اول المسلمین - یتیم - 6




یہ انوکھی شادی تھی۔ وہ آپ صلعم سے عمر میں بڑی تھیں۔ کتنی بڑی؟ یہ معلوم نہیں مگر مقبول روایت یہی ہے کہ شادی کے وقت محمد صلعم پچیس اور ان کی عمر چالیس سال تھی۔ بیشتر مغربی محققین کے نزدیک یہ شادی اس وجہ سے نرالی ہے کہ میاں اور بیوی کی عمروں میں خاصا فرق ہے۔ یہی محققین اپنے تئیں اس شادی کو 'سہولت' ، بالخصوص 'معاشی سہولت 'سے تعبیر کرتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ اس دلیل سے بجائے محمد صلعم خود ان محققین کی اصلیت اور سوچ عیاں ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ شاید محمد صلعم نے خدیجہ سے یہ شادی 'معاشی تحفظ' حاصل کرنے کی خاطر کی تھی۔ ان کے ہی مطابق، آپ صلعم کو غالباً صرف خدیجہ کے مال اور دولت سے سروکار تھا۔ ان کا یہ خیال بھی ہے کہ سوائے اس کے، ایک خوبرو جوان آدمی کا قدرے بڑی عمر کی عورت کی طرف مائل ہونے کی دوسری کوئی معقول وجہ نہیں ہو سکتی ۔ یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یہ مغربی محققین خاصے تنگ نظر واقع ہوئے ہیں۔ پھر، اکا دکا تاریخ دان ایسے بھی ہیں جنہوں نے اس معاملے کا نفسیاتی طور پر تجزیہ کر رکھا ہے ۔ اس تجزیے سے جو نتیجہ بر آمد کیا جاتا ہے، وہ بھی ایک مغالطہ ہے۔ ان معدودے محققین کے مطابق، اس شادی کی وجہ یہ تھی کہ شاید محمد صلعم بڑی عمر کی خاتون سے شادی کر کے بچپن میں در پیش، مادرانہ محرومی کا ازالہ کرنا چاہتے تھے۔ چھ سال کی عمر میں یتیم ہو جانے والا بچہ، اب تک مامتا کی تلاش میں تھا۔ پھر، ان سب کے علاوہ کئی محققین ایسے بھی ہیں جو واقعی یہ سمجھتے ہیں کہ در اصل محمد صلعم خدیجہ سے گہری محبت کرتے تھے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں کثیر شادیاں کرنا عام ہو، وہاں عمروں میں فرق کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ یہ شادیاں عام طور پر زوجین میں واقع ہو جانے والی اموات یا طلاق کی وجہ سے کی جاتی تھیں۔ پھر یہ بھی تھا کہ امراء شہر میں ایک سے زیادہ شادیاں کرنا معمول تھا۔ ان شادیوں کے نتیجے میں اکثر دیکھنے کو مل جاتا کہ چچی، بھتیجے سے کم عمر ہے یا پھر سوتیلے بھائیوں کی عمروں میں پوری ایک نسل کے برابر فرق ہوتا تھا۔ یا پھر ہم زادوں میں ایک کی عمر ، دوسرے کے مقابلے میں چچا کی عمر جتنی زیادہ یا کم ہوا کرتی تھی۔ الغرض، یہ معاملہ عمرکا نہیں تھا۔ ہاں، یہ ضرور تھا کہ ایسی کئی شادیوں میں سے چند ایک واقعی محبت کی بنیاد پر بھی کی جاتی تھیں۔ ورنہ، عام طور پر شادیاں معاشی یا سیاسی وجوہات کی بناء پر ہی طے پایا کرتی تھیں۔ شادی بیاہ کی اس خاندانی روایت کے سبب، سماج میں ایک کنبہ یا قبیلہ دوسرے سے بندھا ہوا تھا اور پورے معاشرے کی بنیاد یہی طریق تھا۔ مگر اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں ہے کہ اس معاشرے میں رومانوی محبت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ قبل از اسلام، محبت کی یہ داستانیں عام ہوا کرتی تھیں ۔ مگر، رواج اور ریت، انتہائی سخت سماجی رویوں کی وجہ سے لوگوں کے نزدیک اس طرح کی انسیت اور رغبت، شادی اور بیاہ ، رومان سے زیادہ جہالت کا معاملہ رہا کرتا تھا۔
انہی رنگ برنگی تشریحات کے نتیجے میں محمد صلعم اور خدیجہ کے بیچ پنپنے والی انسیت کا یہ معاملہ غیر منطقی معلوم ہوتا ہے ۔اور، یہی وجہ ہے کہ بیشتر مغربی محققین اس بابت مغالطے کا شکار ہو گئے۔ انسانی پیمانوں پر غور کیا جائے تو محمد صلعم اور خدیجہ کی طویل ،خوشحال اور یک زوجگی کی شادی کی ایک ہی معقول اور سادہ سی وجہ نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ، ان دونوں کے بیچ گہری محبت اور انسیت تھی۔ آپ دونوں کا یہ ساتھ چوبیس سال کے عرصے پر محیط ہے۔ تمام لوگوں میں، خدیجہ واحد شخصیت تھیں، جنہوں نے محمد صلعم کے عوامی کردار میں آنے سے قبل اور دوران، انتہائی اہم اور مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ مگر، آپ کا یہ کردار اس قدر خاموش ، عاجزانہ اور بے غرض ہے کہ بعد ازاں جب محمد صلعم کی سوانح اور اسلام کی تاریخ رقم ہوئی تو اس میں، خدیجہ کے اس کردار کا تذکرہ بمشکل ملتا ہے۔ شاید، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ خدیجہ محمد صلعم کے وسیع پیمانے پر عوامی حمایت حاصل ہونے سے قبل ہی انتقال کر چکی تھیں۔
خدیجہ کی موت کے بعد، طویل عرصہ گزر جانے پر بھی، جب محمد صلعم کے نکاح میں کئی بیویاں تھیں، آپ صلعم تب بھی خدیجہ کو اپنی تمام بیویوں پر فوقیت دیا کرتے تھے ۔ وہ اس بات کا بر ملا اظہار بھی کرتے کہ بعد از خدیجہ، انہیں کسی بیوی سے دوبارہ اس قدر محبت نصیب نہیں ہوئی۔ اگر یہ خدیجہ سے بے انتہا، گہری محبت نہیں تھی تو پھر آخر کیا وجہ ہو سکتی ہے کہ کئی سالوں بعد بھی، جب محمد صلعم ابھرتے ہوئے نظریے کے رہنما، محترم رسول، پیغمبر خدا اور لوگوں میں مقبول و محبوب ہونے کے باوجود بھی اس محبت کا یوں کھلے عام اظہار کر گزرتے تھے؟ خدیجہ نے آپ صلعم سے صرف آپ صلعم کے لیے محبت کی۔ ان کی محبت میں محمد صلعم کے مستقبل میں اتنے بڑے اور اہم کردار سے متعلق غرض کا معمولی شائبہ بھی نہیں تھا۔ یہ بے غرض محبت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ کئی سال گزرنے کے بعد بھی، محمد صلعم جب بھی خدیجہ کا ذکرکیا کرتے تھے یا کسی کی آواز میں خدیجہ کی معمولی سی بھی مماثلت محسوس ہوتی تو آپ صلعم کی آنکھیں اشکبار ہو جایا کرتی تھیں۔
چنانچہ، اس شادی کے انوکھے ہونے کی وجہ محمد صلعم اور خدیجہ کی عمروں کا فرق نہیں بلکہ ان دونوں کے بیچ گہری نسبت، محبت اور انسیت تھی۔ وہیں، دونوں میں برابری بھی کمال درجے پر تھی۔ بالخصوص، جب اس معاشرے میں میاں اور بیوی کے رتبے میں بہت فرق ہوا کرتا تھا۔ اس کے علاوہ، یہ بات بھی غیر معمولی تھی کہ بجائے محمد صلعم ، خدیجہ نے شادی کا پیغام بھجوایا تھا۔
ابن اسحاق نے خدیجہ کا احوال اس طرح بیان کیا ہے، 'خدیجہ ایک مضبوط، پر وقار اور دولت مند خاتون ہونے کے ساتھ تجارت میں بھی دلچسپی رکھتی تھیں۔ آپ نہایت شریف، ذہین اور دور اندیش خاتون تھیں۔ ' خیال رہے، اس زمانے کی کسی بھی عورت کے تعارف میں، 'مضبوط'، 'ذہین' اور 'دور اندیش' جیسے الفاظ کا استعمال انوکھی بات ہے مگر خدیجہ کے معاملے میں یہ خصوصیات سو فیصد درست تھیں۔ خدیجہ اس شادی سے قبل دو دفعہ بیوہ ہو چکی تھیں اور اپنے دوسرے شوہر کی وراثت میں آپ کو مکہ کے تجارتی کاروبار سے اچھا خاصہ حصہ ترکے میں ملا تھا۔ گو، آپ معاشی طور پر مکہ کے دوسرے تجار کی مانند وسائل سے مالا مال تو نہیں تھیں مگر ضروریات زندگی اور معاشی و سماجی حیثیت میں ہر طرح خود مختار ہو چکی تھیں۔ اب آپ کے پاس دو راستے تھے۔ پہلا یہ کہ آپ اپنا تمام حصہ کسی دوسرے تاجر کو فروخت کر دیتیں یا پھر دوسری صورت میں آپ اپنا کاروبار خود مختار ی سے جاری رکھتیں۔ قباحت یہ تھی کہ کاروبار جاری رکھنے کے لیے آپ کو ایسے شخص کی ضرورت تھی جو مکہ کے تجار میں آپ کے مفادات کا بھر پور تحفظ اور نمائندگی کر سکے۔ یعنی، ایک ایسا آڑھتی جو تجارت کی اچھی سمجھ بوجھ رکھتا ہو اور بجائے اپنے ذاتی، خدیجہ کے مفادات کو مقدم رکھ سکے۔
سن 695ء میں خدیجہ نے محمد صلعم کو دمشق جانے والے ایک تجارتی قافلے میں اپنے مال و اسباب کی ترسیل کے لیے نمائندہ مقرر کر دیا اور آڑھت کا تمام کام بھی آپ صلعم کو سونپ دیا۔ ایک روایت میں یہ بھی مشہور ہے کہ خدیجہ نے اس سفر کے دوران اپنا ایک قابل اعتماد کا رندہ بھی آپ صلعم کے ہمراہ کر دیا۔ اس کارندے کے ذمہ سفر کے دوران مال و اسباب کی حفاظت ، آپ صلعم کے طریق کاروبار کی نگرانی اور اس بابت خدیجہ کو پوری صداقت سے احوال پہنچانے کا کام شامل تھا۔ یہ کا رندہ، جس کا نام میسرہ تھا ، خدیجہ کا غلام تھا ۔ میسرہ نے سفر سے واپس آن کر بعینہ ویسا ہی احوال بیان کیا جو محمد صلعم کے ساتھ پندرہ برس پہلے بحیرہ کے یہاں پیش آ چکا تھا۔ یہ حال کچھ اس طرح سے تھا کہ محمد صلعم نے سستانے کے لیے ایک درخت کے سائے تلے سستانے کی غرض سے پڑاؤ ڈالا۔ میسرہ کے مطابق یہ درخت ملک شام کی حدود میں، ایک عیسائی راہب کے جھونپڑے کے پاس ہی واقع تھا۔ راہب نے جب محمد صلعم کو اس درخت کے نیچے آرام کرتے پایا تو خاصی حیرت کا اظہار کیا۔ اس نے میسرہ کو بتایا کہ 'اس درخت کے نیچے آج تک کسی شخص ، سوائے خدا کے پیغمبروں نے آرام نہیں کیا۔' میسرہ پر راہب کی اس بات کا گہرا اثر ہوا ۔ منقول روایت میں مزید بتایا گیا ہے کہ میسرہ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مکہ کی جانب واپسی کے سفر کے دوران، جب دن کے وقت درجہ حرارت خاصہ بڑھ جاتا تھا۔ اس نے اپنی آنکھوں سے دو فرشتوں کو محمد صلعم پر سایہ قائم کیے دیکھا۔
ایک لحاظ سے دیکھیں تو جس طور ابن اسحاق نے اخذ کیا ہے، یہ خدیجہ کی توہین معلوم ہوتی ہے ۔ انہی وجوہات کی بناء پر کئی لوگوں کو گماں ہوتا ہے کہ میسرہ کی زبانی، سفر کی اس رپورتاژ کو سننے کے بعد ہی شاید خدیجہ نے رواج کے بر عکس خود ہی محمد صلعم کے لیے رشتہ بھیج دیا ہو۔ معجزات سے بھر پور واقعات کی روایات کے ساتھ یہی مسئلہ ہے۔ اگر آپ ان روایات کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ ان کی بازگشت ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ مثال کے طور پر میسرہ کی زبانی اس معجزاتی روداد میں صاف ظاہر ہوتا ہے کہ شاید راہب کی پیشن گوئی اور فرشتوں کے بغیر ، خدیجہ آپ صلعم کے ساتھ شادی کرنے کے بارے میں کبھی بھی نہ سوچتیں۔ حالانکہ خدیجہ کی رضا مندی کے لیے صرف اتنا کافی تھا کہ محمد صلعم امانت دار اور بلند کردار کے مالک ہیں۔ یا پھر، یہ معاملہ اس سے بھی کہیں بڑا تھا۔ شاید، خدیجہ کے لیے محمد صلعم اس سے بھی بڑھ کر تھے؟
محمد صلعم نے ابو طالب کے ساتھ تجارتی قافلوں میں خدمات سر انجام دینے کے دوران اچھی خاصی نیک نامی کما لی تھی۔ آپ صلعم مول تول میں غیر ضروری پس و پیش اور قیمت میں بجائے یہ کہ خریدار سے زیادہ ہتھیانے کے چکر میں رہیں، شروع سے ہی مناسب رویہ اختیار کیا کرتے تھے۔ چونکہ آپ کاروباری معاملات میں خاصے طاق ہونے کے ساتھ دیانت دار بھی مشہور تھے ۔ اس لیے تقریباً ہمیشہ ہی، لوگ آپ صلعم کے نام پر اعتبار کرتے ہوئے خود ہی اچھی قیمت ادا کر دیا کرتے تھے۔ آپ صلعم نے خالص منافع میں اپنے حصے کے سوا کبھی اضافی کٹوتی کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ اسی طرح آپ صلعم کے بنائے مال کے چٹھے ، آمدن اور خرچ کے حساب میں کبھی کسی طرح کا جھول نہیں نکلا۔ حالانکہ، منجھے ہوئے تجار کے طریق کاروبار میں ایسی حرکات خود تجارت جتنی قدیم ہیں۔ ابو طالب کے یہاں رشتے سے انکار کے بعد محمد صلعم خاصے مقبول آڑھتی بن چکے تھے اور اب خود مختار رہ کر مناسب معاوضے کے عوض تاجروں کو خدمات فراہم کیا کرتے تھے۔ آپ صلعم کی مثال، ایسے کاروباری ایجنٹ کی تھی جو ذاتی مفاد سے بالا تر ہو کر کار سرکار سر انجام دیا کرتا تھا۔ آپ کا یہ طریق مکہ میں رائج منافع خوری کے عام اصول کے بر خلاف اور قدرے اچھوتا تھا۔ اسی لیے اس کی مانگ بھی بڑھ کر تھی۔
آپ صلعم خدمات کے عوض جو معاوضہ کماتے ، اس میں سے اپنی ضرورت کے سوا باقی سب غریبوں میں بانٹ دیا کرتے تھے۔ دوسرے تاجر آپ صلعم کو، اس عادت کو سراسر بیوقوفی سے تعبیر کیا تھے۔ ان کے نزدیک، اس طرح کی طبیعت کے ساتھ آپ صلعم کا گھر گر ہستی بسنا تقریباً ناممکن تھا۔ لوگ گماں کیا کرتے کہ اس طرح تو محمد صلعم کا گھر بسانا تو در کنار، شاید وہ شادی کا خرچ بھی نہیں اٹھا سکیں گے۔ آخر آپ صلعم اپنے کنبے کی کفالت کیسے کیا کریں گے؟ یا معاشرے میں، بالخصوص مکہ جیسے شہر میں دولت کے بغیر رتبہ کیونکر پا سکتے تھے؟ بعض اوقات، لوگ آپ کی اس روش کا ناجائز فائدہ اٹھا لیا کرتے تھے۔ مگر محمد صلعم جانتے بوجھتے ہوئے بھی بے نیاز رہا کرتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ صلعم کی اقدار خاصی مختلف اور سوچ انتہائی بلند تھی۔ چونکہ آپ صلعم کے اس طریق اور اقدار کے باعث ہر شخص کو مالی اور ذاتی فائدہ رہا کرتا تھا، کسی نے اس بابت مزید جاننے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ آپ صلعم کی ہر شے بابت عدم دلچسپی نے آپ صلعم کو ایک امتیازی مقام عطا کر دیا تھا۔ محمد صلعم مکہ کے معاشرے کا حصہ تو تھے مگر آپ صلعم قطعاً اس شہر کی رائج اقدار کے ترجمان نہیں تھے۔ محمد صلعم کی یہ عادات زیادہ تر لوگوں کو عجیب معلوم ہوتی ہوں، خدیجہ انہی اقدار کے باعث محمد صلعم کو پسند کرنے لگیں۔
خدیجہ بیوہ تھیں اور محمد صلعم سے شادی سے قبل آپ کے یہاں اولاد بھی نہیں تھی۔ وہ بخوبی سمجھ سکتی تھیں کہ معاشرے میں حیثیت اور رتبے سے محروم ہونے سے در اصل کیا مراد ہے ۔ پھر وہ آپ صلعم کے بارے میں ہر بات جانتی تھیں۔ ان کو معلوم تھا کہ محمد صلعم نے کس طرح محنت اور مشقت کے بعد ہی اونٹوں کی رکھوالی کرنے والے معمولی لڑکے سے ایک کامیاب آڑھتی بننے تک کا سفر طے کیا تھا۔ وہ دیکھ سکتی تھیں کہ محمد صلعم اس عمر میں بھی کئی ادھیڑ عمر مردوں سے کہیں زیادہ پختہ نظر ، دانا اور معاملہ فہم ہیں۔ یوں، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ یہ دو لوگ جن کی عمروں اور معاشرتی رتبے میں خاصا فرق تھا، آخر ایک دوسرے کے قریب کیسے آ گئے؟ یا خود خدیجہ نے محمد صلعم سے شادی کا پیغام کیونکر بھجوایا؟ اور پھر بیاہ بھی کر لیا؟ یعنی، ہر لحاظ سے ایک غیر متعلق شخص کو متعلق بنا دیا۔
یہ خدیجہ تھیں جنہوں نے محمد صلعم کے لیے رشتے کا پیغام بھجوایا ۔ کیوں کہ، محمد صلعم اپنے تئیں کبھی اس خواہش کا اظہار نہ کرتے۔ بالخصوص، ابو طالب کے یہاں ٹکے انکار کے بعد تو آپ صلعم نفسیاتی طور پر شاید ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ خدیجہ کا تعلق مکہ کے طاقتور قبیلے اسد سے تھا ۔ خدیجہ کے لیے ایک بار پھر سے گھر بسانا کوئی مشکل نہیں تھا۔ مکہ کے کئی دولت مند شرفاء اور تجار خدیجہ کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش رکھتے تھے ۔ اپنی اس غرض کے لیے خدیجہ کے والد کے یہاں اکثر بیش قیمت تحائف بھجواتے رہتے۔ مگر، خدیجہ نے ابو طالب کی بیٹی فاخیتہ کے بر عکس اب اس طرح کی کسی بھی مفادات پر مبنی شادی کرنے سے انکار کر رکھا تھا۔ بلکہ، حقیقت تو یہ تھی کہ خدیجہ کو کسی بھی طرح کی روایتی شادی رچانے کی اب کوئی ضرورت نہیں تھی۔ چنانچہ، آپ نے روایت کو توڑتے ہوئے اس شخص سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا، جس کو انہوں نے خود منتخب کیا تھا ۔ ابن اسحاق نے،'قصہ مختصر۔۔۔' کا لاحقہ استعمال کرتے ہوئے خدیجہ سے منسوب قدرے سیدھا اور کھرا پیغام یوں رقم کیا ہے کہ، 'محمد صلعم، تم مجھے پسند ہو۔ ہمارے آپس میں تعلق اور دیانت داری و بلند کردار کی وجہ سے پسند ہو۔' اس طرح ، خدیجہ نے محمد صلعم سے شادی کرنے کی خواہش کا دو ٹوک اظہار کر دیا۔
اس روایت شکنی کے باوجود بھی، رسم و رواج نبھانا بہرحال لازم تھا۔ چونکہ ابو طالب نے محمد صلعم کو اپنے یہاں رشتہ دینے سے انکار کر رکھا تھا۔ ان کے لیے محمد صلعم کی طرف سے سربراہی کرنا خاصا مشکل تھا۔ اسی لیے عبد المطلب کے دوسرے بیٹوں میں سے ایک، آپ صلعم کے چچا حمزہ نے اس رشتے کو طے کرنے میں آپ صلعم کی نمائندگی کی۔ گو ایک روایت میں کہا جاتا ہے کہ خدیجہ کے والد نے اس رشتے کو بغیر کسی حیل و حجت، فوراً قبول کر لیا تھا مگر دوسری جانب، خدیجہ کی سماج میں ایک 'کم مرتبہ' شخص سے شادی بارے ان کے ذاتی خیالات قطعی دوسرا معاملہ ہیں۔ خدیجہ سے شادی کے خواہشمند دوسرے حضرات کے یہاں سے ملنے والے تحائف اور جہیز کی پیش کش کے سامنے، شاید خدیجہ کے والد اس رشتے سے خوش نہیں تھے۔ اسی لیے ہمیں تاریخ میں اس بابت ایک عجب روایت پڑھنے کو ملتی ہے۔ ابن اسحاق نے پوری ذمہ داری سے بیان کیا ہے کہ 'خدیجہ نے والد کو اپنے گھر بلایا اور خدمت میں شراب پیش کی۔ اس روز کثرت شراب کے باعث خدیجہ کے والد نشے میں چور ہو گئے۔ خدیجہ نے اسی حالت میں انہیں نئے کپڑے پہنا، عطر لگوائی اور ایک گائے کی قربانی کر دی گئی۔ پھر خدیجہ نے محمد صلعم اور ان کے چچا حمزہ کو اپنے گھر دعوت پر بلایا اور خدیجہ نے نشے میں دھت اپنے والد کے ہاتھ سے، محمد صلعم کے ساتھ بیاہ کر لیا۔ جب تک خدیجہ کے والد کو ہوش آتا، معاملہ طے پا چکا تھا۔'
غالباً اس طرح کی روایات سے اس شادی کی راہ میں حائل مشکلات اور رکاوٹوں کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ مثلاً، اس زمانے میں لوگوں کے بیچ کھرا رومان، ہمدردی اور انسیت خاصی نایاب ہوا کرتی تھی۔ مگر پھر اس صورت تو ، اس طرح کی روایات سے محمد صلعم کی نیک نامی کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ خدیجہ کی طبیعت کو دیکھتے ہوئے بھی کہا جا سکتا ہے کہ شاید وہ محمد صلعم کو لے کر اس طرح کی حرکت کی قطعاً جرات نہ کرتیں۔ بلکہ، یہ روایت خدیجہ کے اخلاقی قد کاٹھ کی صریحاً توہین ہے۔ خدیجہ نے سماجی اور مالی رتبے میں کم شخص سے شادی ضرور کی تھی مگر ان کی محمد صلعم سے نسبت کی جو وجہ تھی، وہ اس روایت میں بیان کردہ احوال سے بہرحال، کہیں بڑھ کر تھی۔
محمد صلعم اور خدیجہ کے یہاں جلد ہی اولاد پیدا ہو گئی جو ان کے بیچ گہری محبت کی نشانی تھی۔ خدیجہ نے چار بیٹیوں اور ایک بیٹے قاسم کو جنم دیا۔ قاسم زیادہ دیر زندہ نہیں رہے اور دوسری سالگرہ سے پہلے ہی انتقال کر گئے۔ بعد ازاں ہم دیکھیں گے کہ قران میں بیٹیوں کی اہمیت اور قدر و منزلت پر زور دیا جائے گا ۔ اسلامی تعلیمات میں، بیٹوں سے منسوب معاشرے میں سماجی اور مالی رتبے ماپنے کے رواج کی بھی حوصلہ شکنی ہو گی۔ یہ قرانی احکامات، در اصل اس غم کی ترجمانی بھی ہیں جو محمد صلعم نے قاسم کو کھو دینے کی صورت میں جھیل رکھا تھا اور اب اتنے عرصے بعد بھی، یہ دکھ جوں کا توں ہرا تھا۔ ان قرانی ابلاغیات کا ایک مطلب یہ بھی تھا کہ محمد صلعم ہمیشہ ہی لا ولد، جن کو عام طور پر ابتر کہہ کر سماج میں تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا تھا، رہنے والے تھے۔ ابتر کے لغوی معنی کٹے ہوئے، منقطع یا جدا کیے ہوئے کے ہیں۔ اولاد نرینہ کے بغیر، محمد صلعم کے لیے یہ معاملہ یوں ہی تھا۔
قاسم کی موت کا دکھ، گھر میں موجود ایک دوسرے لڑکے کی وجہ سے خاصہ کم ہو گیا۔ یہ لڑکا، جس کا نام زید تھا، خدیجہ نے شادی کی خوشی میں محمد صلعم کو تحفے کے طور پر یہ غلام بخشا تھا۔ محمد صلعم نے ہمیشہ ہی زید کے ساتھ بیٹوں جیسا سلوک کیا۔ آپ صلعم کا زید سے رویہ اس قدر شفقت سے پُر تھا کہ جب زید کے شمالی عرب سے تعلق رکھنے والے آبائی قبیلے نے آزادی کے عوض رقم جمع کر لی تو خود زید نے محمد صلعم کے یہاں بسر رہنے پر اصرار کیا۔
محمد صلعم نے نہ صرف قبیلے سے زید کے بدلے رقم لینے سے انکار کر دیا بلکہ زید کو غلامی سے بھی آزادی دے دی۔ صرف یہی نہیں، انہوں نے زید کو باقاعدہ لے پالک بیٹا بنا لیا۔ اس طرح آپ صلعم نے باقی کے قریش کے لیے مستقبل میں غلاموں کی آزادی کی روایت بھی قائم کر دی۔
زید کے علاوہ ایک دوسرا لڑکا بھی تھا۔ یہ ابو طالب کے فرزند اور محمد صلعم کے چچا زاد بھائی علی تھے۔ چونکہ ابو طالب سے کاروبار میں علیحدگی کے بعد ان کا کاروبار خاصے مندی کا شکار ہو چکا تھا، آپ صلعم نے علی کو اپنے یہاں پالنے کی پیش کش کر دی۔ جس شخص کو کبھی چچا نے پال پوس کر بڑا کیا تھا، اب وہی شخص اسی چچا کے بیٹے کو پالنے والا تھا۔ اگر چہ، محمد صلعم اور خدیجہ نے علی کو باقاعدہ لے پالک بیٹا نہیں بنایا مگر ان کی اپنے یہاں بھر پور بیٹوں کی ہی طرح کفالت کی۔ وہ علی کو اپنے خاندان کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔ اس قدر لازم کہ با لآخر محمد صلعم اپنی سب سے چھوٹی بیٹی فاطمہ کی شادی علی سے طے کر لیں گے۔
تیس کے پیٹے میں، بالآخر محمد صلعم ایک خوشحال آدمی تھے۔ آپ صلعم کی ہمراہی میں خدیجہ تھیں۔ مکہ بھر میں عزت اور تکریم حاصل تھی اور بسر کرنے کے لیے ایک پرسکون اور آرام دہ زندگی میسر تھی۔ بھلا ایک شخص، اس سے زیادہ کیا چاہے گا؟ تمام تر تفاوت کے بر خلاف محمد صلعم نے ترقی کر لی تھی۔ مگر اس کا قطعاً مطلب یہ نہیں ہے کہ انہوں نے کسر اور انتر کو بھلا دیا ہو۔ نوجوانی میں درپیش رہنے والی مشکلات اور بچپن کی محرومیوں کا اثر، اس کڑیل جوانی میں بھی بھلایا نہیں جا سکتا تھا۔ بلکہ، یہ کمی تو محمد صلعم کی شخصیت کا حصہ تھی۔ آپ صلعم کی شخصیت کے اسی حصہ سے خدیجہ کو محبت تھی۔ خدیجہ آپ صلعم کی اقدار کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں اور جیسے محمد صلعم ویسے خدیجہ کو بھی مکہ کے معاشرے میں اس تفریق کے باعث بے چینی رہا کرتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپ صلعم کے گھر میں اب طمطراق کی بجائے سادہ طرز زندگی اپنایا گیا تھا۔ آپ کے یہاں، امراء میں مقبول نمود و نمائش کے برعکس، چمچماتے ہوئے ریشم کی بجائے کھڈی پر بنے ہوئے عام کھدر کپڑا پہنا جاتا تھا۔ روز نت نئے کپڑوں کے جوڑے خریدنے کی بجائے پھٹے پرانے جوڑوں میں ہی پیوند لگا کر گزارہ رہتا اور تمام تر آمدن کا بڑا حصہ غریبوں اور مسکینوں میں بانٹ دیا جاتا۔ یہی نہیں، خدیجہ کے چچا زاد' ورقہ 'کے ذریعے آپ کے خاندان کو ان اقدار کی پذیرائی کرنے والے مکہ کے چند آزاد خیال مفکرین کی ہمراہی بھی میسر آ گئی۔ مفکرین کے اس چھوٹے سے گروہ کو 'حنفا' کہا جاتا تھا۔
زبان دان مصر ہیں کہ لفظ 'حنیف' جس کی جمع 'حنفا' ہے، اس کی اصل نامعلوم ہے۔ گماں غالب ہے کہ اس لفظ کا ماخذ، 'خم ہونے' یا 'گھماؤ' کے مفہوم سے ہے۔ یعنی، اس سے مراد ایسے شخص یا گروہ کی ہے جو خمیدہ یا جھکنے والا، یا پھر گھوم کر بڑی طاقت بننے کا اہل ہو۔ ہم حنفا میں سے صرف چھ اشخاص کو ان کے نام سے جانتے ہیں۔ ورقہ ان چھ میں سے ایک تھے۔ ورقہ کے بارے میں مشہور تھا کہ انہیں انجیل کے عبرانی اور یونانی نسخوں پر عبور حاصل تھا۔ بعض روایات میں مشہور ہے کہ ورقہ عیسائی تھے۔ دوسری جگہوں میں آپ کو ربی گردانا گیا ہے۔ مگر، امکان یہ ہے کہ ورقہ ان میں سے ایک بھی نہیں تھے ۔اس طرح کی کوئی بھی نسبت در اصل انسانوں کے بیچ درجہ بندی کے لیے ضروری ہے اور اس گردان کی حیثیت اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ حنفا کی تحریک کا اصل مقصد انسانوں کے بیچ تفریق اور کسی بھی طرح کی درجہ بندی سے قطعی انحراف تھا۔ یہ گروہ وحدنیت کی ایسی شکل کی تلاش میں تھا کہ جس میں مشرق وسطی میں عام ہر طرح کی فرقہ وارانہ تفریق کی کوئی گنجائش نہ ہوتی۔ یہ لوگ عمداً کسی ایک مقدس طریق کے پیروکار نہیں تھے۔ بلکہ یہ آفاقی قوت، ایک برتر خدا کو مانتے تھے جس کو قدیم زبان میں ایلوہم، اللہ، یا زرتشی مذہب میں مشہو ر نیکی کی طاقت 'اہر مزد 'یا 'ارمزد' یعنی، 'روشنی اور حکمت کا خدا' کے ناموں سے موسوم کیا جاتا تھا۔ حنفا کی اس سوچ کی جڑیں انجیل کے عبرانی نسخوں میں واضح مل جاتی تھیں۔ یہ سوچ، ابراہیم سے جا کر ملتی تھی۔ ابراہیم، ابو ھرام سے نکلا ہے جس کا مطلب 'بہت زیادہ اولاد والا 'یا 'گروہ کثیر کا باپ' ہے۔ مفہوم میں ابراہیم سے مراد، 'تمام ماننے والوں کے باپ' سے لی جاتی ہے۔ یہ مفہوم، سینٹ پال نے ابراہیم کے نام سے اخذ کیا ہے۔ ابراہیم، اپنے بیٹے اسماعیل کی اولاد، یعنی مکہ کی تمام نسل کے مورث اعلی ،پرکھے یا جد امجد تھے۔
مانا جاتا تھا کہ حاجرہ، یعنی اسماعیل کی والدہ نے مکہ کا رخ کیا تھا۔ ابراہیم اور اسماعیل نے مل کر کعبہ کی بنیاد رکھی تھی۔ کعبہ، یعنی سکینہ یا شیخینہ کی آماجگاہ ، یہاں سے مراد اللہ کی برتر ذات، مقدس روح کی موجودگی سے ہے۔ اس طرح حنفا کی صورت، آباء سے منسوب یہ روایت جو قریش کی جدید قبائلی روایت کے برعکس، نہ صرف خاصی بڑھ کر تھی بلکہ یہ قدیم اور معنی خیز بھی تھی، قائم ہو گئی۔
بعد ازاں، لفظ 'حنیف' قران میں ان لوگوں کی مدح سرائی میں استعمال ہو گا جو ابراہیم سے لے کر آج تک ایک خدا کو ماننے والے سبھی انسانوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اسی لفظ کی مدد سے ان کے علاوہ باقی تمام ، نہ ماننے والوں کو رد کر دیا جائے گا۔ مگر قرانی دور سے پہلے، حنفا کو علم پر عبور کے سبب عزت و تکریم تو حاصل تھی مگر حقیقت میں مکہ کے باسی انہیں تسلیم کرنے کی بجائے، برداشت کیا کرتے تھے ۔ تسلیم کرنے اور برداشت کرنے میں فرق ہے۔ اس دور کے مکہ اور آج جدید زمانے میں بھی کسی بھی شے کو برداشت کرنے سے مراد ایک سی لی جاتی ہے۔ یعنی، ہر وہ شے جو برداشت کی جاتی ہے بہرحال، ترش ہوتی ہے، طبیعت پر گراں گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ برداشت کی ہمیشہ ایک حد ہوتی ہے۔ جب محمد صلعم عمر میں ایک لڑکے تھے، تب ایک حنیف، جس کا نام زید ابن امر تھا، اس کو خود اپنے سوتیلے بھائی نے مکہ سے نکال باہر کر دیا تھا۔ اس ملک بدری کی وجہ زید کی کعبہ میں نصب اوتاروں کی مخالفت تھی۔ بعد اس کے، زید راہب مشہور ہو گئے اور انہوں نے حرا کی پہاڑی پر ایک غار میں پناہ لے لی۔ کچھ عرصہ بعد یہ مستقل ایک درویش کی سی زندگی گزارنے لگے اور مشرق وسطی کے طول و عرض میں تقریباً تمام مشہور روحانی پیشواؤں کو تلاشنے کی غرض سے سفر کی حالت میں رہے۔ کئی سال بعد، جب محمد صلعم نے نبوت کا اعلان کیا تو زید نے واپس مکہ کی راہ لی۔ وہ آپ صلعم کے ہاتھ پر بیعت کرنا چاہتے تھے مگر مکہ سے چند روز کی مسافت پر باغیوں کے ہاتھ قتل کر دیے گئے۔
کیا محمد صلعم بھی ایک حنیف تھے؟ حنفا کی طرح وہ بھی مکہ کا حصہ تھے مگر بہر حال ان کی روش اس شہر سے یکسر مختلف تھی۔ وہ اس سماج کو صاف دیکھ سکتے تھے۔ اس معاشرے میں کئی طرح کے تضاد، منافقت اور تناقص کا دور دورہ تھا۔ آپ صلعم محسوس کر سکتے تھے کہ لوگوں کے قول و فعل میں یہ تضاد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا تھا۔ یوں، خود اپنے قبیلے قریش کی جدید روایت کے بر عکس جو قطعی طور پر نظریاتی لحاظ سے آویزش کا شکار تھی، محمد صلعم کا جھکاؤ یقینی طور پر اس سے کہیں برتر اور قدیم آبائی سلسلے کی طرف بڑھ گیا۔ اس قدیم روایت میں ایک لڑکے کا قصہ تھا جو اپنے باپ کے ہاتھوں قریباً قربان ہو چلا تھا۔ یہ بالکل محمد صلعم کے والد کے معاملے جیسا تھا۔ دونوں ہی صورتوں میں یہ قربانی، قادر المطلق خدا کے حضور پیش کی جانے والی تھی۔ گرچہ محمد صلعم نے کبھی اپنے آپ کو حنیف نہیں کہلوایا مگر پھر بھی وہ خود کو ان چند بر گزیدہ افراد میں سے ایک شمار کر سکتے تھے جنہوں نے با جماعت، رائج العام رواج سے خود کو لاتعلق کر رکھا تھا۔ اس طرح، ان کی نسبت اس خیال سے جڑی ہوئی تھی جس میں صرف ایک خدا کا تصور تھا۔ ایسا خدا جو ہر طرح کی جنس سے برتر، پاک تھا۔ اس کی نمائندگی کسی بھی مادی شے کی شکل میں ممکن نہیں تھی اور اس خدا کا تصور واحد، ناقابل بیان، تعریف سے پرے اور تقدیس کی بے انتہا حد پر منتج ہوتا تھا۔
حنفا کے یہاں ایک عبادت مشہور تھی۔ یہ عبادت در اصل گوشہ نشینی میں کیا جانے والا مراقبہ کا عمل تھا جس کو 'تحنث' کہا جاتا ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ محمد صلعم اسی غرض سے مکہ شہر سے باہر پہاڑیوں کا رخ کیا کرتے تھے۔ اس عبادت کی روایت خاصی قدیم تھی۔ مراقبے کی کئی اشکال، عبرانی اور یونانی انجیل کے نسخوں کے علاوہ ہندوستانیوں اور چینیوں کی مذہبی تعلیمات میں بھی مل جاتی تھیں۔ پیغمبر، راہب، مبلغین اور گرو، الغرض ہر طرح کے لوگ مراقبے کے ذریعے روزمرہ انسانی معمولات سے کہیں بڑی حقیقت کی تلاش میں سر گرداں رہا کرتے تھے۔ ایسی حقیقت جو بہر حال ایک پتھر اور آگ کے شعلے سے کہیں برتر، پراچین اور قابل اعتبار تھی۔ پھر، اس حقیقت کی تلاش کے لیے حجاز کی پہاڑیوں سے بہتر جگہ کون سی ہو سکتی تھی جہاں انسانوں کے علاوہ چرند پرند، حتی کہ درختوں اور جھاڑیوں کا بھی کال تھا۔
حجاز کی پہاڑیاں سرخ بھربھرے پتھر سے بنی ہیں ۔ اس سلسلے کی چٹانیں زین بدھ مذہب میں مشہور گول مٹول، چپٹے یا دریائی پتھروں کی طرح ہموار نہیں ہیں۔ بلکہ، یہ دنتیلی چٹانیں ہیں۔ اس قدر نوکیلی کہ اگر ان پر منہ کے بل گریں تو ہاتھ خونوں خون ہو جائیں۔ باوجود اس کے، ان چٹانوں کی سختی میں ایک خوب صورتی تھی۔ گھسے ہوئے کپڑوں کے جوڑے میں لپٹے، محمد صلعم جب شام کی بڑھتی ہوئی خنکی میں پہاڑوں پر کھڑے گھاٹی کی جانب دیکھتے ہوں گے تو اس وقت سورج دن بھر روشن رہنے کے بعد اب کے غروب ہونے کی منزل کے قریب ہوا کرتا ہو گا۔ سورج کی تیز چمکتی ہوئی دھوپ اب ٹھنڈی ہو کر پیلی پڑ تی ہو گی۔ اس پیلی دھوپ میں حجاز کی بھر بھری پہاڑیاں ، اب سنہری رنگ اختیار کر لیتی ہوں گی۔ دیکھتے ہی دیکھتے جب آنکھوں کے سامنے سورج پہاڑیوں کی اوٹ میں یکدم ڈوبتا ہو گا تو اس سہانے منظر کو دیکھ کر یقیناً محمد صلعم کے دل میں ایک تھر تھری سی مچ جاتی ہو گی۔ سورج کے ڈوبنے سے اب پہاڑیوں کے اوپر مغربی افق پر سرخی پھیل جاتی ہو گی اور پھر آہستہ آہستہ تاریکی اس سرخی میں گھل کر یوں پھیل رہتی ہو گی کہ جیسے کوئی بہت دور آسمان پر سیاہ پردہ گرا رہا ہو۔ ابھی کچھ ہی دیر میں، جب تاریکی چار سو پھیل جائے گی تو ہر طرف چاندنی کا راج ہو گا۔ دن میں سرخ ، شام سنہری اور رات میں اب یہ منظر چاندی کے رنگ میں نہا جائے گا ۔اگر یہ چاند کی پہلی تاریخیں ہوتیں تو پھر تک سیاہ آسمان میں تارے جگمگاتے ہوں گے اور ایسے میں ہر طرف تاروں کی ٹھنڈی مگر آکاسی روشنی پھیل رہتی ہو گی۔ ہر دو صورت، رات میں وقت کی ہئیت بدل جاتی ہو گی۔ اس طرح کہ وقت ٹھہرا ہوا محسوس ہوتا ہو گا اور لگتا ہو کہ شاید یہ منظر، سہانا سماں اپنے اندر ہمیشگی لیے ہوئے ہے۔ یہ ٹھہراؤ کئی پہر تک جاری رہنے کے بعد، جب آسمان میں شمال کی جانب روشنی کی ایک مہین سی کرن پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہو گی اور اس کے ساتھ ہی باد صبا چلنے پر ہی معلوم ہوتا ہو گا کہ وقت ، اب لوٹ آیا ہے۔ ٹھہرا ہوا وقت پھر سے رواں ہے ۔ یہ رات بھر کی عبادت کے خاتمے کا وقت ہے۔
کیا محمد صلعم رات بھر، ٹھہرے ہوئے وقت کے گماں میں، اس عبادت کے دوران سانس کی مشق کیا کرتے تھے؟ سانس کی مشقیں جو ابھی حال ہی میں مغرب میں محققین نے دوبارہ سے دریافت کی ہیں ۔ اس طرح کی مشق تاریخ میں تقریباً سبھی خطوں میں روحانیت پسندوں کا خاصہ رہی ہے۔ اگر عبادت مراقبے کی حالت میں سانس کی مشق نہیں تو پھر، اور کیا ہے؟ ایک طویل، مسبح ورد، بے خودی یا نوم کی حالت میں، حلق اور سینے کے بیچ کلام کی مسلسل تسبیح یا ایک ردھم میں عمل تنفس پر غور۔۔۔ اس طرح کی یہ مشق جس کے دوران، روح سے آشنائی حاصل ہوتی ہے۔' روح' عربی کا لفظ ہے۔ اس کے مطلب ہوا کے ہیں۔ روح کے دوسرے مطالب میں سانس ، تنفس اور دم وغیرہ شامل ہیں۔ روح سے مراد یہ ہے کہ دم کا بسیرا دراصل ہوا کے دوش پر ہے، یعنی سانس یا جاری عمل تنفس میں ہے۔ کیا محمد صلعم رات کے پہروں میں، اس مشق کے دوران زائرین کا مشہور ذکر دہرایا کرتے تھے، یعنی، 'میں حاضر ہوں۔ اے خدا، میں حاضر ہوں' یا انہوں نے تب ہی ایک نیا کلمہ ایجاد کر لیا تھا، یعنی، 'لا الہ الا اللہ۔۔۔' یعنی، 'کوئی خدا نہیں مگر اللہ۔۔۔'؟ آپ صلعم جو بھی ورد کرتے ہوں ، اس کی گردان سے کیا ان کے جسم میں سرسراہٹ نہیں پھیل جاتی ہو گی؟ سانس مدھم ہوتے ہوئے گہرے سے گہرا ترہوتا جاتا ہو گا۔ رات بھر زبان پر جاری چپکا اور ملاہم ورد محمد صلعم کے سینے کے اندر، نہاں خانوں سے بر آمد ہو کر رات کی گہری خالی خولی تاریکی میں گھلتا رہتا ہو گا۔ پہاڑی پر تن تنہا، دنیا و ما فیہا سے دور جب وہ یہاں عبادت کیا کرتے ہوں گے، کیا انہیں جس حقیقت کی تلاش تھی، وہ جو صراحت چاہتے تھے، کیا وہ انہیں ملی؟ اور کچھ نہیں تو یقیناً، اس عمل سے انہیں سماج سے لاتعلق ہونے کی کڑوی حقیقت کو تسلیم کرنے میں مدد تو ضرور ہی مل جاتی ہو گی یا شاید ایک طرح کا بے نام سکون میسر آ رہتا ہو گا؟
ہم جانتے ہیں کہ محمد صلعم گوشہ نشینی میں، اس طرح کی عبادت، مراقبے کی غرض سے کئی راتیں حرا کی پہاڑی پر بسر کیا کرتے تھے۔ اس دوران انہیں کھانے اور پینے کی تنگی رہا کرتی تھی اور جب وہ پہاڑ سے واپس ہوتے تو سب سے پہلا کام ، کعبہ کے گرد طواف کیا کرتے تھے۔ باہنے بازو سے اندر کی طرف، سات چکر جو مکہ میں داخل ہونے والے ہر شخص کے لیے لازم تھی۔ محمد صلعم کے لیے یہ ایک لحاظ سے واپسی کی ریت تھی۔ یعنی، مڑ کر زمینی حقائق سے بھر پور انسانی دنیا میں ایک بار پھر شمولیت کا اظہار تھا۔ یہ طواف، مثال پہاڑی پر حاصل ہو رہے روحانی تجربے سے خود کو جدا کر کے، اپنے آپ کو ہانک کر روزمرہ زندگی کی تہہ میں بٹھانے کی کوشش ہوا کرتی تھی۔ اپنے گھر واپس پہنچنے سے قبل ، دوڑتی ہوئی اس تلخ دنیا کے بیچ آپ صلعم کے لیے واحد پناہ گاہ، یعنی خدیجہ کے پاس جانے سے پہلے خود کو سنبھالنے کی سعی ہوا کرتی تھی۔ مگر، پہاڑی سے واپسی کا یہ سفر ہمیشہ آسان نہیں تھا۔
حجاز کی پتھریلی اور دھول سے اٹی پہاڑیوں پر شاذ و نادر ہی بارش برستی تھی۔ مگر جب برسے تو پھر یہ ہلکی نم یا بوندا باندی نہیں بلکہ جکڑ کی صورت، شدید اور تند و تیز طوفان باد و باراں ہوا کرتا تھا۔ طوفان کے نتیجے میں سیلابی پانی، بپھرے ہوئے ریلے کی صورت پہاڑیوں کے بیچ تیزی سے بہتا ہوا گھاٹیوں میں اتر جاتا۔ گھاٹی میں اس ریلے کے شور پر کسی دیو کی آمد یا جن کی ایرکھا کا گماں ہوتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بارش رحمت سے زحمت بن جاتی اور حجاز کی پہاڑیوں سے بہہ کر آنے والا یہ سیلابی پانی، نشیبی علاقوں میں موت کی طرح پھیل جاتا اور ہر طرف تباہی مچاتا۔ تب، جب کہ موسم کی پیشن گوئی کی کوئی صورت نہیں تھی، یہ نہایت عجیب معاملہ ہوا کرتا تھا۔ دیکھنے میں آسمان نیلا اور بالکل صاف ہوتا اور اس میں دور دور تک بادلوں کا شائبہ تک نہ ملتا ۔ مگر ، وہیں آنکھوں سے اوجھل، پہاڑی سلسلے کے دوسری طرف ایک موسمی تغیر شکل اختیار کر رہا ہوتا۔ مکہ جیسے شہر، جو گھاٹی میں واقع تھا، یہاں پہاڑیوں میں برس رہی اس طوفانی بارش کا بالکل پتہ نہ چلتا۔ شہر میں اس طوفان کی واحد نشانی پہاڑیوں سے چلنے والی ہواؤں میں بھیگی ہوئی مٹی کی سوندھ ہوا کرتی تھی۔ سوائے اس کے، انسانوں کے لیے اس کا پتہ چلانا تقریباً ناممکن تھا۔ انسانوں کے برعکس جانور اس خطرے کو بہر حال بھانپ لیا کرتے تھے۔ جانور چلتے ہوئے اچانک ہی رک کر کھڑے ہو جاتے اور کان کھڑے لیتے۔ غیر محسوس انداز میں قریب آ رہے خطرے کو بھانپ کر بعض اوقات یہ جانور بگڑ جاتے اور رسے تڑوانے کی کوشش کرتے۔ پھر، چند ہی منٹوں اور بعض اوقات گھنٹے بھر کے اندر، پاؤں تلے ریت نرم اور نم ہوتی ہوئی محسوس ہوتی۔ اول تو اس پر بس مہین سی سا رسنی کا گماں ہوتا مگر پھر جیسے یک دم کسی نے زمین پر پانی انڈیل دیا ہو۔ پانی ٹخنوں تک بڑھ جاتا اور تبھی، دور پہاڑیوں میں بپھرے ہوئے سیلابی پانی کا شور سنائی دینے لگتا۔ اس سے پہلے کہ لوگ اس افتاد کو سمجھ پائیں، پانی کا ریلا سر پر آن پہنچتا ۔ بڑھتی ہوئی گڑگڑاہٹ اور تھرتھراتی ہوئی زمین کے اوپر ، توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ۔ راہ میں موجود ہر شے، انسان اور جانور گرتے پڑتے خود کو سنبھالتے اور پھر گر پڑتے۔ وادیوں کی ڈھلانوں میں بہتا ہوا ریتلا پانی اس قدر زور آور ہوتا کہ اس کے سامنے جم کر کھڑا ہونا تو در کنار، ٹھہرنا بھی مشکل ہو جاتا۔ چنگھاڑتا ہوا ریلا اب بالکل سر پر آن پہنچتا اور گھاٹی میں بھاری پتھر چٹانوں سے ٹکرا تے، ایک دوسرے کو اوپر تلے کچل کر بھیانک شور پیدا کرتے ہوئے صاف سنائی دیتے۔ جھاؤ، ببول، رغل کی جھاڑیاں اور کیکر کی شاخیں ٹوٹ کر بہتے ہوئے ملبے کا حصہ بن جاتیں۔ اس ریلے میں کئی جانور بھی بہہ جاتے جو ہاتھ پیر مارتے اس کشمکش میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے تھے۔ اس دوران، اگر کوئی شخص اس ریلے کی راہ میں ہے یا نشیب میں موجود ہو تو اسے کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی اور گرتے پڑتے، پانی اور ملبے کے بیچ بے بسی سے ہاتھ پیر مارتے ہوئے بچ بچاؤ کی تگ و دود میں بند رہے گا۔ ذرا سی کوتاہی سے اگر سر پتھر سے ٹکرا جاتا اور بے ہو ش ہو گئے تو یقینی ہوتا کہ چند انچ پانی میں بھی ڈوب کر موت واقع ہو سکتی تھی۔
ایسے کوندتے ہوئے سیلاب کے نتیجے میں سب سے بدتر حال مکہ کی وادی میں نشیبی علاقے کا ہوا کرتا تھا۔ اس نشیبی علاقے میں ساری وادیوں کی گھاٹیاں آن کر مل جاتی تھیں اور یہیں، کعبہ واقع تھا۔ بارشی سیلاب گو اکثر سطحی اور اتھلا ہوا کرتا تھا۔ مگر، سن 605ء میں، جب محمد صلعم نے ابھی حال ہی میں حرا کی پہاڑی پر عبادت کی ریت شروع کی تھی، حجاز کی پہاڑیوں پر جنوب کی جانب سے ایک شدید طوفان کے سبب سیلابی پانی نے حرم کا رخ کیا۔ اس سے پہلے مکہ شہر کی یا داشت میں اس قدر بدترین سیلاب نہیں دیکھا گیا تھا۔ گو، حفاظتی اقدامات موجود تھے، جیسے حرم میں کعبہ کے احاطے کے گرد نیم چکری دیوار کھڑی کر رکھی تھی مگر اب کی بار ملبے اور سیلابی ریلے کے سامنے یہ ٹھہر نہیں پائی۔ پانی حرم میں گھس گیا اور کعبہ کے احاطے میں ہر چیز کو تہ بالا کر کے رکھ دیا۔ خدائی اوتار، پتھر اور تمام نشانیاں پانی میں بہہ گئیں اور خود کعبہ کی مٹی اور پتھر کی کچی دیواریں اس زور آور پانی کے سامنے ڈھیلے پڑتی گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے کعبہ منہدم ہو گیا، جب تک پانی کا زور و شور ختم ہوتا، پورا احاطہ ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔
اس بابت کوئی دو رائے نہیں تھی کہ بالآخر کعبہ کی دوبارہ تعمیر با لضرور کی جائے گی۔ اصل مسئلہ یہ تھا کہ یہ تعمیر جلد از جلد کیونکر ممکن بنائی جائے؟ وجہ یہ تھی کہ قریش کو خدشہ لاحق تھا کہ کعبہ کے انہدام کی خبر عرب کے طول و عرض میں پھیل رہنے سے لوگ اس معاملے کو بد شگون جانیں گے اور مکہ کی حرمت پر سوال اٹھنا شروع ہو جائیں گے۔ چنانچہ، قریش نے متفقہ فیصلہ کیا کہ نہ صرف یہ تعمیر نو جلد از جلد مکمل کی جائے بلکہ کعبہ کی بنیادیں اس قدر بلند کر دی جائیں کہ اس کا دروازہ شدید ترین سیلاب میں بھی پانی کی سطح سے خاصا اوپر واقع ہو۔ یہاں، قریش نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کعبہ کی باقاعدہ شکل بھی طے کر لی۔ یہ ایک بلند عمارت اور قریباً مکعب کی شکل کا ڈیزائن تھا۔ اس مقصد کے لیے جلد از جلد بازیافت کے طور پر بحیرہ احمر سے ایک بحری جہاز کی بھاری بھرکم لکڑی کے برگ منگوا لیے گئے۔ یہ جہاز، حالیہ موسمی تغیر اور وسیع طوفان میں ہی تباہ ہوا تھا۔ مکہ تک اس کی ترسیل نہایت سرعت سے کرا لی گئی اور بھاری عمارتی لکڑی کے یہی برگ کعبہ کی مضبوط دیواروں اور چھت کی تعمیر میں استعمال کیے گئے۔ تعمیر نو کے عمل میں مکہ کے ہر شخص نے بھر پور حصہ ڈالا۔ چونکہ کعبہ کی تعمیر نو میں شمولیت اور بیگار واضح طور پر ایک اعزاز کی بات تھی، اسی لیے یہ کام احتیاط سے تمام قریش کے تمام کنبوں میں برابر تقسیم کیا گیا۔ اس بات کا خصوصی خیال رکھا گیا کہ کسی کنبے کو اس بابت کسی بھی طرح کا گلہ نہ ہونے پائے۔ بہترین انتظام کے سبب، یہ کام نہایت خوش اسلوبی سے طے پاتا گیا تا آنکہ نو تعمیر شدہ کعبہ کے شمال مشرقی حصے میں سیاہ پتھر کی تنصیب کا معاملہ آن پڑا۔
دور سے دیکھنے پر اس سیاہ پتھر (یہ پتھر آج بھی کعبہ کے ایک کونے میں نصب ہے اور اس کے اوپر چاندی کا ایک بڑا خول چڑھا رکھا ہے، اسے حجر اسود کہتے ہیں) پر سنگ سلیمانی کا گماں ہوتا ہے مگر قریب سے تفصیلی جائزہ لیں تو اس میں سرخ، بھوری اور گہری سبز دھاریاں صاف نظر آتی ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پتھر کبھی شہابیہ رہا ہو گا۔ اسلامی روایت کے مطابق حرم کی دیواروں میں یہ پتھر پہلی بار خود ابراہیم اور اسماعیل نے اپنے ہاتھوں سے نصب کیا تھا اور بعد اس کے، پے در پے سیلابوں اور زمانے کی ریت میں یہ حرم کی درگاہ کے ساتھ مکہ کی گھاٹی میں کہیں دب گیا تھا۔ بعد ازاں، محمد صلعم کے آباء قصی نے اسے دوبارہ دریافت کیا تھا۔ قصیٰ قبیلہ قریش کے جد امجد تھے۔ جس قدر اس پتھر کی دھوم ہے، اس لحاظ سے یہ حجم میں خاصا چھوٹا ہے۔ یہ بمشکل ایک فٹ بال جتنا ہو گا یا اس سے قدرے بڑا ہو گا اور 605ء میں اسے اٹھا کر کعبہ کی دیوار میں نصب کرنا کچھ اتنا مشکل کام نہیں رہا ہو گا۔ کوئی بھی جوان مرد اس کو آسانی سے اٹھا کر نصب کر سکتا تھا مگر یہاں مسئلہ یہ در پیش تھا کہ آخر وہ خوش نصیب شخص کون ہو گا؟
مکہ کا ہر شخص اس پتھر کی دوبارہ تنصیب کا نہ صرف خواہاں تھا بلکہ اس تقاضے سے پیچھے ہٹنے پر قطعاً تیار نہیں تھا۔ یوں، یہ معاملہ پیش آنے کے چند ہی منٹوں کے اندر اتفاق اور انتظام کا بہترین نمونہ ، یعنی قریش کے کئی کنبوں کی شمولیت سے کعبہ کی سریع تعمیر نو کا عمل ایک دم پر تشدد نہج پر پہنچ گیا۔ خدشہ تھا کہ یہ کشمکش کچھ دیر اور جاری رہی تو مار کٹائی شروع ہو جائے گی۔ ایک کنبے نے تو حد کر دی۔ وہ ایک جانور کے خون سے بھرا پیالہ بھر کر لائے اور کنبے کے تمام افراد نے اپنے ہاتھ اس میں ڈبو کر خون سے رنگ دیے۔ سرخ خون سے لتھڑی ہتھیلیوں کو اپنے سروں سے اوپر بلند کر لیا تا کہ ہر شخص انہیں دیکھ لے۔ پھر قسم اٹھا کر اعلان کیا کہ وہ اس سیاہ پتھر کو کعبہ کی دیوار میں تنصیب کا حق پانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ حتی کہ اس کے لیے اپنے کنبے کے افراد کی قربانی سے بھی گریز نہیں کریں گے۔
اسی دوران، جب ہر شخص غصے میں مکے لہرا رہا تھا اور نتھنے پھول رہے تھے۔ کئی لوگ تلواریں سونت کر اور چند دوسرے خنجر سنبھالنے میں اوتاولا ہو رہے تھے۔ خونریزی کا خدشہ بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ قتل و غارت کے خطرے کو بھانپ کر قریش میں سے ہی، ایک پختہ عمر کے شخص نے سب کے لیے قابل قبول تجویز پیش کی۔ اس نے کہا، 'چونکہ سبھی لوگ شدید مشقت کے باعث تھکاوٹ کا شکار ہیں اور وہ اس بھاری بھر کم فیصلے کو طے کرنے کی سکت نہیں رکھتے ، تو کیوں نہ یہ فیصلہ خدا پر چھوڑ دیا جائے؟' چنانچہ، طے یہ پایا کہ بعد اس لمحے کے، جو پہلا شخص ، چاہے کسی بھی کنبے سے تعلق رکھتا ہو، کعبہ کے احاطے میں داخل ہو گا، وہی اس بابت فیصلہ کرنے کا مجاز ہو گا۔ پھر یوں ہوا، یا آپ اپنی سہولت کے مطابق کہہ سکتے ہیں کہ قدرت کے فیصلے کے مطابق، کعبہ کے احاطے میں داخل ہونے والا پہلا شخص کوئی اور نہیں بلکہ محمد صلعم تھے۔
حرا کی پہاڑی پر کئی روز کی گوشہ نشینی کے بعد واپس آ رہے محمد صلعم، جو کعبہ میں طواف کی غرض سے داخل ہوئے تھے۔ بجائے یہ کہ وہ تسلی سے طواف کی ریت نبھاتے، سیدھا ایک جھگڑے کے مرکز میں چلے آئے۔ آپ صلعم کو اس سلیمانی روپ میں دیکھ کر تقریباً ہر شخص چلا اٹھا کہ، 'محمد صلعم امین ہے۔ یہ دیانت دار ہے۔' اور سب ہی لوگ متفق ہوئے کہ، ' ہمیں آپ صلعم کے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا'۔
یوں، محمد صلعم اس انتہائی اہم مسئلے کے بیچ ثالث، پنچ بن گئے۔ ایسا ثالث جو اندر کا آدمی تھا اور سمجھ بوجھ رکھتے تھے کہ یہ معاملہ کیسے طے پا سکتا ہے۔ وہیں آپ صلعم کی مثال ایک ایسے ثالث کی بھی تھی جو اس سب سے اس قدر لا تعلق ہے کہ کھلے دل و دماغ کے ساتھ معروضی انداز میں سوچنے کی سکت رکھتا ہے۔ ایک لحاظ سے محمد صلعم اس کردار کے لیے موزوں ترین شخص تھے۔ وہ اس شہر کے کرتا دھر تاؤں میں سے ایک نہیں تھے اور یہی بات ان کو اس مخصوص وقت اور درپیش معاملے کے حساب سے مناسب ترین شخص بنا رہی تھی۔ معاملے کی سنگینی کے باعث، یہ بات بھی خاصی دلچسپ معلوم ہوتی ہے کہ اگر خدا نخواستہ اس وقت کعبہ کے احاطے میں محمد صلعم کے سوا کوئی دوسرا شخص داخل ہوتا تو کیا ہوتا؟ اسی سوال اور متوقع جوابات کے بل بوتے پر اوائل اسلام کے تاریخ دان باد بباد، حجت کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے نزدیک، یہ قدرت کا فیصلہ تھا اور خدا کی مرضی یہ تھی کہ کعبہ کے احاطے میں داخل ہونے والا پہلا شخص، محمد صلعم ہی ہوں۔
'ایک چادر لے آؤ' محمد صلعم نے کہا۔ جب چادر لے آئے تو آپ صلعم نے اسے کعبہ کے پہلو میں زمین پر بچھا دیا ۔پھر سیاہ پتھر کو اٹھا کر چادر کے اوپر رکھ دیا ۔ پھر حکم دیا، 'ہر کنبے کا سربراہ آگے بڑھے اور اس چادر کو کونے سے پکڑ کر اوپر اٹھائے۔' سربراہان نے ایسا ہی کیا اور جب پتھر ایک معقول بلندی پر اٹھا لیا گیا تو خود محمد صلعم نے اپنے ہاتھوں سے اسے اٹھا کر کعبہ کی دیوار میں نصب کر دیا۔
محمد صلعم کے فیصلے کی خاصی پذیرائی ہوئی۔ اس فیصلے کے تحت ہر کنبے کو برابر نمائندگی مل گئی تھی اور یوں مکہ کے ہر شخص کو عزت بخشی گئی تھی۔ محمد صلعم کے نزدیک اگرچہ یہ معمولی مگر اتحاد و یگانگت کا دلچسپ اظہار تو تھا مگر وہیں دوسری طرف اس معاملے کی نزاکت کو بغور دیکھیں تو ایک ذرا سی بھول چوک کے نتیجے میں یہ تقسیم اور نفاق کی گہری مثال بن سکتا تھا۔ اس واقعے کے بعد، جہاں سیاہ پتھر کو اپنے ہاتھوں سے تنصیب کے اعزاز کے باعث محمد صلعم کی عزت بڑھ رہی ، وہیں ہر طرف آپ صلعم کی حکمت کا بھی چرچا ہونے لگا۔ ایک شخص کی کمال سمجھ اور معاملہ فہمی کے باعث قریش، کعبہ کے احاطے میں، جہاں خون خرابہ ممنوع تھا، ایک بڑے فساد سے بال بال بچ گئے۔ اس روز، جب محمد صلعم یہ گھمبیر معاملہ طے کروا، کعبہ کے احاطے سے رخصت ہوئے تو ان کے دل و دماغ میں یہ خیال ہمیشہ سے زیادہ بڑھ کر کچوکے لگا رہا تھا کہ قریش کے بیچ ان کا مقام بھی عجب تماشہ ہے۔ آپ صلعم پر صرف اس لیے اعتبار کیا جاتا تھا کہ وہ قریش کا حصہ ہوتے ہوئے بھی بیگانے تھے۔ ان کے خیال میں، اول،  ذاتی مفادات نہیں تھے اور دوم وہ مکہ کے قیادتی کردار میں نہیں تھے۔ قیادتی کردار سے متعلق شاید یہ صرف محمد صلعم کا ذاتی خیال تھا۔ آنے والا وقت، آپ صلعم کے لیے کچھ اور ہی کہانی بُن رہا تھا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر