبیہات یا تحریری و بصری مسودات سے ممکن نہیں تھا۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نویں صدی عیسوی کے مورخین، جو نسبتاً جدید دور سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کی بسر دمشق اور بغداد (بغداد شہر چھٹی صدی عیسوی میں قائم بھی نہیں ہوا تھا) جیسے علم پسند اور اس دور کے حساب سے جدید شہروں میں رہا کرتی تھی۔ اسی طرح یہ اپنے دور میں مغز اور معلم بھی مشہور تھے ۔ اس سب کے باوجود، آخر وہ زمینی حقائق کو یکسر فراموش کر کے اسلام سے قبل مکہ شہر میں بت پرستی کا پرچار کیوں کرتے تھے؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے قران میں 'جہلاء' کی اصطلاح سے ایک مخصوص تصور اخذ کر لیا تھا۔ عربی میں'جہلاء' کے کئی مطلب جیسے 'بت پرستی'، 'بربریت'، 'تاریکی' یا 'بے علمی یا جہالت' وغیرہ نکلتے ہیں۔ ان محققین نے تمام معنوں کو یکجا کر کے کفر یا الحاد کے تصور میں مجتمع کر دیا۔ یوں، جہلاء یا کفار سے مراد انسانوں میں ایک ایسی بے خدا اوربے توقیر مخلوق کی لی جانے لگی جو کسی بھی مقدس و معبد قوت، ذات سے منکر یعنی، 'انحراف' پر مائل تھی۔
لیکن مکہ میں کفر بے دین نہیں تھا۔ اس کے برعکس، یہاں خدا کے مضبوط تصور اور اسی خدا کے اوتاروں کی بہتات تھی۔ یعنی، شرک یا کثرت پرستی کا دور دورہ تھا۔ اب مبالغہ آرائی اور تشریحات کے باعث مکہ شہر کی ایک ایسی شبیہ بن گئی ہے جس میں اخلاقیات اور اقدار کا کوئی تصور نہیں، یعنی سمجھا گیا کہ یہاں کلی انتشار، بد انتظامی، قبائلی جنگ و جدل، بربریت اور عیاشی، الغرض ہر طرح کی قباحت عام تھی۔ اسی بات کو بنیاد بنا کر کہا جانے لگا کہ اس معاشرے میں ساری کجی کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک خدا اور اخلاقیات کے تصور کا پنپنا لازم، نا گزیر ہو چکا تھا۔ مگر، اس طرح تو مذہب اسلام کا معاملہ ایک تاریخی حقیقت کی بجائے ایک سیاسی اصلاح بن کر رہ جاتا ہے۔ یہاں ایک اور مثال بھی ملاحظہ ہو۔ قدیم دور کے تقریباً اہم مفکر ملحد، کافر یا لا مذہب رہے ہیں۔ وہ کفر یا الحاد کی طرف جھکاؤ رکھتے تھے مگر اس کے باوجود روح سے عاری تھے اور نہ ہی تقدیس کی حس سے خالی ہوا کرتے تھے۔ بلکہ مشہور معروف یونانی فلسفی تو آخری حربے کے طور پر بھی خود کو کافر یا منکر کے طور پر متعارف کروانے سے بوجوہ باز رہتے تھے۔ جیسے آج، تب بھی کفر کی اصطلاح سخت انحراف یا انتہائی تخفیف کے معنوں میں ہی استعمال ہوا کرتی تھی۔
اسلامی تواریخ میں مکہ کی جو قبل از اسلام تصویر پیش کی جاتی ہے وہ اقوام اسرائیل کی اس حالت سے مشابہت رکھتی ہے جو عبرانی پیغامبروں کی آمد سے قبل، یعنی ایک خدا کے تصور سے پہلے کی ہے۔ یسعیاہ، یرمیاہ اور ئجیکیل نامی عبرانی پیغامبروں نے استعارہ کے طور پر یروشلم میں جاری اور اقوام اسرائیل کے بارے 'فاحشہ کھیل' کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ مراد قدیم اسرائیلیوں کے یہاں جسم فروشی نہیں بلکہ روحوں کی سوداگری سے تھی اور وہ جانتے تھے کہ بد کاری کی اس اصطلاح سے ان کا کیا مطلب تھا اور وہ اس سے کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ جیسے تب، آج بھی جنسیت بکتی ہے۔ 'فحاشی' یا 'بد کاری' کی اصطلاح آج بھی اشارتاً استعمال کریں تو لوگ فوراً متوجہ ہو جاتے ہیں۔ تا ہم، جلد یا بہ دیر یہ اشارہ اور اصطلاحات لفظ بہ لفظ، حقیقی معنوں میں ڈھل جاتی ہیں۔ یہ لغوی معنوں میں سمجھی جانے لگتی ہیں۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ اوائل اسلامی مورخین نے، قدیم عبرانی پیغامبروں کی مانند خود کو ویسا ہی مستشرق یا ماہرین مشرقی علوم ثابت کیا ہے جس طرح کے انیسویں صدی کے مستشرق محققین اور مصنفین کی ایڈورڈ سیڈ نے اپنی کلاسیکی تنقید کی کتاب 'استشراق' میں علمی چیر پھاڑ کر رکھی ہے۔ استشراق یا مشرقی علوم کی ابتدا بھی مشرق وسطیٰ سے ہوئی تھی۔ یہ یورپی شہنشاہیت سے بھی خاصے پہلے کی بات ہے۔ ان علوم کی داغ بیل اور پروان کا ایک ہی مقصد تھا ، یعنی ان علوم کی مدد سے مشرق کی علمی و عقلی گھمنڈ کا پرچار کیا جا سکتا تھا۔ آٹھویں اور نویں صدی عیسوی کے یہ شہری محققین اسلامی سلطنت کی علم، تحقیق اور تمدن میں کار نامہ ہائے تمام اور متاثر کن کامیابیوں میں سے عجب رنگ کا فخر کشید کرتے نظر آتے ہیں۔ کئی کارنامے، مثال یروشلم کی قبتہ الصخرہ کی معماری سے لے کر علمی قابلیت جیسے جدید سائنس اور علم الادویات کی بنیاد اور اس طرح کئی دوسری کامیابیوں بارے استشراقی کتب اور حوالہ جات میں بے انتہا فخریہ اور گھمنڈی انداز مل جاتا ہے۔ یہ محققین صاف طور پر مشرق کی قدیم ترین معتبر اساس اور سادگی پسند تہذیبی نفاست جو کے برعکس، رقم تاریخ کی اسلام سے قبل تاریکی و جہالت اور بعد میں روشن خیالی اور آگہی کا نقشہ کھینچتے نظر آتے ہیں۔ یہ طریق خود ان محققین کی اپنی علمی و عقلی قابلیت، روایات، تہذیب اور تمدن سے میل نہیں کھاتا۔ کم و بیش یہی معاملہ آج مغرب کے ساتھ بھی در پیش ہے۔ جیسے تب، آج مغرب میں بھی اسی خیال کو تقویت دی جاتی ہے کہ مغربی اور ان کے ہم عصر تہذیب یافتگی کی چوٹی پر براجمان ہیں۔ وہ خود کو جہالت کے دور سے طویل علمی اور تحقیقی سفر کے بعد یہاں تک پہنچنے والی نفیس خلف سمجھ کر فخر محسوس کرتے ہیں۔ جس طرح یہ قباحت آج مغرب میں عام ہے، بالکل ویسے ہی اس دور میں بھی یہ استشراقی محققین ماضی کو خود اپنی کامیابی کے عدسے تلے دیکھنے سے باز نہیں رکھ سکے ۔ جیسے تب، ویسے ہی آج بھی اس عمل میں تاریخ کا چہرہ مسخ ہو کر رہ گیا ہے۔ اس بگاڑ کی سادہ مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کوئی ماضی کے خلا میں جھانکنے کے لیے ٹیلی سکوپ کی الٹی طرف بیٹھ کر مشاہدہ کر رہا ہو۔
یوں ان مورخین نے ایک قرانی حوالے، جس میں کعبہ میں رائج رواج کو لے کر 'کراہت' کا اظہار کیا گیا تھا، سے مراد عریانی یا برہنگی لے لی۔ یہ مغالطہ مقبول عام بھی ہو گیا کہ جاہل کفار یا اجڈ ملحدین سے اسی قماش، قبیح حرکات متوقع تھیں۔ یہ بعینہ عبرانی پیغامبروں کی استعمال کردہ اصطلاحات کے حشر جیسا معاملہ ہے۔ یعنی پڑھنے والے 'فاحشہ کھیل' یا 'فحاشی' کے لغوی معنوں میں پھنس کر رہ گئے مگر اس کے پیچھے کارفرما پیغام کو یکسر فراموش کر دیا۔ بے شک کعبہ کا طواف اور حج کی غرض سے آئے زائرین اپنے روزمرہ کے کپڑے تقدیس میں اتار دیا کرتے تھے ۔مگر وہ انہیں بدل کر، روزمرہ کپڑوں کی بجائے جسم کو چھوٹے چرخے پر کاتے ململ کے کپڑے کی دو چادروں میں لپیٹ لیا کرتے تھے۔ اسی طرح کا لباس آج بھی حج اور عمرہ کے موقع پر زیب تن کیا جاتا ہے اور اسے احرام کہتے ہیں۔ عام روزمرہ کے کپڑے، جن کو پہن کر جسم میں ہاتھ اور پاؤں کے سوا سب ڈھکا رہتا ہے۔ یہ مختصر ،سادہ لباس برہنگی اور عریانی کے زمرے میں گنا جانے لگا۔ جیسے تب، آج بھی احرام پہن کر زائرین خدا کے حضور دانستہ بے دست و پائی کا اظہار کرتے ہیں۔ یعنی اس طرح نہ صرف سادگی اور عاجزی کا اظہار ہو رہتا بلکہ ساتھ ہی ساتھ یک رنگی احرام رتبے اور قبائلی تفریق کو بھی ختم کر دیتا تھا۔ مقدس ترین ذات کی موجودگی میں تمام زائرین برابر اور بلا تفریق، حاضر شمار ہوتے ۔ خدا کی نظر میں تمام انسان ، شہر مکہ میں چند لوگوں کے سوا برابر تھے۔ یہ لوگ حرم کے والی تو تھے مگر ساتھ، چرخوں پر کاتے ململی لباس کا کاروبار بھی کرتے تھے۔ یہ شہر مکہ کے قبیلہ قریش کے لوگ تھے۔
یہ کوئی انوکھی بات نہیں ہے کہ مذہب بیچ کر بے تحاشہ دولت کمائی جا سکتی ہے۔ چھٹی صدی عیسوی کے قریش اس بات کو اتنی ہی اچھی طرح سمجھتے تھے جتنا کہ آج جدید دور کے ناشر اور مبلغ اپنے کاروبار سے جڑے نفع کو جانتے ہیں۔ جیسے آج وال سٹریٹ مارکیٹ کے کرتا دھرتا مشہور ہیں، تب مکہ کی اشرافیہ بھی شہر کو ایک لحاظ سے امر شاہی کے انداز میں چلایا کرتے تھے۔ یہاں بھی دولت، اختیار اور طاقت چند امراء کے ہاتھ میں بندتھی۔ اس شہر میں چاہے کسی بھی قسم کی، کوئی بھی رسائی درکار ہوتی، اس کی راہ میں یہ اشرافیہ حائل تھی ۔ اس دسترس پر یہ لگان، محنتانہ وصول کرتے تھے۔
مذہب کے اس وسیع کاروبار میں حج کا خصوصی لباس، یعنی احرام صرف ایک جز تھا۔ ورنہ زائرین کو مکہ میں پانی اور خوارک کے حصول، جانوروں (جیسے اونٹ، گھوڑوں اور گدھوں) کے لیے چارے وغیرہ کے لیے بھی اچھا خاصا بھاری معاوضہ ادا کرنا پڑتا تھا۔ اسی طرح تقریباً ہر معاملے کی باقاعدہ ترتیب تھی۔ مکہ میں قریش رہنما اس بات کا فیصلہ کرتے کہ کون سا کنبہ کیا کاروبار کرے گا اور یوں اس کاروبار پر نامزد کنبے کی اجارہ داری قائم رکھی جاتی (محمد صلعم کے کنبے بنی ہاشم کا کاروبار پانی کا تھا، عبد المطلب زمزم چشمے کے مالک تھے)۔ حج سے متعلق ہر جز کو تجارت کے زمرے میں شمار کیے، اس میں کمائی جا سکنے والی آخری کوڑی تک کا تعین کیا جاتا تھا۔ مثلاً، خیموں کی نوعیت اور جگہ، کعبہ کے احاطے میں داخلہ، ہبل کے سامنے نیزے گرانے کی تحویل داری، قربانی کے جانوروں کے گلے پر چھری چلانے ، گوشت کو برابر تقسیم کرنے وغیرہ اور ان کے علاوہ دسیوں دوسرے معاملات پر بھاری محنتانہ اور فیس لاگو تھی۔ ان سب معاملات سے حاصل ہونے والا سارا منافع قریش وصول کرتے تھے۔ قصہ مختصر، قریش مذہب اور عقیدے کا کاروبار کیا کرتے تھے اور خود ان کا واحد ایمان، یہ کاروبار تھا۔
ایک ایسا لڑکا جو بدو زندگی کی اساس یعنی مساوات انسانی کے گاڑھے رنگ میں رنگا ہوا تھا، اس کے لیے یہ سب ایک دھچکے سے کم نہیں تھا۔ اس کے اپنے خاندان کے لوگ عقیدے کے گھناؤنے کاروبار میں برابر کے شریک تھے۔ جس مقدس عقیدے کا وہ پرچار کیا کرتے تھے، یہ اس توحیدی سوچ کی بنیادی اصولوں کے سراسر خلاف بھی تھا۔ چونکہ یہ کم سن لڑکا اس کاروبار کا صرف ایک تماشائی تھا ،بے شک وہ اس سے جڑی سماجی نا انصافی کو بھی خاصا صاف دیکھ سکتا تھا۔ آج جس طرح افریقہ اور ایشیاء کے تقریباً شہری علاقے، مقامی دیہی آبادیوں کے لیے امید اور نا امیدی دونوں کا موجب ہیں، مکہ بھی دور دراز پسماندہ علاقائی باشندوں کے لیے پر کشش ذرائع معاش اور ترقی کی نوید تو تھا مگر یہی شہر ان خستہ حال طبقات کی شہری علاقوں میں انتہائی غربت کی چکی میں پس رہنے کی وجہ بھی بن چکا تھا۔ مکہ کی معاشی کامیابی کا انحصار شہر میں ہمیشہ سے بڑھتی ہوئی پسماندہ طبقے کی آبادی پر بھی تھا۔ بہتر زندگی اور ذرائع معاش کی تلاش میں مکہ پہنچنے والے یہ پسماندہ لوگ غربت کی دلدل میں گہرے سے گہرے دھنستے جا تے تھے۔
محمد صلعم دولت مند اشرافیہ کی طرح اس سارے روح فرسا حالات سے آنکھیں نہیں چرا سکتے تھے۔ وہ اپنے شہر میں اپاہجوں، معذروں، یتیموں اور مسکینوں کو گداگر بنتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ان کے سامنے صحرا کے خود پسند اور آزاد منش خانہ بدوش لوگ حالات زندگی سے مجبور ہو کر خود کو دولت مندوں کے ہاتھ بیچ ڈالتے۔ یوں وہ صرف نوکر نہیں بلکہ عمر بھر کے لیے غلامی کا طوق پہن لیتے تھے۔ محمد صلعم جب بھی کعبہ کے احاطے میں موجود ہوتے تو ان کا دھیان قاصدوں اور نامہ بروں کی طرف رہتا۔ یہاں انہوں نے سیکھا کہ معاملات ریاست کیونکر چلائے جاتے ہیں۔ وہ دیکھتے کہ کس طرح طاقتور ہمیشہ آگے اور کمزور اس کے پیچھے چلتا ہے۔ امراء کے چہروں پر طمانیت صاف نظر آتی۔ یہی نہیں، یہ دولت مند امارت کو راست بازی کی نشانی بھی سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک یہ امر شاہی اور مال و دولت گویا خود خدا کی عطا کی دین ہے۔ آپ صلعم حکام اور ثالثوں کو جائیداد اور استحقاق کے فیصلے کرتے ہوئے غور سے سنتے۔ بدو قبائل میں جائیداد انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی ملکیت ہوا کرتی تھی۔ بدوؤں کے برعکس شہریوں کے معاملات خاصے پیچیدہ تھے۔ وہ ثالثوں کی قابلیت کو خاصا سراہتے کہ یہ کمال مہارت سے دو افراد، قبائل وغیرہ کے بیچ انفرادی معاملات کو چٹکیوں میں حل کروا دیتے۔ وہ بھی یوں کہ دونوں ہی فریق مطمئن اور راضی رخصت ہوتے۔ وہ لوگوں کو حلف اٹھاتے، مابین تجارت، آپسی معاہدے ، معقول قیمتوں اور اس طرح کئی دوسرے معاملات کو طے پاتا ہوا دیکھتے رہتے۔ وہ یہ بھی دیکھتے کہ بھلے کوئی بھی معاملہ ہو، چاہے اس کی نوعیت انتہائی کیوں نہ ہو، یہاں ایک خدا کے نام پر با آسانی طے پا جاتا تھا اور لوگ کعبہ کے احاطے میں، اس مقدس جگہ کے احترام میں کوئی چوں چراں کیے بغیر بڑے سے بڑا سمجھوتہ بھی کر لیتے تھے۔
گو مکہ شہر کے اندر اور بالخصوص کعبہ کے احاطے میں ہو رہے اس سب کی وجہ سے وہ یقینی طور پر سمجھ سکتے تھے کہ یہاں عقیدہ اور کاروبار خاصا گڈ مڈ ہو کر رہ گیا ہے مگر پھر بھی شہر مکہ میں مواقع آتے کہ یہ نسبتاً بھلا طریقہ معلوم ہوتا۔ ایسی جگہیں تھیں کہ جہاں عقیدہ اور کاروبار ایک ساتھ بکتا تھا مگر وہاں معاملات الگ رکھے جاتے۔ گویا، ان موقعوں پر خالص کاروباری رنگ نظر آیا کرتا تھا۔ مثلاً، مکہ شہر سے باہر عکاظ کے مقام پر ہر سال میلے کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔ یہ میلہ حج کے دنوں میں، حج کی عبادت کے متوازی منعقد کیا جاتا تھا۔ شہر کے اندر ، بالخصوص کعبہ کے احاطے میں جس طرح تجارتی و سماجی معاملات سکون اور مذہب کی لیپ سے طے پایا کرتے تھے، اس کے برعکس یہ خاصہ تند و تیز اور ہنگامہ خیز موقع ہوا کرتا ۔ حج کے دنوں میں مکہ زائرین کی منزل تو تھا ہی، وہیں عمومی حالات کے برعکس یہ صرف تجارتی مرکز نہیں بلکہ باقاعدہ تجارتی منزل بھی بن جاتا تھا۔ قریش یہاں بھی ،اس حقیقت کا بھر پور فائدہ اٹھایا کرتے تھے۔ عکاظ کے مقام پر منعقد ہونے والے تجارتی میلے میں عارضی عیش و عشرت کا سامان، بازار، تجارتی مراکز، دکانچے، اصطبل، خیمے اور کئی دوسری منڈیاں کھجور کے درختوں تلے ، سائے میں قائم کی جاتیں۔ یہاں ہر چیز بکنے کے لیے تھی اور ہر طے پانے والے سودے پر قوی کھجور کی شراب اور گھوڑی کے دودھ کے خمیر سے بنے مشروب کیومس سے تواضع کی جاتی اور قریش، ہر سودے پر طے شدہ فیس وصول کرنا نہیں بھولتے تھے۔
دکانچوں پر کئی طرح کے عرق، مرہم، ضعیف اونٹوں کے جگر کو کئی دوسرے اجزا سے ملا کر یا صرف اس کی کاڑھی، بچھوؤں کے ڈنک اور مکڑی کے جالے جو دھوپ میں سکھانے پر خمیر بن جاتے تھے، چھوٹی بڑی بوتلوں میں متوازن مقدار میں پھپھوندی میں جما کر بیچے جاتے۔ یہاں بیماروں کے لیے شفا بخشنے والی بوٹیاں بھی دستیاب تھیں اور چھپا کر زہر بھی بک رہا ہوتا تھا۔ کالا جادو کرنے والے جادوگر بھی آیا کرتے ۔ یہ جانوروں کے اعضاء ، بالوں اورچرمی کاغذوں پر تعویذ لکھ کر بیچتے تھے۔ اسی طرح عطائیوں سے نایاب جھاڑیاں اور پتے، قیمتی پتھر اور سونے کی دھاتی تاریں بھی مل جاتی تھیں، جن کے مخصوص استعمال سے مردانہ کمزوریوں اور امراض نسوانی کا تشفی علاج ممکن تھا۔ شیاطین سے محفوظ رکھنے اور چاہیں تو دشمنان کو زیر کرنے کے لیے دور دراز سے آئے عاملین کے یہاں ہر طرح کی کرشماتی دھاتیں اور قیمتی پتھر مل جاتے تھے۔ ان میلوں میں ہندوستان سے آئے جوگی اور ملنگ بھی شرکت کیا کرتے تھے ۔ یہ جوگی اور فقیر کوئلوں پر پیدل چلنے کے کرتب دکھاتے اور جوگ، بے خودی بیچتے۔ افریقہ سے سپیرے اپنے ساتھ طرح طرح کے رنگ برنگے سانپ لے کر ہر سال لازمی موجود ہوتے۔ ان کے یہاں ہر طرح کا سانپ اور زہر، سانپ کے دانت اور کینچلیاں تک بک جایا کرتی تھیں۔ پھر مداری بھی ہوتے تھے۔ ان کے پاس ناچنے والے بندر اور لڑ بھڑ کر مر جانے والے اصیل مرغ اور کئی نسلوں کے پرندے دستیاب ہوتے۔ پھر نجومی بھی تھے جو ہتھیلیاں پڑھ کر اور ستاروں کی چالیں دیکھ کر مستقبل کا حال مہنگے داموں بیچتے نظر آتے۔ یہیں، عکاظ کے میلے میں باقاعدگی سے چھٹی صدی عیسوی کے مشہور عرب شاعر، فنکار اور شعبدہ باز بھی کثیر تعداد میں شرکت کرتے ۔ ان کی ہر طرف دھوم رہتی اور مجمع کا زیادہ تر دھیان انہی کی طرف مبذول رہا کرتا تھا۔ کئی مورخین، ان فنکاروں کی مقبولیت کے سبب عکاظ کے میلے کو زیادہ تر صرف ان ہی سے منسوب کرتے آئے ہیں۔ عکاظ کے میلے میں ہر طرح کا رنگ نظر آتا تھا۔ اگر ایک طرف دور دراز علاقوں سے آئے مبلغین تبلیغ کا کام کر رہے ہیں تو دوسری طرف فاحشائیں جسم بیچنے میں مشغول رہتیں۔ ان میلوں میں شامنی بھی شامل ہوا کرتے تھے جو وجد اور بے خودی کے عالم میں غرق رہتے یا اکثر دھول اور مٹی میں لوٹتے روحانی علاج بیچ رہے ہوتے۔ کہیں حکماء چوکس بیٹھے تشخیصی نسخے اور دوسری جانب جادو ٹونا کرنے والے عیاری سے بے کار ٹوٹکے بیچتے پھرتے۔ یہی ٹونے اور ٹوٹکے بیچنے والے بیماروں کے اجسام میں بغیر کوئی جراحی چیرا لگائے، معجزانہ طور پر خون میں لتھڑے بے کار اعضاء نکالنے کا دعویٰ بھی کرتے تھے۔ اس ہجوم میں اکثر، الہامی پیشن گو اور پیغامبری کے دعویداروں سے بھی سامنا ہو جاتا تھا۔
عکاظ کے میلے میں یہ دعویدار تو مل جاتے تھے مگر پھر کیا؟ دنیا میں تو پہلے ہی بہت سے پیغامبر تھے۔ محمد صلعم نے ان پیغامبروں کے قصے مدینہ کے نخلستان اور خیبر سے آئے یہودیوں سے سن رکھے تھے۔ اسی طرح یمن اور نجران سے شرکت کرنے والے عیسائی تاجران اور کلیسا کے مشن کار بھی پیغامبروں کی داستانیں بیان کرتے تھے۔ ان یہودیوں اور عیسا ئیوں کو اہل کتاب کہا جاتا تھا۔ یعنی، ان میں سے ہر ایک فریق کے پاس ایسی الہامی کتاب تھی جو انہیں امتیازی حیثیت بخشتی تھی۔ یہ عربوں کی زبانی کلامی، سینہ بہ سینہ یاد رکھی جانے والی گھڑی ہوئی شاعری اور داستانیں نہیں تھیں بلکہ چرمی کاغذ پر باقاعدہ تحریر کی ہوئی الہامی کتابیں تھیں۔ یوں، ان کتابوں کا اس کم سن لڑکے پر خاصا گہرا اثر ہوا کرتا جو خود پڑھ اور نہ ہی لکھ سکتا تھا۔ وہ دیکھ سکتا تھا کہ اہل کتاب کے ہاتھ میں خدا کا ان سے، یا کہو ان کے پیغامبروں کی وساطت سے خود ہم کلام ہونے کا جیتا جاگتا مادی ثبوت موجود تھا۔ مگر، ان کتابوں میں ایک ہی خدا کی طرف سے نازل کردہ الہامی پیغامات میں اچھا خاصا تضاد پایا جاتا تھا یا پھر یہ سوال اس کم عمر لڑکے کو پریشان کرتا کہ آخر ایک ہی خدا کے پیغامبر کی قوم دوسرے کی نفی کیسے کر سکتی ہے؟ اہل کتاب کو تو چھوڑو، یہ کیونکر تھا کہ عرب میں ہر قبیلہ کعبہ میں نصب صرف ایک، اپنے خدائی اوتار کو مانتا تھا اور اس کے لیے باقی سارے نشان قابل احترام تو تھے مگر بہرطور بے مقصد اور نا قابل قبول تھے؟ یہ کیسے ممکن تھا کہ ہر طرف کئی سچائیوں کا دور دورہ تھا؟
ایک کم سن لڑکا جس کی دنیا میں خود اپنی سماجی حیثیت غیر یقینی تھی۔ اس کے لیے یہ شور و غل اور ہنگامہ خیز حالات ، واقعات اور خیالات جہاں ایک طرف خاصے پریشان کن رہے ہوں گے، وہیں دوسری طرف وہ اس میں سحر، دلربائی بھی پاتا ہو گا۔ یقیناً محمد صلعم کے دل میں یہیں، پہلی بار وضوح اور صراحت کی خواہش نے انگڑائی لی ہو گی۔ ایسی وحدانی کیفیت نے جنم لیا ہو گا جس میں لوگ بجائے یہ کہ ایک دوسرے سے الگ تھلگ، کٹ کر رہیں۔ انہیں جوڑ کر رکھنے کا مسحور کن خیال آیا ہو گا۔ بہر طور، اگر کسی ایسی خواہش نے جنم لیا بھی ہو تو اس عمر کا لڑکا اس بابت کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔ بالخصوص، جب آمنہ کی فوتیدگی کے صرف دو سال بعد ہی آپ صلعم کے دادا عبد المطلب بھی انتقال کر گئے۔ محمد صلعم کے سرپرست چل بسے ہیں تو بعد اس کے زندگی ایک بار پھر منقسم ہو کر رہ جائے گی۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر