اول المسلمین - جلا وطن - 10



بائیکاٹ کا عام اعلان بھیڑ کی چمڑی پر تحریر کیا گیا تھا۔ اس پر قریش کے دو بڑے کنبوں، مخزوم اور امویہ کے سربراہان بالترتیب ابو جہل اور ابو سفیان کی مہریں ثبت تھیں۔ عوام کے ملاحظہ کے لیے اس اعلان کو کعبہ کے دروازے پر میخ بند کر دیا گیا۔ حکم دیا گیا تھا کہ مکہ میں کوئی شخص بنی ہاشم کے ساتھ لین دین، حتی کہ خوراک کی خرید و فروخت سے بھی گریز کرے گا۔ ان کے لیے تجارتی قافلوں میں شمولیت، بازاروں میں کاروبار، بیوپار اور باہمی شراکت داری پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ اسی طرح، دوسرے کنبوں کے تمام افراد پر لازم قرار دیا گیا تھا کہ وہ بنی ہاشم کے یہاں کسی بھی شخص سے شادی ، بیاہ اور قرابت داری سے مکمل اجتناب برتیں گے۔ یوں، مکہ کے اندر رہتے ہوئے بھی بنی ہاشم جلا وطن ہو کر باقی معاشرے سے کٹ کر رہ جائیں گے۔ ان کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا جائے گا کہ گویا، وجود ہی نہیں رکھتے۔ یہ اپنے ہی گھر میں بیگانے ٹھہرائے جائیں گے۔
اس سخت فیصلے کا مقصد یہ تھا کہ ابو طالب کو محمد صلعم کی حوالگی پر مجبور کر دیا جائے۔ اگر ایسا ہونا ممکن نہ بھی ہوتا تو اس فیصلے کے تحت بنی ہاشم کو معاشی دباؤ اور سماجی پابندیوں سے اس قدر محتاج بنا دیا جائے کہ وہ بالآخر ابو طالب کو کنبے کی سربراہی سے علیحدہ ہونے پر قائل کر لیں اور اپنا نیا سردار چن لیں۔ اس نئے سردار کو ابو طالب کے مقابلے میں دھمکانا آسان ہوتا یا وہ اشرافیہ کا ہم خیال ہونے کی وجہ سے ان کی منشا کے عین مطابق فیصلے کیا کرتا۔ اس بابت توجیہہ جو بھی رہی ہو، یہ طے تھا کہ اس طرح کی اجتماعی سزا کی مکہ میں اس سے پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔
ایک موثر بائیکاٹ وہی ہوتا ہے جو عوام میں مقبول ہو۔ عوام میں مقبولیت کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ اس بابت انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا تے ہوں یا لوگ بائیکاٹ کے اہداف اور مقاصد سے پوری طرح آگاہ ہوں۔ لوگوں نے فوراً ہی بھانپ لیا کہ اس اعلان پر قریش کے صرف دو کنبوں کے سربراہان کے دستخط تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید ابو جہل کی غیر منطقی اور زہریلی مگر نہایت موثر خطابت کے سامنے عام طور پر عاقل اور سمجھدار سمجھے جانے والے ابو سفیان ڈگمگا گئے تھے۔ شاید، یہ جھول عارضی تھا مگر پھر بھی، اس کی وجہ کیا تھی؟ ان کا بڑا ہدف محمد صلعم اور ان کے پیروکار تھے جو ابھی تک صرف ایک اقلیت تھے ۔ یہ مختصر گروہ خود کو 'مومنین' یعنی 'ماننے والے' کہلواتا تھا۔ بنی ہاشم میں بھی ابھی تک صرف چند ہی لوگ تھے جو اس گروہ کے ساتھ شامل ہوئے تھے۔ مکہ کی اکثریت بھلے محمد صلعم کی بابت منقسم ہو مگر بہر حال وہ ابو طالب کے کردار، یعنی بطور بنی ہاشم کے سربراہ کی حیثیت سے اصولی موقف کے ساتھ بھر پور اتفاق رکھتے تھے۔ قریش کے دوسرے کنبوں کی ہی طرح بنی ہاشم بھی تفرید میں وجود نہیں رکھتا تھا۔ ابو جہل چاہے جس قدر بھی خواہش کر لیتا، بنی ہاشم کو یوں یک جنبش قلم علیحدہ کر دینا معروضی حالات میں ممکن نہیں تھا۔ قبیلہ قریش میں کنبے ایک دوسرے کے ساتھ رشتہ داریوں، ازدواج اور عم زاد بندھن میں اس طرح جکڑے ہوئے تھے کہ یقیناً، کسی ایک کنبے کا بائیکاٹ خود بائیکاٹ کرنے والے کنبے کا اپنا بائیکاٹ بن جاتا۔
مکہ بھر میں اس معاملے کو لے کر، ایک یا دوسرے گروہ کے ساتھ وفا داری اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ یہ آخری حد ہو۔ محمد صلعم کے الہامی پیغام کی وجہ سے گھرانوں کے اندر ٹوٹ پھوٹ اور نفاق شروع ہو گیا۔ ایک مثال ملاحظہ ہو۔ ابوبکر کے اسلام قبول کرنے کے بعد، ان کی بیوی اور دو بالغ بچوں نے بھی ان کی پیروی میں ایمان قبول کر لیا مگر ان کا ایک بیٹا بدستور تندی اور شدت سے مخالفت پر تلا ہوا تھا۔ اسی طرح اگر خدیجہ کا سوتیلا بھائی محمد صلعم کے شدید مخالفین میں سے تھا تو اس کے دو بیٹے اس معاملے کو لے کر تذبذب کا شکار تھے۔ ان میں سے ایک تو محمد صلعم کا انتہائی پر جوش حامی تھا مگر وہیں دوسرا بیٹا باپ کے ساتھ کھڑا تھا۔ وہ محمد صلعم کا داماد تھا اور کنبے کے دباؤ میں آ کر اس نے آپ صلعم کی سب سے بڑی صاحبزادی کو فوراً طلاق بھی دے دی۔
یہ تو دوسرے کنبوں کا حال ہے۔ خود بنی ہاشم میں بھی یہی تقسیم جاری تھی۔ ابو طالب کا سوتیلا بھائی، ابو لہب یا 'شعلے کا باپ' جس نے پہلی مجلس میں محمد صلعم کی دعوت پر انتہائی ترش رویہ اختیار کیا تھا، اب آپے سے باہر ہو رہا تھا۔ ابو لہب نے اپنے کنبے کے اندر رہ کر قریش کے اعلان کی پر زور حمایت کی ۔خود اس کی خواہش یہ تھی کہ شاید اس طرح بنی ہاشم ابو طالب کو کنبے کی سربراہی سے علیحدہ کر دیا جائے گا ۔ اس کے نتیجے میں اسے سرداری کا موقع مل جائے گا۔ ابو لہب کی اسی مخالفت اور چال بازی کی وجہ سے قران میں اس کا نام لے کر مذمت کی گئی اور سخت وعید سنائی گئی۔
یہ بائیکاٹ بالآخر مکہ میں قدیم اقدار کی تنزلی اور معاشرے میں جاری ٹوٹ پھوٹ کی واضح تصویر بن جائے گا۔ نہ صرف یہ بلکہ یہی بائیکاٹ محمد صلعم کے الہامی پیغام کی ترویج اور بنیادی نکتے پرتفصیل سے روشنی ڈالنے کے کام بھی آئے گا۔ اب صورتحال یہ تھی کہ وہ جو بائیکاٹ کے حامی تھی، محمد صلعم کو گھرانوں کے اندر تقسیم کا ذمہ دار گردانتے تھے اور دوسرے لوگ جو بائیکاٹ کے مخالف تھے، وہ الٹا بائیکاٹ کا حکم دینے والے سربراہان کے درپے ہو گئے۔ یہ لوگ اب قریش کے سرداروں سے کنی کرنے لگے اور چھپ کر بائیکاٹ کی خلاف ورزی پر اتر آئے۔
بائیکاٹ کے مخالفین رات کی تاریکی میں بنی ہاشم کے گھروں میں خوراک پہنچا آتے ۔ ان میں سے اکثر نے کنبے کی تجارتی قافلوں اور بازاروں میں مفادات کی نمائندگی بھی شروع کر دی۔ لیکن، انتقام کے ڈر سے یہ چوکنا رہتے کہ کسی کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہونے پائے۔ کوئی شخص ابھی تک عوامی سطح پر بائیکاٹ کی مخالفت میں کھڑا نہیں ہو سکا تھا۔
بائیکاٹ کے نتیجے میں بنی ہاشم کے لیے روزمرہ زندگی ایک جدوجہد بن کر رہ گئی۔ انہیں خوراک کے حصول اور معمولی مگر بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے بھی اچھی خاصی مشقت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ اس طرح کٹ جانے سے کنبے کے ہر شخص کی عزت نفس بھی مجروح ہو رہی تھی۔ وہ دن چلے گئے تھے جب گلی کوچوں میں اقربا اور تعلق داروں سے خوشگوار سامنا رہا کرتا تھا، یہ بازاروں میں لین دین اور تول مول کیا کرتے تھے، اورقریش میں بنی ہاشم کا رتبہ اور عزت، کعبہ کے احاطے میں معاشی اور سماجی مسائل پر مباحثے اور رائے کاری۔۔۔ الغرض یہ چھوٹی مگر خاصی اہم باتیں جن کے بل بوتے پر بنی ہاشم کو سماج میں اہمیت کا احساس ہوا کرتا تھا۔ اب ہوا ہو چکی تھیں۔ ہر دن، ہر جگہ اور ہر قدم پر بے عزتی اور تضحیک، بے حرمتی کا احساس کھانے کو دوڑتا۔ ابو طالب چونکہ کنبے کا سربراہ تھے، مکہ کے بزرگوں میں شمار ہوا کرتے تھے، ان کے لیے ذاتی طور پر یہ احساس بڑھ کر تھا۔
ابو طالب کی عمر اب ساٹھ کے پیٹے میں داخل ہو چکی تھی۔ اپنے وقت کے حساب سے وہ عمر رسیدوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ مسلسل دباؤ کی وجہ سے آپ کی صحت بگڑتی جا رہی تھی مگر قریش کے نامناسب رویے کے خلاف مزاحمت کے ارادے جوں کے توں پختہ تھے۔ آپ نے قریش کے ناروا سلوک کو شاعری کی صورت میں کچوکے لگانا شروع کر دیا۔ آپ کے لکھے ہوئے اشعار مکہ کی گلیوں، چوباروں، بازاروں اور عوامی مقامات میں زبان زد و عام ہو گئے۔
مثلاً آپ لکھتے، 'اگر قریش ہونے کا مطلب یہی ہے تو غیرت فضول ہے۔ آخر کون ہو گا جو ان بزدلوں کی پناہ مانگے گا؟' یا پھر یہ اشعار کہ، 'اپنی پناہ کی بجائے مجھے ایک نو عمر اونٹ دو۔ کمزور، لاغر اور بڑبڑاتا ہوا اونٹ دو۔ جس کی کوکھ اس کے پیشاب سے تر ہو، ایسا اونٹ دو۔ جو چل نہ سکتا ہو، ریوڑ سے پیچھے رہ جائے، ویسا اونٹ دو۔ ایسا اونٹ جو صحرا کے ٹیلے چڑھتا ہو تو اس پر نیولے کا گماں ہو۔' اسی طرح وہ بنو امیہ کے سربراہ ابو سفیان، جن کو وہ اپنا دوست اور اتحادی سمجھتے آئے تھے۔ یوں ادھیڑا، 'اس نے پاس سے گزرتے ہوئے مجھ سے منہ پھیر لیا۔ یوں کنی کر لی گویا وہ زمین پر چلتا پھرتا عظیم تر آدمی ہے۔ وہ ہم سے کہتا ہے کہ دوست کی حیثیت سے اسے اس سب پر افسوس ہے۔ مگر اپنے دل میں دیکھو،، وہ ساری کدورت، برے ارادے لیے پھرتا ہے۔'
ابو طالب انہی اشعار کے ذریعے باور کرانے لگے کہ یہ بائیکاٹ مکہ کی تمام تر اقدار اور اخلاقیات کی 'قبیح خلاف ورزی' ہے۔ انہوں نے قبائلیوں سے روایات کی پاسداری کا تقاضا کیا اور انتباہ کرنے لگے کہ، 'اگر آج ہم غرق ہو گئے تو یاد رکھو، کل تمہارا بچنا بھی ممکن نہیں ہو گا'
ابو طالب کی اس لفاظی پر ابو جہل نے بھی جل بھن کر عملی طور پر جواب دینا شروع کر دیا۔ بائیکاٹ کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا اور دوسرے کنبوں کے سربراہان کو مجبور کیا جانے لگا کہ وہ اپنے یہاں بھی وہی شرائط اور ضوابط کو سختی سے لاگو کریں۔ حکم جاری ہوا کہ ہر کنبہ اپنے گھرانوں میں موجود محمد صلعم کے پیروکاروں سے پوچھ گچھ کرے اور انہیں اپنے نظریات سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا جائے۔ اس نئی قباحت پر محمد صلعم کے ماننے والوں میں سے چند افراد کا مختصر گروہ مکہ چھوڑکر چلا گیا۔ اس گروہ نے ایتھوپیا کا رخ کیا اور ارادہ یہ تھا کہ جب تک مکہ میں حالات بہتر نہ ہو جائیں اور بائیکاٹ کے خاتمے کا اعلان نہیں کر دیا جاتا، یہ لوگ وہیں بسر رکھیں گے۔ اس قافلے میں گیارہ مرد اور چار عورتیں شامل تھیں۔ قافلے کی سربراہی محمد صلعم کی سب سے بڑی بیٹی اور ان کے نئے شوہر عثمان کر رہے تھے۔ عثمان، محمد صلعم کے چند انتہائی متمول پیروکاروں میں سے ایک تھے۔ انہوں نے محمد صلعم کی بیٹی کو طلاق ہونے کے فوراً بعد ہی ان سے نکاح کر لیا تھا۔ ایتھوپیا میں نہ صرف اس قافلے کو پناہ مل گئی بلکہ جیسا کہ ابن اسحاق لکھتے ہیں، 'انہیں بادشاہ نجاشی کی طرف سے یہاں رہنے کو کشادہ گھر، تحفظ اور بازاروں میں کاروبار کرنے کی اجازت دی گئی۔'
وقت گزرنے کے ساتھ ایتھوپیائی مہمان نوازی میں اضافہ ہو گیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے، مومنین کا ایک دوسرا مگر مختصر گروہ بھی آن پہنچا۔ نجاشی کی یہی اجازت اور مہمان نوازی تاریخ اسلام کے اوائل دور کی ایک انتہائی مقبول روایت مشہور ہو جائے گی۔ اس روایت میں یہ کہا جائے گا کہ چونکہ مکہ کے منکرین نے مومنین کی زندگی دو بھر کر دی تھی، ایتھوپیا کے عیسائیوں نے ان کی اہمیت اور منزلت کو پہچان لیا اور اپنے یہاں خوش آمدید کہا۔ یہ بعینہ ویسی ہی روایت ہے جو اس سے پہلے تارک الدنیا راہب بحیرہ کی نسبت سے مشہور ہے۔ تب بھی، عیسائی راہب بحیرہ نے اونٹوں کی رکھوالی کرنے والے لڑکے کی قدر و منزلت یوں ہی پہچان لی تھی۔ جیسے تب، ویسے اب مومنین کے اس گروہ کو نجاشی کے دربار میں پذیرائی مل رہی تھی۔ بعض جگہ منقول ہے کہ نجاشی نے مومنین کے اس مختصر گروہ کو ذاتی دستوں کی حفاظت میں دے کر اپنے یہاں خصوصی منزلت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ تحریر ہے کہ بائیکاٹ اور در پیش آنے والے حالات سن کر نجاشی کے آنسو نکل آئے اور اس نے پادریوں کو محمد صلعم کے الہامی پیغامات کی تصدیق کرنے کا حکم دیا۔ علاوہ ازیں، اس نے قریش کے ایک وفد سے سونے اور چاندی کے تحائف لینے سے نہ صرف انکار کر دیا بلکہ ان کے مومنین کی مکہ واپس بھجوانے کے مطالبے کو بھی سختی سے رد کر دیا۔ اس دور کے ایتھوپیا میں ان حالات و واقعات کو ماننے کے لیے ان گنت سوالات کا جواب تلاشنا ہو گا، جو استدلال کی بنیاد پر ممکن نہیں ہے۔ امکان یہی ہے کہ اس وقت کے حالات اور تب ایتھوپیا میں رائج نظام کے تحت مومنین کے گروہ کو بیرونی تجار کی حیثیت سے ملک میں پناہ دی گئی ہو گی۔ اس طرح انہیں یہاں نہ صرف کاروبار کرنے بلکہ عارضی رہائش کی بھی اجازت مل گئی۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بعد اس قسط کے ، نجاشی بہرحال عیسائی ہی رہا۔
جب ابو جہل کو یہ احساس ہوا کہ محمد صلعم کے چیدہ پیروکار اس کے پنجے سے نکل چکے ہیں، انتقام میں جل بھن کر اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ اس نے اب مکہ میں باقی رہ جانے والے محمد صلعم کے پیروکاروں کو دھمکانے اور تشدد کا نشانہ بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ ابو جہل کی ہدایت پر مکہ میں مومنین کو زچ کرنے کی باقاعدہ مہم کا آغاز کیا گیا۔ شہر بھر کے لفنگوں اور بدمعاشوں کو جمع کر کے محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کے پیچھے لگا دیا۔ ابو جہل کی سوچ یہ تھی کہ اگر ان کو پابندی لگا کر قائل نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم، تشدد کے ذریعے ان کے ہوش تو ضرور ہی ٹھکانے لگائے جا سکتے ہیں۔
ابن اسحاق اور ال طبری، دونوں نے ہی تشدد کے کئی واقعات کا حال درج کیا ہے۔ مثال کے طور پر ان میں سے ایک واقعہ مکہ کے باہر ایک وادی میں پیش آیا، جب چند شر پسندوں نے مومنین کے ایک گروہ پر اس وقت حملہ کیا جب وہ عبادت میں مصروف تھے۔ اسی ہلڑ بازی میں ان میں سے ایک کے سر پر اونٹ کے جبڑے کی ہڈی سے وار کیا گیا اور زخمی کر دیا۔ اس کے سر سے خون فوارے کی طرح ابل پڑا۔ یہ منظر اس قدر فصاحت سے بیان کیا گیا ہے کہ بعد ازاں اس پر قبل از اسلام عرب سے منسوب جہالت کے کلیشہ کا گماں ہوتا ہے۔ اگر ہم مان بھی لیں کہ ساتویں صدی عیسوی میں عرب و حجاز جہالت کی تاریکیوں میں ڈوبا ہوا تھا، نویں صدی عیسوی میں بغداد شہر کا کوئی بھی مہذب محقق اس بابت مخمصے کا شکار ہو سکتا ہے کہ اس دور میں یقیناً، اونٹ کے پنجر یوں ہی، خواہ مخوا ہر طرف بکھرے پڑے رہتے ہوں گے؟ یہ اسی طرح ہے کہ جیسے جارجیا او کیف کی بنائی مصوری کے شاہکاروں میں سنسان اور تعریف کی رو سے پسماندہ شمالی نیو میکسیکو کے مناظر میں ہر طرف مینڈھوں اور بیلوں کے ڈھانچے بکھرے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اگر ایسا ممکن بھی تھا تو گماں ہے کہ عملی طور پر اونٹ کے جبڑے کی بجائے ران کی ہڈی بہتر ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے۔
اسی طرح، اونٹ کے جبڑے کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی ایک دوسری روایت بھی مل جاتی ہے۔ اس دفعہ، یہ جبڑا مکہ میں انتہائی غیر حقیقی منظر میں بیان کیا گیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ خدیجہ کا ایک بھتیجا اپنی چادر میں آٹا چھپا کر بنی ہاشم کے گھروں میں لے جا رہا تھا کہ اسے ابو جہل نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا۔ اس پر قریب سے گزرتے ایک شخص نے ابو جہل سے کہا ، 'کیا تم اس لڑکے کو اپنی چچی کے گھر خوراک لے جانے سے روک رہے ہو؟ اسے جانے دو!' جب ابو جہل نے انکار کیا تو لڑکے نے گلی میں، قریب ہی پڑے اونٹ کے ایک جبڑے کو اٹھا یا اور ابو جہل کو اس سے پیٹنا شروع کر دیا۔ جب اس سے اس کی تسلی نہ ہوئی تو اس نے جبڑا چھوڑ، ابو جہل کی لاتوں اور مکوں سے بھی تواضع کر دی۔ اس کہانی میں بعد دور کے مومنین کے لیے دلچسپی اور محظوظ ہونے کا خاصا سامان ہے مگر بہر حال یہ مبینہ واقعہ اس وقت ابو جہل کی حیثیت اور مکہ میں اس کے مرتبے کے حساب سے خاصا مضحکہ خیز معلوم ہوتا ہے۔
گو ماضی کے ان واقعات میں خاصا تضاد ہے مگر ایذا رسانی بہرحال حقیقی تھی۔ ابو جہل نے مومنین کو زبان سے زچ کیا اور ہراساں کرنے کے لیے تکلیف اور تشدد کا سامان پیدا کیا۔ اگر مومنین سے گروہ کی شکل میں سامنا ہوتا تو آوازے کسے جاتے، 'تم نے اپنے باپ دادا کے طریقے کو ترک کر دیا ہے جو تم سے بہتر تھے۔ تم کمزور ہو، ذہنیت پتلی ہے اور تم جیسا بیوقوف کوئی دوسرا نہیں ہے۔ ہم تمہاری آبرو تار تار کر دیں گے۔' اسی طرح، اگر مومنین تاجر ہوتے تو انہیں کاروبار سے علیحدہ کرنے کی دھمکی دی جاتی، 'ہم تمہارے تجارتی سامان ک بیچنے سے انکار کر دیں گے۔ اس کا استعمال ترک کر دیا جائے گا اور منڈیوں میں تمہاری کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ ہم تمہیں بھکاری بنا دیں گے۔' اور اگر یہ لوگ، 'نیچ اور کمی کمین' ہوتے تو جیسے ابن اسحاق لکھتے ہیں،' یہ وہ لوگ تھے جنہیں کسی کنبے کی کفالت اور پناہ حاصل نہیں تھی۔ یعنی غلام اور آزاد کیے ہوئے اشخاص، پھیری لگا کر روزی کمانے والے ہنر کار اور مزدور پیشہ لوگ تھے۔' ابو جہل، ان لوگوں کے ساتھ بات کرنا بھی اپنی توہین سمجھتا اور سیدھا تشدد پر اتر آتا۔ وہ خود اپنے ہاتھوں سے یا اپنی نگرانی میں ان پر تشدد کروایا کرتا تھا۔ اس طرح کا ایک واقعہ اس لڑکے کے ساتھ پیش آیا، جو ایک آزاد کردہ غلام شخص کا بیٹا تھا۔ اس نے از خود ہی محمد صلعم کی پیروکاری میں شامل ہو کر بخوشی محمد صلعم کے بعدپہلےشخص کی حیثیت سے کعبہ کے احاطے میں قرانی آیات کی تلاوت کرنے کی ٹھانی تھی۔ ابھی اس نے تلاوت کا آغاز ہی کیا تھا ۔ یعنی، 'شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔ اس نے قران سکھایا۔۔۔' کہ چاروں اطراف سے اس پر تابڑ توڑ تھپڑوں، گھونسوں اور لاتوں کی بارش شروع ہو گئی۔ اس کو گالیاں دی گئیں اور لوگ حیرت زدہ رہ گئے ۔کہنے لگے، 'یہ غلام اور عورت کا نیچ بچہ کیا کہتا پھرتا ہے؟ اس کی ہمت کیسے ہوئی؟'
غلاموں کو بھوکا اور پیاسا رکھا جاتا اور مزدوروں کو کام سے روک دیا جاتا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں سے اکثر کی ہمت جواب دے گئی۔ ان میں سے ایک شخص نے بعد میں اقرار کیا کہ حالات اس قدر بدتر ہو گئے کہ اگر مکہ کے غنڈے تشدد کے دوران اگر کسی رینگتے ہوئے کیڑے کی طرف بھی اشارہ کرتے تو تشدد کا نشانہ بننے اذیت روکنے کے لیے اسے بھی خدا قرار دے دیتا۔ کئی ایسے بھی تھے جو جسمانی تشدد اور ایذا رسانی کے باوجود بھی اڑے رہے۔ ان میں سے ایک، بلال بھی تھے۔ بلال بلند قامت ایتھوپیائی غلام تھے۔ آپ کا مالک ابو بکر کا چچا زاد بھائی تھا۔ اس نے بلال کو باہر دھوپ میں صحرا کی تپتی ہوئی ریت پر لٹا کر سینے پر ایک بھاری پتھر رکھ دیا ۔ گرمی اور پتھر کے وزن کے باعث بلال کو سانس لینے میں سخت دشواری ہو رہی تھی۔ ان کو بتایا گیا، 'تم یہی رہو گے اور ایسے ہی مر جاؤ گے۔ ہاں، اگر تم محمد صلعم کی پیروی چھوڑ دو اور لات اور عزا کی پوجا کرو تو بچت ہو سکتی ہے۔'
ابو بکر نے اپنے چچا زاد سے بلال کو چھوڑ دینے کی درخواست کی۔ کہا، 'کیا تمہیں خدا کا کوئی خوف نہیں ہے کہ تم اس کے ساتھ اتنا بدتر سلوک کرتے ہو؟ آخر، یہ غیر انسانی رویہ کب تک جاری رہے گا؟'
اس نے جواب دیا، 'یہ تم ہو جس کی وجہ سے اس کے ذہن میں یہ خناس پیدا ہو گیا ہے۔ تم چاہو تو اسے بچا لو!'
بالآخر، جیسا کہ ابن اسحاق نے رقم کیا ہے کہ ان دونوں اشخاص کے بیچ بلال کے عوض 'ایک سخت جان غلام اور منہ مانگی قیمت' کا سودا طے پا گیا۔ ابو بکر نے بلال کو خرید کر آزاد کر دیا ۔ دس سال بعد بلال اسلام کے پہلے موذن کہلائے جائیں گے۔ ان کی بھاری اور رعب دار آواز، ہر نماز سے قبل کوٹھوں کے اوپر سے اذان کی صورت ہر طرف گونجا کرے گی۔
جلد ہی ابو جہل کے لیے خود اپنے کنبے میں بھی اپنی مرضی اور منشا چلانا بھی مشکل ہو گیا۔ مثال کے طور پر یہ واقعہ کہ اس میں جس قدر شدت سے وہ اپنے ہی کنبے مخزوم کے ایک نوجوان کو سبق سکھانا چاہتا تھا، اسی طمع سے اس نے اس لڑکے کے بھائی سے ہاتھ اٹھانے کی اجازت طلب کی۔ لڑکے کے بھائی نے جواب دیا، 'اگر ایسا ہے تو ایسا ہی سہی۔ اس کو سبق سکھاؤ۔ مگر اس کی جان کا خیال رکھنا۔ میں قسم اٹھاتا ہوں کہ اگر تم نے اسے ہلاک کیا تو یاد رکھو میں تمہارے گھر کے آخری فرد تک کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دوں گا۔' یہ دھمکی، ابو جہل کے ارادوں اور شوق پر پانی پھیرنے کے لیے کافی تھی۔
محمد صلعم کو اس دوران تشدد اور جسمانی ایذا سے محفوظ رکھا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ابھی تک ابو طالب کی پناہ میں تھے۔ ان پر کیے گئے اکثر حملے صرف زبانی کلامی ہوا کرتے ۔ اکثر راہ میں گزرتے ہوئے انہیں تضحیک اور گالیوں کا نشانہ بنایا جاتا۔ ایک بار یوں ہوا کہ وہ کعبہ کے احاطے میں سے گزر رہے تھے کہ شرپسندوں کے ایک گروہ نے آپ صلعم کو گھیر لیا اور لباس کے ساتھ کھینچا تانی شروع کر دی۔ ابو بکر نے دیکھا تو دوڑ کر آپ صلعم کو بچانے کے لیے پہنچ گئے اور بجائے، ٹھگوں کے ہاتھ مار کھا لی۔ ابو بکر کی بیٹی عائشہ نے روایت کیا ہے کہ اس روز وہ گھر پہنچے تو 'ان کی داڑھی بکھری ہوئی تھی اور سر میں سے خون بہہ رہا تھا۔'
ان سب خطرات کے پیش نظر محمد صلعم کے پیروکار چھپ کر ملنے لگے۔ ابو جہل کے ایک قریبی رشتہ دار نے اپنا گھر مومنین کے لیے وقف کر دیا۔ یہاں وہ اپنے سب سے بڑے دشمن کی عین ناک کے تلے جمع ہو رہتے اور با جماعت عبادت کیا کرتے۔ محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کو زبردستی اقلیت رہنے پر مجبور کر دیا گیا تھا ۔ مگر جس قدر ان کو دھمکایا جاتا، خوفزدہ کرتے، ان کی آپس میں نسبت اور قرابت اتنی ہی بڑھتی چلی جاتی۔ محمد صلعم کی دیکھا دیکھی انہوں نے بھی تشدد کا جواب عدم تشدد سے دینا شروع کر دیا۔ یہ طریقہ نہایت کارگر ثابت ہوا۔ اس طرح دیکھنے والوں کو نا انصافی صاف نظر آنے لگتی اور وہ مومنین کے اخلاق اور صبر کے گرویدہ ہو جاتے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اصل میں محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کا یہی طریق تھا جس کی بدولت مکہ کے دو مشہور جنگجو بھی اس مختصر اور اقلیت گروہ کا حصہ بننے پر مجبور ہو گئے۔
ان میں سے پہلا شخص محمد صلعم کے چچا حمزہ تھے۔ آپ عبد المطلب کے دس بیٹوں میں سے ایک تھے اور' قریش میں طاقتور ترین مرد اور ناقابل شکست' مشہور تھے۔ کوئی شخص آپ کے مقابل کھڑے ہونے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ مکہ سے باہر کئی روز تک شکار کی غرض سے سفر کرنے کے بعد وہ لوٹ کر آئے تو حسب روایت کعبہ کے احاطے میں طواف کی غرض سے داخل ہوئے۔ آپ کے کندھے پر ابھی تک تیر اور کمان لٹک رہی تھی۔ جب آپ نے طواف کر لیا تو دیکھتے ہیں کہ کعبہ کے احاطے میں ایک طرف ہجوم اکٹھا ہو گیا ہے۔ لوگ اس واقعے کی بابت بات چیت کر رہے تھے جو ابھی تھوڑی دیر پہلے پیش آیا تھا۔ محمد صلعم نہایت اطمینان سے بیٹھے ہوئے تھے اور ابو جہل ان کے سر پر تن کر کھڑا انہیں کوسنے دے رہا تھا۔ ابو جہل کی اس ہرزہ سرائی کے جواب میں آپ صلعم نے ایک لفظ تک ادا نہیں کیا تھا۔
کسی کے اکسانے پر یوں بے مزاحمت رہنا، ہر گز حمزہ کا طریقہ نہیں تھا۔ پھر، اپنے بھتیجے کی یوں تضحیک اور بے حرمتی پر آپ کا خون بھی کھول اٹھا۔ آپ تیزی سے ابو جہل کی طرف بڑھے اور اس کو سامنے سے جا لیا۔ کعبہ کے احاطے میں لوگ دیکھ رہے تھے کہ حمزہ نے جاتے ہی ابو جہل کو کندھے سے پکڑ کر جھنجوڑا اور اپنی کمان کے کونے سے ضرب دے ماری۔ پھر، لوگ تو حیرت زدہ رہے ہی مگر خود حمزہ کو اپنے الفاظ پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ وہ ابو جہل سے کہنے لگے، 'کیا تم اس وقت بھی محمد صلعم کو یوں ستاؤ گے جب میں بھی اس کے پیروکاروں میں شامل ہو جاؤں گا اور وہی کہوں گا جو وہ کہتا ہے؟ اگر ہمت ہے تو مجھ پر وار کرو!'
یہ اب تک محمد صلعم کو حاصل ہونے والی سب سے بڑی حمایت تھی۔ نہ صرف آپ کو طاقت کا سہارا مل گیا تھا بلکہ اس قدر قد آور شخصیت کے قبول اسلام پر الہامی پیغام کو بھی ایک نئی روح مل چکی تھی۔ ایک لمحے کو تو خود ابو جہل بھی سٹپٹا کر رہ گیا۔ مخزوم کے کچھ افراد ابو جہل کی مدد کو آگے بڑھے تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے ہی انہیں روک دیا اور قدرے پشیمانی سے کہنے لگا، 'کوئی حمزہ کو ہاتھ نہیں لگائے گا۔ میں نے ہی اس کے بھتیجے کی بے عزتی کی تھی' ۔ شاید، ابو جہل اس وجہ سے بھی ہکا بکا رہ گیا تھا کہ حمزہ کے اسلام قبول کرنے کا موجب، کوئی دوسرا نہیں بلکہ وہ خود تھا۔
اس سے مختلف مگر بدستور ڈرامائی انداز میں اسلام قبول کرنے کا دوسرا واقعہ ایک جنگجو، عمر کے ساتھ پیش آیا۔ عمر اس قدر بلند قامت تھے کہ ان کا قد دیکھ کر ہی لوگوں میں تھرتھری مچ جاتی۔ رقم ہے کہ، ' وہ اس قدر بلند قامت تھے کہ ہجوم میں دور سے کھڑے نظر آتے۔ ایسا لگتا کہ شاید گھوڑے پر سوار ہیں۔' ابھی آپ کی عمر صرف بیس کی دہائی میں تھی مگر پھرتی اور وار کرنے کی صلاحیت حیران کن تھی۔ پھر، آپ کھجور کی پود شراب کے شوقین بھی تھے، جس کی وجہ سے غصے میں خاصے تیز واقع ہوئے تھے۔ بعد ازاں، آپ تاریخ اسلام میں سب سے مشہور جنگجو اور سپہ سالار مشہور ہو جائیں گے۔ ابو بکر کے بعد دوسرے خلیفہ نامزد کیے جائیں گے۔ مگر ابھی تک آپ کی اسلام دشمنی کا یہ عالم تھا کہ اگر کوئی شخص آپ کے بارے میں یہ گماں رکھتا تو یہ نہایت مضحکہ خیز بات معلوم ہوتی۔ آخر کار، آپ ابو جہل کے بھتیجے تھے۔ آپ کے والد، جن کا نام خطاب تھا۔ یہ وہی شخص ہیں جنہوں نے برسوں پہلے اپنے سوتیلے بھائی زید، جو حنفا میں سے ایک تھے، خدائی اوتاروں کی مخالفت پر شہر سے باہر نکال دیا تھا۔ اس وقت تک، ابو جہل کو اگر واحدانیت کے 'فتنے' سے نبٹنے کے لیے اگر مکہ بھر میں کسی سے پوری طرح امید تھی تو وہ صرف عمر تھے۔ جو اس کا خیال خام ثابت ہوا۔
ابن اسحاق نے اپنی تصانیف میں اس شام کا تذکرہ نہایت مفصل انداز میں کر رکھا ہے۔ عمر ایک محفل میں شراب کے نشے میں دھت ہو کر انتہائی غصے کے عالم میں، مکہ میں جاری اختلافات کی ہوا اور نفاق کی وجہ سے خاصے برہم تھے۔ اچانک ہی، انہوں نے تلوار سونت لی اور اعلان کیا، 'میں محمد صلعم کے پیچھے جا رہا ہوں۔ وہ غدار ہے۔ اس نے قریش کو تقسیم کر دیا ہے۔ ہمارا مذاق اڑاتا ہے اور اس نے ہماری بے عزتی کی ہے۔ میں اسے قتل کر دوں گا۔'
آپ کے ایک دوست نے انہیں متنبہ کیا اور قصاص کا ڈراوا دیتے ہوئے کہا، 'عمر، تم خود کو دھوکہ دے رہے ہو۔ تم کیا سمجھتے ہو کہ بنی ہاشم تمہیں محمد صلعم کو قتل کرنے کے بعد زندہ چھوڑ دیں گے؟ پہلے اپنے گھر کی تو خبر لو۔ ان کو راستے پر لاؤ، بعد میں کسی اور کے بارے میں سوچنا۔۔۔'
'اپنے گھر کی خبر لوں؟' عمر نے حیرت سے پوچھا۔ 'ہاں، کیوں نہیں۔۔۔' دوست نے جواب دیا۔ کیا عمر جانتے نہیں تھے کہ ان کی بہن، بہنوئی اور ان کے بھتیجے سمیت پورے گھرانے نے اسلام قبول کر لیا تھا؟
چونکہ ان کے بہن نے کمال سمجھداری سے اس بات کو راز بنائے رکھا، عمر کو بالکل معلوم نہیں ہوا۔ یہ سن کر آپ کا غصہ آسمان کو چھونے لگا اور تلوار سونت کر بہن کے گھر میں جا گھسے۔ آپ کا ارادہ مار پیٹ اور تشدد کا تھا مگر وہاں پہنچ کر کیا دیکھتے ہیں کہ چند لوگوں کا گروہ فرش پر مودب بیٹھا ہے اور قرانی آیات کی تلاوت کی جا رہی ہے۔ اس گروہ نے عمر کی موجودگی کو یکسر نظر انداز کیے، نہایت تحمل سے تلاوت جاری رکھی۔ اس پر عمر بے کلی کا شکار ہو کر وہیں کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ قرانی آیات کی سریلی اور ملائم آواز شراب کے نشے میں بد حواس عمر کے کانوں تک پہنچی تو وہ بے خود ہو کر بیٹھ گئے۔ نہایت توجہ سے سننے لگے۔ جب آیات کی تلاوت تمام ہوئی تو ایک توقف کے بعد بولے، 'یہ کس قدر نفیس اور عمدہ الفاظ ہیں'۔ فوراً ہی آپ نے انہیں خود کو محمد صلعم کے پاس لے جانے کو کہا تا کہ وہ کلمہ اسلام پڑھ کر باقاعدہ اسلام میں داخل ہو جائیں۔ بعد اس روز کے، عمر نے پھر کبھی شراب کو ہاتھ نہیں لگایا۔
قبول اسلام کی یہ دونوں ہی کہانیاں، 'آنکھیں کھل جانے اور روشنی کی راہ دیکھ لینے' کی مصداق کسی بھی مذاہب کے طالب علم یا روحانیت پسندوں کے لیے انوکھی نہیں ہیں۔ چونکہ، یہ دونوں ہی واقعات اس وقت مکہ میں انتہائی معروف اشخاص یعنی حمزہ اور عمر سے متعلق ہیں تو ان کی اہمیت نہایت بڑھ کر ہے۔ ان شخصیات کے اسلام میں داخل ہونے کے بعد مومنین کا حوصلہ بڑھ گیا اور مکہ میں ان کا جینا نسبتاً آسان ہو گیا۔ وہیں، مکہ کے سربراہان کے یہاں بھی بائیکاٹ اور ہراساں کرنے کی تراکیب بارے شبہات بڑھ گئے۔ ایک بار پھر، ان کے وار الٹا انہیں پر کاری ضربیں لگا رہے تھے۔
چنانچہ، مکہ بھر میں اس بابت حریفانہ رویہ ترک کرنے یا کم از کم مخالفت میں کمی لانے پر زور دیا جانے لگا۔ 'محمد صلعم کو اپنے حال پر چھوڑ دو' ایک بزرگ نے کہا، 'وہ اکیلا آدمی ہے جس کا کوئی بیٹا بھی نہیں ہے۔ جب یہ مر جائے گا تو یہ لوگوں کی یاداشت سے بھی گم ہو جائے گا اور تمہیں اس سے چھٹکارا مل جائے گا۔' کئی دوسرے لوگوں نے ایک بار پھر مصالحت کے لیے بات چیت پر زور دیا۔ مشورے دیے جانے لگے کہ اب کی بار محمد صلعم کو کہا جائے کہ 'ہم اس کی عبادت کریں گے جس کی تم عبادت کرتے ہو مگر تم بھی اسی کی عبادت کرو گے جس کی ہم کرتے ہیں۔ اگر وہ جس کی تم عبادت کرتے ہو، بہتر ہوا تو ہم بھی اس کو قبول کر لیں گے۔ مگر جس کی ہم عبادت کرتے ہیں، اگر وہ بہتر ہو تو پھر تمہیں بھی اسے قبول کرنا پڑے گا'۔ اس کے باوجود، مخالفین میں کئی لوگ ایسے بھی تھے جو قرانی پیغام کی عظمت اور طاقت کے قائل ہو چکے تھے اور ان کے خیال میں یہ مکہ کی اساس کو بدل کر رکھ دے گا۔
چنانچہ، ایک سردار نے کہا، 'اے قریش، تم کچھ بھی کر لو۔ اس صورتحال سے نبٹنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ مذمت اور نہ ہی طاقت کے استعمال سے کچھ فرق پڑے گا۔ جب تک محمد صلعم نے یہ پرچار نہیں کیا تھا، تم سب ہی اس کو پسند کیا کرتے تھے۔ یہ اپنے افعال پر سوچ بچار کرنے کا وقت ہے۔ بخدا، تم پر ایک بڑی آزمائش آن پڑی ہے۔'
دوسری طرف اپنے رشتہ داروں اور ماننے والوں کو یوں تکلیف میں مبتلا دیکھ کر بھی آپ صلعم بے بس تھے۔ پیروکاروں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، کئی جلا وطنی پر مجبور ہو گئے تھے اور بدستور ہر شخص کو دھمکایا جا رہا تھا۔ بہر حال، بحیثیت انسان، اس سب کے دوران بھی محمد صلعم نے ذمہ داری کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ آپ صلعم کا اصل سہارا پیروکاروں کا خلوص اور کبھی نہ پسپا ہونے والا حوصلہ تھا۔ اس کے علاوہ بنی ہاشم نے بھی قبائلی سطح پر وفاداری کا انتہائی ثبوت پیش کیا تھا۔ آپ صلعم اس حقیقت سے بھی اچھی طرح آگاہ تھے کہ ان سب کے ساتھ یہ سلوک صرف اور صرف ان کی وجہ سے کیا جا رہا تھا۔ مگر اس کے باوجود، ہر صورت میں، ابھی تک آپ صلعم کے پیروکار اور کنبے کے لوگ ثابت قدم رہے تھے اور ان میں سے کسی بھی شخص نے اس بابت ان سے گلہ نہیں کیا تھا۔ جو بھی تھا، مومنین کو در پیش تکالیف آپ صلعم کے لیے پریشانی کا باعث تھیں ۔آپ صلعم اس بابت جس قدر اضطراب کا شکار ہوتے، قرانی آیات کے ذریعے حوصلہ بڑھانے کا رجحان بڑھتا چلا جاتا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے الہامی آواز آپ صلعم کو اندر تک جھانک سکتی ہے اور محمد صلعم کے ذہن میں، شعور کے پوشیدہ اور نہاں خانوں میں ان سوالات کے جواب بھی دیے جا رہے تھی جن سے شاید، آپ صلعم واقف بھی نہیں تھے۔
آپ صلعم کو بار ہا یقین دہانی کرائی جاتی رہی اور جس قدر تضحیک اور مخالفت بڑھ رہی تھی، نئی قرانی آیات تسلی اور تشفی دی جانے لگی۔ اس مشکل دور کے دوران نازل ہونے والی تقریباً تمام ہی آیات میں صبر کی تلقین اور تحمل کا دامن تھامے رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ قریب سے جائزہ لیں تو اس دور میں، آپ صلعم کے اس قرانی طریق اور گاندھی کی عدم تشدد تحریک میں کافی مشابہت ہے۔
آپ صلعم کو بار بار کہا جاتا کہ وہ اس آزمائش میں مبتلا ہونے والے پہلے انسان نہیں ہیں۔ مثال کے طور پر کئی آیات میں کہا گیا، ' اے محمد صلعم! تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے۔۔۔' محمد صلعم کی ہی طرح ان پر بھی لوگ شک اور شبہے کا اظہار کیا کرتے تھے۔ انہیں بھی چالباز اور مجنوں قرار دیتے تھے۔ موسی سے لے کر عیسی تک، تمام ہی پیغمبروں نے یہی الہامی پیغام پھیلایا تھا اور اس دوران انہیں بھی اسی طرح بے عزتی اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہیں بھی یوں ہی ہراساں کیا گیا تھا۔
ایک آیت میں کہا گیا، 'ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں، ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے'۔ پھر، کئی جگہوں پر تاکید کی گئی کہ، 'جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں'۔ بار ہا کہا جانے لگا کہ، 'دل چھوٹا مت کرو'، ' رنج نہ کرو ، ' رنجیدہ نہ ہو' اور 'دل تنگ نہ ہو' وغیرہ۔
آپ صلعم کا کردار تو صرف مکہ کے لوگوں کو متنبہ کرنا تھا۔ انہیں ہر گز بچانا نہیں تھا۔ مثال کے طور پر ان آیات میں کہا گیا، 'تم مُردوں کو نہیں سنا سکتے۔ نہ ان بہروں تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہو' محمد صلعم کو بتایا گیا کہ یہ جو ترش رو، گمراہ لوگ ہیں، ' ان کے دلوں پر اثر نہیں ہوتا، یہ آنکھوں سے دیکھ نہیں سکتے اور کان سننے سے بے بہرہ ہیں' ۔ آپ صلعم بھلے جتنا بھی چاہیں، 'اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا نہیں سکتے ۔' یا پھر ایک اور مثال اس طرح دی کہ، 'یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آ رہے ہیں'۔ چنانچہ، محمد صلعم کو انہیں چھوڑ دینا چاہیے، 'تا آنکہ، قیامت کا دن آ پہنچے'۔ وحی میں یہ بھی کہا گیا کہ گو ایسا کرنا مشکل ہے لیکن، 'اپنی روح کو تھکاؤ مت اور ان کے لیے ہر گز رنجور نہ ہو'۔
بسا اوقات تو قرانی آیات کا لہجہ ایک شفیق ماں کی تسلی اور تشفی معلوم ہونے لگتا۔ مثلاً، یہ آیات ملاحظہ ہوں۔ 'اچھا تو اے محمد صلعم، شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو، اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائیں؟'۔ اسی طرح محمد صلعم کو چاہیے کہ وہ چنداں ان کی سرکشی کی پرواہ نہ کریں۔ کیونکہ، 'ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں۔ یا پھر، 'پس تم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افترا بازیاں کرتے رہیں'۔ اور، 'چھوڑو ان لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے۔'
محمد صلعم کو تاکید کی گئی کہ، 'ان کو چھوڑ دو اور انتظار کرو۔' یہی تاکید، آپ صلعم سے پہلے بھی ایک پیغمبر کو کچھ اس طرح کی گئی تھی کہ، 'منہ پھیر دو۔ ان کو نظر انداز کرو۔ تم پر کوئی بوجھ نہیں ہے۔ صبر کرو اور اس کا حکم دو جو سچ ہے۔ بیوقوفوں کی باتوں پر دھیان مت دو۔' ان آیات میں تو نہایت بے صبری سے صبر کرنے کو کہا گیا ہے کہ، 'اے محمد صلعم، صبر سے کام کیے جاؤ اور تمہارا صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ ان لوگوں کی حرکات پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چال بازیوں پر دل تنگ ہو۔'
جہاں قران میں اس لعن طعن اور طنز کو نظر انداز کرنے کی تاکید کی گئی، وہیں یہ یقین بھی دلایا گیا کہ در اصل بے حرمتی اور تضحیک مستقبل میں بھی یوں ہی برقرار اور جاری رہے گی۔ یہ ہمیشہ یوں قائم رہے گی۔ یہی آیات ہیں، جو اسلام کی بنیاد یعنی قران میں، آج جدید دور کے مسلمانوں کو لاحق المیے کی ترجمانی کرتی ہیں۔ آج مسلمانوں کا رویہ کئی لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔ جہاں، مغرب میں طنز و مزاح کو بے ضرر سمجھا جاتا ہے، مغرب کے خیال میں شاید یہ ایذا نہیں بلکہ تفریح کا سامان ہے وہیں اہلیان مکہ کی محمد صلعم کی بے حرمتی اور اسی تضحیک کی وہ چھاپ جو اوائل دور کے مسلمانوں پر ثبت ہو گئی تھی، آج تک کے ماننے والوں کی یاداشت میں پختہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب سلمان رشدی اپنے ناولوں اور ڈینش کارٹونسٹ مزاحیہ اشکال بنا کر طنز و مزاح کا بہانہ بناتے ہیں تو دنیا بھر کے مسلمان غصے سے کھول اٹھتے ہیں۔ حالانکہ، اس بابت قران نے بار ہا تاکید کر رکھی ہے۔ اوپر بیان کردہ دونوں ہی صورتوں میں عقلمندی کا ثبوت یہ ہے کہ اس طرح کی حرکات کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے۔ جبکہ، انسانی سطح پر سوچا جائے تو سچ یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز کر دینا نہایت مشکل ہے اور اس بارے تاریخ بھری پڑی ہے۔
اپنے آپ کو خاندان اور اپنے لوگوں کے بیچ تقسیم کے مرکزی کرادر کی صورتں پانا، یقیناً اس شخص کے لیے نہایت تکلیف دہ ہوتا ہے جس نے اپنی پوری زندگی، بچپن سے ہی اکٹھے اور یکجا ہونے کی کوشش میں گزار رکھی ہو۔ محمد صلعم کے دل میں ہمیشہ سے امن اور آشتی کی خواہش رہی تھی۔ شخصیت کے اسی پہلو کی بدولت آپ صلعم نہایت کامیاب آڑھتی اور ثالث بن پائے تھے۔ یہ آپ صلعم کی طبیعت اور اسی سوچ کا نتیجہ تھا کہ ایک دفعہ کعبہ میں سیاہ پتھر کی تنصیب کا کام نہایت خوش اسلوبی سے طے پا گیا تھا۔ اور اب، چونکہ اس معاملے میں سارا مدعا ان کے سر پر تھا، یقیناً وہ ہمیشہ کی طرح بیچ کا راستہ نکالنے کے اہل تھے۔ کوئی ایسا راستہ، جس کے ذریعے سب لوگ امن سے اکٹھے رہ کر بسر کر سکتے تھے۔
جہاں ابو جہل جیسے لوگ نفرت اور مخالفت کی انتہاؤں کو پہنچ چکے تھے، وہیں محمد صلعم دیکھ سکتے تھے کہ قریش کے زیادہ تر سربراہان، بشمول ابو سفیان، سنجیدگی سے آپ صلعم کے پیغام پر غور و فکر کر رہے تھے۔ اس پیغام نے جہاں مکہ کے سماج کو ہلا کر رکھ دیا تھا وہیں جس چیز کو وہ مقدس سمجھتے آئے تھے، اس کو بھی اس قدر آسانی سے داؤ پر لگا دیا تھا۔ قران میں قریش کو کفار کہا گیا تھا، جس کے لغوی معنی ناشکرے کے بھی نکلتے تھے۔ مراد یہ ہے کہ قریش خدا کی عطا کردہ نعمتوں اور آسائشوں پر نا شکری کر رہے تھے لیکن عام طور پر اسی لفظ کے عمومی معنی منحرف ہونے والے یا بے ایمان ہونے کے بھی ہیں۔ حالانکہ، قریش اپنے طور پر، یعنی 'آباؤ اجداد کے طریق' کو تناظر میں لائیں تو انتہائی وفا دار اور ایمان رکھتے تھے۔ انہوں نے خدا کا انکار نہیں کیا تھا۔ حرم میں، کعبہ اسی خدا کی تو نشانی تھا۔ انہوں نے تو صرف اس حرم کے خادم، رکھوالے کا کردار سنبھال رکھا تھا۔ اسی کفالت کے عوض انہیں اچھا خاصا منافع بھی مل جایا کرتا تھا۔ ان کے ایمان کا تقاضا یہ تھا کہ وہ نہ صرف 'اللہ' پر ایمان قائم رکھیں بلکہ اس کے ساتھ قبائلیوں کے خدائی اوتاروں، مثلاً 'تین بیٹیوں' یعنی عزا، لات اور منات پر بھی یقین کریں۔ جس قدر مشہور ہے، قریش کا ایمان اتنا کمزور نہیں تھا۔ ہاں، اگر وہ گمراہ ہو چکے تھے تو پھر اس صورت میں محمد صلعم کے لیے بیچ کا راستہ نکالنا ممکن تھا۔ وہ اپنی حکمت کو استعمال میں لا کر، انہیں سیدھی راہ دکھا سکتے تھے۔
چنانچہ، محمد صلعم نے ایک بار پھر سے رت جگے شروع کر دیے۔ وہ کئی راتوں تک قیام کی حالت میں کھڑے عبادت اور مراقبے میں مصروف رہنے لگے۔ آپ صلعم کو امید تھی کہ الہامی آواز اس بابت رہنمائی کرے گی۔ ایک ایسی راہ دکھائے گی، جس کو استعمال میں لا کر اس تقسیم اور فساد کی صورتحال کو تھامنا، اس کا حل تلاش کرنا ممکن ہوتا۔ یقیناً کوئی ایسا راستہ ضرور ہو گا جس کے تحت مکہ کی قدیم روایات کو رد کرنے کی بجائے، ان کو شامل حال رکھا جا سکتا تھا۔ اور، ان کے خیال میں، حالات کی نسبت سے ایسا ہونا ضروری بھی تھا۔ ان کو یقین تھا کہ بالآخر الہام کے ذریعے ایک دیرپا اور قابل قبول حل نازل ہو کر رہے گا۔ بالآخر، ایک دن، انسانی سمجھ کے عین مطابق، ایسا ہی ایک حل تجویز کر دیا گیا۔
ابن اسحاق اس کی روداد یوں بیان کرتے ہیں، 'جب محمد صلعم نے دیکھا کہ ان کے اپنے، قریبی لوگ ان سے پیٹھ موڑ رہے ہیں۔ ان کی اس روش کو دیکھ کر وہ دلبرادشتہ ہو گئے۔ انہیں دکھ تھا کہ قریش نے خدائی پیغام کی ذرا بھر لاج نہیں رکھی تھی۔ چنانچہ، اس کیفیت میں انہوں نے خدا سے رجوع کیا۔ انہیں، ایک ایسے حل کی تلاش تھی جس کے ذریعے وہ اپنے لوگوں کے ساتھ مفاہمت کر سکیں۔ انہیں خوشی ہوتی، اگر ان پر رحم کیا جاتا۔ جس طور انہیں اور ان کے آباؤ اجداد کو رد کیا گیا تھا، اس میں نرمی لائی جاتی۔ ان کی یہ خواہش اس قدر بڑھ گئی کہ وہ اسی پر مصر ہو گئے۔ وہ ایک قابل قبول حل چاہتے تھے۔ چنانچہ، خدا نے ان پر سورۃ النجم نازل کی، جس کی ابتداء کچھ یوں ہوتی ہے، 'قسم ہے تارے کی جبکہ وہ غروب ہوا۔ تمہارا رفیق نہ بھٹکا ہے نہ بہکا ہے۔ وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا۔' لیکن جب آپ صلعم ان الفاظ تک پہنچے کہ، 'اب ذرا بتاؤ، تم نے کبھی اس لات اور اس عزی اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟۔۔۔' بعد اس کے، شیطان نے آپ صلعم کی زبان پر یہ الفاظ چڑھا دیے کہ، 'یہ تینوں ہی اونچی اڑان اڑنے والے پرندے ہیں اور ان کی وساطت تو لازم ہے'۔
یہ آخری الفاظ ہی وہ انتہائی مشہور مگر قابل معیوب سمجھی جانے والی 'شیطانی آیات' ہیں۔ ان آیات کی رو سے 'خدا کی بیٹیاں' اب جھوٹے خدا نہیں رہے تھے۔ اب یہ لحیم اور ضحیم پرندے تھے جو اپنے پروں تلے پوری دنیا کو سمیٹ کر رکھتے تھے۔ اب ان کی سفارش اور وساطت ان لوگوں کو میسر تھی جو ان کی پوجا کیا کرتے تھے۔
جوں ہی محمد صلعم نے کعبہ کے احاطے میں یہ نئی آیات تلاوت کیں تو ہر طرف سے انتہائی مثبت رد عمل سامنے آیا۔ 'جب محمد صلعم کو یہ کہتے سنا تو لوگ خوشی سے جھوم اٹھے۔ ان کی حالت شادی مرگ کی سی ہو گئی۔' ابن اسحاق مزید لکھتے ہیں کہ، 'وہ لوگ کہنے لگے کہ، ' محمد صلعم نے ہمارے خدا ؤں، یعنی تین بیٹیوں کا ہر لحاظ سے حیران کن اور قابل اعتبار تذکرہ کیا ہے۔ ہم مانتے ہیں کہ ایک خدا، اللہ ہے جو زندگی اور موت بخشتا ہے۔ جس نے ہمیں پیدا کیا اور جو ہمیں قوت اور نعمتوں سے نوازتا ہے۔ لیکن اگر 'تین بیٹیوں' کی وساطت اور سفارش ابھی بھی مطلق ہے، اور اگر محمد صلعم ان اوتاروں کو ان کا جائز حق یعنی پوجا کی اجازت دیتے ہیں تو ہم یقیناً، اس کے سارے نئے طریقے ماننے پر راضی ہیں۔'
ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اس ایک ہی وار میں سارا مسئلہ حل ہو گیا ہے۔ وہ جو دراڑ آئی تھی، یک دم ہی غائب ہو گئی۔ مگر اس کے باوجود، یہ 'شیطانی آیات' کبھی بھی قران کا حصہ نہیں بن سکیں۔
ابن اسحاق قصے کو آگے بڑھاتے ہیں کہ، 'اسی رات فرشتہ، یعنی جبرائیل محمد صلعم کے پاس آیا اور تنقیدانہ لہجے میں شکایت کی، 'یہ آپ صلعم نے کیا کر دیا؟ آپ نے وہ پڑھا جو میں خدا کی طرف سے نہیں لایا تھا۔ اور آپ نے وہ کہا جو خدا نے قطعاً نہیں کہا ہے'۔ چنانچہ، اسی وقت محمد صلعم پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ وہ مفاہمت کی خواہش کے ہاتھوں زیر ہو گئے ہیں۔ انہوں نے مشکل راستے کی بجائے آسان راہ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ مشکل راستہ، یعنی 'کوئی معبود نہیں مگر اللہ۔۔۔'۔ یقیناً خدا کا کوئی بھی شریک نہیں ہو سکتا۔ کوئی اولاد نہیں، بیٹیاں اور نہ ہی بیٹے ہو سکتے ہیں۔ خدا تو بے نیاز ہے۔ نہ تو اس نے کسی کو جنم دیا ہے اور نہ ہی وہ خود جنا گیا ہے۔ وہ سوچنے لگے۔ واقعی، یہ انہوں نے کیا کر دیا؟
محمد صلعم کی حالت غیر ہو گئی۔ ابن اسحاق کے الفاظ میں، 'وہ انتہائی رنجور ہو گئے اور خدا کے خوف سے کانپنے لگے۔ چنانچہ، خدا نے آپ صلعم کی حالت دیکھ کر فوراً ہی ایک دوسری وحی نازل کی۔ اس پیغام میں انہیں تسلی دی گئی اور آسانی کی بشارت سنائی۔ ان کو سورۃ الحج کی ان آیات میں یقین دہانی کرائی کہ، 'اور اے محمد صلعم، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسول ایسا بھیجا ہے نہ نبی (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ) جب اس نے تمنا کی، شیطان اس کی تمنا میں خلل انداز ہو گیا۔ اس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے۔ اللہ حلیم ہے اور حکیم۔'
یہ یقین دہانی، قران میں شامل ہے۔ اور اس کے ساتھ، ایک دوسری آیت نازل کی گئی جو 'شیطانی آیات' کی جگہ لے گی۔ یہ بعینہ ویسے ہی شروع ہوتی ہیں مگر اس میں ہدایات مختلف ہیں۔ آج، یہ آیات قران کی سورۃ النجم میں ایسے رقم ہیں کہ، 'در اصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔'
یہ اب تک نازل کی جانے والی آیات میں، مکہ میں مانی جانے والی تقدیس کی سب سے سخت الفاظ میں نفی تھی۔ کہا گیا کہ یہ تو صرف نام ہیں اور کچھ نہیں۔ ان کو کوئی اختیار حاصل نہیں تھا، کوئی طاقت نہیں تھی۔ یہ صرف اور صرف تخیل کا شائبہ تھے۔
بعد اس زمانے کے، نسبتاً ماضی قریب میں الہیات سیاست 'شیطانی آیات' کے معاملے کو عجب رنگ دے گی۔ یہ ایک ہی وقت میں مشہور اور مقبول رہے گا مگر دوسری طرف قابل نفرت اور اس کا تذکرہ معیوب سمجھا جائے گا۔ مسلمانوں کے یہاں اس کہانی کو گرچہ محمد صلعم کی شان میں گستاخی نہ سمجھا جاتا ہو مگر بہر حال غیر مستند جان کر رد ضرور ہی کیا جاتا ہے۔ یہ طور بالخصوص انیسویں صدی میں اس وقت زور پکڑ گیا جب ایک مستشرق سکالر ولیم موئر نے اس واقعے کی بنیاد پر یہ نظریہ قائم کر لیا کہ شاید محمد صلعم اپنی تمام تر زندگی شیطان کے زیر اثر رہے۔ اسی نظریے کی وجہ سے مشہور اخبار 'دی ٹائمز آف لندن' نے بھی ولیم کو 'عیسائیت کا پراپگنڈہ' قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری طرف، مسلمانوں کے یہاں علماء اور محققین دفاعی رویہ اختیار کرتے ہوئے اس بابت اس قدر سختی پر اتر آئے کہ سارے معاملے کو ناممکن قرار دینے لگے ۔ جواز یہ پیش کیا گیا کہ در اصل محمد صلعم کو خدائے ذوالجلال نے ہر لحاظ سے کامل اور غلطی کی گنجائش سے پاک پیدا کیا تھا تو کسی بھی بھول، غلطی کی قطعاً گنجائش نہیں ہے۔ حالانکہ، خدا کی جانب سے اس طرح کا، کسی بھی قسم کا کوئی دعوی قران میں کہیں بھی موجود نہیں ہے۔ اس کے بر عکس، قران میں تو انسانی خطا پذیری کو صاف الفاظ میں تسلیم کیا گیا ہے اور یہ صرف محمد صلعم نہیں بلکہ تمام ہی رسولوں اور نبیوں کے بارے کہا گیا کہ کبھی نہ کبھی اور کسی نہ کسی موقع پر شیطان نے 'ان کے منہ میں اپنے الفاظ' ضرور ہی داخل کیے ہیں۔ تاہم کچھ مسلمان سکالر اب بھی ایسے ہیں جو اس واقعہ کی پوری قسط کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ دشمنان اسلام کی سازش تھی جس کا مقصد محمد صلعم اور قران دونوں کی ساکھ کو نقصان پہنچانا تھا۔
حالانکہ، اس سارے معاملے کا غیر جانبداری سے جائزہ لیا جائے تو 'شیطانی آیات' کا واقعہ محمد صلعم کی ساکھ کو بڑھاوا دیتی ہے۔ اس سے ہمیں وحی کے نزول اور الہام کے طریقہ کار، عمل پر روشنی ڈالنے کا موقع ملتا ہے۔ ہمیں یہ سمجھ آتی ہے کہ یہ 'پہلی نظر میں محبت' جیسا نہیں بلکہ انسان اور مقدس ذات ربانی کے بیچ مسلسل اور جان توڑ تعلق اور سخت محنت کے نتیجے میں قائم ہونے والے رشتے کی طرح ہے۔ یہ ہر وقت جاری رہنے والی بحث اور مکالمے کی طرح ہے جس میں دونوں فریقین کو اپنی منشاء، بات کہنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ یہ افسانوی عشق نہیں ہے کہ جس میں محبوب کو اپنی مرضی تھونپنے کی کھلی اجازت جائز سمجھی جاتی ہے۔ ہم یہاں محمد صلعم کے دل میں مفاہمت کی گہری اور خالصتاً انسانی خواہش کی شدت واضح دیکھ سکتے ہیں۔ اس خواہش کی وجہ سے ان کے اندر جمع ہو جانے والے درد کو محسوس کر سکتے ہیں۔ آپ صلعم یہاں ایک ایسے دل سوز مجروح کی مانند نظر آتے ہیں جو انسانی فطرت اور عادت کے عین مطابق بے نیاز خدائی مرضی میں اپنی گہری اور شدید خواہش کو پورا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس واقعے میں آپ صلعم ایک خالص انسان بن کر ابھرتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک کمزور لمحے میں یہ انسان لرز گیا ہے اور بالآخر اپنے اندر اس نے وہ سنا، جو وہ سننا چاہتا تھا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ انسان خطا کا پتلا ہے۔ اور اسی انسانی خصلت کی وجہ سے یہ واقعہ قابل اعتبار بن جاتا ہے۔ یہی نہیں، بلکہ محمد صلعم تو بحیثیت انسان اس وقت بھی شدید رنج اور غم میں مبتلا ہو گئے جب 'شیطانی آیات' نے حسب توقع قریش کو یک دم خوشی سے سرشار کر دیا۔ انہوں نے تو فوراً ہی محمد صلعم کو بانہیں کھول کر مڑ جانے پر گلے لگا لیا اور انہوں نے اس مبینہ الہامی پیغام کو قبول کرنے میں ذرہ بھر تامل سے کام نہیں لیا۔ اپنے دل میں آپ صلعم اسی وقت جان چکے تھے کہ انہوں نے اپنی خواہش کے زیر اثر خود اپنے ہاتھوں سے الہامی پیغام میں کھوٹ لگا دی ہے۔ ایک انسان سے یہی توقع کی جا سکتی ہے، یہی اس کی تعریف ہے۔ قران اب تک کئی بار محمد صلعم کو حکم دیتا آیا تھا کہ وہ کہا کریں، بلکہ بار بار کہا کریں کہ وہ 'صرف ایک انسان ہیں'۔ یعنی 'تم جیسا ایک انسان' اور 'تم ہی میں سے ایک'۔ اور ویسے بھی، بے عیبی، کاملیت اور ہر طرح سے بے نیاز ہو نے کی روادار تو صرف اور صرف اللہ کی ذات ہے۔ محمد صلعم سے اس بابت کچھ بھی گلہ ہر لحاظ سے بے جا ہے۔
یقیناً محمد صلعم کو عوامی سطح پر غلطی تسلیم کرنے کے لیے بے انتہا جرات درکار رہی ہو گی۔ بالخصوص، اس صورتحال میں تو بڑھ کر ہمت چاہیے تھی، جب یہ آپ صلعم کی کردار کشی اور مخالفت کا ہتھیار بن جائے گا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مکہ کے لوگ ایک ایسے شخص کو کسی قابل نہیں سمجھتے تھے جو سر عام اپنی غلطیاں تسلیم کرتا پھرتا ہو۔ ان کی مثال آج کے دور میں امریکیوں جیسی ہے جو اپنی درستگی کو قابل شرم بات سمجھتے ہیں۔ جیسے تب، آج بھی سہو یا بھول چوک کے بعد درستگی کو طاقت کی بجائے کمزوری سمجھا جاتا ہے۔ کیتھرین سکالز ایک صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک کتاب میں لکھتی ہیں، 'بھول چوک کا معاملہ سمجھنے میں ہم ایک تخلیقی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ ہم اس کے بارے غلط ہوتے ہیں جو غلط سمجھا جاتا ہے۔ یہ کسی بھی طور شعوری یا عقلی کمتری سے کہیں پرے ہے۔ بلکہ، غلطی تسلیم کرنا تو انسانی دانش کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ بھول چوک، کسی بھی طور اخلاقی برائی نہیں ہے۔ اس کو تو کئی بہترین بشری صفات کا منبع قرار دیا جا سکتا ہے۔ بلکہ، اسی کی بدولت ہم انسانی شخصیت میں پائی جانے والی کئی پیچیدہ مگر مثبت خصوصیات جیسے ہمدردی، حساسیت، رجائیت، تخیل، ایقان، اعتماد اور جرات کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔'
بہرحال، قریش کے یہاں اس معاملے کو توقع کے عین مطابق کیتھرین کی سوچ سے خاصے مختلف انداز میں دیکھا گیا۔ صرف ایک دن پہلے ہی کی بات ہے، یہ جس قدر محمد صلعم کی خوشامد اور چاپلوسی پر اتر آئے تھے ۔ اب اس سے کہیں بڑھ کر متفکر اور متاسف ہو گئے تھے۔ وجہ یہ تھی کہ محمد صلعم اپنے پہلے مدعا سے پھر گئے تھے۔ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں ایک شخص کی زبان اور ہاتھ ملا کر کیا گیا وعدہ کسی بھی تحریری معاہدے سے برتر جانا جاتا ہو، یہ نہایت عجیب بات تھی۔ ایک طرف جہاں محمد صلعم یہ سمجھتے تھے کہ ان کے حواس اور نفس نے انہیں دھوکے دے دیا تھا، وہیں دوسری جانب مکہ کی اشرافیہ کا خیال تھا کہ ان کے ساتھ فراڈ کیا گیا ہے۔ یہ ناقابل معافی جرم تھا۔ اپنی خطا تسلیم کر کے محمد صلعم نے اپنے ہاتھوں سے مخالفین کے ہاتھ میں وہ ہتھیار تھما دیا تھا جس کے حصول کے لیے وہ اب تک تمام ہی حدود پھلانگتے آئے تھے۔ محمد صلعم تو اتحاد اور یگانگت کی بے انتہا خواہش رکھتے تھے۔ ان کے لیے حالات ابتر ہوتے چلے گئے۔ اب ان کے مخالفین مڑ کر وار کر سکتے تھے۔ وہ آپ صلعم کو جھوٹا قرار دے رہے تھے۔ کہنے لگے، 'یہ جو بھی کہتا ہے وہ جھوٹ کے پلند ے کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ خود سے گھڑی ہوئی باتیں ہیں۔' محمد صلعم نے تقسیم کا حل تلاش کرنا چاہا تھا مگر اب یہ صورتحال تھی کہ نفاق اور بھی گہرا ہوتا چلا گیا۔
گو بنیاد پرست مسلمان اس سے اختلاف کرتے آئے ہیں اور یقیناً اب بھی یہ ماننے سے گریزاں رہیں گے۔ مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ معاملہ پیش آنا ،بہرحال انتہائی ضروری تھا۔ اس کے تحت یہ طے ہو گیا کہ چاہے ہر لحاظ سے معاملات جتنے بھی تکلیف دہ ہو جائیں، محمد صلعم کے لیے خود پر یقین قائم رکھنا، اپنے اور الہامی الفاظ پر ایمان برقرار رکھنا انتہائی اہم ہو چکا تھا۔ یہی بات قران نے بھی کھول کر محمد صلعم کو سمجھانے کی کوشش کی۔ سورۃ الکافرون کی آیات میں مخاطب کر کے کچھ یوں کہا، '(محمد صلعم) کہہ دو کہ اے کافرو! میں ان کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ اور نہ میں ان کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے۔ اور نہ تم اس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ تمہارے لیے تمہارا دین ہے اور میرے لیے میرا دین'
'شیطانی آیات' نے یہ معاملہ ہمیشہ کے لیے طے کروا دیا۔ بعد اس کے گویا، مفاہمت کی تمام کشتیاں جلا دی گئیں۔ اب آگے بڑھنا اٹل ہو گیا۔ یہاں سے واپسی کا راستہ، کوئی امکان باقی نہیں رہا تھا۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر