بے لاگ پر بلاگ

ویسے تو ارادہ یہ تھا کہ 'صلہ عمر' پر جب تک 'اول المسلمین' کے ترجمے کا کام مکمل نہیں ہو جاتا، میں کوئی دوسری تحریر شایع نہیں کروں گا۔ یہ ارادہ تو یہیں دھرے کا دھرا رہا ۔ مگر وہاں ایک دوسرا ارادہ چوپٹ ہو گیا ہے۔ اپنے جی میں پوری طرح ٹھان رکھا تھا کہ اب کی بار، لاہور ضرور جائیں گے۔ جاتے کیوں نہیں، آخر لاہور میں اردو بلاگروں کی منتخب کردہ تحریروں پر مشتمل پہلی کتاب، 'بے لاگ' کی رونمائی ہو نے جا رہی تھی۔ مگر شومئی قسمت کہ شرکت کے تمام ذرائع مسدود ہو گئے ۔ سو، اب یہاں بیٹھے یہ الفاظ رگید رہے ہیں۔
پہلے پہل کا زمانہ ہوتا تو شاید عدم شرکت کی کسک باقی رہ جاتی۔ چونکہ، ہم نئے دور کے باسی ہیں تو بھلے دور رہیں، فرق نہیں پڑتا۔ شرکت ممکن نہ ہو یا کچھ بھی ہو جائے، کسی نہ کسی طور اپنا پیغام پہنچا ہی سکتے ہیں۔ خیالات کا اظہار کر سکتے ہیں اور کل بروز اتوار، 28 فروری 2016ء کو جب سینکڑوں میل دور لاہور کے الحمرا ہال میں یہ تقریب منعقد ہو گی تو کسی نہ کسی صورت شرکت کر ہی لیں گے۔ احوال جان لیں گے۔ مناظر سے محظوظ ہو جائیں گے۔ یہی انٹرنیٹ کی خوبصورتی ہے۔ بلاگنگ کا کمال ہے۔
جیسا کہ میں نے 'پہلے پہل' کی رٹ لگانا شروع کر ہی دیا ہے، یہ بھی بہت پہلے کی بات ہے۔ ان دنوں، مجھے بلاگنگ کرتے کوئی چار سال کا عرصہ بیت چکا تھا۔ بیٹھے بٹھائے بوجوہ خیال آیا کہ اب کچھ سنجیدہ لکھا جائے۔ آپ بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ اس خیال وجہ یہ تھی کہ تب بھی، چاہے جتنی کوشش کر لو، احباب بلاگنگ کو سنجیدہ کام نہیں سمجھتے تھے۔ آج بھی شاید حالات مختلف نہیں ہیں۔ بہر حال، سنجیدگی سے لکھنے کی طرف مائل ہونے کی ایک وجہ خود بلاگنگ بھی رہی ہے کہ لکھنا یہیں سے سیکھ رکھا ہے۔ چھوٹتے ہی، چھوٹی موٹی کہانیاں لکھنے لگے۔ شخصی خاکے اور چند نثری مضامین بھی تحریر کر دیے۔ یہ تحاریر بلاگ پڑھنے والے کئی دوستوں کو پسند آئیں۔ انہوں نے خوب سراہا۔ کچھ ایسے بھی تھے جو کٹر بلاگر تھے۔ چنانچہ، ان کو ناگوار گزریں۔ انہوں نے صرف اس وجہ سے خوب لتے بھی لیے کہ شاید ہم نامی گرامی ادیب بننے کے خواہاں ہیں۔ شرمندہ کرنے کی بھر پور کوشش کی، ہم بہرحال باز نہیں آئے۔ ظاہر ہے، اردو بلاگنگ کے بارے سب ہی جانتے ہیں کہ اس کو جاری رکھنے کے لیے خاصی ڈھٹائی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ سو، اپنی گردان ڈھیٹ بن کر جاری رکھی۔
خیر، جب کچھ کہانیاں جمع ہو گئیں تو ساتھ لیے، ایک دوست کے پاس پہنچے۔ یہ دوست، ادب سے واقف تھے۔ اچھے شاعر بھی ہیں۔ شاعر ہیں مگر سمجھتے ہیں کہ نثر پر بھی عبور حاصل ہے۔ یاد رہے، انہیں صرف عبور حاصل ہے ۔ نثر لکھنا ان کے بس کی بات نہیں۔ خیر، کمپیوٹر پر ایک کہانی پڑھوانی چاہی تو ٹکا انکار کر دیا۔ کہنے لگے،' اسے کاغذ پر چھاپ کر لاؤ تو ہی پڑھوں گا'۔ سو، چار و نا چار کاغذ پر پرنٹ کروا کر لے آیا۔ اب جا کر ان کی تشفی ہوئی تو پوچھنے لگے، 'تم کون ہو؟ 'میں نے کہا، 'اردو بلاگر ہوں'۔ یہ سنتے ہی کہانی کو ایک دفعہ پھر دوسری طرف رکھ دیا۔
میں جل بھن کر رہ گیا۔ توجہ سے پوچھنے لگے، 'یہ اردو بلاگر کیا بلا ہوتی ہے؟' افسوس تو ہوا مگر پھر تفصیل سے انہیں اردو بلاگنگ کا تعارف پیش کر دیا۔ ہنس کر کہنے لگے، 'اچھا، ڈائری لکھتے ہو۔' تو میں نے جان چھڑانے کی غرض سے، تا کہ کہانی کی طرف توجہ کریں، ان کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ اس طرح کہانی کی طرف متوجہ ہو ہی گئے۔ پوری کہانی پڑھ لی تو عینک اتار کر گویا ہوئے، 'جملے کمزور ہیں۔ زبان پر بھی کچھ خاص گرفت نہیں ہے۔ آخر میں پہنچ کر تبلیغ بھی شروع کر دی تھی۔ ہاں، یہ ہے کہ تم نے شروع سے ہی میری توجہ حاصل کر لی۔ پوری تحریر نے جیسے جکڑ لیا اور میں آخر تک پڑھتا ہی چلا گیا۔'
اب کی بار آڑے ہاتھوں لینے کی باری میری تھی۔ عرض گزار کی کہ آخری دو باتیں مجھے تین سال سے کئی لوگ بتاتے آئے ہیں۔ پہلی چند باتیں آپ سے سنیں اور میں یہی سننے آیا تھا۔ آپ بتائیے، جملوں میں جان کیسے آئے گی؟ زبان کو گرفت میں کیسے لوں؟ اور تبلیغ سے چھٹکارا کیسے پاؤں؟ اس پر ان کی آنکھیں روشن ہو گئیں اور حسب توقع انہوں نے جواب میں لمبی چوڑی تبلیغ کر دی جو میرے سر کے اوپر سے گزر گئی۔ چونکہ اچھے دوست تھے تو میں نے پوری توجہ سے پوری بات سنی اور پھر ان سنی کر دی۔ ایک دو کے سوا، ساری تجاویز، تبلیغ رد کر کے اپنی راہ لی۔ قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے کہ اب سمجھ میں آیا، ڈائری لکھنے اور اردو بلاگنگ میں کیا فرق ہوتا ہے۔ تم منہ پھٹ بھی ہوتے ہو۔ سرے سے لحاظ ہی نہیں کرتے۔
بات یہ ہے کہ بذات خود بلاگنگ کوئی کمال نہیں ہے۔ مگر، اردو میں بلاگ لکھنا کبھی واقعی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ گونا گوں مشکلات رہا کرتی تھیں۔ ابھی تک یہ مسئلہ ہے کہ لوگ اردو بلاگنگ کی طرف اس لیے بھی مائل نہیں ہوتے کہ اس میں کوئی مالی فائدہ نہیں ہے۔ بلکہ، اردو میں کچھ بھی لکھوا لو، اس کا کوئی مالی فائدہ نہیں ہے۔ لوگ بہت اچھی کہانیاں بھی لکھتے ہیں تو منتیں کر کے چھپوانی پڑتی ہیں۔ چھپ بھی جائیں تو پبلشر حضرات پیسے ہڑپ کر جاتے ہیں۔ بلکہ، یہ گلہ تو ملک کے نامی گرامی ادیب اور شعراء بھی کرتے ہی ہیں۔ الغرض، اردو لکھنے والوں کو بہت مشکلات ہیں۔ پھر اردو سمجھنے والوں کے مطالعے کا شوق دیکھ جی الگ سے کھٹا ہو جاتا ہے۔ میں نے کئی ایسے لوگ دیکھے ہیں جو اچھے کھاتے پیتے پبلشر ہیں۔ پڑھنے اور لکھنے سے شغف ان کا اوڑھنا بچھونا تو ہے ہی، روزی کا سامان بھی ہے۔ وہ بھی اکثر نو آموز لکھاریوں کی تحاریر چھاپنے سے گریزاں رہتے ہیں۔ اکا دکا ہی شیر دل تھے جنہوں نے اپنے رسالوں میں جگہ دے کر حوصلہ افزائی کی ورنہ باقی تو مرے ہوئے ادیبوں کے سپیشل نمبر نکالنے پر ہی اکتفا کرتے ہیں۔ پھر کچھ جغادری بھی ہیں جو نجانے کیوں نالاں رہتے ہیں؟ کام کے نہ کاج کے، دشمن۔۔۔
اردو بلاگنگ کو منظر عام پر آئے ایک عرصہ بیت گیا ہے۔ لے دے کر، یہ دس بارہ برس کا قصہ تو ضرور ہی ہے۔ یہ مٹھی بھر لوگ جیتے مرتے، اس تحریک کو جاری رکھے ہوئے ہیں جس کی بنیاد میں اردو یونی کوڈ کا پتھر اور اردو زبان کی چاشنی بھری ہوئی ہے۔ اب تو خیر بہت اچھے حالات ہو گئے ہیں۔ کل ہی ایک صاحب کہنے لگے، میں انٹرنیٹ پر اردو دیکھ کر حیران رہ جاتا ہوں۔ اللہ جانے، لوگ کیسے لکھتے ہیں؟ چونکہ میں دن بھر کی تھکن سے چور تھا۔ اس لیے چپ سادھ کر بیٹھا رہا۔ ورنہ، پچھلے کئی سالوں سے ہم سب ہی ہزارہا لوگوں کو مشرف بہ اردو کر چکے ہیں۔ اردو بلاگروں کی یقیناً یہی کہانی ہے۔ مگر کب تک؟ بالآخر آدمی جی چھوڑ جاتا ہے۔ کہانی لکھنے کا خیال بھی یوں آیا تھا کہ صرف ہانکتے رہنے سے جی اٹھ گیا تھا۔ دل چاہتا تھا کہ سب چھوڑ چھاڑ دوں ۔ کچھ جدت باقی نہیں رہی تھی۔ سو، جینے کو سامان، کہانی لکھنے کی صورت کیا۔ ابھی کچھ دن پہلے تک ایک بار پھر وہی حالت تھی۔ وجوہات ذاتی تھیں کہ الفاظ قدر و قیمت کھو بیٹھے تھے۔ قریب تھا کہ لکھنا بھی چھوڑ دیتا مگر پھر خیال آیا کہ نئی جہت کی تلاش میں نکلوں کہ نئے جہان دریافت کرنے کا یہی طریق ہے۔ اسی لیے، کئی دوسری وجوہات کے ساتھ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ 'صلہ عمر' پر آجکل ایک کتاب کا ترجمہ شروع کر رکھا ہے۔ خوب محفل سجی ہوئی ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اردو بلاگروں کی یہ منتخب تحاریر پر مشتمل کتاب، نہایت عمدہ کاوش ہے۔ میں نے آج تک انگریزی یا کسی بھی دوسری زبان کے بلاگز کے مجموعے کو یوں چھپتے ہوئے نہیں دیکھا۔ ہاں، کئی لوگ ہیں جو اپنے تصویری بلاگ کی بنیاد پر نمائش وغیرہ کر چکے ہیں۔ یا پھر کئی کالم نویس اپنے بودے مضامین کے مجموعے چھاپ کر امر ہونے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔ اردو بلاگنگ کی خوبی یہ ہے کہ لوگ اکثر بے لاگ باتیں لکھ جاتے ہیں۔ پھر، اس میں روایتی اردو نویسوں کی طرح طمع اور مرصع بھی خال ہے۔ بس سیدھی سادی باتیں ہیں۔ ان باتوں کو کاغذ پر دیکھ کر عجب دلی خوشی ہوتی ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ لوگ جو ابھی تک کاغذ سے چمٹے ہیں، وہ اس کتاب کو ضرور پڑھیں گے۔ اس میں نئی جہت دیکھ سکیں گے۔ آنکھیں کھول سکیں گے اور نئے لوگوں، ناآشنا زمانوں کے مکینوں سے واقف ہو سکیں گے۔ شاید، وہ اس کتاب کو پڑھ کر مان ہی جائیں کہ زبان ان کی باندی نہیں ہے۔ قصے ان کی میراث نہیں رہے۔
میں سوچ رہا تھا کہ آخر اس کتاب کو چھاپنے والوں کو کیا سوجھی؟ یہ تو آپ کل دن ایک بجے الحمرا پہنچ کر خاور کھوکھر اور رمضان رفیق وغیرہ سے پوچھ ہی سکتے ہیں۔ مگر میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ اصحاب بھی میری ہی طرح نئی جہتوں کی تلاش میں ہیں۔ یہ بھی اردو کے دلدادہ تو ہیں مگر ان کو بھی چین نہیں پڑتا۔ اب جب کہ اردو بلاگنگ کافی سہل ہو چکی ہے۔ ان کو مصروف رہنا ہے۔ شاید، یہ ایک بار پھر کچھ نیا، انوکھا کر کے دکھانا چاہتے ہیں، جیسے کبھی انٹرنیٹ پر اردو کو عام کرنے کے لیے جی جان لگا دی تھی۔ اب چونکہ انٹرنیٹ پر اردو عام ہے اور ہر شخص اس کا پھل کھا رہا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ ان اصحاب کی یہ نئی، انوکھی کاوش بھی رائیگاں نہیں جائے گی۔ اردو، نئی جہت تلاش کر رہے گی۔
-تمت بالخیر۔


-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر