اول المسلمین - رہنما - 19

 

وہ جن کے خواب پورے ہو جائیں، پھر کس چیز کے خواب دیکھتے ہیں؟ پچھلے آٹھ سال تک محمد صلعم کی زندگی میں مکہ کی حیثیت ایک سنگ مقناطیس کی سی رہی تھی۔ وہ دعا مانگتے تو مکہ کو مانگتے، خواہش پالی تو دل مکہ کے لیے ہی مچلتا رہا اور پھر جب لڑائیاں لڑیں تو وہ بھی اس لیے کہ مکہ سے نسبت باقی رہے۔ یہی نہیں، جب ہتھیار پھینکنے کی ٹھانی تو بھی سامنے مکہ تھا ۔ یہ تو حال کا قصہ ہے، مستقبل کی ہر سوچ کا محور بھی مکہ ہی رہا۔ اور اب، بالآخر مکہ ان کا بن چکا تھا۔ کئی برسوں تک مزاحمت اور جبر برداشت کرنے کے بعد جلا وطن کا خواب پورا ہو چکا تھا۔ 'زیارت اصغر' کے بعد، جب واقعی واپس آئے تو فتح مکہ کی صورت یوں دعوی جمایا کہ اس کی گونج دور تک صحرا کے کونے کونے تک پھیل گئی۔ جب یہ ہو چکا تو پھر عجیب بات ہوئی۔ محمد صلعم کے لیے ایک جلا وطن کا خواب پورا ہونے میں خوشی باقی تھی اور نہ ہی جلا وطنی کی مصیبت ختم ہونے پر مسرت تھی۔
اوائل دور کے تاریخ دان اس ضمن میں کچھ بھی نہیں بتاتے۔ ان کی تصانیف میں محمد صلعم کی شادمانی اور شدید جوش و خوشی کی ہیجانی حالت کا کہیں بھی ذکر نہیں ہے۔ بجائے یہ کہ جا بجا تفاصیل میں بے نیازی اور ایک کمی کا احساس ملتا ہے۔ جیسے کوئی شے گھٹ کر رہ گئی ہے، تخفیف ہو چکی ہے۔ ہم بحیثیت انسان، محمد صلعم کی اس کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں۔ ساٹھ سال کی عمر کے ایک آدمی کو جب وہ شے اچانک مل جائے، وہ شے جس کی اس نے ایک عرصے سے امید پال رکھی تھی تو وہ اس کامیابی پر کسی من چلے نوجوان کی طرح بغلیں بجانے سے رہا؟ ویسے بھی، یہ ایسا معاملہ ہے کہ جس میں خوشی لازمی طور پر دھندلا جاتی ہے۔ اس لیے کہ محمد صلعم کو یقیناً یہ خیال آتا ہو گا کہ اس مقام تک پہنچنے کے لیے انہیں کیا کیا پاپڑ نہیں بیلنے پڑے ؟ وہ کس کس طرح کے حالات سے گزرے اور انہیں یہ سب حاصل کرنے لیے کیا نہیں کرنا پڑا؟ ساتھ یہ بھی کہ قصہ ختم تو نہیں ہوا تھا۔ ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی ہے، مستقبل کے دیو ہیکل تقاضوں کا سامنا تھا۔ وہ جب کعبہ میں داخل ہوئے ہوں گے، یقیناً بھانپ لیا ہو گیا کہ کندھوں پر اس انقلاب کا سارا وزن ایک دم سے ہی آن پڑا ہے اور یہ صرف ایک کامیابی نہیں تھی۔ ایک دم ہی یہ منکشف ہوا ہو گا کہ سہانا خواب تو پورا ہو چکا ہے لیکن جاگنے کا وقت آ چکا ہے۔ اب جب اس خواب سے جاگے ہیں تو ایک حقیقت کا سامنا ہو گا جو خاصی پیچیدہ تھی۔
اگر ہم واقعی یہ سمجھنا چاہیں کہ آخر اس دن محمد صلعم کے احساسات کیا تھے تو اس کے لیے صرف مثال کے طور پر ایک دوسرے شخص کی یاد داشتوں کا سہارا لے سکتے ہیں جسے ان ہی کی طرح کے حالات کا سامنا رہا تھا۔ یعنی، وہ شخص بھی تمام تر ناممکنات کے باوجود اپنی منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ واتسلاو ھاول نامی یہ شخص، ایک ڈرامہ نگار اور مختلف الرائے یعنی غیر مقلد لیڈر ہیں جو بالآخر 1989ء میں چیکو سلواکیہ کے صدر بننے میں کامیاب ہوئے۔ یہ کمیونسٹ دور کے خاتمے کا وقت تھا اور ھاول نے ایک طویل جدو جہد کے بعد ملک میں عام انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا تھا۔ 'وہ دور ہل چل کا تھا مگر اس میں ولولہ اور جوش تھا۔ فوری فیصلے کرنے پڑتے تھے اور ہر نئے قدم پر سوچتے اور سمجھتے ہوئے تدبیر سے کام لینا پڑتا تھا'۔ ھاول کی یاداشتوں میں درج ہے کہ، 'یہ تجسس آمیز اور ہیجان خیز تجربہ تھا جس کے دوران گاہے بگاہے، دلیری کا مظاہرہ کرنا تھا اور مہم جوئی کے لیے تقریباً ہمیشہ ہی تیار رہنا پڑتا۔۔۔ ایک لحاظ سے یہ طلسم ہو شربا، الف لیلویٰ داستان معلوم ہوتی ہے۔ کئی موقعے ایسے بھی آئے کہ لگتا، اب کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک فاش غلطی ہمیں تباہی سے دوچار کر سکتی تھی۔ ہم انجانے راستے پر رواں دواں تھے اور یہ خطرناک بھی تھا۔ ہر قدم پر یہ ڈر ہوتا کہ شاید اب گئے یا تب غرق ہوئے۔ پاؤں تلے سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوتی۔ لیکن، شکر ہے ایسا نہیں ہوا۔ اور اب، جب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم منزل پر پہنچ چکے ہیں تو یقیناً یہ خوشی اور جشن کا موقع ہے۔ انقلاب، اپنے تمام تر خطرات، خدشات اور اندیشوں کے ساتھ ماضی کا حصہ بن چکا ہے اور ہمارے سامنے امن کے دور میں ایک جمہوری ریاست کی عمارت کھڑی کرنے کی ذمہ داری کا بھاری بھرکم پتھر پڑا ہے جس کو اٹھانا ہی پڑے گا۔ کیا ہماری زمین کی قسمت میں واقعی یہ خوش کن لمحہ آن پہنچا ہے؟ ہماری خوش قسمتی ہے کہ اپنی زندگی میں یہ وقت دیکھ لیا جبکہ ہمار ملک طویل عرصے سے مطلق العنانی تلے دب کر بسر کرتا چلا آ رہا ہے؟ '
'پھر بھی۔۔۔' ھاول مزید لکھتے ہیں، 'اب جب کہ یہ عظیم تاریخی لمحہ آن پہنچا ہے تو مجھے ایک عجیب احساس نے آن گھیرا ہے۔۔۔وہ یہ کہ اگرچہ جو مقصود تھا، مل چکا لیکن اس کے باوجود میں تو ایک مغلوب اور دبی ہوئی ریاست کا باشندہ ہوں۔ یہ کیسا احساس ہے کہ جس نے شل کر کے رکھ دیا ہے۔ میں اپنے آپ کو اندر سے خالی محسوس کر رہا ہوں۔ اب ملک بھر میں جاری یہ نشاط اور سرور کی محفلیں، جشن جاری ہے، عجب تناؤ کا باعث بن رہا ہے۔ ابھی تک تو یہ سب خوش کن محسوس ہوتا تھا لیکن ایک دم ہی یہ ہوا ہے کہ وہ توانائی جو محسوس ہوتی تھی، اچانک غائب ہو گئی ہے۔ جیسے کسی نے خون چوس لیا ہو۔ ایسے جیسے کسی نے سارا دم خم نکال دیا ہو۔ مجھے اب شدید تھکن کا احساس ہوتا ہے اور اپنا آپ غیر متعلق اور وجود بے محل، انمل لگنے لگا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں، شاعری ختم ہو چکی اور نثر شروع ہوا چاہتی ہے۔ اب پتہ چلا کہ ہمارے سامنے کس قدر مشکل اور کئی طرح سے لا حاصل کام کا ایک اونچا پہاڑ کھڑا ہے۔ ہمیں پہلی بار محسوس ہو رہا ہے کہ ہم نے کس قدر بھاری وزن اپنے کندھوں پر لاد لیا ہے۔ سمجھ آئی ہے کہ ہم نے جو منزل چنی تھی، وہ تو ابھی بہت دور ہے۔ جو حاصل ہوا ہے، وہ تو صرف ایک سنگ میل تھا۔ ہاں، یہ تسلی ضرور ہے کہ ہماری منزل، کھوٹی نہیں ہے'۔
یہی وہ جاری کشمکش ہے جو فتح مکہ کے فوراً بعد ہم محمد صلعم کے اندر دیکھی جا سکتی ہے۔ بجائے شادمان ہوتے، اچانک ہی تھکن کے بھر پور اور توڑ دینے والے احساس کا شکار ہو گئے۔ وہ اب ایک باغی نہیں رہے تھے، خواب بننے والا بنیاد پرست نہیں بلکہ ایک ایسا عظیم کردار بن چکے تھے جس نے صرف دو دہائیوں میں ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔ پھر بھی، ایک آدمی کس قابل ہو سکتا ہے، کتنا توانا ہو سکتا ہے؟ گزشتہ بیس سالوں کا خراج یوں ادا ہوا کہ آپ صلعم کے چہرے پر لکیریں گہری ہو گئیں، آنکھوں کے گرد حلقے سیاہ ہو چکے ہیں اور پیشانی پر جلد کا رنگ سیاہی مائل ہوتا چلا گیا۔ احد کی لڑائی میں آنے والا زخم تو مندمل ہو گیا مگر اس کا نشان اب بھی باقی تھا اور مستقل سر درد کی وجہ سے اب چہرے پر سختی اور تناؤ صاف نظر آنے لگا تھا۔
اب، جب کعبہ میں داخل ہوئے تو یقیناً سمجھ چکے ہوں گے کہ ابھی ان کی خلاصی نہیں ہوئی۔ بلکہ اس نوزائیدہ ریاست کی دیکھ بھال کرنے کی بھاری ذمہ داری آن پڑی ہے اور اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ وقت کے ساتھ یہ خراج بڑھتا ہی چلا جائے گا اور انہیں یہ محصول اپنی صحت کی صورت ادا کرنا پڑے گا۔ وہ جان چکے تھے کہ اب اس کے بعد ان کا جسم، ساتھ چھوڑ دے گا۔
اس موقع پر، محمد صلعم نے اپنے آپ کو قابو میں رکھتے ہوئے بھر پور ضبط کا مظاہرہ کیا۔ جیسا کہ مشہور ہے ، خطاب کے بعد وہ بتوں کو گراتے اور توڑنے لگے، ان بتوں کی بابت کہا جاتا ہے کہ وہ کعبہ کے اندر نصب تھے لیکن تاریخ میں ان واقعات کا کہیں بھی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اول تو یہ کہ بت کعبہ میں نہیں بلکہ اس کے ارد گرد جمع کیے گئے تھے اور پھر دوسرا یہ کہ ابن اسحاق اور نہ ہی الطبری نے تحریر کیا ہے کہ جب وہ کعبہ کا دروازہ غیر مقفل کر کے اندر داخل ہوئے تو اس کے بعد کیا ہوا؟ شاید، یہ ایسے ہی ہونا چاہیے ۔ یہ محمد صلعم کے ذاتی لمحات تھے جو یوں ہی غیر تحریر شدہ رہنے چاہیے۔ وہ اس لیے کہ، ہم صفحے کی بجائے تخیل میں انہیں کعبہ میں داخل ہو کر اپنے پیچھے دروازہ بند کرتے ہوئے دیکھ سکیں ا ور اندر بھاری پتھر کی موٹی دیواروں کے پیچھے نعرے بلند کرتے ہوئے مردوں اور جذبات میں بے اختیار چلاتی ہوئی عورتوں کا شور دور سے آتا ہوا، دبا ہوا سنائی دے۔ وہ کعبہ کی چار دیواری میں ایک بار پھر ویسے ہی تن تنہا ہوں جیسے کبھی پہاڑی پر ہوا کرتے تھے۔ ہم اپنے تصور میں دیکھ سکیں کہ وہ نیم تاریکی میں آگے کو جھک کر کھڑے، سرگوشیاں کرتے ہوئے، خاموشی سے زیر لب شکر انے کا ورد کر رہے ہیں۔ شاید وہ نہیں جانتے تھے لیکن یہ آخری موقع تھا کہ وہ اپنی مرضی سے یوں تنہا اور اکیلے ہوں گے۔ اس کے بعد انہیں دوبارہ کبھی بھی اس طرح کی خلوت نصیب نہیں ہو گی۔
بہر حال، تاریخ میں یہ ضرور رقم ہے کہ جب وہ کعبہ میں کچھ وقت گزار کر باہر نکلے تو رسمی طور پر کعبہ کو ایک بار پھر خدائے واحد سے منسوب کرنے کا اعلان کیا اور حکم دیا کہ احاطے میں موجود ساری خدائی نشانیوں کو ہٹا دیا جائے۔ ان کے اس حکم کی فوراً ہی تعمیل کر دی گئی۔ اب کعبہ میں کوئی اوتار اور خدائی نشانی باقی نہیں تھی بلکہ عملی طور پر صرف ایک خدا کا راج تھا۔ بعد اس کے، وہ اونٹنی پر سوار ہو کر قریب ہی واقع صفوہ کی پہاڑی پر چلے گئے۔ یہاں انہوں نے مسلسل تین دن گزارے۔ ان تین دنوں میں مکہ کے لوگ اپنے گھروں سے نکل کر ایک قطار میں فرداً فرداً آپ صلعم کے سامنے پیش ہوئے اور اللہ اور اس کے رسول سے وفا داری کا عہد باندھا اور کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ تیسرے دن کے آخر میں، ہجوم میں ایک عمدہ لباس پہنے ایک عورت بھی نظر آئی جس نے اپنا چہرہ شال سے ڈھانپ رکھا تھا۔ وہ سارا وقت خاموشی سے اپنی باری کا انتظار کرتی رہی اور جب اس کی حاضری ہوئی تو سب کو معلوم ہو گیا کہ وہ کون تھی اور آخر اس نے اپنا چہرہ کیوں چھپا رکھا تھا؟ یہ ابو سفیان کی بیوی ہند ہ تھی۔ وہی ہند جس نے احد کی لڑائی کے بعد حمزہ کا کلیجہ نکال کر چبایا اور لاشے کو مٹی اور دھول میں روند دیا تھا۔
ہند کو محمد صلعم کے سامنے دیکھ کر مجمع کو سانپ سونگھ گیا اور سب ہی لوگ بے چینی سے محمد صلعم کے رد عمل کا انتظار کرنے لگے۔ وہ ایک دوسرے پر سوار ہو کر آگے پہنچنے کی کوشش کرنے لگے تا کہ جب ان دونوں کے بیچ با ت چیت ہو تو وہ پوری طرح سن سکیں۔ ' مجھے اس پر معاف کر دو جو ماضی کا حصہ ہے۔۔۔' ہند نے اس شخص سے معافی کی بھیک مانگی جس کو وہ تین دن قبل بھی لوگوں کے بیچ کھڑے ہو کر غلیظ گالیاں اور صلواتیں سنا چکی تھی، 'اور اللہ تمہیں معاف کرے گا'۔
'تم توہین آمیز اور تہمت انگیز کہانیاں نہیں پھیلاؤ گی' ، محمد صلعم نے اس کے لیے معیار مقرر کرتے ہوئے جواب دیا۔ ہند نے جواب میں ایک بار پھر معافی مانگی، یا کم از کم زیادتیوں کو بھول جانے کی درخواست کی، 'واللہ، افترا بازی اور تہمت باندھنا بہت بری بات ہے۔ لیکن، بعض اوقات بہتر یہی ہوتا ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے'۔
محمد صلعم نے اب کی بار ہند کو آزماتے ہوئے کہا، 'تم میری نا فرمانی نہیں کرو گی اور اچھائی کے احکامات سے رو گردانی نہیں کرو گی' تس پر، ہند کا جواب اگر بے محل اور گستاخ نہ سہی مگر بے صبر ضرور ہے۔ وہ محمد صلعم کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی بولی، 'اگر ہم واقعی نا فرمانی کا ارادہ رکھتے تو یوں اتنی دیر تک اطاعت کا عہد باندھنے کے لیے انتظار ہی کیوں کرتے؟' لیکن، شاید جلد ہی اسے اپنی غلطی کا احساس ہو گیا کہ اس جواب سے بدستور دشمنی اور عداوت کا تاثر مل سکتا تھا۔ اس کا ڈر اپنی جگہ لیکن محمد صلعم کا ہند سے انتقام لینے کا کوئی ارادہ نہیں تھا ۔
قران نے بھی سابقہ دشمنوں سے، جب وہ اطاعت کی حامی بھر لیں تو در گزر کا معاملہ کرنے کی تاکید کی تھی۔ اور اگرچہ ہند نے بوجھل دل کے ساتھ، چار و چار فرمانبرداری کا وعدہ کیا تھا لیکن محمد صلعم پھر بھی اسے قبول کر لیں گے۔ عین ممکن ہے کہ محمد صلعم نے اس کی صاف گوئی اور بدستور کھرے پن کا لحاظ بھی کیا ہو ۔ شاید انہوں نے اس بابت ہند کی بد دلی اور حقارت کو بوجوہ ، خاطر میں نہ لانا مناسب سمجھا ہو؟ ویسے بھی یہ پرانے زخموں کو، جو اب تک ناسور بن چکے تھے، مندمل کرنے کا وقت تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ آسان نہیں ہے۔ زخموں کو بھرنے میں وقت تو لگتا ہی ہے۔ قریظہ کے ساتھ پیش آنے والے سلوک کے بعد ہر شخص جانتا تھا کہ ضرورت پڑنے پر محمد صلعم سختی سے گریز نہیں کریں گے لیکن ان کو دوبارہ اسی طرز کی سختی کا مظاہرہ کرنے کی اب چنداں ضرورت نہیں تھی۔ اس کے بر عکس، اگرچہ وہ اس موقع پر انتقام لینے پر حق بجانب ہوتے لیکن پھر بھی، اس سے دست بردار ہونے سے وہ لوگوں کے دل جیت سکتے تھے، پرانی دشمنیوں کو دفن کر سکتے تھے اور ایک نئی شروعات کے لیے مضبوط بنیاد رکھ سکتے تھے۔ طاقت کے مزید استعمال سے وفا داریاں جیتنا ناممکن نہ سہی لیکن بہر حال، بر حق نہیں تھا۔ مہربانی اور تواضع سے کام لینا ہی درست سمت تھی، اس سے غیر متوقع طور پر انتہائی گہرے اثرات مرتب ہوتے، بہترین نتائج مل سکتے تھے۔
علاوہ ازیں، ہند کو باوجود رویے میں ترشی کے، عوامی سطح پر معاف کر دینے سے اس کے شوہر ابو سفیان پر بھی گہرا اثر ہوتا۔ وہ پہلے سے کہیں زیادہ آپ صلعم کے قریب آ جاتے اور یہ اتحاد اور امت کے تصور کے لیے انتہائی ضروری بھی تھا۔ محمد صلعم نے فتح مکہ کو صرف ایک تسلط یا غلبہ نہیں سمجھا کہ جس میں فاتح ہر شے لوٹ لیتا ہے۔ بلکہ، اسے بٹ جانے والے لوگوں کو دوبارہ سے ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا بر محل موقع بنا لیا۔ ویسے بھی، یہ تقسیم آپ صلعم کی مرضی تھی اور نہ ہی پہلی فرصت میں ایسا ہونا چاہیے تھا۔ محمد صلعم کا نظریہ، طاقت کے زور پر تسلط قائم کرنا نہیں بلکہ اشتراک اور اتفاق کی ایک ایسی مثال قائم کرنا تھا کہ جس میں ہر شخص اور فریق کی منشا اور مرضی شامل ہو۔ ایسا میل اتحاد جس میں پرانی دشمنیاں خاکستر ہو جائیں اور وہ تمام لوگ جو اپنی من مرضی سے شامل ہونا چاہتے، ان کے لیے امت میں برابری کی سطح پر مواقع اور مقام دستیاب ہوتا۔ چنانچہ، اسی تصور کی بنیاد پر انہوں نے عمر اور دوسرے چیدہ مشیران کے اعتراضات کو رد کرتے ہوئے نہ صرف ہند کی معافی کی درخواست قبول کر لی بلکہ ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے مکہ کے چیدہ لوگوں کو شہر کے اعلی انتظامی اور عسکری عہدے بھی سونپ دیے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں اختیار حاصل کرنے والوں میں ابو سفیان کے ساتھ ہند کے بطن سے پیدا ہونے والے فرزند، معاویہ بھی شامل تھے۔ محمد صلعم کا معاویہ کو عہدہ بخشنا، کئی لوگوں کے لیے چونکا دینے والا فیصلہ تھا۔
دانستہ یا غیر دانستہ، ان اقدامات سے ایک بار پھر محمد صلعم مستقبل میں اسلام کی قیادت تشکیل دے رہے تھے۔ بعد ازاں، معاویہ آپ صلعم کے لیے انشا نگار اور ماتحت کی ذمہ داریاں سنبھال لیں گے اور چند ہی برسوں میں جب اسلامی سلطنت پھیلتی جائے گی تو شام کے مضبوط ترین صوبے کا گورنر مقرر ہوں گے۔ لیکن، ان کا اقتدار میں عروج یہیں ختم نہیں ہو جاتا۔ محمد صلعم کے وصال کے انیس سال بعد، جب اسلامی ریاست کے چوتھے اور آخری خلیفہ علی قتل کر دیے جائیں گے تو معاویہ اسلامی سلطنت کی بھاگ دوڑ سنبھال لیں گے اور خلافت امویہ کی بنیاد رکھیں گے جس کا مرکز شام کے شہر دمشق میں ہوا کرے گا۔ اس وقت تک معاویہ کی ماں، ہند کو مرے ایک عرصہ بیت چکا ہو گا لیکن ہند چونکہ اشرافیہ اور حکمران طبقے کی فرد تھی تو یقیناً ہمیشہ ہی اپنے بیٹے کو اس عہدے پر برا جمان دیکھنا چاہتی ہو گی۔ وہ آخری دم تک اپنے بیٹے اور نسل کو یوں ہی اقتدار کا جائز حقدار سمجھتی رہی اور ایک عرصے بعد دوبارہ اختیار حاصل کرنا، اس کے لیے ہمیشہ جائز رہا ہو گا۔
اگرچہ مکہ کے کئی نامی گرامی لوگوں کو اختیاری فائدہ تو نہیں پہنچا لیکن کم از کم ان کی جان بخشی ہو چکی تھی اور وہ اسی پر مطمئن تھے۔ بلکہ، انتقامی روش کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا۔ مگر محمد صلعم کے اس رویے کے باوجود بھی ،بارہ لوگ ایسے تھے جو بہر حال، اپنے کیے کی سزا پانے کے روادار ٹھہرائے جائیں گے۔ ان میں چار عورتیں بھی شامل تھیں جن کی شاعری اور ہجو، پریشان کن حد تک تشویش ناک اور توہین آمیز تھی۔ نہ صرف یہ کہ وہ بدستور ایسی شاعری تخلیق کرتی رہیں بلکہ وقت کے ساتھ ان کی نفرت میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ ان کے علاوہ، ایک شخص اور بھی تھا، جس کے دل میں محمد صلعم کے لیے سوائے کدورت اور بخل کے کچھ نہیں تھا۔ یہ عکرمہ بن عمرو ، یعنی محمد صلعم کے دیرینہ دشمن ابو جہل کے فرزند تھے۔ محمد صلعم نے حکم جاری کیا کہ ان بارہ لوگوں کو ، وہ کعبہ کے غلاف میں ہی کیوں نہ لپٹے ہوں، اگر معافی کی بھیک نہ مانگیں تو قتل کر دیا جائے۔ ان میں سے آدھوں نے یوں ہی کیا، یعنی معافی مانگ کر اسلام قبول کر لیا۔ اطاعت کرنے والوں میں عکرمہ بھی شامل تھے۔ اس کا محمد صلعم پر گہرا اثر ہوا ۔ انہوں نے عکرمہ کو مکہ میں ایک کلیدی انتظامی عہدے پر فائز کر دیا اور یوں دیرینہ دشمنیوں کو مٹانے کی ایک اور مثال قائم کر کے امہ میں یگانگت اور اتحاد کو فروغ دیا۔
جب یہ سب ہو چکا تو لگنے لگا کہ شاید قصہ تمام ہو گیا۔ وہ شہر جس سے محمد صلعم کو نکال باہر کیا گیا تھا، اب رسمی طور پر ان کی' ملکیت' بن چکا تھا۔ مکہ نے ایک عرصے تک جس شے کی مزاحمت کی تھی، اب اسے قبول کر لیا تھا اور خوش آئند بات یہ تھی کہ مجموعی طور پر یہ عمل پر امن طریقے سے مکمل ہو گیا تھا۔ پھر بھی، ظاہر ہے جیسا کہ ایسے معاملات میں ہوتا ہے، واقعات چلتے ہی رہتے ہیں اور قصہ ختم نہیں ہوتا۔ ایسا کوئی موقع نہیں آتا کہ جہاں ہاتھ جھاڑ کر پیچھے ہٹ جائیں اور قطعی اعلان کر دیا جائے کہ، 'یہ لو، ہو چکا۔ بات ختم ہو گئی'۔ ہوا یوں کہ مکہ میں داخل ہونے کے صرف دو ہفتے بعد ہی محمد صلعم کو ایک نئی لڑائی کا سامنا کرنا پڑا۔ اب کی بار، یہ لڑائی قریش سے نہیں بلکہ قریش کے دشمنوں سے لڑنی پڑی۔
کئی خانہ بدوش بدو قبائل جو مل کر ایک بڑا اتحاد قائم کیے ہوئے تھے، ہوازن کہلاتے تھے۔ ہوازن کی تمام تر وفا داریاں، جنوب مغرب میں ساٹھ میل کے فاصلے پر واقع پہاڑی سلسلے کے شہر طائف کے ساتھ تھیں۔ ان کے نزدیک، مکہ کی شکست سے قریش پہلے سے زیادہ مضبوط ہو چکے تھے۔ چونکہ محمد صلعم خود بھی قریش سے تعلق رکھتے تھے، انہوں نے سوچا کہ جیسا کہ روایتی طور پر ہوتا ہے، آپ صلعم کی مثال نئے سربراہ حکومت، قریشی سردار یا بادشاہ کی سی تھی۔ یقیناً، مکہ کے بعد ان کی نظریں طائف پر مرکوز ہوں گی۔ ویسے بھی، طائف اور اس شہر کے اتحادی، محمد صلعم سے کسی بھی طرح اچھے سلوک کی توقع نہیں رکھتے تھے۔ صرف دس سال پہلے، ابو طالب کی وفات کے بعد، انہوں نے محمد صلعم کو تحفظ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ انہیں لگتا تھا کہ محمد صلعم بالضرور ہی انتقام لیں گے۔
اس سے پہلے کہ محمد صلعم طائف کا رخ کریں، ہوازن نے پہلے ہی جنگی حکمت عملی کے تحت مکہ پر دھاوا بول دینے کا فیصلہ کر لیا۔ ہوازن کے تیس سالہ خوبرو سردار، مالک کی سپہ سالاری میں ہزاروں جنگجو ایک بڑے لشکر کی صورت مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ اعتماد اور ثابت قدمی کا حال یہ تھا کہ اس لشکر میں عورتوں اور بچوں کے ساتھ ساتھ مال مویشی کو بھی شامل کیا گیا تھا۔ بعض روایات میں درج ہے کہ چالیس ہزار سے زیادہ اونٹ لشکر کا حصہ تھے۔ کئی لوگوں کے مطابق یہ خالصتاً بیوقوفی تھی۔ ایک عمر رسیدہ جنگجو سردار، جو خود لڑنے سے تو قاصر تھا لیکن پھر بھی اونٹ پر لادی ہوئی پالکی میں بیٹھا اس لشکر میں شریک تھا، اس نے یوں ہر شے کو خطرے سے دوچار کرنے پر توجہ دلائی۔ لیکن، مالک نے نہایت اعتماد کے ساتھ اس کو جھڑک دیا اور اعتراضات کو یکسر نظر انداز کر دیا۔ یہ لشکر بمشکل آدھے راستے تک پہنچا ہو گا کہ دوسری جانب سے محمد صلعم کی سپہ سالاری میں مدینہ اور مکہ کے مشترکہ لشکر نے انہیں حنین کے چشمے پر جا لیا۔ یہاں گھمسان کی لڑائی ہوئی اور طائف کے لشکر کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ہوازن کا لشکر تتر بتر ہو چکا تھا اور آدھے جنگجوؤں کو عورتوں، بچوں اور مال مویشی سمیت قیدی بنا لیا گیا۔ جبکہ، مالک اور بچ جانے والے جنگجو پیچھے ہٹتے گئے۔ یہاں تک کہ بالآخر طائف شہر کی دیواروں کے پیچھے پناہ لینی پڑی۔ شہر کے دروازے بند کر قلعہ بند ہو گئے اور محاصرے کی تیاری کرنے لگے۔ حنین کی فتح ایک تلخ شیریں تجربہ ثابت ہو گی۔ قیدیوں میں ایک بوڑھی عورت تھی، جو سب کی توجہ کا مرکز بن چکی تھی۔ یہ عورت بار بار اصرار کرتی کہ وہ محمد صلعم کی رشتہ دار ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا؟ ایک بدو عورت محمد صلعم کی رشتہ دار کیسے ہو سکتی تھی؟ پہرے پر فائز فوجیوں کے لیے یہ بات ناقابل اعتبار تھی۔ ان کے خیال میں، یہ عورت صرف اور صرف اپنے کنبے کے لیے رعایت حاصل کرنے کے لیے ڈھونگ رچا رہی ہے۔ لیکن، جب اس عورت کو اس کے کنبے کے افراد سمیت گھسیٹ کر محمد صلعم کے سامنے پیش کیا گیا تو اس نے کمال بے ساختگی سے انہیں مخاطب کیا، 'او اللہ کے رسول! میں شائمہ ہوں۔ تمہاری رضاعی بہن، مجھے بھول گئے؟ میں وہی ہوں جس نے تمہیں اس وقت پالا تھا جب تم بچپن میں ہمارے یہاں بسر رکھتے تھے'۔
کیا یہ واقعی شائمہ تھی؟ آخری بار جب محمد صلعم نے شائمہ کو دیکھا تھا، اس کے بعد پچاس برس گزر چکے تھے۔ محمد صلعم کو یاد آیا کہ حلیمہ کا کنبہ ہوازن کے اتحاد کا حصہ بن چکا تھا لیکن پھر بھی۔۔۔ کیا یہ کمزور، بوڑھی عورت جس کے سر میں چاندی اتری ہوئی تھی، واقعی شائمہ تھی؟ شائمہ جسے وہ جانتے تھے، وہ تو ایک نو عمر اور نو خیز لڑکی ہوا کرتی تھی۔ 'اور اس بات کا کیا ثبوت ہے؟' محمد صلعم نے زور دار آواز میں پوچھا۔ جواب میں اس عورت نے آستین چڑھا کر بازو دکھایا، 'یہ دیکھو، میرے بازو پر ابھی تک زخم کا نشان ہے'۔ پھر تفصیل بتائی، 'یاد ہے جب میں تمہیں بغل سے لگائے وادی سرار میں گلہ بانوں کے پیچھے چل پڑی تھی اور تم نے مجھے یہاں دانتوں سے کاٹ ڈالا تھا، میں چلا کر رہ گئی تھی؟'
یہ سچ تھا۔ محمد صلعم کے سامنے ان کی رضاعی بہن کھڑی تھی۔ اتنے عرصے بعد وہ حلیمہ کی بیٹی کو دیکھ رہے تھے۔ شائمہ، جس کے ہاتھوں میں وہ پلے تھے اور اس کو ستایا کرتے تھے۔ وہ بیچاری، بکریوں کے پیچھے بھاگتے، اونٹوں کو دوڑاتے، سارا سارا دن آپ صلعم کو بغل سے لگائے پھرتی رہتی تھی۔ ایک ذرا خود سے الگ نہ کرتی کہ وہ کھو نہ جائیں، ہر وقت ڈر لگائے رکھتی۔ یہ شائمہ ہی تو تھی۔ اور اب، اتنے سالوں بعد وہی شائمہ ان کے سامنے کھڑی رحم کی بھیک مانگ رہی تھی۔ جنگ و جدل اور فتح و مفتوح کا یہ کھیل، انہیں کہاں لے آیا تھا؟ یہ کب ختم ہو گا؟ حجاز کے نئے سربراہ ریاست کو بچپن کی یادوں نے آن گھیرا اور اچانک ہی ایک خیال کوندا کہ وہ یتیم لڑکا جو کبھی شائمہ کے بازؤں میں بل کھایا کرتا تھا، اس نے زندگی میں کیا کیا نہیں دیکھ لیا؟اس نے کس قدر طویل مگر غیر معمولی سفر طے کر لیا ہے اور وہ کتنی دور نکل آیا ہے۔ اپنے آنسوؤں پر قابو رکھتے ہوئے، محمد صلعم نے بے ساختہ اپنا چوغہ اتار کر زمین پر بچھا دیا اور شائمہ سے کہا کہ وہ ان کے پاس، پہلو میں بیٹھ جائے۔ وہ دیر تک اس کے پاس چپ چاپ بیٹھے رہے اور پھر اسے کہا کہ چاہے تو وہ ان کے ساتھ، انہی کے گھر چل کر رہے۔ اور اگر نہیں تو اپنے خاندان کے ساتھ، مرضی کے جتنے اونٹ چاہے، لے کر اپنی سر زمین میں واپس جا سکتی ہے۔ چونکہ شائمہ کا قالب بدو تھا، اس نے شہر کی بجائے، صحرا میں واپس چلے جانے کو ترجیح دی۔
ہوازن کے باقی لوگ بھی شائمہ کے شکر گزار تھے کہ اس کی وجہ سے ان کی جان بخشی ہو گئی۔ قیدیوں کو رہا کر دیا گیا لیکن انہیں اونٹوں سے ہاتھ دھونا پڑا۔ محمد صلعم نے مال مویشی کو اپنے لشکر میں بانٹ دیا۔ مکہ کی نامی گرامی شخصیات جیسے ابو سفیان اور ان کے فرزند معاویہ کے حصے میں سو سو، مکہ کے اتحادی بدو سرداروں میں سے ہر ایک کو پچاس اور اسی طرح ہر شخص کو اس کی حیثیت کے مطابق ، جیسا کہ ابن اسحاق لکھتے ہیں، 'جن کی حمایت نا گزیر تھی، مال غنیمت عطا کیا'۔ اگر ابھی تک کسی کو یہ شبہ تھا کہ شاید محمد صلعم کی اطاعت اور فرمانبرداری سے سابقہ دشمنان نقصان میں رہے تھے تو وہ اب مال غنیمت کی اس بے میل تقسیم سے ہوا ہو گیا۔ جہاں مکہ کے لوگ خود کو صرف ایک فاتح کے ماتحت کی حیثیت سے دیکھا کرتے تھے، انہیں پتہ چل گیا کہ محمد صلعم نے تو انہیں برابری کی سطح پر لا کھڑا کیا ہے۔ انہیں غیر متوقع طور پر فائدہ پہنچا تھا اور ان کے قد کاٹھ میں کئی گنا اضافہ ہوا تھا۔ چنانچہ، وہ اب پہلے سے بھی زیادہ محمد صلعم کے وفا دار ہو گئے اور دل و جان سے آپ صلعم کے گرویدہ ہوتے چلے گئے۔
محمد صلعم نے یہاں سے طائف کا رخ کیا، لیکن جلد ہی بھانپ لیا کہ وقت اور سیاسی ہواؤں کے زور کی وجہ سے جلد ہی مالک اور اس کے حواریوں کا معاملہ خود بخود حل ہو جائے گا۔ چنانچہ، بجائے طائف جیسے مضبوط قلعے کا محاصرہ جاری رکھتے، واپسی کا قصد کیا۔ ویسے بھی، مکہ جیسے مرکزی شہر کے ہتھیار ڈالنے کے بعد طائف کی مزاحمت کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔ وہ جلد ہی گھٹنے ٹیک دیں گے کیونکہ ان کا مکہ کے بغیر گزارا مشکل تھا۔ ایسا ہی ہوا اور مالک کو بھی دس مہینوں کے اندر ہی یہ بات اچھی طرح سمجھ آ گئی۔ طائف نے رسمی طور پر محمد صلعم کے اختیار کو تسلیم کر لیا اور داخل اسلام ہو گئے۔
اگرچہ مالک کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے لیکن اس کی ایک بات، بہر حال درست تھی۔ اگر محمد صلعم چاہتے تو وہ خود کو مکہ کی سرداری پر فائز کر سکتے تھے۔ صرف مکہ ہی کیا، چاہتے تو پورے خطہ حجاز کی بادشاہی کا دعوی کر لیتے۔ ان کے پیچھے قبائل صف در صف کھڑے تھے، وفا داروں کی ایک عظیم الشان فوج تھی اور ہر شخص بڑھ چڑھ کر اطاعت کر رہا تھا۔ اس خطے کی یاد داشت میں شاید ہی کبھی کسی شخص کو اتنی پذیرائی ملی ہو، اس قدر اختیار اور طاقت ہاتھ آئی ہو۔ اس کے باوجود، جیسا کہ عام طور پر فاتحین کی روش ہوا کرتی ہے، محمد صلعم نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔ انہوں نے کعبہ کے ساتھ ہی کوئی بڑی مسجد اور نہ ہی کوئی محل تعمیر کیا۔ نہ ہی جیسے ریاست میں ہوا کرتا ہے، عدالت قائم کی اور نہ ہی دربار لگایا۔ یہاں تک کہ انہوں نے مکہ کو دار الخلافہ بھی قرار نہیں دیا۔ جلد ہی لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ ریاستی ادارے، دربار اور بادشاہی تو دور کی بات، محمد صلعم کا یہاں بسر کرنے کا بھی ارادہ نہیں ہے۔ آپ صلعم کا لشکر چار فوجی دستوں میں تقسیم ہو کر شہر مکہ میں داخل ہوا تھا، دو ماہ بعد ہی شہر سے نکل گیا۔ محمد صلعم کے پیچھے پیچھے، اس لشکر کا رخ دو سو میل دور، مدینہ کے نخلستان کی طرف تھا۔
ایسا لگتا ہے کہ محمد صلعم کے لیے یہ کڑا فیصلہ تھا۔ اگر ان کا دل ایک شہر کے ساتھ جڑا تھا تو روح دوسری بستی میں مقید تھی۔ یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ دل کس شہر میں تھا اور روح کہاں کی تھی؟ اگر مکہ وحدانیت کی جائے پناہ تھا تو دوسری طرف مدینہ واحدانیت کے علم بردار، محمد صلعم کی پناہ گاہ تھی۔ اگرچہ مکہ جائے پیدائش تھی لیکن مدینہ میں انہیں نئی زندگی عطا ہوئی تھی۔ اگر ایک شہر میں ان کے خواب نے جنم لیا تھا تو یہ دوسرا شہر تھا جس میں اس خواب نے تعبیر پائی تھی۔ بلا شبہ، دونوں بستیوں میں سے ایک کو دوسری پر فوقیت دینا، ان کے بیچ انتخاب کرنا ناممکن تھا۔
باوجود اس کے، محمد صلعم نے مکہ میں ٹھہرنے کا کوئی عندیہ بھی نہیں دیا۔ بظاہر، جیسے ہوا کرتا ہے، بے چینی ظاہر کی اور نہ ہی وہ مچل رہے تھے۔ مکہ میں ٹھہرنا تو دور کی بات، انہوں نے اس شہر کو نئی اسلامی ریاست کی انتظامیہ کا مرکز بھی نہیں بنایا۔ وہ گھر تو پہنچ چکے تھے لیکن شاید، اتنے سالوں کے بعد گھر ان سے کوسوں دور ہو چکا تھا۔ جیسا کہ اب جا کر مکہ بے شک ان کا بن چکا تھا لیکن وائے انسان، وہ اب مکہ کے نہیں رہے تھے۔ نفسیات کی زبان میں یوں کہیے کہ، یوں واپس آ کر انہوں نے خود کو واپسی کی ضرورت اور طلب سے ہمیشہ کے لیے آزاد کرا لیا تھا۔ بلا شبہ، مکہ ہمیشہ ہی ویسا رہے گا۔ حرمت کا شہر، محترم اور عالی مقدس جگہ رہے گی۔ حنین سے واپس آئے تو مکہ پہنچتے ہی، حسب دستور عمرہ ادا کیا اور واضح کر دیا کہ وہ یہاں بسر رکھیں یا نہیں، مکہ کی تعظیم جوں کی توں، ماضی کی ہی طرح برقرار رہے گی۔ لیکن، اس کے ساتھ ہی آبائی شہر، سنگ مقناطیس میں صرف اور صرف پندرہ راتیں گزارنے کے بعد ہی واپسی کا سفر باندھ لیا۔ اب وہ یہاں سے جائیں گے تو پھر، صرف ایک بار ہی یہاں واپس آئیں گے۔
مدینہ سے تعلق رکھنے والے محمد صلعم کے چند پیروکار، یعنی انصار اس بات پر خاصے آزردہ تھے کہ حنین کے بعد مال غنیمت کا بڑا حصہ مکہ کے نامی گرامی سرداروں اور ان کے حواریوں میں بانٹ دیا گیا تھا۔ اب محمد صلعم نے واپسی کا رخت سفر باندھ کر واضح کر دیا کہ بھلے مکہ کی اشرافیہ اور ان کے قبائلی بھائی بندوں کے ہاتھ اونٹ اور مال دولت آئی تھی لیکن مدینہ کے حصے میں وہ خود، بنفس نفیس چل کر آ رہے تھے۔ انہوں نے اپنا آپ ان کے حوالے کر دیا تھا۔ 'تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں۔ میں تمہارے بیچ رہوں گا اور تمہارے ہی بیچ مر جاؤں گا'۔ آٹھ سال پہلے، محمد صلعم نے یہی وعدہ کیا تھا اور وہ اپنی زبان پر بدستور قائم تھے۔ چنانچہ، جب وہ مدینہ کے لیے روانہ ہوئے تو سفر سے قبل مدینہ کے لوگوں کو جمع کر کے ایک بار پھر اعادہ کیا، 'کیا تم اس بات پر آبلہ پا ہو کہ اس زندگی کی اچھی چیزیں تمہارے ہاتھ سے نکل گئیں؟ وہ چیزیں، جن کی مدد سے میں نے لوگوں کو اسلام پر قائم رکھنے پر راضی کیا ہے؟ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے کہ دوسرے لوگوں کے ہاتھ ریوڑ اور جتھے آئے ہیں جبکہ تم اپنے ساتھ اللہ کے رسول کو لے کر جا رہے ہو۔ کیا یہ گھاٹے کا سودا ہے؟'
اگرچہ، قران میں استعمال ہونے والا لفظ 'فتح'، بعد میں 'غلبے' یا 'جیت' کے مجازی معنوں میں استعمال کیا جانے لگے گا لیکن محمد صلعم واقعتاً، اس لفظ کے حقیقی معنوں پر یقین رکھتے تھے اور یہ نازل بھی اسی پیرائے میں ہوا تھا۔ یعنی، 'فراخی' اور 'کشائش' مراد تھی۔ آپ صلعم کے لیے یہ لغوی اور مجازی، دونوں صورتوں میں ایک ہی بات تھی۔ جہاں دروازے بند کر دینے سے لوگ ایک دوسرے سے بچھڑ جاتے ہیں، بندشوں کی وجہ سے اندرون اور بیرون ایک دوسرے سے کٹ کر رہ جاتے ہیں، وہیں نئی راہیں نکالنے، در کھولنے سے مواقع پیدا ہو سکتے تھے۔ اس طرح، لوگ ایک دوسرے سے جڑ سکتے تھے ۔ اندرون اور بیرون کو یکجا کیا جا سکتا تھا۔ غیر، غیر نہ رہتے اور یہ غیریت کا سارا قضیہ بھی ختم ہو جاتا۔ جیسا کہ کبھی انہوں نے اس سے پہلے بھی، پرانے دور کے دروازے خود پر بند کر دیے تھے اب انہوں نے اپنے آگے نئے دور کا دروازہ وا کر دیا۔ مکہ اور مدینہ کو کچھ اس طرح اکٹھا کر لیا کہ یہ زمان و مکان کے پیمانوں سے کہیں اوپر کا معاملہ بن گیا۔ اب یہ' مکہ یا مدینہ'، یا پھر 'مکہ اور مدینہ' کی بحث نہیں رہی تھی، ایک ہی گھر ہو چکے تھے۔ پہلے وہ ایک گھر میں واپس آئے تھے اب وہ اسی طرح دوسرے گھر میں دوبارہ واپس آئیں گے۔
ہم یہ کبھی بھی معلوم نہیں کر پائیں گے کہ کیا محمد صلعم کو واقعی ادراک تھا کہ انہوں نے فتح کے بعد خود کو صرف مکہ تک محدود نہ رکھنے کا جو فیصلہ کیا تھا، یعنی جو نیا دروازہ واپس مدینہ چلے جانے کی صورت کھولا تھا، وہ بعد ازاں انتہائی بڑے پیمانے پر تبدیلی اور اسلامی ریاست کے پھیلاؤ، فتوحات کا پیش خیمہ بن جائے گا؟ اور یہ کہ وہ خود نہیں بلکہ ان کے رفقاء، یعنی آپ صلعم کے بعد خلفاء پے در پے، غیر متوقع طور پر عظیم الشان کامیابیاں حاصل کر لیں گے؟ 630ء میں، یہ صرف محمد صلعم ہی نہیں تھے جنہوں نے جلا وطنی ختم کر کے، واپسی مکمل کی تھی۔ حجاز سے باہر نکل کر مشرق وسطیٰ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہو گا کہ اس برس، اس پورے خطے کے منظر نامے پر آپ صلعم کی مکہ آمد اور فتح کی مثال کہاوتی ریڈار پر صرف ایک باریک نکتے کی سی تھی۔
اسی برس، جب مارچ کے مہینے میں وہ مدینہ واپس پہنچ گئے تو وہاں سے صرف سات سو میل دور، شمال میں کہیں بڑے واقعات رونما ہو رہے تھے۔ بازنطینی شہنشاہ ہرقل بالآخر رسمی طور پر، اپنی فوجوں کے ساتھ یروشلم کے معبد میں دوبارہ داخل ہو چکا تھا اور ہر طرف 'حقیقی صلیب' کا چرچا تھا۔ اگر اس وقت، ایک ہی برس اور تقریباً آگے پیچھے پیش آنے والے ان دونوں واقعات یعنی فتح مکہ اور ہرقل کی یروشلم میں واپسی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو یہ بتانا مشکل نہیں کہ، منظر نامے پر زیادہ اہمیت کس واقعے کی تھی؟ ہرقل کی فتوحات کے سامنے، محمد صلعم کی کامیابی دھندلائی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن، جلد ہی تاریخ اتنی تیزی سے پلٹا کھائے گی کہ آخر کار، مکہ کی دھندلی فتح ، یرو شلم کے معبد میں 'حقیقی صلیب' کے گونجتے ہوئے نعروں کو دبا دے گی۔ تاریخ کے اوراق میں بازنطینی شہنشاہ محمد صلعم کے سامنے پانی بھرتا ہوا نظر آئے گا۔
پچھلے دس برسوں میں ہرقل اور محمد صلعم ، دونوں نے ہی جدو جہد کی تھی اور ان دونوں کی اپنے یہاں کڑی مشقت میں غیر معمولی مماثلت نظر آتی ہے۔ 620ء میں، جب محمد صلعم کو پہلی بار مکہ میں واقعی مخالف کا سامنا کرنا پڑا تھا، اس وقت ہرقل بھی شکست کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔ فارسی افواج دھڑلے سے ایک کے بعد دوسری آبادی کو روندتی ہوئیں قسطنطنیہ کے دروازوں پر کھڑی تھیں۔ یروشلم پہلے ہی فارسیوں کے قبضے میں تھا اور اب بازنطین یعنی روم میں دنیائے مسیحیت کے مرکز کو محاصرے کا سامنا تھا۔ یہی نہیں بلکہ شہر میں قحط پیدا ہو چکا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہرقل کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور امن کی استدعا کرتے ہوئے شرمناک شکست قبول کرنی پڑی۔ شکست اور ہتھیار ڈالنے کی شرائط یہ تھی کہ ہرقل اپنے شہر سے تقریباً اتنے ہی عرصے کے لیے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر لے گا، جتنی مدت کے لیے محمد صلعم مکہ سے دور رہے۔ لیکن محمد صلعم کی ہی طرح ہرقل نے جلا وطنی کے دوران قوت جمع کی اور پھر ایک بار پھر، صفر سے اپنی فوج کو دوبارہ جمع کیا اور آخر کار، دوبارہ فارس کے مقابلے میں آن کھڑا ہوا۔
جیسا کہ مکہ اور مدینہ کے بیچ 622ء سے لے کر 628ء تک جاری چپقلش کے نتیجے میں کئی لڑائیاں لڑی گئیں، بازنطینی اور فارسی بھی اسی طرح ان سالوں کے دوران ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا رہے۔ 627ء میں جب یہاں محمد صلعم نے ابو سفیان کے بڑے لشکر کو خندق کی لڑائی میں نیچا دکھایا، اسی برس ہرقل نے بھی نینوی کے مقام پر فارس کی افواج کو غیر متوقع طور پر شکست سے دوچار کیا۔ قدیم شہر نینوی کا علاقہ آج کل شمالی عراق کا حصہ ہے۔ اس خلاف توقع جیت کے صرف تین ماہ بعد ہی ہرقل کی افواج نے فارس کے مرکز مدائن پر دھاوا بول دیا اور خسرو کے محل پر قبضہ کر لیا۔ مدائن، مستقبل میں جہاں بغداد شہر تعمیر ہو گا، اس کے قریب ہی واقع تھا۔ اس پیش رفت پر خسرو کو خاصی ہزیمت اٹھانی پڑی اور شاہی گھرانے میں ناچاقی پیدا ہو گئی، جس کا نتیجہ اپنے بیٹے کے ہاتھوں خسرو کی ہلاکت کی صورت بر آمد ہوا۔ بعد ازاں جب مقتول شہنشاہ خسرو کا بیٹا، یعنی جواں سال خسرو، ہرقل سے امن کی بھیک مانگ رہا تھا، انہیں دنوں میں یہاں محمد صلعم اور ابو سفیان کے بیچ حدیبیہ کے مقام پر صلح کے معاہدے پر دستخط کیے جا رہے تھے۔ فرق یہ ہے کہ ہر قل نے خسرو کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ بازنطینی شہنشاہ نے امن کی یہ استدعا رد کرتے ہوئے پیش قدمی جاری رکھی اور فارسیوں کو مصر، شام، فلسطین اور اناطولیہ سے نکال باہر کیا اور اگست 629ء میں، دوبارہ سے قسطنطنیہ پر قبضہ جما لیا۔ جب محمد صلعم یہاں مکہ میں عمرہ ادا کر رہے تھے، اس وقت ہرقل یروشلم کی زیارت پر نکلا ہوا تھا۔ یہاں مکہ میں محمد صلعم کے ہاتھوں واحدانیت کا بول بالا ہو رہا تھا تو وہاں ہرقل 'حقیقی صلیب' کا جائز وارث بن کر یروشلم پہنچ چکا تھا۔
بازنطینی تاریخ میں کہیں پر بھی اس بات کا ثبوت نہیں ملتا کہ ہرقل اپنے زمانے میں خطہ عرب کے جنوب میں رونما ہونے والی اس پیش رفت سے باخبر تھا۔ ویسے بھی ، وہ حجاز کی خبر کیوں رکھتا؟ اس خطے کی یاد داشت میں، تاریخی لحاظ سے عربوں نے ہمیشہ ہی خود کو الگ تھلگ رکھا تھا بلکہ وہ کٹے ہوئے تھے۔ شمالی سلطنت میں جاری کشمکش اور سیاسی منظر نامے میں ان کا کردار ثانوی رہا تھا۔ بازنطینیوں کی نظر میں حجاز کی حیثیت ادنی تھی اور وہ اسے مضافاتی علاقہ شمار کرتے تھے، جس کا اس خطے کے عظیم کھیل میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ حجاز کے صحرا میں آنے والی تبدیلیوں سے کسی کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا تھا اور یہ ہمیشہ سے یوں ہی رہا تھا۔ عرب آپس میں ہی کھپتے رہتے تھے۔ لیکن، اب کی بار یہاں حالات کے اس قدر تیزی سے بدلنے کی کسی کو توقع نہیں تھی، اس سے پہلے تک بازنطینی اور نہ فارسی عربوں کے یوں اکٹھے ہونے کی امید رکھتے تھے۔
اگرچہ بازنطینیوں کو حجاز کے مرکز میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی چنداں خبر نہیں تھی لیکن یہ بات طے ہے کہ محمد صلعم اور ان کے مشیران شمال میں پیدا ہو رہی صورتحال سے کسی طور بھی بے بہرہ نہیں تھے۔' رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں' ۔ یہ قرانی آیت فارس کے عارضی عروج اور بازنطینیوں کو پیش آنے والی شکست پر تبصرہ کرتی نظر آتی ہے۔ اور آگے چل کر پیشن گوئی ہے کہ، 'اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے۔' اگلی آیت میں، قرانی آیات خدا کی مرضی کچھ یوں بیان کرتی ہیں کہ، ' اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے اور وہ زبردست اور رحیم ہے'۔ چنانچہ، جب ہرقل کی یروشلم میں داخلے کی خبر پہنچی تو گویا اس قرانی آیت کی پیشن گوئی ثابت ہو گئی۔ نو سال بعد ہی، قرانی آیت کہ 'اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے' کی ایک نئی تشریح سامنے آئے گی، جب عمر کی سپہ سالاری میں عرب افواج یروشلم میں داخل ہوں گی۔ یروشلم پر عربوں کا یہ قبضہ اس بدنصیب شہر کی تاریخ میں اس طرح کا یہ سب سے پر امن واقعہ ہو گا اور بعد اس کے، مشرق وسطیٰ میں پہلی بار اسلام واقعی ایک نئی طاقت تسلیم کر لیا جائے گا۔
انتہائی پرہیز گار اور دین دار مسلمانوں کو محمد صلعم کے بعد، صرف ایک ہی دہائی کے اندر امت کی پے در پے فتوحات اور انتہائی تیزی سے پھیلنے والی اسلامی ریاست کو دیکھ کر واقعی خدا کی مرضی اور ذوالجلال کی مہربانی، یعنی 'نصرت' نظر آئے گی۔ یہاں تک کہ آج بھی، جدید تاریخ دان ورطہ حیرت میں ڈال دینے والی اس تاریخی پیش رفت کی عقلی توجیہ پیش کرنے میں بے بس نظر آتے ہیں۔ تقریباً مستشرقین اس ضمن میں جب کچھ نہیں سوجھتی تو گھسے پٹے نظریے کا سہارا لیتے نظر آتے ہیں کہ یہ 'قبائلیوں کی ضرورت تسخیر' سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ حالانکہ، سچ یہ ہے کہ اس طرح کے تہذیبی اور تمدنی مفروضے نہ صرف قابل اعتراض بلکہ غیر ضروری بھی ہیں۔ مفروضوں کی بجائے ایک حقیقت پسند سیاسی تجزیہ اس معاملے کی کہیں بہتر تشریح اور توضیع پیش کر سکتا ہے۔ جو یہ ہے کہ اگرچہ ہرقل نے فارسی سلطنت کی بنیادوں کو اس قدر کھوکھلا کر دیا کہ قریب تھا کہ وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جاتی لیکن وہیں طویل اور مسلسل تصادم کے باعث اس کی اپنی ریاست کا بھٹا بھی بیٹھ چکا تھا۔ باوجود یہ کہ ہر قل نے یروشلم میں داخل ہوتے ہوئے واقعیت اور انتہائی عقیدت کا مظاہرہ کیا تھا، یعنی صلیب کی نئی اونچ کا دعویٰ کیا تھا لیکن حقیقت یہ تھی کہ بازنطینی شہنشاہی کا دور دراز علاقوں میں عیسائیت کے پرچارک کی حیثیت سے حالت پتلی ہو چکی تھی۔ عیسائیت میں نئے فرقے اور گروہ جنم لے رہے تھے، جن کے باعث نئے قضیے جنم لیتے رہتے تھے۔ یہ قضیے بگڑ کر مذہبی تنازعات کی شکل اختیار کر لیتے اور یوں روز بہ روز عیسائی سلطنت کی بنیادیں کھوکھلی ہوتی جا رہی تھیں اور مسیحی ریاست کی عمارت کی دیواریں، شکستہ ہو چکی تھیں۔ یہ دونوں عظیم سلطنتیں، یعنی بازنطین اور فارس ایک دوسرے کو تقریباً تباہی کے دہانے پر لے آئی تھیں اور دونوں ہی طرف ریاستی طاقت اور اختیار سلب ہو چکا تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف بازنطین (یعنی روم) اور دوسری طرف فارس میں، اگرچہ دونوں کے مرکز ابھی تک گھمنڈ میں تھے، ان کی اپنی حالت تو قدرے بہتر تھی لیکن بیچ کے علاقے، یعنی مشرق وسطیٰ میں طاقت کا ایک خلا پیدا ہو گیا۔
طاقت کا یہ خلا کسی نہ کسی طور تو پورا ہونا ہی تھا اور ایسا ہونا لازم تھا۔ یہ موقع، یعنی اس خلا کو پر کرنے کا موقع، عربوں کے سوا کس کے پاس تھا؟ خطہ حجاز و عرب میں اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہونے والے قبائلی اب اس قابل تھے کہ وہ اس خلا کو پر کر لیتے۔ ان کے لیے تاریخ میں پہلی بار، صحیح معنوں میں طاقت اور اختیار حاصل کرنے کا یہ نادر موقع تھا۔ اگرچہ اب تک فارس اور بازنطین دونوں کے لیے ہی حجاز کی حیثیت نامعلوم ملک یا غیر متحقق خطے کی سی تھی لیکن اب جب یہی عرب ان کے گلے پڑیں گے تو صریحاً ان کے خیالات، ان قبائلیوں کے بارے ویسے نہیں رہیں گے جیسے کہ ہمیشہ سے چلے آ رہے تھے۔ محمد صلعم کی پیدائش سے پہلے بھی مکہ کے تجار نے پہلے سے ہی شمال میں واقع بڑے شہروں میں تجارت کے ذریعے جڑیں پکڑ لی تھیں۔ قریش کے نامی گرامی تاجروں کی مصر میں جائیدادیں، دمشق میں کوٹھیاں، فلسطین میں زرعی اراضی اور عراق میں کھجور کے باغات تھے۔ یعنی ایک عرصے سے وہ ان علاقوں میں اپنے مفادات کا سامان اور تحفظ، پہلے ہی کرتے آئے تھے۔ لیکن، اب یہ صرف مالی اور تجارتی مفادات کی بات نہیں رہی تھی۔ اس شمالی خطے میں جیسے جیسے سیاسی ڈھانچہ شکست و ریخت کا شکار ہوا، عملی طور پر یہ کسی بھی نئی نویلی اور تازہ دم ریاست کے لیے کھلی دعوت بن گئی کہ وہ گویا صرف ہاتھ بڑھا کر یہاں پر اپنا تسلط قائم کر سکتے تھے۔
اور پھر، یہی ہوا۔ 634ء تک عرب افواج دمشق کے دروازوں پر دستک دے رہی تھیں۔ 636ء میں عرب بحر الجلیل کے جنوب مشرق میں یرموک کے مقام پر ہر قل کو حتمی شکست سے دوچار کر دیں گے۔ 638ء میں یہ فارسیوں کو جنوبی عراق میں قادسیہ کے مقام پر ناکوں چنے چبوا رہے ہوں گے۔ اس کے صرف ایک سال بعد عمر کی سپہ سالاری میں اسلامی افواج یروشلم میں داخل ہو جائیں گی اور 640ء تک یہ مصر اور اناطولیہ کے بھی حاکم بن جائیں گے۔ محمد صلعم کے انتقال کو ابھی ایک صدی بھی پوری نہیں ہو گی کہ اسلامی سلطنت فارس اور بازنطین ،دونوں ہی سلطنتوں کے علاقوں پر اپنی حاکمیت قائم کر لیں گے۔ بلکہ، یہ اس سے بھی کہیں دور تک پھیلی ہوئی عظیم الشان ریاست ہو گی جس کی سرحدیں مغرب میں سپین اور مشرق میں ہندوستان تک پھیلی ہوں گی۔ اس سلطنت کا مرکز جدید خطوط پر حال ہی میں تعمیر کیا جانے والا، عظیم شہر بغداد ہوا کرے گا۔
مندرجہ بالا حقائق کے بارے سوچ کر ہی دل بلیوں اچھلنے لگتا ہے۔ یہ کس قدر دل لبھانے والی داستان ہے؟ ذرا سوچیے، اگر اس روز، یعنی جنوری 630ء میں، فتح مکہ کے موقع پر جب محمد صلعم کعبہ کے اندر تن تنہا کھڑےتھے تو تصور کریں، اگر محمد صلعم واقعی جانتے ہوں کہ یہ تاریخ میں قید کر دیے جانے کے لائق لمحہ ہے۔ یہ طے ہے کہ وہ اب یقینی طور پر دیکھ سکتے تھے کہ ان کے اور اللہ کے نام پر اکٹھے ہو جانے والے یہ قبائلی لوگ، جو ہمیشہ سے ہی نظر انداز کیے جاتے رہے ہیں، ان کی قسمت بدلنے والی تھی۔ انہیں ایک نئی شناخت مل چکی تھی اور وہ اب صرف حجاز نہیں، مشرق وسطیٰ بھی نہیں بلکہ پوری دنیا کے سٹیج پر اپنی حیثیت منوانے کے لیے پر پھیلانے والے تھے۔ لیکن، شاید وہ یہ سب نہیں دیکھ سکیں گے۔ جیسا کہ قران میں انہیں بار ہا یاد دہانی کرائی جاتی رہی تھی کہ وہ 'صرف ایک انسان ہیں'، اس عمر تک پہنچ کر ان کا اپنا کمزور پڑتا ہوا جسم اب اشارہ دے رہا تھا کہ، 'وہ واقعی ایک انسان ہیں'۔ ہر شے کے باوجود، تصور کی عظمت اور خیال کی سر پٹ دوڑ کے باوجود، بالآخر بشری کمزوری ان کو آن لے گی۔ لیکن، حقیقت پر مبنی یہ صورتحال محمد صلعم کے لیے پریشانی کا باعث نہیں تھی۔ کیونکہ اگر وہ واقعی جانتے تھے کہ اس الہامی تحریک کے باعث، دنیا کے منظر نامے پر جتنی بڑی ہلچل پیدا ہونے والی تھی تو یہ ان کے بس کی بات نہیں ، بلکہ خدا کی مرضی تھی۔ تو، جب وہ کعبہ کے اندر نیم تاریکی میں چپ چاپ کھڑے تھے تو ان کے لیے یہ موقع، وہ لمحہ ہی کافی تھا۔ اس لمحے، آپ صلعم کی حالت یہ رہی ہو گی کہ ایمان اور یقین تو پہلے ہی اپنی حدوں کو چھو چکا تھا اب مستقبل بارے وہ بھی خاصے پر امید ہو چکے تھے۔ چونکہ اب ان کے اندر امید نے گھر کر لیا تھا، الہام بھی ان کو یقین دلا رہا تھا تو شاید انہیں محسوس ہوا ہو کہ اب بس، بعد اس کے، وہ مکہ میں رہیں یا مدینہ جا کر بسر کر لیں، بالآخر ان کی زندگی میں سکون آ جائے گا۔ لیکن، ہم دیکھیں گے کہ ایسا نہیں ہوا۔ وا ئے قسمت، ان کے نصیب میں ابھی بھی آرام کی کوئی سبیل نہیں تھی۔

صلہ عمر پر 'اول المسلمین: محمد صلعم کی کہانی'  اگلے باب نمبر 20 کے لیے یہاں کلک کریں

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر