اول المسلمین - یتیم - 7




شاید، محمد صلعم کے ساتھ یہ ماجرا چالیس سال کی عمر میں ہی پیش آنا طے تھا۔ مشرق وسطی میں چالیس کے عدد کو باعث برکت اور نیک شگون سمجھا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر بدوؤں کے یہاں یہ عدد سوفتہ ، یعنی بیماری کی حالت میں شفائے کلی کی کنجی سمجھی جاتی تھی۔ بدو چالیس جڑی بوٹیوں کو اچھی طرح پیس کر ،پھر خالص مکھن اور زیتون کے تیل میں گھول کر ایک ملغوبہ تیار کر لیا کرتے تھے۔ اس ملغوبہ کو 'ال اربعین' کہا جاتا ہے۔ ال اربعین کی بابت مشہور تھا کہ یہ نسخہ ہر مرض کی دوا ہے۔ اسی طرح، حکماء کہا کرتے کہ ٹوٹی ہڈیوں کو واپس جڑنے کے لیے چالیس دن درکار ہوتے ہیں (جیسے جدید طب میں بھی فریکچر جڑنے کے لیے چھ ہفتوں کا کلیہ استعمال ہوتا ہے)۔ یا پھر، کسی شخص پر اس کے گھر یا خیمے سے چالیس قدموں کے گھیرے کے اندر حملہ کرنے کی ممانعت ہوا کرتی تھی۔ بعینہ، اگر ایک شخص نے دوسرے کے دشمن کو پناہ دے رکھی ہو تو ان دونوں کو ہی گھر یا خیمے کے اندر چالیس قدموں کے فاصلے تک امان حاصل ہوتی تھی۔ ایک اور مثال، عربوں میں ہمسائیگی کے حقوق کا تصور آج بھی چالیس گھروں تک کے لیے مشہور ہے۔
یہی نہیں، عرب معاشرے میں چالیس کا عدد زندگی میں نئی شروعات، ایک نئی ابتداء کی علامت بھی سمجھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مشرق وسطیٰ کے خطے کی تقریباً تمام ہی مقدس کتابوں میں اس عدد کا تذکرہ بار ہا ملتا ہے۔ مثال کے طور پر نوح کی کشتی چالیس روز تک سیلاب میں تیرتی رہی۔ بنی اسرائیل مصر سے خروج کے بعد چالیس برس تک صحراؤں میں بھٹکتے رہے۔ موسیٰ نے کوہ سینا پر چالیس راتیں بیتائی تھیں۔ یونس، چالیس دن تک مچھلی کے پیٹ میں رہے اور عیسیٰ نے بھی چالیس دن اور رات تک جنگل بیابان میں بسر کیے رکھا ۔ الغرض، ہر لحاظ سے چالیس کا عدد ایک نشان کے طور پر واضح ہو جاتا ہے۔ ایسا نشان جو مسلسل جد و جہد اور بھر پور سرکاؤ کے بعد نئے آغاز کی علامت شمار کی جا سکتی ہے۔ پھر، اس قدیم دور میں، اگر کوئی شخص خوش قسمتی سے چالیس سال کی لمبی زندگی جی لیتا تو یہ عرصہ زندگی سے بھر پور، وقت اور تجربے سے لبریز ہونے کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ یعنی، بعد اس کے ادھیڑ عمری آ رہتی اور منزل قریب سمجھی جاتی۔
یہ سن 610ء میں، ماہ رمضان کا واقعہ ہے۔ محمد صلعم نے گوشہ نشینی میں عبادت اور مراقبے کی غرض سے حرا کی پہاڑی کا رخ کیا۔ شہر کی گہماگہمی سے باہر چونکہ یہاں ہر طرح کے انسانی معمولات سے دوری اور فراغت میسر آ جاتی تھی ، چہار سو پھیلی ہوئی خامشی میں ، آپ صلعم تسلی سے گہرے سکوت میں غور و فکر کر سکتے تھے۔ چنانچہ، سالہا سال سے آپ صلعم کے روزمرہ معاملات میں ایک یہ بھی کہ حرا کی پہاڑی پر اس غرض سے باقاعدہ آمد معمول بن چکی تھی۔ آپ صلعم اس پہاڑی کے تقریباً راستوں اور پگڈنڈیوں سے واقف تھے اور ضروری تفصیلات زبانی از بر تھیں۔ آپ صلعم چٹانوں پر اکڑوں چڑھتے، نکیلے پتھروں کو پھلانگ کر، دشوار گزار پگڈنڈیوں پر چلتے ہوئے جب چوٹی کی طرف راستہ سر کرتے جاتے تو پاؤں تلے مکہ شہر دور اور سکڑتا ہوا محسوس ہوتا۔ حرا کی پہاڑی پر کئی قدرتی غار اور روزن تھے۔ آپ صلعم اب تک حرا کی پہاڑی پر تقریباً ساری دراڑوں، غاروں اور درزوں سے بھی واقف ہو چکے تھے۔ چنانچہ، آپ صلعم کسی بڑی مشکل سے دوچار ہوئے بغیر، آرام سے شام ڈھلنے سے قبل ہی حرا کی پہاڑی پر اپنی پسندیدہ جگہ پر پہنچ گئے۔
آج بھی معمول کے مطابق آپ صلعم یہاں پہنچ کر تھوڑی دیر ٹھہر، پانی وغیرہ پی کر غار کے دہانے پر آن آگے کو جھک کر قیام کی حالت میں کھڑے ہو گئے۔ محسوس ہوتا تھا کہ شاید ان کا جسم ہوا کے زور پر آگے کو جھکا ہوا ہے۔ مگر، شام کے دھندلکوں میں، جب اکا دکا، غول سے پیچھے رہ جانے والے پرندے بھی اب پناہ گاہوں کے قریب ہو رہے تھے، فضا بوجھل ہوتی جا رہی تھی۔ ایسے میں، ارد گرد ہلکی ہوا کا بھی کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ مزید، سورج غروب ہوتے ہی، بڑھتی ہوئی تاریکی کے ساتھ خاموشی بھی گہری ہوتی چلی گئی۔ اس قدر گہری خاموشی جو کانوں کے اندرون میں گھس کر شور مچاتی ہے۔ چپ کی ایسی صدا جو کہنے کو موجود تو نہیں ہے مگر پھر بھی گویا چاروں اطراف میں گونجتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایسی کیفیت کا نام ہے جس کے بیچ، آدمی کے گرد آوازیں نہیں بلکہ ارتعاش جنم لیتا ہے ۔ اسی ارتعاش میں چہار سو، سارا پیش منظر حواس میں گھلتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ دن بھر تیز دھوپ میں تپ کر جلتے رہنے والے بے جان پتھر بھی اب شام کی ٹھنڈک میں گرمی خارج کرتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے ان میں زندگی دوڑ رہی ہے۔ یا پھر، تاریک ہوتی ہوئی رات میں سر کے اوپر کھلے آسمان میں تارے ٹم ٹم جگمگانے لگتے تو اس منظر کو بغور دیکھنے پر وسیع، جیتی جاگتی کائنات میں انسان کے تن تنہا ہونے کا خیال بھی عود کر آ تا ہے۔ ایسے میں یہ دیو ہیکل حقیقت منہ پھلا کر سامنے، راستہ روک کر کھڑی ہو جاتی ہے کہ انسان اس کائنات میں کس قدر اکیلا ہے۔ اس کے ساتھ مبہوت کر دینے والا خیال یہ بھی ہے کہ انسان خود اپنے آپ اور دوسروں کے علاوہ اس دنیا سے بھی کہیں بڑے نظام کا معمولی ہی سہی مگر بہرحال ایک بڑا حصہ ہے۔ تاریک خلا اور سرد کائنات کے خول میں، انسانی زندگی کے وجود کا یہ احساس اس قدر قدیم اور گہرا ہے کہ اس کے سامنے روزمرہ انسانی معمولات ، معاشی و معاشرتی معاملات اور لوگوں کی سطحی بلند نظری ہی نہیں بلکہ پوری تاریخ انسانی بھی ہیچ نظر آتی ہے۔
کیا یہ صرف انہی خطوط پر گہرا غور و فکر تھا یا پھر محمد صلعم رات بھر جاگ کر باقاعدہ عبادت کی مشقت اٹھایا کرتے تھے؟ آپ صلعم اس غار کے دہانے پر جھک کر، خاموش اور مودب کھڑے ہیں۔ کیا قیا م کی حالت میں وہ ایک عام آدمی کی طرح زندگی میں میسر آنے والی ساری نعمتوں ، مواقع اور جان توڑ محنت اور مشقت کے بعد ملنے والی سہولیات پر شکر گزاری کے جذبے سے سرشار تھے؟ یا بجائے اس کے، بیداری کی حالت میں، چوکنا کھڑے گہری فکر میں مبتلا تھے؟ یا شاید ،اب اتنے سالوں کی مشقت اور ریاضت کے بعد وہ واقعی کسی بڑی واردات کے وقوع پذیر ہونے کے انتظار میں تھے؟ ہم صرف اتنا جانتے ہیں کہ اگر محمد صلعم حرا کی پہاڑی پر سکون کی تلاش میں جایا کرتے تھے تو اس رات ان کے ساتھ جو واقعہ پیش آنے والا ہے، وہ آپ صلعم کے سکون اور طمانیت کو اتھل پتھل کر کے رکھ دے گا۔
اس رات، غار حرا پر پیش آنے والے واقعات اصل میں کیا تھے؟ اس بابت تاریخ میں محمد صلعم کے اپنے الفاظ، ان کے کئی بیانات مل جاتے ہیں مگر یہ ساری روایات دوسروں نے بیان کر رکھی ہیں، محمد صلعم سے صرف منسوب ہیں۔ ان تمام روایات میں واقعات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے، ہر شخص دوسرے سے مختلف انداز اپناتا ہوا نظر آتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس ماورا عقل واقعے کی مادی لحاظ سے بیان کرنے کی کوشش میں ، راوی الفاظ سے گتھم گتھا ہو کر اپنی سمجھ کے مطابق سپاٹ مگر افسانوی رنگ دے دیتا ہے۔
ایک روایت عائشہ سے مروی ہے۔ عائشہ، محمد کی تمام بیویوں، جن کے ساتھ آپ صلعم نے خدیجہ کی وفات کے بعد نکاح کیا، میں سب سے چھوٹی اور بے لاگ تھیں۔ عائشہ بیان کرتی ہیں، " محمد صلعم نے کہا، 'جب فرشتہ میرے پاس آیا تو میں قیام کی حالت میں کھڑا تھا مگر اس کو دیکھتے ہی گھٹنوں کے بل گر گیا اور گھسٹواں چلتے ہوئے اس سے دور ہٹنے لگا۔ میرے کندھے خوف سے کپکپا رہے تھے۔ تب ہی ، ذہن میں پہاڑی کی کسی ٹیکری چٹان سے کود جانے کا خیال پیدا ہوا۔ ابھی میں یہی سوچ رہا تھا کہ وہ میرے سامنے ظاہر ہوا اور کہنے لگا، 'محمد، میں جبرائیل ہوں اور تم اللہ کے رسول ہو' پھر اس نے کہا، ' پڑھو!'۔ میں نے سوال کیا، 'میں کیا پڑھوں؟'۔ جواباً، اس نے مجھے اپنی طرف کھینچ کر سختی سے بھینچ لیا۔ میرے سینے پر تین دفعہ اس قدر سختی سے بوجھ ڈالا کہ مجھے گماں ہوا کہ شاید میری جان نکل جائے گی۔ پھر اس نے کہا، 'اپنے پروردگار کا نام لے کر پڑھو جس نے پیدا کیا۔ جس نے انسان کو خون کی پھٹکی سے پیدا کیا۔ پڑھو اور تمہارا پروردگار بڑا کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے سے علم سکھایا۔ اور انسان کو وہ باتیں سکھائیں جس کا اس کو علم نہیں تھا۔'"
بیانیہ جاری رکھیں تو اگلی روایت ابن زبیر سے منقول ہے۔ ابن زبیر بھی محمد صلعم سے منسوب الفاظ میں روایت کرتے ہیں، 'میں نے وہی الفاظ دہرائے اور فرشتہ دست بردار ہو کر رخصت ہو گیا۔ جب میں جاگا تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ الفاظ میرے دل پر نقش ہو چکے ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ ساری مخلوق میں مجھے شاعروں اور جنونیوں سے شدید نفرت رہی ہے۔ میں ان میں سے ایک پر بھی نگاہ ڈالنا گوارا نہ کروں مگر پھر بھی اس لمحے مجھے خیال آیا، ' شاید، میں ایک شاعر ہوں ،یا پھر مجنون ہوں۔ میں گوارا نہیں کر سکتا تھا کہ قریش مجھے شاعر یا مجنون کہہ کر بلایا کریں۔ چنانچہ، میں نے سوچا کہ اس ہزیمت سے بہتر ہے ، میں پہاڑی پر کسی چٹان سے کود کر جان دے دوں اور موت میں پناہ لے لوں' مگر جب میں اس غرض سے چٹان کے کنارے پر جا کھڑا ہوا تو آسمان میں سے ایک آواز سنی، 'محمد، تم اللہ کے رسول ہو' میں نے آواز کی سمت میں سر اٹھا کر آسمان کی جانب دیکھا تو جبرائیل آدمی کے روپ میں افق پر کھڑے تھے۔ میں دم بخود جبرائیل کو دیکھتا رہ گیا اور میری توجہ خود کشی کے خیال سے ہٹ گئی۔ اب میں آگے اور نہ ہی پیچھے کی طرف حرکت کر سکتا تھا۔ جبرائیل پر سے توجہ ہٹانے کے لیے دوسری طرف نگاہ پھیر دی مگر افق پر جہاں دیکھتا تھا، جبرائیل آدمی کی شکل میں، ہر طرف کھڑے نظر آتے تھے۔"
"یہ صاف، واضح اور سچا منظر تھا" عائشہ نے اپنی روایت میں زور دے کر کہا ہے۔ مگر عائشہ اور دوسرے تمام راوی، ان واقعات کی جس قدر بھی تفصیلی روداد بیان کر لیں، یہ اس واردات کی اصل کے مقابلے میں بری طرح چوپٹ اور یک ساں معلوم ہوتی ہے۔ گو، یہ تمام لوگ پوری نیک نیتی اور ذمہ داری کے ساتھ اس واقعہ کو بیان کرنے کی کوشش میں الفاظ کی تلاش کرتے نظر آتے ہیں ، مگر ان کی یہ سعی، اس ماجرا کی ہے جو خود ان کے اپنے ساتھ پیش نہیں آیا۔ لہذا، وہ اس عمل میں روداد کو خاصی سادہ مگر انسانی سمجھ کے عین مطابق، بنا دیتے ہیں۔ یعنی، ایک غیر مادی تجربے کو مادی شکل میں ڈھال دیتے ہیں۔ جیسا کہ ہم نے دیکھا، جبرائیل کی ایک شکل پہاڑوں کے اوپر آسمان میں تیرتی ہوئی بیان کی گئی ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ ان لمحات کو بیان کرتے، اپنی سمجھ کا لبادہ اوڑھا دیا گیا ہے یا اس رات جو واقعات پیش آئے، گرچہ وہ انسانی سمجھ سے باہر ہیں مگر بہر حال ان کو انسانی سمجھ بوجھ اور توقع کے عین مطابق اس طرح رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے کہ گویا، وہ محمد صلعم کے ساتھ اسی طرح پیش آئے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بابت جو بیان محمد صلعم سے منسوب ہیں، ان میں اچانک ایک فرشتے سے سامنا ہونے پر حیرت نہیں بلکہ قابل لمس خوف اور دہشت کا عنصر واضح نظر آتا ہے۔ آپ صلعم کا خوف اور دہشت سے ایک دم گڑ بڑا جانا، غیر مرئی چیز سے واسطہ پڑتے ہی دبدبہ اور بے بسی کا اس قدر شدید احساس کہ اس تلے دب کر بالآخر آپ صلعم موت کی خواہش کرنے لگے ۔ پھر، ایک ایسی ذات سے ٹاکرے کا خوف اور ہیبت بھی صاف ہے جو انسانی سوچ اور سمجھ سے کہیں بڑی اور عقل اس کے سامنے دنگ ہے۔ مختصراً، راوین کے چپٹے اور یک رخی بیانات کے بر عکس، ذاتی طور پر خود محمد صلعم کے لیے یہ ہیبت میں مبتلا کر دینے والا اور صحیح معنوں میں مرعوب و مبہوت کر کے چھوڑ دینے والا تجربہ تھا۔
آج کے جدید دور میں مرعوب ہو جانا، ہیبت طاری ہو رہنا یا مبہوت چھوڑ دینا وغیرہ جیسی عبارتیں اور اصطلاحات تقریباً بے معنی ہیں۔ ہم ان کو اصل معنوں میں کبھی بھی سمجھ نہیں پائیں گے۔ مثال کے طور پر آج کل لوگ نت نئی ایجادات دیکھ کر ہی 'مرعوب' ہو جاتے ہیں یا کسی نہایت عمدہ تخلیق، فلم یا مصوری کے شہ پارے کو دیکھ کر' مبہوت' رہ جاتے ہیں۔ آج شاید بہت بڑی آفت ، مثلاً انتہائی درجہ کے زلزلے یا سونامی کا ذاتی طور پر سامنا کرنے کے سوا شاذ و نادر ہی ہم پر کبھی، صحیح معنوں میں ہیبت طاری ہو پائے۔ یوں، اس لحاظ سے ہم خوف اور دبدبے کو صحیح معنوں میں محسوس کیے بغیر جیتے آ رہے ہیں۔ ہم میں سے چند، گنے چنے لوگ ہوں گے جو یہ سمجھ سکتے ہیں کہ طوفانی جکڑ کے بیچ تن تنہا کھڑا ہونے سے در اصل کیا مراد ہے؟ یا پھر کھلے بیابان میدان میں انتہائی سخت موسم اور مسدود حالات کے بیچ زندگی کی ڈور تھامے رکھنا، بھلا کیا معنی رکھتا ہے؟ اسی طرح سو نامی کی صورت میں جب سمندر کی لہریں سینکڑوں میٹر بلند ہو جاتی ہیں اور پاؤں تلے زمین تھر تھرانے لگتی ہے، یہ آخر کیسا تجربہ ہو سکتا ہے؟ اس جدید دور میں تو، سہولیات اور علم اس قدر بڑھ چکا ہے کہ اس طرح کے شدید طوفانوں اور آفتوں کے دوران بھی ہم دروازے مقفل کر کے بیٹھ جاتے ہیں یا مضبوط دیواروں کے پیچھے چوکڑے رہتے ہیں۔ بھلے بدترین زلزلے آ رہیں اور سب کچھ اتھل پتھل ہو جائے۔ ہم سمجھتے رہتے ہیں کہ حالات ہمارے کنٹرول میں ہیں یا کم از کم اس اختیار کا گماں ہمیشہ ہی باقی رہتا ہے۔ آج ہم کسی بھی صورت، اس خوف اور دہشت کا اصل معنوں میں کبھی سامنا نہیں کر پاتے جو خود سے بڑی مصیبت کو آنکھوں کے بالکل سامنے دیکھ کر طاری ہو سکتی ہے۔
پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ، بھلا ہم محمد صلعم پر طاری خوف اور ہیبت کی کیفیت اور اس تجربے کو بھلا کیسے سمجھ سکتے ہیں؟ یہ ایسی کیفیت ہے جو سمجھنے میں بیحد دقیق اور پھر مافوق الفطرت بھی ہے۔ یعنی کسی بھی مادی تجربے سے یکسر مختلف ہے۔ تعریف کی رو سے، اس کی کسی بھی طرح سے عقلی بنیادوں پر صفائی پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے باوجود، کئی لوگ، بشمول اس واقعہ کے راوی بھی اس روحانی تجربے کو بیانیے میں مادی شکل دینے کی بھر پور کوشش کرتے چلے آئے ہیں۔ الفاظ میں بیان کرنے کی سعی تو ہوتی رہی ہے مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہ سارا معاملہ بعید القیاس بن کر رہ گیا ہے۔ مگر کیا کیجیے کہ، اس کو بیان کرنا نہ صرف انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ مجبوری بھی ہے۔ اس کو انسانی سمجھ کے مطابق ایک صورت، شکل دینا لازم ہے۔ یہ ضرور ہے کہ اگر ہم ایسی کوشش کرتے ہیں تو شاید اس میں کلی طور پر ناکام رہیں مگر دوسری جانب اس کو بیان کرنے کی کوشش سے کلی اجتناب بھی درست نہیں ہے۔
روڈولف اوٹو نامی سکالر، جو تقابل ادیان کے علم میں نامی گرامی محقق گزرے ہیں، اپنی شہرہ آفاق کتاب 'تقدیس کا تصور' میں اس طرح کے روحانی اور الہامی تجربات کو بیان کرنے کی قدرے بہتر کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ تاہم یہ کتاب عہد وکٹو ریہ کی جناتی زبان میں رقم ہے، جو مرصع نگاری کے لحاظ سے اپنے آپ میں ایک الگ معاملہ ہے۔ اوٹو اس تصنیف میں انجیل کے عبرانی نسخے میں خدا کی ہیبت کو یوں بیان کرتے ہیں، ' یہ غضب آدمی کو مفلوج کرنے کی حد تک اثر کرتا ہے' یا پھر، ایوب نے محسوس کیا ، ' دہشت سے بھر پور احساس جو اندر ہی اندر لرزہ طاری کر رہا تھا۔ روح کے اندر تک اس قدر زیادہ تھر تھری مچ گئی کہ شاید اس دنیا میں آج تک پیدا ہونے والی بڑی سے بڑی، دیو ہیکل شے بھی اس کے سامنے ٹھہرنے، اس ہیبت کو اپنے آپ میں سمونے کی جرات نہ کرتی۔ گویا، کوئی بھوت دیکھ لیا ہو۔' یہاں بھوت سے اوٹو کی مراد واقعی بھوت تھا۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ بھوت پریت کی کہانیوں میں یہ خوف کا احساس ہوتا ہے جو آدمی پر خوف اور لرزہ طاری کر دیتا ہے ۔ یہ احساس اس قدر گہرا ہو سکتا ہے کہ، 'ایسا لگتا ہے کہ شاید خوف سے ریڑھ کی ہڈی میں چھید ہو گئے ہیں اور ڈر گودے میں جا کر بیٹھ گیا ہے۔ اس کو دیکھ کر روئیں کھڑی ہو جائیں اور ٹانگیں دہشت سے کانپنے لگیں۔' یہ تو بھوت پریت کی بات تھی۔ مگرجب اوٹو 'ذی شان روحانی شعور' یعنی مقدس ارواح اور خالص خدائی قوت کا مقابلہ کسی بھوت پریت کے تجربے سے کرتے ہیں تو ان کے مطابق معنوی لحاظ سے بھوت پریت کا سامنا، بچوں کا کھیل ہے۔ اوٹو کے مطابق انت یہ ہو سکتی ہے کہ، 'دہشت جب اس صورت میں، ساری حدوں کو پھلانگ کر، سرفرازی کی انتہا پر پہنچتی ہے تو تب، روح پر بے خودی اور سکوت کا عالم چھا جاتا ہے۔ لرزہ طاری ہو جاتا ہے اور یہ ڈر کے مارے وجود کے آخری اور باریک تر چیتھڑے کی رو تک کانپ کر رہ جاتی ہے'
اوٹو نے اخذ کیا ہے کہ اس طرح کے تجربات میں شادمانی کا دور تک کوئی شائبہ نہیں ہو سکتا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ شاید کشف کے نتیجے میں شادی مرگ کی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے تو وہ ایسے شخص اور تجربے کو صاف عیاری اور چتر بازی سے موسوم کرتے ہیں۔ لکھتے ہیں، ' کشف کے ایسے کسی بھی لمحے میں طاری ہونے والی دہشت اور ہیبت ان لوگوں کے لیے خاصی مایوسی کا باعث ہو گی جو تقدیس کو آج تک اچھائی، نرمی، محبت ، معتمد چاہ اور بے تکلفی سے منسوب کرتے آئے ہیں'
یہاں، اگر اس معاملے کو بیان کرنے میں ہمیں اوٹو کی مانند مرصع نگاری اور رنگ برنگے الفاظ کے ہیر پھیر کی ضرورت نہیں تو وہیں ہم عائشہ یا ابن زبیر کی طرح سپاٹ اور لغوی بیانیے کا بھی سہارا نہیں لے سکتے۔ ہمیں اس بات پر اصرار کرنے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کہ محمد نے جبرائیل کو مادی شکل میں دیکھا، بولتے ہوئے سنا اور اس وقت وہ ایک آدمی کا روپ دھار کر آپ صلعم کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے۔ اس طرح کے اصرار سے تو ہم محمد صلعم کو رتبے میں اور بھی کم تر بنا دیتے ہیں۔ گویا، آپ صلعم کی مثال تو صرف ایک ربانی ٹیپ ریکارڈر کی آواز جیسی رہ جاتی ہے جو جبرائیل کے ہاتھوں سدھائی ہوئی ہے۔ چونکہ ہم اکیسویں صدی میں بسر رکھنے والے عقل پسند لوگ ہیں تو ہم اس معاملے کو سمجھنے کے لیے سائنس کا سہارا لے سکتے ہیں۔ علم طب کی شاخ نیورو سائکاٹری یا عصبی نفسیات کے نظریے 'شعور ی تغیرات' کا حوالہ دے سکتے ہیں۔
کیا اس رات حرا کی پہاڑی پر محمد صلعم واقعی شعور کے تغیر کی حالت میں تھے؟ یقیناً، یہ ایسا ہی تھا۔ مگر اعصاب کے علم کی تحقیق اس بابت صرف اور صرف وہی جانکاری فراہم کرتی ہے جو پہلے سے سادھو اور گوشہ نشین راہب، زاہد ین ہمیشہ سے جانتے آئے ہیں۔ یعنی، ریاضت اور مشقت جیسے بھوک، رت جگا اور گہرا مراقبہ وغیرہ شعور کی حالت میں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ شعور میں تغیر پیدا کر سکتا ہے۔ تغیر کی یہ کیفیت دماغ کی کیمیائی سرگرمی میں رد و بدل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اس رد و بدل کا نتیجہ یہ ہے کہ کئی مادی اور جسمانی تبدیلیاں واقع ہو سکتی ہیں۔ سننے ، دیکھنے، سونگھنے، چھونے اور چکھنے وغیرہ اور ایسے کئی دوسرے مادی تجربات دماغ میں مسلسل جاری رہنے والے کیمیائی عوامل کی بدولت ہی جنم لیتے ہیں۔ مگر معاملہ یہ ہے کہ اگر ہم اسی طرح سختی سے دماغ میں جاری ان کیمیائی عوامل کو محسوس ہونے والے ہر مادی تجربے کا باعث گردانتے پھریں گے تو پھر ہر چیز کو ایک پنجرے میں بند کر دیں گے، جسے ولیم جیمز نے 'طبی مادیت' کا نام دیا تھا۔ طبی مادیت سے مراد یہ کہ، اس کی رو سے ہر طرح کا مادی تجربہ ایک میکانکی عمل ہے اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سائنس صرف اور صرف شعور میں پیدا ہونے والے تغیرات کے نتیجے میں مادی تجربات پر پڑنے والے اثرات کو ایک حد تک جانچ سکتی ہے۔ یہ ان مادی تجربات کی روح، اس کے بیچ جینے، انہیں محسوس کرنے کے تجربے کو سمجھنے اور سمجھا پانے کے قابل نہیں ہے۔
چنانچہ آخر میں، ہمارے پاس لے دے کر ان مادی تجربات کے بارے اس سوال کو عملی توجیہ دینے کی ایک ہی صورت باقی رہ جاتی ہے۔ عملی طور پر یہ صورت باقی تمام توجیہات میں کم تر ہے۔ مگر یہ طریق کسی بھی تجربے کے محسوسات کو بیان کر سکتی ہے۔ تخیل کے بند کواڑ کھول سکتی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ جمالیاتی حس سے بھر پور ہے۔ یعنی، ہمیں شاعری اور شاعرانہ طرز کا سہارا لینا پڑے گا۔
مذہبی اور روحانی تجربات کی تہہ میں احساس کا جوہر پنہاں ہوتا ہے۔ شعائر اور کٹر عقائد مذہب کی ایک منظم شکل ضرور ہیں ۔ ان کی مثال مذہب کی عمارت میں مضبوط شہتیروں اور قینچی دار کڑیوں جیسی تو ہے ،مگر یہ مذہب کے روحانی لمس کو چھو پانے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں۔ حالانکہ، یہ روحانی تجربات ہی ہیں جو اپنے اندر مذہب سے متعلق تمام تر پراسراریت سمو کر رکھتے ہیں۔ دوسری جانب، اس طرح کے تجربات ہمیشہ سے ایک معمہ بھی رہے ہیں کیونکہ ان احساسات کو بیان کرنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔
شاعری، احساس کے اسی معمے پن کے گرد گھومتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان فنون لطیفہ، بالخصوص شاعری کے ذریعے اس ناقابل بیان معاملے کو بیان کرنے کی کوشش سے چوکتا نہیں ہے۔ والٹ وٹ مین نے نظموں کی خوبصورتی کو 'سائنس کی قطعیت اور طرہ' کہا تھا جو 'طبی مادیت' کو واضح اور دو ٹوک جواب ہے۔ سیموئیل کالرج بھی یہاں اور وہاں، ' ایک لمحے کو انکار اور بے اعتقادی کو رد کر کے سوچنے کے بعد شاعرانہ حد تک ایمان کی کیفیت' بارے بیان کرتے نظر آتے ہیں اور رالف والڈو ایمرسن نے شاعری کے بارے کہا تھا کہ، 'یہ کسی بھی شے کی روح کو بیان کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔' ذرا، ان الفاظ، جیسے 'روح' ، 'ایمان'، 'قطعیت'، 'اعتقاد' وغیرہ پر غور کیجیے۔ قصہ مختصر، شاعری کی مناسب ترین لفظوں میں جامع تعریف کسی نامعلوم شخص نے یوں کی تھی کہ،' وہ کہہ دینا جو کہا نہیں جا سکتا'۔ چنانچہ، ہمیں بھی اس ناقابل بیان تجربے کو بیان کرنے کی کوشش سے چوکنا نہیں چاہیے جس طرح پہلے بھی لوگ، بالخصوص اس واقعہ کے راوی باز نہیں آئے۔ سو، اس معاملے میں اگر ہم محمد صلعم کو حرا کی پہاڑی پر پیش آنے والے واقعات کی روایات میں استعمال ہونے والی تشبیہوں اور استعاروں پر غور کریں تو شاید ہم کسی حد تک سمجھنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
سمجھنے کی غرض سے، شروعات مثال شاعری میں 'آمد' یا 'نزول' اور اس معاملے میں محمد پر ' الہام' یا 'وحی' سے کیجیے۔ لغوی معنوں میں نزول، وحی یا الہام سے مراد عمل تنفس کے دوران سانس اندر کھینچنا یا زیادہ مناسب ، اندر سانس بھرنا ہے۔ عربی میں لفظ 'تنفس' اور 'نفس' یا اردو میں 'دم' یا 'سانس' سے مراد روح کے ہیں۔ روح، عبرانی زبان کے لفظ 'روچ' سے مشابہت رکھتا ہے۔ وحی یا نزول کا تصور یوں ہی زبانوں میں داخل ہو گیا، طے پاتا گیا۔ الہام کا یہی تصور عبرانی تورات کی 'کتاب پیدائش' یا 'براشیت' کی دوسری آیت میں بھی استعمال ہوا ہے۔ 'خدا کا دم'، 'خدا کی پھونک' یا 'روچ الوہیم' کا ' پانیوں کے اوپر ہوا ؤں کی مانند چلنا' وغیرہ استعمال ہوا ہے۔ گو یہ تصور محمد پر نازل ہونے والی وحی، الہام سے خاصا مانوس لگتا ہے مگر بہرحال، انسان پانی نہیں ہے۔ ایک انسان کے اندر سانس بھرنے، پھونک بھرنے یا کہیے دم کے دخول کا تصور ذہن میں لائیے۔ آمد، نزول، وحی یا الہام کے معنوں بارے سوچیے۔ یعنی، سانس بھرنے کا اس قدر بھر پور اور طاقتور عمل جو ناقابل برداشت حد تک تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔ یہ جنت سے چلنے والی نرم اور ملائم ہواؤں کا نہیں ہے بلکہ بے انتہا دباؤ کی حامل ہوا کا کان پھاڑتی ہوئی سیٹی بجاتے پھیپھڑوں میں گھسنا مراد ہے۔ مثال، ایک دیو اپنی پوری قوت سے ایک بے ہوش انسان کو ہوش میں لانے کے لیے، منہ سے منہ جوڑ کر مصنوعی عمل تنفس میں مشغول ہو۔ اس طرح کی کیفیت ، مثال مصنوعی عمل تنفس میں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے جسم میں ہر خلیہ پھولتا ہی چلا جا رہا ہے اور مفہول اس بے پناہ دباؤ کی حامل ہوا کے رحم و کرم پر ہے۔ گو یہ عمل زندگی، جلا بخشتا ہے مگر اسی وقت یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ جان نکال کر رکھ دے گا۔ چنانچہ، آمد یا نزول کے دوران بھی ایسا لگتا ہے کہ شاید اس کے بوجھ تلے دم گھٹ جائے گا اور اس کے خلاف ہاتھ پاؤں مارنا، دفاع کی ہر طرح کوشش بے سود ہے۔
محمد کے الفاظ پر غور کیجیے۔ جب وہ کہتے ہیں، 'ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ الفاظ میرے دل پر نقش ہو چکے ہیں'۔ گو آج تو یہ کہنے میں صرف ایک کلیشا، کہاوت لگتی ہے مگر تب، جب محمد صلعم نے پہلی بار اپنے لیے یہ الفاظ استعمال کیے ہوں گے تو انہی الفاظ کی مدد سے ہم وحی کے نزول یا الہام کی بے پناہ تاثیر کو سمجھ سکتے ہیں۔ اگر آپ نے کافکا کی مشہور کہانی، 'پینل بستی میں' پڑھ رکھی ہو تو یقیناً آپ کو یک دم اس قیدی کا خیال آئے گا جو اپنے کیے پر ندامت کے اظہار میں ادا کیے جانے والے الفاظ، اپنے جسم پر گوشت میں چیرے لگا کر نقش کرنے کی اذیت میں مبتلا تھا۔
تصور کیجیے جو تصور میں لانا مشکل ہے۔ اس تکلیف اور درد کو محسوس کیجیے، جو ایک تیز دھار خنجر کے پھل سے جسم میں پیوست ہو کر کاٹنے سے ہو سکتا ہے۔ وہ بھی یوں کہ مفعول اس کے نیچے بے بس پڑا رہے۔ اسے ہوش تو ہو مگر وہ اس سے چھٹکارے کی کوئی صورت نہ پاتا ہو۔ محمد صلعم کے بچپن میں پیش آنے والے اس واقعے کو خیال میں لائیے جس کے قصے میں ایک پانچ سالہ بچے کے سینے کو دو فرشتے چاک کرتے ہیں اور اس کا دل کھینچ کر باہر نکال ، دھو ڈالتے ہیں۔ اس واقعے کو تو سنتے اور پڑھتے ہوئے بھی کسی قسم کی طمانیت، آرام اور سکون محسوس نہیں ہوتا، اس عمل سے گزرنے کا تجربہ تو بہت دور کی بات ہے۔ اس بیان یا روایت میں تو جراحی جیسی تشدید ہے۔ سینے کو چاک کرنا، دل کو کاٹ کر باہر نکالنا، ناقابل بیان درد وغیرہ۔ مگر، جراحی کی ہی طرح ، یہ بھی زندگی میں ایک نئی شروعات کے نام پر کیا جانے والا عمل ہے۔
بہرحال، الہام یا نزول کے بعد محمد خاصی دیر وہیں غار میں دھول سے اٹی زمین پر بے ہوش، گویا خوف سے خون سے خالی، اڑی رنگت میں پڑے رہے۔ آپ صلعم کے پسینے چھوٹ رہے تھے پر سردی اور خوف سے کپکپاہٹ بھی جاری تھی۔ وہ ابھی تک ان الہامی الفاظ کے زیر اثر، بے خود ہو رہے تھے۔ دہرائے گئے الفاظ آپ کے اندر سے بر آمد ہوئے تھے مگر بہر حال یہ آپ صلعم کے اپنے نہیں تھے۔ گو، کہنے کو آپ صلعم نے اپنے منہ سے یہ کلمات اس رات کی گہری تاریکی میں جب ہر سو خامشی پھیلی ہوئی تھی، دہرا کر پہاڑ کی تازہ ہوا میں گھول دیے تھے مگر شاید انہیں خیال آیا ہو کہ یہ الفاظ اس وقت تک حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتے کہ جب تک ان کے علاوہ، کوئی دوسرا انسان آپ صلعم کے منہ سے سن نہ لے۔ ان الہامی لفظوں کو سانس کے ذریعے اپنے اندر اتار نہ لے ، اس کے معنی نہ تلاش لے۔ اس وقت اگر پوری دنیا میں محمد کے لیے دہشت کی کیفیت سے چھٹکارے کی جا ، ایک ایسا انسان جو جنوں کے خوف اور مقدس خدا کی ہیبت سے آپ صلعم کو امن بخش سکتا تھا، ان الہامی الفاظ کو سہہ سکتا تھا، اپنے اندر جذب کر سکتا تھا، تو وہ صرف اور صرف خدیجہ تھیں۔
آپ صلعم پر نازل ہونے والی وحی یا الہام بارے یہ ہے کہ شاید شروع میں یہ الفاظ نہیں تھے۔ غالباً، اس مقدس تجربے کو ایک انسانی سمجھ بوجھ کی شے بننے، مثال کے طور پر مکمل اور واضح الفاظ میں ڈھلنے کے لیے ابھی دیر تھی۔ ہم جانتے ہیں کہ اس واردات کے فوراً بعد ہی محمد رات کے اندھیرے میں دشوار گزار راستوں، کھائیوں اور نکیلی چٹانوں سے بے نیاز ،گرتے پڑتے، پہاڑ کی پتھریلی ڈھلوان پر لڑھکتے اور پھسلتے ہوئے، ہانپتے اور کانپتے، اور ہر سانس کو پوری قوت سے سینے میں تھام کر سمونے کی ان کہی کوشش میں مکہ کی طرف دوڑتے چلے گئے۔ آپ صلعم کے کپڑے پھٹ کر لیرو لیر ہو چکے تھے جبکہ جسم پر جا بجا، بانہوں اور ٹانگوں پر خوف کے مارے دوڑنے، راستے کی پتھریلی چٹانوں اور کانٹے لگنے کے باعث خراشیں اور چوٹیں آ گئی تھیں۔
'مجھے اپنی جان کا ڈر ہے' آپ صلعم نے پہلی بات یہی کہی۔ 'مجھے لگتا ہے کہ شاید میں مجنون ہو گیا ہوں'۔ تقریباً اینٹھن اور تشنج جیسی حالت میں آپ صلعم خوف سے لرزتے اور کانپتے ہوئے خدیجہ سے ان کو تھامنے اور چادر تلے چھپانے کی التجا کر رہے تھے۔ 'مجھے ڈھک دو۔ مجھے کچھ اوڑھا دو۔' آپ صلعم نے منت کی اور اپنا سر خدیجہ کی جھولی میں ڈال دیا۔ جیسے، کوئی معصوم بچہ رات کی تاریکی میں کسی انجان شے، سائے کو دیکھ کر خوفزدہ ہو جاتا ہے اور آڑ، پناہ ڈھونڈتا ہے۔ خدیجہ نے جب محمد صلعم کو اس خوف اور ہیبت کی حالت میں دیکھا تو وہ آپ صلعم پر طاری اس قدر لرزے اور کپکپاہٹ کو دیکھ کر ہی قائل ہو گئیں کہ ان کے شوہر کو جو واقعہ پیش آیا تھا، وہ حقیقت ہے۔
خدیجہ نے محمد صلعم کو تھام لیا۔ اپنی جھولی میں ان کا سر ڈال کر سہلاتی، دابتی رہیں حتی کہ رات کے تاریک آسمان میں مشرق کی جانب سے دن کی روشنی پھوٹ پڑی۔ پھر کہیں جا کر، پہلی بار محمد کی زبان پر آہستگی سے اور اٹکتے ہوئے وہ الفاظ جاری ہونا شروع ہوئے جو شاید اس سے قبل تک آپ صلعم نے صرف محسوس کیے تھے۔ گو وہ اب بھی خدیجہ کی جھولی میں لرز رہے تھے مگر اب ہی کہیں جا کر، محمد صلعم نے خود اپنی آواز، اپنے کانوں سے سنی اور اپنے علاوہ ایک دوسرے انسان یعنی خدیجہ کے سامنے وہ الہامی الفاظ دہرانا شروع کیے۔ وہ الہام جو حرا کی پہاڑی پر سانس کی مانند محمد صلعم کے سینے کے اندر پھونکا گیا تھا ، اب سانس کی ہی طرح آپ صلعم نے واپس ، الفاظ کی صورت باہر پھونک دیے۔ گویا دم جاری ہو گیا، سانس چل پڑی۔
محمد صلعم اور خدیجہ کو رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے اب پندرہ برس ہو چکے تھے۔ مگر اس سے پہلے خدیجہ نے محمد صلعم کو کبھی بھی اس قدر خوش بیاں زبان میں بولتے ہوئے نہیں سنا تھا۔ عام طور پر آپ صلعم کا کلام مختصر اور دبا ، اکھڑا سا رہتا تھا۔ جیسا کہ کسی ایسے شخص ، جس نے بچپن میں بولنے سے زیادہ سننا سیکھ رکھا ہو، اس سے ایسے مسحور کن کلام کی توقع نہیں ہو سکتی۔ یہ الفاظ جب خدیجہ کے کانوں میں پڑے تو وہ سنتے ہی جان گئیں کہ یہ محمد کے منہ سے خلاف معمول اور حیرت انگیز تھے۔ یہی نہیں بلکہ خدیجہ کے لیے یہ چند جملے صرف اس وجہ سے کہ وہ محمد صلعم سے محبت رکھتی تھیں، حیرت انگیز نہیں تھے بلکہ وہ ان الفاظ کے سحر کے باعث جانتی تھیں کہ اتنا فصیح اور بلیغ کلام پوری دنیا میں دوسرا نہیں تھا۔ یہ کلام جو بھی تھا، اس کے ساتھ خدیجہ نے فوراً ہی یہ بھی بھانپ لیا کہ یہ اس پرسکون اور انکساری سے بھر پور مگر معتدل زندگی کا بہرحال اختتام تھا جو وہ اب تک اکٹھے جیتے آئے ہیں۔ آج کے بعد کچھ بھی ایک سا نہیں رہے گا۔
گماں یہ ہے کہ خدیجہ کی بجائے یہاں کوئی عام عورت ہوتی تو وہ اس کو غیر منصفانہ اور بے جا جانتی۔ وہ اس تبدیلی، معمول کی زندگی کے یوں اتھل پتھل ہونے کے خدشے سے خوفزدہ ہو جاتی اور اس بابت دور سے ہی نظر آنے والی ممکنہ مشکلات اور مکہ کے لوگوں کے استہزائی رد عمل کو بھانپ کر پیچھے ہٹ جاتی۔ شاید، وہ اپنے تحفظ کے ساتھ، محمد صلعم کو بھی ان مشکلات سے بچانے کی کوشش میں الہام کی نفی کر دیتی۔ بجائے یہ کہ وہ حقیقت بیان کرے، اس خیال پر مضر ہو جاتی کہ محمد صلعم کا ابتدائی خیال ہی درست ہے۔ یعنی یہ کہ شاید ان پر کسی جن کا سایہ ہو گیا ہے۔ غالباً وہ آپ صلعم کو بہکانے کی کوشش کرتی، جھوٹے دلاسے اور تسلی دے کر اس بات پرقائل کر لیتی کہ یہ صرف دماغ کا مکر ہے ۔ اس بابت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، صبح ہوتے ہی سب کچھ ٹھیک ہو رہے گا۔
مگر، خدیجہ نے عام عورتوں کی طرح جذباتی رد عمل کی بجائے خاصی پختگی اور بالغ نظری کا مظاہرہ کیا ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید ان کے لیے بالآخر اس واردات کا پیش آنا، ہمیشہ سے ہی متوقع چلا آ رہا تھا۔ شاید، وہ پہلے سے ہی اس کے لیے ذہنی طور پر تیار تھیں۔ وہ محمد صلعم سے محبت رکھتی تھیں تو وہ ان کو بڑھ کر جانتی تھیں۔ محمد صلعم میں وہ خوبیاں دیکھتی تھیں جن سے محمد صلعم خود بھی ابھی تک منکسر المزاج طبیعت کے باعث آشنا نہیں تھے۔ اسی لیے جب محمد صلعم نے خدشہ ظاہر کیا کہ وہ جنون میں مبتلا ہو چکے ہیں تو خدیجہ نے سر جھٹک کر کہا، 'خدا ہمیں جنون سے محفوظ رکھے'۔ مزید کہا، 'اللہ آپ صلعم کے ساتھ کبھی ایسا کچھ نہیں کرے گا۔ وہ آپ صلعم کی سچائی، امانت داری اور نرم خو طبیعت سے خوب واقف ہے۔ ایسا قطعاً ممکن نہیں ہے۔' اسی طرح، جب محمد صلعم نے خدیجہ کو پوری روداد سنا دی تو انہوں نے جواباً نہایت اطمینان سے زور دے کر کہا، ' وہ ذات جس کے قبضے میں میری جان ہے، مجھے امید ہے کہ آپ لوگوں کے لیے خدا کے پیغمبر مقرر کیے گئے ہیں'
خدیجہ نے صبح طلوع ہونے تلک محمد صلعم کو یوں ہی تھامے رکھا ۔ کافی دیر کے بعد آپ صلعم پر طاری لرزہ اور خوف کم ہوتا گیا۔ آپ صلعم کا سر خدیجہ کی جھولی میں بھاری ہوتا گیا اور تھکاوٹ کے باعث جلد ہی گہری نیند سو گئے۔ خدیجہ نے یہ تسلی کر لینے کے بعد کہ محمد اب کچھ دیر آرام سے سوتے رہیں گے، آپ نے انہیں بستر میں لٹا کر کمبل اوڑھا دیا۔ پھر خود چادر اوڑھ کر منہ اندھیرے ہی گھر سے باہر نکل گئیں۔ آپ کا رخ اپنے چچا زاد ورقہ کے گھر کی طرف تھا۔ آپ نہایت اطمینان سے مکہ کی گلیوں میں تنہا ہی گزرتے ہوئے، جب سارا شہر ابھی تک غنودگی میں ڈوبا ہوا تھا، صبح کی پہلی پو کے ساتھ ہی ورقہ کے گھر پہنچ گئیں۔ ورقہ، جو گروہ حنفا میں سب سے عمر رسیدہ تھے، انہوں نے بھی اس بات کی تصدیق کر دی جو وہ پہلے سے جانتی تھیں۔ یعنی، محمد صلعم پر طاری ہیبت اور جنون کا خوف دراصل اس بات کی سچائی تھی کہ یہ جنون نہیں بلکہ الہام ہے۔ اب وہ ایک عام شخص نہیں رہے تھے۔ بلکہ وہ سینکڑوں دوسرے روحانیت پسندوں کی طرح بھی نہیں رہے تھے جو تقدیس کی بو میں لتھڑے لاکھوں عام انسانوں سے کہیں برتر سمجھے جاتے تھے۔ بلکہ، جیسا کہ بعد ازاں قران میں پکارا جائے گا، 'پیغمبر خدا'، 'لوگوں میں سے ہی ایک آدمی' مگر ایک ایسا آدمی جسے اچانک، یکدم ہی اتنی بھاری بھر کم ذمہ داری سونپ دی گئی تھی۔
خدیجہ کے چچا زاد کا جواب ان کے لیے غیر متوقع نہیں تھا۔ ورقہ نے کہا، 'اے خدیجہ، اگر تم نے جو احوال بیان کیا ہے وہ سچ ہے تو پھر میں تصدیق کر سکتا ہوں کہ یہ وہی پاک روح، ناموس ہے جو اس سے پہلے قدیم دور میں موسیٰ کے سامنے ظاہر ہوئی تھی اور بے شک محمد صلعم لوگوں کے لیے خدا کے پیغمبر ہیں۔ بلاشبہ وہ اچھے دل کے مالک ہیں۔'
جب خدیجہ ورقہ کے یہاں سے واپس اپنے گھر کی طرف جا تی ہوں گی، یقیناً ان کا دل بوجھل ہو رہا ہو گا۔ وہ اس بات سے آگاہ تھیں کہ ادھیڑ عمری میں ایک میاں اور بیوی کے بیچ، جب کہ اب دونوں ہی عمر کے آخری حصے کی طرف گامزن تھے۔ عام حالات میں شاید اکٹھے بوڑھے ہوتے مگر اب ان کے بیچ ایک ایسی چیز آ چکی تھی جو نئے دور کی کنجی ثابت ہو سکتی تھی۔ اب ، جبکہ وہ بچے پیدا کرنے ،یعنی تخلیق اور پالنے ، مراد ذمہ داری کی عمر سے گزر چکی تھیں مگر پھر بھی وہ دیکھ سکتی تھیں کہ ان کے گھرانے میں ایک ایسی چیز جنم لے رہی ہے جو بنیاد کے لحاظ سے نئی تو تھی مگر وہیں اس کی جڑیں اتنی قدیم روایت سے جا کر ملتی ہیں۔ یہ اپنے آپ میں ایک ہیبت ناک بات تھی۔
یہ بات تو طے ہے خدیجہ کو کسی بھی قسم کا کوئی وہم اور نہ ہی خوش فہمی لاحق تھی ۔ گو خدیجہ اس خوف کے پیمانے کا تو اندازہ نہیں لگا سکتی تھیں جو پچھلی رات محمد صلعم کو پیش آیا تھا مگر بہر حال محمد صلعم کے انتہائی قریب ہونے کی وجہ سے اس کے سوا بھی ایک خوف کو آتا دیکھ رہی تھیں۔ خود خدیجہ کے لیے ذاتی طور پر یہ خوف خاصا ہولناک تھا۔ خالصتاً انسانی خوف کہ شاید محمد صلعم سے پالی جانے والی یہ بہت بڑی توقع ہے یا پھر خدا نخواستہ محمد صلعم اس بھاری بھر کم ذمہ داری کو پورا نہ کر پائے، تو کیا ہو گا؟ اسی طرح اگر وہ خود اور ورقہ اپنی رائے میں درست تھے تو پھر محمد صلعم نے آج دن تک جتنی بھی عزت و اکرام بیحد محنت اورجان جوکھوں میں ڈال کر مشقت کے بعد کمایا تھا ، اس کو بھی شدید خطرات لاحق تھے۔ محمد صلعم ایک بار پھر غیر متعلق ، بیگانے ہو کر رہ جائیں گے۔ شاید، اب کی بار تو ان کی حیثیت ایک اچھوت کی ہو جائے۔ اس بار وہ صرف نظر انداز نہیں کیے جائیں گے بلکہ ان کو زبردست مخالفت، دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا ٹھٹھا اڑے گا اور لوگ آپ صلعم کی تضحیک اور توہین پر اتر آئیں گے۔ عزت اور مقام تار تار ہو رہے گا اور عظمت و منزلت رد کر دی جائے گی۔ وہ قلیل ہی سہی مگر ، عاجزی سے بھر پور سکون جو محمد صلعم نے اتنے سالوں کی محنت اور انتظار کے بعد بالآخر پا لیا تھا، چھن جائے گا اور اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں تھی کہ آیا وہ یہ سکون اور طمانیت پھر سے حاصل کر پائیں گے؟

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر