اول المسلمین - جلا وطن - 11



ابھی رسمی طور پر بائیکاٹ کی تنسیخ ہونا باقی تھی مگر بھیڑ کی چمڑی، جس پر بائیکاٹ کا اعلان تحریر کیا گیا تھا، اس کے چیتھڑے ہو چکے تھے۔ کعبہ کی دیوار پر میخ بند اقرار نامے پر لکھی تحریردھوپ ، دھول اور دھوئیں سے مدھم ہو کر بمشکل پڑھی جا سکتی تھی۔ قریش کو زمینی حقیقت تسلیم کرنے میں دو سال کا عرصہ لگ گیا۔ جب تک یہ ہو رہتا، اعلان کے پھٹتے ہوئے چرمی کاغذ پر مقامی دستور کے مطابق، کتابت کے ابتدائی الفاظ، یعنی 'شروع خدا کے نام پر۔۔۔' ہی باقی بچے تھے۔ لیکن قبل اس کے محمد صلعم، پیروکار اور بنی ہاشم معمولات کی طرف لوٹ کر آتے، آپ صلعم کی ذاتی زندگی میں ایک المناک سانحہ پیش آ گیا۔ خدیجہ انتقال کر گئیں۔
خدیجہ کی موت اچانک واقع ہوئی تھی۔ انہیں کوئی دائمی مرض لاحق نہیں تھا۔ گماں ہے کہ دل کا اچانک اور شدید دورہ جان لیوا ثابت ہوا۔ بائیکاٹ کے دنوں میں درپیش مشکلات اور شدید دباؤ کے باعث جانبر نہیں ہو سکیں۔ یا شاید یہ سادہ حقیقت بھی صاف ہے کہ اب ان کی عمر ساٹھ کی دہائی میں داخل ہو چکی تھی۔ ساتویں صدی عیسوی میں  یہ اچھی خاصی طویل اور رسیدہ عمر سمجھی جاتی تھی۔ یہ بھی ممکن ہے کہ عمر کی زیادتی اور بائیکاٹ کے بعد اعصابی اور نفسیاتی دباؤ، دنوں ہی کے نتیجے میں بالآخر دل جواب دے گیا۔ لیکن، جانبر نہ ہو سکنے والا یہ کوئی عام نہیں بلکہ محبت سے لبریز دل تھا۔
پچھلے چوبیس برس سے محمد صلعم کے لیے خدیجہ کی مثال ایک قطب ستارے کی سی تھی۔ وہ آپ صلعم کے لیے پناہ گاہ تھیں۔ چٹان بن کر ساتھ کھڑی رہیں۔ محرم راز اور ہمدم تھیں۔ وہ محمد صلعم کے لیے دم ساز اور وجہ تسکین، جینے کی سبیل تھیں۔ شروع دن سے ہی خدیجہ نے محمد صلعم میں وہ جوہر دیکھ لیے تھے جو کسی دوسرے کی نظر میں آنا ممکن نہیں تھا۔ انہوں نے یہ شادی رواج کے برعکس ریت توڑ کر کی تھی۔ محمد صلعم کو سماجی عدم تحفظ اور کم حیثیتی سے نکال کر عزت اور رتبہ عطا کیا تھا۔ آپ دونوں کے یہاں چار بیٹیوں اور دو بیٹوں کی پرورش ہوئی۔ بیٹوں میں سے ایک کو انہوں نے باقاعدہ گود لیا تھا جبکہ دوسرا بھی لے پالک ہی تھا۔ مگر خدیجہ کے یہاں ان دونوں کی ہی پرورش اور کفالت گویا حقیقی بیٹوں کی طرح کی گئی۔ جس رات حرا کی پہاڑی پر پہلی وحی نازل ہوئی، آپ صلعم کو ہیبت اور خوف کی حالت میں آرام اور سکون کی غرض سے دنیا بھر میں خدیجہ کے سوا کوئی دوسرا شخص یاد نہیں آیا۔ یہ خدیجہ ہی تھیں جنہوں نے اس رات محمد صلعم کو سنبھالا تھا۔ اپنے نرم الفاظ سے دلجوئی کی تھی اور آخر میں یقین دہانی کرائی تھی۔ محمد صلعم اور خدیجہ نے ایک ساتھ ثابت قدمی کے ساتھ بائیکاٹ اور تحریک کو درپیش سختی اور مشکلات برداشت کی تھیں۔ ہر طرح کی تحقیر، نندا اور تضحیک کو برداشت کیا تھا۔ الغرض ان دونوں کا ہر طرح سے نباہ رہا۔ یہ رشتہ جس طرح پہلے روز، آخر تک قائم رہا بلکہ وقت کے ساتھ گہرا ہوتا چلا گیا۔ اور اب، جب طویل مشقت اور سختی کے بعد امن اور آشتی کی ایک موہوم سی کرن پیدا ہوئی تھی۔ خدیجہ سب کچھ چھوڑ کر عدم سدھار گئیں اور اپنے پیچھے محمد صلعم کو بے وسیلہ، اندر سے خالی  چھوڑ دیا۔
خدیجہ کے بعد آپ صلعم  چاہے جتنی بار شادی کر لیں، انہیں خدیجہ کی سی محبت دوبارہ نصیب نہیں ہو گی۔ بلکہ، یہ محبت ہمیشہ قائم رہے گی۔ یہاں تک کہ کئی سال بعد خدیجہ کے علاوہ دس بیویوں میں سب سے کم عمر اور بے لاگ بیوی عائشہ  کے اپنے الفاظ کچھ یوں روایت کیے جائیں گے کہ، 'مجھے محمد صلعم کی سب بیویوں میں، خدیجہ کے سوا کبھی کسی سے حسد محسوس نہیں ہوا۔ حالانکہ، میں خدیجہ کی وفات کے بعد آئی تھی۔' حالانکہ، عائشہ کے متعلق یہ بات درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ تھی کہ محمد صلعم کی بیویوں میں سے اگر کسی ایک کی بھی خوبی بیان کی جاتی تو عائشہ دانت پیسنے لگتیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ خدیجہ کا نام سنتے ہی، وہ بالخصوص حسد میں مبتلا ہو جایا کرتی تھیں۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ خدیجہ اس معاملے میں ناقابل شکست تھیں۔ مطلب یہ کہ جب عائشہ نا سمجھی میں خدیجہ سے حسد کا اظہار کرتیں تو آپ صلعم کھلے الفاظ میں انہیں اس بات پر ٹوک دیا کرتے تھے اور ساتھ خدیجہ کے بارے اپنے جذبات کا بر ملا اظہار بھی کر گزرتے۔
روایت ہے کہ عائشہ محمد صلعم کو چھیڑنے کی غرض سے پوچھتیں۔ آخر کیونکر ممکن ہے کہ آپ صلعم 'پوپلے منہ والی بوڑھی عورت' کی یاد سے اب تک اس قدر جڑے ہیں جبکہ 'خدا نے انہیں اس سے بہتر سے نواز رکھا ہے'؟ اس طرح کی بے روک، طرار زبان یقیناً نو جوان عائشہ کی ہی ہے۔ ان کے سوا محمد صلعم سے اس لہجے میں بات کرنے کی کسی میں جرات نہیں تھی۔ یہ ایسا سوال ہے جو ایک نوجوان اور الہڑ لڑکی ہی پوچھ سکتی ہے اور کئی سال بعد، جب وہ خود پختہ عمر اور  بالغ نظر عورت ہو ں گی۔ اس لہجے، الفاظ اور سوال کے طریق پر پشیمان بھی رہا کریں گی۔ حسد میں بجھے الفاظ جو پوچھنے پر، جواب میں ایک نوجوان کو بے پرواہی اور التفات دلائیں جبکہ یہی حاسدانہ طرز کسی بوڑھے اور مر رہے کے لیے اس کی زندہ دلی اور گہری نسبت کو بھی ظاہر کرتے ہیں۔ حالانکہ، اگر عائشہ اس وقت ذرا برابر سوچ لیتیں تو انہیں عمر اور طبیعت کے حساب سے یقیناً خدیجہ پر فوقیت حاصل ہو سکتی تھی مگر محمد صلعم کا جواب، ان کی اس زبان اور خدیجہ بارے یوں بے ادبی کو روک لگانے کے لیے کافی تھا۔
محمد صلعم ٹوک کر کہا کرتے، 'بالکل نہیں۔ اللہ نے یقیناً خدیجہ کو کسی بھی طرح سے بہتر سے نہیں بدلا!'۔ وہ شخص جس نے خدیجہ کے بعد کئی بار نکاح کیا، اب مزید کسی بیوی سے اولاد نہیں پائیں گے۔ اس بابت کہا کریں گے، 'اللہ نے مجھے خدیجہ کے بطن سے بچوں سے نوازا ہے مگر دوسری عورتوں کے یہاں اولاد کو روک لگا دی ہے۔'
جب خدیجہ کو دفن کر دیا گیا تو آپ صلعم غم سے نڈھال تھے۔ وہ اب دوبارہ شادی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اس تمام عرصے کے دوران ساتھ دینے کے لیے نوجوان چچا زاد علی، قریبی ساتھی ابوبکر، عمر، عثمان اور دو چچا یعنی آتش مزاج حمزہ اور غیرت مند ابو طالب کی ہمراہی میسر تھی۔ ان میں سے ابو طالب بدستور وفا داری کی شاندار مثال بنے کھڑے تھے۔ انہوں نے ابھی تک کنبے اور قبیلے کی روایت کے عین مطابق آپ صلعم کو تحفظ فراہم کر رکھا تھا۔ بہرحال، یہ ان کے لیے آسان نہیں تھا ۔ اس دباؤ اور فرض شناسی کی قیمت انہیں اپنی صحت کی شکل میں ادا کرنی پڑی۔ ابھی آپ صلعم خدیجہ کے صدمے سے باہر نہیں نکلے تھے کہ وہاں ابو طالب بھی بیمار پڑ گئے۔ وہ اس بیماری سے پھر کبھی جانبر نہیں ہو سکے۔
ابو طالب کی بیماری روز بروز بڑھتی جا رہی تھی۔ ہر نئے دن کے ساتھ بگڑتی ہوئی صحت سے واضح ہوتا جا رہا تھا کہ اب ان کا وقت آخر قریب ہے۔ اس حالت کے پیش نظر دوسرے کنبوں کے سربراہان نے عیادت اور خبر کی غرض سے حاضری دی۔ وہ اس موقع پر بھی ابو طالب سے ایک آخری بار اپنے بھتیجے سے بات کرنے، اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے اور معاملات کو نبٹانے پر اصرار کرنے لگے۔ ان میں تقریباً ہر شخص ابھی تک کسی بیچ کے راستے، باہمی حل کو تلاش کرنے پر زور دے رہا تھا۔ یہاں تک کہ خود ابو جہل کا رویہ وقتی طور پر نرم ہو گیا تھا۔ شاید اس کی وجہ بائیکاٹ میں ملنے والی شدید ناکامی تھی یا پھر یہ ابو طالب کی بگڑتی ہوئی حالت کا اثر تھا۔ جو بھی تھا، اس نے خود بات کرنے کی بجائے ابو سفیان کو آگے کر دیا۔
امویہ کے سردار ابوسفیان نے کہا، 'اے ابو طالب! آپ جانتے ہیں کہ ہم آپ کی غیرت اور حمیت کی دل سے قدر کرتے ہیں۔ اب جب کہ وقت آخر ہے۔ ہم سب ہی اس بابت خاصے پریشان ہیں کہ آپ کے بعد کیا ہو گا؟ کیوں نہ ہم آپ کے بھتیجے کو بھی یہاں بلا لائیں اور مل بیٹھ کر اس قضیے کا حل تلاش کریں؟ ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دے اور ہم اسے، اس کے حال پر چھوڑ دیں گے۔ وہ اپنا دین اپنائے اور ہمیں ، ہمارا مذہب ماننے دے۔' عین ممکن ہے کہ ابو سفیان نے سوچ سمجھ کر تقریباً انہی الفاظ کا چناؤ کیا تھا جو محمد صلعم نے 'شیطانی آیات' کے معاملے کی قسط کے آخر میں غلطی تسلیم کر لینے کے بعد الہامی آواز کی صورت ادا کیے تھے۔ اٹل فیصلہ سنایا تھا۔ مگر، ظاہر ہے کہ جو چیز شاید اس وقت اثر انداز ہو سکتی تھی، اب مفاہمت کے لیے کافی نہیں تھی۔ محمد اپنا فیصلہ کر چکے تھے۔
لیکن، محمد صلعم کو اس محفل میں بلا لیا گیا۔ وہ بھی ابو طالب کے بلانے پر آ گئے۔ ان کے قریب آن کر کھڑے ہو گئے تو ابو طالب نے کہا، 'بھتیجے، یہ نامی گرامی اور عزت دار لوگ تمہارے پاس آئے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ کچھ تمہیں دیں اور کچھ تم سے لے لیں۔' گو ابو طالب کی حالت غیر تھی مگر اس صورتحال میں بھی انہوں نے الفاظ کے چناؤ میں پوری احتیاط سے کام لیا۔ گو، ان کا لہجہ غیر جانبدار تھا مگر بین السطور، واضح کر دیا کہ اس قضیے کے حل کی صورت میں محمد صلعم کو قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ یعنی، اگر آپ صلعم ابو سفیان کی تجویز کو قبول کریں گے تو ان کی عزت اور منزلت باقی نہیں رہے گی۔ یہ خاصی بھاری قیمت تھی۔ دوسری طرف، خود محمد صلعم کا حال یہ تھا کہ 'شیطانی آیات' کے معاملے میں جس طرح کا رد عمل سامنے آیا تھا اور الہامی آواز نے موقع فراہم کیا تھا، بعد اس کے انہیں اس طرح کی تجاویز بارے سوچنے کی ہر گز ضرورت نہیں تھی۔ وہ یوں ہی مضبوطی سے کھڑے رہے اور قریش کے سربراہان پر زور دیا کہ وہ ایک خدا اور صرف ایک خدا پر ایمان لے آئیں۔ اس ایک خدا کے سوا تمام اوتاروں اور خدائی نشانیوں کی پوجا کو ترک کر دیں۔ جس طرح حتمی انداز میں محمد صلعم نے جواب دیا تھا، کمرے میں موجود مکہ کے سردار مزید الجھن کا شکار ہو گئے ۔ وہ سر جھٹکتے اور ہاتھ نچاتےایک دوسرے کے پیچھے کمرے سے باہر نکل گئے۔ اب وہاں صرف محمد صلعم اور ابو طالب ہی تھے۔
اس وقت ابو طالب نے محمد صلعم کے ساتھ جو بھی بات چیت کی، اس کے بارے رائے منقسم ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ انہوں نے سر گوشی میں کہا، ' بھتیجے، تم ان کے ساتھ ان معاملات کو اتنی دور کیوں لے گئے؟'۔ جبکہ ایک دوسری روایت میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے محمد صلعم کو تسلی دیتے ہوئے کہا، 'بھتیجے، میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم نے ان سے کوئی اتنا عجیب اور انوکھا مطالبہ نہیں کیا۔' یہ دوسری روایت ہے جس کے بل بوتے پر آج بھی مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شخص جس نے اپنی تمام عمر کنبے اور قبیلے کی غیرت مندی اور فرض شناسی سے کفالت اور حفاظت کی، محمد صلعم کو پورا تحفظ فراہم کیا، بالآخر ایک مومن کی صورت موت بھی پائی۔ مگر، آگے چل کر دونوں ہی روایات میں یہ بھی درج ہے کہ محمد صلعم نے اپنے چچا کے اکھڑتے ہوئے دم کے بیچ، نزع کی حالت میں ان کا ہاتھ تھام لیا اور کلمہ شہادت ادا کرنے کی درخواست کی۔ نہایت لجاجت سے اسلام قبول کرنے اور ایک خدا کی معبودیت تسلیم کرنے پر اصرار کیا۔ کہنے لگے، 'کہہ دیجیے۔ صرف ایک بار کہہ دیجیے۔ میں خود قیامت کے دن آپ کی گواہی دوں گا۔ کہہ دیجیے۔'
لیکن ابو طالب آخر تک مکہ کی روایت سے جڑے رہے۔ انہوں نے جواب دیا، 'میں نہیں چاہتا کہ یہ میرے لیے شرم کا باعث بن جائے۔ وہ کہتے پھریں کہ موت کے ڈر سے میں نے ایسا کہہ دیا۔ میں تمہاری خوشی کے لیے یہ کہہ بھی دوں گا۔ مگر اے بھتیجے، مجھے آخر تک اپنے باپ دادا کی روایت اور غیرت سے جڑا رہنا ہو گا۔ یہ میرے لیے لازم ہے۔'
یوں، دیکھتے ہی دیکھتے، چند ہفتوں کے اندر پہلے خدیجہ اور اب ابو طالب بھی جا چکے تھے۔ محمد صلعم کی زندگی کا محور اور پھر تحفظ کا سایہ ، ہوا ہو چکا تھا۔ ایک محبت کا ستون اور دوسرا غیرت کی سیسہ پلائی ہوئی دیوار، یہ دونوں ہی اب باقی نہیں رہے۔ آپ صلعم کی دنیا لٹ چکی تھی۔
موت کی گونج دماغ میں سنائی دیا کرتی ہے۔ وہ جو اس کا غم مناتے ہیں ان کے لیے موت صرف ایک واقعہ نہیں ہوتا۔ ہر نئی موت پرانی، سب ہی یادوں کو تازہ کر دیتی ہے۔ موت سوکھے ہوئے دکھوں کو ہرا کر دیتی ہے۔ ہوش بدوش ہو جاتے ہیں۔ دل و دماغ میں ایک بار پھر درد بھر جاتا ہے۔ زندگی کے کسی بھی دور میں گزر چکنے والا چھوٹا یا بڑا، قریبی یا دور، ہر پیارا یادوں کی صورت آنکھوں کے سامنے آن کھڑا ہوتا ہے۔ ایسے میں، متروک ہو جانے کا اس قدر شدید احساس جنم لیتا ہے کہ جس سے نبٹنا اعصابی و جسمانی طور پر مضبوط سے مضبوط ترین آدمی کے لیے بھی انتہائی مشکل ہو جاتا ہے۔ اور یہاں، جب ایک نہیں بلکہ آگے پیچھے دو پیارے موت کے منہ میں چلے گئے ہوں۔ ان میں سے ایک زندگی بھر کا رفیق اور دوسرا ہر طرح سے ثابت قدم رہنے والا محافظ ہو تو اندر سے بری طرح ٹوٹ جانا قدرتی امر تھا۔ مگر پھر، وہیں ایک ایسے شخص کے لیے یہ غم اور بھی بڑھ کر ہے جو یتیم پیدا ہوا تھا اور پھر ابھی اس نے ہوش بھی نہیں سنبھالا تھا کہ ماں بھی چل بسی ہو۔ مدعا یہ کہ آپ صلعم کے لیے یہ صورتحال خاصی گھمبیر تھی۔ ان کا غم اس عمر میں پہنچ کر بھی ان دو اموات کے بعد دوگنا نہیں بلکہ چوگنا ہو چکا تھا۔ آپ صلعم پہلے سے کہیں بڑھ کر محرومی شکار ہو گئے۔ مجروح ہو کر رہ گئے۔
ابو طالب کے انتقال کے بعد بنی ہاشم کے لیے فوراً نیا سربراہ چن لینا انتہائی ضروری تھا۔ بنی ہاشم کا اس بابت متفقہ فیصلہ آپ صلعم کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں تھی۔ ابو طالب کی زندگی میں ہی ابو لہب نے انہیں سربراہی سے علیحدہ کرنے کی نہ صرف خواہش پال رکھی تھی بلکہ حتی الامکان کوشش بھی کر گزرا تھا۔ اب اس کا راستہ صاف تھا۔ کنبے میں سب سے عمر رسیدہ شخص اور سربراہی کا اصولی حقدار وہی تھا۔ چنانچہ بنی ہاشم کی سربراہی محمد صلعم کے محافظ سے نکل کر سب سے شدید مخالف کے ہاتھ میں چلی گئی۔
ابو لہب کے سربراہی سنبھالنے کے فوراً بعد ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب شاید معاملات سنبھل جائیں گے۔ ایسا لگ رہا تھا کہ شاید یہ دونوں اشخاص ابو طالب کی موت کے صدمے کے باعث ایک دوسرے کے قریب آ جائیں گے۔ سربراہ کی حیثیت سے ابو طالب کی روایت اور طریق کو برقرار رکھنے کا عہد کرتے ہوئے ابو لہب نے محمد صلعم کو یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ  ابو طالب کی ہی طرح، کنبے کے ہر شخص، بشمول محمد صلعم کی حفاظت کو یقینی بنائے گا۔ مگر یہ یقین دہانی زیادہ دیر تک قائم نہیں رہی۔ ابو لہب کی اس غیر متوقع طور کے باعث دوسرے کنبوں کے سربراہان میں بے چینی پھیل گئی۔ چنانچہ انہوں نے ابو لہب کے ساتھ مکالمہ، بحث اور مباحثہ شروع کر دیا۔ وہ اسے سمجھانے لگے کہ وہ محمد صلعم کو تحفظ فراہم کرنے کا ارادہ باندھ کر بنی ہاشم کا طرہ بلند نہیں بلکہ در اصل کنبے کی غیرت اور حمیت کو مزید پستی میں دھکیل رہا ہے۔ محمد صلعم اپنے کنبے کے لیے شرم کا باعث تھے۔ وہ ابو لہب سے کہنے لگے کہ ذرا سوچو، محمد صلعم کے پیغام کے تحت تو کنبے کے باپ دادا، ہاشم سے لے کر عبد المطلب ، حتی کہ ابو طالب بھی اس وقت جہنم کی آگ میں جل رہے ہیں۔ آخر کیوں؟ اس لیے کہ انہوں نے یہ نیا طریق قبول نہیں کیا؟
اس سے پہلے کہ ورغلانے والے اپنی بات پوری کرتے ابو لہب کا دماغ ایک مرتبہ پھر گھوم چکا تھا۔ مبینہ طور پر وہ بنی ہاشم کی تضحیک اور بے حرمتی پر سیخ پا ہو گیا۔ وہ بیٹھے بٹھائے غصے میں آپے سے باہر ہونے لگا اور بغیر سوچے، فوراً ہی محمد صلعم کی حفاظت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔ اس فیصلے کا مطلب یہ تھا کہ محمد صلعم بنی ہاشم سے بے دخل کر دیے گئے تھے۔ اب ان کے اوپر کیا جانے والا کوئی بھی جسمانی حملہ بنی ہاشم کے کسی شخص کے لیے بدلے کا متقاضی نہیں تھا۔ اس وقت رائج نظام کے تحت، 'خون جائز' ہو گیا تھا۔ اب ان کا معاملہ قانون کے دائرہ اختیار سے باہر تھا۔
قبل از اسلام کے قصائص، مشہور و مقبول روایات کے تحت، شاید یہ معاملہ رومانوی معلوم ہوتا۔ جیسے اس سے پہلے بھی ایک قصہ مشہور تھا۔ یہ داستان ایک 'خانہ بدوش بادشاہ' کی تھی۔ امر القیس نامی شخص جو اپنی سمجھ بوجھ، دل اور جگرے، یعنی بل بوتے پر متروک کیے جانے پر تن تنہا ، گوشہ نشینی میں بسر رکھا کرتا تھا۔ لیکن محمد صلعم اس داستان کے کچھ اتنے خاص پرستار نہیں تھے۔ جب وہ لڑکپن میں تھے، جب کہ انہیں دور کر دیا گیا تھا، تب بھی انہوں نے کبھی یوں گوشہ نشینی اور تن تنہائی میں بسر کرنے کے بارے میں نہیں سوچا تھا۔ وہ اپنے لوگوں سے دور رہنے کے ہر گز قائل نہیں تھے۔ قیس کے برعکس انہوں نے تو اپنی توانائیاں اس نکتے پر صرف کی تھیں کہ وہ ہر طرح سے متعلق بن کر ہی رہیں۔ ان میں سے ایک بن جائیں۔ اب جبکہ وہ اپنے معاشرے اور وقت سے اس قدر جڑ چکے تھے کہ وہ اسے اندر سے تبدیل کر کے، ایک بہتر سماج کی شکل میں ڈھالنے کے خواہاں تھے۔ وہ مکہ کو بدترین تباہی سے بچانے کی کوشش میں خود کو ہلکان کر رہے تھے۔ اپنی پوری زندگی داؤ پر لگا دی تھی۔ ان کی سوچ ایک باغی کی سوچ نہیں تھی۔ وہ تو ایک اصلاح پسند بن کر ابھرے تھے، دل کی اتھاہ گہرائیوں سے مکہ سے جڑے ہوئے تھے۔ اپنے آبائی گھر سے وفا دار تھے۔ اپنے لوگوں سے بے انتہا انس رکھتے تھے۔ مگر، جس نہج پر حالات پہنچ چکے تھے، اس کو لے کر ان کے اندر بے انتہا غم نے گھیرے ڈال دیے تھے۔ آپ صلعم اور مکہ کے درمیان خلیج بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ وہ جس کو اصلاح کہتے تھے، مکہ کے لوگوں کے نزدیک رائج نظام کا انہدام تھا۔ جن اطوار پر محمد صلعم سوچ رہے تھے، اس پر ان سے کہیں بڑھ کر مکہ کے سربراہان نے اس سارے معاملے اور الہامی پیغام پر سوچ بچار کر رکھی تھی۔ چونکہ ان لوگوں کو اپنے مفادات عزیز تھے، انہوں نے فوراً ہی اس پیغام کے ممکنہ نتائج کو بھانپ لیا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ اس پیغام کی انتہائی شدت سے مخالفت پر اتر آئے تھے۔
بنی ہاشم سے بے دخل کر دیے جانے کے بعد، محمد صلعم اب صرف ایک مجنوں نہیں رہے تھے۔ ان پر اب صرف اور صرف کسی شریر جن کا سایہ نہیں تھا۔ ان کے مخالفین کے مطابق، وہ اس سے کہیں بڑھ کر خطرناک ہو چکے تھے۔ ان کے مطابق محمد صلعم تو اس کوشش میں تھے کہ وہ مکہ کو 'باپ دادا کے طریق' سے ہٹانے کی آڑ میں پورے معاشرے کو الٹ پلٹ کر رکھ دیں۔ پورے نظام کو تہس نہس کر دیں۔ مکہ کے ابو جہلوں اور ابو لہبوں کے نزدیک یہ کھلی بغاوت تھی۔
یہاں اگر مکہ کی سیاسی نفسیات کی بات کریں تو بعینہ ویسے ہی صورتحال آج جدید دور میں بھی دنیا میں کئی جگہوں پر، کئی معاشروں کو درپیش ہے۔ آج بھی مطلق العنان حکومتیں ہمیشہ ہی، بلکہ اکثر جمہوری حکمرانیوں میں بھی وہ شخص جو کھل کر نا انصافی کے خلاف آواز اٹھائے، تو اس پر بھی اکثر و بیشتر نظام کی پائمالی، اس کو تہس نہس کرنے کا الزام لگ جاتا ہے۔ ایسے لوگ تقریباً ہمیشہ ہی غدار کہلاتے ہیں۔ حالانکہ، یہ لوگ ملک و ملت سے انتہائی مخلص ہوتے ہیں۔ بحیثیت ذمہ دار شہری، متفکر رہتے ہیں۔ سوچ جتنی بھی بلند ہو رہے ، ایسے لوگوں کو ہمیشہ ہی اپنے وقت کے ہر دلعزیز لیڈروں، پر جوش خطیبوں اور پر اثر حلقوں کی جانب سے کڑی تنقید اور شدید مخالفت کا سامنا رہتا ہے۔ وہ ایسے اصلاح پسندوں کو نہایت کھلاڑ پن سے، تباہی کے خواہاں قرار دیتے پھرتے ہیں۔ ان کے نزدیک، ایسے لوگ نفرت کی پود ہوتے ہیں۔ ان کے اندر جلنے والے نفرت کے بھانبھڑ انہیں باغیانہ، سماج کی تباہی کی روش پر گامزن کر دیتے ہیں۔ چنانچہ، پہلے پہل تو ایسے افراد کی خوب کردار کشی کی جاتی ہے اور بعد ازاں جب کچھ نہ بن پڑے تو زیادہ سخت حربے جیسے گرفتاری، تشدد، ملک بدری اور قتل تک کا سامان کر دیا جاتا ہے۔ ایسا ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور آج بھی ہم جا بجا، دنیا بھر میں کہیں نہ کہیں ایسا ہوتا ہوا، دیکھتے ہی ہیں۔
ابو لہب کے فیصلے، یعنی محمد صلعم کے تحفظ سے ہاتھ کھینچنے کی خبر ایک دم مکہ اور گرد و نواح میں پھیل گئی۔ اب، ہر طرف سے محمد صلعم کو ہراساں کرنے کا سلسلہ نہ صرف بڑھ گیا بلکہ اس میں اعصابی اور جسمانی تشدد کا عنصر بھی شامل ہو گیا۔ اکثر، جب وہ کعبہ کے احاطے میں سے گزر رہے ہوتے، ان کے سر پر مٹی سے بھری بالٹیاں الٹ دی جاتیں۔ وہ یہاں تبلیغ شروع کرتے تو ایک دم چاروں اطراف سے پتھروں کی بارش شروع ہو جاتی۔ یہاں تک کہ اپنے گھر کے اندر بھی انہیں شدید خطرات لاحق تھے۔ مثال کے طور پر، ایک دن وہ اپنے گھر کے اندر، صحن میں بیٹھے تھے کہ باہر سے کسی نے ان پر بھیڑ کی اوجھڑی پھینک دی۔ آپ صلعم کا جسم خون اور غلاظت سے بھر گیا۔ یہی نہیں، بلکہ جانوروں کے مخصوص اعضاء جیسے بچہ دانیاں آپ صلعم پر پھینکی جاتیں یا راستے سے گزرتے ہوئے منہ کے سامنے لہرائی جاتیں۔ اس کا مقصد آپ صلعم کی بے عزتی کرنا ہوتا تھا۔ بالخصوص، جانوروں کے ان نسوانی اعضاء کو لہرانے کا مطلب اس معاشرے میں، جہاں مرد کی غیرت اور حمیت ہی ہر چیز سمجھی جاتی ہو، بے حرمتی اور تضحیک کا شدید ترین اظہار ہوتا تھا۔ یہ طے ہو چکا تھا کہ اب محمد صلعم کے لیے اپنے گھر کے اندر، نظر بند ہو کر بھی بسر کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔ بلکہ، وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی بقا اور سلامتی کو اب شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ اسی لیے، اگر وہ بقا چاہتے ہیں تو اس کے لیے انتہائی ضروری تھا کہ وہ فی الفور کسی قبیلے یا کنبے کے سردار کی پشت پناہی حاصل کر لیں۔ اس کے تحفظ میں چلے جائیں۔
کچھ روایات کے مطابق، اس مقصد کے لیے پہلے پہل آپ صلعم نے طائف کا رخ کیا۔ تب طائف مکہ کے جنوب مشرق میں پہاڑوں کے بیچ ایک دن کی مسافت پر واقع چھوٹا سا قصبہ تھا۔ اس قصبے کے باسی لات کو مانتے تھے اور طائف اسی خدائی اوتار کے پجاریوں کا مرکز مانا جاتا تھا۔ لات، کعبہ کے احاطے میں نصب خدائی اوتاروں میں سے ایک دیوی تھی۔ محمد صلعم نے تمام خدائی اوتاروں، بشمول لات کو سختی سے جھوٹا قرار دے کر رد کر دیا تھا۔ پھر، طائف کے لوگ مکہ کی اشرافیہ کے انتہائی قریبی سمجھے جاتے تھے۔ ان کے آپس میں دیرینہ تعلقات تھے۔ مکہ کے متمول شہریوں میں سے اکثر نے طائف میں اپنی عارضی رہائش کا انتظام بھی کر رکھا تھا اور اکثر گرما کا موسم گزارنے یہاں چلے آتے تھے۔ مکہ کی گرم آب و ہوا کے مقابلے میں اس قصبے کا موسم نسبتاً معتدل اور خوشگوار ہوا کرتا تھا۔ یہاں چشمے بہتے تھے اور ہر طرف ہریالی تھی۔ شاید، پناہ اور تحفظ کی تلاش میں محمد صلعم کے کے لیے طائف آخری جگہ ہوتی مگر عام روایت یہی ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے سب سے پہلے وہ طائف جا پہنچے۔
طائف کے شہریوں کی جانب سے سخت مخالفت اور شدید رد عمل غیر متوقع نہیں تھا۔ ان میں سے ایک نے نہایت مکر اور مصنوئی سے کہا، 'اگر جیسا تم دعویٰ کرتے ہو، تمہیں خدا نے بھیجا ہے تو پھر تمہاری حالت دیکھ کر مجھے تم سے بات کرتے ہوئے بھی کوفت ہو رہی ہے۔ اور اگر تم خدا کا نام استعمال کر رہے ہو تو شاید، مجھے تم سے بات بھی نہیں کرنی چاہیے۔'
ایک دوسرے ایسے ہی پر اثر آدمی نے آپ صلعم کی جانب دیکھا اور نہایت درشتی سے کہنے لگا، 'کیا خدا کو تمہارے سوا اس مقصد کے لیے کوئی اور شخص نہیں ملا تھا؟'
چند دن کے اندر ہی، طائف شہر کے لفنگوں اور بدمعاشوں نے وہاں کی اشرافیہ کی ایما پر آپ صلعم کی زندگی اجیرن کر دی۔ وہ ہر وقت پتھر اٹھائے پیچھے پڑے رہتے اور جلد ہی آپ صلعم طائف شہر سے باہر نکلنے پر مجبور ہو گئے۔ مگر چونکہ اصولی طور پر بغیر کسی کی پشت پناہی اور پناہ کے یوں ہی مکہ واپس لوٹ کر جانا کسی بھی صورت محفوظ نہیں تھا، آپ صلعم نے شہر سے چند میل دور ہی پڑاؤ ڈال دیا۔ یہاں سے وہ ایک کے بعد دوسرے، مکہ کے سربراہان کے نام پیغام بھجواتے رہے اور ان سے مدد کی درخواست کرتے رہے۔ بالآخر، ایک چھوٹے سے کنبے کے سردار کی جانب سے مثبت جواب آ گیا۔ یہ سردار عمر رسیدہ ال مطعم تھے۔ اس شخص اور ان کے کنبے نے کبھی بائیکاٹ کی حمایت نہیں کی۔ مطعم نے آپ صلعم کی حفاظت کے لیے اسلحے سے لیس ایک چھوٹا دستہ بھجوایا، جس کی حفاظت میں وہ واپس شہر میں داخل ہو گئے۔
ابو جہل نے جب محمد صلعم کو مکہ شہر میں، کعبہ کے احاطے میں داخل ہوتے دیکھا تو آگ بگولا ہو گیا۔ اس نے مطعم سے سوال کیا، 'کیا تم اس کی حفاظت کر رہے ہو یا حملے کے لیے للکار رہے ہو؟' مطعم نے نہایت اطمینان سے جواب دیا، 'میں محمد صلعم کو اپنی حفاظت میں لے رہا ہوں۔' یہ ایسا جواب تھا، جس کے بارے ابو جہل چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ پورا قبیلہ قریش، کنبوں کے سربراہان کی جانب سے کیے جانے والے فیصلوں کو ماننے کا پابند تھا۔ چنانچہ، بے دلی سے جواب دیا، 'ہم بھی اس کی حفاظت کریں گے، جس کی تم حفاظت کرتے ہو!'
گو، یہ حفاظت کی وہ صورت تو نہیں تھی جو بنی ہاشم کا حصہ رہتے ہوئے آپ صلعم کو میسر رہی تھی مگر پھر بھی اس وقت صورتحال کے مطابق کسی حد تک یہ آسانی کا موجب بن گئی۔ اب آپ صلعم کی حیثیت ال مطعم یا قریش کے کسی بھی شخص کے برابر نہیں بلکہ ان کی کفالت میں ایک عام شخص جیسے تھی۔ مگر، ان حالات میں آپ صلعم کے لیے یہی دستیاب پناہ گاہ تھی۔ کم از کم اس کی بدولت انہیں عارضی چھٹکارا مل گیا تھا۔ کچھ وقت میسر آ گیا تھا، جس کے بیچ وہ تسلی سے سوچ بچار اور آگے کے لائحہ عمل بارے غور و فکر کر سکتے تھے۔ پھر، اس وقت جب آپ صلعم شدید عدم تحفظ کا شکار تھے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ شاید اب کے بعد انہیں اپنی بقا کے لیے انتہائی خاموشی سے گزر بسر کرنی پڑے گی۔ پس منظر میں رہ کر کوشش کرنی ہو گی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ آپ صلعم ایک بار پھر اڑان بھرنے کو تیار تھے۔ انہی دنوں میں، آپ صلعم کے ساتھ ایک رات عجب واقعہ پیش آیا۔ اس واقعہ کو 'الاسراء' یعنی 'رات کا سفر' کہا جاتا ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ یہ واقعہ آپ صلعم کی زندگی میں پیش آنے والے کئی بڑے واقعات میں سے ایک، علامتی طور پر بھاری بھر کم ، اہم ترین معاملہ بن جائے گا۔
سادہ ترین الفاظ میں کہیے تو 'رات کے سفر' کا واقعہ ایک معجزے کی کہانی ہے۔ ایک روز، محمد صلعم رات کے پچھلے پہر بیدار ہوئے اور کعبہ کے احاطے میں جا پہنچے۔ آپ صلعم کا مقصد رات کے اس پہر، جب سارا شہر سو رہا تھا اور کعبہ کے ارد گرد دن کے برعکس خاموشی چھائی ہوئی تھی اور کوئی بھی موجود نہیں تھا، یکسوئی سے عبادت کرنا تھا۔ مگر احاطے میں پہنچے تو ان پر غنودگی چھا گئی اور بیٹھے بیٹھے، آنکھ لگ گئی۔ ایسے میں، آپ صلعم کو جگانے کے لیے فرشتہ، یعنی جبرائیل حاضر ہوا۔ اس نے انہیں جگایا اور سفید پروں والے گھوڑے پر سوار کرا دیا۔ یہ گھوڑا ہوا میں بلند ہو کر اڑنے لگا ۔ رات کی تاریکی میں اس کا رخ شمال کی جانب تھا۔ محمد صلعم اور ان کے پیروکار شمال کی جانب منہ موڑ کر عبادت کرتے آئے تھے۔ شمال میں یروشلم کا شہر واقع تھا۔ اس شہر میں قدیم عبرانی معبد واقع تھا۔ یہ معبد پتھر کی اس صلیب پر تعمیر کیا گیا تھا جس پر کبھی ابراہیم، یعنی سب سے پہلے حنیف نے اپنے بیٹے اسماعیل کو قربان کرنے کے لیے لٹایا تھا اور خنجر بلند کر کے تقریباً خدا کی راہ میں ان کی جان لے لی تھی۔ اس جانب منہ موڑ کر عبادت کرنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ ابراہیم کی واحدانیت کے اصل جد امجد کے طور پر حیثیت کو تسلیم کرتے تھے۔ یہ بلاشبہ مکہ میں قریش کے آباؤ اجداد سے منسوب روایات سے کہیں قدیم ، گہری اور معنی خیز نسبت تھی۔ ابراہیم ہی دراصل 'آباء' تھے اور یوں وہ سب کے، بشمول مکہ کے 'آباؤ اجداد' کے بھی جد امجد تھے۔ اور آج رات، محمد صلعم کی ملاقات جد امجد، ابراہیم سے ہونے جا رہی تھی۔
راستے میں اور یروشلم پہنچ کر بھی، فرشتوں کے گروہ در گروہ آپ صلعم کے خیر مقدم کے لیے موجود تھے۔ پھر جب وہ گھوڑے سے اترے تو ان کے سامنے تین کٹوریاں پیش کی گئیں۔ ان میں سے ایک میں شراب، دوسری میں دودھ اور تیسرے میں پانی بھرا ہوا تھا۔ آپ صلعم کو کہا گیا کہ وہ ان میں سے اپنی مرضی کے مطابق، کوئی ایک مشروب پی لیں۔ محمد صلعم نے دودھ کا انتخاب کیا کہ یہ درویشی اور نفس پرستی کے بیچ، اعتدال کا رستہ معلوم ہوتا تھا۔ یہ انتخاب دیکھ کر جبرائیل چہک اٹھے اور کہا، ' اے محمد صلعم، بے شک آپ صلعم سیدھی راہ پر گامزن کیے گئے ہیں۔ اور آپ صلعم کے ماننے والے بھی سیدھے رستے پر رہیں گے۔'
'پھر۔۔۔' محمد صلعم سے منسوب روایت یوں جاری رہتی ہے کہ، 'ایک سیڑھی لائی گئی۔ یہ اس قدر نفیس اور خوبصورت سیڑھی تھی کہ میں نے اس سے قبل، اس قدر بہترین سیڑھی اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھی تھی۔ یہ سیڑھی تب ظاہر ہوتی ہے جب کوئی شخص مرنے والا ہو اور موت اس کی جانب بڑھنے لگتی ہے۔ ' جبرائیل کے پیچھے محمد صلعم سیڑھی پر چڑھنے لگے اور سات آسمانوں کے گھیرے میں اوپر ہی اوپر چڑھتے چلے گئے۔ ان سات آسمانوں میں بالترتیب آدم، عیسی اور یحیی، یوسف، ادریس اور نوح، ہارون اور موسی جبکہ ساتویں اور سب سے اونچے آسمان پر، جس کے بعد خدائے ذوالجلال کے مقدس عرش کی حد شروع ہوتی تھی، خود ابراہیم کا بسیرا تھا۔ یہ اصحاب، ان سات آسمانوں کے سردار تھے۔
اوپر بیان کردہ روداد ابن اسحاق کے 'الاسراء' یا 'رات کے سفر' سے متعلق روایات کے مجموعے کا نچوڑ ہے۔ اس بابت جتنے بھی بیانات رقم کیے گئے ہیں، ان کو تحریر کرتے ہوئے ابن اسحاق نے بھر پور طریقے سے یہ بات لکھ دی ہے کہ ہر روایت ان تک فلاں، ابن فلاں اور ابن فلاں سے اس طرح پہنچی ہے۔ ایک ہی واقعے یا واقعے کی ٹکڑیوں کے کئی ماخذ ہیں اور ان میں سے ہر ماخذ کا بیان دوسرے سے میل نہیں کھاتا۔ چنانچہ، ابن اسحاق اس بابت یہ طے کرنے سے بھی معذور نظر آتے ہیں کہ آخر ان تمام روایتوں میں سے کس کو تسلیم کیا جائے، اور پھر ایسا کیوں کیا جائے؟ چنانچہ، ابن اسحاق الفاظ کے چناؤ میں انتہائی احتیاط برتتے ہوئے اس قصے کا آغاز کچھ یوں کرتے ہیں، 'اس واقعے کا بیان، کئی روایات کا مجموعہ ہے۔ یعنی، اس واقعے میں کئی بیانات ٹکڑوں کی شکل میں جمع کیے گئے ہیں۔ ان میں سے ہر ٹکڑا کچھ نہ کچھ معلومات فراہم کرتا ہے۔ اور ہر ٹکڑا کسی ایسے شخص سے پہنچا ہے جس کو خود کسی دوسرے شخص نے واقعہ کی تفصیلات بارے معلومات فراہم کی تھیں۔' پھر چونکہ یہ معاملہ حقائق سے کہیں زیادہ ایمان سے متعلق رکھتا ہے تو ابن اسحاق اس بابت بھی واضح اشارہ کر دیتے ہیں۔ ساری روداد کے دوران وہ ماخذ کی طرف رجوع کرانے والی عبارتوں کا استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، 'مجھے بتایا گیا ہے کہ الحسن نے اپنی بیان کردہ کہانی میں کہا۔۔۔' یا پھر، 'ابو بکر کے گھر کے ایک آدمی نے مجھے بتایا کہ عائشہ کہا کرتی تھیں۔۔۔' یا پھر، 'ایک روایت دان جس نے خود ایک ایسے شخص سے سن رکھا ہے کہ وہ کہتا تھا کہ اس نے محمد صلعم کی بابت سن رکھا ہے کہ محمد صلعم کہنے لگے ۔۔۔' وغیرہ۔
قران میں اس واقعے کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ سترہویں سورۃ یعنی 'الاسراء' کی ابتدائی آیات میں اس بابت صاف حوالہ موجود ہے۔ یہ آیات کچھ اس طرح ہیں کہ، 'پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تا کہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔' مسجد حرام یعنی کعبہ کے احاطے سے دور کی اس مسجد یعنی یروشلم میں واقع مسجد اقصیٰ کے قریب واقع معبد مراد ہے۔ انہی قرانی آیات کی روشنی میں ابن اسحاق اپنی محققانہ معذوری کو بالآخر کچھ یوں لپیٹ دیتے ہیں کہ، 'اس رات، سفر کے مقام اور اس بابت جو بھی کہا جاتا ہے وہ تلاش کا امتحان ہے ۔ خدا کی قدرت اور اختیار کا معاملہ ہے۔ اس سب کے بیچ سوچنے والوں کے لیے ایک سبق ہے۔ وہ جو ماننے والے ہیں، ان کے لیے رہنمائی، رحمت اور ایمان کی پختگی ہے۔'
دیکھا جائے تو یہ حکمت اور احتیاط سے کام لیتے ہوئی لکھی گئی، قطعیت سے اجتناب برتتی ہوئی ایک نہایت دلکش عبارت ہے۔ کیا 'سفر کی رات' کے واقعات ایک خواب تھے، یہ ایک دید یا الہام ربانی تھی یا واقعی ایک جیتا جاگتا، مادی تجربہ تھا؟ ابن اسحاق کے خیال میں اہم یہ نہیں ہے کہ یہ واقعہ کیسے پیش آیا بلکہ اصل فکر کرنے کی چیز تو اس کے معنی، قدر اور پیش آنے والے وقت کی اہمیت ہے۔ یہاں ابن اسحاق ایک مسلمان کے فرائض اور بحیثیت محقق اپنی ذمہ داریوں کے بیچ نہایت احتیاط سے چلتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ ان کے لیے نہایت نازک معاملہ ہے جس کو وہ بخوبی، اپنے اوپر پوری طرح قابو رکھتے ہوئے، خلاصہ یوں بیان کرتے ہیں، "میں نے کسی کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول خدا کہا کرتے تھے، 'میری آنکھیں سوتی ہیں جبکہ میرا دل جاگتا رہتا ہے۔' صرف خدا جانتا ہے کہ وحی کس طرح نازل ہوا کرتی تھی، الہام کیسے پہنچتا تھا اور پھر ویسے ہی، اس رات محمد صلعم نے کیا دیکھا؟ ہاں میں یہ ضرور کہہ سکتا ہوں کہ آپ صلعم اس رات چاہے سو رہے ہوں یا جاگتے تھے، بہرحال یہ سب سچ تھا۔"
اوائل دور اسلام کے تمام تاریخ دان اس سے متفق نہیں ہیں۔ مثلاً، الطبری کی ہی مثال لیں۔ جب انہوں نے تاریخ اسلام لکھی، تب محمد صلعم کے زمانے کو گزرے پوری ایک صدی بیت چکی تھی۔ آپ اسلامی دنیا کے نئے، جدید دارالحکومت بغداد میں بسر رکھتے تھے۔ پھر، الطبری معجزوں پر مبنی واقعات سے خاصے چوکنے رہا کرتے تھے اور عقلیت پسند تھے۔ ان کا زیادہ رجحان سیاست کی طرف تھا۔ گو وہ اپنی تصانیف میں جا بجا ابن اسحاق کے حوالہ جات دیتے آئے ہیں مگر اس معاملے میں وہ اپنی تصنیف کردہ متعدد جلدوں پر مشتمل تاریخ اسلام سے اس پورے واقعے کو گول کر گئے ہیں۔ یہاں تک کہ سب سے مشہور اور مقبول روایت جو عائشہ سے منسوب ہے، اس کو بھی یکسر نظر انداز کر دیا۔ عائشہ نے محمد صلعم کے وصال کے کئی برس بعد کہا تھا، 'رسول خدا کا جسم جہاں تھا، وہیں رہا۔ لیکن خدا نے ان کی روح کو اس رات جسم سے الگ کر دیا تھا۔'
تو کیا 'رات کے سفر' کا واقعہ صرف ایک خواب تھا؟ اگر ایسا ہے تو پھر کیا؟ لیکن یہ کہ اس دور میں بھی 'صرف ایک خواب' کوئی شے نہیں ہوا کرتی تھی۔ خوابوں کے بارے تحقیق اور سگمنڈ فرائڈ کا شہرہ آفاق دور ابھی بہت دور ہے جب وہ خواب کی نفسیات میں علامتی تول کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ اس کے ہاتھوں ابھی تک خواب کی تعبیر بارے نظریہ بھی ایجاد نہیں ہوا تھا۔ مراد یہ ہے کہ، فرائڈ جو کہ سترہویں صدی کا محقق تھا، اس نے نفسیات کی سائنس میں ایک قدیم نظریے کو از سر نو زندہ کیا تھا، جس کے تحت نیند کو مجہول یا جامد حالت نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ، درست طریقے سے تیاری کر کے سویا جائے تو نیند کی حالت میں روح، خاصے متحرک اور جیتے جاگتے، حقیقی تجربات سے گزر سکتی ہے۔
خوابوں سے متعلق قدیم زمانے سے ہی رومیوں اور یونانیوں کے یہاں ایک مذہبی رسم چلی آ رہی ہے، جس کی تب خاصی مانگ تھی۔ اس رسم میں لوگ جسمانی طور پر پاک صاف ہونے کے ساتھ، روحانی طہارت یعنی بھوکے اور پیاسے رہنے کے بعد سونے سے قبل ایک مندر میں بیٹھ کر مراقبہ کیا کرتے تھے اور اسی حالت میں وہیں سو جاتے تھے۔ اس مشق کا مقصد کسی مخصوص معاملے کے بارے میں مقدس ذات کی رہنمائی حاصل کرنا ہوتا تھا۔ انجیل میں بھی جا بجا، خوابوں کی تعبیر سے مراد خدائے ذوالجلال کی منشا اور اشارہ لیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر قدیم خدا، یہوہ یا الہ یہوہ کے یہ الفاظ جو موسی کے بڑے بھائی ہارون اور بہن مریم سے خواب کی حالت میں کہے گئے تھے کہ، 'اگر تم میں کوئی رسول ہو۔ میں خدائے ذوالجلال خود کو الہام اور روشنی (بصری طور پر) کے ذریعے اس پر ظاہر کروں گا اور خواب میں اس سے ہم کلام ہوں گا۔' یوسف کا قصہ تو آج بھی زبان زد و عام ہے، جس میں انہوں نے خوابوں کی درست تعبیر بتا کر فرعون کے دربار میں اپنے لیے مشیر خاص کا مقام حاصل کر لیا تھا۔ جبکہ، قدیم روایت میں عام ملتا ہے کہ ابراہیم، یعقوب، سلیمان، سینٹ جوزف، سینٹ پال اور کئی دوسروں کو نیند کے دوران، خواب کی حالت میں خدا نے خود ظہور بخشا تھا۔
ایسی ہی روایات اور کہاوتیں تلمود میں بھی مل جاتی ہیں۔ تلمود، یہودیت کا مجموعہ قوانین ہے۔ اس مقدس کتاب میں بھی خدا اپنی مقدس حکمت کو خواب کے ذریعے بکھیرتا ہوا بیان کیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اس مجموعے میں ایک تدریس کچھ یوں ہے کہ، 'نیند کی حالت میں روح جسم کا ساتھ چھوڑ جاتی ہے اور بلندی کے مقام سے روحانی تازگی حاصل کرتی ہے۔' اس عبارت اور عائشہ سے منسوب، 'رات کے سفر' بارے بیان میں حیران کن مماثلت پائی جاتی ہے۔ بعد ازاں، اس ربانی روایت کا تصور عبرانی میں 'شئیلت الہوم' میں ڈھل جائے گا۔ شئیلت الہوم سے مراد خواب میں خدا سے سوال کرنا ہے۔ مطلب یہ کہ، خواب کی حالت میں جاگنے کی حالت سے متعلق سوال کا جواب تلاشنا ہے۔ خوابوں سے منسوب روحانی پہلو تیرہویں صدی کے دوران، یہودیت میں مشہور 'زوہر' میں تفصیل سے شامل کیا گیا ہے۔ زوہر ، یہودی روحانیت پسندوں کی سوچ و سمجھ پر مشتمل مجموعے، 'قبالہ' کا مرکزی خیال ہے۔ زوہر میں جبرائیل کو 'خواب کا بادشاہ' گردانا گیا ہے۔ جبرائیل، خدا اور انسان کے بیچ قاصد یا ایک ربط کا کردار ادا کرتا ہے۔ جیسا کہ، یہ محمد صلعم کے لیے بھی یہی کردار ادا کرتا آیا تھا۔
اس قدیم روایت میں مسلمان فلسفیوں اور روحانیت پسندوں نے بھی حسب توقع، اپنا حصہ ڈال رکھا ہے۔ ان میں سے دو خاصے معروف لوگ، بارہویں صدی میں ابن عربی، اور چودہویں صدی میں ابن خلدون ہیں۔ ان دونوں ہی اصحاب نے 'علم المثل' یا تخیل کی فعالیت پر اپنی تصانیف میں خاصا زور دیا ہے۔ علم المثل سے مراد یہ ہے کہ انسانوں کے لیے ربانی ظہور، مقدس روشنی یا سچائی کے مظاہر کی انتہا، خواب ہیں۔ ابن خلدون نے لکھا تھا کہ در اصل خدا نے نیند کو اس لیے تخلیق کیا ہے کہ اس کے ذریعے، 'حواس پر پڑے پردوں کو اٹھا سکے'۔ یوں، حواس سے باہر رہ کر، تخیل کے زور پر علم اور آگاہی کے نئے درجے حاصل ہو سکتے ہیں۔ کئی احادیث، یعنی محمد صلعم سے منسوب بیانات اور افعال میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ آپ صلعم اپنے ماننے والوں کو پاکیزگی حاصل کرنے کے بعد، عبادت اور پھر خواب میں بشارت، یعنی 'استخارہ' کی تبلیغ اور طریقے بتاتے نظر آتے ہیں۔ استخارہ میں ملنے والے اشارے جاگتے اور سوتے، دونوں حالتوں میں حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یعنی، پاکیزگی حاصل کرنے اور عبادت کر چکنے کے فوراً بعد، سونے سے قبل دل جس جانب زیادہ مائل ہو یا پھر دوسری صورت سو جانے کے بعد، نیند کی حالت میں خواب کی صورت خود، خدائے ذوالجلال کی جانب سے اشارہ موصول ہوتا ہے۔
لیکن، 'رات کے سفر' کا واقعہ پیش آنے کے بعد، چند دن کے اندر ہی محمد صلعم کے قریبی اور انتہائی کٹر ماننے والوں میں سے بھی اکثر اس بابت پریشانی کا شکار ہو گئے۔ انہیں یہ فکر لاحق تھی کہ آخر، اس سارے معاملے کو، اس سفر کے دوران پیش آنے والے واقعات کو آخر کیسے سمجھا جائے؟ ان میں سے ایک نے تو محمد صلعم سے باقاعدہ، اس بابت خاموشی اختیار کر لینے کی درخواست بھی کر دی۔ محمد صلعم پر تنقید کرنے والے، یقیناً، جانتے بوجھتے ہوئے بھی اس کو آپ صلعم کے خلاف لغوی معنوں میں استعمال کرنے والے تھے۔ درخواست کرنے والی مومنہ نے کہا، 'وہ آپ صلعم کو جھوٹا قرار دیں گے اور تضحیک، بے عزتی کریں گے۔ ہنسی اڑے گی۔' مگر، محمد صلعم نے اس طرح کی کسی بھی درخواست اور ممکنہ نتیجے کو خاطر میں نہیں لایا۔ چنانچہ، جب یہ بات عام ہو گئی تو توقع کے عین مطابق، جس طرح اس مومنہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا، مکہ میں ویسا ہی رد عمل سامنے آیا۔
آپ صلعم کے مخالفین میں سے ہر شخص، اس واقعہ کی تفصیلات سنتے ہی تقریباً چلا اٹھا کہ، 'یہ قطعی طور پر اوٹ پٹانگ اور بعید القیاس قصہ ہے۔' جس طرح آج بھی سیاستدان انتخابات کے دوران اپنے مخالفین کی دھجیاں بکھیر دیتے ہیں۔ ویسے ہی اس وقت بھی مخالفین نے اس کو ایک دلیل بنا کر شور مچا دیا کہ، 'ایک قافلے کو شام جانے کے لیے پورا مہینہ درکار ہوتا ہے۔ اس کی واپسی پر بھی تقریباً اتنا ہی وقت لگ جاتا ہے۔ اور محمد صلعم کو دیکھو، وہ دعویٰ کرتا پھرتا ہے کہ اس نے یروشلم کا تقریباً اتنا ہی ، دو ماہ کا طویل سفر صرف ایک رات میں طے کر لیا؟ ہم پوچھتے ہیں، آخر یہ کیسے ممکن ہے؟'
مخالفین تو رہے ایک طرف، آج بھی اس 'رات کے سفر' بارے خود مسلمانوں کے بیچ شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک گروہ تو اس کو روحانی تجربے کی 'معراج' کے طور پر دیکھتا ہے۔ اسی نسبت سے اسے 'شب معراج' بھی کہا جاتا ہے۔ جبکہ دوسرا اس کو یکسر مختلف انداز میں، حرف بہ حرف، لغوی معنوں میں سمجھتا ہے۔ 'براق' ، جس کا مطلب ' بجلی' کے ہیں، یعنی وہ سفید گھوڑی جس پر محمد صلعم کے بارے مشہور ہے کہ وہ سوار ہوئے، اس کی شبیہ پر مشتمل رنگین پوسٹر آج بھی ایشیاء، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں عام مسلمانوں کے گھروں میں ٹنگے ہوئے مل جاتے ہیں۔ ان پوسٹروں میں، گھوڑی رنگ برنگی کاٹھیوں سے سجی نظر آتی ہے جس کی اشکال مقامی رنگ میں رنگی ہوتی ہیں۔ یعنی، ہر پوسٹر دوسرے خطے کے پوسٹر سے مختلف نظر آتا ہے۔ اسی طرح، کہیں پر تو اس گھوڑی کے پر اتنے بڑے ہیں کہ وہ جسامت کے لحاظ سے غیر موزوں، بے ڈھنگے لگتے ہیں اور بعض جگہوں پر اس کے پھیلائے ہوئے پروں پر مور کے لہراتے ہوئے پر کا گماں ہوتا ہے۔ گو بنیاد پرست مسلمانوں کے یہاں انسانی اور حیوانی اشکال بنانے کی ممانعت ہے مگر اس کے باوجود ان تصویروں میں اکثر گھوڑی کا دھڑ تو جانور کا ہوتا ہے مگر سر کسی خوب صورت عورت کا ہوتا ہے، جس کے کالے لانبے بال ہیں اور یہ بال لمبی گردن پر سانپ کی طرح بکھرے، کنڈلی مارتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان پوسٹروں کو دور سے بھی دیکھیں تو پس منظر میں عام طور پر تاروں سے بھرا آسمان ہوتا ہے اور فاصلوں کو تقریباً مٹایا ہوا یوں دکھایا جاتا ہے کہ 'براق' کے ایک طرف یروشلم میں واقع 'قبتہ الصخرہ' یعنی 'چٹان کا سنہری گنبد' اور دوسری جانب مکہ میں مسجد الحرام کے بلند گنبد بنا رکھے ہوتے ہیں۔ یہ تشبیہ کسی بھی طرح سے اس زمانے کی جغرافیائی اور علم تاریخ یا وقائع نگاری سے میل نہیں کھاتا۔ یعنی یہ کہ جس رات یہ واقعہ پیش آیا، اس وقت تک نہ تو یروشلم میں سنہری گنبد اور نہ ہی مکہ میں حرم کے گرد بلند مینارے تعمیر کیے گئے تھے۔
زیادہ تر، براق کی اس شبیہ سے مراد، اصل نہیں ہے۔ در اصل یہ تو اس شے کو سمجھنے کی کوشش ہے جو سمجھ سے باہر ہے۔ غیر مادی تجربے کو مادیت میں ڈھالنے کی سعی ہے۔ اور یہی بات، ہم بجا طور پر اس رات پیش آنے والے واقعے، رات کے سفر بارے بھی کہہ سکتے ہیں۔ چنانچہ، سوال یہ نہیں ہے کہ کیا محمد صلعم نے واقعی ایک رات کے اندر یروشلم تک پرواز کی یا نہیں، بلکہ یہاں، اہمیت اس بات کی ہے کہ در اصل اس تجربے کے معنی کیا ہیں؟ قدر کیا ہے؟
جیسے، یعقوب کو آنے والے خواب میں، جس طرح 'تخلیق کی کتاب' میں درج ہے، ایک سیڑھی نظر آئی تھی۔ یہ سیڑھی سوار کو آسمانوں میں لے جاتی تھی۔ لیکن، جہاں یعقوب اس سیڑھی کے پہلے قدم پر ہی سوتے ہوئے پائے گئے تھے۔ اس کے برعکس، محمد صلعم نے اس سیڑھی کو 'جیسے کہ مرنے والے شخص کو نظر آتی ہے' کی مانند دیکھا اور اس پر اوپر چڑھتے گئے۔ کیا محمد صلعم واقعی یہ محسوس کر رہے تھے کہ وہ اس رات موت کے منہ میں جا رہے تھے؟ جس طرح، پہلی وحی کی رات ان کو گماں ہوا تھا کہ، ' جیسے میری جان نکل جائے گی'؟ یا اس سے مراد ہم یہ لیں کہ یہ آپ صلعم کے اپنے آپ کی موت تھی، جس کی خواہش تقریباً ہر مذہب کو ماننے والا، دنیا کا ہر روحانیت پسند اپنے دل میں شدت سے محسوس کرتا ہے۔ یعنی، صرف یہی ایک صورت ہے کہ جس کے ذریعے تقدیس، یعنی خدائے ذوالجلال سے ملاپ، آمنا سامنا ہوسکتا ہے؟ یا پھر ایسا نظر آتا ہے کہ، اور یوں ہی عائشہ نے بھی بیان کیا ہے کہ ان کی روح اپنے جسم سے الگ ہو کر اس کے اوپر پھڑپھڑانے لگی، اور اپنے سامنے، نیچے زمین پر پڑے ہوئے جسم کو تاکنے لگی۔ اس طرح کے تجربات اکثر لوگ آج بھی بیان کرتے ہیں جو قریباً موت کے منہ سے واپس لوٹ کر آ جاتے ہیں؟ یا پھر، یہ حال ہی میں موت کی وجہ سے جدا ہو جانے والے دو انتہائی عزیز اشخاص، محبت یعنی خدیجہ اور سر تنا سایہ، یعنی ابو طالب سے ملنے کی شدید خواہش تھی؟
بلاشبہ، 'رات کے سفر' کے کئی مطلب نکلتے ہیں۔ یہ نفسیاتی طور پر بھی ایک حیران کن علامت ہے۔ یعنی یہ کہ، اس رات جب محمد صلعم کی حالت غیر تھی۔ وہ مجروح ہو چکے تھے۔ ان کے ارد گرد محرومی کے سائے ہر طرف سے گہرے ہو رہے تھے۔ وہ اس کیفیت میں شدید بے بسی محسوس کر رہے تھے اور ان کی تحریک کا مستقبل بھی غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہو چکا تھا۔ انہیں مستقبل بارے یکسوئی سے سوچنے اور سمجھنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ ایسے میں، 'رات کے سفر' کے دوران پرواز اور اوپر ابھرنے کی تشبیہات آزادی اور فضیلت کو ظاہر کرتی ہیں۔ وہ روزمرہ زندگی کے معمولی امور، روٹین سے فرار چاہتے تھے اور یہ چاہتے تھے کہ وہ ان سے بڑھ کر، اوپر اٹھیں۔ دیکھنے میں ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ 'رات کا سفر' محمد صلعم کے لیے خدیجہ اور ابو طالب کی وفات کے بعد، سامنے نظر آنے والے نقصان اور محرومی کا الہام کی طرف سے ازالہ ہو۔ ایسے حالات میں، جب آپ صلعم مہیب تنہائی کا شکار ہو چکے تھے۔ درد ان کے دل میں گہرائی تک اتر چکا تھا اور آپ صلعم مکہ کے اندر ہمیشہ سے کہیں زیادہ کٹ کر رہ گئے تھے، اس قسط کے ذریعے ان کو یقین دہانی، تسلی اور تشفی ہوئی کہ وہ اکیلے نہیں ہیں۔ ان کا فرشتوں کے یہاں استقبال کیا گیا تھا اور تاریخ کے تقریباً سب ہی عظیم پیغمبروں نے آگے بڑھ کر ان کا خیر مقدم کیا تھا۔ ان کو اس عظیم گروہ میں سے ایک شمار کیا گیا تھا۔
تب اور آج بھی، اس معجزاتی سفر کو سمجھنے کی غرض سے اگرچہ اثبات یا نفی کا معاملہ بنا دیا گیا ہے۔ہر شخص اس کو ایمان اور کفر کے ترازو میں تولتا پھرتا ہے مگر نفسیاتی طور پر اس کی تشریح ہی اس واقعے کی اصل اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ یہی موقع ہے کہ جہاں پر ہم بلا کسی شک اور شبہ کے کہہ سکتے ہیں کہ محمد صلعم نے واقعی طور پر پہلی بار، جیسا کہ عبرانی انجیل میں کہا گیا، 'پیغامبری کی چادر' اوڑھ لی۔ جس کو آج سے پہلے تک قران میں، 'تم میں سے ایک' اور 'صرف ایک انسان' وغیرہ کہہ کر بلایا جاتا تھا، اب ایک عظیم رتبے پر فائز کر دیا گیا تھا۔ 'تم میں سے ایک' کبھی بھی پرواز کر کے سینکڑوں میل کا سفر، ایک رات میں طے نہیں کیا کرتا۔ اور نہ ہی 'صرف ایک انسان' فرشتوں کے جھرمٹ میں چلتا پھرتا ہے اور نہ ہی اس کی ملاقاتیں دوسرے پیغامبروں کی ارواح سے ہوا کرتی ہیں۔ نہ ہی کوئی 'عام انسان' خدا کے مظاہر، نشانیوں کو یوں کھلے عام دیکھ سکتا ہے۔ محمد صلعم اب الہام، وحی کو صرف موصول کر کے آگے بیان کرنے والے نہیں بلکہ اس عظیم سلسلے کا متحرک حصہ بن چکے تھے۔ وہ اڑ سکتے ہیں۔ وہ اوپر بلند ہو سکتے ہیں۔ وہ فرشتوں کے ساتھ مل کر عبادت کر سکتے ہیں اور اب وہ اس قابل ہو چکے تھے کہ پیغمبروں کے ساتھ ملاقات کریں اور ان کی امامت سنبھال لیں۔
مادی لحاظ سے کہیے یا اس کو بصارت کا کمال سمجھیں، جاگتی ہوئی حقیقت یا پھر خواب کی حقیقت کا مظاہر جانیں۔ تعریف کی رو سے اس کو جہاں چاہیں، سمو دیں مگر حقیقت یہ ہے کہ' رات کے سفر' کی بدولت ایک بنیادی تبدیلی آ کر رہے گی۔ تبدیلی یہ ہے کہ اب محمد صلعم اچھی طرح سمجھ چکے ہیں کہ وہ ایک عام انسان نہیں ہیں۔ بلکہ، وہ صرف ایک پیغمبر بھی نہیں ہیں۔ اب وہ ایک رہنما بھی ہیں۔ ان حالات میں ، جب مکہ میں ان کا مستقبل بظاہر غیر یقینی تھا، وہ اپنے آپ کو مستقبل میں ابھرتا ہوا صاف دیکھ سکتے تھے۔ اب ان کے دل میں یقین، نئی حدوں کو چھو رہا ہے۔ جس طرح قدیم خدا، یہوہ یا الہ یہوہ یا آج کی زبان میں، اللہ نے یعقوب کو خواب میں بشارت دی تھی کہ، 'تمہاری نسل یوں ہو گی جیسے زمین پر ریت کے ذرات ہیں۔ تمہاری نسل ہر طرف پھیل کر رہے گی۔ یہ مغرب سے مشرق کی جانب اور شمال سے جنوب کی طرف پھیلتی جائے گی'۔ اسی کی مانند جب خود محمد صلعم اس بارے غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار تھے، 'رات کے سفر' کے ذریعے، اس روحانی تجربے کی صورت آپ صلعم کے ساتھ ایک شاندار مستقبل کا وعدہ کیا گیا تھا۔
اس سب کے ساتھ، اجتماعی طور پر یہ الہامی تحریک کی بابت ، قصد اور عملی طور پر متحرک ہونے کی جانب اگلا قدم بھی تھا۔ اب آپ صلعم نہایت آسانی سے خود کو کنبے اور قبیلے کی جڑوں سے الگ کر سکتے تھے۔ پوری طرح سے الہامی پیغام کو عام کرنے اور اس کے بنیادی اجزاء کو اپنی بھر پور شکل میں لاگو کرنے کے لیے جد وجہد کر سکتے تھے۔
ان کے انتہائی قریبی رشتے موت کی وجہ سے پہلے ہی ٹوٹ چکے تھے۔ اب وہ اب آزادی سے عطا کردہ عظیم کردار ادا کر سکتے تھے۔ وہ اب بھر پور طریقے سے اپنا دیرینہ خواب پورا کرنے کی طرف قدم بڑھا سکتے تھے۔ گو، اس کہانی میں سنتے ہوئے یہ بات شاید انتہائی ترش اور سرد محسوس ہوتی ہو مگر، خدیجہ جن سے محمد صلعم کو بے تحاشا محبت تھی اور ابو طالب جن پر اب تک آپ صلعم کا ہر لحاظ سے انحصار تھا، دونوں کا ہی مر جانا انتہائی ضروری تھا۔ اس لیے کہ آپ صلعم اس کے بغیر کسی بھی صورت ، گھر کی بندشوں اور بندھن سے آزاد نہیں ہو سکتے تھے۔ اب محمد صلعم آزاد تھے اور پوری توجہ کے ساتھ اپنے اس سفر کو مکہ سے باہر، کہیں بڑی دنیا تک، ایک نئے اور مصمم ارادے کے بل بوتے پر آگے بڑھا سکتے تھے۔


-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر