اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 02



یہ صرف ایک ہار نہیں تھا، اگرچہ بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ یہ عام سا ہار تھا۔ یعنی، ایک ڈوری میں چند منکے پروئے ہوئے تھے۔ زیادہ سے زیادہ یہ عقیق یا مرجان رہے ہوں گے، یا پھر شاید سمندر کی سیپیاں ہوں گی؟ عائشہ نے اس بابت کبھی ذکر نہیں کیا اور اگر کبھی کوئی استفسار کر بھی لیتا تو وہ ہاتھ کے اشارے سے وہیں روک دیتیں، گویا یہ اہم نہیں تھا۔ غالباً، وہ ٹھیک تھیں۔ یہ ضروری نہیں تھا کہ ہار کیسا تھا؟ یا کیا تھا؟ یا کہو کس مالیت کا تھا؟ یہ بس ایک ہار تھا جو لڑکیاں پہنا کرتی ہیں یا وہ پہننا چاہیں گی۔ لیکن، یہ صرف ایک ہار نہیں تھا ۔ اس کی قیمت ہیروں اور موتیوں سے بھی کہیں بڑھ کر تھی۔ یہ ہار محمدؐ نے عائشہ کو شادی کے تحفہ میں دیا تھا۔
ہار کی گمشدگی اور اس واقعہ کے نتیجے میں پیش آنے والی فضیحت اور نالش کو 'گمشدہ ہار کا واقعہ' کے نام سے یاد کیا جائے گا۔ اس زمانے میں یہ منہ در منہ چلنے والی ایسی کہانی ہے جو ہر زبان پر ایک یا دوسری دوسری صورت عام رہی۔ عام فہم میں یوں کہیے کہ بے تکلف داستانوں میں سے ایک تھی جیسی پرانے زمانے میں ہوا کرتی تھیں، لوگ اس کا تذکرہ کرتے اور بار بار، کئی مواقع پر ایک دوسرے کو سناتے۔ پھر تاریخ نے پلٹا کھایا اور چھپائی کے ساتھ پڑھنا لکھنا عام ہو گیا تو اب یہ داستانیں، صرف پڑھنے کو ملتی ہیں۔ قصہ خوانی کا بہرحال معاملہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ اس کو اپنی حیثیت اور موقع محل کی مناسبت سے بنا کر پیش کرتے ہیں، لطف لیتے ہیں اور بسا اوقات، اصل قصے کو توڑ مروڑ دیتے ہیں۔ 'گمشدہ ہار کا واقعہ' ہی نہیں بلکہ کئی دوسرے تاریخی واقعات جیسے 'اہل بیت کا چوغہ'، 'قلم اور کاغذ کا واقعہ'، 'اونٹ کی لڑائی'، 'خفیہ خط' اور 'چیخ و چنگھاڑ کی رات' وغیرہ اور کئی دوسری ایسی مثالیں ہیں جو اسلامی تاریخ کی بنیاد بن گئیں۔ یہ ایسی تاریخ ہے جو داستان کی شکل میں بیان کی گئی ہے۔ اس طرح کی بیان کردہ تواریخ کے ساتھ ہمیشہ سے ہی ایسا ہوتا آیا ہے کہ اس میں تفاصیل تو موجود ہیں لیکن بسا اوقات حقائق مسخ ہو جاتے ہیں اور ایک ہی واقعے کے کئی رخ، اقوال کے مفہوم اور افعال کی تشریحات عام مل جاتی ہیں۔
اسلامی تاریخ کے پہلے سو برس، یہ کہانیاں اور قصے صفحے پر نہیں بلکہ لوگوں کی زبانوں پر عام تھے۔ وہ یہ واقعات کچھ یوں سناتے کہ جیسے انہوں نے سن رکھے ہوتے تھے۔ ان سے پہلے سننے والوں نے دل اور دماغ حاضر کر کے، اپنے کانوں سے یہ قصے ان لوگوں سے سن رکھے تھے جن کے ساتھ یا سامنے یہ تاریخی واقعات پیش آئے۔ چنانچہ، سالہا سال کی اس مشق سے ان واقعات کی تفصیل ایک قصے کی شکل اختیار کر گئی، جس میں افسانوی رنگ واضح تھا۔ لوگوں کی یہی یاد داشتیں، مورخین کے لیے تاریخ کو مرتب کرنے کا خام مال بن گئیں۔ یہ تاریخ دان مشرق وسطیٰ کے طول و عرض میں سفر کرتے اور لوگوں سے ان کی یاد میں محفوظ کہانیوں کو جمع کرتے رہتے۔ اس کام میں وہ خاصی احتیاط سے کام لیتے تھے۔ یعنی ہر بیان کو اچھی طرح ٹٹولتے، جانچ کرتے اور اس کے ساتھ قصہ سنانے والے کا نام اور ماخذ سمیت نہایت اہم تفصیلات کو بھی ساتھ رقم کرتے جاتے۔ اس طرح، ہر روایت کی تہہ تک پہنچنے کو ممکن بنانے کی کوشش کرتے۔ اس مشقت کو 'اسناد' کہا جاتا ہے، جس کا مطلب کسی بھی نسخے کے اصل ماخذ کا قرار واقعی معلومہ کا تعین کرنا ہے یا اس کی تصدیق مراد ہے۔ اس کام کو روایت بیان کرنے والے سے یوں منسوب کیا گیا ہے کہ مثلاً، "مجھے 'الف' نے بتایا، جس کو 'ب' نے بتایا تھا، خود 'ب' کو 'ج' نے یہ واقعہ سنایا تھا جو اس وقت وہیں موقع پر موجود تھا، جب یہ واقعہ پیش آیا یا بات کہی گئی"۔
ابن اسحاق کی لکھی، محمدؐ کی سوانح حیات ، 'سیرت رسول' ، ابو جعفر الطبری کی پر شکوہ 'تاریخ اسلا م جس کی کل جلدیں انتالیس ہیں، ابن سعد کی جمع کردہ یاد داشتوں کے مجموعے جن میں اکثر مزے دار واقعات بیان کیے گئے ہیں اور البلازری کی 'انساب الاشراف' جو عربوں کی تاریخ ہے، ان تمام نسخوں میں یہ طریقہ ،یعنی 'اسناد' عام ملتا ہے۔ یہ ایک طرح سے بے مثال اور بیان کرنے کا نہایت عمدہ طریقہ کار ہے جس سے ہمیں نہ صرف تاریخ کے کونوں کھدروں میں بھی جھانکنے کا اچھی طرح موقع ملتا ہے بلکہ یوں ایک ربط بھی پیدا ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ان مورخین کا یہ طریقہ کار تاریخی واقعات اور حالات کو مرتب کرنے کا ایک انتہائی موثر طریقہ ہے۔ اسے ادب کی زبان میں 'راشومونی تاثیر' یا 'راشومون کا طریقہ' کہا جاتا ہے، جس کے تحت ایک واقعہ کے کئی رخ واضح ہو جاتے ہیں۔ مثلاً یوں کہ اگر ایک ہی واقعہ کے چھ عینی شاہد ہوں تو ان کے بیان کو علیحدہ علیحدہ جمع ریکارڈ کرنے سے ہمیں معمولی فرق کے ساتھ چھ مختلف بیانات مل جاتے ہیں، جنہیں ہم جمع کر کے ایک ہی واضح روایت بنا سکتے ہیں۔ یوں، تاریخ صرف ایک یا دو اشخاص کا بیان، یا کہیے دوسری صورت میں صرف چند لوگوں یا خود مورخ کے ذاتی احساسات و خیالات سے آلودہ نہیں ہو پاتے۔
الطبری خود سنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے لیکن ان کی مرتب کردہ تاریخ شیعہ اور سنی، دونوں میں ہی مقبول ہے۔ دونوں ہی گروہ ان کی تصنیف و تالیف کو مستند جانتے ہیں۔ پھر، جس قدر تفصیل اور گہرائی سے کام لیا گیا ہے، وہ علیحدہ سند ہے۔ وہ ایک ہی واقعے، موقعے یا معاملے کا بار بار پیچھا کرتے ہیں۔ بعض مقامات پر تو ایسے لگتا ہے کہ معاملات ان کے حواس پر چھا گئے ہیں۔ ان تفاصیل میں بیسیوں لوگ اپنی سمجھ اور یاد داشت کے مطابق بیان دیتے نظر آتے ہیں اور یوں ان تاریخی واقعات کی ایک ایسی شکل ابھر کر سامنے آتی ہے کہ پڑھنے والا پوری طرح معاملے کی طے تک پہنچ جاتا ہے۔ الطبری کا یہ طریق، حیران کن طور پر آج بھی ما بعد جدیدیت کی انتہائی عمدہ شکل نظر آتا ہے۔ مراد یہ ہے کہ جدید رجحانات کو رد کرتے ہوئے، سابقہ روایات کی طرف توجہ دلاتا ہے۔ سادہ الفاظ میں، اپنے زمانے کے لحاظ سے حقائق کی جانچ اور پرکھ کا انتہائی کار آمد اور قابل اعتبار طریقہ تھا ۔ یہی نہیں، الطبری کو اس بات کا پوری طرح ادراک تھا کہ انسانی سچ، ہمیشہ ہی نقائص سے بھر پور ہوتا ہے۔ اس کے کئی رخ ہو سکتے ہیں۔ مطلب یہ کہ حقیقت کی کئی اشکال ہوتی ہیں اور ہر شخص اس ضمن میں مختلف رائے رکھتا ہے اور حقائق کو بیان کرنے یا انہیں سمجھنے اور سمجھانے میں کسی نہ کسی سطح پر بالضرور ہی جانبدار ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہم کسی بھی معاملے میں، معروضیت یا اصلیت کے جس قدر ممکن ہو، قریب پہنچنے کی کوشش کر سکتے ہیں اور یہی حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ الطبری کئی اختلافی معاملات میں جب اپنی پوری سعی کر چکتے ہیں تو آخر میں تصفیہ بیان کرتے ہوئے ساتھ 'صرف خدا ہی بہتر جانتا ہے'، ٹانک دیتے ہیں۔ یعنی، اس سے آگے، انسانی سطح پر سچ کی جانچ ممکن نہیں رہتی۔
ساتویں صدی عیسوی سے آتی یہ آوازیں، جو ہم تک اوائل دور کی تواریخ کے ذریعے پہنچی ہیں، پڑھنا شروع کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آپ کسی انگوری بیل کے گھنے جنگل میں بیٹھے ہیں اور چہار طرف علم و عرفان کے خوشے بکھرے ہیں اور بس ہاتھ بڑھاؤ اور توڑ کر کھانا شروع کر دو۔ روایات کے یہ مجموعے اس قدر دلچسپ ہیں کہ پڑھتے ہوئے زمان و مکان کا فرق مٹ جاتا ہے اور ہم اکیسویں صدی میں رہتے ہوئے، اس دور کی یاد کو ایسے تازہ کر دیتے ہیں جیسے خود وہاں موجود ہوں۔ بیان ہی کچھ ایسا ہے کہ آدمی کھو کر رہ جاتا ہے۔ انہوں نے کیا دیکھا انہوں نے کیا سنا، اس نے کیا کہا اور اس نے کیا جواب دیا۔۔۔ تفاصیل اس قدر واضح ہیں کہ جا بجا زبان انتہائی پر مغز ہوتی جاتی ہے۔ یہ تاریخ دانی کا اس قدر عمدہ نمونہ ہیں کہ مروجہ اصولوں کے مطابق، روایتی مورخین سے اس طرح کے کام کی عام طور پر توقع نہیں ہوتی۔ ان تواریخ میں زبان و بیان کے ساتھ سچائی کی چاشنی ہے۔ حقیقی لوگوں کے احوال ہیں جنہوں نے نہایت پر فتن دور میں زندگیاں بیتائی ہیں۔ پھر، تہذیب اور تمدن کا بھی پوری طرح دھیان رکھا گیا ہے اور یوں ہمیں ایسی واضح تاریخ مل جاتی ہے جس میں اس زمانے میں استعمال ہونے والی ہر طرح کی زبان، چاہے وہ کوسنے اور پھٹکار ہوں یا دعا اور خوش بیانی ہو، انتہائی بے تکلف انداز میں پڑھنے کو مل جاتی ہے۔ انہی وجوہات کی بنیاد پر یہ تواریخ ہر شخص چاہے مسلم ہو یا غیر مسلم، شیعہ یا سنی۔۔۔ سب کے لیے قابل قبول تو ہیں، لیکن ساتھ یہ بھی ہے کہ اسلامی تاریخ کے اہم واقعات میں یہی کوسنے اور خوش بیانی، حالات و واقعات کی روح کو بیان کرتے ہیں۔
ہار، مدینہ سے باہر ایک دن کی مسافت کے فاصلے پر گم ہوا۔ ماجرا یہ تھا کہ یہ محمدؐ کی عرب قبائل کو ایک ہی جھنڈے تلے یکجا کرے کی زور و شور سے جاری تحریک کی ایک مہم سے واپسی کا سفر تھا۔ اس طرح کی کئی مہمات ہوئیں، جو دنوں، ہفتوں اور اکثر مہینوں تک جاری رہتیں۔ اس طرح کے سفر پر محمدؐ ہمیشہ ہی اپنے ساتھ اپنی کسی نہ کسی بیوی کو ہمراہ رکھتے۔ عام طور پر عائشہ ان مہمات پر ساتھ جانے کے لیے ہمیشہ ہی تیار رہتیں اور انتہائی جوش و خروش کا مظاہرہ کرتیں۔
ایسا ہونا قدرتی بھی تھا۔ عائشہ چونکہ ایک نو عمر شہری لڑکی تھیں ، جو خوش باش اور تیز طرار بھی تھیں، ان کے لیے مضافات اور صحرائی دیہاتوں میں سفر پر جوش اور ہیجان خیز تجربہ رہا کرتا ہو گا۔ اگرچہ مدینہ ابھی تک ویسا شہر نہیں تھا جیسا کہ ہم آج شہری علاقوں کا تصور رکھتے ہیں، یہ اس وقت تک کئی قبائلی دیہاتوں کے جمع ہو کر قصبے کا منظر پیش کرتا تھا۔ لیکن، ہر گاؤں کی اپنی حدود اور حفاظتی فصیلیں ہوا کرتی تھیں۔ مدینہ ایک نخلستان تھا اور اس کے بیچوں بیچ بسے ہوئے فصیل دار گاؤں، ایک طرح سے کہیے تو خانہ بدوش صحرائیوں کے لیے شہر کا ہی درجہ رکھتا تھا اور اس کے زیادہ تر باسی صحرائی زندگی سے متعلق، مالیخولیا ، یعنی ماضی کی یاد کو تازہ کرتے رہتے۔ صحرا کی زندگی میں سادگی ہوتی ہے ، لوگ مخلص اور اصیل ہوتے ہیں۔ ان خصوصیات کو طویل نظموں میں سراہا جاتا۔ لیکن ساتھ ہی، یہ زندگی خاصی مشکل اور جفا کشی کی متقاضی بھی ہوتی ہے تو اس سختی کو صحرا کے باسیوں کی روحانیت پسندی ، شرافت، جرات اور بہادری کی داستانوں میں خاص طور پر یاد کیا جاتا ۔ کہا جاتا کہ یہ خاصیت اب شہری زندگی میں کہیں گم ہو کر رہ گئی تھی۔
عائشہ کے لیے ان مہمات کا حصہ ہونے میں خاصا رومان رہا کرتا ہو گا۔ مدینہ کے سرسبز نخلستان سے نکل کر خشک اور بیابان پہاڑوں میں نا ہموار راستوں پر گزر، یہ پہاڑ مدینہ اور وسطی اور شمالی عرب کے لق و دق صحرا کے بیچ حائل رہتے۔ انہیں حجاز کہا جاتا ، جس کا عربی میں مطلب رکاوٹ کے ہیں۔ ان پہاڑوں کے اس پار سات سو میل طویل صحرا کے بارانی میدان تھے جس کی دوسری حد پر دریائی علاقے تھے، جسے عراق کہتے ہیں۔ عراق، فارسی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی نشیب کے ہیں۔
عائشہ کے لیے صحرا کی افسانوی بے آلائشی اور لطافت کو کھوجنے کا یہی موقع تھا۔ یقیناً، وہ ان سفروں سے بھر پور انداز میں محظوظ ہوتی ہوں گی۔ راستہ دکھانے والے کھوجی، ان کی مہارت قابل داد تھی۔ انہیں صحرا کی ہر چیز بارے خبر تھی۔ چشمے کہاں واقع ہیں، کتنی گہرائی میں پانی نکلے گا، کس چٹان کے پیچھے ٹھنڈا پانی ہے، کنوئیں کتنی دور ہیں اور کسی بھی موسم میں صحرا کی ترائیاں کس جگہ مل جائیں گی، جن میں بارش کا پانی ابھی بھی موجود ہو سکتا ہے؟ انہیں کسی قطب نما کی ضرورت تھی اور نہ ہی ان کے پاس نقشے ہوا کرتے تھے، لیکن پھر بھی وہ صحرا کے چپے چپے سے واقف تھے۔ زمین کا نقشہ اور طور ان کے ذہنوں پر نقش تھا۔ یہ کھوجی واقعی صحرا کے راز دان تھے۔
اونٹ پر لدی کاٹھی پر جمی پالکی میں بیٹھے، بلندی سے کیا عمدہ منظر آنکھوں کے سامنے رہتے ہوں گے؟ جہاں تک نظر جاتی ہو گی وہ شمال کے میدانی علاقوں میں، جہاں گھاس بکثرت ہوا کرتی تھی، اونٹ اور گھوڑوں کے جتھے ہی جتھے دیکھتی ہوں گی۔ خیبر اور فدک کے نخلستان صحرا میں یوں لگتے ہوں گے جیسے خشک و بیابان وادیوں کے گھیرے میں سبز دمکتے ہوئے زمرد کے قیمتی پتھر ہوں۔ پھر یہاں کانوں سے سونا اور چاندی بھی نکلتا تھا، جو حجاز کی آمدن کا ایک بڑا ذریعہ ہوا کرتا تھا۔ بدو قبائل، جو فطرتاً خانہ بدوش اور سخت جان ہیں، جا بجا ان کی بستیاں ہوں گی۔ ان قبائل سے تعلق رکھنے والے اونچے قد کے انتہائی مضبوط اور نک چڑھے جنگجو۔۔۔ یہ سب مناظر، کسی بھی شہری لڑکی کے لیے خاصے مسحور کن ہو سکتے ہیں۔ پھر، قبائل کے ساتھ کئی گھنٹے طویل مذاکرات جس محمدؐ اور اسلام کو ماننے سے انکاری ہوتے۔ امید یہ ہوتی کہ بالآخر پر امن نتائج بر آمد ہوں گے، مگر وہیں یہ دھڑکا بھی لگا رہتا کہ بات ابھی بگڑی یا تب بگڑے گی۔ بات بگڑ گئی تو پھر مذاکرات منقطع ہو جائیں گے اور یوں فیصلہ بات چیت سے نکل کر تلوار کے ہاتھوں میں رہ جائے گا۔ مردوں کی آوازیں اونچی ہوتی جاتیں اور نتھنے پھولنے لگے اور دیکھتے ہی دیکھتے فضا میں تلواروں کی ٹھن ٹھناہٹ، چیخ و پکار اور پھر خون کی بو پھیل جاتی۔
یہی مہمات تھیں، جن کے دوران عائشہ کو لڑائی کے بیچ رہ کر جنگ جدل اور خون ریزی کو آنکھوں کے سامنے برداشت کرنے کا تجربہ ملا۔ انہی مواقع پر عورتوں کے قدیم کردار، یعنی جنگجوؤں کو چیخ چیخ کر آگے بڑھنے اور لڑنے مرنے پر آمادہ رکھنے کا طریقہ سیکھنے کا موقع ملا۔ ساتویں صدی عرب کی عورتیں مثال جیسے آج کہا جاتا ہے، بنفشہ کا پھول نہیں ہوا کرتی تھیں جو سہمی اور سمٹی ہوئی رہا کرتی ہوں۔ بالخصوص عائشہ تو ایسی ہر گز نہیں تھیں، وہ بے باک، زبان کی تیز اور حاضر جواب تھیں۔ گھمسان کی جنگ میں، میدان کے وسط میں جم کر کھڑے رہتے ہوئے دشمن کو برا بھلا کہنے کی ہمت تھی، اپنے جنگجوؤں کو سراہنا جانتی تھیں اور مردوں کے لڑ کر مر جانے کے فن سے بخوبی واقف تھیں۔ کئی سالوں بعد وہ یہی کام انتہائی مہارت سے سر انجام دیں گی، جب ان کی سپہ سالاری میں لشکر علی کی فوجوں سے بھڑ رہا ہو گا۔ ان کی فوج کے سپاہی، قدموں میں کٹ کر مرتے جائیں گے لیکن وہ پیچھے ہٹنے پر راضی نہ ہوں گی۔ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ ان کی دشنام طرازی اور لعنت ملامت ہر لحاظ سے مخالفین کے حوصلے پست کرنے کے قابل تھی۔ وہ اس طرح ان کے چھکے چھڑا دیتیں، انتہائی تیز اور بلند بانگ انداز میں، بلا کی خود اعتمادی کے ساتھ بھیانک اور دہشت پیدا کرنے کے انداز میں تقریر کرتیں۔ ان مواقع پر ان کی آواز انتہائی تیز، کانوں کو چیرتی ہوئی محسوس ہوتی جو بلا شبہ عائشہ کی جوانمرد شخصیت کا خاصہ تھی۔ لیکن، اب ان کی یہی زبان درازی اور فہم فراست، انہیں دھوکہ دے گی۔
ہوا یہ کہ کامیاب مہم کے بعد، محمدؐ نے واپسی کا ارادہ کیا۔ ابھی رات کی تاریکی تھی، جب انہوں نے خیمے اکھاڑنے شروع کر دیے۔ سورج چڑھنے سے صحرا تپ جاتا اور مشکل ہوتی، اس لیے ارادہ یہ تھا کہ صبح کے خنک موسم میں جس قدر ممکن ہو، سفر مکمل کر لیا جائے۔ ابھی منہ اندھیرا تھا، عائشہ قافلے کے خیموں سے نکل کر تقریباً سو گز دور، جھاڑیوں میں رفع حاجت کے لیے گئیں۔ آج بھی دنیا میں کئی جگہوں پر، جنگل بیلوں میں لوگوں کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ خیر، وہ واپس آ کر اپنے اونٹ کی پالکی میں بیٹھ گئیں، قافلہ روانگی کے لیے تیار تھا۔ وہ سنبھل کر بیٹھی ہی تھیں کہ انہیں محسوس ہوا کہ شاید کچھ کھو گیا ہے۔ انہوں نے ٹٹولا تو ان کی سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔ ایک دم جیسے کسی خاص چیز کے گم ہو جانے پر ہوتا ہے، وہ بوکھلا سی گئیں۔ ان کا ہار، جو محمدؐ نے انہیں شادی کے موقع پر تحفے میں دیا تھا، غائب تھا۔
وہ فوراً ہی سمجھ گئیں کہ کیا ماجرا ہوا ہے۔ ہار کی ڈوری، کسی جھاڑی میں الجھ کر ٹوٹ گئی ہو گی اور انہیں پتہ ہی نہ چلا ہو، منکے مٹی میں بکھر گئے ہوں گے۔ انہوں نے سوچا، اگر وہ پھرتی سے کام لیں تو ابھی قافلے کی روانگی میں وقت ہے اور وہ کھویا ہوا ہار ڈھونڈ نکال سکتی ہیں۔ وہ کسی کو بتائے بغیر، پالکی سے اتریں اور الٹے قدموں، گمشدہ ہار تلاشنے چل پڑیں۔
جس قدر پھرتی عائشہ نے دکھائی تھی، انہیں منکے تلاشتے اتنی ہی دیر لگ گئی۔ ظاہر ہے، صبح پو پھوٹنے سے پہلے کے اندھیرے میں، جھاڑیاں ایک سی ہی معلوم ہوتی تھیں۔ پھر جب مطلوبہ جگہ پر پہنچ بھی گئیں تو جھاڑ پھونس تلے، ریت میں ایک ایک موتی تلاشنا جنھجھلا دینے کو کافی تھا۔ خیر، جب وہ جھاڑ اکھاڑتیں، ریت میں ٹٹولتیں، انگلیوں کو زخمی کر بیٹھیں تو منکے پورے ہو گئے۔ فوراً ڈوری میں پروئے اور واپس ہو لیں۔ لیکن کیا دیکھتی ہیں کہ قافلے کا نام و نشان بھی نہیں ہے۔ وہ آگے بڑھ چکے تھے اور عائشہ صحرا کے وسط میں تن تنہا، پیچھے رہ گئی تھیں۔
ایسا کیونکر ہوا، یہ سمجھ میں آتا ہے۔ ان کی خادمہ، جو کہ ایتھوپیائی باندی تھی، اس نے عائشہ کو اونٹ کی پالکی میں سوار ہوتے تو دیکھا لیکن جب وہ ہار ڈھونڈنے نکلیں تو کسی کی نظر میں نہ آ سکیں۔ سب نے یہی سمجھا کہ عائشہ پالکی کے اندر ہیں کیونکہ، پردہ تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ اب باقی ماندہ سفر میں، کسی طور بھی یہاں کسی کو مخل ہونا نہیں دیکھنا چاہتیں۔ اسی گماں میں کہ وہ موجود ہیں، قافلہ ان کے بغیر ہی روانہ ہو گیا۔ یہاں تک تو سمجھ میں آتا ہے۔ جو زیادہ تر لوگوں کی سمجھ سے باہر ہے، وہ اس کے بعد واقعہ ہوا، یا کہیے، جو واقعہ نہیں ہوا۔
عائشہ نے قافلے کو نہ پا کر، اس کے پیچھے دوڑ نہیں لگائی۔ اگرچہ، راستہ واضح تھا اور صحرا میں ان کے لا پتہ ہونے کا بھی کوئی امکان نہیں تھا۔ حتی کہ وہ پیدل بھی روانہ نہیں ہوئیں، حالانکہ یہ اتنی دور بھی نہیں پہنچا ہو گا۔ مال سے لدے اونٹوں کے قافلے خاصے سست رفتار ہوا کرتے ہیں، اگر وہ چاہتیں تو گھنٹے بھر کے اندر، صبح سویرے کی خنکی میں ہی جا لیتیں۔
بجائے، خود ان کے الفاظ یہ ہیں کہ، 'میں نے خود کو چادر میں لپیٹ لیا اور وہیں لیٹ گئی جہاں سے قافلہ نکلا تھا۔ میں جانتی تھی کہ جب وہ مجھے اپنے ساتھ نہیں پائیں گے تو ضرور ہی ڈھونڈتے ہوئے یہاں واپس آئیں گے'۔
عائشہ کے لیے یہ بات نا قابل یقین تھی کہ کسی نے بھی قافلے میں ان کی غیر موجودگی کو محسوس نہیں کیا۔ ان کے خیال میں، یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ انہیں غائب پاتے اور پھر بھی سفر جاری رکھتے۔ یقیناً، فی الفور قافلہ رک جاتا اور لوگ انہیں ڈھونڈتے ہوئے یہاں پہنچ آتے۔ وہ کوئی عام عورت نہیں تھیں، پیغمبر کی بیوی تھیں اور اس لحاظ سے انہیں خصوصی حیثیت حاصل تھی۔ یوں، قافلے کے پیچھے دوڑ لگانا، انہیں زیب نہیں دیتا تھا۔ کسی بدو لڑکی کی طرح، اونٹوں کے پیچھے بھاگتی ہوئی وہ کیسی لگتیں؟ ویسے بھی، عائشہ نے تمام عمر اپنے لیے ایک امتیازی حیثیت اور رتبے پر زور دیا۔ دوسروں سے ممتاز رہنے کی یہ عادت ہمیشہ ہی بلا کی رہی اور مرتے دم تک قائم رہی۔
مثلاً، محمدؐ کے ساتھ شادی کی عمر کو ہی لے لیں۔ وہ کہا کرتیں کہ جب نکاح ہوا تو وہ ایک نو عمر لڑکی تھیں۔ اصرار رہتا کہ چھ سال کی عمر میں نکاح اور نو سال کی عمر میں رخصتی ہوئی۔ حالانکہ، یہ خلاف قیاس ہے اور ان کی زندگی میں بہت کم لوگ تھے، جو اس بات سے اختلاف کیا کرتے۔ بات یہ تھی کہ، لوگوں کو ان کی بات جھٹلانے کی ہمت نہیں تھی اور وہ کسی کو اس کی اجازت بھی نہیں دیا کرتی تھیں۔ کئی برسوں بعد اسلام کے ایک انتہائی طاقتور خلیفہ، معاویہ نے ان کے بارے کہا، ' کبھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا کہ کسی معاملے کو میں بند رکھنا چاہتا تو وہ اسے بند ہی رہنے دیتیں اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی مسئلے کو کھولنا چاہتا تو وہ بند کر کے دم لیتیں'۔
لیکن، اگر عائشہ واقعی اتنی کم عمری میں بیاہی گئی تھیں تو یقیناً دوسرے لوگ اس کی تردید یا تائید تو کرتے، اور ایسا روایت میں جا بجا ملتا بھی ہے۔ کئی بیانات ایسے ہیں جن کے تحت، ان کی شادی نو سال اور رخصتی بارہ سال کی عمر میں طے پائی۔ کیونکہ، اس وقت بھی رسم یہ تھی کہ لڑکیوں کی رخصتی، بلوغت سے پہلے نہیں کی جاتی تھی۔ مگر، پھر وہی بات ہے کہ اگر عائشہ کی شادی عام لڑکیوں کی طرح، رسم اور رواج کے مطابق ہوا کرتی تو اس طرح ان کا شمار بھی عام لڑکیوں میں ہوتا، جو ظاہر ہے، عائشہ کو منظور نہیں تھا۔
زندگی کے آخری حصے تک وہ لوگوں کو اپنی حیثیت اور رتبے کی یاد دہانی کراتی رہیں۔ ویسے بھی، اس داستان میں، وہ اپنے ہم عصر کلیدی کرداروں میں تا دیر زندہ رہیں تو ان کی بات کا وزن لوگوں میں اس لیے بھی بڑھ کر تھا کہ ان کی کہی باتوں کی تردید اور تائید کرنے والا، محمدؐ کے زمانے کا کوئی شخص باقی نہیں رہا تھا۔ جو بچے تھے، وہ زندگی کے اس مرحلے پر اختلاف سے احتراز برتا کرتے۔ عائشہ کی امتیازی حیثیت اس لیے بھی بڑھ کر تھی کہ وہ محمدؐ کی سب سے کم عمر اور چہیتی بیوی تھیں۔ بیویوں میں وہ واحد تھیں جو شادی سے پہلے نہ تو بیوہ تھیں اور نہ ہی طلاق یافتہ، بلکہ کنواری تھیں۔ سب سے اہم بات یہ باور کراتیں کہ وہ محمدؐ کی سب سے پسندیدہ تھیں۔ آپؐ انہیں 'حمیرا' کہہ کر بلاتے، جس کا مطلب 'سرخ بالوں والی' تھا۔ اگرچہ، قدرتی طور پر ان کے بال سرخ نہیں تھے، اگر وہ واقعی ہوتیں تو عرب ، جہاں عام طور پر لوگوں کے بال سیاہ ہوتے ہیں، ایسی واحد فرد ہوتیں۔ چونکہ، وہ خاصی بے باک تھیں، اس لیے لاڈ سے یوں پکارے جانے پر بھی اترایا کرتیں۔ اسی لیے وہ زیادہ تر مہندی کی بوجھل تہوں سے بالوں کو گہرا سرخ رنگ دیے رکھتیں اور اس بابت شوخی برتا کرتیں۔ یہی مقصد تھا، یعنی اس طرح بھی انہیں جدا شناخت ملتی تھی۔
عائشہ محمدؐ کی نو بیویوں میں خدیجہ کے انتقال کے بعد نکاح میں آنے والی اولین بیویوں میں سے تھیں۔ ان کا رشتہ خود ان کے والد ابوبکر نے پیش کیا تھا، جو آپؐ کے دیرینہ دوست اور حامی تھے۔ وجہ یہ تھی کہ خدیجہ اور ابو طالب کے بعد سے محمدؐ غم سے نڈھال تھے۔ یوں، یہ بات خاصی موزوں بھی معلوم ہوتی ہے کیونکہ عائشہ بے باک اور شوخ تھیں، جو آپؐ کو اس غم سے واپس لا سکتی تھیں۔ وہ خود کہا کرتی تھیں کہ چونکہ وہ خاصی شوخ اور چنچل تھیں، ایک ذرا لحاظ نہ کرتیں اور اکثر محمدؐ کو چھیڑ دیتیں، تنگ کرتیں اور بجائے یہ کہ جھڑک دی جاتیں، ان کے بیچ محبت بڑھتی جاتی۔ دوسری جانب، شاید محمدؐ عائشہ کے ساتھ اس لیے بھی نرمی برتتے تھے کیونکہ وہ ابھی صرف ایک نو عمر لڑکی تھیں جس میں بچپنا کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ وہ بلاشبہ شرارتی، چنچل اور دل آویز شخصیت کی مالک تھیں۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ عائشہ خاصی سحر افسوں تھیں، وہیں یہ بھی ثابت ہے کہ ان کی طبیعت میں بے باکی اور شوخی تو بالضرور ہی تھی۔ بعض اوقات، کئی جگہوں پر یہ شوخی اس قدر بڑھ جاتی کہ اس پر آج جدید دور میں، بد تمیزی کا گماں ہوتا ہے۔ عائشہ نے بعد ازاں ازدواجی زندگی کے جو قصے روایت کر رکھے ہیں، اگرچہ قصہ خوانی کا مقصد اثر و رسوخ اور زندہ دلی کو واضح کرنا ہوتا تھا لیکن ان میں اکثر عجب رویے کا گماں ہوتا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کوئی جوان اور تیز طرار عورت اپنا راستہ کاٹنے والوں کو سبق سکھانے نکلی ہو۔ ایسے موقعوں پر عائشہ کی زندہ دلی میں سنگ دلی اور عجیب فطرت کا پتہ چلتا ہے۔
مثلاً، ایک موقع ایسا آیا کہ محمدؐ عائشہ کے علاوہ ایک دوسری بیوی کے پاس معمول سے زیادہ وقت گزارنے لگے۔ وہ بیوی، آپؐ کےلیے شہد ملا کر ایک مشروب تیار کیا کرتی تھیں، جسے 'شربت عسل' کہا جاتا ہے۔ انڈے کی سفیدی اور بکری کے دودھ میں شہد ملا دینے اور اچھی طرح پھینٹ دینے سے گاڑھا مشروب تیار ہو جاتا۔ محمدؐ کو یہ میٹھی غذا بہت بھاتی تھی اور وہ بہت شوق سے نوش کیا کرتے۔ بہر حال، ایک دن وہ اسی بیوی کے یہاں سے عائشہ کے کمرے میں آئے تو انہیں کچھ دیر ہو گئی۔ عائشہ نے استفسار کیا تو آپؐ نے تفصیل سے بیوی کے یہاں وقت گزاری اور مشروب بارے بتایا۔ عائشہ نے فوراً ہی ناک سکیڑ لی اور منہ موڑ لیا، جیسے سانس کی بو سے نالاں ہوں ۔ وہ اچھی طرح جانتی تھیں کہ محمدؐ کو سانس میں بد بو سے بہت کوفت ہوتی ہے۔ کہنے لگیں، 'لگتا ہے، شہد کی مکھیاں افسنتین کے کڑوے پھول کھاتی رہی ہیں'۔ انہوں نے جب کافی دیر تک یہی رٹ لگائے رکھی تو نتیجہ یہ نکلا کہ اگلی بار جب دوسری بیوی کے یہاں محمدؐ کو ان کا پسندیدہ مشروب پیش کیا گیا تو انہوں نے پینے سے انکار کر دیا۔ وہ اب ان کے یہاں زیادہ دیر نہیں ٹھہرتے تھے اور جلد ہی لوٹ آتے تھے۔
اسی طرح ایک دوسرا واقعہ ہے، جب عائشہ حد سے گزر گئیں۔ محمدؐ نے ایک عیسائی قبیلے کے ساتھ معاہدہ کیا اور اس نئے اتحاد کی اہمیت کے پیش نظر، قبیلے کے سردار کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنے پر حامی بھر لی۔ سردار کی بیٹی بہت خوبصورت تھی۔ جب، وہ عورت نکاح سے پہلے مدینہ پہنچی تو عائشہ نے اس کو خوبرانہ مشورہ دیا کہ اگر وہ نکاح کی رات مزاحمت کرے تو محمدؐ کی نظر میں اس کی قدر بڑھ جائے گی۔ اسے کہا کہ وہ ان سے کہے، 'میں تم سے خدا کی پناہ مانگتی ہوں۔۔۔'۔ اس کو علم نہیں تھا کہ در اصل یہ کلمہ نکاح کو فسخ کرنے کے مترادف ہے۔ جوں ہی اس نے ایسا کہا تو آپؐ چونک گئے اور فوراً ہی وہاں سے چلے گئے۔ اگلے ہی دن سردار کی بیٹی کو واپس بھجوا دیا گیا۔
قصہ مختصر، عائشہ کو ہمیشہ ہی اپنی منوانے کی عادت تھی اور وہ اس کے لیے کچھ بھی کر گزرتی تھیں اور ان کی ہمیشہ ہی چلتی تھی، لوگ ان کی مانتے تھے، ان کی ٹوہ میں لگے رہتے تھے۔ اس صورتحال میں، جب وہ اس قدر بے باک، شوخ اور نتائج سے بے پرواہ ہوا کرتی تھیں تو یہ بات یقینی تھی کہ اب عائشہ اس قضیے کے عین مرکز میں، پھنس کر رہ جائیں گی۔ کئی لوگوں کو کسر نکالنے کا موقع مل جائے گا۔ یہاں یہی ہوا۔یہ خلاف قیاس تھا کہ قافلے میں عائشہ کی غیر موجودگی محسوس نہیں کی جائے گی۔ پھر، یہ بھی سوچ سے باہر تھا کہ جب وہ انہیں ساتھ نہیں پائیں گے تو یوں ہی رواں دواں رہیں گے۔ وہ انہیں تلاش کرنے ضرور آئیں گے۔ وہ اسی کشمکش میں تھیں کہ سورج چڑھ آیا اور گرمی بڑھنے لگی۔ انہوں نے کیکر کے ایک درخت کے سائے تلے پناہ لی اور انہی سوچوں میں پریشاں رہیں۔ یقیناً، وہ جان لیں گے اور جب وہ جان لیں گے تو کوئی نہ کوئی انہیں لینے ضرور آئے گا۔ ویسے بھی، ان کا یوں قافلے کے پیچھے جانا مناسب نہیں تھا۔ وہ محمدؐ صلعم کی پسندیدہ ترین بیوی تھیں، کیا وہ قافلے کے اونٹوں کے پیچھے ایک بدو، چرواہوں کی لڑکی کی مانند بھاگتی ہوئی اچھی لگتیں؟
خیر، بالآخر ایک شخص آ ہی گیا۔ جیسا کہ عائشہ کا خیال تھا، اسے آپ کی تلاش کے لیے نہیں بھیجا گیا تھا بلکہ اس کا تو یہاں سے اتفاقیہ گزر ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ قافلے سے کسی کو بھی نہیں بھیجا گیا کیونکہ انہیں علم ہی نہیں تھا کہ عائشہ ان کے ساتھ نہیں ہیں۔ یہاں تک کہ وہ مدینہ پہنچ گئے اور وہاں بھی کسی کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ عائشہ قافلے کے ساتھ نہیں ہیں۔ قافلے کی آمد کے ساتھ ہی نخلستان میں گہما گہمی شروع ہو گئی اور ہر طرف شور و غل تھا۔ سینکڑوں کی تعداد میں اونٹوں پر لدا مال اتار کر سنبھالا جا رہا تھا اور کئی دنوں کی طویل مہم کے بعد واپس آنے والے جنگجو اپنی بیویوں اور رشتہ داروں سے میل ملاقات میں مصروف تھے۔ عائشہ کی غیر موجودگی کسی کو بھی محسوس نہیں ہوئی، یہاں تک کہ ان کی خدمت پر مامور باندی نے بھی یہی گماں کیا کہ شاید وہ پالکی سے اتر کر اپنی والدہ سے ملنے چلی گئی ہیں۔ محمدؐ کا یہ کہ وہ اس وقت عائشہ کی بجائے کسی دوسرے معاملے بارے سوچ رہے ہوں گے، مدینہ واپس آتے ہی مشراء نے انہیں گھیر لیا ہو گا۔ الغرض ہر شخص یہی سمجھ رہا تھا کہ اگر عائشہ اس جگہ نہیں تو یقیناً وہیں کہیں دوسری جگہ پر ہوں گی۔
عائشہ کی خوش قسمتی تھی یا شاید بد قسمتی تھی کہ مدینہ کے انصار سے تعلق رکھنے والا ایک جوان جنگجو جو بوجوہ قافلے سے پیچھے رہ گیا تھا، اکیلا اور تن تنہا ہی صحرا میں گرمی کے بیچ ہی روانہ ہوا تھا، کہ اب وہ قافلے کو جا پہنچے۔ راستے میں کیا دیکھتا ہے کہ صحرا میں ایک عورت کیکر کے گھٹتے ہوئے سائے تلے سمٹی ہوئی پڑی ہے۔
اس جنگجو کا نام صفوان تھا ۔ بعد ازاں عائشہ نے اپنے سر کی قسم اٹھا کر کہا کہ جیسے صحرا بے داغ، صاف اور خالص ہوتا ہے، اسی طرح صفوان نے بھی انہیں پہچانتے ہی ایک دم اونٹ سے اتر آیا، نہایت عزت اور احترام سے انہیں سہارا دے کر اونٹ پر سوار کرایا اور پھر مہار ہاتھ میں تھامے، پیدل ہی بیس میل کا سفر جانور کے آگے چلتے ہوئے طے کیا۔ عائشہ جب مدینہ پہنچیں تو نخلستان کے باسیوں نے بھی یہی منظر دیکھا کہ محمدؐ کی پسندیدہ بیوی عائشہ شام ہونے سے پہلے اور قافلے کے پہنچنے کے کئی گھنٹے بعد، ایک اونٹ پر سوار ہیں، جس کی مہار ایک جوان جنگجو نے تھام رکھی ہے۔ عائشہ تو نہایت شان اور ٹھلے سے اونٹ پر بیٹھی ہیں جبکہ صفوان آگے آگے، سر جھکائے چل رہا ہے۔
لیکن ہوا کیا، عائشہ کو فوراً ہی اندازہ ہو گیا ہو گا کہ معاملات میں کچھ گڑ بڑ ہے۔ بجائے لوگ دوڑ کر ان کی خیر و عافیت سے مدینہ پہنچنے پر شکر ادا کرتے، آگے بڑھ کر خیر مقدم کرتے، وہ تو انہیں عجیب نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ عائشہ نے یکدم ہی تاڑ لیا ہو گا کہ ہر شخص پیچھے ہٹتا جا رہا ہے اور مجمع میں چہ مہ گوئیاں شروع ہو گئی تھیں۔ وہ دیکھ رہی ہوں گی کہ کیسے راستے کے دونوں اطراف میں لوگ جمع ہو رہے ہیں اور ان کو دیکھ کر منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑا رہے تھے۔ وہ چاہے جتنا سر اونچا رکھتیں، اونٹ پر سنبھل کر بیٹھنے کی کوشش کرتیں یا لوگوں کی اس حرکت پر انہیں غصہ ناک نظروں سے دیکھتیں، اب بات ان کے ہاتھ سے نکل چکی تھی۔ وہ اپنی آنکھوں سے لوگوں کو کھسر پھسر کرتے دیکھ رہی تھیں اور کانوں سے اونٹ کے آگے دوڑتے ہوئے بچوں کو شور مچاتے ہوئے سن سکتی تھیں۔ وہ جان گئیں کہ لوگ کیا کہتے پھر رہے ہیں؟
لوگوں کے لیے یہ منظر نہایت ہی عجیب و غریب تھا۔ پیغمبر کی سب سے پسندیدہ اور نو جوان بیوی اونٹ پر سوار ہے، جس کی مہار ایک جوان ، خوش شکل جنگجو نے تھام رکھی ہے۔ وہ ایک لمبا سفر تن تنہا اس کے ساتھ طے کر کے اب مدینہ پہنچ چکی تھیں اور نخلستان کے بازاروں اور گلی کوچوں میں یوں روانہ تھیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں؟ مدینہ کا نخلستان، آٹھ میل رقبے پر پھیلا ہوا تھا۔ یہ خبر گھنٹوں کے اندر ہی پھیل گئی۔ پھر کیا تھا، جتنے منہ اتنی ہی باتیں ۔جیسے، لوگ کہتے پھر رہے تھے، ظاہر ہے۔۔۔ ہار تو ایک بہانہ ہے۔ ایک نو عمر لڑکی سے کوئی کیا گماں رکھے گا، جب وہ ایک ادھیڑ عمر شخص سے بیاہی گئی تھی؟ لق دق صحرا میں پورا دن؟ وہ بھی تن تنہا؟ ایک جوان جنگجو کے ساتھ؟ آخر عائشہ وہیں کیوں رکی رہیں، جبکہ وہ چاہتیں تو گھنٹے بھر میں قافلے کو پہنچ سکتی تھیں؟ کیا ان دونوں کے بیچ یہ پہلے سے طے شدہ ملاقات تھی؟ کیا پیغمبر کو ان کی شوخ، چنچل اور پسندیدہ بیوی نے دھوکہ دے دیا؟ یعنی، جس کا جو جی چاہتا، ہانکتا پھرتا تھا۔
کیا لوگ واقعی ایسا سوچتے تھے؟ یہاں اصل نکتہ یہ نہیں ہے۔ جیسا آج ہوتا ہے، ساتویں صدی عیسوی میں بھی اس طرح کی تہمت تراشی اور رسوائی میں عام لوگ لذت حاصل کرتے تھے، بالخصوص جب معاملہ کسی نامی گرامی شخصیت کا ہو اور پھر بات بھی جنسیت سے بھر پور ہو، افواہیں زور پکڑ ہی لیتی ہیں۔ اہم بات یہ تھی کہ اس الزام تراشی سے نخلستان کے سیاسی منظر نامے پر گہرا اثر تھا۔ عائشہ اور صفوان کے بیچ جو بھی معاملہ رہا ہو، جیسا کہ عائشہ نے قسم اٹھائی یا لوگوں کی زبانیں بند نہیں ہو رہی تھیں، جو بھی کہا جاتا تھا، اہم نہیں تھا۔ یہ تو محمدؐ کی ساکھ کا معاملہ تھا، ان کی سیاسی زندگی داؤ پر لگ چکی تھی۔
عائشہ پر تہمت در اصل ان کے پورے گھرانے کی بدنامی تھی۔ خاص طور پر ان دو اشخاص کے لیے بگاڑ تھی، ایک وہ جس نے عائشہ کو بیاہ کر دیا اور دوسرا وہ آدمی جس سے عائشہ کا نکاح ہوا۔ یعنی، ابو بکر اور محمدؐ کی ساکھ اور عزت داؤ پر لگ چکی تھی۔ ابو بکر آپؐ کے دیرینہ ساتھی تھے۔ وہ مکہ سے ہجرت کی رات محمدؐ کے ساتھ روانہ ہوئے اور انہوں نے ہی اس سفر کا اسباب کیا۔ یوں، مکہ کے وہ لوگ جو مدینہ ہجرت کر چکے تھے، ان کے یہاں ابو بکر کو خاص قدر و منزلت حاصل تھی۔ ویسے بھی، ابو بکر ان گنے چنے لوگوں میں سے تھے، جن کی مدد سے محمدؐ مدینہ کو حجاز کا نیا سیاسی مرکز بنانے کے بہت قریب پہنچ چکے تھے۔ مہاجرین، یعنی مکہ سے ہجرت کرنے والے لوگ، جو بعد میں بھی یہی کہلائے جاتے رہے، ان کا معاملہ یہ تھا کہ مدینہ کے لوگ، یعنی انصار انہیں بدستور غیر سمجھ رہے تھے۔ ان کے نزدیک یہ لوگ خارجی تھے۔ اگرچہ انصار بوجوہ ان کی عزت کرتے تھے لیکن اندر ہی اندر انہوں نے مہاجرین کو قبول نہیں کیا تھا۔ مدینہ کی اکثریت، مہاجرین سے خواہ مخواہ کی بیر رکھتی تھی۔ ان کا خیال یہ تھا کہ مکہ کے یہ لوگ باہر سے وارد ہو کر اب مدینہ کے سیاہ و سفید کے مالک بن چکے ہیں اور آہستہ آہستہ نخلستان کی مقامی آبادی پر حاوی ہوتے جا رہے ہیں۔ ان لوگوں کے مطابق، انہوں نے تو صرف محمدؐ کو بطور ثالث مدعو کیا تھا، ان کے یہ ساتھی تو بغیر کسی حیل و حجت کے اب ان کے سروں پر سوار تھے۔ مدینہ کے اس نظریے کے لوگوں کے لیے عائشہ کے ساتھ پیش آنے والا گمشدہ ہار کا واقعہ خصوصی دلچسپی کا حامل تھا۔ ساتویں صدی میں مدینہ کی سیاست بھی آج کی ہی دنیا کی طرح اس مقولے پر چلتی تھی کہ، 'بد سے بدنام برا۔۔۔' یعنی یہ کہ معاملے کی حقیقت بھلے کچھ نہ ہو، افواہیں خوب چلتی تھیں۔
یہ تو انصار کا معاملہ تھا۔ مہاجرین کے گروہ میں بھی پھوٹ تھی۔ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ ابو بکر کے گھرانے کو کھونٹی سے باندھنے کی ضرورت ہے۔ بالخصوص عائشہ کو تو ضرور ہی سبق سکھایا جائے جو عجب نک چڑھی لڑکی ہے، محمدؐ کے علاوہ وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتی، خود کو دوسرے ہر شخص سے بہتر سمجھتی ہے۔ عورتوں کے بیچ تو عائشہ کے لیے بے انتہا حسد اور جلن پائی جاتی تھی۔ آپؐ کی بیٹیاں تو ایک طرف، دوسری بیویاں بھی عائشہ کی دانستہ امتیازی کوششوں سے اچاٹ تھیں۔ عائشہ جو کہ اب تک اپنی حیثیت بڑھانے میں کامیاب ہوتی چلی آ رہی تھیں، جو محمدؐ کے انتہائی قریب ہو چکی تھیں اور کسی بھی طرح دوسروں کو خاطر میں نہ لاتی تھیں، اب پہلی بار انتہائی گھمبیر صورتحال میں پھنس چکی تھیں۔ لوگوں کو کسر نکالنے کا واقعی موقع ہاتھ آ گیا تھا۔
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ عائشہ پر جو الزامات لگائے گئے تھے، سر اسر بے بنیاد تھے۔ وہ نو عمر اور منہ زور ضرور تھیں لیکن ہر گز احمق نہیں تھیں۔ انہیں سیاست، اپنے اور محمدؐ کے رتبے کا بخوبی علم تھا۔ کیا وہ صرف اس وجہ سے اپنی اور ابو بکر کی حیثیت اور ساکھ کو داؤ پر لگا دیتیں؟ ظاہر ہے، اس کا سوال ہی نہیں۔ پھر، وہ محمدؐ کی پسندیدہ ترین بیوی تھیں، کیا وہ ایک ایسے شخص کے لیے پیغمبر کو دھوکہ دے دیتیں، جو صرف ایک جنگجو ہے اور مدینہ کے کسی نامی گرامی خاندان سے تعلق بھی نہیں رکھتا؟ عائشہ ہر گز، ہر گز ایسا نہیں کر سکتی تھیں۔ صفوان نے بھی عائشہ کو صحرا کے بیچ تن تنہا پا کر ویسا ہی رد عمل ظاہر کیا، جیسا عائشہ کو توقع تھی۔ مثال، جیسے کہا جاتا ہے کہ ایک جواں مرد سورما اپنی مالکن کی مدد کو جھک گیا۔ صورتحال کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ واقعات وہی رہے ہوں گے جیسے کہ عائشہ نے روایت کیے، اس سے بڑھ کر معاملات کو رنگ دینا بلا شبہ ایک انتہائی گھٹیا چال تھی۔ آخر، کوئی بھی شخص ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟
جیسا کہ تاریخ میں درج ہے، محمدؐ نے ہر گز ایسا نہیں سوچا تھا۔ اگر انہیں کوئی خفت تھی تو وہ اس بات کی تھی کہ وہ اپنی پسندیدہ بیوی کو صحرا میں اکیلا چھوڑ آئے تھے۔ افواہوں پر انہوں نے پہلے پہل تو سرے سے کان ہی نہیں دھرے، ان کا خیال تھا کہ یہ اپنی موت آپ ہی مر جائیں گی لیکن ظاہر ہے، ایسا نہیں ہوا۔ واضح طور پر آپؐ نخلستان کی سیاسی فضا میں جاری کشمکش کو پڑھنے میں ناکام رہے تھے۔
رات کی رات میں ہی نخلستان کے شعراء اپنے کام میں جت گئے۔ پھر، وہاں فضول گو اور تھڑے ہوئے خبریں پھیلانے والے بھی تھے، اس وقت کے حساب سے کہیے تو زرد صحافی، گرے ہوئے اداکار اور گھٹیا قصے گھڑنے والے قصہ گو سب ہی حرکت میں آ گئے۔ یہ تمام لوگ بیک وقت ہی عجب رنگ اختیار کر گئے، ان کا مزاج بدل گیا اور انہوں نے عربی ادب کی مشہور و معروف صنف، یعنی ہجو اور طنز و مزاح پر ہاتھ صاف کرنا شروع کر دیے۔ شاعری ،نثر، نظمیں اور رباعیاں منظر عام پر آ گئیں جن میں ذو معنی باتیں کہی گئی تھیں، عامیانہ طنز کسے گئے تھے اور فحش گوئی سے کام لیا گیا تھا۔ یوں، دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف ایک ایسا ماحول بن گیا جس میں قافیوں کی مدد سے پہلے تو ایک عورت کی عصمت پر نشتر لگائے گئے اور پھر منہ زبانی، کلامی حملوں سے محمدؐ کی بصیرت اور ساکھ کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک ایسے معاشرے میں، جہاں دوستی اور اتحاد ایک وعدے اور مصافحہ سے طے پا جاتے ہوں، وہاں کسی شخص کی عزت اور عظمت اور سیاسی و معاشی حیثیت، غیر ت سے جڑی ہوئی ہو، اب سب کچھ داؤ پر لگ گیا۔
جلد ہی مدینہ کا نخلستان اور مضافات اس تحقیری مہم کی لپیٹ میں آ گئے۔ کنوؤں پر، کھیت کھلیانوں میں، کھجور کے باغات، قصبوں کے سرائے، بازاروں اور گلی کوچوں اور اصطبلوں ،یہاں تک کہ مسجد کے اندر بھی ہر وقت چہ مہ گوئیاں جاری رہتیں۔ لوگ نخلستان کے چپے چپے پر مزے لے لے کر باتیں کرتے، افواہیں اڑاتے، قصے گھڑتے اور جس کا جو جی چاہتا واقعات کو ویسی ہی شکل دے دیتا۔ معاملے کا عجب رنگ ہو گیا، پہلے گھنٹے اور پھر دن گزر گئے اور یوں معاملے کے سو پر نکل آئے۔
محمدؐ نے معاملے کو نظر انداز کرنے کی بہتیری کوشش کر لی ، لیکن افواہیں تھیں کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی تھیں۔ بالآخر، بات ہاتھ سے نکل گئی۔ وہ جانتے تھے کہ عائشہ بے قصور ہیں لیکن یہاں مسئلہ یہ نہیں تھا، عوام کو بھی تسلی ہونی چاہیے تھی کہ عائشہ واقعی بے قصور ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ خود ان کا دائرہ اختیار اور مدینہ میں ان کی شخصیت کا سحر اور اثر اس معاملے کو سلجھانے کے لیے کافی نہیں ہو گا۔ مدینہ میں ابھی تک ان کی پوری طرح دھاک نہیں بیٹھی تھی، جنوب میں مکہ کے ساتھ بھی معاملات ابھی تک کشیدہ تھے اور دو بڑی لڑائیاں لڑنے کے باوجود بھی، معاملات سنبھلنے میں ابھی وقت باقی تھا۔ اب اس معاملے کی بھنک بھی انہیں پڑ چکی تھی اور روز نئی شاعری صحرا میں پھیل کر قریش کے کانوں تک بھی پہنچ رہی تھی۔ وہاں، ان کے دشمنان یہ خبریں سن کر خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔
محمدؐ گویا دو دھاری تلوار پر سوار تھے۔ اگر وہ عائشہ کو طلاق دے دیتے ہیں تو یہ اس بات کی تصدیق ہوتی کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے۔ دوسری طرف اگر وہ سب کو نظر انداز کر کے انہیں اپنے پاس رکھتے تو لوگوں کو نئی کہانی مل جاتی۔ یعنی، وہ کہتے پھرتے کہ شاید ایک پکی عمر کا شخص، نو عمر لڑکی کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ ہر دو صورت، آپؐ کا مدینہ میں اختیار اور ساکھ برباد ہو کر رہ جاتی۔ یہی نہیں بلکہ خود اسلام کی تحریک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہتا جس کا کسی بھی صورت ازالہ ممکن نہیں تھا۔ یہ بات سننے میں نہایت عجیب لگتی ہے مگر صورتحال یہی تھی کہ اس نئے دین کا مستقبل ایک نو عمر لڑکی کی نیک نامی کے ترازو میں جھول رہا تھا۔
اسی دوران، حالات کے پیش نظر محمدؐ نے عائشہ کو مسجد کے احاطے میں واقع ان کے کمرے سے نکال کر اپنے والد، یعنی ابو بکر کے یہاں روانہ کر دیا۔ وہاں، وہ گھر کے اندر بند رہ سکتی تھیں اور وہیں رہیں، تا کہ لوگوں کی تاک جھانک اور طنز و طعن سے دور رہیں۔ کہا گیا کہ انہیں اپنے والد کے یہاں جانا پڑا کیونکہ ان کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی۔ افواہیں پھیلانے والوں نے اس وجہ کو خاطر میں نہ لایا، وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ معاملہ کیا ہے؟ چنانچہ انہوں نے اس بات پر بھی خوب پروپگنڈا کیا۔ جان بوجھ کر کہتے، 'جی ہاں، بیماری کی ہی وجہ سے گئی ہیں۔ منہ چھپا رہی ہیں، شرم سے پانی پانی ہیں۔۔۔'
اپنی زندگی میں پہلی بار عائشہ کے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ جیسا کہ اوائل دور کے ایک مورخ نے لکھا، 'انہوں نے تو بہت کچھ کہا۔۔۔' لیکن، یہ ہر گز کافی نہیں تھا۔ وہ کچھ بھی کہہ لیتیں، ہزار صفائیاں دیتیں یا بار بار اپنی پاک دامنی کا یقین دلاتیں، فرق پڑنے والا نہیں تھا، سو نہیں پڑا۔ انہوں نے ہزار حیلے کر کے دیکھ لیے۔ برہم ہو جاتیں، طیش سے لال پیلی ہو کر صلواتیں سناتیں، انتہائی ترشی اور غرور سے جھٹک دیتیں، افواہیں پھیلانے والوں کو بد دعائیں دیتیں اور جو سامنے بولنے کی جرات کرتا، اسے تو وہیں دھو ڈالتیں۔ لیکن، ظاہر ہے یہ سب بے سود تھا۔ وہ لوگوں کے منہ بند کرنے سے قاصر تھیں۔ کئی برسوں بعد بھی وہ ان دنوں کو یاد کرتیں تو جیسے جھرجھری آ جاتی۔ لیکن، تب وہ کہا کرتیں کہ صفوان تو کمزور اور نا مرد تھا۔ اس نے تو کبھی ، عائشہ کے الفاظ میں 'کسی عورت کو بھی چھوا تک نہیں تھا۔۔۔'۔ خیر، یہ ایسی بات تھی، جس کی تصدیق یا تردید ممکن نہیں تھی۔ خود صفوان بھی عائشہ کے اس دعویٰ پر کہنے کو موجود نہیں تھا، وہ عرصہ پہلے ایک جنگ میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ تب تک وہ اپنی مردانگی کا دفاع کرنے کے لیے زندہ نہیں رہا تھا۔
جب کچھ نہ بن پڑتا تو عائشہ کا بھی وہی حال ہوا جو ایسے معاملے میں ایک نو عمر، نادان لڑکی کا ہو سکتا ہے۔ وہ رونے لگتیں۔ اگر روایت میں عائشہ کے الفاظ، اس کیفیت کو بیان کرنے کے لیے بڑھائے چڑھائے محسوس ہوتے ہیں تو اس کی وجہ سمجھ میں آتی ہے۔ جس قدر دباؤ اور تناؤ کی یہ کیفیت ہوتی ہے، ایک نو عمر لڑکی کے لیے خاصی پریشانی کا سامان ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ وہ کہا کرتیں، 'مجھے خود بخود رونا آتا، میں ہر وقت روتی رہتی۔ اس قدر روتی کہ اکثر لگتا، میرا کلیجہ پھٹ جائے گا'۔
آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تو محض اتفاق کی بات ہے کہ ہار کا گم ہو جانا، اتنے بڑے قضیے کا سبب بن گیا۔ اکثر لوگ تو ایک دوسری منطق بھی پیش کرتے ہیں۔ جیسے، آج بھی قدامت پسند علماء اس واقعے کا حوالہ دے کر کہا کرتے ہیں کہ جب عورتیں گھروں میں رہنے کی بجائے عوامی سطح پر دنیا داری کرنے کا سوچتی ہیں تو یہی ہوتا ہے۔ حالانکہ، یہ نرالی بات ہے، کئی دوسرے لوگ اس منطق کو جنسیت کا پرانا طریقہ واردات گردان کر رد کر دیتے ہیں۔ ان کا نکتہ یہ ہے کہ ایسے تو ہر کہانی میں عورت ہی مورد الزام ٹھہرا کرتی ہے۔ اس کے علاوہ ایک دلیل یہ ملتی ہے کہ سارا قضیہ ہی عائشہ کی وجہ سے شروع ہوا۔ اول تو ان کی شخصیت ہی ایسی تھی، پھر وہ محمدؐ کی پہلی بیوی، یعنی خدیجہ کے ساتھ خدا واسطے کا بیر رکھتی تھیں۔
خدیجہ ایک دولت مند بیوہ تھیں۔ محمدؐ نے جب ان سے شادی کی تو خدیجہ کی عمر چالیس اور آپؐ پچیس برس کے تھے۔ ان کا یہ ساتھ تقریباً چوبیس برس پر محیط ہے، جس دوران ان دونوں کے بیچ بیش بہا محبت رہی اور ان کے بعد بھی محمدؐ خدیجہ کی یاد سے ہمیشہ ہی جڑے رہے۔ یہ خدیجہ ہی تھیں جنہوں نے آپؐ پر اپنے کاروبار میں بھروسا کیا تھا۔ پہلی وحی کے بعد جب محمدؐ خوف اور بے یقینی کا شکار تھے، انہوں نے سنبھالا دیا تھا۔ خدیجہ نے انہیں تسلی دی تھی اور یقین دلایا تھا کہ وہ امید رکھتی ہیں کہ آپؐ اللہ کے پیغمبر ہیں۔ خدیجہ کے بعد محمدؐ نے چاہے جتنی بار بھی شادی کی، وہ کبھی بھی خدیجہ کی یاد کو دل سے اتار نہیں سکے۔ وہ ہمیشہ ان کی محبت سے جڑے رہے۔
ایک نوجوان لڑکی کو کیا پڑی تھی کہ وہ مر جانے والی ایک عورت کی یاد سے مقابلہ کرتی؟ لیکن، ظاہر ہے ایک کم عمر لڑکی، جس کی طبیعت میں بچپنا ہو، وہی ایسا کر سکتی ہے، وہ نہیں تو اور کون کرے گا؟
'میں آپؐ کی کسی بیوی سے کبھی جلن کا شکار نہیں ہوئی۔ مجھے کبھی حسد نہیں ہوا، سوائے خدیجہ کے۔۔۔ حالانکہ، میں ان کے بعد آئی تھی'۔ کئی سال بعد عائشہ کہا کریں گی۔ حالانکہ، تاریخ میں ایسے حوالے جا بجا ملتے ہیں کہ عائشہ دوسری بیویوں کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک رکھتی تھیں جیسا کہ وہ خدیجہ کے بارے سوچتی ہیں۔ روایات ہیں کہ اکثر، جب کسی دوسری بیوی کی خوبصورتی کا ایک سے زائد بار ذکر ہوتا تو وہ بھنا جاتیں۔ یہ بات درست ہے کہ وہ خدیجہ کے ساتھ بالخصوص ہی حسد میں مبتلا رہتی تھیں۔ شاید، اس کی وجہ یہ تھی کہ آپؐ کی پہلی بیوی، جو اب حیات نہیں تھیں، اب ان کا محمدؐ پر اثر کا توڑ ممکن نہیں رہا تھا۔ خود آپؐ بھی اس بات کا بار ہا اعادہ کرتے اور اکثر عائشہ کو ٹوک دیا کرتے۔ ایک دفعہ تو یوں ہوا کہ عائشہ حد سے بڑھ گئیں اور آپؐ کو ان کے منہ سے بات چھین کر روک لگانی پڑی۔ وہ خدیجہ کے بارے ، اگر چہ سوالیہ انداز میں پوچھ رہی تھیں لیکن مقصد محمدؐ پر اپنی دلربائی ظاہر کرنا تھا۔ یہ ایسا سوال تھا، جو ایک کم عمر اور نادان لڑکی ہی پوچھ سکتی تھی اور یہ ایسا سوال تھا جس پر کئی سال بعد جب وہ ادھیڑ عمری میں تھیں، پوچھنے پر اکثر پشیمانی ظاہر کرتیں۔ کسی دوسرے میں اس قدر زبان درازی کی جرات نہیں تھی، وہ آپؐ سے کہنے لگیں، ' آخر، آپؐ اس پوپلے منہ والی بوڑھی عورت کی یاد سے کیونکر جڑے رہ سکتے ہیں جبکہ خدا نے انہیں کہیں بہتر بیوی سے نواز رکھا ہے۔۔۔'
صاف ظاہر ہے کہ وہ ایک دلربائی کے انداز میں محمدؐ کا دل موہ لینے کی کوشش کر رہی تھیں لیکن انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان الفاظ کے معنی کیا ہیں، ان کا اثر کیا ہو سکتا ہے؟ جو بھی تھا، یہ مناسب بات نہیں تھی۔ اس سے عائشہ کا بچپنا اور مرنے والی کی بے توقیری صاف ظاہر ہوتی ہے۔ اگر عائشہ کا خیال یہ تھا کہ اس طرح وہ خدیجہ پر فوقیت حاصل کر سکتی ہیں، محمدؐ کے دل میں جگہ بنا لیں گی تو یہ ان کی غلط فہمی تھی۔ محمدؐ نے انہیں وہیں روک لگا دی اور سختی سے کہا، 'بے شک نہیں۔ خدا نے خدیجہ کو بہتر سے نہیں بدلا'۔ پھر حتمی انداز میں زور دے کر کہا، 'خدا نے مجھے خدیجہ سے اولاد عطا کی ہے جب کہ دوسری عورتوں پر مزید اولاد کو روک لگا دی ہے'۔
آپؐ نے قصہ ہی ختم کر دیا۔ نہ صرف یہ کہ خدیجہ ہر قسم کی تنقید اور دشنام طرازی سے بالا تر تھیں بلکہ انہوں نے تو خود عائشہ کی لا ولدی کو ان کے خلاف استعمال کر لیا۔ وہ بے شک، ان کی دل پسند رہی ہوں، جب شادی ہوئی تو وہ کنواری ہوا کرتی ہوں لیکن ایک ایسے معاشرے میں، جہاں مردوں کے لیے ہر چیز کا پیمانہ غیرت اور عورتیں مامتا کے ترازو میں تولی جاتی ہوں، عائشہ کچھ بھی کر لیں، وہ اس تول میں پورا نہیں اترتی تھیں۔ وہ کبھی بھی پورا نہیں اتر پائیں گی۔
کیا یہی موقع تھا جب عائشہ نے فیصلہ کر لیا کہ وہ، ویسی ہی بن جائیں گی جیسا کہ آج ہم انہیں جانتے ہیں؟ یا ان کا یہ ارادہ ہمیشہ سے تھا کہ وہ بالآخر ہر ایک سے بالا تر ہوا کریں گی، کسی کو خاطر میں نہیں لائیں گی اور ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ ریاست کی سیاست میں انتہائی اہم کردار ادا کریں گی۔ لوگ ان سے مشورہ لیا کریں گے اور آج ہم ان سے منسوب ہزاروں احادیث حوالہ کریں گے؟ اگرچہ، ساری ہی بیویاں امہات المومنین، یعنی ماننے والوں کی مائیں قرار پائیں گی لیکن یہ صرف عائشہ ہی ہوں گی جو واقعی اپنی حیثیت ایسی منوا کر رہیں گی۔ ایسا محسوس ہوا کرے گا کہ جیسے عائشہ سب 'امہات المومنین' کی طرف سے بول رہی ہیں۔ لوگ انہیں، 'امی عائشہ' کہا کریں گے۔ یہ ایسی طاقت ہے جس کے بل بوتے پروہ اپنے وقت کے انتہائی زور آور اور مضبوط ترین حکمرانوں کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گی۔ یہ ایسا حق، خطاب ہے کہ جس کے زور پران کا دائرہ اختیار، مثال لا محدود ہو جائے گا۔ کسی مائی کے لعل کو ان کے سامنے بات کرنا تو دور، آنکھ اٹھانے کی جرات نہیں ہو گی۔ وہ کسی بچے کی ماں نہیں بن پائیں لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا وہ بلا شبہ تمام ماننے والوں کی ماں بن کر ابھریں۔
بے خوف، مضبوط اعصاب کی مالک اور بے باک عائشہ، ان کی یہی عادات اور خصلتیں کئی موقعوں پر ان کے خلاف استعمال ہوئیں، لیکن اس داستان میں عائشہ مرکزی کردار بن کر ابھریں گی۔ اس کہانی کے پلاٹ میں، ان کا اس قدر گہرا نام ہے کہ کوئی شخص ان کے اثر سے بچ نہیں پایا۔ ہر آدمی، ہر خلیفہ اور ہر نامی گرامی ان کے سامنے پانی بھرتا رہا۔ سوائے ایک شخص کے، جس سے اب محمدؐ 'گمشدہ ہار کے واقعہ' میں، جب عائشہ پر عجب وقت آن پڑا تھا، مشورے کے لیے رجوع کریں گے۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان'  کی تیسری قسط  یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر