اول المسلمین - یتیم - 5



عبد المطلب کے بعد محمد صلعم کی یتیمی، تاثیر میں تین گنا ہو گئی۔ صرف آٹھ سال کی عمر میں آپ صلعم ایک بار پھر کنبہ بنی ہاشم کے کئی گھرانوں میں بٹ کر رہ گئے ۔ بالآخر، آپ صلعم کی ذمہ داری ابو طالب کے کندھوں پر آن پڑی۔ عبد المطلب کی وفات کے بعد ابو طالب نے بنی ہاشم کے نئے سربراہ کے طور پر ترکے میں پورے کنبے کے اثاثہ جات اور اختیارات تو پا لیے مگر ساتھ اس کے، بھاری بھرکم ذمہ داری بھی ملی ۔ اپنے کنبے کی کفالت اور مفادات کا دفاع ابو طالب کے لیے بطور سربراہ اولین ترجیح ٹھہری۔ ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے یہ فرض ایک غیرت مند اور اصول پرست شخص کی طرح پوری ذمہ داری سے ادا کیا۔ بحیثیت سربراہ اور محمد صلعم کے سرپرست ہونے کے ناطے، آنے والے برسوں میں ابو طالب نہایت اہم کردار ادا کرنے والے تھے۔ یاد رہے، 578ء میں بنی ہاشم کی سربراہی اپنے پیش روؤں کے مقابلے میں آسان نہیں تھی۔ محدود اختیارات، قبیلہ قریش پر کمزور پڑتی ہوئی بنی ہاشم کی گرفت اور سکڑتی جائیداد کے ساتھ ایک بڑے کنبے کی کفالت جیسا مشکل فرض نبھانا، پھر مثال محمد صلعم کی صورت گھر میں ایک اضافی فرد کو جگہ دینے جیسی کوفت سے آخر انہیں کس قدر خوشی ہوئی ہو گی؟ محمد صلعم کے نام پر بھی تو کوئی وراثت اور شاید ان کا کوئی مستقبل بھی نہیں تھا۔
پہلے پہل محمد صلعم کی حیثیت ابو طالب کے یہاں اضافی فرد کی سی تھی۔ یعنی، وہ اس گھرانے کا لازمی حصہ نہیں تھے۔ آپ صلعم کو یہاں بسر رکھنے اور وجود کو منوانے کے لیے اچھی خاصی مشقت اٹھانی پڑی۔ گو روایات میں مشہور یہی ہے کہ چچا نے اول دن سے ہی بھتیجے کی خصوصی کفالت کا انتظام کر رکھا تھا۔ مگر اس کے برعکس، تاریخ میں واضح بیان ہے کہ محمد صلعم کو کم عمری میں ہی اونٹوں کو سنبھالنے جیسے دشوار کام پر لگا دیا گیا تھا ۔ اس طرح صرف دو سال کے قلیل عرصے میں آپ صلعم مکہ کے تجارتی قافلوں کے ساتھ باقاعدہ ایک مزدور کی حیثیت سے اونٹوں کی رکھوالی کا انتہائی سخت کام سر انجام دے رہے تھے۔
بدوؤں کے یہاں گزارے کئی سالوں کا انہیں اس مرحلے پر بھر پور فائدہ ہوا۔ چونکہ اونٹ ایک کینہ پرور اور بگڑا ہوا جانور مشہور ہے۔ اسی لیے، اس کو نکیل ڈال کر رکھنا اور سنبھالنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ محمد صلعم اس گر میں طاق تھے۔ اونٹ سنبھالنے میں مہارت جیسے، منہ سے مخصوص آوازیں نکالنا، نکیل میں ڈالے چھلے پر رسی کو درست طریقے سے کھینچنا، اونٹ کی پسلیوں اور کولہوں کے بیچ اس طرح ہاتھ سے دباؤ ڈالنا کہ یہ خود بخود اگلی ٹانگوں پر جھک جائے یا لد کر پیچھے کی طرف بوجھ ڈال کر سیدھا کھڑا ہو رہے وغیرہ، آپ صلعم کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔ دوسرے لوگ جو اونٹ سنبھالنے میں مشاق نہیں تھے، وہ جانور پر چیختے، رسیوں کو بے دردی سے کھینچتے اور غصہ دکھاتے جس سے اونٹ مزید بگڑ جاتا اور یوں سنبھالنا مشکل ہو جاتا۔ ایسے جانور کو ہتھیانا بھی ایک سلیقہ ہے ۔ یہ کم عمر لڑکا جو اس اسلوب میں بھی ماہر تھا مگر اس بابت، آپ صلعم پر کبھی کسی کی نظر نہیں ٹھہری۔ وجہ یہ تھی کہ محمد صلعم کو کبھی جانور کے سامنے زمین پر غصے سے پاؤں پٹختے یا کچوکے لگاتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ انہیں کبھی اونچی آواز میں چیخنے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ بلکہ، وہ اونٹوں کو سدھارنے، اپنی مرضی پر چلائے رکھنے کے لیے منہ سے جو آوازیں بھی نکالتے تو وہ بھی اس قدر باریک اور خرخری سیٹی جیسی ہوا کرتیں کہ ان پر شور کی بجائے سانس چلنے کا گماں ہوتا۔
سب سے پہلے محمد صلعم نے صرف دودھ دینے والے اونٹوں کی نسل کو سنبھالنے اور نسل کشی وغیرہ کا تجربہ حاصل کیا۔ اونٹنیوں کی دیکھ بھال نسبتاً آسان کام تصور کیا جاتا تھا۔ جب ایک بار اس ہنر میں طاق ہو گئے، تب ہی انہیں تجارتی قافلوں میں مال برداری کے لیے استعمال ہونے والے مضبوط، خصی اونٹوں کو سنبھالنے کی اجازت دی گئی۔ مال برداری کے لیے مشہور یہ ایک کوہان والے ڈرومڈری اونٹ خطہ حجاز میں تیسری صدی عیسوی میں، ایتھوپیا سے لائے گئے تھے جو یہاں کے شدید موسم اور انتہائی سخت مشقت کے بیگار میں خاصے کار آمد ثابت ہوئے تھے۔ یہ اونٹ نہ صرف موسم کے مطابق جسم کے درجہ حرارت کو متوازن رکھ سکتے تھے بلکہ خون کے سرخ خلیوں میں ضرورت سے کہیں زیادہ پانی ذخیرہ رکھنے کے بھی اہل تھے۔ پھر، ان کوہان میں عام اونٹ کی نسبت کہیں زیادہ چربی جمع ہو سکتی تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قدیم افسانوی داستانیں، جن میں صحرا کی گرمی سے جھلسے، پیاسے، تاجر یا جنگجو مسافروں کی بابت مشہور ہے کہ وہ اونٹ کے کوہان میں چھرا گھونپ کر اسے کھول دیتے اور پھراس میں سے غٹا غٹ پانی پیتے، صریحاً مغالطہ ہے۔ یہ قصے سننے میں تو دلچسپ ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اونٹ کے کوہان میں پانی کی بجائے صرف چربی جمع ہوتی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ لچک دار سرخ خلیوں میں زیادہ پانی کی مقدار کے باعث یہ اونٹ پانی پیے بغیر اور کوہان میں جمع شدہ چربی کو گلا کر بھوکے بھاک، کئی دن تک صحرا میں سفر کی مشقت اٹھانے کے قابل تھے ۔ انہی اونٹوں کی بدولت، تجارتی قافلوں کو دور دراز کنوؤں یا چشموں کے بیچ بوجھ لاد کر سفر کرنے میں قطعاً مشکل پیش نہیں آتی تھی۔ وقت کے ساتھ اونٹوں کی یہ نسل اب حجاز میں انتہائی گرم صحرا کے مزاج کے عین مطابق ڈھل چکی تھی مگر دوسری جانب انسان ابھی تک اس مشقت کے قابل نہیں ہو پائے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اکثر تجارتی قافلوں کے مسافر، بشمول آپ صلعم کے والد زندہ گھر واپس نہیں پہنچ پاتے تھے۔ اس بات کا اندازہ کہ حجاز عرب میں تجارت کے لیے لوگ کس قدر خطرہ مول لیتے تھے، یوں لگایا جا سکتا ہے کہ قریش قبیلے کی محمد صلعم کے زمانے تک چار نسلوں کے سربراہان میں سے صرف ایک نے مکہ شہر کی حدود کے اندر طبعی موت پائی تھی۔ باقی کے تین سربراہان، جن میں محمد صلعم کے کنبہ بنی ہاشم کے آباء ہاشم بھی شامل تھے، گھر سے دور غزہ، عراق اور یمن جیسے دور دراز علاقوں میں وفات پا چکے تھے۔
اس تجارتی سفر میں بیماریوں اور حادثات کے علاوہ بھی کئی دوسرے خطرات درپیش رہتے تھے۔ باغی اور ڈاکو ( جو اکثر عرب بدو ہوا کرتے تھے) ہمیشہ درد سر بنے رہتے ۔ اسی طرح موسم اور جغرافیہ، جیسے صحرا میں شدید گرمی ، جلد کو جھلسا دینے والی تیز اور روشن دھوپ، سخت رہگزریں اور ریت کے طوفانوں جیسی کئی دوسری مشکلات بھی راہ میں حائل تھیں۔ الغرض، تجارتی قافلوں کا سفر بچوں کا کھیل نہیں تھا۔ اچھی خاصی مہارت، مضبوط اعصاب اور نکیلے حواس درکار ہوا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں، صحرا میں ڈرومڈری اونٹوں کے سوا دوسری کسی بھی نسل کے اونٹ کار آمد نہیں تھے اور ان سانڈنیوں پر اچھا خاصا خرچ اٹھتا تھا، اسی لیے سفر کے دوران صرف بھاری بھرکم سامان لادا جاتا تھا یا صرف اور صرف دولت مند تاجروں کو ان پر سوار رہنے کی اجازت ہوتی۔ وہ جو دیکھ بھال اور بدوؤں کی طرح پر مشقت مزدوری کرنے والے، جیسے محمد صلعم خود تھے ، انہیں تمام سفر اونٹوں کی مہار تھامے پیدل ہی طے کرنا پڑتا تھا۔ صرف یہی نہیں ،بلکہ دن بھر پیدل سفر کی مشقت کے بعد جب شام میں پڑاؤ ڈالتے تو ان کی مصیبت کم نہیں ہوتی تھی۔ سب سے پہلے تو اونٹوں پر لدا سامان اتار کر سنبھالنا پڑتا۔ پھر اونٹوں کو چارہ کھلانے کا مرحلہ آ جاتا اور بعد اس کے بقایا دیکھ بال جیسے اونٹوں کی مالش، ان کے پیروں کو نرم رکھنے کی خاطر گرم تیل اور مرہم ڈال کر، لنگراہٹ کا علاج وغیرہ کرنے میں جٹا رہنا پڑتا ۔ سازگار حالات میں یہ تجارتی قافلے عام طور پر ایک دن میں تیس میل کا سفر طے کر لیتے تھے۔ دوسری صورت، یعنی ناگوار موسم اور اوپر بیان کردہ کئی وجوہات کے باعث صرف بیس میل دور تک ہی جا پاتے۔ سفر کے دوران بھی ان کا کام صرف مہار تھام کر آگے چلتے رہنا نہیں تھا بلکہ انہیں راستے بھر میں اونٹ کا فضلہ اٹھا کر سنبھالنا پڑتا اور پھر اس گوبر کے تھاپ بنا کر اس قدر سکھا لیے جاتے کہ بو جاتی رہتی ۔ یہی خشک تھاپے شام پڑتے ہی آگ جلانے کے لیے ایندھن کے طور پر استعمال کیے جاتے۔ دوسرے کئی گھریلو کام جیسے، مالکان کے لیے کنویں یا چشمے سے پانی نکال کر لانا یاب پھر اگر چشمہ وغیرہ نہ ہوتا تو اونٹوں پر لدے مشکیزوں سے پانی نکال کر مناسب انتظام کرنا بھی انہی مزدوروں کے ذمے تھا۔ علاوہ اس کے، ذمہ داریوں میں اونٹوں کے علاوہ تاجروں کی دیکھ بھال بھی شامل تھی۔ یہ بیگار کرنے والے یقینی بناتے کہ قافلے کا امیر اور دوسرے تاجر اچھی طرح سیر ہو کر کھانا کھا لیں اور ان کے حصے میں بچا کھچا کھانا ہی آیا کرتا ۔ رات گئے، جب فارغ ہو چکتے تو پھر بھی، لمبی راتوں کا سامنا ہوتا۔ یعنی شب بھر اپنی باری آنے پرشکاری جانوروں جیسے بھیڑیوں، لگڑ بگڑوں اور صحرائی شیروں سے قافلے کی حفاظت کا کام بھی یہی مزدور سر انجام دیتے۔
انتظامی لحاظ سے اونٹوں کے قافلے بنا کر، اکٹھ کی صورت تجارتی سفر خاصا مشکل تھا مگر اس کے کئی فائدے بھی تھے۔ سب سے بڑا فائدہ حفاظت اور سیکورٹی کا تھا۔ صحرا میں تن تنہا سفر کرنے والا دلیر مسافر یا تاجر جو راہ میں آنے والی مشکلات کا بہادری سے سامنا کرتا ہو، ایک رومانوی بدو داستان یا کسی افسانوی صحرائی قصے کا کردار تو ہو سکتا تھامگر حقیقت میں اس کا درپیش حالات میں جانبر ہو پانا تقریباً نا ممکن تھا۔ تن تنہا، دور دراز علاقوں میں سفر کے شاعرانہ ،ہوائی تصور اور تجارتی قافلوں کی صورت اجتماعی سفر کی زمینی حقیقت کے بیچ زمین اور آسمان کا فرق تھا۔ تجارتی نفع، انتظام اور حفاظت کی سہولت کو نظر میں رکھتے ہوئے عام کلیہ یہ تھا کہ ایک قافلے کا کم از کم بارہ اونٹوں پر مشتمل ہونا لازم تھے ۔ مکہ کے تاجران، سال میں دو دفعہ چھوٹے اور بڑے اس طرح کے کئی قافلے روانہ کیا کرتے تھے۔ مکہ بھر کی تجارتی سرگرمی میں ہر موسم کے دوران روانہ کیے جانے والے قافلوں میں لگ بھگ دو ہزار سدھائے ہوئے اونٹوں کا شمار کم از کم رہتا ہی تھا۔ بہار کے موسم میں یہ قافلے شمال کی جانب شام میں شہر دمشق اور خزاں کے دوران جنوب کی جانب یمن کی طرف رخت سفر باندھا کرتے تھے۔ محمد صلعم کو شمال کی طرف جانے والے قافلوں میں مزدوری کے کام پر لگایا گیا اور انہی میں سے ایک سفر آپ صلعم کے بچپن میں رونما ہونے والے مشہور و معروف، اس واقعے سے تعبیر ہے۔
تجارتی قافلہ دریائے اردن کے مشرق میں واقع قدیم اور مشہور، ' شاہراہ ملوکیت' پر رواں دواں تھا۔ قافلے کے امیر نے پہلے ہی رات کے لیے نزدیک ہی واقع ایک متروک بازنطینی قلعے میں پڑاؤ کا حکم دے دیا تھا۔ اس قلعے میں عیسائی راہبوں کی رہائش تھی۔
شاہراہ ملوکیت کے ارد گرد اس خطے کے طول و عرض میں قائم لا تعداد فوجی قلعے اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔ صحرا میں یہ آثار اب انسانی مکان کی بجائے زمانے کی میراث معلوم ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ جیسے جیسے سیاسی ڈھانچہ تنزلی کا شکار ہوا، ساتھ عمارات بھی کھنڈرات میں تبدیل ہوتی چلی گئیں۔ بازنطینی اور فارسی سلطنتوں کے بیچ گہری چپقلش کا نتیجہ آٹھ سو سالہ طویل جنگ اورگاہے بگاہےچھڑنے والی خونی جھڑپوں کے نتیجے میں برآمد ہوا تھا۔ دونوں سلطنتوں کے بیچ یہ قضیہ سکندر اعظم کے زمانے سے جاری تھا۔ اس طویل رقابت میں اب تک دونوں فریقین کے بے تحاشہ وسائل اور توانائیاں برباد ہو چکی تھیں۔ مشرق میں فارسیوں کا تعمیر کردہ وسیع نظام آب پاشی جودریائے فرات اور دجلہ کے بیچ واقعہ عراق کے میدانوں کو سیراب کرتا تھا، اب تباہی کا شکار تھا۔ اس کا حال بھی ماریب بند جیسا ہو چلا تھا، جو ایک صدی قبل ہی یمن میں جنگ و جدل کے باعث نظر انداز ہونے کے بعد ٹوٹ چکا تھا۔ وہیں، بازنطینی سلطنت کے صوبے شام (جس میں آج کے دور کے ملک شام، اردن، لبنان، اسرائیل اور فلسطین وغیرہ شامل تھے) سے اب افواج وسائل کی کمی کے باعث نکل چکی تھیں اور اپنے پیچھے شمال اور جنوب کے خط دفاع پر واقع کئی فوجی قلعے متروک چھوڑ دیے تھے۔ یہ قلعے، سخت موسم میں ریت اور دھول کے طوفانوں کے باعث بتدریج شکست و ریخت کا شکار تھے۔ اب ان قلعوں کی لرزتی دیواروں کے اندر اکثر خانہ بدوش بدو سرد موسم میں ریوڑ سمیت راتوں میں پڑاؤ ڈال لیتے یا پھر یہاں راہبوں کا بسیرا ہوا کرتا تھا۔ یہ راہب اکثر گروپ کی شکل میں یا پھر تن تنہا ہی یہاں رہائش رکھتے تھے۔ گوشہ نشین زاہدوں، مبلغین، فقیروں، جوگیوں، مسافروں اور بسا اوقات دور دراز علاقوں سے ہجرت کر کے تارک دنیا ہو جانے والے پر اسرار اشخاص کو قبائلیوں کے یہاں بے انتہا تعظیم کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ یہ قبائلی، متروک قلعوں میں ان غیر معمولی افراد کے لیے کھانے کا سامان اور پینے کے لیے پانی پہنچا دیا کرتے تھے۔ کہیے تو یہ قبائلیوں کی خدا کی راہ میں منت تھی۔ صحرا کے باسیوں کے لیے یہ وہ لوگ تھے جو اپنے اندر مقدس روح کے مالک تھے ۔مثال، زمین پر انسان کے روپ میں آسمان اور زمین کےقادر مطلق رب کی شبیہ تھے۔
راہبوں کی صحرا میں بسر کا احوال، 'جاگتی رات کے پچھلے پہر، دمکتے تاروں کی کہکشاؤں کی سنگت میں، اپنے آپ کے ساتھ تنہا۔۔۔' جیسی قبل از اسلام مشہور عرب شاعری میں انتہائی رومانوی انداز میں بیان کیا جاتا تھا۔ اسی طرح، ان سے منسوب تقدیس اور پراسراریت کو روشنی کے تصور ، ' زاہد نے ایک دیا بنایا۔ نازک جام کے پیندے پر شراب کی بجائے قلیل تیل، جس کے بیچ تیرتا ہوا بتی کا فتیلہ بہت مہین ہے مگر اس کی روشنی تاریکی سے کہیں بڑھ کر، زیادہ روشن ہے۔۔۔' جیسے استعاروں میں واضع کیا جاتا۔ تارکِ دنیا راہبوں کے بارے یہ شاعری تنہا پسند مسافروں اور جنگجوؤں کے لیے مشعل راہ کا کام کرتی تھی۔ راہبوں کا طریق، یعنی دنیا کو ترک کر کے انسانوں سے دور گوشہ نشینی میں بسر کرنے کی ابتداء مصر میں ہوئی تھی۔ اس کے بانی چوتھی صدی عیسوی کے زمانے میں گزرنے والے سینٹ اینتھونی ہیں، جنہیں 'صحرا کے راہبوں کا باپ' بھی کہا جاتا ہے۔ سینٹ اینتھونی نے نیل کے ساحل پر واقع متروک قلعوں میں تقریباً بیس سال تن تنہا، گوشہ نشینی میں بسر کیے تھے۔ گو، عملی طور پر وہ اس عرصے کے دوران مکمل طور پرتنہا نہیں تھے۔ سینٹ اینتھونی کی سوانح لکھنے والے سکندریہ دور کے مورخ ایتھانیسس نے لکھا ہے کہ سینٹ کے اس انوکھے طریق کے باعث، جس قلعے میں ان کی بسر ہوتی، وہاں سیاحوں اور زائرین کا رش لگا رہتا ۔ ان میں سے اکثر کا تعلق خطہ عرب کی تاجر برادری سے بھی ہوا کرتا تھا۔ یہ تاجر اپنے سفر میں سے وقت اور راستہ نکال کر یہاں پہنچ جایا کرتے تھے ۔ مقصد اس برگزیدہ رشی کی قربت میں کچھ وقت گزار کر تقدیس کا احساس اور کاروبار میں برکت پا نا ہوتا تھا۔ رفتہ رفتہ، اینتھونی کے گوشہ نشین ہونے کی یہ مثال چہار طرف اس قدر مقبول ہو گئی کہ مورخ لکھتا ہے، 'ہر طرف خانقاہوں کی اس طرح بھرمار ہو گئی جیسے وادیوں میں بہار کے موسم میں جنگلی پھول کھل کر ہر طرف بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔۔۔ بے شمار خانقاہوں کا جال اس قدر وسیع ہو گیا کہ ایک کونے سے دوسرے تک، یہ دنیا زاہدانہ روش کی غماز سلطنت کی تصویر پیش کرنے لگی'۔
ایسی ہی ایک خانقاہ جو شاہراہ ملوکیت پر واقع متروک قلعے میں قائم تھی۔ اس خانقاہ میں ایک گوشہ نشین راہب کی بسر تھی۔ جس کا نام بحیرہ تھا۔ بحیرہ عربی کے لفظ بحر سے نکلا ہے اور بحر کے معنی سمندر کے ہیں۔ صحرا میں بسر رکھنے والے ایک شخص کے لیے یہ خاصا اجنبی نام تھا ۔ شاید، بحیرہ نامی یہ راہب کبھی ملاح رہا ہو گا یا غالباً اس کا یہ نام اس لیے مشہور تھا کہ اس کو علم کے سمندر پر عبور حاصل تھا۔ اس کے علم کا ماخذ ایک ضخیم کتاب تھی ۔ یہ کتاب، یاداشت انسانی سے موجود تھی اور نسل در نسل راہبوں اور مشنریوں کے یہاں منتقل ہوتی چلی آ رہی تھی۔ ایسے زمانے میں جب صرف چند ہی لوگ پڑھ اور لکھ سکتے تھے، ایک کتاب کا وجود نسلوں تک برقرار رہنا بذات خود کرشمہ تھا۔ مشہور تھا کہ یہ کتاب آسمانی صحیفہ ہے اور اس کی تمام تر الہامی طاقت اسے پڑھ ،سمجھ پانے والے شخص کے پاس مجتمع رہتی ہے۔ بحیرہ کی یہ کتاب در اصل چرمی کاغذ پر ہاتھ سے تحریر شدہ انجیل کے کئی مشہور نسخوں میں سے ایک تھی ۔ چونکہ چرم وقت کے ساتھ ضائع ہو جاتا ہے ، بحیرہ بھی ان لوگوں میں سے ایک تھا جنہوں نے اب اپنی زندگی اس نسخے کو اگلی نسل کے لیے جوں کی توں تازہ چرم پر نقل کرنے کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ یہ نقل پوری توجہ سے حرف بہ حرف تیار کی جاتی اور ہر آیت کو اس قدر احتیاط سے مکمل کیا جاتا کہ آنے والی نسل کے لیے نہ صرف چرم بلکہ الہامی پیغام بھی محفوظ رہے۔
ابن اسحاق نے اپنے روایتی شبہ، 'گماں ہے کہ۔۔۔' کے ساتھ رقم کیا ہے کہ، اس دن سے قبل بحیرہ نے قلعے کے آس پاس گزرنے، پڑاؤ ڈالنے والے اونٹوں کے تجارتی قافلوں پر توجہ نہیں دی۔ لیکن جب ابو طالب کی سربراہی میں دمشق جانے والا یہ مختصر قافلہ اس قلعے کے نزدیک پہنچا تو بحیرہ نے نیلے آسمان پر بادل منڈ لاتا ہوا دیکھا۔ بادل کی یہ ٹکڑی قافلے کے اوپر چل رہی تھی، بلکہ دور سے دیکھنے پر محسوس ہوا کہ یہ قافلے میں ایک مخصوص مقام پر قدرے نچلی سطح پر مرکوز تھی۔ بحیرہ نے اس کو شگون سمجھا اور اپنی عادت کے بر خلاف قلعے سے باہر نکل آیا۔ اس نے قافلے کو قلعے میں رات میں قیام کی دعوت دی اور آؤ بھگت کی غرض سے، جو کھانے کا سامان دستیاب تھا، پیش کر دیا۔ ابو طالب نے بحیرہ کی دعوت قبول کر لی اور دس سالہ محمد صلعم کو اونٹوں اور تجارتی مال پر نظر رکھنے کے لیے قلعے سے باہر ہی روک دیا۔ جب سب لوگ قلعے میں داخل ہو چکے تو بحیرہ نے محسوس کیا کہ مہمانوں میں کوئی ایک شخص کم ہے۔ بحیرہ نے اس بابت پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ اونٹوں کی رکھوالی کرنے والا لڑکا باہر ہی رہ گیا ہے۔ بحیرہ نے اس لڑکے کو بھی قلعے کے اندر رات بسر کرنے کے لیے بلانے پر اصرار کیا۔ تاجروں کو اس بات پر خاصی حیرت ہوئی کہ بحیرہ کی دعوت میں، اونٹ کی رکھوالی کرنے والا بھی شامل تھا؟
یقیناً بحیرہ نے سب کو دعوت دی تھی اور اونٹوں کی رکھوالی کرنے والا بھی اس دعوت میں شامل تھا۔ یوں، بحیرہ نے لڑکے کو قلعے کے اندر بلانے پر اصرار کیا ۔ جب محمد صلعم کو اندر بلا لیا گیا تو بحیرہ نے انہیں سیدھا کھڑا رہنے کو کہا اور پھر آپ صلعم کے سر اور دھڑ کا قریب سے جائزہ لیا ۔جسم پر 'نبوت کی مہر' تلاشنے لگا ۔اس 'مہر' کی پیشن گوئی بحیرہ نے اپنی پراسرار مجلد ضخیم کتاب میں پہلے سے پڑھ رکھی تھی۔ اس بابت کئی حوالوں میں سینے پر سرپستان تلاشنے کی روایت بھی ملتی ہے۔ سر پستان کی نشانی بدھ مت میں دلائی لامہ کے ہر نئے جنم میں شناخت کے لیے کافی مشہور ہے یا اسی طرح کندھوں کے بیچ ایک گول مہر جس کی شکل پیالی کے منہ جتنی گول ہوتی ہے، مقبول عام ہے۔ بہرحال، بحیرہ کو یہ مہر، نشانی یا جو بھی پیشن گوئی اس نے پڑھ رکھی تھی، محمد صلعم کے جسم پر مل گئی ۔ تبھی، اس نے ابو طالب کی جانب مڑ کر اعلان کیا، 'تمہارے بھتیجے کے لیے ایک شاندار مستقبل انتظار کر رہا ہے۔'
ایک لحاظ سے یہ بھر پور اور مکمل کہانی ہے۔ اس میں ہر طرح کی، ایک سے زائد نشانیاں، شگون اور کرشمات کی پیشین گوئیاں مل جاتی ہیں۔ سر کے اوپر منڈلاتی ہوئی بادل کی ٹکڑی اور جسم پر ایک پوشیدہ مہر کی گواہی وغیرہ سے بلا شک و شبہ اس بچے کے لیے شاندار مستقبل کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ مگر ، یہاں ایک بار پھر حقیقی واقعات میں کرشماتی کہانی کا افسانوی رنگ بھر دیا گیا ہے۔ گو اس واقعہ کی روایت سے کم عمر محمد صلعم کی رتبے میں اضافہ ہو جاتا ہے مگر باقی اور با لخصوص اس واقعہ کے فوراً بعد کی تفصیلات میں ہمیں ان کی تجارتی قافلوں میں برقرار رہنے والی حیثیت کا بھی بخوبی پتہ چلتا ہے۔ روایات صاف بتاتی ہیں کہ محمد صلعم کو بحیرہ کی دعوت سے قصداً باہر رکھا گیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اس طرح کا واقعہ وقوع پذیر ہوا بھی تھا تو شاید یہ معاملہ محمد صلعم کی ابو طالب اور دوسرے تاجروں کے ہاتھ جگ ہنسائی کا باعث بن گیا ہو گا۔ شاید وہ بحیرہ کی پیشن گوئی کو ہذیان میں مبتلا ایک بوڑھے شخص کی بڑ سمجھ رہے ہوں جو اب تک اچھا خاصہ وقت تنہائی میں گزار چکا تھا ۔اس پر گوشہ نشینی اور صحرا کے بیچ شدید گرمی کا اثر ہو گیا تھا۔ بحیرہ کو وہ مجنوں سمجھتے ہوں گے، جس پر کسی جن کا اثر تھا یا شاید اس کا دماغ جواب دے چکا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس مختصر قیام کے بعد بغیر کسی تبدیلی کے، قافلے نے دمشق کی جانب اپنا سفر جوں کا توں معمول کے مطابق جاری رکھا اور محمد صلعم بدستور اونٹوں کی رکھوالی پر فائز رہے۔
آج بھی یہ قصہ محمد صلعم کی منزل کے تعین کا نشان سمجھا جاتا ہے۔ جیسے، کہا جاتا ہے کہ اپنے قبیلے، لوگوں کے بر عکس، اس گمنام اور غیر تسلیم شدہ ہیرو کو دوسرے مذاہب کے راہب اور مقدس لوگ فوراً پہچان گئے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ، اس کو پہچاننے والا شخص بازنطینی شام میں بسر کرنے والا ایک عیسائی راہب تھا۔ یعنی، اس سے مستقبل میں نازل ہونے والی الہامی کتاب قران کی اس پیشن گوئی کو ثابت کر دیا گیا جس کی بابت انجیل اور تورات میں واضح پیشین گوئیاں موجود تھیں۔ یہ نکتہ رفتہ رفتہ اتنا اہم ثبوت بن گیا کہ تاریخ میں اسی نوعیت کی ایک اور روایت بھی مل جاتی ہے۔ اس روایت میں پہلی کی طرح ایک گوشہ نشیں راہب، دمشق کے راستے، خاص الخاص کی نشاندہی جیسی مماثلتیں صاف ملتی ہیں۔ اب کی بار روایت میں محمد صلعم کی عمر پچیس برس ہے اور آپ تجارتی معاملات میں اونٹوں کی رکھوالی کرنے والے ایک لڑکے سے ترقی کر کے ایک آزاد آڑھتی بن چکے ہیں۔ اونٹوں کے رکھوالے سے ایک عزت دار تجارتی آڑھت تک کی ترقی کا سفر آسان نہیں ہے۔ یہ خاصا دشوار اور پر مشقت معاملہ ہے۔ اس ترقی کے دوران انہوں نے بہت کچھ سیکھا اور یہ سب سیکھنے کے لیے آپ کو ایک پوری دنیا دستیاب تھی۔ اس وسیع اور متنوعی دنیا میں آپ کی تربیت کا سفر کٹھن ضرور تھا مگر یہ خوب رہی۔ یہ دنیا اپنے اندر بلا کے رنگ سموئے ہوئے تھی۔
ہمیشہ کی طرح ،آج بھی کاروباری اخبار جیسے 'وال سٹریٹ جرنل' اور 'فنانشل ٹائمز' وغیرہ کی اہمیت برقرار ہے۔ یہ اخبارات اس لیے مقبول اور اہم ہیں کہ ان پر کامیاب تاجران کا ہمہ وقت انحصار رہتا ہے۔ تاجروں کو ہمیشہ معلومات درکار ہوتی ہیں اور انہیں حالات پر قریبی نظر رکھنی پڑتی ہے۔ بعینہ، مکہ کے تاجران کے لیے بھی ضروری تھا کہ وہ اپنے زمانے میں، خطہ بھر کے سیاسی، معاشی اور سماجی احوال سے باخبر رہا کریں۔ انہیں بھی تازہ ترین خبروں، حالات حاضرہ اور تجارتی منازل کی پوری معلومات درکار رہتی تھی۔ یہی نہیں بلکہ ان کے لیے اس سے بھی بڑھ کر یہ ضروری تھا کہ وہ اس جانکاری کو صحیح استعمال کر سکتے ہوں اور سفارت کے داؤ پیچ میں طاق ہوا کریں۔
انتہائی ضروری مگر درست معلومات تک رسائی اور کامیاب سفارت کی ابتدا خطے میں نیک نامی اور قبائل کے ساتھ خوشگوار تعلقات سے ہوا کرتی تھی۔ ان خوشگوار تعلقات کی بنیاد قبائل کو ادا کیا جانے والا بیمہ ہوا کرتا تھا۔ یعنی، ہر طرح کے معاملات کو پوری توجہ ،مہارت اور خوش اسلوبی سے طے کرنا تو پڑتا ہی تھا مگر یہ کافی نہیں تھا۔ اس مقصد کے لیے خراج، یعنی صحرائی علاقوں میں ٹکسال یا محنتانہ ادا کر نا پڑتا تھا ۔ یہ ٹکسال در اصل تجارتی قافلوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی مد میں قبائل کو ادا کیا جانے والا معاوضہ تھا ۔ اسی طرح، صحرا میں سفر کے دوران مقامی چشموں اور کنوؤں کے استعمال کے لیے بھی اجازت درکار ہوتی تھی۔ سفر اور پانی کے استعمال کی یہ اجازت، مجاز شیوخ اور قبائلی سرداروں کو تحائف اور خراج ادا کر کے حاصل کی جاتی تھی یا ان کے ذریعے ان سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا تھا۔ اس نا گزیر انتظام کے لیے انتہائی ضروری تھا کہ ایک کامیاب تاجر یا آڑھتی نہ صرف پورے خطے میں قبائلیوں کے ساتھ اچھے تعلقات، روابط قائم رکھے بلکہ اسے قبائلی سیاست کا بھی بھرپور علم ہو۔ مثال کے طور پر، قبائل کے اندر طاقتور، ابھرتے اور کمزور پڑتے ہوئے سرداروں اور ان کی آل اولاد کی پہچان ہو۔ ہر دم بنتے اور بگڑتے ہوئے اتحادوں کے بارے پوری جانکاری رکھنی پڑتی ۔ان نت نئے، بنتے اور بگڑتے اتحادوں کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات، بالخصوص چراہ گاہوں پر قبضے کے اصول اور پانی پر اجارہ داری اور تقسیم سے متعلق معاملات کی سمجھ ہو۔ تجارتی قافلے کے امیروں کے لیے لازم تھا کہ وہ ہر طرح کی معلومات جمع رکھیں۔ وہ جانتے ہوں کہ صحرائی قبائل میں کس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے اور کون سا شخص ناقابل اعتبار ہے۔ پھر اس دور میں شخصی پہچان اور معلومات اس لیے بھی اہم تھیں کہ یہ تمام معاملات زبانی کلامی طے پایا کرتے تھے۔ معاہدے تحریر نہیں کیے جاتے تھے بلکہ یہ صرف ہاتھ ملا کر، زبان پر ثبت ہو جاتے تھے۔ منہ پر وعدے کیے جاتے اور مل کر قسمیں اٹھائی جاتی تھیں ۔ان زبانی معاہدوں، قسموں اور وعدے کی پاسداری بہرحال ہر آدمی، چاہے وہ تاجر تھا یا قبائلی سردار، سب کے لیے اس لیے بھی ضروری تھی کہ اس زمانے میں کسی بھی شخص کی زبان اور ساکھ سب سے اہم سمجھی جاتی تھی۔ مگر یہ ساکھ اور نیک نامی سب لوگوں کے لیے، ہر معاملے میں ضروری نہیں تھی۔ بعض معاملات میں یہ نہایت اہم اور دوسروں میں اس کی چنداں ضرورت محسوس نہیں ہوا کرتی تھی۔ چھوٹے موٹے معاملات میں لوگ وعدہ خلافی اور غلط بیانی پر سمجھوتہ کر لیتے تھے مگر زیادہ تر ، خاص طور پر تجارتی اور مالی معاملات میں زبان کی پاسداری، گویا زندگی اور موت کا مسئلہ رہا کرتا تھا۔
معاہدہ طے پا جانے کے بعد ایک بار قافلہ کسی شیخ یا قبائلی سردار کی حفاظت میں چلا جاتا تو پھر اس قافلے کے تاجران علاقائی حدود میں مہمان تصور کیے جاتے تھے۔ ان کی حفاظت شیوخ اور سرداروں کے لیے لازم ہوتی اور، یقینی ہوتا کہ وہ راہ میں اس طرح محفوظ ہیں کہ جیسے وہ میزبان کے محل یا خیمے میں محفوظ تصور کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح مفادات کے تحفظ میں، کسی بھی قافلے پر معمولی یا جان لیوا، ہر طرح کا مخالف فریق کی جانب سے کیا جانے والا حملہ خود سردار یا شیخ پر حملہ قرار پاتا ۔اس طرح کے قضیوں سے نبٹنے کی مکمل ذمہ داری شیخ یا سردار پر ہوا کرتی تھی۔ یہ مقامی سردار قافلوں کے ساتھ اپنے کھوجی بھی روانہ کیا کرتے تھے ۔ کھوجی ، صحرا کی ہر ایک تفصیل سے یوں آگاہ تھے کہ جیسے یہ سب ان کی ہتھیلی پر رقم ہو۔ صحرا کی ریتلی وسعتوں، سنگلاخ کوہستانوں، میل در میل پھیلاؤ اور بظاہر نہ ختم ہونے والے صحرائی سلسلے کا بھرپور علم رکھتے تھے۔ انہیں صحرا میں ہر نشانی، سنگ میل اور یادگار ازبر رہا کرتی تھی۔
اسی طرح اپنا کام کرنے کے لیے ان کھوجیوں کو کسی بھی قسم کے نقشے کی ضرورت نہیں رہا کرتی تھی ، یعنی صحرا کا پورا نقشہ ان کے ذہنوں میں محفوظ رہا کرتا تھا۔ مثال کے طور پر انہیں چشموں کے بارے بالکل درست معلومات رہتی تھی۔ جیسے، موسم کے لحاظ سے کون سے چشمے میں، کس وقت کے دوران تازہ پانی مل جاتا ہے یا پھر سرد موسم میں ترائیاں کہاں ہو سکتی ہیں؟ ترائیاں، صحرا میں نشیبی علاقے کو کہا جاتا ہے جہاں بارشوں کا پانی بہہ کر جمع ہو جاتا ہے اور ریت میں جذب ہونے اور گرمی سے اڑ جانے سے قبل کئی ہفتوں تک استعمال کے لیے دستیاب رہتا ہے۔ جس طرح ناخدا سمندر میں کشتیوں کو ہواؤں کے دوش پر سفر کے عندیہ دیتے ہیں، اسی طرح یہ کھوجی صحرا میں اونٹوں کے قافلوں کو ساتھ لیے، پانی کے ایک ذخیرے سے دوسرے تک رہنمائی کرتے تھے۔ آبی ذخائر تک یہ سفر عام طور پر ایک دن میں طے کر لیا جاتا یا پھر زیادہ سے زیادہ دو یا تین دن کی مسافت درپیش رہا کرتی۔ عام طور پر یہ قافلے طویل مسافتیں طے کر کے زیر زمین چشموں کے پاس آباد خانہ بدوشوں کی عارضی بستیوں تک پہنچ جاتے یا پھر کنوؤں کے گرد غیر آباد مگر چند شاداب درختوں اور سنگ میلوں کے پاس پڑاؤ ڈالتے۔ بعض مقامات پر باقاعدہ نخلستان آباد تھے۔ یہ مستقل نخلی آبادیاں جیسے مدینہ، خیبر، تیما اور تبوک وغیرہ ہوا کرتی تھیں جو تجارتی راہدری میں مکہ کے شمال میں، نقشے پر ایک ترتیب میں واقع تھیں۔ ان نخلستانوں میں پانی وافر مل جاتا تھا بلکہ ہر طرف ہریالی ہوا کرتی۔ کھجور کے باغات، تازہ میٹھے پانی کے چشمے کئی میل تک پھیلے تھے اور ہر طرف سبزہ اور شاداب وادیاں پھیلی ہوئی تھیں۔ صحرا کے بیچ یہ چند نخلستان، ان قافلوں کے لیے بے حد ضروری تھے۔ یہاں پڑاؤ میں انہیں کوئی مشکل پیش نہیں آتی تھی اور وہ یہاں طویل سفر کی تھکان اتار سکتے تھے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ہے کہ کئی مہینوں پر محیط اس کٹھن سفر کے نتیجے میں کمایا جانے والا منافع خاصا معقول اور صعوبتوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہوا کرتا تھا۔ محمد صلعم کے زمانے تک، مکہ کے تاجران نے اپنا کاروبار عرب کے طول و عرض میں پھیلا رکھا تھا۔ یہ کاروبار جغرافیائی لحاظ سے دیکھیں تو بر اعظم یورپ سے کہیں بڑے علاقے میں پھیلا ہوا تھا اور اس کا حجم شمال اور جنوب ، الغرض ہر طرف ایک سی بڑھ کر تھی۔ اس خطے میں شام، عراق، مصر، یمن اور ایتھوپیا کے تقریباً تمام ہی شہر، بستیاں اور تجارتی مراکز اس راہدری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے تھے۔ یہ مراکز اس کاروبار کا کلیدی حصہ تھے۔ اس خطے میں تاجران کی آمد و رفت اس قدر عام تھی کہ انہیں کہیں بھی اجنبیت محسوس نہ ہوتی۔ اس کی وجہ یہ تھی تاجر اپنی بنیادیں ہر اس شہر اور قصبے، خطے میں مضبوط بناتے جہاں ان کا کاروبار یا مفاد ہوا کرتا تھا۔ اس زمانے میں ایک تاجر کی مثال ایک مسافر کی سی تھی اور یہ مسافر گویا اس خطے میں ہر شہر اور قصبے کا نسبت کے لحاظ سے عارضی مگر کاروبار کی رو سے مستقل مقیم ہوا کرتا تھا۔
چھٹی صدی عیسوی میں طرز تجارت اور کاروبار کا طریق آج کے دور سے انتہائی مختلف ہوا کرتا تھا ۔ یعنی، ایسا نہیں تھا کہ آپ فٹ ہوائی جہاز پر سوار ہو کر آٹھ سو میل کا سفر پلک جھپکتے میں طے کر لیتے ہیں اور دمشق کے ائیر پورٹ پر ہی بیٹھے بٹھائے، چائے کی پیالی پر ہاتھ ملا کر، فوراً سے پہلے معاہدہ طے کر کے واپس ہو لیتے ہیں۔ اس زمانے میں اعتماد قائم کرنے کے لیے اچھا خاصہ وقت درکار ہوا کرتا تھا۔ ایک دوسرے کو مہمان نوازی کے مواقع فراہم کیے جاتے تھے۔ کئی طرح کے تقاضے پورے کرنے پڑتے تھے اور یوں ایک عرصہ گزارنے کے بعد ہی کہیں جا کر اعتماد، تاجر کا نام قائم ہوا کرتا تھا۔ جب یہ ہو رہتا تو صرف اور صرف تب ہی تجارت یا کاروبار ممکن ہوا کرتا تھا۔ سالوں کی محنت اور باہمی اعتماد کے بعد دو طرفہ تعلقات اس نہج پر پہنچتے تھے کہ رفتہ رفتہ بات چیت شروع ہو سکتی تھی یا پھر بالآخر معاملات طے پاتے۔ تاجران کو اپنے مطلوبہ کاروباری خطے میں طویل قیام کرنا پڑتا تھا اور اس کے لیے، اس شہر یا قصبے کو اپنا گھر بنانا ضروری ہوا کرتا تھا۔ یہ خاصہ طویل مرحلہ اور صبر آزما کام ہوا کرتا تھا اور جب تک محمد صلعم نے تجارتی قافلوں کے ساتھ کام شروع کیا، تب تک مکہ کے تاجران مصر میں کاروباری مراکز، دمشق میں مستقل گھر، فلسطین میں زرعی فارم اور عراق میں کھجور کے باغات کے مالکان بن چکے تھے۔
صبر آزما محنت اور انتظار کے بعد اعتماد پر مبنی تجارت اور اس کے ساتھ جب اثاثے اور جائیدادیں بھی شامل ہو جائیں تو پھر ان تاجران کے لیے ہر اس پہلو پر نظر رکھنا ضروری ہو جاتا تھا جس کی وجہ سے مفادات پر ضرب پڑ سکتی تھی۔ بالخصوص اس طرح کے حالات، جب کہ بازنطینی اور فارسی سلطنتیں ہر وقت ایک دوسرے سے نبرد آزما رہا کرتی تھیں، یہ نا گزیر ہو چکا تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں ، جب آٹھ سو سالہ قدیم جغرافیائی سیاسیات اور ریاستی معاملات پر ہر طرف سے سوال اٹھ رہے تھے، اس وقت بڑے شہروں، جیسے دمشق میں بازنطینیوں کا اختیار اور ریاست پر گرفت تیزی سے کمزور پڑتی جا رہی تھی۔ یہاں ہر طرف افواہوں، اندازوں اور متضاد دعوؤں کا دور دورہ تھا۔
محمد صلعم کے لیے علم حاصل کرنے کے لیے دمشق سے زیادہ موزوں جگہ کوئی دوسری نہیں تھی۔ یہ بہرحال، آج ایک طالب علم جو کہ ایک پرتعیش کمرے میں کمپیوٹر کی سکرین کے سامنے، آرام سے علم حاصل کر سکتا ہے، اس کے مقابلے میں تب یہ خاصا مہنگا اور مشکل کام تھا۔ یہاں پہلی بار محمد صلعم کو اندازہ ہوا کہ مکہ جس قدر بھی بڑھ کر تجارتی اور سیاسی معنوں میں پھیل رہے ، اس کی اہمیت شمال میں واقع اس وسیع اور ہر لحاظ سے جدید دنیا کے مقابلے میں ایک صوبائی مرکز سے زیادہ نہیں ہے۔ محمد صلعم کے آبائی شہر کی مثال خود ان کے اپنی مثال جیسی تھی۔ یعنی، جس طرح وہ مکہ سے تعلق رکھتے ہوئے بھی اس شہر میں غیر متعلق تھے، اس سارے سیاسی اور معاشی سلسلے میں ان کا شہر بھی ایک ہی وقت میں خاصا متعلق اور ہر لحاظ سے انتہائی غیر متعلق تھا۔ گو مکہ کی حیثیت شمال سے جنوب میں یمن تک اور بحر ہند تک کے علاقوں تک ایک مرکز سی تو تھی مگر وہیں اچھی بات یہ تھی کہ یہ بازنطین اور فارس کی سلطنتوں کے بیچ جاری چپقلش سے خاصا دور بھی واقع تھا ۔ وجہ ، بیچ میں وسیع صحرا حائل تھا۔ مگر اس خوبی کا نقصان یہ تھا کہ مکہ اتنی بڑی سیاسی اور جغرافیائی تاریخ کے بیچ، بہر حال ایک طرف ہٹ کر جی رہا تھا۔ یعنی اس پیمانے پر مکہ، دمشق کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھا۔
دمشق چھٹی صدی عیسوی میں بھی قدیم شہر مشہور تھا ۔ تب بھی اس کی تاریخ لگ بھگ پندرہ سو سال پرانی تھی۔ یہ ایشیاء میں مغرب کی جانب وسط ایشیاء کی مشہور شاہراہ ریشم پر واقع غالباً سب سے بڑا تجارتی مرکز تھا ۔ اس شہر کی گلیوں میں ہر طرح کے لوگوں کا بسیرا تھا۔ یہاں شمال میں بحیرہ قزوین سے تعلق رکھنے والے اور دور دراز ہندوستان سے آئے لوگ بھی آباد تھے۔ ان کے علاوہ یونانی، فارسی، افریقی، ایشیائی، ہر طرح کی رنگت، گورے اور کالے، میٹھی نرم بولیوں اور ترش سخت زبانیں بولنے والے الغرض ہر طرح کے لوگ اس زرخیز خطے میں آن کر آباد ہوا کرتے تھے۔ یہ نہ صرف یہاں تجارت کی غرض سے موجود رہتے بلکہ دمشق میں ان کی بدولت تہذیب اور تمدن کا بھی دور دورہ تھا۔ یہاں کئی مذاہب کے پیروکاروں کی بھی آمد رہتی تھی۔ ان مذاہب نے کسی زمانے میں دنیا بھر کی تہذیبوں کو ان کی مخصوص خاصیتوں سے نوازا تھا اور آج دمشق، دنیا بھر میں ان خصوصیات اور تہذیبوں کا مرکز، ہر طرح کے تمدن سے مالا مال تھا۔
یہاں، سامیوں کی مخلوط جگت بھاشا یعنی زبان پورے عرب میں، معمولی رد وبدل اور لہجوں کے فرق سے بولی اور سمجھی جاتی تھی مگر محمد صلعم کا سامنا تقدیس کے عکس نماؤں سے تھا۔ دمشق میں آپ صلعم کی ملاقات ان لوگوں سے رہا کرتی تھی جن کے پاس سنانے کو طویل داستانیں تھیں۔ ان قصائص میں سنانے والوں کی تاریخ اور شناخت کا تذکرہ رہتا تھا ۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ وہ یہ کہانیاں گوش گزار کرتے ہوئے، کسی بھی طرح جھجھک محسوس نہیں کرتے تھے۔ یہ قصے بار بار سننے کو ملتے۔ جیسے، کلیساؤں اور کنیساؤں کے احاطوں ، بازار اور کاروان سراؤں ، دمشق شہر کے بیچ میں سے گزرتی ہوئی انہار کے کنارے سایہ دار درختوں کے نیچے بیٹھے، (عرب کے صحرائیوں کے لیے یہ انہار خاصہ دلچسپی کا سامان ہوا کرتی تھیں، یعنی گلی کوچوں اور باغات میں بہتے ہوئے پانی کا تصور جو کہ بعد میں اسلامی طرز تعمیر میں بہت مقبول ہوا)، الغرض یہ داستانیں دمشق میں ہر جگہ گونجتی رہتیں۔ پھر داستان گو بھی کئی لوگ تھے۔ ان میں نرم خو بوڑھے، جوان شعلہ بیان مبلغ، شاعر اور باقاعدہ داستان گو، پادری، خوابیدہ قصہ خواں اور ہر طرح کے فلسفی شامل تھے۔ سامعین ان کے سامنے مگن بیٹھے، سر دھنتے اور دم بخود ہو کر عیسائی ، یہودی، آتش پرست اور ہندو دیو مالائی داستانیں سنتے رہتے۔ یہ داستانیں انسان اور خدا کے ڈرامائی تعلق پر مبنی ہوا کرتی تھیں اور ان طویل قصوں کا محیط معلوم تاریخ کے دور تلک کونے کھدروں میں پھیلا ہوا ہوتا تھا۔ ان میں سے ہر شخص اس دنیا کو اپنے طریقے سے بیان کیا کرتا تھا اور پھر ہر آدمی کا اصرار رہتا کہ غالباً وہ اور صرف وہ ،اصل حقیقت سے آگاہ ہے۔ یہاں تک کہ ایک ہی فرقے سے تعلق رکھنے والوں کے بیچ بھی، آفاقی سچ کو لے کر شدید اختلاف پایا جاتا۔
مثال کے طور پر، جو داستان اور قصے مدینہ کے یہودی سنایا کرتے تھے وہ دمشق کے یہودیوں میں مشہور داستانوں سے خاصے مختلف تھے۔ اسی طرح عیسائیوں کے بیان کردہ واقعات میں بھی تضاد پایا جاتا تھا اور یہ فرق خاصا واضح بھی ہوا کرتا تھا۔ مثال کے طور پر، جب عیسی نے بد کرداری کے الزام میں گھری عورت کا دفاع کیا تھا۔ ایک روایت میں کہا جاتا کہ عیسی نے آگے بڑھ کر کہا، 'وہ جو گناہ سے پاک ہے، صرف وہی شخص پہلا پتھر پھینکے'۔ مگر دوسری روایت، جو آج بھی مشرق وسطیٰ میں خاصی مشہور ہے، اس کے مطابق عیسی خود آگے حفاظت کی غرض سے بڑھے اور اس عورت پر جھک گئے ۔ یہاں صرف دو انتہائی اہم الفاظ، جو شدید اختلاف کا باعث تھے، اضافہ کر کے کہنے لگے، 'وہ جو گناہ سے پاک ہے، صرف وہی شخص پہلا پتھر مجھ پر پھینکے'۔
اسی طرح کی ایک داستان اصحاب کہف کی بھی تھی۔ سات لڑکے، جن پر گماں تھا کہ وہ رومیوں کے قدیم دور میں، جب عیسائیت کی ابھی ابتدا تھی، مر چکے تھے۔ مگر بجائے مرنے کے، یہ لڑکے (ایک روایت میں، ان کے ساتھ ایک کتا بھی تھا) کرشماتی طور پر دو سو سال تک گہری نیند میں چلے گئے اور جب جاگے تو انہیں معلوم ہوا کہ عیسائیت کو شکست ہو چکی ہے۔ (مسلمان آج اس قصے کو زیادہ تر عیسائیوں سے بہتر جانتے ہیں کیونکہ اس کا تذکرہ قران میں آیا ہے)۔ اصحاب کہف کا قصہ پورے خطے میں اس قدر مقبول تھا کہ چاہے وہ کہیں سے بھی تعلق رکھتے ہوں، ہر شخص ان کی نسبت اپنے قبیلے، نسل اور علاقے کا تعلق نکال لایا کرتا تھا۔ ایک لحاظ سے ان اصحاب کو لے کر دوسروں پر اپنی فوقیت جمانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ اصحاب کہف کے مشہور غار کو کھینچ تان کر اپنی جغرافیائی حدود میں ثابت کرنے کی سعی ہوتی۔ جس طرح آج جدید زائرین کے یہاں مقبول ہے کہ یحیی کا سر مشرق وسطیٰ میں کم از کم تین مقامات پر دفن ہے اسی طرح اصحاب کہف کے غار کی زیارت کے لیے بھی زائرین کے لیے کئی مقامات دستیاب ہیں۔ ان میں سے ایک مبینہ مقام ترکی میں افسس کے شہر میں، دوسرا شام میں دمشق شہر سے چند میل شمال کی جانب اور تیسرا مقام اردن میں شہر عمان کے باہر واقع ہے۔
یہ اور اس طرح کے کئی دوسرے تضادات صرف قصے میں زبانی کلامی اور اصولی اختلافات تک محدود نہیں تھے۔ عیسائی اور یہودی، دونوں ہی انجیل سے عقیدت رکھتے تھے مگر اس کے باوجود ان کے بیچ اس کے مسودوں میں اختلاف پایا جاتا تھا۔ بالخصوص، جب ان کتابوں کے فرمودات کی تشریح کی بات آتی تو اس بابت نہ صرف مذاہب بلکہ ہر مذہب کے اندر فرقوں کے مابین بھی تضاد مل جاتا ۔ یوں، اس بابت اکثر اچھی خاصی گرما گرمی بھی ہوتی رہتی تھی۔ یہودی کئی فقیہوں کی تعلیمات کے بیچ بٹے ہوئے تھے۔ مثلاً، یروشلم کے تلمودی اور جدید بابلی فقہ ایک دوسرے یا پھر ضابطہ پرست اور مسیح موعود کے ماننے والے، آپس میں گتھم گتھا رہتے۔ دوسری طرف عیسائی بھی خاصے منقسم تھے۔ یہ اختلافات اس قدر شدید تھے کہ زیادہ تر تلخی پر منتج ہو رہتے اور بسا اوقات پر تشدد دشمنیوں کی صورت شا خسانہ بھی بھگتنا پڑتا۔ بظاہر دقیق سوالات جیسے، عیسی خدا تھے یا آدمی؟ یا پھر انسان کے روپ میں خدا تھے؟ یا آیاکیا وہ دونوں تھے؟ وغیرہ بے انتہا درجہ پر سیاسی شکل اختیار کر چکے تھے اور یوں بازنطینی سلطنت حقیقت میں ، بیرون میں اگر فارس سے نبرد آزما تھی تو وہیں اندرون، ان اختلافات کے باعث خانہ جنگی کا سماں بن چکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ اختلافات اس قدر شدید ہو چکے تھے کہ بعض اوقات سلطنت میں صوبائی حکام بھی ریاستی وسائل اور اختیار تھامے، ایک یا دوسرے فرقے کی سیاسی و ریاستی حمایت میں کود پڑتے۔ یوں، ابتری بڑھتی جاتی۔
ایک نوجوان لڑکا جو ابھی تک اپنی منقسم زندگی میں سے محرومیاں چن رہا تھا۔ اس کے لیے ان حالات میں وحدانیت کا تصور انتہائی قوی رہا ہو گا۔ وحدانیت وہ حقیقت تھی جس کا تجربہ اور مشاہدہ محمد صلعم بہت پہلے ہی صحرا میں کئی سال زندگی بسر کر کے حاصل کر چکے تھے۔ مراد، ایک ایسی قوی طاقت کا وجود تھا جو کسی بھی انسان اور انسانی تشریح سے بڑھ کر تھی۔ آفاقی حقیقت کا یہ تصور ، علمی معنوں کے علاوہ، خود محمد صلعم کے دل میں عملی اتحاد کی خواہش کا ترجمان بھی تھا ۔ اس طرح متعلق اور غیر متعلق ہونے کا جو فرق انہوں نے اپنے بچپن میں شدت سے محسوس کیا تھا، وہ بھی مٹ رہتا تھا۔ یہ خیال اس قدر جامع تھا کہ ہر شخص ،کنبے اور قوم کے لیے موزوں تھا۔ اس تصور تلے لوگوں کے پاس موقع تھا کہ وہ ہر طرح کا اختلاف، رنگ و نسل کا فرق اور بگاڑ بھلا کر ایک بڑی طاقت کو مان لیں جو بذات خود انسانی عقل و فہم اور ادراک سے کہیں بڑی تھی اور بلا شبہ تمام تر انسانی اختلافات کو ضم کرنے کے بعد فوری طور پر زائل کرنے کا نتیجہ دینے کے قابل تھی۔ محمد صلعم جس طرف بھی دیکھتے انہیں سرا سر تضاد نظر آتا۔ یعنی ،جس طاقت کے تصور پر اتحاد اور قربت کو پنپنا چاہیے تھا، انسان اسی طاقت کے نام پر ایک دوسرے کا دشمن، دور ہوتا جا رہا تھا۔ انبیاء کی تعلیمات، جیسے موسی سے عیسی تک ہر نبی کے بیانات کو دہرایا جاتا، تبلیغ کی جاتی تھی۔ مگر معلوم ہوتا کہ بالآخر وقت گزرنے کے ساتھ رفتہ رفتہ مبلغ اور ان کے پیروکار، انہی برگزیدہ نبیوں کی تعلیمات پر کم سے کم عمل پیرا ہوتے جاتے ہیں۔ ایک مقدس اتحاد کا تصور یوں کیونکر پاش پاش ہو کر انسانی نا اتفاقی کا باعث تھا؟ آخر واحدنیت کا جامع نظریہ، فرقہ پرستی کو ہوا کیسے دے سکتا ہے؟ جس حقیقت کے سائے تلے انسانوں کو مل جل کر اتحاد سے بسر کرنی چاہیے تھی، کیا اسی کے ہاتھوں تفریق کا شکار ہو جانا انسان کی قسمت میں لکھ دیا گیا تھا؟
چاہے آپ اسے بحیرہ کی پر اسرار پیشن گوئی سے تعبیر کریں یا ابو طالب کی تیز طرار تاجر نگاہ سے موسوم کر رہیں، چچا نے بہت جلد بھانپ لیا کہ ان کا بھتیجا نہ صرف بلا کا مشاہدہ رکھتا ہے بلکہ بہت جلد سیکھنے کی صلاحیت سے بھی مالا مال ہے۔ محمد صلعم بھی ابو طالب کی ضرورتوں کو پورا کرنے میں پہل کرتے، پیش پیش رہتے۔ خوبی یہ تھی کہ جب ضرورت پیش آتی تو موجود ہوتے ورنہ پس منظر میں ہی رہا کرتے تھے۔ چچا کے ساتھ مل کر تجارتی مال کا حساب رکھتے اور سارے اسباب کا چٹھہ انہیں ازبر رہتا۔ یوں، یہاں محمد صلعم نے نوجوانی میں قدم رکھا، وہاں ابو طالب کا آپ صلعم پر انحصار بڑھ گیا۔ یوں، ابو طالب محمد صلعم کو تجارتی معاملات کے دوران ہمیشہ اپنے ساتھ رکھنے لگے۔ اس طرح، شام کے سفر اور تجارتی قافلوں میں خدمات محمد صلعم کی سماجی اور مذہبی درسگاہ کے ساتھ پیشہ ورانہ تربیت کا سامان بھی بن گئیں۔
محمد صلعم دیکھتے کہ کس طرح ابو طالب میل جول میں پہل کرتے ہیں۔ ملنے والے کی حیثیت اور رتبے سے بالاتر ہو کر پہلے ہی اپنا ہاتھ آگے بڑھا کر مصافحہ یا معانقہ کر لیا کرتے۔ یہ خالصتاً سیاسی چال ہوا کرتی تھی۔ اس طرح وہ دوسرے آدمی کو عزت بخشتے تھے اور اس کو خاص بالخاص ہونے کا تاثر دیا کرتے۔ وہ دیکھ سکتے تھے کہ تاجر وقت اور حالات کے مطابق مہمان نوازی برتا کرتے، آؤ بھگت کی جاتی اور اسی طور عزت وصول کی جاتی۔ کس طرح دو فریق کے لوگ اکٹھے بیٹھ کر چائے پیتے، ایک دوسرے کو شہد ملا دودھ اپنے ہاتھ سے پیش کیا جاتا اور انار کا رس سامنے لایا جاتا، کھجوروں کا مربہ کھلاتے یا انگوروں کے خوشے نفاست سے خدمت میں پیش کرتے، ساتھ معاملات کو طے کرتے جاتے۔ اسی طرح، اکثر تاجر ساتھ مل جل کر، ایک ہی تھالی سے کھانا کھاتے۔ یہ تاجروں کے بیچ گہرے تعلق اور اعتماد کی نشانی ہوا کرتی تھی۔ محمد صلعم گھنٹوں پر محیط مباحثوں اور مذاکرات کا حال دیکھتے رہتے ۔وہ داؤ پیچ اور گر سیکھ رہے تھے جن کی مدد سے کسی کو بھی قائل کیا جا سکتا تھا، معاملے میں پیچھے ہٹتے ہوئے شخص کو واپس اپنے مقصد کے دائرے میں لایا جا سکتا تھا اور معاملات کا دور رس جائزہ پیش کیا جا سکتا تھا۔ لین دین پر گھنٹوں بحث میں شامل ہونے سے جہاں محمد صلعم کی قائل کرنے کی صلاحیت پروان چڑھ رہی تھی تو وہیں اوقات یاد دلانے کے اشارے بھانپ کر انہیں سماجی طریق سمجھ آ رہے تھے۔ سب سے بڑھ کر یہ تھا کہ یہ بحث مباحثے اس وقت تک جاری رہتے جب تک کہ اعتماد بحال ہو جاتا اور فریقین قائل نہ ہو جاتے۔ حتمی نتیجہ، بالآخر معاہدہ طے پا جاتا۔ یعنی، یہاں محمد صلعم نے لوگوں کو مائل اور پھر قائل کرنے کا گر بھی اچھی طرح ازبر کر لیا۔
اسی طرح ابو طالب کے ساتھ تجارتی معاملات میں شامل ہونے کے باعث محمد صلعم نے اس مال کی قیمت بھی سمجھی جو وہ مکہ سے لے کر جایا کرتے تھے۔ اس تجارتی مال میں ہر طرح کا سامان ہوا کرتا تھا۔ جیسے بھاری مقدار میں کم قیمت مگرہر طرح کے مقصد کے لیے استعمال ہونے والا چمڑا اور اون، کم مقدار مگر بیش قیمت سونا اور چاندی جو حجاز کی پہاڑیوں سے کھود کر نکالا جاتا تھا ۔یہ سونا اور بھی قیمتی ہو جاتا جب اس پر دمشق کے سنار اور فنکار اپنی کاریگری آزما چکتے تھے۔ تجارتی مال میں سب سے ہلکا اور آسانی سے ترسیل ہو سکنے والا مال، لوبان اور مرکلی کی گوند تھا۔ ان نباتاتی رالوں سے بیش بہا منافع کمایا جا تا تھا۔ یہ گوند بظاہر معمولی اور فرومایہ جھاڑ سے بڑی محنت اور تردد کے بعد کھرچ اور ٹپکا کر حاصل کی جاتی تھی۔ مرکلی کی جھاڑی، یمن، ایتھوپیا اور صومالیہ کے صحرائی علاقوں میں عام تھی اور اس کی کاشت کے لیے موسم اور حالات موزوں تھے۔ شہری امراء میں مرکلی کی گوند سے نکالی گئی عطر اور دافع بدبو بہت مقبول تھیں یا پھر میت کو کفن میں لپیٹنے سے پہلے اس پر مرکلی کی گوند مل دی جاتی تھی۔ اسی طرح، لوبان کی بے حساب مقدار چرچوں میں جلانے کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ لوبان کے دھوئیں سے ہوا معطر ہو جاتی اور عیسائی اس کی خوشبو کو تقدیس جانتے۔ لوبان کے خریدار صرف عیسائی ہی نہیں تھے، بلکہ فارس کے آتش پرستوں کے یہاں بھی لوبان کا استعمال کثرت سے کیا جاتا تھا۔ عبادت کے دوران آتش پرست مٹھی بھر کر لوبان کو آگ میں جھونک دیا کرتے۔ اس سے نہ صرف ہر طرف خوشبو پھیل جاتی بلکہ آگ میں کئی رنگوں کے شعلے بلند ہوتے جو کہ آتش پرستوں کی عبادت میں انتہا سمجھی جاتی تھی۔ ابو طالب اور دوسرے تاجرلوبان کی کم از کم نو قسمیں اور ٹھوس یا مائع تیل کی شکل میں مرکلی گوند کی وسیع کھیپ سے جمع خرچ نکال کر اصل قیمت سے تین اور بسا اوقات چار گنا تک منافع کما لیا کرتے تھے۔
مکہ کے تاجران کا حال بھی ملاحظہ ہو۔ مکہ کے تجارتی قافلوں کا معاملہ عارضی یا ایڈ ہاک نہیں تھا۔ یہ باقاعدہ ایک اتحاد تجار تھا جس کو چلانے کے لیے شراکت داروں کی باقاعدہ انجمن قائم تھی۔ سرمایہ کاری کا نظام خصوصی اصولوں کے تحت لاگو تھا ۔ ان انتظامات کے باعث مخصوص طبقے کو ہی تجارت کی اجازت تھی ۔اس نظام کا صریح فائدہ صرف یہی طبقہ اٹھایا کرتا اور حقیقت میں، یہی طبقہ حاکم اور مجاز تھا۔ جن برسوں میں محمد صلعم ابو طالب کے یہاں کام کیا کرتے تھے، اس تجارت سے ملنے والا منافع کا بڑا حصہ قبیلہ قریش کے چار کنبوں میں برابر تقسیم کیا جاتا تھا۔ مکہ میں قریش کے علاوہ بھی کئی تھے جن کا بس محدود سا حصہ ہوا کرتا تھا۔ ان حصہ داروں میں چند قبائل کے علاوہ کئی افراد بھی شامل تھے۔ ٹکسال، بھتہ، صوبوں کے بیچ کسٹم اور سرکاری محنتانے وغیرہ تاجروں کی یہ انجمن ادا کیا کرتی تھی۔ یہ اخراجات شراکت داروں کے منافع سے پورے کیے جاتے تھے اور خود اس مجاز تنظیم کے انتظامی خرچے بھی سرمایہ داروں کی ذمہ داری تھے۔ شراکت داروں کے بیچ معاملات، جیسے منافع کی تقسیم، ذمہ داریوں کا تعین اور اکٹھ قائم رکھنے کے لیے بھی سفارت کی اشد ضرورت رہا کرتی تھی۔ چنانچہ، محمد صلعم نے یہ سفارت بھی بہت جلد سیکھ لی اور آپ محدود عرصے میں فریقوں کے بیچ ثالثی اور اختلافات پر کسی کہنہ مشق سفارت کار کی طرح معاملات طے کروانے لگے۔ بیس سال کی عمر تک پہنچے تو آپ صلعم ابو طالب کے تجارتی سفروں کے دوران پراعتماد خلیفہ بن چکے تھے۔ اب ابو طالب محمد صلعم پر اس قدر اعتماد کیا کرتے کہ آپ صلعم کو ابو طالب کے یہاں تقریباً بیٹے کا رتبہ حاصل ہو گیا۔ مگر، یہ رتبہ صرف قریباً بیٹے جیسا تھا۔
اگر ابو طالب اور محمد صلعم اس قدر قریبی اور ان کے بیچ برسوں پلنے والا نسبت اور اعتماد کا رشتہ نہ ہوتا تو شاید آپ صلعم کبھی بھی یہ بھول نہ کرتے۔ ان دونوں کے بیچ آپسی قربت، محبت اور تعلق خاصا بڑھ چکا تھا۔ اس قدر کہ شاید محمد صلعم بھول گئے کہ یتیمی کا سایہ ابھی تک ان کا پیچھا کر رہا ہے۔ یہی وجہ تھی کہ محمد صلعم کے اندازے اور امید کے برعکس، جب انہوں نے ابو طالب سے ان کی بیٹی فاخیتہ کا ہاتھ مانگا تو انہوں نے اس رشتے سے صاف انکار کر دیا۔
ویسے بھی یہ جوان محبت اور ستاروں کے میل کا قصہ نہیں تھا۔ چھٹی صدی عیسوی میں بیاہ عملی اور باہمی مفاد کے تحت طے پایا کرتے تھے۔ تاریخی حوالہ جات میں ہم فاخیتہ کے نام کے سوا، ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔
محمد صلعم نے فاخیتہ کا ہاتھ، خود فاخیتہ کی بجائے ابو طالب سے مانگا تھا۔ ایک لحاظ سے وہ ابو طالب سے اس بات کا تقاضا کر رہے تھے کہ وہ آپ صلعم کے ساتھ اپنے قریبی رشتے اور باہمی اعتماد اور تعلق کو باقاعدہ تسلیم کر لیں۔ یوں آپ 'تقریباً بیٹے' کی بجائے اس گھرانے کا باقاعدہ، لازم حصہ بن جاتے۔ آپ صلعم اس طرح ایک یتیم اور سماجی طور پر بے حیثیت نہ رہتے بلکہ وہ قبیلہ قریش میں اپنے کنبے، بنی ہاشم کے سربراہ کے یہاں، داماد ہوا کرتے۔
اسی طرح ابو طالب کے اس فیصلے کی بنیاد بھی یہ نہیں تھی کہ محمد صلعم اور فاخیتہ چچا زاد ہیں۔ تاریخ میں گریگر مینڈیل اور جینیات کے علم کو منظر عام پر آنے میں ابھی گیارہ صدیاں باقی تھیں اور چھٹی صدی عیسوی میں عرب اور باقی دنیا میں بھی تقریباً ہر جگہ جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا تھا، عم زادوں کے بیچ شادیاں عام بات تھی۔ بلکہ، اس طرح کی شادیاں مقبول بھی تھیں کہ یوں کنبوں کے بیچ آپسی تعلق اور رشتے مضبوط رہ سکتے تھے۔ یورپ میں بیسویں صدی کے دوران رونما ہونے والی خاندانی تعلقات اور سماجی ڈھانچے میں تبدیلی اور تنزلی کی سب سے بڑی وجہ خاندان کے اندر شادیوں کا فقدان بھی ہے۔ اس لحاظ سے ابو طالب کے انکاری فیصلے کا جائزہ لیا جائے تو اس کی صرف ایک ہی وجہ نظر آتی ہے۔ انہیں اپنی بیٹی کی اس شادی میں کسی بھی طرح کا کوئی فائدہ نظر نہیں آیا۔ وہ محمد صلعم پر حد درجہ اعتماد اور ان سے بے تحاشہ محبت کر لیں، وہ بہرحال اپنی بیٹی کی شادی ایک یتیم کے ساتھ طے نہیں کر سکتے تھے، جس کا اپنا ذاتی ذریعہ معاش اور اپنے نام پر وراثت بھی نہیں تھی۔ ابو طالب اپنی بیٹی کو مکہ کے امراء میں بیاہنا چاہتے تھے اور جلد ہی انہوں نے اپنی حیثیت کے مطابق، ایسا کر بھی دیا۔
یوں، کئی برس پہلے اگر بحیرہ نے محمد صلعم کے لیے شاندار مستقبل کی پیشن گوئی کی بھی تھی تو صاف طور پر ابو طالب نے اس بات کو سنجیدہ نہیں لیا تھا۔ اسی طرح ، اگر محمد صلعم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ شاید وہ اپنے محروم بچپن اور یتیمی کے طوق کو کہیں پیچھے چھوڑ آئے ہیں تو اب ان کا یہ خیال خام بھی دم توڑ گیا۔ ابو طالب کا محمد صلعم کو رشتے سے انکار کا مطلب ایک حد کا تعین تھا۔ یعنی، وہ محمد صلعم کو اپنا جانتے تھے مگر حقیقت میں انہیں اپنانے لائق نہیں سمجھتے تھے۔
وقت آئے گا کہ ابو طالب کو اس رشتے سے انکار پر پچھتاوا ہو گا۔ محمد صلعم نے اس انکار کو نہایت مدبرانہ انداز اور صبر سے قبول کر لیا اور یوں جلد ہی اپنے چچا ابو طالب سے متعلق دل میں خلش کو مٹا دیا۔ اس طرح ان کے بیچ قربت اور اعتماد کا رشتہ مزید پختہ ہو گیا۔ جس طرح محمد صلعم کے ساتھ اب تک پوری زندگی ہوتا آیا تھا اور مستقبل میں بھی یہی طرز رہے گی، رد کر دیا جانا خود ان کے لیے طویل مدت میں فائدے کا سبب بنتا رہا۔ ابو طالب کا محمد صلعم کو رشتے سے انکار آپ صلعم کی زندگی کا وہ موڑ بن گیا جس نے تاریخ کا دھارا طے کیا۔ آپ اس معاملے کو اپنی تسکین کے لیے قسمت کا لکھا یا قدرت کا فیصلہ کہہ سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اگر محمد صلعم ابو طالب کے یہاں شادی کر لیتے تو شاید آنے والے سالوں میں، جب حالات ابتر ہوتے جائیں گے، تاریخ میں دین اسلام اور نام محمد کو پنپنے کے لیے جس نا گزیر ساتھ کی ضرورت تھی، اپنی چچا زاد کی صورت وہ رفاقت میسر نہ ہوتی ۔ ابو طالب کے یہاں رشتے سے انکار کے بعد، محمد صلعم نے جب شادی کی تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس خاتون کے بغیر آپ صلعم کو ہر گز وہ حوصلہ اور عزم میسر نہیں آ سکتا تھا جس کے بل پر آگے چل کر محمد صلعم دنیا میں اتنا بڑا کردار ادا کرنے والے تھے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر