اول المسلمین - رہنما - 21

 
تریسٹھ برس کی عمر ایسی ہوتی ہے جس تک پہنچنے میں جسم یوں جواب دیتا جاتا ہے کہ جوانی کے مزے لوٹنے والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ محمد صلعم اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہیں ہیں۔ جب حج کے سفر پر نکلے تو ماننے والوں کے نزدیک یہ 'تکمیل' کا سفر تھا لیکن بالآخر 'وداع' ثابت ہو گا ۔ 'لوگو! میری باتیں سن لو مجھے کچھ خبر نہیں کہ میں تم سے اس قیام گاہ میں اس سال کے بعد پھر کبھی ملاقات کر سکوں'، وہ 632ء میں مارچ کے مہینے میں مکہ پہنچ کر ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہیں گے۔ حج کے موقع پر اس برس کعبہ کے احاطے میں تل دھرنے کو بھی جگہ نہیں تھی۔
مدینہ سے مکہ تک دو ہفتے کا سفر کٹھن اور سخت دشوار ثابت ہوا تھا۔ حج کے پانچ دن اس کے علاوہ تھے۔ بالخصوص جب ہر شخص کی نظریں آپ صلعم پر جمی تھیں، وہ تھک کر چور ہو گئے۔ سب لوگ ان کی طرف دیکھ رہے تھے اور یہی وجہ تھی کہ انہیں یہ سفر ہر صورت مکمل کرنا تھا۔ اسی لیے ہمت باندھ کر اپنی گرتی ہوئی صحت اور جسمانی کمزوری کو آڑے نہیں آنے دیا۔ 'اول المسلمین' یعنی پہلے مسلمان کی حیثیت سے یہ واحد حج ہے جو وہ ادا کریں گے اور اسی موقع کی روایات بعد ازاں اسلام میں اس سفر کا دستور اور شعائر قرار پائیں گی۔ ایک ایک لفظ، توقف اور حرکت، یہاں تک کہ ہاتھ اور پاؤں کے اشارے اور موقعوں پر انداز بھی اجتماعی یاد داشت میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو کر اس قدیم روایت جسے پہلے بھی حج کہا جاتا تھا، اسی کی جدید شکل بن جائی گی۔ بجائے یہ کہ اسلام سے پہلے کے مراسم اور ارکان عبادت کو فسخ کر دیتے، محمد صلعم نے انہیں باقاعدہ طور پر نئے طریق میں ضم کر دیا۔ کلمات، دعائیں مانگنے کے مقامات، کعبہ کا طواف یعنی سات چکر، قربانی اور سر منڈوانا وغیرہ جیسے اور کئی دوسرے شعائر اب محمد صلعم کے طریقہ کار کے مطابق، یعنی خدا کی طرف سے ان کے افعال کے احیاء کی مثال، روحانی طور پر پاک اور شفاف قرار پائیں گے۔ حج، صرف ایک روایت نہیں رہے گا بلکہ امہ کے اتحاد، یگانگت اور برابری کا واقعی مظاہر بن جائے گا۔ اس برس سے یہ جدید طریق، قدیم رسوم کو خود میں جذب کر لے گا۔ یعنی، 'آبا ؤ اجداد کا طریق' جو قدیم ہے ، نو خیز' اسلامی روایات' کا حصہ بن جائے گا۔ قصہ مختصر، محمد صلعم ماضی کو حال کے ساتھ یکجا کر رہے تھے اور یوں مستقبل کے لیے خود بخود ایک مثال قائم ہو رہی تھی۔
حج کے پانچ دنوں میں انہوں نے زائرین سے ایک سے زیادہ بار خطاب کیا ۔ ان موقعوں پر محمد صلعم کے الفاظ اجتماعی یاد داشت میں محفوظ ہو کر امر ہو جائیں گے اور ان کی جن باتوں پر اتفاق باقی رہا، وہ تاریخ میں ایک ہی جگہ پر جمع ملتی ہیں۔ مثلاً، قبل از اسلام یعنی جہالت کے دور میں ہوئی خون ریزی پر انتقام سے منع کر دیا گیا۔ چونکہ اب نیا دور ہے تو اس میں، 'جان لو کہ ایک مومن دوسرے مومن کا بھائی ہے اور سارے مومن برادران ہیں'۔ اسی طرح کسی کو بھی زبردستی اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے سے بھی روک دیا گیا، بالخصوص عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ بالضرور ہی عزت اور احترام سے پیش آنے کا حکم دیا، 'اگر وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیں تو وہ قابل اعتماد اور وفا دار ہیں، جنہیں ہر طرح کا حق حاصل ہو گا اور وہ تمام امور بجا لانے کے پابند ہوں گے۔ لیکن، اگر وہ اپنی قدیم روایت اور عقیدے پر قائم رہنا چاہیں تو انہیں بہلانے اور نہ ہی دھمکانے کی ضرورت اور اجازت ہے'۔ آگے چل کر، شاید یہ سب سے پختہ روایت ہے، اور آج کل کے زمانے میں اس بات کا کثرت سے تذکرہ کیا جاتا ہے اور لوگ اس کو پختہ حوالہ کہتے ہیں۔ اس ایک جملے میں محمد صلعم نے اپنے لیے صیغہ ماضی کا استعمال کیا اور کہا، 'میں تم میں ایک ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں جس کو اگر تم مضبوطی سے تھامے رکھو تو کبھی بھٹک نہیں سکتے۔ یہ اللہ کی کتاب، قران ہے'۔
انتہائی دین دار اور پکے مسلمانوں کے لیے یہ ایک جملہ باقی ہر شے پر غالب ہے، ان کے نزدیک یہی کافی ہے۔ لیکن، اسی جملے کے تاریخ میں کئی حوالے اور ایک سے زیادہ نسخے، منقول روایات مل جاتی ہیں۔ یہیں آ کر اجتماعی یاد داشت منقسم ہونا شروع ہوتی ہے۔ ایک روایت یوں ہے کہ محمد صلعم نے کہا، 'میں نے تمہارے بیچ دو چیزیں چھوڑ دی ہیں'۔ غور کریں، ایک نہیں بلکہ دو چیزیں چھوڑی گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی تو بدستور خدا کی کتاب تھی لیکن دوسری چیز پر آج بھی تکرار ہے۔ اس ضمن میں اختلاف کچھ یوں ہے کہ کہا جاتا ہے ، انہوں نے کہا، 'اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر کا طریقہ' یعنی سنت، جس کے لغوی معنی پیغمبر کا برتاؤ یا عادت پہ مبنی اقوال و افعال ہیں ۔ یا پھر، انہوں نے کہا، 'اللہ کی کتاب اور اس کے پیغمبر کے گھرانے کے لوگ' یعنی اہل بیت، مراد آپ صلعم کے انتہائی قریبی، خون کی خلف، آل محمد صلعم یعنی داماد علی اور نواسے حسن اور حسین ہیں۔
ابن اسحاق اور الطبری، دونوں نے ہی کئی لوگوں سے، دونوں ہی طرح کی روایات منقول کی ہیں۔ یہ لوگ اس موقع پر وہاں موجود تھے اور انہوں نے قسم اٹھا کر حلفاً کہا کہ انہوں نے اپنے کانوں سے ایک یا دوسری بات سنی۔ لیکن، جیسا کہ آج ہم ماخذ اول سے بلا واسطہ حلفی شہادت یا گواہی طلب کرتے ہوئے یہ ضرور سوچتے ہیں کہ شاید ان لوگوں نے بھی وہی سنا ہو گا جو وہ سننا چاہتے تھے یا وہ جو سننے کے لیے تیار تھے یا کہیے جس وقت اصل بات کہی گئی، جس قدر ان کی توجہ مبذول تھی، انہوں نے اتنا اور ویسا ہی سنا۔ جلد ہی ایک کبھی نہ ختم ہونے والی بحث شروع ہو جائے گی کہ اس ایک جملے کے کئی پہلو نکلتے ہیں اور دوسری طرف کہا جائے گا کہ جو بھی ہے، مطلب ایک ہی ہے۔ مطلب یہ کہ اہل بیت سے بہتر سنت کا روادار کوئی نہیں ہو سکتا۔ وہ محمد صلعم کے طریقہ کار کو ویسے ہی اپنائے ہوئے تھے جیسا کہ خود آپ صلعم کا طریق رہا تھا، اس میں رتی بھر فرق نہیں تھا۔ لیکن، اس کے ساتھ یہ بھی کہا جائے گا کہ چونکہ محمد صلعم 'خاتم النبین' یعنی آخری نبی ہیں تو ان کے اقوال اور افعال بھی حتمی ہیں۔ ان کا کوئی جوڑ نہیں اور ان کے اقوال، افعال ہر زمانے کے لیے منفرد اور فقید المثال ہیں۔ یعنی، یکتا ہیں۔ ایک جملہ اور اس پر یہ دلائل آگے چل کر اسلامی ڈھانچے کو دو انتہائی قریبی لیکن یکسر مختلف ضابطہ کار میں باندھ دیں گے۔ ایک ہی ہفتے بعد محمد صلعم کے ایک نئے بیان کے باعث بعد میں یہ فرق اور بھی بڑھ جائے گا اور تاریخ میں اس کا استعمال یوں ہو گا کہ ان دونوں مواقع پر کہے الفاظ منتشر تاویلات اور تشریحات کی نظر ہو کر اختلاف کی جڑیں مضبوط کیا کریں گے۔
حج مکمل ہو گیا۔ زائرین مدینہ کے لیے واپس ہوئے تو راستے میں ایک چشمے کے پاس رات بسر کرنے کے لیے ٹھہرے۔ یہ جگہ 'غدیر خم 'کہلاتی ہے، یعنی خم کا تالاب۔ علی بھی یمن میں ایک مزاحمتی قبیلے یا گروہ کی کامیابی سے سر کوبی کرنے کے بعد یہیں پہنچ گئے۔ اس مہم کے نتیجے میں نہ صرف جنوب میں محمد صلعم کی راہ میں حائل آخری رکاوٹ دور ہو گئی تھی بلکہ اچھا خاصا مال غنیمت بھی ہاتھ آیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ یہ قبائل باقاعدگی سے مدینہ کے خزانے کو خراج ادا کرنے پر بھی راضی ہو گئے تھے۔ حج کی تکمیل اور اب اس تاریخی مہم کی کامیابی کے بعد اس دن خم کے تالاب پر جشن کا سماں تھا۔ محمد صلعم نے حکم دیا کہ کھجور کی شاخیں اوپر نیچے اچھی طرح جما کر رکھ دی جائیں اور اوپر اونٹ کی کاٹھی بچھا کر ایک منبر یا چبوترہ بنا لیا جائے۔ پھر، مغرب کی نماز کے فوراً بعد، انہوں نے علی کو بلایا اور انہیں اس منبر پر اپنے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ علی کا ہاتھ تھاما، ،ہوا میں بلند کیا اور ان کے حق میں کلمات کہے۔ محمد صلعم نے کہا، 'جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے'۔ پھر توقف کیا اور بیان جاری رکھا، ' اللہ اسکو دوست رکھے جو علی کو دوست رکھے اور اس کو دشمن رکھے جو علی کو دشمن رکھے'۔
شیعہ علی ، یعنی علی کے پیروکار جو بعد ازاں اپنا تعارف صرف 'شیعہ' کے طور پر منتخب کر لیں گے، ان کے نزدیک اس بات کے صرف ایک ہی معنی ہیں اور وہ صاف ہیں۔ وہ یہ کہ محمد صلعم نے اپنے انتہائی قریبی عزیز کو اپنا خلیفہ مقرر کر دیا۔ خلیفہ سے مراد جانشین یا وارث ہے۔ یہی نہیں بلکہ اس طرح، علی اور ان کے بعد حسین اور حسین کی صورت نسلی سلسلہ بھی محمد صلعم کی جانشینی اور وراثت کا جائز حقدار ٹھہرا۔ دوسری طرف وہ لوگ جو بعد میں خود کو 'سنی' کہلوائیں گے، مراد وہ لوگ جو 'سنت' یا محمد صلعم کے طریقہ کار کو ماننے والے، ان کے نزدیک یہ بات درستی سے کوسوں دور ہے۔ اگر پیغمبر خدا کی یہی مرضی تھی تو انہوں نے واضح الفاظ میں ایسا کیوں نہیں کہا؟ دلیل کی پختگی کے لیے کہا جائے گا کہ خم کے تالاب پر پیش آنے والا واقعہ اور محمد صلعم کی علی کے لیے دعائے خیر اور جوش وغیرہ انسیت اور محبت کا بے ساختہ اظہار تھا۔ کسی بھی شخص کو علی کی محمد صلعم سے نسبت اور قربت یا ان کی قدر و اہمیت پر شک نہیں ہے۔ لیکن، نسل در نسل وراثت اور جانشینی، وہ کہیں گے کہ در اصل اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ دین میں تو خدا کے نزدیک سب ہی انسان برابر ہیں۔
مزید برآں، کہا جائے گا کہ محمد صلعم نے علی کے لیے لفظ 'مولا' استعمال کیا۔ ساتویں صدی عیسوی کی عربی زبان میں تقریباً ہر لفظ کی طرح اس کے بھی کئی معنی اور مفہوم نکلتے ہیں۔ اس کا مطلب آقا یا متولی یا سر پرست یا قائد یا دوست یا ہمدم کچھ بھی نکل سکتا ہے اور ہر معنی سیاق و سباق سے جڑا ہے اور صورتحال کے اسی سیاق پر ہمیشہ بحث جاری رہے گی۔ علاوہ ازیں، اس شام محمد صلعم کے اعلان کا دوسرا حصہ بھی جزئیات سے خالی ہے۔ ' اللہ اسکو دوست رکھے جو علی کو دوست رکھے اور اس کو دشمن رکھے جو علی کو دشمن رکھے'، یہ ایسا فارمولا ہے جو جدید ادوار کے سیاسی اسلوب کی زبان میں روبہ زوال ہو کر بہت ہی عام سی مثال بن چکی ہے جسے آج ہم، 'میرے دوست کا دشمن میرا بھی دشمن ہے' یا 'میرے دوست کا دوست میرا بھی دوست ہے' وغیرہ جیسی عبارات کی شکل میں جانتے ہیں۔ یہ اس دور میں ایسی عبارت تھی جو سیاسی، غیر سیاسی ہر لحاظ سے اتحاد یا دوستی کے اظہار کے لیے ویسے ہی استعمال کی جاتی تھی جیسی کہ محمد صلعم نے کر رکھی ہے۔ اس وقت حالات و واقعات کی بدولت، محمد صلعم کے انہی الفاظ کی وجہ سے علی کو عزت اور تکریم ضرور حاصل ہو گئی لیکن کیا وہ اس طرح محمد صلعم کے جانشین مقرر ہو گئے؟ یہ طے ہونا ابھی باقی تھا اور جیسا کہ ہم پوری تاریخ میں دیکھتے آئے ہیں ، جلد ہی یہ تاریخی ریکارڈ کی بجائے اعتقاد کا معاملہ بن کر رہ جائے گا۔ تاریخ میں صاف نظر آتا ہے کہ اس واقعہ کے صرف دو ماہ بعد ہی محمد صلعم کا انتقال نہ ہوتا یا کہیے وہ اس دن کے بعد تا دیر زندہ رہتے تو شاید یہ معاملہ کسی بھی طرح اس قدر اہمیت اختیار نہ کرتا۔
مدینہ پہنچے کے چند ہفتے بعد ہی انہیں بیماری نے پوری طرح آ لیا۔ پہلے تو سب کا یہی خیال تھا کہ شاید یہ سر درد کا شدید دورہ ہے جو متوقع طور پر ایک یا دو دن میں اتر جائے گا، نہیں تو جیسے ہوتا آیا تھا، زیادہ سے زیادہ تین یا چار دن میں تو ضرور ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن، ایسا نہیں ہوا۔ سر میں شدید درد ہوتا، کبھی کبھار اتر جاتا اور زیادہ تر میگرین کی شکل اختیار کر لیتا جس سے کنپٹی پر نسیں پھولنے لگتیں اور پورا جسم پسینے میں شرابور ہو جاتا۔ دن بدن، یہ درد بد تر ہوتا گیا۔ پھر، ایک دن تاپ بھی چڑھ گیا اور اس کے ساتھ حالت مزید بگڑنے لگی۔ درد کی اتنی شدید ٹیسیں اٹھتیں کہ گردن سے ہوتی ہوئی ریڑھ کی ہڈی میں اندر تک کھب جاتیں۔ ایسا لگتا کہ جیسے کوئی نوکیلی چیز سے مسلسل چھید کر رہا ہے۔ اسی درد کی شدت کے باعث آپ صلعم کی کمر میں تشنج کی سی مستقل اکڑن اور کھنچاؤ پیدا ہو گیا۔ محمد صلعم کے اصرار پر انہیں عائشہ کے کمرے میں منتقل کر دیا گیا اور وہ سارا وقت وہیں پتھر کی سلیٹ پر لیٹے رہتے جبکہ بیویاں باری باری ان کی دیکھ بھال کرتیں۔
یہ مئی کے مہینے کا آخر تھا اور صحرا میں گرما کے موسم کی شدت بڑھتی جا رہی تھی۔ گرمی اور حبس کے باعث اس چھوٹے سے کمرے میں صحتمند آدمی کا دم گھٹنے لگتا، محمد صلعم کی حالت تو پہلے ہی خراب تھی، اب بالکل ہی غیر ہو گئی۔ سر درد، بخار اور تشنج کے ساتھ شور اور روشنی سے بھی شدید تکلیف رہنے لگی۔ روشنی کا تو کچھ نہ کچھ انتظام کیا جا سکتا تھا، مثلاً دروازے اور روشن دانوں پر پردے گرا دیے جاتے لیکن خاموشی برقرار رکھنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا۔ عائشہ کا رہائشی کمرہ باقاعدہ مریض کمرہ بن چکا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں جیسے آج، ویسے ہی تب بھی مریض کا کمرہ عام طور پر تیمار داروں سے بھرا رہتا تھا۔ رشتے دار، دوست، ساتھی اور حمایتی۔۔۔ وہ تمام لوگ جو طاقت کے مرکز سے تعلق رکھتے یا سمجھتے تھے کہ وہ اس کا حصہ ہیں، ہر وقت، دن اور رات موجود رہتے۔ فکر کا اظہار کرتے ، مشورے دیتے، تیمار داری میں مصروف اور بار بار بلا وجہ صحت سے متعلق ایک ہی سوال کئی صورتوں میں دہرایا جاتا۔ بیماری کی اس حالت میں بھی، محمد صلعم انہیں نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ یہاں بھی تقاضوں سے فرار نہیں تھا کیونکہ بہت کچھ ہے جس کا آپ صلعم پر انحصار تھا۔
بیویاں اس خیال سے کہ شاید اسی طرح بخار اور سر کا درد جسم سے نکل جائے، اس سے چھٹکارا مل جائے۔ وہ کپڑے کی پٹیاں ٹھنڈے پانی میں بھگو کر ماتھے پر دھرتی رہیں لیکن اگر اس سے کچھ افاقہ ہوتا بھی تھا تو عارضی تھا۔ جس رفتار اور شدت سے حالت بگڑ رہی تھی، وہ یقیناً سمجھ گئی ہوں گی کہ عام بخار ہے اور نہ ہی یہ صرف میگرین کا دورہ ہے بلکہ یہ تو وہ بیماری ہے جس کے بارے مشرق وسطیٰ کا بچہ بچہ معلوم تاریخ سے واقف چلا آ رہا تھا۔
قدیم سمیری زبان میں درج ایک منتر کا خلاصہ کچھ یوں ہے کہ ، 'سر کا درد صحرا میں یوں پھرے جیسے سنسنا کر ہوا چلتی ہوئی / آسمانی بجلی جیسے کڑکتی ، اوپر اور نیچے گرتی ہوئی/ اتنی روشن جیسے کوئی ٹوٹا ستارہ ، شبنم کی طرح غائب سے آتی ہوئی / مسافروں کی راہ روک کر کھڑی، رات دن کی طرح پیچھا کرتی ہوئی / جس شخص کو اس نے آ لیا، یہ اس پر پلتی ہے / جیسے کوئی ہولناک آندھی، موت جو زندگی کو نگلتی ہوئی'۔ یہ صرف سر درد اور موسمی بخار نہیں تھا بلکہ ایک انتہائی مہلک اور مرگ آور بیماری کا حملہ تھا۔ جس طرح کی علامات رقم ہیں اور بیماری کی طوالت، یعنی دس روز۔۔۔ اس عارضے کی کلاسیکی نشانیاں ہیں۔ آج ہم اس جراثیمی مرض کو 'سر سام'، 'گردن توڑ بخار' یا 'ورم سجایا 'کہتے ہیں۔
یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آخر محمد صلعم کو یہ بیماری کیسے لگی۔ ان کے چند پیروکاروں کا خیال تھا کہ یہ ان کی قبرستان میں کئی کئی روز تک مسلسل شب بیداری کا نتیجہ ہے، جو انہوں نے مکہ سے واپسی کے بعد دوبارہ سے معمول بنا لیا تھا۔ روایت میں بتایا جاتا ہے کہ محمد صلعم مردوں کو مخاطب کر کے کہا کرتے، 'اے اہل قبور! تم پر رحمت ہو' اور پھر ان سے جلد ہی ملنے کا وعدہ کرتے، 'اللہ نے اپنے ایک اور بندے کو پاس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے اور وہ بندہ جلد ہی اس کے حکم کی تعمیل کرے گا'۔ یقیناً نا توانی، تھکن اور ریاستی معاملات کے دباؤ کے باعث اعصابی کمزوری کی وجہ سے وہ خاصے زد پذیر ہو چکے تھے۔ دن بدن ان کی قوت مدافعت جواب دیتی جا رہی تھی۔ پھر اسی طرح، احد کی لڑائی میں پیشانی پر لگنے والی کاری چوٹ کا بھی دوش ہے۔ سر سام کا جرثومہ کھوپڑی میں ایک انتہائی باریک دراڑ سے بھی داخل ہو سکتا ہے ۔ پھر، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر چڑھی حفاظتی جھلی، یعنی 'سجایا' میں سوزش کا باعث بن جاتا ہے۔ اسی وجہ سے اس بیماری کو 'ورم سجایا' بھی کہا جاتا ہے۔ آج جدید دور میں بھی اکثر گردن توڑ بخار کی یہ بیماری مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ ساتویں صدی عیسوی میں، جب اینٹی بائیوٹک وغیرہ بھی نہیں تھیں، اس بیماری سے ہلاکت یقینی تھی۔ تب، یہ لا علاج مرض ہوا کرتا تھا۔
اگرچہ محمد صلعم نے حج کے موقع پر صاف صاف کہہ دیا تھا کہ وہ زیادہ دیر جینے کی توقع نہیں رکھتے، اسی طرح قبرستان میں شب بیداری کے دوران بھی وہ مر جانے والوں کے ساتھ ملنے کی بات کرتے رہے تھے۔ اب بھی، جب ان کی بیماری روز بروز بگڑتی جا رہی تھی اور علامات کچھ اچھی نہیں تھیں، پھر بھی لوگ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے گریزاں تھے۔ یہ دسویں اور آخری روز ہی ہو گا جب محمد صلعم کے علاوہ باقی سب بھی پہلی بار واقعی تسلیم کر لیں گے کہ وہ مر رہے ہیں۔
مریض کمرے کے باہر، مسجد کا احاطہ لوگوں سے کچھا کھچ بھرا ہوا تھا۔ یہ لوگ دن اور رات، یہیں پڑاؤ ڈال کر بیٹھ گئے تھے۔ گھروں کو بھی نہ جاتے اور وہیں سو جاتے یا یوں ہی بیٹھے رہتے۔ محمد صلعم کی صحت بارے متفکر اور ان کی حالت بارے جاننے کے لیے بے تاب رہتے، ہر شخص کی آنکھیں عائشہ کے کمرے پر جمی ہوئی اور کان آپ صلعم بارے خبر یں سب سے پہلے سننے کو دھرے ہوئے تھے۔ لوگوں کے لیے یہ بات ناقابل یقین تھی کہ محمد صلعم بھی مر سکتے ہیں، وہ بھی اس وقت، جب کہ ابھی حال ہی میں پورا عرب ان کے جھنڈے تلے جمع ہو چکا تھا؟ یہ ایک نئے دور کی شروعات تھی اور اس تابناک صبح کے طلوع ہوتے ہی، آخر ایسا کیسے ممکن ہے؟ خدا کا رسول بھی مر سکتا ہے؟ جب پہلی بار مستقبل انتہائی روشن نظر آ رہا ہے اور امید سے پر ہے، پھر بھی مر سکتا ہے؟
یقیناً، لوگوں کی اتنی بڑی تعداد کا یوں مسجد کے احاطے میں جمع ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی نہ کسی سطح پر سب ہی جانتے تھے کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔ اگرچہ انہیں ادراک تھا لیکن اس سچائی کو ماننے سے انکاری تھے۔ جیسے، ان کے نہ ماننے سے حقیقت بدل جائے گی۔ محمد صلعم کی کرشماتی شخصیت ہی ایسی تھی کہ لوگ ابھی تک اس خیال خام کے ساتھ بندھے ہوئے تھے کہ شاید، وائے شاید آپ صلعم باقی لوگوں کی طرح فانی نہ ہوں؟ چنانچہ، وہ انتظار کرتے رہے اور مسجد کے احاطے میں پھیلی ہوئی اداسی اور چپ کے بیچ لوگوں کی زیر لب دعائیں اور خیر کے کلمات سے یوں گونجتا رہا جیسے شہد کی مکھیاں بھنبھنا رہی ہوں۔ عائشہ کے رہائشی کمرے کے گرد فضا بوجھل ہو رہی تھی اور ماحول افسردہ تھا۔
کئی دن گزر گئے لیکن محمد صلعم باہر نہیں نکلے، ہر لمحے کے ساتھ لوگوں میں بے چینی پھیل رہی تھی۔ تشویش بڑھنے لگی اور لوگ پہلے سے زیادہ فکر مند ہو گئے۔ وقت کے ساتھ امید دم توڑ رہی تھی اور مدینہ بھر میں اب ماحول ایسا تھا کہ جیسے یہ شہر مغلوب ہو چکا ہے۔ اب لوگ نا قا بل تصور حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے، قدرے تیار تھے۔ یہ خیال، تقریباً ہر شخص کے ذہن کو کچوکے لگا رہا تھا لیکن منہ پر لانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ یہ ایک بے آواز خیال تھا ۔ اگر اس کو زبان مل جاتی تو اس کا مطلب اعتراف تھا۔ اس بات کا اعتراف، ایک نئے سوال کو جنم دے دیتا، اور وہ سوال بہت بڑا تھا۔ یعنی، محمد صلعم کے بعد رہنما کون ہو گا؟ کیا یہ علی ہوں گے جو آپ صلعم کے چچا زاد اور داماد ہیں۔ انہیں تو غدیر خم میں عزت بھی بخشی تھی؟ یا پھر ابو بکر، جو محمد صلعم کے دیرینہ ساتھی ہیں، ان کے ساتھ مکہ سے مدینہ سفر کیا تھا اور ان دونوں کے بیچ خاصی انسیت اور احترام کا رشتہ تھا؟ یہ دونوں نہیں تو پھر جنگجو عمر۔۔۔ جن کی صرف آواز سے ہی لوگوں کے دل دہل جاتے ہیں ؟ کون ہے جو اختیار سنبھالے گا؟ یا کہیے، کون ہے جو اس کو حاصل کرنے کے لیے آگے بڑھے گا؟ لوگ جو پہلے اس خیال کو زبان پر لانے سے قاصر تھے، اب جا کر پہلی بار یہ محسوس کرنے لگے کہ محمد صلعم کے لیے وصیت لکھوا کر جانا لازم ہے تا کہ جنم لینے والے مشکل سوالوں کا حل آسان ہو جائے۔ یہ سننے میں بہت عجیب بات ہے لیکن صورتحال یہ ہو گئی کہ اب لوگوں کے لیے آپ صلعم کے گزر جانے سے کہیں زیادہ جانشینی کا سوال اہم ہو چکا تھا۔ یہ سوال جس قدر اہمیت اختیار کر لے، محمد صلعم نے بہرحال وصیت نہیں کی۔
کیوں نہیں؟ ان کا ارادہ کیا تھا؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو آنے والی صدیوں میں اسلام کا ہمیشہ پیچھا کرتے رہیں گے۔ ہر شخص یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ جانتا ہے کہ اس بابت محمد صلعم کیا سوچتے آئے تھے، یا کہے گا کہ اس کو ادراک ہے کہ محمد صلعم اسلام کا مستقبل کیسا دیکھنا چاہتے تھے۔ اس مقصد کے لیے ہر آدمی کے پاس دلائل ہوں گے اور وہ اس ضمن میں بصیرت اور فراست کی کئی توجیہات پیش کی جائیں گی۔ حالانکہ، غیر مبہم اور صاف صاف انداز میں جانشین مقرر نہ کرنے کی وجہ سے، کوئی بھی شخص ایسا کسی بھی قسم کا دعویٰ کرنے کا روادار نہیں ہو سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس بابت اگر کوئی شخص، انتہائی آسانی کے ساتھ ایک دلیل پیش کر کے جانشین کا تقرر کر سکتا ہے تو دوسری جانب اتنی ہی بڑی تاویل کے ساتھ جانشینی کا یہ دعویٰ رد کرنا بھی خاصا سہل ہے۔ محمد صلعم کی بیماری کے آخری دس دنوں میں، وہ تمام حضرات جو بعد ازاں ایک یا دوسری صورت، اسلام کے 'پانچ خلفاء' کہلائے جائیں گے، کئی بار ان کے کمرے میں آتے جاتے رہے۔ ان میں دو آپ صلعم کے سسر یعنی ابو بکر اور عمر ، دو داماد یعنی علی اور عثمان اور ایک برادر نسبتی یعنی معاویہ تھے۔ بالآخر یہ تمام اشخاص اقتدار اور اختیار کی کرسی پر براجمان ہو ہی جائیں گے لیکن اس وقت سوال یہ تھا کہ ان میں سے کون پہلے اور کون بعد میں، کس ترتیب اور کس وجہ سے خلیفہ مقرر ہو گا۔ اسی پر عدم اتفاق تھا اور یہ قضیہ ہمیشہ باقی رہنے والا تھا۔
سنی محققین اور علماء کا خیال یہ ہے کہ محمد صلعم کو اپنے رفقاء اور ساتھیوں کی راست بازی، شخصی سالمیت اور نیک خواہی پر اتنا یقین تھا کہ وہ ان کے بیچ فیصلہ کرنے سے گریزاں رہے۔ چنانچہ، پہلے پہل تو انہوں نے یہ فیصلہ خدا کی قدرت پر یقین رکھتے ہوئے، ان کے بیچ ہی چھوڑ دیا کہ بالآخر یہ درست فیصلے تک پہنچ ہی جائیں گے۔ یہ دلیل محمد صلعم سے منسوب اس روایت سے اخذ کردہ ہے کہ، 'اللہ میری امت کو ضلالت و گمراہی پر مجتمع نہیں کرے گا'۔ اگرچہ اس روایت اور دلیل سے عام اتفاق رائے کی توثیق ہوتی ہے لیکن جو ہوا، وہ اس کے بالکل بر عکس تھا۔ آگے چل کر اس توجیہ کے معنی یوں نکالے جائیں گے کہ وہ جو اکثریت سے اختلاف رکھتے ہیں، در اصل 'ضلالت'، 'گمراہی' یا 'غلطی' پر ہیں۔ اختلاف رائے کا مطلب یہ لے لیا جائے گا کہ وہ سچ مچ، کھلے دل کے ساتھ امہ کا حصہ نہیں ہیں۔ دوسری جانب، شیعہ عالمین کی دلیل یہ ہے کہ محمد صلعم نے پہلے ہی علی کو اپنا جانشین مقرر کر دیا تھا اور وہ دوبارہ اس کا اعادہ کر لیتے، اگر مریض کمرے میں ، آخری دنوں میں ان کی وصیت لکھوانے کی خواہش کو واقعی پورا ہونے دے دیا جاتا۔ ان کی اس آخری کوشش کو سبوتاژ نہ کیا جاتا۔
محمد صلعم کو ہمیشہ ایک ہی چیز نے پریشاں رکھا اور وہ تفریقیت یا انقسام تھا، لیکن اب وہی چیز منہ پھلائے سامنے کھڑی تھی ۔ افسوسناک بات یہ تھی کہ اس سے بچ بچاؤ کی سبیل، ان کے بس میں نہیں تھی۔ آپ صلعم کی بیماری کی وجہ سے ارد گرد، ان کے انتہائی قریبی لوگوں کے بیچ آزردگی اور حسد کو ایک نئی زندگی مل چکی تھی۔ خود ان کا بخار اتنا بڑھ چکا تھا کہ اب ان کی سرے سے بگڑنے لگی، وہ ہوش اور بے ہوشی کی حالت کے بیچ معلق ہو کر رہ گئے ۔ اس حالت میں وہ اپنے گرد جاری بحث و مباحثے کو سن تو سکتے تھے لیکن بگڑتی ہوئی جسمانی کیفیت کے باعث اسے روکنے سے قاصر تھے۔
الطبری نے آپ صلعم کی بیماری کے نویں دن پیش آنے والے ایک مکالمے کا احوال لکھا ہے جس سے اس وقت در پیش انتہائی پریشان کن صورتحال کا پتہ چلتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ محمد صلعم سخت ناتوانی کے باوجود طاقت مجتمع کر کے بیٹھے اور علی کو بلا کر لانے کو کہا جو اس وقت مسجد میں عبادت کر رہے تھے۔ لیکن، کسی نے بھی انہیں نہیں بلایا۔ بجائے، عائشہ نے اپنے والد سے بات کرنے پر اصرار کیا، 'ان کی بجائے کیا آپ صلعم ابو بکر سے نہیں ملیں گے؟' ۔ اس وقت حفصہ بھی وہیں موجود تھیں، انہوں نے بھی آؤ دیکھا نہ تاؤ، جلدی سے اپنے والد کو بلا لانے کا مشورہ دیا، ' یا پھر، آپ صلعم عمر سے مل لیں؟' ۔ محمد صلعم کی حالت پہلے ہی غیر تھی، اب ان دونوں کی تکرار اور یوں اپنی ہی بات پر مصر دیکھ کر ہاتھ کے اشارے سے عائشہ اور حفصہ کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ ابو بکر اور عمر کو تو اندر بلا لیا گیا لیکن علی باہر ہی رہے۔
یہاں ایک بیمار شخص کو خوشامدانہ طریقے سے اپنی مرضی پر مائل کرنا عجیب معلوم ہوتا ہے بلکہ صاف کہیے تو یہ کٹھور پن ہے۔ لیکن، ان دونوں، یعنی عائشہ اور حفصہ سے بھی کیا گلہ جو اس وقت صرف اپنے ہی تحفظ بارے سوچ سکتی تھیں اور علی کی بجائے اپنے اپنے والد، یعنی ابو بکر اور عمر کے مفادات کا تحفظ کر رہی تھیں؟ وہ جانتی تھیں کہ محمد صلعم کے بعد ان کے سامنے ہمیشہ بیوہ رہ کر ایک طویل عمر گزارنی ہو گی۔ انہیں ایک طویل اور چشم نما مستقبل کا سامنا تھا۔ اس مریض کمرے میں لوگوں کا ہجوم تھا اور اس مجمع کا ہر شخص امہ کے مفادات کا تحفظ چاہتا تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ، خود اپنی حیثیت بھی برقرار رکھنے کی کوشش بھی ضروری تھی۔ صرف عائشہ اور حفصہ ہی نہیں، اس وقت ہر شخص اس ضمن میں مجبور تھا۔ جیسا کہ سیاست میں عام ہوا کرتا ہے، ہر اہم شخص اس بات پر قائل رہتا ہے کہ اس کے انفرادی اور قوم کے اجتماعی مفادات ایک ہی ہیں۔ آگے چل کر الطبری 'کاغذ اور قلم' کا واقعہ بیان کرتے ہیں، جس میں سیاست کی اسی گھن چکری کا عنصر صاف ملتا ہے۔
ابو بکر اور عمر کی موجودگی میں محمد صلعم کی طبیعت قدرے سنبھل گئی۔ جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے، خاتمے سے پہلے اکثر لوگوں کی صحت پر بہتری کا گماں ہوتا ہے۔ تکیے کے سہارے بیٹھے تو خاصے ہشاش بشاش لگ رہے تھے۔ تھوڑا سا پانی پیا اور پھر جیسے کئی لوگ آج بھی کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنی مرضی واضح کرنے کی آخری کوشش کی۔ لیکن، جیسے پہلے ویسے ہی اس موقع پر بھی بیان خاصا مبہم سا ہے۔ 'لکھنے کا سامان لے آؤ تا کہ میں تمہیں کچھ کہوں اور تم اسے لکھ لو۔ اس کے بعد تم کبھی بھی گمراہی اور ضلالت کا شکار نہیں ہو گے'، وہ رک رک کر کہہ رہے تھے۔
دیکھنے میں یہ نہایت سادہ اور صاف درخواست تھی ۔ یہ صورتحال کے پیش نظر معقول بات بھی تھی۔ لیکن ہوا یہ کہ کمرے میں موجود افراد میں یہ سنتے ہی افراتفری پھیل گئی۔ محمد صلعم کیا لکھوانا چاہتے تھے؟ کیا یہ سادہ ہدایات تھیں، جن کے تحت آگے کا لائحہ عمل طے کیا جا سکتا تھا؟ یا پھر یہ دینی تعلیمات تھیں جو وہ پیچھے رہ جانے والے امتیوں کے لیے چھوڑنا چاہ رہے تھے؟ یا یہ وہی تھا جو اس موقع پر انتہائی ضروری تو تھا لیکن لوگ اسی سے شاکی بھی تھے۔ یعنی، کیا محمد صلعم وصیت لکھوانے جا رہے تھے؟ کیا مرتے ہوئے ، صورتحال کو بھانپ کر پیغمبر خدا اب حتمی طور پر اپنا جانشین نامزد کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے؟
محمد صلعم کیا لکھوانا چاہتے تھے، یہ جاننے کا صرف ایک ہی طریقہ تھا اور وہ یہ کہ انشاء نویس کو بلا لیا جاتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ بجائے، کمرے میں موجود افراد کے بیچ بحث شروع ہو گئی۔ کہا گیا کہ محمد صلعم بیماری کے سبب ناتواں اور سخت دباؤ کا شکار ہیں تو بہتر یہ ہو گا کہ انہیں آرام کرنے دیا جائے ۔ مریض کمرے میں سکون ہونا چاہیے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب وہ مریض کی ضرورتوں پر زور دے رہے تھے، ان کی آوازیں اونچی ہوتی چلی گئیں۔
یہ نہایت عجیب و غریب منظر ہے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ شخص جس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی ان میں سے ہر شخص نے بار ہا قسم کھائی تھی، وہ ہمیشہ ہی اطاعت گزار چلے آئے تھے، اب مرتے ہوئے اپنی خواہشات کا اظہار کرنا چاہتا تھا، ممکنہ طور پراپنا جانشین بھی مقرر کر لیتا۔ جانشینی واحد شے تھی جو اس کمرے میں موجود ہر شخص جاننے کے لیے بے تاب تھا لیکن وہیں یہ واحد شے تھی جس کو جاننے کی کسی کو خواہش نہیں تھی۔ مجموعی طور پر کہیے تو یہ خالصتاً بشری صفات اور کمزوریوں سے بھر پور منظر ہے۔ ہر شخص متفکر تھا۔ ہر آدمی کو محمد صلعم کا خیال بھی تھا، وہ ایک دوسرے کو خواہ مخواہ ضد اور اصرار سے باز رہنے پر مجبور کر رہے تھے تا کہ بیماری کی حالت میں آپ صلعم کی زندگی آسان رہے۔ وہ سب ہی خیر خواہ تھے لیکن ہر آدمی اپنی خیر خواہی کو عجب انداز میں جتلا رہا تھا۔ ان کی آوازیں اونچی ہوتی چلی جا رہی تھیں اور محمد صلعم کی درخواست پر وہ خود انہی کی حالت کا نام لے کر ان کی خواہش پر عمل سے گریزاں تھے۔ جوں جوں بحث بڑھی، یہ ایک دوسرے پر چلانے لگے، آوازیں تیز ہوتی گئیں اور نتھنے پھولنے لگے۔ اس قدر شور ہوا کہ محمد صلعم کی برداشت جواب دے گئی۔ 'مجھے اکیلا چھوڑ دو' انہوں نے سب کو چپ کرا دیا، 'میری موجودگی میں ان بن اور لڑائی بند کرو'۔
اس کشمکش کے باعث وہ اس قدر ناتواں ہو چکے تھے کہ یہ الفاظ ان کے منہ سے بمشکل سر گوشی بن کر نکلے۔ صرف عمر تھے جو انہیں سن پائے اور یہ کافی تھا۔ اپنی زور آور طبیعت اور سب سے کھری اور اونچی آواز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے حکم صادر کیا، 'رسول خدا کا درد بڑھ گیا ہے۔ ہمارے پاس قران ہے۔ قران خدا کی کتاب ہے اور ہمارے لیے صرف یہی کافی ہے'۔
تا ہم، بعد ازاں یہ کافی ثابت نہیں ہوا۔ شاید یہ کافی بھی ہوتا بلکہ کہیے کافی ہونا چاہیے تھا۔ عمر کے الفاظ آج بھی یقین اور کامل ایمان کی مثال بنا کر پیش کیے جاتے ہیں، لیکن بہر حال تب یہ ہوا کہ یہ کافی ثابت نہیں ہوا۔ وقت آئے گا کہ قران کے ساتھ سنت کا ضمیمہ بھی شامل کیا جائے گا۔ سنت، یعنی محمد صلعم کے اقوال و افعال کی وہ ہزاروں روایات ہیں جو احادیث کی شکل میں ان لوگوں نے جمع کیں جو محمد صلعم کے انتہائی قریبی ہونے کے دعویدار تھے۔ بعد ازاں انہی احادیث پر عالمین اسلام و شاہی نے فیصلے صادر کر کے مقولات اور افعال کی مثالوں کو مروجہ طور پر شرعی قوانین میں ڈھال دیا۔ لیکن یہ بہت بعد کا قصہ ہے۔ اس دن توعمر کا حکم چل کر رہا۔ ان کے زور دار الفاظ نے وہی اثر کیا جو من چاہا تھا، مریض کمرے میں ایک دم کھسیانی خاموشی چھا گئی۔ اگر محمد صلعم واقعی جانشین کی تقرری کرنا چاہتے تھے تو انہوں نے بہت دیر کر دی تھی۔ بخار سے جسم جل رہا تھا اور پٹھوں میں شدید درد کے مروڑوں کے باعث ان کی حالت اس قدر ابتر ہو چکی تھی کہ وہ اپنی مرضی سے وصیت لکھوانے سے بھی قاصر ہو چکے تھے۔ وصیت لکھنے کے لیے انشاء نویس نہیں آ سکا اور اگلی صبح طلوع ہونے تک محمد صلعم ہلنے جلنے سے بھی رہ گئے تھے۔
محمد صلعم سمجھ گئے تھے کہ اب بس کچھ ہی دیر کی بات ہے۔ ان کا وقت آخر قریب ہے۔ صبح کے منہ اندھیرے میں انہوں نے ایک آخری درخواست کی۔ اب کی بار، ان کی مان لی گئی۔ 'میرے جسم پر سات کوزوں میں جمع کیے گئے، سات کنوؤں کا پانی ڈالو تا کہ میں باہر جا کر لوگوں کو ہدایات دے سکوں'۔ اگرچہ انہوں نے صاف صاف نہیں کہا لیکن سب ہی بیویاں اچھی طرح جانتی تھیں کہ سات کنوؤں کے پانی سے غسل کا مطلب، میت کو نہلانا ہے۔ جب یہ ہو چکا تو پھر انہوں نے فجر کی نماز کے لیے مسجد میں لے جانے کا کہا۔
انہیں سہارا دینے کے لیے دو اشخاص، علی اور ان کے چچا عباس آگے بڑھے۔ کمرے سے مسجد کا احاطے تک چند گز کا فاصلہ تھا لیکن آپ صلعم کی حالت ایسی تھی کہ جیسے کوئی یہ بہت دور ہو۔ بہرحال، مسجد میں، کھجور کے پتوں کی چھت کے سایے تلے پہنچ کر کھلی فضا اور سویر کی خنکی میں وہ بہتر محسوس کرنے لگے۔ وہ نڈھال تھے لیکن منبر کے چبوترے کے ساتھ ٹیک لگا کر یوں لیٹ گئے، گویا بیٹھے ہوں۔ منبر پر ان کے دیرینہ دوست ابو بکر لوگوں کی امامت کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ اس موقع پر جتنے بھی لوگ مسجد میں موجود تھے، بعد میں سب نے ہی بتایا کہ وہ ابو بکر کو بولتا ہوا سن کر مسکرا رہے تھے۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ محمد صلعم کا چہرہ تمتما رہا تھا، اگرچہ یہ معلوم نہیں کہ آیا ان کا چہرہ گزشتہ شب کے واقعے کے بعد بھی رفقاء کا نماز کے لیے اکٹھے جمع ہونے اور اپنی جماعت پر یقین کی خوشی سے دمک رہا تھا یا بخار کی وجہ سے دہک رہا تھا۔ لوگوں کی نظریں محمد صلعم پر ٹکی ہوئی تھیں اور دوسری طرف منبر پر وہی الفاظ دہرائے جا رہے تھے جو انہوں نے پہلی بار جبرائیل سے سنے تھے۔ ان کی قدرے بہتر حالت اور اپنے درمیان دیکھ کر لوگوں کی خوشی دیدنی تھی لیکن ساتھ ہی ہر شخص اندر ہی اندر خود کو تسلی دے رہا تھا کہ شاید اب بھی وہ جانبر ہو سکتے ہیں۔ وہ انہیں آخری بار نہیں دیکھ رہے۔ انہیں دیکھ کر لگتا تھا کہ شاید سنبھل رہے ہیں اور توانائی بحال ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ لوگوں کو گماں ہوا کہ معجزہ ہو چکا ہے اور اب وہ درست ہو جائیں گے۔ لیکن، جب نماز ختم ہو چکی تو علی اور عباس نے پھر انہیں سہارا دے کر عائشہ کے کمرے میں پہنچا تو دیا لیکن اب ان کے پاس صرف چند گھنٹے باقی تھے۔
بعض لوگ دوسروں سے زیادہ معاملہ فہم تھے۔ 'اللہ کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ میں نے رسول خدا کے چہرے پر موت کے سائے دیکھے ہیں'، عباس نے علی سے کہا۔ وہ ابھی ابھی انہیں عائشہ کے کمرے میں پہنچا کر باہر آئے تھے۔ یہ آخری موقع تھا۔ وہ انہیں جانشینی کا قضیہ طے کرنے پر راضی کر سکتے تھے۔ 'چلو واپس چلیں اور ان سے صاف صاف پوچھیں۔ اگر اختیار ہمیں دے دیا گیا تو ہمیں معلوم ہو گا کہ کیا کرنا ہے۔ اگر سب کچھ دوسروں کو بھی دے دیا تو پرواہ نہیں، مگر ہم ان سے کہیں گے کہ وہ انہیں ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تاکید کریں' ۔
لیکن، علی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ واپس جاتے اور ایک بار پھر محمد صلعم کو اس حالت میں پریشان کرتے، تناؤ کا باعث بنتے۔ یا ہو سکتا ہے، دوسروں کی طرح وہ بھی معاملات کی اس قدر صراحت اور وضوح کے لیے تیار نہیں تھے۔ 'واللہ، میں نہیں جاؤں گا'، علی نے کہا۔ 'اگر یہ ہم سے لے لیا جاتا ہے تو محمد صلعم کے بعد، وہ بھلے تاکید کر کے گئے ہوں، ہمیں کوئی نہیں دے گا'۔
اس بحث کے باوجود، اگر وہ واپس اندر چلے بھی جاتے تو اب اس کا فائدہ نہیں تھا۔ یہ دونوں ابھی یہی باتیں کر رہے تھے کہ وہاں محمد صلعم پر غشی طاری ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو گئے ۔ اس کے بعد دوبارہ جانبر نہیں ہو سکے۔ 8 جون 632ء، سوموار کے دن دوپہر کے وقت، محمد صلعم انتقال کر گئے۔
عائشہ بتاتی ہیں کہ جب نزع کی حالت تھی تو محمد صلعم کا سر ان کی گود میں دھرا تھا۔ عربی میں ان کے الفاظ کچھ یوں ہیں کہ، 'سینے اور منہ کے درمیان تھام رکھا تھا۔۔۔'۔ بیان کے مطابق انہوں نے محمد صلعم کو تھام رکھا تھا ۔ اچانک انہیں لگا جیسے ایک دم محمد صلعم کا سر بوجھل ہو گیا ہے۔ محمد صلعم کی طرف دیکھا تو وہ جا چکے تھے اور آنکھیں زندگی سے بالکل خالی تھیں اور ان میں موت جھانک رہی تھی۔ ان کا یہ بیان سنی روایت کا حصہ بن جائے گا لیکن ایسا نہیں ہے کہ ہر شخص ان کے اس بیان سے متفق ہو۔ شیعہ کہا کریں گے کہ جب محمد صلعم کا انتقال ہوا تو اس وقت ان کا سر عائشہ نہیں بلکہ علی کے سینے پر ٹکا ہوا تھا۔
مرتے ہوئے محمد صلعم کو کس نے تھام رکھا تھا، اس کی اہمیت تھی۔ وہ شخص نہایت خاص تھا جس نے ان کی آخری سانس اپنی جلد پر محسوس کی، جس کے جسم کے ساتھ وہ چمٹے ہوئے تھے یا جس کی بانہوں نے انہیں سہارا دے رکھا تھا ۔۔۔ الغرض اس طرح کی چھوٹی سے چھوٹی بات بھی بعد ازاں انتہائی اہم بن جائے گی۔ اتنی اہم کہ جیسے محمد صلعم کی روح نے جسم سے نکل کر اس شخص جسم میں اس کی روح کے ساتھ بسیرا کر لیا ہو، جس نے انہیں اس وقت تھام رکھا تھا۔ کیا یہ عائشہ تھیں یا علی؟ عائشہ اس شخص کی بیٹی ہیں جو اسلام کے پہلے خلیفہ ہوں گے اور دوسری طرف علی ہیں، جن کے بارے اتنی صدیوں کے بعد آج بھی لوگوں کی ایک بڑی تعداد قائل ہے کہ خلافت پر پہلا حق، ان ہی کاتھا۔
علی یا عائشہ، ان میں سے جو بھی تھا۔۔۔ اسے محمد صلعم کے گزر جانے کی اطلاع باہر پہنچانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ کمرے میں آہ و بکا اور رواس پٹاس شروع ہو گئی۔ بیویاں چلانے لگیں۔ ان کی چیخیں اس قدر تیز اور دلخراش تھیں کہ دور سے ایسے لگتا جیسے کوئی زخمی جانور، جھاڑیوں کے پیچھے درد سے کراہتے ہوئے جان دے رہا ہے۔ بین میں اس قدر درد اور کرب بھرا ہوا تھا کہ بیان سے باہر ہے۔ رونے کی آوازیں مسجد سے نکل کر نخلستان میں پھیل گئیں، جو سنتا وہی اشک بار ہو جاتا اور عورتوں کے بین سے پورے مدینہ میں شور و غوغا ہو رہا تھا۔ ہر گھر میں ماتم تھا۔ مرد اور عورتیں، بچے اور بوڑھے الغرض ہر شخص غم سے نڈھال اور گریہ و بکا کر رہا تھا۔ لوگ یقین نہیں کر پا رہے تھے لیکن ظاہر ہے، قدرت کے سامنے انہیں گھٹنے ٹیکتے ہی بنی۔
'ہم سیاہ اندھیری رات میں، طوفان میں گھرے ہوئے منتشر بھیڑوں کی طرح تھے جو افراتفری کے عالم میں یہاں وہاں دوڑتی پھرتی ہیں'، ایک شخص نے اس دن کا احوال بتایا ہے۔ بھیڑیں، جن کو ہانکنے کے لیے چرواہا اور نہ ہی چھپنے کے لیے چھت باقی تھی۔ لوگ صرف مرنے والے کے لیے ماتم کناں نہیں تھے بلکہ وہ خود اپنے لیے بھی غمگین تھے، واویلا مچا رہے تھے۔ وہ محمد صلعم کے بعد بے قائد ہو چکے تھے۔ ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ انہوں نے ابھی صبح ہی تو محمد صلعم کو مسجد میں دیکھا تھا، جب وہ نماز میں سجدے ٹیک رہے تھے، انہیں دیکھ کر آپ صلعم کا چہرہ تمتما رہا تھا؟ اس بات کا تصور کرنا بھی محال تھا، یہ خیال ہی ڈراونا تھا کہ محمد صلعم اب نہیں رہے۔ اس خبر پر یقین کی کوئی صورت ہی نہیں تھی۔
یہاں تک کہ انتہائی سخت دل اور جان جنگجو، عمر بھی اس حقیقت کو ماننے سے قاصر تھے۔ وہ شخص جو ابھی گزشتہ روز ہی زور دار آواز میں کہہ رہا تھا کہ ان کے لیے صرف قران ہی کافی ہے، اب ایک دم عام لوگوں کی ہی طرح خوف زدہ اور افرا تفری کا شکار ہو چکا تھا۔ انہیں بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ موت بازی لے گئی۔ اس سے پہلے کوئی روکتا، وہ مسجد کے صحن میں نکل آئے اور لوگوں کے بیچ کھڑے ہو کر چلانے لگے کہ یہ ناممکن ہے۔ اس پر لعنت ہو جو ایسا سوچتا ہو کہ، 'واللہ، محمد صلعم مرے نہیں ہیں'، وہ اصرار کرنے لگے، 'موسی کی طرح اپنے خدا کے پاس گئے ہیں، جیسے وہ چالیس دن کے لیے جا کر چھپ گئے تھے۔ آپ صلعم بھی ویسے ہی واپس آئیں گے جیسے موسی آ گئے تھے، حالانکہ لوگ کہتے تھے کہ وہ مر گئے ہیں۔ واللہ، رسول خدا انہی کی طرح واپس آئیں گے اور اپنے ہاتھ سے ان لوگوں کے ہاتھ اور ٹانگیں کاٹ دیں گے، زبان کھینچ لیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چل بسے'۔
اگر ان کا مقصد ہجوم کو شانت کرنا تھا تو یہ منظر جس میں عمر کی طرح کا ایک جری اور نڈر شخص ہسٹیریائی انداز میں نفی کا شکار تھا، لوگوں میں بے چینی اور ہول مزید بڑھ گیا۔ تب، غم سے نڈھال اور دکھ کے بوجھ سے جھکے ہوئے ابو بکر سامنے آئے اور عمر کے شانے پر ہاتھ رکھ کر دلاسہ دیتے ہوئے کہا، 'نرمی سے کام لو عمر، نرمی سے۔ چپ ہو جاؤ!' پھر انہوں نے عمر کو ہاتھ سے پکڑا اور ایک طرف لے گئے۔
لوگوں کی نظریں اب ابو بکر پر جمی تھیں جنہوں نے عمر کی جگہ سنبھال لی تھی۔ قرانی آیات کی تلاوت شروع کی تو ان کی آواز غیر متوقع طور پر خاصی مضبوط اور دو ٹوک تھی۔ لوگوں کو ابو بکر جیسے کمزور اور ناتواں شخص سے اس قدر ہمت اور صبر کی امید نہیں تھی۔ یہ قرانی آیات وہ تھیں جو احد کی لڑائی کے بعد اس وقت نازل ہوئی تھیں جب محمد صلعم کے پیروکار ، ان کی موت کی افواہ سن کر افراتفری میں میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ 'محمد صلعم اس کے سوا کچھ نہیں بس ایک رسول ہیں۔ ۔۔' ابو بکر نے زور دے کر مگر ٹھہرے ہوئے لہجے میں دہرایا، ' پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟'
اور پھر اس کے بعد، ابو بکر نے وہ بات صاف صاف کہی جو لوگ اپنی زبان پر لانے سے قاصر تھے اور اس وقت ہرشخص اسی بات کو بلند بانگ آواز میں سننے کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ 'وہ جو محمد صلعم کی عبادت کرتے ہیں' انہوں نے اعلان کیا، 'محمد صلعم انتقال کر گئے ہیں۔ مگر وہ جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جان لیں کہ اللہ زندہ ہے اور اللہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے'۔
مجمع پر پہلے تو ایک دم خاموشی چھا گئی ۔ پھر دبی دبی سسکیاں سنائی دینے لگیں۔ عمر کو بھی فوراً ہی ہوش آ گیا۔ بعد میں انہوں نے بتایا، 'واللہ، جب میں نے ابو بکر کو وہ الفاظ کہتے ہوئے سنا تو میں گم سم، سٹ پٹا کر رہ گیا۔ جب سمجھ آ گئی کہ محمد صلعم اب ہمارے بیچ نہیں رہے تو مجھ پر غشی طاری ہو گئی۔ میری ٹانگیں جواب دے گئیں اور میں دھڑام سے زمین پر گر پڑا'۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے ۔ ایک بوڑھے شخص کے تحمل اور حقیقت پسندی نے عمر کی ہیبت کو دھیما کر دیا۔ ایک سخت جان غصیلا شخص، روتے ہوئے معصوم بچے میں بدل گیا۔ بشریت کی کمزوری، یعنی فنا پذیری کا یقین ہو گیا تو اب واقعی ماتم کا آغاز ہوا۔ مرد اور عورتیں دونوں ہاتھوں سے اپنے چہروں کو پیٹتے ہوئے، مکوں سے سینہ کوبی کرنے لگے ۔لوگوں کے جسم پٹنے سے گویا کھوکھلے درختوں کی طرح اتنی زور سے بجنے لگے کہ مسجد میں دھمک سنائی دینے لگی۔ کچھ ایسے تھے جو ناخنوں سے اپنی پیشانیاں نوچ رہے تھے۔ خون نکل کر آنکھوں میں بہنے لگا اور آنسو سرخ ہو گئے۔ عورتیں اور مرد ایک جیسے، زمین سے مٹی اور دھول اٹھا اٹھا کر اپنے سروں پر ڈالنے لگے۔ ہر شخص دل شکستہ تھا اور نراس میں شام تک آہ و زاری کرتا رہا۔ ماتم شام کے بعد بھی اور پھر رات بھر جاری رہا۔
محمد صلعم کی تدفین بھی عجب رنگ کی تھی۔ مخفی اور نہایت سادگی کے ساتھ، رات کی تاریکی میں انتہائی پوشیدہ انداز میں جس طرح ان کو دفنایا گیا، بعد میں اس سے متعلق تقدیس کا روپ اور آج ان کے مزار پر ایک بلند و بالا، شاندار مقبرہ دیکھ کر عجب حیرت ہوتی ہے۔
علی اور محمد صلعم کے تین انتہائی قریبی خونی رشتہ داروں نے عائشہ کے کمرے کا انتظام سنبھال لیا اور ان کی میت کو تیار کرنا شروع کیا۔ رواج کے مطابق یہ کام صرف قریبی رشتہ دار ہی سر انجام دے سکتے تھے۔ انہوں نے میت کو غسل دیا اور جسم پر جڑی بوٹیوں کو پیس کر تیار کی گئی گندھی ہوئی لئی کا لیپ کیا۔ انہیں کفن میں لپیٹ دیا اور جنازے کے پاس ہی بیٹھ کر دعا اور درود میں مشغول ہو گئے۔ یہ تو ان کے مشغولات تھے جبکہ باقی لوگوں کو دوسرے مسائل کا سامنا تھا۔ چونکہ جانشین کا تقرر نہیں ہوا تھا، اس لیے 'گمشدہ بھیڑوں کے ریوڑ' کو ایک 'چرواہے' کی ضرورت تھی ۔ یعنی، ان کے سامنے اپنے ہی بیچ میں سے کسی شخص کو رہنما مقرر کرنے کا سخت مرحلہ در پیش تھا۔ اگر اب تک علی کو یہ یقین تھا کہ لوگ انہیں ہی رہنما چنیں گے تو ان کا یہ اعتماد گم ہو جائے گا۔ اگرچہ ابھی بھی مسجد کے احاطے میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد غم سے نڈھال اور محزون ہو کر جمع تھی لیکن وہیں دوسری طرف مدینہ کے سردار اور محمد صلعم کے باقی ساتھی 'شوریٰ' میں جمع ہو گئے۔ شوریٰ سے مراد پر اثر لوگوں کی وہ کونسل ہے جس کے ذمے اہم معاملات پر فیصلہ لینے کی ذمہ داری تھی۔ وہ اب ایک انتہائی اہم فیصلہ کرنے والے تھے، یعنی محمد صلعم کے جانشین کی تقرری کی جائے گی۔
شوریٰ کا اجلاس سوموار کو رات کے وقت شروع ہوا اور اگلے دن بھی جاری رہا۔ ہر کنبے اور قبیلے کے سردار اور بزرگ کے پاس فصاحت اور تفصیل سے کہنے کے لیے بہت کچھ تھا، اس لیے ایک بعد دوسری اور پھر دیر تک کئی تقاریر جاری رہیں۔ اس طویل اجلاس کی کامیابی کا دار و مدار تمام لوگوں کے بیچ اتفاق رائے اور ہم آہنگی پیدا ہونے پر تھا۔ چونکہ یہ ایک انتہائی اہم معاملہ تھا، اجلاس تب تک جاری رہتا جب تک کہ اختلاف رائے رکھنے والے بالآخر عمومی رائے سے متفق نہ ہو جاتے، قائل کر دیے جاتے یا دلائل سے لا جواب کر کے انہیں اکثریت اپنے ساتھ ملا نہ لیتی۔ ایسے موقع پر گرما گرمی بھی ہو جاتی تھی، جو یہاں بھی ہوئی۔
علی محمد صلعم کے ساتھ قربت اور گہری نسبت کی وجہ سے قدرتی طور پر موزوں ترین امیدوار لگتے تھے لیکن یہی قرابت اب ان کی مخالفت کا سبب بن جائے گی۔ دلیل یہ پیش کی گئی کہ چونکہ وہ محمد صلعم کے انتہائی قریبی اور بالغ رشتہ دار ہیں، اگر انہیں خلیفہ مقرر کیا جاتا ہے تو اس سے امہ کے تصور کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ خدشہ یہ تھا کہ اس طرح امہ ایک موروثی ملوکیت میں بدل جائے گی، بادشاہت بن سکتی تھی اور یہ محمد صلعم کے خیالات کی سر اسر نفی تھی۔ یہ ان کی عمر بھر کی جد و جہد اور تحریک کی روح کے خلاف تھا۔ مزید کہا گیا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنا جانشین خود مقرر نہیں کیا۔ انہیں اپنے لوگوں پر یقین تھا کہ وہ اپنے بیچ موزوں ترین شخص کو خلیفہ مقرر کر سکتے ہیں۔ وہ امہ کی حرمت اور تقدس کا بھر پور تحفظ کر سکتے ہیں، یا کم از کم وہ اپنے بیچ محمد صلعم کی تعلیمات کی روشنی میں رہنما کی تقرری میں ان کے خیالات کی روح روانی تو کر ہی سکتے تھے؟
بلا شبہ، یہ دلائل جمہوریت کے حق میں تھے۔ تا ہم، اس کا دائرہ کار خاصہ محدود کر دیا گیا تھا۔ یعنی، اس موقع کی مناسبت سے مکالمے کو ترتیب دینے کی کوشش کی گئی تھی۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس دن بڑھا چڑھا کر پیش کی جانے والی یہی دلیل پچاس برس بعد مٹی میں رول دی جائے گی۔ ابوسفیان کے فرزند، معاویہ دمشق میں پہلے سنی خاندان شاہی یا عہد سلسلہ شاہی کی بنیاد رکھیں گے۔ وہ مرنے سے پہلے اقتدار اور اختیار اپنے سب سے بڑے بیٹے یزید کو سونپ دیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس دن پیش کی جانے والی یہ دلیل آنے والے دور میں صدیوں پر محیط دور میں تمام تر سلطنتوں، شہنشایوں، حکومتوں، بادشاہتوں اور صدارتوں کو رد کر کے امہ کے واقعی تصور کی ترجمانی کرتی ہے۔ اگرچہ اس دن، محمد صلعم کے انتقال کے فوراً بعد اس دلیل کی فتح ہو گئی لیکن بعد اس کے، آج تقریباً تیرہ صدی گزر گئیں اور یہ انتہائی خوب استدلال ساکت اور جامد ہے۔ اس مناظرے کے نتیجے میں جنم لینے والا مکالمہ پھر دوبارہ کبھی بھی اپنی اصل روح کے ساتھ رائج نہیں ہو سکا۔
علی کے چچا عباس نے زور دیا کہ وہ محمد صلعم کی میت کے ساتھ شب بیداری ترک کر سکتے ہیں۔ عباس نے کہا کہ وہ خود یہاں جنازے کے پاس موجود رہیں گے، علی کو چاہیے کہ وہ شوریٰ کے اجلاس میں شریک ہو کر رہنمائی کے مسئلے پر جاری مکالمے میں حصہ لیں۔ اپنے حق کا دفاع کریں۔ لیکن، جیسے اس سے پہلے ، پچھلی صبح وہ محمد صلعم کے پاس جانے پر راضی نہ ہوئے تھے، اب دوبارہ انکار کر دیا۔ وہ اس شخص کو کیسے اکیلا چھوڑ دیتے جو ان کے باپ کی جا تھا۔ علی نے پوری زندگی محمد صلعم کے زیر سایہ بسر کی تھی اور آپ صلعم نے ان کی تربیت اور کفالت کی تھی، وہ اب ان کی میت کو کیونکر اکیلا چھوڑ دیتے؟ وہ نہیں جائیں گے۔ چنانچہ، وہ محمد صلعم کی میت کے پاس ٹک کر بیٹھے رہے اور جب منگل کا دن ڈھل کر شام آئی تو اس کے ساتھ یہ خبر بھی آ گئی کہ شوریٰ نے بالآخر اتفاق رائے قائم کر کے حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اسلام کے پہلے خلیفہ علی نہیں بلکہ ابو بکر ہوں گے۔
محمد صلعم کو گزرے اب ڈیڑھ دن بیت چکا تھا۔ جون کی تپتی گرمی میں بوجوہ تدفین کا معاملہ جلد از جلد طے ہونا ضروری تھا۔ رسم تو یہ تھی کہ میت کو چوبیس گھنٹوں کے اندر ہی دفن کر دیا جائے لیکن چونکہ تمام چیدہ لوگ یعنی محمد صلعم کے مشیران، قبائل کے سردار اور کنبے کے سربراہان شوریٰ میں مصروف تھے، اس لیے علی اور عباس کے پاس انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ اب جبکہ یہ معاملہ طے ہو چکا تھا اور ابو بکر کی بطور خلیفہ تقرری ہو چکی تھی تو حالات کا دھارا دیکھتے ہی دیکھتے، چند گھنٹوں کے اندر بدل گیا۔ یقیناً، ابو بکر محمد صلعم کی تدفین کا انتظام کچھ اس طرح کروائیں گے جو ان کے شایان شان تو ہو لیکن ساتھ ہی ان کا انتخاب، یعنی محمد صلعم کے جانشین کی حیثیت کا بھی نہایت زور دار اظہار ہو۔ اب، علی کی باری تھی۔ وہ ابو بکر کو اس موقع سے محروم کر دیں گے۔
بدھ کے دن، صبح کے وقت منہ اندھیرے ، عائشہ کی آنکھ مسجد کے احاطے میں کھرچنے اور کریدنے کے شور و غل سے کھل گئی۔ محمد صلعم کی میت ان کے کمرے میں رکھی گئی تھی اس لیے وہ حفصہ کے ساتھ ان کے یہاں منتقل ہو گئیں۔ حفصہ کا کمرہ یہاں سے چند قدم کی دوری پر تھا۔ چونکہ وہ غم سے نڈھال تھیں، اس لیے باہر نکل کر دیکھنے کی ہمت نہیں پائی۔ اگر وہ اٹھ کر دیکھتیں تو انہیں پتہ چلتا کہ یہ شور پتھریلی زمین کھدنے کا ہے۔ علی اور ان کے قریبی رشتہ دار، کدال اور بیلچے تھامے محمد صلعم کی قبر، عائشہ کے ہی کمرے میں تیار کر رہے تھے۔
بعد میں اس کی وجہ بتائی جائے گی کہ محمد صلعم نے ایک بار کہا تھا کہ پیغمبر کو وہیں دفن کرنا چاہیے جہاں اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ چونکہ، آپ صلعم کا انتقال اسی کمرے میں سونے کے لیے بنائے گئے چبوترے پر ہوا تھا، آخری آرام گاہ بھی یہیں بننی لازم ٹھہری۔ ان کی قبر اس چبوترے کے قدمچے میں بنائی گئی ۔ جب یہ ضرورت کے مطابق گہری ہو گئی تو میت کو بستر سمیت احتیاط سے اٹھا کر، سر مکہ کی جانب رکھتے ہوئے قبر میں اتار دیا۔ پھر جلدی سے قبر کا دہانہ پتھروں سے ڈھانپ کر مٹی ڈال دی گئی اور کیچڑ سے لپائی کر دی گئی۔ اس کے اوپر پتھر کا کتبہ بھی نصب کر دیا گیا۔
اس طرح، نمود و نمائش کے بغیر انتہائی سادگی سے محمد صلعم کو دفنا دیا گیا۔ عوامی سطح پر آخری رسومات ادا کی گئیں  اور نہ ہی جنازے کا اجتماع منعقد ہوا، نوحہ گروں کا جلوس نکلا اور نہ ہی ان کی بیاد منائی گئی، نوحے لکھے اور نہ ہی کسی نے ان کے قصیدے گائے۔ انہیں بس یوں ہی رات کی تاریکی میں اتنی ہی خاموشی سے دفنا دیا گیا جتنا غیر معروف کبھی ان کی پیدائش کا موقع رہا تھا۔ شاید، جس طرح کے انسان تھے، محمد صلعم خود بھی اپنے لیے یہی طریقہ پسند کرتے۔ آج ان کی شخصیت بارے سوچیں تو یہی خیال آتا ہے قبر میں اتارا گیا ہو گا تو وہ ایک بار پھر سے 'صرف ایک انسان' بن گئے ہوں گے۔ عوامی تقاضوں اور تنقیح سے آزاد ہو کر نہایت مطمئن ہوں گے۔ ویسے بھی، زندگی کے آخر دور میں انہی تقاضوں، مجبوریوں اور ہمہ وقت توجہ دہی اور درکاری نے ان کی زندگی اجیرن کر کے چھوڑ دی تھی۔ سکون اور خاموشی ، جس کے انہیں ایک عرصے سے تلاش تھی، میسر آ گئی۔ آخر کار، اب جا کر انہیں واقعی آرام مل گیا تھا۔
-ختم شد-

صلہ عمر پر جلد ہی لیسلی ہیزلٹن کی دوسری کتاب، 'آفٹر دی پرافٹ'  کا ترجمہ مرحلہ وار شائع کیا جا رہا ہے۔ اب تک شائع ہونے والی اقساط کے لیے یہاں کلک کریں۔   نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر