اول المسلمین کے بعد - تمہید

 

ایک زور دار دھماکہ ہوا ۔ یوں لگا، جیسے کان پھٹ گئے ہیں۔ پہلے چند سیکنڈ تک تو لاکھوں زائرین مثال جڑ کی طرح جہاں تھے، وہیں دب گئے۔ سبھی جانتے تھے کہ کیا ہوا ہے، لیکن یقین نہیں آ رہا تھا۔ دماغ ماؤف اور اوسان خطا تھے۔ پھر تھوڑی دیر بعد کانوں میں بجتی سیٹیاں کم ہوئیں ، حواس قدرے بحال ہوئے تو ہر طرف چیخ پکار اور ہا ؤ ہو مچ گئی۔
لوگوں میں فوراً ہی افراتفری پھیل گئی۔ سب ایک ساتھ، خوفزدہ ہو کر ادھر ادھر بھاگنے لگے ۔ مرکزی چوک سے نکل کر گلیوں میں پھیل گئے ۔ان میں زیادہ تر کا رخ ایک ہی جانب تھا، وہ دوڑتے ہوئے سنہری گنبد والی مسجد کے احاطے میں پہنچنے لگے۔ دھوئیں اور دھول سے اٹے، اکثر خون میں لت پت، شدید زخمی حالت میں یہاں وہاں پڑے تھے۔ کسی کی ٹانگ اڑ گئی اور کوئی خون بہہ جانے سے ہلکان، کئی لاشیں بھی بکھری ہوئی تھیں۔ ایک دوسرے کو کچلتے ہوئے بند جگہوں میں پناہ لے رہے تھے۔ ابھی پہلے دھماکے سے بھی پوری طرح سنبھلے نہیں تھے کہ گنبد کے سائے تلے، صحن کے بیچ میں ہی ایک اور بم پھٹا، پھر ایک اور، اس کے بعد ایک اور ۔۔۔ یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا۔ یکے بعد دیگرے نو دھماکوں سے قیامت کا سماں بندھ گیا۔
تیس منٹ کے اندر کار میں نصب بموں ، خود کش دھماکوں، گرینیڈ اور مارٹر گولوں کے حملوں سے دھرتی لرز اٹھی۔ جب یہ ہو چکا تو اطراف میں جلے ہوئے گوشت کی بو، خون اور دھول ہی دھول تھی۔ یہاں تک کہ کئی ایمبولینسوں کے تیز سائرن بھی شور میں دب کر رہ گئے۔
یہ 4 مارچ، 2004ء کی صبح کا واقعہ ہے۔ اسلامی کلینڈر میں دس محرم کا دن ، جسے عاشورہ بھی کہا جاتا ہے۔ کربلا میں شیعہ زائرین کی ایک بڑی تعداد جمع ہے ۔ زیادہ تر لوگ پچاس میل دور واقع بغداد شہر سے یہاں تک پیدل چل کر پہنچے تھے۔ انہوں نے خاصا اہتمام کر رکھا تھا، جلوس میں سینکڑوں کی تعداد میں علم اور جھنڈے بلند تھے اور زائرین ترنم سے نوحے الاپتے ، نعرے لگاتے اور سینہ پیٹتے ہوئے 'شہدا کے شہزادے' یعنی محمدؐ کے نواسے حسین کا ماتم کر رہے تھے۔ حسین کو اسی مقام پر قتل کر دیا گیا تھا۔ اگرچہ، یہ عاشورہ کا دن ہے، ماتم کا حال ہے لیکن اس کے باوجود ماحول میں ایک لحاظ سے جشن کا سا بھی عنصر گھلا ہوا ہے۔ کئی برسوں تک اس اجتماع، یعنی عاشورہ کے دن زیارت اور جلوس پر پابندی عائد چلی آ رہی تھی ۔ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد یہ پہلا موقعہ تھا کہ شیعہ کھلے عام آزادی سے یہ اجتماع منعقد کر رہے تھے۔ آج لوگوں کا یہ جم غفیر، ایک بار پھر ملنے والی آزادی کا مظہر تھا۔ لیکن اب ہوا یہ کہ، ماضی یاد کرنے نکلے تھے، خود ماضی کا حصہ بن گئے۔ مرنے والوں کا شمار بھی شہداء میں ہو گیا۔
بعد ازاں اس واقعے کو 'عاشورہ کا قتل عام' کہا جائے گا۔ یہ واقعہ بعد ازاں ملک میں ایک طویل اور فرقہ وارانہ خانہ جنگی کا آغاز ثابت ہو گا۔ ہر شخص کی زبان پر ایک ہی سوال ہو گا، آخر حالات اس نہج تک کیسے پہنچ گئے؟
سنی شدت پسند گروہ، القاعدہ نے عراق میں ہوئے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔ القاعدہ کے جنگجوؤں نے یہ حملہ خاصی مہارت اور انتہائی سرعت سے کیا۔ جس مقام پر یہ قیامت مچی، وہ تو ایک طرف، بے حد حیرت انگیز اور انتہائی دکھ کا باعث تھا ۔ اس کے علاوہ بھی، سینکڑوں اموات اور ہزاروں زخمیوں کو دیکھ کر دہشت کا سماں بندھ گیا۔ شیعہ کلینڈر میں دس محرم کا دن سب سے متبرک سمجھا جاتا ہے۔ اس کی مثال یہودیت میں یوم کیپور یا عیسائیت میں ایسٹر کے اتوار کی سی ہے۔، جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ اس واقعہ کی یاد ہے جو 680ء میں اسی دن یعنی دس محرم کو اسی مقام یعنی کربلا میں پیش آیا تھا۔ عربی میں کربلا، دو لفظوں کا مرکب ہے۔ کرب اور بلا۔ کرب کا مطلب بربادی یا پائمالی اور بلا سے مراد مصیبت یا غم و اندوہ ہے۔
محمدؐ کو گزرے ابھی پچاس برس بھی نہیں گزرے تھے کہ ان کے انتہائی قریبی عزیزوں کا یہیں قتل عام ہوا اور ان کے گھر کی عورتوں اور بچوں کو قیدی بنا کر زنجیروں میں جکڑ لیا گیا۔ تب بھی، جیسے جیسےخبر پھیلی، اس وقت کی اسلامی دنیا، یعنی مشرق میں ہندوستان کی سرحدوں اور مغرب میں الجیریا تک، غم و غصہ پھیل گیا۔ اس وقت بھی ایک سوال نے جنم لیا اور یہی سوال آج چودہ سو سال بعد بھی پوچھا جا رہا ہے۔ آخر حالات اس حد تک کیونکر پہنچے؟
ساتویں صدی عیسوی میں جو واقعات کربلا کے مقام پر پیش آئے، وہ ایک عرصے سے چلے آ رہے شیعہ اور سنی گروہوں کے بیچ قطعی طور پر تفریق کی بنیاد بن گئے۔ اوائل دور کی اسلامی تواریخ، یعنی ابن اسحاق اور الطبری کی تصانیف میں ان واقعات اور پس منظر کا احوال خاصی تفصیل کے ساتھ واضح اور نہایت بے تکلف انداز میں ملتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ واقعات مشرق وسطیٰ کے طول و عرض میں آج بھی سنیوں کو ازبر ہیں اور شیعہ کے دل پر تو جیسے نقش ہیں۔ ان واقعات کے نتیجے میں اگر ایک طرف تاریخ کے دھارے کو پہلی بار روک لگی تو لوگ واقعی سوچنے پر مجبور ہوئے ۔ دوسری طرف یہی واقعات تھے، جو ایسی جذبات انگیز قوت کو مجتمع کر گئے جو وقت کے ساتھ سدا پھیلتا ہوا ایک ایسا مرغولہ بن گیا جس میں حال اور ماضی، ایمان اور سیاست، ذاتی شناخت اور قومی آزادی الغرض ہر چیز لاینحل طور پر بٹ کر رہ گئی۔
شیعہ کا موقف یہ ہے کہ، 'ہر دن عاشورہ ہے اور ہر جگہ کربلا ہے'۔ 4 مارچ، 2004ء کو یہی پیغام حرف بہ حرف مگر نہایت دہشت انگیز انداز میں دہرایا گیا۔ کربلا کی کہانی بلاشبہ کبھی نہ ختم ہونے والی داستان ہے جو آج بھی تقریباً ساری ہی اسلامی دنیا میں اسی طرح مسلسل لیکن نہایت دہشت انگیز انداز میں تہہ در تہہ، ہر روز ہی کھلتی رہتی ہے۔ اس لہو لہو داستان میں عراق سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جو شیعہ اسلام کا پنگوڑا رہا ہے، جہاں اس نے آنکھ کھولی تھی۔
یہ کتاب، اسی دور کی کہانی ہے۔ ہمیں پتہ چلے گا کہ کہانی تب کیسے پیش آئی اور آج بھی ، وہی داستان آخر کیوں رکنے کا نام نہیں لیتی اور مسلسل پیش ہی آتی چلی جا رہی ہے۔

صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان'  کی پہلی قسط کے لیے یہاں کلک کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر