اول المسلمین - جلا وطن - 14

 
جنگ بدر 14 مارچ 624ء کو لڑی گئی۔ یہ وہ تو نہیں تھا جو محمد صلعم چاہتے تھے مگر اس کا نتیجہ یقیناً وہی نکلے گا جس کی محمد صلعم کو ضرورت تھی۔ اوائل اسلامی تواریخ میں جنگ بدر کو شاندار الفاظ میں اسلام کی پہلی بڑی فتح کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ ایک فیصلہ کن مسلح معرکہ ثابت ہو گا جو نہ صرف مدینہ میں بگڑتے ہوئے حالات کو سنبھالا دے گا بلکہ ساتھ ہی کم قیمت ہوتی ہوئی عزت و حرمت بھی سود سمیت واپس لوٹا دے گا۔ بالخصوص، مضافاتی علاقوں کے بدو قبائل تو اس کے بعد مدینہ کی جھولی میں آن گریں گے۔ جب محمد صلعم مکہ کی طاقت اور دولت پر اجارہ داری کو میدان جنگ میں دھول چٹا دیں گے تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ بالآخر بدو قبائل ان کی حمایت میں نہ نکل آئیں ۔ لیکن بالآخر، ایسا ہو رہنا، باقاعدہ منصوبہ بندی نہیں بلکہ ایک غلط اندازے کی مرہون منت تھا۔
بدر کا مقام مدینہ اور بحیرہ احمر کے درمیان واقع ہے۔ یہ ایک وسیع وادی ہے جو پھیل کر ساحل کے میدانی علاقوں میں نکل جاتی ہے۔ اس وادی کے آس پاس کئی کنویں کھدے ہوئے تھے اور جا بجا قدرتی ترائیاں نکال رکھی تھیں۔ یہ ترائیاں تقریباً سارا سال سرما کے موسم میں برسنے والی بارشوں کے بچے کھچے پانی سے تر رہا کرتی تھیں اور استعمال میں لائی جاتیں۔ یوں، یہ مقام ایک طرح سے پانی کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہو گیا تھا۔ بوجہ اہمیت، صحرا میں ہر گروہ، قبیلے اور قافلے کی نظریں اسی مقام پر لگی رہتیں۔ اکثر تجارتی قافلوں کا یہاں پڑاؤ رہا کرتا تھا۔ اس برس، اس جگہ کی اہمیت اور بھی بڑھ جائے گی کیونکہ بہار کے موسم میں دمشق جانے والا قریش کا تجارتی قافلہ واپسی پر اسی مقام پر پڑاؤ ڈالے ہوئے تھا۔
قریش کے اس بڑے قافلے پر چھاپہ مار کاروائی کا صرف سوچنا ہی ہمت کا کام تھا۔ ابھی تک محمد صلعم جو حملہ آور ٹکڑیاں تشکیل دیتے آئے تھے، وہ بمشکل بیس سے تیس لوگوں پر مشتمل ہوتی تھیں ۔ پھر، ان چھاپہ مار کاروائیوں میں اب تک منطقی طور پر صرف نخلہ کی کاروائی ہی نتیجہ خیز ثابت ہوئی تھی مگر متنازعہ ہو گئی۔ مدینہ کی زیادہ تر آبادی، بالخصوص وہ لوگ جن کی جنوب میں واقع مکہ شہر کے ساتھ تجارت اور قرابت داری کی ڈوریں بندھی ہوئی تھیں، وہ اس معاملے کو مزید طول دینے کے حق میں نہیں تھے۔ ان کے لیے نخلہ کا تجربہ خاصا تلخ رہا تھا۔ اس واقعے کے بعد، دوبارہ ایسی ہی کسی کاروائی کے بارے میں سوچنا مکہ کو کھلی جنگ کی دعوت ہوتی۔ مگر، یہ وہ خطرہ تھا جو بہرحال محمد صلعم مول لینے کو تیار تھے۔ نخلہ جیسی چھوٹی کاروائیوں سے مکہ کا کچھ بھی نہیں بگڑنے والا تھا۔ اس کے بر عکس، بدر جیسے مقام پر ایک بڑی اور اب کی بار، منظم کاروائی سے قریش کے ہوش اڑ جاتے۔ محمد صلعم ان کے لیے ایک بے بس اور غیر اہم جلا وطن نہ رہتے بلکہ ان کو اچھی طرح باور کرایا جا سکتا تھا کہ وہ ان کے ایسے دشمن ہیں، جس سے نبٹنا آسان نہیں ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس طرح کی کامیابی سے مدینہ میں ان کی حمایت بڑھ جاتی بلکہ یہاں کی آبادی کا اعتماد اور حوصلہ بھی بلند ہو جاتا۔ گو، مدینہ کا اثر رسوخ رکھنے والا بزرگ طبقہ ابھی تک احتیاط پر مصر تھا مگر نوجوانان ایک بڑے شہر اور انتظام کو چیلنج کرنے کے لیے اتاؤلے ہو رہے تھے۔ پھر، یہ کاروائی مال غنیمت کی ایک بڑی مقدار حاصل کا سنہری موقع بھی تھا۔
اب کی بار یہ صرف چمڑے کے کچھ پارچے اور مرکلی کے گوند کی چند بوریاں نہیں تھیں۔ بنو امیہ کے سردار ابو سفیان کی سربراہی میں، دمشق سے لوٹ کر آنے والے اس قافلے میں دو ہزار اونٹوں پر لدا قیمتی سامان تھا۔ یہ نسبتاً آسان ہدف تھا ،کیونکہ پیش بندی کے نتیجے میں ملنے والی معلومات کے مطابق اتنے بڑے قافلے کی حفاظت پر مامور مسلح افراد کی تعداد صرف ستر تھی۔
اتنے بڑے قافلے کی حفاظت کے لیے صرف ستر افراد کا مسلح دستہ، یقیناً یہ انتظامات نا کافی تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ شاید قریش ابھی تک محمد صلعم کے ارادوں کو بھانپ نہیں سکے تھے۔ یا پھر اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ ابھی تک 'مضافات ' کو کمتر، اس قابل نہیں سمجھتے تھے۔ نخلہ کے مقام پر پیش آنے والا واقعہ ایک چھوٹی اور غیر موثر کاروائی تھی۔ ان کے خیال میں، اتنے بڑے قافلے پر یوں دھاوا بول دینا، اتنی آسان بات نہیں تھی۔ پھر، قریش کا اس پورے خطے میں جو دبدبہ اور رعب تھا، اس کے ہوتے کوئی بھی شخص یا گروہ، محمد صلعم کا ساتھ دینے کے لیے آگے بڑھنے سے پہلے، سو بار سوچتا۔ کس میں اتنی ہمت تھی کہ وہ قریش کو یوں للکارا کرے؟ لیکن اگر گھمنڈ میں قریش محمد صلعم کو حقیر جانتے تھے تو دوسری طرف محمد صلعم کا بھی ان کے بارے اندازہ پورا نہ ہوا ۔
جب محمد صلعم مدینہ سے بدر کی جانب دو دن کے سفر کے لیے نکلے تو ان ہمراہ صرف ایک چھاپہ مار ٹکڑی نہیں بلکہ تین سو لوگوں پر مشتمل پوری فوج تھی۔ وہ اس مہم کے دوران خون ریزی کی توقع نہیں رکھتے تھے کیونکہ تجارتی قافلے کی حفاظت پر مامور ستر افراد مسلح حملہ آوروں کی اتنی بڑی تعداد دیکھ کر یقیناً پیچھے ہٹ جاتے۔ تین سو لوگوں کی موقع پر موجودگی سے صرف اور صرف مظاہر طاقت مقصود تھی۔ وہ کسی جھڑپ یا اسلحے کے استعمال کا کوئی ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ اسی لیے، پہلی بار ایسی کسی مہم میں مہاجرین کے ساتھ مدینہ کے مقامی لوگ بھی شامل تھے۔ اس سے نخلستان میں محمد صلعم کے اختیار اور اثر کا پتہ چلتا ہے۔ بلکہ، مقامی آبادی کی اس مہم پر آمادگی کا ثبوت یہ تھا کہ فوج میں انصار کی تعداد مہاجرین سے زیادہ تھی۔ اگر اس مہم کے نتیجے میں حاصل ہونے والے فوائد کی بابت توقعات آسمان سے باتیں کر رہی تھیں تو دوسری جانب، اس لشکر کی روانگی کی خبر بھی زمین پر چہار سو پھیل گئی۔
اتنے بڑے لشکر کی خبر کیسے چھپ سکتی تھی؟ صحرا میں ہر طرف چہ مہ گوئیاں شروع ہو گئیں اور معلومات پھیل گئیں۔ اس کی اطلاع تجارتی قافلے کو بھی فوراً ہی مل گئی ۔ ابو سفیان نے فی الفور ایک قاصد کو سریع گھوڑے پر سوار کر کے مکہ روانہ کر دیا۔ اس نے فوراً کمک روانہ کرنے کا حکم دیا تھا اور پیغام مختصر اور صاف تھا کہ، 'آؤ اور اپنی تجارت بچا لو!'
پیغام ملتے ہی مکہ میں قریش کی تجار کونسل آگ بگولہ ہو گئی۔ چونکہ اس تجارتی قافلے میں قریش کے سبھی کنبوں کا حصہ تھا، فوراً ہی جمع ہو گئے اور حکمت عملی ترتیب دی جانے لگی۔ اس موقع پر محمد صلعم کے دیرینہ دشمن ابو جہل نے گرج کر کہا، 'کیا محمد صلعم اور اس کے حواری یہ سمجھتے ہیں کہ وہ نخلہ کی طرح لوٹ مار کر لیں گے؟ نہیں۔ واللہ ایسا نہیں ہو گا۔ اس بار انہیں لگ پتہ جائے گا۔' محمد صلعم کے لشکر میں تین سو افراد تھے؟ قریش نے فیصلہ کیا کہ انہیں بتا دیں گے کہ لشکر کی تعداد اور قوت کیا ہوتی ہے۔ راتوں رات، ایک بڑی فوج ترتیب دے دی گئی۔ اس لشکر میں قریباً ایک ہزار مسلح افراد شامل تھے۔ یہ فوج اگلے ہی دن ابو جہل کی سپہ سالاری میں شمال کی جانب، بدر کی طرف روانہ ہو گئی۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اس لشکر کی اطلاع پہنچتے ہی محمد صلعم کے حوصلے جواب دے جائیں گے اور وہ کسی بھی صورت اتنی بڑی فوج سے ٹکر لگانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ اتنا بڑا لشکر دیکھ کر ہی محمد صلعم کے اوسان خطا ہو جائیں گے۔
اسی کشمکش میں، ابو سفیان نے اس گماں پر کہ شاید مکہ سے آنے والی کمک وقت پر نہ پہنچ سکے، قافلے کا رخ بدلنے کا حکم دے دیا۔ یہ قافلہ بدر جانے کی بجائے پیچھے کی طرف ہٹ گیا اور مغرب میں کافی دور سے لمبا چکر کاٹتے ہوئے بحیرہ احمر کے ساحلوں پر جا پہنچا۔ اب وہ محمد صلعم کے لشکر کی پہنچ سے بہت دور نکل آئے تھے اور اپنے پیچھے، دو لشکروں کو ایک دوسرے کے سامنے چھوڑ آئے تھے۔ یہ دونوں ہی لشکر، ابو سفیان کی حکمت عملی سے بے خبر آگے ہی بڑھتے چلے گئے۔ انہیں بدر پہنچ کر سوائے دھول کے کچھ نہیں ملنے والا تھا۔ ابو سفیان نے ممکنہ جنگ کے خطرات کو بھانپ کر ابو جہل کے نام پیغام بھجوایا کہ، 'تم اپنے قافلے اور مال و دولت کی حفاظت کے لیے نکل آئے ہو۔ خدا نے خود اس کی حفاظت کا انتظام کر دیا ہے لہذا، تم واپس چلے جاؤ۔'
لیکن ابو جہل کو محمد صلعم سے ٹکراؤ کے امکان سے موڑ کر واپس مکہ لے جانا ایسا ہی تھا جیسے آگے بڑھتے ہوئے کسی طوفان کو بیچ راستے میں رک جانے کا حکم دیا جائے، یعنی نا ممکن تھا۔ حالانکہ، اس طرح مسلح آمنے سامنے کا امکان بڑھا کر وہ محمد صلعم کی اہمیت بڑھا رہا تھا۔ میکاویلی نے ایک جگہ لکھا ہے کہ، 'اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ایک حکمران کی عظمت مشکلات اور اختلاف کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونے میں ہے۔ ایسے حکمرانوں کے لیے قسمت خود ایسے دشمن تلاش لیتی ہے جو اس کے سامنے آن کھڑے ہونے کی جرات کرتے ہیں تا کہ وہ ان کے خلاف فتح حاصل کر سکے اور مقبولیت اور عظمت کی اس سیڑھی پر اوپر چڑھتا جائے جو اس کے دشمنوں نے اپنے ہاتھ سے اسے فراہم کر دی تھی۔' یہاں بھی یہی ہونے جا رہا تھا۔ قریش کا لشکر، جس کی سپہ سالاری ابو جہل کر رہا تھا، محمد صلعم کے وسیع تر ارادوں کی تکمیل کے لیے آن کر سامنے کھڑا ہو گیا تھا۔
حقیقت یہ ہے کہ تمام تر جارحانہ روش کے باوجود، ابو جہل کے اندازے ابو سفیان کے خدشات کی نسبت زیادہ معروضی تھے۔ یہ مکہ کی عزت اور غیرت کا معاملہ تھا۔ گو قافلہ اب حملے سے محفوظ تھا مگر اس کو اپنے راستے سے ہٹنے پر مجبور کر دینا بھی محمد صلعم کی جزوی فتح تھی۔ یہ خبر عام ہو جائے گی۔ یہی نہیں بلکہ بدر جیسے مقام، جہاں تقریباً صحرا کا ہر شخص، قبیلہ اور قافلہ پانی کے لیے پڑاؤ ڈالتا ہے، وہاں اس خبر کی بازگشت شروع ہو چکی ہو گی۔ یہ پورے خطے میں قریش کی ناک کٹوانے کے لیے کافی تھا۔ ابو جہل کے نزدیک یہاں سے واپس مڑ جانا جلتی پر تیل کا کام کرے گا۔ لوگ سمجھیں گے کہ قریش نے محمد صلعم کے ساتھ نخلہ کے بعد یہاں بھی رعایت برت کر کمزوری کا ثبوت دیا ہے۔ ابو جہل کو ہر گز قابل قبول نہیں تھا کہ وہ اپنے ہاتھ سے محمد صلعم کو یہ موقع فراہم کرے۔
چنانچہ، نہ صرف قریش کی یہ فوج بدر کی جانب بڑھتی چلی گئی بلکہ ابو جہل نے اعلان کیا، 'ہم بدر پہنچ کر تین دن قیام کریں گے۔ اونٹ ذبح کریں گے۔ وہاں محفل ہو گی اور شراب اور رنگ جمائیں گے تا کہ وہاں موجود ہر شخص اور مضافات کے سارے بدو جان لیں کہ ہم نے کیا انتظام کیا تھا۔ اس طرح ان کی تمام تر توقعات بدستور قریش کے ساتھ جڑی رہیں گی۔'
اس حکمت عملی سے لشکر کے اکثر لوگ متفق نہیں تھے۔ ان کو یہ خدشہ تھا کہ اگر یہ صرف طاقت کا مظاہرہ نہ ہوا اور معاملات بڑھ کر لڑائی لڑنے تک پہنچ گئے تو پھر کیا ہو گا؟ ایک سردار نے انہی خدشات کا اظہار یوں کیا، 'ہمیں لشکر کو میدان جنگ میں لے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہاں، اگر دفاع ضروری ہو اور تجارتی مال داؤ پر لگا ہو تو دوسری بات ہے مگر یوں بے وجہ خطرہ مول لینا دانشمندی نہیں ہے۔' ابو جہل نے یہ سن کر اس سردار کو نا مردی کا طعنہ دیا اور ناک چڑھا کر کہا، 'تمہارا سینہ خوف سے پچک گیا ہے'۔
اسی طرح ایک دوسرے شخص نے اس نکتے کی طرف توجہ دلانی چاہی کہ محمد صلعم کے ساتھ لشکر میں مہاجرین بھی ہیں۔ یہ مہاجر، ان کے رشتہ دار ہیں۔ اپنا خون ہیں۔ وہ کہنے لگا، 'خدا کی قسم! اگر تم نے محمد صلعم کو جنگ میں شکست دے بھی دی تو فائدہ نہیں۔ اس کے بعد تم ایک دوسرے کا سامنا نہیں کر پاؤ گے۔ تم میں سے ہر شخص دوسرے سے منہ چھپاتا پھرے گا اور دل میں کدورت ہو گی کیونکہ ہر ایک نے دوسرے کے ناطے دار، بھتیجوں اور قرابت داروں کا خون کر رکھا ہو گا۔ ہمیں یہیں سے واپس چلے جانا چاہیے۔' اس بات پر تو ابو جہل کا رنگ لال ہو گیا۔ منہ بگاڑ کر کہنے لگا، 'تم ایسا صرف اس لیے کہہ رہے ہو کیونکہ محمد صلعم کے لشکر میں تمہارا بیٹا ہے۔ اس کو بچانے کی کوشش مت کرو!' اور پھر اس نے اس بحث کو نخلہ میں قتل ہونے والے شخص کے بھائی کی جانب اشارے سے سامنے بلا کر یوں سمیٹا کہ، 'تم اپنی آنکھوں سے انتقام دیکھو گے۔ اٹھو اور ان کو یاد دلاؤ کہ ان کے ذمے تمہارے بھائی کے قتل کا قرض باقی ہے'۔ مگر اس سے قبل کہ مقتول کا بھائی کچھ کہہ پاتا، وہاں موجود تقریباً ہر شخص اس کے خون کا بدلہ لینے پر راضی ہو چکا تھا۔ اس کے باوجود، کئی لوگ وہیں سے واپس ہو لیے۔ آگے بڑھنے والے لشکر کی تعداد گھٹ کر لگ بھگ سات سو کے قریب رہ گئی تھی۔
اگر وہ آگے بڑھنے یا نہ بڑھنے کی بحث میں نہ پڑتے تو شاید ابھی تک انتقام لے چکے ہوتے۔ پھر، خبریں صرف قریش تک نہیں بلکہ محمد صلعم کو بھی توا تر سے پہنچ رہی تھیں۔ محمد صلعم جان چکے تھے کہ نہ صرف یہ کہ ابو سفیان قافلے کو لے کر پہلے ہی نکل چکے ہیں بلکہ مکہ سے آنے والی کمک ایک بڑے لشکر کی صورت میں ان کی جانب بڑھ رہی ہے۔ یہاں قریش کی ہی طرح محمد صلعم کو بھی دو میں سے کوئی ایک فیصلہ کرنا تھا۔ یعنی، یہیں سے واپس مدینہ کی طرف مڑ جاتے۔ لیکن ، یہ کمزوری سمجھی جاتی اور مدینہ میں اس کا منفی تاثر بنتا۔ یہی نہیں بلکہ مضافات کے قبائل میں بھی یوں بیچ راستے سے، مکہ کے لشکر کی اطلاع پا کر واپس مڑ جانے کا چرچا ہو جاتا۔ ویسے بھی، اب یہ معاملہ صرف تجارتی قافلے کو روکنے سے متعلق نہیں رہا تھا۔ ویسے ہی، یہ اب صرف انا کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ تو محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کی ساکھ کا معاملہ بن کر رہ گیا تھا۔ دوسری طرف، یہی معاملہ قریش کو بھی در پیش تھا۔ دونوں فریقین کسی بھی صورت ممکن ہوتا، کمزوری نہیں دکھا سکتے تھے۔ ان میں سے ایک کو طاقت کے حصول کی دھن تھی تو وہیں دوسرے کو اسی طاقت کے کھو جانے کا ڈر تھا۔
مکہ کا لشکر بدر پہنچا تو محمد صلعم اور ان کے پیروکار پہلے سے وہاں موجود تھے اور نسبتاً اونچی جگہ پر قبضہ جمائے بیٹھے تھے۔ پوری رات ہلکی بارش جاری رہی ۔ یہ مارچ کے مہینے میں ایک غیر معمولی بات تھی۔ چونکہ مکہ کا لشکر وادی کے پیندے میں تھا تو ساری رات وہ بارش کے سیلابی پانی سے بچاؤ میں مصروف رہے۔ دوسری طر ف محمد صلعم نے اسی بارش کا فائدہ اٹھا کر مکہ کے لشکر کے قریب واقع کنوؤں اور ترائیوں پر قبضہ کر لیا۔ صبح ہوتے ہی مکہ کا لشکر ڈھلوان سے نکل کر اونچی جگہوں پر جانے کے لیے مجبور ہو جائے گا اور وہاں پہلے سے ہی محمد صلعم اور ان کے پیروکار موجود ہوتے۔ محمد صلعم پانی تک رسائی روک کر گویا پورے میدان پر حاوی تھے۔
دوسرے دن صبح جب لڑائی شروع ہوئی تو وادی پر ہلکے بادل تھے۔ مومنین کا لشکر انتہائی منظم انداز میں، یک جان ہو کر لڑ رہا تھا مگر دوسری طرف مکہ کے لشکر کی حالت ابتر تھی۔ ہر کنبہ اپنے تئیں آزادانہ طور پر دفاعی لڑائی لڑ رہا تھا۔ چنانچہ، دوپہر سے پہلے ہی ان کی کمر ٹوٹ کر رہ گئی۔ بڑی تعداد بھاگنے پر مجبور ہو گئی۔ مکہ کے لشکر میں چالیس افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں ابو جہل بھی تھا۔ اس کو قتل کرنے والا ایک نوجوان مہاجر چرواہا تھا۔ مشہور ہے کہ ایک دفعہ اس چرواہے کو ابو جہل نے اپنے ہاتھ سے پیٹا تھا اور شدید بے عزتی کی تھی۔ لڑائی کے دوران ابو جہل کی ہلاکت کا واقعہ سناتے ہوئے کہتا ہے کہ، 'میں نے ابو جہل پر وار کیا تو اس کا ایک پاؤں اور آدھی ٹانگ کٹ کر دور جا گری۔ واللہ، اس کی ٹانگ ہوا میں یوں اڑی جیسے کوترے میں ڈالنے سے کھجور کا برادہ اڑتا ہے'۔ اور، اس کو ابو جہل کے آخری الفاظ نے خوب طمانیت دی، جب اس نے مرتے ہوئے کہا، 'اے بکریاں چرانے والے، تم اپنی حیثیت سے بہت بڑے ہو چکے ہو۔'
یہ معلوم نہیں کہ ابو جہل نے دم توڑتے ہوئے واقعی یہ الفاظ کہے یا نہیں مگر اس کہانی سے لڑائی میں قریش کے حصے میں آنے والی ہزیمت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ محمد صلعم نے لڑائی کے بعد میدان جنگ میں اپنے ساتھیوں سے کہا، 'یہاں قریش نے تمہارے سامنے اپنی جان کھوئی ہے اور خون بہایا ہے'۔ ان کے لہجے میں افسوس اور فخر، ایک ساتھ جھلک رہا تھا۔ اس لڑائی میں مکہ کے چنے ہوئے جنگجو شامل ہوئے تھے۔ انہیں اپنی قابلیت اور طاقت پر گھمنڈ بھی تھا۔ پھر، ان کا خیال تھا کہ شاید ان کا سامنا عام، گنوار اور چھٹ بھیے قسم کے باغیوں سے تھا جن میں کمتر غلام بھی شامل تھے۔ ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے غلام۔ قریش کو انہی کے ہاتھوں شکست فاش ہوئی تھی۔ ان کے لیے یہ سب ناقابل یقین تھا، ان نتائج کے لیے ہرگز تیار نہیں تھے۔ ان کے خواب و خیال میں بھی یہ ممکن نہیں تھا مگر ایسا واقعی ہو چکا تھا۔ ان کی بنائی دنیا برباد ہو چکی تھی۔
نوجوان لڑکا، جس نے ابو جہل کو قتل کیا تھا۔ اس کی بیان کردہ روداد، جس میں ابو جہل کی ٹانگ کٹ کر دو جا گری تھی، بدر کی جنگ میں پیش آنے والے ایسے کئی دوسرے واقعات میں سے ایک ہے۔ ان میں سے ہر ایک کو جزئیات سمیت بیان کیا گیا ہے۔ اوائل اسلام کی دونوں رقم کردہ تواریخ یعنی ابن اسحاق کی 'سیرت رسول' اور الطبری کی 'تاریخ اسلام' کے بدر سے متعلق حصے کسی یونانی شاعر کے میدان جنگ کی لہو لہو داستان معلوم ہوتی ہے۔ اس میں ہر طرف خون اور دلیری بکھری ہوئی ملتی ہے۔ مثلاً، دشمن کی ٹانگ تلوار کے ایک ہی وار میں یوں کٹ کر دور جا گرتی ہے کہ 'نلی میں سے گاڑھا گودا بہنے لگا۔۔۔'۔ یا پھر، پیٹ چر گیا اور آنتیں برچھی پر لپٹی زمین پر پھیل گئیں۔ ہر زخم کمال دلیری سے سہہ لیا گیا، بلکہ اس نے بے خوف کر دیا۔ یہاں تک کہ ایک شخص کے ساتھ یوں ہوا کہ جب دشمن کی تلوار سے اس کا بازو کٹ کر جھولنے لگا تو، 'میں اس کو پاؤں کے نیچے دبا کر کھڑا ہو گیا اور اتنا کھینچا کہ جسم سے الگ ہو گیا۔ اسے وہیں پھینک کر، میں نے پھر سے لڑائی شروع کر دی۔۔۔'
جنگ میں پیش آنے والے واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی روایت پرانی ہے۔ قدیم سمیریوں سے لے کر بازنطینی، تقریباً ہر دور کی داستانوں میں بڑائی کی عمارت میں بہادری اور غیوری کی ایسی ہی کہانیاں ہیں جو ان قوموں کی بنیاد رہی ہیں۔ یہاں بھی شجاعت کے یہ قصے، انوکھے نہیں ہیں۔ لیکن ابن اسحاق اور الطبری جہاں ایک طرف جوانمردانہ اسلامی شناخت بنانے میں مشغول تھے ، وہیں دوسری طرف انہوں نے تاریخ کی سر گزشت لکھتے ایمان داری کا دامن چھوٹنے نہیں دیا۔
یعنی یہ کہ موت کو چکما دیتی داستانوں کے ساتھ وہ میدان جنگ میں پھیلی وحشت اور افراتفری کا بھی برابر ذکر کرتے ہیں۔ لڑائی کے دوران مرنے والے پندرہ مومنین کا حال باوجود یہ کہ ان میں چند ایک کی کہانی تو خاصی زبوں اور فضیحت ناک رہی تھی ، پھر بھی بہرحال لکھی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ان میں سے ایک جوش میں آ کر ایک چٹان سے کود پڑا اور اس کی گردن ٹوٹ گئی۔ ایک دوسرا شخص گھوڑے پر سوار تھا۔ گھوڑا، پہلی بار اس قدر افراتفری دیکھ کر بدک گیا اور اس کو نیچے گرا دیا۔ یہ شخص اپنے ہی گھوڑے کی سموں تلے کچل کر مر گیا۔ اسی طرح، ایک تیسرا شخص ، شاید اس نے پہلی بار تلوار سنبھالی تھی۔ اتنی زور سے گھمائی کہ دشمن تو پیچھے ہٹ گیا مگر تلوار گھوم کر اس کی اپنی ٹانگ میں پیوست ہو گئی۔ ران کی رگ کٹ گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے، خون زیادہ بہہ جانے کی وجہ سے موت واقع ہو گئی۔
پردہ سکرین پر چلتی ہوئی فلم کی طرح، روایات بھی جنگ بدر کی داستان دکھاتی نظر آتی ہیں۔ اگر ایک موقع پر جوانمردی ہے تو اگلے ہی پیرے میں انسانی بے بسی کا اظہار کیا گیا ہے۔ ایک طرف بہادر جنگجو جرات اور شجاعت کی مثال قائم کر رہے ہیں تو وہیں پر خوفزدہ انسان بچاؤ کی تدبیر کرتے نظر آتے ہیں۔ آج ریموٹ کنٹرول کے جدید دور میں، ہم انسانوں کے لیے اس خوف اور دہشت کو سمجھنا تقریباً ناممکن ہے۔ دو بدو ننگی تلواروں سے لڑتے، ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، دوسرے کو جان سے مار دینے کے اس احساس کو جاننا ہمارے لیے ممکن نہیں ہے۔ لڑنے والا ہر مہرہ سامنے کھڑے دشمن کی سانس میں بسے خوف کو سونگھ، چہرے پر پڑھ سکتا تھا۔ مقابل کے پسینے چھوٹتے دیکھتا یا اس کی ہیبت سے ہتھیلی پر آئے اسی پسینے کے باعث ہاتھ میں تھامی تلوار کو پھسلتا ہوا محسوس کر سکتا تھا۔ آگے بڑھتے ہوئے مخالف کی للکار، اس کی آواز میں دہشت اور پھر وار کرنے پر بے ساختہ پیچھے ہٹ جانا، نہیں تو آگے بڑھ کر تیز دھار جسم میں گھونپ دینا۔۔۔ ہم اس میں سے کچھ بھی نہیں سمجھ سکتے۔ لڑائی میں صرف تلواریں اور خنجر نہیں چلتے تھے۔ برچھیاں ہی نہیں لہرائی جاتی تھیں۔ پتھر اور لاتیں، تھپڑ اور مکے، کہنی سے وار اور گھٹنے سے مار کر نیچے گرا دینا۔۔۔ الغرض ہر وہ چیز استعمال میں لائی جاتی جس سے بچاؤ ممکن ہو سکتا تھا۔ ہر وہ حربہ آزماتے جس سے زندہ بچ جانے کی سبیل بن سکتی تھی۔ یہاں تو افراتفری سوا تھی۔ ہر شخص کو یہ ہول اٹھتے تھے کہ اس کے مدمقابل شخص کوئی انجانا دشمن نہیں ہے بلکہ اس کا کوئی عزیز تھا۔ قریبی یا دور سے رشتہ داری نکلتی تھی، سب ہی لوگ ایک دوسرے کے ناطے دار تھے۔ بعض کی تو ایک دوسرے سے کبھی گاڑھی یاری رہی تھی۔ بحیثیت انسان، وہ دل ہی دل میں اب بھی دلی دوست تھے۔ یہ جنگ ہر لحاظ سے ہیبت ناک تھی کیونکہ اس میں ہر طرح کی ذاتیت کا مدخل تھا۔ یہ ایک دوسرے کو اچھی طرح جانتے تھے۔ مہاجرین اور قریش ایک دوسرے سے یوں گتھم گتھا تھے کہ انہیں اپنے پڑوسیوں، دور کے عم زادوں، سسرالیوں، چچاؤں، بھتیجوں اور بھانجوں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ کچھ تو ایسے تھے کہ انہیں اپنے باپ، سگے بھائی اور بیٹوں کے ساتھ بھڑنا پڑ رہا تھا۔
پھر، دن بھر لڑائی کے بعد شام آ گئی۔ فاتح بدستور میدان میں موجود تھے اور مفتوح جان بچاتے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ یہ مال غنیمت جمع کرنے کا وقت تھا۔ دن بھر کے تھکے ہارے جنگجو زرہ بکتریں، تلواریں، خنجر، برچھیاں، گھوڑے اور اونٹ ، الغرض جو چیز ہاتھ آئی، سمیٹ لیے۔ محمد صلعم نے اپنے لیے صرف دو اشیاء رکھیں۔ ان میں ایک چمچماتی ہوئی دو نوک والی ایک تلوار تھی اور دوسرا ایک اونٹ تھا۔ یہ نسلی اونٹ وزن میں بھاری بھر کم اور خاصا چست تھا۔ اہم بات یہ تھی کہ یہ ان کے دیرینہ دشمن، حال ہی میں قتل ہونے والے ابو جہل کی ملکیت ہوا کرتا تھا۔ لیکن، یہ مال غنیمت اس تاوان کے سامنے کچھ بھی نہیں تھا جو محمد صلعم کے لشکر کو پچاس جنگی قیدیوں کے عوض ملنے والا تھا۔ ان قیدیوں میں نہ صرف ابو سفیان کا سگا بیٹا شامل تھا بلکہ محمد صلعم کے انتہائی قریبی رشتے دار بھی تھے۔ ان کے چچا عباس اور خدیجہ کا بھتیجا بھی تھا۔ یہ خدیجہ کا وہی بھتیجا ہے جو محمد صلعم کا داماد تھا۔ اس کے گھر میں آپ صلعم کی بیٹی زینب تھیں۔ کسی کے ساتھ رعایت نہ برتتے، محمد صلعم نے انہیں بھی باقی قیدیوں کےساتھ ہی شمار کیا اور ویسا ہی سلوک روا رکھا۔ زینب نے ایک اچھی بیوی کا ثبوت دیتے ہوئے مکہ میں ہی اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب بھی، اپنے شوہر کو چھڑانے کے لیے تاوان میں اپنا سارا زیور گٹھڑی میں باندھ کر محمد صلعم کو بھیج دیا۔ ان زیورات میں وہ ہار بھی شامل تھا جو خدیجہ نے زینب کو شادی کا تحفہ دیا تھا۔
یہ ہار دیکھتے ہی محمد صلعم بے چین ہوگئے۔ جیسے اندر سے تڑک گئے ہوں۔ انہوں نے اپنے داماد کو رہا کر دیا اور سارے زیورات واپس زینب کو بھجوا دیے۔ انہیں گھر کی یاد ستانے لگی اور بے چینی نے گھیر لیا۔
لوگ لڑائی میں پیش آنے والے واقعات سناتے رہے اور اس کے قصے صحرا میں عام ہو گئے۔ مومنین کے نزدیک کمزور فوج اور ناممکنات کے باوجود فتح در اصل خدا کی نصرت تھی۔ خدا بدر میں ان کا حامی تھا۔ ان میں سے کچھ فرشتوں کی بابت بتانے لگے کہ بادلوں میں سے سفید گھوڑوں پر سوار فرشتے اترے اور ان کے ساتھ، قدم بہ قدم لڑنے لگے۔ دوسری طرف، مکہ میں بھی کئی ایسے تھے جو اپنی ناقابل یقین شکست کی وجہ یوں گردانتے پائے گئے کہ، 'سفید لباس میں ملبوس آدمی جو چتکبرے، یعنی سیاہ دھبوں والے گھوڑوں پر سوار تھا، آسمان اور زمین کے بیچ اڑنے لگے۔ ان کا مقابلہ کرنا تو دور کی بات، روکنا بھی ممکن نہیں تھا۔' یہی بات، قران نے بھی مومنین سے مخاطب ہوتے ہوئے یوں کہی کہ، 'پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا۔۔۔'
جیسے آج، ویسے ہی تب بھی ہر شخص فاتح سے مرعوب ہو جاتا تھا۔ بالخصوص جب فتح غیر متوقع ہو۔ بدر کی جنگ کے بعد مومنین کا اعتماد آسمانوں کو چھونے لگا۔ اور جوں جوں اس جنگ کے نتیجے اور ان کی فتح کی خبر پھیلی تو اس کا مومنین پر اثر اور محمد صلعم کی ساکھ بڑھتی ہی چلی گئی۔ انہوں نے خطہ حجاز کے مضبوط ترین قبیلے کو پچھاڑ دیا تھا۔ صحرا کے وسیع ریتلے میدانوں، قصبوں کے چوراہوں اور پانی کے ہر ذخیرے پر چرچے ہونے لگے۔ یہ چرچا، قریش کے لیے ناسور بن کر رہ گیا۔ کہاں وہ سوچتے تھے کہ محمد صلعم کو جلا وطنی پر مجبور کر کے اس قضیے کو حل کر دیا ہے اور آج یہ حالت تھی کہ منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ یہ چرچا صرف مکہ، مدینہ اور مضافات تک محدود نہیں رہے گا بلکہ دیکھتے ہی دیکھتے یہ پورے خطہ حجاز اور اس سے بھی آگے نجد کی پہاڑیوں کے اس پار، جنوب میں یمن اور شمال میں ملک شام کے آخری کونے تک پھیل جائے گا۔ مکہ کی نیک نامی کو یہ دھچکا اس لیے بھی شدید تھا کہ کامیاب تجار کے لیے ان کی ساکھ ہی سب کچھ ہوتا ہے۔ قریش کی دھاک اور شہرت ہی ان کی ضمانت تھی اور اگر وہ اسی کا دفاع نہیں کر سکتے تو پھر خمیازہ ان کی معیشت کو بھگتنا پڑے گا۔وہ جانتے تھے کہ محمد صلعم اور ان کے ابتدائی پیروکاروں کو قریش کی اس ہزیمت پر خالص فائدہ اور عزت ہی ملے گی۔ اب تک وہ یہ صرف محمد صلعم کا دعویٰ تھا مگر بعد بدر کے قریش پر واقعی تھرتھری پیدا ہو گئی تھی۔ اب صحرا کے اندر اور اس سے بھی آگے، لوگ سوچنا شروع ہو جائیں گے۔ اب میدان میں صرف قریش ہی نہیں تھے بلکہ پہلی بار ان کی ٹکر کا کوئی فریق موجود تھا۔ اگر قریش بہتیری کوشش کر کے اتحادیوں کو اپنی فوقیت کا یقین دلا بھی دیتے، پھر بھی اس وقت عرب کی اقتداری سیاست اس بات کی متقاضی تھی کہ پورے خطے میں قبائل چاہتے ہوئے بھی محمد صلعم کو نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔
اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ جلد یا بدیر قریش انتقام لیں گے۔ مکہ اور مدینہ میں دوبارہ جنگ اب نا گزیر تھی۔ سوا اس کے کوئی چارہ نہیں تھا اور اب کی بار دونوں فریقین کے بدو حمایتی بھی میدان میں اتریں گے۔ خانہ بدوش قبائل کا یہ تھا کہ وہ ہمیشہ فاتح کے شانہ بشانہ کھڑا رہنا چاہتے تھے۔ ان کے لیے یہی سود مند تھا۔ اس سے پہلے تو خیر قریش کے سوا کوئی دوسرا اس قابل ہی نہیں تھا مگر اب حالات بدل چکے تھے۔ انہیں پہلی بار دو میں سے ایک کا چناؤ کرنا تھا۔ اب اگر یہ خانہ بدوش قبائل آگے بڑھ کر محمد صلعم کا ساتھ دینے آن کھڑے ہو جاتے ہیں تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ مدینہ کے لشکر نے نہ صرف قریش کو شکست فاش دی تھی بلکہ ان کی فتح میں خدائی ہاتھ کے بھی تذکرے دیکھنے میں آ رہے تھے۔ جیسے اس سے قبل وہ قریش کو حرم کی تحویل داری پر محترم جانتے تھے ، اب ان صحرائی قبائل ناممکن کو ممکن فتح میں بدلتا ہوا دیکھ رہے تھے۔ یہی نہیں، خدا خود اس نئے فریق کی حمایت میں کھڑا تھا۔ وہ ان کے لیے لڑ رہا تھا۔ بعد اس کے، آخر یہ قبیلے کہاں جا سکتے تھے؟
بدر کے نتیجے میں ہاتھ آنے والے کئی جنگی قیدی ابھی بھی تحویل میں تھے اور ان کے عوض تاوان پر بات چیت چل رہی تھی۔ یعنی، جلد ہی محمد صلعم نے ایک بار پھر کئی مسلح فوجی ٹکڑیاں تشکیل دینا شروع کر دیں۔ اب کی بار، ان کا ہدف بدو قبائل تھے۔ انہیں حکم تھا کہ طاقت کا استعمال صرف اس صورت کیا جائے جب یہ قبائل مدینہ کے ساتھ اتحاد سے انکار کر دیں۔ باقی کسی بھی صورت میں لڑائی چھیڑنے کی سختی سے ممانعت تھی۔ بدو قبائل کے علاوہ کئی خانہ بدوش بھی تھے، جن کا ذکر اوپر آ چکا ہے۔ انہوں نے عملیت کا مظاہرہ کیا اور فوراً ہی مدینہ کی نئی ابھرتی ہوئی روشن طاقت کو مکہ کی گرہن لگی پرانی قوت پر فوقیت دی اور اتحادی بن گئے۔ جوں جوں وقت گزرتا جا رہا تھا، ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ ایک کے بعد دوسرا وفد 'نئے اتحادیوں کے ساتھ دوستی کے معاہدے کیے بغیر کسی لڑائی کے مدینہ لوٹنے لگے' اور ایسے ہر معاہدے کے ساتھ محمد صلعم کا حلقہ اثر بڑھنے لگا اور مکہ دھندلا کر رہ گیا۔
اگر ان قبائل میں سے چند نے با ضابطہ اسلام قبول کر لیا تھا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں تھا۔ باہمی دفاع کا معاہدہ اور محمد صلعم کے اختیار کو تسلیم کرتے ہی یہ قبیلے امہ کا حصہ بن جاتے تھے۔ وقت آنے پر یہ اعتماد، ایمان اور یقین، ان سے عملی تعاون میں بدل جائے گا۔ پھر، یہ معاہدے صرف وعدے نہیں تھے بلکہ روایتی طور پر خراج اور تحائف کا تبادلہ کیا جاتا تھا۔ اس طرح محمد صلعم اب مدینہ کے لیے آمدن کے نئے ذرائع پیدا کر رہے تھے۔ چنانچہ، جلد ہی مومنین کے لیے ایک خزانے کی بنیاد بھی رکھ دی گئی۔ اس میں قبائل سے وصول ہونے والے خراج کے علاوہ مکہ کے تجارتی قافلوں پر دوبارہ سے منظم انداز میں شروع ہونے والے حملوں سے حاصل ہونے والا مال غنیمت اور دولت بھی جمع ہونے لگی، کیونکہ بدو قبائل کی حمایت ملنے کے بعد مکہ کے تجارتی قافلے غیر محفوظ ہو چکے تھے۔ مثال آج کی طرح، اس وقت بھی پیسہ کھل کر بولا کرتا تھا اور یوں مدینہ میں محمد صلعم کی حمایت بڑھتی ہی چلی گئی۔ صرف دو سال کے عرصے میں آپ صلعم ایک ثالث سے کہیں بڑا کردار ادا کر رہے تھے ۔ مراد یہ ہے کہ اب وہ باقاعدہ ایک سیاسی قوت بن چکے تھے۔ شاید پہلی بار وہ خود کو صرف مومنین کا ہی نہیں بلکہ پورے مدینہ کا رہنما بنتا دیکھ رہے تھے۔ پہلی ہی بار وہ روحانی اور سیاسی اختیار کو مجتمع کر کے ایک ہی نقطے پر سمیٹ رہے تھے۔
لیکن طاقت اور اختیار اسی وقت تک کار آمد ہوتا ہے، لوگ اس کا دھیان رکھتے ہیں، جب تک کہ اس کا مظاہرہ ہوتا رہے۔ یہ اس وقت کی سیاسی منطق اور انتہائی اہم ضرورت تھی۔ محمد صلعم کے لیے اس ضمن میں ابھی بھی اس کا واقعی مظاہرہ کرنا باقی تھا۔ الہامی آواز نے در گزر کرنے اور برداشت پر زور دیا تھا لیکن یہ اس وقت کی بات ہے جب آپ صلعم کے ساتھ صرف گنے چنے، چند ہی لوگ تھے۔ اگر وہ واقعی اس نئے نظام کو مستحکم بنانا چاہتے تھے اور اپنا اختیار واضح کرنا چاہتے تھے تو ضروری تھا کہ وہ وقت کے نئے تقاضوں پر پورا اتریں۔ یہ مقام کئی تقاضوں میں سے ایک، سنگ دلی کا متقاضی تھا۔ جو اس وقت کی ریت تھی، طاقت کا یہ بے دریغ استعمال مدینہ میں ہی کیا جائے گا۔ مدینہ کے یہودی قبائل ایک سیاسی ضرورت کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔
انسان بھی عجب کارخانہ قدرت ہے۔ اسے تلخی کا شدید ترین احساس دشمن سے نہیں بلکہ ان سے ملتا ہے جو کبھی عزیز ترین ہوا کرتے تھے۔ صرف اور صرف یہی ہوتے ہیں جو دوسرے کو اندر ہی اندر، گہرائی تک مایوس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ سب سے پہلے تو بے وفائی کا شدید نفی احساس کہ، 'تم کیوں کر یہ کر سکتے ہو؟' یہ احساس اندر تک کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ یہ صرف اس لیے نہیں ہوتا کہ خود اپنی سوچ اور توقعات پر حیرت ہے بلکہ غیر مشروط ساتھ کو دوستی سمجھ بیٹھنے کی اپنی غلطی ہوتی ہے۔ جب اس طرح کی توقعات دم توڑتی ہیں تو اس میں دوسرا شخص غلط ہی نظر آتا ہے اور ہم انسان اس کو ذاتی انا کا مسئلہ بنا کر بے وفائی، دغا، غداری اور افشائے راز جیسے کئی ناموں سے نواز دیتے ہیں۔
محمد صلعم کا خیال یہ تھا کہ مدینہ کے یہودی ان کے پیغام پر فوراً ہی لبیک کہہ دیں گے۔ آخر، ان کے پیغمبر آپ صلعم کے بھی پیغمبر تھے۔ وہ بھی ان ہی کی طرح مقدس ذات سے سبق لے رہے تھے، بعینہ ویسے ہی خدائی الہام کے مستحق ٹھہرائے گئے تھے۔ انہوں نے بالکل ان کی ہی طرح اپنے لوگوں، یعنی مکہ کے باسیوں کو وعید سنائی تھی۔ قران میں بھی جا بجا عبرانی بائبل کے تمام ہی الہامی کرداروں، آدم سے لے کر ابراہیم، یوسف اور موسی، سلیمان اور الیاس، الغرض سب کو ہی شاندار الفاظ میں عزت بخشی گئی تھی۔ عربوں کی طرح یہودی بھی اب خدا کو اللہ، یعنی برتر ذات اور بسا اوقات عزت مند الفاظ میں جیسے قران میں بھی آیا ہے، الرحمان یعنی رحم کر نے والا کے ناموں سے یاد کرتے تھے۔ اس دور کے بابل کی تلمود میں بھی تو خدا یعنی اللہ کو رحمانہ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ محمد صلعم کے لیے یہ بالکل عیاں تھا کہ یہودی اور مسلمان دونوں ہی ابراہیم کے وارث ہیں۔ ابراہیم قدیم روایت میں پہلے حنیف مشہور ہیں۔ ان کے نزدیک، یہ دونوں تو وحدانیت کے ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں۔ کیا ہوا اگر وہ مختلف ہیں، جس بھی صورت سے کہیے، یہ عم زاد ہیں۔ اجنبی تو نہیں ہیں۔ پھر، یہودی تو ہمیشہ سے ہی دین ابراہیم کے داعی رہے ہیں۔ دین ابراہیم سے مراد ابراہیم کی ریت، طریقہ ہے۔ اسی وجہ سے محمد صلعم نے اپنے تئیں یہ سوچ لیا کہ انہیں نہ صرف یہودیوں کی رضا مندی مل جائے گی بلکہ وہ تو ان کی حمایت میں پیش پیش رہیں گے۔ ویسے بھی، اس نئے الہامی پیغام کی قدیم زمانوں میں اتاری گئی کسی بھی وحی پر فوقیت عیاں تھی۔ اس کی بڑائی میں کوئی دو رائے نہیں تھی۔ چنانچہ، محمد صلعم کے لیے یہودیوں کا یہ طور ناقابل یقین اور سمجھ تھا کہ آخر کوئی بھی شخص، جو پہلے سے ہی ایک خدا کی عبادت کرتا ہے، وہ اس جدید مگر واضح پیغام کو کیونکر رد کر سکتا ہے؟
بے شک پہلے پہل تو ایسا ہی لگتا تھا کہ مدینہ کے یہودی محمد صلعم کو کھلے دل اور دماغ سے قبول کر لیں گے۔ مدینہ میں آباد ان کے تین بڑے قبیلوں کے تقریباً سبھی کنبے آگے آئے تھے اور بخوشی ثالثی کے معاہدے پر دستخط اور مہریں ثبت کر کے، امہ کا حصہ بن چکے تھے۔ لیکن، ان کی حیثیت دوسرے درجے کے شہریوں جیسی تھی۔ یعنی، انہیں اوس اور خزرج کا معاہد یا ساتھی یا رفیق یا شریک کہا گیا تھا۔ قران کی الہامی آواز نے 'اہل کتاب' سے اس ضمن میں براہ راست اپیل بھی کر رکھی تھی۔ محمد صلعم سے کہا گیا کہ وہ کہیں، 'ہم اللہ کو مانتے ہیں۔ اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے۔ ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اولاد یعقوب پر نازل ہوئی تھیں اور ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسی اور عیسی اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اللہ کے تابع فرمان ہیں۔'۔ اسی طرح ایک دوسری آیت کہ، 'ہم اللہ کے مسلم ہیں'۔ قران ہی میں مومنین کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ یہودیوں کے ساتھ بحث میں نہ پڑیں اور ان کا رویہ ، جیسا کہ اس آیت میں کہا گیا، 'اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقے سے، سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں' بلکہ تاکید کی کہ وہ تو ان سے کہا کریں ، 'اے اہل کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیاں یکساں ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے۔۔۔' ۔ یہاں پر در پیش صورتحال کے پیش نظر عیسائیوں کو تخاطب میں زیادہ تر باہر رکھنا سمجھ بھی آتا ہے۔ لیکن جلد ہی ایسی آیات بھی آئیں گی جن میں ان کو بھی مخاطب کیا جائے گا۔ مثلاً، 'یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی۔۔۔ جو بھی اللہ اور روز آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اس کا اجر اس کے رب کے پاس ہے اور اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔' قصہ مختصر، جیسا اوپر ایک آیت میں بیان ہوا، ہر اس شخص کو پکارا گیا جو وحدانیت کا ماننے والا تھا۔ قدیم دور کے پیغمبروں پر یقین رکھتا چلا آ رہا تھا۔
لیکن مسئلہ یہ تھا کہ مدینہ کے یہودیوں کے پاس محمد صلعم کو عیسی کی ہی مانند پیغمبر ماننے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ وہ بدستور اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ پیغامبری کا دور بارہ صدیاں پہلے ہی، بابل سے اخراج کے ساتھ ہی ختم ہو چکا تھا۔ بعد اس کے کوئی پیغمبر نہیں تھا۔ جس طرح قریش نے حتمی طور پر اعلان کر دیا تھا کہ وہ 'آباؤ اجداد کے طریق' کو نہیں چھوڑ سکتے، اسی طرح یہودی بھی اپنی انہی روایات پر جم کر کھڑے ہونے پر مصر تھے۔ دو سال میں بمشکل ہی کسی یہودی نے اسلام قبول کیا تھا۔ یہودیوں کی یہی روش محمد صلعم کے لیے حیران کن تھی۔ ان کو برہم کرنے کے لیے کافی تھی۔
مکہ میں تو قران کی الہامی آواز خدائی پیغام کو پھیلانے میں در پیش مشکلات بارے کافی نرم خو ہوا کرتی تھی۔ جیسے ، 'اے نبی، ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتاب برحق تم پر نازل کر دی ہے۔ اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا، اپنے لیے کرے گا اور جو بھٹکے گا اس کے بھٹکنے کا وبال اسی پر ہو گا۔ تم ان کے ذمہ دار نہیں ہو'۔ لیکن مدینہ میں محمد صلعم یہودیوں کی بابت خاصے ذمہ دار نظر آ رہے تھے۔ یہودیوں کی عدم دلچسپی بھی تو بہت ہی زیادہ تھی۔ وہ کٹر اپنی جگہ پر کھڑے تھے اور نتیجہ یہ نکلا کہ دونوں طرف سے سختی اور اڑیل پن نظر آنے لگا۔ آپ صلعم ان کو جتنا منانے کی کوشش کرتے یہ اتنا ہی سختی سے انکار کر دیتے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر ان کی بابت قران کی الہامی آواز بھی بدل گئی۔ اس میں بھی محمد صلعم کی سی برہمی جھلکنے لگی۔ جیسے یہ آیت، 'اے اہل کتاب! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کر رہے ہو ؟ ' اور یہ کہ، 'اے اہل کتاب! کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟' جلد ہی یہودیوں کو براہ راست مخاطب کرنا چھوڑ دیا گیا اور ان کا حوالہ صیغہ غائب یا غیر متعلق کے طور پر دیا جانے لگا۔ اب انہیں 'ہم' نہیں بلکہ 'وہ' کہہ کر پکارا جانے لگا۔ قران کے نزدیک ان میں سے کچھ تو اب بھی، 'مستقیم اور قابل عزت' تھے مگر دوسرے سب ہی وہ تھے کہ، 'جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا۔' ان کی مثال بالکل مکہ کے منکرین جیسی تھی۔ کیا وہ دیکھ نہیں سکتے تھے کہ اس طرح وہ اپنے ہی دین کی نفی کر رہے ہیں؟ اور یہ کہ قران نے کبھی بھی قدیم تورات کی نفی نہیں کی تھی بلکہ یہ تو اس کی تجدید کر رہا تھا؟
لیکن، بہر حال یہودیوں کو اس تجدید کی چنداں ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ تو اس بات پر شاکی تھے کہ ایک غیر شخص، باہر کا آدمی انہیں بتا رہا تھا کہ لے دے کر، وہ اپنے دین سے ہٹے ہوئے، جتنا ہونا چاہیے، اتنے اچھے یہودی نہیں تھے۔ چنانچہ، یہودیوں کے ربیوں نے قرانی استدعا کو یکسر رد کر دیا۔ ابن اسحاق کی تصنیف میں ا ن ربیوں کے محمد صلعم کے ساتھ مکالموں پر مبنی کئی صفحات بھرے پڑے ہیں۔ وہ جا بجا تکرار کرنے لگے۔ آپ صلعم کو بحث میں کھینچنے لگے۔ 'قضیے کو بڑھاتے ہوئے' دعویٰ کرنے لگے کہ در اصل محمد صلعم کے بیان کردہ قصائص غلط ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس طرح کے مکالمے کبھی نہیں ہوئے۔ وجہ یہ ہے کہ قران میں بیان کردہ قصائص کی تفصیلات واقعی ان قدیم نسخوں سے قدرے مختلف تھی جنہیں آج بھی مغرب میں باقاعدہ شرعی اور درست مانا جاتا ہے۔ آج کی نسبت، اس وقت تو مشرق وسطیٰ کے طول و عرض میں ان پر کہیں زیادہ اتفاق رہا کرتا ہو گا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ ان قصائص کے کئی طرح کے نسخے، جو بنیادی طور پر ایک دوسرے سے کہیں مختلف ہیں، اس خطے کے طول و عرض میں مل جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب میں اس بابت جس تفصیل کو 'غلط' کہہ کر پکارا جاتا ہے، اس کی حیثیت مشرقی چرچوں کی قصہ خوانی میں جھول سے زیادہ کچھ بھی نہیں ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہاں اصل مسئلہ مذہب کا نہیں بلکہ سیاست سے تعلق رکھتا تھا۔ مدینہ کے تین یہودی قبائل پہلے ہی پانچویں صدی میں اوس اور خزرج کی مدینہ میں مستقل سکونت کے بعد اقلیت بن چکے تھے۔ اور اب، محمد صلعم کا اثر رسوخ تیزی سے بڑھ جانے کے باعث ان کو خدشہ تھا کہ شاید وہ تعداد کے لحاظ سے مزید پیچھے رہ جائیں گے۔ پہلے پہل شاید، ان میں اتحاد ہوتا تو وہ مدینہ کے اندر ایک سیاسی قوت بن کر ابھر سکتے تھے۔ لیکن بجائے اس کے، وقت کے ساتھ ان کے نئے قبائل کے ساتھ تنازعات بڑھتے ہی چلے گئے۔ یہی نہیں، ان قبائل کے آپس میں بھی کچھ اتنے خاص برادرانہ تعلقات نہیں تھے اور اختلافات جنم لیتے ہی رہتے تھے۔ یہاں تک کہ محمد صلعم کی مدینہ میں ایک ثالث کی حیثیت سے آمد کے بعد بھی وہ آپس میں سینگ اڑاتے رہے اور اس روش کا خود انہیں شدید نقصان پہنچا۔ چونکہ اس سے پہلے بھی ان کی اکثریت، اقلیت میں بدل چکی تھی۔ اب محمد صلعم کی بڑھتی ہوئی طاقت کو وہ نہ صرف مذہب بلکہ مدینہ میں اپنے مستقبل کے حوالے سے بھی خطرے کے طور پر دیکھ رہے تھے۔ ان کے یہ خدشات جلد ہی درست ثابت ہوں گے۔
اگرچہ یہ واضح تھا کہ محمد صلعم کو یہودیوں کی جانب سے اس طرح مخالفت اور الہامی پیغام سے عداوت پر سخت مایوسی ہوئی تھی لیکن وہیں یہ بھی طے ہے کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ انہیں بھی یہودیوں پر واضح کرنا ہو گا کہ وہ اس بابت کسی بھی طرح آسانی سے مایوس ہونے والے نہیں تھے۔ بجائے اس کہ وہ مدینہ کی ایک بڑی آبادی کی مخالفت مول لیتے، انہیں ایسا طریقہ اختیار کرنا تھا کہ الہامی پیغام کی مخالفت کرنے والوں کو سبق سکھا کر ان کی ایک مثال بنا دی جائے۔ چنانچہ، یہودیوں میں سب سے چھوٹا قبیلہ جس کو بنی قینقاع کہا جاتا تھا، پہلی مثال بن گیا۔
ایک روایت میں اس کو ابن اسحاق کی زبان میں 'قینقاع کی واردات' کہا گیا ہے۔ یہ واقعہ جنگ بدر کے تقریباً ایک مہینے بعد مدینہ کے بازار میں پیش آیا۔ بنی قینقاع سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان لڑکے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے یہاں ایک بدو لڑکی کو چھیڑا تھا۔ یہ لڑکی بازار میں خوانچہ لگائے کچھ بیچ رہی تھی کہ یہ لڑکا آیا اور اس کا پردہ اٹھا کر چھیڑ خوانی کرنے لگا۔ لڑکی نے اس حرکت پر اسے گالیاں دی اور سخت برا بھلا کہا۔ لڑکے اور اس کے دوست کی خاصی سبکی ہوئی۔ چنانچہ، انہوں نے بدلہ لینے کی غرض سے ایک اور ایسی ہی حرکت کر ڈالی۔ کیا یہ کہ، چھپ کر لڑکی کے لباس کے لٹک رہے کپڑوں کو قریب ہی ایک کھمبے نما سے باندھ دیا۔ جب لڑکی اٹھی تو کھنچاؤ کی وجہ سے شلوار پھٹ گئی اور وہ بیچ بازار میں نیم عریاں ہو گئی۔ جب یہ واقعہ پیش آیا تو قریب ہی ایک مومن کا گزرتے ہوئے لڑکوں پر نظر پڑ گئی اور اس نے انہیں یہ حرکت کرتے ہوئے دیکھ لیا تھا، چنانچہ وہ غصے سے آگے بڑھا اور لڑکی پر ہنستے ہوئے مردوں کو خوب لعن طعن کی۔ بات بڑھ کر ہاتھا پائی تک پہنچ گئی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان میں سے ایک شخص قتل ہو گیا اور خود مومن کو بھی مقتول کے وارثین نے موقعہ پر ہی جان سے مار دیا۔
اس روداد میں سارا الزام قینقاع پر دھر دیا جاتا ہے کہ پہلے تو انہی میں سے ایک نے ایک انتہائی نیچ حرکت کی اور پھر جب اس کا نتیجہ ایک شخص کے قتل کی صورت نکلا تو بجائے یہ کہ وہ ثالثی کے لیے محمد صلعم سے رجوع کرتے، خود ہی معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے کرقاتل سے وہیں بدلہ بھی چکا دیا۔ حالانکہ اس نے انہیں اپنی حرکت پر صرف شرمسار کیا تھا۔ بھرے بازار کے وسط میں یوں ایک لڑکی کو رسوا کرنا، اس کی عصمت کے ساتھ کھیلنا، کسی بھی شخص کو تاؤ دلا سکتا ہے۔ کوئی بھی عزت دار شخص ایسا واقعہ دیکھ کر آپے میں نہیں رہ سکتا، وہ یقیناً اس کو روکنے کی کوشش کرتا۔ باوجود اس کے، اس روایت کا کچھ حصہ ناقابل اعتبار اور غیر معتبر ہے۔ وہ یوں کہ مدینہ کی کوئی عورت اور ایک بدو لڑکی، بالخصوص مشقت اور مزدوری کرنے والی بدو لڑکیاں اس وقت تک ہر گز پردہ نہیں کرتی تھیں۔ حجاب اور پردے کا تصور تو اس واقعہ کے تین سال بعد، اور اس وقت بھی صرف اور صرف محمد صلعم کی منکوحہ بیویوں کے لیے خود قران نے متعارف کیا تھا۔ تاہم، مدینہ کے بازار میں پیش آنے والایہ غل غپاڑہ قینقاع کی مدینہ سے بے دخلی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا ۔
لیکن، اس کے علاوہ بھی دوسری وجوہات تھیں۔ یہ خالصتاً سیاسی ہیں۔ ان میں سے ایک کا محور دشمن کے ساتھ مل کر مدینہ کی آبادی کے خلاف ساز باز کرنا تھا۔ آخر کسی نے تو ابو سفیان تک مدینہ سے روانہ ہونے والے تین سو لوگوں کے لشکر کی اطلاع پہنچائی ہی تھی، جس کے بعد وہ فوراً ہی اس تجارتی قافلے نے نہ صرف رخ بدل دیا تھا بلکہ مکہ سے کمک بھی منگوا لی تھی۔ اگرچہ اس معاملے میں قینقاع کے خلاف کوئی ٹھوس ثبوت تو موجود نہیں تھا مگر چونکہ یہ مکہ کے ساتھ گہرے تجارتی تعلقات رکھتے تھے، اس کے پیش نظر ان پر شبہ کیا جاتا رہا تھا۔ یہاں بھی بہر طور، قینقاع اصل ہدف نہیں تھے بلکہ ایک بڑے سیاسی کھیل میں ان کی حیثیت صرف ایک مہرے کی تھی۔ مدینہ کی اس سیاسی بساط میں اصل شکار تو قبیلہ خزرج میں قینقاع کا بڑا حامی عبداللہ بن ابی نامی شخص تھا۔
ابن ابی قبیلہ خزرج میں ایک نامی گرامی، پختہ اور آزمودہ سردار تھا۔ محمد صلعم کی آمد سے قبل تک وہ نخلستان کی باگ ڈور سنبھالنے کے خواب دیکھ رہا تھا اور قریب تھا کہ اپنی سیاسی بصیرت اور ذہانت کے سبب مدینہ کا سربراہ مقرر ہو جاتا۔ مشہور تھا کہ جلد ہی وہ 'مدینہ کا شہزادہ' بن جائے گا اور ایسی ہی ایک دوسری افواہ میں کہا جاتا تھا کہ، 'اپنے تاج میں ہیرے بھی جڑ کر رکھ چھوڑے ہیں'۔ یہ تو معلوم نہیں ہے کہ آخر ابن ابی کا مدینہ کی سیاست اور اختیار پر حاکمیت قائم کرنے کا طریقہ کیا ہوتا، بالخصوص ان حالات میں جب اوس اور خزرج ایک دوسرے کے مدمقابل، تنازعات میں گھرے ہوئے تھے۔ شاید، وہ خود کو ان دونوں قبائل کے بیچ ایک صلح جو کی حیثیت سے دیکھتا آیا تھا۔ اس نے اس دھوکے میں کہ شاید محمد صلعم اس کے مقاصد کے حصول میں مدد کریں گے، فوراً اسلام قبول کر لیا تھا۔ اگر ایسا تھا تو پھر اس کی یہ غلط فہمی جلد ہی دور ہو چکی ہو گی۔ مہاجرین اور انصار کے بیچ قائم کی جانے والی تمیز سے کردار بھی واضح ہو گیا تھا کہ ان میں سے کون ہے جو مدد کرنے والا ہے اور کس کی مدد کی جانی ہے؟ لیکن مدینہ میں اس بابت یہ صرف ابن ابی نہیں تھا جو یہ محسوس کرتا ہو کہ محمد صلعم کی روحانی قوت، سیاسی سوچ اور اختیار میں ڈھلتے ہوئے امتیاز برت رہی ہے۔
انصار میں تقریباً ہر شخص یہ دیکھ سکتا تھا کہ محمد صلعم کے انتہائی قریبی مشیران میں ابوبکر، عمر اور علی ہی تھے جو تینوں مہاجر تھے۔ گو انصار نے ان کا خیر مقدم تو کر لیا تھا مگر ان میں سے اکثر انہیں دل سے قبول نہیں کر پائے تھے۔ مہاجرین میں ابھی تک غیریت جھلکتی تھی۔ یہ بدستور ایک بڑے شہر سے وارد ہونے والے مغرور لوگ تھے جو یہاں آن کر بس گئے تھے۔ اب وہ نہ صرف یہاں کا اختیار سنبھال رہے تھے بلکہ وہ مدینہ کو جنگ و جدل اور مکہ کے ساتھ تنازعات میں جھونک کر خطرات سے دوچار کر رہے تھے۔ انصار کی یہ تعداد اور مدینہ کی باقی ماندہ آبادی جس نے ابھی تک اسلام قبول نہیں کیا تھا، وہ محمد صلعم کے بڑھتے ہوئے سیاسی کردار سے شاکی تھے۔ ابن ابی اس گروہ میں سب سے زیادہ بولنے والا، اس ضمن میں بڑھ چڑھ کر تحفظات کا اظہار کیا کرتا تھا۔
پھر، یہاں ابن ابی کی بات توجہ سے سنی بھی جاتی تھی۔ وہ مدینہ کی سیاست میں کلیدی شخصیت، ایک مرکزی کردار کی حیثیت رکھتا تھا۔ نہ صرف یہ کہ اس کی بات کو مقامی آبادی وزن دیتی تھی بلکہ مکہ کے تجارتی قافلوں پر کی جانے والی چھاپہ مار کاروائیوں کو اس نے کھل کر مذمت اور مخالفت کی تھی۔ اس نے بدر کی مہم میں حصہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ لیکن اب چونکہ فتح کے بعد اس کے اس فیصلے پر سوال اٹھ رہے تھے تو وہ سیاسی طور پر کمزور ہو گیا تھا۔ اس کے باوجود، محمد صلعم کے لیے اس پر براہ راست معترض ہونا ممکن نہیں تھا۔ ابن ابی پر چڑھائی کرنے کا مطلب خزرج کے پورے قبیلے کو اشتعال دلا کر، اپنی مخالفت پر مجبور کرنے کے مترادف تھا۔ چنانچہ، حکمت کا تقاضا یہ تھا کہ ابن ابی کو بلاواسطہ چیلنج کرنے کی بجائے اس کو اپنے اتحادیوں کی حفاظت میں ناکامی سے دوچار کر دیا جائے۔ اس کے حمایتی، یعنی بنی قینقاع کو 'آئین مدینہ' کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دے کر علیحدہ کر دینے سے یہ مقصد بخوبی پورا ہو سکتا تھا۔ یعنی، ابن ابی کے لیے ان کا بچاؤ کرنا کسی طور بھی ممکن نہ رہتا۔ اس پر تنقید ہوتی اور اقتدار کے اس امیدوار سے سیاسی طور پر جان چھوٹ جاتی۔
سیاسی کشمکش اور اقتدار کی اس جنگ کے بیچ میں یوں گھر جانا بنو قینقاع کے لیے آخری حربہ ہوتی مگر بہر حال اب وہ اس بساط میں بری طرح نشانے پر تھے۔ اب اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ اس کی وجہ بازار میں ایک لڑکے کی حماقت کے نتیجے میں ہونے والا قتل تھا یا وہ دشمن کے ساتھ ساز باز میں شریک رہے تھے یا پھر انہوں نے اس نئے سیاسی نظام کے ناقدین کے ہاتھ مضبوط کیے تھے۔ محمد صلعم نے فیصلہ سناتے ہوئے ان کو سر کشی اور بغاوت، بد خواہی کا مرتکب پایا اور حکم دیا کہ ان کے پیروکار قینقاع کے گاؤں کا محاصرہ کر لیں۔ انہیں اپنے مضبوط گڑھ سے نکال دیں اور اس کے لیے طاقت کا استعمال کرنا پڑے تو وہ کر گزریں۔
اس معاملے پر یہ محمد صلعم کا انتہائی سخت اور شدید رد عمل ہے۔ لیکن اصل نکتہ ہی یہ ہے کہ اس طرح پہلی بار انہوں نے اپنے اختیار اور طاقت کا بھر پور استعمال کیا تھا اور مخالفین پر واضح کر دیا تھا کہ ابن ابی، اس اختیار اور طاقت کو استعمال کرنے کے قابل نہیں ہے۔ قینقاع کا محاصرہ پندرہ روز تک جاری رہا۔ یہاں تک کہ پانی کی قلت پیدا ہو گئی اور نتیجتاً انہوں نے ہتھیار ڈال کر خود کو محمد صلعم کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا۔ مدینہ میں ہر کسی کا خیال یہ تھا کہ شاید وہ عمومی شرائط ہی لاگو کریں گے۔ جیسے، قینقاع اپنے ہتھیار پھینک دیں گے۔ ان کی آئندہ کئی برسوں تک آمدن ضبط کر لی جائے گی اور ان کے سرداروں کو کچھ عرصے کے لیے زیر حراست رکھا جائے گا۔ لیکن، محمد صلعم نے انہیں بیڑیاں پہنانے کا فیصلہ سنا کر سب کو ہکا بکا چھوڑ دیا۔ ان کے لیے سزا یہ تجویز کی گئی کہ مردوں کو قتل ، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر ساری جائیداد ضبط کر لی جائے گی۔
ابن ابی نے فیصلہ سنتے ہی فوراً بیچ میں کود کرمحمد صلعم سے شفاعت کی استدعا کر دی۔ قینقاع اس کے وفا دار چلے آ رہے تھے اور اب ان سے وفا داری نبھانے کی باری اس کی تھی۔ بلکہ اس فیصلے کے نتیجے میں اس کی ساکھ داؤ پر لگ چکی تھی۔ اس کی دھاک اور وقار کہ بحیثیت کھرے رہنما، اس کے لیے لازم تھا کہ وہ اپنے اتحادیوں کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کر گزرے۔ لیکن، ابن ابی کے ہاتھ میں اس مقصد کے لیے واحد ہتھیار خفگی اور بلوہ تھا۔ اس نے محمد صلعم پر گرج کر کہا، 'میرے رفیقوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ یہ سات سو مرد جنہوں نے ہر حال، دشمن کے سامنے میرا ساتھ دیا ہے، تم چاہتے ہو کہ ایک صبح میں یوں ہی کاٹ کر مار دیے جائیں؟ واللہ، میں اس فیصلے پر خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہوں۔ مجھے تو یہ خوف ہے کہ نجانے مستقبل میں کیا کچھ ہونے والا ہے'۔
محمد صلعم نے اس پر بجائے کچھ کہنے، پیٹھ پھیر کر اپنی راہ لی۔ اس پر ابن ابی غصے سے سرخ ہو گیا۔ آخر محمد صلعم کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ اس پر یوں پیٹھ پھیرتے؟ چنانچہ، اس نے دوڑ کر انہیں گریبان سے پکڑ لیا اور یہ دونوں اشخاص ایک دوسرے سے کھینچ تان کرنے لگے، 'خدا تمہیں غارت کرے ،مجھے جانے دو!' محمد صلعم نے چلا کر کہا۔ ان کے ماتھے پر رگیں ابھر کر پھڑ پھڑانے لگیں اور غصے سے چہرہ سرخ ہو گیا۔ لیکن ابن ابی نے بدستور انہیں سختی سے پکڑے رکھا اور کہا، 'میں تمہیں اس وقت یہاں سے جانے نہیں دوں گا، جب تک تم ان کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کر لیتے'۔
یہ ماجرا دیکھ کر محمد صلعم کے حامی ان کی مدد کرنے کو آگے بڑھے لیکن تب تک کھینچ تان میں محمد صلعم کا گریبان پھٹ چکا تھا اور خود کو ابن ابی کی گرفت سے آزاد کرا لیا ۔ انہوں نے سر کو جھٹکا اور آگے بڑھنے والوں کو اشارے سے روک دیا۔ اب یہاں سے معاملے کو مزید طول دینے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ ابن ابی نے ابھی ابھی ایک اصول سمجھ کر اس کے آگے سر تسلیم خم کر دیا تھا۔ یعنی یہ کہ فیصلہ کرنے کا اختیار محمد صلعم کے پاس تھا اور یہ صرف اور صرف آپ صلعم کا اختیار تھا۔ صرف ان کا حکم چلا کرے گا اور صرف ان کا ہی حکم ہے جو قینقاع کی جان بخشی کر سکتا تھا۔ اور اب چونکہ ابن ابی کو یہ بات اچھی طرح سمجھ آ چکی تھی، سمجھوتہ کرنے میں کوئی حرج نہیں تھی۔ بلکہ، یہ محمد صلعم کے لیے سیاسی طور پر سود مند تھا۔ آپ صلعم پیچھے ہٹ کر کچھ سوچنے لگے اور ایک توقف کے بعد اس قضیے کو حتمی طور پر یوں سمیٹ لیا کہ، 'یہ تمہارے ہیں۔ ان کو جہاں چاہے لے جاؤ۔' قینقاع مدینہ کے نخلستان کے سوا کہیں بھی جا سکتے تھے۔ دو ہزار افراد کے لیے بے دخلی کا حکم دے دیا گیا۔
جلا وطن کرنے کی سزا نئی نہیں تھی۔ انفرادی طور پر یوں زبردستی بے دخل کرنے کے کئی واقعات پیش آ چکے تھے اور عرب شاعری میں باغیانہ روش پر بے دخل ہو جانے والے کرداروں کا تذکرہ جا بجا ملتا ہے مگر ایک قبیلے کی یوں ایک ساتھ خروج کی حالیہ تاریخ میں یہ قدرے نئی مثال تھی۔ یہ اجتماعی سزا تھی۔ اور بجا طور پر یہ قتل عام اور غلامی سے کم معلوم ہوتی تھی مگر پھر بھی گہرے معنوں میں سخت فیصلہ تھا۔ قینقاع کے لوگ ابھی تک ابن ابی سے توقع رکھتے تھے کہ وہ محمد صلعم کے ساتھ بات چیت کر کے اس سزا میں تخفیف کروا سکتا ہے لیکن اس کی بعد اس کے، ایک بھی نہ چلی۔ اسے مات ہو چکی تھی، اختیار کم ہو گیا تھا اور اس کا اثر رسوخ اس قدر زائل ہو چکا تھا کہ اصل فیصلے کو جلا وطنی میں بدلنا بھی محمد صلعم کی مرضی معلوم ہوتا تھا۔
ٖفیصلے کے تیسرے روز ہی قینقاع کا وداع عمل میں آ گیا۔ مدینہ کے نخلستان میں ہر شخص جان گیا کہ اب اختیار محمد صلعم کے پاس ہے۔ وہ مدینہ سے یوں رخصت ہوئے کہ عورتیں اور بچے اونٹوں پر سوار تھے اور مرد پیدل چل رہے تھے۔ ان کا رخ مدینہ سے ساٹھ میل شمال کی جانب یہودیوں کے اکثریتی نخلستان خیبر کی طرف تھا۔ انہیں صرف وہی سامان ساتھ لے جانے کی اجازت دی گئی تھی جو وہ اپنے ساتھ لے جا سکتے تھے۔ پیچھے رہ جانے والا مال و اسباب اور جائیدادیں جس میں زمین، کھجور کے باغات اور مکانات شامل تھے مہاجرین میں برابر تقسیم کر دیے گئے جبکہ اس کا پانچواں حصہ مدینہ کے مال خانے کی ملکیت قرار پایا۔ مدینہ کی ساری آبادی خاموشی سے یہ سب دیکھتی رہی۔ اگرچہ یہ عیاں تھا کہ کبھی خود جلا وطن ہونے والے اب دوسروں کو ملک بدر کر رہے تھے لیکن اس وقت کسی شخص نے اس ستم ظریفی پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں سمجھا۔
بدر کے عواقب کا خمیازہ بھگتنے والے صرف بنی قینقاع نہیں تھے۔ اس وقت شاعر ہونا بھی خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اگر چہ آج جدید دور میں شاعروں کو بے ضرر سمجھا جاتا ہے مگر مغرب کی زبان میں کہیں تو شاعر ساتویں صدی عیسوی میں خطہ عرب میں راک سٹار ہوا کرتے تھے۔ اس کی وجہ صرف غزل گوئی، غنائی اور درد انگیزی نہیں تھی۔ عربی زبان میں کی جانے والی شاعری کی ایک صنف 'ہجو' بھی خاصی مشہور ہوا کرتی تھی۔ اس طرح کی شاعری میں شوخ مگر ایمائی اور فحش تجنیس، ذو معنویت اور دو دھاری گرہیں لگانا عام بات تھی۔ مشہور تھا کہ ہجو جس قدر شدید کاٹ رکھتی ہو، اتنی ہی مقبول ہوتی تھی۔ لیکن اگر الفاظ کی کاٹ، تیز دھار والی تلوار کی مثال جیسی لی جائے تو اس کا جواب بھی تیز تلوار کے وار سے ہی دیا جا سکتا ہے۔
ہجویہ شاعری کرنے کی قیمت بھی یہیں پر واضح کر دی گئی۔ محمد صلعم پر تنقید اور الفاظ کے تیر برسانے والی ایک پر مغز شاعرہ
عاصمہ ہوا کرتی تھی۔ اس کی شاعری میں تنقید اور بے عزتی تو تھی ہی لیکن تضحیک اس لیے بھی بڑھ کر معلوم ہوتی تھی کہ یہ الفاظ ایک عورت اچھال رہی تھی۔ اگر چہ ترجمے سے شاعری کا ردھم اور تاثیر ختم ہو کر رہ جاتی ہے مگر پھر بھی، اس کی شاعری اتنی کاٹ دار تھی کہ لغوی معنوں میں بھی سنیں تو شدید حقارت اور بے حرمتی کا احساس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر،'اے خزرج کے ناکارہ ، نامردو! / کیا تم بھڑوے ہو؟/تم ایک اجنبی کو اپنے گھونسلے پر قبضہ کرنے دو گے؟/تم اس سے یوں امید لگا کر بیٹھے ہو جیسے مرد جو کی شربت کو لالچ سے دیکھتا ہے / کیا کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جو اس کوئل سے اپنے گھونسلے کو بچائے؟'
گو اس سے پہلے بھی محمد صلعم کو یوں ہی تضحیک اور بے حرمتی کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ یہ مکہ میں ہوا کرتا تھا۔ وہاں آپ صلعم کے پاس اس طرح ٹھٹھے بازی اور تمسخر، طعنہ زنی اور جگ ہنسائی کو برداشت کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ مگر اب صورتحال بدل چکی تھی۔ محمد صلعم نے آہ بھر کر کہا، 'کیا کوئی شخص ایسا نہیں ہے جو مجھے اس عورت سے چھٹکارا دلائے؟'۔ آپ صلعم کی یہ خواہش عاصمہ کے ہی ایک رشتہ دار جو مومن تھا، اس کے لیے حکم بن گیا۔ اسی رات وہ اس عورت کے گھر پہنچ گیا اور دیکھا کہ وہ اپنے بچے کو سینے سے لگائے سو رہی ہے۔ اس نے اپنی تلوار سونت لی اور اس کے سینے میں گھونپ دی۔ اگلی صبح اس نے محمد صلعم سے سوال کیا، 'کیا اس کو قتل کرنے کی پاداش میں مجھے کوئی سزا ملے گی؟' آپ صلعم نے دو ٹوک جواب دیا، 'اس کی قیمت چکانے کے لیے دو بکریاں بھی آگے نہیں بڑھیں گی!'
ایک دوسرا مخالف شاعر بھی تھا۔ اس کا نام ابو افق تھا۔ اس نے عاصمہ کی نسبت ہجو میں خاصی نرمی برتی تھی۔ کہا کرتا، 'یہ وہ شخص ہے جو باہر سے آیا اور اس نے ہمیں تقسیم کر دیا ہے / دھڑلے سے کہتا ہے کہ، 'یہ جائز ہے اور وہ نا جائز ہے'/لیکن اے مدینہ والو! اگر تم طاقت اور بڑائی میں یقین رکھتے ہو/تم اپنے لوگوں میں سے ایک رہنما کیوں نہیں چن لیتے؟'۔ لیکن، اب صورتحال یہ تھی کہ اس طرح کی تنقید بھی قابل قبول نہیں تھی۔ محمد صلعم نے اس کی بابت صرف اتنا کہا کہ، 'کون ہے جو اس لچے بدمعاش سے بدلہ لے سکتا ہے؟' اور فوراً ہی ایک شخص نے آگے بڑھ کر اس کو سبق سکھانے کی حامی بھر لی۔ عاصمہ کی ہی طرح، اس کا انتقام لینے کی بھی کسی نے جرات نہیں کی۔
تیسرے شاعر کا نام ابن اشرف تھا۔ گو وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا مگر اس کا یہ فرار عارضی ثابت ہوا۔ اس کا تعلق یہودیوں کے ایک دوسرے قبیلے بنو نضیر سے تھا۔ یہ اپنے ہمراہ پچاس لوگوں کا وفد لے کر مکہ روانہ ہو گیا۔ اس کا مقصد قریش کو بدر کا انتقام لینے پر اکسانا تھا۔ اس نے لکھا، 'اس طرح کی لڑائی میں آنسو اور بارش طوفان بن کر برستے ہیں/قریش کا پھول بدر کے کنوؤں کے گرد اگ آئے ہیں / یہ وہ مقام ہے جہاں کئی نامور لوگ کاٹ کر پھینک دیے گئے'۔ اس کا جواب محمد صلعم کے ایک دیرینہ ساتھی حسان بن ثابت نے یوں دیا کہ، 'بھونکو! یوں بھونکو جیسے ایک کتے کا پلا کتیا کے پیچھے روتا ہے / خدا نے ہمارے رہنما کو اطمینان بخشا ہے / وہ جو اس سے لڑے نیست و نابود ہو گئے'۔ بہادری کا مظاہرہ کہیں یا اسے ابن اشرف کی بیوقوفی جانیں، اس نے مدینہ واپس آ کر ابن ثابت کو منہ پر جواب دینے کا فیصلہ کر لیا۔ یہاں پہنچتے ہی اسے قتل کر دیا گیا۔
بنو قینقاع کی بے دخلی کے بعد بھی اگر کسی شخص کے ذہن، کونے کھدرے میں اگر دیے جانے والے پیغام کی ذرہ برابر بھی چوک باقی تھی تو وہ جلد ہی قرانی آیات کی صورت میں ایک حکم کی صورت دور کر دی گئی۔ یہ حکم مذہبی افعال میں ایک بڑی تبدیلی پر مشتمل تھا۔ یعنی، قبلہ بدل دیا گیا۔ اس سے پہلے مومنین بھی شمال کی جانب رخ کر کے یہودیوں کی مانند یروشلم میں معبد کے آگے سر ٹیکتے تھے اب اس کو جنوب کی طرف موڑ دیا گیا۔ قران میں یہ حکم کچھ یوں ہیں کہ، 'تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجد حرام کی طرف رخ پھیر دو۔ اب جہاں کہیں تو ہو، اسی کی طرف منہ کر کے نماز پڑھا کرو۔' یعنی قبلہ بدل دیا گیا تھا اور یہودیوں کے بارے مزید کہا، ' یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی، خوب جانتے ہیں کہ (تحویل قبلہ کا) یہ حکم ان کے رب ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے، مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں، اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔'
قبلہ میں یہ تبدیلی علامتی طور پر دو گنی اہمیت رکھتی تھی۔ ایک طرف تو یہ حکم مکہ کی طرف اشارہ کرتا تھا۔ بدر کے فوراً بعد یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ اب قریش کے ساتھ قبلے کی تحویل پر کھلی جنگ ہوا کرے گی۔ یہ کعبہ پر بعینہ ویسی ہی ملکیت کا اعادہ تھا جیسا کہ یہودی اپنی جان کی بازی لگا کر یروشلم پر دھونس جماتے آئے ہیں۔ جیسے زبور میں ایک جگہ رقم ہے کہ، 'اے یروشلم! اگر میں تمہیں بھول جاؤں تو بے شک میرے ہاتھ کاٹ دیے جائیں۔' ویسے ہی اب مومنین بھی اپنے سر دھڑ کی بازی لگا کر مکہ کو کبھی نہیں بھولیں گے۔ اس کی حرمت پر جان قربان کرنے سے گریز نہیں کریں گے۔ اب یہ جگہ ماضی کا قصہ نہیں بلکہ حال کی حقیقت بن چکی تھی۔ اسے ایمان کا مرکزی نقطہ قرار دے دیا گیا تھا۔ عبادت کرنے والے اب اس پر اپنا دعویٰ قائم کر سکتے تھے اور ہر صورت اس پر قبضہ کر کے رہیں گے۔
دوسری طرف عبادت کا یہ نیا قبلہ اس بات کی بھی غمازی کرتا ہے کہ جسے تاریخ دانوں نے 'یہودیوں کے ساتھ علیحدگی' قرار دیا ہے۔ بالخصوص، اس وقت تو راہیں جدا ہونا بالکل واضح تھا کہ حال ہی میں ایک یہودی قبیلے کو نکال باہر کر دیا گیا تھا۔ گو اس سے پہلے ان کے ساتھ ناطے داری اور وحدانیت کے تعلق کا بر ملا اظہار کیا جاتا رہا تھا مگر اب پہلی بار اسلامی انفرادیت کی بنیاد، ایک مختلف شناخت کی صورت میں رکھ دی گئی تھی۔ انفرادیت گری کا عمل باقاعدہ طور پر شروع ہو چکا تھا۔ جس طرح چھ صدی قبل عیسائیت نے خود کو یہودیت سے علیحدہ کر کے ایک جدا گانہ شناخت قائم کر لی تھی، اب ابھرتا ہوا یہ نیا دین، یعنی اسلام بھی وہی کرنے جا رہا تھا۔ گو اسلام اور یہودیت کی تاریخ اور میراث ایک ہی تھی مگر اب قبلے کی اس تبدیلی کے بعد یہ عیاں ہو گیا تھا کہ بھلے ماضی ایک رہا ہو، مستقبل کسی صورت بھی ایک جیسا نہیں ہو گا۔ شاید یہ علیحدگی نا گزیر تھی، جیسے ایک خاندان ٹوٹ جاتا ہے تو پھر اس کی قسمت میں مزید تلخی لکھ دی جاتی ہے۔ اسلام اور یہودیت کے بیچ یہ تلخی اب وقت کے ساتھ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر