اول المسلمین - جلا وطن - 17


سیاسی طور پر کسی بھی بالغ نظر، سیانے آدمی سے پوچھ لیں۔ وہ اس بات کی تصدیق کرے گا کہ ایک منجھا ہوا سیاسی رہنما جب اندرون ملک دباؤ کا شکار ہو جائے تو مقبولیت برقرار رکھنے کے لیے جارحانہ خارجہ پالیسی اختیار کرتا ہے۔ یہ ایسی حکمت عملی ہے جو تاریخ میں تقریباً ہر اہم موڑ پر غالباً ہر سیاستدان نے ہی استعمال کی ہے۔ محمد صلعم نے اسی طور کو اپنا لیا۔ اگرچہ وہ مدینہ کے اندر مخالفین کو کامیابی کے ساتھ دھول چٹا رہے تھے مگر کلی طور پر یہ ضروری تھا کہ اپنا حلقہ اختیار اور اثر بڑھانے کے لیے مدینہ سے باہر بھی کاروائیاں عمل میں لائیں۔ چنانچہ، مکہ کے تجارتی قافلوں کو ہراساں کرنے میں تیزی لائی گئی۔ یہ حربہ اس قدر کامیاب ہوا کہ بالآخر قریش روایتی شمال سے جنوب میں سیدھے خط پر واقع تجارتی راہداری کو ترک کر کے نجد کے لق و دق اجاڑ اور جنوبی عراق میں واقع نسبتاً طویل اور مہنگے روٹ کو استعمال کرنے پر مجبور ہو گئے۔ جلد ہی، یہ راستہ بھی غیر محفوظ ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر، اسی راہداری پر زید کی سربراہی میں کی جانے والی ایک چھاپہ مار کاروائی کے نتیجے میں ایک بڑا قافلہ لوٹ لیا گیا۔ اس قافلے کو نجد کے میدانوں میں جا لیا گیا اور خاصا مال ہاتھ آیا۔ تجار اور حفاظتی دستوں کو اپنی جان بچانے کے لیے لدے ہوئے اونٹ اجاڑ میں چھوڑ کر بھاگتے ہی بنی۔
حسان بن ثابت نامی شاعر نے اس واقعے کو خاصے پر جوش انداز میں بیان کیا ہے۔ مکہ کے لوگوں کو مخاطب کر کے، تجارت اور ان کے نام کو یوں تہل ترغہ ہونے پر طنز کا نشانہ بنایا۔ نہایت پر شوق انداز میں لکھا، 'دمشق کی انہار کو الوداع کہو، بھول جاؤ۔۔۔ کہ ان راستوں پر اب تمہارے لیے خار ہے'۔ ابن ثابت آج کے کسی بھی شاعر کے مقابلے میں زیادہ مصروف رہا کرتے تھے۔ ان کی مصروفیت میں صرف اور صرف ہم سر شاعروں کی ہجو لکھنا نہیں تھی جنہیں آپ صلعم کی شدید مخالفت اور توہین پر قتل کر دیا گیا تھا بلکہ کئی دوسری اصناف پر بھی طبع آزمائی کرنی پڑ رہی تھی۔ حالات اس قدر تیزی سے بدل رہے تھے کہ ہر نئے دن کے ساتھ کچھ نہ کچھ تازہ تخلیق کرنا پڑتا۔ بعض اوقات، ابن ثابت جیسے شعراء کے لیے یہ خاصا مشکل بھی ہو جاتا تھا۔ مثلاً، کیا ہوا کہ مومنین کا ایک ٹولہ شمال میں خیبر کے نخلستان میں چھاپہ مار کاروائی کے لیے روانہ کیا گیا۔ یہ فوجی ٹکڑی کامیابی کے ساتھ اپنے ہدف پر پہنچ گئی اور مطلوبہ شخص کو نیند میں قتل بھی کر دیا مگر اس ایک شخص خاصا اوتاولا ہو رہا تھا۔ وہ فرط جوش سے پیچھے ہٹا اور پتھروں سے نیچے لڑھک گیا، جس کے شور سے ارد گرد لوگ جاگ گئے۔ حملہ آوروں کو جان بچا کر نکاسی کے لیے کھودے گئے گندے پانی کے ایک تالاب میں پناہ لینی پڑ ی۔ اگرچہ گڑھے میں خاصی بد بو تھی لیکن انہیں جان کے لالے پڑے ہوئے تھے تو وہیں دبک کر بیٹھے رہے۔ بہر حال، کئی گھنٹے چھپے رہنے کے بعد انہیں فرار کا راستہ مل ہی گیا اور وہ بچ نکلے۔ اگرچہ، یہ واقعہ کسی طور پر بہادری کو ظاہر نہیں کرتا مگر ابن ثابت نے پھر بھی اس کو کچھ یوں سمیٹا کہ، 'رات میں دبے پاؤں سفر کرتے، ننگی تلواریں تھامے یہ لوگ، شیر کی طرح بہادر اور جنگل کے باسی، کوئی آفت ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے'۔
اس طرح کی شاعری، بالخصوص وہ جس میں واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے، یقیناً احد کی لڑائی کے بعد مومنین کے ہو رہے پست حوصلے بلند کرنے کے کام آتی تھی ۔ یہ اس وقت کی ضرورت بھی تھی، لیکن یہی تخلیقات محمد صلعم کے مخالفین کو طیش دلانے کا موجب بھی بن گئی۔ چنانچہ، مکہ کے سردار ابو سفیان نے اب کی بار اتحادیوں کو ساتھ ملا کر خاصی بڑی فوج تشکیل دینے کا ارادہ کیا ۔ اس فوج میں قریش کے دیرینہ اتحادی نجد کے بدو غطفان اور خیبر کے یہودی قبائل کثیر تعداد میں شریک تھے۔ بنو نضیر کے کئی لوگ اب خیبر میں جا بسے تھے اور وہ ابھی تک مدینہ سے بے دخلی پر تلملائے بیٹھے تھے اور محمد صلعم سے اپنی املاک اور جائیداد ضبط کرنے کا حساب چکتا کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ، 627ء کے اوائل میں ابو سفیان نے مدینہ پر چڑھائی کا عندیہ دے دیا۔ اس دفعہ، اس لشکر کا ارادہ مدینہ کے مضافات تک محدود رہنے کا نہیں ، بلکہ وہ ایک ہی بار اس نخلستان کے اندر گھس کر محمد صلعم کی ابھرتی ہوئی طاقت کا ہمیشہ کے لیے قصہ تمام کرنا چاہتے تھے۔
لیکن، اتنے بڑے لشکر کو صحرا میں نقل و حرکت میں خاصا وقت لگ رہا تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ حملے کی خبر محمد صلعم تک بہت پہلے ہی پہنچ گئی اور انہیں پوری تیاری کا موقع مل گیا۔ پہلے تو انہوں نے مدینہ کے گرد و نواح میں موسم بہار کی فصل کو وقت سے پہلے ہی کاٹنے کا حکم دیا کہ جب قریش کا لشکر یہاں پہنچے تو گھوڑوں اور اونٹوں کے لیے چارا نا پید ہو۔ پھر، اگلا فرمان نخلستان کے گرد ایک گہری خندق کھودنے کا جاری ہوا۔ مدینہ کے ارد گرد مغرب، جنوب اور مشرق کی جانب جمے ہوئے لاوے کے میدانوں کی وجہ سے گھوڑوں اور زرہ پوشوں کا گزر ناممکن نہیں تھا۔ لیکن شمال کی جانب واقع مرکزی راستہ کھلا تھا اور یہاں سے ابو سفیان کے لشکر کے گھڑ سوار اور پیدل فوج آسانی سے اندر گھس سکتی تھی۔ اس کافوری حل یہ نکالا گیا کہ مدینہ کی ساری آبادی بشمول عورتوں اور بچوں کو کدالیں تھما کر اس راستے کو کھودنے کے کام پر لگا دیا گیا۔ کھدنے والی خندق اتنی گہری اور چوڑی تھی کہ کوئی بھی گھڑ سوار کود کر اسے پار نہیں کر سکتا تھا۔ بلکہ، دوسری طرف کناروں اور گہرائی میں تیز دھار چوب دار لکڑیاں نصب کر دی گئیں تا کہ ایسی کوئی بھی کوشش واقعی ناکام رہے۔ آبادی میں سے ہر دس افراد کے ذمے ساٹھ فٹ کھدائی کا کام لگایا گیا اور یوں چھ دن کے اندر ہی خندق تیار ہو گئی۔ جب یہ ہو چکا تو مدینہ میں شمال کی جانب سے داخل ہونے والا راستہ اب ایک گہری کھائی کا منظر پیش کر رہا تھا اور کھدائی کے دوران نکلنے والی مٹی کے تودے اور بڑے پتھروں کو اندر کی طرف ڈھیر لگا کر دفاعی فصیل اور چوکیاں بنا دی گئی تھیں۔
ابو سفیان اور ان کے لشکر کو اس طرح کی تیاری کی ہر گز توقع نہیں تھی۔ خندق کھودنے کا یہ تصور، جسے عام طور پر 'بے عزت' اور 'غیر عرب' خیال کیا جاتا تھا، فارس میں استعمال ہونے والی 'فرسودہ' اور 'پاجی' ترکیب تھی۔ ایسے حربوں کو وہیں رہنا چاہیے تھے۔ چنانچہ، قریش کے فوجی جھنجھلاہٹ میں تیر برساتے اور ساتھ با آواز بلند لعن طعن اور طنزیہ جملے کستے ۔ کہا جاتا، یہ کس طرح کے ڈرپوک اور خائف جنگجو ہیں جو دھول کے ڈھیر کے پیچھے چھپ کر بیٹھے ہیں؟ یہ ڈھیر عورتوں اور بچوں نے جمع کیا ہے؟ مکہ کے لشکر میں ایک شاعر نے وہیں بیٹھے بٹھائے اشعار جڑ دیے کہ، 'لیکن یہ خندق جس پر ان کا انحصار ہے۔۔۔ ہم ان کو پھر بھی مٹا دیں گے ۔۔۔ ہم سے ڈر کر انہیں دیکھو تو ۔۔۔ کیسے، اس کے پیچھے دبک کر بیٹھے ہیں'۔
اس طنز اور لعن طعن کا مقصد یہ تھا کہ محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کو جوش دلا کر باہر نکال لائیں اور دو بدو لڑائی پر اکسائیں۔ ان میں سے کئی ایسا کر بھی گزرتے لیکن محمد صلعم نے انہیں خندق کی کچی فصیل پیچھے ہی جم کر بیٹھے رہنے پر مجبور کیے رکھا۔ ویسے بھی ان کی یہ حکمت عملی خاصی کامیاب رہی تھی اور جلد ہی یہ ثابت بھی ہو گیا۔ دشمنان کے چند گھڑ سواروں نے ایک جگہ، جہاں سے خندق تنگ تھی، اسے پھلانگنے کی کوشش کی لیکن گھوڑوں سمیت اوندھے منہ گر گئے۔ بعد اس کے، کسی نے دوبارہ ایسی کوشش نہیں کی۔ کھائی کے دونوں اطراف میں بھی دیکھیں تو اس جنگ، جسے بعد میں 'خندق کی لڑائی' کہا جائے گا، انسانی جان کے نقصان کی شرح بہت کم رہی تھی۔ ابو سفیان کے لشکر میں سے پانچ جبکہ محمد صلعم کی فوج کے صرف تین اشخاص جان سے گئے۔
ابتدائی گرما گرمی کے بعد، ابو سفیان کے پاس سوائے مدینہ کا محاصرہ کرنے کے کوئی چارہ نہیں رہا تھا۔ حالانکہ، وہ خود بھی جانتے تھے کہ یہ کامیاب نہیں ہو گا۔ وجہ یہ تھی کہ کسی فصیل دار شہر کا محاصرہ ایک بات ہوتی ہے لیکن یہاں تو مدینہ کا نخلستان ابھی تک باقاعدہ شہر نہیں تھا بلکہ کئی گاؤں کا جمگھٹا تھا ، پھر یہ خاصا وسیع اور آبادی بکھری ہوئی تھی۔ ہر گاؤں کی اپنی فصیل تھی اور مرکز میں اس طرح کے حالات سے نبٹنے کے لیے خاطر خواہ انتظامات موجود تھے۔ الغرض، پورے مدینہ کا محاصرہ تقریباً ناممکن تھا۔ محاصرہ کرنے والے زیادہ سے زیادہ نخلستان میں داخلے کے مرکزی راستے کو روک لیتے اور خندق کی وجہ سے صرف تیر برسا کر ہراساں کر سکتے تھے۔ لیکن، مدینہ کے باسیوں پر دباؤ ڈالنے کے لیے یہ بھی کافی تھا۔ خندق کے اس پار سے وہ ایک بہت بڑے لشکر کو دیکھ سکتے تھے، جس میں ہر طرف گہما گہمی اور بڑے پیمانے پر لمبے عرصے کے لیے پڑاؤ کے انتظامات کیے گئے تھے۔ رات کو دیر تک، دور دور تک پھیلے خیموں میں آگ روشن رہتی اور ہر روز دن چڑھتے ہی تیر انداز تازہ دم ہو کر ایک نئے جوش سے مدینہ پر تیر برساتے رہتے۔ چونکہ، یہ باقاعدہ لڑائی نہیں تھی تو دن بھر گھڑ سوار یہاں وہاں دوڑتے پھرتے اور تیر انداز نئی جگہیں تلاشتے جہاں سے بہتر نشانے لیے جا سکتے۔ اگرچہ مدینہ ابھی تک محفوظ تھا مگر پھر بھی نخلستان کے اندر بے چینی پھیل رہی تھی۔ ایک محفل میں مدینہ کا ایک سردار جھنجھلا کر کہنے لگا، 'محمد صلعم نے ہم سے ایک نئی دنیا کا وعدہ کیا تھا مگر اب دیکھو، ہم میں سے ایک بھی، خود اپنے گھر میں بھی محفوظ نہیں ہے'۔
ابو سفیان محاصرے اور ہراساں کرنے کے حربوں کے ذریعے، اسی طرح کی بے چینی پھیلنے کا انتظار کر رہے تھے۔ یوں، انہیں مدینہ کی صفوں میں کمزوریاں مل جاتیں، جن کا استعمال کر کے وہ محمد صلعم پر اپنی برتری قائم کر سکتے تھے۔ چنانچہ، جلد ہی پس منظر میں سازشوں کی ہلچل اور سودے بازی شروع ہو گئی۔ ایک دوسرے کو ورغلایا جانے لگا، کنبوں کے سرداروں کو بہلا پھسلا کر حمایت پر راضی کرنے کی کوششیں ہونے لگیں اور جاسوسی کی جانے لگی۔ مخبر اور جاسوس دوغلے اور بسا اوقات تگنی سازشیں کرنے لگے۔ ساتویں صدی عیسوی میں بھی جنگ کا وہی سماں بن گیا جو آج ہم دنیا بھر جدید اسباب کے ساتھ عام دیکھتے ہیں۔ ہمدردیاں، حمایت، مفادات ، بہلاوے اور ڈراوے، یعنی ہر طرح کا حربہ استعمال میں لایا جانے لگا۔ ایک کے بعد دوسری اور ان دنوں میں گزرنے والی ہر رات کے اندھیرے میں، جاسوس اور قاصدین نخلستان کے چپے چپے میں پھیل جاتے اور خندق عبور کر کے قریش کے لشکر میں آتے جاتے، پیغامات کا تبادلہ ہوتا رہتا اور تانے بانے بنے جاتے۔ دن بدن بے چینی بڑھ رہی تھی اور بے یقینی کی صورتحال گہری ہوتی جا رہی تھی۔ مدینہ جیسی جگہ، جہاں کوئی بھی اجنبی، امن کے زمانے میں دور سے ہی پہچانا جا سکتا تھا، اب تو چھوٹے سے چھوٹا راز چھپا کر رکھنا بھی تقریباً ناممکن ہو گیا۔ لیکن، یہ ابو سفیان کی حکمت علمی کا حصہ تھا۔ مطلب یہ کہ مدینہ کے لوگوں، بالخصوص محمد صلعم پر اعصابی دباؤ بڑھا کر اور انہیں اپنے ہی لوگوں کے بارے شک و شبہ میں مبتلا کر کے، افواہوں کی گردش میں کمزور کیا جا سکتا تھا۔ پہلے تو یہ مشہور کر دیا گیا کہ محمد صلعم نے غطفان کے بدوؤں کو قریش کے لشکر کا ساتھ چھوڑنے کے عوض نخلستان میں پیدا ہونے والی کھجور کی فصل کا تیسرا حصہ دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔ محمد صلعم نے ایسا کوئی وعدہ کیا تھا یا نہیں، یہ اہم نہیں ہے۔ اہم یہ ہے کہ صرف یہی افواہ مدینہ میں وسیع پیمانے پر نا اتفاقی اور رنجی پھیلانے کے لیے کافی تھی۔ باغات کے تقریباً مالکان اور اس میں مشقت کرنے والے دہقان اس بابت غم و غصہ کا شکار ہو گئے کہ آخر کتنی آسانی سے محمد صلعم نے ان کی محنت سے اگائی ہوئی فصل کو یوں، بغیر ان سے پوچھے سودے میں جھونک دیا ہے؟ کئی تو یہ محسوس کرنے لگے کہ در اصل یہ مصیبت اور محاصرہ، محمد صلعم کی مکہ کے ساتھ انتقامی روش کو بڑھاوا دینے کی وجہ سے آئی تھی اور ان کے خیال میں، اس کے نتائج میں ادا کی جانے والی قیمت کی ان سے وصولی سرا سر زیادتی ہے۔ اور اسی طرح مومنین میں کئی دوسرے بھی تھے، جو لڑاکا واقع ہوئے تھے، غفطان کو یوں راضی کرنے کی کوشش کو 'بے عزتی' تصور کرنے لگے۔ جلد ہی مدینہ بھر میں اس بابت غم و غصہ اور محمد صلعم پر دباؤ بڑھنے لگا۔
جلد ہی ایک دوسری خبر نے سارے مدینہ کو گھیر لیا۔ کہا گیا کہ ابو سفیان نے نخلستان کے 'منافقین' اور یہودیوں کے آخری بچ جانے والے یہودی قبیلے قریظہ کے ساتھ رابطہ کر کے ترغیب دی ہے کہ وہ مدینہ کے اندر نیا اتحاد قائم کر لیں۔ محمد صلعم کے خلاف اس گٹھ جوڑ کو قریش نے ہر طرح سے حمایت اور مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ اس نے اپنی آنکھوں سے کچھ عرصہ قبل بے دخل کر دیے جانے والے یہودی قبیلے نضیر کے ایک سردار کو قریظہ کے مرکزی گاؤں میں داخل ہوتے دیکھا ہے اور وہ وہاں 'اونٹ کے کوہان کو مروڑنے' کا کہہ رہا تھا۔ یعنی وہ قریظہ کو بنو نضیر کی بے دخلی کی زیادتی کا بدلہ لینے پر آمادہ کر رہا تھا۔
یہ ساری ہی افواہیں، تواتر سے محمد صلعم تک پہنچ رہی تھیں اور یقیناً وہ یہاں بھی ابو سفیان کی طرف سے شروع کی جانے والی اس اعصابی جنگ کا سامنا کرنے کے لیے ڈٹ کر تیار کھڑے تھے۔ ہمیشہ کی طرح، وہ اس مہم کا کرارہ جواب دینے کے اہل تھے اور ایک دفعہ پھر تمام تر افواہوں اور سازشوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال میں لانے والے تھے۔ چنانچہ، انہوں نے اس مقصد کے لیے نعیم بن مسعود کی خدمات حاصل کر لیں۔ نعیم قبیلہ غطفان سے تعلق رکھنے والے ایک سردار تھے جنہوں نے چھپ کر اسلام قبول کر لیا تھا۔ 'میرے قبیلے کے لوگ اس راز سے واقف نہیں ہیں'، انہوں نے محمد صلعم سے کہا، 'بہرحال، آپ صلعم کہیے، جو کہیں گے، میں کرنے کے لیے تیار ہوں'۔ اس وقت، نعیم کی خدمات کا یوں میسر آ جانا، غیب سے مدد کے مترادف تھا کہ وہ بجا طور پر مقاصد کے حصول میں کام آ سکتے تھے اور اس کام کے لیے موزوں ترین آدمی تھے۔ وہ مدینہ کے اندر محمد صلعم کے مخالفین اور محاصرہ کرنے والوں کے بیچ، ایک ہی وقت میں تلبیس پھیلا کر غلط فہمیوں کو جنم دے سکتے تھے۔ 'تم یقینی بناؤ کہ وہ ایک دوسرے کو ترک کر دیں'، محمد صلعم نے راز داری سے کہا، 'کہ جنگ دھوکے اور فریب کے سوا کچھ نہیں'۔
یہ فوجی حکمت عملی تاریخی لحاظ سے بھی خاصی مشہور و معروف ہے اور اس مقولے کہ 'محبت اور جنگ میں سب جائز ہے' کے مصداق، راس آتی ہے۔ ویسے بھی، محمد صلعم پہلے شخص نہیں تھےجنہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہو۔ 'جنگ ایک فریب ہے' نامی یہ تصور، پہلی بار چھٹی صدی قبل از مسیح میں مشہور چینی سپہ سالار اور فلسفی سان تزو کی مشہور تصنیف ' جنگ کا آرٹ' میں ملتا ہے۔ ویسے، یہاں محمد صلعمکا سان تزو کے فلسفے اور تصور کو یوں منقول کرتے ہوئے دیکھنا خاصا عجیب بھی معلوم ہوتا ہے اور امکان یہ ہے کہ شاید ان کی زبان سے اس روایت کو یوں بیان کروانا، ابن اسحاق کی شرارت ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سان تزو کے یہ نظریات آٹھویں صدی عیسوی میں جدید خطوط پر استوار شہر دمشق کے کتب خانوں میں تو عام مل جاتے تھے لیکن ساتویں صدی عیسوی میں مدینہ کے نخلستان میں اس کا تذکرہ یا باقاعدہ لفظ بہ لفظ عام ہونا ناممکن سی بات لگتی ہے۔ تا ہم، ایک بات تو طے ہے کہ محمد صلعم کو اس نظریہ کی خوب سمجھ تھی اور بساط پر ان کی چلی یہی چال اور اس کے نتائج گواہ ہیں۔
اس چال کو عملی شکل میں ڈھلتا ہوا دیکھنا، نہایت دلچسپ ہے۔ یہ ایک ایسی جنگی حکمت عملی کا مظاہرہ ہے جس میں بہت خوبصورتی سے دیکھتے ہی دیکھتے، دشمن کو شہ مات ہو جاتی ہے۔ ہوا یوں کہ نعیم سب سے پہلے قریظہ کے پاس گئے۔ انہیں یقین دہانی کرائی کہ وہ پوری راز داری اور خیر خواہ کی حیثیت سے موجود ہیں۔ پھر انہیں تنبیہ کی کہ ابو سفیان کی جانب سے کیے جانے والے کسی بھی وعدے پر اعتبار فاش غلطی ہو گی کیونکہ قریش کے لشکر کی دلچسپی صرف اور صرف بدلہ لینے اور لوٹ مار میں ہے۔ جب ایک بار ان کا مقصد پورا ہو گیا تو وہ واپس چلے جائیں گے اور قریظہ یاد رکھیں کہ بعد میں وہ مخالفت کی وجہ سے محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں کے عتاب کا شکار ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ، ان کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ ابو سفیان سے ضمانت کے طور پر، اتحادی ہونے کے ناطے مکہ کے چند آدمیوں کو اپنے پاس رکھنے کا تقاضا کریں ۔ اس طرح، انہیں ابو سفیان کے ارادے اور زبان کی سچائی کا بھی علم ہو جائے گا۔
قریظہ کو یوں شک میں ڈال دینے کے بعد، نعیم نے اب دوسرا چکما دیا اور ابو سفیان کے پاس جا پہنچے۔ انہوں نے یقینی بنایا کہ جب وہ بات کریں تو ابو سفیان کے ساتھ قریش کے لشکر میں چیدہ لوگ بھی ان کی بات سن لیں۔ انہوں نے ابو سفیان کو اطلاع دی کہ قریظہ نے بطور ضمانت، مکہ کے چند لوگوں کو اپنے پاس روک لینے کا مطالبہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جبکہ ان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ در اصل محمد صلعم کے وفادار ہیں۔ اگر قریش انہیں اپنے چند آدمی ضمانت کے طور پر حوالے کر دیتے ہیں تو وہ انہیں مومنین کے حوالے کر دیں گے، جو پہلے ہی مکہ کے خون کے پیاسے ہیں۔ تو بہتر یہ ہو گا کہ قریش ان کا یہ مطالبہ یکسر رد کر دیں۔ جب یہ بھی ہو گیا تو اس چال کے آخری حصے میں، نعیم واپس اپنے قبیلے غطفان کے پاس جا پہنچے۔ انہیں کہا کہ در اصل قریظہ نے مکہ کے قریش نہیں بلکہ غطفان کے آدمیوں کو 'ضمانت' کے طور پر رکھنے کا مطالبہ کیا ہے اور ابو سفیان اس مطالبے پر تقریباً راضی ہے۔
ابن اسحاق بتاتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک نے توقع کے عین مطابق رد عمل ظاہر کیا۔ قریظہ نے ابو سفیان سے ضمانت کے طور پر چند آدمیوں کو اپنے پاس رکھنے کا مطالبہ کیا ۔جیسا کہ نعیم نے متنبہ کیا تھا، ابو سفیان نے اسے قریظہ کی چال سمجھا اور اپنے آدمیوں کو محمد صلعم کے ساتھ وفا داری کا چارا بنا کر پیش کرنے کی ترکیب سمجھ کر یہ مطالبہ یکسر رد کر دیا۔ یوں، مدینہ میں کوئی نیا اتحاد جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو گیا ا ور اب قریظہ نے مدینہ کے باقی لوگوں کی ہی طرح نخلستان کا دفاع جاری رکھنے کا فیصلہ کر لیا۔ دوسری طرف، قبیلہ غطفان بھی نعیم کی بات پر یقین کرتے ہوئے کہ ابو سفیان نے انہیں دھوکہ دیا ہے، خیمے اکھاڑے اور واپس ہو لیے۔ وہ اس بات پر بھی سیخ پا تھے کہ ابو سفیان کی وجہ سے مبینہ طور پر محمد صلعم کی جانب سے دی یا نہ دی جانے والی، کھجور کی فصل سے بھی محروم رہ گئے۔ خندق کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نالاں اور اب اتحاد کے یوں بکھر جانے پر ابو سفیان ہمت ہار چکے تھے اور عین ممکن تھا کہ وہ محاصرے کو ایک بڑی ناکامی قرار دے کر اس قصے کو ختم کر دیتے۔ لیکن، قریش کے لشکر کو اپنی شکست تسلیم کرنے میں تین ہفتے لگ گئے اور ان کی اس ناکام مہم کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنے کے لیے سرما کے موسم نے آن گھیرا۔
اندرون صحرا ، سرما کے دوران دن بھر تپتے رہنے کے بعد رات کے وقت اتنا سرد ہو جاتا ہے کہ اکثر درجہ حرارت چار ڈگری سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ یوں، رات کی خنکی اور شدید ٹھنڈ دن کی گرمی کے مقابلے میں زیادہ چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور طرح طرح کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ قریش کے لشکر انہی مسائل کا شکار ہو گیا اور آخری دھکا ایک رات، گھاٹیوں میں سے سنسناتی ہوئی ہواؤں کی شکل میں آ گیا۔ آن کی آن میں آندھیاں اور جھکڑ چلنے لگے۔ طوفان باد و باراں میں لشکر کے خیمے اکھڑ گئے اور برتنوں میں بھی ریت اور دھول بھر گئی۔ 'واللہ، ہمارے گھوڑے اور اونٹ مر رہے ہیں اور ہمارا ایک برتن بھی سلامت نہیں ہے۔ اس جھکڑ میں آگ جلانا تو دور کی بات، ہم خیمے بھی سیدھے نہیں کھڑے کر پا رہے۔' اعلان کیا کہ، 'سامان باندھ کر لاد دو۔ ہم واپس جا رہے ہیں'۔
محمد صلعم نے ایک بار پھر مکہ کی بڑی فوج کو نیچا دکھا دیا تھا لیکن ان کے پیروکار ماضی کے بر عکس اس کارنامے پر خوش نہیں تھے۔ اس سارے قضیے کے دوران، تقریباً ہر شخص محاصرے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مایوسی کا شکار ہو چکا تھا۔ ایک طرح سے مومنین خود کو اس دوران بے طاقت اور بے بس محسوس کرتے رہے۔ اگرچہ، خندق کھود نے کر دفاع کی حکمت عملی خاصی کامیاب رہی تھی، مگر اعصابی طور پر وہ گھٹ کر رہ گئے۔ دشمن منہ پر کھڑا، معاملات کو 'غیر عرب' طریقے سے نمٹنے کے طعنے دیتا رہا اور بجائے یہ کہ وہ روایتی عربوں کی طرح اس کو سبق سکھاتے اور دو بدو لڑتے، سارا وقت لڑائی اور لعن طعن سے بچنے کی کوشش کرتے رہے۔ یعنی، انہیں فتح تو مل گئی تھی مگر وائے افسوس، ان کی غیرت اور حمیت پر گہری کاٹ لگ گئی۔ یہ ایسی صورتحال تھی کہ ابن ثابت جیسے کہنہ مشق اور نامی گرامی، لفاظی کے ماہر شاعر کے لیے بھی بچوں اور عورتوں کے ہاتھوں خندق کھود کر دفاعی حصار بنانے کی حکمت عملی میں سے جرات اور بہادری کے قصیدے نکال لانا ممکن نہیں تھا۔
دنیا کا کسی رہنما کے لیے اپنے کٹر حامیوں کو یوں منحرف ہوتا دیکھنا، ممکن نہیں ہوتا۔ بلکہ اس کے لیے یہ گنجائش نہیں ہوتی۔ محمد صلعم کے لیے مومنین کے حوصلے بلند کرنے اور مضبوط اختیار کی یقین دہانی کرانے کے لیے عملی اقدامات اٹھانا انتہائی ضروری ہو گیا تھا۔ انہوں نے یہ قدم اٹھانے میں مزید وقت ضائع نہیں کیا۔ اسی دن، یعنی جمعہ کے روز دوپہر کو، ابو سفیان کے لشکر کی واپسی کے صرف پانچ گھنٹوں کے بعد ہی، جب لوگ مسجد میں ہفتہ وار اجتماع کے لیے جمع تھے، آپ صلعم نے ایک نئی دشمنی کا اعلان کر دیا۔ یہ دشمن، مدینہ میں بچ جانے والا آخری یہودی قبیلہ قریظہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ جبرائیل ظاہر ہوا ہے۔ اس نے اطلاع دی اور تاکید کی ہے کہ، 'قریظہ کے دل میں اپنا خوف بٹھا دو'۔ یعنی، مبینہ طور پر مکہ کے ساتھ مل کر امہ کے خلاف ساز باز کرنے کی سخت سزا دی جائے۔
آخر قریظہ ہی کیوں؟ بلاشبہ، مدینہ میں آپ صلعم پر عدم اطمینان کا اظہار کرنے والے، ان کی جارحانہ پالیسی کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال، یعنی مدینہ کے محاصرے پر شاکی صرف قریظہ تو نہیں تھے۔ یہ ضرور تھا کہ یہ یہودی قبیلہ نسبتاً الگ تھلگ اور بے طاقت تھا، چنانچہ 'منافقین' کے مقابلے میں آسان ہدف ہوتا۔ 'منافقین' کا یہ تھا کہ انہوں نے بظاہر اسلام قبول کر لیا تھا اور ان کی ایک بڑی تعداد مدینہ کے مقامی قبائل اوس اور خزرج سے تعلق رکھتی تھی اور نخلستان میں پھیلی ہوئی تھی۔ ان میں کئی با اختیار اور مقامی آبادی پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔
بہرحال، افواہیں اپنا کام کر چکی تھیں اور قریظہ کے لیے حالات سازگار نہیں رہے تھے۔ وہ غیر محفوظ ہو چکے تھے اور مدینہ کے اندرونی سیاسی منظر نامے پر مات کھا چکے تھے۔ سیاست کی زبان میں کہیے تو وہ قربانی کا بکرا بن چکے تھے اور اب وہ امہ میں پھیل رہی بے چینی اور مایوسی کو ختم کرنے کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔ نہ صرف یہ کہ محمد صلعم کو پہلے ہی ذاتی طور پر ان کے یہاں پیغمبر تسلیم نہ ہونے کی مایوسی تھی بلکہ اب ان کے پیروکاروں کو محاصرے کے دوران پیش آنے والی صورتحال اور لعن طعن کا بھی ازالہ ہو سکے گا۔ یوں، آن کی آن میں، جب کہ آج صبح تک مومنین خود محصور تھے، شام ڈھلنے تک محاصر بن جائیں گے۔ وہ اجتماع کے بعد مسجد سے گروہوں کی شکل میں تلواریں، نیزے، خنجر اور تیر کمان سے لیس ہو کر برآمد ہوئے اور قریظہ کے گاؤں کو چاروں طرف سے گھیر لیا۔
اپنے قلعہ نما گاؤں کے اندر قریظہ کے سردار نے قبیلے کی کونسل کا اجلاس بلا لیا اور اراکین کے سامنے اس نئے قضیے سے نمٹنے کے لیے تین طرح کی تجاویز پیش کیں۔ پہلی تجویز یہ تھی کہ وہ اپنی یہودی شناخت ترک کر دیں ، اسلام قبول کر کے محمد صلعم کو واقعی پیغمبر تسلیم کر کے اپنی ساری وفا داریاں حتمی طور پر ان کے ساتھ منسلک کر دیں۔ دوسری تجویز یہ تھی کہ جب سبات میں مذاکرات کا مرحلہ آئے تو وہ محمد صلعم اور ان کے وفد پر اچانک حملہ کر دیں اور وہیں کام تمام کر دیں۔ یہ قصہ ہی ختم ہو۔ جبکہ، تیسرا اور آخری راستہ 'مسادہ' تھا۔ مسادہ سے مراد یہ ہے کہ قبیلے کے مرد ، عورتوں اور بچوں کو قتل کر دیں تا کہ انہیں قید اور غلامی میں جھونکنے سے بچایا جا سکے اور پھر جب یہ ہو رہے تو وہ خودکشی کر لیں یا لڑتے ہوئے مر جائیں۔ مسادہ نامی یہ تجویز، تاریخ میں اس واقعے کی روایت ہے جب 73ء میں نو سو سے زائد یہودی مرد، عورتوں اور بچوں کے ایک گروہ، جس کو رومیوں نے محاصرے میں لے رکھا تھا، ہتھیار ڈالنے کی بجائے خود کشی کر لی تھی۔ کونسل نے سردار کی تینوں ہی تجاویز کو مسترد کر دیا۔ قریظہ کا سردار بگڑتی ہوئی صورتحال کو پہلے ہی بھانپ چکا تھا لیکن شاید کونسل کے باقی اراکین حالات کا رخ دیکھ نہیں پا رہے تھے۔ ان کا نکتہ نظر یہ تھا کہ یہ معاملات کسی بھی صورت اتنے شدید رد عمل کے متقاضی نہیں تھے۔ ان کے اس خیال کی وجہ یہ تھی کہ قریظہ کے قبیلہ اوس کے ساتھ دیرینہ تعلقات تھے اور وہ یقیناً ان کی مدد کو آگے بڑھیں گے۔ چنانچہ، جیسا کہ عام طور پر خطرے سے دو چار لوگ کیا کرتے ہیں، ایک دوسرے کو تسلی اور تشفی دینے لگے۔ حقیقت یہ تھی کہ قریظہ ابھی تک سال بھر پہلے بنو نضیر کو مدینہ کی مقامی آبادی کی جانب سے ملے اس جواب کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر رہے تھے۔ وہ ابھی تک خوش فہمی میں مبتلا تھے۔ سال بھر پہلے ملنے والا جواب صاف تھا کہ، 'دل بدل گئے ہیں اور اسلام نے سارے پرانے اتحاد فسخ کر دیے ہیں' ۔
بہر حال، انہوں نے پھر بھی اوس سے مدد کی اپیل کر دی اور زور دیا کہ انہوں نے مدینہ کے لوگوں کے شانہ بشانہ خندق کھودنے میں حصہ لیا تھا۔ اگرچہ وہ محاصرے کے دوران آتش مزاجی سے دفاع میں پیش پیش نہیں رہے تھے تو اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ محاصرہ شمال میں واقع داخلی راستے پر کیا گیا تھا اور ان کا گاؤں وہاں سے آٹھ میل دور جنوب میں واقع تھا۔ اپیل میں قسم اٹھائی گئی تھی کہ انہوں نے عملی طور پر کسی بھی طرح سے محمد صلعم کے خلاف ساز باز میں حصہ نہیں لیا اور ا گر انہیں کچھ گلہ بھی تھا تو وہ بے جا ہے۔ انہوں نے جنگ کی صورتحال میں وہی کیا جو ایسے حالات میں کوئی بھی آزاد قبیلہ کرتا، یعنی اپنے لیے تصفیے کے ممکن تمام راستے کھلے رکھتا۔ اس اپیل کے جواب میں اوس نے مکمل خاموشی اختیار کر لی اور اب محمد صلعم قریظہ کے سا تھ ساتھ دوسرے تمام قبائل پر بھی سختی سے واضح کر دیں گے کہ امت میں 'قبائلی آزادی' نامی کسی شے کا کوئی وجود باقی نہیں ہے۔
قریظہ نے دو ہفتے تک محصور رہ کر مقابلہ کیا لیکن بالآخر چونکہ نا گزیر تھا، غیر مشروط ہتھیار ڈال دیے۔ انہیں گاؤں سے زنجیروں میں جکڑ کر بیڑیاں پہنائے باہر نکالا گیا مگر ان میں سے اکثر ابھی تک نتائج کے بارے پر امید تھے۔ بیشتر ابھی تک یہ سمجھ رہے تھے کہ بد سے بدترین حالات میں بھی، زیادہ سے زیادہ ان کا انجام وہی ہو گا جو اس سے پہلے دوسرے دو یہودی قبائل کا ہو چکا تھا۔ ویسے بھی، بے دخلی سے بڑی سزا کیا ہوتی؟ مگر، جلا وطنی ایک شے ہے اور قتل عام اس کے برعکس دوسری بات ہے۔
ہتھیار ڈالنے والے قیدیوں کو یوں پابجولاں برآمد کرنا کچھ اتنی اچھی نشانی نہیں تھی۔ اوس کے سردار اس کا مطلب سمجھتے تھے، چنانچہ فوراً ہی اپنے دیرینہ اتحادیوں کی مدد کو آگے بڑھے۔ انہوں نے جرح کی کہ کم از کم آپ صلعم قریظہ کی زندگیاں تو بخش ہی سکتے ہیں اور جیسا کہ اس سے پہلے قینقاع اور نضیر کے ساتھ سلوک ہوا، ویسا ہی کریں۔ لیکن، محمد صلعم صرف ماضی کو دہرانے کی بجائے کچھ بڑھ کر چاہتے تھے۔ اب کی بار، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ مستقبل کے لیے ایک ایسی مثال بنا کر پیش کر نے کا ارادہ رکھتے تھے جس کے بعد ماضی کو دہرانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ بار بار کی تنبیہ اور نشاندہی سے ایک ہی بار جان چھوٹ جاتی۔ چونکہ وہ اوس کی درخواست کو مسترد کر کے مدینہ کی مقامی آبادی کو طیش نہیں دلانا چاہتے تھے، اس لیے انہوں نے بظاہر ان سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیا۔ ' اوس کے لوگو!' انہوں نے وفد کے ہر شخص کی طرف فرداً فرداً اشارہ کرتے ہوئے کہا، 'کیا تم اس بات پر مطمئن ہو گے کہ تم میں سے ہی کوئی ایک قریظہ کی قسمت کا فیصلہ کرے؟'
انہوں نے بجا طور پر اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کیونکہ ان کا خیال یہ تھا کہ اس طرح وہ قریظہ کے قیدیوں کی جان بچا لیں گے۔ اگرچہ فیصلہ تو اوس میں سے ہی کسی کنبے کا کوئی شخص کرتا لیکن وہ شخص کون ہو گا، یہ فیصلہ بدستور محمد صلعم کے پاس تھا۔ قریظہ کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے جس شخص کو محمد صلعم نے چنا، وہ یقیناً جانتے تھے کہ وہ اسے کیوں چن رہے ہیں۔ بعض روایات میں، چنے جانے والے شخص پر اوس کے تقریباً اور قریظہ کے اکثر لوگوں کا اتفاق تھا۔ یہ قبیلہ اوس کے ایک نامی گرامی سردار سعد بن معاز تھے۔
سعد جنگجو اور سخت طبیعت کے مالک تھے اور 'خندق کی لڑائی' کے دوران اٹھنے والی افواہ، یعنی غطفان کو کھجور کی فصل کا تیسرا حصہ دینے کی بات پر شدید مخالفت کر چکے تھے۔ وہ فصل کا تیسرا حصہ تو کجا، ایک کھجور بھی دینے کے خلاف تھے۔ 'ہم انہیں اپنی ملکیت حوالے کر دیں؟' وہ غصے سے بولے تھے، 'ہر گز نہیں۔ ہم تلوار دیں گے'۔ ان کی تب خون بہانے اور بھڑ جانے کے شوق اور جوش کا نتیجہ بھی نکلا تھا۔ وہ خندق کے دفاع کے دوران، اپنی جارحانہ طبیعت کے باعث باہر نکل آئے اور تیر لگنے کے باعث شدید زخمی ہو چکے تھے۔ ان کی حالت تشویش ناک تھی اور وہ جانتے تھے کہ اب ان کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا۔ چونکہ وہ چلنے پھرنے سے قاصر تھے، اس لیے چمڑے کی ایک پالکی میں بٹھا کر محمد صلعم کے پاس لایا گیا اور وہاں انہوں نے اپنی بگڑتی ہوئی جسمانی حالت کا ذکر کرتے ہوئے، انصاف برتنے کا عہد کیا، 'خدا کی راہ میں میرا وقت آن پہنچا ہے اور مجھے کسی آدمی کی طرف سے الزام تراشی اور دوکھ کی کوئی پرواہ نہیں ہے'۔ مطلب یہ تھا کہ چونکہ موت قریب تھی تو لوگوں کو ان کے فیصلے پر کسی بھی طرح سے تعصب کا الزام دھرنے کی ضرورت نہیں تھی، بجائے یہ کہ عوام بد گماں ہو، انہیں اس حالت کے پیش نظر غیر جانبدار تصور کیا جانا چاہیے۔ لیکن، چونکہ ان کے نزدیک انصاف کے تقاضے صرف تلوار سے ہی بہتر طور پر پورے کیے جا سکتے تھے، یہاں بھی ان کی غیر جانبداری، تلوار کی طرف ہی مائل رہی۔ قریظہ کے لیے مختصر فیصلہ یوں صادر کیا کہ، 'مردوں کو قتل کر دیا جائے گا، جائیداد تقسیم ہو جائے گی اور عورتوں کو بچوں سمیت قیدی بنا لیا جائے'۔
بعض سکالروں کے خیال میں، سعد کا یہ کردار در اصل اوائل دور کے اسلامی تاریخ دانوں کی کارستانی ہے تا کہ وہ محمد صلعم کو قتل عام کی ذمہ داری سے مبرا قرار دے سکیں۔ اس طرح آپ صلعم کا اس بابت کردار بظاہر قابل انکار بن جاتا ہے۔ ان خطوط کے باعث یہ جواز دیا جا سکتا ہے کہ در اصل یہ محمد صلعم نہیں بلکہ سعد کا فیصلہ تھا اور آپ صلعم کے پاس ایک مرتے ہوئے شخص کی زبان کا بھرم رکھنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ لیکن، قریب سے دیکھیں تو خود یہ جواز ایک درد ناک حقیقت کو عیاں کرتا ہے کہ ایک ایسی چیز جس کا جواز تلاش کیا جا رہا ہے، کسی بھی صورت قابل جواز نہیں ہے۔ اس فیصلے کا کسی بھی طرح سے، کوئی عذر ممکن ہی نہیں ہے۔ یہاں یہ بات بھی خاصی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے کہ محمد صلعم اتنا بڑا اور نازک فیصلہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں دے دیں گے اور فیصلہ کرنے والا شخص آپ صلعم کا قریبی مشیر بھی نہیں تھا؟ اور پھر، اگر یہ فیصلہ خود محمد صلعم نے صادر نہ بھی کیا ہو، کم از کم اس فیصلے میں ان کی منشاء اور مرضی ضرور رہی ہو گی؟ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ جب فیصلہ سنا دیا گیا تو اس فیصلے پر عمل در آمد خود آپ صلعم کی نگرانی میں کیا گیا۔ مدینہ کے مرکز میں بازار سے ہٹ کر گڑھے کھود لیے گئے اور جب یہ ہو گیا تو قریظہ کے تمام مرد، ابن اسحاق کی زبانی، ' وہ مرد جنہوں نے کبھی اپنی ٹھوڑی پر استرا پھیرا ہے'، دو دو اور چار چار کی تعداد میں باہر لائے گئے، باری باری گڑھوں پر گھٹنوں کے بل بٹھا کر سر قلم کر دیے گئے۔
یہ آسان کام نہیں تھا۔ کسی کا سر قلم کرنا، اس وقت لڑی جانے والی لڑائیوں کی روایتی کہانیوں سے یکسر مختلف ہے۔ ماننے والوں کی کئی ٹولیاں اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے صبح اور شام کے کئی گھنٹوں تک جتی رہیں۔ دن چڑھ کر گرمی میں وہ کاروائی روک دیتے۔ یوں، تین دن تک مسلسل صبح شام جاری رہنے والے اس قتل عام کے بعد یہ کام مکمل ہو گیا اور لاشوں سے بھرے گڑھوں میں مٹی بھر دی گئی۔
کچھ عینی شاہدین نے روایت کی ہے کہ ان گڑھوں میں چار سو کے لگ بھگ لاشیں دفن کی گئی تھیں، کئی دوسری روایات میں یہ تعداد نو سو کے قریب بتائی جاتی ہے۔ ہر دو صورت، مقتولین کی اتنی بڑی تعداد دہشت انگیز ہے۔ بدر اور احد کی لڑائیوں میں مرنے والے افراد کی تعداد ملا کر بھی چند درجن سے زیادہ نہیں تھی۔ یعنی، میدان جنگ کی گرما گرمی اور کھلی چھٹی کے باوجود تعداد اتنی کم رہی تھی لیکن یہاں، مدینہ کے عین مرکز میں سینکڑوں کی تعداد میں افراد کو باقاعدہ ایک ترتیب سے قتل کر دیا گیا۔ یہ دہشت سے بھر پور طاقت کا اس قدر بے رحم مظاہرہ تھا کہ اس کا اثر عرب کے طول و عرض میں پھیل گیا۔ پورے خطے میں اس کی باز گشت سنائی دی گئی اور اس کے اثرات وہی نکلے، جو مدینہ کی اس نئی ریاست کو مطلوب تھے۔ اب ہر طرح سے ، ہر کسی کو، اندرون یا بیرون، شیشے کی طرح واضح ہو گیا تھا کہ کسی بھی قسم کے اختلاف اور سازش کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
قریظہ کی ملکیت میں جو کچھ بھی تھا۔۔۔ مکان، کھجور کے باغات، ذاتی املاک اور جائیداد، فیصلے کے تحت مومنین میں برابر بانٹ دی گئیں اور شرعی قانون کے مطابق اس کا پانچواں حصہ مال خانے کی ملکیت قرار پایا۔ زیادہ تر عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر تقسیم کر دیا گیا اور کچھ کو نجد میں گھوڑوں اور اسلحے کے عوض فروخت کر دیا گیا۔ لیکن، قریظہ کی ایک عورت جس کا نام ریحانہ تھا، ان سب سے مختلف سلوک کی مستحق قرار پائیں۔ ریحانہ بنو نضیر میں پیدا ہوئی تھیں لیکن قریظہ میں بیاہی گئیں اور شاید ان کی دو یہودی قبائل سے یہ وابستگی ہی تھی، جس کے باعث محمد صلعم نے انہیں پہلے ہی علیحدہ کروا دیا۔ لیکن ، یہ علیحدگی ان کو خصوصی سزا دینے کے لیے نہیں تھی بلکہ آپ صلعم نے ریحانہ کے ساتھ نکاح کر لیا۔ وہ محمد صلعم کی ساتویں منکوحہ بیوی تھیں۔
ریحانہ کا سابقہ شوہر اور تمام مرد رشتہ دار ان کی آنکھوں کے سامنے قتل کر دیے گئے تھے، یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ یہ نکاح اور بعد از نکاح، آپ صلعم کے ساتھ یہ بندھن کیسا رہا ہو گا، لیکن یہاں نکتہ یہ نہیں ہے۔ اس نکاح سے ایک پیغام دینا مقصود تھا۔ وہ یہ کہ قریظہ کے اس انجام سے بھلے محمد صلعم ان لوگوں کے لیے بے رحم اور بے درد ثابت ہوتے ہوں جو ان کے اختیار کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے لیکن بہر حال وہ پھر بھی، نئے اتحاد اور شروعات کرنے پر کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔ جب ایک بار پوری قوت سے سنگ دلی دکھا دی گئی تو اب یہ نئی شروعات کا وقت تھا۔
دلیل اور تاویل کے بیچ اگر خفیف نہ سہی، مگر ایک باریک دھاگے بھر کا فرق ضرور ہوتا ہے۔ قریظہ کے قتل عام پر صدیوں سے بے شمار دلائل پیش کیے گئے ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ قریظہ نے مکہ کے ساتھ مل کر محمد صلعم کے خلاف ساز باز کی، حالانکہ ان کے اس فعل کے آج تک کوئی ٹھوس شواہد نہیں مل سکے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ یہ اس زمانے اور مقام کے اعتبار سے ریاستی امور چلانے کا رائج اور عین ممکن طریقہ کار تھا، جو درست نہیں۔ ایک اور جواز یہ ہے کہ محمد صلعم نے خود حکم جاری نہیں کیا جو تکنیکی لحاظ سے درست بھی ہے۔ ایک اور بات یہ کہی جاتی رہی ہے کہ قریظہ کو اسی سلوک کی توقع تھی، حالانکہ ان میں سے بیشتر آخر تک پر امید رہے۔ اسی طرح یہ کہ، محمد صلعم کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، حالانکہ اس وقت بھی متوقع فیصلہ، یعنی جلا وطنی کا متبادل موجود تھا۔ ایک اور بات یہ بھی ملتی ہے کہ مقتولین کی تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے، جو ممکن ہے کہ درست ہو لیکن وہیں یہ بھی ممکن ہے کہ یہ بات درست نہ ہو کیونکہ، ہر دو صورت شواہد ایک دوسرے سے میل نہیں کھاتے، وغیرہ وغیرہ۔
اگرچہ قران میں 'قتال' کی اجازت دی گئی تھی لیکن قران میں ہی، جب دشمن ہتھیار ڈال کر خود کو حوالے کر دے، اس صورت میں عداوت کی ممانعت ہے۔ زیادہ تر مسلم فقہاء یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ شاید قتل عام یوں پیش نہیں آیا جیسا کہ ابن اسحاق نے بیان کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بظاہر یہ قرانی تعلیمات کے منافی معلوم ہوتا ہے۔ ان میں سے چند ایک تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ ایک سازش ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس کا مقصد اسلام کو بدنام کرنا ہے اور قریظہ کو 'شہداء' کا درجہ دینے کی کوشش ہے۔ بلا شبہ، کئی یہودی سکالروں نے قریظہ کو مسادہ کے باغیوں جیسا بنا کر پیش کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔ ان باغیوں نے رومیوں کے آگے ہتھیار ڈالنے کی بجائے خود کشی کر لی تھی۔ حالانکہ، سچ یہ ہے کہ قریظہ نے پہلے ہی مسادہ کے طرح کی تجویز کو بالخصوص، تعین کر کے رد کر دیا تھا۔ اس بحث کے بیچ کچھ عیسائی سکالر بھی کود پڑتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ قریظہ کے ساتھ کیا جانے والا سلوک اور طریقہ کار کا آج جدید دور میں جنگ و جدل کے مغربی اصولوں کا کسی بھی طور ساتویں صدی عرب کے قاعدوں کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن، ان کی حقیقت یہ ہے کہ وہ اس معاملے میں ایک طرف مستشرقین کی برداشت کا امتحان لیتے اور انکساری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے نظر آتے ہیں جبکہ دوسری طرف قرون وسطی اور بیسویں صدی عیسوی میں یورپی تاریخ کے ایسے ہی دہشت ناک واقعات سے یکسر آنکھ چرا لیتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں کہیے تو وہ شر پھیلاتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔
اوپر بیان کردہ تقریباً تمام ہی دلائل اور تاویلات میں ایک بات سانجھی ہے۔ وہ یہ کہ ان میں سے ہر ایک میں ترش حقائق پر مبنی تاریخ کے اس بد مزہ نوالے کو نگلوانے کی سر توڑ کوشش کی گئی ہے۔ اس کی بے سوادی کو کم کرنے کا سامان کیا گیا ہے۔ چنانچہ، اس معاملے کو اچھی طرح سمجھانے کے لیے تاریخ میں ہمارے پاس جانے پہچانے سخت حقیقت پسند میکا ویلی بھی ہیں۔ کیوں نہ، ان سے رجوع کرتے ہیں؟ میکا ویلی بغیر کوئی لگی لپٹی رکھے، نہایت سادہ انداز میں ایسے ریاستی معاملات کی تعریف کچھ یوں کرتے ہیں کہ، 'اصل سوال سختی یا بے رحمی کے درست یا غلط ہونے کا نہیں بلکہ اس کے استعمال کا ہے۔ یعنی، کیا اس کا استعمال اچھا تھا یا برا؟' لیکن یہاں میکا ویلی جو سیاسیات کے ماہر مانے جاتے ہیں، خود ہی اپنے سوال میں استعمال کیے جانے والے الفاظ میں بری طرح الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں، 'ہم کہہ سکتے ہیں کہ سختی یا بے رحمی کا استعمال اچھی طرح کیا گیا ہے: وہ یوں کہ اگر ہمیں بدی یا برائی کی اچھی طرح نہ صرف سمجھ ہو بلکہ ہم اس بابت انہی خطوط پر بات بھی کر سکیں۔ پھر یہ کہ اس کا استعمال صرف ایک ہی بار اور حتمی معنوں میں کیا جائے۔ اور پھر یہ کہ اس کا استعمال اس لیے نا گزیر ہو کہ اس سے فتنے کو روکنا مقصود ہے۔ اور آخر میں اس روش کو جاری نہ رکھا جائے بلکہ جس قدر ممکن ہو، اس ایک ہی دہشت ناک مثال کو بار بار اصلاح کے معنوں میں استعمال کیا جاتا رہے'۔ یہاں، ایک ہی جملے میں چار مشروط عبارتیں بیان کی گئی ہیں۔ میکا ویلی نہایت چالاکی سے ایک حاشیہ کھینچتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس سے کوئی حل نہیں نکلتا یا ایسے کسی بھی فعل کی توجیہ برآمد نہیں ہوتی۔ اسی لیے وہ آگے چل کر واپس اپنے اصل سوال کی طرف مڑ آ تے ہیں۔ کہتے ہیں، 'ایک حکمران کے لیے ضروری ہے کہ وہ بے رحمی اور سختی کی بجائے صلہ رحمی اور درد مندی کو اپنی ساکھ بنائے۔ لیکن، اس کے ساتھ ساتھ وہ محتاط رہے کہ صلہ رحمی اور درد مندی کو بری طرح استعمال نہ کرے، اس کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوئی صورت نہ چھوڑے'۔ خود میکا ویلی کے لیے بھی یہ نہایت نازک مقام ہے اور ان کی اسی منطق کی وجہ سے بالآخر ان کے اپنے ہی نام کو بٹا لگ جاتا ہے اور آج ان کے ناقدین، انہیں کچھ اچھی نظر سے نہیں دیکھتے۔ میکا ویلی کی دلیل یہ ہے کہ حقیقت میں بے رحمی، رحمدلی سے کہیں زیادہ درد مند اور دیا لو، یعنی پر اثر ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ ایک ایسی بات لکھ گئے ہیں کہ جس کی وجہ سے دنیا بھر میں جبر کرنے والے ڈکٹیٹروں کی مشکل آسان ہو جاتی ہے، انہیں اپنے ناجائز سلوک کا جواز مل جاتا ہے کہ، 'بے رحمی کی اکا دکا مثالیں قائم کرنے والا حکمران ان حکمرانوں سے کہیں زیادہ رحمدل اور درد مند ہوتا ہے جو ریاست میں صرف رحمدلی کا ڈھونگ رچا کر بد امنی کا باعث بن جاتے ہیں اور ہر طرف قتل و غارت عام ہو جاتی ہے'۔
حالانکہ، 627ء میں ہوئے قریظہ کے اس قتل عام کو اگر آج مشرق وسطی میں جاری تصادم کی روشنی میں دیکھیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس ایک واقعے کی وجہ سے ایک ہولناک مثال قائم ہو گئی ہے۔ یہاں آج بھی مذہب اور سیاست بری طرح ایک دوسرے میں الجھے ہوئے ہیں، جیسے ساتویں صدی عیسوی میں رہا کرتے تھے۔ اوائل دور کی اسلامی تواریخ میں اس قتل عام کی جو بھی توجیہات پیش کی گئی ہیں وہ آج بھی اسی شدت کے ساتھ کاری ہیں۔ ان کے ساتھ قران میں مدینہ کے یہودیوں پر محمد صلعم کی رسالت سے انکار پر غم و غصے کو بھی استعمال میں لایا جاتا ہے اور یوں ایک ہی درخت کی دو شاخوں کی عجب انتہا ہیں پیدا ہو کر رہ جاتی ہیں۔ ان انتہاؤں کو آج ہم 'مسلمانوں کی یہود دشمنی' اور 'یہودیوں میں اسلامو فوبیا' کے نام سے جانتے ہیں۔ تا ہم، محمد صلعم کو اپنے وقت میں در پیش سیاسی صورتحال کی روشنی میں اس سارے معاملے کا معروضی اور نسبتاً جذبات سے باہر نکل کر جائزہ لیا جا ئے تو ایک واضح صورت نظر آ سکتی ہے۔ وہ یہ کہ قریظہ کا قتل عام بلا شبہ طور پر بے رحمی کا ایک بھیانک مظاہرہ تھا لیکن وہ اس سیاسی کشتی میں دو طرفہ نا گزیر نقصان کا شکار ہو گئے۔ سختی کے اس مظاہرے کا اصل ہدف قریظہ یا یہودی نہیں تھے بلکہ مدینہ کے وہ لوگ تھے جنہیں محمد صلعم کے اختیار اور رہنمائی پر ابھی تک شبہ اور امور مملکت پر تحفظات رہا کرتے تھے۔ اگر اس سے پہلے کسی کے دل و دماغ میں آپ صلعم کے اختیار اور طاقت بارے کوئی شک و شبہ رہا تھا، وہ اب اچھی طرح رفع ہو گیا۔ سب کو معلوم ہو گیا کہ اصل طاقت کس کے ہاتھ میں ہے۔
ریاست میں اس طرح کی سیاست کا رنگ ہم آج بھی دنیا میں جا بجا دیکھ سکتے ہیں ۔ آج بھی کبھی نہ ختم ہونے والے مباحثوں میں یہ گردان جاری رہتی ہے جیسی کہ اس طریق سیاست کا تب محمد صلعم کے زمانے میں ہر جا تذکرہ رہا کرتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف اسی طرح، یعنی دلائل اور استدلال کو ایک طرف رکھ کر، مباحثوں کو خاطر میں نہ لا کر، سخت مظاہر کی بدولت ہی ایسا دیر پا اختیار اور حکم قائم کیا جا سکتا ہے جو طویل عرصے تک مراعات اور اجابت کی فراہمی کی بنیاد بن سکتا ہے۔ نئے دور کو جنم دے سکتا ہے اور ممکنات کے لیے راہیں کھول سکتا ہے۔ معروضی معنوں میں تو یہ طریقہ کار انا پرست رویہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے جو کہ ریاست کے عملی اور زمینی معاملات میں عجب ہی معلوم ہو گا۔ ویسے بھی، ہم ریاست کو در پیش حالات میں اٹھائے جانے والے ایسے اقدامات بارے کبھی بھی حتمی طور پر کچھ کہنے سے قاصر ہی رہتے ہیں کیونکہ ہم نہیں جانتے کہ اگر نسبتاً نرم رویہ اختیار کیا گیا ہوتا تو جانے، کیا ہوتا؟ اس کہانی میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ محمد صلعم کے لیے یہ حکمت عملی خاصی کامیاب رہی۔ انہوں نے مدینہ کے ہر شخص ، گروہ، قبیلے اور بیرون میں صحرا کے دور دراز علاقوں میں بسنے والوں تلک بھی واضح کر دیا کہ ضرورت پیش آنے پر وہ آخری حد تک جانے کے قابل ہیں۔ طاقت کا استعمال نا گزیر ہوا تو وہ ہر گز نہیں چوکیں گے، دریغ نہیں کریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہیں ہر طرح کے اندرونی اور بیرونی ریاستی خلفشار اور روز روز کے جھمیلوں سے چھٹکارا مل گیا ۔ اب وہ نہایت تسلی کے ساتھ مستقبل کے لیے ایک نہایت پر امن راستہ، خوب صورت نقشہ کھینچنے، اور ریاست کی ایک واقعی فلاحی شکل ترتیب دینے کی طرف توجہ مبذول کر سکتے تھے۔ ان کی نظریں اب مکہ پر تھیں اور قریش کے ساتھ معاملات کو نبٹانے کے لیے، میسر آنے والے اسی ریاستی امن، سیاسی سکون اور رہنمائی کے لیے انتہائی ضروری ذہنی اطمینان کا بھر پور استعمال کیا کریں گے۔

صلہ عمر پر 'اول المسلمین: محمد صلعم کی کہانی'  | باب نمبر 18 کے لیے یہاں کلک کریں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر