اول المسلمین - جلا وطن - 8



بعد اس رات کے، دو سال تک کچھ نہیں ہوا۔ توقع تو یہ تھی کہ شاید اب وحی تواتر سے نازل ہونا شروع ہو جائے گی۔ جس طرح کلیشے استعمال ہوتا ہے کہ چشمہ پھوٹ پڑا ہے یا پھر وہ سانس جو جاری ہوئی تھی، اب مسلسل چلتی رہے گی۔ مگر، توقعات کے برعکس دو سال تک مکمل خاموشی رہی۔ محمد صلعم کے لیے ان دو برسوں پر محیط زمانے کی مثال بنجر زمین کی سی تھی۔ اس عرصے کے دوران آپ صلعم صرف اپنے ساتھ پیش آنے والی واردات بارے صرف سوچتے ہی رہ گئے۔
ایک ایسا شخص جو زندگی کے ابتدائی سالوں میں ہی دو بار یتیم ہو چکا تھا۔ اس کے لیے یہ دو برس گویا ایک بار پھر ترک کر دیے جانے کے مترادف تھے۔ محرومی سے بھرے بچپن کے اثرات مکمل طور پر کبھی ختم نہیں ہو سکتے۔ لاتعلق ہو جانے کا احساس، بھر پور کوشش کے باوجود بھی باقی رہتا ہے۔ اس محرومی کو اندر ہی اندر دھکیل کر دبایا تو جا سکتا ہے مگر اس کا مکمل طور پر خاتمہ ممکن نہیں ہوتا ۔ محمد صلعم کے لیے اس عظیم الشان رات میں ایک نیا در تو وا ہوا تھا ۔مگر کھلنے کے ساتھ ہی ایک دم پھر سختی سے بند ہو گیا تھا۔ آپ صلعم کو جو رتبہ عطا کیا گیا تھا ،اب ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی اٹکائی آ گئی ہے۔ نتیجتاً، محمد صلعم ایک مہیب تنہائی کا شکار ہو گئے۔ الہامی آواز کو ایک بار پھر سننے کی شدید خواہش دل میں لیے، یاس میں مبتلا ہو گئے۔
'یہ روح کے لیے ایک سیاہ رات ہوتی ہے۔' یہ عبارت صدیوں بعد سینٹ یوھان صلیبی نے درد، تنہائی اور شبہ کی کیفیت میں مبتلا ہو جانے والے ان صوفیاء کے لیے استعمال کی تھی جو تقدیس کا تجربہ، روحانیت کے درجات میں مقام حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ یہاں شبہ پر زور دیا گیا ہے جو کئی لحاظ سے حقیقی ایمان اور یقین کے لیے ضروری ہے۔ گو، ایمان یا یقین کے ساتھ شک اور شبہے کی اصطلاح کا استعمال پہلی نظر میں چونکا دینے والا معلوم ہوتا ہے مگر ان خدشات پر غور کریں جو اس کے بغیر مذہب کو لاحق ہو سکتے ہیں۔ مذہب انتہا پسندی، کٹر پن اور بے رحم حد تک غیر انسانی شکل اختیار کر سکتا ہے ۔جس طرح گراہم گرین نے اپنے ناولوں میں ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا تھا جو ایمان اور یقین کے ساتھ تگ و دو میں مصروف رہتے ہیں، ان کے لیے اس معاملے میں شبہ، ایمان کا قلب بن جاتا ہے۔ یہ شبہ ہی ہے جو مذہب کو بشری صفات عطا کرتا ہے۔ ایک لحاظ سے کہیے تو اس کی مثال ایمان کی آگ میں حرارت کی ہے۔ اس کے بغیر مذہب میں صرف اور صرف خوفناک قطعیت باقی رہ جاتی ہے۔ آدمی اپنی اصلیت یعنی انسانیت اور خیال سے عاری ہو جاتا ہے۔
مشہور ڈنمارکی فلسفی، سورین کیرکغور نے کہا تھا کہ اندھے یقین کے لیے کسی اعتقاد کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک اونچے درخت کی کمزور شاخ پر سوار ہو کر اس کے نہ ٹوٹنے کا یقین رکھنا صرف اور صرف قطعی اجڈ پن اور سادگی سے ممکن ہے ۔ مگر دوسری جانب، اسی کمزور شاخ پر یہ جانتے ہوئے کہ اس شاخ کے ٹوٹنے کا امکان موجود ہے، پھر بھی چڑھ جانا در اصل ایمان یا یقین ہے۔ آپ اپنی سہولت کے لیے اسے خدا پر ایمان یا پھر قسمت پر یقین اور اگر کچھ نہیں تو اوسط قوانین قدرت میں ممکنات سے تعبیر کر سکتے ہیں۔ جہاں قطعیت سے مراد سوچنے، سوال اٹھانے اور استدلال سے انکار ہے، قران بھی حکم دیتا ہے کہ بے اعتقادی یا کفر کے ساتھ بھڑنے، مثال سقراطی مکالمے سے گریز کرو تو وہیں، ایمان سے متعلق سمجھ بوجھ میں غلطی ، بھول چوک کے امکانات میں چوکس رہنا، اس بارے آگاہی بھی بنیادی ضرورت بن جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شاید 'عبرانیوں کے نام خط' میں ایمان کی تعریف یوں ہے کہ، ' ایمان کے معنی ہیں کہ جن چیزوں کی امید ہو اس پر یقین اور جو چیز ہم دیکھ نہیں سکتے، اس کی حقیقت کو ماننا '
خود سے متعلق شبہ کے بغیر ایمان صرف ایک حجت بن کر رہ جاتا ہے۔ صادق اور مستقیم ہونے کا قطعی یقین بالآخر لڑھک کر پارسائی کا جن اور خود سری کا دیو بن جاتا ہے ۔ بد ترین صورت یہ ہوتی ہے کہ آخر کار راستگی کا تکبر آن گھیرتا ہے۔ غور کیجیے، ورقہ نے کہا تھا، 'اے خدیجہ، اگر تم نے جو احوال بیان کیا ہے وہ سچ ہے تو پھر ۔۔۔' اسی طرح خدیجہ کے الفاظ، 'مجھے امید ہے کہ آپ صلعم لوگوں کے لیے خدا کے پیغمبر مقرر کیے گئے ہیں۔۔۔' دونوں ہی صورتوں میں، 'اگر' اور 'امید' وغیرہ کے تخاطب سے ان اصحاب کا بیان مشروط ہے۔ ان کو یقین تو ہے مگر پھر بھی امکانات کو لے کر قدرے تذبذب کا شکار ہیں۔ اگر تو محمد صلعم پر اس رات کے فوراً بعد وحی تواتر سے نازل ہوتی رہتی تو یقیناً پہلی کی بھی تصدیق ہو جاتی مگر یہاں ہفتے اور پھر مہینے گزر تے گئے مگر کوئی نیا الہام نہ آیا۔ چنانچہ، تقریباً دو برس تک محمد صلعم امید اور نا امیدی کے بیچ معلق رہے۔
اس عرصے کے دوران مکہ کی اشرافیہ بھی حالات کو لے کر شک و شبہ کا شکار تھی مگر ان کے لیے نوعیت مختلف تھی۔ شمال میں دنیا تیزی سے بدل رہی تھی۔ مستقبل کے بارے میں جس طرح محمد صلعم ذاتی طور پر بے یقینی کا شکار تھے ، بالکل ویسے ہی اہلیان مکہ کو بھی اجتماعی سیاسی اور معاشی مسائل میں اشتباہ کا سامنا تھا۔ بازنطین اور فارس کی سلطنتوں کے بیچ چپقلش اور حکومت ہتھیانے کی کشمکش ایک عرصے سے جاری تھی ۔ مگر، اب یہ صورتحال خاصی تیزی سے بگڑ رہی تھی۔ 610ء میں ہرقل نے اپنے پیشرو کو تخت سے الگ کر کے خود کو بازنطینی سلطنت کا نیا شہنشاہ مقرر کر دیا تھا۔ سلطنت کا انتظام سنبھالتے ہی اس نے فارس سے بازنطینی علاقے واپس لینے کا اعلان کر دیا تھا۔ دوسری جانب فارس میں یہ ساسانی شہنشاہ خسرو دوم کا دور چل رہا تھا جو عام طور پر 'پرویز' کے نام اور 'فاتح اعظم' کے خطاب سے مشہور تھا۔ یہ خطاب پرویز کو پے در پے فتوحات کی بناء پر عطا ہوا تھا۔ پرویز کی کمان میں افواج فارس نے پہلے عراق اور قفقاظ، پھر شام اور مشرقی اناطولیہ (آج اناطولیہ میں ترکی اور ارمینیا کے ممالک ہیں) فتح کر لیے تھے۔ شمال سے آنے والے زائرین اور تجار اپنے ساتھ یہ خبریں لا رہے تھے کہ جلد ہی افواج فارس یروشلم اور دمشق پر دھاوا بول دیں گی۔ اگر ایسا ہو جاتا ہے تو پھر مکہ کی تجارت کا سارا نظام درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ مکہ کے تجار کو دمشق میں قائم ہونے والی نئی حکومت اور حکام کے ساتھ نئے سرے سے روابط اور تعلقات بنانے اور تجارتی راہداری کو متحرک رکھنے میں خاصا عرصہ لگ سکتا تھا۔ محفوظ اور منافع بخش تجارت کے لیے سیاسی استحکام سب سے پہلی ضرورت ہوا کرتی ہے، جو اس سے پہلے بغیر کسی تردد کے ہمیشہ ہی دستیاب رہی تھی۔ مکہ کو تجارت کے لیے صرف سفارت کاری اور اعتماد بحال کرنے کی طویل مشق سے گزرنا پڑا تھا ۔ مگر اب چونکہ یہ استحکام مفقود ہو رہا تھا تو شاید ساری محنت اور سفارت اکارت ہو جانے کا خدشہ لاحق ہو گیا تھا۔
محمد صلعم اپنے گرد بڑھتی ہوئی اس سیاسی اور معاشی بے یقینی سے یقیناً آگاہ تھے۔ کعبہ کے احاطے میں حالات حاضرہ کا تذکرہ چوبیسوں گھنٹے جاری رہتا تھا۔ اسی طرح، مکہ کی تجار کونسل کا تقریباً وقت شمال میں، دمشق کی جانب روانہ کیے جانے والے تجارتی قافلوں کی حفاظت اور منزلت بارے غور و فکر میں صرف ہوتا تھا۔ یعنی، یہ انجمن ممکنہ طور پر بد تر ہو جانے والے حالات سے نبٹنے کی تیاری میں مشغول رہا کرتی تھی۔ لیکن، ان تیاریوں اور غور و فکر میں محمد صلعم کو شامل نہیں کیا جاتا تھا کیونکہ اول تو آپ صلعم اول تو مکہ کے قیادتی کردار میں نہیں تھے۔ پھر، حرا کی پہاڑی پر پیش آنے والے واقعہ کے بعد سے محمد صلعم کے لیے ذاتی طور پر بطور آڑھتی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھنا تقریباً ناممکن ہو چکا تھا۔ محمد صلعم خود کو اس کام کے لیے نہ تو توانا اور قابل پاتے تھے بلکہ آپ صلعم کی تجارت میں دلچسپی بھی ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ بجائے، اب آپ صلعم حرا کی پہاڑی پر زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے لگے ۔ ان کو یہ امید تھی کہ وہ آسمانی، الہامی آواز جو گم ہو کر رہ گئی تھی۔ کسی روز، ایک بار پھر آپ صلعم سے مخاطب ہو گی۔ مشکل یہ تھی کہ آپ صلعم جس قدر توجہ اور دلجمعی سے تلاش کرتے، عبادت میں مشغول رہتے، موجودگی اور عبدیت کا احساس اتنا ہی کم تر محسوس ہوتا جاتا تھا۔ محمد صلعم کو ہر روز طلوع ہونے والی نئی صبح کے ساتھ مایوسی کا منہ دیکھنا پڑتا۔ شدید ناکامی کا احساس اور دل کو توڑ دینے والی آگاہی کا سامنا کرنا پڑتا کہ شاید آپ صلعم کا اس بابت پہلے پہل گماں، یعنی جنوں کا شکار ہونے والی بات، غالباً درست تھی۔
اگر محمد صلعم یہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کے استقلال اور مضبوطی کا ایک امتحان تھا تو یقیناً، محمد صلعم کو یہ احساس در کر آتا ہو گا کہ وہ اس آزمائش میں بری طرح ناکام ہو رہے ہیں۔ یا شاید، یہ صرف اور صرف ان کے اپنے خوف کا امتحان تھا؟ ریڑھ کی ہڈی میں بیٹھ جانے والا یہ سرد خوف کہ شاید آپ صلعم کو ، وحی اور الہام کا وہ زبردست تجربہ دوبارہ حاصل نہیں ہو سکے گا ۔ان کی قسمت میں یک بار، صرف اور صرف یہی سرسری جلوہ تھا جو وہ پہلے ہی تجربہ کر چکے تھے۔ ڈر یہ تھا کہ جو ناقابل تصور تحفہ عطا ہوا تھا ، اب واپس لے لیا گیا ہے۔ یا پھر، آپ صلعم کو یہ احساس بھی ہوتا ہو کہ شاید، پہلے پہل وحی کی سچائی پر یوں شک کرنے کی سزا دی جا رہی تھی۔ کیونکہ، آپ صلعم کو یہ گماں ہوا تھا کہ شاید وہ جنوں کا شکار ہو گئے ہیں یا پھر ان پر کسی جن کا سایہ ہو چکا ہے۔ آپ صلعم کو یہ شبہ بھی ہوا تھا کہ وہ شاعر ہیں یا پھر یہ انسانی ڈر بھی تھا کہ غالباً آپ صلعم سے بہت بڑی توقع پال لی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ، یہ خیال بھی تو کوندا ہی تھا کہ شاید مکہ کے بازاروں میں آپ صلعم کا مذاق بن جائے گا۔ ٹھٹھے اڑیں گے اور جگ ہنسائی ہو گی۔ شاید، چند لوگ آپ صلعم سے ہمدردی کا اظہار بھی کرتے پھریں، جو انہیں قطعاً منظور نہیں تھا۔ چنانچہ، جس قدر آپ صلعم اپنے دل میں اس آواز کو ایک بار پھر سننے کی خواہش رکھتے تھے، اسی خواہش سے کئی طرح کے خوف بھی منسلک تھے۔ کیا جس چیز کو حاصل کرنے کی محمد صلعم کو بے پناہ چاہ تھی، اسی سے بے انتہا خوفزدہ بھی تھے؟ پھر، یہ ہیبت طاری کر دینے والا تجربہ بھی تو رہا تھا۔ کیا وہ اس درد اور خوف کو دوبارہ سہ پائیں گے؟ محمد صلعم اپنی زندگی کے آخری دور میں کہا کرتے ، 'ہر بار وحی کے نزول میں مجھے ایسا محسوس ہوا کہ شاید میری روح کھینچ کر نکال لی گئی ہے۔۔۔' بھلا اس طرح کا خوف اور درد ،بار بار کون سہنا چاہے گا؟ ورقہ نے کہا تھا، 'بلاشبہ وہ اچھے دل کے مالک ہیں۔ آپ صلعم سے کہو کہ اپنے دل کو مضبوط رکھے۔۔۔' یہ درست بھی تھا۔ نہ صرف روحانی اور اعصابی بلکہ جسمانی طور پر بھی، وحی جیسے شدید تجربے کا کھنچاؤ اور نفسیاتی دباؤ ، ادھیڑ عمر شخص پر دل کا دورے کا باعث بھی بن سکتا تھا۔
بہرحال، محمد صلعم کے روز و شب اسی بے یقینی کے ساتھ جوکھم میں گزر رہے تھے۔ وہ الفاظ ان کے اندر سے بر آمد ہوئے تھے یا غالباً وہ یقینی طور پر جیسا کہ انہوں نے محسوس کیا تھا، بیرون سے کسی بڑی ذات کے پڑھائے ہوئے تھے مگر ایک بات طے تھی کہ محمد صلعم خود ان الفاظ کو کہنے، ادا کرنے کے قابل نہیں تھے۔ ایک ایسا لڑکا، جس نے خاموش رہ کر، پس منظر میں جینا، بقا قائم رکھنا سیکھ رکھا تھا، اس کو اچانک ایک آواز عطا کر دی گئی تھی۔ لیکن، کیا یہ خود محمد صلعم کی آواز تھی جو عطا ہوئی تھی یا پھر یہ خدا کی آواز تھی؟ یا خدا، محمد صلعم کے اندر بول رہا تھا؟ کیا خدا محمد صلعم کا حصہ بن چکا تھا؟ کیا یہ مقدس الفاظ محمد صلعم کے دل پر واقعی نقش کر دیے گئے تھے؟ ڈال دیے گئے تھے یا بجائے اس کے، محمد صلعم کے اپنے الفاظ میں اب ربانی ذوالجلال کی جھلک تھی؟ آخر، انسان کہاں ختم ہوا اور خدا کی شروعات کس جگہ پر ہوئی؟ یہ حد کیا تھی؟ یا پھر یہ کس قدر بڑی حد تھی ؟ جو بھی تھی، ربط نہ ہونے کی وجہ سے اب یہ مبہم ہو چکی تھی۔
یہ خاصا عجیب معاملہ ہے۔ اس کی روایتی تصویر خاصی لغوی ہے۔ یعنی، خدا نے محمد صلعم سے کلام کیا یا من و عن کہیں تو، خدا محمد صلعم کے ذریعے بولنے لگا۔ مگر جب محمد صلعم وہ تھے جن کے ذریعے خدا بول رہا تھا تو پھر یقیناً آپ صلعم خود سے پوچھتے ہوں گے کہ کیا جو آواز وہ سنتے ہیں، ان کی اپنی آواز ہے جس کی اندرون ہی ہئیت بدل گئی ہے؟ یا کلام میں اس تبدیلی میں قطعی طور پر کسی بیرون، برتر ذات کا عمل دخل ہے؟ یا پھر، آخر میں، ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے؟ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا؟ یا اس کو سمجھ پانا انسان کے بس کی بات ہی نہیں ہے؟
مسیحیوں کے فرقے 'عارفین' کی بصیرت نظر پر تاریخ کے تمام ہی لوگ، بالخصوص معرفت کو ماننے والے اور تصوف میں سلوک کی راہ پر گامزن سارے ہی روایتی مفکر متفق چلے آ رہے ہیں۔ یہ نظریہ کچھ یوں ہے کہ مقدس روشنی، ہر انسان کے اندر پھوٹ سکتی ہے۔ لیکن اگر کچھ لوگ اس کا مطلب یہ لیتے ہیں کہ اس قابلیت کے باعث شاید انسان اور خدائے ذوالجلال کے بیچ کوئی حد باقی نہیں رہتی، تو محمد صلعم اس گھمنڈ اور زعم سے پوری طرح آگاہ، چوکس تھے۔ یہ گھمنڈ اور تکبر خطرناک حد تک انفرادی طور پر تباہی کا باعث ہو سکتا ہے اور اس کے اجتماعی اثرات سماج میں بگاڑ پیدا کر سکتے ہیں۔
دو برس کے عرصے میں محمد صلعم کی ذاتی کوشش، مسلسل تفکر اور جاں کندنی کے باعث بالآخر یہ ہوا کہ انہوں نے اس کیفیت کو یوں ہی قبول کر لیا۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک یہ مشکل اور دقیق سوال خود ان کے اندر حل نہ ہو جاتے، آپ صلعم اپنے اندر یہ جواب تلاش لیتے، یہ سکوت، خاموشی یوں ہی رہنا طے تھا۔ کیوں کہ، بعد اس کے آپ صلعم پیغمبر اور رسول کہلائے جائیں گے۔ خدائے ذوالجلال کا مرسل ہوں گے جو ان کی اپنی انسانی فطرت کے خلاف تھا۔ آپ صلعم بچپن سے ہی ایک ایسا لڑکا رہے تھے جو پس منظر میں رہ کر حالات کے ساتھ گھلتا ملتا آیا تھا اور ہمیشہ ہی درپیش حالات سے سمجھوتہ کرنا ان کی عادت بن چکی تھی۔ اب ان کو نہ صرف یہ کہ خدا کے یہاں سے عطا ہونے والی اس شخصی قدر و منزلت کو قبول کرنے میں ظرف دکھانا تھا بلکہ پیش منظر میں رہ کر دنیا کی سفاک نظروں کا سامنا کرتے ہوئے بھی صبر، تحمل سے کام لینا تھا۔
چنانچہ، جب یہ ہو رہا تو بالآخر، اگلی وحی آ گئی۔ اس بار جو کلام نازل ہوا، اسے سورۃ الضحی یا صبح کی سورت کہا جاتا ہے۔ اس سورت میں گیارہ مختصر مگر لبھانے والی آیات شامل ہیں ۔یہ کلام کچھ یوں تھا کہ،
'آفتاب کی روشنی کی قسم۔ اور رات (کی تاریکی) جب چھا جائے۔ کہ (اے محمد صلعم) تمہارے پروردگار نے نہ تو تم کو چھوڑا اور نہ (تم سے) ناراض ہوا۔ اور آخرت تمہارے لیے پہلی (حالت یعنی دنیا) سے کہیں بہتر ہے۔ اور تمہیں پروردگار عنقریب وہ کچھ عطا فرمائے گا کہ تم خوش ہو جاؤ گے۔بھلا اس نے تمہیں یتیم پا کر جگہ نہیں دی؟ (بے شک دی)۔ اور رستے سے نا واقف دیکھا تو رستہ دکھایا۔ اور تنگ دست پایا تو غنی کر دیا۔ تو تم بھی یتیم پر ستم نہ کرنا۔ اور مانگنے والے کو جھڑکی نہ دینا۔ اور اپنے پروردگار کی نعمتوں کا بیان کرتے رہنا۔'
یقیناً، محمد صلعم کو نہ تو ترک کیا گیا تھا اور نہ ہی وہ راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ اور ان آیات کو بغور دیکھیں تو گویا یہ دو سال کی مہیب خاموشی اور تنہائی کی تلافی معلوم ہوتی ہیں۔ یہ چند آیات، مستقبل کی پیشن گوئی بھی کرتی ہیں۔ تسلسل کا وعدہ کرتی نظر آتی ہیں۔ دھیان سے دیکھیں تو یہ تمول، فراوانی اور تغزل، غنائیت سے سرشار اور لبریز معلوم ہوتی ہیں۔ جس طرح کہا جاتا ہے کہ 'یہ حیرت ناک اور مسحور کن ہیں۔ زمین خود خدا کی تجلی معلوم ہوتی ہے اور اس میں انسان خدا کی بس ایک برگزیدہ مخلوق، یعنی اس کی حیثیت ایک خلیفہ، محافظ یا مہتم کی ہے۔' یہ چند قرانی آیات اور باقی بھی تقریباً، اس دور میں نازل ہونے والے الہامی کلام میں دوسری کسی بھی مقدس کتاب کے برعکس قدرتی دنیا کی مثالوں، ماحول شناسی کا سہارا لیا گیا ہے۔ جس طرح ایک دوسری سورت ، سورۃ الشمس میں کہا گیا، 'سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی۔ اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔ اور دن کی جب اسے چمکا دے۔ اور رات کی جب اسے چھپا لے۔ اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا۔ اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا۔ پھر اس کو بدکاری (سے بچنے) اور پرہیز گاری کرنے کی سمجھ دی۔ کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا، وہ مراد کو پہنچا۔ اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا'
یا پھر اس پراسرار عنوان والی سورت، یٰسین میں کہا گیا، 'اور ایک نشانی ان کے لیے مردہ زمین ہے کہ ہم نے اس کو زندہ کیا اور اس میں سے اناج اگایا۔ پھر یہ اس میں سے کھاتے ہیں۔ اور اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کر دیے '۔ اسی طرح، مشہور و معروف چوبیسویں سورت، سورۃ النور میں زبردست طریقے سے انسان کے ارد گرد کی تشبیہات استعمال میں لائی گئی ہیں، 'اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ (کائنات میں) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو، چراغ ایک فانوس میں ہو، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو شرقی ہو نہ غربی، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے '
چونکہ تخلیق کی اسراریت ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔ اسی لیے، ہر آیت کے بعد دوسری اور یکے بعد دیگر کئی آیات میں قدرتی اور ماحولیاتی اجزاء جیسے پہاڑوں، زلزلوں وغیرہ کی طاقت کا تذکرہ کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح، برسنے والی بارشوں اور فصلوں کی عطا، دن اور رات کا سادہ تسلسل، سورج اور چاند، پھلت، زرخیزی اور قحط کا تذکرہ۔ الغرض، خدا کی موجودگی ثابت کرنے کے لیے ہر طرح سے انسانی ماحول، گرد و پیش سے ایک کے بعد دوسری مثال پیش کی جا رہی تھی۔ یہی نہیں بلکہ اشاروں سے بھی، یکے بعد دیگرے، آیات کی شکل میں نشانی بیان ہونے لگی۔ قران کے بیان میں استعمال ہونے والی ہر عبارت کو آیت کہا جاتا ہے۔ آیت کا لفظی مطلب نشانی کے ہیں۔ چونکہ، خود یہ آیات بھی خدائے ذوالجلال کی موجودگی کی نشانی تھیں ۔ اس لحاظ سے خود قران کو معجزہ قرار دیا گیا ہے۔
اوائل دور کے الہام اور وحی میں نازل ہونے والی آیات کی مثال نہایت عمدہ، نازک اور نفیس نظموں کی سی ہے۔ ان میں سے کچھ بہت ہی مختصر مگر اس قدر گہری ہیں کہ ان پر ہائیکو کا گماں ہوتا ہے۔ بعد ازاں، یہ آیات لمبی ہوتی چلی جائیں گی اور گہرائی کا ماپ درپیش معاملے کے مطابق کم یا زیادہ ہوا کرے گا۔ یہ طویل آیات، قران کو ایک کتاب کی شکل میں ترتیب دیتے ہوئے ان سورتوں کا حصہ بن جائیں گی جنہیں قران کے پہلے حصے میں شامل کیا گیا ہے۔ قران کی موجودہ ترتیب محمد صلعم کے وصال کے بعد کی گئی تھی۔ یہ ترتیب تاریخ یا ادوار نزول کے مطابق نہیں بلکہ طویل سے مختصر ، یعنی پہلے طویل اور پھر مختصر آیات کو جمع کیا گیا ہے۔ شاید، یہ اس وجہ سے ہے کہ اس طرح اس کلام کا جمالیاتی حسن اور بھی واضع ہو جاتا ہے یا پھر ارادہ یہ تھا کہ ہر آیت کو برابر وزن میں اس طرح ترتیب دیا جائے کہ اس میں بعد کے ادوار میں نزول کی ترتیب کی چنداں ضرورت باقی نہ رہے۔ اس بابت جو بھی وجہ رہی ہو، یہ بات طے ہے کہ قران کی یہ ترتیب عجمی لوگوں کے لیے خاصی مسحور کن ہے۔ اگر عجمی اس کلام کی پراسرار یت کو سمجھنا چاہیں تو ان کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ قران کو آخر سے پڑھنا شروع کریں تو حالیہ ترتیب کے مطابق اس کلام کے تراجم میں بھی بہاؤ دائیں سے بائیں جانب اس طرح معلوم ہوتا ہے کہ جیسے، عربی زبان میں پڑھ رہے ہوں۔
پہلے چند برس تک محمد صلعم کو وحی کے نزول سے قبل، اس کی آمد بارے اندازہ لگانے میں مشکل ہوا کرتی تھی۔ آیات کبھی تو پے در پے، آگے پیچھے نازل ہوتیں یا پھر کبھی کبھار ہفتے اور یہاں تک مہینے گزر جاتے اور کوئی نئی وحی نہ آتی۔ لیکن وحی کے اوقات نزول بارے پیشن گوئی میں ناقابلیت اس عمل کا باقاعدہ حصہ تھی۔ یہ اس کی خوبصورتی تھی۔ اگر تو وحی باقاعدگی سے نازل ہوا کرتی تو یہ گویا کسی مصنف کے روزمرہ معمولات میں سے ایک معلوم ہوتی جو ہر روز لکھنے کی سعی، مشق کرتا ہی ہے۔ یا شاید اس باقاعدگی پر مثال، انسان اور خدائے ذوالجلال کے بیچ ایک ایسی ٹیلی فون ہاٹ لائن کا گماں ہونے لگتا جس پر کبھی اور کسی بھی وقت ضرورت پڑنے پر رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ آیات کے ذریعے ہی محمد صلعم کو وحی کے نزول اور اس بابت احتیاط سے کام لینے کی تاکید کی گئی۔ جیسے ایک آیت، 'قران پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو۔ جب تک کہ تمہاری طرف اس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے'۔ یا پھر، 'پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو' اور 'صبر کرو' اور 'صبر سے کام لو'۔ بلکہ، صبر کی تاکید تو قران میں بارہا کی گئی ہے۔ قرانی آیات کا نزول ایک طرح سے الہام کے ساتھ اس عمل کے دوران خود سپردگی اور اطاعت کا سبق بھی تھا۔ یہ سبق کہ بجائے رد عمل اور عجلت، صبر اور تحمل سے کام لے کر آیات کو کامل، ایک شکل میں ڈھلنے دیا کریں۔
یہاں، صرف وحی کے نزول کو خاطر میں لائیں تو ایک لحاظ سے محمد صلعم کی مثال پیغمبر سے زیادہ ایک مترجم کی سی تھی۔ جو، وحی یا الہام یعنی بیان ،تعریف اور سمجھ سے باہر شے کو انسانی سمجھ بوجھ کے مطابق شکل یعنی، الفاظ میں ڈھال دیتے تھے۔ مگر اس کے لیے انہیں انتہائی کڑے عمل سے گزرنا، تردد اٹھانا اور تگ و دو کرنی پڑتی تھی۔ پھر، وحی کی بدولت ہی محمد صلعم کی شخصیت میں بھی ایک عجب رنگ، نکھار آتا جا رہا تھا۔ وہ ایک ہی وقت میں منکسرالمزاج مگر مصمم، ناتواں مگر متین و موثر، حیرت زدہ مگر بیدار مغز ہوتے جا رہے تھے۔ بعض اوقات وحی کے دوران، سرد موسم میں بھی ان کے پسینے چھوٹ رہے ہوتے اور بسا اوقات وہ شدت سے کانپنے اور لرزنے لگتے۔ کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا کہ محمد صلعم گھٹنوں میں سر دے کر گھنٹوں بے سدھ اور گہری سوچ میں ڈوبے بیٹھے رہتے مثال، 'بوجھ تلے دب کر رہ گئے ہوں'۔ کبھی کبھار ان کی آنکھیں اس طرح سکڑنے لگتیں جیسے یہ بے پناہ درد اور غم کا شکار ہوں۔ ایسے مواقع بھی آتے کہ خوف سے روئیں کھڑی رہ جاتیں اور آنکھیں پھیل رہتیں۔ وحی کے نزول کے دوران آپ صلعم کی کیفیت جو بھی رہا کرتی ہو، بعد اس کے جب الہام الفاظ کی شکل میں ڈھل رہا ہوتا تو وہ شدید ضعف اور کمزوری محسوس کرنے لگتے۔ پھر، جوں ہی یہ مرحلہ طے ہو جاتا تو آپ صلعم فوراً ہی ان الفاظ کو دنیا کے حوالے کرنے، سنانے کے لیے بیتاب ہو جاتے۔ درد اور تکلیف، وحی کے نزول کا لازم حصہ تھا۔ اس کی مثال تخلیق یا جنم دینے کی ہے۔ محمد صلعم ایک طرح سے خدا کے نازل کردہ الہام کو ایک کے بعد دوسری آیت ، الفاظ کی شکل میں، جنم دے رہے تھے۔ آپ صلعم کے یہاں ایک معجزہ، یعنی قران جنم لے رہا تھا۔
پہلے پہل، محمد صلعم یہ آیات صرف خدیجہ کو سنایا کرتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا کہ شاید وہ اس کلام کو دنیا کے ساتھ بانٹنے سے قبل ایک بار کسی سے صائب رائے لینا چاہتے ہوں۔ آپ صلعم کا یہ طریق اسی طرح پورے ایک سال تک یوں ہی جاری رہا تا آنکہ حکم آن پہنچا کہ خدا کے پیغام کو عوام تک پہنچایا جائے۔ ابن اسحاق کے مطابق، یہ حکم جبرائیل کے ذریعے ہی پہنچا اور اس بابت پوری تاکید اور مکمل راہنما اصول وضع کیے گئے تھے۔ تاکید یہ تھی کہ محمد صلعم ایک دعوت کا انتظام کریں گے جس میں گندم، گوشت اور دودھ سے بنے کھانے پیش کیے جائیں گے۔ اس دعوت میں بنی ہاشم کے لوگوں کو بلایا جائے اور جب وہ سیر ہو کر کھا لیں تو پھر محمد صلعم ان کے سامنے اب تک نازل ہونے والی آیات کی تلاوت کریں۔
چنانچہ، ایسا ہی کیا گیا۔ اس دعوت میں بنی ہاشم کے تقریباً چالیس مردوں نے شرکت کی۔ ان میں عبد المطلب کے تمام حیات فرزندان جن میں ابو طالب اور ابو لہب بھی شامل تھے، شریک ہوئے۔ ابو لہب کا مطلب ' شعلے کا باپ' کے ہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابو لہب کا یہ نام اس کی خصلت، یعنی غصہ ناک ہونے کی وجہ سے پختہ ہو گیا تھا۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ ابو لہب کا نام، آخرت میں اس کی جہنم کے شعلوں میں قطعی منزلت کے باعث پڑا ہے۔ جو بھی تھا، اس دعوت میں ابو لہب نے اپنے نام کی بھر پور لاج رکھی ۔
سب ہی لوگوں نے اس دعوت میں رغبت سے، سیر ہو کر کھانا کھایا۔ پھر جب وہ گاؤ تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے تو اس دعوت کے میزبان نے تحمل اور سکون سے قرانی آیات کی دہرائی شروع کر دی۔ آپ صلعم آیات کو اونچی لے میں، 'سجع' نامی عربی نثر کے انداز میں پڑھ رہے تھے۔ تب تک، رائج عربی زبان میں سجع، یعنی شاعری کا تسلیم شدہ ، مقبول ترین لہجہ ہوا کرتا تھا ۔ اس لہجے میں غیب گوئی کی پراسراریت سموئی رہتی تھی۔ لفظ 'سجع' کے لغوی معنی 'کوک' یا 'غٹکنے' کے ہیں۔ لہجے کے اس نام کی وجہ وہ صوتی اثر ہے جو اس کو ادا کرنے کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ زبان دان کسی بھی لہجے میں اس طرح کے صوتی اثر کو 'حتمی گردش آواز' کی اصطلاح سے موسوم کرتے ہیں۔ یعنی، بول چال میں اکثر الفاظ کے اختتام میں ایک حرف علت کا اضافہ کر دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بولنے والے کی سانس میں اور سننے والے کے کان کے پردوں پر اس لفظ کی صوت جھولتی، گھلتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر لفظ، اللہ کو ہی لے لیں۔ سجع کی بدولت لفظ الٰہ، اللہ بن جاتا ہے۔ محمد صلعم کے زمانے کے تقریباً ایک صدی بعد زبان میں یہ نثری انداز ،لہجہ معدوم ہو گیا کیونکہ تب تک شاعری بھی عملیت پسندی کا شکار ہو چکی تھی اور مشرق وسطی میں اب آرامی زبان کی بجائے، نسبتاً جدید عربی زبان کا دور دورہ تھا۔ عربی اب مخلوط، بین الاقو امی زبان بن چکی تھی۔ ساتویں صدی عیسوی میں بہر حال، قدیم آرامی زبان سے آراستہ اس بولی اور بالخصوص سجع کی خاصی پذیرائی کی جاتی تھی۔ یہ تو عام شاعری کی بات تھی ورنہ جب اس دعوت میں محمد صلعم قران کے الہامی، فصیح اور بلیغ آیات کو نہایت ملائم اور شان سے پڑھتے ہوں گے تو اس صوتی اثر پذیری کا حال کئی درجے بڑھ کر رہا ہو گا ۔ محمد صلعم جیسے کم گو شخص کے منہ سے ان آسمانی آیات کی تلاوت سن کر جہاں باقی سب لوگ دم بخود ، مستغرق اور ہکا بکا بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے۔ تب بھی، ابو لہب اٹھ کھڑا ہوا اور تلاوت میں مدخل ہو کر غضب سے احتجاج کرنے لگا۔ غصے میں چلا کر کہنے لگا، 'اس نے تم سب پر جادو کر دیا'۔ پھر ، پیر پٹختے ہوئے وہاں سے رخصت ہو رہا۔
عرب معاشرے میں کسی کی مہمان نوازی، دعوت کو ٹھکرانا اور محفل سے یوں اٹھ کر چلے جانا، نہایت معیوب سمجھا جاتا تھا۔ یہاں تو ابو لہب نے کسی عام میزبان نہیں بلکہ اپنے کنبے میں، سگے بھتیجے کی دعوت کے دوران اس قدر بد تمیزی اور بے ادبی کا مظاہرہ کیا تھا۔ روایتی طور پر اس طرح کی حرکت بیر اور دشمنی کا اعلان سمجھی جاتی تھی۔ چنانچہ، ابو لہب کے رخصت ہوتے ہی ساری محفل درہم برہم ہو کر رہ گئی اور ہر طرف بڑبڑاہٹ ، چہ مہ گوئیاں ہونے لگیں۔ محمد صلعم بہر حال پرسکون رہے اور کسی بھی طرح سے حیرانگی یا پریشانی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ آپ صلعم نے نہایت آرام سے تمام شرکاء کو اگلے روز پھر کھانے کی دعوت پر مدعو کر کے محفل برخاست کر دی۔ اگلے روز، مہمانوں کو پھر وہی کھانا پیش کیا گیا اور محمد صلعم نے اسی طرح قرانی آیات کی تلاوت شروع کر دی۔ آج تلاوت کے دوران کسی بھی قسم کا رخنہ نہیں ڈالا گیا کیونکہ ابو لہب نے اعلانیہ اس دعوت میں شرکت نہیں کی تھی۔ بعد تلاوت کے، محمد صلعم کنبے کے افراد سے یوں مخاطب ہوئے، 'اے عبدالمطلب کے بیٹو!' آپ صلعم نے توقف کے بعد بیان جاری رکھا، 'میں عربوں میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو اس سے بہتر چیز تمہارے پاس لایا ہو، جو میں لے کر آیا ہوں۔ میں تمہیں اس دنیا کی سب سے بہترین شے پیش کرتا ہوں۔ مجھے خدا نے یہ پیغام تمہارے پاس پہنچانے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ تم میں سے کون ہے جو اس کام میں میرا ساتھ دے گا؟'
پوری محفل میں سناٹا چھا گیا اور صرف ایک شخص نے آگے بڑھ کر حمایت کی۔ یہ قصہ ابو طالب کے بیٹے علی جو محمد صلعم اور خدیجہ کے گھر کا حصہ تھے، ان کی زبانی آگے یوں بڑھتا ہے کہ، ' سب لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ گو اس محفل میں موجود تمام اشخاص میں، میں سب سے چھوٹا ، کوتاہ اندیش اور کمزور اور لاغر تھا مگر میں نے کہا، 'اے اللہ کے رسول، میں آپ صلعم کا مدد گار ہوں گا۔' جواباً، 'محمد صلعم نے اپنا ہاتھ میری گردن کی پشت پر رکھا اور گویا ہوئے، 'یہ میرا بھائی ہے۔ میرا نمائندہ اور تم میں میرا وارث ہے۔ اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو۔'
محمد صلعم کے اس اعلان نے شرکاء پر قرانی آیات کے سحر کو توڑ کر رکھ دیا۔ 'وہ سب ہنس کر اٹھنے لگے' علی بتاتے ہیں ، 'انہوں نے ابو طالب سے کہا'، 'محمد صلعم نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو!' واقعی، محمد صلعم کے اس اعلان کو آخر کون سنجیدہ سمجھتا؟ ایک باپ کو اپنے کمزور اور کوتاہ اندیش لڑکے کی بات سننے، اطاعت کا حکم بعید القیاس اور اوٹ پٹانگ بات معلوم ہوتی تھی۔ پھر، یہ حکم باپ کو اس کے منہ پر دے دیا گیا؟ سماج میں اس طرح کے مجاز اور اختیار کی کایا پلٹ سوچ سے باہر تھی۔ اس حکم کی مثال رائج الوقت روایات اور طریق کی صریحاً خلاف ورزی، بیوقوفانہ حد تک للکار تھی۔
بنی ہاشم کے افراد یقیناً محمد صلعم کے گھر سے رخصت ہوتے ہوئے دماغی مختل سے سر جھٹک رہے ہوں گے۔ وہ سوچتے ہوں گے کہ شاید آڑھتی بن کر تجارت کرنے کی قابلیت کا گھمنڈ اب محمد صلعم کے سر میں سما گیا ہے اور شاید، ان کی اوقات ابھی تک اونٹوں کی رکھوالی کرنے والے ایک کم تر لڑکے سے بڑھ کر نہیں تھی۔ انہوں نے محمد صلعم کی مہمان نوازی، کھانے کی دعوت قبول کر کے انہیں عزت بخشی تھی۔ ان کو سننے کی حامی بھر کر مروت کا مظاہرہ کیا تھا اور یقیناً قرانی آیات کی تلاوت سن کر دم بخود بھی رہ گئے تھے مگر یہ اطاعت کا حکم تو ہر گز قابل قبول نہیں تھا۔ بلکہ، نا قابل یقین تھا۔
گزشتہ روز پیش آنے والے واقعے، یعنی ابو لہب کے ناروا رویے کو بنی ہاشم کے افراد نے چاہے جس قدر بھی ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا تھا، اب یہ بھی سوچنے لگے کہ شاید وہ اپنے تئیں محمد صلعم کی تضحیک اور نامناسب رویے میں درست تھا۔ ان کے نزدیک محمد صلعم کی یہ حرکت یقینی طور پر انہیں خود سے متعلق لاحق بڑائی اور عظمت کا دھوکہ تھا۔ و ہ واقعتاً ایک دوسرے کو بتانے لگے کہ شاید محمد صلعم مجنون ہے یا اس پر کسی جن کا سایہ ہو چکا ہے۔ اس محفل میں شامل تقریباً سب ہی لوگ اختلاف اور مخالفت پر متفق تھے اور یکساں مایوسی کا اظہار کرتے پھر رہے تھے۔ اپنے تئیں، یہ سوچ رہے تھے کہ اگر وہ محمد صلعم کو مزید کچھ وقت دے دیں تو شاید وہ اپنی اوقات، حواس میں واپس آ رہے گا۔
گو کسی بھی شخص میں بالمشافہ، ابو طالب کے منہ پر یہ کہنے کی جرات تو نہ تھی مگر پیٹھ پیچھے وہ ان سے ہمدردی اور تاسف کا اظہار کرتے کہ انہوں نے محمد صلعم کو یتیمی میں پناہ دی تھی اور اچھی کفالت بھی کی تھی، مگر بہر حال وہ آپ صلعم کو بزرگوں، آباؤ اجداد کی عزت اور تکریم نہیں سکھا پائے۔ آباؤ اجداد کی یہ قدر اور منزلت، عزت اور تکریم عرب معاشرے کا بنیادی جز ہوا کرتی تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر وہ ابو طالب پر افسوس کا اظہار کرتے کہ انہوں نے اپنے بیٹے علی کو بھی محمد صلعم کے یہاں چھوڑ دیا تھا اور اب یہ کوتاہ اندیش، کمزور منحنی سا لڑکا، باپ کے سامنے کھڑے ہو کر اس بے ادبی کا مظاہرہ کر رہا تھا؟
لیکن، جب محمد صلعم کے کنبے میں بڑی عمر کے افراد، بالخصوص چچا وغیرہ ان کی اس دعوت اور حکم کو رد کر کے گونگے بہرے بن چکے تھے وہیں، آپ صلعم کے چند نو جوان عم زاد اس دعوت پر لبیک کہنے کو تیار بیٹھے تھے۔ یہ بھی علی کی ہی طرح تھے جو قرانی آیات کو سن کر مبہوت رہ گئے تھے۔ چنانچہ، کئی جوان آپ صلعم کے ساتھ مکہ کے باہر وادی میں چھپ کر ملنے لگے اور عبادت میں شریک ہونے لگے۔ یہ عبادت جلد ہی اسلام کے شعائر میں سے ایک، تاریکی میں چھپ کر ادا کی جانے والی نماز تہجد بن جائے گی۔ گو، یہ لوگ کہنے کو عباد ت میں مصروف تھے مگر جب ایک دن ابو طالب نے انہیں ایسا کرتا دیکھا تو وہ حیران و پریشان رہ گئے۔ حیرت سے پوچھنے لگے، 'اے بھتیجے! یہ کیا ہے؟'
محمد صلعم نے اپنے چچا کو اس عبادت میں شامل ہونے کی دعوت دی۔ آپ صلعم ابو طالب کی منت سماجت کرنے لگے کہ عزا ، لات اور منات جو کعبہ کے احاطے میں نصب تین اوتار تھے اور خدا کی بیٹیوں کے نام سے مشہور تھے، ان کو چھوڑ کر ایک خدا کی عبادت کریں جو 'بے نیاز 'ہے۔ لیکن ابو طالب اگر چاہتے بھی تو شاید وہ ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ کہنے لگے، 'بھتیجے، میں اپنے آباؤ اجداد کے طریق کو ترک کرنے سے قاصر ہوں۔'
'آباؤ اجداد کا طریق' در اصل وہ شے تھی جس کی بدولت قریش اب تک جڑے ہوئے تھے۔ ابو طالب کا اس بابت یوں متاسف ہونے کی وجہ وہ روایت تھی جس کو وہ للکار رہے تھے۔ مکہ میں یہ اصطلاح نہ صرف ابو طالب کے والدین بلکہ آباؤ اجداد کی پوری نسل سے جوڑ، ایمان اور طریق سے متعلق تھی۔ یہ آباؤ اجداد سارے قریش کے سانجھے تھے۔ ابو طالب کے لیے یہ شناخت اور وفا داری کا مسئلہ تھا اور ایک لحاظ سے گویا قبیلے اور قبیلے کے خدائی اوتاروں کو ترک کر دینا خود اپنی نفی، ذات کو ترک کرنے کے مترادف تھا۔ بہرحال، ابو طالب کے اندر اس دعوت کو لے کر یقیناً کچھ ہلچل ضرور مچی ہو گی۔ پھر، وہ نوجوانوں کے اس چھوٹے سے گروہ کی راست بازی اور خلوص سے بھی خاصے متاثر نظر آتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے محمد صلعم اور ان کے گروہ کی کبھی بھی تردید، نفی حتی کہ سرز نش تک بھی نہیں کی۔ ابو طالب نے محمد صلعم کی دعوت تو قبول نہیں کی مگر بہرحال انہیں یہ یقین دہانی ضرور کرا دی کہ بھلے وہ آباؤ اجداد کے طریق سے ہٹ رہیں یا بہک جائیں وہ پھر بھی ان کی بطور بنی ہاشم کے سربراہ پناہ میں رہیں گے۔ ابو طالب نے کہا، 'بخدا، میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی شخص بھی کسی بھی قسم کا حزن، نقصان نہیں پہنچا سکتا' ۔ ابو طالب کا یہ اعلان اور وعدہ، ایک طرح سے یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ وہ لا شعوری طور پر آنے والے وقت بارے کم فہم واقع ہوئے تھے۔ انہیں بگڑ تے ہوئے حالات کا قطعاً اندازہ نہیں ہو سکا تھا۔
اس واقعے کی روداد ابن اسحاق اور ال طبری نے ایک ہی طرح سے بیان کی ہے مگر پھر بھی اس بیانیے کو پڑھ کر یہ خیال ضرور ہی آتا ہے کہ آخر ابو طالب اپنے بیٹے کو اس نئے طریق عبادت میں مشغول دیکھ کر کیسا محسوس کرتے ہوں گے؟ گو، ابو طالب نے خود ہی علی کو محمد صلعم کے یہاں رہنے کی اجازت دی تھی اور یقیناً وہ اپنے بیٹے کی بہتری چاہتے تھے مگر وہ آخر کار باپ تھے۔ ایک باپ ہونے کے ناطے ان کو اس بابت فکر تو ضرور رہی ہو گی کہ ان کا بیٹا ایک ایسی طرف چل نکلا ہے جو اسے رائج رواجوں اور معاشرے کے طریق سے دور کر دے گا؟ اس کا کیا بنے گا؟ یہاں تو آباؤ اجداد کا طریق مکرم تھا، معاشرے میں اس یہ تکریم گہری سرایت کر چکی تھی اور سماج میں رتبے، حیثیت کا تعین بھی تو حسب اور نسب کی بنیاد پر طے ہوتا تھا۔ آخر، ان کا بیٹا یک دم ہی اس سماجی ڈھانچے سے کیونکر متنفر ہو سکتا ہے؟ ایک توجیہ یہ ہے کہ، ابو طالب کے لیے اپنے قبیلے، باقی کے کنبے اور تعلق داروں سے ربط، تعلق قائم رکھنا مجبوری تھی۔ وہ اپنے تجارتی معاملات کو لے کر مشکل سے دوچار تھے اور پھر کنبے کی سربراہی بھی ان کی ذمہ داری تھی۔ ایسے میں، بیرونی عوامل، جو ان کو روایت سے جوڑ کر رکھ سکتے ہوں، ابو طالب کے لیے انتہائی اہم تھے۔ بنیادی کلیہ تھے۔ چنانچہ، انہوں نے وہی کیا جو ان کے کنبے کی ضرورت تھی۔
دوسری طرف، ابو طالب کے لیے یہ حقیقت انتہائی تکلیف دہ رہی ہو گی کہ سگا بیٹا، اب ان کا نہیں رہا۔ وہ محمد صلعم کا ہو چکا ہے۔ باوجود اس پریشان خیالی کے، ابو طالب نے یہ حقیقت تسلیم کر لی تھی۔ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ محمد صلعم کو اپنے یہاں، رشتے سے انکار پر پشیمان تھے اور اس طرح ازالہ کرنا چاہتے تھے؟ یا پھر ان کے نزدیک محمد صلعم اور ان کے بیٹے کا یہ طور کسی بھی طرح سے سنجیدگی کا متقاضی نہیں تھا اور وہ وقت سے متعلق اس عام مقولے، 'یہ بھی گزر جائے گا' پر قائم تھے؟ ویسے بھی، مکہ اور گرد و نواح میں ہر وقت مبلغوں اور نت نئے نظریے پالنے والوں کا آئے روز تانتا بندھا رہتا تھا۔ سب سے بڑی مثال خود حنفا کی تھی۔ یہ حنفا محدود ہی سہی ، مگر مکہ کی روایت میں شر انگیز ہی کہلائے جا سکتے تھے مگر ان کو پھر بھی بے ضرر شمار کیا جاتا تھا۔ مکہ کے ایوان اقتدار کو حنفا سے آج تک کوئی سنجیدہ خطرہ پیش نہیں آیا تھا۔ محمد صلعم اور علی بھی شاید، ان کی ہی طرح بے ضرر رہیں گے۔ یا پھر، ابو طالب نے ایک باپ کی حیثیت سے سمجھوتہ کر لیا تھا؟ وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے تھے کہ اگر وہ علی کو محمد صلعم کا ساتھ نہ دینے پر مجبور کریں گے تو عین ممکن ہے کہ بیٹا صاف انکار کر دے۔ یہ صورتحال ایک باپ کے لیے اچھی خاصی ہزیمت کا باعث ہو سکتی ہے اور ویسے بھی کون نہیں جانتا کہ ایک نو جوان، نابالغ بیٹے سے زیادہ ہٹ دھرم اور ضدی دوسرا کوئی نہیں ہوتا۔ اگر علی ضد میں آ کر بگڑ جاتے تو ابو طالب کے ہاتھ کیا رہ جاتا؟
پھر بھی، ابو طالب محمد صلعم کے گروہ کو اس طریق میں دیکھ کر خاصے بے چین ہو گئے تھے۔ یہ نوجوان نہ صرف قران کی تلاوت کرتے تھے بلکہ ان آیات کو زبانی یاد کرتے رہتے۔ ابو طالب نے ان کو عبادت کرتے ہوئے بھی دیکھ لیا تھا۔ انہوں نے دیکھا کہ یہ نوجوان 'سلم' کی حالت یعنی اطاعت اور بندگی میں جھک کر کھڑے ہیں۔ 'سلم' سے ہی لفظ اسلام نکلا ہے جس کے معنی اطاعت، فرمانبرداری کے ہیں اور عربی زبان میں اسی لفظ کے کئی دوسرے معنی جیسے امن اور سلامتی وغیرہ کے بھی نکلتے ہیں۔ مگر عام معنی، اطاعت یا تسلیم کے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ یہ نوجوان کسی بھی طور زبردستی اطاعت یا تسلیم کرنے، فرمانبرداری پر مجبور نہیں کیے گئے تھے بلکہ وہ اپنی خوشی سے محمد صلعم کے پیروکاری پر اتر آئے تھے۔ مگر پھر بھی، اس عبادت کا آسن ہر طرح سے انوکھا اور نرالا تھا۔ ماتھا زمین پر ٹیکے، بازو باہر کو پھیلا کر پشت ہوا میں بلند کیے ہوئے یہ عجب، اجنبی طریقہ تھا۔ اس کو دیکھ کر لگتا کہ جیسے کوئی جنگی قیدی، فاتح کے سامنے سر بسجود ہے۔ جھکنے کا یہ انداز آج بھی قدیم آشوری فتح پریڈ کے تصویری نمونوں میں دیکھا جا سکتا ہے، جس میں قیدی بالکل اسی طرح فاتح بادشاہ کے قدموں میں گرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ یہاں بھی، سلم کا یہ آسن در اصل بر تر ذات کے سامنے قطعی سپردگی اور دست برداری کی علامت ہے۔ اس طرز عبادت سے صاف اشارہ ملتا ہے جو اس لفظ یعنی، 'سلم' یا 'اسلام' کی روح اور اصل ہے۔ اس لفظ کے لغوی معنی یعنی اطاعت یا تسلیم سے عملی مراد عبادت کا یہی آسن ہے۔ چنانچہ، ابو طالب یہ طریق دیکھ کر ہکا بکا رہ گئے۔ اس وقت، ابو طالب کی بجائے کوئی دوسرا شخص بھی ہوتا تو یقیناً اسی طرح چونک جاتا۔ عرب میں کسی بھی شخص کے لیے، جو کہ سر اٹھا کر چلتا آیا ہو، معاشرے میں عزت و تکریم کا حامل ہو، فخر سے چوڑا پھرتا ہو، اس کے لیے ماتھے کو یوں ٹیک دینے سے بڑھ کر غیر عرب، غیر روایتی، انوکھی، نرالی بات کوئی دوسری نہیں تھی۔
بہر حال، اب ایک سال کے اندر ہی قرانی احکامات کے لہجے میں تاکیدی اور بے صبری کا عنصر واضح تھا۔ مثلاً یہ آیت، 'اے اوڑھ کر لیٹنے والے۔ اٹھو اور خبر کرو!'۔ یعنی، اب سوچ بچار، احتیاط اور راز داری کا وقت ختم ہو چکا تھا۔
اب محمد صلعم کھلے عام یہ پیغام لے کر نہ صرف اپنے عزیز و اقارب بلکہ عام عوام سے مخاطب ہونے والے تھے۔ مکہ میں اس طرح کی تقاریر، خطاب اور ڈھنڈور عام طور پر کعبہ کے احاطے میں کی جاتی تھی۔ پھر، اب کی بار محمد صلعم جن آیات کی تلاوت کرنے والے تھے، وہ مدح سرائی اور خدائی نشانیوں سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ یہ آیات، ساتویں صدی عیسوی میں مکہ کی حالت، آج کے وال سٹریٹ جیسی بن چکی تھی۔ یعنی، یہ آیات اس معاشرے میں رچی لالچ ، مایوسی اور سماجی روکھے پن پر کڑی تنقید پر مشتمل ہوں گی۔ اب کی بار خدائی کلام اس معاشی اور معاشرتی تفریق پر ضرب ہو گا جو روز بروز مکہ کی اشرافیہ اور نچلے طبقے کے بیچ بڑھتی جا رہی تھی۔
یہ نئی آیات بالآخر اشتعال انگیز حد تک سماج میں پھیلی نا انصافی اور بگاڑ کے خلاف شدید احتجاج بن جائیں گی۔ ان میں واضح طور پر غرباء، مساکین اور پسے ہوئے طبقات کی نمائندگی کی گئی ہے اور ان کے فلاح، بہبود اور حقوق کی ادائیگی کا مطالبہ پیش کیا جائے گا۔ پھر، انہی آیات میں دولت اور نفع، اختیار کے جھوٹے خداؤں کے ساتھ کعبہ میں نصب اوتاروں اور نشانیوں کی پوجا کو بھی ترک کرنے کا حکم بھی سامنے لایا جائے گا۔ اسی طرح معاشرے میں بیٹوں کی بطور دولت اور میراث سمجھنے اور بیٹیوں کے حق سلب کرنے، انہیں جیتے جی زندہ گاڑنے کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی جائے گی۔ سب سے بڑھ کر، مکہ کے دولت مند طبقے کے تکبر اور دولت سے رغبت کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔ جیسے یہ آیت صاف بتاتی ہے کہ، 'جس نے مال جمع کیا اور گن گن کر رکھا' یا وہ، 'جو مال کی محبت میں بری طرح گرفتار ہو۔۔۔' اسی طرح ایک اور جگہ پر، 'اور وہ مال و دولت کی محبت میں بری طرح مبتلا ہے۔۔۔'یا پھر یہ انتباہ کہ، 'اور اس کا مال آخر اس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہو جائے؟'
اسی دور کی ایک اور آیت میں کچھ یوں بھی کلام ہوا کہ، 'خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ ۔۔۔'، یا پھر کہا گیا کہ صرف، 'یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو، ہاں مگر جو ایمان لائے۔۔۔' مثال، ایک دوسری آیت، 'یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے۔ یہ ان سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔ ' انجیل کے نسخے میتھیو یا متی میں یہ اعلان کہ ، 'مبارک ہیں وہ جو حلیم ہیں کیونکہ وہ زمین کے وارث ہیں' ، تو قران کی اس آیت میں اٹھائی گئی واضح گونج معلوم ہوتا ہے کہ ، 'ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں اور انہی کو وارث بنائیں!'
مندرجہ بالا پیرے میں تمام ہی الہامی پیغامات اور اعلانات کو بغور دیکھا جائے تو اگر یہ انقلاب کا اعلان نہ بھی ہوتا، کم از کم اصلاحات کا مطالبہ ضرور تھا۔ ان آیات میں واضح اشارہ دیا گیا تھا کہ مکہ جس گمراہی اور تباہی کی جانب گامزن تھا، وہاں سے واپسی ممکن تھی۔ ابھی تک کچھ بھی بگڑا نہیں تھا۔ لوگوں کو اور کچھ نہیں بلکہ صرف سوچنے اور راست طریقے سے عمل کرنے کی ضرورت تھی۔ 'انہیں یاد دہانی کراؤ!' یعنی، محمد صلعم کو حکم دیا گیا کہ انہیں وہ یاد دلائیں جو وہ کبھی جانتے تھے۔ 'انہیں کہو کہ غور کریں۔۔۔' یعنی، ان سے قبل مٹ چلی تہذیبوں کے آثار اور کھنڈرات پر غور کریں جو ان سے پہلے اپنی بد اعمالی اور بگاڑ کی وجہ سے زیر ہو چکے تھے۔ 'ان سے کہو کہ یاد کریں۔۔۔'، یعنی ان اقدار کو یاد کریں جو اب عمل میں مفقود ہو چکی تھیں، اصل ، 'آباؤ اجداد کا طریقہ۔۔' تو وہ ہے جس کو یہ مکہ والے بھلا کر بیٹھے ہیں۔
ایک لحاظ سے یہ آیات انتباہ کے ساتھ، دعوت بھی تھیں۔ اہل مکہ کو سدھرنے کی اپیل کی گئی تھی اور انتباہ یہ تھا کہ الہامی پیغامات کو نظر انداز کرنے کے بھیانک نتائج بھی بر آمد ہو سکتے ہیں۔ یہ بلاشبہ ایک پیغمبر کے ذریعے دیا جانے والا واضح پیغام تھا جو محمد صلعم سے قبل تقریباً تمام ہی پیغمبروں، جیسے موسی سے لے کر عیسی تک ہر ایک کی روایت رہی تھی۔ جیسے یہ آیت کہ، 'مسلمانو! کہو کہ: ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولاد یعقوب کی طرف نازل ہوئی تھی ۔ اور جو موسی اور عیسی اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی۔' در حقیقت، یہ رسالت مکہ کے باسیوں کے لیے اپنے آباؤ اجداد کے اصل پیغام کی طرف لوٹ جانے کے بارے تھی۔ 'مثال کے طور پر، ایک دوسری آیت میں کہا گیا، 'حالانکہ اس سے پہلے موسی کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آ چکی ہے، اور یہ کتاب اس کی تصدیق کرنے والی زبان عربی میں آئی ہے۔۔۔' یا پھر، 'یہ اس سے پہلے تمام کتابوں میں بیان ہو چکا ہے۔ ابراہیم اور موسی پر نازل کردہ صحیفے میں۔۔۔' ۔ الغرض، یہاں ہر طرح سے مکہ کے لوگوں کو منانے، ڈرانے کی کوشش کی گئی ہے۔ آیات میں اصل طریق خداوندی کی طرف واپس لوٹ جانے کی تاکید، سعی نظر آتی ہے۔
جس طرح پہلے کی الہامی کتابیں ہیں، یہاں بھی وہی ہوا۔ انصاف کے مطالبے پر شروع ہونے والا یہ احتجاج اسی طرح پر تشدد ہو گیا جس طرح اس سے پہلے پیغمبروں کے دور میں، جیسے عیسی کے ساتھ ہوا تھا۔ اس تحریک کے ساتھ یہ سلوک بھی کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی اور نہ ہی یہ کوئی حسن اتفاق تھا۔ جس طرح اس سے پہلے یہودیت اور اوائل دور میں عیسائیت کے ساتھ ہوا تھا، اوائل دور میں اسلام کو بھی اسی طرز اور شدت سے سماجی اور سیاسی نظام کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ ناانصافی کے خلاف یہ احتجاج لازمی طور پر اس برتر مطالبے کا حصہ تھا جس میں ہر طرح کے لوگوں کی شمولیت، اتفاق، یگانگت، اور برابری کے ساتھ واحدانیت کی چھتری تلے بغیر کسی نسل، دولت، عمر اور صنفی امتیاز کے جمع کرنا تھا۔ یہی وہ عوامل، نظریات تھے جن کے سبب جلد ہی یہ تحریک محروم اور پسے ہوئے طبقات میں مقبول ہو گئی۔ یہ وہ طبقہ تھا جو مکہ کے شاہانہ انتظام میں مقام حاصل کرنے سے بوجوہ قاصر تھا۔ ان گروہوں میں ہر طرح کے لوگ جیسے غلام، آزاد کردہ غلام، بیوائیں، یتیم، معاشرے سے کٹ چکے افراد اور سماجی تشدد کا نشانہ بننے والے افراد شامل تھے۔ پھر یہ پیغام نوجوانوں اور مثالیت پسندوں میں بھی برابر مقبول تھا۔ یہ وہ لوگ تھے جو ابھی تک اس معاشرے کے کا پوری طرح نہ تو حصہ بن سکے تھے ، (بلکہ انہیں اپنا مقام بنانے میں مشکلات کا سامنا تھا اور ان کے لیے مواقع بہت کم تھے) اور نہ ہی انہیں اس معاشرے کے طریق کا کچھ خاص علم، سمجھ تھی۔ پھر یہ قرانی آیات کی فصاحت اور بلاغت سے اچھے خاصے متاثر بھی تھے۔ اس تحریک میں ایک خدا کے سامنے سب لوگ برابر تھے اور تیرہ سالہ علی کا مقام مکہ کے باریش، عمر رسیدہ بزرگوں جتنا ہی اہم تھا۔ بیٹیوں کے حقوق، بیٹوں کے برابر تھے۔ افریقی غلام اور مکہ کے اشرافیہ میں جنم لینے والے کسی بھی نجیب الطرفین میں کوئی فرق نہیں تھا۔ الغرض، یہ تحریک ہر لحاظ سے بدلاؤ لانے کے اہل تھی اور یہ سماج میں بنیادی تبدیلیوں کا پرچار کر کے، اسے دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا نعرہ لے کر بلند ہوئی تھی۔
عملی طور پر دیکھا جائے تو یہ ایمان کے ساتھ سیاسی معاملہ بھی تھا۔ تینوں بڑے مذاہب کی الہامی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی ابتدا اسی طرح اہل اقتدار اور اشرافیہ کے خلاف مقبول تحریکوں سے ہوئی تھی۔ چاہے یہ 'عبرانیوں کے نام خطوط' میں بیان کردہ بادشاہوں کا تذکرہ ہو، گرجا کے انجیل خوانوں کے قصے میں رومی سلطنت کا بیان ہو یا اب قران میں قبائلی اشرافیہ بارے کلام ہو ۔ تینوں ہی مذاہب میں ابتدا انصاف کے تقاضے، ظلم اور عدم مساوات سے انکار اور وحدانیت کے پرچار سے ہوئی تھی۔ چنانچہ، ان مذاہب کی یہ ابتدائی دور کی تحریکیں کسی بھی طرح سے انتشار کا شکار ہو رہیں یا بنیادی مطالبے سے ہٹتی ہوئی محسوس ہوں بالآخر وقت کے ساتھ اصل مقصد کو لے کر منظم ہوتی چلی گئیں۔ تاریخی حقائق اس بات کے گواہ ہیں کہ آج جن مطالبوں کو ہم سماجی انصاف اور برابری سے موسوم کرتے ہیں، ایک وقت میں یہ وحدانیت کی بنیاد پر قائم ہونے والے عقائد کی نظریاتی اساس ہوا کرتی تھیں۔
لیکن، اگر قران واقعی اس سے پہلے نازل ہو چکی الہامی کتابوں کی توثیق تھی تو یہ بات صرف آفاقی پیغام کی حد تک درست تھی جو ہمیشہ سے ہی اس طرح کی تحریکوں کا بنیادی مطالبہ چلا آ رہا ہے۔ مادی لحاظ سے بہر حال قران باقی کی تمام مقدس کتابوں سے مختلف تھا۔ مطلب یہ کہ، اس بار الہامی پیغام محمد صلعم کے ذریعے ، مثال یہ آیات کہ، 'عربی بنا کر نازل کیا گیا ہے' یا پھر، 'آسان کر کے تمہاری زبان میں نازل کیا ہے' یا پھر 'صاف صاف عربی زبان میں' یا 'تمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے' ۔ اب کی بار، یہ یہودیوں کی عبرانی یا عیسائیوں کی یونانی زبان کے بر عکس مکہ کی اپنی بولی، فصیح اور بلیغ عربی میں نازل کیا گیا تھا۔ پھر، اس زبان میں بھی وہ لہجہ اختیار کیا جا رہا تھا جو اس قدر شیریں اور رواں ہے کہ اس کے سامنے بڑے سے بڑے شاعر کا کلام ہیچ معلوم ہوتا تھا۔ دوسری کتابوں کے برعکس قران خود ہی اپنے آپ کو عربوں سے منسوب کر رہا تھا۔
یعنی، اب مکہ کے لوگوں کو 'اہل کتاب' کے سامنے دب کر رہنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اہل کتاب کی طرح اب ان کا شمار بھی اس گروہ میں ہوتا تھا جن کے لیے ان کی اپنی الہامی کتاب نازل ہو رہی تھی۔ نہ صرف یہ کہ یہ کتاب اس سے پہلے تمام کتابوں کی توثیق تھی بلکہ یہ تو ان کو مکمل کرنے کی دعویدار بھی تھی۔ وہ لوگ جنہوں نے اب تک اس کتاب کو تسلیم کر لیا تھا، ان کے نزدیک دوسری تمام وجوہات کے ساتھ، یہ ایک عظیم الشان روایت کا حصہ بننے کا سنہری موقع بھی تھا۔ وہ تاریخ کو رقم ہوتا دیکھ رہے تھے بلکہ اس کا مرکزی حصہ تھے۔ اس زمانے کے بعد ان کی قدر و منزلت بڑھ کر ہو گی ۔ ان کا شمار یوں ہوا کرے گا کہ در اصل ان کی نسل اور وہ خود خدا کے چنے ہوئے لوگ ہیں جن پر خدا نے اپنا کلام نازل کیا ہے۔ جس طرح پہلی اقوام کو موقع دیا گیا تھا، اب خدا کی ان سے مخاطب ہونے کی باری تھی۔ نہ صرف یہ کہ خدا ماننے والوں کی اپنی زبان میں ان سے ہم کلام تھا بلکہ یہاں تو وہ ان کی شرائط، تقاضوں اور مطالبات کو سامنے رکھ کر، حمایت میں مخاطب تھا۔ ان کے حق میں بول رہا تھا۔
قران میں کہا جانے لگا کہ قدیم دور کی تمام ہی تہذیبیں ناکامی اور بربادی کا شکار ہو گئیں۔ بربادی کی وجہ یہ تھی کہ وہ انصاف کے بنیادی اصولوں سے بہت پہلے منحرف ہو چکے تھے۔ مثال کے طور پر یہودیوں نے خدائی احکامات سے منہ موڑ لیا تھا اور پیغمبروں کو نظر انداز کرتے آئے تھے۔ اس کے نتیجے میں انہیں اپنی ہی زمین سے جلا وطن ہونا پڑا۔ یا پھر، عیسائیوں کی مثال سامنے تھی۔ چونکہ انہوں نے عیسی کے پیغام کو بھلا دیا تھا ، اسی لیے اب اپنی سلطنت کو بار بار ٹوٹتا اور بکھرتا ہوا دیکھتے چلے آ رہے تھے۔ ہر طرف فارس کا چرچا تھا۔ یہ آتش پرست، بازنطینی سلطنت پر اپنی دھاک بٹھا رہے تھے۔ یہ تو دوسری قوموں کا معاملہ تھا۔ خود عرب قبائل انہی حالات سے دوچار ہوتے چلے آئے تھے۔ مثلاً، عاد اور ثمود کی عظیم الشان انباطی تہذیبوں کی جڑیں شمالی عرب میں اور جنوب میں یمن میں ملتی ہیں۔ یہ اقوام پیغمبروں کا مذاق اڑاتے اور انہیں زچ پہنچایا کرتے تھے۔ ان اقوام کو پیغمبروں کے ذریعے غرور اور تکبر سے روکا گیا تھا۔ مگر بالآخر، اسی تکبر کے ہاتھوں وہ تباہ بھی ہو گئے۔ اب، قرانی آیات کی مدد سے ایک بار پھر مکہ کو بھی تنبیہ کی جا رہی تھی۔ ان آیات میں، مثال کے طور پر ان سے پہلے کی اقوام کی مثالیں کھول کر، واضح طور پر بیان کی گئی تھیں۔ یہ صرف بیان نہیں تھا بلکہ، قدیم تہذیبوں اور اقوام کی تباہی کے ثبوت بھی موجود تھے۔ یہ ثبوت، انباطی دور کے شہروں کے کھنڈرات تھے۔ مثلاً ان میں سے ایک شہر، پترا کے کھنڈرات آج بھی جنوبی اردن میں مل جاتے ہیں۔ ان کا تذکرہ تو قران نے واضح کیا ہے۔ اسی طرح یمن میں صناء شہر کے باہر ماریب بند کی باقیات ایک دوسری مثال ہیں۔
محمد صلعم کا یہ الہامی پیغا م انفرادی طور خود آگاہی سے کہیں بڑھ کر تھا۔ یہ عرب معاشرے کی اجتماعیت سے بھی متعلق تھا۔ اس پیغام میں، واضح طور پر ان اقدار اور اخلاقیات کا عنصر ملتا تھا جو کبھی عرب کی شان، فخر ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ، ان پیغامات میں کہیں نہ کہیں، شاندار ماضی کی مثالیں دے کر مستقبل پر نظر بھی ڈالی جا رہی تھی۔ یہ ایک دعوت تھی۔ ایک روحانی دعوت جس کا مقصد، حال کے سماجی اور معاشی مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔ مختصراً، یہ خود آگاہی اور تقویٰ کے ساتھ ہر طور سے سیاسی اصلاح کی تحریک بھی تھی۔ اس تحریک میں پسے ہوئے طبقات کے لیے اختیار اور کئی دوسرے مواقع عیاں تھے۔
یہی نہیں، قران میں بد کاروں اور ظالموں کے محاسبے کا بھی وعدہ کیا جا رہا تھا۔ یہ محاسبہ اگر دنیا میں نہ ہو سکا تو پھر قیامت کے دن پر اٹھا رکھا گیا تھا۔ مثال کے طور پر یہ آیت ملاحظہ ہو کہ، قیامت کے روز، 'دولت کسی کام نہ آئے گی۔۔۔' اور اسی طرح قران کی اکیاسویں سورت جو التکویر کہلائی جائے گی، کہا گیا، 'جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ اور جب تارے بکھر جائیں گے۔ اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے۔ اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی۔ اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کر دیے جائیں گے۔ اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے۔ اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی۔ اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس قصور میں ماری گئی؟ اور جب اعمال نامے کھول دیے جائیں گے۔ اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا۔ اور جب جہنم دہکائی جائے گی اور جب جنت قریب لے آئی جائے گی۔ اس وقت پر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے؟' اس طرح کی آیات، قران میں جا بجا بکھری ہوئی مل جاتی ہیں۔
قصہ مختصر، ہر لحاظ سے یہ آیات اور مطالبہ مکہ میں انتظام اور انصرام، حکام اور اشرافیہ پر بجلی بن کر گریں۔ ان کی وجہ سے مکہ کے صاحبان اختیار، اونچے طبقے میں اشتعال اور غضب پھیل گیا۔ چنانچہ، جس طرح قرانی آیات سے اس نئی دعوت اور تحریک کے پختہ اور رائج نظام کی بنیادوں کو ہلا دینے والے عزائم واضح ہو چکے تھے، خطرے کو بھانپ کر مکہ کی اشرافیہ نے بھی اسی طور اس نئے نظریے، تحریک کو آہنی ہاتھوں سے نبٹنے کا فیصلہ کر لیا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر