اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 03



اگر کوئی ایک شخص جس کے بارے وثوق سے، لیکن بوجوہ کہا جا سکتا ہے کہ بالآخر محمدؐ کا وارث ہو گا، وہ علی تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بنی ہاشم میں، وہ آپؐ کے سگے چچا زاد تو تھے ، اس کے علاوہ اس خاندان کے محمدؐ کے بعد اصلاً چشم وچراغ بھی مانے جاتے ہیں۔ علی کو ہی بعد ازاں شیعہ اپنا رہبر مان لیں گے۔ یہ پیروکار اس وقت اور آج بھی علی کے کٹر ماننے والے تسلیم کیے جاتے ہیں۔ عربی میں انہیں 'شیعۃ علی 'اور مختصراً 'شیعہ' کہا جاتا ہے۔ شیعہ کے معنی فدائی یا دوست کے ہیں۔
علی اسلام قبول کرنے والے پہلے مرد تھے۔ اگرچہ اس وقت ان کی عمر صرف تیرہ برس تھی لیکن عرصے بعد بھی انہیں اس روز کے واقعات زبانی یاد تھے۔ جس طرح وہ اس واقعہ کا تفصیل سے ذکر کرتے ہیں، صاف لگتا ہے کہ جیسے یہ ان کی زندگی کے اہم ترین مواقع میں سے ایک رہا تھا۔ یہ محمدؐ پر وحی کے نزول کے ابتدائی دور کا قصہ ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ہی آپؐ کا سامنا جبرائیل سے ہوا تھا اور بعد اس کے انہیں خدیجہ نے خوف کی حالت میں سہارا دیا تھا، تسلی دیتے ہوئے کہا تھا کہ 'یہ یقیناً ایک فرشتہ ہے اور شیطان نہیں ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپؐ خدا کی طرف سے لوگوں پر پیغمبر بنا کر بھیجے گئے ہیں'۔ اب، محمدؐ نے اپنے انتہائی قریبی رشتہ داروں کو جمع کیا تھا اور ان سے حمایت طلب کی تھی۔ سب کو مخاطب کر کے کہا، 'تم میں سے کون ہے جو اس مقصد میں میری مدد کرے گا؟'
علی بتاتے ہیں کہ ، 'وہ تمام لوگ پیچھے ہٹ گئے۔ جبکہ میں، حالانکہ میں ان سب سے چھوٹا تھا، میری نظر بھی درست نہیں تھی، جسم بھی موٹا، فربہ سا تھا جبکہ ٹانگیں کمزور اور پتلی تھیں۔ اس کے باوجود میں نے آگے بڑھ کر کہا، 'میں۔ اے اللہ کے پیغمبر، میں آپ کا اس معاملے میں پورا ساتھ دوں گا'۔
کمزور نظر؟ موٹا، فربہ جسم؟ پتلی اور کمزور ٹانگیں؟ کیا علی مذاق کر رہے تھے؟ انہوں نے خود اپنے یہ کوائف بیان کیے ہیں۔ یہ کسی بھی طور ان رنگین پوسٹروں میں عام ملنے والی شبیہ سے میل نہیں کھاتے، جس میں انہیں ایک جوانمرد، جری جنگجو اور بڑی روشن آنکھوں والا خوبرو جوان دکھایا گیا ہے۔ یہ پوسٹر شیعہ لوگوں کے یہاں بہت مقبول ہیں۔ اگرچہ سنی تو اس دور کے کسی بھی شخص کی شبیہ بنانے کی سختی سے ممانعت کرتے ہیں لیکن شیعہ اکثریتی علاقوں میں ایسے پوسٹر اخبار کے سٹینڈ، کھوکھے اور ہاکروں کے پاس وافر تعداد میں مل جاتے ہیں۔ لبنان سے لے کر جنوبی ایشیا کے کٹر شیعہ علاقوں میں بنائی جانے والے ان پوسٹروں میں علی ایک بے ڈھب لڑکا نہیں بلکہ چالیس کے پیٹے میں انتہائی خوبرو شخص نظر آتے ہیں۔ چہرے پر ایک متانت تو ہے ہی، جبڑا اچھی طرح اپنی جگہ پرا یک خط میں بیٹھا ہوا ہے، جس پر قلمی داڑھی تراشی ہوئی دکھتی ہے۔ ابرو جیسے جھالر ہوں اور خاصی بڑی روشن آنکھیں، جو اوپر کو ہوئی نظر آتی ہیں۔ پہلی بار نظر پڑنے پر علی کی یہ تصویر عیسیٰ کی روایتی شبیہ معلوم ہوتی ہے۔ جسمانی ہئیت میں فرق صرف اتنا ہے کہ علی، عیسیٰ کی نسبت خاصے مضبوط اور قوت حیات سے بھر پور نظر آتے ہیں۔
اس کے علاوہ، علی کی تصویر میں تلوار لازم ہوتی ہے۔ بعض جگہوں پر یہ میان میں بندھی، کمر کے ساتھ لٹکی ہوئی دکھائی دیتی ہے اور کئی جگہوں پر ان کی جھولی میں ننگی رکھی ہوئی ملتی ہے۔ علی کی تلوار کا عالم اسلام میں خاصا چرچا رہا ہے۔ اتنا زیادہ کہ شاید عیسائیت کے مشہور و معروف کردار شہنشاہ آرتھر کی تلوار کی بھی کبھی اس قدر دھوم نہیں رہی۔ آرتھر کی ہی طرح علی کی تلوار بارے بھی کہا جاتا ہے کہ یہ عجب خصوصیات کی حامل تھی۔ اس کے بارے فوق الفطرت قصائص مشہور ہیں۔ جیسے آرتھر ویسے ہی علی کی تلوار کا بھی ایک نام، پورا تعارف ہے۔ علی کی تلوار کو ' ذوالفقار' کہا جاتا تھا۔ یہ ایک دو دھاری تلوار ہے جس کی پشت تو سیدھی ہے مگر نوک پر پہنچ کر یہ دو سانگی ہو جاتی ہے۔ دور سے دیکھیں تو یوں لگتا ہے، جیسے سانپ کی زبان ہو۔ کئی روایات میں مشہور ہے کہ در اصل تلوار دو سانگی نہیں تھی بلکہ یہ اس کی ساخت تھی، جس کی وجہ سے اس کی دھار بہت تیز ہو گئی تھی۔ جس پر ضرب لگتی، اس کا گوشت چپڑ جاتا۔ اسی وجہ سے یہ چاپڑ یا کاٹ کر رکھ دینے والی، یعنی 'ذو الفقار' مشہور ہو گئی۔
ایک روایت کے مطابق، یہ محمدؐ کی ذاتی تلوار تھی جو مشہور ہے کہ انہوں نے احد کی لڑائی میں اس وقت، جب علی کی اپنی تلوار ٹوٹ گئی تو یہ ان کو تھما دی تھی۔ کئی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ علی کو محمدؐ کی طرف سے مثال، وراثت کی صورت ملی تھی۔ بہر حال، علی نے اس تلوار سے کئی لڑائیاں لڑیں ۔ تاریخ میں جا بجا ان کے جنگی کارناموں کا ذکر مل جاتا ہے۔ اسی طرح ان جھڑپوں اور جنگوں میں خود انہیں بھی کئی زخم آئے۔ لیکن اس کے باوجود، علی کو آپؐ نے 'اسد اللہ' کا خطاب دیا تھا۔ جس کا مطلب، 'اللہ کا شیر' ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اوپر جن پوسٹروں کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں سے اکثر ایسے بھی ہوتے ہیں، جن میں ایک قوی اور بھاری بھرکم شیر علی کے قدموں میں سر اٹھائے، انتہائی غرور سے بیٹھا ہوا نظر آ جاتا ہے۔ وہ تصویر کے اندر سے ناظر کو قدرے پرسکون مگر انتہائی کٹھور نظر سے تاڑ رہا ہوتا ہے۔ اس انداز پر اس کی بے پناہ طاقت کا پتہ ملتا ہے۔
علی کا یہ خطاب، یعنی 'خدا کا شیر' مادی نہیں رہا۔ اس کا مقصد روحانی اور جسمانی، دونوں ہی حالتوں میں طاقتور ہونے کا پیغام دینا تھا۔ شیعہ گھرانوں میں ٹنگے ان پوسٹروں سے بھی ان کی نظر آنے والی شخصیت پر یہی گماں ہوتا ہے۔ ابھرے گال، سرمے میں کجل آنکھیں اور سر پر بدوی عربوں کی طرح ہرے رنگ کی پوشاک، یعنی 'کفیہ' ، شانوں پر ڈھلکا ہوتا ہے۔ ہرا رنگ، محمدؐ کے کنبے کے جھنڈے کا ہوا کرتا تھا۔ یعنی، اس سے نہ صرف علی کی آپؐ سے نسبت کا پتہ چلتا ہے بلکہ اس کے ساتھ خالص صحرائی اور قدیم عرب روایت سے تعلق واضح کرنا بھی مقصود ہے۔ قصہ مختصر، ان تصاویر میں علی کو ایک معتبر اسلامی شخصیت کے طور پر اجاگر کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی ۔
تو کیا ہوا اگر تیرہ برس کی عمر میں علی ایک کمزور نظر، پتلی ٹانگوں والے، فربہ دھڑ کے مالک نو عمر لڑکا ہوا کرتے تھے۔ شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ یہ علی کی اصل تصویر نہیں ہے بلکہ ان کا نقش یا کہیے، صرف ایک خاکہ ہے۔ ان شبیہوں سے تو صرف اور صرف علی کو محسوس کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ لوگوں کو یاد رہتا ہے کہ علی، ان کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں۔ ورنہ علی تو وہ ہیں جن کا کوئی بدل نہیں۔ ان کی پرورش اور تربیت خود محمدؐ نے کی، انہیں ہمیشہ اپنے سائے تلے رکھا، انہیں اندرون تک رسائی دی، یعنی اسلام کی اصل روح ان میں پھونک دی۔ علی کو دین کی وہ سمجھ تھی، اتنی ذہانت ، فہم اور فراست تھی کہ کسی بھی دوسرے شخص کے پاس نہ ہے، نہ تھی اور نہ ہو گی۔ یعنی، علی ہر شخص سے بڑھ کر ہیں، ممتاز اور ان کا مقام عالی ہے۔ اس بات سے کیا فرق پڑتا ہے کہ علی اپنی زندگی میں دنیا کے سب سے وجیہہ اور خوبرو مرد نہیں ہوا کرتے تھے؟ یہ روحانیت ہے جہاں ان کا پڑاؤ ہے، یہیں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ ان کی روح جاوداں ہے اور یہ علی کی روحانی تاثیر ہے جو آج بھی اتنی ہی پر اثر ہے جتنی کہ شاید وہ اپنے زمانے میں بھی نہیں رہی ہو گی۔ مطلب یہ کہ علی کا مقام اور عزت و اکرام تو آج ہمیشہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ہر نئے زمانے میں یہ رتبہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔ ہر نئے دور کو ان کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت رہتی ہے۔
شیعہ سے پوچھیں تو ان کے مطابق، علی کا یہ مقام آپؐ اسی وقت جان گئے تھے جب رشتہ داروں کے مجمع میں علی نے آگے بڑھ کر حمایت کے الفاظ کہے۔ اتنے بڑے موقع پر واحد انہوں نے ساتھ کی یقین دہانی کرائی۔ 'محمدؐ نے اپنی بانہیں میرے گلے میں ڈال دیں' علی سے روایت ہے، 'اور کہا، 'یہ ہے میرا بھائی، میرا امین اور متولی ۔۔۔ تو، تم سب اس کی بات مانو اور جو حکم دے، تعمیل کرو'۔ اس محفل میں محمدؐ کی یہ بات سنتے ہی سب لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور ان دونوں کا مذاق اڑانے لگے، علی کے والد ابو طالب سے کہنے لگے، 'محمدؐ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کی بات سنو اور اس کے حکم کی تعمیل کرو'۔ لوگ دیر تک ہنستے رہے، ٹھٹھے اڑاتے رہے۔
اگر علی سے منسوب اس روایت کو یوں دیکھا جائے، جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے تو ایک بات صاف نظر آتی ہے۔ وہ یہ کہ نہ صرف علی کا مقام محمدؐ کی جانشین کے طور پر واضح ہے بلکہ ساتھ یہ بھی کہ آگے چل کر بڑے منظر نامے پر اسلام کا واقعی مطلب کیا ہو گا؟ یعنی، نئی ریت یہ ہو گی کہ روایتی طور پر باپ کو بیٹے پر اختیار کا نظام اب اتھل پتھل ہو جائے گا۔ کوئی ایک قبیلہ، دوسرے پر حاکم نہیں ہوا کرے گا۔ ایک قبیلے کے اندر کوئی کنبہ دوسرے کا حق غصب کر سکے گا اور نہ ہی کوئی ایک خاندان باقی سب سے ممتاز ہوا کرے گا۔ ایک خدا کی نظر میں سب انسان برابر ہوں گے اور ہر شخص اس نئے معاشرے میں عزت کا حقدار ہو گا۔ یہ نیا معاشرہ، امہ کہلائے گا۔
بہرحال، علی سے یہ روایت منسوب ہونے کے باوجود، اسے عام طور پر اتنا اہم نہیں سمجھا جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ اس وقت تک یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آیا واقعی جانشینی کی بات ہو رہی تھی یا پھر محمدؐ اس محفل کے مزاج کے عین مطابق ایک نکتہ واضح کر رہے تھے؟ علی بمشکل تیرہ برس کا مخنی سا، کمزور اور بیمار لڑکا تھے۔ وہ تو ابھی صحیح طریقے سے تلوار پکڑنے لائق بھی نہیں تھے، کہاں 'ذو الفقار' کا خطاب، روحانی تاثیر اور کیسی جانشینی؟ یہ تو علی کا حال تھا، دوسری طرف محمدؐ بھی خود اپنے بل بوتے پر ابھی کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں تھے۔ وہ ایک یتیم لڑکا ہوا کرتے تھے جس نے پہلے ایک بدو گھرانے، پھر دادا اور زیادہ تر اپنے چچا کے ہاں گزارہ کیا تھا۔ ان کے پاس جو دولت اور مال و اسباب تھا، وہ بھی ان کی دولت مند بیوی خدیجہ کے مرہون منت تھا۔ وہ ایک ماہر آڑھتی ضرور تھے لیکن وہ ان کا ہنر تھا، جسے ان کے علاوہ کوئی دوسرا شخص استعمال میں نہیں لا سکتا تھا۔ چنانچہ، اس وقت تک محمدؐ اپنے ناطے داروں کے لیے ایک عام شخص کے سوا کچھ بھی نہیں تھے۔ ان کے ناطے داروں کو یہ ہضم نہیں ہو رہا تھا کہ ایک دم سے، یہ شخص اٹھ کھڑا ہوا اور خود کو خدا کا پیغمبر قرار دے رہا ہے؟ محمدؐ کا یہ دعویٰ سننے والوں کے لیے ایک معما تھا، کیونکہ یہ ابھی پوری طرح واضح نہیں تھا۔ ایسے میں، ایک جانشین کی تقرری تو بہت دور کی کوڑی کہلائی جائے گی۔ قصہ مختصر، محمدؐ کے پاس اس وقت تک صحیح معنوں میں ایسی کوئی شے نہیں تھی جس کے لیے وہ جانشین کی تقرری کرتے۔ یہ شروع کا دور تھا، ابھی اسلام کے ماننے والے صرف اور صرف تین لوگ تھے۔ محمدؐ، خدیجہ اور علی۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ نیا دین جلد ہی ایک تحریک کی شکل اختیار کر جائے گا اور پھر آگے چل کر دنیا میں تیسرا بڑا مذہب قرار پائے گا۔ یہ عربوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنے والا نظریہ ثابت ہو گا اور بالآخر، اسی کے بل بوتے پر ایک بڑی سلطنت کھڑی ہو جائے گی۔ یہ سب تو ہو کر رہا لیکن اس وقت، یعنی جب یہ واقعہ پیش آیا۔۔۔ محمدؐ ایک ایسا شخص ہیں، جن کے ہاتھ میں کچھ تھا اور نہ ہی ان کے پاس وراثت بانٹنے کے لیے کوئی شے ان کے نام تھی۔
محمدؐ کے یہ حالات اگلی دو دہائیوں میں مکمل طور پر تبدیل ہو جائیں گے۔ جیسے جیسے اسلام کا آفاقی پیغام پھیلا، محمدؐ کے اختیار میں اضافہ ہوتا گیا۔ ایک کے بعد دوسرا قبیلہ ، قصبے، نخلستان، شہر اور بڑی آبادیاں اسلام کے جھنڈے تلے جمع ہو چکیں تو ایک باقاعدہ ریاست نے جنم لیا۔ اس ریاست میں، یہ نئے پیروکار اور امہ کا دوسرا حصہ یعنی جو لوگ ایمان نہیں لائے تھے، وہ بھی باقاعدگی سے ریاست کو ٹیکس دینے لگے۔ اس ٹیکس کو زکوۃ کہا جاتا ہے۔ اسی طرح، جنگوں میں بے بہا مال غنیمت جمع ہوتا رہا اور قبائلیوں نے اپنی حمایت اور اتحاد کا یقین دلانے کے لیے امہ کے مال خانوں میں دولت کا انبار لگا دیا۔ یوں، امہ نہ صرف پھیلتی رہی بلکہ وقت کے ساتھ اس کی طاقت اور مال دولت میں بھی اضافہ ہوتا رہا۔ محمدؐ کے انتقال کے وقت، حال یہ تھا کہ تقریباً پورا جزیرہ عرب اسلام میں داخل ہو چکا تھا اور اب وہ ایک شناخت، یعنی واقعی عرب کہلائے جانے لگے تھے۔ اس سالہا سال کی تحریک میں محمدؐ نے بار ہا، وقتاً فوقتاً کئی اہم موقعوں پر باور کرایا تھا کہ وہ علی کو کس قدر عزیز رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک، علی وہ واحد ہستی تھے جنہوں نے تب، جب وہ خود لڑکپن میں ایک کمزور سا، لاغر لڑکا ہوا کرتے تھے، تب ان کے ساتھ کھڑا ہونے کو ترجیح دی تھی، جب محمدؐ کے قریبی رشتہ دار بھی نخوت سے پیچھے ہٹ گئے تھے۔
'میں علی سے ہوں اور علی مجھ سے ہے۔ وہ میرے بعد مومنوں کا والی ہے'۔ محمدؐ کہا کرتے۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ علی کی مثال ان کے لیے ویسی ہی ہے جیسی ، 'ہارون کی موسیٰ' کے لیے ہوا کرتی تھی۔ آپؐ واضح الفاظ میں کہا کرتے تھے۔ 'صرف پکے ماننے والے ہی علی سے محبت کرتے ہیں۔ علی سے مرتدوں کے علاوہ کوئی نفرت نہیں کر سکتا۔۔۔' اسی طرح ایک انتہائی مشہور روایت، بالخصوص صوفیاء تو اس کا خوب پرچار کرتے ہیں۔ اس روایت میں، علی علم اور عرفان کے ولی، سر پرست قرار دیے گئے ہیں۔۔ محمدؐ سے منسوب ہے کہ انہوں نے کہا، 'میں علم کا شہر ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہے۔۔۔'۔
شیعہ عالم خاصی شد مد سے ان روایات اور اقوال کا حوالہ دیتے ہیں اور کہا یہ کرتے ہیں کہ محمدؐ کی منشا بھی یہی تھی کہ علی ان کے جانشین ہوا کریں گے۔ لیکن، ان تمام روایات میں، کسی بھی ایک موقعہ پر صاف صاف یہ نہیں ملتا کہ محمدؐ نے واضح طور پر ایسا کہا ہو۔ کہیں بھی، لفظ 'جانشین' نہیں ملتا۔ ان میں سے کسی قول میں کلی یہ نہیں کہا گیا کہ، 'یہ وہ آدمی ہے جسے میں اپنے بعد تمہاری رہبری کے لیے نامزد کرتا ہوں'۔ تمام روایات میں ایسا بظاہر کہا گیا یا کہیے، اشارتاً بات کی گئی۔ کہیں بھی کھلے عام کچھ نہیں کہا۔ یہی وجہ ہے کہ تب اور آج بھی جہاں یہ اشارے اور کنایے بعض لوگوں کے لیے علی کی جانشینی کا ناقابل تردید ثبوت ہیں تو دوسری جانب باقی لوگوں کے لیے یہ غیر واضح، مبہم یا مہمل بیانات ہیں۔
خیر، ایک چیز ایسی ہے جو کسی بھی طرح سے غیر یقینی یا مشتبہ نہیں ہے۔ کوئی بھی شخص، چاہے وہ سنی ہو یا شیعہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ علی اور محمدؐ کے بیچ بے انتہا قربت تھی۔ وہ دونوں ایک دوسرے کو جان سے بڑھ کر عزیز رکھتے تھے اور ان کا آپس میں تعلق مثالی تھا۔ بلکہ، یہ بھی حقیقت ہے کہ آپؐ اور علی کے بیچ اتنی مشابہت پائی جاتی تھی کہ محمدؐ کی زندگی کے ایک انتہائی خطرناک موڑ، یعنی ہجرت کی رات علی کو قریش کو دھوکہ دینے کے لیے ان کے متبادل کا کردار سونپا گیا تھا۔
جب مکہ کے سرداروں نے مل کر محمدؐ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا ۔ اس سے پہلے کہ قاتل ان کے سر پر پہنچتے، وہ اسی شام مدینہ کے لیے نکل گئے۔ قریش کے منجھے ہوئے جنگجو آپؐ کے مکان کے باہر ان کے نکلنے کا انتظار کرتے رہے ۔ اس زمانے میں قبائلی رواج کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اس نازک مرحلے پر بھی قاتل عرب روایت کی پاسداری کر تے تھے۔ یعنی کسی کو اس کے گھر کے اندر قتل کرنے سے باز آ رہے تھے۔ ایسے میں، جب محمدؐ پہلے ہی ابو بکر کے ساتھ نکلنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ مکان کے اندر، یہ علی تھے جو رات کو محمدؐ کا لباس زیب تن کر کے، ان کے بستر پر سوئے رہے۔ قاتلوں کو گماں ہوا کہ شاید محمدؐ گھر کے اندر ہی موجود ہیں۔ اگلی صبح، علی اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر باہر نکلے تو سارے قاتل انہیں محمدؐ سمجھ کر حملے کے لیے آگے بڑھے، لیکن انتہائی قریب پہنچ کر پتہ چلا کہ یہ محمدؐ نہیں بلکہ علی تھے اور وہ اس مماثلت کے ہاتھوں، ان کے لیے ایک نیا قضیہ پیدا ہوتے ہوتے رہ گیا۔ سنی اور شیعہ، دونوں ہی متفق ہیں کہ یہ علی کی دیدہ دلیری تھی، ان کی محمدؐ سے انسیت اور محبت تھی۔ علاوہ ازیں یہ ان دونوں کے بیچ غیر معمولی مشابہت تھی، جس کی وجہ سے اس رات قریش کو دھوکہ ہوا اور آپؐ نہایت آسانی سے مکہ کی حدود پار کر گئے۔ بعد ازاں، علی تن تنہا ہی مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے اور دونوں شہروں کے بیچ صحرا کا کٹھن سفر انہوں نے پیدل ہی طے کیا۔
ایک لحاظ سے یہ بھی ہے کہ ایسا ہونا مشیت ایزدی تھی، تقدیر کا لکھا کہیے کہ ہر لحاظ سے صرف علی ہی تھے جو محمدؐ کا متبادل ثابت ہو سکتے تھے۔ اس کی وجہ ہے۔ اگرچہ ان چچا زادوں کی عمروں میں انتیس سال کا فرق تھا لیکن اس کے باوجود دونوں کے تعلق میں ایک عجب رنگ تکافو تھا۔ مطلب یہ کہ ان کی تقدیر میں بھی زبردست مماثلت تھی۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے نا گزیر رہے تھے۔ وہ یوں کہ، دونوں نے ہی بچپن اور پھر لڑکپن میں پرورش پانے کے لیے ایک دوسرے کے گھر میں پناہ لی تھی۔ جیسے، محمدؐ نے یتیمی کے بعد اپنے چچا ابو طالب کے گھر میں پناہ لی تھی۔ یہ علی کی پیدائش سے کافی پہلے کا واقعہ ہے اور پھر کئی برسوں بعد جب ابو طالب پر برا وقت آیا، یعنی ان کی معاشی حالت بہت بگڑ گئی تو تب محمدؐ اور خدیجہ نے آگے بڑھ کر علی کو گود لے لیا۔ اس وقت، محمدؐ ایک کامیاب آڑھتی بن چکے تھے اور ان کے گھر میں خوشحالی تھی۔ علی نے محمدؐ کے زیر سایہ ان کی چار بیٹیوں کے ساتھ پرورش پائی ۔ آپؐ کے یہاں، علی کا مقام اس بیٹے کا تھا جو محمدؐ اور خدیجہ کو کبھی مل نہیں سکا تھا۔ یوں، پیغمبر ان کے دوسرے والد اور خدیجہ ان کی دوسری ماں جیسی تھیں۔
وقت کے ساتھ، ان دو اصحاب کے بیچ تعلق گہرا ہی ہوتا چلا گیا اور ایک وقت ایسا آیا کہ لوگ علی کو محمدؐ کا تقریباً لے پالک، بلکہ حقیقی بیٹا سمجھنے لگے۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا، آگے چل کر ان کے بیچ نسبت اور بھی گہری ہو جائے گی۔ ایسا لگے گا جیسے محمدؐ کو احساس ہوا ہو کہ اس قدر گہرا تعلق بھی کافی نہیں۔ وہ ایک قدم آگے بڑھیں گے اور خود ہی اپنی سب سے بڑی بیٹی فاطمہ کا رشتہ علی سے طے کر دیں گے۔ حالانکہ، فاطمہ سے نکاح کے کئی دوسرے لوگ بھی خواہاں تھے۔
ان دوسرے لوگوں میں سب سے نامی گرامی دو اشخاص وہ ہیں جن کے مقابل علی کو محمدؐ کے بعد جانشینی منوانے کی طویل اور صبر آزما مشقت کرنی پڑے گی۔ یعنی، پہلے تو عائشہ کے والد ابو بکر تھے۔ ابو بکر، محمدؐ کے دیرینہ ساتھی تھے جو ہجرت کے پر خطر سفر پر آپؐ کے ساتھ رہے۔ دوسرے آدمی، حفصہ کے والد، زیرک جنگجو عمر تھے۔ بعد ازاں، ہم دیکھیں گے کہ عمر وہ شخص ہیں جو اسلام کو جزیرہ عرب سے باہر پورے مشرق وسطیٰ میں پھیلا دیں گے۔ لیکن، جہاں ابو بکر اور عمر نے اپنی بیٹیوں کو محمدؐ کے نکاح میں دیا تھا، محمدؐ نے انہیں فاطمہ کا رشتہ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ مطلب واضح ہے، یعنی ایک ایسے معاشرے میں جہاں 'دینے والا ہاتھ، لینے والے ہاتھ' سے برتر ہوتا ہے، چنانچہ، وہ شخص جو اپنی بیٹی کا رشتہ دیتا ہے، وہ جسے رشتہ دیا جائے، اس کو انتہائی عزت دینے کے مترادف ہے۔ یہاں، ابو بکر اور عمر، دونوں نے ہی اپنی اپنی بیٹیوں کا ہاتھ محمدؐ کو دیا تھا لیکن، محمدؐ نے جواباً انہیں یہ عزت نہیں دی بلکہ انہوں نے ان دونوں کی بجائے علی کو ترجیح دی۔
یہ اس معاملے میں واحد امتیاز ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ محمدؐ اس رشتے کو کس قدر عزیز رکھتے تھے۔ وہ فاطمہ اور علی کی شادی کو کس قدر اہمیت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ چنانچہ، وقت آیا تو نہ صرف محمدؐ نے خود ان دونوں کا نکاح پڑھوایا بلکہ علی کے لیے شرط رکھی کہ فاطمہ سے نکاح کے بعد، یہ نویلا جوڑا محمدؐ اور خدیجہ کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، یک زوجگی کی شادی برقرار رکھے گا۔ یوں، کہا جا سکتا ہے کہ اب علی اور فاطمہ، نئے محمدؐ اور خدیجہ ہوا کریں گے۔ علی اور فاطمہ کے یہاں، وہ بیٹے پیدا ہوں گے جو محمدؐ اور خدیجہ کے یہاں جانبر نہیں ہو پائے تھے۔
ایسا ہو بھی گیا، وہ شخص جس کے یہاں اولاد نرینہ بچ نہیں پائی، جلد ہی دو خوبصورت نواسوں کا نانا بن گیا۔ یہ دو بچے، حسن اور حسین تھے۔ ان دونوں کی عمروں میں صرف ایک سال کا فرق تھا۔ جلد ہی حسن اور حسین، محمدؐ کی آنکھ کا تارا بن گئے۔ کہا جاتا ہے کہ سود، اصل سے پیارا ہوتا ہے۔ نانا اور نواسے، دادا اور پوتے کا رشتہ ایسا ہوتا ہے کہ، دنیا میں اس سے کہیں بڑھ کر، سچی اور خالص محبت دوسری نہیں ہوتی۔ محمدؐ بھی ان دونوں بچوں سے بہت محبت رکھتے تھے، اس قدر قربت تھی کہ ان کی موجودگی میں ان کی خوشی کی انتہا نہ رہتی۔ لوگوں نے پہلی بار محمدؐ کو کھل کر مسکراتے، یہاں تک کہ کئی موقعوں پر ہنستے ہوئے دیکھا۔ ان کی چھاتی فخر سے چوڑی رہا کرتی اور وہ ان بچوں کے ساتھ کھیل میں گم ہو جاتے۔ کئی کئی گھنٹے، یہ بچے آپؐ کی گود میں دبکے رہتے ۔ محمدؐ ان کو چومتے، ان سے کھیلتے، باتیں کرتے رہتے۔ روایت ہے کہ وہ اکثر اپنے ارد گرد لوگوں اور محافل سے بھی بے خبر ہو جاتے۔ کئی موقعے تو ایسے آئے کہ جب محمدؐ، حسن اور حسین کی وجہ سے اپنے رتبے کا بھی خیال نہ کیا ۔ زمین پر ہاتھ پیر رکھ کر، جھک جاتے اور یہ ان کی پشت پر سوار ہو کر، گویا گھوڑے پر چڑھے بیٹھے ہوں، یہاں وہاں اٹھکیلیاں کرتے رہتے۔ شیعہ کے مطابق، یہ دو لڑکے محمدؐ بلکہ اسلام کا بھی مستقبل تھے۔ علی جو حسن اور حسین کے والد تھے، خدیجہ کے بعد محمدؐ کے انتہائی قریبی اور خیر خواہ تھے، ان کی وجہ سے یہ مستقبل ممکن ہوا تھا۔
جب خدیجہ کی وفات ہوئی، جو ہجرت سے دو سال پہلے کا واقعہ ہے، علی نے بھی ان کا یوں ہی غم منایا جیسے محمدؐ خود رنجیدہ تھے۔ ایسا ہونا قدرتی تھا۔ وہ اس لیے کہ خدیجہ نے علی کو اپنے سگے بیٹے کی طرح پال پوس کر بڑا کیا تھا۔ اپنے سارے ارمان، جو اپنا بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے خدیجہ کے دل میں اٹھتے تھے، علی پر پورے کیے تھے۔ بعد ازاں، خدیجہ علی کی ساس بھی ہوں گی۔ علی جس قدر محمدؐ پر جان نثار کرتے تھے، ویسے ہی ان کے دل میں خدیجہ کی قدر و منزلت تھی۔ وہ ان دونوں، یعنی محمدؐ اور خدیجہ کو اچھی طرح جانتے تھے، ان کے بیچ محبت اور انسیت سے خوب واقف تھے۔ یہی وجہ تھی کہ علی کو پورا علم تھا کہ خدیجہ کے بعد آپؐ چاہے جتنی بار شادی کر لیں، وہ خدیجہ کی یاد کو زائل نہیں کر پائیں گے۔ کوئی بھی عورت خدیجہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی، کسی کا رتبہ خدیجہ کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا۔۔۔ بالخصوص، وہ تو ہر گز نہیں جو ہر وقت خود کو دوسروں سے بہتر ثابت کرنے میں مشغول رہتی ہیں۔
ہار کی گمشدگی سے بہت پہلے، یعنی اس واقعہ کے نتیجے میں اٹھنے والے طوفان سے بھی بہت پہلے، علی عائشہ کے افسوں، چنچل پن اور سحر سے سخت نالاں رہا کرتے تھے۔ ان کی نظر میں، محمدؐ کی سب سے چھوٹی بیوی کسی بھی صورت خدیجہ کا متبادل نہیں ہو سکتیں۔ یہی نہیں، وہ سمجھتے چلے آ رہے تھے کہ یہ خدیجہ کے ساتھ نا انصافی ہے، عائشہ کسی بھی طرح ان کی جگہ لینے کی اہل نہیں تھیں۔ یہ بیر، یک طرفہ نہیں تھا۔ عائشہ بھی علی سے شاکی رہتی تھیں۔ ان کے نزدیک، علی کا خدیجہ کی یاد سے یوں جڑا رہنا خاندان میں سب کے لیے، بالخصوص محمدؐ کے لیے یاد دہانی تھی کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر ہوا کرتی تھیں۔ خود عائشہ کو ہر وقت یہ خیال رہتا کہ خدیجہ واحد رقیب ہیں، جنہیں وہ چاہتے ہوئے بھی کبھی زیر نہیں کر سکتیں۔ پھر، علی کے بیٹے تھے۔ یہ دونوں بیٹے، عائشہ کو روز یاد دلاتے کہ وہ خود کبھی نرینہ اولاد پیدا نہیں کر سکیں گی۔ عائشہ کو گلہ تھا کہ یہ لڑکے کیوں محمدؐ کی آنکھ کا تارا ہیں؟ انہیں تو عائشہ سے محبت ہونی چاہیے تھی، محمدؐ کو ان کے سوا کوئی دوسرا کیوں دکھتا ہے؟ وہ دیکھ سکتی تھیں کہ کیسے آپؐ حسن اور حسین کے ساتھ انتہائی خوش باش نظر آتے، کھلکھلاتے رہتے۔ انہیں غم تھا کہ یہ لڑکے، آپؐ کو ان سے کہیں زیادہ عزیز تھے، محمدؐ کی اصل خوشی تھے۔ چلو، وہ تو بچے تھے۔ یہ علی اور فاطمہ کو کیا ہوا؟ فاطمہ جو بادامی رنگت والی منکسر مزاج والی تھیں، جبکہ علی جو محمدؐ کو انتہائی عزیز تھے، ان کا رتبہ بھی اچھا خاصا تھا۔۔۔ لیکن، ان دونوں نے بھی تو، عائشہ کے خیال میں انہیں وہ عزت کبھی نہیں دی جس کی وہ حقدار تھیں۔ باقی لوگ تو ان کی امتیازی حیثیت بلا چوں و چراں مانتے تھے، اگر کوئی اس کا قائل نہیں تھا تو وہ صرف یہی لوگ تھے۔ فاطمہ اور علی تھے، اب ان کے بچے بھی ان سے محمدؐ کو چھینتے جا رہے تھے؟
ایک دفعہ تو محمدؐ نے عائشہ کو خدیجہ کی بد خواہی کرنے پر سختی سے ٹوک دیا تھا۔ اس بات کا انہیں خاصا دکھ تھا۔ چونکہ، عائشہ معاف کرنے والوں میں سے نہیں تھیں، نہ ہی وہ آسانی سے کوئی بات بھولتی تھیں، وقت نے بھی اس دکھ کا مداوا نہیں کیا۔ بلکہ، جیسے جیسے وقت گزرتا رہا، عائشہ کے دل میں یہ گھاؤ گہرا ہی ہوتا چلا گیا۔ بعد اس کے، وہ اب خدیجہ پر کسی بھی طرح سے بات کرنے، تنقید سے روک دی گئیں۔ یہ تو ماضی کی بات تھی، یعنی وہ کسی بھی طرح خدیجہ کی یاد کو محو نہیں کر سکتی تھیں۔ لیکن، حال اور بالخصوص مستقبل کا احوال یہ تھا کہ وہ ایک بنیادی لیکن انتہائی اہم معاملے میں محروم رہ جائیں گی۔ مطلب یہ کہ محمدؐ کا سلسلہ شجرہ، عائشہ کے یہاں آگے نہیں بڑھے گا بلکہ یہ اعزاز بالآخر علی کے گھرانے کو نصیب ہو گا۔ چنانچہ، اب عائشہ کی اس بابت خفگی اور دلی آزردگی خدیجہ کی سب سے بڑی بیٹی، فاطمہ کی طرف مڑ گئی۔
فاطمہ کا عائشہ کے ساتھ کوئی مقابلہ ہی نہیں تھا۔ ان دونوں کی مثال دو انتہاؤں کی طرح تھی۔ فاطمہ انتہائی منکسر المزاج، چپ سادھ کر بسر کرنے والی، عاجز اور پس منظر میں زندگی بسر کرنے والی شخصیت تھیں۔ عائشہ کی طرح نہ تو وہ تنو مند تھیں اور نہ ہی ان کی طرح زندہ دل اور شوخ یا چنچل ہوا کرتی تھیں۔ اگرچہ وہ پندرہ برس بڑی تھیں لیکن ایسا لگتا جیسے ان پر چھایا گھری ہو، رنگت بجھ کر گندمی ہو رہی تھی۔ ایسا لگتا، جیسے بیمار ہیں، خون کی کمی کا شکار ہوں۔ پھر، ان کی طبیعت ایسی تھی کہ وہ محمدؐ کو اپنی خوش دلی سے ہنسا نہیں سکتی تھیں، بلکہ وہ تو ان کے سامنے ایسی با ادب اور خاموش ہو جاتیں کہ جیسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ یہاں تک کہ وہ ان کے ساتھ اپنی مرضی سے بات بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ جب سے حسن اور حسین دنیا میں آئے تھے، اس کے بعد وہ کچھ کھل کر بات کر لیتیں ورنہ اس سے پہلے تو وہ چھپ کر رہا کرتیں۔ ان کے ساتھ مسئلہ یہ ہوا کہ ان کی جگہ عائشہ نے لے لی تھی۔ فاطمہ کبھی بھی عائشہ کی طرح زندہ دل اور ہنس مکھ نہیں رہیں۔ اس سے ہوا یہ کہ محمدؐ کی توجہ بھی ان پر کبھی سیدھی مرکوز نہیں رہی۔ رفتہ رفتہ، وہ پس منظر میں چلی گئی تھیں لیکن اب، حسن اور حسین نے توجہ دوبارہ ان کے گھرانے کی طرف مبذول کروا دی تھی۔ دوسری طرف عائشہ کا معاملہ یہ تھا کہ محمدؐ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ سے وہ فاطمہ کو اپنا مد مقابل سمجھتی چلی آ رہی تھیں، لیکن فاطمہ اپنی طبیعت کے باعث کسی طور بھی عائشہ کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں۔
مدینہ بھر میں مشہور تھا کہ اگر محمدؐ سے کوئی رعایت درکار ہو تو بہترین وقت وہ ہوتا ہے جب آپؐ عائشہ کے یہاں سے ہو کر آئے ہوں۔ اس وقت آپؐ کی طبیعت میں نرمی ہوتی ہے، وہ خوش اور طبیعت ہشاش بشاش ہوتی ہے۔ بلاشبہ عائشہ کا اثر و رسوخ تھا اور ایک یا دوسری صورت ، وہ اس اختیار کو یوں استعمال میں لاتیں کہ دوسروں کے لیے سبکی اور حقارت کا سامان ہو جاتا۔ یہ ایسی بات تھی، جس کا فاطمہ کے پاس کوئی توڑ نہیں تھا۔ حالات بالآخر اس نہج پر پہنچ گئے کہ ایک دفعہ محمدؐ کی دوسری بیویوں نے فاطمہ سے کہا کی کہ وہ اپنے والد سے بات کریں۔ وہ عائشہ سے خواہ مخواہ التفات برتتے ہیں۔ انہیں ہم پر فوقیت دیتے ہیں، اتنی ڈھیل دیتے ہیں کہ وہ کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتیں؟ وہ جانتی تھیں کہ محمدؐ سے بات کرنے کا فائدہ نہیں تھا، لیکن بات کرنی بھی ضروری تھی۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ اگر وہ بات کریں گی تو جس طرح کی صورتحال ہے، شاید انہیں سبکی اٹھانی پڑے ۔ پھر، ایسا ہی ہوا۔ جیسے ہی فاطمہ نے بات شروع کی، آپؐ نے انہیں ٹوک دیا۔
'اے میری پیاری بیٹی!' محمدؐ نے کہا، 'کیا تم اس سے محبت نہیں کرتیں، جس سے میں محبت کرتا ہوں؟' ظاہر ہے، اس سوال پر فاطمہ کے پاس آپؐ کی ہاں میں ہاں ملانے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
محمدؐ کا یہ سوال، ایک طرح سے کہیے تو بس ایک بات معلوم ہوتی ہے۔ بظاہر تو یہ باپ اور بیٹی کے بیچ ایک واجبی سا مکالمہ ہے۔ لیکن، روایت میں جس طرح کی روداد درج ہے، آپؐ کی بے صبری صاف ظاہر ہوتی ہے۔ ان کی یہ خواہش کہ کسی طرح ان کے پیاروں کے بیچ، بالخصوص گھر کی عورتوں کے مابین جاری کشمکش اور کھینچا تانی ختم ہو اور انہیں ریاست کے اہم امور پر توجہ مرکوز کرنے کا وقت مل سکے۔ ساتھ ہی ان کی یہ تمنا بھی نظر آتی ہے کہ قریبی لوگ آپس میں ویسی ہی محبت رکھیں جیسی وہ ان کے ساتھ رکھتے ہیں۔ اسی طرح، ان کے اس بیان پر یہ گماں بھی ہوتا ہے کہ جیسے وہ باور کرا تے ہوں کہ ان کی عائشہ سے محبت کے سامنے، باقی سب ہیچ ہے۔
خیر، جب فاطمہ واپس گھر پہنچیں تو یقیناً علی نے آخری بات ہی سنی اور سمجھی۔ کیا دیکھتے ہیں کہ فاطمہ رو رہی ہیں اور شرمندگی سے بے حال ہیں۔ علی کی نظر میں یہ نہ صرف فاطمہ بلکہ خود ان کی تضحیک تھی۔ بلکہ، یہ ان کے گھر کے ہر فرد کے لیے بے عزتی کی بات تھی۔ محمدؐ خدیجہ کو بھی بھول گئے؟ یہ سوچ کر ہی علی غصے سے لال پیلے ہو گئے ۔ سیدھے ان کے پاس جا پہنچے اور اس بابت استفسار کرنے لگے۔ کہا جاتا ہے کہ علی کی رگیں تنی ہوئی تھیں اور وہ محمدؐ سے خونی رشتوں کی اس طرح بے عزتی کرنے پر پوچھ تاچھ کر رہے تھے۔ 'کیا آپؐ کے لیے یہ کافی نہیں تھا کہ عائشہ پہلے ہی ہماری عزت نہیں کرتیں۔۔۔ خاطر میں نہیں لاتیں' علی نے کہا، 'لیکن، اب آپؐ نے فاطمہ سے یہ بھی کہہ دیا کہ صرف عائشہ ہی آپؐ کی چہیتی ہیں؟' محمدؐ فاطمہ کو تو نظر انداز کر سکتے تھے لیکن علی کو ٹالنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔ چنانچہ، وہ اپنی اس بات کی تلافی کریں گے۔
اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک موقع کا خوب استعمال کیا۔ بازنطینی سلطنت کی جڑیں آہستہ آہستہ عرب کے صحرا میں بھی پھیل چکی تھیں۔ نجران کا شہر جو تجارتی راہداری میں، جنوب کی جانب مکہ اور یمن کے بیچ واقع تھا، جزیرہ عرب میں عیسائیت کا گڑھ تھا۔ قرانی پیغامات میں عرب عیسائیوں کو بالخصوص مخاطب کیا تھا اور کئی موقعوں پر ان کے لیے انتہائی پر اثر، واضح آیات کا نزول دیکھنے میں آیا تھا۔ عرب میں بسنے والے ان عیسائیوں کی مثال ان یہودیوں کی طرح ہی تھی جو کئی صدی پہلے فلسطین سے رومیوں کے خلاف بغاوت ناکام ہونے کے بعد جزیرہ عرب میں ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ جس طرح، اب وہ یہودی عربوں کی روایات اور رسم و رواج میں ڈھل چکے تھے، نجران کے عیسائیوں اور عربوں میں بھی اب امتیاز باقی نہیں رہا تھا۔ عربوں میں قبائلی شناخت تو بہر حال ہمیشہ سے ہی رہی تھی لیکن اب اسلام کا دور آ چکا تھا۔ اسلام کی تو بنیاد ہی لوگوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنے پر قائم تھی۔ اس تحریک کی اصل روح، قدیم دین ابراہیمی کا پرچار تھا۔ عربوں میں یہ مقبول عام تھا کہ کعبہ کو پہلی بار آدم نے تعمیر کیا تھا اور پھر دوبارہ اس کی تعمیر نو کا سہرا ابراہیم کے سر جاتا ہے۔ عرب، ابراہیم کے بیٹے اسماعیل کی اولاد ہیں، یعنی ابراہیم ان کے بھی جد امجد ہیں۔ اسلام، دوسرے مذاہب کی نفی نہیں بلکہ ان میں ایک نئی روح پھونکنے کی تحریک ہے۔ اب کی بار، اسے عرب شناخت مل رہی تھی اور اس جھنڈے تلے اسلام کے پیروکار، یہودی اور عیسائی۔۔۔ حتی کہ ہر شخص امہ کا حصہ قرار دیا جا رہا تھا۔
اتنے واضح پیغام کے باوجود بھی نجران کے عیسائی منقسم تھے۔ وہ جو اسلام قبول کرنے کے حامی تھے، ان کا کہنا یہ تھا کہ بلاشبہ محمدؐ ہی وہ مقدس روح یا 'شافع' ہیں، جن کی بابت عیسیٰ نے انجیل میں پہلے ہی پیشن گوئی کر رکھی تھی۔ دوسری طرف، جو مخالفین تھے، ان کا ماننا یہ تھا کہ جس روح القدس کی غیبی خوش خبری عیسیٰ نے سنا رکھی ہے، اس کے یہاں تو اولاد نرینہ کا بھی تذکرہ کیا جاتا ہے۔ محمدؐ کے یہاں تو ایک بھی بیٹا جانبر نہیں ہو سکا، چنانچہ آپؐ کسی طرح سے بھی اس شرط پر پورے نہیں اترتے۔ یعنی، وہ شافع نہیں ہیں۔ بہرحال، فیصلہ یہ ہوا کہ بجائے وہ آپس میں الجھتے رہیں، بہتر یہ ہے کہ ایک وفد مدینہ روانہ کیا جائے جو ان کے ساتھ مناظرے کا اہتمام کرے۔ یہ اس زمانے میں مکالمے کا رائج طریقہ کار تھا۔ اس طرف، محمدؐ نے نوبت مناظرے تک آنے ہی نہ دی۔ بجائے اس کے، وہ مکالمے کے لیے اپنے مشیروں کے ساتھ موجود ہوتے، انہوں نے اپنے ساتھ خون کے رشتہ داروں کو ساتھ بٹھا لیا۔ علی، فاطمہ، حسن اور حسین کے سوا وہاں کوئی موجود نہیں تھا۔
محمدؐ نے وفد کی آمد پر کچھ کہنے کی بجائے، اپنے خاندان کے لوگوں کو اشارے سے قریب بلا لیا۔ پھر، آہستگی سے پوری دانستگی میں، جب سب لوگ انہیں دیکھ رہے تھے، آپؐ نے اپنا چوغے کے دونوں کونے پکڑ کر اپنے خاندان کے انتہائی قریبی لوگوں کے سر پر اونچا تان لیا۔ یہ وہ ہیں جنہیں میں نے اپنے سائے تلے جگہ دی ہے۔ محمدؐ نے کہا۔ یہ وہ ہیں جنہیں آپؐ نے مثال، خود سے لپٹا لیا ہے، انہیں اپنا آپ اوڑھنے کو دے دیا ہے۔ یہ ان کے انتہائی پیارے، قریبی اور سب سے عزیز لوگ ہیں۔ شیعہ بعد میں انہیں اہل بیت کے نام سے یاد کیا کریں گے، جس کا مطلب محمدؐ کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے، مراد ہے۔ اس واقعہ کو، 'چوغے کا واقعہ' سے موسوم کیا جائے گا۔
یہ موقع محل کے حساب سے انتہائی عمدہ مظاہرہ تھا۔ عرب عیسائیوں کے یہاں ایک روایت مشہور تھی۔ کہا جاتا کہ آدم کو اپنے زمانے میں کشف ہوا تھا۔ جس میں، وہ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک انتہائی روشن کرن ہے جس کے گرد چار دوسری روشنیاں جگمگا رہی ہیں۔ پوچھنے پر خدا نے انہیں بتایا تھا کہ یہ ان کی پیغمبرانہ آل ہے۔ یعنی، آدم کی نبوت کا آخری سرا ہیں۔ یقیناً محمدؐ نے بھی عیسائیوں کے یہاں مشہور اس روایت بارے سن رکھا تھا اور جانتے تھے کہ نجران کے عیسائی جب چوغہ تلے ان کے گھرانے کے چار افراد کو دیکھیں گے تو قائل ہو جائیں گے کہ آدم کی پیغمبرانہ پشت کے وہی اصل وارث ہیں۔ اولاد کا جہاں تک تعلق ہے، حسن اور حسین ان کی اولاد ہیں اور عیسیٰ نے جس مقدس ہستی کا غیبی تذکرہ کر رکھا ہے، وہ کوئی اور نہیں بلکہ آپؐ ہی ہیں۔ ہوا بھی یہی، نجران کے عیسائی یہ منظر دیکھتے ہی قائل ہو گئے۔ انہوں نے کھڑے کھڑے اسلام قبول کر لیا۔
چوغے کا واقعہ صرف عیسائیوں کے لیے نہیں تھا۔ محمدؐ نے اسی موقع پر ایک طرح سے علی اور فاطمہ کو بھی پیغام دے دیا تھا۔ وہ کہنا چاہ رہے تھے کہ وہ اپنی اولاد، اپنے گھرانے سے نہ صرف محبت رکھتے ہیں بلکہ ان کے بیچ کہیں گہرا، خون کا رشتہ ہے۔ وہ جان لیں کہ خون کا حق پہلا ہوتا ہے، اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔ چوغے تلے، لاولد عائشہ کے لیے کوئی جگہ نہیں تھی۔
یوں، جب محمدؐ نے گمشدہ ہار کے واقعہ میں علی سے مشورے کے لیے رجوع کیا تو ایسا ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ اس بابت، اپنے خاندان، سب سے زیادہ قابل اعتماد ساتھی کے سوا وہ کس سے رجوع کرتے؟ لیکن، دوسری طرف عائشہ کے خیال میں، ان سے رجوع کرنا، انتہائی غیر موافق بات تھی۔ یوں کہیے، یہ عائشہ کے لیے ایک بھیانک خواب جیسا تھا۔ ان کے مطابق ان کو در پیش حالات میں اس سے بدتر ہونا ممکن نہیں تھا کہ محمدؐ علی سے مشورہ مانگ رہے تھے۔ لیکن، ان کی جگہ پر کھڑے ہو کر سوچیں تو یہ واقعی ایسا ہی لگتا ہے۔ ویسے بھی، یہ ان سے منسوب ایک روایت ہے اور اس نوعیت کا یہ تاریخ میں واحد حوالہ ہے ۔ عائشہ کے علاوہ کوئی دوسرا راوی نہیں ہے۔ خیر، روایت سے ایسا لگتا ہے کہ علی نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ جو مشورہ دیا، وہ ان حالات میں کسی بھی زاویے سے دیکھ لیں، کند اور کھنڈا ہی نظر آتا ہے۔ حیران کن طور پر، علی نے انتہائی صاف گوئی کا مظاہرہ کیا اور ٹھسے سے انتہائی سخت مشورہ دیا۔ ویسے تو، علی اپنی شائستگی اور خوش گفتاری کے لیے مشہور رہے ہیں۔ ان کی تقاریر ،خطوط اور خطبات کا مجموعہ ، 'نہج البلاغتہ' ، جس کا مطلب 'فصاحت / بلاغت کا راستہ' ہے، آنے والی صدیوں میں زبان اور بیان کی روح اور مثالیے کے طور پر پڑھا اور اپنایا جائے گا۔ علی فہم اور فراست کے لیے بھی مشہور تھے، انہیں اہم معاملات کی ایسی سمجھ ہوتی تھی، جس کی مثال دوسری نہیں ملتی۔ ہم آج بھی ان کی شخصیت کا بغور جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ وہ بلا شبہ ایک جنگجو اور عالم کا حسین امتزاج تھے۔ وہ دلیر تھے، شجاعت میں ان کا ثانی نہیں تھا ۔ کردار انتہائی بلند اور اولوالعزم شخص تھے۔ لیکن، یہاں کیا ہوا؟ عائشہ کے خیال میں علی اس موقع پر انتہائی کٹھور ثابت ہوئے، شائستگی تو دور کی بات، انہوں نے تو ساری حدیں پار کر دیں۔
عین ممکن ہے کہ علی نے محمدؐ سے بات کرتے ہوئے تفصیل سے حالات پر روشنی ڈالی ہو گی مگر عائشہ نے روایت میں صرف اس کے لب لباب یا کہیے حاصل مطلب کا ذکر کیا ہے۔ یا، کیا ایسا ہوا کہ علی کے صبر کا پیمانہ واقعی لبریز ہو چکا تھا؟ وہ روز روز کی اس جھک جھک سے تنگ آ چکے تھے؟ یا وہ اب عائشہ کو کسی بھی صورت مزید برداشت کرنے کے روادار نہیں تھے؟ جو بھی تھا، ہم وثوق سے یہی کہہ سکتے ہیں کہ علی کا مشورہ بعض لوگوں کو فیصلہ کن، کھرا اور حالات کے عین مطابق جبکہ دوسروں کو معمول سے سوا، روکھا اور ٹکا سا معلوم ہو گا۔
'اس کی طرح کی کئی عورتیں ہیں' علی نے کہا، 'اللہ نے آپؐ کو بندشوں سے آزاد کر رکھا ہے۔ عائشہ کی جگہ با آسانی پر ہو سکتی ہے'۔ مراد یہ تھی کہ محمدؐ کو یہ فکر چھوڑ دینی چاہیے، ان کے پاس کئی دوسرے راستے بھی ہیں، انہیں کوئی کمی نہیں۔ کئی مواقع ہیں۔ وہ عائشہ کو طلاق دے دیں اور یوں اس سارے قضیے سے چھٹکارا حاصل کر لیں۔
یہ اسلام کی بنیاد میں بچھی تحتی چٹان میں پہلی دراڑ تھی۔ یہ کٹ پھٹ، مثال اس کی ایسے تھی کہ پہلے پہل تو بمشکل نظر آتی ہے، بلکہ محسوس بھی نہیں ہوتی۔ لیکن، بعد ازاں یہ ایک فالٹ لائن کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اسی میں توڑ پھوڑ کا عمل جاری رہتا ہے اور گاہے بگاہے بھونچال آتے رہتے ہیں۔ اس طرح وقت کے ساتھ چٹان تڑکتی ہی چلی جاتی ہے۔ ایک وقت ایسا آتا ہے کہ سوائے دھول کے کچھ نہیں بچتا۔ علی کے الفاظ ، بے سوچے سمجھے یوں ہی عائشہ سے جان چھڑانے کا مشورہ دینے سے صرف تحقیر یا حقارت کی چبھن نہیں ہوئی بلکہ یہ گھاؤ تو عائشہ کی ہڈیوں کے گودے میں اتر گیا۔ یہاں ایک بات قابل غور ہے۔ اگر عائشہ سے منسوب روایت کو ویسے ہی پرکھا جائے جیسا کہ انہوں نے اسے رقم کروایا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ یہ علی کی بے ساختگی ہی تھی جس سے ایک انسانی خاصیت، یعنی ترغیب دینے کی صلاحیت اور معترف ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ عائشہ سے منسوب اس روایت میں انہیں یوں بیچ راہ میں چھوڑ دینے، حقارت کی نظر سے تولنے اور نا چیز سمجھنے سے ایسا بھی لگتا ہے جیسے علی واقعی عائشہ کی بد چلنی کے قائل تھے۔ یہ بات وہ کسی طور بھی برداشت نہیں کر سکتی تھیں۔ بالخصوص محمدؐ کے گھرانے کے کسی فرد کے ذہن میں ایسی بات کا تو وہ تصور بھی نہیں کر سکتی تھیں۔ وہ مرتے دم تک وہ اس بات کو نہیں بھولیں، وہ بعد اس کے، ہمیشہ علی سے بد گماں رہیں۔ وہ ان کی آنکھ میں ہمیشہ چبھتے رہے۔
تاریخ میں اس بابت، اس ایک روایت کے سوا کوئی دوسرا حوالہ موجود نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ علی نے اس بابت تفصیلاً کیا کہا تھا؟ یقیناً، انہوں نے مزید بھی کچھ کہا ہو گا۔ نہ صرف یہ کہ اتنی مختصر بات، وہ بھی اتنی بڑی بات، جس میں بے انتہا اختصار اور روکھا پن ہے، عجیب طرز ہے۔ عام روش سے کوسوں دور ہے۔ لیکن، وہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ علی نے بھلے کچھ بھی کہا ہو، اس سے کسی طور بھی محمدؐ کی مشکل حل نہیں ہوتی تھی۔ عائشہ کو طلاق دینا کسی طور بھی مسئلے کا حل نہیں تھا۔ لوگوں کی زبان کو کون روکتا، بلکہ اس طرح تو افواہیں زور پکڑ لیتیں۔ محمدؐ کا اختیار اور ساکھ ختم ہو کر رہ جاتی۔ اس مسئلے کا حل تو صرف یہ تھا کہ انسانوں سے بڑی کوئی ذات گواہی دیتی۔ ایسا، ہو کر بھی رہا۔
تین ہفتوں کی مسلسل کوفت اور تذبذب کے بعد، محمدؐ سیدھا ابو بکر کے گھر عائشہ سے منہ در منہ سوال جواب کرنے پہنچ گئے۔ یہاں، عائشہ نے ایک بار پھر اپنی پاک دامنی کی قسم اٹھائی۔ محمدؐ پر پیغمبرانہ حال طاری ہو گیا۔ عائشہ نے اس وقت کا واقعہ کچھ یوں بیان کیا ہے، 'رسول خدا چادر میں لپٹے، لیٹے ہوئے تھے اور سر کے نیچے چمڑے سے بنا ایک تکیہ رکھا ہوا تھا۔ پھر، کافی دیر بعد جب انہیں ہوش آیا تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئے۔ ان کے جسم سے پسینہ یوں بہہ رہا تھا جیسے موسم سرما کے دنوں میں بارش ہوتی ہے۔ انہوں نے ابروؤں سے پسینہ نچوڑا اور کہنے لگے، 'مبارک ہو عائشہ! اللہ نے تمہاری پاکیزگی کی گواہی دی ہے'۔
یہ الہام کا بر وقت نزول تھا۔ اسی دن، محمدؐ نے عوامی سطح پر اس ربانی گواہی کی اطلاع عام کر دی۔ آج، یہ الہامی الفاظ قران کی چوبیسویں سورت کا حصہ ہیں۔ یہ آیات کچھ یوں ہیں، 'جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں، اور انہیں سزا مل کر رہے گی'۔ اسی طرح، ' لیکن جس وقت تم لوگوں نے اسے سنا تھا، اسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گماں کیا اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟' آگے چل کر پوچھا گیا، 'جبکہ تمہاری ایک زبان سے دوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے۔ حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی'۔ جھڑکنے کی طرح کہا، 'کیوں نہ اسے سنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ، 'ہمیں ایسی بات زبان زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سبحان اللہ، یہ تو ایک بہتان عظیم ہے؟' اور پھر نصیحت کی، 'آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا، اگر تم مومن ہو'۔
یہ عائشہ کی اس قضیے سے شاندار انداز میں خلاصی تھی۔ انہیں صرف بریت نہیں ملی بلکہ پر شکوہ بات یہ تھی کہ الہامی آواز ان کے معاملے میں غلط ثابت کرنے کے لیے ایک نہیں، دو نہیں بلکہ پورے چار لوگوں کی گواہی کا تقاضا کر رہی تھی۔ کہا گیا تھا کہ اگر چار لوگ اس غیر اخلاقی حرکت، جس کا الزام دھرا گیا تھا، عینی شاہد بن کر سامنے نہیں آتے، عائشہ بے گناہ تھیں۔ بلکہ، جو بغیر کسی شہادت کے ایسا الزام دھرے، اسے سخت سزا دی جائے۔
زیادتی اور نا انصافی کا شکار ہونے والی کسی بھی عورت کے لیے اس سے بہتر فیصلہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن، ہوا کیا کہ آنے والی صدیوں میں
قدامت پسند ملاؤں کے ہاتھ میں اسی فیصلے کو یوں ہیر پھیر دیا گیا کہ اس کی وہ روح جو الہام اور محمدؐ کی منشا تھی، چھلنی ہو کر رہ گئی۔ یہ آیات اپنی اصل کے بالکل بر عکس استعمال ہونے لگیں۔ یعنی یہ کہ، بجائے اس سے عورت کو تحفظ ملتا، ان ہی کی تشریحات کی مدد سے الزام تراشی کی جانے لگی۔ وہ یوں کہ الہامی الفاظ نہ صرف بدکاری کے شبہ میں بلکہ جنسی زیادتی میں حالت مفعولی، یعنی استغاثہ میں بھی استعمال کیے جائیں گے۔ یعنی، اگر ایک عورت جو مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنی ہو، کسی کو اس کا مورد الزام ٹھہرائے تو اس صورت میں بھی، جب تک وہ چار عینی گواہ پیش نہیں کرتی، جو ظاہر ہے عملی طور پر نا ممکن ہے، وہ اس الزام تراشی پر بہتان اور بد کاری کی مجرم قرار دی جائے گی اور سخت ترین سزا کی حقدار ہو گی۔ جن کلمات سے عائشہ کی گو خلاصی ہو گئی تھی، ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے بعد کے ادوار میں یہی احکامات بے شمار عورتوں کو خاموش کرانے کا حربہ، بے عزتی کا سامان، تضحیک اور قتل کا ہتھیار بن جائیں گے۔
ظاہر ہے، اس دور کے لوگوں، بشمول عائشہ اور محمدؐ، کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا ہو گا۔ یعنی، خدائی آیات کو تشریحات کے گھن چکر میں یوں گھمایا جائے گا کہ اصل روح ہی فسخ ہوجائے گی۔ عائشہ کے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ ان کے خلاف لگائے گئے گھناؤنے الزامات غلط ثابت ہو چکے تھے اور یہ خود خدائے زوالجلال کی مہربانی سے ممکن ہوا تھا۔ کائنات کی سب سے برتر، مقدس ذات کو خود اس معاملے میں بولنا پڑا تھا۔ ان پر الزام دھرنے والوں کو سر عام کوڑے لگا کر سزائیں دی گئیں اور وہ شاعر خواتین و حضرات جو کل تک عائشہ کے خلاف زہر اگل رہے تھے، فوراً ہی پلٹا کھایا اور اب ان کے قلم ان کی پاک دامنی اور عصمت کی قسمیں کھا رہے تھے۔ ان کی عظمت اور بڑائی بیان ہو رہی تھی، مقام اور حیثیت کے گن گائے جا رہے تھے۔ وہ اب مسجد کے احاطے میں اپنے کمرے میں واپس آ گئیں، جو محمدؐ کی بیویوں کے لیے مختص تھے۔ وہ ایک بار پھر، آپؐ کی پسندیدہ ترین بیوی تھیں۔ لیکن، اب ان کا رتبہ کسی بھی دوسری بیوی سے بڑھ کر تھا۔ بلکہ، کسی بھی عورت سے بڑھ کر تھا۔ وہ واحد تھیں جن کی موجودگی میں محمدؐ پر وحی اتری تھی، اس کے ساتھ یہ کہ یہ وحی ان کے ہی متعلق تھی۔ کسی بھی شخص کے لیے اس سے بڑا رتبہ کیا ہو سکتا ہے؟
اس کے باوجود، عائشہ کو بہرحال اس رتبے کی قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ ان کی محمدؐ کے ساتھ مہمات پر جانے کی آزادی ختم ہو گئی، وہ اب مزید اس طور سفر نہیں کر پائیں گی۔ سوائے مکہ میں حج کے، وہ محمدؐ کی زندگی میں دوبارہ کبھی دور، صحرا کے اندر نہیں جا سکیں گی۔ یقیناً، وہ ان مہمات اور صحرائی سفر کے دلچسپ تجربے کو یاد کرتی رہتی ہوں گی۔ جس طرح کی ان کی طبیعت تھی، لڑائی اور جنگوں کے دوران لشکر کا حصہ نہ بن پانے پر تنگ بھی ہوا کرتی ہوں گی۔ زیادہ تر وقت صرف مدینہ تک محدود ہو جانے پر کڑھتی بھی ہوں گی۔ بے خوف، یہاں تک کہ بسا اوقات بے دھڑک خطرات میں کود جایا کرتی تھیں، ایک انتہائی عمدہ جنگجو ثابت ہو سکتی تھیں، اب پس منظر میں چلی گئیں۔ اس واقعے کے تقریباً پچیس سال گزر جائیں گے تو وہ دوبارہ جنگ کے میدان میں اتریں گی۔
اس کے علاوہ بھی عائشہ کو اس معاملے کے بعد، ایک اور لحاظ سے بھی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔ جہاں وہ ایک نئے رتبے اور حیثیت سے، نہایت ٹھسے کے ساتھ اپنی باقی زندگی معتبری میں گزاریں گی، وہیں طوفان کے گزر جانے کے بعد اس کے کلی انجام میں ایک بات یہ بھی ہوئی کہ اب مدینہ کے نخلستان کی اجتماعی یاد داشت میں وہ منظر نقش ہو کر رہ گیا، جس میں عائشہ سر اونچا کیے، اونٹ پر سوار، صفوان اونٹ کی مہار تھامے ہوئے ہے، مدینہ میں داخل ہوتی ہیں۔ یہ ایسا منظر ہے، جو شاید محمدؐ کی عوامی سطح پر نیک نامی اور ساکھ کی آخری حد تھی۔ چنانچہ، جہاں ایک طرف قرانی آیات نے عائشہ کی پاک دامنی کی گواہی دی تھی، وہیں ایک دوسری آیت میں حکم ملا کہ اس دن کے بعد، محمدؐ کی بیویاں جب باہر نکلیں تو منہ پر چادر ڈال لیں گی، تا کہ غیر محرم مردوں کی نظروں سے دور رہیں۔ ظاہر ہے، گھر کے اندر تو دروازوں، کھڑکیوں اور روشن دانوں پر پردے ڈال کر نسبتاً آسانی سے یہ مقصد پورا ہو جاتا تھا، لیکن گھر کے دروازے سے باہر یہ پردہ، فرد کو ڈھکنے کے سوا ممکن نہیں تھا۔ یہ پردہ، حجاب کہلائے گا۔
پردے کے احکامات صاف طور پر پیغمبر کی بیویوں کے لیے مختص تھے، جو ایک طرف ان کی ضرورت تھی تو دوسری جانب انہیں باقی عورتوں سے ممتاز حیثیت اور رتبہ بھی عطا کرنا مقصود تھا۔ مثلاً، '۔۔۔پہچانی جاؤ اور ستائی نہ جاؤ'۔ ان آیات کے نزول کے کئی دہائیوں بعد اسلامی سلطنت میں عورتوں کی ایک بڑی تعداد ان احکامات کو اپنا لے گی۔ مقصد، دوسری عورتوں سے ممتاز نظر آئیں اور رتبے کی حامل ہوں۔ لیکن، جلد ہی اسلامی قدامت پسند فقہی تشریحات کی بنیاد پر قائل ہو جائے گا کہ در اصل پردہ، ہر مسلمان عورت پر لازم ہے۔ شاید ان کا مقصد، تمام مسلمان عورتوں کو امتیازی حیثیت دلانا رہا ہو یا دوسری صورت، جیسے باقی تمام معاملات میں ہوا، قدامت پسند اپنی مرضی تھونپ رہے ہوں۔ لیکن، ہر دو صورت یہ ضرور ہے کہ اگر نئے ادوار میں عائشہ ہوتیں تو یقیناً اس طرح کی تشریحات اور پھر تمام عورتوں کے لیے انتہائی لازم سمجھے جانے والے احکامات پر یقیناً سیخ پا ہو جاتیں۔ ذرا سوچیے، بعد کے ادوار اور آج کے مسلمان قدامت پرستوں کی حیرت کا کیسا منظر ہو اگر انہیں پتہ چلے کہ ایک دن ایسا بھی آیا تھا کہ عائشہ نے اپنے سر کی چادر انتہائی غیظ و غضب اور خفگی کا اظہار کرنے کے لیے اتار کر پھاڑ دی تھی۔ گرچہ، انہوں نے حجاب کو ایک امتیازی حیثیت سے قبول تو کر لیا تھا ، لیکن کیا وہ قبول کر لیتیں کہ کوئی شخص پردے اور حجاب کا نام لے کر انہیں پس منظر میں رہنے پر مجبور کر سکتا ہے؟ ہم تاریخ میں دیکھتے ہیں کہ انہوں نے کسی بھی شخص، کسی بھی شخص حتی کہ اپنے دور کے جید اصحاب اورطاقتور حکمرانوں تک کو بھی یہ اجازت نہیں دی۔ ایک ایسی لڑکی جو نمو داری میں یقین رکھتی ہو، بے باک اور بے خوف ہو، خود اعتمادی کا نشان رہا کرتی ہو۔۔۔ کسی بھی صورت اسے پردوں میں چھپا رہنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ کسی طرح، اس طرح کی پابندیوں کو قبول نہ کرتیں۔ تاریخ گواہ ہے، انہوں نے ایسی بندشیں کبھی قبول نہیں کیں۔
اسی عرصے میں، یعنی گمشدہ ہار کے واقعہ کی قسط جب تمام ہو چکی تو اس کے بعد عائشہ کا رویہ لوگوں سے بھی بدل گیا۔ اگرچہ، محمدؐ نے کبھی ان پر شک نہیں کیا، صرف پوچھ تاچھ کی تھی۔ اگر انہیں محمدؐ پر اس وجہ سے کوئی غصہ رہا بھی تھا تو مسئلے کے حل ہونے کے انداز کی وجہ سے جاتا رہا۔ اگر پہلے کبھی رہا بھی تھا تو اب ان کے دل میں محمدؐ کے لیے کوئی گلہ باقی نہیں تھا۔ اگر ہوتا بھی تو ظاہر ہے، وہ با آسانی اس کو دور کر دیتیں۔ لیکن، یہ علی کو یہ معافی کبھی نہیں ملے گی۔ وہ مرتے دم تک علی سے شاکی رہیں گی۔ ایک طرح سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس واقعہ کے سات سال بعد جب محمدؐ بیماری مرگ میں مبتلا تھے اور ان کے انتقال کے بعد جو واقعات پیش آئیں گے، ایسا وقت بھی آئے گا کہ عائشہ ایک بڑی فوج کی کمان سنبھالے میدان جنگ میں علی کے مد مقابل کھڑی ہوں گی، گمشدہ ہار کے واقعے کے بعد حالات کے اس نہج پر پہنچنے کے لیے کڑیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ علی نے محمدؐ کو جو مشورہ دیا تھا، عائشہ کی زندگی میں اس کی تلخی ہمیشہ ہی باقی رہے گی۔ وہ ان کی آنکھ میں ہمیشہ کھٹکتے رہیں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ ان کے دل میں اس سوزش کا اثر صرف ان دو لوگوں تک محدود نہیں رہا بلکہ اس گہری خلش کا کھٹکا آج بھی دنیا بھر کے مسلمانوں کا پیچھا کر رہا ہے۔ سنی اور شیعہ، وہ بھی علی اور عائشہ کے بیچ کشمکش سے بچ نہیں سکے، وہ آج بھی جب اکثر جب کٹر خیالات کا اظہار کرتے ہیں تو اکثر اخلاق کا دامن بھی ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ کھینچ تان، لوگوں میں بھی جاری ہے۔ جہاں سنی انہیں ان کو ملنے والے رتبے کی وجہ سے 'المبراء' یعنی، 'بری ہو جانے والی' کہا کرتے ہیں، تو کئی کٹر شیعہ ایسے ہیں جو آج کئی صدیاں بیت جانے کے بعد بھی، یہ نہایت عجیب بات ہے کہ ان اصحاب کے بیچ چپقلش کو انتہائی ذاتی سطح پر لے جاتے ہیں اور انہیں اپنے نام 'عائشہ' کی بجائے 'فاحشہ' کہہ کر یاد کرتے ہیں۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان'  کی چوتھی قسط کے لیے یہاں کلک کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر