اول المسلمین - رہنما - 20

 
لوگوں کے لیے اب محمد صلعم کی زندگی کا ہر لمحہ معنوی لحاظ سے کہیے تو سفر پر روانگی کے لیے تیار بحری جہاز میں لدنے والا نا گزیر سامان بن جائے گا۔ یعنی، ہر بات ہی اہم ٹھہری۔  ان کے انداز، اطوار، باتوں اور افعال حتی کہ اعضا سے اشاروں پر بھی ہر وقت نظر رکھی جائے گی۔ ایک ایک لفظ اور حرکت کو لوگ نوٹ کریں گے۔ وہ کچھ بھی کہتے ،  کرتے یا کہا جا تا کہ کہا ہے یا مشہور ہو جاتا کہ انہوں ایسا کیا ہے، لوگ اس کو پلو سے باندھ لیتے، اپنا لیتے۔ ہر چیز عوامی دلچسپی کا سامان بن چکی تھی۔ وہ بہتیرا سادگی پر زور دیتے اور طمطراق، نمود و نمائش سے گریز کرنے کی تاکید کرتے لیکن لوگ تھے کہ ارد گرد زور و شور اور ٹھاٹھ باٹھ سے شاہی دربار لگائے رکھتے، باز ہی نہ آتے۔ چنانچہ آپ صلعم ہر دوسری بات پر لوگوں کو ٹوکنے لگے، روک لگاتے نظر آنے لگے۔ انشاء نگار اور شاعر آپ صلعم کی مدح سرائی کرتے، معاشی اور سیاسی مشیران ان کی باتوں پر کان دھرے رکھتے اور جہاں موقع ملتا بحث شروع کر دیتے۔ دربان دن اور رات سائلوں اور عرض داشت پیش کرنے والوں کے ہجوم کو روکنے کی ناکام کوشش کر تے تھک جاتے۔ یہ تو خیر دوسرے لوگوں کا حال تھا۔ محمد صلعم کے انتہائی قریبی رفقاء میں بھی رسائی اور ان کے ہمراہ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے اور قریب رہنے پر حسد بڑھنے لگا۔ وہ ساز باز کرتے اور سانٹھ گانٹھ کر ایک دوسرے کو پیچھے دھکیلنے کی ہر ممکن کوشش کرتے، ٹانگیں کھینچنے لگے۔ ہر شخص طاقت کے مرکز میں نمایاں رہنے میں جتا رہتا۔ یہ تو رفقاء تھے۔ محمد صلعم کی مایوسی اس لیے بھی بڑھ گئی کہ ان کی بیویوں کی روش بھی دوستوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں تھی۔
وجہ یہ نہیں تھی کہ محمد صلعم کثیر الازواجی کے باعث دباؤ کا شکار تھے اور اس لیے بیزار تھے کہ دن بدن تناؤ اور تقاضے بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ وہ الگ معاملہ تھا۔ یہ انہیں پورا اور برابر وقت دینے کی پوری کوشش کرتے، ہر بیوی کے ساتھ باری آنے پر رات بسر کرتے۔ لیکن، بیویاں بھی کیا کرتیں؟ ان کی رہائش، مسجد کی دیوار کے ساتھ قطار میں بنے معمولی کمروں میں تھی ،جہاں تخلیہ ممکن ہی نہیں تھا۔ فتح مکہ سے پہلے بھی، ان کمروں کے آس پاس دن بھر سائلین کا تانتا بندھا رہتا۔ عام لوگ وجہ بے وجہ محمد صلعم کی بیویوں کے پاس پہنچ جاتے اور ان سے سفارش کی درخواستیں کرتے، ان کے معاملات میں ثالث بن کر مصالحت کی گزارش کرتے۔ اکثر لوگ، منع کرنے کے باوجود بھی باز نہ آتے اور ان خواتین کی مرضی کے بغیر ہی آس پاس منڈلاتے رہتے۔ عرضیاں ڈالتے، التجاؤں اور مناجات سے زچ کیے رکھتے۔ دو سال قبل اس ضمن میں پردے سے متعلق نازل ہونے والی آیات کا بھی کچھ خاص اثر نہیں ہوا تھا۔ الہامی آواز نے صاف صاف تاکید کی تھی، 'اے لوگو! نبی کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ مگر جب کھانا کھا لو تو منتشر ہو جاؤ اور باتیں کرنے میں نہ لگے رہو تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا'۔ حق بات یہ تھی کہ، 'نبی کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔۔۔'۔
پردے کا اس وقت تک حکم صرف یہی تھا۔ یعنی، ہر کمرے کے دروازے پر ململ یا سوتی کپڑا لٹکا دیا جائے جس سے اور کچھ نہیں تو نام کو 'پرائیویسی' یا خلوت مل جاتی۔ پھر، یہ حکم صرف محمد صلعم کی بیویوں کے لیے مخصوص تھا اور تاریخ میں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ آپ صلعم کا ارادہ اس حکم کو باقی عورتوں پر سختی سے نقاب یا پردے کی صورت لاگو کرنا ٹھہرا ہو۔ قران میں دونوں ہی جنسوں، یعنی مرد اور عورتوں کے لیے شرم و حیا اور حجاب پر زور دیا جائے گا لیکن کہیں بھی حقیقی معنوں میں حجاب یا نقاب کی ویسی زبردستی نہیں ہو گی جیسی ہم آج دیکھتے ہیں۔ قران میں حجاب کا ذکر موجود ہے لیکن وقت کے ساتھ اس کا مفہوم غلط رسمی کا شکار ہو گیا۔ 'نقاب'، 'حجاب' یا 'پردے' سے مراد ایک پتلی چادر تھی، اسلام میں بھی جب اس کا استعمال جب واقعی عام ہوا تو محمد صلعم کو گزرے کئی دہائیاں بیت چکی تھیں۔ اس نئے زمانے میں بھی، لوگوں نے اس کو حکم الہی نہیں بلکہ 'سٹیٹس' یا رتبے اور حیثیت کا معاملہ بنا دیا۔ قدیم زمانے میں اشوریہ اور فارس کی وہ عورتیں جو اشرافیہ سے تعلق رکھتی تھیں ، جن کا امراء میں شمار ہوتا تھا، اسی طرح کی شال یا چادر تفریق کی غرض سے اوڑھا کرتیں تا کہ باقی عورتوں سے ممتاز اور الگ نظر آئیں۔ یہی حال، محمد صلعم کے بعد اسلامی دنیا میں بھی ہوا، زمانے کے ساتھ حکومت میں اشرافیہ اور امراء کا عمل دخل بڑھتا گیا ۔ جلد ہی شاہانہ طرز عام ہوتا گیا۔ عورتوں پر بھی اس طرز زندگی کا خاصا اثر ہوا اور رفتہ رفتہ حجاب کا تصور زمانہ قدیم کی امیرانہ طمطراقی بن کر رہ گیا۔ جس طرح آج کل مہنگے سیلون میں ناخنوں ، ہاتھوں کی صفائی اور رنگائی یا مشہور برانڈ کے جوتے استعمال کرنا عوامی سطح پر حیثیت کا اشاریہ سمجھا جاتا ہے، ویسے ہی اس طبقے کے لیے یہ خیال عام ہے کہ یہاں عورتیں سخت جان مشقت اور گھریلو کام کاج سے مبرا ہیں۔ ویسے ہی تب بھی، اشرافیہ کی عورتیں بھی نت نئے فیشن کرتی تھیں اور حجاب یا نقاب ان میں سے ایک تھا۔ نوکروں کی بہتات ہوا کرتی تھی اور وہ خود اطمینان سے بیٹھی رہتیں اور چونکہ انہیں خود کسی بھی کام کاج میں ہاتھ ڈالنے کی حاجت نہیں تھی، سارا وقت پر تکلف اور بھڑکیلے، زرق برق لباس پہنے یہاں وہاں برا جمان رہتیں۔ ظاہر ہے، فرصت کے یہ پہناوے ہر لحاظ سے غیر افادی اور غیر عملی ہوا کرتے ہیں۔
پھر، یہ بات خاصی عجیب بھی لگتی ہے ۔ اشرافیہ اور امراء کی بالا دستی ، چاہے وہ نسلی ہو یا دولت کے بل بوتے پر قائم کی گئی ہو، محمد صلعم نے اپنی تمام زندگی اس امتیازی حیثیت اور تفریق کی مخالفت کی تھی۔ لیکن، طرز معاشرت اور حکومت کی جس شکل کا آپ صلعم کو سامنا تھا اور تحریک کے دوران اس کا بھر پور لیکن پر خطر سامنا کیا، قدیم جمہوریت کی ابتدائی شکل کہلائی جاتی ہے۔ جمہوریت کی اس شکل میں چند لوگوں کی اجارہ داری ہوتی ہے، جیسے مکہ میں قریش کی تھی۔ جب یہ طریق فسخ ہو گیا تو ستم ظریفی یہ ہے کہ محمد صلعم کا دکھایا نظام بھی آگے چل کر نسل در نسل شاہوں اور سلاطین کے موروثی نظام شہنشاہی میں بدل گیا۔ ملوکیت میں ڈھل گیا۔ امہ، یعنی برابری کا تصور دھندلاتا گیا اور جلد ہی طبقات میں نہ صرف فرق بڑھتا چلا گیا بلکہ کئی نئے طبقات نے بھی جنم لیا۔ جس طرح اس سے پہلے یہودیت میں ربیوں اور عیسائیت میں پادریوں کی شکل میں طبقات نکل آئے تھے، اسلام میں بھی خالصتاً مردوں کے زیر اثر ایسا ہی ایک طبقہ، ملائیت سامنے آ گیا۔ تینوں ہی مذاہب میں، ان طبقات کی حیثیت' مذہبی اشرافیہ' کی بن کر رہ گئی۔ یہ مرد حضرات ایمان کے پہرے دار بن گئے ۔ ان کا کام اسلام کے بنیادی اصولوں کی تشریحات بیان کر کے اسلام کو ایک 'ضابطہ حیات' کی شکل دینا ٹھہرا۔ چنانچہ، یہ بھی ہوا کہ یہ جید اشخاص اپنی قدامت پسندی کو قران پر تھونپنے سے بھی باز نہیں آئے۔ وقت کے ساتھ جوں جوں شریعت اور شرعی قوانین ایک شکل اختیار کرتے گئے، اسی طبقے نے، حجاب یا پردے کے معاملے میں بھی خصوصی تصور کو عمومی خیال کرتے ہوئے تمام عورتوں کے لیے لازم قرار دے دیا۔ یہ کسی حد تک قران سے میل بھی کھاتا ہے لیکن ستم یہ ہوا کہ زمانوں کی دھول پھانکتے پھانکتے سختی بڑھتی گئی اور آج ہم پردے کی ایسی شکل بھی دیکھتے ہیں، یعنی برقعہ، جس میں ایک عورت، پردے سے زیادہ بوری میں بند نظر آتی ہے۔ یقیناً محمد صلعم کی بیویوں میں سے کسی نے بھی یہ سوچا تک نہیں ہو گا کہ' ململ کی چادر لٹکا کر پردہ کرنے 'یا باہر نکلیں تو 'منہ پر چادر گرا نا ' ایک دن وہ شکل اختیار کر لے گا جو آج دنیا میں جا بجا عجب صورتوں میں نظر آتا ہے۔ عائشہ تو یقیناً اس بات پر بھڑک اٹھتیں۔ اگرچہ، محمد صلعم کی منکوحہ بیوی کی حیثیت سے انہوں نے دوسری عورتوں سے ممتاز رہنے، اور بالخصوص اس ضرورت کے تحت کہ لوگ ان کی نجی زندگی کا ہی کچھ خیال کریں، جسے قران میں کہا گیا کہ 'پہچانی جاؤ اور ستائی نہ جاؤ'، شال یا چادر کو قبول کر لیا ہو گا۔ لیکن کیا وہ اسی پردے کو بعد ازاں اس طرح استعمال ہوتے دیکھ کر، یعنی اس کے ذریعے عورتوں کو پس منظر میں دھکیلنے، خاموش کرانے یا ٹکانے کے حربوں کی صورت قبول کر لیتیں؟ عائشہ، جو ساری عمر ایک جدا شناخت اور حیثیت بنانے کی کوشش میں رہیں ، وہ نموداری پر یقین رکھتی تھیں، یقیناً خواب و خیال میں بھی گمنامی کی اس طرز کو برداشت نہ کرتیں۔
بہرحال، اس وقت ململ کے پردے اور نہ ہی چادریں اوڑھنے سے کوئی فرق پڑا۔ لوگ باز آئے اور نہ ہی حجاب کی بدولت امتیازی حیثیت کا کچھ اثر ہوا۔ بلکہ، خود گھر کے اندر بھی، ہر طریقہ استعمال کر کے دیکھ لیا مگر محمد صلعم کی ازدواج میں مسلسل جاری رہنے والی کشمکش نہ رک سکی۔ صورتحال یہ بن چکی تھی کہ بیگمات کے بیچ باری آنے پر محمد صلعم کی شب بسری بھی دیکھتے ہی دیکھتے ایک 'جنس' بن گئی، جس پر لین دین کیا جا سکتا تھا۔ یعنی ، اکثر ایک بیوی اپنا وقت کسی مہربانی اور احسان کے عوض دوسری بیوی کے حوالے کر دیتی۔ گھر کے باہر تو لوگوں کے ساتھ بہتیری کوشش کر لی لیکن یہ بحث گھر کے اندر بھی کسی طور ختم ہونے کا نام نہ لیتی کہ آخر محمد صلعم کی پسندیدہ بیوی کونسی ہے؟ اور پھر ان میں سے جو بھی ہے، اس تک رسائی کیسے ہو اور آخر کار، اس کی سفارش سے اپنے مسائل کیونکر حل کیے جائیں؟ ہوتے ہوتے یہ ہوا کہ مکہ سے واپسی کے بعد، چند ماہ کے اندر ہی حالات خاصے بگڑ گئے ۔ محمد صلعم کے لیے برداشت کرنا مشکل ہو گیا۔ پھر وہی ہوا، جس کا ڈر تھا۔ ایک دن ایسا آیا کہ عملی طور پر انہوں نے تمام ہی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ اب بجائے ان کے ساتھ وقت گزارتے، وہ راتیں مسجد کی چھت پر ایک چھوٹے سے کمرے میں بسر کرنے لگے۔ چہار سو یہ بات جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ۔ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ محمد صلعم نو کی نو بیویوں کو طلاق دینے کا سوچ رہے ہیں۔
محمد صلعم کی برہمی کی فوری وجہ یہ بتائی گئی کہ ان کی بیویاں ، ماریہ نام کی باندی سے حسد رکھتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ باندی آپ صلعم کو اسکندریہ کے قبطی عیسائیوں کے رئیس کی طرف سے تحفہ میں ملی تھی۔ محمد صلعم نے اسے مدینہ سے باہر، مسجد اور دوسری بیویوں سے دور ایک مکان دلا رکھا تھا اور اکثر ہی اس کے یہاں چلے جایا کرتے تھے۔ وقت کے ساتھ آپ صلعم کا ماریہ کے یہاں آنا جانا بڑھ گیا اور انہوں نے جس قدر اس معاملے کو ہر چیز سے دور، علیحدہ رکھنے کی کوشش کی تھی، اتنی ہی شدت سے پورے نخلستان میں اس بارے باتیں اور قصے مشہور ہونے لگے۔ بالخصوص، جب ان کی بیویوں کو بھنک لگی تو غیر متوقع طور پر، وہ سب کی سب پہلی بار کسی معاملے پر اکٹھی ہو گئیں اور عوامی سطح پر آپ صلعم کے ایک باندی کے یہاں زیادہ وقت گزارنے پر گلہ شکوہ کرنے لگیں اور دن بدن معترض ہو تی گئیں۔ بسا اوقات تو تلخی بھی ہو جاتی۔
بعض روایات میں درج ہے کہ ماریہ نے ایک بیٹے کو بھی جنم دیا تھا جس کا نام ابراہیم رکھا گیا۔ اگر یہ سچ تھا تو اس سے محمد صلعم کے نکاح میں تقریباً تمام ہی مستورات کے غم و غصے میں اضافہ ہو گیا ہو گا۔ ان کے لیے تو یہ سوچ ہی نا قابل برداشت رہی ہو گی کہ ایک غلام لڑکی نے محمد صلعم کو وہ دے دیا ہے جو ان میں سے کوئی بھی نہیں دے پائی تھی۔ ایک بیٹا؟ جائز وارث ؟ یہ ایسی چیز تھی جس کی کمی محمد صلعم کی زندگی کا روگ بن چکی تھی۔ علاوہ ازیں، اس معاشرے میں بسر کرتے ہوئے ، باقی بیویوں کی حیثیت ادنی رہ جاتی اور ان کے لیے دکھ کی بات یہ تھی کہ ان کا رتبہ اور مقام، ایک باندی کے سامنے ثانوی ہو چکا تھا۔ ان میں سے کسی کے لیے بھی یہ بات ناقابل قبول تھی۔
کئی لحاظ سے یہ عجیب بھی معلوم ہوتا ہے۔ محمد صلعم کی تمام منکوحہ بیویوں میں سے ایک بھی ، بچے کو جنم نہیں دے سکی تھی۔ لیکن اب یہ عیسائی لڑکی جس کا نام بھی عیسیٰ کی ماں مریم (مریم، ماریہ، مریہ، میری) سے مشابہت رکھتا تھا، وہ کامیاب ہو چکی تھی؟ یہاں پر قدیم علامت اور اس حوالے سے تاریخی معنی خیزی عیاں ہے۔ پھر، محمد صلعم اور ماریہ کا بیٹے کا نام بھی اس شخص کے نام پر رکھا ہوا ملتا ہے جسے قران نے 'پہلا حنیف' کہا تھا۔ ابراہیم کو انجیل میں بھی وحدانیت کا موجد گردانا گیا تھا۔ ان کا تعارف توحید پرستوں کے جد امجد کی حیثیت سے جانا مانا تھا۔ یوں، ان استعاروں اور اشاروں کو ملائیں تو کہا جا سکتا ہے کہ محمد صلعم کی اولاد میں مشرق وسطیٰ کے عیسائیوں کے لیے دلچسپی پیدا ہو سکتی تھی۔ پھر، امکانات اور قیاس کے اس گھن چکر میں معاشرتی طور پر بھی یہ بات خاصی جم کر بیٹھتی ہے کہ جنم لینے والا ایک لڑکا تھا اور وہ اس سماج میں، جہاں مردوں کا راج تھا، کہیں بڑا اور خاصا گہرا کردار ادا کرنے کے قابل بن سکتا تھا۔
اگرچہ قران نے بارہا تاکید کی تھی کہ لڑکیاں بھی لڑکوں کی ہی طرح برابری کے لائق، قیمتی اور قابل صد عزت و احترام ہیں۔ لیکن، یہ انسانوں کی ایسی بستی تھی جہاں مقامی رسوم، رواج اور بندشوں سے فرار تقریباً ناممکن تھا۔ چنانچہ، یہی ہوا۔ عام لوگوں میں ابراہیم کی پیدائش سے محمد صلعم کی رجولیت اور مردانگی بڑھ کر ثابت ہو گئی۔ اس ضمن میں روایات میں درج حقائق تو یہی ہیں لیکن آگے چل کر اس سے بھی کہیں سفاک اور کٹھور حقیقت کا پتہ چلتا ہے کہ جیسے کئی سال پہلے، خدیجہ کے بطن سے جنم لینے والے لڑکے قاسم کی شیر خواری میں موت واقع ہو گئی تھی، ابراہیم بھی بہت دیر تک جانبر نہیں ہو پائے۔ فتح مکہ کے تھوڑے عرصے بعد ہی وہ بھی طفولیت کی عمر میں چل بسے۔
یہ ابراہیم کے بچھڑنے کا غم تھا جس نے محمد صلعم کو یوں بیویوں سے علیحدگی پر مجبور کیا یا وہ اب اس دباؤ سے فرار حاصل کرنا چاہتے تھے جو بیویوں نے مل کر آپ صلعم پر بڑھانا شروع کر دیا تھا؟ بیگمات کا اصرار یہ تھا کہ وہ ماریہ سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کر لیں۔ لیکن، ہوا یہ کہ بالآخر محمد صلعم کی برداشت جواب دے گئی اور انہوں نے تمام بیویوں سے مکمل علیحدگی اختیار کر لی ۔ ان کے شب و روز مسجد کی چھت پر، گوشہ نشینی میں بسر ہونے لگے۔ ان کے یوں ہر چیز سے منہ پھیر لینے کے سبب مدینہ میں افراتفری اور ہول پھیل گیا۔ بیویوں سے یوں منہ موڑنے کا مطلب یہ تھا کہ امت میں طاقت اور اختیار کا سارا نظام داؤ پر لگ جاتا۔ محمد صلعم کے سارے نکاح اتحاد اور امت کی یگانگت کا مظہر ، علامت تھے۔ چاہے یہ آپ صلعم کے انتہائی قریبی مشیران ابو بکر اور عمر ، جو بالترتیب عائشہ اور حفصہ کے والد تھے، ان سے تعلق کی بات ہو یا مکہ میں سابقہ دشمن ابو سفیان کی بیٹی ام حبیبہ کا معاملہ ہو، محمد صلعم کسی بھی صورت ان اشخاص کی بیٹیوں سے منہ پھیر کر انہیں پیٹھ نہیں دکھا سکتے تھے۔ اس طرح تو وہ امہ کے قلب میں گہرا زخم لگا دیتے، جس کے نتائج خاصے بھیانک ہو سکتے تھے۔ اس طرح اس نئی ریاست اور پورے نظریہ واحدانیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا تھا۔ یہ سننے میں نہایت عجیب لگتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ محمد صلعم، رسول خدا ہوتے ہوئے بھی ان معاشرتی بندشوں کے بیچ اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کرنے سے قاصر تھے۔ انہیں بھی اس گھن چکر سے چھٹکارا نہیں تھا، کوئی رعایت نہیں تھی۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اب پیچھے نہیں ہٹ سکتے تھے۔
عائشہ ایک بار پھر اتنی شدت سے روئیں کہ انہیں لگا، کلیجہ پھٹ کر باہر آ جائے گا۔ روایت میں کہا جاتا کہ عام طور پر کند اور دیر احساس رہنے والی ام سلمہ بھی چھپ کر روتی ہوئی پائی گئیں۔ عمر جیسے جنگجو کے لیے، جو حفصہ کے والد تھے، حفصہ کے آنسو ناقابل برداشت تھے۔ عمر روکھی طبیعت اور اکھڑ پن کے لیے مشہور تھے۔ وہ طوفان کی طرح، دوڑے دوڑے حفصہ کے کمرے میں پہنچ گئے۔ مسلسل روتی ہوئی حفصہ کو سختی سے ٹوک کر پوچھا، 'کیا محمد صلعم نے تمہیں طلاق دے دی ہے؟'
'مجھے نہیں معلوم' حفصہ نے شکستہ انداز میں جواب دیا، 'انہوں نے اپنے آپ کو اوپر چھت پر اس کمرے میں بند کر رکھا ہے'۔ وہ پھر رونے لگیں۔
عمر حفصہ کو یوں ہی روتا چھوڑ کر مسجد میں چلے گئے۔ احاطے میں لوگوں کا ایک جم غفیر اکٹھا ہو چکا تھا اور سب ہی شدت سے روئے جا رہے تھے۔ عورتوں کے بعد مردوں کو بھی یوں روتے دھوتے دیکھ کر ان کا پارہ مزید چڑھ گیا اور وہ گویا، اسی طرح طوفان کی مانند دوڑتے اور سیڑھیاں پھلانگ کر چھت پر جا پہنچے۔ کمرے کے دروازے پر بلال کھڑے پہرہ دے رہے تھے۔ انہوں نے بلال کو گرج دار آواز میں حکم دیا، 'محمد صلعم کو میری آمد کی خبر کرو اور اندر داخل ہونے کی اجازت مانگو!'۔ بلال نے ایسا ہی کیا لیکن واپس آئے تو سر جھٹکتے ہوئے کہا، 'میں نے آپ کا بتایا لیکن انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا'۔ یہ سن کر عمر کا رنگ اڑ گیا اور غصہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ وہ چھت سے نیچے اتر آئے اور مسجد کے صحن میں بے چینی سے یہاں وہاں ٹہلنے لگے ۔ تھوڑی ہی دیر میں حواس بحال ہوئے تو ایک بار پھر برداشت جواب دے گئی اور وہ اسی طرح دوڑے دوڑے پھر چھت پر پہنچ گئے۔ بلال کو اب کی بار زیادہ سختی سے حکم دیا اور محمد صلعم نے ایک دفعہ پھر عمر کی درخواست کو رد کر دیا۔ وہ ادھر ہی حواس باختہ کھڑے رہے اور تھوڑی بعد بلال کو ایک بار پھر دوبارہ اندر جانا پڑا ۔ بلال واپس آئے تو عمر سے کہا، 'رسول اللہ اب آپ سے ملیں گے'۔
دوڑ دھوپ ، نیچے صحن میں جاری شور و غل اور وہاں بیویوں کے کمرے میں جاری رواس پٹاس سے عمر کے اعصاب جواب دے چکے تھے۔ قریب تھا کہ وہ کسی کو پٹخ دیتے۔ وہ اس کمرے کے آدم قد سے چھوٹے دروازے میں سے سر جھکا کر اندر داخل ہوئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ محمد صلعم سخت زمین پر بچھی گھانس پھونس سے بُنی چٹائی پر، منہ دیوار کی طرف موڑ کر لیٹے ہیں۔ کمرے میں سوائے اس چٹائی اور ایک کونے میں سوکھی ہوئی چمڑیوں کے ڈھیر کے سوا کچھ نہیں ہے۔ قالین، بستر، لالٹین کچھ بھی نہیں، حتی کہ پینے کا پانی بھی نہیں ہے۔ آرام اور آسائش تو دور کی بات، ضرورت کا سامان بھی پورا نہیں تھا۔ یقیناً، تیزی سے پھلتی پھولتی اس نو زائیدہ ریاست کے سربراہ کے لیے یہ جگہ انتہائی غیر موزوں تھی، اسے یہاں اس حالت میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بہرحال، عمر نے محمد صلعم کی یہ حالت دیکھ کر ہمدردی کا اظہار کرنے کی بجائے یا کچھ اس بابت کہتے، فوراً ہی مدعا پر آ گئے۔ جیسے عادت تھی، دو ٹوک انداز میں پوچھا، 'کیا آپ صلعم نے اپنی بیویوں کو چھوڑ دیا ہے؟'۔
'نہیں۔ میں نے نہیں چھوڑا'، محمد صلعم نے جواب دیا۔ یہ سنتے ہی عمر کی تقریباً رکی ہوئی سانس بحال ہو گئی اور بے اختیار تکبیر، یعنی 'اللہ اکبر' بلند کی۔ مسجد کا احاطہ، عمر کے گرج دار نعرے سے گونج اٹھا۔ صحن میں جمع لوگ عمر کی پر جوش آواز سنتے ہی سمجھ گئے اور انہوں نے بھی سکھ کا سانس لیا ۔ مسجد کے احاطے میں نعرے بلند ہونے لگے اور اتنا شور ہوا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ لوگ جان چکے تھے کہ بحران ٹل گیا ہے۔ 'لیکن، میں پورا ایک مہینہ ان کے پاس نہیں جاؤں گا'، شور کم ہوا تو محمد صلعم نے دھیمی آواز میں عمر سے کہا۔ بعد ازاں، انہوں نے اپنی زبان کا پاس رکھتے ہوئے، تیس دن بعد لاتعلقی اور علیحدگی ختم کر دی۔
اس بات کی ابن اسحاق اور نہ ہی الطبری نے کوئی معقول وضاحت دی ہے کہ آخر محمد صلعم نے ایک مہینے تک لا تعلقی اور علیحدگی پر اصرار کیوں کیا؟ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ معاملہ صرف بیویوں سے دوری اختیار کرنے کا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے ہی ہاتھوں سے بنائی اس نئی دنیا کے روز بروز بڑھتے ہوئے تقاضوں سے بھی تھوڑے عرصے کے لیے دور ہونا چاہتے تھے۔ مدینہ میں مسجد کی چھت پر اس کمرے میں چھدری چٹائی پر میسر آنے والی گوشہ نشینی کی مثال مکہ میں حرا پہاڑی کی تنہائی جیسی تھی۔ یہ دھیان اور مراقبے کے لیے موزوں جگہ تھی، جہاں وہ سکون سے غور و فکر کر سکتے تھے۔ نہ صرف یہ کہ انہوں نے اب تک کیا پا لیا ہے بلکہ یہ بھی کہ آخر آگے کا کیا طریق ہو گا؟ یقیناً اب تک وہ سمجھ چکے ہوں گے کہ اب ان کی زندگی میں ذاتی وابستگیوں کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں تھی اور یہ بھی کہ ماریہ کے ساتھ ان کا تعلق، یہیں ختم ہو جائے گا۔ ان کی زندگی، اب ان کی اپنی نہیں رہی بلکہ یہ امہ کی ملکیت تھی۔ صورتحال ایسی تھی کہ جس میں وہ خود اپنی من مرضی نہیں چلا سکتے تھے ۔ اپنے بارے کوئی فیصلہ آزادی سے نہیں لے سکتے تھے۔ اسی طرح، بلا شک و شبہ انہوں نے بھانپ لیا ہو گا کہ اب، ان کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ زندگی، ختم ہونے کو ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ایک ماہ بعد وہ دوبارہ سے معمولات کی طرف لوٹے تو ازدواجی صورتحال کو نئی قرانی آیات کی روشنی میں واضح کر دیا، جس میں آپ صلعم کے وصال کی پیشن گوئی کی گئی تھی۔
ان آیات میں آپ صلعم کی بیویوں کو کئی راستے دکھائے گئے تھے، جن میں سے وہ جو مناسب سمجھتیں، اختیار کر لیتیں۔ اسی لیے، ان آیات کو 'انتخاب کی آیات' کہا جاتا ہے، جو کچھ یوں تھیں: 'اے نبی، اپنی بیویوں سے کہو، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں، اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے'۔ یعنی، مستورات اپنی مرضی سے طلاق لینے میں آزاد تھیں اور محمد صلعم ان کے لیے ضروری انتظام کرنے کے پابند تھے۔ اگر یہ نہیں تو پھر، انہیں چاہیے کہ اپنے عوامی کردار کو اچھی طرح نہ صرف سمجھ لیں بلکہ اس کردار کے مضمرات سے بھی خوب آگاہ رہیں اور اس کے لیے پوری طرح سے تیاری کر لیں۔ ذہن بنا لیں۔ یہ بات الہام میں کچھ یوں ہے کہ، 'بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہے اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔۔۔' ،ایک دوسری آیت میں صاف صاف تاکید بھی کر دی ، 'اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔'
ان آیات کے بعد، اگر کوئی عورت محمد صلعم کے نکاح میں رہنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اسے ایک عام بیوی سے کہیں بڑا اور بھاری کردار قبول کرنا ہو گا۔ انہیں اس جدید عرب میں کنبے کی ایک نئی تراش اور ساخت میں اس قدر سختی سے جڑ نا ہو گا کہ بعد اس کے، وہ صرف بیویاں نہ رہتیں بلکہ ماننے والوں کی مائیں کہلائیں گی، 'امہات المومنین' ہوں گی۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کے بطن سے محمد صلعم کی اولاد پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ایسے میں کنبے کا یہ تصور نہایت حیرت انگیز اور غیر معمولی تھا۔ جہاں، آپ صلعم کی ازواج مومنین کی مائیں ہوں گی، وہیں ایک لحاظ سے الہامی الفاظ انہیں مومنین کا باپ قرار دے رہے تھے۔ وہ ایک نئے سلسلے کے جد امجد کی طرح ابھر رہے تھے جو بعد ازاں تاریخ کے دھارے میں تیسرا عظیم ترین توحیدی عقیدہ بن جائے گا۔ اگر چہ محمد صلعم کے یہاں اولاد نرینہ نہیں تھی، لیکن اس طرح وہ وحدانیت کے عقیدے سے جڑے روحانیت پسندوں کی ایک کثیر تعداد کی ولدیت اختیار کر لیں گے۔ سادہ الفاظ میں کہیے تو ماننے والے تمام مرد ان کے بیٹے قرار پائے اور بیٹوں پر اپنی ماؤں کے ساتھ نکاح باندھنے کی ممانعت تھی۔ مزید کھنگالیں تو، محمد صلعم کے بعد ان کی بیوائیں، صرف بیوائیں نہیں ہوں گی بلکہ ہمیشہ کے لیے بیوائیں بن جائیں گی۔
نو کی نو بیویوں نے محمد صلعم کے ساتھ نکاح میں بندھے رہنے کو ترجیح دی۔ ان کی مثال 'اسلام کی وستائی کنواریوں' جیسی ہو گی جو پاک دامن، عزت دار اور مجرد ہوتی ہیں۔ آج جدید زمانے کے لحاظ سے سوچا جائے تو انفرادی سطح پر کسی بھی شخص، چاہے مرد یا عورت کے لیے یہ قسمت کا ایسا درشت کھیل معلوم ہوتا ہے جس میں مرضی سے خود پر جبر کیا جا رہا ہے۔ بالخصوص، عائشہ اور حفصہ کے لیے تو یہ مشکل سوا رہی ہو گی۔ ان دونوں کی عمریں ابھی بمشکل بیس برس ہی تھیں۔ یہ تو رہا ایک طرف، شاید ان کے لیے محمد صلعم کی بگڑتی ہوئی صحت اور موت کا خیال ہی ایسا تھا کہ جس کے سامنے وہ کچھ نہ کر سکتی تھیں یا ان دونوں نے اپنی ذاتی ترجیحات کو سیاسی ضرورتوں پر قربان کرنے کا واقعی فیصلہ کر لیا، قبول کر لیا۔ لیکن، عائشہ کے لیے تو یہ واقعی بہت مشکل بات تھی۔ قسمت نے ان کے ساتھ عجب کھیل کھیلا تھا۔ شاید آج ہم اسے انتہائی سفاک اور جفا جو نتیجہ کہہ سکتے ہیں۔ وہ نو عمر تھیں، اب ساری عمر ایک ماں بن کر بسر کریں گی لیکن انہی قرانی آیات کی روشنی میں وہ ہمیشہ کے لیے حاملہ ہونے اور اپنے بطن سے جنم لینے والی اولاد سے محروم ہو جائیں گی۔
اگرچہ محمد صلعم کی ازواج کو یکساں عزت اور تکریم بخشی گئی تھی لیکن آگے چل کر ان میں سے زیادہ تر بعد ازاں اسلامی تاریخ میں پیش آنے والے معاملات میں نہایت معمولی کردار ادا کریں گی۔ عائشہ کا معاملہ باقی سب سے جدا تھا۔ وہ بے باک اور حوصلہ مند تھیں۔ انہی خصوصیات کی بدولت وہ باقی تمام ازدواج کے مقابلے میں، تاریخ میں ان سب سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کریں گی۔ یوں کہ، محمد صلعم کو گزرے بیس سال گزر چکے ہوں گے۔ عائشہ ایک سرخ اونٹ پر سوار ہو کر پوری فوج کی کمان سنبھالے آپ صلعم کے چچا زاد اور داماد کے خلاف لڑائی کے لیے نکلیں گی۔ یہ وہ زمانہ ہو گا جب علی کو خلافت سنبھالے تھوڑا ہی عرصہ گزرا ہو گا۔ اونٹ کی پیٹھ پر لدی ہوئی ہودج، یعنی پالکی میں سوار، اگرچہ ان کی فوج کے جنگجو ان کی آنکھوں کے سامنے کٹ کر مر رہے ہوں گے، لیکن وہ پھر بھی بدستور چلا چلا کر فوجیوں کو غیرت دلا رہی ہوں گی۔ دیدہ دلیری سے لڑنے پر اکسا رہی ہوں گی۔ وہ جنوبی عراق میں بصرہ شہر کے باہر مضافات میں لڑی جانے والی اس لڑائی میں ایسی لازوال اور انمٹ داستان چھوڑ آئیں گی کہ بعد ازاں تاریخ میں اس لڑائی کا نام ہی 'جنگ جمل' یا 'اونٹ کی لڑائی' مشہور ہو جائے گا۔ وہ ایک نڈر اور جری سپہ سالار کا کردار نبھائیں گی لیکن لڑائی کے نتائج ان کے حق میں نہیں نکلیں گے۔ ہو گا یوں کہ جب لڑائی ختم ہو جائے گی تو ہودج میں اتنے تیر پیوست ہو چکے ہوں گے کہ اس پر سیہ کے کانٹوں کا گماں ہو گا۔ سیہ ایک کانٹے دار جانور ہے جس کے جسم پر نوک دار کانٹے ہوتے ہیں۔ ایک تیر تو ہودج کے اندر پیوست ہو کر، عائشہ کی زرہ بکتر کو بھی چیرتا ہوا، کندھے میں پیوست ہو جائے گا۔ لیکن، اس کے باوجود بھی انہیں روکنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ وہ زخمی تھیں، ان کی فوج شکست سے دوچار تھی لیکن پھر بھی وہ لڑنے پر مصر رہیں، تا آنکہ انہیں زبردستی ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر دیا گیا۔ عائشہ کی سیاسی بصیرت پر بحث ہو سکتی ہے لیکن ان کی جرات، دلیری اور بے خوفی کا کوئی جواب نہیں ہے۔
وہ اس لڑائی میں شکست کے بعد مکہ لوٹیں تو خائف نہیں تھیں۔ انہیں کوئی ڈر نہیں تھا اور نہ ہی مایوس تھیں۔ جس قدر وہ بے باک ، صاف گو اور بے لاگ تھیں، اسی زور و شور سے اب وہ خود کو سیاست کے معاملات سے علیحدہ کر دیں گی۔ اب وہ بجائے حکومتی معاملات میں دخل دیا کرتیں، صحیح معنوں میں 'ام المومنین' یعنی، 'مومنین کی ماں' کا کردار نبھائیں گی۔ وہ آپ صلعم کی بیویوں میں واحد تھیں جو نکاح سے پہلے کنواری تھیں۔ اسی طرح تمام ازدواج میں یہ صرف عائشہ ہی تھیں جو محمد صلعم کو تنگ کرتیں، چوٹ لگاتیں اور پھر بھی انہیں مسکرانے پر مجبور کر دیا کرتی تھیں۔ سب سے کم عمر، زندہ دل اور اس بات پر تو ان کا ہمیشہ ہی اصرار رہا کہ وہ محمد صلعم کی پسندیدہ ترین بیوی تھیں۔ ازواج میں ایک کے بعد دوسری خاتون چل بسیں لیکن عائشہ ان سب کے بعد بھی تا دیر زندہ رہیں۔ اس لیے آخر دور میں جب وہ محمد صلعم کے ساتھ اپنی بیتائی زندگی کو یاد کرتیں تو انہیں ٹوک کر درست کرنے والا بھی کوئی نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی ان یاد داشتوں کو ہزارہا احادیث کی شکل میں تحریر کروایا۔ احادیث سے مراد، محمد صلعم سے منسوب وہ افعال اور اقوال ہیں جو آج بھی دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے پیروی ، غور و فکر اور تراقب کا سامان ہیں۔ ان کی چھوڑی روایات میں اکثر ایسی بھی ہیں جو آج بھی نو خیز اور نا بالغ ذہنوں کو کلپانے کے لیے کافی ہیں۔ کئی مثالیں ہیں جو اس قدر ہیجان خیز تھیں کہ بعد ازاں علماء نے ان روایات میں کانٹ چھانٹ مناسب سمجھا اور رفتہ رفتہ کئی معاملات کے بارے میں ان سے منسوب منقولات کی تعداد ہزاروں سے گھٹ کر سینکڑوں رہ گئی۔ تا ہم، جب تک وہ خود زندہ رہیں، کسی شخص نے انہیں ٹوکنے یا روک لگانے کی جرات نہیں کی۔ کسی عالم دین، محمد صلعم کے رفیق یا بڑے سے بڑے خلیفہ اور حکمران کو ان سے پوچھ گچھ کرنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی۔ جنگ جمل کے بعد گرچہ زبردستی علیحدگی اختیار کرنی پڑی مگر سبکدوشی کے بعد بھی انہوں نے اپنی قدر اور لحاظ جوں کا توں برقرار رکھا۔
ہر نئے دن کے ساتھ محمد صلعم پر عوامی ضرورتوں کا دباؤ بڑھتا جا رہا تھا، نت نئے تقاضے سامنے آ رہے تھے۔ مدینہ کا نخلستان ، جو کبھی منظر نامے کے حاشیے پر واقع صرف کھجور اور کھجور سے بنی مصنوعات کی ایک منڈی ہوا کرتی تھی، دیکھتے ہی دیکھتے سینکڑوں میل پر محیط حجاز کا مرکز بن گیا۔ طاقت کا اس مرکز کا گھیرا ایک طرف مشرقی ساحلوں پر بحرین اور عمان، شمال میں بازنطینی سلطنت کی سرحدوں اور جنوب میں یمن کے تقریباً حصے پر پھیلا ہوا تھا۔ مدینہ میں چوبیسوں گھنٹے بدو قبائل اور آزاد اقوام کے بادشاہو ں کے وفود کی آمد و رفت جاری رہتی جو محمد صلعم کی خدمت میں حاضری دینا لازم تصور کرتے، اتحاد اور باہمی تعلقات کو وسعت دینے کی بات کرنے کے خواہاں ہوتے یا پھر اپنے ساتھ نئے اتحادیوں کو امہ میں شامل کروانے ضامن کے طور پر حاضر ہوتے رہتے۔ یہ تعداد روز بروز بڑھتی ہی جا رہی تھی، اسی لیے اس برس کو 'وفود کا سال' بھی کہا جاتا ہے۔ سفارتی سطح پر ہر وفد کو عزت بخشنا اور آؤ بھگت لازم تھی، جس کے لیے ہمیشہ ہی محمد صلعم کی ذاتی اور پوری توجہ درکار ہوتی۔
محمد صلعم نے اس زمانے میں درجنوں وفود کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور انتہائی درجے کی سیاسی اور سفارتی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاہدے یقینی بنائے۔ اپنے تئیں، یہ سارے ہی وفود اور معاہدے اہم تھے لیکن سب سے اہم وفد نجران سے تعلق رکھتا تھا۔ نجران مکہ اور یمنی ساحلوں کے بیچ واقع ایک مقام ہے۔ تجارتی راہداری کے چوراہے پر واقع یہ شہر عرب میں، پچھلی ایک صدی سے عیسائیوں کا اکثریتی علاقہ تھا۔ اگر شہر نجران اسلام قبول کر لیتا ہے تو یہ پورے خطے میں ایک انتہائی اہم سیاسی پیغام بن سکتا تھا۔ خاص طور پر شمال میں ایک بار پھر سے سر اٹھاتی ہوئی بازنطینی سلطنت، جو عیسائیت کی پر چارک تھی، اس سے تعلقات میں خاصا فرق پڑ جاتا۔ یہ اس قدر اہم معاملہ تھا کہ نجرانی عیسائیوں کے اسلام قبول کرنے سے نہ صرف حجاز اور بازنطینی شہنشاہ پر اثر ہوتا بلکہ پورے مشرق وسطیٰ میں ایک نئی طرز کی ایجاد ہو جاتی۔ اس وقت، مشرق وسطیٰ میں عیسائیوں کی اکثریت تھی اور اس پورے خطے پر کلیسا کا غلبہ تھا۔
قران کے الہامی پیغام میں عرب کے عیسائیوں کو خصوصی توجہ دی گئی تھی ۔ انہیں انتہائی پر زور انداز میں مخاطب کیا جاتا رہا تھا۔ نزول الہی میں عیسیٰ کو من و عن نبی تسلیم کیا گیا تھا اور مریم کے بارے میں تو قران میں اتنے تفصیلی بیان ملتے ہیں کہ اتنی فصاحت خود انجیل میں بھی ان سے متعلق نہیں کی گئی۔ اس کے باوجود نجران میں عوامی رائے منقسم تھی۔ سیاسی طور پر تو نجرانیوں کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ محمد صلعم کی نوزائیدہ ریاست کے ساتھ الحاق کر لیتے لیکن دینی لحاظ سے اس معاملے کو سلجھانا قدرے مشکل تھا۔ اس میں ایسی الجھن تھی جو سمجھ میں بھی آتی تھی۔ عیسائیوں میں وہ لوگ جو محمد صلعم کے طرف دار تھے، جواز پیش کرتے کہ آپ صلعم شقیع اور مقدس روح ہیں ۔ یعنی، ناصر یا مدد گار ہیں۔ 'روح القدس' نامی کردار کی 'انجیل یوحنا' میں پیشن گوئی کی گئی تھی۔ یہ پیشن گوئی خود عیسیٰ نے کی تھی اور اس کردار کے بارے کہا تھا کہ اس کی روح مقدس اور پاک ہو گی۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ انہیں 'عیسیٰ کا روپ'، بلکہ عیسیٰ ہی سمجھیں۔ مشہور تھا کہ یہ شخص عیسائیوں کا مدد گار ہو گا۔ دوسری طرف، وہ لوگ جو اختلاف رکھتے تھے، ان کا مدعا یہ تھا کہ 'روح القدس' کے بارے میں یہ بھی تو کہا گیا ہے کہ اس کے یہاں اولاد نرینہ ہو گی۔ چونکہ محمد صلعم کے یہاں بیٹے نہیں تھے تو مبینہ طور پر آپ صلعم وہ مقدس روح نہیں ہو سکتے جس کی پیشن گوئی کی گئی ہے۔ اس منقسم رائے اور تنازعے کو حل کرنے کے لیے تجویز ہوا کہ نجران سے ایک وفد روانہ کیا جائے جو منہ در منہ محمد صلعم کے ساتھ مکالمہ کرے اور فیصلہ ہو۔ لیکن جب یہ وفد مدینہ پہنچا تو انہیں مکالمے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔
بجائے یہ کہ محمد صلعم نئے قوانین کے تحت، رسمی طور پر مشیران کے جمگھٹ کے ساتھ مل کر مذاکرات کرتے، انہوں نے اپنے رفقاء کو اس موقع پر رخصت کر دیا۔ ان کی بجائے، نجرانیوں کا استقبال کرنے کے لیے اپنے گھرانے کے چار افراد کو بلا لیا۔ یہ چار افراد آپ صلعم کی بیٹی فاطمہ، فاطمہ کے شوہر علی اور ان دونوں کے بیٹے حسن اور حسین تھے۔ بغیر کچھ کہے، محمد صلعم نے آہستگی کے ساتھ ان چاروں کو اپنے پہلو میں کھڑا کر لیا ۔ جو چوغہ انہوں نے اوڑھ رکھا تھا، اس کا ایک سرا پکڑا اور ہوا میں بلند کر کے گھرانے کے ان چار افراد کے سروں پر تان لیا۔ یہ وہ ہیں جو محمد صلعم کا خاندان ہیں۔ ان کی اولاد ہیں اور چوغہ پھیلانے کا مطلب تھا کہ انہیں آپ صلعم کی نسبت، سایہ حاصل ہے۔ یہ محمد صلعم کے انتہائی قریبی، سب سے پیارے لوگ ہیں جنہیں 'اہل بیت' یعنی گھر کے افراد کہا جائے گا۔ محمد صلعم کے گھر کے افراد جن سے ان کا خون اور خوند، جسم اور روح جڑی تھی۔
چاہے محمد صلعم نے اس موقع پر یہ سوچ سمجھ کر کیا ہو یا اسے فطری طور پر وجدانی علامت سمجھا جائے، ہر دو صورت اعلی درجے کا عکسی مظاہرہ تھا۔ ساتویں صدی عرب میں کہیے تو محمد صلعم نے دیکھنے والوں کے لیے نہایت عمدہ استعارہ، تشبیہ سے مزین تصویر بنا ڈالی۔ عرب سے تعلق رکھنے والے عیسائیوں میں مشہور تھا کہ آدم نے اپنے زمانے میں ایسا نظارہ دیکھا تھا کہ جس میں ایک روشنی کی ایک نہایت تابندہ کرن کے گرد صرف چار مگر خاصی شوخ اور تاباں روشنیاں جگمگا رہی ہیں۔ استفسار پر خدا نے بتایا تھا کہ یہ پیغامبری کی پشت ، یعنی جد اور آل کا نظارہ ہے۔ نجرانی وفد نے جوں ہی محمد صلعم کو اپنے گھرانے کے چار افراد پر یوں سایہ قائم کرتے دیکھا تو یہ ایسا نظارہ تھا ، گویا آدم کا خواب سچ ہو گیا۔ پیغمبری کی روایت اور رسالت کے جس الہامی پیغام کی ابتداء آدم سے ہوئی تھی، ابراہیم، موسی اور عیسیٰ سے ہوتی ہوئی اب اس شخص تک آن پہنچی تھی جسے قران نے 'خاتم النبین' قرار دیا تھا۔ نجرانیوں نے وہیں کھڑے کھڑے اسلام قبول کر لیا۔
محمد صلعم کے یوں ڈرامائی انداز میں اس ملاقات کو ترتیب دینے سے ان کی فہم و فراست عیاں ہو جاتی ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ وہ پوری طرح آگاہ تھے کہ ان کے اشارے، استعارے اور علامتیں کس قدر معنی خیز ہو سکتے ہیں۔ لیکن، وہیں یہ آگاہی ان کے لیے ایک بوجھ بھی بن کر رہ جائے گی۔ انہوں نے اس عظیم تحریک کو شروع سے ہی انکساری اور فروتنی کی بنیادوں پر کھڑا کیا تھا۔ یہ تب کی بات ہے جب وہ صرف اور صرف ایک پیغمبر تھے۔ بے شک، قران میں بھی عاجزی اور انکساری کو بہترین صفت قرار دیا تھا اور ساتھ ہی ساتھ غرور، تکبر اور نخوت سے بچنے کی تاکید کی تھی۔ لیکن، اب صورتحال یہ تھی کہ جیسے جیسے محمد صلعم کی تعظیم اور تکریم میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا، اس پھیلاؤ کے ساتھ ان کی عاجزی اور حلیمی کو خطرہ لاحق ہو گیا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ منکسر المزاجی اب ماضی کا قصہ بن کر چکی ہے۔ چاہے وہ اپنے اختیارات کو بانٹنے، ذمہ داریاں دوسروں کو سونپنے اور اس عجب رخ اختیار کرتی ہوئی طرز زندگی کو خود سے جتنی دور دھکیلنے کی کوشش کرتے، یہ پہلے سے کہیں زیادہ آگے بڑھ کر آپ صلعم کو دبوچ لیتی۔ ان پر نازل ہونے والا کلام، اب بھی خدا کی آواز تھا اور مومنین کا حال یہ ہو چکا تھا کہ آپ صلعم کے کہے کوئی بھی الفاظ، حتی کہ معمول کی بات چیت اور استعجاب بھی خدائی مرضی شمار ہونے لگی۔ پھر، یہاں قران کا معاملہ بھی تھا۔ طرفہ تماشا یہ ہوا کہ اس میں کہہ دیا گیا کہ اگرچہ وہ صرف ایک آدمی ہیں لیکن ان کی اطاعت کا مطلب خدا کی فرمانبرداری شمار ہو گی۔
پھر، آگے یہ ہوا کہ محمد صلعم کا عوامی کردار اس قدر بڑھ گیا کہ اب ان کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اس کے لیے وقف ہو چکا تھا۔ دن تو رہے ایک طرف، رات کو بھی فرصت نہیں تھی۔ انہیں دن رات اس کردار کے تقاضوں کو نبھانا پڑتا۔ اتنی محنت اور جان توڑ روٹین کا نتیجہ آپ صلعم کی آنکھوں میں پھیلی سرخی، چہرے پر تھکاوٹ کے آثار اور پیشانی پر گہری ہوتی ہوئی لکیروں میں صاف نظر آنے لگا۔ وہ بیزار رہنے لگے اور ہمہ وقت تکان کا حال طاری ہو گیا۔ حکومتی امور کا سر درد کم تھا کہ اب ہر وقت جسمانی طور پر بھی سر میں درد کی شکایت رہنے لگی۔ احد کی لڑائی میں پیشانی پر لگنے والی چوٹ کے سبب پہلے ہی سر میں ٹیسیں اٹھتی تھیں، اب تناؤ بڑھ جانے کے نتیجے میں یہ درد میگرین میں بدل گیا۔ اتنا شدید درد ہوتا کہ انہیں لگتا جیسے ان کے جسم و جان اور دماغ سے ساری توانائی، رس کی طرح نچوڑ دی گئی ہے۔ لوگوں کا خیال تھا کہ وہ اس برس ذوالحجہ کے مہینے میں مکہ کا قصد کریں گے، لیکن وہ نہیں گئے۔ بجائے، ابو بکر کو مدینہ سے حج کی غرض سے جانے والے قافلے کا سربراہ مقرر کر کے روانہ کر دیا۔
ابن اسحاق نے اس سال محمد صلعم کے حج پر نہ جانے کی وضاحت کچھ یوں کی ہے کہ انہوں نے یہ اعلان کیا کہ یہ آخری موقع ہو گا کہ جب غیر مسلم یا وہ لوگ جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، وہ بھی حج میں شرکت کریں گے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ اب مکہ صرف تب ہی جائیں گے جب وہاں سے لا دینی اور الحاد کا مکمل خاتمہ نہیں ہو جاتا۔ لیکن، ابن اسحاق کی اس وضاحت پر کئی سوال اٹھتے ہیں۔ ملحدین کا معاملہ یہ ہے کہ محمد صلعم نے ایک سال پہلے ہی وہاں پھیلی لا دینی کے باوجود عمرہ ادا کیا تھا۔ بلکہ دو برس پہلے جب مکہ میں مکمل طور پر تاریک خیالی چھائی تھی اور ہر طرف مظاہر پرستی اور لا دینی کا دور دورہ تھا، پھر بھی انہوں نے عمرہ ادا کیا تھا۔ یہاں، مسئلہ مکہ میں الحاد یا بے دینی کا نہیں تھا۔ بات یہ تھی کہ پہلے انقلاب کی تحریک اور پھر جان توڑ ریاستی امور کے نتیجے میں کی گئی ذہنی اور جسمانی مشقت اپنا اثر دکھا رہی تھی۔ اتنی بڑی کامیابی اب اپنا خراج وصول کر رہی تھی۔ اگر یہ نہیں تو پھر کیا تھا؟ کیا یہ صرف جسمانی تکان اور اعصابی دباؤ سے بھی بڑھ کر معاملہ تھا؟
اگلا پورا سال، عائشہ بتاتی ہیں کہ محمد صلعم کی زیادہ تر راتیں مدینہ کے قبرستان کے آس پاس بسر ہوا کرتیں۔ رات بھر وہاں شب بیداری کے دوران عبادت اور مرنے والوں کے لیے دعا میں مشغول رہتے۔ اس قبرستان میں کئی لوگ دفن تھے۔ آپ صلعم کی آنکھوں کے سامنے، دیکھتے ہی دیکھتے یہاں قبروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا تھا۔ ہر قبر پر ایک بچے کے گھٹنے جتنا اونچا کتبہ نصب تھا اور ان کتبوں کی تعداد درجنوں میں تھی۔ ان میں دو کتبے تو ان کی سگی بیٹیوں اور ایک لا پالک بیٹے زید کا تھا۔ اس زمانے میں اولاد کا والدین سے پہلے چل بسنا کوئی انہونی بات نہیں تھی لیکن تب بھی اپنے بچوں کی موت دیکھنا، آج کی ہی طرح شدید دکھ اور یاس کا باعث ہوا کرتی تھی۔ ایسا لگتا کہ جیسے زندگی کی دوڑ الٹ گئی ہے۔ جنہیں پہلے رخصت ہو کر ماضی بننا تھا، وہی ماضی اپنے ہاتھوں سے مستقبل کے لاشے اٹھائے پھر رہا ہو۔
اوائل دور کے کئی دیرینہ ساتھی بھی یہیں دفن تھے۔ ان میں سے کچھ تو جنگوں میں لڑتے لڑتے مر گئے، بعض کو جوانی میں ہی بیماری نے آ لیا اور صرف چند ایک ہی تھے جو اپنی طبعی عمر پوری گزار کر بڑھاپے میں رخصت ہوئے۔ ایک دن عائشہ نے انہیں قبرستان کے پاس کھڑے دیکھا۔ وہ زیر لب بڑ بڑا رہے تھے۔ 'اے اہل قبور! تم پر سلامتی ہو۔ یقیناً تم ان سے بہتر ہو جو ابھی تک دنیا میں ہیں'۔ ان کی اس بڑبڑاہٹ سے ایسا لگتا ہے جیسے اب وہ خود بھی ان کے ساتھ شامل ہونے کے متمنی تھے، خواہش رکھتے تھے۔ دنیا جہاں کے آلام اور تقاضوں سے دور آرام اور سکون کی تلاش میں تھے۔
محمد صلعم اکثر اپنے سابقہ حریفوں کی قبروں پر بھی چلے جاتے اور دیر تک وہیں کھڑے رہتے۔ جیسے، وہ ابن ابی کی پر قبر تو ضرور ہی جاتے رہے۔ ابن ابی، جو 'منافقین' کا سردار کہلایا جاتا تھا، کچھ ماہ پہلے اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔ عمر سے منسوب روایت ہے کہ وہ محمد صلعم کو اس کے جنازے میں شریک دیکھ کر چونک گئے تھے۔ یہ واقعہ کچھ یوں منقول ہے کہ، "میں نے انہیں راستے میں ہی جا لیا اور زور سے پوچھا، 'کیا آپ صلعم خدا کے دشمن کے لیے دعا کریں گے؟' وہ مسکرائے اور کہا، 'عمر، مجھے میرے حال پر، ایسا ہی رہنے دو۔ مجھے موقع دیا گیا ہے اور میں اس موقع کو حاصل کرنا چاہتا ہوں'۔ پھر انہوں نے دعا کی اور ابن ابی کی میت کے ساتھ ساتھ چلتے رہے اور تب تک وہیں کھڑے رہے جب تک کہ اسے دفنا نہ دیا گیا"۔ یہ محمد صلعم کا اقرار اور اعتراف تھا۔ نہ صرف یہ کہ وہ ابن ابی کی اپنی سمجھ کے مطابق اخلاص اور سچائی کے اب بھی قائل تھے بلکہ شاید دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ابن ابی کو ایسے شخص کی حیثیت سے بھی جانتے تھے جو بے خوف ہو کر ان کے فیصلوں سے نہ صرف اختلاف کرنے کی ہمت رکھتا تھا، بلکہ ضرورت آنے پر با آواز بلند اس کا اظہار بھی کر سکتا تھا۔ ویسے بھی، اب اس جیسا کوئی دوسرا شخص باقی نہیں رہا تھا۔
محمد صلعم ہر وقت ہجوم میں گھرے رہتے۔ جتنے زیادہ لوگ ارد گرد جمع ہوتے،  وہ اتنی ہی شدت سے تنہائی محسوس کرتے۔ 'خدا نے ان کے دل میں گوشہ نشینی اور خلوت کی محبت ڈالی تھی'، عائشہ اکثر کہا کرتیں۔ یہ تب کہا کرتیں جب وہ محمد صلعم کے اس طور، یعنی راتیں بیویوں کے ساتھ نہیں بلکہ قبرستان میں بیتانے کی وضاحت پیش کر رہی ہوتی تھیں۔ لیکن انہیں رات کی تاریکی اور قبرستان میں پھیلی خامشی میں بھی حقیقی خلوت اور تنہائی نصیب نہیں تھی۔ یہ ناممکن تھا۔ وہ لوگوں کو ٹوکتے، اکثر غصہ کر جاتے اور بعض اوقات جیسے منت سماجت بھی کر لیتے کہ خدارا قبرستان میں پیچھا نہ کریں، انہیں ان کے حال پر چھوڑ دیں۔ لوگ ایسا کر بھی لیتے تھے، وہ فاصلہ برقرار رکھتے مگر پھر بھی آپ صلعم جانتے تھے کہ دور  جھاڑیوں اور تاریکی میں لوگ چھپ کر بیٹھے انہیں تاڑ رہے ہیں۔ وہ آپ صلعم کے لیے شب بیداری میں مصروف رہتے اور محمد صلعم خود مرنے والوں کے لیے رت جگا کاٹ رہے ہوتے۔ بلا شبہ لوگ ایسا ان کی محبت اور خیال رکھنے کی غرض سے کرتے تھے۔ وہ محمد صلعم کے لیے فکر مند تھے۔ لیکن، اس قدر سروکار اور لگاؤ ان کے لیے دباؤ اور تناؤ کا باعث تھا۔ لوگوں کا محمد صلعم پر انحصار تھا اور خود انہیں یہ خوف تھا کہ اب اس کے بعد آپ صلعم کے پاس لوگوں کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ تاہم، ہر چہ کسل مند اور تھک کر چور تھے، خستگی اور ماندگی کا شکار ہونے کے باوجود بھی وہ جانتے تھے کہ ایک چیز ایسی ہے جو ابھی کرنی باقی ہے۔ وہ سفر کریں گے۔ ایک بار، ایک آخری بار وہ مکہ ضرور جائیں گے۔ بس یونہی نہیں بلکہ حج کے لیے جائیں گے۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر