اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 1



یہ داستان کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ محمدؐ کے انتقال کا وقت تھا ۔ اس قصے کی واقعی ابتداء اسی دن ہوتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ تمام انسان، حتی کہ پیغمبر بھی فانی ہوتے ہیں۔ اس بات سے ہر کوئی واقف تھا، یہاں تک کہ خود محمدؐ کو بھی اچھی طرح اندازہ تھا لیکن اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ جیسے سب نے ہی حقیقت سے آنکھیں چرا لی ہوں۔ لوگ آخر تک یہی سمجھتے رہے کہ شاید، وائے شاید۔۔۔
اچھا، کیا محمدؐ خود بھی جانتے تھے کہ وہ بالآخر مر ہی جائیں گے؟ یقیناً، وہ جانتے تھے اور اس کا تذکرہ بارہا ملتا ہے۔ اسی طرح، ان کے ارد گرد لوگ بھی اچھی طرح واقف تھے لیکن پھر بھی، کوئی اس خیال کو تصور میں لانے کی جرات نہیں کر سکتا تھا، انہیں کبھی اس حقیقت کی تلخی سوجھی ہی نہیں۔ یہی بات عجیب تر ہے۔ محمدؐ کی عمر تریسٹھ برس ہو چکی تھی اور اس زمانے میں، یہ اچھی خاصی طویل عمر شمار ہوا کرتی تھی۔ وہ جنگوں اور لڑائیوں میں کئی بار زخمی ہوئے، بالخصوص احد کی لڑائی میں تو انہیں کاری چوٹ آئی تھی۔ اسی طرح، ان کی زندگی پر کم از کم تین ایسے قاتلانہ حملے ہوئے، جن کی تفصیلات تواریخ میں عام مل جاتی ہیں۔ شاید، اس طور بھر پور زندگی گزار چکنے کے بعد ، مہمات اور بقول شخصے، 'ہیرو کی زندگی' بسر کرنے کے بعد، ان کے رفقاء کے لیے بھی یہ مانتے ہوئے خاصی مشکل پیش آ رہی تھی کہ محمدؐ کو بالآخر ایک بیماری آن لے گی۔ یا کہیے، ایک طبعی مرض ان پر کاری ہو گا؟ بالخصوص، اب جب کہ سارا عرب و حجاز ان کی تحریک کے جھنڈے تلے آن جمع ہوا تھا، اس کے بعد تو محمدؐ کا بچھڑنا، تقریباً نا ممکن سی بات لگتی تھی۔
وہ لوگ جو کبھی آپؐ کی جان کے درپے رہا کرتے تھے، انہوں نے بار ہا قتل کے منصوبے بھی بنائے۔ اب ایک طویل سفارتی جدوجہد اور جنگ کے بعد اتحادی بن چکے تھے۔ امن قائم ہو گیا تھا اور امہ کا تصور یک جان ہو کر واقعی پنپ رہا تھا۔ یہ صرف ایک نئی صبح نہیں تھی بلکہ چہار سو امید اور تابناک مستقبل کا سورج جگمگا رہا تھا۔ عرب اب صرف حجاز کی پہاڑیوں کی اوٹ میں رہتے ہوئے، پس منظر میں بسنے والی ایک مضافاتی آبادی نہیں تھے بلکہ تاریخ میں پہلی بار وہ دنیا کے سیاسی اور ثقافتی منظر نامے پر ایک بڑی قوت بن کر ابھرنے کے لیے تیار ہو چکے تھے۔ اس نئی بے پایاں قوت کا رہنما، ایسے درخشاں موڑ پر اچانک کیسے بچھڑ سکتا ہے؟ اگرچہ ،موت اٹل ہے تو وہاں یہ حقیقت، جو تیزی سے کامیابیاں بٹورنے سے بھی کہیں بڑی سچائی ہے، منہ پھلائے کھڑی تھی۔ برسوں تک تشدد اور مشکلات کا سامنا کرنے، لڑائیوں، جنگوں اور قاتلانہ حملوں سے بچ نکلنے کے بعد بھی، محمدؐ طبعی وجوہات کے ہاتھوں جان ہار رہے تھے۔
بظاہر یہ عام سا بخار اور ساتھ ہی سر درد کی شکایت تھی۔ پہلے پہل، یہ اتنی غیر معمولی بات معلوم نہیں ہوتی تھی لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا، صحت مسلسل گرنے لگی۔ ایسا بھی نہیں تھا کہ بخار ہر وقت رہتا یا سر مسلسل ہی درد سے پھٹ جاتا۔ کبھی ہوتا، پھر اتر جاتا، لیکن ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی شدت بڑھتی گئی۔ عرب کے طول و عرض میں پھیلی اس جراثیمی بیماری کی کلاسیکی نشانیاں ہوا کرتی ہیں، دس دن کے اندر ہی بخار، سر اور کمر میں پھیلتے ہوئے قولنج کے درد نے آپؐ کو دوہرا کر کے رکھ دیا۔ سر سام یا ورم سجایا نامی یہ بیماری، جسے عام زبان میں گردن توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے، آج بھی دنیا کے کئی کونوں میں جان لیوا ہے۔
جلد ہی محمدؐ چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو گئے اور پٹھوں میں شدید درد، دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی حفاظتی جھلی میں سوزش کی وجہ سے کسی سہارے کے بغیر کھڑے ہونے سے بھی رہ گئے۔ مسلسل ہوش اور بے ہوشی کی کیفیت میں معلق ہوتے رہے اور چوبیسوں گھنٹے پسینہ یوں بہتا جیسے اس میں نہائے ہوں۔ یہ اس وجد کی سی کیفیت نہیں تھی، جس میں کبھی وحی نازل ہوتی تو پسینے میں شرابور ہو جاتے۔ اس سے تو جلا ملتی تھی، یہ کمزور کر دینے والی حالت تھی۔ تب تو انہیں ہر وحی کے بعد، جیسے طاقت اور رگوں میں توانائی بہنے کا احساس ہوا کرتا تھا۔ اب بیویاں کپڑے کی پٹیاں، ٹھنڈے پانی میں بھگو کر ان کی پیشانی پر لپیٹتی رہیں کہ کچھ افاقہ ہو، لیکن یہ بے سود تھا۔ وہ سمجھتی تھیں کہ شاید اس طرح درد اور بخار جسم سے نکل جائے گا لیکن ظاہر ہے، ایسا ممکن نہیں تھا۔ ہاں، اس سے تھوڑی دیر کو آرام آ جاتا، علامات دب جاتیں لیکن یہ اس کا علاج نہیں تھا۔ سخت بیماری کی حالت میں، خیر یہ بھی غنیمت تھی۔ عارضی ہی سہی، تھوڑی دیر کو سکون مل جاتا لیکن جلد ہی پھر حالت بگڑ جاتی اور درد ناقابل برداشت ہو جاتا، جسم سے طاقت نکل جاتی۔
محمدؐ کے ہی اصرار پر انہیں عائشہ کے رہائشی کمرے میں منتقل کر دیا گیا ۔ یہ محمدؐ کی نو بیویوں کے لیے مسجد کی مشرقی دیوار کے ساتھ تعمیر کیے گئے کمروں میں سے ایک تھا۔ ابتدائی دور اسلام کے اصولوں کے عین مطابق، یہ تمام کمرے سادگی کی عمدہ مثال تھے۔ اس وقت تک امہ میں دولت برابر تقسیم ہوتی تھی اور تمام مومنین برابر تسلیم کیے جاتے تھے۔ چنانچہ، یہ رہائشی کمرے بھی آسائش سے خالی اور بمشکل ایک کمرہ ہوا کرتے تھے جس میں اکثر ضرورت کے سامان کی بھی قلت رہتی تھی۔ پتھر کی دیواروں پر لیپ کر کے، سر پر کھجور کے پتوں سے چھت کھڑی کر دی گئی تھی جبکہ دروازے اور روشن دان مسجد کے احاطے میں کھلتے تھے۔ اندر سامان بھی واجبی ہوا کرتا تھا، فرش پر دری بچھی رہتی اور سونے کے لیے پتھر کی ہی سلیٹیں ڈال کر بستر بنا لیا تھا جس پر رات کو رضائی اور تلائیاں بچھا دی جاتیں اور صبح ہوتے ہی انہیں لپیٹ کر بیٹھنے کا سامان کر دیا جاتا۔ جب سے محمدؐ کو یہاں منتقل کیا گیا، یہ بستر ہمیشہ ہی بچھا رہنے لگا۔
اس چھوٹے سے کمرے میں ہٹے کٹے، صحتمند شخص کا دم گھٹ جاتا، محمدؐ تو پہلے ہی نا جوڑ تھے۔ یہ مئی کا اواخر اور جون کی شروعات تھی، صحرا میں گرمی دن چڑھتے ہی بڑھنے لگتی اور دوپہر تک لو اور شدید حبس سے دم گھٹنے لگتا۔ ایسے میں آپؐ کو سانس لینے میں شدید تکلیف رہتی ہو گی۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہ اس بیماری میں شور اور روشنی سے بھی تکلیف ہونے لگتی ہے۔ روشنی کا انتظام ہو سکتا تھا، روشن دانوں اور دروازے پر پردے گرا دیے جاتے لیکن شور کا کوئی حل نہیں تھا۔
مشرق وسطیٰ میں جیسے آج، ویسے ہی تب بھی ایک مریض کمرہ عام طور پر تیمار داروں سے بھرا رہتا ہے۔ رشتے دار، رفقاء، ساتھی اور حامی۔۔۔ جو شخص قربت کا دعوی دار ہو، وہی دن اور رات مریض کمرے کے آس پاس ہوتا اور ہر شخص کی کوشش یہ کہ وہ آپؐ، جو اس نو زائیدہ ریاست میں طاقت و اختیار کا مرکز تھے، سرہانے بیٹھے رہے۔ لوگوں کی آمد و رفت چوبیس گھنٹے جاری رہتی جو ہمہ وقت فکر کا اظہار کرتے، مشورے دیتے اور بار بار ایک ہی سوال دہرا کر زچ رکھتے۔ محمدؐ جاگتے رہنے کی بھر پور کوشش کرتے، تگ و دو میں رہتے کیونکہ بیماری کی حالت میں بھی وہ ان معززین کو نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔ بہت کچھ تھا جس کا انحصار آپؐ کے تعلقات پر تھا۔
باہر، مسجد کے احاطے میں عام لوگوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے جو ہر وقت یہیں موجود رہتے۔ دن اور رات، گھروں کو بھی نہ جاتے اور کوشش رہتی کہ جس قدر ممکن ہو سکے، مریض کمرے کے قریب رہیں۔ تقریباً لوگ خود کو یہ تسلی دیتے رہے کہ یہ بیماری سوائے اس کے، کچھ نہیں کہ چند دن میں اتر جائے گی، لیکن اس کے باوجود وہ ایک عجب مخمصے کا شکار تھے، کیونکہ انہوں نے اسی بیماری کے ہاتھوں لوگوں کو مرتے ہوئے دیکھ رکھا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ جان لیوا ہے مگر اس کے باوجود وہ بوجوہ اس حقیقت کو آخر تک ماننے سے قاصر رہے۔ بہرحال، وہ مریض کمرے کے باہر پڑے دعائیں مانگتے رہے اور انتظار کرتے۔ ان کی آنکھیں کمرے پر جمی رہتیں اور کان کسی خبر کو سننے کے لیے دھرے رہتے جبکہ زبان پر دعا اور درود جاری رہتا۔ جس سے ایک علیحدہ صورتحال بن گئی۔ مسجد کے احاطے میں ہر وقت ایک کشمکش اور بے چینی کی سی فضا قائم رہتی جو اپنے آپ میں ایک قضیہ تھا۔ جوں ہی کوئی خبر نکلتی، وہ منہ در منہ ایک گاؤں سے دوسرے اور یوں پورے نخلستان اور پھر مکہ اور عرب کے طول و عرض میں پھیل جاتی۔
لیکن، پچھلے کچھ دنوں سے بیماری بگڑتی ہی چلی جا رہی تھی، جس کی وجہ سے پریشانی میں اضافہ ہو گیا اور اب لوگ مریض کمرے اور مسجد کے احاطے میں ہر وقت شور و غوغے کی بجائے متفکر رہنے لگے۔ تقریباً پورے نخلستان میں ایک سکوت سا پھیل گیا اور لوگ اب پہلی بار جان گئے کہ وہ جس کا ڈر تھا، وہی ہونے جا رہا ہے۔ اب لوگوں کے ذہن پر بیماری سے زیادہ ایک نیا سوال حاوی ہو گیا، جو ابھی بھی کسی کی زبان پر نہیں آیا تھا۔ سوال یہ تھا کہ اگر انہونی ہو گئی، یعنی محمدؐ انتقال کر گئے تو پھر، ان کا جانشین کون ہو گا؟ کون ہے جو معاملات سنبھالے گا؟ نیا رہنما کون ہے؟
یہ سب خاصا آسان ہو جاتا اگر محمدؐ خود اپنا جانشین مقرر کر دیتے یا کم از کم ان کے یہاں اولاد نرینہ ہوتی۔ صرف ایک بیٹا بھی کافی تھا۔ اگرچہ، روایتی طور پر اس طرح کا کوئی رواج نہیں تھا کہ جس میں ایک رہنما کے چل بسنے کی صورت میں اختیار سب سے بڑے بیٹے کے حوالے کر دیا جاتا، وہ ایسی صورت میں بھی وصیت میں منجھلے بیٹے یا قریبی رشتہ دار کو یہ اختیار دے سکتے تھے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ اگر وصیت نہ ہو تو رسمی طور پر سب سے بڑا بیٹا ہی حقدار ہو گا۔ تا ہم، محمدؐ کے یہاں نہ تو بیٹے تھے اور نہ ہی انہوں نے صاف طور پر کسی جانشین کو مقرر کیا۔ وہ بغیر وصیت کے ہی گزرنے والے تھے۔ عربی میں اس کے لیے 'ابتر' کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے لغوی معنی خاتمے، کٹے ہوئے یا جدا کے ہیں۔ یعنی، وہ بیٹے کو جنم دیے بغیر جا رہے تھے۔
اگر محمدؐ کے یہاں کوئی بیٹا ہوتا تو شاید اسلام کی تاریخ مختلف ہوتی۔ یہ جھگڑا نہ ہوتا۔ خانہ جنگی سے بچ جاتے، خلفاء اور ان کے ناطے دار ایک دوسرے کے حریف نہ ہوتے اور امکان غالب ہے کہ شیعہ اور سنی میں پھوٹ نہ پڑتی۔۔۔ تاریخ میں اس سارے وبال کو ٹالا جا سکتا تھا۔ محمدؐ کی پہلی بیوی خدیجہ کے یہاں اگرچہ دو بیٹوں اور چار بیٹیوں کی پیدائش ہوئی تھی لیکن وہ دونوں ہی شیر خواری کی عمر میں چل بسے تھے اور بعد ازاں محمدؐ نے خدیجہ کے انتقال کے بعد نو شادیاں کی لیکن ان میں سے ایک بھی، حمل سے نہ ہوئیں۔
اس بابت مکہ اور مدینہ، دونوں ہی شہروں میں بات ہوتی رہی تھی۔ خدیجہ کے بعد کی جانے والی نو کی نو شادیاں کہیے تو سیاسی اور سفارتی وجوہات کی بناء پر کی گئی تھیں اور جیسا کہ اس زمانے میں حکمرانوں کے یہاں رواج تھا، سفارتی اتحاد اسی طرح قائم ہوا کرتے تھے۔ محمدؐ کی یہ شادیاں اسلام کی نئی ریاست میں، سماج یعنی امہ کو اکٹھا رکھنے کا موجب تھیں۔ یہ واحد طریقہ تھا کہ جس کے ذریعے قبائل اور دیرینہ دشمنان کے بیچ ایک نئے تعلق اور دوستی کو فروغ دیا جا سکتا تھا۔ صرف دو سال پہلے ہی جب مکہ میں اسلام کا بول بالا ہو چکا تھا، محمدؐ نے یہاں بھی نئی بنیادیں شادی کے ذریعے ہی رکھیں۔ آپؐ نے ام حبیبہ سے شادی کی، جو ابو سفیان کی بیٹی تھیں۔ ابو سفیان مکہ کے سردار تھے اور ایک عرصے تک محمدؐ کے دیرینہ دشمن چلے آ رہے تھے۔ جیسا دنیا بھر میں ہوتا ہے، یہاں بھی لازم تھا کہ اس طرح کے اتحاد عام طور پر اولاد کے ذریعے ہی پختہ ہوا کرتے ہیں، صرف شادی کا بندھن کافی نہیں ہوتا۔ نئے خون سے نئی امید وابستہ کی جا سکتی ہے، اس طرح پرانی رقابتیں اور انقسام کو مٹایا جا سکتا ہے۔ ایک رہنما کے لیے، شادی صرف اسی وجہ سے ضروری سمجھی جاتی ہے۔
خدیجہ کے بعد محمدؐ کی تقریباً بیویوں کے یہاں اولاد تو تھی لیکن وہ ان کی سگی نہیں تھی۔ یعنی، عائشہ کے علاوہ آپؐ کی تمام بیویاں بیوہ یا طلاق یافتہ تھیں۔ اس میں کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی۔ دولت مند مرد اس زمانے میں بھی ایک ہی وقت میں چار شادیاں کر سکتے تھے اور محمدؐ کو خصوصی طور پر اجازت تھی کہ وہ سیاسی اور سفارتی اتحاد کی غرض سے جتنی چاہتے، شادیاں کر تے۔ مردوں کے علاوہ، عورتیں بھی اکثر دو، تین اور چار دفعہ شادیاں کر لیتی تھیں۔ فرق یہ تھا کہ مرد ایک ہی وقت میں چار شادیاں کر سکتے تھے جبکہ عورتیں یکے بعد دیگرے سلسلہ وار کئی شادیاں کر سکتی تھیں، یعنی ایک وقت میں ایک ہی شادی کی اجازت تھی۔ چنانچہ، طلاق یا بیوگی کی صورت میں وہ دوبارہ سے شادی کر لیتیں۔
اس تمام طریق کا مطلب یہ تھا کہ مکہ اور مدینہ، دونوں ہی شہروں میں ناطے داری کا مثل، گہرا اور جکڑ مکڑ جال بنا ہوا تھا۔ سوتیلے بہن بھائی، عمزاد، چچا زاد، سسرالی اور دور کے رشتہ دار، الغرض ہر شخص دوسرے کے ساتھ کم از کم تین یا چار رشتوں میں بندھا ہوا تھا۔ یہ جدید دور میں مغرب کی ایک خاندان کی تعریف سے میل نہیں کھاتا۔ ساتویں صدی عرب میں یہ تعلق داری کا ایک وسیع جال ہوا کرتا تھا جو کہ آج کل کے زمانے میں یک خطی شجرہ کے بالکل برخلاف ہے۔ تب یہ شجرہ ایک تناور درخت کی بجائے، زمین پر پھیلی انتہائی گہری جڑوں کی بیلوں کے جنگل کی مانند ہوا کرتا تھا جو ایک دوسرے میں اس طرح جکڑی ہوئی ہر طرف یوں پھیلی رہتی ہیں کہ ان میں تمیز مشکل ہو جاتی ہے۔ لوگ ایک ہی قبیلے میں چاہے کسی بھی کنبے سے تعلق رکھتے یا کہیے تو قبائل میں کسی بھی ایک قبیلے سے تعلق رکھتے، وہ بہر حال ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے، وہ ایک دوسرے کے ناطے دار ٹھہرتے۔ لیکن، اس کے باوجود خونی رشتوں کی اہمیت اپنی جگہ پر ہمیشہ ہی برقرار رہا کرتی تھی، جیسا کہ اس نو زائیدہ ریاست کے اقتدار میں اہم قرار پائی۔
روایت میں درج ہے کہ خدیجہ کے بعد بھی محمدؐ کے یہاں ایک بیٹے کی پیدائش ہوئی تھی۔ یہ بیٹا، ماریہ کے یہاں پیدا ہوا تھا جو ایک باندی تھی۔ ماریہ کو مصر کے رئیس نے تحفتاً پیش کیا تھا۔ آپؐ نے ماریہ کو مسجد سے دور، مدینہ کے مضافات میں ایک مکان دلا رکھا تھا ۔ ان کے اس باندی سے جنم لینے والے بیٹے کا نام ابراہیم تھا۔ لیکن، یہ بھی جانبر نہ ہو سکا اور شیر خواری کی عمر میں ہی انتقال ہو گیا۔
اس وقت مریض کمرے میں موجود ساری ہی بیویوں نے کبھی اپنے تئیں پوری کوشش کی ہو گی کہ وہ ایک بیٹے کو جنم دے سکیں۔ اس طرح، جو بیوی ایسا کر لیتی، وہ یقیناً دوسری تمام بیویوں سے ممتاز ٹھہرتی۔ پھر یہ کہ ایک پیغمبر کے بیٹے کی ماں؟ یعنی، پیغمبر کا جائز وارث؟ اس سے بڑی عزت اور منزلت کسی عورت کے لیے آخر کیا ہو سکتی تھی۔ چنانچہ، اس میں کوئی شک اور شبہ نہیں کہ ان تمام بیویوں نے بھر پور کوشش کی ہو گی اور عائشہ کے بارے میں تو یہ کہ انہوں نے اپنے تئیں ہر ممکن سعی کر لی ہو گی کیونکہ وہ محمدؐ کے بعد ہمیشہ لا ولد رہنے والی تھیں۔
عائشہ، محمدؐ کی تمام بیویوں میں سب سے کم عمر، شوخ اور ان کی پسندیدہ تھیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ تب اور آج بھی ان کا معاملہ خاصا نزاعی ہے۔ عائشہ کا ایک دکھ یہ بھی تھا کہ وہ کبھی ماں نہیں بن پائیں۔ دوسری بیویوں کی طرح انہوں نے بھی کوشش کی ہو گی لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔ شاید، اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ محمدؐ اب بھی خدیجہ کی یاد سے جڑے تھے۔ خدیجہ کے ساتھ ان کا ساتھ تقریباً چوبیس سال پر محیط ہے اور ان کی مثال آپؐ کے لیے ایک قطب ستارے کی سی تھی۔ یہ خدیجہ ہی تو تھیں جنہوں نے پہلی وحی نازل ہونے کی رات محمدؐ کو سہارا دیا تھا۔گود میں ساری رات ان کا سر رکھے تسلی اور دلاسا دیتی رہی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ انہیں یقین دلایا تھا کہ صرف محمدؐ ہی نہیں، وہ بھی پر امید ہیں کہ آپؐ خدا کے چنے ہوئے، رسول ہیں۔ شاید، محمدؐ کے خاندان میں یہ اعزاز صرف خدیجہ کے پاس باقی رہنا طے تھا کہ وہ ہمیشہ ہی 'شاہ مادر'، ان کے گھر کی مثال 'سردار عورت' رہیں۔ ان کی نسل بھی انہی کی اولاد سے پھلے پھولے گی، کیونکہ صرف ان کی ہی بیٹی فاطمہ بعد ازاں محمدؐ کے چہیتے نواسوں حسن اور حسین کی ماں ہوں گی۔
محمدؐ کی بابت یہ کہ انہی کی تولیدی ذرخیزی پر کوئی سوال نہیں ہے۔ ان کی خدیجہ کے بطن سے پیدا ہونے والی اولاد اس کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح، بعد کی بیویوں پر بھی کوئی سوال نہیں کہ سابقہ شوہروں سے تقریباً سب کے یہاں اولاد پیدا ہوئی تھی۔ شاید، کثیر ازدواج کے سبب محمدؐ نے غیر متاہل رہنے کا فیصلہ کر رکھا ہو۔ یا، جیسے آنے والی کئی صدیوں میں سنی عالمین کا اصرار ہو گا کہ محمدؐ کے یہاں نرینہ اولاد کا نہ ہونا، در اصل وحی کی قیمت ہے۔ قران خدا کا حتمی بیان ہے، اس کے بعد کوئی وحی نازل نہیں ہو گی۔ اسی طرح محمدؐ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اور ان کا کوئی بھی قریبی عزیز، چاہے وہ ان کی اولاد ہی کیوں نہ ہو، اس قابل نہیں تھی کہ نبوت کا بھار اٹھا سکے، اس کو آگے بڑھا سکے جیسے کہ شیعہ کا خیال تھا کہ یہ عین ممکن ہے۔ بہر حال، سنی کہا کریں گے کہ یہی وجہ ہے کہ محمدؐ کی اولاد نرینہ، یعنی بیٹوں کا شیر خواری میں ہی چل بسنا قضائے الہی ہے کیونکہ وہ تا دیر زندہ رہ کر پیغمبر کی نسل آگے نہیں بڑھا سکتے تھے۔
خیر، قصہ مختصر یہ کہ بعد کی تمام شادیوں سے محمدؐ کے یہاں اولاد نرینہ پیدا نہیں ہوئی اور آج جب وہ شدید بیمار تھے، جانشینی کا مسئلہ در پیش تھا۔
محمدؐ نے اپنی منشاء بتا دی تھی جو ایک لحاظ سے کہیے تو خدا کی مرضی تھی۔ وہ مرضی انہوں نے طویل جد و جہد کے بعد پورے جزیرہ عرب میں چلا دی تھی۔ جبرائیل کے ہاتھوں پہلی وحی کے بعد صرف دو دہائیوں میں انہوں نے نا ممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔ پہلی وحی نازل ہوئی تو فرشتے نے حکم دیا تھا، 'پڑھو!' اور یوں قران کی پہلی آیات 'اقراء' کے نام سے الہام کی صورت آن موجود تھیں۔ اس کے بعد، ایک وقفہ ہوا تھا اور پھر توا تر سے الہامی کلام نازل ہوتا رہا۔ یہ ایسی شیریں زباں تھی جو اس سے پہلے کسی نے سنی اور نہ ہی پڑھی تھی۔ جو سنتا، دم بخود رہ جاتا۔ اس قدر فصیح اور صاف کہ لوگ سنتے ہی جان لیتے کہ یہ خدائے ذوالجلال کی زبان ہے ۔ اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ کبھی اونٹوں کی رکھوالی پر مامور اور اب ایک آڑھتی، آخر اس قدر خوبصورت زبان میں یہ کلام بنانے کے قابل، کیونکر ہو سکتا ہے؟ بالکل نہیں ہو سکتا۔ وہ بلا شبہ خدا کے رسول تھے جو خدا کی ہی زبان بول رہے تھے۔
چنانچہ، جب اسلام قصبوں، شہروں، نخلستانوں سے ہوتا ہوا صحرا کے خانہ بدوش قبائل میں بھی پھیل گیا تو اس کے ساتھ خوشحالی کا دور بھی آیا۔ اب خراج کی وصولی چند ہاتھوں میں جمع نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ امہ کی ملکیت میں مال خانے میں پہنچ کر تقسیم ہوتی رہتی۔ چنانچہ، اس طرح کی ریاست، جس کا کام فلاح تھا اور پھر دن بدن یہ پھیلتی ہی جا رہی تھی، اس کا اپنا مال خانہ تھا اور ملکیت میں باغات، زمینیں اور جائیدادیں تھیں، انتہائی ضروری ہو گیا کہ رہنما اپنی وصیت عیاں کر دے۔ وصیت یہ کہ وہ اپنے جانشین کو مقرر کرے یا کم از کم پیچھے رہ جانے والوں کے لیے ایک ضابطہ کار واضح کر دے جس سے جانشین کی تقرری ممکن ہو سکے۔
محمدؐ اپنے بعد امت بارے کیا سوچتے تھے؟ یہ ایسا سوال ہے جو شیعہ اور سنی کی اس داستان میں اصل قضیے کی جڑ ہے۔ مگر بات یہ ہے کہ جس طرح کا یہ سوال ہے، ہمیشہ بے جواب ہی رہے گا۔ وجہ یہ ہے کہ آپؐ کے بعد جو کچھ بھی ہوا، اس تمام قصے میں ہر شخص دعویدار رہا کہ وہ اور صرف وہی جانتا ہے کہ آخر پیغمبر کیا چاہتے تھے؟ حالانکہ، کسی جانشین کی واضح تقرری کے بغیر یہ معاملہ کچھ یوں ہے کہ کوئی بھی شخص صاف صاف نہیں کہہ سکتا کہ محمدؐ کی مرضی کیا تھی۔ کوئی کچھ بھی کہہ لے، کسی بھی قسم کی دلیل پیش کر دے، ہمیشہ ہی شک کا عنصر باقی رہے گا۔ یہی نہیں، اس ضمن میں کوئی بھی دلیل ہو، چاہے وہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، کسی دوسری دلیل سے اگر رد نہ بھی کر سکے، شبہ میں ضرور مبتلا کر سکتی ہے۔ یوں، اس معاملے میں قطعیت، حقائق کی بجائے ایمان کا معاملہ بن کر رہ جاتی ہے۔
یہ تو طے ہے کہ محمدؐ جانتے تھے کہ وہ تا دیر زندہ نہیں رہیں گے، لیکن اتنے جلدی صحت جواب دے جائے گی، اس کا انہیں قطعی اندازہ نہیں تھا۔ وہ اپنے بارے کسی بھی طرح سے ہمیشگی یا ابدیت کا مخمصہ نہیں تھا۔ یہ سچ ہے کہ وہ بیماری سے قبل تک خاصی بہتر حالت میں تھے، چال ڈھال سے لگتا کہ پوری طرح تندرست اور توانا ہیں۔ جسامت ویسے ہی مضبوط اور بھاری بھر کم، سر کے بال بھی تقریباً سیاہ تھے، صرف قریب سے دیکھنے پر نظر آتا کہ کہیں کہیں چاندی اتر آئی ہے۔ لیکن، ان کی زندگی پر ہوئے تین قاتلانہ حملوں کے بعد وہ اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے کہ زندگی ابد نہیں اور خود ان کی اپنی زندگی تو کئی خطرات سے دوچار ہے۔ دوسری طرف، یہ بھی ہے کہ موت کو اتنے قریب سے دیکھنے کے بعد آپؐ کی حالت بھی وہی رہی ہو گی جیسے مثال کہا جاتا ہے کہ اس سے زندگی کو ایک نئی قوت مل جاتی ہے۔ ویسے بھی، قاتلانہ حملوں اور جنگوں میں سخت حالات کا نتیجہ ہمیشہ ہی اسلام کے حق میں نکلا تھا، محمدؐ نے ان مواقع کو اپنی تحریک کے حق میں بھر پور استعمال کیا تھا اور چند مواقع تو ایسے تھے جن میں اسی وجہ سے بازی پلٹ گئی تھی۔
یہ صرف دس سال پہلے کی ہی تو بات تھی جب ان کی تعلیمات کو اپنے آبائی شہر مکہ کی اشرافیہ سے شدید خطرات لاحق تھے۔ ان کا پیغام بنیادی نوعیت کا تھا، جس کی جڑیں واحدانیت کی قدیم روایت سے ملتی تھیں۔ اس تحریک کا اصل نشانہ شہری زندگی بسر کرنے والے امراء اور اشرافیہ کی لوٹ مار اور نا انصافی تھا۔ سمجھا یہ جاتا ہے کہ ساتویں صدی عرب میں معاشرہ خانہ بدوش ہوا کرتا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شہروں اور قصبات میں بستے لوگوں کو کئی نسلیں گزر چکی تھیں۔ اگرچہ سماجی شناخت ابھی تک قبائلی ہی تھی، لیکن معاشرے میں حیثیت اور رتبے کا تعین ہی نامی گرامی قبائل سے تعلق کی بناء پر ہوا کرتا تھا۔ اس وقت عرب میں قریش سے زیادہ قابل عزت ، دولت مند اور طاقتور قبیلہ دوسرا کوئی نہیں تھا۔ مکہ کا یہی قبیلہ در اصل شہری اشرافیہ اور امراء کا نمائندہ بھی ہوا کرتا تھا۔
قریش تجارت کیا کرتے تھے اور ان کا شہر شمال اور جنوب میں واقع تجارتی راہداری کا مرکزی نقطہ ہوا کرتا تھا۔ یہ راہداری مغربی عرب کے طول میں پھیلی ہوئی تھی۔ ایک تو یہ کہ مکہ شہر کی اس راہداری پر ایک مرکزی حیثیت جغرافیائی لحاظ سے تھی۔ اس کے علاوہ بھی یہاں کی ایک نسبت تھی۔ یہ نسبت اس شہر کی کعبہ کے سبب حرمت تھی۔ کعبہ، جو چوکور شکل کی ایک کوٹھی تھی، جس کے گرد کئی خدائی اوتار جمع کیے گئے تھے۔ یہ اوتار اور نشانیاں عرب کے قبائل کی خدائی نمائندگی کرتے تھے اور انہیں مقدس حیثیت حاصل تھی۔ ان میں سے اکثر کے بارے مشہور تھا کہ وہ ایک بر تر ذات، جسے تب بھی عرب 'الہ' یا 'اللہ' کہہ کر پکارتے تھے، اس کی اولاد تھی۔ یوں، تجارتی راہداری کا مرکز ہونے کے علاوہ مکہ زیارت کا بھی مرکز تھا۔ چونکہ یہ ایک مکرم اور محترم شہر تھا، اسی لیے اس کی حدود میں قتل و غارت ، چوری چکاری اور فتنے کی ممانعت تھی۔ حرمت کے مہینوں میں تو بالکل ہی اجازت نہیں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پورے سال اور بالخصوص حرمت کے دنوں میں یہاں بڑے تجارتی میلے پورے انتظام اور تسلی، یعنی محفوظ ماحول میں منعقد کیے جاتے تھے۔ یوں، تجارت اور زیارت مل کر خاصا منافع بخش کاروبار بن چکا تھا۔ قریش نے کمال ہوشیاری سے ایمان اور مالیات کو ایک دوسرے میں گڈ مڈ کر رکھا تھا۔ جیسے، وہ کعبہ تک رسائی کا خراج وصول کرتے تھے، تجارتی قافلوں پر ٹیکس لاگو تھے اور مکہ کی حدود میں کسی بھی طرح کے کاروبار پر محاصل وصول کیے جاتے تھے۔ اگرچہ، آمدن خاصی تھی لیکن دولت کی تقسیم میں خاصی جانبداری برتی جاتی تھی۔ روایتی طور پر قبائلی اصول تو یہ تھا کہ اس کا فائدہ سب تک پہنچنا چاہیے لیکن جوں جوں شہری زندگی پنپتی رہی، یہ روایات دم توڑتی گئیں۔ ہوا یہ کہ وقت کے ساتھ ایک ہی قبیلے کے بعض گنے چنے کنبے اور خاندان تو خوب فائدہ اٹھاتے لیکن باقی لوگوں کو واجبی سا نفع ملتا۔ یہی پسماندہ اور پسے ہوئے لوگ تھے جن کے یہاں محمدؐ کے پیغام کو خوب پذیرائی ملی۔
غریب غرباء، یتیم، بیوائیں اور غلام۔۔۔ محمدؐ کی تعلیمات کے مطابق یہ سب بھی خدا کی نظر میں برابری کے حق دار تھے۔ چاہے کسی بھی قبیلے سے تعلق ہو، قبیلے کے نامی گرامی یا سب سے نچلے کنبے اور کنبے میں بھلے کوئی بھی خاندان ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ کسی گروہ کو کوئی حق نہیں تھا کہ وہ خود کو دوسروں سے برتر جانے یا باقیوں کا حق غصب کر کے ترقی کرے۔ اسلام کا پیروکار ہونے کا مطلب یہ تھا کہ ہر شخص اپنی مرضی، منشاء اور خواہشات کو خدا کے لیے قربان کر دے اور اس کی نظر میں برابر ٹھہرے۔ پرانی چپقلشیں اور انقسام بھلا دے۔ تعلیمات زور دیتی تھیں کہ قبائلیوں کے بیچ کسی بھی قسم کی دوڑ، مقابلے کی کوئی گنجائش نہیں تھی اور امیروں کو غریبوں کا حق سلب کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ اسلام کے مطابق، سب لوگ ایک ہیں، ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں اور انہیں ایک ہی سماجی رتبہ حاصل تھا۔ یہی نہیں بلکہ، انہیں اس بات پر قائم رہنا تھا کہ برتر ذات صرف اور صرف خدا کی ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔
یہ مساوات کے عقیدے پر مبنی پیغام تھا جو اپنے زمانے کے لحاظ سے انقلابی کہلایا جا سکتا ہے۔ اسی طرح کا پیغام اس سے پہلے فلسطین میں، پہلی صدی عیسوی میں ایک دوسرے پیغمبر نے بھی بلند کیا تھا۔ وہ لوگ جو شہر کی دولت اور اختیار پر قابض تھے، ان کے نزدیک یہ تعلیمات، توقع کے عین مطابق صریح بغاوت اور تخریبی ٹھہریں۔ ان کا خیال یہ تھا کہ اس پیغام کا مقصد معاشرے میں توڑ پھوڑ اور سماج میں کجی کے سوا کچھ نہیں۔ جبکہ، حقیقت میں یہ ان کے اختیار اور 'سٹیٹس کو' کو کھلا چیلنج تھا۔ پھر یہ ہوا کہ جب محمدؐ کے پیروکاروں میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا تو مکہ کی اشرافیہ اس بابت واقعی متفکر ہو گئی۔ وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے اور تحریک سے نبٹنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر لی۔ لیکن، جتنی وہ محمدؐ کو خاموش کرانے کی کوشش کرتے، ان کا پیغام اسی قدر تیزی سے پھیلنے لگا۔ ہر حربہ استعمال کر لیا، بد گوئی سے لے کر بد نمائی، تذلیل اور یہاں تک کہ بائیکاٹ بھی کر کے دیکھ لیا، لیکن سب بے سود رہا۔ بالآخر، حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ مکہ کے نامی گرامی خاندانوں کے چنے ہوئے افراد، ایک گروہ کی شکل میں ان کے گھر کے باہر اسلحے سے لیس ہو کر جمع ہو گئے ۔ وہ انتظار میں تھے کہ صبح عبادت کی غرض سے باہر نکلیں تو وہیں ان کا کام تمام کر دیں۔ لیکن، محمدؐ کو اس حملے کی بر وقت اطلاع مل گئی تھی اور وہ رات کے اندھیرے میں ہی مکہ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے اور ان کا رخ شمال میں ایک نخلستان میں واقع شہر، مدینہ کی طرف تھا۔ یہاں ان کی آمد ایک معاہدے کے تحت ہوئی تھی، جس کے مطابق وہ ایک ثالث کی حیثیت سے وارد ہوئے تھے اور بدلے میں ان کی اور مہاجرین کی حفاظت کا وعدہ کیا گیا تھا۔ جس برس یہ ہجرت ہوئی، تب ہی اسلامی کلینڈر ہجری کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ عیسوی کلینڈر میں 622ء کا سال تھا۔
محمدؐ کی سربراہی میں نخلستان کا یہ شہر جلد ہی عرب کا سیاسی مرکز بن گیا۔ جس سے، جنوب میں واقع مکہ کی قدیم مرکزی حیثیت گہنا کر رہ گئی۔ یوں، جلد ہی دونوں شہروں کے بیچ ان بن شروع ہو گئی جس کا نتیجہ تین بڑی جنگوں اور لاتعداد جھڑپوں کی صورت بر آمد ہوا۔ لیکن، بالآخر، محمدؐ کو مکہ سے شہر بدر کرنے کے آٹھ سال بعد فتح مسلمانوں کے حصے میں آئی۔ مکہ نے ہتھیار ڈال دیے اور اسلام قبول کر لیا۔ اس موقع کو 'فتح' کا نام دیا گیا، جس کے اصل معنی 'توسیع یا کشائش' کے ہیں، یعنی، اب یہ واقعی آزاد ہو گیا اور 'آباؤ اجداد کے طریق' کی بجائے 'واحدانیت' کے قدیم تصور سے ایک بار پھر جڑ گیا۔ کعبہ کو مکمل طور پر ایک خدا سے منسوب کر دیا گیا اور محمدؐ نے اپنے دائرہ اختیار میں اپنے پیغام، یعنی اتحاد اور یگانگت، برابری کو فروغ دیتے ہوئے پرانی تمام رنجشیں بھلا کر مکہ کی اشرافیہ کو معاف کر دیا۔ یہی نہیں، انہیں اس نئی ریاست کے انتظام و انصرام، قیادت میں کلیدی کردار بھی دے دیا۔
لیکن وائے افسوس، ایسا ہوتا ہے کہ اکثر دوست، دیرینہ دشمنوں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ محمدؐ اچھی طرح جانتے تھے کہ نقصان صرف دشمن ہی نہیں پہنچاتے۔ ضرورت پڑے تو وہ جو انتہائی قریب ہیں، وہ بھی تل سکتے ہیں۔ اس زمانے میں بھی، پوری دنیا میں یہی مشہور تھا کہ اختیار اور اقتدار کی منزل پانا خاصے جان جوکھوں کا کام ہے۔ یہ حقیقت بھی تھی، اس کے لیے پاپڑ بیلنے پڑتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ رہنمائی کا طرہ ہونا ضروری تھا۔ ایسے حالات میں، اکثر رہنما، اپنا جانشین مقرر کرنے سے کترایا کرتے تھے۔ اس کی وجہ تھی۔ وجہ یہ تھی کہ بھلے کوئی کس قدر بھی بھروسا مند ساتھی ہو، چاہے جتنا بھی اعتماد کر لو، بالآخر وہ یا اس کے حامی چاہتے تھے کہ یہ کام جلد از جلد ہو جائے۔ یعنی، معاملات کو قدرتی طریقے سے، اپنے وقت کے مطابق پورا ہونے کی بجائے مصنوعی طریقے سے منطقی انجام تک پہنچانے کو کوششیں شروع ہو جاتیں۔ شہد میں گھول کر یا دنبے کی بھنی ہوئی لذیذ بوٹیوں میں ایک چٹکی زہر شامل کرنا کونسا مشکل کام ہوتا؟ تب بھی، یہ حربے کوئی نئی بات نہیں تھی۔ بلکہ، اسلامی تاریخ میں بھی یہ چیزیں بہت جلد عام ہو جائیں گی۔
یہ تو ایک رخ ہے۔ قوی امکان یہ ہے کہ محمدؐ نے اس لیے جانشین مقرر نہیں کیا، کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ جس لمحے انہوں نے رسمی طور پر قائم مقام یا وارث نامزد کر دیا، وہ اسی دن سے اپنے ہاتھوں امہ میں تقسیم کا بیج بو دیں گے، یا شاید وہ اس انقسام کو بڑھوتری کا باعث بن جائیں، جو پہلے سے موجود تھی؟ وہ کبھی یہ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ جس مقصد کے لیے انہوں نے اپنی زندگی وقف کر دی، اپنے دیرینہ دشمنوں کو خون بھی معاف کر دیے اور اتحاد اور یگانگت کی غرض سے ہر طرح کا سامان کر لیا تھا، اب آخر وقت میں وہ ان کے اپنے ہاتھوں تال ترغہ ہو جائے۔ وہ جانتے تھے کہ اس طرح ان کے ارد گرد، دوستوں اور مشیران میں حسد اور جلن کا عنصر پیدا ہو جائے گا اور وہ لوگ جو ان کے بھروسا مند ساتھی تھے، ان کی آنکھوں کے سامنے اپنا اثر قائم کرنے اور اختیار حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جائیں گے ۔حالانکہ محمدؐ خود ایک کرشماتی شخصیت کے مالک تھے، بلکہ پیغمبر تھے لیکن جب معاملہ ریاست کے اختیار کا آ جائے تو پھر انہیں پتہ تھا کہ ارد گرد لوگ، کچھ بھی کر گزریں گے۔ ایک ذرا لحاظ نہیں کریں گے، کیونکہ وہ انہیں اچھی طرح جانتے تھے۔ تاہم، اس ضمن میں، یعنی اپنے حامیوں اور رفقاء کو جس قدر اس بابت وہ ٹھنڈا رکھنے کی کوشش کرتے، ان میں عدم اعتماد اور تفاوت کی کمی روز بروز بڑھتی ہی دکھائی دے رہی تھی اور اب جب کہ محمدؐ ایک مریض کمرے تک محدود ہو گئے تھے، یہ نفاق صاف دکھائی دے رہا تھا۔ وہ دیکھ سکتے تھے کہ اب لوگ گروہوں میں بٹ جائیں گے، دھڑے بازی شروع ہو گی اور ہر نئے دن کے ساتھ بحث میں اضافہ ہی ہوتا چلا جائے گا۔ ان کی پوری زندگی کی محنت داؤ پر لگ جائے گی۔ لوگوں کو جوڑے رکھنے کے لیے انہوں نے اپنی جان بھی کئی بار خطرے میں ڈالی، تمام عمر کا حاصل ہو سکتا تھا کہ، کھو جائے۔ شاید، ایسا ہونا اٹل تھا لیکن محمدؐ کا معاملہ یہ رہا ہو گا کہ وہ یقیناً اس اسقاط کی ابتداء اپنے ہاتھوں سے نہیں کرنا چاہتے ہوں گے۔ انہوں نے تو قبائل کے بیچ ایک عرصے سے جاری چپقلش ختم کی تھی۔ بے اختیار اور پسے ہوئے طبقات کو آواز، طاقت دی تھی۔ مکہ کی حکومت امراء کو شکست سے دوچار کیا تھا۔ لا دینی کو حتمی طور پر نکال باہر کیا تھا اور جھوٹے خداؤں کو نیچا دکھا دیا تھا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے تو دنیا کے ایک بڑے مذہب، بلکہ تیسرے بڑے توحیدی نظریے کی بنیاد رکھ دی تھی۔ انہوں نے تو ناممکن کو ممکن کر دکھایا تھا۔ اب، کیا وہ اسی مسئلے کو جو کبھی نا ممکن ہوا کرتا تھا، اب دوبارہ اپنے ہاتھوں پنپنے دے سکتے تھے؟
تاریخ میں ایسے شواہد موجود ہیں، جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ محمدؐ بھانپ چکے تھے کہ ان کے بعد کیا ہونے جا رہا ہے۔ ایک روایت یہ ہے کہ ان کے آخری الفاظ یہ تھے، 'اے اللہ، میری امت پر رحم کر جو میرے بعد جانشین ہوں گے'۔ آخر اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا یہ کسر نفسی اور انکسار کا مظاہرہ تھا؟ یا شاید یہ ایک خدا کے حضور گزارش تھی کہ وہ لوگوں کی مدد کرے؟ یا کیا محمدؐ ، اپنے آخری دم پر، آنے والے وقت میں خون اور دکھ کی اس داستان کو کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے تھے؟ یہ کیا تھا؟ ایسے معاملات میں قدیم عرب کہاوت میں کہا جاتا ہے کہ، 'خدا بہتر جانتا ہے'۔ اسی طرح ہمیں کبھی معلوم نہیں ہو سکے گا۔ الفاظ کا قضیہ یہ ہے کہ وہ ہمیشہ ہی تشریحات کے تابع ہوتے ہیں۔ تخیل، دوسری طرف ایسی چیز ہے جس کی کوئی حد نہیں لیکن اس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ داستانیں گھڑنے والوں کے لیے کار آمد تو ہوتا ہے لیکن تاریخ میں اس کے لیے زیادہ جگہ نہیں ہوتی۔ سچ کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہمیں تاریخ کے بنیادی حقائق پر انحصار کرنا پڑتا ہے اور ان روایات کا سہارا لینا ضروری ہوتا ہے جو پہلے سے موجود ہیں۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ تاریخ کی ان روایات کے کئی زاویے نکل آتے ہیں اور ہر شخص، اپنی مرضی اور غرض کے عین مطابق ان روایات کی ناک موم کی طرح اپنی من پسند اطراف میں موڑ سکتا ہے۔
سنی علماء اور سکالر آنے والی صدیوں میں اصرار کریں گے کہ محمدؐ کو اپنے پیروکاروں کی خیر خواہی اور شخصی سالمیت پر اس قدر اعتماد تھا کہ انہوں نے اس معاملے میں ان پر ہی اعتبار کیا۔ صرف انہی پر نہیں بلکہ فیصلہ خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دیا۔ انہیں یقین تھا کہ بالآخر ان کے دیرینہ رفقاء خدا کی مرضی کے عین مطابق، درست فیصلے تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ انہی عالمین کے مطابق، محمدؐ کے نزدیک امہ کی حیثیت نہایت مقدس اور واجب التعظیم رہی تھی۔ مراد یہ ہے کہ امتی ہر صورت، اپنی راست بازی کی بنیاد پر، صداقت اور اجتماعیت کو فروغ دیتے ہوئے درست سمت میں قدم اٹھائیں گے۔ لیکن، دوسری طرف شیعہ کے علماء اور سکالروں کا خیال یہ ہے کہ محمدؐ نے بہت پہلے ہی اپنے انتہائی قریبی عزیز اور داماد، یعنی علی کو خدا کی مرضی کے عین مطابق جانشین مقرر کر دیا تھا۔ ان کے خیال میں، آپؐ نے اس بات کا ایک سے زیادہ مواقع پر اور عوامی سطح پر اشارہ دیا تھا۔ مزید یہ کہ اگر علی کے مخالفین آخری وقت میں، جب محمدؐ بیماری کی حالت میں مسجد سے ملحق کمرے تک محدود تھے، ان کی وصیت لکھوانے کی کوشش کو سبوتاژ نہ کرتے تو یقیناً، ایک بار پھر، واضح طور پر وہ علی کو بطور جانشین مقرر کرنے والے تھے۔
محمدؐ کی زندگی کے آخری دس دنوں میں، وہ تمام لوگ جو آنے والے سالوں میں شیعہ اور سنی کی اس داستان میں کلیدی کردار ادا کریں گے، اس مریض کمرے میں ان کی آمد و رفت جاری رہی۔ ان اصحاب میں ایک عورت اور پانچ مرد شامل ہیں ۔ ان میں سے ہر شخص آپؐ کا قریبی رشتہ دار یا رفیق ہے۔ اسی طرح، ان میں سے ہر ایک کی محمدؐ کے بعد جانشینی میں گہری دلچسپی ہے۔ مردوں میں محمدؐ کے دو سسر، دو داماد اور ایک برادر نسبتی شامل ہے۔ یہ پانچوں ہی ایک یا دوسری صورت، بالآخر محمدؐ کے بعد جانشین مقرر ہو کر رہیں گے۔ انہیں 'خلیفہ' یا 'محمدؐ کا جانشین' قرار دیا جاتا رہے گا۔ لیکن، سوال یہ تھا کہ آخر ان میں سے پہلے کون ہو گا؟ خلافت کے منصب کی حقداری کس ترتیب سے ہو گی؟ اور یہ سب کیونکر ہو گا؟ یہی اس داستان کی بنیاد ہے۔ آنے والے چودہ سو سالوں تک یہی قضیہ، جو بظاہر معمولی نظر آتا ہے، بالآخر گہرے نفاق اور تقسیم کا باعث بن جائے گا۔
ان اصحاب کے بیچ جو بھی اختلاف رہے ہوں، وہ اس چپقلش سے کہیں کم تھے جو اس کمرے میں عورت، یعنی محمدؐ کی سب سے کم عمر ، پسندیدہ مگر لا ولد بیوی عائشہ اور مردوں میں سب سے کم عمر، علی کے بیچ چلی آ رہی تھی۔ علی ، محمدؐ کے چچا زاد تھے، تقریباً لے پالک اور داماد ہونے کے ناطے، ان کے سب سے قریبی مرد رشتہ دار تھے۔ یہ دونوں ہی، یعنی علی اور عائشہ محمدؐ کے انتہائی قریب تھے اور روزمرہ زندگی میں ہمیشہ ان کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ لیکن، باوجود آپؐ کے ساتھ انتہائی قربت کے، پچھلے کئی برسوں سے ان کے بیچ بات چیت بند تھی۔ یہاں تک کہ وہ محمدؐ کی موجودگی میں بھی ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے تھے۔
ان دونوں کے بیچ کشیدگی محمدؐ کی بیماری کے دوران بھی جاری رہی ۔ مریض کمرے کی فضا جو پہلے ہی مقدور تھی، یقیناً مزید تناؤ کا شکار ہو گئی ہو گی۔ شاید، خود محمدؐ کو بھی اس وقت تک ادراک نہیں تھا کہ علی اور عائشہ کے بیچ جاری یہ چپقلش آگے چل کر اسلام کے مستقبل پر کس قدر گہرا اثر ڈالے گی۔ ویسے بھی، کون سوچ سکتا تھا کہ سات برس پہلے پیش آنے والا گمشدہ ہار کا واقعہ، جو تب خوش اسلوبی سے حل ہو چکا تھا، اب آنے والی صدیوں میں تقسیم اور نفاق کی بنیاد بن سکتا ہے؟

صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان'  کی دوسری قسط 16 جولائی، 2016ء کو شائع کی جائے گی۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر