اول المسلمین - جلا وطن - 9


آج کے جدید دور میں مسلمانوں کے لیے یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ مکہ کی اکثریت نے محمد صلعم کا الہامی پیغام عام ہوتے ہی فی الفور حمایت کا اعلان کیوں نہیں کر دیا؟ ایسا واقعی نہیں ہوا۔ در اصل جیسے آج ہے، ویسے ہی تب بھی رائج نظام ہی اکثریت کی بے عملی کی بڑی وجہ رہا تھا۔ جب تحفظ یا آسانی کا امکان موجود ہو، اسی انتظام کے ساتھ جڑا رہنا کسی نئے سماجی نظام کی بنیاد کا پتھر بننے کی نسبت آسان ہوتا ہے۔ چنانچہ، پہلے سال کے آخر تک محمد صلعم کے پیروکاروں کی تعداد درجن بھر سے زیادہ نہیں تھی۔ ان میں بھی مکہ کی اشرافیہ کا کوئی شخص شامل نہیں تھا بلکہ یہ چند لوگ نوجوان مرد، عورتیں، غلام اور آزاد کر دیے جانے والے غلام تھے۔ اس وقت تک شاید ہی کوئی کہہ سکتا ہو کہ اس تحریک کو مخالفت کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔
یہ شدید مخالفت کی بھٹی تھی جس میں پکنے کے بعد ہی مذہب اسلام کندن بن جائے گا۔ اگر، مکہ کی اشرافیہ نے محمد صلعم کی پر زور مخالفت نہ کی ہوتی، اگر وہ زچ کر دینے کے حربے استعمال میں نہ لاتے اور پر تشدد طریقے اختیار نہ کرتے ، بلکہ آخر کار محمد صلعم کی زندگی کے در پے ہو گئے تھے، تو شاید آپ صلعم اس دور کے کئی دوسرے مبلغین کی طرح جو اس سے پہلے اسی طرح کے روحانی تجربات کا دعویٰ کرتے آئے تھے، گمنام رہ جاتے۔ محمد صلعم پر نازل ہونے والی وحی، الہامی آیات کبھی بھی زبانی یاد نہ کی جاتیں اور اسلام، ایک باقاعدہ مذہب کا روپ دھارنے کی بجائے وحدانیت کی تاریخ کی طویل داستان میں صرف ایک واقعہ بن کر رہ جاتا۔ یہاں تک کہ وحی میں بھی ابھی تک محمد صلعم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا جاتا تھا کہ وہ صرف، 'ایک (اور) رسول'، 'دوسروں کے جیسا ہی ایک بشر'، 'تم میں سے ہی ایک خبردار کرنے والا' ہیں۔ قرانی آیات میں آپ صلعم کو، 'اول المسلمین' کا درجہ دیے جانے میں ابھی کئی برس، بہت سے مرحلے باقی ہیں۔ فی الحال تو یہ معاملہ کسی بھی طور آپ صلعم نہیں بلکہ الہامی پیغام کی پذیرائی اور اس کی منادی سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ لوگ جنہوں نے اس پیغام کی مخالفت کی اور انکاری تھے، انہوں نے بہر حال اسے محمد صلعم سے متعلق بنا کر رکھ دیا ۔ گویا، مخالفت سے انہوں نے آپ صلعم کے مقاصد کے حصول میں مدد کی تھی۔
ایک وہ وقت تھا جب محمد صلعم خود کو لاحق خوف اور شبہ سے دوچار تھے ۔ مگر اب شک کرنے والے، آپ صلعم خود نہیں بلکہ دوسرے لوگ تھے۔ اگلے چند سال، بھلے مایوس کن اور خطرناک صورتحال اختیار کر لیں یا خود محمد صلعم کو اس دوران خدشات گھیر لیں، یہ بات یقینی تھی کہ آپ صلعم کسی بھی صورت پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔ پہلی وحی کے بعد جس طرح مایوسی چھا گئی تھی اور پھر خدا نے دوسری وحی میں انتہائی دلفریب انداز میں تسلی بھی کرا لی تھی۔ تو اس کے بعد، اب آپ صلعم اپنے آپ سے کبھی مایوس نہیں ہوں گے۔ یہی نہیں بلکہ اب تو جس قدر مخالفت اور عداوت بڑھتی جائے گی ، محمد صلعم کے الہامی تعلیمات اور تحریک بارے ارادے مزید پختہ ہوتے چلے جائیں گے۔
مخالفین کا حال یہ تھا کہ اگر وحی میں صرف ارض و سما کی تخلیق بارے مسحور کن بیانات ہی نازل ہوتے رہتے تو شاید مکہ کی اشرافیہ اور با اختیار لوگوں کو آپ صلعم سے کوئی مسئلہ پیش نہ آتا ۔ وہ اس سارے معاملے کو یکسر نظر انداز کر سکتے تھے۔ ان کے نزدیک، اس طرح کے الہامی پیغامات سے کسی کا کچھ بھی نہیں بگڑ سکتا تھا۔ بلکہ، وہ اس طرز الہام کو بے ضرر جانتے تھے۔ اسی طرح، انہیں ایک قادر مطلق خدا سے بھی کوئی مسئلہ نہیں تھا کیونکہ ان کی بسر ایک ایسے شہر میں تھی جہاں پہلے سے ہی برتر خدا کی تقدیس کی نشانی، جیتی جاگتی علامت، یعنی حرم کی شکل میں موجود تھی۔ مگر، قبائل سے منسوب انفرادی خدائی اوتاروں کی مثال شافع، خدا کے نمائندگان جیسی تھی۔ ان کی حکم بر آری اور خدا سے نسبت تو ان کے ناموں میں بھی واضح تھی۔ مثال کے طور پر لات، منات اور عزا کو ملا کر 'خدا کی بیٹیاں' قرار دیا جاتا تھا۔ ایک خدا تک تو بات ٹھیک تھی، مگر اس کے سوا کوئی دوسری خدائی نشانی نہیں؟ یہ مکہ میں قبائلی شناخت پر حملہ تھا۔ یہ، 'آباؤ اجداد کے طریق' کے خلاف کھلی جنگ تھی۔
جس طرح لوگ خدا کے نام پر صفائیاں پیش کرتے اور قسمیں اٹھاتے تھے۔ بعینہ خدائی نشانات کو بھی خدا کی بارگاہ میں اپنا ضامن سمجھتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ ان کی وجہ سے ہی اپنے باپ دادا کا نام لے کر بھی قسمیں اٹھایا کرتے تھے۔ شاید سننے میں عجیب لگتا ہو مگر کئی لوگ اس طرح کی قسمیں آج بھی اٹھاتے ہی ہیں۔ جیسے، 'میری ماں کی قسم' یا پھر، 'مرے ہوئے باپ کی قسم' وغیرہ۔ عملی طور پر نہ سہی مگر ان قسموں میں، جذباتی اور فلمی انداز دیکھنے کو مل ہی جاتا ہے۔ تب، محمد صلعم کے زمانے میں خطہ حجاز و عرب میں یہ قسمیں صرف قسمیں نہیں تھیں بلکہ باپ دادا کی لازمی عزت و غیرت سے بھی کہیں بڑھ کر معاملہ رہا کرتا تھا۔ اس زمانے میں آباؤ اجداد سے گہری نسبت اور ان کے ناموں کو بارہا، ہر طرح کے بہانے سے دہرانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آج جدید دور کے انسان، بالخصوص مغرب کے لوگ اوائل دور اسلام کی اسلامی تصنیفات اور حوالہ جات کو سمجھنے میں شدید مشکل سے دوچار رہتے ہیں۔ تب شجرہ نسب اور آباؤ اجداد کے نام لے لے کر پکارے جانے، مخاطب کرنے کا معاملہ، حالیہ دور کے روسی ناولوں میں استعمال ہونے والے مشکل اور طویل ناموں سے بھی کہیں زیادہ پیچیدہ ہوا کرتا تھا۔ مشرق وسطی میں مکمل شناخت کے لیے صرف باپ یا خاندانی نام کافی نہیں ہوتا بلکہ اس میں ساری پشت کا حوالہ شامل کیا جاتا ہے۔ باپ، دادا، پردادا، یہاں تک کہ کنبے کے اولین سربراہ یا پھر اس سے بھی پہلے اس شخص تک نام گنوائے جاتے ہیں جو قبیلے کا بانی رہا تھا۔ (جس طرح میتھیو یا متی میں عیسی کو ابراہیم اور داؤد تک کی نسل تک شناخت کیا جاتا ہے)۔تاریخ شناخت کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھی۔ اس طرح ایک شخص کی انفرادیت سے کہیں بلند ہو کر نسل در نسل کا حساب ہی تاریخ کے زمانوں میں ماضی اور حال کے حوالہ جات قائم کرنے کا سبب ہوا کرتا تھا۔ چنانچہ، اس بات کا یقینی خیال رکھا جاتا کہ ہر نسل اس بابت آگاہ رہے کہ اس حوالے کے بغیر، شاید ان کی تاریخ گم ہو کر رہ سکتی تھی۔
گمشدہ تاریخ کا تصور قرانی آیات میں بھی جوں کا توں مرکزی نکتہ تھا جیسا یہ کبھی قبل از اسلام قصیدہ گوئی میں رہا کرتا تھا۔ ماضی کے کھنڈرات ایک سبق تھے۔ نہ صرف یہ کہ جو کچھ بیت چکا تھا، اس کی یاد دہانی تھی بلکہ یہ ایک طرح سے انتباہ بھی تھا کہ آج بھی ایسا پیش آنا عین ممکن تھا۔ مثلاً زلزلے، قحط، طاعون یا مفتوح ہو جانا۔ کوئی بھی تہذیب، چاہے وہ کتنی ہی عظیم ترین کیوں نہ ہو، آنکھ کے جھپکے میں ہی تاریخ کے منظر سے مٹ سکتی تھی۔ چنانچہ، نسل در نسل شجرہ یاد رکھنے کی مثال اس لحاظ سے انسانی یاد داشت میں مدافعتی نظام کی تھی۔ یہ تو اجتماعی بات تھی مگر ایک اکیلے شخص کے لیے بھی وقت کے دھارے میں آباؤ اجداد، نسب، نسل کے نام اور کارناموں کے ذریعے، اپنی انفرادیت کو برقرار رکھنے کا یہی ذریعہ تھا۔ اس طرح ہر شخص اپنی شناخت قائم رکھ سکتا تھا۔ بلکہ، باپ دادا سے یہ نسبت، اس کے لیے نئے زمانے میں تازہ کارنامے سر انجام دینے کے لیے حوالہ اور تقریباً ہمیشہ ہی، تحریک بھی بن جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ خدا اور خدائی اوتاروں کے ساتھ آباؤ اجداد کی بھی پوجا کی جاتی تھی۔ ان کے نام کو زندہ رکھا جاتا تھا، امر کرنے کی بہتیری کوشش کی جاتی تھی ۔ تا کہ مردہ ماضی کے یہ کردار، حال کے جیتے جاگتے باسیوں کو حوصلہ، جلا بخش سکیں۔ تاریخ کے طاقتور کرداروں کے مزارات تعمیر کیے جاتے تھے اور ان کے مقبروں کو مزین، معطر رکھا جاتا تھا۔ بے شمار ربیوں، ولیوں اور کئی اماموں کے مزارات اور مقبرے آج بھی شمال افریقہ، مشرق وسطیٰ اور جنوب اور وسط ایشیاء میں عام مل جاتے ہیں۔ حالانکہ، یہ واحدانیت کے تصور کے سراسر خلاف معلوم ہوتا ہے۔ باوجود اس کے، یہ آج تک ہو رہا ہے۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ یہودیوں اور عیسائیوں میں بھی یہ روایت مقبول ہے ۔ شاید، اس کی وجہ یہ ہے کہ ان مذاہب کی پیروکار عام انسان ہیں اور بحیثیت انسان ان میں ایک ضرورت سانجھی ہے۔ ان حرمین، مزارات ،مقبروں، خانقاہوں اور کئی دوسری تاریخی نشانیوں کی پتھریلی دیواریں انسان کی ان اندرونی کیفیات، چاہ کو سیر کرتی ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے نشان، مخاطب کا قابل لمس ہونا ضروری ہے۔ لوگ پتھروں کو چھو سکتے ہیں، چوم سکتے ہیں۔ دیواروں کے ساتھ لگ کر گریہ کر سکتے ہیں اور ان کے سائے میں کھڑے ہو کر دعا مانگ سکتے ہیں۔ ان کی زیبا ئش کی جا سکتی ہے اور پھول نچھاور کر کے عقیدت، محبت کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہاں، صدقات، تحائف اور خطوط، مراسلے بھی جمع کرائے جا سکتے ہیں۔ مثال، کسی پیارے کو اپنے سامنے بٹھا کر دل کا حال بیان کیا جا سکتا ہے۔
تو، جب قرانی آیات میں پہلے پہل قیامت اور روز حساب مردوں کو زندہ کیے جانے کا تذکرہ ہونے لگا تو اس میں کوئی اتنے اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ روز حساب، سبھی روحوں کو موت سے واپس زندہ اٹھایا جائے گا اور ان کے اعمال کا حساب لیا جائے گا۔ یہ بات پہلے ہی عام تھی، سب یہ مانتے آئے تھے کہ یہ دنیا، ارواح سے بھری پڑی ہے۔ ان ارواح کی نشانیاں ہر طرف بکھری ہوئی تھیں۔ ان میں نہ صرف وہ زندہ انسان جو ابھی اس میں بسر کر رہے تھے بلکہ ان لوگوں کی ارواح بھی شامل تھیں جن کے اجسام بہت پہلے مر چکے ہیں۔ یعنی، ان کے لیے آباؤ اجداد ابھی بھی، ارواح کی شکل میں زندہ تھے۔ مگر   اس کے باوجود، محمد صلعم پر تنقید کرنے والوں نے قیامت کا تصور لغوی معنوں میں لیا اور اس معاملے کو بھی لے کر طعنہ زن ہو گئے۔ آیات میں اس کا تذکرہ یوں ہے کہ کہتے ہیں ، 'کیا جب ہم مر کر خاک ہو جائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے؟' اور 'کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں؟' حقیقی طور پر یہ قیامت کا تصور نہیں تھا جس سے وہ نالاں تھے۔ بلکہ، وہ اس کو اپنے آباؤ اجداد کی تضحیک، بے عزتی سمجھنے لگے تھے اور یہ ان کے لیے یہ سارا معاملہ ناقابل برداشت ہوتا جا رہا تھا۔
یہاں یہ بات دلچسپ ہے کہ اب وحی میں یہ بھی کہا جانے لگا کہ قبائلی آباؤ اجداد نادان اور جاہل تھے۔ یہ جہلا کے سیاہ تاریک دور سے تعلق رکھتے تھے۔ یہی نہیں بلکہ، باور کرایا جانے لگا کہ انہیں روز قیامت اپنے کیے کا حساب بھی دینا پڑے گا۔ تاریخ میں عقیدہ واحدانیت پر قائم آباء جیسے ابراہیم کو حنیف کہا گیا اور پیغمبروں سی عزت بخشی گئی مگر ان کے علاوہ تمام لوگ جو ایک خدا کے تصور سے منکر تھے، انہیں جنت میں، 'باغوں کے رہائشی' کی بجائے جہنم میں 'آگ کے ساتھی' کہا جانے لگا۔ چونکہ، اب بعد از موت کوئی ایسی صورت نہیں تھی کہ اہلیان مکہ کے 'منکر' آباؤ اجداد واحدانیت کو مان لیتے، تو محمد صلعم کے مخالفین نے اس کا مطلب یوں لیا کہ اس طرح ان کے باپ، دادا کو قطعی رد کیا جا رہا ہے۔ آگ کا ساتھی قرار دے کر ان کی ہتک کی جا رہی ہے۔ چنانچہ، انہوں نے اسے شدید بے عزتی سمجھا اور لغوی معنوں میں محمد صلعم اور الہامی پیغام کو یکسر مسترد کر دیا ۔
یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک شخص جو پیدائش سے پہلے ہی یتیم ہو چکا تھا، شاید اس کے لیے 'آباؤ اجداد کے طریق' کو ترک کر دینے میں کوئی خاص قباحت نہیں تھی۔ محمد صلعم کو واقعی کوئی مشکل نہیں تھی مگر یہ بھی تو سچ ہے کہ ایک وقت میں، غیر ارادی طور پر محمد صلعم کے براہ راست آبا اور اقربا نے انہیں بد دل کر دیا تھا۔ آپ صلعم کو لاتعلق چھوڑ دیا تھا جبکہ اس معاشرے کا اصل مدعا ہی جوڑ کر، یعنی متعلق بنا کر رکھنا تھا۔ بہر حال، اب جس دعوت کا وہ پرچار کر رہے تھے وہ ان کی اپنی انفرادی اور ذاتی شناخت سے کہیں بڑھ کر معاملہ بن چکا تھا۔ آپ صلعم کی مثال ان کے زمانے سے چھ صدی قبل آنے والے ایک دوسرے نبی کی مانند ہی تھی ۔ وہ دور دراز شمال میں گرجا کے برآمدوں میں آج بھی گونجنے والی ان صداؤں کی ہی طرح لوگوں کو دعوت دے رہے تھے کہ وہ گھرانے، کنبے اور قبیلے کی روایتی بندھن سے بلند ہو کر ایک خدا کے نام پر اکٹھے ہو جائیں۔
چھ صدیوں قبل، عیسی نے کہا تھا اور یہ میتھیو یا متی میں رقم ہے کہ، 'یہ نہ سمجھو کہ میں زمین پر صلح کروانے آیا ہوں، میں تو تلوار چلوانے آیا ہوں۔ میں تو اس لیے آیا ہوں کہ آدمی کو اس کے باپ سے، بیٹی کو اس کی ماں سے اور بہو کو اس کی ساس سے جدا کر دوں۔ اور آدمی کے دشمن اس کے گھر کے ہی لوگ ہوں گے۔ جو کوئی باپ کو یا ماں کو مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، وہ میرے لائق نہیں۔ اور جو کوئی بیٹے کو یا بیٹی کو، مجھ سے زیادہ عزیز رکھتا ہے، وہ میرے لائق نہیں ۔اور جو کوئی اپنی صلیب نہ اٹھائے اور میرے پیچھے نہ چلے، وہ میرے لائق نہیں۔۔۔' اب، محمد صلعم بھی کم و بیش یہی کہہ رہے تھے۔ یعنی، مکہ کے لوگ بالآخر سب کچھ کھو دیں گے۔ یہ آیت کہ محمد صلعم سے کہا کہ کہو ان سے، 'اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے عزیز اور تمہارا وہ مال جو تم نے کمایا ہے اور تمہارا وہ کاروبار جس کے ماند پڑ جانے کا تم کو خوف ہے اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں، تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرو۔۔۔' وہ جنہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا، اب صحیح معنوں میں بہن اور بھائی تھے۔ یہ ایک نیا خاندان تھا جو پرانے پر ترجیح رکھتا تھا۔ تمام تر حدود کو توڑتا ہوا ایسا رشتہ جو اپنے اصل آباؤ اجداد میں شناخت کا متلاشی تھا۔ آباؤ اجداد سے مراد قبائلی اور نسبی باپ دادا نہیں بلکہ واحدانیت کے بانی یعنی، ابراہیم اور موسی سے تعلق جوڑتا تھا۔
چنانچہ وہی نکتہ جو ابو طالب کو اپنے طریق پر جمے، اس سے چمٹے رہنے پر مجبور کر رہا تھا، مکہ کی اشرافیہ کے لیے بھی درد سر بن چکا تھا۔ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں باپ اور دادا کی عزت اور تکریم قائم رکھنا، بذات خود عزت اور غیرت کا مسئلہ تھا۔ اب سمجھا جانے لگا کہ شاید لوگوں سے اپنے آباؤ اجداد کو مکمل طور پر ترک کرنے کا کہا جا رہا ہے۔ لیکن اگر اس بات کو برداشت بھی کر لیا جاتا اور نتیجے میں سارا معاملہ نظر انداز ہو جاتا۔ تب بھی، محمد صلعم کا پیغام تو صرف یہیں تک محدود نہیں تھا بلکہ وہ تو اشرافیہ کے آسائش و آرام ، شاہانہ طرز زندگی کے در پے تھے۔ یہ معاملہ اصول کا نہیں بلکہ مفادات کا بنتا جا رہا تھا۔ اگر روایتی اقدار کو اس نئے طریق کے تابع کر بھی دیتے، پھر بھی قرانی احکامات کے ذریعے مال و دولت جمع کرنے کی حوصلہ شکنی تو مکہ کے پر اثر حلقے کی پکی مسماری تھی۔ اس طرح تو اشرافیہ کے ہاتھ میں کچھ بھی باقی نہ رہتا اور ان کی ناانصافی بھی لوگوں کے سامنے کھل کر آ شکار ہو جاتی۔ یہی نہیں، ان امراء کے یہاں، یہی غیر منصفانہ طریق انتظام راست بھی سمجھا جاتا تھا۔
چنانچہ، مکہ کے کرتا دھر تاؤں کی جانب سے اس مختصر گروہ کو نخوت اور حقارت میں لپیٹ کر جواب دیا جانے لگا۔ ایک مغرور آدمی کہنے لگا، 'ذرا محمد صلعم کے ساتھیوں کو تو دیکھو! کیا یہ وہ لوگ ہیں جو خدا نے چن رکھے ہیں؟ اور یہ ہمیں سیدھا راستہ دکھائیں گے؟ سچائی کا پرچار کریں گے؟ اگر یہ لوگ واقعی اس قابل ہوتے تو خدا ہماری بجائے انہیں عزت اور اختیار بخشتا۔۔۔'
اسی طرح، خود محمد صلعم کے بارے میں کئی دوسرے مخالفین کہتے کہ وہ صرف اور صرف ہجوم کو اکسانے والا ہے۔ یہ حقیر بازاری لیڈر ہے جو بیوقوفوں اور نادانوں کے ذہنوں پر آسانی سے اثر انداز ہو جاتا ہے۔ نوجوان لونڈے جنہیں قیادت ملنے کا کوئی امکان نہیں۔ کمی کمین ، جن کا اپنا کوئی حال نہیں۔ ایسے لوگ جو مکہ کے ہیں بھی نہیں اور انہیں کبھی قریش نے پناہ دیے رکھی تھی۔ یہ کون لوگ ہیں؟ غلام، آزاد کیے ہوئے غلام اور عورتیں؟ باوجود اس سب کے، مخالفین میں سے ہی چند نئے لوگ محمد صلعم کے پیغام اور اس چھوٹے سے گروہ کی ہمت دیکھ کر بہرحال متاثر ہو ہی گئے۔ انہی میں سے ایک، اور اس وقت خاصے پر اثر شخص عتیق ابن عثمان بھی تھے ۔ آج آپ کو ابو بکر کے نام سے جانا جاتا ہے اور آخر کار آپ اسلام میں پہلے خلیفہ، یعنی محمد صلعم کے جانشین مقرر ہوں گے۔
ابو بکر مکہ میں خاصے مقبول اور کامیاب تو تھے ہی، مگر بطور نسل داں ان کی عزت بڑھ کرتھی۔ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں نسل کی اہمیت ہر شے سے بر تر ہو، ابو بکر کی نسل دانی خاصی اہم سمجھی جاتی تھی۔ اسی کی وجہ سے آپ مکہ کے نامی گرامی تاریخ دان مشہور تھے۔ یعنی، وہ شخص جو حسب و نسب کا پورا حساب اور رشتوں، ناطے کا درست شمار رکھتا تھا۔ چنانچہ، جب ابو بکر اسلام قبول کر کے ایمان لے آئے، یعنی کلمہ شہادت 'اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلعم اللہ کے رسول ہیں' پڑھ لیا تو گویا آپ نے مخالفین کی اس دلیل کو سر عام جھٹلا دیا کہ محمد صلعم باپ اور دادا کی بے عزتی کر رہے ہیں۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ، 'بعد اس کے، مکہ میں اسلام کا تذکرہ عام ہونے لگا اور ہر شخص اس بابت بات کر رہا تھا۔'
ابو بکر کے اسلام قبول کرنے کے بعد جہاں محمد صلعم اور ان کے گروہ کے حوصلے بڑھ گئے، وہیں مکہ کی اشرافیہ بھی اپنے ارادوں میں مزید پختہ ہو گئی۔ انہوں نے ہر طرح سے کوششیں شروع کر دیں کہ محمد صلعم اور ان کے پیروکار ہر صورت ادنی، بلکہ خطرات میں گھر کر رہنے والی اقلیت ہی رہیں۔ چنانچہ، ابو طالب پر اپنے بھتیجے سے قطع تعلق کرنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا۔ ان سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ وہ آپ صلعم کو بنی ہاشم سے نکال باہر کریں اور یوں ان کی حفاظت سے دست بردار ہو جائیں۔ یہاں تحفظ سے ہاتھ کھینچنے کا مطلب سمجھانے کی کسی کو بھی ضرورت نہیں تھی۔ کنبے سے اس بے دخلی، خروج کا مطلب یہ تھا کہ محمد صلعم کا 'خون جائز' ہو جاتا۔ 'خون جائز ہونا' کی اصطلاح سے مراد یہ تھی کہ آپ صلعم کو قانونی طور پر قتل کیا جا سکتا تھا اور اس فعل کی پاداش میں قاتل پر بدلے کا قانون بھی لاگو نہیں ہو سکتا تھا۔ یعنی، محمد صلعم کا معاملہ قانون سے بالاتر ہو جاتا۔
یہاں بدلے کے قانون سے مراد 'خونی انتقام' ہے جو نہ صرف آج بلکہ تب بھی سننے میں خاصا وحشیانہ معلوم ہوتا تھا۔ یہ اور اس طرح کی کئی دوسری اصطلاحات در اصل آٹھویں اور نویں صدی عیسوی میں مسلمان تاریخ دانوں کے یہاں عام ہونے لگیں جب وہ دمشق اور بغداد جیسے جدید اور مہذب شہروں میں رہ کر مکہ کی تاریخ رقم کر رہے تھے۔ ان کے نزدیک، اسلام سے قبل مکہ میں کچھ ایسی ہی صورتحال رہی ہو گی۔ آخر، جہلا سے سیاہ دور کے سیاہ اعمال میں علاوہ اس کے کیا امید ہو سکتی ہے؟ وہ دیکھ سکتے تھے کہ اسلام میں اس خون آلود انتقام، آشام کی صاف ممانعت کی گئی تھی۔ اگرچہ قران میں کہا گیا کہ، 'جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔۔۔' مگر قران اس کو قدیم زمانوں سے جوڑ کر کہتا ہے کہ، 'تورات میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا۔۔۔' لیکن، جہاں پورا بدلہ لینے کا حکم ہے، وہیں یہ بھی تو کہا گیا ہے کہ، 'پھر جو قصاص کا صدقہ کر دے تو اس کے لیے کفارہ ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی ظالم ہیں'۔
یہ 'آنکھ کے بدلے آنکھ' کا تصور تورات سے آیا ہے۔ الہام میں پہلی بار یہ 'کتاب خروج' میں ظاہر ہوا اور پھر تفصیل سے اس کا تذکرہ تورات کی تیسری 'کتاب کہانت' میں مل جاتا ہے۔ مگر، تب بھی یہ کسی صورت خالصتاً، صرف الہامی کلام نہیں تھا۔ یہ قانون تورات سے بھی پہلے، تقریباً ہر قدیم دور میں اس قانون کی اساس تھی جس کے لیے لاطینی زبان میں ایک اصطلاح ‘Lex Talionis’ یا 'قانون الانتقام' استعمال کی جاتی تھی۔ جس کا عربی زبان میں 'قصاص ' مشہور ہے۔ مگر لاطینی لفظ، 'Talionis' کا تصور بعد ازاں جدید زبانوں، جیسے انگریزی وغیرہ میں داخل تو ہو گیا مگر اس کا مفہوم اپنے اصل معنوں میں برقرار نہیں رہا۔ مثال کے طور پر، انگریزی میں آج بھی Talon کا لفظ شکاری پرندے کے پنجے سے موسوم ہے یعنی جس کی نکھ اور پنجا شکار کے خون سے آلود ہوں۔ یعنی، اس بابت خون ریزی کا گماں عام ہو گیا۔
اوائل دور کے اسلامی تاریخ دان اور جدید مغربی محققین، دونوں ہی ساتویں صدی عیسوی میں عرب کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچتے ہیں کہ اس تصویر میں قبائل ایک دوسرے سے ہر دم گتھم گتھا نظر آتے ہیں۔ یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ شاید ان کی آپس میں ہمیشہ ہی جنگ رہا کرتی تھی اور ہر نئے قتل کے ساتھ خونی انتقام کا نہ ختم ہونے والا، دہائیوں تک دشمنیوں کا لاینحل سلسلہ جاری رہتا تھا۔ ایک انفرادی قتل کے بدلے ، پہلے کنبہ اور پھر پورا قبیلہ خونی انتقام میں بھڑ جاتا اور یوں تشدد کی ایک ایسی لہر پیدا ہوتی ہے جس کی کوئی انتہا نہیں۔ اس طرح کی دشمنی میں تو دیکھتے ہی دیکھتے کئی لوگ، پوری نسلیں برباد ہو جائیں۔ طویل دشمنی کی بھینٹ چڑھ جائیں۔ مگر، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر واقعی ایسا تھا تو آخر یہ معاشرہ، اتنی طویل مدت تک، اس قدر صحت افزا معاشی اور مذہبی ماحول میں کیسے پنپتا رہا؟ حقیقت تو یہ ہے کہ ساری انسانی تاریخ اور آج بھی دنیا بھر میں قبائل کے بیچ تصادم اور آویزش کی اصل وجہ انتقام کی ہوس نہیں بلکہ طاقت کا حصول رہا ہے۔ اس دور کے خطہ عرب میں اس طاقت اور اختیار کا مطلب پانی کے ذخائر پر قبضہ، چراگاہوں کے حقوق اور تجارتی قافلوں کے قبائلی علاقے میں سے گزرنے پر ٹکسال کی وصولی لی جا سکتی ہے۔ خونی انتقام، جنگ و جدل اور خون ریزی کو شاذ و نادر ہی، اس وقت استعمال میں لایا جاتا تھا کہ جب اس کے بغیر امن قائم رکھنا مشکل ہو جاتا تھا۔ ایک مرکزی با اختیار حکومت کے نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایسا ہتھیار بن چکا تھا جس کو قبائل تحفظ اور مفادات کے حصول کے لیے سنبھال کر رکھتے تھے اور اس کا واقعی استعمال صرف اس کا ڈر تھا۔ اس کی وجہ سے قبائل کے بیچ تصادم یا جھڑپ کا احتمال رہا کرتا تھا مگر بذات خود خون بہانا مقصود نہیں تھا۔ یعنی، اس کے ذریعے دشمنی کو دوام نہیں بلکہ تشدد اور خونریزی کا خوف دلا کر مطالبات منوائے جاتے تھے یا اس ڈراوے کو استعمال میں لا کر کسی بڑے تصادم سے باز رہا جاتا تھا۔
قبائل میں تمام ہی گروہ یہ اچھی طرح جانتے تھے کہ 'قصاص کا قانون'، انتقام یا بدلہ لینا تب ہی کارگر ہو سکتا ہے جب یہ انتہائی نا گزیر ہو چکا ہو۔ اگر کسی کنبے یا قبیلے کا کوئی فرد قتل ہو جاتا تو اس صورت میں اس کے رشتہ داروں پر اس کا بدلہ، انتقام لینا لازم تصور کیا جاتا تھا۔ اگر کوئی مقتول کا بدلہ نہ لیتا تو مشہور تھا کہ ایک الو، اس کی قبر میں سے نکل کر چلاتا رہے گا، 'مجھے پلاؤ، مجھے پلاؤ!' یعنی، خون پلاؤ تا کہ بدلے کی پیاس بجھ سکے۔ کسی بھی قبیلے یا کنبے کا اس 'فرض' کا دباؤ، نہ صرف بیرون بلکہ اندرون بھی یکساں اور خاصا گہرا ہوتا تھا ۔ یعنی، اس کے سبب گروہ کے اندر یہ اتفاق پایا جاتا تھا کہ ان میں سے ہر شخص کسی دوسرے شخص کے اعمال، افعال کا ذمہ دار ٹھہرایا جا سکتا ہے۔ اس طرح یہ قبیلے کے اندر اور باہر پورے معاشرے میں پہلے تو دافع طیش رہا کرتا مگر جب معاملہ آن پڑے تو پھر یہی فرض کاری ہتھیار بن جاتا۔ یعنی یہ کہ، ہر قبائلی اچھی طرح سمجھتا تھا کہ کسی دوسرے قبائلی یا کنبے کے فرد کا قتل خود اس کے اپنے سگے بھائیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتا ہے ۔ چنانچہ ، ہر شخص پر سماجی طور پر جان لیوا تشدد سے باز رہنے کا دباؤ ہمیشہ برقرار رہتا تھا۔ صحراؤں میں، بدو قبائل اونٹوں پر لدے تجارتی قافلوں پر حملے کیا کرتے تھے۔ ان حملوں میں بھی ان کی حتی الامکان کوشش یہ رہتی کہ وہ کسی شخص کو قتل کرنے سے باز رہیں۔ ایک آدمی کے قتل کے نتیجے میں خونی انتقام اور طویل دشمنی کا یہی خوف انہیں ہر طرح سے باز رکھتا تھا۔ چنانچہ، سب ہی جانتے تھے کہ یہ حملے عام طور پر مال لوٹنے کی غرض سے کیے جاتے ہیں اور عام حالات میں یہ جان لیوا نہیں ہوتے۔ یا کہیے، کم از کم اصولی طور پر ایسا ہی سمجھا جاتا تھا۔
چاہے یہ قصداً ہو رہے یا پھر صرف جذبات میں بہہ کر سر زد ہو جائے۔ تلوار سونت لینے سے اکثر ہی جان لیوا واقعات جنم لے لیا کرتے تھے۔ اسی وجہ سے 'قصاص' یا 'خونی انتقام' کے ساتھ ہرجانے کا نظام بھی موجود تھا۔ بابل اور روم کے قانونی نظام کی ہی طرح، عرب میں بھی یہ شرعی طور پر جائز تھا۔ عرب میں ہرجانے کو 'دیہ' کہا جاتا تھا۔ اس سے مراد خون بہا کی ہے۔ یہ خون بہا عام طور پر سونے یا مال مویشی کی صورت ادا کیا جاتا تھا اور اس کو طے کرنا 'حاکم' کی ذمہ داری ہوتی تھی۔ 'حاکم' سے مراد سیانے شخص یا ثالث، یا جج ہے۔ عام طور پر ایک قتل کا خون بہا دس دودھ دینے والے اونٹ ہوا کرتے تھے مگر بعض دوسری صورتوں میں، جیسے ہبل کے قدموں میں محمد صلعم کے والد عبداللہ کے سر کی قیمت سو اونٹ طے ہوئی تھی۔ چنانچہ، جب شدت پسند اور فتنہ پرور لوگ دوسروں کو بزدلی کے طعنے دیا کرتے تو عام طور پر انہیں 'خون کے بدلے دودھ' جیسی ذلت یاد کرایا کرتے تھے۔ اس طنز کے باوجود، قبائلی لوگ چونکہ موت سے زیادہ زندگی کو عزیز رکھتے تھے اور انہیں معاشی مسائل بھی در پیش رہتے تھے تو زیادہ تر خون کی بجائے دودھ پر راضی ہو جایا کرتے تھے۔
یہ سارا نظام صرف اس وجہ سے قائم تھا کہ سماج میں اس کی بابت ایک جھکاؤ موجود تھا۔ ایک کنبہ یا قبیلہ اپنے فرد کا بھر پور تحفظ کیا کرتا تھا اور اس کے دائرے میں غلام اور آزاد کردہ غلام بھی شامل سمجھے جاتے تھے۔ غلاموں کو اپنے مالکان اور آزاد ہو جانے والوں کو اپنے گزشتہ مالکان کی ہمیشہ ہی سرپرستی حاصل رہتی تھی۔ مگر، وہ شخص جو کسی قبیلے یا کنبے سے تعلق نہ رکھتا ہو یا جس طرح اب قریش محمد صلعم کے لیے یہ مطالبہ کر رہے تھے، کسی شخص کو کنبے یا قبیلے سے بے دخل کر دیا جاتا تو اس صورت میں اسے کسی بھی قسم کے قبائلی تحفظ سے باہر سمجھا جاتا تھا۔ لغوی معنوں میں، ایسا شخص قانون کے دائرے سے خارج، باغی قرار پاتا۔ اس کے ساتھ نبٹنا قانون سے مبرا ہو جاتا تھا۔
ابو طالب عجب کشمکش میں مبتلا تھے۔ گو وقت کے ساتھ ان کے دل میں محمد صلعم کی عزت بڑھ گئی تھی مگر ان کا اثر رسوخ دولت کی کمی کے ساتھ گھٹ گیا تھا۔ باوجود اس کے، وہ اب بھی ایک غیرت مند شخص تھے۔ بنی ہاشم کے سربراہ کی حیثیت سے اس کنبے کی کفالت اور حفاظت یقینی بنانا ان کی ذمہ داری تھی۔ یہ فرض باپ دادا کے طریق میں بنیادی جز تھا جس پر وہ آخر تک قائم رہے۔ چنانچہ، جب دوسرے کنبے کے سربراہان نے اس معاملے کو لے کر ابو طالب سے زبانی مڈھ بھیڑ کی تو گویا آپ بند گلی میں لا کر کھڑے کر دیے گئے۔ ابو طالب ایک طرح سے محمد صلعم کے مقروض تھے۔ کیونکہ، انہوں نے پہلے تو تجارت میں ہاتھ بٹا کر ابو طالب کو متمول کر دیا اور پھر ان کے بیٹے علی کی اپنے گھر میں کفالت کی ذمہ داری بھی سنبھال لی۔ بظاہر ابو طالب اپنے بھتیجے کی تعلیمات سے متفق نہیں تھے مگر ان کے لیے یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ ایک طویل عرصے کی نسبت اور قربت کے دوران ان دونوں اشخاص کے بیچ انس اور اعتماد کا رشتہ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ دیرینہ تعلقات میں ایک آدمی کی دوسرے کے لیے عزت اور منزلت بڑھتی جاتی ہے۔ ابو طالب کے لیے مشکل یہ تھی کہ آپ سے اسی نسبت اور محمد صلعم کی قدر و منزلت سے دست بردار ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔
ابو طالب سے محمد صلعم کی بابت باز پرس کرنے والا یہ وفد قبیلہ قریش کے کنبہ مخزوم کے سردار کی سربراہی میں آیا تھا جس کا شمار بعد ازاں محمد صلعم کے بدترین، شوری اور متشدد مخالف کے طور پر کیا جائے گا۔ اس شخص کا خاکہ بعد ازاں اس قدر بگڑ جائے گا کہ یہ اپنے اصل نام، ابو الحکم کی بجائے ابو جہل کے نام سے مشہور ہو نے لگے گا۔ ابو الحکم کے معنی 'دانائی کے باپ' اور ابو جہل سے مراد 'جہالت کا باپ' ہے۔ ابو الحکم نے اپنا یہ نیا نام ، یعنی ابو جہل بنانے میں ذرا دیر نہیں لگائی اور اسی ملاقات کے دوران ابو طالب کو دھمکانے لگا۔ کہنے لگا، 'خدا کی قسم! ہم کسی طور بھی اپنے باپ دادا کی مزید تذلیل اور بد گوئی برداشت نہیں کریں گے۔ یہ ہماری روایتی اقدار کی تضحیک ہے اور ہمارے خدائی اوتاروں کی بے حرمتی ہے۔' پھر وہ ابو طالب کو اشارہ کر کے گویا ہوا، 'یا تو تم محمد صلعم کو خود روک لو وگرنہ ہمیں خود اس سے نمٹنا پڑے گا۔ چونکہ تم بھی اسی حیثیت میں ہو جس میں ہم ہیں اور تم بھی اس کی مخالفت کرتے ہو، ہم اس سے چھٹکارا حاصل کر سکتے ہیں' مطلب یہ تھا کہ اب ابو طالب خود ہی محمد صلعم کو خاموش ہو جانے پر قائل کر لیتے ورنہ دوسری صورت میں محمد صلعم کو طاقت کے زور پر ہمیشہ کے لیے خاموش کیا جا سکتا تھا۔
ابو طالب جیسے غیرت مند شخص کے لیے یہ مطالبہ ، بلکہ دھمکی انتہائی گھناؤنی حرکت تھی۔ وہ قطعاً ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ وہ ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے سے باز رہتے۔ بلکہ، وہ چاہتے ہوئے بھی، ایسا نہیں کر سکتے تھے۔ اس کی وجہ ان کے اپنے سماجی اور سیاسی وجود کے معاشرتی اصول تھے۔ یعنی، اگر ابو طالب محمد صلعم کو بنی ہاشم سے بے دخل کر تے ہیں تو یہ اپنی موت کے پروانے پر خود ہی دستخط کرنے کے مترادف تھا۔ بطور سربراہ، وہ اپنا فرض اور ذمہ داری پوری کرنے سے معذور کہلاتے اور آپ پر کنبے کے تقریباً افراد کا اعتماد اٹھ جاتا ۔ پورا کنبہ عدم تحفظ ، ٹوٹ پھوٹ اورریشہ دوانی کی بھینٹ چڑھ جاتا۔ کوئی بھی غیرت مند شخص ، اپنے کنبے کے ساتھ ایسا کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ ابو طالب نے ابو جہل کی اس حرکت ، مطالبے کو مکہ کی شاندار روایت اور غیرت کے سرا سر منافی سمجھا ۔ انہیں یہ خیال بھی عود کر آ رہا تھا کہ شاید محمد صلعم مکہ کی ٹوٹ کر بکھرتی ہوئی سماجی اقدار بارے درست ہی کہتے ہیں۔ آخر، قبیلہ قریش کے سرداران اس حد تک کیسے گر سکتے ہیں؟ پھر، ابو طالب کے لیے صرف یہی نہیں بلکہ اس کے علاوہ بھی ایک بات تھی۔
وہ بات یہ کہ ابو طالب نے محمد صلعم کے پیغام، اس دعوت کو با ضابطہ قبول تو نہیں کیا تھا مگر اس کے باوجود دل میں اس کو مان لینے کی خواہش تو پیدا ہوتی ہی تھی۔ اس کی واضح مثال اس وفد سے ملاقات اور پیش کردہ تجویز پر آپ کا رد عمل ہے۔ وہ اگر اور کچھ بھی نہ بن پڑتا تو بجا طور پر فوراً محمد صلعم کی تعلیمات پر کنبے کی روایت اور اقدار کی خلاف ورزی کا بہانہ بنا کر، قریش کی ایما پر اسے روکنے کا حکم دے سکتے تھے۔ وہ نہ صرف محمد صلعم کو خاموش کر سکتے تھے بلکہ اس بنیاد پر تو آپ صلعم کو کنبے سے بے دخل بھی کیا جا سکتا تھا۔ مگر انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ بجائے، انہوں نے صورتحال کو چکما دے دیا۔ وہ جانتے تھے کہ ابو جہل کی دھمکی ان کی حمایت کے بغیر ایک بے پر کی اڑائی ہوئی بات سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔ وہ شاید یہ سوچتے ہوں کہ ابو جہل کی اس حرکت کی حیثیت غصے میں نتھنے پھلانے سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے ۔ ویسے بھی، خون ریزی کوئی اتنا آسان نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے ابو جہل کی دھمکی کو یکسر نظر انداز کر دیا اور وفد کو، بقول ابن اسحاق، 'نرم لہجے میں لپیٹ کر صاف جواب دے دیا'
ہاں یہ ضرور تھا کہ محمد صلعم کے ساتھ اس معاملے کو لے کر بات چیت کی جا سکتی تھی۔ ابو طالب چاہتے تو یقینی طور پر محمد صلعم کو اپنی تعلیمات میں اس قدر درشتی سے تبلیغ کرنے سے روک سکتے تھے، مگر یہ صرف اور صرف ذاتی سطح پر ممکن تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ ابو طالب نے یہ کوشش کر کے بھی دیکھ لیا اور بجائے محمد صلعم، وہ خود قائل ہو گئے۔ انہوں نے بھتیجے سے درخواست کی کہ وہ اپنی تبلیغ کو پھیلانے میں اور کچھ نہیں تو، دھیرج سے کام لیا کریں۔ لیکن، محمد صلعم کی مجبوری یہ تھی کہ ایک طرف چچا کو شدید دباؤ کے نتیجے میں پیش آنے والی کوفت کا سامنا تھا تو وہیں دوسری جانب الہامی پیغامات کا اصرار، بے لچک تقاضا دھرا ہوا تھا۔ بہرحال، محمد صلعم اور ابو طالب دونوں ہی جانتے تھے کہ بالآخر جھکاؤ کس طرف زیادہ رہے گا۔
محمد صلعم اور ابو طالب کے بیچ ہونے والی بات چیت میں سخت تناؤ بتایا جاتا ہے۔ محمد صلعم نے مضبوط لہجے میں کہا، 'چچا، اللہ کی قسم! اگر وہ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی لا کر رکھ دیں اور یہ مطالبہ کریں کہ میں اپنا راستہ چھوڑ دوں گا تو میں ہر گز ایسا کرنے والا نہیں ہوں۔ چاہے، اس کے لیے مجھے جان سے ہاتھ ہی کیوں نہ دھونا پڑے!'۔ ابو طالب کے لیے محمد صلعم کو کنبے سے بے دخل کرنے کے لیے یہ جواب کافی تھا۔ بلکہ اس قدر ترش جواب پر تو وہ بحیثیت سربراہ محمد صلعم کے قتل کا حکم بھی جاری کر سکتے تھے۔ محمد صلعم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ باہر نکلنے کے لیے دروازے کی جانب بڑھے ہی تھے کہ ابو طالب نے انہیں روک لیا۔ مڑ کر دیکھا تو ابو طالب بھی زار و قطار رو رہے تھے ۔ ابو طالب بے انتہا جذباتی لہجے میں محمد صلعم سے کہا ، 'اے بھتیجے، واپس آ جاؤ۔ جو تمہارا دل چاہتا ہے ، کہا کرو۔ خدا کی قسم، میں کبھی تمہاری حفاظت کی ذمہ داری سے دست بردار نہیں ہوں گا۔'
اگر چہ ابو جہل کو محمد صلعم اور ابو طالب کے بیچ ہوئی بات چیت کی تفصیلات کا تو علم نہیں ہو سکا تھا مگر چونکہ اس کے بعد بھی ، محمد صلعم کعبہ کے احاطے میں بدستور تبلیغ کا کام جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس سے باور ہو گیا کہ دھمکی کا وار خالی چلا گیا ہے۔ ابو جہل کا غصہ آسمان چھونے لگا اور اب وہ محمد صلعم کے ساتھ ابو طالب کا بھی بیری بن گیا۔ وہ کھلے عام پورے بنی ہاشم کو اس 'فتنے' کو اپنے یہاں پناہ دینے کی پاداش میں سزا دینے، ان سے جنگ کرنے کے اشارے، مشورے دینے لگا۔ مگر ابو جہل کے برعکس دوسرے سربراہان ابھی تک اس معاملے کا کوئی پر امن حل تلاش کرنے کے حق میں تھے۔ اس بات پر تو مکہ کی اشرافیہ میں کوئی دو رائے نہیں تھی کہ بہرحال محمد صلعم کو خاموش ہونا ہی پڑے گا۔ مگر، اس کے لیے ضروری تھا کہ ابو طالب خود انہیں کنبے سے بے دخل کر دیں۔ یوں کھلے عام جنگ چھیڑنے کا مطلب شہر کو تباہی سے دوچار کرنا تھا۔ جو، یقیناً کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے ایک اور حل سوچا۔ وہ ابو طالب کے پاس ایک اور وفد لے کر گئے اور محمد صلعم کے بدلے میں ایک بیٹا پیش کر دیا۔
اب کی بار وفد کی سربراہی ابو جہل نہیں بلکہ ابو سفیان کر رہے تھے۔ ابو سفیان عبد الشمس کنبے کے سربراہ تھے۔ یہ وفد اپنے ساتھ عمارۃ کو بھی لایا تھا۔ عمارۃ قبیلہ قریش میں، 'بہادر، ذہین اور وجیہہ' مشہور تھا۔ اس وفد نے عمارۃ کو ابو طالب کی خدمت میں پیش کیا۔ ابو سفیان نے عمارۃ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر ابو طالب سے کہا، 'ہم تمہیں ایک آدمی کے بدلے آدمی پیش کرتے ہیں' مزید کہا، ' تمہیں عمارۃ کی ذہانت اور حمایت میسر رہے گی۔ اس کو اپنا بیٹا بنا لو اور بدلے میں اپنے بھتیجے کو ہمارے حوالے کر دو۔ اس بھتیجے کو، جس نے تمہارے اور باپ دادا کی روایت کو جھٹلا دیا ہے۔ وہ جس نے مکہ کے لوگوں کے اتحاد کو شدید خطرے سے دوچار کر رکھا ہے اور ہمارے طریق زندگی کی تضحیک کرتا پھرتا ہے۔ اس کو ہمارے حوالے کر دو تا کہ ہم عمارۃ کے بدلے میں اسے قتل کر سکیں۔'
یہ سن کر ابو طالب ہکا بکا رہ گئے۔ ابو طالب کی بجائے کوئی اور شخص بھی ہوتا تو وہ اسی طرح حیران و پریشان ہو جاتا۔ انہوں نے برہم ہو کر جواب دیا، 'یہ سراسر شیطانی فعل ہے جو تم مجھ پر تھوپ دینا چاہتے ہو۔ تم اپنے بیٹے کو میرے حوالے کرنا چاہتے ہو کہ میں اس کو کھلاؤں، تمہارے لیے اس کی کفالت کروں اور بدلے میں، اپنے بھتیجے کو تمہیں دے دوں، تا کہ تم اسے قتل کر سکو؟ خدا کی قسم، ایسا نہیں ہو سکتا۔'
ابو طالب کی جانب سے اختیار کیے جانے والے نرم لہجے کی یہ آخری بار تھی۔ جس طرح قریش کے سربراہان اوچھی اور گری ہوئی حرکات پر اتر آئے تھے، اس کے بعد آپ کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو گیا۔ چنانچہ، ابو طالب نے اپنے کنبے اور اتحادیوں کو جمع کر لیا اور محمد صلعم کی کنبے سے بے دخلی کے مطالبے کے خلاف اکٹھا ہونے کا حکم دے دیا۔ بنی ہاشم نے باقی کنبوں کے سربراہان کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات یکسر رد کر دیے ۔ ابو جہل نے جو جنگ اور کھلی عداوت کی تجویز پیش کی تھی، اب اس کے امکانات بڑھتے ہی چلے جا رہے تھے۔ لوگ مکہ کے گلی کوچوں ، بازاروں، گھروں اور کعبہ کے احاطے میں اس بابت خدشات کا اظہار کرنے لگے۔ گو، زیادہ تر لوگ اس طرح کی صورتحال کے حق میں نہیں تھے مگر اس کے باوجود ممکنات کو رد نہیں کر پا رہے تھے۔
جب کہ مکہ شہر میں لوگ اس مسئلے کو لے کر بحث مباحثے میں مصروف تھے، مکہ کے سربراہان نے بند دروازوں کے پیچھے ایک آخری کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے تیسرا وفد بھیجا۔ اب کی بار، یہ وفد ابو طالب کی بجائے سیدھا محمد صلعم سے ملنے آیا۔ اس ملاقات میں انہوں نے بظاہر نہایت للچا دینے والی تجویز پیش کی۔ مکہ کی اشرافیہ محمد صلعم کو خریدنے کی کوشش میں تھے۔ تجویز یہ تھی کہ اگر محمد صلعم قبائلیوں کے خدائی اوتاروں کی بے حرمتی اور آباؤ اجداد کو بے دین کہنا چھوڑ دیں تو ان کے قدموں میں پوری دنیا نچھاور کی جا سکتی تھی۔ کہنے لگے، 'اگر تمہیں دولت چاہیے تو ہم تمہیں اتنی دولت جمع کر کے دے دیں گے کہ تم ہم سب میں سے مال دار ہو گے۔ اگر تم عزت چاہتے ہو، تو ہم تمہیں مکہ کا سردار بنا دیں گے اور کوئی بھی فیصلہ تمہاری رائے کے بغیر طے نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر وہ 'بھوت' جس کا تم پر سایہ ہے اور تم پر پیش آتا ہے، اگر تم اس سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکتے تو ہم ایسے طبیب یا وید کو تلاش لائیں گے اور جتنی قیمت درکار ہوئی، خرچ کر کے تمہارا علاج کروا دیں گے۔'
بظاہر تو یہ تجویز صاف طور پر اشرافیہ کی مایوسی کو عیاں کر رہی تھی مگر حقیقت میں، یہ ایک دھوکہ اور فریب تھا۔ مکہ کی اشرافیہ آپ صلعم کو دولت اور نہ ہی اختیار دینے والے تھے۔ بلکہ وہ تو اس طرح محمد صلعم کو جھانسا دلا کر عوام میں یہ مشہور کرنے والے تھے کہ آپ صلعم ایک ریاکار، منافق سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ یعنی، ایسا شخص جو لوگوں کے منہ پر ایک بات اور بند دروازوں کے پیچھے کچھ اور تانے بانے بنتا رہتا ہے۔ اس تجویز کے جواب میں محمد صلعم کی استہزائیہ ہنسی کی تو کوئی شہادت نہیں ہے مگر روایت یہ ہے کہ انہوں نے جواب میں خود سے تو کچھ نہ کہا مگر چند قرانی آیات سنا دیں۔ ان قرانی آیات میں، 'دلوں پر غلا ف چڑھانے' کا تذکرہ تھا۔ ان کی ہٹ دھرمی اور کتنی ہی کوشش کر رہو، بے دینی سے نہ مڑنے کا ذکر تھا۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر او ر کچھ نہیں تو محمد صلعم بھی اندر ہی اندر مکہ کی اشرافیہ کے اس بھولے پن اور انتہائی بھونڈی کوشش پر ضرور مسکرا اٹھے ہوں گے۔ مگر، مکہ کی اشرافیہ کے لیے یہ جواب آنکھیں کھولنے کوکافی تھا۔ وہ اب تک یہ بات سمجھنے سے قاصر تھے کہ محمد صلعم کو ذاتی مفاد کے سوا بھی کوئی شے، اس قدر بغاوت پر مجبور کر سکتی ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نزدیک، ذاتی مفادات کے تحفظ کے سوا کوئی بھی شے اس قدر اہم نہیں تھی۔ ان کی اپنی مثال، خود ان کے اپنے سامنے تھی۔
مکہ کے کرتا دھرتاؤں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کو سمجھنا کوئی مشکل نہیں ہے۔ ان کا مقصد محمد صلعم کو خاموش کرنا تھا مگر  اب تک جتنی کوشش وہ کر چکے تھے، ہر طرح کے حربے استعمال کرنے کے باوجود بھی محمد صلعم اور محمد صلعم کے پیغام کی بازگشت بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ اب مکہ میں صبح شام، کم و بیش ہر محفل میں اس تحریک کا تذکرہ کیا جانے لگا تھا۔ یہی نہیں بلکہ دن بدن ان کی بے چینی اور بھی بڑھ رہی تھی۔ وہ جلد از جلد اس معاملے کا حتمی حل تلاشنے کے لیے مجبور ہو گئے۔ اس بے چینی کی وجہ یہ تھی کہ حج کی تاریخ نزدیک آ رہی تھی ۔ نہ صرف یہ بلکہ حج کے ساتھ عکاظ کے سالانہ میلے میں شرکت کے لیے دسیوں ہزار لوگ اور زائرین مکہ کا رخ کرنے والے تھے۔ عام خیال یہ تھا کہ محمد صلعم اور ان کی تحریک کا چرچا پھیل جائے گا اور یہ خبر پکی تھی کہ اس برس محمد صلعم کے پیغام کی ہی وجہ سے معمول سے زیادہ لوگ مکہ پہنچیں گے۔ اس طرح تو محمد صلعم کو اپنے نرالے، بنیاد پرست خیالات کا پرچار کرنے کے لیے آسان موقع ہاتھ آ جائے گا اور اس سے بھی بڑھ کر، اہلیان مکہ کو قطعاً منظور نہیں تھا کہ محمد صلعم اس موقع کا فائدہ اٹھا کر شہر مکہ سے باہر بسنے والے زائرین اور قبائلیوں کے اذہان کو اپنی تعلیمات سے آلودہ کریں۔ اتنے اہم موقع پر آخر، اشرافیہ محمد صلعم کے اثر و رسوخ کو کیسے کم کر سکتی تھی؟ وہ کونسا طریقہ تھا کہ جس کے ذریعے 'سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے'، یعنی اس تحریک کو اہمیت دلائے بغیر اس کا خاتمہ کیونکر ہو؟
اس مقصد کے لیے بلائی گئی اشرافیہ کی بیٹھک کا احوال ابن اسحاق نے یوں بیان کیا ہے کہ، "ایک سردار نے کہا، 'ہم مشہور کر دیتے ہیں کہ محمد صلعم ایک کاہن ہے'، کاہن یعنی فال دیکھنے والا جوتشی، نجومی ہے۔ ابن مغیرہ نے یہ تجویز رد کر دی۔ ابن مغیرہ عمارۃ کا باپ تھا جس کو قریش نے محمد صلعم کے بدلے میں پیش کیا تھا۔ کہنے لگا، 'محمد صلعم کاہن کی طرح کلام نہیں کرتا۔ کاہنوں کی طرح بڑبڑاتا نہیں اور نہ ہی اس کا کلام بے ربط ہے'۔ 'پھر ہم کہہ دیں گے کہ اس پر کسی جن کا سایہ ہے۔' ابن مغیرہ نے اس تجویز کو بھی مسترد کر دیا۔ کہا، 'محمد صلعم کے ساتھ یہ مسئلہ بھی نہیں ہے۔ ہم نے کئی لوگوں پر جن کا سایہ دیکھ رکھا ہے۔ محمد صلعم پر نہ تو مرگی کے دورے پڑتے ہیں اور نہ ہی اسے بیٹھے بٹھائے پھندنے لگتے ہیں۔ پھر، وہ دورہ پڑنے پر بڑبڑاتا بھی نہیں ہے'۔
'تو کیوں نہ ہم اسے ایک شاعر مشہور کر دیں؟' ایک اور سردار تجویز پیش کی مگر یہ بھی رد ہو گئی۔ کہا گیا، 'ہم شاعری کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اس کا کلام شاعری کے زمرے میں نہیں آتا۔'
'تو پھر کیا کیا جائے؟ کیا ہم اسے ساحر یا جادوگر بھی نہیں کہہ سکتے؟' تجویز پیش کرنے والے نے بے بسی سے پوچھا تو ابن مغیرہ نے اس پر سر جھٹک دیا۔ کہنے لگا، 'محمد صلعم نہ تو چالیں چلتا ہے اور نہ ہی کوئی جادو ٹونا پیش کرتا ہے۔ وہ تو منتر بھی نہیں پڑھتا۔'
بالآخر، وہ ایک بات پر متفق ہو گئے ۔ طے یہ پایا کہ پراپگنڈہ کے لیے یہی موزوں رہے گا کہ وہ محمد صلعم کی بابت یہ مشہور کر دیں کہ، 'یہ صرف پرانے زمانے کے بے سر وپا قصے ہیں جو وہ سناتا پھرتا ہے۔ افسانوی داستانوں سے زیادہ کچھ نہیں' ۔ مگر اس حربے کا الٹا اثر ہوا۔ جس جوش و خروش سے وہ کوشش کر رہے تھے کہ شاید لوگ محمد صلعم پر توجہ دینا چھوڑ دیں گے، اس پراپگنڈہ کے بعد تو آپ صلعم بارے لوگ اور بھی بڑھ چڑھ کر تذکرہ کرنے لگے۔ آخر کار، جس شخص نے مکہ کی اشرافیہ کو یوں ناکوں چنے چبوا دیے تھے، اس کو اس قدر آسانی سے نظر انداز کرنا لوگوں کے لیے بھی ممکن نہیں رہا تھا۔
سہل پسند اور اقتدار کے نشے میں طاقت اور اختیار کا بے دریغ اور ناجائز استعمال کرنے والے حکمرانوں کو اکثر یہ ادراک نہیں رہتا کہ یہ فیصلے انہیں کس قدر غیر مقبول کر سکتے ہیں۔ قبیلہ قریش کے کرتا دھرتا بھی مختلف نہیں تھے۔ مکہ میں آنے والے قبائلی خانہ بدو شوں کے گروہ ، تجارتی قافلوں اور زائرین کے جھمگٹے اس بات سے باخبر تھے کہ قریش کئی معاملات میں ان کی مجبوریوں کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ان کے پاس سوا اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ قریش کے من مانے ٹکسال، امراء شہر کی جانب سے لاگو کیے جانے والی بے جا وصولی یا مکہ شہر کی حدود میں پانی اور جانوروں کے چارے کی مہنگی قیمتیں ادا کریں۔ ان کی ذخیرہ اندوزی ، مصنوعی مہنگائی بھگتا کریں۔ وہ مجبوراً ناقص سہولیات کی بھاری بھر کم قیمت تو ادا کر دیتے تھے مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا کہ وہ اس سے خوش ہیں۔ قریش کی اختیار پر اجارہ داری کے سبب ان کے خلاف تقریباً سب ہی لوگوں کے دل میں کدورت بھری ہوئی تھی۔ یوں، ایسے شخص کی ان زائرین اور خانہ بدوشوں کے یہاں خاصی پذیرائی ہوئی جس نے آگے بڑھ کر قریش کے اس نظام کو للکارا تھا۔ محمد صلعم کے خلاف شروع کی جانے والی قریش کی اس مہم کا بھی وہی حال ہوا جو عام طور پر ایسی کھوکھلی مہمات کا ہوا کرتا ہے۔ یعنی، بازی واپس قریش پر ہی پلٹ گئی۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ، 'اس برس عرب حج اور عکاظ کے میلے سے جتنے بھی لوگ واپس ہوئے تو  ان میں سے ہر شخص محمد صلعم کا نام جان چکا تھا۔ آپ صلعم کا تذکرہ اب مکہ سے باہر، خطہ حجاز و عرب کے طول و عرض میں کیا جانے لگا۔'
ناکامی کا منہ دیکھ کر مکہ کے سربراہان غصے سے تلملا اٹھے۔ چنانچہ، اس طیش کا نتیجہ یہ نکلا کہ بجائے فراست سے کام لیتے، رفتہ رفتہ ان کا رد عمل مزید بوکھلاہٹ کا شکار ہو گیا۔ مکہ کے سردار غیر منطقی انداز میں سوچنے لگے۔ ابھی تک تو صرف، ابو طالب کے محمد صلعم بابت رویے اور بے دخلی سے ٹکے انکار کی وجہ سے یہ دن دیکھنا پڑا تھا۔ مگر، جن اصولوں کی بنیاد پر ابو طالب نے انکار کیا تھا، انہی اصولوں کی بنیاد پر ان سرداروں کے مطابق معاملات ان کے حق میں چلتے رہنے چاہیے تھے۔ اسی نکتے پر، اشرافیہ کے رد عمل اور ناکامی نے ان کے فہم، فراست کا پول بھی کھول کر رکھ دیا۔ سب کے سامنے ان کی تنگ نظری اور منافقت کھل کر سامنے آ گئی۔ جس طرح آج بھی جدید دور میں کئی نا اہل حکومتیں، جب اس طرح کے حالات سے دوچار ہو جائیں تو عام طور پر بھونڈے پن سے طاقت کا بے دریغ استعمال اور جذباتی فیصلے کرتی ہیں۔ انہوں نے بھی ایسا ہی ایک انتہائی سخت فیصلہ کر لیا۔ ابو جہل کے اکسانے پر، قریش نے بنی ہاشم کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر