اول المسلمین - جلا وطن - 16


اہل اقتدار کی جانچ پڑتال اور ان کے بارے گہری کھوج ساتویں صدی میں بھی اتنی ہی شدو مد سے کی جاتی تھی، جتنی کہ آج عام ہے۔ چنانچہ محمد صلعم کی نجی زندگی بھی اب ذاتی معاملہ نہیں بلکہ عوام کی دلچسپی کا سامان بن چکا تھا۔ یاد رہے، تاریخی کرداروں کی ذاتی زندگی اور معاملات بارے کوئی بھی بات اسی لیے حتمی نہیں ہوتی کہ لوگوں کی گہری دلچسپی اور متنوعی حوالہ جات کے باعث ہمیشہ ہی سہو زمانی کا احتمال باقی رہتا ہے۔ مطلب یہ کہ تاریخی لحاظ سے اس میں اشتباہ کا عنصر زیادہ ہوتا ہے۔ ویسے بھی 'پرائیویسی' کا تصور نسبتاً جدید ہے، اسی طرح شادی اور بیاہ کا صرف رومانوی جوڑ ہونا بھی آج ہی کے دور کی اختراع ہے ورنہ تاریخ کے دھارے میں تقریباً ہمیشہ سے ہی شادی در اصل مردوں کے بیچ طے پانے والا معاملہ رہا ہے۔ یہ باپ اور شوہر کی دلچسپی کا سامان ہے ۔ یہ ناطہ خاندان کو جوڑنے یا پھر اس کو مزید مستحکم کرنے کا ذریعہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ عم زادوں کے بیچ شادی بہت عام رہی ہے۔ لیکن رہنماؤں کے لیے یہ رشتہ اتحاد بنانے اور تعاون بڑھانے کا ذریعہ بھی ہے۔ شادی کے ذریعے رفیقوں اور ساتھیوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق استوار کیا جا سکتا ہے اور سابقہ دشمنوں میں چپقلش مٹا کر قریب تر لایا جا سکتا ہے۔ اس طرح سیاسی افہام و تفہیم ایک نیا درجہ پا لیتی ہے بلکہ اہم ترین ضرورت، یعنی ہم آہنگی کو تحریری شکل مل جاتی ہے۔ یہی نہیں، بلکہ شادی بیاہ کے رشتے استوار کر کے یہی تحریری اعلان ، اگلی نسلوں کے لیے اولاد کی صورت خون کے تعلق سے لکھ دیا جاتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ادھیڑ عمری کے ڈھلنے تک ایک ایسا شخص جو یک زوجگی میں ایک عمر گزار چکا تھا، اب کئی بار شادی کر لے گا۔ خدیجہ کی فوتیدگی کے صرف تین سال کے عرصے میں محمد صلعم تین بار نکاح کر چکے تھے اور ابھی چھ مزید شادیاں کریں گے۔ اواخر عمر میں کی جانے والی شادیوں میں، پہلی بیوی ایک خاموش طبیعت بیوہ تھیں جن کا نام 'سودہ' تھا۔ یہ شادی ان کے پیروکاروں کے اصرار پر طے کی گئی تھی کیونکہ وہ خدیجہ کے بعد ان کی حالت بارے خاصے متفکر تھے۔ محمد صلعم کے دیرینہ ساتھی اور قریبی دوست ابو بکر نے اپنی بیٹی عائشہ کا رشتہ پیش کیا، جسے قبول کر لیا۔ اور پھر، تا کہ یہ محسوس نہ ہو کہ وہ ابو بکر کو دوسروں پر فوقیت دیتے ہیں، بوجوہ دوسرے ساتھی عمر کی بیٹی حفصہ سے بھی نکاح کر لیا۔ حفصہ بدر کی جنگ میں بیوہ ہو چکی تھیں۔ اس طرح اب آپ صلعم کے دو قریبی ساتھی اور مشیران سسر بن چکے تھے اور دوسرے دو نوں رفیق داماد بن جائیں گے۔ بلکہ ان میں سے ایک تو ان کا دوہرا داماد ہوں گے۔ بنو امیہ کے انتہائی معتبر اور اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے عثمان نے پہلے محمد صلعم کی سب سے بڑی صاحبزادی سے شادی کی۔ ان کی ان صاحبزادی کو اسلام کا پیغام عام ہوتے ہی طلاق دے دی گئی تھی۔ احد کی لڑائی کے کچھ عرصے بعد وہ انتقال کر گئیں تو عثمان نے فوراً ہی ان کی بہن ام کلثوم سے نکاح کر لیا۔ اسی طرح، محمد صلعم نے خود اپنی مرضی سے سب سے چھوٹی بیٹی فاطمہ کی شادی اپنے چچا زاد اور تقریباً لے پالک ،علی سے کر دی۔
شادیوں کا یہ گڈ مڈ اس روایتی عرب نسبت کی جدید مغربی تعریف، جسے عرف عام میں 'نیوکلیائی خاندان' کہا جاتا ہے، پورا اترتا ہے۔ عام طور پر شجرہ نسب کی جو تعریف کی جاتی ہے وہ ایک سیدھے سادے خط جیسی ہے مگر عربوں میں شجرہ نسب کی یہ شکل اس جامع تعریف کے ساتھ مذاق معلوم ہوتا ہے۔ یہاں اس کی مثال بجائے ایک شجر، انگور کی جکڑ مکڑ بیل کے جنگل کی سی ہے۔ پھر، نسبت کے اس جنگل کی جڑیں اتنی گہری ہیں کہ یہ مستقبل میں بھی دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ محمد صلعم کے دو سسر یعنی، ابو بکر اور عمر آپ صلعم کے بعد اسلام کے رہنما بن جائیں گے اور ان میں سے ہر ایک کو 'خلیفہ' مقرر کیا جائے گا۔ ان کے بعد دونوں داماد یعنی عثمان اور علی بھی اسی مقام پر فائز کیے جائیں گے۔ یوں شادیوں کے اس بندھن میں، یعنی رشتے طے کر کے دانستہ یا غیر دانستہ، محمد صلعم در اصل اس نئی اسلامی دنیا کی قیادت کو ایک قالب میں ڈھال رہے تھے۔
لیکن اگر مندرجہ بالا نسبت اور خاندانی جوڑ توڑ کا مایا جال اور اس کا مقصد مردوں کے لیے واضح تھا تو ضروری نہیں کہ شادی کے رشتوں میں بندھنے والی عورتیں بھی اس سے واقف ہوتیں۔ بالخصوص، آپ صلعم کی سب سے کم عمر اور بے لاگ بیوی ابو بکر کی بیٹی عائشہ کو اس کا بالکل اندازہ نہیں تھا۔ جہاں اس سے پہلے محمد صلعم کی قیادت کو سیاسی حریفوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا تھا، اب ویسے ہی مسائل گھر کے اندر سے جنم لیا کریں گے۔
بلاشبہ، عائشہ نے کبھی خود کو صرف ایک سیاسی اتحاد کا ذریعہ نہیں سمجھا بلکہ وہ تو اپنے آپ کو محمد صلعم کی باقی تمام منکوحہ بیویوں سے برتر سمجھتی آئی تھیں۔ یہاں تک کہ اکثر و بیشتر ہی، تقریباً سبھی معاملات میں ان میں سے کسی کو بھی خاطر میں نہ لاتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنی ساری عمر صرف اور صرف اپنے لیے ایک استثنائی اور امتیازی حیثیت برقرار رکھنے پر زور دئیے رکھا۔ مثال کے طور پر جس عمر میں ان کی محمد صلعم سے شادی ہوئی، اسی کو لے لیں۔ وہ خود بتایا کرتیں کہ جس عمر میں یہ شادی طے ہوئی وہ چھ سال کی عمر کی ایک چھوٹی بچی تھیں اور رخصتی کے وقت عمر نو سال تھی۔ ان کی حیات میں ہی کئی لوگ تھے جو اس دعویٰ پر معترض تھے لیکن یہ بھی تو ہے کہ صرف گنے چنے افراد ہی عائشہ کی بے باک طبیعت کے باعث، ان کی بات کو رد کرنے کی جرات رکھتے تھے۔ کئی سال بعد اسلامی دنیا کے انتہائی مضبوط سیاستدان، معاویہ کہا کریں گے کہ ' ہمیشہ یہ ہوتا کہ جس معاملے کو میں چاہتا کہ بند رہے ، عائشہ اسی کو کھول دیتیں اور ایسا معاملہ جو میرے خیال میں کھلنا چاہیے، عائشہ بند رکھنے پر زور دیتیں'۔
اگر عائشہ واقعی اتنی کم عمری میں بیاہی گئی تھیں تو یہ بھی ہے کہ اسی زمانے کے کئی لوگوں نے اس پر خصوصی نظر کی ہے۔ بجائے ان کے قول، کئی لوگ روایت کرتے ہیں کہ یہ شادی نو سال کی عمر میں طے ہوئی اور رخصتی بارہ سال کی عمر میں عمل میں آئی۔ یہ قابل قبول بھی ہے کیونکہ اس وقت رسم یہی تھی کہ لڑکی کی شادی بلوغت کی عمر کو پہنچتے ہی فوراً کر دی جاتی تھی۔ لیکن پھر اس طرح، یعنی رسم کے عین مطابق بلوغت کی عمر میں شادی سے عائشہ بھی دوسری لڑکیوں کی طرح معلوم ہوتیں۔ جو ظاہر ہے، ان کے لیے قابل قبول نہیں تھا کیونکہ وہ ساری عمر اس کوشش میں رہیں کہ دوسروں سے ممتاز اور الگ نظر آئیں۔ وہ تند خو اور طرار زبان، مگر خاصی ذہین تھیں۔ خود بتایا کرتیں کہ وہ اکثر محمد صلعم پر 'تند و تیز اور کاٹ دار جملے' کس دیا کرتی تھیں، جس پر نہ صرف آپ صلعم برا نہیں مناتے تھے بلکہ اس طرح ہلکی پھلکی چوٹ لگانے سے ان کے بیچ محبت بھی بڑھ جاتی تھی۔ حالانکہ، انہی روایات کو بغور دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محمد صلعم عائشہ کو کم سنی اور لڑکی پنے فائدہ دیتے ہوئے شوخی کی کھلی چھٹی دے دیا کرتے تھے۔ یہیں ،عائشہ کا چنچل پن اور سحر بھی واضح ہوتا ہے۔
عائشہ مسحور کن اور ذہین شخصیت کی مالک رہی ہوں گی لیکن وہ چنچل اور شوخ تو ضرور ہی تھیں۔ اسی شوخی کے باعث ان کا سحر اکثر دھندلا جاتا ہو گا، یا کم از کم آج کے دور کے تناسب میں یہ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔ عائشہ کی زبانی جو واقعات روایت کیے گئے ہیں، اگرچہ ان کا مقصد تو اثر رسوخ اور زندہ دلی دکھانا مقصود ہے مگر بہر حال بسا اوقات ان تفاصیل سے ان کی شخصیت کا ایسا پہلو سامنے آتا ہے جو ایک ایسی نک چڑھی جوان عورت کا ہے جو اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی شے کو خاطر میں نہیں لاتی اور اپنی ہی منوا کر رہتی ہے۔
مثال کے طور پر یہ روایت کہ ایک دفعہ محمد صلعم نے بوجوہ ایک دوسری بیوی کے ہاں خاصا وقت گزار دیا۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے لیے وہاں 'مشروب عسل' تیار کیا گیا تھا۔ مشروب عسل یعنی شہد سے تیار کردہ ایسا میٹھا ہوتا ہے جو غالباً اس دور میں بکری کے دودھ میں انڈہ ملا کر بہت سارے شہد میں پھینٹ دیا جاتا تھا۔ محمد صلعم اس مشروب کو بہت پسند کرتے تھے۔ چونکہ عائشہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ محمد صلعم کو سانس میں بدبو سے بہت کوفت ہوتی ہے۔ اس لیے جب واپس آئے تو انہوں نے ناک سکوڑ کر منہ پھیر لیا اور پوچھا کہ وہ کیا کھا کر آئے ہیں؟ جب مشروب عسل کا بتایا تو منہ بنا کر کہا، 'جن مکھیوں نے وہ شہد بنایا تھا، یقیناً افسنتین کے کڑوے پھول کھاتی رہی ہیں'۔ وہ دیر تک یوں ہی ناپسندیدگی کا اظہار کرتی رہیں اور صلہ یہ ملا کہ اگلی بار جب محمد صلعم کو اسی بیوی کے یہاں یہی مشروب دوبارہ پیش کیا گیا تو انہوں نے پینے سے صاف انکار کر دیا اور وقت سے پہلے ہی چلے آئے۔
ایسی دوسری مثالیں بھی ہیں جن میں عائشہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر اپنی جتوایا کرتیں۔ جیسے، محمد صلعم نے ایک عیسائی قبیلے کے ساتھ معاہدہ کیا اور اس نئے اتحاد کی اہمیت کے پیش نظر، قبیلے کے سردار کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنے پر حامی بھر لی۔ سردار کی بیٹی بہت خوبصورت تھی۔ جب، وہ عورت نکاح سے پہلے مدینہ پہنچی تو عائشہ نے اس کو خوبرانہ مشورہ دیا کہ اگر وہ نکاح کی رات مزاحمت کرے تو محمد صلعم کی نظر میں اس کی قدر بڑھ جائے گی۔ اسے کہا کہ وہ ان سے کہے، 'میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں۔۔۔'۔ اس کو علم نہیں تھا کہ در اصل یہ کلمہ نکاح کو فسخ کرنے کے مترادف ہے۔ جوں ہی اس نے ایسا کہا تو محمد صلعم چونک گئے اور فوراً ہی وہاں سے چلے گئے۔ اگلے ہی دن سردار کی بیٹی کو واپس بھجوا دیا گیا۔
اس صورتحال میں، جب وہ اس قدر بے باک، شوخ اور نتائج سے بے پرواہ ہوا کرتی تھیں تو یہ بات یقینی تھی کہ جلد ہی، جب 'گمشدہ ہار کا واقعہ' پیش آئے گا تو عائشہ اس قضیے کے عین مرکز میں، پھنس کر رہ جائیں گی۔ کئی لوگوں کو کسر نکالنے کا موقع مل جائے گا۔
اگرچہ یہ صرف ایک عام ہار نہیں تھا لیکن ظاہر ہے، کوئی بھی ایسا سوچ سکتا ہے۔ یہ ایک دھاگے میں پروئے ہوئے چند منکے تھے۔ عقیق، شاید مرجان یا پھر صرف سمندری سیپیاں تھیں۔ عائشہ نے اس بابت کچھ نہیں کہا اور اگر پوچھا بھی تو ہاتھ کو لہرا کر ٹوک دیتیں کہ ان کے خیال میں یہ تفصیل غیر اہم تھی۔ بہرحال، یوں کہہ لیجیے کہ یہ ایک ایسا ہار تھا جو لڑکیاں پہنا کرتی ہیں لیکن اس ہار کی قیمت پروئے ہوئے ہیروں کے ہار سے بھی زیادہ تھی کیونکہ یہ ہار محمد صلعم نے عائشہ کو شادی کا تحفہ دیا تھا۔
ہار ایک سفر سے واپسی کے دوران گم ہو گیا۔ شمال میں ایک بڑے بدو قبیلے مصطلق کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک وفد گیا۔ عام طور پر جب محمد صلعم خود ایسے وفود، جو سفارتی اور جنگی دونوں ہی طرح کے ہتھیاروں سے لیس ہوا کرتے تھے، سربراہی کرتے تو سفر پر اپنے ساتھ کسی ایک بیوی کو بھی ساتھ لے جاتے۔ ایسی مہمات پر جانے کے لیے عائشہ ہمیشہ ہی تیار رہتیں۔ وجہ یہ تھی کہ سفر ایک زندہ دل اور پر شوخ جوان عمر لڑکی کے لیے شغل اور ہر بار نیا تجربہ ہو سکتا ہے۔ آخر، ہودج یعنی اونٹ کی پشت پر کاٹھی پر چھتری سے ڈھکی ہوئی اونچی نشست پر بیٹھے سفر میں ارد گرد کا مشاہدہ خاصا دلچسپ مشغلہ رہا کرتا ہو گا۔ وہ دیکھتی ہوں گی کہ شمال کے لق و دق میدانوں میں دور دور تک گھوڑوں اور اونٹوں کے ریوڑ چرتے نظر آ رہے ہیں۔ خیبر اور فدک کے ہرے بھرے نخلستانوں میں کھجور کے وسیع باغات جیسے گھیرے دار وادیوں میں زمرد اور سبزہ کے موتی بکھرے ہوں۔ اسی طرح جا بجا، دور دراز علاقوں کے سخت جان بدو جنگجو جو اسلحے سے لیس، سر پٹ گھوڑوں اور اونٹوں پر گھومتے پھرتے رہتے۔ یہ مناظر کسی بھی شہری لڑکی کے لیے خاصے رومانوی اور دلپذیر ہو سکتے ہیں۔ اور پھر، جب مذاکرات ناکام ہوئے تو لڑائی شروع ہو گئی۔ ایسے میں، عائشہ کے لیے اپنے قافلے کے مردوں کو چیخ چیخ کر لڑائی اور جرات پر اکسانے کا تجربہ کیسا رہا ہو گا؟
بہرحال، اس جھڑپ میں محمد صلعم اور ان کے حامیوں کو بنو مصطلق پر سبقت حاصل ہو گئی۔ لڑائی میں کئی جنگی قیدی ہاتھ آئے تھے، جن میں سے اکثر کو تاوان لے کر چھوڑ دیا اور جو باقی تھے، غلام بنا لیا گیا۔ بعد اس کے، اس مختصر لشکر نے رات کے اندھیرے میں ہی واپسی کا سفر اختیار کیا۔ رات میں سفر کا مقصد یہ تھا کہ دن میں سورج میں تپتے دن کے چڑھنے سے پہلے، جب سحری سے پہلے صحرا کی ریت ٹھنڈی ہوتی ہے، کافی فاصلہ طے کر لیں۔ روانگی سے قبل جہاں خیمے نصب تھے، عائشہ رفع حاجت کے لیے اس جگہ سے تھوڑی دور، صحرائی جھاڑیوں کی اوٹ میں چلی گئیں۔ جب واپس آئیں تو قافلہ روانگی کے لیے تیار تھا۔ وہ اپنے اونٹ کی پشت پر نصب ہودج میں بیٹھ گئیں۔ یہاں، انہیں احساس ہوا کہ ان کے گلے میں ہار نہیں ہے۔ شاید کسی جھاڑی میں اٹک کر ٹوٹ گیا تھا اور منکے بکھر گئے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ اگر وہ اس بابت جلدی سے کام لیں اور واپس جا کر ڈھونڈیں تو کھویا ہوا ہار واپس مل سکتا ہے۔ وہ کسی سے کچھ کہے، بتائے بغیر ہی ہودج سے نیچے اتریں اور واپس جھاڑیوں کی طرف چل پڑیں۔
اگرچہ اس بابت انہوں نے خاصی پھرتی دکھائی اور انہیں قافلے کی روانگی کا بھی احساس تھا، وہ اندازے سے مطلوبہ جگہ ڈھونڈنے لگیں۔ ببول کی ساری جھاڑیاں ایک سی تھیں اور سحر کی مدہم روشنی میں یہ کام اور بھی مشکل ہو گیا تھا۔ پھر جب انہیں مطلوبہ جگہ مل گئی تو ریت کو ٹٹولنے لگیں۔ لیکن صحرا کی ریت میں ایک کے بعد دوسرا منکا تلاشتے انہیں کافی دیر لگ گئی۔ جب سارے منکے مل گئے تو ایک دھاگے میں پرو کر گلے میں ڈال دیا اور واپس ہو لیں۔ لیکن، جب تک وہ واپس آئیں تو کیا دیکھتی ہیں کہ قافلے کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ خدام اور قافلے کے لوگوں نے گماں کیا کہ عائشہ ہودج کے شامیانے میں بیٹھ چکی ہیں، یوں ہی روانہ ہو گئے۔
صحرا میں شارع عام کے طور پر استعمال ہونے والے ریتلے راستے وقت گزرنے کے ساتھ پختہ ہوتے چلے جاتے ہیں اور باقاعدہ روٹ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسی شاہراہوں پر لدے پھندے اونٹ نسبتاً دھیرے مگر خاصی سہولت کے ساتھ رواں رہتے ہیں۔ اگر عائشہ چاہتیں تو صبح کے اوقات میں، جب ہوا خنک اور ریت ٹھنڈی ہوتی ہے، ایک گھنٹے کے اندر قافلے کو جا پہنچتیں۔ لیکن ان کے اپنے الفاظ میں، 'میں نے اپنے آپ کو چادر میں لپیٹ لیا اور وہیں ریت پر لیٹ گئی۔ میں جانتی تھی کہ جب وہ مجھے قافلے کے ساتھ نہیں پائیں گے تو یقیناً تلاشتے ہوئے واپس یہیں آئیں گے'۔ صحرا جیسی مشکل جگہ پر بچاؤ کی یہ سوچ بھی درست تھی۔
یہ خلاف قیاس تھا کہ قافلے میں عائشہ کی غیر موجودگی محسوس نہیں کی جائے گی۔ پھر، یہ بھی سوچ سے باہر تھا کہ جب وہ انہیں ساتھ نہیں پائیں گے تو یوں ہی رواں دواں رہیں گے۔ وہ انہیں تلاش کرنے ضرور آئیں گے۔ وہ اسی کشمکش میں تھیں کہ سورج چڑھ آیا اور گرمی بڑھنے لگی۔ انہوں نے کیکر کے ایک درخت کے سائے تلے پناہ لی اور انہی سوچوں میں پریشاں رہیں۔ یقیناً، وہ جان لیں گے اور جب وہ جان لیں گے تو کوئی نہ کوئی انہیں لینے ضرور آئے گا۔ ویسے بھی، ان کا یوں قافلے کے پیچھے جانا مناسب نہیں تھا۔ وہ محمد صلعم کی پسندیدہ ترین بیوی تھیں، کیا وہ قافلے کے اونٹوں کے پیچھے ایک بدو، چرواہوں کی لڑکی کی مانند بھاگتی ہوئی اچھی لگتیں؟
لیکن، کافی دیر کے بعد بھی ان کو تلاشنے کوئی نہیں آیا کیونکہ قافلے کے لوگوں کو علم ہی نہیں تھا کہ عائشہ غائب ہیں۔ یہاں تک کہ قافلہ مدینہ بھی پہنچ گیا۔ وہاں بھی، کسی نے ان کی غیر موجودگی کو محسوس نہیں کیا۔ آمد کے شور و غل میں، جب اونٹوں پر سے سامان اتارا جا رہا تھا، اتنی بڑی مہم کے بعد واپسی پر لوگ ایک دوسرے کا خیر مقدم کرنے میں مشغول تھے اور جنگی قیدیوں اور غلاموں کو سنبھالا جا رہا تھا۔ ایسے میں، عائشہ کی غیر موجودگی کو کسی نے محسوس نہیں کیا۔ خیال یہ تھا کہ وہ ہودج سے اتر کر پہلے ہی گھر چلی گئی ہیں یا شاید وہیں، کہیں ہیں۔ یہ عائشہ کی خوش قسمتی تھی یا ایک لحاظ سے بد قسمتی کہیے کہ انصار میں سے ایک جنگجو جسے روانگی میں دیر ہو گئی تھی، اب اکیلا ہی دن کے وقت تپتی دھوپ میں مدینہ کے لیے روانہ ہوا تھا۔ راستے میں اس نے عائشہ کو کیکر کے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا پایا۔ اس کا نام صفوان تھا اور بعد ازاں عائشہ نے اپنے سر کی قسم اٹھا کر بتایا کہ اس نے انہیں دیکھ کر پہچان لیا اور نہایت احترام اور بانک پن سے اونٹ سے نیچے اتر آیا اور صحرا کی سی پاکیزگی اور عزت کے ساتھ انہیں اونٹ پر بیٹھنے میں مدد کی۔ پھر اس نے مدینہ تک اونٹ کی مہار تھامے، بیس میل کا سفر پیدل طے کیا۔ جب وہ شام کے وقت مدینہ پہنچیں تو لوگوں نے بھی یہی دیکھا کہ وہ اونٹ پر سوار ہیں اور اونٹ کی مہار تھامے صفوان آگے پیدل چل رہا ہے۔
یقیناً عائشہ نے تاڑ لیا ہو گا کہ اس وقت لوگ انہیں کیسی نظروں سے دیکھ رہے تھے اور بجائے آگے بڑھ کر ان کا خیر مقدم کرتے، پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھے جا سکتے تھے۔ ان میں سے کسی نے آگے بڑھ کر شکر ادا نہیں کیا کہ وہ محفوظ رہیں اور خیر و خیریت سے واپس پہنچ آئیں۔ بلکہ، وہ سب تو انہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ وہ چاہے صفوان کے اونٹ پر اضطراب کی حالت میں بھی جس قدر سیدھا بیٹھنے کی کوشش کر لیں یا سر کو اونچا رکھنے کی سعی کر لیں، یا پھر اپنی غصہ ناک نظر سے لوگوں کو ان کی حیثیت یاد دلائیں، اب بے سود تھا۔ لوگ سرگوشیاں کر رہے تھے اور کھسر پھسر ہو رہی تھی۔ وہ یقیناً سمجھ گئی ہوں گی کہ یہ کیا کھچڑی پکائی جا رہی ہے۔ محمد صلعم کی سب سے لاڈلی بیوی تن تنہا ایک جوان مرد کے اونٹ پر سوار مدینہ کے بازاروں میں سے گزر رہی تھی اور وہ جنگجو اونٹ کی مہار کھینچ رہا تھا؟ یہ خبر منہ در منہ، ایک گھر سے دوسرے اور گاؤں، گاؤں پھیل گئی۔ لوگ کٹ کٹ کر رہے تھے کہ ہار کی گمشدگی تو ایک بہانہ ہے۔ ایک مرد کے ساتھ دن بھر صحرا میں مٹر گشت سے کیا مراد ہے؟ جب وہ پیدل ہی قافلے تک ایک گھنٹے کے اندر پہنچ سکتی تھیں، تو پھر وہیں بیٹھی انتظار کیوں کرتی رہیں؟ کیا ان کی آپس میں یہ پہلے سے طے شدہ ملاقات تھی؟ کیا محمد صلعم کو اپنی سب سے پسندیدہ اور شوخ، زندہ دل بیوی نے دھوکہ دے دیا ہے؟ لوگ تھے کہ ان کی زبانیں قابو میں نہیں آ رہی تھیں۔ اس بابت گماں اور تہمتوں کو روک لگانا ناممکن ہو گیا۔
اب یہ بات کوئی معنی نہیں رکھتی تھی کہ اس سارے معاملے کی حقیقت کیا تھی۔ جیسے آج، ویسے ہی تب بھی جب ایک بار اس طرح کے الزامات کا جن ایک بار بوتل سے نکل آئے تو پھر اس کو واپس بند کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ لیکن یہاں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اہم لوگوں بارے ایسے معاملات، الزام تراشی اور یوں بدنامی سیاسی منظر نامے پر خوب اثر انداز ہوا کرتی ہے۔ عائشہ اور صفوان کے بیچ کیا ہوا یا نہیں ہوا، یہ اہم نہیں رہا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی کے مدینہ میں بھی وہی ہوا جو آج بھی دنیا بھر کے کسی بھی شہر میں ہو سکتا ہے، یعنی جنسی بے راہ روی کا صرف الزام دھر کر کسی بھی سیاستدان کو منہ کے بل گرایا جا سکتا ہے۔ یہ حربہ، ہمیشہ سے یوں ہی استعمال میں لایا گیا ہے۔ جلد ہی مدینہ کا نخلستان اس بابت الزام تراشی، حقارت، لعن طعن اور بد مزہ مباحثوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ کنوؤں پر اور کھیت کھلیانوں میں، کھجور کے باغات اور قصبات کے سرائے گھروں، بازاروں اور اصطبلوں۔۔۔ یہاں تک کہ مسجد میں بھی لوگ مزے لے لے کر باتیں بنانے لگے۔
اس دوران محمد صلعم نے عائشہ کی پاکیزگی پر ایک لمحے کے لیے بھی شک نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے اپنے تئیں پوری کوشش کر لی کہ اس معاملے کو یکسر نظر انداز کر دیا جائے لیکن چونکہ دن بدن یہ بات بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی اور اسی وجہ سے آپ صلعم کے اختیار پر گہرا اثر پڑ رہا تھا۔ چنانچہ، مناسب یہی سمجھا کہ اس بابت کوئی فیصلہ لینے تک عائشہ کو میکے بھیج دیا جائے۔ لیکن، یہ بھی سچ تھا کہ ان کی پسندیدہ، شوخ، چنچل اور ذہین بیوی کی لا پرواہی نے انہیں دو دھاری تلوار کی نوک پر لا کھڑا کیا تھا۔ جیسا کہ علی نے انہیں مشورہ دیا تھا، اگر وہ عائشہ کو طلاق دے دیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نکالا جائے گا کہ عائشہ نے واقعی انہیں دھوکہ دیا ہے۔ دوسری طرف، اگر وہ عائشہ کا ساتھ دیتے ہیں تو لوگوں کی زبانوں کو کون روکے گا؟ وہ کہتے پھریں گے کہ ایک عمر رسیدہ شخص کو اس کی کم عمر بیوی نے چھل دے دیا۔ ہر دو صورت، چاہے وہ کوئی بھی فیصلہ کر لیں، ان کے اختیار اور ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنا یقینی تھا۔ خود ان کی اپنی ساکھ کیا، اسلام کے الہامی پیغام کی حرمت بھی داؤ پر لگ جاتی۔ یہ بات سننے میں عجیب اور ناقابل یقین لگتی ہے مگر صورتحال واقعی یہ بن چکی تھی کہ اس نئے دین کا مستقبل ایک نو عمر لڑکی کی عزت اور عفت پر ٹنگا ہوا تھا۔
زندگی میں پہلی بار، عائشہ کی ایک بھی نہیں سنی جائے گی۔ جیسے ابن اسحاق نے لکھا ہے، 'انہوں نے بہتیری کوشش کی، سب کچھ کہہ دیا' ، لیکن اب ان کے کچھ بھی کہے سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا۔ وہ طیش میں آ کر برہم ہو جاتیں، ان کا گھمنڈ چور چور ہو جاتا اور تہمت لگانے والوں کو کوسنے دیتے پھٹ پڑتیں ۔ وہ کچھ بھی کر لیں، اب ہر چیز بے اثر ہو چکی تھی۔ کئی سال بعد بھی وہ ان دنوں کو یاد کر کے کانپ جایا کرتیں اور ساتھ گلہ کرتیں کہ لوگ جانتے بوجھتے کہ صفوان نامرد ہے، الزام تراشی سے باز نہیں آئے۔ لیکن یہ ایسا دعوی ہے جس کو رد کرنے کے لیے تب صفوان زندہ نہیں تھا۔ وہ ایک لڑائی میں مارا گیا تھا۔ ایسی کیفیت میں، دنیا بھر میں کوئی بھی کم عمر لڑکی ہو، عائشہ بھی جب کچھ نہ بن پڑتا تو رونے لگتیں۔ روایت میں اس بابت کئی مثالیں ہیں اور حد سے زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لے کر استعارے استعمال میں لاتے، اس کیفیت کو بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ایسی صورتحال میں سمجھ بھی آتا ہے۔ جیسے، خود عائشہ سے منسوب یہ بیان ہے کہ، 'میں خود کو رونے سے روک نہیں پاتی تھی۔۔۔ میں ہر وقت روتی رہتی، یہاں تک کہ مجھے لگتا کہ شاید رونے سے میرا جگر پھٹ جائے گا'۔
عائشہ کو در پیش یہ صورتحال اور بھی بدتر اس لیے تھی کہ محمد صلعم سے شادی کو چار سال ہونے کو آئے تھے اور ابھی تک ان کے یہاں اولاد نہیں تھی۔ در حقیقت، خدیجہ کے وصال کے بعد اب تک انہوں نے جتنی شادیاں کی تھیں، کوئی اولاد نہیں تھی۔ اولاد کے نہ ہونے، بالخصوص اولاد نرینہ کے بغیر بات اور بھی بگڑ گئی، کچھ اور ہی رخ اختیار کر گئی۔ اب ایک نیا مسئلہ بھی زیر بحث رہنے لگا۔ وہ یہ کہ، آپ صلعم نے متعدد بار نکاح کیا۔ ان شادیوں کا مقصد صرف اور صرف امہ کو یکجا کرنا تھا۔ مومنین اور اتحادیوں کو جوڑ کر رکھنا تھا، لیکن یہ تعلقات اور اتحاد صرف اور صرف اولاد سے پختہ ہو سکتے تھے۔ نیا خون ہی در اصل جوڑ کی نئی سمتوں کی بنیاد بن سکتا تھا اور پرانی رقابتوں، تقسیم کو مٹا سکتا تھا۔ ویسے بھی، اولاد کے بغیر شادی کا کیا مقصد رہ جاتا ہے؟
یقیناً خدیجہ کے بعد تمام بیویوں نے اپنے تئیں محمد صلعم کی اولاد حاصل کرنے کی اپنی سی بہتیری کوشش کی ہو گی۔ اگر ان میں سے کسی کے یہاں بھی محمد صلعم کی اولاد جنم لیتی تو اسے دوسری تمام بیویوں پر فوقیت حاصل ہو جاتی۔ بالخصوص، یہ اولاد اگر لڑکا ہوتا تو وہ آپ صلعم کا جائز جانشین ہوتا۔ چنانچہ، اس بابت کوئی شک نہیں کہ ان میں سے ہر ایک نے، بالخصوص عائشہ نے بھی ہر ممکن کوشش کی تھی۔ وہ اس بات پر بھی نالاں تھیں، اکثر حسد کرتیں کہ محمد صلعم کی توجہ کا مرکز اسی وجہ سے ان کے نواسے ہیں، جو خدیجہ کے بھی نواسے تھے۔ یہ دو لڑکے حسن اور حسین ، علی اور فاطمہ کے فرزندان تھے۔ محمد صلعم شاذ و نادر ہی کھل کر ہنسا کرتے تھے، مگر اب تو یہ حال تھا کہ وہ صرف اپنے نواسوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہی کھل کھلاتے تھے۔ روایات میں ان کی حسن اور حسین کے ساتھ انسیت اور قربت کی کئی مثالیں مل جاتی ہیں۔ آپ صلعم کی ایسی شبیہ بنتی ہوئی دکھائی دیتی ہے جس میں ایک خوش قسمت اور لاڈ پیار کرنے والا نانا اپنے نواسوں کو فخر سے گود میں اٹھائے بیٹھا ہے۔ ان کے بیچ اتنی قربت ہے کہ محمد صلعم جیسا معتبر شخص چاروں شانے چت پڑا ہے اور دو بچے اس پر لوٹ رہے ہیں۔ وہ ہاتھ اور گھٹنے زمین پر ٹکائے، چوپایا بن کر انہیں سواری کرا رہا ہے اور جب مسجد میں عبادت کے دوران سجدے کے لیے جھکتا ہے تو یہ بچے بے اختیار دوڑ کر پیٹھ پر سوار ہو رہتے ہیں اور وہ دیر تک یوں ہی جھک کر وہیں سجدے میں پڑا رہتا ہے۔ آہستہ آہستہ عائشہ کے اندر یہ خوف جم کر بیٹھ گیا کہ وقت کے ساتھ آپ صلعم کی زندگی کی اصل خوشی وہ نہیں بلکہ یہ دو لڑکے، حسن اور حسین ہیں۔
محمد صلعم کا اس عمر میں لا ولد رہنا اور کئی سال پہلے خدیجہ کی رفاقت میں چار بیٹیوں اور ایک بیٹے کی پیدائش کے حالات میں خاصا فرق ہے۔ آپ صلعم کے یہاں پیدا ہونے والا واحد لڑکا، فرزند قاسم نو مولود ہی چل بسا تھا۔ مراد یہ ہے کہ محمد صلعم کے یہاں اولاد پہلے سے تھی۔ اسی طرح عائشہ کے سوا آپ صلعم کی ساری ہی منکوحہ بیویاں، نکاح سے پہلے بیوہ یا طلاق یافتہ تھیں۔ ان کے یہاں بھی سابقہ شوہروں سے اولاد تھی۔ یوں، ان کا بھی تولیدی لحاظ سے غیر زرخیز ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اس لحاظ سے کثیر الازواج ہونے کے بعد بھی لا ولد رہنے کی وجہ سے مغربی دنیا میں جو محمد صلعم کا منفی ازدواجی تصور پیش کیا جاتا ہے، زیادتی ہے۔ محمد صلعم خدیجہ کے بعد تمام عمر خود سے کیے مجرد رہنے کے عہد پر قائم رہے۔ یا اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ساتویں صدی عیسوی میں پچاس یا پچپن سال کی عمر آج کے مقابلے میں خاصی طویل سمجھی جاتی تھی۔ اس وقت، یہ بڑھاپا شمار ہوتا تھا۔ یعنی، اس عمر میں شہوت باقی نہیں رہتی یا جنسی قابلیت کا کم ہو جانا بھی عین ممکن ہے۔ لیکن، ان عضویاتی حقائق کے باوجود، آنے والی کئی صدیوں میں اسلامی علماء اور جید سکالر ایک دوسری توجیہہ پیش کرتے، بلکہ اسی پر اصرار کرتے نظر آئیں گے۔ وہ کہا کریں گے کہ در اصل بعد کی تمام شادیوں کے باوجود محمد صلعم کا لا ولد رہنا الہام کی قیمت ہے۔ چونکہ، قران خدا کی جانب سے نازل کیا جانے والا جامع اور حرف آخر ہے۔ محمد صلعم کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ یوں، پیغمبر کے بطن سے اولاد نرینہ پیدا ہونا قدرتی طور پر، خدا کے حکم پر ممکن نہیں تھا۔ جیسا کہ عام طور پر ہر جگہ علمائے دین ، ہر معاملے میں کچھ نہ کچھ حکمت ڈھونڈ ہی لاتے ہیں، جیسے تب ویسے ہی آج بھی کہا کرتے ہیں کہ ایک ایسا شخص جس پر الہام نازل ہوا، اس کو اتنا بڑا رتبہ عطا کیا گیا ہو، اس کے لیے یہ اولاد اور اولاد نرینہ جیسے روزمرہ زندگی کے معاملات بے معنی ہو جاتے ہیں۔
عائشہ کے یہاں اولاد نہ ہونے کی جو بھی وجہ رہی ہو، انہیں یہ دکھ اندر ہی اندر گھن کی طرح کھائے جا رہا تھا۔ وہ چاہے جس قدر شوخ اور چنچل ہوں، محمد صلعم کے ساتھ شرارت، چھیڑ چھاڑ کر کے ان کا دل بہلا لیں۔ انہیں وہ نہیں دے سکتی تھیں جو آپ صلعم کو خدیجہ سے میسر آیا تھا۔ عائشہ بھلے خدیجہ کے بعد آنے والی تمام بیویوں میں محمد صلعم کی پسندیدہ ترین ہوں لیکن وہ جتنی بھی سعی کر لیں، خدیجہ کی یاد کو محو نہیں کر سکتی تھیں۔ تب ہی، جھنجھلا جاتیں اور ا ن کے بارے یہاں تک کہہ دیا کہ، 'وہ پوپلے منہ والی بوڑھی عورت جس کو خدا نے بہتر سے بدل دیا'۔ تس پر محمد صلعم نے انہیں ٹوک دیا تھا۔ یہی نہیں، بلکہ اب تو خدیجہ کے بعد، ان کے نواسے بھی محمد صلعم کے نور نظر بن چکے تھے۔ اور اب، جب کہ یہ نیا قضیہ شروع ہو چکا تھا، عائشہ پہلے سے بھی کہیں بڑھ کر غیر محفوظ ہو گئیں۔ محرومی کا احساس چوگنا ہو گیا۔ وہ اس معاشرے میں، جہاں مامتا سے محروم ہونا تقریباً گناہ سمجھا جاتا ہو اور اب اسی سفاک معاشرے میں عزت اور عفت بھی یوں داؤ پر لگ جائے تو عائشہ کے لیے حالات بدترین رخ اختیار کر چکے تھے۔ ایسی صورتحال میں ان کے لیے المیہ یہ تھا کہ ، ان کا مقام اور رتبہ ختم ہو کر رہ جاتا۔
اس سارے قضیے، جس کو عام طور پر 'ہار کا ماجرا' کہا جاتا ہے، اس کے حل کا صرف اور صرف ایک طریقہ تھا۔ یعنی، اس بابت انسانوں سے کہیں بڑی ذات کی جانب سے کوئی الہام نازل ہوتا، جو ہو بھی گیا۔ اگرچہ عائشہ نے محمد صلعم کو اپنی پاک دامنی کا یقین دلانے کے لیے ہر طرح کی قسم اٹھا لی تھی، لیکن محمد صلعم کے لیے دین کی حرمت برقرار رکھنے کے لیے ضروری تھا کہ وہ الہامی آواز سے رجوع کرتے۔ چنانچہ، وہ مراقبہ میں چلے گئے اور خدا سے مدد چاہی۔ تھوڑی ہی دیر میں ان پر نزول وحی کی کیفیت طاری ہو گئی۔ عائشہ بتاتی ہیں، 'جب وہ وحی کے نزول کے بعد سنبھلے تو ان کو اس قدر پسینہ آ رہا تھا کہ جیسے سرما میں بارش برستی ہے۔ آپ صلعم نے پیشانی سے پسینہ پونچھا اور مجھ سے کہنے لگے، 'مبارک ہو عائشہ! اللہ نے تمہاری پاک دامنی کی گواہی دی ہے'۔
اس بابت قرانی آیات میں واضح کر دیا گیا کہ عائشہ پر تہمت لگائی گئی ہے۔ کئی آیات میں پھیلی تفصیلات سے روشنی ڈالی گئی اور جو کہا گیا، اس میں چیدہ یہ تھا ، 'جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں، اور انہیں سزا مل کر رہے گی'۔ اسی طرح، ' لیکن جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا، اسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گماں کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟' آگے چل کر پوچھا گیا، 'جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی'۔ جھڑکنے کی طرح کہا، 'کیوں نہ اسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ، 'ہمیں ایسی بات زبان زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سبحان اللہ، یہ تو ایک بہتان عظیم ہے؟' اور پھر نصیحت کی، 'آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا ،اگر تم مومن ہو!'۔
انہی آیات میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر تہمت لگانے والے سچے تھے تو پھر انہیں اس گھناؤنے الزام کو ثابت کرنے کے لیے چار گواہ پیش کرنے چاہیے تھے۔ گواہوں کا نہ ہونا بھی در اصل ان کے جھوٹے بہتان کا ثبوت ہے۔ یوں نہ صرف عائشہ کو چھٹکارا مل گیا بلکہ خود خدا کی آواز ان کے لیے ایک نہیں، دو نہیں بلکہ چار چار لوگوں کی گواہی کا تقاضا کر رہی تھی۔ پہلے تو بہتان کا نشانہ بننے اور پھر اس پر ہراساں کیے جانے والی کسی بھی عورت کے لیے اس سے بہتر فیصلہ کوئی نہیں ہو سکتا۔ پھر عائشہ کی عزت ، حرمت اور عفت کو خدا کی پر زور تائید اور پشت پناہی مل چکی تھی اور وہ لوگ جنہوں نے افواہیں پھیلائی تھیں، الزام تراشی کی تھی اور تہمت لگائی تھی بری طرح پٹ چکے تھے۔ لیکن، اس معاملے کا یوں طے ہونا بلاشبہ عائشہ کے لیے خاصا اطمینان بخش تھا، مگر تب سے آج تک ان کے ہی جیسی صورتحال سے دوچار باقی عورتوں کے لیے یہ خدائی گواہی، انسانوں کے ہاتھوں میں تشریحات کی مٹی میں رل کر کچھ اتنی اچھی ثابت نہیں ہوئی۔
یہ آیات ، جن کے ذریعے عائشہ کی پاکدامنی ثابت ہوئی تھی، بعد ازاں قدامت پسند اسلامی عالمین کے ہاتھوں اس کے انتہائی مختلف مفہوم بر آمد ہوں گے۔ یہی آیات یوں استعمال کی جائیں گی جو ان کے اصل مقصد کے سر اسر منافی ہے۔ یعنی ان آیات کے ذریعے عورتوں کو بجائے تحفظ دیا کریں، مجرم ٹھہرایا جائے گا۔ زنا بالرضا اور زنا بالجبر کو خلط ملط کر کے، یہ جواز پیش کیا جائے گا کہ ہر دو صورت ایسا کوئی بھی الزام ، اگر عورت چار گواہوں کو پیش کرے، تو ہی قابل قبول ہو گا۔ ظاہر ہے، کسی بھی عورت کے لیے یہ شرط پوری کرنا ممکن نہیں ہے۔ چونکہ وہ ایسا نہیں کر سکتی تو پھر دوسری صورت میں بھی اسی کو مورد الزام ٹھہرایا جائے گا۔ یعنی، مبینہ طور پر عصمت دری کرنے والا مرد با عزت بری کر دیا جائے گا لیکن الزام لگانے والی عورت یا کئی صورتوں میں مرد پر بھی نہ صرف بہتان باندھنے بلکہ بد کاری کا بھی الزام پکا سمجھ کر مجرم ٹھہرایا جائے گا، کیونکہ اس نے اپنے منہ سے غیر ازدواجی، غیر اخلاقی، بد کاری اور حرام کاری پر مبنی افعال کا اعتراف کر لیا ہے۔ باوجود ہر شے، آج اس بابت گرما گرم مذہبی مباحثوں اور دنیا بھر میں جاری غیرت کے نام پر مکالمے سے قطع نظر، ستم ظریفی یہ ہے کہ عائشہ، یعنی ایک عورت کی بریت اور تحفظ کا باعث بننے والی قرانی آیات کو ان کے بعد عجب، اصل روح کے منافی، الٹ انداز میں تضحیک، خاموش کرانے کے حربے کے طور پر اور عورتوں کے قتل کی بنیاد بنا دیا گیا ہے۔
بہرحال، اس دور میں واپس جائیے تو خود عائشہ بھی قران کی گواہی کے نتیجے میں حاصل ہونے والی اس شادمان فتح کا دیر تک اثر قائم نہ رکھ پائیں۔ وہ اب تک خدیجہ کے سوا آپ صلعم کی باقی تمام بیویوں سے عمومی حسد اور جلن کو ایک حد میں رکھتی آئی تھیں۔ اس کی عمومی وجوہات تھیں جو سمجھ بھی آتی ہیں، یعنی ان کا تقابل نہیں تھا۔ جیسے، عمر کی بیٹی حفصہ ظاہری خوبصورتی کی بجائے ذہانت کی وجہ سے جانی جاتی تھیں۔ (بعض روایات کے مطابق انہوں نے قران کی طباعت میں خاصا کلیدی کردار ادا کیا تھا)، اسی طرح ام سلمہ اور سودہ دونوں ہی ادھیڑ عمر گھریلو عورتیں تھیں۔ ام سلمہ وہی ہیں جو مکہ سے مدینہ تن تنہا اپنے نو مولود زخمی بیٹے کے ہمراہ سفر کر چکی تھیں اور ان کے شوہر احد کی لڑائی میں قتل کر دیے گئے تھے۔ لیکن، اب محمد صلعم نے پانچویں بار شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ شادی، جویریہ سے طے ہوئی تھی۔ جویریہ کو مصطلق قبیلے کے ساتھ لڑائی میں قیدی بنایا گیا تھا۔ 'واللہ، مجھے اس سے شدید نفرت تھی تا آنکہ میں نے اسے دیکھ نہ لیا'۔ عائشہ نے جویریہ کی خوبصورتی کا اعتراف کرتے ہوئے مزید کہا، 'میں جانتی تھی کہ محمد صلعم بھی اسے اسی نظر سے دیکھا کریں گے، جیسے وہ مجھے نظر آئی تھی'۔ لیکن تب تک عائشہ کو نہ تو سیاست میں دلچسپی تھی اور نہ ہی اس کی سمجھ ہوا کرتی تھی۔ محمد صلعم نے جویریہ کے ساتھ نکاح کا فیصلہ خوبصورتی نہیں بلکہ حال ہی میں ان کے مفتوح کیے جانے والے قبیلے کی جانب سے پیش کی جانے والی مفاہمت کی درخواست کے باعث کیا تھا۔ یہ اتحاد اور قربت کا اشارہ تھا۔ ایک ایسا اعلان تھا کہ جس کے تحت ماضی کی تلخیوں کو بھلانے کا اعادہ کیا گیا تھا اور اگر مصطلق اب تک اسی اتحاد اور باہمی تعلقات سے انکار کرتے آئے تھے، اب آگے بڑھنے والے دوستی کے ہاتھ کو قبول کرنے کے لیے خوشی خوشی تیار تھے۔ شاید، عائشہ ان معاملات کو خوا ہش اور ہوائے نفس کے پیمانے میں تولتی ہوں لیکن محمد صلعم کے لیے یہ رائج سفارتی اور سیاسی طریقہ کار تھا۔ تا آنکہ، ایک دن آپ صلعم نے ایک بار پھر ، ایک نئی، پسند کی شادی نہ کر لی۔
اب کی بار کیے جانے والے نکاح کے بارے میں کوئی شک اور شبہ نہیں کہ یہ خالصتاً خواہش اور چاہ کی بنیاد پر کیا گیا تھا۔ اس شادی کی مثال سے آپ صلعم کی شخصیت کا خالصتاً انسانی پہلو بھی اجاگر ہوتا ہے کہ پچاس کے پیٹے میں پہنچ کر بھی ان کے دل میں ایک بار پھر بشری صفت، یعنی تمنا اور خواہش نے جنم لیا تھا اور وہ اس شوق میں بہہ گئے۔ لیکن، ایک بار پھر اس بابت کہانی عجب معلوم ہوتی ہے۔ روایات کا مطالعہ کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تفصیلات کو کچھ ایسے نرالے انداز میں بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جس میں ان کی مردانہ خواہشات ابھر کر سامنے آ جاتی ہیں۔ حالانکہ، اس نکاح کے بعد بھی ان کے یہاں اولاد پیدا نہیں ہو گی۔ کہا جاتا ہے کہ بظاہر وہ اپنے لے پالک بیٹے زید سے ملنے ان کے یہاں گئے لیکن گھر میں صرف زید کی بیوی زینب موجود تھی۔ زینب اپنے شوہر کا انتظار کر رہی تھیں اور جب محمد صلعم گئے تو جیسا کہ ابن اسحاق نے انتہائی محتاط انداز میں، ان الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے بیان کیا ہے کہ وہ دیکھتے ہیں کہ زینب 'بے ترتیب لباس پہنے، غیر مانوس حالت میں تھیں'۔ آپ صلعم یہ دیکھ کر شرم سے لال ہو گئے اور بڑبڑاتے ہوئے باہر نکل گئے۔ روایت میں یوں لکھا ہے کہ وہ کہنے لگے، 'اس سے اللہ کی پناہ جو مردوں کے دلوں پر اثر ڈالتا ہے'۔ جب زید کو اس بابت پتہ چلا تو انہوں نے اسے محمد صلعم کی خواہش جان کر، فرزندانہ اطاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زینب کو طلاق دے دی تا کہ آپ صلعم نکاح کر سکیں۔ بعض روایات کے مطابق زید ، زینب کے ساتھ شادی پر خوش بھی نہیں تھے۔
اگر باپ کی شادی بہو کے ساتھ، چاہے وہ لے پالک بیٹے کی ہی طلاق یافتہ بیوی کیوں نہ ہو، جائز ہوتی تو پھر شاید یہ مسئلہ نہ ہوتا ۔ لیکن، اصل کہانی جو بھی رہی ہو، یقیناً یہ معاملہ ایک اور 'گمشدہ ہار کا واقعہ' ثابت نہیں ہو گا۔ اس سے پہلے کہ لوگ ایک بار پھر چہ مہ گوئیاں کرنے لگیں اور افواہیں پھیلتیں، قرانی آواز نے فوراً ہی مداخلت کر کے معاملہ سلجھا دیا اور مبینہ طور پر ایک نئے قضیے کو جنم لینے سے قبل ہی گھونٹ کر مار دیا ۔ یہ مسئلہ یوں حل ہوا کہ محتاط الفاظ کے ساتھ ایک بار پھر ممنوع فعل کا امر واقعی کے طور پر اعادہ کیا گیا۔ اس معاملے کی طرح کی صورتحال میں ممانعت، 'ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہارے صلب سے ہوں' کے الفاظ سے کی گئی تھی، یعنی سگے بیٹوں کی بیویوں سے نکاح کرنے سے منع کر دیا گیا تھا اور لے پالک بیٹوں کی بیویوں سے نکاح جائز قرار دیا گیا تھا۔ یہیں پر الہامی آواز نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس بابت کافی تفصیل سے نکاح کے معاملے میں ممنوع امور کو بھی واضح کر دیا۔ اس کے ساتھ محمد صلعم کی پدرانہ حیثیت کو بھی یوں بیان کیا کہ، 'محمد صلعم تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں'۔ مزید وضاحت یوں کی، 'وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں'۔
مقدس ذات کے حکم کے سامنے، جیسے اس سے قبل لوگوں کی زبان بندی ہو جاتی تھی، اب کی بار عائشہ کے پاس بھی کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ محمد صلعم کے زینب کے ساتھ نکاح کو قبول کر لیں۔ انہوں نے چار و نا چار قبول تو کر لیا لیکن طبیعت ایسی تھی کہ اپنے محسوسات کو بیان کرنے سے خود کو روک نہ سکیں۔ محمد صلعم سے کہنے لگیں، 'سچ ہے کہ اللہ آپ صلعم کی دلی فرمائش پر فوراً سے پہلے ہی آمادہ ہو جاتا ہے'۔ شاید وہ نہیں جانتی تھیں کہ حال ہی میں قرانی آیات کی روشنی میں خود کو ملنے والی خلاصی اور اب یہ بات، خوش خلقی اور بے مہری گردانی جا سکتی تھی۔
محمد صلعم اپنی بیویوں کے بیچ جاری اس کل وقتی کشمکش سے اچھی طرح واقف تھے۔ اسی لیے وہ یقینی بناتے کہ ان میں سے ہر ایک کے ساتھ مناسب وقت گزارا کریں۔ چنانچہ، وہ تسلسل کے ساتھ، باری آنے پر ہر بیوی کے ساتھ ایک رات گزارتے۔ ان کا اپنا ذاتی کوئی کمرہ نہیں تھا بلکہ وہ ایک بیوی کے یہاں سے دوسری کے پاس وقت بسر کرنے کے لیے چلے جاتے۔ وہ اب بھی بدستور سادہ منش تھے اور ان کی بیویوں کے کمروں میں بھی اسی وجہ سے تعیش اور آرام کا کوئی سامان نہیں تھا۔ یہ کوارٹر، جن میں آپ صلعم کی منکوحہ ازدواج کی بسر تھی، بمشکل ہی کمرے کہلائے جا سکتے تھے۔ مسجد کے مشرقی حصے میں چہار دیواری کے ساتھ ایک لمبوتری ترتیب میں کھجور کے پتوں کی ڈھلوانی چھتیں ڈال کر اور پتلی دیواریں کھڑی کر دی گئی تھیں، جن کے دروازے مسجد کے احاطے میں کھلتے تھے۔ دروازے کیا، پردے کے نام پر کھجور کے پتوں کی چٹائیاں ٹنگی ہوتی تھیں۔ ان کمروں کے اندر بھی کچھ خاص اہتمام نہیں تھا بلکہ پیچھے دیوار کی طرف پتھروں کے اوپر سلیٹیں بچھی تھیں جو بستر کا کام کرتی تھیں۔ ان کے اوپر بچھائی رلیاں اور رضائی، تلائیاں سونے کے وقت ، یعنی رات کو پھیلا دی جاتیں اور صبح ہوتے ہی لپیٹ کر سلیٹوں پر دھر دیا جاتا۔ مومنین محمد صلعم کی ذاتی اور ازدواجی زندگی پر گہری نظر رکھتے تھے۔ مثلاً، وہ کس بیوی کے ساتھ زیادہ وقت گزارتے ہیں؟ کون سی بی بی ہیں، جن کے ہاتھ سے بنائے 'مشروب عسل' کو وہ زیادہ پسند کرتے ہیں؟ کون سی بیوی تھی، جس کے یہاں رات گزارنے کے بعد اگلی صبح محمد صلعم کی طبیعت زیادہ ہشاش بشاش ہوتی تھی؟ اور اس طرح کئی دوسری باتیں تھیں۔ مراد یہ ہے کہ اب محمد صلعم کے لیے ذاتی زندگی کا تصور بالکل ختم ہو کر رہ گیا تھا اور وہ ہر طرح سے عوامی کردار میں ڈھل چکے تھے۔ عہد وکٹوریہ کے یورپی عالمین اس بابت خاصی عجب روش اختیار کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں، اس طرح کے کثیر الازدواج معمولات اخلاق باختگی اور عیاشی سمجھے جاتے ہیں، وہ ایسی زندگی پر نکتہ چینی کرتے چلے آئے ہیں اور سمجھتے رہے ہیں کہ شاید یہ اطمینان بخش تجربہ رہا ہو گا، حالانکہ اس طرح کے معمولات زندگی یقینی طور پر کسی بھی شخص کے لیے بے پناہ ذہنی اور اعصابی دباؤ کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس ضمن میں، اسی زمانے میں نازل ہونے والی ایک آیت کئی شادیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال اور دباؤ پر خاصی تفصیل سے روشنی ڈالتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی شروعات تو محمد صلعم کے لیے بحیثیت امہ کے رہنما، خصوصی انتظام اور بریت کا اعلان کرتی ہے کہ وہ جتنی بار چاہیں، نکاح کر سکتے ہیں۔ یہ الفاظ کچھ یوں ہیں کہ، 'یہ رعایت خالصتاً تمہارے لیے ہے' اور آگے یوں وضاحت کہ، 'دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے'۔ اصولی طور پر ، آپ صلعم کے علاوہ تمام مرد مومنین روایتی طریقہ کار کو اپنا سکتے تھے۔ یعنی، وہ ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ چار شادیاں کر سکتے تھے۔ اس کی اجازت قران میں موجود ہے۔ لیکن، یہ صرف ایک قاعدہ تھا۔ الہام میں کثیر الازواجی کی بلاواسطہ حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے ایک جگہ پر اس سے بوجوہ احتراز کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ چار شادیوں کی اجازت صرف اس صورت میں ہے کہ اگر بیویوں کے بیچ برابری کی حیثیت برقرار رکھنا ممکن ہو۔ لیکن، اس کے بارے بھی قران یہی کہتا ہے کہ ایسا کر پانا، مشکل ہے۔ محمد صلعم کو کہا گیا کہ وہ اپنے پیروکاروں کو تاکید کریں کہ، 'بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے'، اسی بابت ایک دوسری آیت میں ہدایت کی گئی کہ، 'لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو'۔
گو انہیں تو خصوصی رعایت میسر تھی، مگر خود محمد صلعم کے لیے ذاتی طور پر وہ 'ایک ہی بیوی' ہمیشہ سے خدیجہ رہی تھیں۔ خدیجہ کے وصال کو آٹھ سال بیت چکے تھے لیکن جوں جوں رہنمائی کے تقاضے بڑھتے گئے، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اب وہ پہلے سے کہیں زیادہ یک زوجگی کی زندگی کو ترس رہے تھے جو کبھی ان کو خدیجہ کے ہمراہ میسر تھی۔ اگرچہ متعدد نکاح سفارتی اور سیاسی ضرورت تھے مگر حقوق کی ادائیگی اور ازدواجی تقاضے بھی تھے جن کا پورے کرنا بہرحال ان کی ذمہ داری تھی۔ یوں، آپ صلعم کے لیے زندگی کے اس موڑ پر ایک طرف رسالت، دوسری طرف سیاست و سفارت اور تیسری طرف ذاتی زندگی کے تمام تر فرائض ایک ساتھ، ایک ہی وقت میں، روز بروز بڑھتے ہوئے بوجھ کے ساتھ نبھانا لازم ٹھہرا۔ ایک طرف تو لوگ پیغمبر سے رجوع کرتے، دوسری طرف اتنے بھاری بھرکم ازدواجی معاملات اور تیسری جانب سیاسی منظر نامے پر ایک بار پھر سے مکہ کے ساتھ جنگ کے سائے منڈلا رہے تھے۔ ایسے حالات میں، ان پر ہر طرح کا دباؤ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ اسی کیفیت میں، وہ معاملات کو چلاتے، وقت کے تقاضوں تلے اس قدر دب جائیں گے کہ آگے چل کر ایک موقع ایسا آئے گا جس کے تصفیہ کی غرض سے اٹھایا جانے والا ایک قدم، محمد صلعم کی زندگی کا متنازعہ ترین فیصلہ ثابت ہو گا۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین: محمد صلعم کی کہانی' کی اگلی قسط 23 اپریل، 2016ء کو شائع کی جائے گی۔ نئی اقساط ای میل میں حاصل کرنے کے لیے سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر