اول المسلمین - جلا وطن - 13


محمد صلعم کے مدینہ پہنچنے کی خبر فوراً ہی پھیل گئی۔ لوگ خیر مقدم کرنے کے لیے ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑتے، دوڑتے ہوئے اس راستے پر پہنچ گئے جہاں آپ صلعم اپنی سواری پر بیٹھے چلے آ رہے تھے۔ مومنین کی خوشی دیدنی تھی۔ ایک کے پیچھے دوسرا اور پھر مدینہ کا تقریباً ہر شخص آگے بڑھ کر آپ صلعم کو اپنے یہاں ٹھہرنے کی دعوت دینے لگا۔ کئی تو ایسے تھے جو باقاعدہ مہمان نوازی کا موقع فراہم کرنے کی بھیک مانگ رہے تھے ۔ محمد صلعم نے سب کو ٹال دیا۔اس کی بجائے کہنے لگے کہ اونٹنی جہاں ٹھہرے گی وہ وہیں پڑاؤ ڈالیں گے۔ چنانچہ اس کی مہار کھلی چھوڑ دی گئی۔ اونٹنی خراماں چلتی ہوئی نخلستان کے وسط میں پہنچ گئی اور ایک پتھریلے احاطے میں ٹہلنے لگی۔ پہلے پہل یہ جگہ قبرستان ہوا کرتی تھی مگر اب یہاں کھجوریں خشک کی جاتی تھیں۔ اونٹنی آہستگی سے جھکی اور پہلے اگلی ٹانگوں کا بکل مار کر اور پھر پچھلی ٹانگیں بھی سمیٹ کر جھولتی ہوئی وہیں بیٹھ گئی۔ تسلی سے بیٹھنے کے بعد وہ ارد گرد ہجوم کو یوں تاڑنے لگی جیسی کہتی ہو، 'بس یہیں اور کہیں نہیں'۔
جس طرح ثور کی پہاڑی میں غار کے دہانے پر جن مکڑیوں نے جالے بن دیے تھے، ویسے ہی یہ اونٹنی بھی ولایت اور بزرگی سے مالا مال مخلوق کا درجہ پا لے گی۔ لوگ کہا کریں گے، اس اونٹنی نے خدا کی منشاء بتائی تھی۔ بہرحال، جب اونٹنی ٹھہر گئی اور محمد صلعم نیچے اتر آئے تو اصولی طور پر ہجرت مکمل ہو گئی۔ اسلام نے مکہ میں جنم لیا تھا مگر اس کا جھولا مدینہ ہو گا ۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اسلام جوان ہو گا اور دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے منظر نامے پر ایک مضبوط، انتہائی تیزی سے پھیلنے والا مذہب بن جائے گا۔ اسی دن سے اسلامی دور ، یعنی ہجر سے ہجرت اور پھر ہجری کلینڈر کا آغاز ہوتا ہے اور تاریخ میں یہیں سے محمد صلعم اور ان کے مکہ کے پیروکاروں کے انتظار کے شب و روز کی بھی شروعات ہوتی ہے ۔ انہیں مکہ کی گھاٹی میں دوبارہ داخل ہونے کے لیے سات سال کے طویل عرصے تک دن اور رات کرنا ہو گا۔
کھجوریں سکھانے کے لیے استعمال ہونے والا یہ پتھریلا احاطہ جہاں اونٹنی آ کر ٹھہر گئی تھی، دو یتیم لڑکوں کی ملکیت تھا۔ ان لڑکوں کا تعلق خزرج قبیلے کے اسی کنبے سے تھا جس کی ایک عورت کی کوکھ سے محمد صلعم کے دادا عبد المطلب نے جنم لیا تھا۔ ان لڑکوں کی کفالت اور دیکھ بھال ان کے چچا کے ذمے تھی۔ محمد صلعم اور ان لڑکوں کے بیچ خون کے تعلق، یتیمی اور پھر ایک ہی طرح چچا کے ہاں کفالت کی یہ نسبت اور محمد صلعم کے مدینہ میں پڑاؤ ڈالنے کے انوکھے ڈھنگ اور مبینہ مشیت ایزدی، یعنی اسی احاطے میں اونٹنی کے ٹھہرنے پر لوگ خاصے متاثر نظر آ رہے تھے۔ پھر جس کنبے سے یہ لڑکے تعلق رکھتے تھے وہ خزرج کا نسبتاً غریب اور غیر موثر گھرانہ تھا۔ ان سے زمین خریدنے کا فیصلہ اس لیے بھی بہتر تھا کہ اس طرح خزرج اور اوس کے نامی گرامی اور بڑے کنبوں کا مہمان نوازی قبول نہ کرنے کا گلہ جاتا رہتا اور چھوٹے کنبوں کو برابری کا احساس الگ سے ہوتا۔ اس موقع پر لڑکوں کے چچا نے اصرار کیا کہ آپ صلعم یہ زمین تحفے میں قبول کر لیں اور وعدہ کیا کہ وہ اپنی جیب سے یتیم لڑکوں کو قیمت ادا کر دے گا۔ محمد صلعم نے نہ صرف یہ قبول کر لیا بلکہ بعد ازاں یقینی بنایا کہ وہ یتیموں کو قیمت بھی ادا کرے۔ اس طرح یہ معاملہ یوں ہی آسانی سے طے پا گیا۔ اس روز نخلستان کے بیچوں بیچ ایک اجاڑ مقام پر بسنے والا یہ ڈیرہ اب ماننے والوں کی دنیا کا مرکز بن جائے گا۔
سب ماننے والے، جن میں انصار اور مہاجرین سب ہی شامل تھے، مل کر اس جگہ پر اگلے چند ماہ میں جو عمارت کھڑی کی وہ حیران کن طور پر سادہ تھی۔ یہ مٹی کی چار دیواری کے اندر ایک وسیع احاطہ تھا۔ یہاں جنوب کی طرف دیوار کے ساتھ کچھ حصہ کھجور کے پتوں سے ڈھک کر چھت ڈال دی گئی تھی، جس کے نیچے تیز دھوپ میں بمشکل سایہ اور سستانے کے لیے جگہ بن گئی تھی۔ مشرقی دیوار کے ساتھ رہنے اور سونے کے لیے کھجور کے تنے، پتوں اور گندھی ہوئی مٹی سے چند کمرہ نما جھونپڑے کھڑے ہو چکے تھے۔ کسی بھی طرح سے اس عمارت میں رعونت اور آرائش کا کوئی سامان نہیں تھا۔ عبادت گاہوں، خانقاہوں اور مساجد میں آرائش و زیبائش اور جملہ غرور کے لوازمات کا رجحان بہت بعد میں، جب اسلام ایک سلطنت کا مذہب بن گیا تھا، اس کے بعد ہی پروان چڑھا ۔ مساجد رفتہ رفتہ اسی رنگ میں ڈھلتی گئیں جو قدیم زمانے سے کنیساؤں اور کلیساؤں کا خاصہ رہا ہے۔ پھر، ان عمارتوں کا مقصد عبادت کے ساتھ ایک کمیونٹی سینٹر یا اجتماع کی جگہ کا بھی رہا ہے۔ بلکہ، یہودیوں کی عبادت گاہ کنیسا کے لیے انگریزی میں استعمال کیا جانے والے لفظ کا ماخذ بھی یونانی زبان سے ہے جس کا مطلب 'ایک جگہ پر جمع ہونے' یا 'اجتماع' کے ہیں۔ قدیم زمانوں سے یہی طور ہے۔ یعنی، یہ عبادت اور اجتماع، دینی اور دنیا وی، ہر طرح کے معمولات کا ایک ہی جگہ پر اور ایک ہی وقت میں متوازی انداز میں چلانے کا عملی نمونہ ہیں۔ اگر دیکھیں تو صرف یہی جگہیں ہیں جہاں ایک طرف سیکولر اور دوسری جانب مذہبی معاملات ایسے گھل مل سکتے ہیں کہ دنیا کا نظام نہایت آرام سے چل سکتا ہے۔ برداشت اور ہم آہنگی، جس کی آج کے دور میں اشد ضرورت ہے، یہاں ممکن ہو سکتی ہے۔ بہر حال، مدینہ میں قائم ہونے والی اس مسجد کا ایک گوشہ ایسا بھی تھا جس سے آج جدید مسلمان واقف تو ہیں مگر اس وقت یہاں کے معمولات ، طور آج کل کی مساجد سے مختلف رہا تھا۔ یہ گوشہ محراب یا منبر کی جگہ تھی، جس کا رخ ابھی تک کعبہ کی طرف نہیں بلکہ 'رات کے سفر' کے شہر یروشلم کی طرف تھا۔ عیسائی اور یہودی بھی اسی شہر میں واقع معبد کی طرف منہ موڑ کر عبادت کیا کرتے تھے۔
مدینہ میں پہلا سال مہاجرین کے لیے بہت سخت اور جان توڑ ثابت ہوا۔ ان میں سے زیادہ تر نے زندگی میں پہلی بار اتنی سخت مشقت کی تھی۔ یہاں انہیں بسر کرنے کے لیے جان توڑ مزدوری کرنی پڑ رہی تھی۔ چونکہ ان لوگوں کا تعلق شہری علاقے سے تھا، اس لیے پٹھے جفا کشی کی عادت سے عاری تھے، جلد ہی چور ہو جاتے تھے۔ ان کے مسائل یہیں تک محدود نہیں تھے بلکہ زراعت ، مال برداری اور تعمیرات کا کام بھی ان کے لیے بالکل نیا تھا۔ اس کام کو درست طریقے سے سر انجام دینا تو دور کی بات، سیکھنے میں بھی شدید مشکلات پیش آ رہی تھیں۔ تمام تر مصائب کے باوجود بہر حال اب کہیں جا کر، کئی برسوں کے بعد مہاجرین کی زندگیوں میں نسبتاً آسانی اور سکون پیدا ہو گیا تھی۔ وہ یہاں دستیاب پیشوں کی سختی اور مشقت، ان معاملات میں اپنے بھونڈے پن پر خود ہی ہنسا کرتے۔ ایسی ہی ایک کہانی علی کے بارے مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے، علی کچی مٹی سے اینٹیں بنانے کی کوشش میں کیچڑ سے لت پت ہو رہے تھے۔ ان کے کپڑے اور جسم، یہاں تک کہ چہرہ اور بال بھی مٹی سے اٹ رہا تھا۔ محمد صلعم نے انہیں اس حالت میں دیکھا تو ہنس پڑے اور چوٹ لگائی، 'اے، ابو تراب!' یعنی، 'اے، دھول کے باپ!' اور یوں علی ابو تراب کے نام سے مشہور ہو گئے۔ جو بھی تھا، ان جسمانی سختیوں کا سامنا، بہرحال کسی طور آسان نہیں تھا۔ نتیجتاً، لوگ بیمار پڑنے لگے اور مشقت کے باعث جسمانی طور پر تھکن کا شکار بن گئے اور ناتواں ہوتے چلے گئے۔ بہادری سے پرانی روایت کو توڑنے کا اعلان کر کے عہد باندھنا اور خود کو نئی زندگی کے حوالے کرنا ایک بات تھی مگر اس نئی زندگی کو تمام تر تقاضوں کے ساتھ ہر روز جینا ، اس کو برداشت کرنا دوسری ہوا کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ان کی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔
ان حالات میں صرف ایک شے تھی کہ جس نے حوصلے کو بلند اور انہیں یکجا رکھا۔ یہ اس زندگی سے جڑی وہ معنویت تھی جو الہامی پیغام اور اس طرز کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔ یہ لوگ مکہ کی پر آسائش اور آسان زندگی چھوڑ کر مدینہ میں مشقت اٹھا رہے تھے۔ وہ یہاں نئی تعمیرات نہیں کر رہے تھے یا صرف نئے گھر نہیں بنا رہے تھے۔ وہ تو در اصل ایک نئے سماج کی بنیادیں ڈال رہے تھے جس میں لوگوں کی نئی پہچان اور جدید اطوار، بہتر رسم و رواج اور سادہ طریق زندگی کے اصول وضع ہونے تھے۔ یہ وہ زمانہ تھا، جس میں آنے والے دور کے لیے، بلکہ ہر نئے دور اور دورانیے میں لوگوں کی ایک دوسرے سے نسبت کی نئی طرح ایجاد ہو رہی تھی۔ گو آج جدید دنیا کے سیاسی منظر نامے پر یہ بات خاصی عجب اور مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں مدینہ میں ہونے والی یہ ترقی، یعنی شہری طبقے کا یوں آسائش اور آرام ترک کر کے ایک نئی دنیا بسانے کا تجربہ حالیہ دور میں فلسطین کے اندر یہودیوں کی نو آبادی سے خاصی مشابہت رکھتا ہے۔ اس آبادی میں سے بھی بڑی تعداد کا تعلق شہری علاقوں سے تھا جو یورپ سے یہاں لائے گئے تھے۔ یہ بالکل ویسا ہی، یکجا ہونے اور متحد سانجھ داری کا تصور تھا جس میں لوگ جسمانی مشقت اور ذمہ داریوں کے ساتھ ایک مقصد اور سمجھ میں جڑے ہوئے تھے۔ ان کو یہاں تک لانے والے رہنما نو آبادی اور مساوات انسانی کو ماننے والے مثالیت پسند تھے۔ ان رہنماؤں نے عوام میں ایک جذبہ یگانگت اور باہمی مفاد عامہ کو پھیلا دیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ وقت کے ساتھ یہ تصور نہ صرف بڑھ کر ریاست اسرائیل کی بنیاد بن گیا بلکہ آج دنیا بھر کے یہودی اسی کے بل بوتے پر قدیم روایت میں اپنی جڑیں تلاشتے ہوئے اسی خطے میں کہیں نہ کہیں سے تعلق نکال ہی لاتے ہیں۔ یہی حال اس وقت مدینہ کا بھی تھا۔ خدا اور آدمی کے ہم سر، ایک آواز ہونے کے تصور سے سرشار، انوکھے رنگ میں رنگ کر اوائل دور اسلام کے مسلمانوں کا یہ مختصر گروہ، جسمانی اور اعصابی مشقت سے بے نیاز ہو کر اس نئی دنیا کو بسانے میں جت گیا تھا۔ ان کے اسی طریق کو بعد میں جدید یہودیت یا قبالہ میں 'تیکون اولام' پکارا جائے گا۔ تیکون اولام سے مراد، 'دنیا کی درستگی' یا ' دنیا کی تعمیر نو' ہے۔ محمد صلعم اور ان کے پیروکار، زندگی کے ہاتھوں ستائے جانے اور اپنوں کے یہاں رد کر دیے جانے کے بعد اب ایک نئی دنیا بسانے کی راہ پر چل نکلے تھے۔
جلد ہی، مدینہ میں یہ نئی گٹھ جوڑ ایک کمیونٹی کی بجائے خاندان کا منظر پیش کرنے لگے گی۔ محمد صلعم نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنوں جیسا سلوک کریں۔ تاکید دی گئی کہ انصار مکہ سے آنے والا مہاجرین کو اپنا لیں۔ وہ انہیں مہمان کے طور پر نہیں بلکہ بھائیوں اور بہنوں کی طرح ساتھ بسا لیں۔ یہی نہیں بلکہ یہاں عمر، رتبے اور قبیلے، یہاں تک کہ جگہ پیدائش کا بھی کوئی امتیاز روا نہ رکھنے کا حکم دیا گیا۔ اس طرح کی اصلاحات سے صرف ایک نیا قبیلہ نہیں بلکہ اس سے بھی کہیں بڑا سماجی ڈھانچہ تشکیل پا رہا تھا۔ ایسا ڈھانچہ جس کا ابھی تک انہیں کوئی نام بھی نہیں سوجھ رہا تھا، بلکہ ابھی اس نئے طرز معاشرت اور زندگی گزارنے کے طریقے کو تعریف کی رو سے اسلامی طرز معاشرت اور اس طور گزر بسر کرنے والوں کو مسلمان بھی نہیں کہا جاتا تھا۔ یہ سب تو بہت بعد کی بات ہے، اتنی کہ خود محمد صلعم کے وصال کے بعد کا قصہ ہے۔ جب اسلام پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل کر ایک باقاعدہ ادارے کی شکل اختیار کر گیا، تب ہی کہیں جا کر باقاعدہ اسلامی طرز معاشرت اور مسلمان کی اصطلاحات مشہور اور مقبول ہو گئیں۔ یہ مدینہ کی وہ شناخت ہے جو ان دنوں میں پروان چڑھی تھی۔ مدینہ کی یہ نئی آبادی ابھی تک خود کو صرف مومنین کہلواتی تھی جس کا مطلب ماننے والوں کا ہے۔ مومن اور مومنین کی یہ اصطلاحات ، ان کو یوں یکجا رکھے ہوئے تھیں۔ ایمان کی دولت سے سرشار ، یقین کی حدوں کو چھوتے ہوئے یہ لوگ رفتہ رفتہ ایک نئے، نہایت برتر اور خوب سماج کی بنیاد ڈال رہے تھے۔
اس سب کے باوجود، شاید دنیا میں ابھی تک ایسی کوئی دوا ایجاد نہیں ہوئی ہے جو جلا وطنی اور متروک کر دیے جانے کے دکھ کا مرہم کر سکے۔ ہجر کے بعد گھر اور پیاروں کی یاد ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ لوگ جو اپنی من مرضی سے چھوڑ جاتے ہیں، وہ بھی کسی نہ کسی طرح پیچھے رہ جانے والوں کی یاد سے جڑے رہتے ہیں۔ چنانچہ، مہاجرین جب ایک ذرہ بھر سکون سے ہو گئے تو پہلے پہل صرف مکہ سے آنے والی خبروں کی طرف متوجہ ہوئے۔ وہ مدینہ کے نخلستان میں بس تو گئے تھے مگر وہاں رہتے ہوئے بھی اپنے دل پسند شہری کھانوں کی تلاش میں سر گرداں رہتے۔ پھر، جب مزید وقت گزر گیا تو یہ حال ہو گیا تھا کہ مہاجرین، قدرتی طور پر ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے۔ گو اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اب ان میں کوئی تفریق باقی نہیں رہی تھی مگر اس کا ایک دوسرا بڑا سبب وطن کی نسبت تھی۔ وہ مکہ کی یاد تازہ کرنے، گزرے دنوں کا حال سنانے، ایک دوسرے کا دل بہلانے، بات کرنے ، ایک دوسرے کی طرف چلے آتے۔ ان میں اکثر ایسے تھے جو شاید مکہ میں رہتے ہوئے اپنی امارت کے غرور میں یہاں آئے کئی لوگوں سے بات کرنا بھی پسند نہ کرتے، مگر ہائے ہجر، وائے جلا وطنی۔۔۔ دکھ جو سانجھے تھے تو کیا کرتے؟ پھر، یہ صرف یاد وطن تو نہیں تھی۔ مالیخولیا بھی نہیں تھا کہ انہیں یہاں آئے ابھی تھوڑا سا ہی تو عرصہ ہوا تھا۔ بات یہ تھی کہ اس طرح میل ملاپ، بات چیت ، ایک دوسرے کو دیکھ لینے اور دکھ بانٹنے سے ہجر کا دکھ کم ہو جاتا تھا۔ وطن کو چھوڑنے، پیاروں کو یوں ترک کر دینے کی خفت قدرے کم ہو جاتی تھی۔ وہ سوچا کرتے، یہاں مستقل بس رہنا تو صرف قسمت کا کھیل ہے۔ کیا خبر وقت کے ساتھ، وہ مدینہ کے دیہاتی طور طریقوں میں ڈھل ہی جائیں گے یا شاید ایسا نہ ہو پائے؟ مگر ایسی صورتحال میں، جب انہیں زبردستی جلا وطن کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنی خوشی سے تو یہاں نہیں آئے تھے۔ انہیں بے دخل کر دیا گیا تھا، جیسے چیرا لگا کر کسی عضو کو جدا کر دیا جاتا ہے۔ تو، مکہ کی یاد عود کر دل میں ابھرنے لگتی تھی۔ ذہن سوچ کر ہی ماؤف ہو جاتا، یاد اتنی بڑھ جاتی کہ حالت غیر ہونے لگتی۔ ایسا لگتا جیسے ایک دیو کسی بونے کو پکڑ کر زمین پر پٹخ رہا ہے۔
آج جدید دور میں اسی طرز کی ہجرت، یعنی فلسطین میں یہودیوں کی نو آبادی پر ایڈورڈ سعید نے لکھا تھا کہ، 'جلا وطنی کسی آدمی اور آبائی علاقے کے بیچ آنے والی ایسی دراڑ ہے جس کا کوئی حل نہیں ہوتا۔ اس دراڑ میں آدمی اپنے آپ اور اصلی گھر کے بیچ معلق ہو کر رہ جاتا ہے'۔ جلاوطنی کی وجوہات، زیادتی اور اس کے نتیجے میں جھیلی جانے والی تکالیف کا احساس وقت کے ساتھ مدھم نہیں بلکہ گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ دل پر بوجھ اس طرح بڑھتا ہے جیسے لوہے کو زنگ گھیر لے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ احساس وہیں قند ہو کر سخت ہو جاتا ہے۔ صرف زنگ باقی رہ جاتا ہے۔ معاملہ لاینحل ہو جاتا ہے۔ گرچہ، جلا وطن ہو نے والے لوگ نئی زندگی کی شروعات تو کر لیتے ہیں۔ اپنے لیے ایک نئی دنیا بھی بسا لیتے ہیں مگر وہ جگہ جو پیچھے رہ گئی تھی، اس کی حیثیت بدستور وطن اور اپنا ملک کی رہتی ہے۔ خوشحال اور آسودہ مستقبل کی تمام تر امیدوں کا محور ہمیشہ وہی گزشتہ مکان، بیت چکے زمانے رہتے ہیں۔ وہ ماضی میں مستقبل تلاشتے ہیں۔ خوشحالی کا پیچھا کرتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر، یہ صرف ایک جلا وطن ہی ہو سکتا ہے جس کے لیے قدیم زمانے کا فلسطین ایسی جگہ ہے جہاں دودھ اور شہد کی نہریں بہتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ بائبل کے عبرانی نسخوں کے کاتبین نے کس طرح تشریحات اور تشبیہات سے ایک پتھریلی وادی جس میں کانٹوں اور خار دار جھاڑیوں کی کثرت ہے، ایک ایسی جنت بنا کر پیش کر رکھا ہے جو ان کے تصور کی مرہون منت ہے اور حقیقت کا اس سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اسی طرح جلا وطنی اور ہجر میں بسر کرتے ہوئے کئی معمولی چیزیں ایسی بھی ہیں جو یاد داشت میں امر ہو چکی ہیں اور بالآخر، اس سر زمین کی نہ صرف نشانی بن گئیں بلکہ نسل در نسل آبائی وطن سے گہرے تعلق کی نشانیاں بھی قرار پائیں۔ جیسے صحن میں لیموں کا درخت، زیتون کے جنگل اور وہ سخت مگر سادہ زندگی جو اب باقی نہیں رہی تھی۔ یہ چھوٹی چھوٹی نشانیاں تصور میں اتنی پختگی سے بیٹھ گئیں کہ دوسری اور تیسری صدی عیسوی کے یہودی ربیوں نے تخیل کے زور پر یروشلم کے معبد کی وہ تصویر بنا رکھی ہے جو اصل معبد، جسے رومیوں نے تہس نہس کر دیا تھا، آج جدید دور میں بے پناہ ترقی کے بعد بھی، عشر عشیر نہیں ہے۔
مدینہ میں گزارے ہجرت کے اوائل برسوں کے دوران ہجرت کا احساس یوں بھی بڑھ کر محسوس ہوتا تھا کہ آبادی میں ابھی تک مہاجرین اور انصار کے نام پر امتیاز باقی رکھا گیا تھا۔ ایسا ایک سوچ کے تحت کیا گیا تھا۔ یہاں مہاجر، یعنی وہ لوگ جو مکہ سے ہجرت کر کے آئے تھے اور انصار سے مراد مدد کرنے والے مدینہ کے لوگ تھے۔ اس نظام تسمیہ کا مقصد یقین کو قائم رکھنا تھا۔ ہر دو میں سے ایک فریق کی اپنی شناخت، اہمیت برقرار رکھنا مقصود تھا۔ پھر یہ ایمان اور قدیم روایت سے جوڑنے کا معاملہ بھی تھا۔ یعنی یہ کہ قران میں بھی عیسیٰ کے بارہ حواریوں کو انہی ناموں سے پکارا گیا تھا۔ جیسے تب، ویسے آج بھی مکہ اور مکہ سے جڑی نسبت، ہجرت اور ہجر سے جڑے احساس سے وہی قدیم روایت، ایمان اور ویسا ہی تسلسل قائم رکھنا لازمی تھا۔
سعید آگے چل کر لکھتے ہیں کہ ، 'جلا وطنی اختیار کرنے والوں کا دکھ انوکھا ہوتا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی یتیمی سے دوچار ہو۔' یہ استعارہ محمد صلعم پر لاگو کریں تو ان کو در پیش شدید تکلیف دہ اور چبھن کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ مہاجرین میں سے ہر شخص، اب جا کر ہجر کی وجہ سے یتیمی کا مزہ چکھ رہا تھا۔ اپنے اہل و عیال، والدین سے دوری، کنبے اور قبیلے کے لیے انجان بن کر جی رہا تھا مگر محمد صلعم کے لیے تو یہ کئی دہائیوں پہلے پیش آنے والا معاملہ تھا کہ وہ پیدا ہونے سے پہلے ہی یتیم ہو گئے تھے۔ ان کا دکھ تو اب کئی گنا بڑھ چکا تھا۔ انہوں نے تو اس استعارے کا سب کچھ یعنی یتیمی اور ہجر، دونوں ہی دیکھ رکھے تھے۔ ایک وقت تھا جب محمد صلعم مکہ کو گھر بنانے کے لیے سخت جدوجہد کرنی پڑ رہی تھی۔ پھر مکہ میں ان کے لیے اپنے گھر کا سامان ہو گیا تو یہ بھی ہوا کہ وہی گھر ان سے آن کی آن میں چھن گیا۔ پیارے چل بسے اور گھر تہل ترغہ ہو گیا۔ ایک لحاظ سے محمد صلعم کے لیے یہ نقصان اٹھانا لازم بھی تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عادت اور معمولات کے مطابق چیزوں کو دیکھنے، معاملات کو چلاتے رہنے اور معمول کی سوچ سے نکلنے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ اس گھن چکر سے باہر نکلا جائے۔ مکہ میں اپنی جگہ اور حیثیت پانا اور پھر اسی مکہ سے زبردستی نکال باہر کر دیا جانا یقیناً تکلیف دہ رہا تھا، یہ اس داستان کا ایک حصہ ضرور ہے مگر پوری کہانی نہیں ہے۔ پوری کہانی میں تو یہ محمد صلعم کے ساتھ پیش آنے والی سب سے اچھی چیز معلوم ہوتی ہے۔
دوسری طرف مکہ کے لوگوں کے لیے محمد صلعم اب قطعاً غیر تھے۔ ان کا مکہ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ لیکن اگر مکہ کی اشرافیہ یہ سوچ کر سکھ کا سانس لے چکی تھی کہ بالآخر رات کی تاریکی میں جلا وطن ہو کر محمد صلعم کا قصہ تمام ہو چکا ہے تو یقیناً وہ غلط تھے۔ بلکہ، محمد صلعم ان کو جلد ہی ایک بار پھر غلط ثابت کر دیں گے۔ بظاہر ہجرت کا معاملہ محمد صلعم کی کمزوری محسوس ہوتا ہے مگر آخر کار یہ ان کی طاقت بن جائے گا۔ اگر اس وقت مکہ میں یہ سمجھا جا رہا تھا کہ محمد صلعم کو جلا وطنی پر مجبور کرنے سے انہیں شکست دے دی گئی ہے تو وہ صریحاً غلط فہمی کا شکار تھے۔ یہ شکست تو جلد ہی فتح میں بدلنے والی تھی۔
محمد صلعم کی عمر اب ترپن سال ہو چکی تھی۔ داڑھی اور سر کے بالوں میں چاندی جھلک رہی تھی۔ لیکن ارادوں کو دیکھیں تو دور تک کسی کمزوری، بڑھاپے اور عمر رسیدگی کا شائبہ بھی نہیں تھا۔ انہیں اس عمر میں پہنچ کر بھی بمشکل ہی نیند کی حاجت محسوس ہوتی تھی۔ وہ سارا دن دوسرے مہاجرین کے ساتھ، انہی کی طرح شدید مشقت اور سخت مزدوری کے کام کرتے اور راتیں جاگ کر عبادت، مراقبے میں بسر کرتے۔ قرانی آیات بدستور نازل ہو رہی تھیں مگر اب یہ تھا کہ ان میں سے زیادہ تر مخصوص معاملات کے بارے ہوا کرتی تھیں۔ ایسا ہونا قدرتی تھا۔ مومنین کی آپس میں اتصال اور نسبت، ایک نئی مگر انوکھی طرز کی معاشرت کے باعث مدینہ کے دوسرے لوگ خاصے متاثر ہوئے اور جوق در جوق اسلام قبول کرنے لگے۔ جلد ہی انصار کی تعداد مہاجرین سے بڑھ جائے گی۔ ہر نئے دن کے ساتھ مومنین کی بڑھتی ہوئی تعداد اور اس نئے سماجی ڈھانچے میں پیش آنے والے معاملات کے باعث رہنمائی کی گزار شات بھی اسی مطابقت سے بڑھتی جا رہی تھیں۔ چنانچہ جلد ہی قرانی آیات عبادت کے اوقات سے لے کر جائیداد اور ازدواجی مسائل ، الغرض ہر طرح کے معاملات پر محمد صلعم کو مومنین کی درخواستوں پر طویل اور تفصیلی جواب دیتی نظر آنے لگیں۔ یہ معاملہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے نیو یارک کے ایک سابق گورنر ماریو کیومو نے کہا تھا، 'تحریک شاعری اور حکومت نثر کے زور پر چلا کرتی ہے۔'
یہاں تک پہنچ کر محمد صلعم اب صرف الہامی آواز سن کر اسے آیات میں ڈھال، آگے پیش نہیں کرتے تھے۔ بلکہ انہوں نے اس کے ساتھ جینا، اس کے طور کو سمجھنا شروع کر لیا تھا۔ وہ در پیش مسئلے یا معاملے پر مراقبہ کرتے اور پھر آواز کا انتظار کرتے کہ رہنمائی کیا کرے۔ جلد ہی اس متعلق آیت نازل ہو جاتی۔ قرانی آیات میں اب زیادہ تر مومنین کے آپس میں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ تعلقات، معاملات اور معمولات پر زور دیا جانے لگا ۔ اسی زمانے کے یہی اصول آگے چل کر محمد صلعم کے ہاتھوں اسلامی شریعت کے قوانین کی بنیادی شکل اختیار کر لیں گے۔ دوسری طرف مدینہ کے قبائل نے انہیں ثالثی کے لیے مدعو کیا تھا۔ اس ضمن میں محمد صلعم نے ایک سال کے اندر ہی ایک ایسا خاکہ بنا لیا تھا جو اس مقصد، یعنی مدینہ کو در پیش تنازعات کو حل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا تھا۔ مگر، یہاں بھی محمد صلعم نے اوس اور خزرج کے تنازعات کا صرف حل پیش کرنے کی بجائے کہیں بڑے مقصد کے حصول کی جانب توجہ مرکوز رکھی۔ وہ اس خاکے میں عقیدہ توحید یا واحدانیت میں انفرادی اور اجتماعی، ہر طرح کے تنازعات کا حل پیش کر رہے تھے۔
'توحید' یا 'واحدانیت' کی اصطلاح سے مراد ایک خدا میں ایمان ہے۔ زبان میں یہ اصطلاح سترہویں صدی عیسوی تک اس شکل میں موجود نہیں تھی جیسی کہ آج ہم اس کو جانتے ہیں۔ مثلاً، انگریزی زبان میں پہلی بار یہ مشہور فلسفی ہینری مور نے استعمال کی تھی مگر یاد رہے واحدانیت کا ایک جامع اور موافق تصور معلوم تاریخ میں دو ہزار سال سے موجود ہے۔ تاریخ دان جیمز کیرول ایک جگہ پر نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ یہودی کاتب جنہوں نے پہلی بار عبرانی بائبل تحریر کی تھی اور یہ تقریباً چھٹی عیسوی قبل از مسیح کی بات ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ جب یہودی بابل شہر سے بے دخل کر دیے گئے تھے۔ انہوں نے بھی 'ایک خدا' کے تصور سے مراد کسی یکتا ذات سے زیادہ انسانوں کے بیچ ایکائی لی ہے۔ قدیم یہودیت میں مشہور مقدس ذات، یعنی 'یہوہ' یا 'الہ یہوہ'، جس کو ساری اسرائیلی اقوام کا خدا کہا جاتا ہے، اسی سے 'الہوم' نکلا ہے، جس سے مراد ہر شے کا خدا ہے۔ یہ وہی خدا ہے جس کو مکہ میں 'الہٰ' یا 'اللہ' پکارا جاتا تھا۔ کیرول وحدانیت کے اسی قدیم اور خاصے وسیع تصور کے بارے کہتے ہیں کہ، 'اس تصور میں انسانوں کے ایک گروہ کا خدا، تمام انسانوں کا خدا ہے اور اس کا کسی بھی طرح سے صرف ایک گروہ، کنبے، قبیلے یا قبیلوں کے گروہ سے تعلق نہیں ہے بلکہ وہ ہر شے کا خدا ہے۔' اس طرح، خدا 'ہر قسم کے اختلافات میں مفاہمت' ، 'ایکائی' کی علامت بن جاتا ہے۔
اس خاکے میں محمد صلعم نے وحدانیت کے انہی قدیم تصورات کو عملی سیاست میں متعارف کرایا تھا۔ یعنی، تصوریت اور عملیت کو یکجا کر دیا تھا۔ یہ ایک منجھے ہوئے سیاست دان کی نشانی ہے۔ مراد یہ ہے کہ آپ صلعم نے ثالثی کا ایک ایسا عملی خاکہ پیش کیا تھا کہ جس میں روایت کے عین مطابق قبائلی اصول کو استعمال میں لاتے ہوئے قبیلوں سے کہیں بڑی سوچ واضح ہوتی تھی۔ کچھ تاریخ دان اس خاکے پر تیار کردہ معاہدے کو بڑی دھوم دھام سے 'مدینہ کا آئین' قرار دیتے ہیں لیکن اس کو کچھ بھی نام دے لیں، یہ اپنے وقت کے حساب سے نہایت غیر معمولی دستاویز تھی۔ ایک طرف تو اس میں مشترکہ دفاع کا عہد شامل تھا جس کے تحت مدینہ کے دیرینہ اور خون ریز تنازعات کا حل ممکن تھا اور دوسری جانب اسی دستاویز میں وہ مجموعہ قوانین پیش کیے گئے تھے جن کے تحت معہ شناخت کو اصول بنا دیا گیا تھا۔ اس اصول کے تحت تمام کنبے اور قبائل اکٹھے ہو کر ایک شناخت، یک جان بن سکتے تھے۔ انہیں جوڑا جا سکتا تھا۔ عملی طور پر اس مجموعہ قوانین کا مطلب یہ تھا کہ مدینہ کا نخلستان یوں ایکا کر لے گا کہ جو بعد میں اسلام کی اساس یعنی 'امہ' یا 'امت' کہلائے گا۔ امہ یا امت سے مراد ایک ہی طرح کا گروہ، لوگ یا قوم ہے۔ وسیع تر، آفاقی معنوں میں اس کا مطلب گروہوں، لوگوں یا اقوام کا ایکا، اتحاد یا ایک سماج ہونا ہے۔ عملی طور پر اس تصور یعنی ایکائی کے نظریے کی دوڑ بہت دور تک جاتی ہے۔
اس معاہدے کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے کہ، 'یہ دستاویز محمد صلعم ، پیغمبر خدا کی جانب سے پیش کی جا رہی ہے جو تمام مومنین کے بیچ تعلقات کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ مومنین میں مہاجرین اور انصار شامل ہیں اور وہ بھی شامل ہیں جو اس وفاقیت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ سب ایک سماج ہیں اور دوسروں سے ممتاز ہیں۔' یاد رہے، یہاں 'ایک سماج' سے مراد امہ یا امت ہے۔
اسی طرح، '۔۔۔اور وہ بھی شامل ہیں جو اس وفاقیت میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں' سے مراد اوس اور خزرج کے علاوہ لوگ ہیں۔ ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہوں نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ علاوہ ازیں اس زمرے میں مدینہ کے یہودی قبائل بھی شامل ہیں، جن کا ذکر ان کے کنبوں اور قبیلوں کا نام لے کر کیا گیا ہے۔ واضح طور پر لکھا گیا کہ ، توحید کو ماننے والے 'یہودی بھی مومنین کے ساتھ اسی سماج کا حصہ ہیں' اور ان کو بھی 'امہ' کا حصہ قرار دیا گیا۔ پھر آگے آتا ہے کہ، 'اس دستاویز میں شامل تمام لوگ کسی بھی حملے کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ وہ لازمی طور پر باہمی مشاورت اور صلاح سے کام لیں۔ '
اس معاہدے کے تمام فریقین پر ایک دوسرے کی خون ریزی پر فی الفور پابندی لگا دی گئی تھی بلکہ واضح طور پر یوں ممانعت کی گئی کہ، 'کسی بھی اختلاف یا تنازعہ کی صورت میں، جس سے تباہی اور جنگ و جدل کا اندیشہ نکلتا ہو، صلاح اور حل کےلیے اللہ اور اللہ کے رسول سے رجوع کیا جائے گا۔' اس کا مطلب یہ ہے کہ، 'اگر معاہدہ کرنے والے فریقین کو امن قائم کرنے کا کہا جائے تو وہ بالضرور امن قائم کریں گے اور اس امن کو ہر قیمت پر برقرار رکھنا ان کے لیے لازم ہو گا'۔ یہاں امن قائم کرنے کا کہنے والا سے مراد محمد صلعم ہیں جو اس معاہدے کے کفیل اور ضامن مقرر ہوئے تھے۔ پھر ایک شق ایسی تھی کہ جس کے دور رس اثرات متوقع تھے۔ وہ یوں ہے کہ، 'معاہدہ کرنے والے تمام فریقین پر لازم ہے کہ وہ مدینہ پر حملے کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کریں گے۔' اس وقت مدینہ پر کسی بھی بیرونی حملے کا کوئی امکان نہیں تھا ۔ مدینہ کو صرف اندرونی حالات سے کئی خطرات لاحق تھے۔ یعنی قبائل میں جنگ و جدل اور لڑائی عین ممکن تھی۔ چنانچہ، اس وقت اس شق کو صرف حسب نسخہ، معاہدے کی معیاری زبان سمجھا گیا جو قبائل کے باہمی تعلقات اور اتحاد کو اجاگر کرتی تھی۔
اس معاہدے پر اگر کسی قبیلے یا کنبے کے سردار کو اعتراض تھا تو بھی اس نے وقتی طور پر ان دھڑکوں اور شبہات کو دبا دیا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ مدینہ میں ہر قیمت پر ہم آہنگی اور امن کی فضا قائم کرنا چاہتے تھے۔ وہ برابری اور انصاف کے خواہاں تھے اور جس طرح مومنین کو ایک گروہ یا سماج قرار یا گیا تھا، ان کے نزدیک یہ مدینہ کے تمام دھڑوں اور قبائل کے بیچ دیر پا امن کی کنجی ثابت ہو سکتی تھی۔ چنانچہ انہوں نے اس معاہدے پر فوراً ہی دستخط کر کے مہریں ثبت کر دیں۔ یہ خلاف قیاس ہے کہ وہ اس معاہدے سے جڑے امکانات اور اختیارات کے کم ہو جانے سے بے بہرہ رہے ہوں گے۔ یعنی، اس معاہدے کے تحت مدینہ میں ہر طرح کا سیاسی اور انتظامی ڈھانچہ اگرچہ کالعدم تو نہیں ہوا تھا مگر پھر بھی، قبائلی سرداروں کی حکومت اور اختیار ختم ہو کر رہ گیا تھا۔ اسی طرح، اگر وہ اس معاہدے کے دور رس نتائج سے آگاہ نہیں بھی تھے تو کم از کم محمد صلعم کو اس کا پوری طرح ادراک تھا۔ یہ دونوں اطراف کے لیے بڑی کامیابی تھی۔ آپ صلعم ایک طرف اس جگہ کو جو شناخت کی تلاش میں تھی، اسے دوسری طرف ایک ایسی شناخت جو جگہ کی تلاش میں تھی کے قریب لانے، ایک دوسرے کے ساتھ جڑنے پر آمادہ کر چکے تھے۔
یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے کہ محمد صلعم کے مکہ سے یوں بچ نکلنے پر وہاں اشرافیہ نے سکھ کا سانس لیا ہو گا۔ اس طرح نہ صرف انہوں نے محمد صلعم کے کھڑے کیے خطرے سے چھٹکارا پا لیا تھا بلکہ اچھی بات یہ تھی کہ یہ قضیہ خون ریزی کے بغیر ہی حل ہو چکا تھا۔ اگرچہ یہ ان کا من چاہا حل تو نہیں تھا ، وہ نتیجہ تو نہیں تھا جس کی منصوبہ بندی انہوں نے کر رکھی تھی مگر پھر بھی، یہ ان کے لیے قابل قبول تھا۔ ان کے خیال میں وہ محمد صلعم سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا پا چکے تھے، بلکہ اچھی بات یہ تھی کہ محمد صلعم نے مکہ سے فرار ہو کر مدینہ جیسے معمولی زرعی نخلستان میں پناہ لی تھی۔ وہ اس جگہ پر جس قدر اور جس کو چاہیں تبلیغ کر سکتے تھے اور اس سے حجاز کے بڑے منظرنامے پر چنداں فرق نہیں پڑنے والا تھا۔ بالآخر وہ انہیں دیوار سے لگانے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ ان کے نزدیک، یہ اس معاملے کا ممکنہ طور پر سب سے بہترین حل تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ان کے رشتے دار اور قرابت دار جو محمد صلعم کی پیروکاری میں مدینہ چلے گئے تھے، بالآخر جب ان کے حواس بحال ہوں گے تو وہ جلد ہی مکہ لوٹ آئیں گے۔ ویسے بھی،' وہ وہاں رہ کر کیا کرتے؟ کھجوریں چنتے پھرتے؟'
مکہ کی اشرافیہ کو اپنے ان سوالوں کا جواب جلد ہی مل گیا۔ سالہا سال کی تضحیک، ہراساں کرنے کے حربے، بائیکاٹ، پیروکاروں کی تکالیف اور آخر میں خود محمد صلعم پر قاتلانہ حملہ اور یوں بے دخلی؟ بالآخر صبر کا پیمانہ لبریز ہونا ہی تھا۔ محمد صلعم نے قریش کی اشرافیہ کو قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی، یہاں تک کہ ان کے لیے اس نئے نظام میں جگہ بھی بنا لی تھی مگر وہ کڑا وقت گزر چکا تھا۔ اب حالات یکسر مختلف تھے۔ اب ان کے لیے کسی بھی قسم کی کوئی گنجائش باقی نہیں تھی۔ ہجرت پر مجبور کیے جانے کی بے عزتی اور اب جلا وطنی کی دن رات کی اذیت کے بعد برداشت جواب دیتی جا رہی تھی۔ عدم تشدد کی حد آن پہنچی تھی، بلکہ اس سے تو شکست کا شدید احساس ہونے لگا تھا۔ چنانچہ، اگر مکہ کی اشرافیہ نے محمد صلعم کے بغیر پر امن زندگی کی توقع پال لی تھی تو یہ ان کی غلط فہمی تھی۔ انہوں نے اب تک آپ صلعم کو ہراساں کیا تھا، اب ہراساں ہونے کی باری ان کی تھی۔
محمد صلعم نے مکہ کی اشرافیہ کو ہراساں کرنے کا جو طریقہ اختیار کیا، اسے 'غزیہ یا/اور سریہ' کہا جاتا ہے۔ غزیہ سے مراد چھاپہ، یورش یا حملہ کے ہیں۔ عربوں میں یہ طریقہ واردات بدو خانہ بدوش قبائل کا تھا، جو قحط کے دنوں میں، جب ان کے ریوڑ بھوک اور پیاس سے مرنے لگتے تو گزر بسر کرنے کے لیے اسے اختیار کرتے تھے۔ بدو قبائل کے چست اور چھریرے جوان مضبوط گھوڑوں اور توانا اونٹوں کی پیٹھ پر سوار ہو کر، چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹے، بڑے تجارتی قافلوں پر دھاوا بول دیا کرتے۔ یہ حملے زیادہ تر تنگ گھاٹیوں میں اس وقت کیے جاتے تھے جب راستے کی دشوار گزاری اور تنگی کے باعث قافلے میں اونٹوں کی قطار نسبتاً لمبی ہو جاتی اور سب سے پیچھے چلنے والے اونٹ آسان نشانہ ہوتے تھے۔ یہ وارداتیں بدو قبائل کی طرز زندگی کا حصہ تھا۔ یعنی، انہیں گزر بسر کے لیے صحرا پر انحصار کرنا پڑتا تھا ۔ اگر ان سخت دنوں میں جب صحرا کے پاس انہیں دینے کے لیے چراہ گاہوں میں گرچہ چارہ تو نہیں ہوتا تھا مگر یہی صحرا انہیں مال اور دولت سے لدے تجارتی قافلوں سے مستفید ہونے کا بھر پور موقع ضرور فراہم کر دیتا تھا۔ اس طرح، یہ وارداتیں ان کی عادت نہیں بلکہ ضرورت تھی۔ اسی لیے عام طور پر، بدوؤں کی اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے حملے کا خوف ہی کافی ہوا کرتا تھا۔ یعنی، تجار پہلے ہی بدو سرداروں کے ساتھ معاملات طے کر لیتے تھے اور مذاکرات کے ذریعے طے شدہ ٹکسال ادا کر کے صحرائی علاقے میں راہداری کے مخصوص حصوں میں قافلوں کی حفاظت کو یقینی بنا لیتے۔ لیکن اگر کسی علاقے میں سردار کمزور واقع ہوتا، بدوؤں کے آپس میں تنازعات چل رہے ہوتے یا پھر اکا دکا جگہوں پر بد امنی کا دور دورہ ہوتا تو اس صورت میں راہداری کا یہ حصہ یقیناً باغیوں اور شریروں کی آماجگاہ بن جاتا۔ وہ گھاٹیوں پر گھات لگا کر حملے کیا کرتے اور یوں قافلے ہر صورت نشانے پر آ جاتے۔ اس صورت میں بھی، یعنی باغیوں کے ہاتھ قافلوں پر اچانک حملوں کا ایک ان کہا اصول واضح طور پر لاگو رہا کرتا تھا۔ اس اصول کے تحت مال مویشی اور دولت وغیرہ لوٹنا تو جائز تھا مگر کسی انسانی جان کا ضیاع کسی بھی صورت قابل قبول نہیں تھا۔ اگر باغی غزیہ یا چھاپے کے دوران کسی شخص کو قتل کر دیتے تو قصاص اور انتقام کا قانون لاگو ہو جاتا تھا۔ یہ اصول گو تحریر تو نہیں تھا مگر پھر بھی حجاز کے صحرا میں، طول و عرض، ہر جگہ پر ہر شخص بشمول باغیوں کو بھی معلوم تھا اور ان پر بھی اس کا اطلاق ہوتا تھا۔ یہی وجہ تھی ان حملوں میں شاذ و نادر ہی کوئی شخص اپنی جان سے ہاتھ دھوتا تھا۔
مدینہ کے انصار اور دوسرے لوگوں کے پاس محمد صلعم کے حکم پر کیے جانے والے ان حملوں میں شامل ہونے کی کوئی معقول وجہ نہیں تھی۔ دوسری طرف، مہاجرین کے یہاں ان حملوں کا حصہ بننے کی ہر ممکن وجہ موجود تھی۔ چونکہ، مدینہ کی قابل کاشت اراضی پہلے ہی لوگوں کی ملکیت تھی، اسی لیے مہاجرین کے پاس ان مالکان کا ہاتھ بٹانے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تھا۔ اسی طرح وہ ابھی تک گزر بسر کے لیے انصار کی مہربانی اور احسان تلے دبے ہوئے تھے۔ وہ ہمیشہ ان پر انحصار نہیں کر سکتے تھے۔ انہیں خود بھی ہاتھ پاؤں ہلانے تھے اور کچھ ثابت کر کے دکھانا لازم تھا۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ وہ ایک ایسے معاشرے میں بسر رکھتے تھے جہاں غیرت اور مردانگی ہی سب کچھ تھا۔ اس کے علاوہ ایک پہلو اس کلنک اور داغ کو دھونا بھی تھا جو مہاجرین کے ماتھے پر جلا وطنی کی صورت لگ چکا تھا۔ ان کے دلوں میں وقت کے ساتھ یہ ناسور بگڑتا ہی چلا جا رہا تھا اور اس کو بھرنے کے لیے ہجرت کو سر کشی میں بدلنا ضروری ہو چکا تھا۔ یہ چھاپہ مار کاروائیاں ایک ایسا راستہ تھا جس کے ذریعے وہ مکہ کی اشرافیہ پر مڑ کر وار کر سکتے تھے اور وہ جانتے تھے کہ یہ ایسا وار ہوتا جو انہیں اندر سے ہلا کر رکھ دے گا۔ قریش کے لیے تجارت اور مالی مفادات پر کاری ضرب کسی بھی طور قابل قبول نہیں تھی۔ غزیہ کے نتیجے میں مہاجرین مفعول کی بجائے فاعل بن کر ابھر سکتے تھے۔
اوائل اسلامی دور کے محققین اور تاریخ دان ان حملوں کو 'فوجی مہمات' قرار دیا کریں گے۔ حالانکہ 623ء کے اواخر تک یہ حملے بمشکل ہی باقاعدہ مہم کہلائے جا سکتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پہلے پہل یہ حملے انتہائی بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے۔ مثال کے طور پر اسی برس، مارچ کے مہینے میں، ہجرت کے سات ماہ بعد محمد صلعم کے حکم پر ایک حملہ آور ٹکڑی تشکیل دی گئی۔ اس میں تیس مہاجرین شامل تھے اور سربراہی آپ صلعم کے چچا حمزہ کر رہے تھے۔ انہوں نے مکہ کے ایک تجارتی قافلے کا راستہ روک لیا۔ اس قافلے کی سربراہی ابو جہل کر رہا تھا۔ لیکن، اس علاقے کے بدو سردار نے مداخلت کر کے معاملہ رفع دفع کرا دیا اور یوں یہ 'مہم' بے نتیجہ ہی ختم ہو گئی۔ اس واقعہ کے ایک ماہ بعد مہاجرین نے ایک بار پھر، دگنی تعداد کے ساتھ ایک بار ایسی ہی ایک دوسری کوشش کی۔ اب کی بار تجارتی قافلے کی سربراہی ابو سفیان کے ہاتھ میں تھی مگر یہاں بھی 'دو بدو لڑائی' نہیں ہوئی اور حملہ آور ناکام لوٹ کر آئے۔ اسی طرح کی چند دوسری 'مہمات' کی خود محمد صلعم نے بھی سربراہی کی۔ ان کا مقصد 'قریش کا پیچھا کرنا' تھا۔ لیکن یہ ساری کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں۔ مہاجرین اس کام میں اتنے بھونڈے ثابت ہوئے تھے کہ بدو قبائل کے باغی دن دیہاڑے مدینہ کے باہر ان کے دودھ دینے والی اونٹنیاں ہانک کر لے جاتے اور جب مہاجرین ان کا پیچھا کرتے تو تھوڑی دور جا کر خود راستہ بھول جاتے۔ انہیں باغیوں کا نام و نشان بھی نہ ملتا۔
لیکن ذاتی طور پر محمد صلعم ان 'مہمات' سے کسی بھی قسم کی لوٹ مار یا مال و دولت ہتھیانے کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ وہ ایک عرصے تک تجارتی قافلوں میں مزدوری اور آڑھت، الغرض ہر طرح کا ادنی اور اعلیٰ کام، پیشہ نبھا چکے تھے۔ وہ ان قافلوں میں حفاظت کی غرض سے کیے جانے والے انتظامات سے بخوبی واقف تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ صحرائی گھاٹیوں میں کوئی بدو سردار اپنے علاقے میں اس قسم کی مداخلت، باغیانہ روش برداشت نہیں کرے گا۔ بدو قبائل الٹا ان کے گلے پڑ سکتے تھے۔ محمد صلعم ان مہمات کے ذریعے بجائے مادی فائدہ حاصل کرنے کے، قریش کو ایک پیغام دینا چاہ رہے تھے۔ انہیں مال و دولت سے کوئی غرض نہیں تھی بلکہ وہ صرف اور صرف ان تجارتی قافلوں کی راہ میں جان بوجھ کر روڑے اٹکا رہے تھے تا کہ تجارت کے کار سرکار میں جس قدر ممکن ہو، مشکلات پیدا کی جا سکیں۔ ایک طرح سے کہیے، وہ قریش کو ٹہوکے لگا رہے تھے، ہراساں کر رہے تھے۔ وہ ایک نکتہ واضح کر رہے تھے کہ قریش بھی اچھی طرح جان لیں کہ وہ صرف مدینہ تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ اس سے باہر بھی ایک قوت کی صورت موجود ہیں، جس کا انہیں بہر حال لحاظ رکھنا ہی ہو گا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ بظاہر ان کی یہ مہمات ناکامی سے دوچار تھیں مگر مثل ہینگ لگے نہ پھٹکری۔۔۔ وہ بغیر کوئی نقصان اٹھائے قریش کو پیغام دینے میں کامیاب رہے تھے۔ یہ آنکھ مچولی کا کھیل یوں ہی جاری رہتا مگر ایک روز مہاجرین کی ایک ٹکڑی کے ہاتھوں فاش غلطی سرزد ہو گئی۔ ایک شخص قتل ہو گیا۔
یہ واقعہ 624ء میں، جنوری کے مہینے میں پیش آیا۔ محمد صلعم نے آٹھ مہاجرین پر مشتمل، ہتھیاروں سے لیس ایک ٹکڑی کو مدینہ سے دو سو میل جنوب کی جانب، مکہ کے مضافات میں ایک مہم پر روانہ کیا۔ آپ صلعم کے ذہن میں اس فعل کے پیچھے کار فرما مقصد کا پوری طرح علم نہیں ہے۔ مگر، چونکہ حکم یہ دیا گیا تھا کہ یہ ٹکڑی کسی پر حملہ نہیں بلکہ صرف گشت کرے گی۔ سو، ممکن ہے کہ وہ اس گشت کے نتیجے میں بہار کے موسم کے دوران دمشق کی جانب روانہ کیے جانے والے بڑے تجارتی قافلوں کے بارے میں سن گن لینا چاہتے تھے۔ لیکن ان کا مشن جو بھی رہا ہو، یہ لوگ اپنے مقاصد کے حصول میں بری طرح ناکام ہو گئے۔ ان میں سے دو اتنے کاہل تھے وہ اپنے اونٹوں کو رات اچھی طرح باندھے بغیر ہی سو گئے۔ سویرے جاگے تو دیکھا اونٹ موجود نہیں تھے ۔ اونٹ رات کی تاریکی میں منڈلاتے ہوئے صحرا کی طرف نکل گئے تھے۔ چنانچہ ان دو اشخاص کو اونٹ ڈھونڈنے کے لیے پیچھے ہی چھوڑ دیا گیا اور باقی چھ مہاجرین مہم کے اگلے حصے کے لیے آگے، نخلہ کی جانب بڑھ گئے۔ نخلہ مکہ اور طائف کے بیچ واقع ایک مقام ہے۔ یہاں ان کا سامنا مکہ کے ایک مختصر قافلے سے ہوا، جس میں چار اشخاص چند اونٹوں پر داکھ، مرکلی کی گوند اور چمڑا لاد کر لے جا رہے تھے۔ کئی ہفتوں کی مایوس کن مہم اور پے در پے غلطیوں کے بعد یہ چھ مہاجرین کوفت کا شکار تھے۔ وہ اپنے آپ کو اتنے آسان ہدف ہر گھات لگا کر حملہ کرنے سے روک نہ سکے۔ حالانکہ، اس سے حاصل ہونے والا مال اور معلومات دونوں ہی ادنی تھیں۔ پھر، یہ حرام دن تھا۔ یعنی، سال میں حرمت کے تین مہینوں میں آخری مہینے رجب کا آخری روز تھا، اس وقت کے دوران قتل و غارت اور لڑائی جھگڑے کی ممانعت رہا کرتی تھی۔ وقت کی حرمت کی پرواہ کیے بغیر، اس ٹکڑی نے مکہ کے مختصر قافلے پر دھاوا بول دیا۔ ان میں سے ایک شخص فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا، دوسرا موقع پر ہی مارا گیا، جبکہ باقی دو کو زندہ پکڑ کر قیدی بنا لیا گیا۔ قافلے کا سامان بھی ہتھیا لیا گیا۔
مہاجرین کی یہ ٹکڑی ایک ہیرو کی طرح خیر مقدم کی توقع پالے، اپنی کامیابی پر نازاں فوراً ہی مدینہ کی طرف چل پڑے۔ وہ فخر سے سر سے بلند کیے، قیدیوں کو ساتھ پیدل چلاتے، مال سے لدے اونٹوں کی قطار کی مہار تھامے مدینہ میں داخل ہوئے۔ لیکن یہاں پہنچ کر بجائے جشن، محمد صلعم نے ان کو آڑے ہاتھوں لیا۔ مکہ، مدینہ کی مصنوعات کی واحد منڈی تھی۔ مدینہ کے لوگوں کے لیے یہ فعل ناقابل قبول تھا۔ وہ مکہ میں نخلستان کی مصنوعات کے متمول گاہکوں کو یوں دھمکانے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ وہ اس سے پہلے بھی ان مہمات کے پیچھے کار فرما سو چ اور حکمت پر خدشات کا اظہار کر چکے تھے، مگر اس واقعہ کے بعد تو انہیں یہ خوف لاحق ہو گیا تھا کہ اب تجارت تو رہی ایک طرف، قصاص اور خونی انتقام نا گزیر ہو جائے گا۔ یہی نہیں، اس کے کئی دوسرے مضمرات بھی تھے۔ چونکہ یہ واقعہ مکہ کے قریب ہی پیش آیا تھا، اس لیے یہ مکہ کی اشرافیہ کے لیے انتہائی قابل فکر اور شرم کی بات تھی۔ اور پھر کس لیے؟ انہوں نے مرکلی کے گوند اور تھوڑے سے چمڑے کے لیے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا؟ یہ تو سر اسر اشتعال دلانے کی کوشش تھی۔ مدینہ میں لوگ سوچنے لگے، کیا انہوں نے اس لیے محمد صلعم کو اپنے یہاں دعوت دی تھی کہ وہ ان کے بیچ تنازعات میں تو صلح کرا لیں مگر کسی دوسرے کے ساتھ کھلی جنگ چھیڑ دیں؟
'مدینہ کا آئین'، جس کی تیاری پر پورا ایک برس کام ہوتا رہا اور پھر اس پر سارے فریقین کو راضی کرنا علیحدہ سے ایک قضیہ رہا تھا، اب دیکھتے ہی دیکھتے سب کچھ ایک دم داؤ پر لگ گیا۔ ساری محنت اکارت ہوتی ہوئی دکھائی دے رہی تھی۔ معاہدے کی دستاویز میں مشترکہ مدافعت بارے صاف لکھا تھا کہ مقصد دفاع ہے اور ہر گز جارحیت نہیں ہے۔ بلا شبہ نخلہ میں پیش آنے والا واقعہ جارحیت تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ واقعہ حرمت کے مہینے میں ، ایک مقدس گھڑی کے دوران پیش آیا تھا۔ بعد ازاں قرانی آیات میں بھی کہا جائے گا کہ، 'اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا'۔ یعنی، واضح طور پر ضرر ، ایذا رسانی اور حملہ کرنے میں پہل کرنے والے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ مدینہ کے لوگوں نے مشترکہ دفاع اور مدافعت کا معاہدہ کیا تھا لیکن اگر اب حملہ کرنے میں پہل کی وجہ سے یہ دفاع لازم ہو جاتا ہے تو وہ اس سے ہر گز متفق نہیں تھے۔ ساتویں صدی عیسوی میں بھی آج کی ہی طرح اصطلاحات کی تشریح اور تفسیر اچھا خاصا جھنجھٹ ہوا کرتا تھا۔ یہاں مدافعت اور جارحیت میں فرق کرنا مشکل تھا۔ جیسے تب ویسے ہی آج بھی عام طور پر یہ فرق بجائے اصل تشریح، تشریح کرنے والے پر منحصر ہوتا ہے۔
مدینہ میں بڑھتی ہوئی تنقید کو روکنے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا۔ وہ یہ کہ محمد صلعم آگے بڑھتے اور معاہدے کی رو سے انسانوں سے بڑی ذات کی رہنمائی حاصل کرتے۔ اس کے لیے وحی درکار تھی اور وہ نازل بھی ہو گئی۔ 'لوگ پوچھتے ہیں ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟' محمد صلعم سے کہا گیا، 'کہو! اس میں لڑنا بہت برا ہے۔ مگر راہ خدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ خدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے۔ وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتی کہ اگر ان کا بس چلے، تو تمہیں اس دین سے پھرا لے جائیں۔۔۔'
پھر اسی طرح آگے چل کر معاملے کو صاف کرنے کی غرض سے ایک دوسری آیت میں کہا، 'یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے۔ صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے، 'ہمارا رب اللہ ہے' اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔ اللہ ضرور ان لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔۔۔' دوسرے الفاظ میں اب جارحیت کی حسب سابق، دفاع کے معنوں میں اجازت دے دی گئی تھی۔ اگر چہ نخلہ کے مقام پر پیش آنے والا واقعہ اور مہاجرین کا فعل غیر ضروری تھا مگر بہر حال اس کی توجیہہ موجود تھی۔ توجیہہ یہ تھی کہ مہاجرین اس واقعہ کے پیش آنے سے قبل، مکہ کی اشرافیہ کے ہاتھوں زیادتی اور جارحیت کا نشانہ بنتے چلے آ رہے تھے۔ مومنین کے لیے تو یہ معاملہ یہیں ختم ہو گیا مگر دوسروں کے لیے، مسئلہ ابھی صرف شروع ہوا تھا۔
ابتدائی طور پر قران میں جارحیت کی اجازت کو 'قتال' کہا گیا ہے جس کا صاف مطلب ہتھیاروں سے لیس ہو کر، دو بدو ٹکراؤ، لڑائی یا مقابلے کے ہیں۔ عربی میں اس کے مترادفات میں غزیہ یا غزوہ کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس سے مراد معرکہ، باہمی کٹا چھنی یا باقاعدہ جنگ کی صورت میں خون ریزی بھی لی جاتی ہے۔ لیکن یہ قرانی آیات جو بعد میں، محمد صلعم کے وصال کے تقریباً دو دہائیوں بعد جمع کر کے، موضوعات کی نسبت سے ترتیب دی گئیں تو ان میں اسی تصور کی آگے تشریح اگلی ہی آیت میں اس طرح مرتب کی گئی ہے کہ، 'بخلا ف اس کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے، وہ رحمت الہیٰ کے جائز امیدوار ہیں۔۔۔'
اس طرح کی لگ بھگ کی صورتحال، مجموعہ کرنے سے بندش خیالات کا پرچار ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج 'اللہ کی راہ میں جہاد'، دوسری صورت میں عام طور پر صرف 'لڑائی یا جنگ' کہلائی جاتی ہے۔ لیکن آج یہ کسی بھی صورت ممکن نہیں ہے کہ ہم قرانی آیات کی اصل ترتیب یا وقت نزول کو جان سکیں۔ بلکہ، یہاں تو ہمیں یہ بھی علم نہیں کہ ان آیات میں 'اللہ کی راہ میں جہاد' کے اصل معنی کیا ہیں؟ لفظ جہاد، جہد سے نکلا ہے اور اس کا مطلب کوشش کے ہیں۔ اس سے صرف مراد قتال نہیں ہے۔ یہ تو بہت بعد کی بات ہے کہ جہاد کا صرف اور صرف مطلب 'مقدس جنگ' لیا جانے لگا۔
کسی حد تک، یہ ترجمے کا مسئلہ بھی ہے۔ یا شاید، یہ قضیہ تشریح اور توضیع سے تعلق رکھتا ہے۔ قران کی زبان میں اشارے اور کنایے کا استعمال عام ملتا ہے اور اسے پڑھتے جائیں تو اس کی تحریر گہری اور پراسرار ہوتی چلی جاتی ہے۔ یوں، ترجمے کی صورت میں اور تفاسیر کے ذریعے، عربی اور دوسری زبانوں کے بیچ اس کا سیدھا سادہ ترجمہ اور تشریح کرنا ممکن نہیں ہے۔ ساری ہی سامی زبانوں کی طرح، عربی بھی لفاظی پر چلتی ہے۔ کسی بھی لفظ کے کم از کم تین ماخذ لے کر اس سے ایک خوش نوا اور موافق لفظ بن جاتا ہے، پھر اس کے اوپر سابقے اور لاحقے کے استعمال سے اتنے لفظ نکل آتے ہیں کہ ایک ہی رو میں بے شمار معنوں کا گماں ہوتا ہے۔ کسی بھی سامی زبان میں ماخذ کو لے کر آگے بڑھتے جائیں تو ایک ہی لفظ کے کئی مختلف مضمر مفہوم نکلتے چلے جاتے ہیں۔ ان میں سے ہر مفہوم کا استعمال مخصوص موقع یا سیاق و سباق کا متقاضی ہوتا ہے۔ اور قران، جو خدائی آواز ہے، لسانی سیاق و سباق سے بے نیاز ہے۔ قران تو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جو بھی اس کو سنے، ایک نتیجہ اخذ کر کے، مخصوص حوالے سے آگے بیان کر دے۔ لیکن، اس کلام سے جو نتیجہ ساتویں صدی عیسوی میں اخذ کیا گیا تھا، ضروری نہیں ہے کہ وہی نتیجہ آج اکیسویں صدی میں بھی اخذ کرنا ممکن ہو۔ کیونکہ، دونوں ہی چیزیں یعنی زبان اور حوالہ، بدل چکے ہیں۔ آج دنیا میں کہیں پر بھی ساتویں صدی عیسوی کی حجازی عربی، جس میں قران نازل ہوا ہے، بولی ، سمجھی اور نہ ہی لکھی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں اسلامی سکالر اور علماء زندگی بھر قران میں استعمال کیے گئے الفاظ پر سر کھپاتے، ان کے معنی تلاشتے گزار دیتے ہیں۔ بسا اوقات تو وہ لفظوں میں ہی کھوئے رہتے ہیں، پوری آیت پر دھیان جمانے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ یوں ان سے مفہوم اور اصل پیغام چھوٹ جاتا ہے۔
جب قران میں ایک ہی ڈھنگ سے کئی اصطلاحات جیسے قتال، 'جنگ و جدل اور لڑائی' کے لیے، وہیں اس کا استعمال 'جہاد' کے طور پر کرنا، جس کا مطلب جہد یا کوشش کے ہیں۔۔۔ میل نہیں کھاتا۔ وقت کے ساتھ زبان میں آنے والے تغیرات کے باعث اس لفظ کے دوہرے معنی، کئی کئی مفہوم نکل آئیں گے۔ مثلاً جہاد سے مراد ایک تو یہ ہے کہ اپنے اندر روحانی کوشش اور جدوجہد کرنا، تا کہ اخلاقی اور متقی زندگی گزارنے کا سبب پیدا ہو سکے یا روحانیت میں درجات بلند ہوں تو دوسری طرف اس کے معنی بیرونی دنیا میں ہتھیاروں سے لیس ہو کر دشمنان اسلام کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔ جہاد کے دونوں معنی، ایک مشہور حدیث میں پا کر، اور بھی متبرک ہو جائیں گے۔ یہ حدیث بھی ایک روایت ہے، جیسا کہ تقریباً احادیث محمد صلعم کے وصال کے خاصے عرصہ بعد جمع کی گئی تھیں۔ یہ مجموعہ، محمد صلعم کے اقوال اور افعال کی روایات پر مشتمل ہے، جس کے محمد صلعم کے چند قریبی لوگ ہیں۔ اس حدیث میں جہاد اکبر اور جہاد اصغر کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ محمد صلعم سے منسوب روایت میں درج ہے کہ، 'جہاد اصغر یہ ہے کہ ہتھیاروں سے لیس ہو کر اسلام کا دفاع کیا جائے، جبکہ جہاد اکبر یہ ہے کہ اپنے اندر تقویٰ پیدا کیا جائے اور خدا کی خوشنودی حاصل کی جائے۔ ہم یہاں استعمال ہونے والے الفاظ اکبر اور اصغر سے، دونوں طرح کے جہاد میں سے برتر جہاد، بہتر مفہوم کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔
بہرحال، اس وقت زمینی حقائق یہ تھے کہ اگر اس سے پہلے کبھی محمد صلعم نے امید پال رکھی تھی کہ وہ الہامی تحریک کو تشدد کے بغیر ہی پار لگا سکتے ہیں تو اب یہ ممکن نہیں رہا تھا۔ اہم سوال یہ نہیں تھا کہ آیا لڑائی جھگڑا، جنگ و جدل، معرکے اور مہمات، خون ریزی کی جائے گی یا نہیں؟ جہاد کے معنی واقعی قتال کے ہیں؟ یہ اہم نہیں رہا تھا۔ یہ تو پہلے ہی طے ہو چکا تھا۔ یہاں تک کہ اب قران بھی آنے والے کئی سالوں تک بجائے اس بات پر زور دیا کرے گا کہ آخر کن حالات میں یہ سب جائز ہو جاتا ہے؟ اور یہ کیونکر کیا جائے؟ محمد صلعم نے اس سوال کو کس طرح سمجھا اور اس پر کیسے عمل کیا، یا کیا وہ حق بجانب تھے؟ یہ آج بھی گرما گرم بحث ہے۔ تشدد کا استعمال بالآخر اسلام کی کمزوری بن کر رہ جائے گا۔ آنے والی کئی صدیوں میں مجاہد 'مسلمان' اور جنگجو 'کفار' ساتویں صدی عیسوی کی سیاست کے حربوں کو حوالے کے طور پر استعمال کر کے ، اس کی کئی تشریحات نکال کر اور جہاں ضروری سمجھا، اصل حقائق کو مسخ کر کے آپس میں گتھم گتھا رہا کریں گے۔ ایک دوسرے کی گردنیں کاٹتے پھریں گے۔ ان اسلام پسند مجاہدین اور ان جیسے ہی شدت پسند کفار میں سے شاذ و نادر ہی کوئی ایسا ہو گا جو نخلہ پر پیش آنے والے واقعے کے پس منظر سے آگاہ ہو گا، ان میں سے شاید ہی کسی نے غور کیا ہو کہ وہ کیا عوامل تھے، جن کے باعث یہ سارا معاملہ شروع ہوا تھا۔
نخلہ کے واقعہ نے اس وقت حالات کا دھارا بدل کر رکھ دیا تھا۔ اگرچہ اس موقع پر جارحیت اور مدافعت کی جامع تعریف، فرق تو واضح کر دیا گیا تھا مگر اس کے علاوہ ایک دوسری بات نہایت اہم تھی۔ اب تک، الہامی آواز نے محمد صلعم کو ہدایت کی تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کو نظر انداز کر دیا کریں۔ وہ ان سے منہ موڑ لیا کریں اور ان کی جہالت کے سبب، معاف کر دیا کریں۔ یہی طریق تھا کہ جس پر وہ سالہا سال سے انتہائی صبر کے ساتھ، ہراساں کیے جانے اور مکہ میں شدید مخالفت کا سامنا ہونے کے باوجود عمل کیے چلے آ رہے تھے۔ اسی طرز کی بدولت انہیں اخلاقی فتح بھی ملی تھی اور عدم تشدد کی پالیسی کے سبب ہی وہ خاصے مقبول بھی ہو چکے تھے۔ لیکن، اسی گاندھی جیسے عدم تشدد کے اطوار کے باعث ان سے بالآخر اپنا گھر بھی چھن چکا تھا۔ گھر کیا، ایک وقت ایسا بھی آیا تھا کہ انہیں اپنی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔ ذاتی سطح تک تو چلو ٹھیک تھا مگر اب جب کہ آپ صلعم ایک رہنما تھے، اجتماعی مفادات کا تحفظ ان کا فرض بن چکا تھا۔ وہ اپنے لوگوں سے یوں عدم تشدد کا نعرہ بلند کر کے پیٹھ نہیں پھیر سکتے تھے۔ یہاں صرف ایک ہی راستہ تھا اور وہ آگے کا راستہ تھا۔ اس مرحلے پر 'اقتدار کی سیاست' ہی واحد حل ہے۔ صرف یہی کلیہ ہے جو آپ صلعم کو اپنے سابقہ طرز عمل میں بڑی تبدیلی پر مجبور کر دے گا۔
'اقتدار کی سیاست' نامی اصطلاح ایک ہی جیسے الفاظ اور معنوں کی تکرار معلوم ہوتی ہے۔ سیاست اور اقتدار کا چولی دامن کا ساتھ ہے، معنوں میں یہ ایک ہی بات ہے۔ لغت میں بھی سیاست کی ایسی ہی تعریف یعنی، ' حکومت کی سائنس اور آرٹ' ملتی ہے۔
بہرحال ، اب یہ اصطلاح خاصی بدنام ہو چکی ہے۔ عام طور پر اس سے منفی مفہوم لیا جاتا ہے اور اس سے متعلق جدید روش کو مشہور سیاسی فلسفی آیزایا برلین نے چیلنج کیا تھا۔ برلین اپنی تصانیف میں جا بجا اس شخص کی مدح سرائی کرتے نظر آتے ہیں جس نے پہلی بار 'اقتدار کی سیاست' کا ثابت خیال پیش کیا تھا۔ یہ شخص نکولو مکیا ویلی ہے۔ برلن کے نزدیک مکیا ویلی ایک بے درد اور غیر مبتدل نہیں بلکہ ایک نہایت ذمہ دار اور ہنرمند سیاسی طور پر عملیت پسند شخص تھا۔ برلین لکھتے ہیں، 'اگر آپ سفارش کردہ سیاسی طور طریقوں سے اس لیے خائف ہیں کہ وہ آپ کو اخلاقی طور پر چنڈال لگتے ہیں؟ یا اگر آپ ان کا صرف اس لیے انکار کر دیتے ہیں کہ وہ نہایت خوفناک ہو سکتے ہیں؟ تو میکاویلی کے پاس آپ جیسوں کے لیے ایک جواب ہے۔ وہ جواب یہ ہے کہ آپ بے شک اخلاقی طور پر اچھی زندگی گزارا کریں، اپنی نجی زندگی میں کھپتے رہیں، بڑی آبادی میں ایک عام شہری بن کر بسر کریں یا چاہیں تو راہبیت اختیار کر لیں۔ آپ کے لیے کسی بھی طرح ممکن ہو، ایک کونے میں دبک کر بیٹھ جائیں۔ لیکن، اس سیاسی طور کے عملی نتائج کی صورت میں آپ پر لازم ہے کہ اپنے آپ کو دوسروں کی زندگیوں کا ذمہ دار نہ بنائیں اور نہ ہی اس کے نتیجے میں کسی فائدے یا خوش قسمتی کی توقع رکھیں۔ آپ اس صورتحال میں، مادی لحاظ سے یکسر نظر انداز کر دیے جائیں گے بلکہ آپ تباہ ہو جانے کی توقع رکھیں۔' اسی بات کو ایک جگہ پر میکاویلی نے ان الفاظ میں ایسے سمو دیا ہے کہ ، 'سارے مسلح پیغمبر بالآخر فاتح بن کر ابھرے ہیں اور غیر مسلح پیغمبروں کے حصے میں دکھ اور درد کے سوا کچھ نہیں آیا'۔
محمد صلعم ماضی میں نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں، دکھ اور درد جیسے ان کی قسمت میں لکھ دیے گئے تھے۔ بلکہ ایک ایسا وقت بھی آیا تھا جب وہ تقریباً تباہ کر دیے گئے تھے۔ اب وہ اپنے ساتھ دوبارہ وہی سلوک روا رکھے جانے پر چین سے بیٹھنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ جہاں اس سے قبل قرانی آیات آپ صلعم کو تشدد سے باز رہنے پر مجبور کرتی آئی تھیں، اب وہ بھی مشروط حمایت پر راضی ہو گئی تھیں۔ اس کہانی میں ایک نیا باب شروع ہو چکا تھا۔ اب یہ صرف وقت کا کھیل تھا۔ ہم دیکھیں گے کہ صرف دو مہینے کے قلیل عرصے میں ہی حالات بگڑ کر کھلی جنگ پر منتج ہو جائیں گے۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین: محمد صلعم کی کہانی' کے اگلے باب نمبر 14 کے لیے یہاں کلک کریں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر