اول المسلمین کے بعد - علی - 06

 

اگر آپ تقدیر میں یقین رکھتے ہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ شاید علی کی قسمت میں خلافت لکھی ہی نہیں تھی۔ مگر جب علی خلیفہ منتخب ہوئے تو محمدؐ کو گزرے پچیس برس بیت چکے تھے۔  جن حالات میں انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا اور پھر بعد اس کے جو واقعات رونما ہوئے، ایسے لگتا ہے جیسے قسمت کے لکھے کو رد کر کے،  انہوں نے یہ عہدہ سنبھال کر گویا تقدیر کو طیش دلا دیا ہو۔ وہ ان پچیس برسوں میں ایک نہیں، دو نہیں بلکہ تین بار نظر انداز کیے گئے۔ کہا کرتے کہ یہ تمام عرصہ وہ یوں جیے جیسے'آنکھوں میں دھول اور منہ میں کانٹے بھرے ہوں'۔ وہ اس ربع صدی پر محیط زمانے کو 'خار اور خاک کے سال' کہا کرتے تھے۔
دھول اور کانٹے، غریب الوطنی کی تصویر ہیں۔ یہاں مادی نہیں بلکہ وجود کی جلا وطنی کا تذکرہ ہے۔ یوں کہیے، انہوں نے اپنا آپ کھو دیا۔ کہنے کو تو اس شہر مدینہ میں بستے تھے لیکن وجود اور مقصد حیات گم ہو چکا تھا۔ علی کے لیے تو یہ تصویربے رحمانہ حد تک طعن آمیز تھی۔ محمدؐ نے انہیں کئی خطابات سے نوازا تھا۔ ان میں سے ایک 'شیر خدا' بھی تھا۔ ایک وقت تھا جب وہ محمدؐ کی نیابت پر فائز تھے۔ ہر طرف ان کا چرچا رہا کرتا تھا، مگر اب وہ ایک دوسرے، محمدؐ کے ہی دیے خطاب سے پکارے جانے لگے۔ انہیں لوگ 'شیر خدا' کی بجائے ' ابو تراب' کہہ کر بلاتے تھے۔ ابو تراب سے مراد،' مٹی یا دھول کا باپ' ہے۔ آج جدید دور میں ہو سکتا ہے لوگوں کو یہ نہایت ہتک آمیز خطاب لگتا ہو مگر عرب روایت اس بارے خاصی مختلف ہے۔


علی کے اس نام بارے کئی باتیں مشہور ہیں، طرح طرح کی روایت مل جاتی ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ کہتے ہیں کہ علی کا یہ نام، ان کے گھوڑے کے سبب پڑا جو میدان جنگ میں دشمن کی طرف سر پٹ دوڑنے سے پہلے، کھروں سے دھول اڑایا کرتا تھا۔ ایک دوسری روایت کچھ یوں ہے کہ ایک دفعہ محمدؐ نے علی کو طوفان گرد و بار میں، اپنے چہار سو سے بے نیاز مراقبے کی حالت میں بیٹھے دیکھا۔ ان کے کپڑے دھول اور مٹی میں اٹے ہوئے تھے۔ اپنی اور نہ ہی اطراف کی کچھ خبر تھی۔ یہ یکسوئی دیکھ کر محمدؐ نے انہیں بے اختیار ابو تراب کا نام دے ڈالا۔ ایک تیسری روایت، مدینہ کے اوائل دور کی ہے۔ مسجد کی تعمیر جاری تھی اور علی سخت جان مزدوری میں جتے ہوئے تھے۔ مٹی اور پتھر ڈھونے کا تجربہ نہیں تھا، اس لیے چہرے پر گندھی مٹی کا کیچڑ اور سر میں دھول پڑی تھی۔ محمدؐ نے مزاقاً انہیں 'ابو تراب' کہہ کر بلایا اور یوں ان کا نام پکا ہو گیا۔ اسی طرح یہ مشہور ہے کہ مہاجرین کو مدینہ میں وارد ہوئے کچھ ہی عرصہ ہوا تھا۔ زرائع معاش مسدود تھے اور بڑی مشکل سے گزارہ ہوتا تھا۔ علی سمیت تقریباً سب ہی مہاجرین کو جان توڑ مزدوری کرنی پڑتی۔ وہ پتھر توڑتے اور پانی ڈھو کر گزارہ کرتے تھے۔ انہی دنوں کی یاد میں محمدؐ نے علی کو مٹی ڈھونے اور پتھر توڑنے کی مزدوری کے سبب ابو تراب کے خطاب سے نوازا تھا۔ ان دنوں علی کو شب و روز کا کچھ ہوش نہیں ہوتا تھا اور وہ ہر وقت مٹی میں اٹے پھرتے تھے۔ چنانچہ یہ شبیہ مزدور پیشہ طبقات میں آج بھی خاصی مشہور ہے۔ علی کے پیروکار جن کی گزر بسر تمام عمر مزدوری پر ہوتی ہے، وہ آج بھی انہیں اسی نام کے سبب اپنا کرتا دھرتا، مولا اور ساتھی مانتے ہیں۔یوں کئی طرح سے علی کا یہ نام، یعنی 'ابو تراب' گویا اوائل دور عرب مسلمانوں اور نئی اسلامی دنیا کی ایک بڑی آبادی کے بیچ ربط کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔
اوپر بیان کی گئی سب ہی روایات کے بارے کہا جا سکتا ہے کہ شاید،  ایسا ہی ہوا ہو گا۔ ان تمام بیانات میں دھول اور مٹی کمی کی بجائے، عزت اور منزلت کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ مٹی بارے آج بھی یہی مشہور ہے۔ سبھی مسلمان مٹی کو مقدس جانتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ اسی مٹی سے اٹھائے گئے تھے بلکہ اسی مٹی میں بالآخر مل کر مٹی ہو جائیں گے اور روز قیامت اسی مٹی سے دوبارہ اٹھائے جائیں گے۔ شیعہ کے یہاں، خاک سے یہ نسبت دوسروں سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ آج بھی نجف کی ریتلی مٹی ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ نجف، عراق میں بغداد سے کوئی سو میل جنوب میں واقع شہر ہے جہاں علی کا مزار ہے۔ یہ لوگ، یہاں کی مٹی کو گوندھ کر اس کی ٹکیاں اپنے ساتھ رکھتے ہیں اور جب بھی عبادت کریں تو سامنے رکھ لیتے ہیں۔ سجدے میں پیشانی اس مٹی پر ٹکتی ہے، گویا دنیا میں جہاں بھی ہوں وہ نجف میں دفن 'ابو تراب' کے مزار کی مٹی سے جڑے رہتے ہیں۔ ماتھا ٹیکتے ہیں تو مقدس مٹی سے جا ملتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ شیعہ میں سے ہر شخص مر کر اسی مٹی میں دفن ہونا چاہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے طول و عرض میں، شیعہ کی آخری خواہش نجف یا کربلا میں دفن کیے جانے کی ہوتی ہے۔ یہ روایت سینکڑوں سالوں سے یوں ہی چلی آ رہی ہے۔ پہلے پہل میتوں کو قالین جیسی موٹی چادروں میں لپیٹ کر خچروں اور اونٹوں پر لاد ے یہاں پہنچایا جاتا تھا۔ آج کل کاریں اور ٹرک اس مقصد کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ شیعہ سوگواران جلوس کی شکل میں اپنے پیاروں کے جنازے اٹھائے یہاں آتے ہیں اور نجف میں علی اور کربلا میں حسین کے مزار کے قرب و جوار میں قائم دو بڑے اور قدیم قبرستانوں میں دفن کر دیتے ہیں۔ ان جڑواں قبرستانوں کو 'وادی امان' کہا جاتا ہے ۔ شیعہ کا ماننا ہے کہ  مر کر یہاں دفن ہونے والا روز آخر علی اور حسین کے ساتھ زندہ کیا جائے گا۔ یہاں مدفن شخص جب موت سے اٹھے گا تو مہدی کے لشکر میں شمار ہو گا۔ مہدی بارے مشہور ہے کہ وہ علی کے جانشین ہیں اور شیعہ کے آخری امام ہوں گے۔ جو انہیں ایک بار پھر، اپنی رہنمائی میں انصاف اور سچائی کے ایک زریں دور میں لے جائیں گے۔
لیکن، محمدؐ کی وفات کے بعد آنے والے دنوں میں علی کے لیے انصاف اور سچائی کوسوں دور چلی گئی تھی اور اس کا سراغ تک نہیں ملتا تھا۔ ' محمدؐ کے انصار اور ان کی آل پر یہ مصیبت کی گھڑی ہے'، انصار میں سے ایک، علی کے حمایتی نے لکھا، 'یہ زمین انصار پر تنگ ہو چکی ہے اور ان کے چہرے سرمے کی طرح سیاہ ہو چکے ہیں۔ محمدؐ کا ننھیال یہیں کا تھا اور ان کا مزار بھی ادھر ہی ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر اس دن، جب محمدؐ کو منوں مٹی میں دفن کیا گیا، خدا ہمیں بھی اٹھا لیتا۔۔۔ ہمارے مرد اور عورتیں، بعد ان کے ختم ہو جاتے۔ ہم اسی دن مر کیوں نہیں گئے؟ ہماری تو بے انتہا تذلیل ہو گئی'۔
ہاشمی کنبے سے تعلق رکھنے والے ایک شاعر نے یوں گرہ لگائی، 'ہم تو وہ ہیں جنہیں عجب رنگ میں دھوکہ ملا۔۔۔'
شیعہ کے ہی مطابق، وہ وراثت سے بے دخل کر دیے گئے تھے۔ ان کے تئیں، وہ مقام جو ان کے لیے حاصل ہونا لازم تھا، چھین لیا گیا ۔ اسلام کی رہنمائی کا حق، جو محمدؐ کے کنبے کا جائز حق تھا، غصب کر دیا گیا۔ یہ وراثت اور اس سے محروم کیے جانے کا احساس آنے والے وقتوں میں رفتہ رفتہ شیعہ کے دل و دماغ کی میں جم کر بیٹھ جائے گا، اس کا خیال پختہ ہو جائے گا۔ یہ ایسا زخم ہے جو آج بھی ویسے کا ویسا رستا رہتا ہے۔ مثلاً حالیہ تاریخ میں دیکھیں تو بیسویں صدی کے دوران اس سے اٹھنے والی ٹیس پہلے پہل مغربی استعماریت کے خلاف بنیاد بنی۔ پھر ایران میں برپا ہونے والے انقلاب کا پہلا پتھر ثابت ہوئی۔ اس کے بعد لبنان میں خانہ جنگی کا موجب بنی اور آج اکیسویں صدی میں امریکی حملے کے بعد عراق اور شام میں جاری خانہ جنگیوں  کا باعث ہے۔ وراثت سے محرومی کا یہی احساس ہے جو وقت کے ساتھ لوگوں کو ایکا کرنے پر مجبور کر دے گی۔ انہیں ایک ہی گٹھ میں باندھ دے گی۔ یہی وجہ ہے کہ 1960ء میں شائع ہونے والی فرانز فانن کی استعمار کے خلاف کلاسیکی کتاب 'زمین کے بد نصیب' ایران میں ایک دوسرے، 'زمین کے لاوارث' کے عنوان سے طویل عرصے تک ہاتھوں ہاتھ بکتی رہی۔ یہ عنوان ہر طرح سے شیعہ آبادی کو عمل پر اکسانے  کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ اوائل دور اسلام میں علی اور ان کے حمایتی شیعہ کے تجربات کی ترجمانی کرتا ہے۔ اس داستان میں ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ آخر کار علی اپنے حمایتیوں یعنی شیعہ کی مدد کے بل بوتے پر 'وراثت' دوبارہ سے حاصل کر لیں گے۔ تاہم اس کے لیے انہیں مورچہ بند ہونا پڑے گا۔ وہ جان لیں گے کہ اگر اکٹھ بنا کر صف آراء ہوں گے تو ہی منزل ملے گی۔ یہ جب ہو گا، تب ہو گا۔ فی الوقت تو علی اور ان کے پیرو کاروں کے سامنے 'خاک اور خار' کے طویل زمانے کا ایک اونچا پہاڑ سر کرنے کو کھڑا تھا۔
کانٹے فوراً ہی چبھنا شروع ہو گئے۔ مدینہ بھر میں گہما گہمی تھی۔ لوگ جو ق در جوق مسجد پہنچ رہے تھے اور لمبی قطاروں میں کھڑے ابو بکر کی بطور خلیفہ تقرری کی توثیق کر تے ہوئے، ان کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔ لیکن وہ شخص جو اس انتخاب کے دوران نظر انداز کر دیا گیا تھا، اس نے خود کو اپنے خاندان کے قریبی لوگوں کے ہمراہ گھر میں بند کر دیا۔ علی نے اعلان کیا کہ وہ اور ان کا خاندان سوگ کی حالت میں ہیں ۔ یہ درست بھی تھا۔ لیکن اس طرح وہ ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے انکار بھی کر رہے تھے ۔ یہ ایک طرح سے اعلانیہ سر کشی اور حکم عدولی تھی اور آگے چل کر یہ بڑا مسئلہ بن سکتا تھا۔ اگر علی یوں ہی منکر تعاون رہے تو عین ممکن تھا کہ مدینہ کے انصار ان کی پیروی میں باہر نکل آتے اور ابو بکر کی بطور خلیفہ تقرری سے انکار کر دیتے۔ شوریٰ کو اوندھا کر دیتے۔ یعنی اس مجلس اور اس کے فیصلے کی افادیت اور اہمیت کی دھجیاں اڑ جاتیں۔ جہاں علی کو قائل کرنا لازم تھا وہیں اس کے ساتھ یہ کام جلد از جلد نمٹ جانا بھی اشد ضروری تھا۔ چنانچہ، انہیں منانے کے لیے ابو بکر نے عمر کو اس مسئلے سے نبٹنے کی ذمہ داری سونپ دی۔ لیکن ہوا یہ کہ عمر کے ہاتھ میں معاملہ آتے ہی بات سلجھنے کی بجائے بگڑ گئی۔
یہ ایسا کام تھا جس کے لیے انتہائی زیرک سفارت کار ، صابر شخص کی ضرورت تھی۔ کوئی ایسا ہوتا جو علی کو مکالمے سے قائل کرتا مگر ابو بکر نے اس مقصد کے لیے عمر جیسے زور آور جنگجو کا انتخاب کیا، جو بدقسمتی ہی کہلائی جا سکتی ہے۔ عمر کی جرات اور بحیثیت سپہ سالار کمال مہارت بارے کسی کو کوئی شک نہیں ہے لیکن اس نازک کام ،جس کے لیے انتہائی صبر اور طویل مکالمے کی ضرورت تھی، عمر کا خاصہ نہیں تھا۔ وہ آن کی آن میں مسئلے کو حل کرنا جانتے تھے۔ بجائے زبانی کلامی باتوں اور نزاکتوں میں پڑتے، فوراً ہی آہنی ہاتھ سے نبٹنے پر یقین رکھتے تھے۔ وہ کسی بھی طرح سے اٹکل چلانے والے شخص نہیں تھے۔ وہ لوگوں کو چھل پرت کر کے قائل کرنے کے قابل نہیں تھے۔ لوگوں کو بہلا پھسلا کر اپنا حامی بنانا، ان کا کبھی شیوہ نہیں رہا تھا۔ وہ تو دو ٹوک بات پر یقین رکھتے تھے اور اس رات، انہوں نے اپنی شخصیت کے اسی رخ کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ عمر نے مسلح اشخاص کا ایک گروہ جمع کیا اور ان کو لیے علی کے یہاں پہنچ گئے ۔ گھر کو چاروں طرف سے گھیر لیا گیا ۔ وہ خود دروازے کے سامنے کھڑے ہو گئے اور با آواز بلند، تقریباً چلاتے ہوئے علی کو باہر نکل کر ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا حکم دیا۔ علی کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی فوراً دھمکی دے ڈالی کہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو وہ اور ان کے آدمی، علی کے گھر کو جلا کر راکھ کر دیں گے۔
بعد ازاں، اس رات کے واقعات بتاتے ہوئے علی نے کہا ، 'اگر اس رات میرے ساتھ صرف چالیس آدمی ہوتے تو میں عمر کی دھمکی کا جواب پوری طاقت سے دیتا '۔ لیکن اس رات علی کے یہاں صرف ان کے خاندان کے قریبی لوگ ہی موجود تھے جنہیں ہم 'اہل بیت' کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ چنانچہ علی نے جواب میں بوجوہ حکمت سے کام لیتے ہوئے، انتہائی مجہولی انداز میں عمر کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔
چونکہ عمر نے بات ہی دھمکانے سے شروع کی تھی۔ دھمکی بھی ایسی تھی کہ جو سنتا، دم بخود رہ جاتا۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ محمدؐ کے خاندان کو گھر کے اندر جلا کر بھسم کر دیں گے، جو ظاہر ہے ناممکن تھا۔ اب ان کے پاس بظاہر اس کے کوئی چارہ نہیں رہا تھا کہ اگر علی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے باہر نہیں نکلتے تو پھر انہیں، یعنی عمر کو بزور بازو پوری قوت سے اندر داخل ہونا پڑے گا۔ جب علی نے انکار کیا تو عمر کے غصے کی انتہا نہیں رہی۔ وہ پیچھے ہٹے اور خاصی دور سے دوڑتے ہوئے آئے اور پوری قوت سے دروازے کو دھکا دیا۔ قبضے اور چھپکے ٹوٹ گئے ۔ دروازہ دھڑام سے اندر گر گیا اور دروازے کے پیچھے پیچھے چھ فٹ قد اور بھاری بھر کم وزن رکھنے والے عمر بھی چھاٹ سے لڑھکتے ہوئے اندر داخل ہو گئے۔ بد قسمتی سے دروازے کی دوسری طرف فاطمہ کھڑی تھیں جو پہلے دروازے اور پھر عمر، جو اپنے وزن پر قابو نہیں رکھ پائے تھے، گرے تو ان کے نیچے دب گئیں۔
فاطمہ، حمل سے تھیں۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ فاطمہ کو صرف چند خراشیں آئیں۔ دوسروں نے تاریخ میں درج کرایا کہ اس حادثے میں ان کا بازو ٹوٹ گیا۔ لیکن، تمام ہی روایات میں ایک بات مشترک ہے کہ عمر، فاطمہ کو اس حالت میں دیکھتے ہی ہکا بکا رہ گئے۔ وہ عمر کے قدموں میں پڑی تھیں اور درد سے کراہ رہی تھیں۔ جیسے ہی علی نے آگے بڑھ کر فاطمہ کو سہارا دے کر اوپر اٹھانا چاہا، عمر فوراً پیچھے ہٹ گئے ۔ وہ کچھ کہے بغیر باہر نکل گئے۔ وہ اپنا کام کر چکے تھے، یعنی علی پر بات واضح ہو گئی تھی۔
اس واقعہ کے چند ہفتوں بعد، کمزوری سے بے حال فاطمہ نے ایک مردہ بچے کو جنم دیا۔ کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ اسقاط حمل کی وجہ اس رات پیش آنے والا حادثہ تھا یا یہ فاطمہ کی پہلے سے ہی گرتی ہوئی صحت تھی، جس کے سبب ایسا ہونا قدرتی تھا۔ ہر دو صورت، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ابو بکر یا کم از کم عمر کی طرف سے علی کو معاملہ سلجھانے کے لیے رسمی طور پر گفت و شنید کرنے کی پیش کش کی جاتی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ یقیناً یہ کچھ اچھی شروعات نہیں تھی۔
ہوا یہ کہ فاطمہ کو پہنچنے والی تکلیف کا ازالہ کرنے کی بجائے اگلا قدم جائیداد سے علیحدہ کرنے کا اٹھایا گیاجو فاطمہ اور علی کے مطابق ان کا جائز حق تھا۔ اسقاط حمل کے کچھ دن بعد، فاطمہ نے ابو بکر کو پیغام بھیجا کہ محمدؐ کی جائیداد میں سے ان کا حصہ ادا کیا جائے۔ جائیداد میں، مدینہ کے شمال میں واقع خیبر اور فدک کے نخلستانوں میں واقع وسیع و عریض کھجور کے باغات اور دوسری املاک تھیں۔ مرتے وقت، یہ سب محمدؐ کی ملکیت تھیں۔ ابو بکر کے جواب نے فاطمہ کو سٹ پٹا کر رکھ دیا۔ جواب یہ آیا کہ محمدؐ کی جائیداد کسی ایک شخص نہیں بلکہ امت کی ملکیت ہیں اور بطور خلیفہ وہ ان املاک کا انتظام سنبھالنے میں با اختیار ہیں۔ اب یہ خلیفہ کی ذمہ داری ہے۔ وہ کسی بھی صورت، امت کے باقی لوگوں سے زیادتی نہیں کر سکتے اور یوں ان املاک کو گنے چنے لوگوں میں بانٹنے کے روادار نہیں ہیں۔ اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے ابو بکر نے کہا ، 'آپؐ نے ایک بار کہا تھا کہ ہمارے یہاں کوئی وراثت اور کوئی وارث نہیں ہے۔ ہم جو بھی اپنے پیچھے چھوڑ جائیں وہ خدا کے نام پر صدقہ شمار ہو گا'۔
فاطمہ کے پاس ابو بکر کی زبان پر یقین کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ ویسے بھی، بھلے وہ اس بابت ذاتی طور پر معترض ہوتیں، ابو بکر کی صداقت اور دیانت پر کسی کو شک نہیں تھا۔ سنی بعد ازاں ابو بکر کے اس دو ٹوک جواب کا بھر پور دفاع کرتے ہوئے، اجتماعیت کی انفرادیت پر فوقیت کی دلیل پیش کریں گے۔ بظاہر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے ابو بکر کہتے ہوں، 'صرف تم ہی محمدؐ کا گھرانہ نہیں ہو بلکہ ہم سب امتی آپؐ کا گھرانہ ہیں'۔ لیکن شیعہ اس بات پر قائل ہیں کہ محمدؐ کے گھرانے کے لوگ، یعنی ان کے قریبی خاندان کو اب دوہرے انداز میں وراثت سے محروم کر دیا گیا تھا۔ ایک شاعر نے اس بات کو یوں لپیٹا، 'علی کو رہنمائی سے دور کر دیا اور فاطمہ کو جائیداد سے محروم ہونا پڑا'۔
ابو بکر نے فاطمہ کا مطالبہ رد کر دیا۔ اس جواب میں جو مقبول بیانیہ ہے، صاف ظاہر ہے۔ یعنی یہ کہ محمدؐ کا گھرانہ دراصل اسلام کا گھر ہے اور اسلام میں سب برابر ہیں۔ لیکن برابری کی بات کچھ یوں ٹھہری کہ کچھ ایسے بھی تھے جو باوجود اس بیانیے کے پر اثر ہونے کے، دوسروں سے زیادہ کے حقدار قرار پائے۔ اگرچہ فاطمہ کا دعویٰ رد کر دیا گیا لیکن ابو بکر نے بطور خلیفہ محمدؐ کی بیواؤں پر خوب نوازش کی۔ بالخصوص اپنی بیٹی عائشہ کو تو خصوصی عطا ہوئی۔ انہیں مدینہ کے نخلستان میں اور جزیرہ عرب کی دوسری سمت میں واقع بحرین کے علاقے میں بیش قیمت املاک کی ملکیت بخش دی گئیں۔
فاطمہ کے لیے یہ انت تھا۔ یعنی ان کے والد کی سب سے چھوٹی اور خود سر بیوی پر تو خوب عنایت ہوئی لیکن آپؐ کی پہلی اور محبوب بیوی کی بیٹی کو یوں ٹھکرا دیا جائے گا؟ وہ اسقاط حمل یا پھر ابو بکر کے ساتھ جائیداد کے معاملے پر تلخی سے کبھی دوبارہ جانبر نہیں ہو سکیں۔ لیکن ان چند مہینوں کے دوران پیدائشی طور پر مردہ پیدا ہونے والے بچے کے غم کے بعد انہیں سب سے زیادہ دکھ برادری سے دیس نکالے کا سہنا پڑا۔ ابو بکر نے علی کو راہ راست پر لانے کی کوششوں میں ایک انتہائی سخت قدم اٹھایا اور علی کے گھرانے کے سماجی بائیکاٹ کا عندیہ دے دیا۔
ایک ایسے معاشرے میں، جہاں سب کچھ ہی میل جول اور رشتہ برادری پر چلتا ہو، سماجی بائیکاٹ ایک طاقتور ہتھیار ثابت ہو سکتا ہے۔ بائیکاٹ کے دوران ہر دن، ہفتہ اور مہینہ گزرتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے دباؤ بڑھتا جاتا ہے ۔ ایسا لگتا ہے جیسے جس کا بائیکاٹ کیا گیا ہے، وہ اپنا وجود ہی کھو بیٹھتا ہے۔ لوگ پیٹھ موڑ لیتے ہیں، دوست فاصلہ رکھتے ہیں اور جاننے والے پاس سے گزرتے ہوئے حال بھی نہیں پوچھتے۔ لوگوں کا رویہ کچھ ایسے سرد پڑ جاتا ہے جیسے آپ وجود ہی نہیں رکھتے۔ یہاں تک کہ مسجد میں بھی، علی کو اب تن تنہا ہی عبادت کرنی پڑتی تھی۔
یہ نہایت عجیب بات ہے۔ اس سے پہلے سماجی بائیکاٹ کا یہی ہتھیار کئی سال پہلے مکہ میں قریش نے محمدؐ اور ان کے کنبے کے خلاف استعمال کیا تھا۔ اگرچہ، تب بھی یہ حربہ اتنا ہی کار گر تھا جتنا کہ اب ثابت ہو رہا تھا۔ لیکن تب قریش کی یہ چال بری طرح ناکام ہو گئی تھی۔ بعد اس کے، جھنجھلا کر مکہ کی اشرافیہ نے محمدؐ پر قاتلانہ حملے کا فیصلہ کیا تھا۔ جیسے تب، ویسے ہی آج بھی یہ طریقہ ناکامی سے دوچار ہو گا۔ فاطمہ اور علی نے دباؤ کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیا۔ فاطمہ کی صحت روز بروز بگڑتی جا رہی تھی اور جب انہیں یقین ہو گیا کہ اب وقت آخر قریب ہے، انہوں نے وصیت میں علی کو تاکید کی کہ جس طرح خاموشی سے ان کے والد، یعنی محمدؐ کی تدفین عمل میں لائی گئی تھی، انہیں بھی اسی طرح گپت انداز میں، رات کے گھپ اندھیرے میں سپرد خاک کیا جائے۔ انہوں نے زور دے کر تاکید کی کہ ابو بکر کو ان کی موت کی خبر نہ دی جائے اور کسی بھی صورت ان کے جنازے کو سرکاری اعزاز و اکرام سے ادا کرنے کی اجازت نہ ملے۔ مزید یہ بھی کہ جنازے میں 'اہل بیت' یعنی محمدؐ کے اصل گھرانے کے افراد کے علاوہ کسی بھی شخص کی موجودگی کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی اس کی اجازت دی جائے۔
اگر عائشہ کو فاطمہ، یعنی اپنی حریف کی موت سے کوئی تسلی ہوئی بھی تھی تو اس کا انہوں نے کوئی اظہار نہیں کیا اور نہ ہی اس کا تاریخ میں کوئی ریکارڈ ہے۔ غیر متوقع طور پر اس ساری قسط میں ان کی جانب سے مکمل خاموشی کا مظاہرہ کیا گیا۔ ظاہر ہے، اس طرح کسی کی موت پر شادیانے تو نہیں بجتے اور ویسے بھی عائشہ کو اس طرح کی کسی چیز کی اب حاجت باقی نہیں رہی تھی۔ وہ اس لیے کہ انہیں دوگنی عزت مل چکی تھی۔ پہلی یہ کہ وہ پیغمبر کی بیوہ تھیں اور دوسری یہ کہ وہ پیغمبر کے خلیفہ کی دختر تھیں۔ بلکہ، ایک طرح سے تو یہ تین گنا منزلت تھی۔ وہ یوں کہ ان کا رہائشی کمرہ جو مسجد کے احاطے کی دیوار سے جڑا ہوا تھا، اب پیغمبر کا مزار بن چکا تھا۔
ذرا غور کیجیے کہ آج بھی ایسے لوگ ہیں جو تخیل میں ایک ایسی جوان بیوہ کی شبیہ دیکھتے ہیں جس کے ہاتھ میں لا محدود اختیار ہے اور اس کی رہائش ایسی جگہ پر ہے جہاں بستری چبوترے کے قدمچے میں اس کے شوہر کا مزار ہے۔ اس منظر پر طلسماتی معنوں میں حقیقت کا گماں ہوتا ہے، جیسے گبرئیل مارکیز کے ناول کا کوئی سین ہو۔ لیکن یہ حقیقی دنیا ہے۔ کوئی ناول نہیں ہے۔ لوگ بھلے کچھ بھی تصور کریں لیکن ہوا یہ کہ محمدؐ کے بعد عائشہ کی دوبارہ کبھی اپنے رہائشی کمرے میں بسر نہیں رہی۔ محمدؐ کی تمام بیواؤں کو مسجد سے باہر، قدرے فاصلے پر واقع نئی تعمیر شدہ کشادہ قیام گاہوں میں منتقل کر دیا گیا۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے معقول وظیفہ بھی جاری ہوا ، جس میں عائشہ کا حصہ دوسری بیواؤں سے کہیں زیادہ تھا۔ اگرچہ عائشہ اپنی زندگی میں دوبارہ کبھی محمدؐ کے مزار، جو کبھی ان کی رہائش ہوا کرتی تھی، بسر نہیں کر سکیں گی۔ لیکن ان کا طرز زندگی باقی ماندہ عمر ایسا ہی رہا جیسے وہ واقعی وہاں بسر رکھتی ہوں۔ دوسروں سے برتر ہوں۔
جہاں عائشہ نے محمدؐ کی زندگی میں تمام اپنی تمام تر کوشش ان کی توجہ حاصل کرنے پر خرچ کی، اب آپؐ کے بعد وہ صحیح معنوں میں ان کی شخصیت اور یاد کو اپنے نقطہ نظر میں ڈھال دیں گی۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ جتنی بھی مرتب احادیث کا ذخیرہ ہے، ان میں عائشہ سے منسوب روایات کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ ہیں۔ احادیث، حدیث کی جمع ہے۔ اس سے مراد پیغمبر کے اقوال اور افعال ہیں جنہیں سنت بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں ہر طرح کے اقوال اور افعال شامل ہیں۔ چھوٹی اور بڑی چیزیں جیسے دینی معاملات میں بڑے اصول اور چھوٹی سے چھوٹی تفاصیل شامل ہیں۔ جیسے وہ ہاتھ کیسے دھوتے تھے؟ نہایا کیسے کرتے تھے ؟ اور دانتوں کے خلال کے لیے کس قسم کی لکڑی استعمال کرتے تھے؟ وغیرہ وغیرہ۔ سنی بعد ازاں خود کو اسی سنت سے جوڑ دیں گے اور اسی کو اپنی شناخت بنا لیں گے۔ حالانکہ شیعہ بھی محمدؐ کے انہی اقوال اور افعال کو محترم جانتے ہیں اور پیروی کرتے ہیں۔
عائشہ سے بھلے ایک بڑی تعداد میں احادیث منسوب ہیں۔ ان کی تعداد ہزاروں میں ہے۔ لیکن مستقبل نے ان کے ساتھ کچھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ جب تک زندہ رہیں، مومنین کی نامی گرامی ماں کی حیثیت سے جیتی رہیں لیکن بعد کے ادوار میں تاریخ میں ایک متنازعہ شخصیت بن کر رہ جائیں گی۔ لوگ ان کے بارے افترا بازیاں کرتے پھریں گے اور ان کے بارے بد گوئی اور بہتان بازی سے بھی باز نہیں آئیں گے۔ آنے والی صدیوں میں قدامت پسند علماء ان پر کڑی تنقید کیا کریں گے۔ وہ کہا کریں گے کہ در اصل عائشہ ہی اس سارے قضیے، یعنی انقسام کی وجہ تھیں۔ وہ عائشہ کی مثال دیا کریں گے کہ جب علی بالآخر خلیفہ مقرر ہو گئے تو ان کے عوامی سطح پر کردار اور اثر و رسوخ ، سیاسی نا سمجھی کی وجہ سے پیدا ہونے والے فتنے سے امت کو بے انتہا نقصان پہنچا۔ وہ عائشہ کا نام لے کر سب ہی عورتوں کے عوامی سطح کے معاملات میں کردار اور اثر رسوخ کے خلاف دلیل ڈھونڈ لائیں گے۔ عائشہ کے متعلق یہ ہے کہ ان کی وہ تمام صفات، جیسے ان کی بلند نظری، بے باکی اور خود اعتمادی وغیرہ کسی بھی سیکولر دماغ کو تو خوب بھاتی ہیں لیکن وہیں ان کی یہی عادات و اطوار اسلامی قدامت پسندوں کے یہاں ان کی مخالفت کا سبب بن جائیں گی۔ صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ کئی سنی گروہ بھی عائشہ سے اس ضمن میں بھر پور اختلاف کریں گے۔
یہ تو عائشہ کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ ہے۔ دوسری جانب فاطمہ ہیں۔ اگرچہ وہ کمزور اور ناتواں تھیں، مندرجہ بالا شخصی صفات میں وہ کسی بھی طرح سے عائشہ کا دور دور تک مقابلہ نہیں کر سکتیں تھیں۔ وہ جوانی میں چل بسی تھیں اور انہیں تاریخ کو اپنے طریقے سے بیان کرنے کا موقع نہیں مل سکا تھا لیکن اس کے باوجود آنے والا وقت ان کا طرف دار ہو گا۔ شیعہ، فاطمہ کو 'الزہرہ' یا 'زہرہ' کے نام سے یاد کیا کریں گے، جس کے مطلب 'درخشاں' یا 'مرکز شعاع' کے ہیں۔ اپنی زندگی میں ان کی بسر پس منظر میں رہی ہو، کمزوری سے پیلاہٹ کا شکار رہی ہوں اور چہرہ ناتوانی کے سبب ببے رونق ہوتا ہو، لیکن اس بات کی بعد ازاں کوئی اہمیت نہیں رہی۔ فاطمہ روحانی طور پر روشن ستارے کی طرح چمکیں گی۔ وہ پاک بازی اور تقدس میں اعلیٰ مقام کی حقدار قرار پائیں گی۔ صرف شیعہ ہی نہیں بلکہ سنی بھی ان کی روحانی طاقت اور پاک بازی کے گن گائیں گے۔ کیونکہ خود فاطمہ اور پھر ان کے دو بیٹوں حسن اور حسین کی رگوں میں پیغمبر کا خون دوڑتا تھا۔
شیعہ کے مشہور قصائص میں فاطمہ کا وجود تا ابد زندہ رہے گا۔ وہ زمان و مکان کی ایک اور ہی سمت کی وسعتوں میں باقی ہیں جہاں وہ مرنے کے بعد بھی اپنے بیٹوں پر آنے والی تکالیف اور مصیبتوں پر نم دیدہ ہیں ۔ ان کا یہ گریہ لامتناہی ہے اور مسلسل جاری رہے گا۔ وہ مقدس ماں کی طرح ہیں جن کے بڑے بیٹے کو زہر دے کر مار دیا گیا اور چھوٹے بیٹے نے اپنے سر کی قربانی دے کر انسانیت کو دوبارہ زندہ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی مثال، مریم کی طرح ہے جس کے بیٹے نے بھی کسی زمانے میں سولی چڑھ کر انسانیت کا درس دیا تھا۔ مریم کی طرح فاطمہ کو بھی 'کنواری اور پاک باز' کہا جاتا ہے، مراد وہ روحانی معنوں میں پاکیزگی اور عفت کی علامت ہیں۔ مریم کی طرح فاطمہ کے بارے بھی یہی مشہور ہے کہ وہ آخر دن تک اپنی اولاد کا ماتم کریں گی اور جب حشر برپا ہو گا تو وہ ایک ہاتھ میں بڑے بیٹے حسن کا زہر آلود دل اور دوسرے ہاتھ میں چھوٹے فرزند حسین کا کٹا ہوا سر اٹھائے، ظاہر ہوں گی۔
علی نے فاطمہ کی آخری خواہش کا پوری طرح احترام کیا۔ فاطمہ کا جنازہ رات کی تاریکی میں، انتہائی خاموشی اور چپکے سے ادا کیا گیا اور محمدؐ کی ہی طرح فاطمہ کو بھی انتہائی راز داری کے ساتھ گھپ اندھیرے میں دفن کر دیا گیا۔ فاطمہ کی تدفین ہو چکی تو اس کے بعد علی نے شوریٰ کے اجلاس کے بعد سے جاری کشمکش کو ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے، تسلیم سر خم کر دیا۔ انہوں نے ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کر دی۔ کئی لوگ کہتے ہیں کہ اس وقت علی غم سے نڈھال تھے۔ پہلے محمدؐ اور پھر فاطمہ کے اچانک چل بسنے سے ٹوٹ کر رہ گئے تھے۔ اب، ان میں مخالفت اور ڈٹے رہنے کی ہمت باقی نہیں رہی تھی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حالات نے ایسا رخ اختیار کیا کہ علی کو چاہتے، نہ چاہتے ہوئے بھی ابو بکر کی خلافت تسلیم کرنی ہی پڑی۔
ہوا یہ کہ محمدؐ کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی عرب کے طول و عرض میں بغاوت اور سر کشی پھیلنے لگی۔ جزیرہ نما خطے کے شمالی اور وسطی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی قبائل نے اسلام سے علیحدگی کی دھمکی دے دی یا عملی طور پر کہیے، وہ امت کے خزانے کو مزید محصولات ادا کرنے سے انکاری تھے۔ ان قبائل کا کہنا تھا کہ یہ اب دین اور ایمان نہیں بلکہ قبائلی آزادی کا معاملہ بن چکا تھا۔ پیغمبر کو محصولات کی شکل میں نذرانہ دینا ایک بات تھی بلکہ وہ اس بات پر فخر کرتے تھے لیکن اب قریش کی تجوری بھرنے کی کوئی وجہ نہیں تھی۔ ان کے خیال میں اب یہ ایک طرح سے تاوان تھا جو وہ خواہ مخواہ ادا کرنے پر مجبور تھے۔
جیسا کہ محمدؐ کی خواہش تھی، انہوں نے وعدہ بھی لیا تھا، علی نے فاطمہ کا بھر پور ساتھ دیا۔ وہ آخر تک فاطمہ کے وفا شعار رہے۔ لیکن اب ان کا کہنا تھا کہ فرض شناسی کے تقاضے بدل چکے تھے۔ امت کو نئی مشکلات کا سامناتھا اور دین اسلام کو ان کی وفاداری کی اشد ضرورت تھی۔ یہ وقت کدورتیں پالنے کا نہیں تھا۔ چنانچہ انہوں نے سر اٹھانے والی ان بغاوتوں اور دین اسلام کو لاحق خطرات کے پیش نظر ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ امت کے مفادات کے تحفظ کا سوال تھا۔ اس وقت انقسام نہیں بلکہ اتحاد کی ضرورت تھی۔ وہ بھلے انفرادی سطح پر اختلافات رکھتے ہوں، تقسیم کا سبب بننے والی قوتوں کے سامنے وہ ابو بکر کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ اگر یہ امتحان کا وقت ہے تو وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے، تصور امت کی بقا کے لیے وہ کچھ بھی کر گزریں گے۔ چاہے، اس کے لیے انہیں اپنے دعوی رہنمائی سے بھی پیچھے کیوں نہ ہٹنا پڑے۔ علی کے پیروکار، ان کے اس فیصلے کو اتم درجہ ظرف اور شرافت کی اعلیٰ مثال قرار دیتے ہیں اور بلا شبہ یہ حقیقت ہے۔ اگر وہ ایسا نہ بھی کہا کریں، ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ علی اصالت اور اعلیٰ ظرفی کی حامل شخصیت کے مالک تھے۔ شیعہ اور سنی، دونوں ہی ہر طرح سے علی کے کردار اور برگزیدگی کے قائل ہیں۔ مگر ہم آگے چل کر دیکھیں گے کہ علی کی یہی صفت اور راست بازی ان کا سب سے بڑا بوجھ بن کر رہ جائے گی۔
آخر کار، علی نے حمایت کا اعلان کر ہی دیا اور ابو بکر اب پوری توجہ کے ساتھ سر کش قبائل سے نبٹنے کے لیے تیار تھے۔ ابو بکر نے اعلان کیا ، 'جتنے محصولات محمدؐ کے زمانے میں ادا کیے جاتے تھے، اگر یہ اس میں سے ایک دھیلے جتنا بھی فرق لانے کی کوشش کریں تو میں آخر دم تک ان سے جنگ کروں گا'۔ انہوں نے اچھی طرح سوچ سمجھ کر ہتک آمیزانہ زبان کا استعمال کیا تھا۔ سر کش قبائل صحرائی بدو تھے جنہیں شہری حلقوں کے مطابق اونٹ چرانے کے علاوہ کوئی سمجھ نہیں تھی۔ ابو بکر نے اعلان میں انہیں 'گنوار بدو' کہہ کر پکارا جو شہری علاقوں میں بسر رکھنے والے قریش کے مقابلے میں اجڈ اور پھوہڑ دہقان تھے۔ گو عربوں کی مشہور و معروف غنائی نظموں اور داستانوں میں صحرائی زندگی کے گن گائے جاتے تھے مگر وہ مالیخولیا ، یعنی ماضی کی خوشگوار یاد سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ شاعری اور نثر میں، ان بدوؤں اور ان کی زندگی کی سادگی اور مادی ضرورتوں سے بے نیازی کے خوبصورت نقشے کھینچے جاتے تھے۔ جیسے، یورپ میں دیہی زندگی اور چرواہوں، امریکہ میں کاؤ بوائے مشہور ہیں، ویسے ہی بدو بھی عربوں میں مثال تھے۔ لیکن اصل چرواہوں، گوالوں اور بدوؤں میں اونٹ پالنے والے خانہ بدوشوں کی زندگی ان قصے کہانیوں اور شاعری سے انتہائی مختلف اور سخت ہوا کرتی تھی۔ آج بھی عرب دنیا میں بدوؤں کے وہ قبائل جو شہری زندگی کے قائل نہیں اور دور صحراؤں میں قدیم روایات کے تحت زندگی بسر کرتے ہیں، شہری علاقوں میں ان کو خوب لتاڑا جاتا ہے۔ لوگ ان پر پھبتیاں کستے ہیں اور ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ انہیں کئی لحاظ سے کمتر اور گنوار سمجھا جاتا ہے۔
ابو بکر نے اعلان کیا ، چونکہ ادا کیے جانے والے محصولات، امت کے خزانے کا دینی حق اور ملکیت ہیں۔ ان کی ادائیگی سے انکار، انحراف یا دین اسلام سے علیحدگی تصور کیا جائے گا۔ یعنی ایسا کرنے والا مرتد ہو گا۔ غیر مسلموں کو تو پھر بھی چھوٹ تھی لیکن کوئی ایسا شخص جو پہلے تو اسلام میں داخل ہوا اور پھر منحرف ہو گیا تو اسے کسی بھی قسم کی کوئی رعایت نہیں دی جا سکتی۔ ایسا شخص سخت ترین سزا کا مستحق قرار پائے گا اور اس کے معاملے میں قرانی احکامات، جن کے تحت ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کا خون حرام قرار دیا گیا تھا، لاگو نہیں ہوں گے۔ مسلمان کا خون حرام تھا ، لیکن چونکہ مرتد اسلام دشمن ہوتا ہے تو اس کے خون کی حرمت بھی باقی نہیں رہتی۔ مرتد کا خون حلال ہو جاتا ہے۔ یعنی مجوزہ طور پر اسلامی قانون کے تحت اس کی کھلی اجازت ہوتی ہے۔
آگے چل کر، یہ دلیل کئی رنگ پکڑ لے گی۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا ، اس دلیل کو سنی شیعوں کے خلاف، شیعہ سنیوں کی مخالفت میں، انتہا پسند اعتدال پسندوں کی سر کوبی، شریعت پسند علماء صوفیاء کی ضد میں بے روک و ٹوک استعمال کرتے ہوئے پائے جائیں گے۔ حالیہ دور میں، کم از کم مغرب کے لیے اس کی تازہ ترین مثال اس دلیل کا وہ استعمال ہے جب آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کو مرتد قرار دے کر قتل کرنے کا حکم دیا۔ یعنی جس کی آراء سے آپ کو اختلاف ہو، اسے مرتد ثابت کر کے، قتل جائز کر دیا جائے۔ جیسا کہ عربوں میں کہا جاتا ہے، 'مرتد کا خون حلال ہو جاتا ہے'۔
'ارتداد کی جنگوں' میں علیحدگی پسندوں کے ساتھ اتنی ہی سختی سے نبٹا گیا جیسا کہ ابو بکر نے اعلان میں وعدہ کیا تھا۔ ایک سال کے اندر اندر، بغاوت اور سر کشی کو کچل دیا گیا اور اس کے اگلے ہی برس اسلامی افواج شمال کی جانب جزیرہ عرب سے باہر نکل کر حملے کر رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ابو بکر جو کہ سنیوں کے یہاں مشہور چار خلفاء راشدین میں سے پہلے خلیفہ تھے، ان کی سربراہی میں اسلام خوب پھل پھول رہا ہے اور اب بھر پور طریقے سے عرب سے باہر پھیلنے کو پر تولے جا رہے ہیں۔ اس سے اگلے برس، جب اسلامی افواج بازنطینی سلطنت کے اہم شہر دمشق کا معاصرہ کرنے کی تیاریاں کر رہی تھیں، ابو بکر کی طبیعت بگڑ گئی اور وہ بستر مرگ سے جا لگے۔ انہیں تیز بخار نے آ لیا تھا۔ اول المسلمین کے بعد پچاس سالوں میں ابو بکر واحد رہنماء ہیں جن کی موت کی وجوہات قدرتی تھیں۔ محمدؐ کے برعکس ،ابو بکر کی موت کے وقت کسی کو شک و شبہ نہیں تھا کہ اگلا خلیفہ کون ہو گا۔
بعض سنی علماء بعد میں کہا کریں گے کہ ابو بکر نے محمدؐ کی وفات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے بچنے کے لیے، یعنی امت میں تقسیم کے خدشات کو رد کرنے کے لیے وہی کیا جو ضروری تھا۔ کئی دوسرے سکالروں کا خیال ہے کہ در اصل اب عرب فتوحات کا جزیرہ نما سے باہر آغاز ہو چکا تھا۔ اسلامی دنیا کو اب ایک سخت جان جنگجو اور فوجی تجربے کے حامل مضبوط اعصاب کے حامل رہنما کی ضرورت تھی۔ شیعہ اس معاملے کو بالکل مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق، ابو بکر بدستور علی سے عناد رکھتے تھے اور انہوں نے اب، بستر مرگ پر بھی اپنی ازلی خواہش، یعنی علی کو اقتدار و اختیار سے دور رکھنے کا پورا انتظام کیا۔ ان میں سے ابو بکر کا جو بھی معاملہ رہا ہو، یہ بات طے ہے کہ ان کی وصیت صاف تھی۔ شوریٰ کا اجلاس منعقد نہیں کیا جائے گا۔ نامی گرامی مشیران اور قبائلی سرداروں کا کوئی گٹھ جوڑ، ان کے بیچ مکالمہ نہیں ہو گا۔ اگرچہ، ابو بکر کا انتخاب شوریٰ کی کاروائی کے تحت ہوا تھا لیکن آخر میں جو حال شوریٰ کا ہوا تھا، ابو بکر کے پاس اس اجلاس کو نہ بلانے کی کئی معقول وجوہات تھیں۔
اگر شوریٰ نہیں تو پھر بھلا آگے کیسے بڑھا جائے؟ اسلام سے پہلے کادور ہوتا تو معاملہ قدرے آسان ہوتا۔ یعنی ابو بکر کا کوئی ایک بیٹا، ترجیحاً سب سے بڑا بیٹا خود بخود جانشین مقرر ہو جاتا۔ موروثی ملوکیت یا بادشاہی نظام حکومت پوری تاریخ میں اسی لیے کامیاب چلا آیا ہے کہ اس کے تحت جانشینی کا قضیہ بالکل سادہ اور آسان ہو جاتا ہے۔ کوئی مشکل ہی نہیں ہوتی اور پیش روہی کا ایک سیدھا خط بن جاتا ہے۔ طویل مکالمے اور پیچیدہ مذاکرات کی کوفت بھی نہیں ہوتی ۔ کوئی سیاسی ہلچل نہیں، مشکل مرحلے، ڈیڈ لاک وغیرہ سرے سے پیش ہی نہیں آتے۔ دشوار گزار عمل اور انتہائی نازک اور احتیاط کا متقاضی نظام جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں، اس کا کوئی قضیہ ہی نہیں رہتا۔ اسلام تو عقیدہ مساوات، یعنی تمام انسانوں کی برابری پر کھڑا تھا۔ جیسے کہ اس سے پہلے، شوریٰ میں ابو بکر نے مجوزہ طور پر علی کے اختیار اور اقتدار پر دعویٰ کی مخالفت میں دلیل پیش کی تھی کہ رہنمائی، رسالت کی ہی طرح موروثی نہیں ہوتی۔ چنانچہ، اب پھر دوبارہ وہی مرحلہ پیش تھا اور تقریباً انہی مشکل سوالات کا سامنا تھا جو آج بھی مشرق وسطیٰ کے طول و عرض میں تقریباً ہر ملک کا منہ چڑا رہے ہیں۔ یعنی، آخر اس خطے میں جمہوریت کیسے رائج کی جائے؟ آخر یہاں جمہوریت کیسے پنپے گی جب عوام اور اشرافیہ، دونوں ہی اس کو قبول کرنے سے خائف ہیں؟ ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم جمہوریت نافذ کرنے کی کوشش میں لگے ہیں اور بنیادی لحاظ سے اس کا پہلے سے کوئی ڈھانچہ موجود ہی نہیں ہے؟ جمہوریت کا دروازہ، بغیر کسی چوکھٹ کے کیسے فٹ کیا جا سکتا ہے؟
بہرحال، یہ بات تو طے ہے کہ درپیش حالات میں ابو بکر نے بیچ کا راستہ اپنایا۔ یعنی وہ اپنے جانشین کی تقرری تو کریں گے لیکن یہ بلا شک و شبہ اہلیت اور ضرورت کے عین مطابق ہو گی۔ وہ کسی بھی طرح سے رشتہ داریوں، قرابت اور اشتراک خون کو خاطر میں نہیں لائیں گے۔ وہ اس شخص کا انتخاب کریں گے جو ان کی نظر میں آنے والے سالوں کے دوران، امت کی اجتماعی ترجیحات اور ضرورتوں کا بھر پور طریقے سے انتظام اور دفاع بھی کر سکتا تھا۔ وہ اس سے قبل، تقریباً دو سال پہلے شوریٰ کے اجلاس میں اس شخص کو کے لیے نامزد ہوتا دیکھ چکے تھے۔ تب شاید وہ اس انتہائی نازک مرحلے پر شاید موزوں امیدوار نہیں تھے لیکن اب سب لوگ واضح طور پر دیکھ سکتے تھے کہ ابو بکر کن بنیادوں پر تب بھی اور آج جب سب عیاں تھا، اس شخص کی بطور خلیفہ نامزدگی چاہتے تھے۔ ابو بکر نے مرتے ہوئے عمر کو اپنا جانشین، یعنی اسلام کا دوسرا خلیفہ مقرر کر دیا۔ یہ اس وقت کے معروضی حالات کے مطابق صائب فیصلہ تھا لیکن شیعہ آج بھی مصر ہیں کہ ابو بکر کا یہ قدم نفاق اور مزید ٹکراؤ کی جانب ایک اور قدم اور منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایک بار پھر علی کو مات ہو گئی۔ ایک بار پھر وہ نظر انداز کر دیے گئے اور اب کی بار ان کے مقابلے میں جس شخص کو ترجیح دی گئی تھی وہ ان کی بیوی کو زخمی کرنے کا ذمہ دار تھا۔ عمر نے ابو بکر کی بطور خلیفہ تقرری کے بعد علی کے گھر کو جلا کر بھسم کر دینے کی دھمکی دی تھی۔ ابو بکر کو عائشہ کے کمرے میں، جہاں اب محمدؐ کا مزار تھا، ان کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ علی نے اپنے حامیوں کو صبر سے کام لینے کی تاکید کی اور امن قائم رکھنے کا سختی سے حکم دیا۔ علی نے ابو بکر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور انہوں نے اس کے بعد اپنی زبان کی لاج رکھتے ہوئے ابو بکر کا بھر پور ساتھ دیا تھا۔ اب وہ دوبارہ ، ابوبکر کے جانشین، یعنی عمر کو زبان دیں گے۔ باوجود اس کے کہ علی اور عمر کے بیچ دو سال پہلے کافی تناؤ پیدا ہو گیا تھا ، وہ اس کو پس پشت ڈال کر عمر کا بھی پورا ساتھ دیں گے۔ اگرچہ علی کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدامات اور وعدوں سے صاف ظاہر ہے کہ ان اصحاب، یعنی ابو بکر، عمر اور علی کے بیچ جاری کشمکش تب تک ختم ہو چکی تھی۔ لیکن پھر بھی اگر کسی کو محمدؐ کے ان قریبی اصحاب کی امت کو متحد رکھنے کی کوششوں پر ایک ذرا برابر بھی شک تھا تو علی نے ایسی تمام افواہوں اور مفروضات کو ایک نہایت عمدہ قدم سے ہمیشہ کے لیے ٹھکانے لگا دیا۔ عمر کی خلافت کی ابھی شروعات تھی۔ علی نے اپنی تمام تر وفاداریوں کا ثبوت دینے کے لیے ابو بکر کی سب سے چھوٹی بیوہ، عاصمہ کے ساتھ نکاح کر لیا۔ اس قدم سے اس دور کے تمام تر مفروضات اور سازشیں دم توڑ گئیں۔ آج چودہ سو سال بعد بھی، لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ تینوں اصحاب اتحاد اور یگانگت کے خواہاں تھے، ان کے بیچ اصولی اختلافات اپنی جگہ مگر وہ کسی بھی صورت اسلام کو بکھرتے ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ علی کا یہ قدم، اس کا کھلا ثبوت ہے۔
آج جدید دور میں، شاید لوگوں کو ایسا لگے کہ سابقہ مخالف کی بیوہ سے شادی کرنا، شاید انتقام کی ایک شکل ہو سکتی ہے۔ ساتویں صدی عرب میں، یہ معاملہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ تب، اس طرح کے اقدامات مصالحت اور تجدید تعلقات کی علامت ہوا کرتے تھے۔ علی کا عاصمہ سے نکاح، آگے بڑھ کر صلح کی پیشکش تھی۔ اس طرح پرانی عداوتیں اور مخالفتیں بھلا کر نئے اتحاد اور ملاپ میں ڈھلا جا سکتا تھا۔ اور علی کی جانب سے، رستے ہوئے زخموں کو مندمل کرنے کی سعی ضروری تو تھی، انہوں نے اس سے بھی آگے بڑھ کر ایک اور قدم اٹھایا۔ انہوں نے اعلانیہ ابو بکر اور عاصمہ کے تین سالہ بیٹے کو باقاعدہ طور پر اپنا لے پالک بیٹا بنا لیا اور اس طرح گویا اس بچے کی سوتیلی بہن، عائشہ کی جانب خیر سگالی کا ہاتھ بڑھا دیا۔
ایک بار پھر، عائشہ جواب میں غیر متوقع طور پر خاموش رہیں۔ اگر ان کا یہ خیال تھا کہ علی نے دیکھتے ہی دیکھتے ان کے گھرانے میں نقب لگانے کی کوشش کی ہے تو تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت موجود نہیں ہے۔ عاصمہ اور علی کی رفاقت کے سالہا سال میں، ان کے گھر ابو بکر کے بیٹے یعنی علی کے لے پالک فرزند نے بھر پور پرورش پائی اور جب وہ بلوغت کو پہنچ گیا تو اس کی تمام تر وفاداریاں علی کے ساتھ تھیں۔ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ اس لڑکے کی علی کے ساتھ گہری نسبت کا عائشہ کو خاصا دکھ تھا اور یہ لڑکا، جو مثالی طور پر ان دونوں یعنی عائشہ اور علی کے بیچ دوریوں کو مٹانے کا سبب بنتا، اس کی علی سے نسبت انہیں ایک دوسرے سے مزید دور کر دے گی۔ تاہم وقتی طور پر پھوٹ کی دڑار بھرتی ہوئی محسو س ہو رہی تھی۔ مفاہمت کی کوششوں میں، ایک تیسرا قدم بھی اٹھایا گیا جو انتہائی غیر معمولی تھا۔ اتحاد اور وفاداری کے بے انتہا ثبوت کے طور پر علی نے خلیفہ عمر کو عزت بخشی اور اپنی بیٹی ام کلثوم، یعنی محمدؐ کی سب سے بڑی نواسی کا نکاح ان کے ساتھ باندھ دیا۔
شادی بیاہ کی مدد سے بنے گئے یہ اتحاد اب نسلوں تک پھیل چکے تھے اور سیاسی مقاصد کے لیے بھی ان کا زور و شور سے استعمال ہونے لگا تھا۔ عمر، محمدؐ کے دور کی نسل سے تعلق رکھتے تھے لیکن انہوں نے آپؐ کی نواسی سے نکاح کیا۔ علی، جو عمر سے تیرہ برس چھوٹے تھے اب ان کے سسر بن چکے تھے۔ اگر فاطمہ ہوتیں تو کیا جانے کیا ہوتا؟ کیا وہ اپنی بیٹی کا رشتہ اس شخص کو دینے پر راضی ہو جاتیں جو زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوا اور دروازے کے دھکے سے زمین پر گرا دیا تھا؟ فاطمہ کا اس بابت، نجانے اپنی قبر میں کیا حال تھا لیکن یہ اتحاد اور یگانگت کی قیمت تھی، جو بہر حال ادا کرنا لازم تھی تا کہ پرانی رنجشیں ختم ہو سکیں اور ایک نئے دور کا آغاز ہو۔ عمر نے بھی علی کے خیر سگالی اقدامات کے جواب میں کھلے بازؤں کے ساتھ انہیں اپنا لیا اور جیسا کہ فاطمہ چاہتی تھیں، محمدؐ کی وراثت، یعنی جائیداد میں فاطمہ کا حصہ جو کئی املاک پر مشتمل تھا، علی کے نام کر دی گئیں۔
عمر کا پیغمبر سے رشتہ اور نسبت اب دو گنا ہو چکا تھا۔ وہ اس سے پہلے آپؐ کے سسر تھے لیکن اب ان کی نواسی سے نکاح کے بعد، ان کے دوہترا داماد بھی تھے۔ اب وہ خلافت کے منصب پر پاؤں جما چکے تھے۔اس سب کے باوجود علی ممکنہ طور پر اتنہائی طاقتور، خلیفہ کی ٹکر ، مضبوط حریف ثابت ہو سکتے تھے۔ مگر عمر نے حکمت سے کام لیتے ہوئے قدیم سیاسی مقولے پر عمل کیا۔ یعنی دوستوں کو قریب اور دشمنوں کو قریب تر رکھو۔ اب ان دونوں کے بیچ سسر اورداماد کا رشتہ بھی تھا جو انہیں جوڑ کر رکھے ہوئے تھے۔ یہ دونوں اصحاب رفتہ رفتہ ایک دوسرے کے اتنے قریب آ گئے کہ اکثر جب عمر مدینہ سے باہر، کسی فوجی یا سفارتی مہم پر نکلتے تو اپنے پیچھے علی کو اپنا ڈپٹی مقرر کر کے جایا کرتے۔ یہ صاف اشارہ تھا۔ لوگ واضح طور پر دیکھ سکتے تھے کہ وقت آنے پر، علی ہی عمر کے خلیفہ ہوا کریں گے۔ کئی لوگ اس کا برملا اظہار بھی کرتے اور یوں خلیفہ کے ساتھ ساتھ، علی کی بھی دھاک بیٹھتی چلی گئی۔
عرب فتوحات کا اب صحیح معنوں میں آغاز ہوا۔ عمر نے ابو بکر سے محمدؐ کے خلیفہ کا حق پایا تھا۔ اب وہ ایک نئے خطاب کے ساتھ مشہور ہو جائیں گے۔ یہ خطاب، 'امیر المومنین' کا تھا۔ وہ صحیح معنوں میں امیر، یعنی سپہ سالار تھے۔ وہ اپنی فوجوں کے ساتھ سختی اور کڑا وقت جھیلتے، صحرا میں گرم ریت پر اپنے چوغہ بچھا کر سو رہتے۔ بجائے افواج کو لڑائی میں آگے بڑھنے کا حکم دیتے، خود ہی سب سے پہلے آگے بڑھتے اور پوری فوج دھاڑتی ہوئی ان کی پیروی میں خون خوار انداز میں دشمن پر جھپٹ پڑتی۔ یوں، مومنین اور بالخصوص افواج اسلامی میں ان کی عزت و منزلت اور وفاداری کا کوئی حساب نہیں رہا۔ اگرچہ عمر نہایت سخت مزاج شخص تھے۔ وہ انتہائی سخت گیر اور نظم و ضبط کے قائل تھے۔ لیکن توازن برقرار رکھنے کے لیے انہوں نے انصاف کی ضرورت پر زور دیا۔ جلد ہی وہ انتہائی معتبر منصف بھی مشہور ہو گئے۔ اسلام اور امت سے اپنی وابستگی اور بطور خلیفہ اپنی حیثیت کے تقاضے میں وہ ہر طرح سے اقربا پروری کی حوصلہ شکنی کرتے رہے۔ اصولوں اور قوانین پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا، دوسروں کے ساتھ ساتھ اپنے خاندان پر تو انتہائی کڑی نظر رکھتے۔ ایک دفعہ یوں ہوا کہ ان کا فرزند شراب پی کر بازار میں چلا آیا اور مبینہ طور پر غل غپاڑہ کیا۔ عمر نے کوئی لحاظ نہ کیا۔ اس نوجوان کو اسی کوڑے مارنے کی سزا سنائی۔ عمر کا بیٹا کوڑے لگانے کی وجہ سے زخمی ہو گیا۔ ابھی سزا پوری نہیں ہوئی تھی کہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔ عمر نے اس کا ماتم کرنے سے انکار کر دیا کیونکہ وہ اپنی حرکات کے سبب اس انجام کو پہنچا تھا۔
عمر کی حکمرانی کے دس سالوں میں، مسلمانوں نے شام اور عراق فتح کر کے انتظام سنبھال لیا۔ یہ اس قدر تیزی سے ہونے والی فتوحات تھیں کہ اس دور میں قرب و جوار کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ عربوں نے اتنی سرعت سے کامیابیاں حاصل کیں کہ آج ان فتوحات کو 'قبائلی قبضے کی جبلت' نامی مغالطہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ کہاوت ماہرین بشریات کے لیے اجنبی ہے۔ اس کی تہہ میں یہ تصور بھرا ہے کہ شاید خون کے پیاسے جاہل اور گنوار قبائلی، قدیم وحشیانہ جبلت کے ہاتھوں مجبور ہو کر راستے میں آنے والی ہر تہذیب اور تمدن کو تہہ بالا کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ شائستہ اور استدلالی معاشروں کی ترتیب کو خطرے میں ڈال کر تہذیبوں کو تہلہ ترغا کر دیتے ہیں۔ یہ تصور، آج مشرق وسطیٰ کے حالات کو دیکھ کر کئی لوگوں کے ذہنوں میں خود بخود ہی ناچنے لگتا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں، شاید عربوں کی ہمیشہ سے ہی یہ روش رہی ہے۔ شاید، یہ اوائل دور سے ہی ایسے چلے آ رہے ہیں۔ حالانکہ یہ درست نہیں ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ اس وقت بھی ان فتوحات میں خون خرابے کا اتنا عمل دخل نہیں تھا۔ مال غنیمت یا وسائل پر اختیار، اس وقت بھی بڑا محرک تھا۔اسلامی افواج اگرچہ تعداد میں بہت کم تھیں لیکن انہوں نے فارس اور بازنطین کی سلطنتوں پر انتہائی غیر معمولی فتوحات حاصل کیں۔ لیکن یاد رہے، ان فتوحات زیادہ تر تلوار کی بجائے الہامی پیغام کی بنیاد پر ممکن ہوئیں۔ یہ افواج جہاں پڑاؤ ڈالتیں، تلوار کو ایک طرف رکھ کر مقامی آبادی اور انتظامیہ کو عرب یعنی اسلامی دستور اور راج قبول کرنے کا موقع دیا جاتا ۔ عام طور پر لوگ عرب بہ معنی اسلام کی حکمرانی قبول کر لیتے۔ ویسے بھی، عرب اس خطے میں نووارد نہیں تھے۔ لوگوں نے جزیرہ نما عرب میں اسلامی تحریک کے پھیلاؤ کے قصے سن رکھے تھے، بلکہ اچھی طرح واقف تھے۔
محمدؐ کے الہامی پیغام سے قبل بھی مکہ کی اشرافیہ مصر میں املاک، دمشق میں محلات، فلسطین میں زرعی اراضیوں اور عراق میں کھجور کے وسیع باغات کی مالک تھی۔ وہ جن علاقوں میں تجارت کرتے، وہاں بالضرور ہی اپنی جڑیں گہری رکھا کرتے تھے۔ ساتویں صدی عرب میں، ایک تاجر کے لیے تجارت کے ساتھ ساتھ جہاں تجارت ہوتی، عارضی یا اکثر مستقل مسکن قائم رکھنا انتہائی ضروری تھا۔ تب، تجار صرف تجار نہیں تھے بلکہ سیاح اور سفارت کار بھی ہوا کرتے تھے۔ سال میں دو دفعہ مکہ کے تجارتی قافلے دمشق پہنچتے تھے اور ہر قافلے میں کم از کم چار ہزار اونٹ تو ضرور ہی ہوا کرتے۔ پھر، جب یہ قافلے اس عظیم الشان نخلستان نما شہر میں پہنچتے تو ایسا نہیں تھا کہ فوراً ہی واپس چلے آتے۔ مکہ کے تجار یہاں مہینوں بسر رکھتے اور اس دوران وہ مقامی آبادی ا ور حکام کے ساتھ میل جول بڑھاتے، نئے تعلقات بنتے، لین دین ہوتا، ایک دوسرے کی آؤ بھگت کی جاتی اور یوں دو طرفہ تعلقات گہرے ہوتے جاتے۔ عرب تجار زمانہ قدیم سے اس خطے کے چپے چپے میں پھیلتے چلے آ رہے تھے اور انہیں سب کی خبر تھی۔ وہ علاقے جو وہ ابھی پے در پے فتح کرتے چلے جا رہے تھے، وہ یہاں کی زندگی کے سماجی، سیاسی، تہذیبی اور اقتصادی پہلوؤں سے بخوبی واقف تھے۔ انہیں یہاں کی مقامی آبادیوں کو اپنے ساتھ ملانے اور کسی بھی جگہ پر مقامی انتظامیہ کو گھیرنے میں ذرہ برابر مشکل پیش نہیں آئی۔
یہی نہیں، وقت بھی عربوں کا ساتھ دے رہا تھا۔ جزیرہ عرب میں جب اسلام کا بول بالا ہو چکا تو یہ وہ دور تھا جب مشرق وسطیٰ کے سیاسی منظرنامے پر ایک بڑا خلا پیدا ہو چکا تھا۔ ایک عرصے سے مشرق وسطیٰ پر دو سلطنتوں کا دور دورہ چلا آ رہا تھا۔ مغرب میں بازنطینی اور مشرق میں فارس کی سلطنتیں تھیں۔ یہ دونوں ہی لمبے عرصے تک ایک دوسرے کے ساتھ بھڑتے بھڑتے، اب خاصی کمزور ہو چکی تھیں۔ فارس کی تو یہ حالت تھی کہ وہ اب عراق میں دجلہ اور فرات کے دریاؤں سے سیراب ہونے والے وسیع و عریض خطے کا انتظام صحیح طرح چلانے سے قاصر تھے۔ بازنطینیوں کا گرچہ دمشق اور یروشلم جیسے شہروں پر قبضہ تھا مگر اندرونی حالات اتنے بگڑ چکے تھے کہ وہ بمشکل ہی یہاں ٹک پا رہے تھے۔ دونوں سلطنتیں اندر سے کھوکھلی ہو چکی تھیں اور جہاں ایک طرف جزیرہ عرب میں اسلامی ریاست جان پکڑ رہی تھی، یہ دونوں بڑی بادشاہتیں آخری سانس لے رہی تھیں۔ چنانچہ، یہ وقت کی جانب سے اسلامی ریاست کو کھلی دعوت تھی کہ وہ آگے بڑھیں اور دونوں سلطنتوں کو اکھاڑ کر انتظام سنبھال لیں۔
فتوحات اور بے پایاں اختیار قائم ہونے کے باوجود اسلام کے جبراً نفاذ کی ممانعت تھی۔ عمر نے نہایت سختی سے کسی بھی شخص کا عقیدہ تبدیل کرنے یا اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے سے پابندی لگا دی تھی اور ہمیشہ اس روش کی حوصلہ شکنی کی۔ وہ اسلام کو اس کی خالص صورت میں برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ یعنی یہ کہ لوگ اپنی مرضی سے اس میں شامل ہوں اور ترجیحاً اسلام صرف عربوں کے یہاں ، پوری نفاست کے ساتھ ، اصل حالت میں باقی رہے۔ عمر کا یہی رویہ تھا جس کے سبب فارسیوں میں وہ کبھی مقبول نہیں ہو سکے۔ فارس کے لوگ عربوں کی یوں اسلام پر اجارہ داری کے سخت خلاف تھے اور یہی وجہ ہے کہ عمر کے انتقال کے بعد فارسی علاقوں میں ایک بڑی تعداد دیکھتے ہی دیکھتے اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئی۔ عمر نے فارس میں خلیفہ کی مقبولیت کے گراف کو مد نظر رکھتے ہوئے، دو نئی چھاؤنیاں تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ یہ دو چھاؤنی نما شہر بصرہ اور کوفہ تھے۔ بصرہ فارس کے جنوب اور کوفہ وسط میں واقع تھا۔ نئی چھاؤنیوں کی تعمیر کا مقصد اسلامی ریاست کے انتظام کاروں کو تحفظ فراہم کرنا اور فارسیوں کے یہاں زور پکڑتے انحطاط اور ممکنہ طور پر کسی بغاوت سے نبٹنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہنا تھا۔
جزیرہ عرب سے باہر لوگوں کے اسلام میں داخل ہونے کی حوصلہ شکنی کی ایک اور وجہ بھی تھی۔ عمر نے اپنے دور اقتدار میں ایک نظام متعارف کرایا تھا۔ اسے 'دیوان' کہا جاتا تھا۔ اس نظام کے تحت، امت کی اکائی ہونے کی حیثیت سے ہر مسلمان کو سالانہ وظیفہ ملتا تھا۔ یہ ویسا ہی نظام تھا جیسا کہ آج خلیج عرب کی ریاست دبئی میں رائج ہے، جس کے تحت یہاں کے مستقل عرب شہریوں کو حکومت کی طرف سے تیل اور دوسری آمدنوں میں سے برابر حصہ دیا جاتا ہے۔ اس نظام کے تحت چونکہ تمام کمائی برابر تقسیم ہوتی تھی، چنانچہ مسلمانوں کی تعداد جتنی کم ہوتی، ان کا وظیفہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا۔ یہ وظیفے، ان محصولات سے نکالے جاتے تھے جو غیر مسلم جزیہ کی صورت ادا کرتے تھے۔ چونکہ مقامی آبادیاں مسلمانوں سے پہلے بازنطینیوں اور فارسیوں کو بھی یوں ہی ٹیکس ادا کیا کرتے تھے، اس سے ان کی زندگیوں میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی تو جزیرہ عرب سے باہر کے خطے میں دبے الفاظ میں خلافت اور خلیفہ کے خلاف آوازیں اٹھنے لگیں ۔ ریاست کو کئی جگہوں پر چھوٹی موٹی مزاحمت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ہم آج بھی دنیا میں جا بجا دیکھتے ہیں کہ جب ایک راج کا خاتمہ ہوتا ہے تو دوسرے کا جھنڈا فوراً بلند ہو جاتا ہے۔ ایک حکمران کی تصویریں اور مجسمے تاراج ہوتے ہیں تو فوراً ہی دوسرا حاکم سر پر آن بیٹھتا ہے۔ جزیرہ عرب سے باہر، تقریباً تمام علاقوں نے عربوں کی حکومت اور اختیار قبول کر لیا تھا لیکن کچھ ایسے بھی تھے جو کسی طور اس طرز حکومت سے متفق نہیں تھے۔
مدینہ کے اکثر لوگوں نے روایت کر رکھا ہے کہ عمر کا قتل غیر متوقع تھا۔ یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ فارس سے تعلق رکھنے والا ایک مجوسی غلام بیٹھے بٹھائے اپنا دماغ کھو دے اور اس قدر گھناؤنی حرکت کر بیٹھے؟ بلکہ، وہ ایسا سوچ بھی کیسے سکتا ہے؟ ایک غلام؟ وہ مسجد میں، نماز کے دوران جب خلیفہ وقت رکوع کی حالت میں تھے، پشت سے خنجر کے چھ وار کرتا ہے اور پھر وہی خنجر اپنے سینے میں گھونپ لیتا ہے؟ یہ انتہائی حیران کن اور ناقابل فہم بات تھی۔
یہ سازش بھی ہو سکتی ہے۔ بجائے یہ کہ خلافت اور خلیفہ کے دشمنان حکومت الٹنے کے لیے بنا ٹھنا طریقہ، سوچا سمجھا پلان بناتے، انہوں نے شاید ایک تن تنہا پیادے کا استعمال کرتے ہوئے، نئی اسلامی سلطنت اور خلافت کو الٹنے کی کوشش کی تھی۔ جیسے آج اکیسویں صدی میں، ویسے ہی تب ساتویں صدی میں لوگ نا معقول اور بظاہر استدلال سے خالی باتوں پر مایوس ہو جایا کرتے تھے۔ سازشی نظریات تب بھی ویسے ہی کاری ہوا کرتے تھے جیسے آج ہیں۔ اس معاملے میں کہیے تو شاید لوگ اس کی معقول وجہ تلاشتے، سچ جاننے یا شاید ممکنہ طور پر سچ گھڑنے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے۔
اس بابت ایک کہانی یہ تھی کہ فارسی غلام کے مالک نے اس کو آزاد کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وقت آنے پر زبان سے پھر گیا۔ اس غلام نے عمر کے یہاں انصاف فراہم کرنے کی عرضی ڈالی تھی جو ٹھکرا دی گئی۔ چنانچہ یہ شخص خلیفہ سے بیر کھاتا تھا اور اندر ہی اندر گھل رہا تھا۔ سو موقع ملتے ہی حملہ کر دیا۔ یہ کہانی سادہ مگر معنی خیز تھی ۔ بعد میں اس کہانی میں کئی مزید کڑیاں بھی ملائی گئیں جن کے تحت فارس کے مجوسی طبقات کا قتل میں ہاتھ تھا۔ مدینہ کے لوگوں نے بخوشی واقعات کے یوں ہی قبول بھی کر لیا۔ عمر زخموں سے بے حال، مرنے کے قریب تھے۔ اگرچہ لوگوں کے سامنے بارہ سال کے عرصے میں یہ تیسرا رہنما دم توڑ رہا تھا مگر اس کے باوجود عوامی سطح پر لوگوں میں بے چینی نہیں تھی۔ وہ اس بات پر مطمئن تھے کہ قاتل، ان میں سے ایک نہیں ہے۔ حملہ آور عرب نہیں بلکہ فارس سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ ایک مسلمان نہیں، مجوسی تھا۔ اگرچہ قاتلانہ حملہ انتہائی گھناؤنی حرکت تھی، خلیفہ اپنی جان سے جا رہے تھے لیکن بہر حال یہ ایک خارجی کی حرکت تھی۔ یہ پاگل پن تھا جس کا کوئی حل نہیں ہوتا۔ مسلمان کبھی دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کر سکتا۔ یہ حرام ہے۔ بدستور حرام ہے بلکہ اس کا تصور بھی حرام ہے۔
ایک بار پھر، ایک مرتے ہوئے خلیفہ کے سامنے اپنا جانشین مقرر کرنے کا مشکل مرحلہ درپیش تھا۔ اور ایک بار پھر، طریقہ کار وضع نہ ہونے کی وجہ سے اس مرحلے کا اب کی بار تجویز کردہ حل بھی متنازعہ قرار پائے گا۔ آنے والی کئی صدیوں تک اس حل پر کبھی نہ ختم ہونے والی بحث جاری رہے گی۔ انتقال سے چند گھنٹے قبل، عمر نے شوریٰ کے کھلے عام متفقہ فیصلے اور خلیفہ کی تقرری کے اپنے انفرادی اختیار کے بیچ کا راستہ اپنایا۔ جیسا کہ پہلے سے لوگوں کو توقع تھی، انہوں نے علی نام جانشینی کے لیے پیش کر دیا، لیکن غیر متوقع طور پر انہوں نے علی کے ساتھ پانچ دوسرے لوگوں کے نام بھی اس معاملے میں سامنے لا رکھے۔ یوں، انہوں نے ایک نہیں بلکہ چھ لوگوں کے نام خلیفہ کے لیے دے دیے۔ ان میں سے کسی ایک شخص کے انتخاب کا طریقہ یہ تھا کہ یہ چھ لوگ بیک وقت خلافت کے امیدوار اور رائے دہندہ ہوں گے۔ ان میں سے صرف ایک شخص عمر کا جانشین ہو گا لیکن وہ کون ہو گا۔۔۔ اس کا فیصلہ ان چھ پر چھوڑ دیا گیا۔ مزید تفصیلات یہ تھیں کہ یہ چھ لوگ عمر کی موت کے بعد ایک بند کمرے میں جمع ہوں گے اور تین دن کے اندر نئے خلیفہ کا فیصلہ کریں گے۔
کیا عمر کا خیال یہ تھا کہ جیسے لوگوں کو عرصے سے توقع تھی، باقی پانچ بھی علی کو خلیفہ مقرر کر دیں گے؟ یقیناً یہی بات تھی لیکن امیدواروں میں سے دو عائشہ کے بہنوئی تھے۔ زبیرجو عائشہ کے چچا زاد تھے اور دوسرے طلحہ تھے جنہوں نے کسی زمانے میں محمدؐ کے بعد عائشہ سے نکاح کی خواہش ظاہر کی تھی لیکن انہیں فوراً ہی ابو بکر کی دوسری بیٹی سے بیاہ دیا گیا تھا۔ تیسرے آدمی عثمان تھے جن کا تعلق بنو امیہ سے تھا اور امیر کبیر تھے۔ محمدؐ کے انتقال کے بعد ابو بکر نے شوریٰ کے سامنے عثمان کی بطور خلیفہ نامزدگی کی تھی۔ انتہائی مشکل تھا کہ یہ تین لوگ علی کی بطور خلیفہ تقرری پر راضی ہو جاتے۔
عمر کو محمدؐ اور ابو بکر کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ اس کمرے میں یہ کھدنے والی آخری قبر تھی۔ جیسے ہی تدفین مکمل ہوئی، یہ چھ امیدوار اور رائے دہندگان مسجد کے اندر ہی ایک کمرے میں جمع ہو گئے اور دروازے مقفل کر دیے گئے۔ عمر نے انہیں عجب مشکل میں ڈال دیا تھا۔ ان میں اتفاق رائے انتہائی ضروری تھا کیونکہ بہت کچھ داؤ پر لگا تھا۔ یہ عمر کی آخری مگر نہایت عمدہ حکمت عملی تھی۔ چھ لوگ جو اسلامی ریاست میں کلیدی حیثیت رکھتے تھے، ان کے آپس میں جو بھی معاملات رہے ہوں یا ہوں، وہ ایک مقفل کمرے میں بند تھے۔ جب تک ان میں اتفاق قائم نہیں ہو جاتا، وہ یہاں سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے تھے۔ ان چھ اشخاص کے لیے انتہائی ضروری تھا کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں لیکن تعاون ہی ایسی چیز تھی جس کے لیے وہ ابھی پوری طرح تیار نہیں تھے۔ مطلب، عمر پر قاتلانہ حملہ ناگہانی لگتا تھا اور امت نے اس مرحلے کی سرے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی۔ ان چھ میں سے ہر شخص رہنمائی کا خواہاں تھا لیکن ان چھ پر لازم تھا کہ وہ آپس میں طے کر لیں کہ کون سا شخص ہو گا جو بالآخر رہنمائی کا حقدار قرار پائے گا۔ ان میں سے کوئی ایک بھی یہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس عہدے کا شدید خواہش مند ہے مگر کوئی ایک بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا۔
تیسری صبح کا سورج طلوع ہوا تو طویل بحث اور مباحثے کے بعد وہ چھ میں سے دو امیدواروں پر متفق ہو چکے تھے۔ یہ دو، محمدؐ کے داماد یعنی علی اور عثمان تھے۔ اس کمرے سے باہر لوگوں کا ایک جم غفیر جمع تھا اور سبھی کو توقع تھی کہ بالآخر ان دونوں میں سے خلیفہ کون ہو گا؟ عوام کو یہ توقع ایک عرصے سے چلی آ رہی تھی۔ ایک طرف علی تھے جو اب چالیس کے پیٹے میں تھے۔ وہ جانے مانے فلاسفر اور جنگجو تھے۔ پہلا شخص جس نے اسلام قبول کیا اور اس نے پہلے محمدؐ کی نیابت اور پھر خلیفہ عمر کے نائب کی حیثیت سے کردار ادا کر رکھا تھا۔ دوسری جانب عثمان تھے۔ نیکو کار اور پرہیز گار تھے۔ دولت مند شخص تھے اور ان کی سخاوت کا چرچا تھا۔ اگرچہ وہ بنو امیہ سے تعلق رکھتے تھے لیکن مکہ کی اشرافیہ میں پہلے شخص تھے، جس نے اپنے کنبے کی بھر پور مخالفت کے باوجود تحریک کے اوائل دنوں میں ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ عثمان نے اپنی زندگی میں کبھی کسی جنگ میں حصہ نہیں لیا اور ستر سال کی عمر میں اس دور کے حساب سے اچھی خاصی عمر گزار چکے تھے۔ ایک زمانہ دیکھ چکے تھے۔ وہ بڑھاپے میں تھے اور لوگوں کا خیال تھا کہ وہ عمر رسیدگی کے باعث زیادہ عرصہ تک زندہ نہیں رہیں گے۔ یہی نکتہ تھا، جس کا بالآخر عثمان کو فائدہ پہنچا۔
اگر یہ مختصر شوریٰ علی کی بجائے عثمان کی حمایت کرتی ہے تو جلد ہی وہ وقت آئے گا کہ انہیں رہنمائی حاصل کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔ یہ عثمان کو خانہ پری کی حیثیت سے دیکھ رہے تھے، عارضی انتظام سمجھ رہے تھے۔ خیال یہ تھا کہ جلد ہی جب عثمان ڈھلتی ہوئی عمر اور صحت کے سبب دنیا سے کوچ کر جائیں گے، تب تک ان میں سے ایک یا دوسرا عوامی حمایت حاصل کر لے گا، جو بالآخر اس کی بطور خلیفہ تقرری کا سامان بن جائے گا۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے یہ خواہش بر آنے میں عارضی تعطل تھا۔ زیادہ سے زیادہ ایک یا دو سال کی بات تھی، پھر قصہ یہیں آ کر ٹک جاتا۔ گٹھ جوڑ کر کے حمایت حاصل کرنے کے لیے یہ وقت کافی تھا۔ علی صاف دیکھ رہے تھے کہ کمرے میں کس طرح کا ماحول بنتا جا رہا تھا۔ وہ دوسروں کے ذہنوں کو صاف پڑھ رہے تھے لیکن وہ اس روش کو روکنے سے قاصر تھے۔ جب تیسرے دن کا سورج غروب ہوا تو کمرے میں باقی سب ایک طرف تھے اور علی سے ان کا حتمی فیصلہ، فوری طور پر مانگ رہے تھے تا کہ وہ شرط کے مطابق تیسرے دن کے ڈھلنے پر باہر نکل کر مسجد میں عوام کے سامنے اعلان کر سکیں۔ علی جان چکے تھے کہ 'خاک اور خار کے سال' ابھی ٹلے نہیں تھے۔ باقی پانچ ایک طرف ہو گئے تو ان کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ ایک بار پھر آگے بڑھ کر کسی دوسرے شخص کے ہاتھ پر بیعت کریں۔
علی کے لیے یہ کس قدر ترش فیصلہ ہو گا کہ ایک بار پھر رہنمائی سے محروم کر دیے گئے تھے؟ آخر، وہ کب تک صبر کرتے؟ امت کے اتحاد اور یگانگت کے نام پر کب تک وہ شرافت اور اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے؟ اپنی سمجھ اور بصیرت کے مطابق، وہ یقیناً اندر ہی اندر اپنے حق اختیار کو ایک بار خود سے دور ہوتے دیکھ کر بجھ گئے ہوں گے۔ لیکن، اگر وہ حسد سے جلنے لگتے اور اندر ہی اندر گھل جاتے۔ پھٹ پڑتے یا بغاوت پر اتر آتے تو ظاہر ہے، علی وہ شخص نہ ہوتے جیسا کہ ہم انہیں جانتے ہیں۔ علی تو اپنی اعلیٰ ظرفی، شائستگی اور راست بازی کے لیے مشہور تھے۔ ایک ایسا شخص جو اتنا معزز اور عالی مرتبت تھا کہ اس کے سامنے سیاسی چالیں بے معنی تھیں، اسے ان کی شاید سمجھ تو تھی لیکن یہی چالیں چلنا، ان کے شایان شان نہیں تھا۔
یا شاید، کیا خبر۔۔۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو کیا وہ بھی دوسروں کی طرح یہی سوچ رہے تھے کہ عثمان تادیر زندہ رہنے والے نہیں تھے۔

صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی اگلی قسط یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر