اول المسلمین - جلا وطن - 18

 


شاید، پوری تاریخ انسانی  میں محمد صلعم کے اپنے آبائی شہر میں لوٹ کر آنے جیسی دوسری مثال نہیں ہو گی۔ جلا وطن ہونے والا ہر شخص واپسی کے خواب دیکھتا ہے۔ لیکن صرف واپسی  کا خواہاں نہیں ہوتا بلکہ چاہتا ہے کہ جب پلٹ کر آئے تو اس کا   بھر پور خیر مقدم ہو۔ وہ لوگ جنہوں نے  جلا وطنی  پر مجبور کیا تھا، ماضی کی ہر  زیادتی پر نادم کھڑے  ہوں اور عوامی سطح پر اس کا  ازالہ، واپس چلے آنے  کی بھیک مانگ کر کریں۔ لیکن، آخر  ایسا کیونکر  ہو؟ وہ جگہ جہاں سے نکال دیے گئے۔  جو چھوٹ گئی تھی،  واپس  چلے بھی آ ئیں تو بھی  ویسی کی ویسی ہی   رہے گی۔   پیش منظر، لوگ اور ہر وہ چیز جس سے  اپنائیت محسوس ہوتی ہے،   نقشہ تو وہی رہتا ہے۔  ہاں، مندرجہ بالا خواب کے پورا ہونے کے لیے  جگہ نہیں، لوگوں  میں تبدیلی لازم ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی، کیا ہے؟  جو بھی ہے، جب  یہ انہونی  ہو جائے،  اگر ہو جائے تو   اسی جگہ پر ہر شے مانوس مگر بدلی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ جیسے،  کچھ انوکھا  رونما ہو چکا ہے۔  ہر جلا وطن یہ چاہتا ہے کہ   وہ جو  انہونی ہے، اسی کی بدولت ہوا کرے اور  اس کی واپسی ہی  اس  تبدیلی کا  مظہر ہو جائے۔ اس کا آنا، صرف آنا نہیں بلکہ نئی شروعات ہو۔  واپسی کا سفر ایک علامت  قرار پائے اور لوگ اس کی آمد سے  بہتر مستقبل کی امید  پال لیں۔  یہ وہ خواب ہے جس کے بل بوتے پر ہجرت کرنے والا ہر شخص پردیس میں  ایک ایک دن اور رات گن کر گزارتا ہے۔ یہ وہ  منزل  ہے جس پر پہنچنے کے لیے جلا وطن ہونے والا ہر آدمی سالہا سال  تک  غریب الوطنی کے کٹھن  سفر میں بھی،  ہمت ہارے بغیر،   چلتا ہی چلا جاتا ہے۔
لیکن محمد صلعم کے لیے ابھی تک  ایک بھی ایسا فاتحانہ لمحہ نہیں آیا تھا جسے  جلا وطن کے خواب کی تعبیر قرار دیا جا سکے۔ پھر، جب ایسا ہوا بھی تو مقامی لوگوں کی طرف سے استقبالی نعرے بلند ہوئے اور نہ ہی خیر مقدم کے لیے  پہلے سے ہجوم جمع ہوا۔ راستے سجائے گئے اور نہ ہی ان کے قدموں میں پھول برسائے گئے ۔ سابقہ دشمنوں نے بھی ڈرامائی انداز میں  اپنے گزشتہ سلوک پر پچھتاوے میں  رو رو کر جان ہلکان نہیں کی ۔ یہ بھی نہیں ہوا کہ وہ  جذبات میں بہہ گئے ہوں اور  بے اختیار  آپ صلعم کو گلے لگا لیا ہو۔ ایسا کچھ بھی تو نہیں ہوا۔ جو  واقعتاً ہوا، اس سے تو آپ صلعم کی واپسی  صرف ایک   ایزادی عمل  معلوم  ہوتا ہے۔ یہ  عمل اس  قدر ہنر مندی سے  مکمل ہوا  کہ تیسرے اور آخری مرحلے پر تو اس پر فتح کی بجائے اتمام یا کسی عمل مسلسل کی تکمیل کا گماں ہوتا ہے۔ بہر حال، پھر بھی یہ انوکھی داستان ہے ۔  تاریخ میں اس جیسی دوسری کوئی  مثال نہیں ہے۔
اس قصے کی شروعات 628ء کی ایک رات میں دیکھے گئے، اصل خواب سے ہوتی ہے۔ اس خواب میں، محمد صلعم کعبہ کے دروازے پر کھڑے ہیں اور ہاتھ میں اس کی چابی تھام رکھی ہے۔ سر ایک زائر کی مانند مونڈا ہوا اور احرام پہنے ہوئے ہیں۔ احرام زائرین کا لباس ہے جو لینن کی دو چادروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک کمر سے باندھ کر اور دوسری کو پیٹھ پر سے گھما کر کندھوں پر گرا دیا جاتا ہے۔ خیر، جب بیدار ہوئے تو وہ جانتے تھے کہ انہیں کیا کرنا ہے؟ وہ میدان جنگ میں تین بار مکہ کے ساتھ برابری کی سطح پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کر چکے تھے اور اب وقت آ گیا تھا کہ وہ قریش کو احرام سے جڑی کمزوری اور حرمت کعبہ کی مجبوری کی مدد سے زیر کریں۔ حرم ایسی جگہ تھی کہ جہاں میدان جنگ کے بر عکس تلوار اور تیر بھالوں کے زور پر صرف ایک دن نہیں بلکہ جیسا کہ خواب میں اشارہ ہوا تھا، غیر مسلح ہو کر کوئی بھی دن اپنے نام کیا جا سکتا تھا۔
حرم کی زیارت کے دو طریقے تھے اور وہ دونوں ہی آج بھی اسلام کا حصہ ہیں۔ ان میں سے افضل طریقہ حج کا ہے۔ تب بھی، یہ اجتماع سال کے آخری، یعنی بارہویں مہینے ذو الحج میں منعقد ہوا کرتا تھا اور واقعی زیارت تھی۔ لیکن، اس کے علاوہ ایک دوسرا طریقہ بھی تھا جسے عمرہ کہا جاتا ۔ عمرہ کا مطلب، احترام، اطاعت یا عہد وفا داری کے ہیں۔ عمرہ کی زیارت سال کے کسی بھی وقت کی جا سکتی تھی۔ محمد صلعم نے خلاف توقع، اسی دوسری طرز کی زیارت، یعنی عمرہ ادا کرنے کا ارادہ باندھ کر قریش کو ہکا بکا چھوڑ دیا۔
حجاز کے طول و عرض میں محمد صلعم کے اس ارادے کی خبر فوراً ہی پھیل گئی اور ہر شخص، کنبہ، قبیلہ اور خانہ بدوش آپ صلعم کے اس غیر متوقع اور نڈر اعلان پر مدح سرا ئی کرتے تھکتا نہیں تھا۔ ویسے بھی یہ زبردست حکمت عملی تھی۔ غور کریں تو بظاہر ایسا لگتا کہ جیسے محمد صلعم قریش کے ساتھ ایک نئی چال کھیل رہے تھے، بلکہ انہی کی چال ایک بار پھر ان پر الٹ رہے تھے۔ کمال یہ تھا کہ اصل میں ان کا یہ قدم پورے خلوص اور سچائی کے ساتھ، ایک محترم عمل کے لیے اٹھ رہا تھا۔ دوسری طرف قریش کے لیے محمد صلعم کا مکہ میں داخلہ ممنوع قرار دینا، تقریباً ناممکن تھا۔ آخر وہ ایسا کیسے کرتے؟ قریش نے ہمیشہ سے ہی خود کو حرم کی تحویل داری پر مامور کر کے اپنی ساکھ اسی بنیاد پر کھڑی کی تھی کہ وہ ہر زائر کو اس کا حق، یعنی اس کے لیے، اس کی ضرورت اور خواہش کے عین مطابق زیارت کو یقینی بنائیں گے۔ مکہ کی اشرافیہ کے لیے کسی بھی زائر کو اس کے حق سے محروم رکھنا کسی بھی صورت ممکن نہیں تھا، وہ ایسا سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ ایسا کرنا خود ان کی عوامی ذمہ داری میں کھوٹ تصور کی جاتی، وہی قصور وار ٹھہرتے۔ اگر وہ کسی پر یوں ہی روک لگاتے تو گویا وہ حرم کی تحویل داری کے حق کو خطرات سے دوچار کر دیتے۔ یہ وہ حق تھا جس پر قریش نازاں تھے، خطہ عرب و حجاز میں محترم سمجھے جاتے تھے۔ ویسے بھی، یہ صرف ایک زائر یا زائرین کے گروہ کی بات نہیں تھی۔ بھلا وہ محمد صلعم جیسے شخص کو زیارت سے کیسے روکتے؟ کیا وہ واقعی احرام میں لپٹے، غیر مسلح زائرین پر حملہ کر سکتے تھے؟ انہی زائرین کا خون بہا سکتے تھے جن کے تحفظ کا وہ عہد باندھتے چلے آئے ہیں؟ اس طرح تو وہ حرم کی عزت اور حمیت پر کالک مل دیتے۔ اس ایک اعلان، یعنی عبودیت کے ایک معمولی سے فعل کا ارادہ باندھنے سے ہی محمد صلعم نے قریش کو چکرا کر رکھ دیا۔ قریش اس شش و پنج میں مبتلا ہو گئے کہ خدا جانے، وہ اب آگے چل کر کیا کرنے والے تھے؟ اگر وہ حرم تک پہنچ گئے تو پھر کیا ہو گا؟
آپ صلعم کی سربراہی میں سات سو لوگوں کا قافلہ، عمرے کی غرض سے دس روز کے سفر پر روانہ ہوا۔ یہ صف در صف لوگ امن کی نشانی بنے ہوئے تھے۔ ان کے پاس کسی بھی قسم کا جنگی ہتھیار، جیسے تلوار، تیر کمان اور نیزے وغیرہ نہیں بلکہ صرف عام خنجر تھے۔ یہ خنجر بھی ہتھیار نہیں بلکہ پانی کے کوزے کی طرح، ایک مسافر کی دوران سفر ضرورت کا سامان سمجھا جاتا تھا۔ اس قافلے کے آگے آگے موٹے تازے اور پلے ہوئے اونٹ چل رہے تھے جو قربانی کے لیے فربہ تھے اور ان کے گلے میں ہار ، مالائیں اور گھنٹیاں باندھ کر تیار کر رکھا تھا۔ ان میں سب سے اونچا اور خوب صورت اونٹ سب سے آگے چل رہا تھا۔ یہ نر سانڈ تھا جس کے نتھنوں میں چاندی کی نکیل ڈلی ہوئی تھی۔ یہ کبھی محمد صلعم کے اولین دشمن، قریش کے سردار ابو جہل کی ملکیت ہوا کرتا تھا۔ بدر کی لڑائی میں ابو جہل کی ہلاکت کے بعد آپ صلعم نے مال غنیمت میں اس اونٹ کو اپنے لیے رکھ لیا تھا۔ اب مکہ کے اس سفر پر اس اونٹ کو قربانی کی غرض سے ساتھ لانے کا مقصد اور اشارہ، واضح تھا۔
جیسا کہ محمد صلعم کو توقع تھی، قریش نے گھڑ سواروں کے ایک دستے کو شہر کے داخلی راستوں کی ناکہ بندی پر مامور کر دیا۔ فوجی دستے کا سامنا ہو جاتا تو شاید صحرا کے وسط میں بد مزہ صورتحال پیدا ہو سکتی تھی، جس کی لوگوں کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوتی۔ بدمزگی نہ بھی ہوتی تو آدھے راستے سے واپس لوٹنا بھی تو کسی صورت گوارا نہیں تھا۔ چنانچہ، اس کوفت سے بچنے کے لیے آپ صلعم نے بجائے سامنا کرنے یا واپس لوٹ جانے کے ایک تیسرا طریقہ یعنی راستہ بدلنے کا فیصلہ کیا۔ وہ اپنے پیروکاروں کو لیے رات کی تاریکی میں بقول ابن اسحاق، 'دشوار گزار گھاٹیوں میں پتلے راستوں پر' نکل گئے۔ گھڑ سواروں کا ان گھاٹیوں میں مدینہ کے زائرین کا پیچھا کرنا تو دور کی بات، داخل ہونا بھی محال تھا۔ ان گھاٹیوں میں سے ہوتے ہوئے محمد صلعم کا قافلہ مکہ کے شمال میں، شہر سے چند میل باہر نشیبی علاقے حدیبیہ میں جا نکلا۔ جس جگہ پڑاؤ کیا، وہاں ببول کا صرف ایک ہی بہت بڑا درخت تھا، جس کے نیچے موسم سرما کا سیلابی پانی، ایک تالاب کی صورت جمع تھا۔ وہ صبح ہونے سے پہلے ہی یہاں پہنچ گئے اور خیمے گاڑ کر آگ روشن کر دی۔ مقصد یہ تھا کہ دھوئیں اور روشنی سے کچھ ہی دور مکہ کے لوگوں کو اس قافلے کی آمد کی خبر ہو جائے۔ ویسے بھی، انہیں کچھ بھی چھپانے کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ تو زائرین تھے۔ ان کا مقصد امن تھا۔ جنگ ہر گز نہیں تھا۔ صبح ہوتے ہی اونٹوں کی ٹانگیں باندھ کر لنگڑا دیا تا کہ جب شہر میں داخل ہوں تو جانوروں میں ہلڑ نہ مچے۔ ہر آدمی نے اپنا واحد ہتھیار خنجر بھی نکال کر ایک طرف رکھ دیا اور نہا دھو کر احرام پہن لیے۔ جب تک مکہ کے گھڑ سوار ان تک پہنچتے، وہ روایت کے مطابق پیدل ہی شہر میں داخل ہونے کے لیے تیار تھے۔
چونکہ گھڑ سواروں کے پاس اب اس قافلے کا راستہ روکنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، انہوں نے وہی کیا۔ یہ روک ٹوک دیکھ کر بجائے قافلے کے زائرین رد عمل ظاہر کرتے، مکہ کے فوجیوں نے دیکھا کہ وہ تواتر سے صرف اور صرف حاضری کے کلمے ' لبیک اللھم لبیک' یعنی، 'اے اللہ میں حاضر ہوں، او لوگوں کے مالک، میں حاضر ہوں' کا ورد کیے جا رہے تھے۔ انہوں نے اس قافلے کو دھمکانے کی بہتیری کوشش کی مگر یہ تھے کہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ مومنین کی جانب سے یہ لڑائی اور جنگ کے اعلان کی بجائے ایمان کا مظاہر تھا ۔ ایسا شاندار مظاہرہ کہ جس میں سات سو نڈر مرد، نہتے ہو کر کوئی مزاحمت کیے بغیر جم کر اپنی جگہ پر کھڑے تھے۔ محمد صلعم نے حکم دیا کہ زائرین تب تک یوں ہی جمے رہیں جب تک کہ قریش انہیں شہر میں داخلے کی اجازت نہ دے دیں۔ ان کا صرف ایک مطالبہ تھا کہ زیارت کی غرض سے آنے والے ان زائرین کو ان کا حق، یعنی بلا روک ٹوک کعبہ تک رسائی دی جائے۔ وہ امن پسند ہیں اور امن چاہتے ہیں۔ لیکن، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مسلح فوجی اس انوکھے طریق پر بوکھلا چکے ہیں اور سپہ سالار کے لیے امن قائم رکھنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
چنانچہ ، جب کچھ بھی نہ سوجھا تو سپہ سالار نے فوراً ہی ایک گھڑ سوار کو شہر میں آگے کے لیے احکامات معلوم کرنے کے لیے شہر بھجوا دیا ۔ اس عجیب و غریب صورتحال سے نمٹنے کے لیے ابو سفیان نے بھی اسی وقت تجار کونسل کا ہنگامی اجلاس بلا لیا۔ لیکن، یہ کونسل واضح طور پر اس بابت کوئی فیصلہ لینے سے قاصر تھی۔ وہ سر جوڑ کر بیٹھ تو گئے تھے لیکن بے بسی عیاں تھی۔ اگر وہ محمد صلعم کو شہر میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں، تو بھی اور اگر ان پر روک لگاتے ہیں، پھر بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ یعنی، وہ یہ نوالہ نگل نہیں سکتے تھے اور اگلنے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔ یہی نہیں، بلکہ ان کے لیے مسائل اس لیے بھی بڑھ گئے کہ مکہ میں موجود ان کے بدو اتحادیوں نے بھی محمد صلعم کی طرف داری شروع کر دی۔ 'ہم نے تمہارے ساتھ ان خطوط پر اتحاد نہیں کیا تھا' ایک بدو سردار نے انہیں متنبہ کیا، 'کہ تم ان لوگوں کو واپس لوٹنے پر مجبور کر دو گے جو یہاں خدا کے گھر کی زیارت، اسے عزت بخشنے آئے ہیں؟ یا تو محمد صلعم کو اپنی مرضی سے وہ کرنے دو جس کے لیے وہ آیا ہے، نہیں تو ہم تمہارا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ مکہ میں ہمارا ایک بھی شخص ٹھہرنے کا مجاز نہیں رہے گا'۔
یہ آپ کے نکتہ نظر پر منحصر ہے مگر محمد صلعم کا یہ مظاہرہ دیکھتے ہی دیکھتے ایک دھرنے یا احتجاج کی صورت اختیار کر گیا۔ اب ظاہر ہے، ایسی صورتحال میں کچھ دے دلانا ضروری تھا ۔ اب تک ابو سفیان اچھی طرح جان چکے ہوں گے کہ محمد صلعم کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ چنانچہ، اس پیچیدگی سے نمٹنے کا ایک ہی طریقہ تھا۔ یعنی، مذاکرات شروع کیے جائیں۔ اگلے کئی روز تک دونوں فریقین کے بیچ، اعلی سطح کے وفود کی آمد و رفت جاری رہی ۔ مکہ اور حدیبیہ کے بیچ 'سفارتی' رابطہ قائم ہو گیا ۔ جس کے تحت کئی نامی گرامی لوگ تو بلا واسطہ محمد صلعم سے بات چیت کے لیے آتے رہے مگر ان کے علاوہ کئی ایسے بھی تھے جو قریش کی ایما پر چوری چھپے حدیبیہ میں محمد صلعم کے پیروکاروں سے ملاقاتیں کر رہے تھے۔ ان کا مقصد محمد صلعم کے قافلے میں پھوٹ ڈلوا کر، دھڑے تشکیل دینا تھا جو بالآخر پہلے خود اور پھر محمد صلعم کو وہیں سے خالی ہاتھ واپس لوٹ جانے پر مجبور کر دیتے۔
محمد صلعم نے اس حربے کا توڑ یوں نکالا کہ اپنے پیروکاروں کو اپنے ہاتھ پر بیعت کرنے کا حکم دیا۔ آپ صلعم ببول کے نیچے بیٹھ گئے اور مومنین میں سے ہر شخص، ایک کے بعد دوسرا آگے بڑھتا اور ان کے ہاتھ پر ہاتھ دھر دیتا اور بازو کو بازو سے جوڑ کر وفا داری کا دوبارہ سے عہد کر کے آگے بڑھ جاتا۔ فرداً فرداً، قافلے کے ہر شخص نے دوبارہ سے آپ صلعم کی رسالت کا اعتراف کیا اور اطاعت کا پکا وعدہ کیا۔ جب یہ ہو رہا تھا تو مکہ کا ایک وفد اس وقت وہیں موجود تھا۔ اس وفد میں ایک شخص پر اس نظارے کا بہت گہرا اثر ہوا۔ اس سے منسوب یہ بیان ابن اسحاق نے یوں رقم کیا ہے کہ، 'واللہ!' اس نے قریش سے کہا، 'اگر محمد صلعم کو کھانستے ہوئے بلغم آ جائے اور لعاب کے چھینٹے ان میں سے کسی کے کپڑوں پڑ جاتے تو وہ اسے پونچھ کر اپنے چہرے پر مل دیتا ہے۔ اگر وہ انہیں کوئی حکم دیں تو ہر شخص آگے بڑھ کر سب سے پہلے بجا لانے کی کوشش کرتا ہے۔ جس پانی سے وہ وضو کرتے ہیں، میں نے دیکھا ہے کہ لوگ اس پانی پر جھپٹ پڑتے ہیں۔ اگر انہیں محمد صلعم کی موجودگی میں بولنا پڑے تو وہ احترام میں آواز نیچی کر لیتے ہیں۔ ویسے بھی ان کا مطالبہ جائز ہے۔ ہمیں اس کو تسلیم کر لینا چاہیے'۔
قریش کے پاس واقعی اس مطالبے کو تسلیم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا لیکن اب صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی تھی کہ اگر وہ اجازت دے دیتے ہیں تو لوگ اسے ان کی کمزوری سے تعبیر کرتے اور مشہور ہو جاتا کہ بالآخر انہوں نے محمد صلعم کے دباؤ میں آ کر ہار مان لی ہے۔ جو ظاہر ہے، مکہ کو کسی بھی صورت قبول نہیں تھا۔ ابو سفیان اور محمد صلعم دونوں ہی کے لیے اب اپنی ساکھ بچائے رکھنا ضروری ہو چکا تھا اور وہ دونوں ہی ایک دوسرے کی اس ضرورت اور مجبوری سے اچھی طرح واقف تھے۔ چنانچہ، فریقین کے لیے بیچ کا راستہ اختیار کرنا نا گزیر ہو گیا۔ لیکن، محمد صلعم شروع سے ہی جانتے تھے کہ بالآخر صورتحال یہی رخ اختیار کر لے گی ، اسی طرح وہ صاف دیکھ رہے تھے کہ ان کے پیروکار ان معاملات کو ویسے نہیں دیکھتے، جیسا ان کا خیال ہے۔ مطلب یہ کہ وہ اس سیاسی پیش رفت کی پوری طرح سمجھ نہیں رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے مومنین کو ببول کے درخت کے نیچے عہد وفا داری کو دہرانے کا حکم دیا اور ہر شخص سے اطاعت کا وعدہ لیا۔ یہ ان کے لیے ضروری بھی تھا کیونکہ، اس ضمن میں اگلا قدم خاصا بھاری ثابت ہو سکتا تھا۔ اور جب یہ ہو رہتا تو ان کے پیروکاروں کا یقین قائم رکھنا اور انہیں ممکنہ حالات کے لیے پہلے سے تیار رہنا پڑتا۔ لیکن، بات یہ ہے کہ عملی طور پر اطاعت کے ان وعدوں کا واقعی اور سخت امتحا ن ہونا ابھی باقی تھا۔
بظاہر مکہ کی تجار کونسل کے ساتھ طویل مذاکرات کے بعد طے پانے والا معاہدہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جیسے کئی لحاظ سے غیر ضروری سمجھوتہ کیا گیا ہے۔ اس معاہدے کو 'صلح حدیبیہ' کا نام دیا گیا اور شرائط یہ تھیں کہ مکہ اور مدینہ کے بیچ اگلے دس برس تک مسلح جنگ نہیں ہو گی۔ پھر، یہ کہ مدینہ کی جانب سے مکہ کے تجارتی قافلوں پر حملے فی الفور بند کر دیے جائیں گے۔ پھر، یہ کہ اس عرصے کے دوران قبیلے اپنی مرضی سے دونوں میں سے کسی ایک فریق کے ساتھ اتحاد قائم کرنے میں آزاد ہوں گے۔ اگر وہ اس تحریر سے پہلے مکہ کے اتحادی تھے یا وہ محمد صلعم کے ساتھ تھے، اب وہ بغیر کسی ہرجانے اور سزا کے بغیر دوسرے فریق کے اتحادی بن سکتے ہیں۔ لیکن، اس کے علاوہ یہ کہ محمد صلعم اور ان کے پیروکار اس سال عمرہ ادا نہیں کریں گے۔
آخر وہ عمرہ کیوں نہیں ادا کر سکتے؟ محمد صلعم کو اس برس اپنے قافلے کے ساتھ واپس جانا پڑے گا تا کہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ انہوں نے مکہ کو اس معاہدے پر رضامند ہونے کے لیے مجبور کیا ہے۔ محمد صلعم اس پر راضی ہو جائیں تو قریش انہیں اور ان کے پیروکاروں کو اگلے برس انہی دنوں میں شہر میں داخلے اور عمرہ ادا کرنے کی پوری اجازت دیں گے۔
اس سارے معاملے کا یہ وہ نتیجہ نہیں تھا جس کی محمد صلعم کے ساتھ اہتمام کے ساتھ دس دن سفر کرنے کے بعد کئی روز تک حدیبیہ کے مقام پر رک جانے والے سات سو لوگ توقع کر رہے تھے۔ بالخصوص، مہاجرین تو آپے سے باہر ہو گئے۔ وہ پوری تیاری کے ساتھ آئے تھے اور انہیں یقین تھا کہ بالآخر وہ وقت آن پہنچا ہے کہ طویل جلا وطنی کے بعد آبائی شہر میں داخل ہو سکیں گے، اپنے رشتے داروں اور پیاروں کو دیکھ سکیں گے اور پیچھے رہ جانے والی شہر کی گلیوں، کوچوں اور یادوں کے ساتھ ایک دفعہ پھر جڑ سکیں گے۔ لیکن، ہوا کیا؟ اس معاہدے کے تحت انہیں پیچھے ہٹنے کا کہا جا رہا تھا، جو ان کے خیال میں قابل ذلت بات تھی، ان کا اپمان تھا۔ پھر، معاہدے کی باریکیاں، اس میں نپے تلے مگر ڈھکے چھپے انداز میں، جیسے ہوا کرتا ہے الفاظ کے ہیر پھیر سے بھی کچھ اچھا تاثر نہیں ملتا تھا۔ بالخصوص، اس شق سے کہ جس کے تحت بدو قبائل سابقہ اتحاد ترک کرنے میں آزاد تھے اور اب وہ مکہ اور مدینہ میں سے کسی کے ساتھ بھی الحاق کر سکتے تھے۔ اس سے بظاہر یہ تاثر ملتا تھا کہ محمد صلعم نے قریش کے ساتھ اختیار کو برابری کی سطح پر تسلیم کر لیا ہے۔ اس شق پر تو آپ صلعم کے قریبی مشیران بھی بٹے گئے تھے۔ جہاں ابو بکر اور علی معاہدے کے مندرجات میں طویل مدتی فائدہ دیکھ سکتے تھے، عمر اس کو کمزوری سمجھ رہے تھے۔ کیا وہ یہاں تک صرف اس لیے آئے تھے کہ انہیں 'اگلے سال' کے وعدے پر ٹرخا دیا جائے؟ کیا جنگ و جدل ترک کرنے، قافلوں پر حملے بند کرنے کی اتنی بڑی شرط کے عوض یہ سودا سود مند تھا؟ محمد صلعم کے پیروکاروں میں اس معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرنے والوں میں عمر خاصے سر گرم تھے اور ان کی آواز اونچی ہوتی چلی گئی، لیکن یہ بھی تھا کہ سارے مجمع میں یہ صرف عمر ہی تھے جنہوں نے با آواز بلند اختلاف کی جرات کی تھی۔ ابن اسحاق نے اس کشمکش کو یوں سمیٹا ہے کہ ، 'انہوں نے وہ دیکھا جو ہو چکا تھا۔ معاہدہ، پیچھے ہٹنے کی وجہ بن گیا اور محمد صلعم نے اس کی کڑی شرائط کو بخوشی قبول کر لیا تھا۔ وہ اس قدر رنجیدہ ہوئے کہ مایوس ہونے کے قریب تھے'۔
اگرچہ ہم نہیں جانتے لیکن پھر بھی، اگر معاہدے کے بعد محمد صلعم بھی اس سے مایوس تھے تو بظاہر انہوں نے اس کا اظہار نہیں کیا۔ اسی طرح ہم نہیں کہہ سکتے کہ آیا محمد صلعم نے یہ معاہدہ بحیثیت زائر، پوری نیک نیتی سے عاجزی اور انکساری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دستخط کیا تھا یا پھر وہ واقعی جانتے تھے کہ اس معاہدے کے تحت انہوں وہ حاصل کر لیا ہے جو وہ ایک عرصہ دراز سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ بلکہ، یہ کہنا مناسب ہو گا کہ انہیں امید سے کہیں زیادہ حاصل ہو چکا تھا۔ بہر حال، معاہدے کے دور رس اثرات آگے چل کر ظاہر ہو ہی جاتے، فی الوقت انہوں نے اس معاہدے کو اپنے پیروکاروں کے ایمان کا امتحان بنا کر پیش کیا۔ 'صبر کرو اور خود پر قابو رکھو' انہوں نے مومنین کو تاکید کی، 'اللہ ہمارا حامی و ناصر ہے۔ ہم نے ایک وعدہ کیا ہے اور ہم نے یہ وعدہ اللہ کے نام پر کیا ہے۔ ہم اس کو جھٹلا نہیں سکتے اور اپنی زبان سے پھر نہیں سکتے'۔
تاہم وہ دیکھ سکتے تھے کہ مومنین کا حوصلہ بلند کرنے کے لیے مزید بھی کسی چیز کی ضرورت ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ لوگ ان کے ساتھ اتنی دور تک آئے تھے اور انہوں نے آپ صلعم پر یقین میں ایسا کیا تھا اور یہاں تک پہنچتے پہنچتے بہت ساری توقعات پال لی تھیں۔ محمد صلعم کے خیال میں، اب یہاں پہنچ کر انہیں یوں ہی واپس پلٹ کر مدینہ لوٹ جانے کا حکم دینا، شاید زیادتی ہوتی۔ آخر، وہ کس منہ سے واپس جائیں کہ جب مدینہ میں داخل ہوں تو وہ جانور جو وہ ساتھ لائے تھے، قربان کیے بغیر ہی ان کے پیچھے چلتے ہوں؟ تو کیوں نہ وہ جانے سے پہلے وہ کام کر ہی لیں، جس کے لیے وہ آئے تھے؟ اگرچہ وہ مکہ کے اندر جا کر، کعبہ کے احاطے میں عمرہ تو ادا نہیں کر سکتے تھے لیکن حدیبیہ کے مقام پر کم از کم قربانی تو کی ہی جا سکتی تھی۔ چنانچہ ،محمد صلعم اٹھ کھڑے ہوئے اور حکم دیا، 'اٹھو ، قربانی کرو اور سر منڈوا دو'۔
لیکن، حاضرین میں سے ایک بھی شخص نے حکم سن کر بھی حرکت نہ کی۔ یقیناً، یہ ان کی سمجھ سے باہر تھا۔ وہ بغیر عمرہ ادا کیے، کعبہ کے گرد سات چکر لگائے بنا آخر قربانی اور سر منڈوانے کی رسومات کیسے ادا کرتے؟ آخر یہ زیارت کا کونسا طریقہ ہے؟ یہاں تک کہ جب محمد صلعم نے دوسری بار حکم دیا اور پھر تیسری بار سختی سے کہا تب بھی، زائرین جوں کے توں خاموشی سے ہکا بکا بیٹھے رہے۔
اگر اس وقت محمد صلعم پیروکاروں کو یوں کچھ دیر قبل کی جانے والی غیر مشروط اطاعت کے وعدوں کے باوجود یوں نافرمانی کرتے دیکھ کر غصہ تھے تو انہوں نے ان جذبات کا اظہار نہیں کیا۔ اگر وہ ان کے اس رویے پر مایوس تھے تو بھی ان کے چہرے پر اس کا شائبہ تک نہیں تھا۔ بلکہ، محمد صلعم چپ چاپ بیٹھے مومنین کے گروہ پر آنکھیں جمائے ، اٹھ کھڑے ہوئے اور ایک خنجر تھام لیا۔ پھر وہ بغیر کچھ کہے، یوں ہی چلتے ہوئے اس اونٹ کے پاس پہنچ گئے جس کے نتھنوں میں چاندی کی نکیل تھی اور یہ کبھی قریش کے سردار ابو جہل کی ملکیت ہوا کرتا تھا۔ آپ صلعم کا انداز اور ابو جہل کے اونٹ کی طرف خود ہی بڑھنا دیکھ کر لوگوں کے منہ کھلے کے کھلے رہ گئے۔ محمد صلعم نے اونچی آواز میں کلمہ شہادت پڑھا اور اللہ سے قربانی قبول کرنے کی درخواست کی اور جانور کا سر پیچھے موڑ کر اس کی شہ رگ سامنے لے آئے۔ خنجر بلند کیا اور تیزی سے شہ رگ پر پھیرتے ہوئے جانور کا گلا کاٹ دیا۔ خون کا فوارہ پھوٹ پڑا۔
ریت پر تازہ خون پھیل گیا ۔ یہ منظر دیکھتے ہی لوگوں پر چھایا سحر ٹوٹ گیا اور ہر طرف سے اللہ اور اس کے رسول کی بڑائی کے نعرے بلند ہونے لگے۔ آپ صلعم نے ایک ساتھی کو بلا کران کی زلفیں کاٹنے اور سر مونڈنے کا حکم دیا۔ یہ زیارت پوری ہونے کی نشانی تھی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے سات سو لوگوں نے آپ صلعم کی پیروی میں قربانی کے سارے جانور ذبح کر کے سر منڈوا دیے۔ ان زائرین میں سے ایک نے بعد میں نہایت دیدہ دلیری اور وضاحت سے بتایا کہ جب سب لوگوں نے سر منڈوا دیے تو کٹی زلفوں اور بالوں کے ڈھیر اٹھا کر ہوا میں اڑا دیے۔ اسی وقت، ہوا چلنے لگی اور بالوں کے گھچے اڑتے ہوئے نو میل دور کعبہ میں جا گرے۔ یہ واضح اشارہ تھا کہ خدا نے ان کی زیارت اور قربانی قبول کر لی ہے۔
آنے والے وقت میں صلح حدیبیہ محمد صلعم کی دور رس حکمت عملی کی عمدہ مثال ثابت ہو گا۔ ابن اسحاق اس کے بارے کچھ یوں لکھیں گے کہ، 'اسلام کی مختصر تاریخ میں حاصل ہونے والی یہ پہلی بڑی، بلکہ واقعی کامیابی قرار دی جا سکتی ہے۔ اس سے پہلے تو صرف لڑائیاں لڑی جاتی رہیں لیکن جب صلح ہو گئی اور ہر وقت جنگ اور انتشار کا خطرہ ٹل گیا تو لوگ ایک دوسرے کے ساتھ خود کو محفوظ سمجھنے لگے۔ وہ مکالمے اور بات چیت میں مشغول ہو گئے اور لوگوں میں جو سمجھ رکھتے تھے، انہیں تبلیغ کرنا آسان ہو گیا اور یوں جلد ہی بڑی تعداد میں لوگ جوق در جوق اس الہامی پیغام کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے لگے'۔ مکہ کے کئی لوگ اور صحرا کے بدو، دونوں ہی اقتدار کے ایوانوں میں آنے والی اس خوش آئند تبدیلی پر خوش تھے۔ چنانچہ یہ بھی محمد صلعم کی حکمت کے گرویدہ ہو کر جلد ہی ان کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہو گئے۔ یعنی، قبیلے اب خود ہی، آپ صلعم کے ساتھ اتحاد کے لیے رابطہ کرنے لگے۔
اس کے باوجود کئی مومنین، بالخصوص وہ مہاجرین جو حدیبیہ میں محمد صلعم کی حکمت عملی سے نالاں تھے اور ابھی تک اسے تسلیم کرنے میں پس و پیش سے کام لے رہے تھے۔ ان کی تسلی کے لیے قرانی آیات بھی نازل ہو گئیں۔ ان آیات نے انہیں واقعی خاموش کرا دیا۔ 'اللہ مومنین سے خوش ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کر رہے تھے۔۔۔' الہامی آواز نے محمد صلعم سے کہا، 'ان کے دلوں کا حال اسے معلوم تھا، اس لیے اس نے ان پر سکینت نازل کی۔۔۔ اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیے تا کہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے۔۔۔ اور بہت سا مال غنیمت انہیں عطا کر دیا جسے وہ (عنقریب) حاصل کریں گے'۔
اگر جنگ ایک فریب ہے تو ایک لحاظ سے امن بھی کسی دھوکے سے کم نہیں ہوتا۔ اپنے ہی آدمیوں کے ہاتھوں سے ہتھیار لے کر محمد صلعم نے کمال ہوشیاری سے قریش کو بھی غیر مسلح کر دیا۔ انہیں کلاسیکی طریقے سے گھیر کر حاصل جمع صفر کے کھیل میں کھینچ لائے، جہاں ان کے پاس مفاہمت کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ پھر، یہ بھی کہ مکہ کے سردار کسی بھی قسم کی مفاہمت کر لیں، اس کا سارا فائدہ محمد صلعم کو ہی پہنچتا۔ گیارہ صدی قبل گزرنے والے مشہور سپہ سالار کلاوز و ویٹس کا مشہور مقولہ ہے کہ 'در اصل جنگ بھی دوسرے معنوں میں سیاست کا ہی جاری تسلسل ہے'۔ لیکن یہاں تو محمد صلعم نے اس مقولے کے بالکل بر عکس کر دکھایا تھا۔ ثابت یہ ہوا تھا کہ جو شے جنگ سے جیتی نہیں جا سکتی، بالآخر اس کے حصول کے لیے سیاست کام آئے گی۔ یوں غیر مسلح ہو کر، مفاہمت کی راہ پر چلنے سے دو باتیں ہوئیں۔ پہلی تو یہ کہ اس طرح محمد صلعم نے قریش کو گھٹنے ٹیک کر انہیں قبول کرنے پر مجبور کر دیا اور دوسری یہ کہ عرب کے طول و عرض میں لوگوں نے دیکھ لیا کہ محمد صلعم اور ان کے پیروکار تو قریش سے کہیں بڑھ کر 'آباؤ اجداد کے طریقے' سے وفا داری نبھا رہے ہیں۔ جو کارنامہ محمد صلعم نے کر دکھایا تھا، گاندھی اور نہ ہی میکا ویلی، تاریخ کے ان دونوں سیاسی ستونوں میں سے ایک بھی سیاست کا اس سے بہتر مظاہرہ دوبارہ نہیں کر پایا۔ محمد صلعم نے رائج سیاست اور مشغولیت کے سارے اصولوں کو نیچا دکھا دیا تھا، یعنی کمزوری کو نہایت ہی عمدگی سے اپنی طاقت میں بدل کر رکھ دیا۔ اب انہوں نے مسلح اور غیر مسلح، دونوں ہی صورتوں میں اپنی دھاک بٹھا لی اور جہاں سخت دلی سے جنگی اقدامات اٹھائے تھے، اب امن کی زبان استعمال کرنے میں بھی، ان کا سکہ چل گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ محمد صلعم کی یہی خاصیت، یعنی ہر دو حالتوں میں ثابت قدم رہ کر دوہری خصوصیات کا مظاہرہ کرنے کی ہی وجہ سے ان کے ناقدین اور معتقدین ، دونوں ہی ہمیشہ دم بخود رہا کرتے ہیں۔ یہ معاملہ تب بھی، یعنی ساتویں صدی عیسوی میں زیر بحث ہو یا آج اکیسویں صدی میں بھی لوگ مباحثوں کے دوران ایک دوسرے کا سر پھوڑ دیں، ہمیشہ ہی لاینحل رہتا ہے کہ آیا محمد صلعم 'امن کے پیغامبر' تھے یا وہ 'جنگ کے پیغامبر' ہوا کرتے تھے؟ حالانکہ یہ سرے سے ' یا' اور 'دونوں میں سے کوئی ایک ' کا معاملہ نہیں ہے بلکہ محمد صلعم تو ایک تہہ دار شخصیت کے مالک، تاریخ کا ایسا کردار ہیں جن کی سو چ اور بصارت، ایسے تضادات اور نا قابل مصالحت مباحثوں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ اس طرح کے کن ٹٹے مکالموں سے ان کے کردار کی صحت پر چنداں فرق نہیں پڑتا۔ خیر، قصہ مختصر یہ کہ اگرچہ انہوں نے خود کو مکہ کی دہلیز سے بظاہر نامراد لوٹا دیا تھا لیکن وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ واپسی کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں۔
مکہ کے ساتھ معاہدہ ہو جانے کے بعد محمد صلعم نے اب اپنا اثر رسوخ شمال کی جانب بڑھانا شروع کر دیا۔ حدیبیہ سے واپسی کے صرف ایک مہینے بعد ہی انہوں نے سولہ سو جنگجوؤں اور سفارت کاروں پر مشتمل ایک 'دستہ' تشکیل دیا، جس کا ہدف خیبر کا نخلستان تھا۔ خیبر، شمالی حجاز میں واقع امیر ترین علاقہ تھا۔ یہاں وسیع و عریض رقبے پر کھجور کے باغات تھے اور یہ یہودیوں کے سات قبائل کی ملکیت تھا۔ ان میں سے ہر قبیلہ نخلستان کے اندر الگ الگ قلعہ نما گڑھیوں میں بسر رکھتا تھا۔ جب ابو سفیان نے مدینہ پر چڑھائی کی تھی تو ان کا سامنا بھی اسی طرح کے نخلستان میں قلعہ نما گڑھیوں سے تھا اور انہوں نے ایسی ہی صورتحال میں ایک بڑی فوج کے ساتھ نخلستان کا محاصرہ کیا تھا اور بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئے تھے۔ لیکن اب محمد صلعم عملی طور پرمثال نصاب کی کتاب کے گر سکھائیں گے کہ در اصل اس طرح کا معرکہ سر کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہوتا ہے۔
سب سے پہلے تو انہوں نے خیبر کے اتحادی بدو قبیلے کی حمایت حاصل کر کے انہیں غیر جانبدار رہنے پر مجبور کر دیا۔ یہ اتحادی، جانا مانا قبیلہ غطفان تھا۔ غطفان کو کھجور کی فصل کا جو حصہ مدینہ سے نہیں ملا تھا، اب انہیں خیبر کے معاملات میں دخل نہ دینے کے عوض ادا کیا جائے گا ۔ پھر، بجائے یہ کہ پورے خیبر کا محاصرہ کرتے، محمد صلعم نے یہودیوں کی مضبوط گڑھیوں کو ایک مخصوص طریقہ کار کے ساتھ، ایک ایک کر کے نمٹانا شروع کر دیا۔ انہوں نے شروعات کمزور ترین قبائل سے کی اور ایک کے بعد دوسرے کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ یہ ایسا عمل تھا جس کے دوران انہوں نے سخاوت اور فیاضی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ہر قبیلے کو مدینہ کے یہودیوں کے بر عکس بہت ہی آسان شرائط پر جانے دیا۔ وہ پہلے ہی اپنی حاکمیت قائم کر چکے تھے تو اب ماضی کے جیسے سخت اقدامات اٹھانے کی قطعاً ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔ خیبر کے یہ یہودی قبائل، محمد صلعم کے سابقہ رویے سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ جانتے تھے کہ مزاحمت کے نتائج کس قدر سخت ہو سکتے ہیں، تو بخوشی شرائط مان لیں۔ انہوں نے محمد صلعم کے سیاسی اختیار کو بھی کسی چوں چراں کے بغیر قبول کر لیا اور ان کے تحفظ میں چلے گئے۔ حمایت کا پورا یقین دلایا اور اپنی سالانہ آمدنی کا آدھا حصہ خراج کی صورت مدینہ کو ادا کرنے پر راضی ہو گئے۔ ایک بار پھر، روایت کے مطابق اس معاہدے کو شادی کی مدد سے پختہ کیا گیا۔ خیبر کے ایک نامی گرامی سردار کی بیٹی صفیہ، جن کی عمر اس وقت سترہ سال تھی، محمد صلعم کے ساتھ نکاح کر دیا گیا۔ وہ آپ صلعم کی آٹھویں اور دوسری یہودی بیوی تھیں۔
جب خیبر کا معاملہ طے ہو گیا تو اب آپ صلعم نے یہاں سے یہودیوں کے ایک دوسرے، مگر چھوٹے نخلستان تیماء کا رخ کیا۔ تیماء مدینہ اور قدیم شہر خموشاں پیٹرا کے بیچ میں واقع تھا جو آجکل جنوبی اردن کا حصہ ہے۔ یہاں کے قبائل نے خیبر کے برعکس کسی بھی قسم کی مزاحمت نہیں کی اور اسی وجہ سے ان کے ساتھ پہلے سے بھی کہیں زیادہ رعایت برتی گئی۔ اب حجاز کے شمال میں واقع بڑی آبادیاں، محمد صلعم کی پشت پر کھڑی تھیں اور یہ اب صرف وقت کا کھیل تھا کہ اس علاقے کے بدو قبائل بھی محمد صلعم کے اختیار اور اقتدار کو مان کر مدینہ کی ریاست کا حصہ بن جائیں گے۔ جہاں تک جنوب میں مکہ کا سوال تھا تو اب محمد صلعم اپنی واپسی کے دوسرے مرحلے کی طرف قدم بڑھانے کے لیے تیار تھے۔
629ء میں، فروری کے مہینے میں وہ اپنے ساتھ دو ہزار زائرین کا قافلہ لیے معاہدے کے تحت عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے۔ اس زیارت کو تاریخ کی کتابوں میں 'تکمیل کی زیارت اصغر' کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ وہ اس سفر کے دوران قصواء پر سوار تھے۔ چرے ہوئے کانوں والی یہ وہی اونٹنی ہے جس پر سات سال پہلے محمد صلعم سوار ہو کر مدینہ میں داخل ہوئے تھے اور اس کی مہار کو کھلا چھوڑ دیا تھا کہ جہاں چاہتی، بیٹھ جاتی اور اسی جگہ پر آپ صلعم کا پڑاؤ ہوتا جو جلد ہی مسجد بن گئی۔ اس اونٹنی پر بیٹھ کر محمد صلعم نے جلا وطنی اختیار کی تھی اور اب اسی اونٹنی پر بیٹھ کر وہ مکہ واپس جائیں گے۔
ابو سفیان نے پچھلے سال کیے ہوئے وعدہ کا پورا پاس رکھا۔ جیسا کہ حدیبیہ میں طے ہوا تھا، قریش نے کعبہ کے احاطے کو مکمل طور پر محمد صلعم کے حوالے کر دیا اور انہیں یہاں زیارت کے لائق ہر نشانی تک بلا روک ٹوک رسائی دے دی۔ جلا وطنی میں واپسی کے خواب نے محمد صلعم کو سالہا سال تک، دن اور رات بے چین رکھا تھا اور اب موقع آ گیا تھا کہ وہ آبائی شہر میں اپنی مٹی پر دوبارہ قدم رکھ سکتے تھے۔
جیسا کہ اس موقع پر پیش آنے والے واقعات اور جذباتی مناظر کی توقع ہے، اوائل دور کے اسلامی تاریخ دانوں نے متوقع طور پر عظیم الشان واقعے کی تفصیلات کو بیان کرنے میں غیر معمولی اختصار سے کام لیا ہے۔ یہاں تک کہ بسیار گوئی کے عادی، ابن اسحاق نے بھی اس واقعے کے لیے صرف اور صرف ایک صفحہ وقف کیا ہے، حالانکہ یہاں درجن بھر صفحات پر پھیلی تفصیلات جمع کی جا سکتی تھیں۔ وہ بیانیے میں بھی خاصی پھرتی سے آگے بڑھ گئے اور لکھتے ہیں کہ محمد صلعم مکہ پہنچے، حجر اسود یعنی سیاہ پتھر کو اپنی چھڑی سے چھوا پھر خراماں خراماں حرم کے گرد سات چکر لگائے اور قربانی کر کے سر منڈوا دیا۔ یہ اختصاریہ خاصا عجیب اور بجھا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ یا پھر، اس پر بس ایسا گماں ہوتا ہے کہ جیسے یہ کسی نامکمل کہانی کی شروعات ہے۔ گویا، یہ عمرہ بس اسی لائق تھا کہ وہ قریش کی مرضی اور منشاء، طے کر دہ شرائط کے زیر اثر ایک میکانکی عمل کیے جا رہے ہیں اور اس میں کسی بھی طرح سے ان عبادات کو ادا کرنے میں محمد صلعم کی دلچسپی شامل نہیں ہے۔ اگر قریش نے اپنے وعدے کا پاس رکھتے ہوئے محمد صلعم کو برداشت کر رکھا تھا اور بد دلی کے ساتھ چپ سادھ لی تھی تو وہیں یہ بھی طے ہے کہ انہوں کسی بھی طور محمد صلعم کا خیر مقدم نہیں کیا تھا۔ واپسی کا اصل قصہ، واقعی پیش آنا تو ابھی آنا باقی تھا۔
چلو، وہ تو قریش تھے لیکن محمد صلعم کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟ کیا وہ اپنے جانے پہچانے گلی کوچوں سے اتنے عرصے بعد گزرتے ہوئے خود پر گڑی ہوئی نفرت انگیز نگاہوں کو محسوس کر کے پریشاں تھے؟ کیا وہ واقعی جان چکے تھے کہ مکہ کے باسی ابھی تک ان کا برا ہی چاہتے ہیں اور جب انہوں نے عمرے کی رسومات کھوکھلے انداز میں ادا کیں تو کیا ان کے دل میں اس وقت اسی پریشانی نے ڈیرہ ڈال رکھا تھا؟ یا پھر اب یہ سب، اس حقیقت کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتی تھی کہ وہ ایک بار پھر ، طوعا و کر عا اپنی جائے پیدائش پر واپس پہنچ چکے ہیں اور سات چکر لگا رہے ہیں۔ یہ سفر صرف اور صرف ماضی میں اپنے آپ سے کیے اس عہد کا ایک حصہ تھا جو ہمیشہ ہی اندر سلگتا رہا تھا کہ چاہے جو بھی ہو، وہ واپس آ کر رہیں گے یا کہو، انہوں نے کبھی خود کو اس جگہ سے جدا، دور سمجھا ہی نہیں؟ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ محمد صلعم نے جیسا کہ طے ہوا تھا، پورے تین دن مکہ میں قیام کیا۔ چونکہ، اب لوگوں کو ان کی سچائی، یعنی صرف اور صرف زیارت کے ارادے پر یقین آ چکا تھا، ان تین دنوں میں کئی لوگوں نے اسلام قبول کر لیا۔ کئی ایسے تھے، جنہوں نے کھلے عام تو اس کا اظہار نہیں کیا لیکن اشارتاً، سب کو بتا دیا۔
محمد صلعم کے چچا، عباس کی مثال سامنے ہے۔ عباس مکہ کے مشہور بینکار تھے اور پچھلے سات سالوں نے انہوں انتہائی محتاط انداز میں اپنے بھتیجے سے فاصلہ کیے رکھا تھا۔ عمرے کے تیسرے دن، اپنی سالی میمونہ کا نکاح محمد صلعم کے ساتھ کر دیا۔ اس طرح انہوں نے اشارہ دے دیا کہ اگرچہ وہ باقاعدہ اسلام قبول نہیں کر رہے لیکن وہ انہی خطوط پر محمد صلعم سے قربت قائم کر رہے ہیں۔ ہواؤں کا رخ بھانپ جانے والے، عباس واحد شخص نہیں تھے۔ میمونہ، مکہ کے ایک نامی گرامی سپہ سالار خالد کی خالہ تھیں۔ جب تیسرے دن، محمد صلعم اور ان کے پیروکاروں نے واپسی کے لیے رخت سفر باندھا تو خالد اور ایک دوسرے سپہ سالار امر نے بھی ان کے ساتھ ہی مدینہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ ان دونوں اشخاص کا مدینہ میں خوش دلی کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ انہیں بیٹوں جیسا رتبہ دیا ۔ حالانکہ، خالد نے احد کی لڑائی میں گھڑ سواروں کے دستوں کی سپہ سالاری میں محمد صلعم کے خلاف کامیاب مہم جوئی کی تھی۔ وہ کئی مومنین کے قتل کے ذمہ دار تھے لیکن محمد صلعم نے انہیں یقین دلایا کہ وہ سب اب ماضی کا قصہ ہے اور اسلام قبول کر لینے کی وجہ سے ان کے سارے گناہ اور جنگی جرائم معاف کر دیے گئے ہیں۔ ابن اسحاق کے الفاظ میں، 'قرضے ادا ہو گئے'۔ بے شک، اس کے بعد خالد نے بھی اپنی وفا داری کا بھر پور ثبوت دیا ۔ کئی معرکوں میں جرات، بہادری اور دیدہ دلیر سپہ سالاری کے بعد بالآخر انہیں 'سیف اللہ' یا 'اللہ کی تلوار' کا خطاب عطا کیا گیا۔
ان سب سے اہم، ایک عوامی شخصیت اور بھی تھی جس کے ساتھ تین دن قیام کے دوران محمد صلعم کی بات چیت چلتی رہی۔ بے شک و شبہ، وہ آپ صلعم کے مکہ میں قیام کے دوران بند دروازوں کے پیچھے ملاقات کر چکے تھے۔ ان تین دنوں میں مکہ کی فضا خاصے تناؤ کا شکار رہی اور ان کا کھلے عام ملاقات کرنا ممکن نہیں تھا، لیکن یہ تو طے ہے کہ ان کے بیچ بالضرور ہی کچھ معاملات آگے بڑھے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مدینہ پہنچتے ہی محمد صلعم نے فوراً، نواں نکاح کیا۔ یہ نکاح ام حبیبہ کے ساتھ ہوا جو اب بیوہ ہو چکی تھیں۔ ام حبیبہ، کسی اور نہیں بلکہ مکہ کی تجار کونسل کے سربراہ ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ انہوں نے بہت پہلے، اوائل دور میں ہی اپنے والد کی مرضی کے خلاف اسلام قبول کر لیا تھا لیکن اب ان کی آپس میں وہ رنجش بھی ماضی کا قصہ بن چکی تھی۔ اب تو مفاہمت کا زمانہ چل رہا تھا اور ہر شے مصالحت سے جڑی ہوئی تھی۔ بہر حال، جس قدر خاموشی سے یہ شادی طے پائی، اسی زور شور سے عیاں ہو گیا کہ ابو سفیان کی من مرضی بھی اب محمد صلعم کے تابع ہو چکی ہے۔ ان دونوں کے بیچ، یعنی سسر اور داماد اب آگے چل کر محمد صلعم کی مکہ واپسی کے تیسرے اور حتمی مرحلے کی تفصیلات طے کریں گے۔ اور اب اس قصے میں، یہی باقی ہے۔
تیسرے مرحلے کا یہ ہوا کہ گو جنگ بندی کا معاہدہ دس سال کا تھا لیکن محمد صلعم کی مکہ سے واپسی کے چھ ماہ بعد ہی حدیبیہ کا معاہدہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا۔ ہوا یوں کہ دو بدو قبائل، جو دیرینہ دشمن تھے، ان کے بیچ ایک بار پھر سے جھڑپیں شروع ہو گئیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ جھڑپیں مکہ کی تجار کونسل میں محمد صلعم کے کٹر مخالفین کی شرارت تھی جو اس معاہدے کو توڑنے کے بہانے تلاش کر رہے تھے۔ چونکہ، ان میں سے ایک قبیلہ مکہ کا اور دوسرا مدینہ کا اتحادی تھا، ان کے بیچ پیش آنے والے معاملہ ان کے محافظوں یعنی ابو سفیان اور محمد صلعم کے بیچ بھی شمار ہوا اور یوں مکہ اور مدینہ ایک بار پھر، ایک دوسرے کے سامنے آ گئے۔ تفصیلات یہ تھیں کہ مکہ کے حمایتی قبیلے کے لوگ اپنے دشمن قبیلے کے بیس لوگوں کو قتل کر نے کے بعد شہر حرم، مکہ پہنچ گئے اور تحفظ کا تقاضا کرنے لگے۔ اس کے جواب میں محمد صلعم کے حمایتی قبیلے نے ان سے مطالبہ شروع کر دیا کہ وہ مکہ کے محترم شہر میں پناہ لینے والے قاتلوں کی وہاں سے ملک بدر کرنے پر مکہ پر دباؤ ڈالیں اور انہیں قصاص کا موقع فراہم کریں۔
اگر محمد صلعم اپنے اتحادیوں کے دفاع میں ہتھیار اٹھا لیتے ہیں تو یقیناً وہ اپنے اس عمل میں حق بجانب ہوں گے۔ چنانچہ، اب کی بار ابو سفیان نے دس دن کا طویل سفر طے کیا اور تصفیے کے لیے مدینہ پہنچ گئے۔ تین سال قبل یہی شخص تھا، جس نے ایک بڑا لشکر ترتیب دے کر مدینہ کا محاصرہ کر لیا تھا لیکن آج حالت یہ تھی کہ وہ محمد صلعم سے صبر کی بھیک مانگ رہے تھے۔ اپیل کر رہے تھے کہ وہ محمد صلعم کے تعاون کے بغیر مکہ کے اندر کٹر مخالفین کو قابو میں نہیں رکھ سکتے۔
ابن اسحاق اور نہ ہی الطبری نے ابو سفیان کی اپیل پر محمد صلعم کا جواب رقم کیا ہے۔ بلکہ، وہ یہاں حقائق سے کہیں دور جاتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور اسی نکتے پر مصر نظر آتے ہیں کہ محمد صلعم نے ابو سفیان کو جواب دینے سے ٹکا انکار کر دیا۔ اگرچہ یہ ان حالات میں بے جا تو نہیں ہے لیکن، ایسا ہونا ممکن نظر نہیں آتا۔ ماضی میں سخت دشمنی کے باوجود بھی یہ دونوں اشخاص ایک دوسرے کا حد درجہ احترام کرتے آئے تھے اور اب تو وہ نہ صرف رشتہ داری میں بندھ چکے تھے بلکہ یہ دونوں ہی آدمی عزت دار اور اپنے اخلاق میں خاصے دیانت دار واقع ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ، جنگ میں بھی ابو سفیان نے آبرو کا مظاہرہ کیا تھا اور اپنی بیوی ہندہ کے ہاتھوں احد کے مقام پر حمزہ کے لاشے کی بے حرمتی پر باقاعدہ معذرت کی تھی۔ انہوں نے عمرے کی زیارت کے دوران بھی محمد صلعم کے زہد کا مظاہرہ دیکھ لیا تھا اور وہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ ان کا طرز زندگی تو مکہ کے تقریباً لوگوں سے کہیں زیادہ افضل اور حرم کی روایات کے عین مطابق تھا۔ لیکن، ان سب خصوصیات سے کہیں بڑھ کر، ابو سفیان حقیقت پسند واقع ہوئے تھے۔ اگرچہ تجار کونسل کے اکثر لوگ ابھی تک سمجھ نہیں پائے تھے لیکن وہ اچھی طرح جان چکے تھے کہ ان کے اقتدار کے دن گنے جا چکے ہیں۔ خالد اور امر جیسے نامی گرامی سپہ سالار اب محمد صلعم کے مشیران میں شامل ہو چکے تھے اور اب اس بات میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ کسی بھی وقت، جس طرح چاہتے مکہ پر قبضہ کر سکتے تھے۔ بدوؤں کو آپس میں لڑا کر تو کونسل میں محمد صلعم کے کٹر مخالفین نے ان کے لیے آسانی پیدا کر دی تھی۔ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے قریش کے حکومتی تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی تھی۔
اب سوال صرف یہ تھا کہ قریش کے اقتدار کا خاتمہ کب اور کیونکر ہو گا اور یہی وہ تفصیلات تھیں جو اس موقع پر محمد صلعم اور ابو سفیان نے نہایت خاموشی اور راز داری کے ساتھ طے کر لیں۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ آج بھی دنیا بھر میں اس طرح کی گفت و شنید اور معاہدے یوں ہی طے پاتے ہیں۔ عوامی ملاقاتیں تو صرف اسی وقت کی جاتی ہیں جب بنیادی ڈھانچہ کھڑا ہو چکا ہوتا ہے اور بہت پہلے ہی نجی محافل اور خفیہ طور سے تاک جھانک کرتی آنکھوں اور باوہ گوئی سے کہیں پرے معاملات طے پا چکے ہوتے ہیں۔ اگر آپ بحیثیت سیاستدان، ذرہ بھر بھی سیاسی حکمت رکھتے ہیں تو عوامی سطح پر میل جول تبھی کریں گے جب خفیہ مذاکرات کے بعد معاملات طے پا جائیں اور ایک خوش آئند حل تلاش کر چکے ہوں۔ اس سارے قضیے کا یہی خوش آئند حل تھا، جس پر مدینہ میں محمد صلعم اور ابو سفیان کے بیچ بات چیت ہوئی۔ بنیادی طور پر، انہوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مکہ کے ہتھیار ڈالنے کا طریقہ کار وضع کرنے کے ساتھ ساتھ اس سیاسی کشمکش کی کہانی کا اختتام طے کیا۔
ان دو لوگوں کے علاوہ باقی سب کا یہ تھا کہ انہیں تب معلوم ہوا جب اس کہانی کا ایک دم ہی اختتام آ گیا۔ جوں ہی ابو سفیان مکہ کے لیے روانہ ہوئے، محمد صلعم نے نقل و حرکت شروع کروا دی۔ انہوں اپنے تمام بدو قبائل کو بلا بھیجا اور یکم جنوری 630ء کو جنوب کی طرف ایک لشکر کی صورت روانہ ہو گئے۔ جب وہ مکہ کے مضافات میں پہنچ گئے اور خیمہ زن ہو گئے تو اس وقت تک آپ صلعم کے ساتھ لشکر میں حجاز کے طول و عرض سے آنے والے دس ہزار جنگجو شامل ہو چکے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو شاید محمد صلعم کے خوف کی وجہ سے اور اگر نہیں تو پھر اس وجہ سے کہ تاریخ میں دائیں طرف کھڑے ہوئے پائے جائیں، صحرا کے کونے کونے سے یہاں پہنچے تھے۔ شاید، یہ دونوں ہی وجوہات تھیں۔ کئی لوگ ایسے بھی تھے، جو محمد صلعم کے گرویدہ تھے اور وہ آج صرف اور صرف اسی وجہ سے وہاں محمد صلعم کے شانہ بشانہ کھڑے تھے۔ یہ آپ صلعم کے قریب ترین، انتہائی وفا دار لوگ تھے۔
اس کے بعد جو ہوا وہ صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر وہ پہلے سے طے پایا جا چکا ہو۔ ابو سفیان ایک سفید گھوڑے پر سوار ہو کر مکہ سے نکلے اور ان کا رخ مدینہ کے لشکر کی طرف تھا۔ یہ گھوڑا، محمد صلعم کی ملکیت تھا اور ابو سفیان کا یوں محمد صلعم کے گھوڑے پر سوار ہونا اس بات کی نشانی تھی کہ انہیں آپ صلعم کا تحفظ حاصل ہے۔ مومنین میں سے کسی بھی شخص، حتی کہ انتہائی غصیلے آدمی کے لیے بھی اس شخصیت کے بال کو بھی چھونے کی جرات نہیں تھی جو اس گھوڑے پر سوار تھا۔ یہ محمد صلعم اور ابو سفیان کے بیچ پہلے سے طے شدہ ملاقات تھی، وہ رابطہ تھا جس کو اب عوامی ریکارڈ کا حصہ بنایا جا رہا تھا۔ اس ملاقات میں ہونے والی بات چیت بھی ریکارڈ کا حصہ بن جائے گی اور آج ہم اوائل دور کی اسلامی تواریخ میں یہاں ہونے والی بات چیت پر صاف صاف، بغیر کسی شک و شائبہ اور اختلاف سے عاری روایات پڑھ سکتے ہیں۔
ان دونوں کے بیچ ہونے والی بات چیت حریفانہ نہیں بلکہ ہنسی مذاق اور چھیڑ چھاڑ معلوم ہوتی ہے۔ ابو سفیان غمگین اور پشیمان ہیں جبکہ محمد صلعم اس صورتحال سے محظوظ ہوتے دکھائی دیتے ہیں لیکن شگفتگی، دونوں طرف ہی قائم ہے۔ ' ہائے ، اے ابو سفیان۔۔!' محمد صلعم نے کہا، 'کیا وہ وقت آ نہیں گیا کہ تم جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؟'
'میرے باپ اور میری ماں آپ صلعم پر قربان ہوں، تاوان دیے جائیں!' ابو سفیان نے جواب دیا، ' آپ صلعم رحم دل اور عالی منش ہیں۔ اگر اللہ کے سوا کوئی معبود ہوتا تو میرا خیال ہے کہ وہ اب تک میرے بچاؤ کو پہنچ چکا ہوتا'۔
محمد صلعم کو اس جواب پر مسکراتا ہوا دیکھ پانا، مشکل نہیں ہے۔ یا کم از کم، وہ اندر ہی اندر تو جھوم اٹھے ہوں گے؟ خیر، انہوں نے اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ابو سفیان کو پھر چھیڑا، 'اور، کیا وہ وقت نہیں آ گیا کہ تم جان لو۔۔۔ میں ہی خدا کا رسول ہوں؟'۔
'بے شک، میں اس بارے سوچتا رہا ہوں'۔ ابو سفیان نے جواب دیا۔ پھر صیغہ غائب میں آپ صلعم بارے کہنے لگے، ' وہ جس نے آج اللہ کے ساتھ مل کر مجھ پر غلبہ پایا، وہی تھا جس کو میں نے اپنی پوری طاقت کا استعمال کر کے نکال دیا تھا'۔ اس پر محمد صلعم نے شرارتاً ابو سفیان کے سینے پر پھونک ماری اور کہا، ' بے شک تم نے ایسا ہی کیا!'۔
پھر وہیں، اسی وقت مکہ کے سردار ابو سفیان نے باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔ بلند آواز میں کلمہ ادا کیا، 'میں گواہی دیتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں ہے مگر اللہ اور محمد صلعم اس کے رسول ہیں'۔ اس طرح، انہوں نے خود کو اور اپنے شہر کو محمد صلعم کی امان میں دے دیا اور جواب میں محمد صلعم نے وعدہ کیا کہ جب ان کا لشکر مکہ میں داخل ہو تو مزاحمت نہ کرنے والوں کی جان اور مال کا تحفظ کریں گے۔ یوں، دستور کے عین مطابق مکہ نے باقاعدہ ہتھیار ڈال دیے۔
ابو سفیان کو شہر میں واپسی کا محفوظ راستہ فراہم کر دیا گیا اور وہ مکہ میں داخل ہوتے ہی سیدھا کعبہ کے احاطے میں جا پہنچے اور شکست کا اعلان کرتے ہوئے شرائط بیان کیں۔ تقریر کی، 'قریش کے لوگو! محمد صلعم اتنی بڑی طاقت کے ساتھ وارد ہوا ہے کہ تم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے'۔ انہوں نے دعوی کیا، 'وہ جو میرے گھر میں داخل ہو جائیں، محفوظ رہیں گے۔ وہ جو کعبہ کے احاطے میں آ جائیں، محفوظ رہیں گے اور وہ جو اپنے گھر کے اندر رہیں اور کنڈی لگا لیں اور محمد صلعم کے خلاف مزاحمت میں ہاتھ اٹھانے سے گریز کریں تو محفوظ رہیں گے'۔
لیکن، قریش میں ان کے قریبی رفقاء کے لیے یہ قبول کرنا مشکل تھا۔ ہندہ کے لیے تو یہ ناممکن تھا۔ وہ جو اپنی بھیانک ساکھ کے ساتھ، احد میں 'کلیجہ چبانے والی' کے نام کے ساتھ جیتی آئی تھی، یہ سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئی۔ ایک دم اٹھی اور جا کر اپنے شوہر کو داڑھی سے پکڑ کر کھینچ تان کرنے لگی۔ بزدلی اور نا مردی کے طعنے دیے اور عوام کے سامنے ذلیل کرنے لگی۔ نہ صرف ابو سفیان بلکہ محمد صلعم کو بھی گالم گلوچ کرنے لگی۔ قریش کو جوابی لڑائی پر اکساتی رہی اور یوں ہی ہذہان بکتی رہی۔ ابو سفیان کے پاس سوائے اس کو خود سے الگ کرنے کے کوئی چارہ نہیں تھا اور ایک بار پھر اپیل کی، 'اے قریش، تم پر افسوس ہے۔ اپنے آپ کو اس (ہندہ) کے ہاتھوں برباد مت ہونے دو کیونکہ جو تم پر آنے والا ہے، تم اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے'۔
مکہ کی اکثریت، کچھ اور ہو یا نہیں، حقیقت پسند ضرور تھی۔ زیادہ تر لوگ محمد صلعم کے ہاتھوں مکہ کی اس طرح شکست کو تسلیم کرنے سے انکاری تھے یا شاید انہیں یقین نہیں ہو رہا تھا، اب بہر حال معاملے کی سنگینی کو سمجھنے لگے تھے۔ وہ رفتہ رفتہ جان گئے کہ آخر کار، ایسا ہونا طے ہے۔ چنانچہ اکثریت نے اس تلخ حقیقت کے سامنے ہی ہار مان لی۔ مگر، پھر بھی چند گنے چنے لوگ بد ستور اڑے رہے۔ وہ اب بھی مزاحمت پر آمادہ تھے ۔ محمد صلعم کے خیموں میں بھی ان کے پیروکار مکہ میں ایسے لوگوں کی موجودگی سے اچھی طرح واقف تھے، تو وہ محمد صلعم سے ان ہٹ دھرم لوگوں کی بابت سوالات اٹھانے لگے۔ اگرچہ ابو سفیان نے شکست تسلیم کر لی تھی اور ہتھیار ڈالنے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن، اگر وہ مکہ میں داخل ہوں اور وہ بجائے حملہ کر دیں، تو کیا ہو گا؟ اگر لڑائی پر مجبور کیا گیا تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟ کیا اینٹ کا جواب پتھر سے دینا مناسب ہے؟ لیکن، حرم میں تو لڑائی اور جنگ جدل، خونریزی کی ممانعت ہے، وہ عدم تشدد کو کیسے برقرار رکھیں گے؟ اسی طرح، ڈر تو یہ ہے کہ اگر انہوں نے واقعی کسی کو حرم میں قتل کر دیا تو پھر؟ کیا وہ 'آگ کے ساتھی' بن جائیں گے، جہنمی ہو جائیں گے؟
ان تمام سوالات اور خدشات کے جوابات ایک نئی قرانی آیت کی صورت مل گئے۔ الہام میں کہا گیا تھا کہ وہ ایسا کر سکتے ہیں۔ یعنی، حرم میں تشدد کا سہارا لے سکتے ہیں لیکن صرف اس صورت میں کہ جب کوئی اور صورت باقی نہ ہو۔ یعنی، صرف تب ہی ، جب دشمن انہیں کعبہ تک پہنچنے سے روکنے کی کوشش کرے اور صرف تب ہی، اگر وہ حملے کی زد میں ہوں۔ انہیں کسی بھی صورت حملے میں پہل کرنے کی اجازت نہیں تھی، جارحیت سے روک دیا گیا تھا اور مدافعت پر زور دیا گیا تھا۔ کہا گیا کہ وہ مکہ کے لوگوں کو ہتھیار ڈالنے کا پورا موقع فراہم کریں اور جہاں تک ممکن ہو، امن برقرار رکھنے کی کوشش کریں۔ لوٹ مار اور املاک کو نقصان پہنچانے، مال غنیمت جمع کرنے کی کوشش اور لوگوں کو قیدی بنانے کی سختی سے روک لگا دی گئی۔ چونکہ وہ ایک مقدس اور پاکیزہ شہر میں داخل ہونے جا رہے تھے، اس لیے ان سے ادب میں رہ کر سلیقہ برتنے اور انتہائی درجہ مناسب رویہ اختیار رکھنے کی توقع کی گئی تھی۔
اگلے دن، صبح ہوتے ہی یعنی 11 جنوری 630ء کو محمد صلعم نے مکہ کو اپنا بنا لیا۔ لشکر کی چہار ٹکڑیاں تشکیل دے کر چاروں اطراف سے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا۔ صرف ایک جگہ پر، یعنی شہر کے جنوب میں، لشکر کی جس فوجی ٹکڑی کی سپہ سالاری خالد کر رہے تھے، مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ چند مسلح افراد نے حملہ کر کے ایک گھڑ سوار کو ہلاک کر دیا لیکن فوراً ہی جوابی کاروائی کی گئی اور حملہ آوروں میں سے بارہ کو قابو کر لیا گیا جبکہ کئی دوسرے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اس روز کو 'فتح کا دن' کہا جاتا ہے۔ فتح کے اصل معنی کشائش یا کھولنے کے ہیں۔ یعنی، اس روز مکہ کو کھول دیا گیا ، اس میں' کشادگی' ہوئی۔ اس لفظ کا غلبے، جیت یا تسخیر کے معنوں میں استعمال تو بہت بات کی بات ہے۔ بہرحال، ہر دو صورت اس روز مدینہ کو مکہ پر واقعی فتح حاصل ہو گئی۔
جب محمد صلعم خود شہر میں داخل ہوئے تو مکہ کی گلیاں لوگوں سے بھر گئیں اور وہ ان کے بیچ میں سے گزرتے ہوئے آگے بڑھتے گئے۔ آپ صلعم کے پیروکار خوشی سے نہال تھے اور جب وہ کعبہ کے احاطے میں داخل ہوئے تو لوگ بے قابو ہونے لگے، نعرے بلند ہو رہے تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے، مکہ کے وہ لوگ جو اپنے گھروں وغیرہ میں پناہ لیے ہوئے تھے، باہر نکلنے لگے اور کعبہ کے گرد پہنچ گئے۔ یہ معلوم نہیں کہ وہ اس وقت پر امید تھے یا ابھی بھی انہیں انتقام کا خوف تھا، لیکن بہر حال مکہ کاتقریباً ہر شخص خود کو باہر نکلنے سے روک نہیں پایا اور یو ں ایک سماں بندھ گیا۔ محمد صلعم اب دشمن نہیں رہے تھے بلکہ وہ تو ایک ایسا زائر بھی نہیں تھے جسے قریش زبردستی برداشت کیے جا رہے ہوں۔ آج کے دن وہ حکمران تھے۔ وہ شخص جس نے مکہ کے سماج میں حاشیے پر رہ کر پرورش پائی تھی، آج اسی معاشرے کا مرکز بن چکا تھا۔ وہ جو ہمیشہ غیر سمجھا گیا، اجنبیت کا شکار رہا اور باہر کا آدمی کہلوایا جاتا تھا، آج حتمی طور پر اندر کا آدمی، بھیدی اور سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔ محمد صلعم اچھی طرح اس کیفیت کو سمجھ سکتے تھے، اس مقام کو جانتے تھے اور اندر ہی اندر انہیں شدت سے احساس ہو رہا تھا، وہ نہال تھے۔ چنانچہ فرط جذبات سے مغلوب ہو کر آگے بڑھے اور حجر اسود پر لاٹھی سے ضرب رسید کی اور دل کی گہرائیوں سے چلائے، 'اللہ اکبر' یعنی۔۔۔ 'اللہ سب سے بڑا ہے' ۔ اس نعرے کا جواب میں مجمع نے بھی وہی نعرہ بلند کر کے دیا اور شہر بھر تکبیر سے چلا اٹھا۔ گلیوں کوچوں میں شور و غوغا تکبیروں میں ڈھل گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے مکہ میں اس وقت سوائے اس نعرے کے، کوئی دوسری آواز باقی نہیں رہی۔ اتنا شور ہوا کہ ارد گرد پہاڑیاں بھی 'اللہ اکبر' کے نعروں سے گونج اٹھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے یہ محمد صلعم کی مکہ میں لوٹ آنے کا نہیں بلکہ مکہ کا خود اپنے آپ کو مکہ کے حوالے کرنے، اصل کی طرف واپسی کا دن ہے۔ اور پھر، جب محمد صلعم کعبہ کے دروازے کے آگے سیڑھیاں چڑھ کر عوام کے اس ٹھاٹھیں مارتے ہوئے اجتماع سے مخاطب ہوئے تو انہوں نے بھی اپنی تقریر میں یہی پیغام دیا۔
'اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ یکتا ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں'۔ آپ صلعم نے اعلان کیا، 'اللہ نے اپنا وعدہ پورا کیا اور اپنے بندے کی نصرت کی'۔ یہ بلاشبہ نئی شروعات تھی اور واقعی روشن خیالی کے دور کا آغاز تھا، 'قریش کے لوگو! اللہ نے تم سے جہالت کے دور کا گھمنڈ اور تکبر چھین لیا ہے'، یعنی قبل از اسلام کا تاریک دور جہالت ختم ہو چکا تھا اور اس دن سے گنے چنے چند افراد کا اختیاری اصول اور اقتدار کا استحقاق بھی فسخ ہو جائے گا۔ اسلام میں، سب برابر ہوں گے اور مکہ، اشرافیہ کی جاگیر نہیں رہے گا۔ 'یاد رکھو! نسل کی بنیاد پر مبینہ طور پر کسی بھی قسم کا دعوی، چاہے وہ خون یا مال و دولت کی بنیاد پر بھی قائم کیا گیا ہو، ابھی کے ابھی ختم کر دیا گیا ہے۔ اس کی مثال اب تمہارے پاؤں تلے اڑتی ہوئی دھول جیسی ہے'۔ اور پھر، انہوں نے اپنے سامنے کھڑے ہزاروں کے ہجوم پر نظر دوڑائی ۔ لوگ منہ اوپر اٹھائے، سیڑھیوں کی بلندی پر کھڑے آپ صلعم کی طرف متوجہ تھا۔ انہوں نے لوگوں سے سیدھا سوال کیا، 'قریش کے لوگو! تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے ساتھ کیسا سلوک کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں؟'۔
یقیناً یہ خطیبانہ سوال تھا۔ وہ جانتے تھے کہ لوگ کس چیز سے خوفزدہ ہیں۔ انتقام، غلامی اور مال و اسباب کی ضبطی۔ وہ یہ بھی سمجھتے تھے کہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ محمد صلعم اس طرح کے کسی بھی سلوک کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگرچہ، یہ خطیبانہ سوال تھا لیکن پھر بھی مکہ کے لوگوں نے یک زبان ہو کر جواب دیا، 'ہم صرف اچھائی کی امید رکھتے ہیں' چلا چلا کر کہنے لگے، 'کیونکہ اے محمد صلعم، تم ایک عالی نسب قبائلی بھائی ہو اور تم ایک عالی نسب قبائلی بھائی کے بیٹے ہو!'۔ اگر وہ محمد صلعم کی شرافت، کردار اور عالی نسبت کو تھوڑا بہت جانتے تھے تو اس دن وہ پوری طرح جان لیں گے کہ جس شخص کو انہوں نے قبیلے سے ہی نکال دیا تھا ۔۔۔ اس کے سلوک کی وجہ سے نہ صرف اس کا خیر مقدم کریں گے بلکہ دل و جان سے، گویا نسبت کی بھیک مانگتے ہوئے قبیلے میں واپس لائیں گے اور 'ہم میں سے ہی ایک' قرار دیں گے۔ انہیں قبول کر لیں گے۔ یہی نہیں بلکہ ہر طرف سے شور و غوغا بلند ہو گا، وہ نہ صرف محمد صلعم کو اپنا رہنما، سالار اور ہادی مان لیں گے بلکہ آپ صلعم کی رسالت کا بھی کھلے دل سے اعتراف کر لیں گے۔
چنانچہ، محمد صلعم نے ہجوم کے چپ ہونے تک طویل توقف لیا اور پھر اعلان جاری رکھا کہ، لوگوں کے بیچ مزید خون خرابہ نہیں ہو گا۔ کہا، 'اللہ نے جس دن آسمان اور زمین تخلیق کیے، مکہ کو اسی روز مقدس بنا دیا تھا اور یہ مقدس شہروں میں سب سے برتر شہر ہے اور قیامت کے دن تک یہ مقدس ہی رہے گا۔ کوئی بھی شخص جو اللہ پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے اس شہر میں خون خرابہ کرنا حرام ہے۔ یہ مجھ سے پہلے بھی حرام تھا اور یہ میرے بعد بھی حرام ہو گا'۔ پھر آپ صلعم نے عام معافی کا اعلان کیا، 'جاؤ! آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ تم آزاد ہو'۔ آزادی کے لیے انہوں نے لفظ 'الطلقاء' استعمال کیا جس کا مطلب 'آزاد کیے گئے' ہیں۔ لیکن، یہ اس لفظ کے عمومی معنی نہیں بلکہ واقعی آزادی کے ہیں جو عربی زبان میں اس لفظ کے حقیقی معنوں سے میل کھاتا ہے۔ یعنی یہ جسمانی بندش جیسے زنجیر، بیڑیوں یا رسیوں سے بندھنے کی نہیں بلکہ ماضی کی تمام تر تاریک، غیر مہذب اور جاہلیت پر مبنی بندشوں، رسوم، رواجوں اور طریق زندگی سے آزادی ہے۔ یہ صرف فتح نہیں بلکہ حریت ہے۔ محمد صلعم بتاتے چلے جا رہے تھے کہ، فتح مکہ کوئی معرکہ نہیں ہے جو سر کر لیا گیا ہے بلکہ یہ تو امن اور آشتی کی مدد سے کامیاب ہونے والا انقلاب ہے۔ چنانچہ، لوگوں نے بھی اس انقلاب کو صلح اور صفائی کے ساتھ وہیں کھڑے کھڑے قبول کر لیا ۔
اس کے ساتھ ہی، واقعی انقلاب کا جو خواب محمد صلعم نے دو سال قبل دیکھا تھا ،پورا ہو گیا۔ خطاب کے بعد وہ پلٹے اور   کعبہ کی چابی  دائیں ہاتھ میں تھامے دروازے کی طرف بڑھے۔  دروازہ غیر مقفل کیا اور اندر داخل ہو گئے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر