اول المسلمین - جلا وطن - 15


اکثر کہا جاتا ہے کہ آدمی کو اس کے دشمنوں کی قابلیت کی بنیاد پر پرکھا جا سکتا ہے۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر وہ نوجوان چرواہا جس نے ابو جہل کو بدر کے میدان میں قتل کر ڈالا تھا، تاریخ اسلام میں اپنی سمجھ سے کہیں بڑا کردار ادا کر گیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ ابو جہل کی موت کے بعد محمد صلعم کے دشمنان کی قابلیت اور حکمت ایک دم، بہت تیزی سے بہتر ہو گئی۔ مکہ کی تجار کونسل، جو قریش کے سارے ہی فیصلے کیا کرتی تھی، اس کی سربراہی ایک ایسے شخص کے ہاتھ آ چکی تھی، جس نے اپنی ذہانت کو استعمال میں لاتے ہوئے، کمال ہوشیاری سے تجارتی قافلے کا رخ بدر سے موڑ کر محمد صلعم کے ہاتھوں لٹنے سے بچا لیا تھا۔ یہ قریش کے نامی گرامی کنبے امیہ کا سردار ابو سفیان تھا۔
زیرک اور منجھے ہوئے فوجی سپہ سالاروں کی طرح ابو سفیان کا بھی انہی اصولوں پر یقین تھا، جن میں گرما گرمی اور شدید حریفانہ سوچ کی بجائے نپے تلے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ ایسے رہنماؤں کے لیے اگر انسانی جانوں کو داؤ پر لگانا نا گزیر ہو تو ایسا بجائے ذاتی عناد، انتہائی ضرورت کے پیش نظر ہی کرتے ہیں۔ سچ یہ ہے کہ اگر اس سے پہلے قریش کی سربراہی ابو جہل کی بجائے ابو سفیان کے ہاتھ میں ہوتی تو محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کو مکہ سے زبردستی بے دخل کرنے کی قطعاً ضرورت پیش نہ آتی۔ ابو جہل کی شتابی اور شدید مخالفت کے باعث محمد صلعم کمزور ہونے کی بجائے، طاقتور ہوتے چلے گئے ۔ ابو سفیان اس صورتحال میں انہیں کچلنے کی بجائے حدود میں رکھنے کی کوشش کرتے۔ عین ممکن تھا کہ وہ محمد صلعم کے سماجی اصولوں کو سیاسی ضرورت کے تحت یا شاید ان کی اہمیت کے پیش نظر قبول کر لیتے۔ اگر چہ وہ بھی قریش کی روایات یعنی، آباؤ اجداد کے طریق کا پرچار کرتے تھے مگر وہ دیکھ سکتے تھے کہ سماجی ڈھانچے میں تبدیلیاں نا گزیر ہیں اور بڑی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کی اپنی بیٹی جن کا نام ام حبیبہ تھا، اسلام قبول کر چکی تھیں۔ وہ ان افراد میں شامل تھیں جنہوں نے عرصہ پہلے بائیکاٹ کے دوران ایتھوپیا ہجرت کر لی تھی۔ لیکن اب بجائے مدینہ چلی جاتیں، مکہ میں ہی سکونت اختیار کر لی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ام حبیبہ ، یہاں رہ کر ابو سفیان کی سوچ پر خاصا اثر انداز ہوتی آئی تھیں۔ سو، اگر بدر کے بعد ابو جہل زندہ ہوتا تو یقیناً غصے میں آ کر، انتقام کی آگ میں جل بھن جاتا اور پہلے سے بڑی فوجی مہم پر نکل پڑتا۔ مگر، ابو سفیان نے مخالفت اور لعن طعن کے باوجود سوچ اور سمجھ کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ بدر کا انتقام لینا انتہائی ضروری تھا۔ مکہ کی عزت اور شہرت اور شہر کے طویل مدتی ذرائع معاش داؤ پر لگ چکے تھے۔ مگر بجائے یہ کہ وہ انتقامی کاروائی کے لیے دوڑ پڑیں، ابو سفیان نے فیصلہ کرنے میں اچھا خاصا وقت لیا اور تیاریاں شروع کر دیں۔ کئی بدو قبائل جو ابھی تک قریش کے اتحادی تھے، ان کے ساتھ از سر نو تعلقات اور باہمی دفاع کے معاہدوں کی تجدید کی گئی۔ سرما کے مہینوں میں انتظار کیا گیا اور اگلے ہی برس بہار کا موسم تک دس ہزار فوجیوں پر مشتمل ایک مضبوط فوج تشکیل دے دی گئی جس میں سینکڑوں گھڑ سوار بھی شامل تھے۔ اس لشکر کا رخ دس دن کی مسافت پر واقع مدینہ کی طرف تھا۔
ابوسفیان کا ارادہ مدینہ پر چڑھائی نہیں تھا۔ بلکہ وہ صرف محمد صلعم کو یہاں سے نکال باہر کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے، مدینہ کے نخلستان پر چڑھ دوڑنے کی بجائے لشکر کو حکم دیا کہ مدینہ سے باہر، مضافاتی علاقے میں پڑاؤ ڈال لیں۔ یہ جگہ احد کی پہاڑی کے قدموں میں مدینہ سے تین میل شمال کی جانب واقع تھی۔ مقصد واضح تھا کہ وہ پورے مدینہ پر حملہ کرنے نہیں بلکہ محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں سے بدلہ لینے، بدر کا حساب چکانے آئے تھے۔ ابو سفیان نے اس بابت کسی بھی قسم کے شک کو دور کرنے کی غرض سے اوس اور خزرج کو واضح پیغام دینے کے لیے ایک قاصد روانہ کیا۔ پیغام یہ تھا، 'ہمیں اپنے عم زاد محمد صلعم کے ساتھ نبٹنے دو اور ہم تمھیں بخش دیں گے۔ ہمیں تمہارے ساتھ جنگ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔' یعنی، یہ قریش کا قریش کے ساتھ معاملہ تھا۔ اس قضیے میں کسی دوسرے قبیلے کو سینگ اڑانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔
قریش کے لشکر نے یہ طریقہ خوب سوچ سمجھ کر اختیار کیا تھا۔ ابو سفیان کو مدینہ کے اندر بڑھتی ہوئی انارکی اور تقسیم کی پہلے سے خبر تھی۔ وہ جانتے تھے کہ محمد صلعم ابھی تک سیاسی طور پر قدم جمانے کی کوشش میں ہیں اور ان کا اختیار تنازعات میں گھرا ہوا ہے۔ ہم وثوق سے نہیں کہہ سکتے کہ ابو سفیان کا یہ فعل امر مانع تھا یا وہ واقعی مدینہ میں مزید تقسیم پیدا کر کے فتح حاصل کرنا چاہتے تھے، لیکن یہ ایک انتہائی سوچی سمجھی اور ذہین چال تھی۔ یعنی، دستانہ پہنے دوستانہ ہاتھ آگے بڑھا کر پیٹھ کے پیچھے سے آہنی مکا بھی دکھا دیا تھا۔ اگر مدینہ کی اکثریت نخلستان کو جنگ میں جھونکنے پر تیار تھی تو وہ دیکھ سکتے تھے کہ ابو سفیان پہلے سے ہی پوری تیاری کر کے آئے تھے لیکن اگر وہ اس سارے قضیے سے الگ رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو یہ ابو سفیان کے لیے بھی قابل قبول حل تھا۔ اس لشکر کا مدینہ کو جنگ پر اکسانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا، وہ تو صرف محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کو مدینہ سے باہر نکالنا چاہتے تھے۔ ابو سفیان کا خیال تھا کہ ایک یا دوسری صورت، محمد صلعم اپنے حواریوں کے ساتھ بالآخر مدینہ سے باہر نکل آئیں گے، جہاں یہ لشکر انتہائی سرعت اور قرار واقعی طور پر ان سے نبٹ لے گا۔
لیکن مومنین میں سے کچھ ابو سفیان کی اس چال کو پہلے ہی سمجھ گئے۔ ان میں ابن ابی بھی شامل تھا جو محمد صلعم کے ساتھ قینقاع کے معاملے پر بھی اچھا خاصا گتھم گتھا ہو گیا تھا۔ محمد صلعم نے اس قضیے کے بعد اس کو خود سے مزید دور کرنے کی بجائے اپنے ساتھ ملا لیا تھا۔ آپ صلعم نے کئی دوسروں کی مخالفت کے باوجود ابن ابی کو مشیران میں شامل کر لیا ۔ ابن ابی نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے مشورہ دیا کہ مومنین کو مدینہ کے اندر ہی جم کر ڈٹے رہنا چاہیے۔
'واللہ، اس سے پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دشمن سے لڑنے کے لیے ہم مدینہ سے باہر نکلے ہوں اور ہمیں بھاری نقصان نہ اٹھانا پڑا ہو ' ابن ابی نے مزید کہا، 'اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دشمن مدینہ میں داخل ہوا ہو اور یہاں سے بچ نکلا ہو۔ انہیں اپنے حال پر چھوڑ دو۔ اگر وہ وہیں رہے جہاں ہیں تو ان کا حال بدتر ہوتا جائے گا اور اگر نخلستان میں داخل ہونے کی کوشش کی تو پھر ہم میں سے ہر شخص ان کے ساتھ دو بدو لڑائی کرے گا۔ عورتیں اور بچے چھتوں پر سے ان پر پتھر برسائیں گے اور بالآخر وہ بھاگنے پر مجبور ہو جائیں گے۔'
اس نے مزید کہا ،'ابو سفیان کے لشکر میں شامل گھڑ سواروں کے دستوں نے پہلے ہی کھیتوں میں فصل برباد کر دی ہے۔ وہاں اب بچانے کے لیے کچھ نہیں بچا۔ تو بہتر یہی ہے کہ ہم انتظار کریں اور اگر وہ جرات کریں تو انہیں مدینہ میں داخل ہونے دیں۔ مومنین کو نخلستان کی ہر گلی اور کوچے، اونچی جگہوں اور چھپنے کے مقامات کی پوری معلومات ہونے کی وجہ سے برتری حاصل ہے۔' جیسے آج، ویسے ہی تب بھی شہری علاقوں میں لڑائی لڑنا کسی بھی فوجی سپہ سالار کے لیے بھیانک خواب ثابت ہو سکتا تھا اور ابن ابی کا خیال یہ تھا کہ ابو سفیان جیسا سیانا شخص کبھی بھی شہر میں داخل ہونے کی حماقت نہیں کرے گا۔اگر مکہ کا سردار پہلے ہی محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں سے باہر نکل کر لڑنے کی توقع پالے بیٹھا تھا تو آخر، ہم اس کی توقعات کے برعکس ایسا کیوں کریں؟ بالخصوص ان حالات میں جبکہ ابو سفیان کا لشکر احد کی پہاڑی کے قدموں میں پڑاؤ ڈالے ہوئے تھی، یہاں تو پینے کے لیے پانی کا ایک قطرہ بھی میسر نہیں۔ آخر کار، انہیں مجبور ہو کر وہاں سے نکلنا ہی پڑے گا۔ اس کے لیے انہیں کچھ بھی نہیں بلکہ جم کر نخلستان کے اندر تیار رہنے کی ضرورت تھی۔
لیکن اگر سمجھ بوجھ بہادری کا ایک حصہ ہوتی ہے تو محمد صلعم کے اکثر جوان اور جوشیلے پیروکار ایسی بہادری کے قائل نہیں تھے۔ یہ جوانان زیادہ تر مہاجرین تھے اور ابھی تک جلا وطنی کی ہزیمت پر تلملائے بیٹھے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ابو سفیان کے اس چیلنج کو یوں نظر انداز کر دینا، در اصل کمزوری ہو گی اور اگر ابن ابی کی حکمت عملی کامیاب بھی ہو جاتی ہے تو آخر کار، مدینہ کے لیے اخلاقی شکست سمجھی جائے گی۔ وہ درخشاں فتح حاصل کر کے سر خرو ہونا چاہتے تھے، شہرت اور عظمت کی بلندیوں کو چھونے کی تکرار کرنے لگے۔ اس سے پہلے بدر کے مقام پر وہ مکہ کے چنے ہوئے جنگجوؤں کو شکست سے دوچار کر چکے تھے اور اب اسی طرح ایک بڑے لشکر کے سامنے گنی چنی تعداد کے ساتھ بہادری اور جرات کی ایک اور مثال قائم کرنے کے لیے تیار تھے۔ ابن ابی کی حکمت عملی سن کر ایک دم ہر طرف سے شور و غوغا بلند ہو گیا اور سبھی چلانے لگے، 'اے خدا کے رسول! آپ ان کتوں کو بھگانے کے لیے ہماری سپہ سالاری کیجیے!'
ایسی صورتحال میں ایک رہنما کیا کر سکتا ہے؟ بہتر یہ ہے کہ وہ حکمت سے کام لے لیکن اس سے اپنی ہی بنیاد کو مایوس کرنے کا خدشہ لاحق رہتا ہے۔ محمد صلعم کے معاملے میں، یہ بنیاد مہاجرین تھے۔ وقت آئے گا کہ وہ اپنے اختیار کو استعمال میں لاتے ہوئے عوامی خواہشات پر حاوی ہوں گے مگر وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ابھی وہ اس قابل نہیں ہیں۔ اور پھر، یہاں ایک دوسرا عنصر بھی تھا۔ وہ یہ کہ، محمد صلعم پہلے ہی ابن ابی کی قینقاع کے معاملے میں مداخلت کے بعد اس کے مطالبات مان کر خود کو بلند نظر ثابت کر چکے تھے۔ لیکن، ایک بار پھر اسی طرح اس کے عمل دخل کو یوں قبول کر لینے کا مطلب اسے شہ دینے کے مترادف تھا۔ دونوں صورتوں میں سے، یعنی مہاجرین کی خواہش کے عین مطابق کھلے میدان میں لڑائی یا ابن ابی کی رائے کو مقدم جانتے ہوئے احتیاط برتنے میں سے آپ صلعم نے پہلی تجویز کا انتخاب کیا۔ انہوں نے اپنے جوان پیروکاروں کی خواہش کو فیصلے پر حاوی کر دیا۔ محمد صلعم نے پر تکلف جنگی لباس پہن لیا۔ وہ اپنے سر پر مغفر سجائے، بھاری بھرکم زرہ بکتر پہنے اور ہاتھ میں تلوار تھامے برآمد ہوئے، اور جب ابن ابی نے آگے بڑھ کر ایک دفعہ پھر مدینہ سے باہر جنگ لڑنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کرنا چاہا تو محمد صلعم نے اسے روک لیا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا، 'یہ ایک پیغمبر کے لیے کسی بھی طرح سے موزوں نہیں ہے کہ وہ زرہ بکتر پہن کر بغیر لڑائی لڑے، اسے اتار دے۔'
ابن ابی کے لیے اس کے بعد کوئی چارہ نہیں تھا۔ لہذا، اس نے اپنے کنبے کے تین سو جنگجوؤں کو جمع کر لیا اور محمد صلعم کے ساتھ لشکر میں شامل ہو کر حمایت کا اظہار کر دیا۔ یہ اس کی جانب سے آپ صلعم کی پیروی کا اشارہ تھا۔ لیکن ابن ابی کے کنبے سے تین سو افراد کی شمولیت کے باوجود بھی اس شام محمد صلعم کے ساتھ صرف ایک ہزار کے لگ بھگ لوگ ہی لشکر کی صورت باہر نکلے۔ بدر میں جہاں جنگی طاق دو کے مقابلے میں ایک تھی تو یہاں دس کے سامنے ایک مومن کھڑا تھا۔
ابن ابی کا حمایتی اظہار بھی بالآخر صرف علامتی ہی ثابت ہوا۔ یعنی، وہ صرف ایک اشارہ تھا۔ جیسے ہی محمد صلعم کا لشکر مدینہ سے نکل کر مضافات میں پہنچا تو اس نے اپنے گھوڑے کی لگام کھینچ لی اور اعلان کیا کہ وہ اپنے آدمیوں کو لے کر اس جگہ سے آگے نہیں جائے گا۔ مکہ کے لشکر کو اس جگہ سے آگے لڑائی میں گھیرنے کی کوشش، انہیں دفاع کی بجائے جارح بنا دے گی۔ اس نے محمد صلعم کی توجہ 'آئین مدینہ' کی اس شق کی جانب دلائی، جس کے تحت وہ اور مدینہ کے دوسرے لوگ صرف اور صرف باہمی دفاع کے پابند تھے۔ اس نے اپنے حمایتیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، 'محمد صلعم نے میری بات سننے سے انکار کر دیا ہے اور بجائے وہ نوجوانوں کے کہے پر عمل پیرا ہے۔ ان لڑکے لپاڑوں کو جنگ کی سمجھ نہیں ہے۔ مجھے اس جنگ میں خود کو جھونک کر اپنے آپ کو یوں بے وجہ قتل کروانے کی سمجھ نہیں آتی۔' پھر، اس نے اپنے آدمیوں کو واپس مڑنے کا حکم دے دیا۔ محمد صلعم نے بد ستور بقایا لشکر کے ساتھ آگے کی طرف سفر جاری رکھا، ابن ابی کا خیال تھا کہ انہیں بالضرور شکست سے دوچار ہونا پڑے گا۔ وہ بعد ازاں، جنگ کی باقیات دکھا کر اور اپنی رد کردہ تجویز کی اہمیت کے بل بوتے پر مدینہ میں حمایت حاصل کر لے گا اور بالآخر پورے نخلستان کی رہنمائی کا حقدار کہلائے گا۔
محمد صلعم کے ساتھ لشکر میں اب صرف سات سو اشخاص رہ گئے تھے ۔ یہ ابھی تک اس فوج کو مکہ کے بڑے لشکر کے مقابلے میں تعدادی لحاظ سے زیر کرنے کا اہل سمجھ رہے تھے۔ اس رات انہوں نے بجائے بھڑنے کے، اپنے آدمیوں کو 'ہرا' کے مقام سے گزار کر پہاڑی کے بالکل قدموں میں لے آئے۔ ہرا وہ جگہ ہے جہاں کھیتوں کے دونوں طرف قدیم زمانے میں لاوا بہہ جانے کی وجہ سے نوکیلی اور پتھریلی سطح بن چکی تھی اور مکہ کے گھڑ سوار اور زرہ پوش فوجی گزرنے یا پہنچنے سے قاصر تھے۔ یہاں پہنچ کر صبح طلوع ہونے سے پہلے ہی مومنین کے لشکر نے ایسی جگہ پر قبضہ کر لیا کہ جہاں پیچھے پہاڑ کی اوٹ تھی اور دائیں بائیں، دونوں اطراف میں ہرا کی پتھریلی چٹانیں تھیں۔ یوں مکہ کا لشکر صرف اور صرف سامنے سے حملہ کر سکتا تھا۔ جنگی حکمت عملی کے تحت محمد صلعم نے پچاس تیر اندازوں کا ایک دستہ ترتیب دیا اور اسے پہاڑی پر چوکس رہنے کا حکم دیا۔ کہا،' اپنے تیروں سے ان گھڑ سواروں کے یلغار میں لشکر کی حفاظت کرو۔' مزید تاکید کی، 'چاہے کچھ بھی ہو جائے، تم ہمیں ان پر قابو پاتا ہوا بھی دیکھ لو، اپنی جگہ سے ہلنے کی کوشش مت کرنا، اس صورت میں انہیں پیچھے سے حملہ کرنے کی جرات نہیں ہو گی۔' یہ ایک نہایت عمدہ حکمت عملی تھی مگر اس کی کامیابی کا پورا انحصار تیر اندازوں کے اس دستے کے چوکس ہو کر جمے رہنے پر تھا۔
احد کی لڑائی 25 مارچ، 625ء کو سورج طلوع ہوتے ہی شروع ہو گئی۔ یہ بدر کی جنگ کے تقریباً ایک سال بعد لڑی جا رہی تھی مگر اب کی بار اس کے نتائج مختلف برآمد ہوئے۔ رات گئے، یہ محمد صلعم کے لشکر کے لیے تباہی ثابت ہو گی۔ وہ خود زخمی ہو چکے ہوں گے اور ان کے پینسٹھ ساتھی میدان جنگ میں قتل کر دیے جائیں گے۔ حالانکہ، اس قدر عمدہ جنگی حکمت عملی کے بعد ایسا ہونا ممکن نہیں تھا۔
جس طرح نوجوانان چاہتے تھے، اس لڑائی میں کچھ بھی شاندار نہیں تھا۔ یہ فوجی ترانوں اور مردانہ وار نہیں بلکہ غصے سے پھنکار اور پھیلتے ہوئے نتھنوں کی گڑگڑاہٹ، لوہے کے تصادم، گالم گلوچ کرتے ہوئے مردوں، خوفزدہ گھوڑوں اور اونٹوں کی ہنہناہٹ اور سب سے بڑھ کر مکہ کے لشکر میں پیچھے آتی عورتوں کی چیخ و پکار ، رجھانے والے الاپ اور بدر کی ہزیمت یاد دلانے والے شور میں لڑی جانے والی جنگ تھی۔
یہ جنگ میں عورتوں کا روایتی کردار رہا تھا۔ وہ اپنے لشکر کے مردوں کو طیش، غیرت دلاتیں اور دشمنان پر تبرہ کرتیں۔ اپنی شدید اور تیز تر ہوتی آواز میں رواس پٹاس کرتیں، جس سے لڑائی میں شدت پیدا ہو جاتی اور دوسری طرف فوجیوں کے دل میں خوف پیدا ہو جاتا۔ ان کی مثال، دنیا کے ایک دوسرے کونے میں جنگ کے دوران دھول کے کہر میں بجتی ہوئی پونگی یا بین کی سی ہوا کرتی تھی۔ ابو سفیان نے اس مقصد کے لیے بدر کے پندرہ مقتولین کی بیواؤں اور بیٹیوں کا انتخاب کیا تھا۔ ان عورتوں کی سربراہی خود ابو سفیان کی بیوی کر رہی تھی۔ اس کا نام ہندہ تھا ۔ یہ عورتیں جنگ کے دوران چلاتیں، 'آگے بڑھو اور جرات دکھاؤ تو ہم نرم تکیوں پر تمہاری مدارت کریں گی' اور، 'اگر لڑکھڑائے تو یاد رکھو، ہم نرمی نہیں برتیں گی'۔
لیکن ہندہ کے لیے سب سے اہم اپنا ذاتی انتقام یقینی بنانا تھا۔ بدر کی جنگ میں اس کا باپ اور بھائی دونوں ہی محمد صلعم کے چچا حمزہ کے ہاتھوں قتل ہو چکے تھے۔ اور اب، اس نے ارادہ باندھ لیا تھا کہ اس لڑائی میں وہ حمزہ کو قتل ہوتا دیکھے گی۔ اس مقصد کے لیے اس نے پہلے ہی، کھلے عام ایک ایتھوپیائی غلام، جس کا نام وحشی تھا کو تیار کر رکھا تھا۔ اس کام کے عوض، یعنی میدان جنگ میں حمزہ کو ڈھونڈ کر موت کے گھاٹ اتارنے کے بدلے میں، غلامی سے آزادی اور منہ مانگا انعام دینے کا وعدہ کر رکھا تھا۔
شاید، ایک غلام سے یہ کام لینے کے لیے اتنا بڑا انعام ہی درکار ہوتا۔ حمزہ ایک ہیبت ناک جنگجو تھے۔ ان کی طرح کے جنگجو، گنتی کے ہی لوگ تھے جو ہر دم لڑنے بھڑنے پر تیار رہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ لڑائی کے میدان میں حمزہ کو تلاش کرنا بہت مشکل نہیں تھا۔ کہا جاتا تھا کہ جہاں ہولناک لڑائی چھڑی ہوئی دکھائی دے، جان لو کہ حمزہ وہیں، سر کے مغفر میں شتر مرغ کی کلغی سجائے بے جگری سے لڑتا ہو گا۔ ایک شخص بتاتا ہے کہ اس دن لڑائی کے دوران حمزہ اپنے آنے والے ہر دشمن کو لعن طعن کرتے، گالیاں سناتے ہوئے آگے بڑھتے، بالخصوص اس شخص کو بہت ہی برا بھلا کہہ دیا جس کی ماں مکہ میں لڑکیوں کے ختنے کرتی تھی، جس بابت حمزہ کا خیال تھا کہ یہ واقعی جہالت تھی۔ وہ بتاتا ہے کہ دوسروں کو تو دیکھتے ہی تلوار لہراتے اور طیش دلانے کو ملامت کرتے کہ، 'او چھنال کے بچے، آؤ مجھ سے لڑو!' مگر اس شخص کو تو بہت ہی برا کہا، 'او بظر کاٹنے والی کے بچے، آؤ مجھ سے لڑو!'۔ اس پر وہ سخت طیش میں آ گیا اور حمزہ پر حملہ کرنے کو آگے بڑھا تو انہوں نے تلوار کا ایک ہی وار کیا اور بظر کاٹنے والی کے بچے کا کام تمام کر دیا۔
یہ حمزہ کے ہاتھوں ہونے والا آخری قتل تھا۔ اگرچہ وہ ایک ہیبت ناک جنگجو تھے مگر وہ صرف اسی شخص کو زیر کر سکتے تھے جو تلوار یا خنجر سے حملہ کرتا ہو۔ ایتھوپیائی غلام کے پسندیدہ ہتھیار کے سامنے وہ بے بس تھے۔ وحشی سے روایت منقول ہے کہ، 'میں نے اپنی برچھی سے اچھی طرح نشانہ لیا، یہاں تک کہ میں مطمئن ہو گیا اور پھر میں نے اسے لہرا کر حمزہ پر پھینک دیا۔ یہ اس کے پیٹ میں اتنی زور سے پیوست ہوا کہ ٹانگوں کے بیچ میں سے نکلا۔ وہ میری طرف مڑا اور ڈگمگا کر وہیں گر پڑا۔' وحشی بتاتا ہے کہ اس پر خوف طاری تھا، 'میں نے کافی دیر انتظار کیا۔ جب مجھے یقین ہو گیا کہ حمزہ مر گیا ہے تو پھر میں نے جا کر مردہ جسم سے اپنی برچھی نکالی'۔
حمزہ جیسے بہادر اور جری شخص کے قتل ہونے کے باوجود محمد صلعم کا لشکر سبقت لے رہا تھا۔ مکہ کے گھڑ سواروں کا ہر حملہ پسپا کیا جاتا رہا اور پہاڑی کی چوٹی پر تعینات تیر اندازوں کا دستہ چن چن کر تیر برساتا رہا۔ کئی گھوڑے اور گھڑ سوار ہلاک کر دیے گئے۔ جیسے جیسے دن چڑھتا گیا، مومنین کا لشکر آگے ہی بڑھ رہا تھا اور بالآخر مکہ کے لشکر میں پھوٹ پڑ گئی اور وہ میدان جنگ سے بھاگنے لگے۔ تب ہی، پہاڑی پر تیر اندازوں کے دستے نے بھی نظم کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا۔
ان تیر اندازوں میں سے ایک یوں بیان کرتا ہے کہ، 'میں نے عورتوں کو دیکھا وہ اپنے کپڑے سمیٹ کر میدان سے یوں بھاگ رہی تھیں کہ ان کے ٹخنے نظر آ رہے تھے۔ دستے میں آواز آئی، 'لوٹ لو، لوٹ لو'۔ پھر کسی نے بھی ہمارے اس دستے کے کپتان کی ایک نہ سنی جو چلاتے ہوئے رسول اللہ کے حکم کی یاد دہانی دلا رہا تھا۔ انہوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی اور میدان جنگ میں سے مال غنیمت لوٹنے کے لیے دوڑ پڑے۔'
ابو سفیان کے لشکر میں گھڑ سواروں کے کمانڈر نے یہ موقع تاڑ لیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو جمع کیا اور احد کی پہاڑی کے گرد سے گھوم کر پیچھے کی طرف سے حملہ کر دیا جہاں اب حفاظت کے لیے مامور تیر انداز اپنی جگہ چھوڑ چکے تھے۔ ان کی دیکھا دیکھی، پیادہ زرہ پوشوں نے بھی پلٹ کر حملہ کیا اور یوں بازی الٹ گئی۔ ایک کے بعد دوسرا مومن قتل کیا جانے لگا اور بچ جانے والے دوڑ تے ہوئے ،پیچھے پڑے پیدل فوجیوں، گھڑ سواروں، برستے تیروں اور برچھیوں سے بچتے، جان بچاتے احد کی پہاڑی پر چڑھنے لگے۔ اسی کشمکش میں صفیں ٹوٹنے لگیں اور افراتفری پھیل گئی۔ محمد صلعم کے سر پر چوٹ لگی اور وہ میدان میں گر گئے۔
شور و غوغا بلند ہوا کہ محمد صلعم قتل کر دیے گئے ہیں۔ یہ تو معلوم نہیں کہ یہ افواہ مکہ کے لشکر میں سے نکلی یا مومنین میں سے کسی نے شور مچا دیا مگر یہ ضرور سمجھ میں آتا ہے کہ آخر لوگوں نے ایسا کیونکر سوچا ہو گا؟ محمد صلعم زرہ پہنے، سر پر مغفر سختی سے جمائے لڑ رہے تھے۔ ایک شدید وار کی وجہ سے مغفر کا لوہا گال کو چیرتا ہوا ٹھوڑی تک چلا گیا۔ ان کا اوپر والا ہونٹ پھٹ گیا ، ناک ٹوٹ گئی اور ماتھے پر گہرا زخم آیا۔ یہ زخم اس قدر گہرا تھا کہ جیسے عام طور پر سر پر لگنے والی چوٹ کے نتیجے میں ہوتا ہے، تیزی سے خون بہنے لگا اور چہرہ لہو لہان ہو گیا۔ لیکن اس وقت محمد صلعم کے لیے زخم اہم نہیں تھے۔ قریبی ساتھیوں نے انہیں سہارا دے کر کھڑا کیا تو حیران کن طور پر دیکھتے ہیں کہ ان کے پیروکار الٹے پیر بھاگ رہے ہیں۔ اس بات سے اب کیا فرق پڑتا تھا کہ ان کے ساتھیوں کے خیال میں آپ صلعم قتل کر دئیے گئے ہیں؟ کیا اسلام پر ان کا ایمان اس قدر کمزور تھا؟ کیا وہ واقعی یہ سوچتے چلے آ رہے تھے کہ اسلام صرف اور صرف محمد صلعم سے متعلق ہے؟ 'محمد صلعم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں'، یہ قران کے الفاظ ہیں جو اس لڑائی کے بعد آپ صلعم کے اسی غصے کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ اسی آیت میں آگے سوال کیا جائے گا، 'ان سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں، پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟'
شور، افراتفری اور ناتواں حالت میں انہوں نے اپنے ساتھیوں کو پوری قوت سے چلا کر واپس بلانے کی کوشش کی، 'میری طرف۔ او خدا کے بندو، میری طرف!' لیکن صرف تیس کے لگ بھگ ہی لوگ آپ صلعم کی آواز سن سکے اور ان کے گرد جمع ہو گئے۔ اس بارے بھی قران کے الفاظ خاصے تلخ ہوں گے، 'اللہ نے جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اس نے پورا کر دیا، ابتداء میں اس کی علم سے تم ہی ان کو قتل کر رہے تھے مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے (یعنی مال غنیمت)، تم اپنے سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے'۔ پھر کہا، 'یاد کرو جب تم بھاگے چلے جا رہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا اور رسول تمہارے پیچھے تم کو پکار رہا تھا اس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پر رنج دیے تا کہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے۔۔۔'۔ قصہ مختصر، یہ شکست در اصل خدا کی طرف سے محمد صلعم کی نافرمانی کرنے پر ان کے لیے سزا قرار پائی۔ لیکن، انہی آیات میں خدا نے مومنین کو اس فاش غلطی پر معافی کی نوید بھی سنائی۔
چونکہ ابو سفیان کے نزدیک اس چڑھائی کا مقصد محمد صلعم کے ساتھ معاملہ نبٹانا تھا، جو کہ مبینہ طور پر پورا ہو چکا تھا۔ محمد صلعم کے بارے میں افواہ پھیلنے پر مکہ والوں نے قتل و غارت ترک کر دیا اور پے در پے حملوں میں کمی لے آئے۔ لیکن ہندہ کا کام ابھی پورا نہیں ہوا تھا۔ قریش کی دوسری عورتیں میدان جنگ سے مال غنیمت یعنی تلواریں، خنجر، زرہ بکتریں اور گھوڑوں کی کاٹھیاں ، الغرض جو ہاتھ آتا، اکٹھا کر رہی تھیں مگر ہندہ ان کو نظر انداز کیے، ایک کے بعد دوسرے، میدان میں بکھرے لاشوں کو الٹ پلٹ کر اس کو تلاش رہی تھی، جو اس کو چاہیے تھا اور جب وہ لاشہ مٹی اور دھول میں اٹا مل گیا تو دیکھتے ہی اس نے فلک شگاف چیخ لگائی۔ یہ اس قدر تیز، کانوں کو چیرتی ہوئی چیخ تھی کہ سالوں بعد بھی لوگ اس کا تذکرہ کرتے تو ان کی روئیں کھڑی ہو جاتیں۔ وہ حمزہ کی لاش پر کھڑی ہوئی، چاقو نکالا اور دونوں ہاتھوں میں تھام کر زور سے مردہ جسم میں گھسیڑ دیا۔ پیٹ کو چیر دیا اور بجائے یہ کہ سینے میں سے دل نکالتی، اس سے کہیں بڑا اور گہرا عضو نکال لیا۔ یہ حمزہ کا جگر تھا۔ فخر اور جیت، بدلے کی آگ میں جلتے اس نے جگر کو دونوں ہاتھوں سے کھینچ کر الگ کیا اور اپنے سر سے یوں اونچا اٹھا لیا کہ انگلیاں اس میں کھبی ہوئی تھیں اور اس کے سر پر حمزہ کا خون ٹپک رہا تھا۔ پھر سب کے سامنے اس نے جگر میں دانت گاڑھ لیے اور چبانے لگی۔ اس کے منہ سے خون ٹپک کر ٹھوڑی سے نیچے کندھے اور سینے پر پھیل کر اسے رنگ رہا تھا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہندہ نے حمزہ کا جگر چبا کر نگل لیا اور دوسرے روایت کرتے ہیں وہ چباتی جاتی اور پھر تھوک کر مٹی میں رول کر وحشیانہ انداز میں ان پر کودنے لگتی۔ ہر دو صورت، ہندہ نے انتقام کی خوفناک مگر لازوال تصویر بنا ڈالی۔
ہندہ کے یوں بھیانک انداز میں لاشے کی تضحیک اور قطع و برید دیکھ کر مدینہ کے لشکر میں افراتفری اور ڈر بڑھ گیا۔ لیکن اسی منظر کو دیکھ کر مکہ کے اکثر فوجی مسحور رہ گئے اور وہ تماشا کرنے ہندہ کے گرد جمع ہونے لگے۔ یہ محمد صلعم اور ان کے گرد جمع مومنین کے لیے جان بچا کر پیچھے ہٹنے کا اچھا موقع تھا، چنانچہ وہ دوڑتے، محمد صلعم کو سنبھالتے، احد کی پہاڑی پر چڑھ گئے اور اوپر سے پیچھا کرنے والے دشمن کے چند فوجیوں پر پتھراؤ کرنے لگے۔ چونکہ یہ فوجی زرہ پوش تھے اور چڑھائی چڑھنے سے قاصر تھے، پھر لگا تار پتھراؤ کی وجہ سے انہیں بالآخر پیچھے ہٹتے ہی بنی۔ شام ڈھل چکی تھی اور رات کے سائے پھیل رہے تھے۔ ابو سفیان گھوڑے پر سوار احد کی پہاڑی کے قدموں میں پہنچ گیا اور چلا کر پوچھنے لگا، 'خدا کے نام پر مجھے بتاؤ، کیا محمد صلعم واقعی مر گئے ہیں؟'
عمر نے اونچی آواز میں جواب دیا، 'نہیں۔ واللہ نہیں۔ وہ اس وقت بھی تمہاری بات سن رہے ہیں۔'
'تو پھر سنو!' ابو سفیان نے پہاڑی کے قدموں میں سے چلا کر کہا۔ بجائے یہ کہ وہ مزید دھمکانے کی کوشش کرتے یا جیسے کہ توقع تھی، فتح کے نشے میں الا بلا تقریر اور غرور جھاڑتے، ابو سفیان نے سب سے پہلے ہندہ کے ہاتھوں حمزہ کے لاشے کی یوں بے حرمتی پر واضح کر دیا کہ یہ اس کے احکامات نہیں تھے۔ کہا، 'تمہارے مرنے والے ساتھیوں میں سے چند کی لاشوں کو بے حرمتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ میں نے نہ تو اس کا حکم دیا اور نہ ہی اس کام سے روکا۔ نہ تو اس عمل سے مجھے کوئی خوشی ہوئی اور نہ ہی اس کا مجھے کوئی دکھ ہے۔'
ان حالات میں، یہ تقریباً معافی کی درخواست تھی۔ ابو سفیان نے بدر کی جنگ کا انتقام لینے کا تہیہ کیا تھا اور وہ لے لیا گیا تھا۔ معاملہ نبٹ گیا تھا اور کم از کم اس دن بدلہ چکا دیا تھا۔ مزید کہا، 'جنگ کی باری تمہاری ہے۔ آج کا دن ہمارا تھا اور تمہارا دن چکا دیا گیا'۔ یوں، خود کو ابو جہل کے بر عکس قابل عزت اور غیرت مند دشمن قرار دے کر اپنی فوج کو خیمے اکھاڑنے کا حکم دیا اور مکہ کا لشکر اسی رات واپس ہو لیا۔
گو ناک اور گال کے زخم مندمل ہو گئے لیکن احد کے بعد ساری عمر محمد صلعم کو سر درد کی شکایت باقی رہی۔ بعض اوقات تو یہ درد اتنا شدید ہو جاتا کہ رفتہ رفتہ میگرین میں ڈھل گیا اور انہیں یوں ہی تکلیف میں بسر کرنی پڑی۔ ان کے پیروکاروں میں سے بھی زیادہ تر کی حالت کچھ اچھی نہیں تھی اور وہ لٹے پھٹے، کٹی ہوئی حالت میں واپس مدینہ پہنچے اور یوں اعتماد، فخر، اتحاد اور جسم پر لگے گہرے زخموں کا مداوا شروع ہوا۔ مگر باوجود اس کے، ایسا لگنے لگا تھا کہ نخلستان میں ابن ابی کی سیاسی حیثیت اور اہمیت پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ لڑائی کے برآمد ہونے والے نتائج وہی تھے جس کی اس نے پیشن گوئی کی تھی۔ صاف طور پر محمد صلعم کے فیصلے نے سب کچھ داؤ پر لگا دیا تھا۔ عام خیال یہ پیدا ہو گیا کہ مکہ کے لشکر کے ساتھ کھلے میدان میں جنگ واقعی بیوقوفی تھی اور لوگوں کو ابو سفیان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ اس نے اس صورتحال کا فائدہ نہیں اٹھایا۔ اگر وہ نخلستان میں گھس کر ہر شے کو تہس نہس کر دیتا تو اس کو روکنے والا کون تھا؟ اب عام عوام دیکھ سکتی تھی کہ مدینہ میں محمد صلعم کی بڑھتی ہوئی طاقت اور اختیار دراصل ان کے لیے نقصان کا باعث ثابت ہو سکتی ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ وہ پیغمبر تھے اور اس لحاظ سے روحانی پیشرو بھی ضرور تھے مگر ابن ابی کے خیال میں مدینہ کے لوگ یقیناً اتنے عقلمند تو ضرور ہی تھے کہ اب وہ سیاسی اختیار اور رہنمائی اس جیسے گھاگ، محتاط اور عاقل شخص کے ہاتھ میں دیکھنا چاہیں گے۔
لیکن اس خیال کے بیچ ابن ابی واضح طور پر محمد صلعم کی کئی خوبیوں میں سے ایک، سب سے خوب کا پوری طرح اندازہ لگانے میں ناکام رہا۔ وہ بھول گیا کہ محمد صلعم کسی بھی ایسی صورتحال میں، جہاں ان کی کایا پلٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہو، اپنے حق میں واپس پلٹنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔ دنیا جہاں میں کوئی بھی لیڈر فتح کو اپنے فائدے کے لیے نہایت آسانی سے استعمال کر سکتا ہے لیکن ایک ایسا رہنما جو شکست کو اپنے حق میں بدل سکتا ہو، نایاب ہوتا ہے۔ محمد صلعم اس سے پہلے جب مکہ سے زبردستی نکال دیے گئے تو اس وقت بھی ایسا ایک بار کر چکے تھے اور اب دوبارہ بھی ایسا کرنے کے قابل تھے۔ بلکہ، اس بار تو خود ابن ابی نے نادانستگی میں ایسا ہو رہنا، آسان بنا دیا۔
احد کی لڑائی کے بعد، اسی ہفتے یہ جمعہ کا دن تھا۔ مومنین مسجد میں جمع ہوئے تو ابن ابی بات کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس نے سب سے پہلے حمد و ثناء بیان کی اور پھر محمد صلعم کی ستائش کرنے لگا۔ اس کے بعد اس نے اپنے تئیں شکر ادا کیا کہ لڑائی کے دوران، زخمی ہونے کے باوجود آپ صلعم کی جان محفوظ رہی۔ لیکن پھر وہ خود کو اپنے منہ میاں مٹھو بننے سے روک نہ سکا اور مجمع کے سامنے اپنی حکمت اور پیشن گوئی کی شیخی بگھارنے لگا۔ جوش خطابت میں کہا، 'اگر میرے بھائی اس بات پر غور کر لیتے تو آج زندہ ہوتے، قتل ہونے سے بچ جاتے'۔ یہ ایک ایسا بیان تھا جو ظاہر ہے، دلوں کو جیتنے، داد رسی کرنے کی بجائے مقتولین کے وارثین کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف تھا۔ جوں ہی ابن ابی نے یہ بات کہی ، مجمع بپھر گیا۔ اس وقت مسجد کا احاطہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور وہ سبھی اس کے خلاف ہو گئے۔ ابن ابی پر ہر طرف سے آوازے کسے جانے لگے اور اس کو بزدلی اور بدترین ہونے کے طعنے دیے جانے لگے۔ 'خدا کا دشمن' لوگ چلا رہے تھے۔ 'تم یہاں کھڑے ہو کر بات کرنے کے قابل نہیں ہو۔ بالخصوص اس کے بعد تو بالکل نہیں جو تم نے کیا ہے۔۔۔ لڑائی والے دن بھی اور آج بھی جو کرتے پھر رہے ہو'۔ کئی لوگ آگے بڑھے اور اسے پکڑ کر زمین پر گرا دیا ۔
اس واقعہ کے بعد جلد ہی قرانی آیات میں ایک نیا لفظ ظاہر ہو گا۔ یہ لفظ 'منافقون' ہے۔ منافقون سے عام مراد ریاکار، مکار، دوغلا یا حیلہ باز کی لی جاتی ہے۔ قران میں یہی لفظ تریسٹھویں سورت کا عنوان بھی بن جائے گا۔ اس سورت کی ابتداء کچھ یوں ہوتی ہے، "اے نبی، جب یہ منافق تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں ، ' ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقیناً اللہ کے رسول ہیں' ہاں، اللہ جانتا ہے کہ تم ضرور اس کے رسول ہو مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جھوٹے ہیں۔" آگے مزید کہا، ' انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں۔ ' اور پھر نہ صرف ہدایت کی بلکہ اس بابت خاصی تشویش کا اظہار بھی کیا گیا ہے کہ ، 'انہیں دیکھو تو ان کے حبثے تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں، بولیں تو تم ان کی باتیں سنتے رہ جاؤ مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چن کر رکھ دیے گئے ہوں۔ ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں۔ یہ پکے دشمن ہیں۔ ان سے بچ کر رہو، اللہ کی مار ان پر، یہ کدھر الٹے پھرائے جا رہے ہیں؟'
لیکن کیا ابن ابی دشمن تھا؟ یا واقعی منافق تھا؟ گرج دار اور بھاری بھرکم الفاظ سے مزین خطابت یعنی علم انشا اور عوام الناس میں مقبول اور ہر دلعزیز بیانات پر مبنی جذباتی خطابت میں باریک دھاگے جتنا فرق ہوتا ہے۔ یہاں بھی، 'منافقون' کا ترجمہ 'منافق' یا 'دوغلے' یا 'ریا کار' یا ایسے کئی دوسرے معنی نکالنا، دراصل اس لفظ پر بوجھ لادنے کی مانند ہے۔ مفہوم کے طور پر لپیٹیں تو اس کے معنی، 'وہ لوگ جن کے تحفظات ہوں یا وہ جو پیچھے ہٹ جائیں' بنتا ہے مگر لغوی معنوں میں اس سے مراد، 'وہ جو اپنی بل میں گھس گئے' لی جاتی ہے۔ یہاں بل میں گھسنے سے مراد صحرائی چوہے کی ہے جو خوف کی حالت میں زمین کھود کر گہرائی میں گھس جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ابن ابی نے نہ تو جھوٹ بولا اور نہ ہی کبھی اسلام سے انکار کیا۔ اس نے صرف محمد صلعم کے سیاسی فیصلوں پر سوال اٹھانے کا حق استعمال کیا تھا۔ اس لحاظ سے اس نے کوئی لگی لپٹی رکھے بغیر، جیسے کہ 'منافق' کے معنی لیے جاتے ہیں کہ دوغلے پن کا مظاہرہ کیے بغیر ، کھلے عام ان نظریات کا اظہار کیا تھا، جنہیں آج جدید دور میں ہم 'ریاست اور چرچ' یعنی، 'سیاست اور مذہب' کو جدا رکھنا یا 'سیکولر ' خیالات کہتے ہیں۔
یہ نئی بندش چند لوگوں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر دے گی۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اسلام تو قبول کر لیا تھا مگر ضروری نہیں تھا کہ ان کے خیالات محمد صلعم کو عطا کردہ خدائی اختیار اور اقتدار کی دھن میں ادا کیے جانے والے ہر بیان سے تال میل رکھتے ہوں۔ یہ ایک پیغمبر اور سیاستدان میں واضح فرق قائم رکھنا چاہتے تھے مگر اب یہی فرق قرانی آیات میں بھی مٹتا، دھندلاتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ اب وہ صرف پیغمبر یا رسول نہیں تھے بلکہ واقعی نبی بنتے جا رہے تھے۔ یعنی یہ کہ اب وہ صرف 'تم میں سے ایک' نہیں تھے بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں مشیت ایزدی کے ترجمان ثابت ہو رہے تھے۔
پھر، منافقت کا الزام لگانا جیسے معمول بن گیا۔ ہر وہ شخص جو محمد صلعم کے فیصلوں پر ذرا بھر معترض ہوتا، صورتحال سے قطع نظر منافق کہلایا جاتا۔ مثال کے طور پر احد کی لڑائی میں قتل ہونے والے ایک نوجوان لڑکے کا باپ رنجیدہ رہا کرتا تھا۔ اسے کہا جاتا کہ، 'تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ تمہارا بیٹا اب جنت کے باغ میں ہے'۔ لیکن چونکہ وہ بیٹے کے مرنے پر بے آس اور نڈھال تھا، اس سے اس کی تشفی نہ ہوئی۔ سسک کر بولا، 'واللہ یہ جنت کا نہیں بلکہ غموں کا باغ ہے۔ تم نے میرے بے چارے لڑکے کو بہکایا تو وہ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اور مجھے اس کی موت پر دکھ کی چھڑی سے پیٹ رہے ہو'۔ یہ شخص بھی اب منافق کہلایا جانے لگا اور بعد اس کے لوگ اس سے احتراز برتنے اور اس پر شبہہ کرنے لگا۔ پر جوش اور تند و تیز مومنین مسجد سے ان لوگوں کو زبردستی باہر نکال دیتے جن کے ایمان پر انہیں خود اپنے ایمان سے کمتر ہونے کا گماں ہوتا۔ وہ ان سے پھر اس طرح کنارہ کش ہوتے کہ مڑ کر ان کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کرتے۔
یہ رجحان نیا نہیں تھا۔ تاریخ میں اس سے پہلے اور بعد میں بھی اس طرح کے حالات میں تقریباً ہر موقع پر ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ یعنی، شکست کے بعد صفوں میں ترتیب برقرار رکھنے کی ، غلطی تسلیم کرنے سے انکار، کسی دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے یا اپنے اندر دشمن کو تلاش لانے کی کوشش، عام بات ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ آگے چل کر اسلام میں یہ رجحان بڑھ کر بدعت، الحاد اور انحراف کے الزامات میں بدل جائے گا کیونکہ اس زمانے کے بعد سیاسی اکثریت کا طور طریقہ انہی خطوط پر رواں دواں رہا ہے۔ جیسے ایڈورڈ سعید نے اپنی ایک تصنیف میں لکھا ہے کہ، 'یہ ان لکیروں کی تاثیر ہے جو آپ اپنے اور اپنے ہم وطنوں کے بیچ کھینچ لیتے ہیں اور یوں جلا وطنی میں بسر کرنے کا سب سے بد صورت پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے۔ یعنی مبالغہ آرائی کی حد تک گروہی عصبیت اور باہر سے وارد ہونے والے غیروں کے لیے عداوت جنم لینے لگتی ہے۔ بسا اوقات یہ بیر اور مخالفت ان کے لیے بھی پیدا ہو جاتی ہے جو حقیقت میں آپ کے ہی جیسی صورتحال، حالات سے دوچار ہوتے ہیں۔ بالآخر یوں ہوتا ہے کہ ہر شخص جو خونی رشتوں میں جڑا ہوا نہیں ہے، دشمن بن جاتا ہے اور مخالفین سے ہمدردی کرنے والا ہر شخص کسی غیر دوستانہ قوت کا حامی محسوس ہوتا ہے۔ یوں اکثریتی طبقے کے لیے اپنے بنائے کلیوں سے اک ذرہ بھر بھی ہٹاؤ آخر کار انتہائی درجے کی غداری اور سر کشی قرار پاتا ہے'۔
ابن ابی کو منافق قرار دے دینا، دینی نہیں بلکہ ایک سیاسی معاملہ تھا۔ اس وقت اگر میکا ویلی ہوتا تو یقیناً ترپ کی اس چال کو ضروری قرار دیتا کیونکہ نو صدیوں بعد اس نے اپنے پشت پناہ حاکم کو تاکید کی تھی کہ، 'ہو سکتا ہے کہ چند شرفاء اور امراء شہر سوچ سمجھ کر اور اپنی بلند ہمتی کی وجہ سے خود مختار رہنے، خود کو تم سے آزاد رکھنے کی کوشش کریں گے۔ ایسے شرفاء کے سامنے ایک حکمران کے لیے اپنی حفاظت کا جس قدر ممکن ہو، سامان کرنا انتہائی ضروری ہوتا ہے ۔ ان سے ہمیشہ اس طرح شاکی رہنا کہ جیسے یہ تمہارے پکے دشمن ہیں کیونکہ وقت آنے پر، جب تم کسی مصیبت یا بیرونی بپتا سے دوچار ہو گے تو یہی تمہاری بربادی میں مدد بن جائیں گے'۔
منافق کا سرنامہ ملنے کی وجہ سے یہ معاملہ اب طول پکڑ گیا۔ اگر چہ مسجد میں زبردستی خاموش کرائے جانے کے بعد سے ابن ابی نے فاصلہ کر لیا تھا لیکن اپنے حواریوں اور قرابت داروں کے بیچ بیٹھ کر وہ گاہے بگاہے مہاجرین کے خلاف دلی آزردگی اور بغض کا اظہار کر تا رہتا تھا۔ اکثر کہتا، 'انہوں نے ہمیں نکال باہر کر دیا ہے اور ہماری ہی سرزمین پر ہمیں اقلیت بنا کر رکھ دیا ہے۔ واللہ، جب وہ مثال دیا کرتے ہیں کہ 'اپنے کتے کو پالو اور بالآخر وہ تمہیں ہی کاٹ دے گا'، ہمارے ساتھ بھی یہی ہوا ہے۔' اس صورتحال میں ابن ابی کو مکمل طور پر بے اثر کرنے کے لیے محمد صلعم کو صرف اور صرف ایک اور حتمی قدم اٹھانے کی ضرورت تھی۔
چنانچہ، آپ صلعم نے صرف مدینہ میں جاری کشمکش پر نظر گاڑھے رکھنے کی بجائے اطراف میں بھی اپنا حلقہ اثر بڑھانا شروع کر دیا۔ قریش کی رقابت میں وہ اب کی بار وسطی عرب کے علاقوں یعنی نجد میں بدو قبائل کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھا رہے تھے۔ بدو سردار عیاری سے اس ساری صورتحال کا فائدہ اٹھا رہے تھے، ایک طرف تو وہ مکہ کو ہتھیلی کے تلے رکھتے تھے، تو دوسری طرف مدینہ کے ساتھ پینگیں بڑھا رہے تھے۔ مقصد آخر کار، ایک بہتر اور منافع بخش اتحاد کا حصہ بننا تھا۔ لیکن، بدوؤں کے لیے یہ کھیل خاصا خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ بالخصوص جب مکہ اور مدینہ کے بیچ جاری چپقلش خود انہی قبائل کے اندر پھوٹ ڈلوا سکتی تھی ۔یہی، ایک قبیلے بنو عامر کے ساتھ ہوا۔
اس قبیلے کے سردار نے محمد صلعم کے ساتھ اتحاد کر کے ان سے وفاداری کا اعلان کر دیا۔ محمد صلعم نے چالیس افراد پر مشتمل ایک وفد بھیجا جس کے ذمے بنو عامر کے لوگوں میں اسلام کی تبلیغ کرنے کا کام سونپا گیا۔ لیکن سردار کا بھتیجا بجائے مدینہ، مکہ کے ساتھ اتحاد کا خواہاں تھا اور چچا کی ساکھ کو نقصان پہنچا کر خود قبیلے کا سردار بننا چاہتا تھا۔ چنانچہ، اس نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت، اپنا دامن صاف بچاتے ہوئے ایک پڑوسی قبیلے کو محمد صلعم کی جانب سے بھیجے جانے والے وفد پر گھات لگا کر حملہ کرنے پر آمادہ کر لیا جو ابھی راستے میں ہی ایک مضافاتی مقام پر پڑاؤ ڈالے بیٹھا تھا۔ یہ سازش کامیاب ہو جاتی لیکن حملے میں ایک مومن زندہ بچ گیا۔ وہ حملے کے وقت اونٹوں کو چرانے دور لے گیا تھا اور واپسی پر اس نے دور سے دیکھا کہ جس جگہ اس مختصر قافلے کا پڑاؤ تھا، وہاں گدھ منڈلا رہے ہیں۔ وہ سمجھ گیا اور وہیں سے مدینہ کی راہ لی۔ لیکن راستے میں اس نے دیکھا کہ بنو عامر کے دو قبائلی درختوں کے سائے میں سوئے پڑے ہیں۔ اسے گماں ہوا کہ شاید ان قبائلیوں کا حملہ آوروں سے تعلق تھا، اس نے غصے میں آ کر انہیں وہیں موقع پر قتل کر دیا۔
بنو عامر کے سردار نے اس مومن کے جرم کی سراسر ذمہ داری محمد صلعم پر ڈال دی۔ مومنین کا نکتہ یہ تھا کہ، 'غلطی کسی طور بھی ایک سوچی سمجھی حرکت قرار نہیں دی جا سکتی'، لیکن اب اس جواز سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا۔ اگرچہ خود محمد صلعم کے وفد کے انتالیس لوگ قتل کیے جا چکے تھے مگر اس کے باوجود آپ صلعم کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ بنو عامر کے دو مقتولین کا خون بہا ادا کریں۔ چنانچہ، 'آئین مدینہ' کے تحت انہوں نے تمام دستخط کرنے والوں کا اجلاس بلایا اور انہیں خون بہا میں حصہ ڈالنے کا حکم دیا۔ لیکن، چونکہ مدینہ کا قبیلہ بنو نضیر آئین مدینہ کے سوا بھی ایک طویل عرصے سے بنو عامر کے اتحادی چلے آ رہے تھے، محمد صلعم نے انہیں خون بہا کا دوسروں سے زیادہ حصہ ادا کرنے کا خصوصی حکم دیا۔
بنو نضیر مدینہ میں قینقاع کی بے دخلی کے بعد بچ جانے والے دو یہودی قبائل میں سے ایک تھا۔ ان کے نزدیک، محمد صلعم کا یہ فیصلہ بعید از قیاس تھا۔ وجہ یہ تھی کہ وہ 'آئین مدینہ' کے تحت خود کو مومن کی غلطی کا اتنا ہی ذمہ دار سمجھتے تھے جتنا کہ مدینہ کے دوسرے قبائل قرار پائے تھے۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ اگرچہ انہوں نے اس بابت بات چیت کے لیے ان کے یہاں بلائی گئی انہی کی سبات کونسل، یعنی ہفتے کے روز بیٹھک میں تشریف لانے والے محمد صلعم اور ان کے وفد کا نہایت خوش اخلاقی سے خیر مقدم کیا ۔ محمد صلعم کے ہمراہ وفد میں ابو بکر اور عمر بھی تھے۔ لیکن بنو نضیر کے ذہن میں کچھ اور ہی چل رہا تھا۔ ابن اسحاق کے مطابق انہوں نے اس وفد کو باہر ہی انتظار کرنے کا کہا۔ وجہ یہ بتائی کہ وہ آپس میں بیٹھ کر اس معاملے پر غور کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن در حقیقت وہ محمد صلعم کو خون بہا کی مطلوبہ مقدار ادا کرنے کی بجائے محمد صلعم کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔
اگرچہ اس طرح کی ساری ہی کہانیاں بھیدی ہوا کرتی ہیں مگر یہ عجیب بھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بنو نضیر کا پلان یہ تھا کہ وہ گاؤں کی اس دیوار کے اوپر سے ایک بھاری بھرکم پتھر لڑھکا دیں گے جس کے نیچے سائے میں محمد صلعم بیٹھے انتظار کر رہے تھے۔ واردات کے بعد وہ اس کو ایک حادثہ قرار دے دیتے۔ لیکن ان کا یہ منصوبہ آخری وقت میں چوپٹ ہو گیا جب محمد صلعم نے اچانک ہی وہاں سے بغیر کچھ کہے رخصت لی اور واپس نہیں آئے۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ ایک فرشتے نے انہیں بنو نضیر کی سازش سے پیشگی مطلع کر دیا تھا۔ لیکن، فرشتے نے بتایا یا نہیں، پھر بھی معروضی حالات میں یہ ناممکن نظر آتا ہے۔ مثلاً، سبات کونسل کی میٹنگ ابھی تک جاری تھی، پھر محمد صلعم ابوبکر اور عمر کو بھی بتائے بغیر وہاں سے چلے آئے اور انہیں خطرے سے آگاہ بھی نہیں کیا؟ اس کے علاوہ یہ بھی ناممکن نظر آتا ہے کہ ایک بھاری بھرکم پتھر ایک دم دیوار پر کیونکر چڑھایا جاتا؟ اسے عین نشانے پر لڑھکانا تو دور کی بات ہے۔ ان میں سے کچھ بھی معروضی حالات میں ممکن نہیں ہے۔ یا پھر شاید، یہ اس کہانی کے وہ مستند ٹکڑے ہیں جو اس بابت جمع کیے جا سکتے تھے تا کہ اس کے بعد پیش آنے والے واقعات، جن کا مستند حال دستیاب ہے، جواز پیدا کیا جا سکے۔ بغیر جواز کے ان واقعات کو بجا تسلیم کرنا درست نہ ہوتا۔
ایک گھنٹے کے اندر ہی محمد صلعم نے نضیر کو پیغام بھیجا، 'میرا شہر چھوڑ دو۔ میرے خلاف غداری کی سازش کرنے کے بعد میرے ساتھ بسر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔' اس پیغام کے مندرجات ہی اس وقت کے حالات اور واقعات کے ترجمان ہیں۔ مدینہ اور نہ ہی مدینہ کا پرانا نام یثرب بلکہ 'میرا شہر۔۔۔'۔ اور غداری کی سازش مدینہ نہیں بلکہ 'میرے خلاف۔۔۔'۔ یہ بیان محمد صلعم کے اختیار مطلق، غیر مشروط اور بلا شرکت غیرے اقتدار کا اعلان تھا۔ مثال یوں کہ جیسے فرانس کے' بادشاہ آفتاب'، لوئی چودہویں نے کہا تھا کہ، 'میں ریاست ہوں!'۔
محمد صلعم کا اس معاملے میں یہ حرف آخر، ایک پیغام کی صورت انصار میں سے ہی ایک مومن کے ہاتھ بھجوایا گیا جس کے اس سے پہلے تک نضیر کے ساتھ دوستانہ تعلقات رہے تھے۔ نضیر یوں ایک رفیق کے ہاتھوں ملنے والے ایسے دھمکی آمیز پیغام پر ہکا بکا رہ گئے اور اس سے پوچھا کہ آخر اس نے اس پیغام رسانی کی حامی کیونکر بھر لی؟ تو جواب ان کی علیحدگی اور ایک نئے سیاسی انتظام کے اعلان کی صورت آیا کہ، 'دل بدل گئے ہیں اور اسلام نے سارے پرانے اتحاد فسخ کر دیے ہیں'۔
اس نئی صورتحال سے نبٹنے کے لیے بنو نضیر کا اجلاس بلا لیا گیا۔ ابھی یہ اجلاس جاری تھا کہ ابن ابی نے پیغام بھجوایا اور مزاحمت پر زور دیا۔ یہ پیغام کچھ یوں تھا کہ، 'میرے ساتھ بدوؤں میں سے دو ہزار مسلح افراد تیار کھڑے ہیں اور خود میرے اپنے حامی میرے گرد جمع ہیں۔ تم رک کر مزاحمت کرو اور وہ سب اس لڑائی میں تمہارا ساتھ دیں گے۔ بنو قریظہ بھی تمہارے ساتھ ہے۔' حالانکہ بنو قریظہ، یعنی مدینہ میں یہودیوں کے دوسرے قبیلے نے ایسا کوئی پیمان نہیں باندھا تھا ، یا کم از کم بنو نضیر اس سے لاعلم تھے۔ ابن ابی کے پیغام پر قبیلے کے بزرگوں نے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ اگر یہ مزاحمت ناکام ہو جاتی ہے تو اس صورت میں شاید یہ معاملہ صرف بے دخلی کا نہیں رہے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ یعنی، 'املاک ضبط کر لیں گے، بچوں اور عورتوں کو غلام بنا لیں گے اور مردوں کو قتل کیا جا سکتا ہے'۔ مگر اس کے باوجود، بنو نضیر کی کونسل نے ابن ابی کی بات پر اعتبار کرتے ہوئے گاؤں کے مرکز میں مورچے سنبھال کر قلعہ بند ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
بنو نضیر کے اس فیصلے پر محمد صلعم کے جواب نے سب کو چونکا دیا۔ آپ صلعم نے بنو نضیر کی ملکیت میں جتنے کھجور کے باغات تھے، کاٹ دینے کا حکم دے دیا۔ عرب کے صحرا میں کسی بھی قسم کے درخت کی قدر و قیمت بڑھ کر ہوتی تھی، لیکن کھجور کے باغات کو خصوصی توجہ حاصل رہا کرتی تھی۔ ان میں سے ہر درخت کئی نسلوں کی محنت اور دیکھ بھال کی ترجمانی کرتا تھا اور کھجور کے باغات کو تباہ کرنا صرف املاک کا نہیں بلکہ تاریخ مٹانے کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ کھجور کے باغات کو 'کاٹ پھینکنے' کا حکم خاصا سوچ سمجھ کر دیا گیا تھا۔ مطلب یہ تھا کہ اس کے بعد بنو نضیر کے لیے یہاں رکنے کا کوئی جواز باقی نہیں تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ حکم ایک انتباہ بھی تھا کہ اگر انہوں نے مزاحمت جاری رکھی تو ان کا انجام بھی کھجور کے درختوں جیسا ہو سکتا تھا۔ اس طرح کے سخت حکم کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی تھا کہ اس طرح ابن ابی کی عیاری اور نا توانی بھی کھل کر سامنے آ گئی کیونکہ ابھی تک وہ اپنے وعدہ کے مطابق دو ہزار لوگوں کا لشکر مہیا نہیں کر پایا تھا۔ بنو نضیر کا محاصرہ شروع ہو گیا اور یہ تقریباً پچھلے برس قینقاع کے ساتھ پیش آنے والی صورتحال تھی۔ پندرہ دن بعد، نہ صرف پانی کی قلت پیدا ہو گئی بلکہ نضیر مدینہ میں اپنے مستقبل سے قطعی مایوس ہو گئے تو ہتھیار ڈال دیے۔ ان کے ساتھ رعایت یہ برتی گئی کہ جان بخش دی گئی مگر انہیں اپنے ساتھ صرف اتنا ہی سامان لے جانے کی اجازت دی گئی کہ جتنا تین افراد ایک اونٹ پر لاد سکتے تھے۔
لیکن اس بار وداع قینقاع کی مانند رواس پٹاس پر مبنی جلوس کی صورت نہیں بلکہ نضیر کی رخصتی مدینہ سے دھوم دھام اور فتح کی پریڈ جیسا معلوم ہو گا۔ وہ ڈھول پیٹتے اور تمبورے بجاتے، نئے چمچماتے کپڑے پہن کر اور زیورات سے لدے پھندے روانہ ہوں گے۔ ایک عینی شاہد نے آنکھوں دیکھا حال یوں بیان کیا، 'وہ اس قدر طمطراق اور شان و شوکت سے نکلے کہ زمانے میں نہ تو ان سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد کبھی کسی قبیلے نے اتنا اہتمام کیا ہو گا'۔ یہ احتجاج کا انوکھا مگر بہترین مظاہرہ تھا۔ یہ ایک انتہائی دلیر اظہار تھا کہ نخلستا ن میں صرف وہی ہیں جن کے سر ابھی بھی فخر سے بلند ہیں جبکہ مدینہ کی باقی ماندہ مقامی آبادی شرمسار ہے۔ یوں، مدینہ سے بے دخل ہو کر ان میں سے زیادہ تر شمال میں خیبر کے نخلستان اور کچھ خاندان فلسطین اور شام کی جانب نکل گئے مگر اپنے پیچھے اس نرالے انداز میں رخصت کی وجہ سے ایک لمبی بحث چھوڑ گئے۔ لوگوں کے بیچ ایک عرصے تک ان کے طریق وداع کا تذکرہ ہوتا رہا اور اس کے ساتھ جلا وطنی اور اس کی وجوہات بھی زیر بحث رہیں۔
قرانی آیات میں جلد ہی مومنین کے ہاتھوں باغات کی تباہی کے دلخراش منظر کا توڑ بھی آ گیا کہ، 'تم لوگوں نے کھجور کے جو درخت کاٹے یا جن کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا، یہ سب اللہ ہی کے اذن سے تھا اور (اللہ نے یہ اذن اس لیے دیا) تا کہ فاسقوں کو ذلیل و خوار کرے'۔ یعنی یہ مومنین کا نہیں بلکہ ابن ابی جیسے لوگوں کا قصور تھا۔ یعنی، 'تم نے دیکھا نہیں ان لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے؟ یہ اپنے کافر اہل کتاب بھائیوں سے کہتے ہیں، 'اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے' مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جھوٹے ہیں'۔ بنو نضیر کو جلا وطن کر کے محمد صلعم نے اب روز روشن کی طرح عیاں کر دیا تھا کہ وہ اپنے اختیار کے خلاف کسی بھی صورت، کوئی مزاحمت برداشت نہیں کریں گے۔ وہ ایک بار پھر ابن ابی پر اپنا فرمان لاگو کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔
لیکن آپ صلعم کے سخت مزاج پیروکاروں، جیسے عمر کے لیے یہ کافی نہیں تھا۔ چونکہ وہ جنگجو تھے انہوں نے محمد صلعم پر زور دیا کہ وہ ابن ابی کا معاملہ یہیں ختم کر دیں اور اسے قتل کرنے کا حکم جاری کریں۔ لیکن، جواب میں محمد صلعم نے عمر کو ایک سیاسی سبق سکھا دیا۔ جواب دیا، 'کیا؟ تا کہ لوگ کہیں کہ محمد صلعم اپنے ساتھیوں کا قتل عام کرتا ہے؟'۔ ابن ابی کو قتل کر کے علامت بنا دینے کے نتائج خاصے بھیانک ہو سکتے تھے۔ اگر اس کو اپنے ساتھ جوڑ کر رکھا جائے تو وہ کہیں زیادہ فائدہ مند ثابت ہو سکتا تھا۔ اسے تو گاہے بگاہے یہ یاد دلانے کی ضرورت تھی کہ اس کی حیثیت صرف ایک ماتحت کی ہے۔ بلا شبہ، پانچ سال بعد جب محمد صلعم بلا شرکت غیرے، اختیار کل کے مالک ہوں گے تو وہ عمر سے سوال کریں گے، 'اب تمہارا کیا خیال ہے؟' تو عمر جواب دیں گے کہ، 'واللہ، اگر میں اس وقت آپ صلعم کی صلاح پر ابن ابی کو قتل کرنے کا حکم جاری کر دیتا تو مدینہ کے سرداران غصے سے آگ بگولے ہو جاتے۔ لیکن آج انہیں ابن ابی کو قتل کرنے کا حکم دے دوں تو وہ خود اپنے ہاتھ سے اس کا کام تمام کر دیں گے'۔
جہاں تک بنو نضیر کی بے دخلی کا تعلق ہے تو قران کی الہامی آواز انتہائی غضب ناک انداز میں اس فیصلے کا دفاع کرتی نظر آتی ہے۔ اس سے پہلے جہاں کہا گیا تھا کہ یہودیوں کی گنی چنی تعداد ہی محمد صلعم کے الہامی پیغام کی مخالفت کرتی آئی ہے اور وہ اپنے دین کو دھوکہ دے رہے ہیں، اب اصرار یہ تھا کہ شاید یہودیوں میں صرف چند ہی لوگ ہیں جو 'واقعی یہودی' ہیں۔ اس بابت، ایک کے بعد دوسری اور پھر کئی آیات نازل ہوئیں جن سے خود محمد صلعم کے احساسات کی ترجمانی ہوتی تھی۔ قینقاع اور نضیر، دونوں کی ہی بے دخلی کو 'ظالمین' کے ساتھ ممکنہ طور پر واقعی سلوک کا حقدار قرار دے دیا گیا۔ اس ضمن میں یہ آیات جواز کے طور پر نازل ہوئیں کہ، 'وہی ہے جس نے اہل کتاب کافروں کو پہلے ہی حملے میں ان کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ تمہیں ہر گز یہ گماں نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ ان کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچا لیں گی مگر اللہ ایسے رخ سے ان پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔ اس نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کر رہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے۔ پس عبرت حاصل کرو اے دیدہ بینا رکھنے والو!'۔ یہی نہیں بلکہ اگلی آیت میں عارضی رعایت کا تذکرہ بھی ملتا ہے اور پھر سخت وعید بھی کہ، 'اگر اللہ نے ان کے حق میں جلا وطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا میں ہی وہ انہیں عذاب دے ڈالتا اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔۔'۔ یہ آیات مدینہ میں بچ جانے والے آخری یہودی قبیلے کے لیے اچھا پیغام نہیں تھا۔ ان کے لیے قینقاع اور نضیر کے برعکس ، بچ نکلنے کے تمام راستے مسدود ہو جائیں گے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر