اول المسلمین - جلا وطن - 12

آج کل یہ سوال کہ 'آپ کہاں سے ہیں؟' سے مراد مقام پیدائش کی لی جاتی ہے یا وہ جگہ ہوتی ہے جہاں پرورش پائی ہو۔ تھوڑی یا زیادہ، کسی نہ کسی حد تک ہم پر آبائی علاقے کی چھاپ باقی رہتی ہی ہے۔ ایک یا دوسری صورت، بخوشی یا خفگی سے ہماری شخصیت کے کچھ حصے کا اس جگہ سے تعلق ہمیشہ قائم رہتا ہے۔ مگر ساتویں صدی عیسوی میں، خطہ عرب و حجاز میں آبائی علاقہ صرف شناخت نہیں ہوا کرتا تھا بلکہ اس سے نسبت ہر شے اور معاملے کا تعین کرتی تھی۔ مثال یوں کہ تب جغرافیہ اور شخصی شناخت کا ریشہ دار دھاگا پیچ در پیچ بل کھا کر ایک دوسرے میں کچھ اس طرح کھب چکا تھا کہ ان کو ایک دوسرے سے جدا کرنا مشکل تھا۔ مکہ سے تعلق رکھنا صرف مکہ سے تعلق رکھنا نہیں بلکہ مکہ کا ہو کر رہنا تھا۔ محمد صلعم کے لیے یہ معاملہ اس لیے بھی خاصا پیچیدہ تھا کہ یہ صرف مکہ یا آبائی خطے سے متعلق نہیں تھا۔ بلکہ، یہ اس جگہ، یعنی مکہ اور مکہ کے لوگوں ، قریش سے بھی تعلق رکھتا تھا۔ مزید براں، قریش سے جو نسبت تھی وہ صرف آبا و اجداد یا قبیلے کی وجہ سے نہیں بلکہ ساتھ ہی کعبہ اور حرم کی وجہ سے ان کی یاد داشت میں گہری چھپ چکی تھی۔
الہامی آواز نے بھی جب محمد صلعم کو پکارا ، ان سے مکہ کے لوگوں تک کوئی نہ کوئی پیغام پہنچانے کی تاکید کی گئی تھی۔ پیغام کے علاوہ، انتباہ کی صورت میں تو یہ آواز سیدھی لوگوں سے مخاطب ہوا کرتی تھی۔ محمد صلعم نے الہامی پیغام ایک مکہ کے باشندے، مکین کی صورت پہنچایا۔ آپ صلعم کا تعارف، قران میں 'تم میں سے ایک' کے الفاظ سے کیا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ صلعم کے لیے مکہ کو ترک کرنا، ناممکنات میں سے ایک تھا۔ لیکن اب، جب آپ صلعم کی عمر لگ بھگ پچاس برس ہو چکی تھی، ناممکن صورتحال در پیش تھی۔ آبائی شہر ، یہاں تک کہ ذاتی گھر بھی غیر محفوظ ہو چکا تھا۔ ہر لحاظ سے یہ ناممکن تھا مگر بہرحال، مکہ سے رخصت لینا ان کے لیے نا گزیر ہو چکا تھا۔
مہاجرت اختیار کرنے والا ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ گھر بار چھوڑنا صرف جغرافیائی لحاظ سے جگہ بدلنا نہیں ہے۔ چاہے، یہ دیہات سے شہر کی جانب منزل ہو، ایک شہر سے دوسرے شہر میں، یا ایک ملک سے دوسرے بلکہ ایک بر اعظم سے دوسرے میں بھی کیوں نہ جانا ہو، یہ نہایت دل خراش تجربہ ہوا کرتا ہے۔ اس کی مثال اپنی جڑیں اکھاڑ دینے جیسی ہے۔ اس دوران کچھ اس طرح علیحدگی اختیار کرنی ہوتی ہے کہ نتیجے سے متعلق تمام تر خدشات کو سوچ کر ہی ہول اٹھتا ہے۔ ہجرت کرنے والے اس زندگی کو ترک کر دیتے ہیں جس کو وہ آج تک جانتے آئے ہیں ۔ وہ خود کو ایک نئی دنیا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتے ہیں۔ جس میں کچھ بھی قطعی، یقینی نہیں ہوتا۔ کچھ سوالات جیسے ، کیا یہ نئی دنیا انہیں قبول کر ے گی یا یکسر رد کر دے گی؟ آخر ایک نئی جگہ پر قبول کیے جانے کے لیے کیا شے درکار ہوتی ہے؟ کیا آبائی علاقے کو ترک کر دینے کا فیصلہ مناسب ہے؟ اگر نئی جگہ پر لوگوں نے رد کر دیا تو پھر کیا ہو گا؟ بعض حالات میں تو یہ سوال جیسے اندر سے توڑ کر رکھ دیتا ہے کہ، وہ جگہ جہاں ہمیشہ بسر رہی، جس کو ہم اپنا سمجھتے آئے ہیں، کیا اس جگہ، ہمارے گھر اور لوگوں نے ہمیں ترک کر دیا ہے؟ کیا وہ ہم سے چھٹکارا چاہتے ہیں؟
محمد صلعم کے لیے یہ اور کئی دوسرے سوالات بے چینی کا باعث تھے۔ انہوں نے ساری عمر اپنے لوگوں کے یہاں قبول کیے جانے، عزت کمانے میں صرف کر دی تھی۔ مشقت اور مشکلات اٹھا کر شناخت بنائی تھی اور قریش کہلوانے کے لائق ہوئے تھے۔ لیکن اب ہر وہ چیز جس کے لیے محمد صلعم نے اب تک بے انتہا کوشش کی تھی، داؤ پر لگ چکی تھی۔ تعلق، نسبت، عزت، تکریم اور سب سے بڑھ کر شناخت، سب کو شدید خطرات لاحق تھے۔ نقصان کے اسی احساس سے نمٹنے کے لیے 'رات کا سفر' انوکھی یقین دہانی بن گیا۔ محمد صلعم کو 'نشانیاں' دکھا کر یقین دلایا گیا تھا کہ ان کے لیے روحانیت کی دنیا میں ایک برتر گھر اور گہری نسبت موجود ہے۔ یہ لگان مادی دنیا، جغرافیائی اور قبائلی بندھن سے کہیں بہتر تھی۔ اس مافوق الفطرت ،نظری تجربے کا مادی دنیا اور طبیعی معاملات سے تعلق صاف نظر آ تا ہے۔ اسی واقعے کے بعد محمد صلعم بالآخر خود کو دنیا میں سنبھالا دینے میں کامیاب ہو گئے۔ ناقابل تصور، یعنی ہجرت کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنے کے قابل ہو چکے تھے۔
مشہور یہ تھا کہ محمد صلعم کا الہامی پیغام ہر لحاظ سے آفاقی ہے۔ یہ نہ صرف معاشرے کی اصلاح اور انصاف کا تقاضا کرتا تھا بلکہ اس نظام کے تحت مسائل کا دیر پا حل بھی موجود تھا ۔ بلکہ اس کے ساتھ اپنے اندر بنیاد پرست معنوں میں گھر اور آبائی علاقے سے نسبت کے تصور کو بھی بے پناہ وسعت دینے کا حامل تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ شناخت کے تصور کو بھی بدل کر رکھ دے گا۔ اب وقت آن پہنچا تھا کہ اس مفروضے کا صحیح معنوں میں امتحان لیا جائے۔ عمل کی بھٹی میں اس کی کڑی جانچ کی جائے۔ اب تک صرف یہی شہر، یعنی مکہ ہی محمد صلعم کی زندگی کا محور رہا تھا، کیا وہ اب اس جگہ کو واقعی ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیں گے؟ کیا مکہ کو چھوڑنے کا مطلب ایک نئی زندگی کی شروعات تھی، بلکہ ایک نئی دنیا کی بنیاد تھی؟ اگر یہ طے کر بھی لیا تو کیا، یہ سوال تو جوں کا توں قائم تھا کہ اگر فی الوقت عملی تجربہ یہاں ممکن نہیں ہے تو آخر، پھر کہاں؟
اس بابت محمد صلعم کا دل اور دماغ دونوں ہی خالی تھے۔ جب وجدان ہی نہیں تھا تو اس بارے نزول کہاں سے آتا ؟ دیکھا جائے تو مدینہ چلے جانے کا فیصلہ بھی کسی نئے اچھوتے خیال نہیں بلکہ چار و نا چار ماضی میں گم گشتہ تعلق کی بنیاد پر کیا گیا۔ مدینہ کا نخلستان مکہ سے شمال کی جانب دو سو میل پر واقع تھا۔ محمد صلعم اس مقام کے لیے مکمل طور پر اجنبی، غیر اور لاتعلق نہیں تھے۔ ان کا اس جگہ کے ساتھ ایک دیرینہ رشتہ تھا۔ مہین ہی سہی مگر بہر حال نسبت موجود تھی، کم از کم اصولی طور پر ضرور ہی تھی۔ محمد صلعم کے والد کا انتقال اسی مقام پر ہوا تھا اور ان کی فوتیدگی کے چھ سال بعد آپ صلعم کی والدہ بھی یہیں سے واپسی پر راستے میں چل بسی تھیں۔ اگر یہ تعلق قسمت اور وقت کا معاملہ محسوس ہوتا ہو تو اس کے علاوہ بھی ایک دوسرا تعلق تھا۔ جو باقی کسی بھی نسبت سے کہیں گہرا تھا۔ آپ صلعم کے پردادا، یعنی بنی ہاشم کے بانی نے اپنی زندگی میں مدینہ کی ایک عورت سے شادی کی تھی ، جس کے بطن سے ایک بیٹا بھی پیدا ہوا تھا۔
ہاشم کو قریش کی جانب سے شام کے لیے نمائندہ مقرر کیا گیا تھا۔ اس وقت شام میں آج دور کے ممالک اسرائیل، فلسطین، اردن، لبنان اور پوری شامی ریاست شامل تھی۔ پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں ہاشم شمال اور جنوب کے اطراف میں اکثر سفر کیا کرتے تھے۔ تقریباً ہر سفر کے دوران ان کا مدینہ سے گزر یقینی رہتا تھا۔ ایسے ہی ایک سفر کے دوران، آپ نے مدینہ میں خزرج قبیلے کی ایک عورت سے نکاح کر لیا اور وہیں سے آگے، شمال کی جانب اپنا سفر جاری رکھا۔ غزہ کے مقام پر ہاشم بیمار پڑ گئے اور وہیں انتقال ہوا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ انہوں نے ایک بیٹے کو تولد کر رکھا ہے۔ یہ تفاصیل محمد صلعم کے ذہن میں نقش تھیں۔ وہ خود بھی کچھ اسی طرح یتیم ہوئے تھے اور ذہن کے نہاں خانوں میں وہ اس نسبت سے مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے کہ ہاشم کا وہ یتیم بیٹا کوئی اور نہیں، دادا عبد المطلب تھے۔ محمد صلعم کے لیے یہ نسبت بڑھ کر تھی کہ ان کے دادا بھی یتیم پیدا ہوئے تھے۔
دراصل یہ مدینہ اور مکہ کے بیچ نفسیاتی فاصلہ ہے کہ جس کے پیمانے پر یہ حقیقت خاصی انوکھی معلوم ہوتی ہے کہ ہاشم کے نو مولود بیٹے کے بارے مکہ میں ان کے قرابت دار انجان رہے۔ مکہ کے لوگوں کے نزدیک مدینہ کی حیثیت ایک اجاڑ سے زیادہ نہیں تھی۔ تجارتی قافلوں کے لیے بھلے یہ ایک سود مند پڑاؤ کی جگہ تھی مگر اس کی حقیقت آٹھ میل کے محدود علاقے میں چند دیہاتی موضعوں کے پھیلاؤ سے زیادہ نہیں رہی۔ یہ ایک چھوٹا سا نخلستان تھا جو خوش قسمتی سے انتہائی زر خیز واقع ہوا تھا۔ وادی میں ہریالی تھی اور کھجور کے گھنے باغات تھے۔ جیسے تب، آج بھی اکثر شہریوں کو خواہ مخواہ کا زعم ہوتا ہے۔ مکہ کے لوگ بھی شہری ہونے کے باعث مغرور تھے اور خود کو مضافاتی علاقوں میں بسنے والے دیہاتیوں سے بر تر سمجھتے تھے۔ چنانچہ، جب مکہ میں ہاشم کے بیٹے کی اطلاع پہنچی تو اس لڑکے کے چچا، ہاشم کے سگے بھائی جس کا نام مطلب تھا، طے کر لیا کہ وہ اپنے بھتیجے کو واپس مکہ میں، اپنے باپ کے خون کے ناطوں کے پاس لے کر ضرور آئے گا۔
یہ معاملہ بڑھ کر چھٹی صدی عیسوی کے عرب میں بچے کی کفالت اور تحویل کا روایتی مقدمہ بن کر رہ جائے گا۔ ویسے بھی، مطلب کو قانونی طور پر سبقت حاصل تھی ۔ اس دور میں پدرانہ حقوق، مادرانہ کی نسبت زیادہ ہوا کرتے تھے مگر خود مطلب کے لیے اس معاملے کو اپنے حق میں لانے کی صرف یہی وجہ نہیں تھی۔ جس چیز نے انہیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کیا، وہ تو در اصل ان کی اپنی محرومی تھی۔ وہ اس نئے دریافت شدہ بھتیجے کو مکہ میں واپس لا کر پال پوس سکتے تھے۔ جس طرح تین نسلوں بعد محمد صلعم کے ساتھ پیش آیا، مطلب کے یہاں بھی جانبر ہونے والی اولاد میں صرف بیٹیاں ہی بچی تھیں۔ چنانچہ، مطلب کو امید پیدا ہوئی تھی کہ وہ اپنے بھتیجے کو لے پالک بیٹا بنا سکتے ہیں۔ ان کی دلی مراد بر آ سکتی تھی۔ تاریخ میں تمام روایات ان کی اس بابت بے صبری صاف بیان کرتی ہیں۔ انہوں نے اطلاع پاتے ہی، مزید کوئی وقت ضائع کیے بغیر مدینہ کی راہ لی۔ ارادہ ،بچے کی ماں کو اسے حوالے کرنے پر آمادہ کرنا تھا۔
ایک روایت میں درج ہے کہ بچے کی ماں نے بد دلی سے یہ مطالبہ مان لیا۔ مطلب مصر تھے کہ بچے کی مکہ کے مہذب معاشرے میں بہتر پرورش ہو سکتی ہے۔ سہولیات دستیاب ہوں گے اور وہ اچھی زندگی گزار سکے گا، وغیرہ ۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ انہوں نے اس سے کہا کہ 'یہ بچہ مکہ سے تعلق رکھتا ہے۔ وہیں کا ہے۔ '
ایک دوسری روایت میں ملتا ہے کہ توقع کے عین مطابق بچے کی ماں نے صاف انکار کر دیا۔ مطلب نے اسے منانے کی بہتیری کوشش کی مگر ناکام رہے۔ بالآخر تنگ آ کر، انہوں نے بچے کو اغوا کر لیا۔ اسے اپنے ساتھ اونٹ پر بٹھایا اور مدینہ سے رخصت لی۔ اس بچے کی ماں کو جب تک خبر ہوتی ، مطلب بچے کو لے کر مدینہ سے نکل چکے تھے ۔ ماں کے پاس سوائے آہ و بکا، رونے دھونے کے کوئی چارہ نہیں تھا۔
دوسری روایت اس لیے بھی حقیقت پر مبنی نظر آتی ہے کہ اس کے ساتھ کئی حقائق بھی جڑے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ مطلب نے مدینہ سے واپسی پر لڑکے کی شناخت چھپا لی۔ امکان یہ تھا کہ مدینہ میں بچے کے ننھیال کے لوگ، بھائی بند اس کو بازیاب کرانے ضرور آئیں گے۔ چنانچہ، مطلب نے بجائے بھتیجے اس کو غلام کے طور پر شناخت کرانا شروع کر دیا۔ سات سالہ لڑکے کو یوں 'عبد المطلب' کہا جانے لگا جس سے مراد 'مطلب کا بندہ' یا 'مطلب کا غلام' ہے۔ وقت کے ساتھ لڑکے کا یہ نام پختہ ہو گیا۔ اس واقعہ کے پچاس سال بعد یہی لڑکا اپنے سب سے چھوٹے بیٹے عبداللہ کی جان بچانے کے لیے ہبل کے سامنے نیزے گرا رہا تھا۔ عبداللہ محمد صلعم کے والد ہوں گے اور ان کی پیدائش سے پہلے ہی اسی شہر مدینہ میں وفات پا جائیں گے۔
کیا پوتا اپنے دادا کی جائے پیدائش میں نیا گھر بنا سکتا ہے؟ یوں سمجھیے کہ اس داستان کے بیانیے میں آگے بڑھنے کے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ مگر، پہلی نظر میں محمد صلعم کی مدینہ سے جس قدر گہری نسبت نظر آتی ہے، وہ حقیقت میں نہیں ہے۔ یعنی، چھٹی صدی عیسوی میں جب مبینہ طور پر مطلب نے اپنے بھتیجے کو اغوا کیا تھا، اس وقت مدینہ میں عبد المطلب کی والدہ اور نہ ہی ان کے اہل و اعیال میں سے کسی نے ان پر ددھیال کے حق کے اس دعویٰ کو چیلنج کیا تھا۔ مراد یہ ہے کہ اس دور میں واقعی یہ حق ددھیال کا ہوا کرتا تھا اور ماں کی نسبت کمتر حق تھا۔ محمد صلعم کی نکر دادی کو یوں ہی ، تن تنہا، روتا اور ہلکان چھوڑ دیا گیا تھا۔ بعد اس روز کے اس معاملے کی کبھی بازگشت بھی سنائی نہیں دی۔ عبد المطلب کے ننھیال نے چپ سادھ لی تھی۔ اس دور میں بھی، اگر یہ معاملہ مکہ کے علاوہ کسی دوسری جگہ سے تعلق رکھنے والے شخص کا ہوتا تو یقیناً مدینہ کی اجتماعی یاد داشت میں یہ واقعہ کسی کو یاد بھی نہ رہتا۔
پھر یہ خیال ،قبیلہ قریش کا ایک حاکم جب دن دھاڑے مقامی لڑکے پر دعویٰ کرنے پہنچ جائے اور جب اس کی منشاء کے مطابق نتائج نہ نکلیں تو وہ اس لڑکے کو اغوا بھی کر لے۔ یہ مثال مکہ کے مقابلے میں مدینہ کی حیثیت کا پتہ دیتی ہے۔ مدینہ، مکہ کے مقابلے میں جغرافیائی بلکہ نفسیاتی طور پر بھی صرف ایک دوسرے درجے کا قصبہ ہوا کرتا تھا۔ اگر ایک طرف مکہ خطہ حجاز میں تجارتی راہداری میں واقع ہونے اور حرم کی وجہ سے کاروبار اور تقدیس کا ابھرتا ہوا مرکز تھا تو دوسری طرف مدینہ اس بڑے منظر نامے میں صرف ایک سنگ میل تھا۔ یہ کسی بھی صورت منزل نہیں تھا۔ یہ تو صرف ایک زرعی نو آبادی تھی جس میں کھجور کے باغات سے نہ صرف مدینہ کے باسیوں کے لیے خوراک کا سامان بلکہ ساتھ ہی بیچنے کے لیے نباتاتی شیرہ، شراب، جڑ سے کشید کیا ہوا تیل، لکڑی کا کوئلہ اور جانوروں کے لیے چارہ مل جاتا تھا۔ کھجور کے پتوں سے کئی سبزیاں بنائی جاتی تھیں اور انہی کی ڈالیوں سے رسیوں سے لے کر چھتوں پر ڈالنے کا سامان نکالا جاتا تھا۔ الغرض، یہاں بسر کرنے والوں کے لیے اس زرخیز وادی میں زرائع معاش کے وسیع ذرائع دستیاب تھے۔ مگر یہ صرف چند لوگوں، یعنی زرعی جائیداد اور اراضی کے مالکان کے لیے دستیاب سہولت تھی۔
سماجی ڈھانچے کو بھی دیکھیں تو مکہ میں صرف ایک قبیلے یعنی قریش کا راج تھا۔ اس کی وجہ سے اس شہری علاقے میں نسبتاً توازن اور استحکام قائم چلا آ رہا تھا۔ وہاں ایک تجار کونسل اور سیاسی ڈھانچے کا وجود تھا۔ اس کے بر عکس مدینہ میں کئی قبائل آباد تھے اور ان کے بیچ تقریباً ہمیشہ سے ہی زرعی زمین کی ملکیت تنازعے کا باعث رہی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مدینہ کے ہر موضعے کے اندر ایک سے زیادہ گاؤں، علیحدہ رہ کر، قلعے کی شکل میں حفاظتی فصیلوں کے اندر بند ہو کر بسر کرتے تھے۔ یہ دیو ہیکل دیواریں دوسرے قبائل یا فریقین کے ساتھ جھڑپ میں دفاع کے کام آتی تھیں۔ حالیہ سالوں میں مدینہ کے دو بڑے قبائل اوس اور خزرج تنازعات میں گھر کر کئی بار ایک دوسرے کے بالمقابل آ چکے تھے۔ ان میں سے کسی ایک کو بر تری تو حاصل نہیں ہوئی تھی مگر اس قضیے کی وجہ سے پوری وادی میں بد امنی اور بے چینی کی فضا پیدا ہو گئی تھی۔ یہاں تنازعات کے بگڑنے اور خون ریز جھڑپوں کا خدشہ ہر وقت موجود رہتا تھا۔ مگر، ایک شے ایسی تھی جو ان کو اب بھی اکٹھا رکھے ہوئے تھی۔ یہ دونوں بڑے قبائل مکہ کے قبیلہ قریش سے شاکی تھے۔ قریش کے نزدیک یہ جاہل، دیہاتی قبائل تھے جن کے مقابلے میں وہ خاصے مہذب اور تہذیب یافتہ واقع ہوئے تھے۔ مزید یہ کہ شمال میں کھجور کے باغات میں بسر رکھنے والے ان گنواروں میں اتنی سمجھ نہیں تھی کہ وہ آپس میں امن و آشتی قائم کر کے سکون سے زندگی گزار سکتے۔ مکہ کا یہ رویہ، مدینہ کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اس کو اجتماعی طور پر اکٹھ قائم رکھنے پر مجبور کرتا تھا۔ اور مندرجہ بالا نکات ہیں جن کے سبب مدینہ محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کے لیے نئی منزل بن گیا۔
مدینہ کی طرف ہجرت خاموشی سے شروع ہوئی اور اس بابت پہلے پہل مکہ میں کسی کو کانوں کان خبر تک نہیں ہوئی۔ ہجرت کا خیال پہلی بار، اس برس حج کے موقع پر منظر عام پر لایا گیا ۔ پچھلے کئی برسوں سے ہر سال حج کے موقع پر محمد صلعم زائرین کو الہامی پیغام سے آگاہ کرتے آئے تھے۔ وہ اس بابت باقاعدہ تبلیغ کیا کرتے تھے۔ سالانہ اجتماع میں شرکت کی غرض سے آنے والے زائرین مکہ سے باہر نصب خیمے گاڑھ کر پڑاؤ ڈالا کرتے تھے۔ آپ صلعم اپنے پیروکاروں کے ہمراہ ان خیمہ بستیوں میں گشت کرتے اور زائرین کے سامنے قرانی آیات کی تلاوت کرتے تھے۔ برس ہا برس کی اس کڑی مشق کے باوجود آج تک زائرین میں سے کوئی ایک شخص بھی قائل تو نہیں ہوا تھا مگر ان میں سے تقریباً سب ہی لوگ آپ صلعم کے پیغام کو سننے پر ہمیشہ آمادہ رہا کرتے تھے۔ یہ زائرین سینکڑوں میل کا سفر کرنے کے بعد تھکن سے چور ہوتے اور یہاں پہنچ کر خیمہ بستیوں میں ان کو محظوظ کرنے کے لیے شاعروں، مبلغوں، داستان گو اور روحانیت پسندوں کا تانتا بندھا رہتا۔ زائرین کے لیے یہ لوگ تفریح کا سامان رہا کرتے۔ ویسے بھی، لوگ سمجھتے تھے کہ آخر سننے میں قباحت ہی کیا ہے؟ بالخصوص اس شخص کو تو ضرور ہی سنا جانا چاہیے جس کی چہار سو خاصی شہرت ہے۔ وہ اس کے بارے سنتے آئے ہیں کہ کس طرح اس نے قریش کو ناکوں چنے چبوا رکھے تھے اور مکہ کی تقریباً اشرافیہ اس کی جان کے در پے ہو چکی تھی۔ اس طرح کے معاملات میں جیسے آج بھی یہ کہاوت مشہور ہے، 'ہر طرح کی تشہیر، اچھی ہوتی ہے'، اس دور میں بھی درست تھی۔
اس برس مگر معاملہ یہ ہوا کہ محمد صلعم کواتنے سالوں میں پہلی بار چند سنجیدہ سامعین مل ہی گئے۔ یہ زائرین تعداد میں چھ تھے اور مدینہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے محمد صلعم کے پیغام کو خصوصی توجہ دی۔ بلکہ، ان لوگوں نے اجتماع اور رش میں خود ہی محمد صلعم کو تلاش کیا تھا۔ یہ سب قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر شاید وہ اس ابھی تک یہ نہیں جانتے تھے کہ محمد صلعم کے دادا کی والدہ کا تعلق بھی مدینہ اور وہاں بھی انہی کے قبیلے سے تھا۔ انہوں نے صرف محمد صلعم کے الہامی پیغام بارے سن رکھا تھا۔ قریش سے تو یہ اشخاص نالاں تھے ہی مگر وہ محمد صلعم کے ساتھ کیے جانے والے ناروا سلوک پر بھی برہم نظر آتے تھے۔ وہ قریش کے اس رویے، جس میں انہوں نے اپنے قبیلے کے ایک شخص کو، جس کو وہ کبھی امین سمجھا کرتے تھے، اب نہایت غیر مناسب طریقے سے رد کر کے کنبے سے بے دخل کر دیا تھا، سخت نالاں تھے۔ پھر، کعبہ کی تعمیر نو کے دوران پیش آنے والے واقعے، یعنی سیاہ پتھر کی تنصیب کی کہانی اب عرب کے طول و عرض میں مشہور ہو چکی تھی۔ تب سے، یہ داستان حکمت اور دانائی کی مثال بنی چلی آ رہی تھی اور لوگ جا بجا اس کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ مدینہ کے لوگ پچھلے کئی برسوں سے پیچیدہ معاملات میں گھرے ہوئے تھے۔ محمد صلعم کے ہاتھوں اس خوش اسلوبی سے طے پا جانے والے کلیدی معاملے کی مثال سے بھی ان کے دل میں اپنے مسائل کے حل کے لیے امید پیدا ہو گئی تھی۔ ان کا خیال یہ تھا کہ شاید محمد صلعم ان کے لیے بھی بہترین ثالث ثابت ہو سکتے ہیں۔ ابن اسحاق نے مدینہ کے ان چھ اشخاص میں سے ایک آدمی سے منسوب یہ بیان رقم کیا ہے، 'پورے عرب میں لوگ اس طرح منقسم نہیں ہوں گے، جس طرح ہم مدینہ کے لوگ بٹے ہوئے تھے۔ ہم نے سوچا، کہ شاید خدا کے حکم سے آپ صلعم ہمیں اکٹھا کرنے کی کچھ سبیل کر سکیں؟'
یہ بیان تاریخ میں اس وقت سے منسوب ہے جب مدینہ، یثرب ہوا کرتا تھا۔ مدینہ کا یہ نام جس کا مطلب 'محمد صلعم کا شہر' یا مختصراً 'شہر' لیا جاتا ہے، بہت بعد کی بات ہے۔ پھر جس برس حج کے موقع پر چھ اشخاص میں سے ایک سے یہ بیان منسوب ہے، اس وقت تک محمد صلعم کا مدینہ ہجرت کر جانا صرف ایک خواہش، خیال ہی تھا۔ بہرحال، یہ چھ اشخاص محمد صلعم کے ساتھ طویل ملاقات کے بعد خاصے متاثر ہو چکے تھے۔ وہ الہام کے قائل ہو گئے اور فوراً ہی اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے محمد صلعم سے اگلے برس حج کے موقع پر دوبارہ ملاقات کا عہد باندھا اور مدینہ واپس ہو لیے۔ مدینہ میں یہ لوگ پورا برس چوری چھپے محمد صلعم کے الہامی پیغام کی تبلیغ کرتے رہے۔
اگلے برس، 621ء میں اوائل گرما کے موسم میں حج کا اجتماع منعقد ہونا تھا۔ چونکہ قریش محمد صلعم کے در پے رہا کرتے تھے۔ اس لیے مکہ شہر کے اندر، بلکہ مضافات میں بھی محمد صلعم سے ملاقات کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اس لیے مدینہ سے آئے مختصر گروہ نے آپ صلعم کے ساتھ مکہ سے دور، تقریباً تین میل کے فاصلے پر منی کی وادی میں ملاقات کرنا طے کیا۔ اب کی بار مدینہ سے آئے اس گروہ میں اشخاص کی تعداد بڑھ کر بارہ ہو چکی تھی اور ان میں سے تین آدمیوں کا تعلق قبیلہ اوس سے تھا۔ جو ایک لحاظ سے مثبت اشارہ تھا۔ اگر اوس اور خزرج میں سے چند لوگ بھی اکٹھے ہو کر اسلام قبول کر لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ تھا کہ دونوں قبائل کے ساتھ ایک ہی نشست میں بات چیت آگے بڑھائی جا سکتی تھی۔ اس ملاقات میں ایک دوسری خوش آئند بات یہ تھی کہ در یہ بارہ اشخاص کوئی عام لوگ نہیں تھے بلکہ ان میں سے ہر ایک اپنے قبیلے میں کنبے کا سربراہ تھا۔ یہ وفد چند لوگ نہیں تھے بلکہ ایک بڑی آبادی کی نمائندگی کر رہے تھے۔
وفد نے جو تجویز پیش کی، اس کے مطابق محمد صلعم ایک ثالث کی حیثیت سے مدینہ جائیں گے اور ان کو اوس اور خزرج، دونوں ہی قبائل کی حمایت حاصل ہو گی۔ لیکن بات چیت جب آگے بڑھنے لگی تو محمد صلعم نے اصرار کیا کہ وہ مدینہ میں صرف اسی صورت تنازعات کی ثالثی کی خدمات فراہم کریں گے، اگر ان کے پیروکاروں کو بھی ان کے ساتھ ہی وہاں مستقل بسر کرنے کی اجازت ہو اور ان کا بھی اسی طرح خیر مقدم کیا جائے۔ اب تک مکہ میں قریباً دو سو لوگوں نے کھلے عام کلمہ شہادت پڑھ کر علی الاعلان اسلام قبول کر لیا تھا۔ مگر ان میں سے تقریباً سب ہی لوگ اس وجہ سے شدید مشکلات سے دوچار تھے۔ گو، مطعم کی جانب سے ملنے والی پشت پناہی کسی حد تک محمد صلعم کو تو تحفظ دے رہی تھی مگر ان کے پیروکار بدستور اپنے کنبوں اور رشتہ داروں کے ہاتھوں ہراساں کیے جا رہے تھے۔ مومنین کو اپنا طریق بدلنے پر مجبور کیا جا رہا تھا۔ اسی طرح کئی دوسرے لوگ بھی تھے۔ انہوں نے باقاعدہ اسلام تو قبول نہیں کیا تھا مگر ان کی ہمدردیاں محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ تھیں۔ وہ کھلے عام اسلام قبول کرنے سے خوفزدہ تھے۔ جس طرح مومنین اور ہمدردوں نے اب تک مشکلات کا ثابت قدمی سے سامنا کیا تھا، محمد صلعم کو ان کا بھر پور خیال تھا۔ وہ ان کی وفا کوجواباً انہی کی طرح نبھانا چاہتے تھے۔ چنانچہ، ایسا ہر گز ممکن نہیں تھا کہ محمد صلعم خود تو مکہ چھوڑ کر کسی دوسری جگہ پر سکون سے بسر کر لیں اور ان کے پیروکار پیچھے، مکہ کی اشرافیہ کے رحم و کرم پر رہ جائیں۔ محمد صلعم جہاں بھی جاتے، ان کے لیے اپنے پیروکاروں کو ساتھ لے جانا انتہائی ضروری تھا۔ مگر وہ صرف اپنی خواہش پر انہیں ساتھ نہیں لے جا سکتے تھے۔ ان کے لیے نئی جگہ پر ایک اچھی اور پر امن زندگی کی ضمانت ضروری تھی۔ اس دور میں بھی مہاجر ہو جانا، اپنے آپ میں ایک مسئلہ ہوا کرتا تھا مگر پناہ گزیں ہو کر رہنا تو سراسر عذاب تھا۔ ویسے بھی اگر یہ لوگ مکہ چھوڑ کر چلے بھی جاتے تو وہ نئی جگہ پر ہر گز مقامی آبادی پر مکمل انحصار نہیں کر سکتے تھے اور نہ ہی وہاں ہمیشہ مہمان بن کر بسر کر سکتے تھے۔ انہیں ایک مضبوط سماجی تحفظ کی ضرورت تھی۔ نئے آبادی میں ہر لحاظ سے قبولیت درکار تھی۔ یعنی، ان کے لیے یہ نئی جگہ ہر لحاظ سے گھر ہوا کرتی۔
مسئلہ یہ تھا کہ اس سے قبل اس طرح کا معاملہ کبھی پیش نہیں آیا تھا۔ محمد صلعم اور اس وفد کے بیچ مدینہ میں برابر حیثیت اور قبائلی تعلق سے بالاتر ہو کر عہد باندھنے کے نکتے بالکل نئے تھے۔ بوجوہ، حج کے اختتام تک یہ معاملات پوری طرح حل نہ ہو سکے۔ مگر، یہ طے ہو گیا کہ اگر محمد صلعم مدینہ جانے کا قصد کرتے ہیں تو وہ صرف اور صرف ایک ثالث کی حیثیت سے نہیں جائیں گے۔ ثالث کی حیثیت تو ایک غیر کی تھی اور محمد صلعم اب ایک بار پھر لاتعلق، غیر ہو کر نہیں رہنا چاہتے تھے۔ اگر مدینہ کے لوگ ان کی ثالثی کی قدر کرتے ہیں تو وہ صرف اس وجہ سے ہونا طے تھا کہ ان کے فیصلے بحیثیت خدا کے پیغمبر کی طرح قبول کیے جائیں۔
چنانچہ، یہ مذاکرات تمہیدی سمجھ اور اولین رضامندی پر اختتام پذیر ہو گئے۔ دونوں فریقین نے بہرحال حامی بھر لی کہ وہ ان معاملات کو اگلے برس حج کے موقع پر مزید آگے بڑھائیں گے۔ اس دن، مدینہ سے آنے والے وفد میں شامل بارہ کے بارہ سربراہان نے اس بابت ہاتھ ملا کر اطاعت کا عہد کرتے ہوئے محمد صلعم کی ثالثی اور اسلام قبول کر لیا۔ کہنے لگے، 'ہم پیغمبر خدا کی فرمان برداری اور اطاعت کا اعلان کرتے ہیں اور ہم عہد کرتے ہیں کہ خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہیں بنائیں گے۔ ہم چوری نہیں کریں گے، زنا سے اجتناب برتیں گے، اپنی اولاد کو قتل نہیں کریں گے اور محمد صلعم کے حکم سے نہیں پھریں گے۔' ان میں سے ایک نے زور دے کر اعادہ کیا، 'اگر ہم ایسا کریں گے تو یقیناً جنت کے حقدار ہوں گے اور اگر ہم اس عہد سے منہ موڑیں تو بے شک خدا ہمیں سزا دے یا معاف کر دے، یہ اس کی مرضی ہے۔'
مدینہ کے وفد کا مندرجہ بالا عہد اس کہانی میں ایک نئی طرز کی نشاندہی کرتا ہے۔ اب تک پیش آنے والے سارے معاملے کے محور میں تبدیلی کا اشارہ ہے۔ اس وفد نے یہاں نہ صرف خدا بلکہ محمد صلعم کی بھی فرمان برداری اور اطاعت کا اعلان کیا ہے۔ یہ گیارہ برس قبل حرا کی پہاڑی پر نازل ہونے والی وحی کے بعد پہلا موقعہ تھا کہ جب محمد صلعم صرف اور صرف ایک پیغمبر نہیں رہے تھے۔ بلکہ، اب وہ ایک رہنما بھی تھے اور انہوں نے مکہ کی اشرافیہ کے خدشات کے عین مطابق ایک سیاسی کردار سنبھال لیا تھا۔ پچاس کے پیٹے میں پہنچ کر، محمد صلعم اب الہامی تحریک کو سیاسی بنیادوں بھی استوار کرنے کے قابل ہو چکے تھے۔
مدینہ کا وفد جب واپس لوٹا تو مکہ کا ایک شخص بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اس کا نام مصعب تھا۔ محمد صلعم نے خود چن کر مصعب کو مدینہ روانہ کیا تھا اور ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ مدینہ کے لوگوں کو قرانی آیات کی تبلیغ اور تشریحات بیان کرے۔ مصعب نے یہ ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کی۔ قرانی آیات میں اتحاد اور یگانگت کا جو رنگ تھا، اس نے مدینہ کے بٹے ہوئے قبائلیوں پر خوب اثر کیا اور جلد ہی اوس اور خزرج، دونوں قبیلوں کے کئی لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔
ایک طرح سے کہیں تو مدینہ، مکہ کے برعکس جلد تیار ہو گیا تھا۔ مکہ کے لوگوں کی طرح مدینہ کے باسی بھی واحدانیت کے صرف ایک حد تک قائل تھے۔ وہ مکہ کی ہی طرح 'اللہ' کو بطور برتر ذات مانتے آئے تھے مگر اس کے ساتھ منات کی بھی پوجا کرتے تھے۔ منات کعبہ میں نصب اوتاروں، 'خدا کی بیٹیوں' میں سے ایک تھا۔ مگر مکہ کے بر عکس چونکہ مدینہ کی معیشت کا انحصار حرم کی تحویل اور حج کی آمدن پر نہیں تھا، اس لیے اس شہر کے لیے خدائی اوتاروں کو ترک کر دینا نسبتاً آسان تھا۔ اسی طرح، مدینہ میں مکہ کی طرح، قریش کی طرح قبائلی اور 'آباؤ اجداد کے طریق' جیسا بھی کوئی قضیہ نہیں تھا۔ بلکہ، ان کے لیے قران میں بیان کردہ قدیم روایت اور نسبت زیادہ برتر تھی۔ مدینہ کے لوگوں کے لیے اس قدیم روایت کو سمجھنا اس لیے بھی آسان تھا کیونکہ وہ پہلے سے ہی اس نسبت بارے سنتے آئے تھے۔ یعنی، مدینہ میں اوس اور خزرج کے قبائل کے ساتھ تین یہودی قبیلے بھی ایک عرصے سے بسر رکھتے تھے اور انہوں نے قدیم روایت کا پہلے سے یہاں پرچار کر رکھا تھا۔
آج کے جدید یہودیوں کے لیے شاید یہ حیرت کا باعث ہو مگر یہ سچ ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں خطہ حجاز میں یہودیوں کی کئی بستیاں تھیں۔ عرب و حجاز کے آج کے جدید سیاسی اور مذہبی منظر نامے میں یہ ناممکن نظر آتا ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے آج مغربی ممالک میں عیسائی اس حقیقت کو جان کر حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ عیسائیت در اصل مشرق وسطیٰ سے تعلق رکھنے والا مذہب ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ تب بازنطینی سلطنت کافی پھیلی ہوئی تھی۔ اور پھیلاؤ کا قصہ یوں تھا کہ سوائے جزیرہ نما عرب ہر طرف ہی اس کا بول بالا تھا۔ خطہ حجاز میں بھی اس کا اثر اس لیے کمزور تھا کہ یہ خطہ مرکز سے کافی دور اور پہاڑی سلسلوں کے باعث کٹ کر واقع تھا۔ اسی وجہ سے اس دور میں حجاز کے سوا تقریباً مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کی حکمرانی تھی۔ یہ صرف ایک وجہ نہیں بلکہ اہم نکتہ ہے۔ نکتہ یہ ہے کہ بازنطینی سلطنت کی ریاست میں اعتقاد سیاست کا پیروکار بن چکا تھا۔ چنانچہ، عوامی حلقوں کے لیے عقلمندی کا ثبوت یہ تھا کہ اسی اعتقاد پر قائم رہا کریں جو طاقتور حلقوں کی ترجیح تھی۔ انتظام کا بھی یہ حال تھا اس وقت، بازنطینی دستے، ہرقل کی سپہ سالاری میں ایک بار پھر فارس پر سبقت قائم کرنے کے در پے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب یہ صورتحال عام تھی اور عیسائیت کا ہر طرف چرچا تھا، تب بھی یہودیت جوں کی توں جم کر باقی رہی۔ جہاں عیسائیت ریاست کا مذہب بن چکا تھا اور بوجوہ پھیل رہا تھا، وہیں ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہودیت سیاسی پشت پناہی کے بغیر بھی اس خطے کے طول و عرض میں پنپتی رہی۔ یہ نکتہ یہودیوں کے اپنے عقائد سے شدید لگاؤ کو ظاہر کرتا ہے۔
حجاز میں قریش نے یمن میں ماریب کے بند ٹوٹنے کے باعث مکہ کی طرف ہجرت کی تھی۔ مدینہ کے قبائل، اوس اور خزرج نے بھی اسی وقت قریش کے ساتھ سفر کیا تھا مگر بالآخر شمال میں مدینہ پہنچ کر قبضہ جما لیا تھا۔ جب قریش نے مکہ میں پڑاؤ ڈالا تو یہ صرف ایک بیابان اور متروک گھاٹی ہوا کرتی تھی۔ اس کے بر عکس مدینہ میں حالات یکسر مختلف تھے۔ اس وقت مدینہ میں فلسطینی یہودیوں کی کئی نسلیں آباد تھیں۔ یہ فلسطینی یہودی مختلف ادوار میں کئی وجوہات کی بناء پر مشرق وسطیٰ کے طول و عرض میں ہجرت کر کے پھیل چکے تھے۔ ان کی سب سے نامور ہجرت دوسری صدی عیسوی میں پیش آئی تھی جب شمعون بار کوخیا کی سربراہی میں قائم یہودی ریاست میں ڈرامائی بغاوت اور غذر مچ گیا تھا۔ اس وقت، فلسطین سے ہجرت کرنے والے یہودی گروہوں میں سے اکثر نے حجاز کے خطے میں، ایک رو پر واقع نخلستانوں میں مستقل بسیرا کیا تھا۔ آج کے دور میں یہ پٹی دار علاقہ اردن اور شمال مغرب عرب پر مشتمل ہے۔ اس میں شمال سے جنوب کی طرف تبوک، تیما، خیبر اور مدینہ کے علاقے شامل ہیں۔ برس ہا برس کے بعد یہ یہودی عرب کے قبائلی اطوار میں اس قدر رنگ گئے کہ بظاہر ان پر خالص عربوں کا گماں ہوتا تھا۔ یہ بھی مقامی آبادیوں کی طرح خدا کو روزمرہ بول چال میں 'اللہ' کہہ کر پکارنے لگے تھے۔ ان میں سے اکثر کے نام بھی عربوں کی ہی طرح ہوا کرتے۔ مثال کے طور پر، اس دور کے یہودیوں میں 'عبداللہ' نام بہت عام تھا۔ یہ حجاز کی عربی زبان بولتے تھے اور مقامی عرب رسم و رواج پر چل پڑے تھے۔ ان کے لباس اور ظاہری تراش خراش میں بھی کچھ خاص فرق نہیں رہا تھا، سوائے یہ کہ یہ اب بھی کٹر یہودیوں کی طرح زلف رکھتے تھے۔ مگر، یہ فرق بھی کچھ اتنا بڑا نہیں تھا کہ اس دور میں اس طرح کے چھوٹے موٹے فرق عرب قبائل میں بھی عام تھے۔ صرف ایک چیز تھی جو ان یہودیوں کو مقامی عرب آبادیوں سے ممتاز کرتی تھی۔ یہ ان کا خدا پر خصوصی دعویٰ ہوا کرتا تھا۔ خود خدا کی بجائے وہ اس بات پر مست تھے کہ ربانی ذات نے ان کے آباؤ اجداد سے کبھی کلام کیا تھا۔ ان کے پاس اس کا واضح ثبوت، ایک کتاب کی شکل میں موجود تھا۔
اس دور میں، جب چند ہی لوگ تھے جو پڑھ اور لکھ سکتے تھے۔ ایک کتاب کی حیثیت علامت، بت کی سی ہوا کرتی تھی۔ چرمی کاغذوں پر رقم کیے ہوئے الفاظ بڑائی کی کسی بھی دوسری حد سے بڑھ کر ہوا کرتے تھے۔ یہ مجموعے مقدس تصور کیے جاتے تھے اور ان کی دیکھ بھال بھی کچھ انہی خطوط پر نسل در نسل جاری رکھی جاتی تھی۔ یہی نہیں بلکہ عربوں کے لیے یہ غیر زبان، یعنی لاطینی میں رقم ہونے کے باعث خاصے پراسرار بھی تھے۔ یہودیوں میں ہر قبیلے کے یہاں تورات کا اپنا قبائلی نسخہ ضرور ہی ہوتا تھا اور وہ اس کی کسی بھی دوسری شے ، اثاثے سے بڑھ کر احترام کرتے اور پابوسی بجا لاتے تھے۔ مقدس کتابوں جیسے تورات کے نسخوں کی آج بھی یہودیوں کے معبدوں میں اسی طرح تکریم کی جاتی ہے۔ یہودیوں کے لیے تورات اور عیسائیوں کے یہاں انجیل کے باعث ان دونوں ہی مذاہب کے پیروکاروں کو 'اہل کتاب' کہا جاتا تھا۔ لیکن، اب حالات تبدیل ہو چکے تھے۔ خدا عیسائیوں اور یہودیوں کے علاوہ عربوں سے بھی ہم کلام ہو چکا تھا۔ یہی نہیں بلکہ اب کی بار، جیسا کہ قران میں درج ہے، 'تمہاری اپنی زبان میں۔۔۔' مخاطب تھا۔ یعنی، خالص عربی زبان میں بول رہا تھا۔ یہی نہیں بلکہ قران تو تورات اور انجیل، حتی کہ اس وقت تک نازل ہونے والے تمام آسمانی صحیفوں کی نہ صرف تصدیق کر رہا تھا بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر ان مقدس کتابوں کی جگہ لے رہا تھا۔ یہ گزشتہ تمام کتابوں سے بہتر اور مبینہ طور پر زمانے بھر کی اغلاط اور نقائص کی درستگی کا دعویدار بھی تھا۔
قران کو ابھی تک دوسری مقدس کتابوں کی طرح چرمی کاغذ پر تحریر نہیں کیا جاتا تھا اور اس سے کوئی خاص فرق بھی نہیں پڑتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ نازل ہونے والی ہر نئی وحی فوراً ہی یاد کر لی جاتی۔ یہ آیات اس قدر فصیح اور بلیغ زبان میں تھیں کہ ایک یا دو بار سننے پر سامع کے ذہن میں نقش ہو کر رہ جاتیں۔
ویسے بھی یہ جو دور تھا، اس میں ابھی تک لکھنے کا رواج عام نہیں ہوا تھا۔ لوگ ابھی تک حفظ کرنے کو لکھنے پر ترجیح دیا کرتے تھے۔ یہ لکھنے کا رواج تو طباعت اور چھپائی کے ساتھ، کافی عرصہ بعد عام ہوا ہے۔ لفظ صفحات کی بجائے یاد داشت میں زندہ رہتے تھے اور پھر قرانی آیات میں تو صوتی ہم آہنگی اور لفظی تجنیس کثرت سے پائی جاتی تھی۔ ہر آیت صرف چند الفاظ نہیں تھے بلکہ یہ متوازن قافیوں اور دوہری تشبیہات پر مشتمل نہایت عمدہ کلام تھا۔ یوں، یاد کرنا اور بھی آسان ہو گیا۔ 'اقراء' – یعنی، پڑھو۔ مراد یہ ہے کہ، الہامی آواز نے بھی پہلی وحی میں محمد صلعم کو یہی حکم دیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ لغوی معنوں میں قران کو با آواز بلند اور خوش الحانی سے پڑھنے پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ ہر بار جب اس کی یوں تلاوت ہوتی، کوئی نہ کوئی سن رہا ہوتا اور یوں بار بار تلاوت کی جاتی تو ایک وقت آنے پر یہ سننے والی یاد داشت میں پختہ ہوتا چلا جاتا۔ مدینہ میں مصعب نے یہی کام سر انجام دیا۔ الہامی پیغام جلد ہی عام ہو گیا اور زیادہ سے زیادہ لوگ قرانی آیات کے شیریں اور خوش الحان کلام کے دلدادہ ہو تے چلے گئے۔ نہ صرف یہ بلکہ زیادہ اہم یہ ہے کہ الہامی پیغام کی اصل یعنی، اتحاد اور یگانگت کے پیغام کو سمجھنے لگے، اس کے قائل ہو گئے۔
اس کا ثبوت یہ تھا کہ اگلے برس حج کے موقع پر، یعنی 622ء میں مدینہ سے آنے والے وفد میں بہتر کنبوں کے سربراہان موجود تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں سربراہان کی ایک ساتھ موجودگی، ایک طرف تو مدینہ کے لوگوں کی سنجیدگی اور دوسری طرف محمد صلعم کے الہامی پیغام کے پر اثر ہونے کا پتہ دیتی ہے۔ لیکن، اس کے باوجود اب بھی دونوں فریقین کو ایک دوسرے کی طرف سے یقین دہانی اور بھروسے کی اشد ضرورت تھی۔ اگر مدینہ کے لوگ محمد صلعم کے ہاتھ پر بیعت کر کے، ان کو مکمل تحفظ اور اتحاد کا یقین دلا دیتے ہیں تو ان پر لازم ہو جاتا کہ وہ اس وعدے کو پورا کرنے کے لیے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے۔ یہی بات محمد صلعم پر بھی لاگو ہوتی تھی۔ مکہ کے مومنین کے سربراہ کی حیثیت سے ان پر بھی مدینہ کے لوگوں کی حفاظت اسی طرح لازم ہو جاتی۔ پچھلے برس طے ہونے والا معاہدہ ادھورا تھا۔ اسی لیے یہ، 'عورتوں کا پیمان' کہلاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ یہ ادھورا معاہدہ عورتوں کے مابین طے پایا تھا یا اس کا کسی طور عورتوں سے تعلق تھا۔ بلکہ اس لیے کہ اس وقت یہ معاہدہ دفاع کی غرض سے ایک دوسرے کے تحفظ دینے کی شق کے بغیر طے ہوا تھا۔ یعنی جنگ و جدل، دفاع اور اسلحے کا استعمال مردوں سے موسوم ہے۔ یہ معاہدہ جس طور بھی تھا، اسی وقت کامل ہو سکتا تھا جب دونوں فریقین ایک دوسرے کے دفاع کی بھی حامی بھر لیں۔ یعنی اس کو 'مردوں کا پیمان' بنا لیں۔
مدینہ کے وفد میں ابھی تک محمد صلعم کی اس بابت قول و قرار اور وعدے کو لے کر بے چینی پائی جاتی تھی۔ چنانچہ اکثر نے زور دے کر پوچھا، 'اگر ہم یہ وعدہ کر لیں اور خدا آپ صلعم کو فتح بخشے، تو کیا ایسا تو نہیں ہو گا کہ وہ ہمیں چھوڑ کر اپنے لوگوں کے پاس واپس مکہ چلے جائیں گے؟' محمد صلعم نے نہایت سنجیدگی سے جواب دیا، 'میں تمہارا ہوں اور تم میرے ہو۔ تمہارا دشمن میرا دشمن اور تمہارا دوست میرا دوست ہے'۔ یوں یہ معاملہ طے پا گیا۔ محمد صلعم کا اب قریش یا مکہ سے کوئی واسطہ باقی نہیں رہا تھا۔ انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنا تعلق مدینہ سے جوڑ لیا اور مدینہ کو ہی اپنی منزل بنا لیا۔ مدینہ کے لوگوں نے آپ صلعم کی حفاظت اور مدد کی قسم اٹھائی تھی، یعنی عربی میں 'نصر' کا وعدہ کیا تھا۔ اب مدینہ کے مومنین 'انصار' کہلائے جائیں گے۔ جبکہ دوسری طرف محمد صلعم کے ساتھ جانے والے مکہ کے مومنین 'مہاجر' یعنی 'ہجرت کرنے والے' ہو جائیں گے۔
ایک کے بعد دوسرے، مدینہ کے وفد میں موجود ہر کنبے کے سربراہ نے محمد صلعم کا ہاتھ تھام، بغل گیر ہو کر قسم اٹھائی کہ، 'ہم تم سے ہیں اور تم ہم سے ہو۔ تم یا تمہارا کوئی بھی ساتھی ہمارے پاس آئے گا، ہم اس کی اس طرح حفاظت کریں گے، جس طرح ہم اپنی حفاظت کرتے ہیں'۔ لیکن عملی طور پر یہ معاہدہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر تھا۔ مثال کے طور پر، کئی برس بعد مدینہ کے ایک شخص نے اس روز کو یاد کر کے کہا، 'ہم نے در اصل یہ وعدہ کیا تھا کہ مدینہ کے لوگ رسول خدا کی سپہ سالاری میں جنگ تک کر گزریں گے۔ امن یا جنگ، سختی یا سکھی ہر دو حالتوں میں ان کی اطاعت اور فرمانبرداری کریں گے۔ کسی بھی قربانی سے گریز نہیں کریں گے۔'
622ء کے موسم گرما سے ہجری کیلنڈر کا آغاز ہوتا ہے۔ لفظ ہجری سے مراد 'ہجرت' لی جاتی ہے مگر عربی زبان میں اس لفظ کا ماخذ 'ہجر' ہے جس کے نفسیاتی اثر اور معنی کہیں گہرے ہیں۔ اس کا مطلب کسی چیز سے علیحدہ کر دینے، کاٹ پھینکنے کے ہیں۔ اس لفظ کے معنوں میں بل دینے والے درد کا احساس بھی شامل ہے جو کسی شے کو کاٹ کر علیحدہ کرنے سے متعلق ہو سکتا ہے۔ اسی وجہ سے بعد ازاں قران بھی ہجرت کو بے دخلی کے معنوں میں بیان کرے گا۔ مثلاً یہ آیت جس میں کہا جائے گا کہ ، '۔۔۔ان کی روش یہ ہے کہ رسول کو اور خود تم کوصرف اس قصور پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب، اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔۔۔؟' ۔
ایسے لوگ جو کسی مقام، جگہ سے گہری نسبت رکھتے ہوں۔ ان کے لیے اس طرح علیحدگی اور جدا ہونے کا امکان نہایت ہولناک ہو سکتا ہے۔ ایک طرح سے وہ خود کو اپنی ناڑ سے جدا کر رہےتھے۔ انہیں قبیلے اور کنبے، یہاں تک کہ اپنے خاندان تک کو چھوڑنا پڑ رہا تھا۔ پھر کعبہ سے الگ نسبت تھی۔ کعبہ کی مثال تو قطب ستارے کی تھی۔ یہ ان کا تعارف تھا۔ اسی کی بدولت تو وہ دنیا میں پہچانے جاتے تھے بلکہ اسی کی نسبت میں ان کی بقا تھی، نام تھا۔ چنانچہ، ہجرت کرنے والے ہر شخص کو اس کام کے لیے ہمت اور ایمان درکار تھا۔ یا شاید، اس طرح کی ہمت صرف اور صرف ایمان اور یقین کی بدولت ہی میسر آ سکتی ہے۔
محمد صلعم کے کہنے پر مکہ کے مومنین نے مدینہ کے لیے ان سے پہلے ہی نکلنا شروع کر دیا۔ یہ چھوٹے گروہوں میں نکلتے تا کہ گرد و پیش میں دوسرے لوگوں کو شک نہ ہو۔ لیکن مکہ جیسے گنجان شہر میں بغیر اطلاع کے یوں ہی ایک روز نکل جانا ناممکن تھا۔ مومنین کے والدین، بہن بھائیوں اور دوسرے رشتہ دار فوراً ہی بھانپ گئے۔ وہ انہیں روکنے کی کوشش کرنے لگے۔ زبانی کلامی آمادہ کرتے یا پھر ضرورت پڑنے پر طاقت کا استعمال بھی کیا جانے لگا۔
مثال کے طور پر ایک مہاجر کی زبانی یہ واقعہ ملاحظہ ہو۔ 'جب ہم نے مدینہ جانے کا فیصلہ کر لیا تو ایک گروہ تشکیل دیا۔ اس گروہ میں ہم تین لوگ تھے۔ طے یہ ہوا کہ ہم اگلی صبح مکہ شہر سے چھ میل باہر جھاڑ دار جگہ 'ادت' پر ملیں گے اور پھر وہیں سے مدینہ کے لیے اکٹھے روانہ ہو جائیں گے۔ اگر ہم میں سے کوئی بھی شخص مقررہ وقت پر اس مقام تک نہ پہنچ سکا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اسے طاقت کے زور پر روک لیا گیا ہے اور باقی دو لوگ اس کے بغیر ہی اپنا سفر جاری رکھ سکتے ہیں۔' اگلی صبح ان میں سے صرف دو لوگ ہی طے کردہ مقام پر پہنچ پائے۔ تیسرے شخص کو راستے میں اس کے رشتہ داروں نے روک لیا تھا۔ روکنے والا اس کا چچا تھا اور اس کے ساتھ ابو جہل بھی موجود تھا۔ ابو جہل نے اسے کہا کہ اس کی ماں نے قسم اٹھائی ہے کہ اگر آج اس نے اپنے بیٹے کو نہ دیکھا تو وہ ساری عمر نہ تو بالوں میں کنگھی کرے گی اور نہ ہی صحرا کی دھوپ سے سایہ تلاش کرے گی۔ وہیں مر جائے گی۔ چنانچہ، وہ ان کے ہمراہ واپس ہو لیا۔ راستے میں انہوں نے اس کو گھیر لیا اور زمین پر گرا کر ہاتھ پاؤں سے باندھ لیا۔ پھر وہ اس پر تشدد کرنے لگے اور اسلام سے پھرنے کا حکم دیا۔ اس کے چچا نے کہا، 'یہ اسی طرح ہونا چاہیے۔ مکہ کے لوگوں کو چاہیے کہ اپنے بیوقوفوں کا دماغ یوں ہی ٹھکانے لگائیں جس طرح ہم نے اپنے اس بیوقوف کی درگت بنائی ہے۔'
اب تو عورتوں کے ساتھ بھی ناروا سلوک شروع ہو گیا۔ ام سلمہ کی مثال آج بھی عام ہے۔ یہ وہی خاتون ہیں جو بعد ازاں بیوگی کے بعد محمد صلعم کی چوتھی منکوحہ بیوی ہوں گے۔ ام سلمہ کا واقعہ بھی خود ان کی زبانی روایت کا حصہ ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کے رشتہ داروں نے انہیں اونٹ پر سوار ، اپنے شوہر اور نوزائیدہ بچے کے ہمراہ مکہ سے نکلتے دیکھا تو آگ بگولہ ہو گئے تھے۔ انہوں نے فوراً ہی اونٹ کو گھیرے میں لے لیا اور ان کے شوہر سے مخاطب ہوئے، 'تم جہاں چاہتے ہو چلے جاؤ لیکن خیال ذہن سے نکال دو کہ ہم اپنی بہن کو تمہارے ساتھ جانے دیں گے'۔
ام سلمہ مزید بتاتی ہیں، 'انہوں نے میرے شوہر کے ہاتھ سے اونٹ کی نکیل چھین لی اور مجھے کھینچ کر اس سے دور لے گئے'۔ اسی اثناء میں ان کے سسرال کے لوگ بھی آن پہنچے اور صورتحال مزید بگڑ گئی۔ اب جھگڑا یہ تھا کہ ام سلمہ کی بانہوں میں نوزائیدہ بچہ کس کی تحویل میں رہے گا؟ کیا اس پر ام سلمہ کے خاندان کا حق ہے یا یہ ان کے شوہر کے خاندان کی تحویل ہے؟ دیکھتے ہی دیکھتے دونوں اطراف میں کھینچ تان شروع ہو گئی اور 'وہ بچے کو گھسیٹنے لگے۔ جس کو دیکھو، بچے کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔ اسی دھکم پیل میں بیچارے کا کندھا ہل گیا۔ وہ درد سے بلبلا اٹھا۔'
آخر کار، ام سلمہ کے شوہر کے خاندان نے بچہ ہتھیا لیا اور ام سلمہ کو ان کا خاندان اپنے ساتھ لے گیا۔ ان کے شوہر اکیلے رہ گئے اور انہیں چار و نا چار تنہا ہی مدینہ جانا پڑا۔ ام سلمہ اس روایت میں درد بھری آواز سمو کر کہتی ہیں، 'یوں، میں اپنے شوہر اور بچے سے علیحدہ کر دی گئی۔ میرے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ میں روز وادی میں آ کر بیٹھ جاؤں اور روتی رہوں۔' یہاں تک کہ دونوں اطراف میں لوگوں کے دل پسیج گئے۔ بتاتی ہیں کہ، 'تب میں نے اونٹ پر کاٹھی چڑھائی اور بچے کو اپنی بانہوں میں سمیٹ کر تھام لیا اور اکیلی ہی مدینہ کی طرف چل پڑی۔ بیابان راستے میں میرے ساتھ خدا کے علاوہ کوئی ذات نہیں تھی۔'
یہ ہجرت کیا معنی رکھتی ہے؟ ایک جوان مرد کو سبق سکھانے کے لیے سگے رشتہ داروں کے ہاتھ تشدد کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔ ایک تن تنہا عورت کو شدید نفسیاتی اور جسمانی دباؤ کے بعد زخمی نوزائیدہ بچے کو ساتھ لیے تن تنہا ہی صحرا میں نکلنا پڑتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والے خاندان کے افراد نڈر ہو کر بلا تامل انہیں روکنے کے لیے ہر حربہ استعمال کرتے ہیں۔ اور جب کچھ نہیں بن پڑتا تو بے بس ہو جاتے ہیں۔ پھر، جب جانے والے چلے جاتے ہیں تو اپنے پیچھے ایک مہیب خاموشی چھوڑ جاتے ہیں۔ کل یہیں تھے، آج نہیں ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے مر گئے ہوں۔ ہر جانے والے کے ساتھ شہر میں خالی پن کا اثر بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہ خلا اس وقت زیادہ شدت سے محسوس ہوتا ہے جب نامی گرامی لوگ جیسے عمر اور عثمان جو مکہ کی اشرافیہ سے تعلق رکھتے ہیں، بردبار اور سیانے لوگ ہیں، مکہ چھوڑ کر نکلتے ہیں تو اپنے پیچھے رہنے والوں کے لیے کئی سوال بھی چھوڑ جاتے ہیں۔ 622ء کے موسم گرما میں، ایک کے بعد دوسرا گھر یوں ہی خالی ہوتا گیا۔ متروک کر دیا گیا۔ صبح کے وقت لوگ کسی گھر کے قریب سے گزرتے تو اس کے کواڑ ہوا سے کھلے ملتے اور اندر سامان ویسے کا ویسا ہی دھرا، مکینوں سے خالی ملتا۔ وہ سمجھ جاتے کہ پچھلی رات یہ لوگ مکہ کو چھوڑ کر چلے گئے۔ وہ جان جاتے کہ یہ بھی محمد صلعم کے پیروکار تھے۔ یوں اس برس، ستمبر کے مہینے تک مکہ شہر میں سے سینکڑوں مرد، عورتوں اور بچوں نے ہجرت کر لی۔
مکہ کے با اثر حلقوں میں سے چند افراد جیسے ابو جہل نے اب بھی جوں کا توں سخت رویہ روا رکھا تھا۔ مثال کے طور پر ایک محفل میں ناک سکوڑ کر بولا، 'کوئی شخص ان کے جانے پر آنسو نہیں بہائے گا'۔ لیکن لوگ رنجیدہ تھے تو روتے بھی رہے۔ محسوس ہوتا تھا جیسے کسی نے زبردستی ان کو اپنے پیاروں سے جدا کر دیا ہے۔ پورا شہر اس طرح سوگوار تھا جیسے ہر گھر میں موت واقع ہو گئی ہو۔ رفتہ رفتہ غم کے ساتھ غصہ بھی شامل ہو گیا۔ لوگ محمد صلعم پر سیخ پا تھے جو اس رنج اور غم کے ذمہ دار تھے۔ محمد صلعم کے لیے موزوں تو یہ تھا کہ وہ مدینہ جانے والے پہلے قافلے کے ساتھ ہی مکہ سے نکل جاتے مگر وہ مکہ میں آخری پیروکار کے حفاظت سے روانہ ہو جانے تک وہیں ٹکے رہنے پر بضد تھے۔ ان کو لاحق خطرات کے پیش نظر دو قریبی ساتھی، یعنی ابو بکر اور علی ان کے ساتھ مکہ میں ہی موجود رہے۔ لیکن پھر مہلت کا وقت ختم ہو گیا۔ اس سے پہلے کہ معاملات سنبھالنے کا موقع ملتا، محمد صلعم کو پناہ دینے والے عمر رسیدہ مطعم انتقال کر گئے۔ مدینہ پہنچنے سے قبل ہی تحفظ کا یہ سہارا بھی ہاتھ سے نکل چکا تھا۔
ابن اسحاق لکھتے ہیں، 'قریش دیکھ سکتے تھے کہ پیغمبر خدا نے اپنی تمام تر وفا داریاں ان کے قبیلے اور علاقے سے بھی باہر جوڑ لی تھیں اور ان کے پیروکار نئی جگہ پر منتقل ہو رہے تھے۔ وہ اب ان کے حملوں سے محفوظ ہو چکے تھے۔ بعد اس کے، ڈر یہ تھا کہ محمد صلعم اپنے ماننے والوں کے پاس مدینہ چلے جائیں گے اور نئے اتحادیوں کے ساتھ مل کر مکہ پر حملہ کر دیں گے۔ اس سے پہلے وہ صرف متفکر رہا کرتے تھے، اب وہ پہلی بار محمد صلعم سے خوفزدہ بھی تھے۔ چنانچہ اس بابت تجار کونسل جو قبیلے کے اہم معاملات کو دیکھا کرتی تھی، فوراً جمع کر لیا گیا۔ ' قریش کے خدشات اپنی جگہ پر بجا تھے۔ محمد صلعم نے جس طرح مکہ کے سماجی ڈھانچے پر کاری ضرب لگائی تھی، اس کے بعد کون جانتا تھا کہ اب ان کا اگلا قدم کیا ہو گا؟'
یہ خدشات اپنی جگہ مگر اس وقت مکہ میں جنگ کے خطرات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ ابن اسحاق کی تصانیف کو بھی دیکھیں تو وہ واضح طور پر مستقبل کو ماضی کے تناظر میں بیان کرنے کی کوشش میں نظر آتے ہیں۔ مکہ کی اشرافیہ نے مدینہ کے لوگوں کو کبھی سنجیدہ نہیں لیا تھا۔ ان کے نزدیک مدینہ کے دو بڑے قبائل اوس اور خزرج آپس میں گتھم گتھا ہو کر سوائے اپنا، کسی دوسرے کا نقصان نہیں کر رہے تھے۔ پھر، یہ بھی تھا کہ محمد صلعم نے معاہدے کے مطابق مدینہ کی حفاظت اور دفاع کی ضرورت پیش آنے پر مسلح جدوجہد کی حامی تو بھر لی تھی مگر اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا کہ اب یقیناً ہی مکہ اور مدینہ کے بیچ فوراً جنگ چھڑ جائے گی۔ مدینہ کی کل آبادی تقریباً مکہ کے برابر تھی، یعنی دونوں ہی شہر پچیس سے تیس ہزار نفوس پر مشتمل تھے مگر یاد رہے، مدینہ کے لوگ صرف دہقان تھے۔ ان کی گزر بسر زراعت پر تھی اور وہ مکہ کی طرح سیاسی اور ریاستی معاملات سے نابلد تھے۔ وہ تیز طرار اور جنگجو نہیں تھے۔ یہ تو صرف مدینہ کا احوال ہے۔ محمد صلعم خود بھی تو آج تک عدم تشدد کا پرچار کرتے آئے تھے۔ بلکہ عملی طور پر بھی انہوں نے مکہ میں تشدد کا جواب عدم تشدد سے ہی دیا تھا، جو واضح طور پر ایک کاری ہتھیار ثابت ہوا تھا۔ چنانچہ، جس جنگ و جدل بارے مکہ کی اشرافیہ تجار کونسل میں جمع ہو کر سوچ بچار کر رہی تھی، وہ ہتھیاروں کی نہیں بلکہ نظریات کی جنگ تھی۔
محمد صلعم نے دیکھتے ہی دیکھتے روایتی قبائلی نظام کے تصور کو بدل کر رکھ دیا تھا۔ وفا داری اور شناخت کو آباؤ اجداد سے علیحدہ کر کے ایک بر تر ذات، قدیم ترین روایت سے جوڑ دیا تھا۔ لیکن، اب تک ان کا یہ نظریہ ایک اصولی موقف سمجھا جاتا تھا اور اب وہ اس موقف سے نکل کر باقاعدہ عمل پر اتر آئے تھے۔ یہی نہیں وہ اس مقصد میں پوری طرح کامیاب ہو رہے تھے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ نئے لوگ ان کی عملی تحریک کا حصہ بنتے جا رہے تھے۔ اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ حالات کو اس نہج پر پہنچانے میں خود قریش کا بھی، بڑا ہاتھ تھا۔ جس طرح کے مخالفانہ حربے وہ استعمال کرتے رہے ہیں ، اس کے بعد بالآخر ایسا ہو رہنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ بلکہ، حقیقت یہ ہے کہ قریش نے محمد صلعم کو ان اطوار پر عمل کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس تلخ حقیقت کو جانتے ہوئے بھی، قریش کا خیال یہ تھا کہ مدینہ کے ساتھ دفاعی معاہدہ در اصل مکہ کے لوگوں کے ساتھ دغا بازی تھی اور تجار کونسل کے اجلاس میں محمد صلعم پر اب غداری اور بغاوت کے الزام بھی دھر دیے گئے۔
قریش کے ایک کنبے کا سربراہ چاہتا تھا کہ اس جرم کی پاداش میں محمد صلعم کو گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا جائے۔ اس نے تجویز دی، 'اس کو گرفتار کر کے زنجیروں سے باندھ دو۔ پاؤں میں بیڑیاں ڈال کر بند کر دو اور اس کو وہیں مرنے کے لیے چھوڑ دو۔' اس نے آخری نکتے، یعنی مار دینے پر زور دیا۔ لیکن، دوسرے لوگ اس تجویز پر راضی نہیں تھے کہ ان کے خیال میں یہ بازی واپس پلٹ سکتی تھی۔ مکہ میں ابھی تک بڑی تعداد میں لوگوں کی ہمدردیاں محمد صلعم کے ساتھ تھیں اور اگر انہوں نے جیل، جہاں محمد صلعم کو رکھا جاتا، اس پر حملہ کر دیا اور انہیں چھڑا لے گئے تو پھر اس صورت میں تجار کونسل کی کلی اختیار کی حیثیت کیا رہ جائے گی؟
ایک دوسرے شخص نے اپنی تجویز کی یوں وکالت شروع کی کہ، محمد صلعم کو نہ صرف مکہ بلکہ حجاز سے بھی بے دخل کر دیا جائے۔ کہنے لگا، 'کیوں نہ ہم اسے ہم بے دخل کر دیں اور اس کا اس پورے خطے میں داخلہ ممنوع قرار دیں۔ ہماری بلا سے وہ حجاز کے علاوہ جہاں چاہے اپنا ٹھکانہ کرے۔ وقت کے ساتھ اب تک ہو رہے نقصان کا ازالہ بھی ہو جائے گا اور یہاں سماجی رواداری بھی بحال ہو جائے گی'۔ مگر ایک بار پھر، یہ تجویز بھی رد کر دی گئی۔ جوابی دلیل یہ آئی کہ محمد صلعم اپنی مسحور کن قرانی آیات کے بل بوتے پر فوراً ہی خانہ بدوش قبیلوں کے دل جیت لیں گے اور مکہ بدو قبائل کے حملے کی زد میں آ جائے گا۔ کہا گیا، 'وہ ان بدوؤں کو ہمارے خلاف جمع کر لے گا اور اس طرح ہمیں نیست و نابود کر سکتا ہے۔ ہمارے ہاتھوں سے اختیار اور طاقت چھن جائے گا اور ہمارے ساتھ من چاہا سلوک کرے گا'۔
جب ایک کے بعد دوسری اور بالآخر ساری ہی تجاویز رد ہو گئیں تو ابو جہل سے کہا گیا کہ وہ ایک ایسا حتمی پلان تشکیل دے جو سب کے لیے قابل قبول ہو۔ ایسا حربہ، جس سے مقصد بھی پورا ہو جائے اور اس میں عوامی اشتعال کا بھی احتمال نہ ہو۔ ابو جہل نے سوچ کر کہا، 'سوائے بنی ہاشم، قریش کے ہر کنبے سے ایک جوان، مضبوط اور نجیب الطرفین شخص کا انتخاب کرو۔ اس گروہ کی ذمہ داری یہ ہو گی کہ وہ ایک ساتھ، جتھے کی شکل میں محمد صلعم پر حملہ کریں اور ایک ساتھ وار کر کے اسے قتل کر دیں۔ اگر وہ ایک ساتھ، ایک ہی جست میں حملہ کریں گے تو محمد صلعم کا خون تمام کنبوں کے ذمہ لکھا جائے گا اور بنی ہاشم کسی بھی صورت پورے قریش سے انتقام لینے کا سوچ بھی نہیں سکیں گے۔ وہ خون بہا لینے پر مجبور ہو جائیں گے۔'
ابو جہل کی تجویز بجا طور پر اس ستم ظریفی کو ظاہر کرتی ہے جو مشرق کا خاصہ ہے۔ یہ تجویز آگتھا کرسٹی کے مشہور ناول کا پلاٹ معلوم ہوتی ہے جس میں کئی لوگ کچھ اس طرح مل جل کر ایک شخص کو قتل کرتے ہیں کہ آخر کار قانونی طور پر کوئی ایک شخص ذمہ دار نہیں ہوتا بلکہ شہر بھر قاتل ٹھہرتا ہے۔ اگر قریش کے کئی اشخاص محمد صلعم کے قتل میں ملوث ہو جاتے تو پھر کوئی ایک شخص اس کا ذمہ دار نہ ہوتا اور یوں انتقام کا اصول ایک مذاق بن کر رہ جاتا۔ دوسری طرف آپ صلعم کے کنبے کا یہ حال تھا کہ اس کے نئے سربراہ ابو لہب یا 'شعلے کا باپ' کی بھی دلی خواہش یہی تھی۔ اس کے نزدیک دوسرے کنبے بنی ہاشم پر احسان کر رہے تھے۔ اس نے پہلے ہی محمد صلعم کو کنبے سے بے دخل کر دیا تھا اور اب اگر قریش آگے بڑھ کر ان کا قتل کر دیتے ہیں تو اس میں بھی کنبے کا مالی فائدہ تھا۔ وہ محمد صلعم کے عوض خوشی سے 'دیہ' یا خون بہا وصول کر سکتا تھا۔ اس تجویز کے مطابق قریش کے تمام کنبے، محمد صلعم کی موت کے بعد خون بہا میں برابر حصہ ڈال لیتے اور یوں نہ صرف محمد صلعم سے چھٹکارا مل جاتا بلکہ اس کے ساتھ اس کے نتائج بھی کسی ایک شخص کو بھگتنے کی ضرورت نہیں تھی۔
گو یہ نہایت سوچی سمجھی سازش تھی مگر اس کے باوجود اس کے خاکے میں ایک بنیادی نقص تھا اور یہ کوئی چھوٹا موٹا جھول بھی نہیں تھا۔ عیب یہ تھا کہ یہ کام جس قدر راز داری اور اخفا کا متقاضی تھا، قریش نے اتنے ہی زیادہ لوگوں کو شامل حال کر لیا۔ چنانچہ، اس سازش کی خبر پھسل جانا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ محمد صلعم کو اس رات حملے سے قبل ہی اس گھناؤنی سازش کی خبر پہنچ گئی۔ اگر ان تک یہ خبر کسی انسان نے نہ بھی پہنچائی ہو، روایت کے مطابق جبرائیل اطلاع لے کر پہنچ ہی گئے۔ چنانچہ، محمد صلعم نے فی الفور اپنے دیرینہ ساتھی ابو بکر کو ہمراہ چلنے کا عندیہ دے دیا۔ دوسری طرف آپ صلعم کے چچا زاد علی نے رضا کارانہ طور پر اپنے آپ کو قریش کے ساتھ مکر کرنے، یعنی گھر میں آپ صلعم کی موجودگی کا دھوکہ دینے کے لیے پیش کر دیا۔ صبح سویرے، اجالا پھوٹنے سے قبل جب قریش کے لوگ تلواریں اور خنجر سونت کر ان کے گھر کے باہر ان کے معمول کے مطابق باہر نکلنے کا انتظار کر رہے تھے، آپ صلعم گھر کے پچھواڑے میں نہایت خاموشی سے رات کی تاریکی میں نکل گئے اور خیر و عافیت سے ابو بکر کے ساتھ پہلے سے طے کردہ مقام پر جا پہنچے۔
جب صبح کی پہلی لو پھوٹی تو گھر کے اندر سے علی بر آمد ہوئے۔ انہوں نے محمد صلعم کی چادر اوڑھ کر، منہ کو بھی ڈھانپ رکھا تھا۔ جوں ہی قریش کے لوگ حملے کے لیے آگے بڑھے تو علی نے پردہ ہٹا لیا ۔ تقریباً سب ہی حملہ آور بے یقینی میں ایک ساتھ چلا اٹھے، 'تمہارا ساتھی کہاں ہے؟'
علی نے اطمینان سے جواب دیا، 'کیا تم مجھ سے ان کی نگرانی کی توقع رکھتے ہو؟ تم ہی چاہتے تھے کہ وہ چلے جائیں۔ وہ چلے گئے ہیں'۔ علی کی اس ادائے بے نیازی پر، وہاں موجود قریش کا ہر شخص علی کو قتل کرنے کے درپے تھا مگر پھر ہائے مایوسی ، چار و ناچار انہیں وہاں سے ناکام لوٹنا پڑا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ علی کو قتل کرنے سے بالضرور ہی قصاص لاگو ہو جائے گا اور ان میں سے ہر شخص کو اپنی گردن دے کر اس کا ازالہ کرنا پڑے گا۔ ان لوگوں کے طور دیکھ کر علی کسی حد تک سہم گئے تھے مگر پھر انہوں نے خود کو سنبھالا۔ اس دن کے بعد وہ بمشکل چند روز ہی مکہ میں موجود رہ سکے، جس دوران انہوں نے محمد صلعم کے چند ضروری تجارتی اور ذاتی معاملات طے کیے اور پھر تن تنہا، پیدل ہی مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے۔
قریش کی تجار کونسل ایک بار پھر جمع ہو گئی اور انہوں نے فوراً ہی محمد صلعم کا پیچھا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اس فیصلے کے تحت محمد صلعم کو زندہ یا مردہ، کسی بھی حالت میں مکہ واپس لانے والے شخص کے لیے سو اونٹنیوں کے انعام کا بھی اعلان کیا گیا۔ لیکن، محمد صلعم اور ابو بکر پہلے سے ہی جانتے تھے کہ قریش ان کو اپنے گھر میں نہ پا کر اسی طرح کی چال چلیں گے۔ وہ جانتے تھے کہ قریش سب سے پہلے شمال کی جانب مکہ سے مدینہ کی جانب ان کو تلاشیں گے۔ چنانچہ، وہ بجائے شمال، جنوب کی طرف پانچ میل دور نکل گئے اور یمن کی طرف جانے والی جنوبی تجارتی شاہراہ پر واقع ثور کی پہاڑی پر ایک اونچے غار میں پناہ لے لی۔
اس غار میں پیش آنے والے واقعات اسلامی قصائص میں ایک ممتاز حیثیت اختیار کر لیں گے۔ ویسے بھی، اس طرح کے معاملات میں غاروں کا ذکر آتے ہی تقدیس اور عقیدت کی علامتی گونج سنائی دینے لگتی ہے۔ ایسا ہمیشہ سے ہی ہوتا آیا ہے۔ یہ تاریخی لحاظ سے نہایت دلچسپ بات ہے کہ اگرچہ اوائل دور کے انسان کی ہمیشہ سے غاروں میں بسر رہی تھی مگر اس کی ان کے ساتھ حقیقی انس اور نسبت افلاطون کی مشہور تصنیف، 'تمثیل غار' کے بعد باقاعدہ ایک رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ یہ تصنیف انسانی سوچ کو پرچھائیوں یعنی باطن اور حقیقت یعنی ظاہر کے بیچ جھولتی، کھیلتی ہوئی دکھاتی ہے۔ لیکن غاروں سے منسوب داستانیں دنیا بھر میں اتنی کثرت سے مل جاتی ہیں کہ اکثر ان پر آفاقی ہونے کا گماں ہوتا ہے۔ ہر جگہ یہ ایک سی ہی ، ایک ہی طرح سے سجھائی دیتی ہیں۔ اگر آپ کا جھکاؤ فرایڈ کی طرف ہے تو آپ یقیناً جانتے ہوں گے کہ اس کے مطابق بھی غار صرف ایک غار نہیں بلکہ علامتی طور پر ایک رحم یا بچہ دان کی حیثیت رکھتا ہے۔ تصور اور بیحد دقیق تخیل، جیسے مافوق الفطرت حالات میں اسی بات کو سمجھنے کے لیے کہیے تو غار کی مثال ایک ایسی محفوظ جگہ کی لی جا سکتی ہے جہاں پناہ لینے والا شخص بے فکری سے نیند پوری کر سکتا ہے، خواب دیکھتا ہے اور باہر کی دنیا میں واپس آنے سے قبل تسلی سے بیٹھ کر، جتنی دیر چاہے اور سوچ اور تخیل کی نئی منازل طے کر سکتا ہے۔ ہر دو صورت غار صرف ایک پناہ گاہ نہیں بلکہ اس کی حیثیت اخفا یا خضانت کی ہوتی ہے۔ یہاں بسر کرنے والے کی شخصیت میں نئی سوچ اور ستھرا خیال پنپتا ہے۔
ابو بکر کے لیے ثور کی پہاڑی پر واقع یہ غار ایمان اور یقین کی تجدید اور احیا ثابت ہو گا۔ انہیں خوف لاحق تھا کہ قریش انہیں اور محمد صلعم کو یہاں ڈھونڈ نکالیں گے۔ لیکن محمد صلعم نے ان کو یقین دلایا کہ خدا ان کی حفاظت کر کے رہے گا۔ دوسری طرف، محمد صلعم کے لیے یہ غار روحانی استحکام اور الہام کے نزول کی جگہ بن جائے گا۔ قران کی یہ آیات ، "جب وہ دونوں غار میں تھے، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ، 'غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔' اس وقت اللہ نے اس پر اپنی طرف سے سکون قلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جو تم کو نظر نہ آتے تھے۔۔۔'۔ یہ تو قرانی آیات ہیں، دوسری طرف روایت یہ ہے کہ ان کی مدد کو قدرتی طاقتیں بھی آن پہنچیں۔
ابن اسحاق اس واقعہ کو یوں بیان کرتے ہیں کہ کیسے تیسرے دن، جب پیشہ ور جاسوسوں اور قاتلوں نے اب اپنی تلاش کا دائرہ وسیع کر لیا تھا اور بالآخر غار ثور تک پہنچ آئے تھے، اس وقت ہزاروں کی تعداد میں مکڑیوں نے غار کے دہانے پر جالا بن دیا۔ دہانے پر مکڑی کے جالوں کی اس قدر موٹی تہہ دیکھ کر تلاشنے والوں نے سوچا کہ اس غار میں سالوں سے کوئی داخل نہیں ہوا ہو گا۔ چنانچہ، وہ اس غار میں جھانکے بغیر ہی آگے نکل گئے اور آج ہمارے لیے اس وقت کی ایک مبہم سی تصویر چھوڑ گئے ، جس میں ہم تصور کی آنکھ سے دیکھ سکتے ہیں کہ غار کے دہانے پر مکڑی کے جال تنے ہوئے ہیں اور اندر گھپ اندھیرے میں محمد صلعم اطمینان سے بیٹھے ہیں اور ابو بکر قدرت کو یوں مدد کرتے دیکھ کر ورطہ حیرت میں مبتلا ہیں۔
بہر حال، جب یہ خطرہ ٹل گیا تو ابو بکر نے پہلے ہی اپنے ایک بھروسہ مند غلام کو اونٹ اور راہ دکھانے والا کھوجی تیار رکھنے کا حکم دے رکھا تھا۔ وہ محمد صلعم کو ساتھ لیے مقررہ مقام پر اس کے پاس جا پہنچے۔ یہ تین اشخاص احتیاطاً ایک لمبا راستہ اختیار کرتے ہوئے مدینہ کی طرف سفر پر نکل پڑے۔ پکڑے جانے کے خطرے سے بچنے کے لیے انہوں نے نیم دائرے کی شکل میں راہ اختیار کی۔ پہلے تو وہ جنوب کی طرف چلتے گئے جہاں سے وہ مغرب کی طرف مڑ کر بحیرہ احمر کے ساحل پر جا پہنچے۔ پھر وہاں سے شمال کی جانب چلتے گئے، یہاں تک کہ ایک بار پھر پہاڑی سلسلے کے قریب پہنچ گئے۔ چست اور تیز اونٹوں پر سوار ہونے کے باوجود یہ سفر دس دن میں طے ہوا اور ستمبر کے مہینے میں چوبیسویں تاریخ کو مدینہ کے مضافات میں پہنچ گئے۔
ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ، 'دوپہر کے وقت جب سورج بالکل سر کے اوپر آن پہنچا تو گرمی کی شدت بڑھ کر ناقابل برداشت ہو رہی تھی۔ مہاجرین ہر روز صبح روشنی پھوٹتے ہی مدینہ کی حدود پر آ کر بیٹھ جاتے اور سارا دن محمد صلعم کی راہ دیکھتے رہتے۔ اب چونکہ گرمی بڑھ رہی تھی تو وہ تھک ہار کر نخلستان میں باغات کی طرف لوٹ گئے تھے، تا کہ گرمی سے بچاؤ کر سکیں، کھجور کے درختوں تلے تھوڑی دیر تک سستا لیں۔ اسی تپتی ہوئی دوپہر میں دور سے محمد صلعم کو آتا دیکھنے والا انصار یا مہاجرین میں سے نہیں بلکہ مدینہ کے یہودیوں میں سے ایک شخص تھا۔ وہ محمد صلعم کو دیکھتے ہی خوشی سے چلا اٹھا، 'اوس اور خزرج، تمہاری خوش قسمتی آن پہنچی ہے۔' پھر اس نے یوں ہی چلاتے اور شور مچاتے، واپس مدینہ کی طرف دوڑ لگا دی'۔ اس وقت یہ شخص نہیں جانتا تھا کہ جلد ہی وہ اور مدینہ کے سارے یہودی اپنے ان الفاظ پر پچھتایا کریں گے۔

صلہ عمر پر 'اول المسلمین: محمد صلعم کی کہانی کے اگلے باب نمبر 13 کے لیے یہاں کلک کریں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر