اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 04



یوں، تقسیم کا بیج بویا جا چکا۔ دیکھتے ہی دیکھتے، محمدؐ کی بیویاں، سسر، داماد، ہم زاد، بیٹیاں، مشیر اور دیرینہ ساتھی، الغرض ہر شخص، جب یہ بیج جان پکڑے گا، پھوٹ کی جڑ کا حصہ بن جائیں گے۔ لیکن، اب کئی سالوں بعد، جب محمدؐ بستر مرگ پر تھے، یہ بیویاں ہیں جو ہر چیز کا انتظام سنبھالے ہوئے تھیں۔ یہ ان کا راج ہے۔ یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مریض کمرے پر پہرہ لگائے بیٹھی ہیں۔ وہی تعین کرتیں کہ آیا آپؐ کی حالت ایسی ہے کہ عیادت کے لیے آنے والوں کو انہیں دیکھنے کی اجازت دی جائے یا کیا وہ اس قدر کمزور ہیں کہ ان کے انتہائی قریبی رفقاء کو بھی دروازے سے واپس لوٹا دیا جائے گا؟ کئی دن تک تو ان کے بیچ یہ کشمکش رہی کہ محمدؐ بیماری کے دوران کس کے کمرے میں رہا کریں؟ جب بات حد سے بڑھ گئی تو محمدؐ کو سختی دکھانی پڑی، اصرار کر کے عائشہ کے یہاں آن رہے۔ اب، محمدؐ کی دیکھ بھال میں یہ بیویاں ہی تھیں جو ہمہ وقت اس بحث میں رہتیں کہ کونسی دوائی دی جانی چاہیے؟ کونسا ایسا دم ہے جو کارگر ہو گا؟ کیا نہیں ہو گا؟ یا پھر، انہیں دوا دینا ضروری بھی ہے؟ یا پھر اس کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہے؟
ایسی تو خیر کئی باتیں تھیں لیکن جس معاملے پر اصل قضیے نے جنم لیا، وہ یہ تھا کہ دن بدن، جیسے جیسے محمدؐ کی حالت بگڑ رہی تھی، تنازعہ بڑھتا ہی گیا کہ انہیں دیکھنے کی اجازت کس کو دی جائے اور کس پر روک لگا دی جائے؟ کئی بار تو ایسا ہوا کہ جیسے ہی آپؐ کی حالت سنبھلی، انہوں نے قوت مجتمع کر کے اگر کسی مخصوص شخص کو دیکھنے، اس کو بلا لانے کو کہا تو اس پر بھی توں تکرار ہوتی رہتی۔ بیویاں معترض رہتیں۔ وہ محمدؐ کے ساتھ بحث کرتیں۔ بیماری کی وجہ سے آپؐ کمزور اور ناتواں ہو چکے تھے۔ ظاہر ہے، وہ انہیں ٹوک نہیں سکتے تھے، کبھی چپ کر جاتے۔ بسا اوقات ہاں میں ہاں ملا لیتے۔ اس نزاع اور ہر لمحے کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشمکش کو ختم کرنا اب ان کے بس کی بات نہیں رہی تھی لیکن وہ صاف دیکھ رہے تھے کہ ان کا امہ کے بارے خدشات، حقیقت کی بدترین شکل میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔
ان دنوں پیش آنے والا ایک واقعہ تو بہت ہی مشہور ہوا۔ اس کی بازگشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ ہوا یہ کہ محمدؐ نے علی کو بلا کر ان کے پاس لانے کو کہا۔ چونکہ، مریض کمرے میں بیویوں، بالخصوص عائشہ کی بات زیادہ چلتی تھی، اس لیے علی دور ہی رہتے۔ وہ آج کل زیادہ وقت مسجد میں عبادت اور مطالعے میں گزارتے تھے۔ عائشہ بجائے محمدؐ کی خواہش کا احترام کرتیں، انہوں نے اپنے والد کی بابت لقمہ دیا، 'کیا آپؐ بجائے اس کے، ابو بکر کو نہیں دیکھنا چاہتے؟'۔ یہ دیکھ کر وہیں موجود دوسری بیوی، یعنی عمر کی بیٹی حفصہ نے اپنے والد سے ملنے کا مشورہ دیا۔ کہنے لگیں، 'یا پھر، عمر کو دیکھنا چاہیں گے؟'۔ پہلے تو محمدؐ نے علی کو بلانے پر ہی زور دیا لیکن جب ان دونوں کا اصرار یوں ہی جاری رہا تو انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے ان کی ہاں میں ہاں ملا دی۔ یوں، ابو بکر اور عمر تو آ گئے لیکن علی کو نہیں بلایا گیا۔
ایک بیمار، بستر مرگ پر پڑے شخص کو یوں بہلا پھسلا کر اپنی مرضی پر مائل کرنا، تا کہ ان کی اپنی مرضی چل سکے، ہر لحاظ سے نا مناسب بات ہے۔ بلکہ، کٹھور پن ہے۔ لیکن ظاہر ہے، ان جوان عمر بیویوں سے بھی کوئی اپنی منشاء لاگو کرنے پر گلہ نہیں کر سکتا۔ دوسروں کی بجائے اپنے یا اپنے اپنے والد کا مفاد مقدم رکھنا، ان کی مجبوری بن چکی تھی۔ علی کی بجائے دوسروں کو آگے لانا، ان کے لیے ضروری تھا۔محمدؐ کے بعد ان کے سامنے پہاڑ جیسی زندگی تھی، ایسا مستقبل تھا جس کے ساتھ ساری عمر، مثال اکھاڑے میں کشتی لڑنی تھی۔ وہ جانتی تھیں اور ان کے لیے لازم تھا کہ وہ اس مشکل مرحلے کے لیے ہر طرح سے تیاری کر لیں۔
یہ جلد ہی بیوہ ہو جائیں گی اور ان کی بسر ہمیشہ ہی بیوگی میں بسر رہنی تھی۔ ان کی قسمت یوں ہی لکھ دی گئی تھی۔ قران کی تینتیسویں سورت میں واضح طور پر ان کے لیے حکم جاری ہوا تھا کہ، 'بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لیے ان کی اپنی ذات پر مقدم ہے اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔۔۔' ،ایک دوسری آیت میں صاف صاف تاکید بھی کر دی ، 'تمہارے لیے ہر گز یہ جائز نہیں کہ اللہ کے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو۔ یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔'
یوں، پیغمبر کی بیویاں اگر واقعی انہیں ماننے والوں کی مائیں تھیں تو وہ اب کبھی بھی دوبارہ کسی سے نکاح نہیں کر سکیں گی۔ محمدؐ کے بعد وہ ہمیشہ بیوہ ہی رہا کریں گی اور ان سے بیاہ شرعی لحاظ سے حرام ہوتا۔
محمدؐ کی بیویوں پر یہ پابندی، یعنی دوبارہ شادی کرنے کی ممانعت عرب رواج کے خلاف تھا۔ ساتویں صدی عرب میں، عام طور پر بیواؤں کی فوراً سے پہلے ہی شادی ہو جایا کرتی تھی۔ زیادہ تر یوں ہوتا کہ مرنے والے کا کوئی قریبی رشتہ دار آگے بڑھتا اور بیوہ اور اس کے بچوں کو سنبھالنے کی غرض سے شادی کر لیتا۔ اس طرح خاندان کی حفاظت ہوا کرتی اور یہ محفوظ رہتا۔ ظاہر ہے، اسی لیے یہ ممانعت صرف محمدؐ کی بیویوں کے لیے مخصوص کی گئی تھی۔ دوسرے زاویے سے دیکھیں تو یہ آیات کسی طرح سے بھی محمدؐ کی تعلیمات، یعنی بیواؤں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی کفالت اور دیکھ بال کے پرچار سے میل نہیں کھاتا۔ مگر، یہیں یہ نکتہ انتہائی اہم ہے۔ بات یہ ہے کہ محمدؐ کی بیویوں کو امتیازی حیثیت حاصل تھی۔ ان کے دوبارہ سے شادی کرنے پر پابندی سے بھی انہیں ایک واضح رتبہ اور بلند مقام عطا کرنا تھا۔ وہیں، یہ ممانعت اس بات کی بھی غماز ہے کہ امت مسلمہ کا تصور کسی ایک شخص، خاندان، کنبے یا قبیلے تک محدود نہیں بلکہ یہ تو ایک قومیت بھی نہیں بلکہ، اس کی مثال تو ایک بڑے خاندان جیسی ہے۔
شاید، یہ سب احکامات اور اس کے نتیجے میں بلند مقام بڑی عمر کی بیویوں کے لیے تو موزوں ہوتیں مگر بغور دیکھیں تو یہ عائشہ اور حفصہ جیسی جوان عمر بیویوں کے لیے ایک بھیانک خواب سے کم نہیں تھا۔ ان کے لیے یہ انتہائی مشکل مرحلہ تھا۔ اگر، انسانی سطح پر سوچیں تو یہ سفاک معلوم ہو گا۔ بالخصوص عائشہ کے لیے تو یہ باقی سب سے بڑھ کر جبر تھا۔ عائشہ کی عمر بمشکل ایک لڑکی جتنی تھی، وہ اب تمام عمر بیوہ رہیں گی۔ وہ دوبارہ شادی نہیں کر سکیں گی، یوں وہ ہمیشہ لا ولد بھی رہیں گی۔ اگرچہ، وہ مومنین کی ماں کہلائیں گی لیکن خود اپنے بطن سے انہیں کبھی اولاد نصیب نہیں ہو گی۔ اس طرح، عرب معاشرے میں، جہاں ہر شے خاندان، قبیلے سے جڑی ہے۔ اولاد نرینہ ہی سب کچھ ہو، وہاں عائشہ کے لیے، اگر وہ توجہ نہ دیں گی تو ان کے لیے آگے چل کر انتہائی کڑا وقت آنے والا تھا۔
یقیناً، محمدؐ کی بیویوں سے شادی کرنے والے خواہش مند افراد کی کوئی کمی نہیں تھی ۔اللہ کے رسول کی بیوہ سے شادی کرنے کے لیے ہر مرد، اگر ضروری ہوتا تو مقابلہ بھی کرتا، یہاں تک کہ خون ریزی سے بھی باز نہ آتا۔ اس طرح ،ہر شخص آپؐ کے ساتھ نسبت پکی کرنے کی سبیل نکال سکتا تھا اور اپنا سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کر سکتا تھا۔ یہی وہ چیز ہے جس سے محمدؐ لوگوں کو باز رکھنا چاہتے تھے۔ ایسا بھی نہیں ہے کہ یہ بات منظر عام پر نہیں آئی۔ ایسے کئی مواقع آئے، جب جید اصحاب میں سے بھی کئی ایسے تھے، جو بر ملا اس خواہش کا اظہار کر چکے تھے۔ مثال کے طور پر ایک روایت میں تو واضح الفاظ میں طلحہ کا ذکر ملتا ہے۔ طلحہ عائشہ کے چچا زاد تھے، جنہیں ایک جگہ پر اونچی آواز میں یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ وہ محمدؐ کے بعد عائشہ کے ساتھ نکاح کریں گے۔ ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوئی، کیونکہ انہیں فوراً ہی عائشہ کی ایک بہن کے ساتھ نکاح میں باندھ دیا گیا۔ لیکن، اب چونکہ یہ آیات اتر چکی تھیں، اس طرح کی باتوں کو پوری طرح روک لگا دی گئی تھی۔ کوئی شخص ایسی کوئی خواہش اپنے دل میں پالنے کا خیال بھی نہیں لا سکتا تھا۔ ظاہر ہے، خدا کی بات حتمی تھی۔ محمدؐ اپنے پیچھے نو بیوائیں سوگوار چھوڑیں گے، اور ان میں سے کوئی بھی، اب کبھی بھی دوبارہ شادی نہیں کر پائے گی۔
ان نو بیواؤں میں، یہ عائشہ تھیں جو اپنے مستقبل سے متعلق باقی سب سے زیادہ فکر مند تھیں۔ ابھی ان کی عمر صرف اکیس برس تھی اور وہ عمر بھر کے لیے بیوہ ہونے جا رہی تھیں۔ ذرا سوچیں، وہ ایسے شخص کی بیوہ ہوں گی جس نے مرتے ہوئے کوئی وصیت بھی نہیں کی۔ کیا وہ ان کے بعد اپنے والد کے گھر واپس چلی جائیں گی جہاں ان کی پہاڑ جیسی عمر وقت سے پہلے ہی ہر معاملے سے سبکدوش ہونے کی متقاضی رہے گی؟ اتنی چھوٹی عمر میں تنہائی اور زندگی کے دھارے سے علیحدگی کا سوچ کر ہی انہیں ہول آتا ہو گا۔ وہ تو جب اس بارے غور کرتی ہوں گی تو سوچیں، ان پر کیا گزرتی ہو گی؟ یقیناً، یہ ان کے لیے انتہائی پریشان کن صورتحال تھی۔ آج تک، وہ ہمیشہ ہی توجہ کا مرکز رہی تھیں اور اب اچانک وہ گمنامی کا شکار ہونے جا رہی تھیں؟ جس طرح ان کی شخصیت تھی، وہ کسی بھی صورت کونے سے لگنے پر تیار نہ ہوتیں۔ اب، ان حالات میں اگر محمدؐ مرنے سے پہلے علی کو اپنا جانشین مقرر کر لیتے ہیں تو عائشہ کا خیال یقیناً یہی رہا ہو گا کہ اگر اس سے پہلے انہیں کوئی رعایت کی توقع رہی تھی تو اس صورت میں تو وہ ہلکی سی امید بھی دم توڑ دیتی۔ علی کے ہوتے ہوئے، وہ محمدؐ کے بعد، پہلے ہی دن گمنامی کے کنوؤں میں دھکیل دی جائیں گی۔ عائشہ کو ذاتی طور پر اس طرح کی صورتحال میں علی سے کسی اچھائی کی امید نہیں تھی۔ صرف وہی نہیں بلکہ ابو بکر بھی گمشدہ ہار کے معاملے میں علی کے انتہائی ترش کردار پر نالاں چلے آ رہے تھے۔
علی نے جو محمدؐ کو جو انتہائی کند اور کھنڈے انداز میں مشورہ دیا تھا، اس سے نہ صرف ابو بکر بلکہ ان کے پورے خاندان کی بے عزتی ہوئی تھی۔ یوں، اگر قبائلی رواج کے مطابق دیکھیں تو یہ نہ صرف ان کے کنبے بلکہ قبیلے اور مدینہ میں مہاجرین کی عزت کا معاملہ بن چکا تھا۔ مہاجرین کی بے عزتی بارے، کم از کم عمر کا یہی خیال تھا۔ وہ اور ابو بکر محمدؐ کے سب سے منجھے ہوئے مگر عمر رسیدہ ساتھی اور مشیر تھے۔ وہ ان کے دیرینہ رفیق، دوست تو تھے ہی، دونوں ہی آپؐ کے سسر بھی تھے۔ اگرچہ، ان دونوں اصحاب کی عمریں محمدؐ سے کم تھیں۔ ابو بکر ان سے دو سال جبکہ عمر بارہ سال چھوٹے تھے۔ لیکن، ان کا حلقہ اثر کہیں بڑھ کر تھا۔ جہاں سفید ریش ابو بکر، خمیدہ کمر کے ساتھ کھڑے ہو جاتے تو گویا، شفقت اور تکریم کا دور دورہ ہو جاتا۔ لوگ، ان کی طرف مائل ہوتے اور ان کے ساتھ تعظیم برتتے۔ انہیں انسیت محسوس ہوتی۔ دوسری جانب، عمر ایک انتہائی سخت جان، طبیعت اور اعصاب کے مالک جنگجو واقع ہوئے تھے۔ ان کا رعب اور دبدبہ اتنا تھا کہ جہاں وہ کھڑے ہوتے، مجال ہے کسی کو چوں چراں کی جرات بھی ہو پاتی۔ لوگ ان کے جلال سے دبے رہتے۔
اس چھوٹے سے مریض کمرے میں بھی، عمر کی موجودگی کا زبردست احساس رہا کرتا ہو گا۔ وہ اس قدر بلند قامت واقع ہوئے تھے کہ عائشہ کہا کرتیں، 'ہجوم میں دور سے ہی وہ دوسروں سے اتنے اونچے ، بلند نظر آتے، جیسے گھوڑے پر سوار ہوں'۔ عمر ہاتھ میں ہر وقت ایک لچک دار چھڑی جو عام طور پر گھڑ سواری میں استعمال ہوتی ہے، اٹھائے پھرتے تھے۔ جہاں ضرورت پڑتی، اسے انسانوں پر بھی استعمال کر لیتے۔ چاہے گھوڑے کو سدھانا ہو یا کسی شخص کو راہ راست پر لانا مقصود ہو، بلا امتیاز اس کا استعمال کرتے۔ اسی طرح، ان کی آواز بھی شخصیت کے عین مطابق خاصی گرج دار تھی۔ عام بول چال میں بھی لگتا جیسے حکم صادر کر تے ہوں۔ میدان جنگ میں یا کسی مباحثے میں، یہ آواز اور اونچی ہو جاتی اور سننے والے کے دل پر ہیبت طاری کر دیتی۔ یوں، ہر شخص آواز سے بھی دب کر رہتا، صرف گلے کی کھنکار سن کرہی فوراً با ادب ہو جاتا۔ عائشہ کے مطابق، وہ کسی کمرے میں داخل ہوتے تو جیسے سب کو سانپ سونگھ جاتا۔ ہنستے ہوئے لوگوں ایک دم سنجیدہ ہو جاتے ۔ یوں، اکثر کہا جاتا کہ جس محفل میں بھر پور خاموشی نظر آئے، یقیناً عمر بھی وہیں موجود ہوں گے۔ یہی نہیں، کسی بھی جگہ پر جہاں عمر کی آمد ہوتی، لوگ چپ تو ہو جاتے، ساتھ ہی سب کی نظریں ان پر جم جاتیں کہ اب کچھ کہیں گے، صرف انہی کو سنا جائے۔ کسی شخص میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ خواہ مخواہ ہی عمر سے بات چیت کرے، گپ شپ لگائے یا لمبے چوڑے قصے سناتا پھرے۔ عمر کے یہاں فضول گوئی اور ہنسی مذاق کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ اب، ایسی شخصیت کے مالک ہوتے ہوئے بھی، مریض کمرے میں ان کی موجودگی کے باوجود اگر کسی محفل میں محمدؐ کے آس پاس شور شرابا ہو تو اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صورتحال کس قدر تشویشناک ہو چکی تھی۔
اس کمرے میں موجود ہر شخص اسلام کی سر بلندی اور حفاظت چاہتا تھا لیکن ان میں سے ہر شخص کو اس کے ساتھ ساتھ ذاتی مفادات کا تحفظ بھی عزیز تھا۔ جیسا کہ عام طور پر سیاسی معاملات میں ہوا کرتا ہے، ہر اہم شخص کو یہی لگتا ہے کہ اس کے ذاتی مفادات اور ترجیحات ہی در اصل پوری قوم کے مفادات اور ترجیحات ہیں۔ سیاسی طور پر پر اثر شخصیات کے لیے مثال، یہ ایک ہی چیز ہوا کرتی ہے۔ یہی بات اس واقعہ کے پیش آنے پر ثابت بھی ہو جاتی ہے، جو بعد ازاں 'قلم اور کاغذ کا واقعہ' کہلایا جائے گا۔
ہوا یوں کہ محمدؐ کی بیماری کے نویں دن، ان کی طبیعت کچھ سنبھل گئی تھی۔ عام طور پر ایسا سنبھالا تب آتا ہے جب بستر مرگ پر مریض کا آخری وقت قریب ہو۔ یہ عارضی ہوتا ہے۔ اس کے بعد، حالت بگڑتی ہی چلی جاتی ہے تا آنکہ موت گلے نہ لگا لے۔ اٹھ کر بیٹھے تو خاصے ہشاش بشاش لگ رہے تھے۔ انہوں نے تھوڑا سا پانی پیا اور عام خیال یہی ہے کہ اپنی آخری خواہش اور جسے بعد ازاں ممکنہ طور پر وصیت بھی شمار کیا جائے گا، واضح کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ لیکن یہاں بھی، اس معاملے کی روایات کے بیان میں خاصا ابہام ملتا ہے۔
'لکھنے کا سامان لے آؤ تا کہ میں تمہیں کچھ کہوں اور تم اسے لکھ لو۔ اس کے بعد تم کبھی بھی گمراہی اور ضلالت کا شکار نہیں ہو گے'۔ وہ ٹھہر ٹھہر کر کہنے لگے۔
دیکھنے میں یہ نہایت سادہ اور صاف درخواست تھی۔ اسی طرح، یہ نہایت معقول بات بھی لگتی ہے کہ ان حالات میں، بلکہ کہیے حالات جو رخ اختیار کرتے جا رہے تھے، ایسے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا۔ لیکن، ہوا یہ کہ کمرے میں موجود تمام لوگوں میں یہ سنتے ہی ایک دم افراتفری پھیل گئی۔ اس وقت یہاں محمدؐ کی بیویاں، ابو بکر اور عمر موجود تھے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ محمدؐ کیا لکھنے جا رہے ہیں، یا جیسا کہ روایت میں بیان کیا گیا ہے، انشاء نویس سے کیا لکھوانے جا رہے تھے؟ یہ وضاحت ضروری ہے، کیونکہ عام اسلامی عقیدہ یہی ہے کہ محمدؐ نہ تو لکھ سکتے تھے اور نہ پڑھنے کے قابل تھے۔ حالانکہ، حقیقت سے قریب تر ہو کر سوچیں تو یہ بات ناممکن سی لگتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ محمدؐ ایک عرصے تک تجارت کا کام کرتے رہے، منجھے ہوئے آڑھتی تھے۔ انہیں یقیناً، تمام تر تجارت، لین دین اور نفع اور نقصان کا حساب کتاب رکھنے کی ضرورت رہتی ہی ہو گی۔ اگرچہ، یہ لکھنے اور پڑھنے میں کوئی بہت مہارت تو نہیں لیکن پھر بھی، اس کام کے لیے بھی بنیادی پڑھائی لکھائی تو لازم ہی ہوتی ہے۔ لوگوں کا ایمان کی حد تک یہ ماننا اور اس پر ہمہ وقت اصرار کہ محمدؐ پڑھنے اور لکھنے سے قاصر تھے، در اصل قران کی سچائی کی دلیل بنا کر پیش کی جاتی ہے۔ یعنی یہ کہ اس طرح یہ بات ثابت کر دی جاتی ہے کہ قران در اصل ذات مقدس کی زبان ہے اور اس کے ظہور میں کسی انسانی خیال اور بیان کی کسی بھی طرح سے آمیزش، کھوٹ شامل نہیں ہے۔ حالانکہ، ایسی کسی بھی دلیل کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جس پائے کی زبان، فصاحت اور بلاغت قران میں پائی جاتی ہے، وہ ایک آڑھتی تو دور کی بات، بڑے سے بڑے کلام گو، شاعر یا نثر نگار کے بس کی بات نہیں ہے۔
خیر، جب محمدؐ نے اس آخری خواہش کا اظہار کر دیا، آپ اپنی سہولت کے مطابق سمجھ لیں کہ جو وہ لکھنا چاہتے تھے یا لکھوانا چاہتے تھے، کمرے میں موجود تمام افراد کے ذہن پر ایک ہی سوال تھا، 'جو وہ لکھوانا چاہتے ہیں، یہ کیا ہو سکتا ہے؟ کیا وہ آگے کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے عمومی ہدایات لکھوانا چاہتے ہیں؟ یا پھر، کیا وہ دینی تعلیمات کا ایک بار پھر اعادہ کرنا چاہتے ہیں، دین سے مثال دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے پیچھے امہ کے لیے کیا چھوڑے جا رہے ہیں؟ یا پھر وہ سوال جس کا ان لوگوں کو اصل ڈر تھا، 'کیا وہ واقعی وصیت لکھوانے جا رہے ہیں؟'۔ کیا مرنے سے پہلے پیغمبر خدا اس قصے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتے ہیں؟ کیا وہ اپنا جانشین مقرر کرنے والے ہیں؟'
جس قدر اہم یہ سوال ہے اور مندرجہ بالا بیان کیے گئے حالات ہیں، ایسے میں کمرے میں موجود لوگوں میں افراتفری پھیل جانا قدرتی بات ہے۔ سادہ حالات میں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ اگر ہم یہ جاننا چاہیں کہ وہ کیا لکھوانا چاہتے ہیں تو اس کا حل یہی ہے کہ کاغذ اور قلم لے آتے تو پتہ چل جاتا لیکن افسوس، ایسا نہیں ہوا۔ جوں ہی انہوں نے یہ مطالبہ کیا، وہاں موجود ہر شخص اندر ہی اندر جان چکا تھا کہ اس درخواست کا اصل مقصد کیا ہے۔ اس کی وجہ کئی سوالات ہیں، جو لازمی طور پر وہاں تمام لوگوں کے دل اور دماغ پر چھائے ہوئے تھے۔ مثلاً، کیا ہو گا اگر محمدؐ نے واقعی اپنی وصیت لکھوا لی؟ پھر کیا ہو گا، اگر یہ وصیت ان کے حق میں نہ ہوئی؟ اگر محمدؐ نے علی کو اپنا جانشین مقرر کر لیا تو پھر؟ ابو بکر نہیں، عمر نہیں بلکہ کوئی بھی دوسرا دیرینہ ساتھی نہیں بلکہ علی، تو پھر؟ اگر وہ واقعی وصیت لکھوانا چاہتے تھے، لکھوانے پر اصرار کیوں کر رہے ہیں، زبان سے کہہ کیوں نہیں دیتے؟ قلم اور کاغذ منگوانے میں کیا حکمت ہے؟ کیا اس کا مطلب یہ تھا کہ بستر مرگ پر، اب انہیں اس کمرے میں موجود لوگوں پر اعتبار نہیں رہا کہ وہ اس زبانی وصیت کو من و عن باقی لوگوں تک پہنچائیں گے؟ کیا وہ اسے پکا لکھوانا چاہتے تھے، تا کہ باقی لوگ ان کی زبان پر شک نہ کریں بلکہ لکھے ہوئے کو اچھی طرح دیکھ لیں اور اس میں کسی بھی قسم کے شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہ رہے؟
اگرچہ ان شبہات کو وہاں کسی شخص نے با آواز بلند، ظاہر تو نہیں کیا لیکن پھر بھی کمرے میں ایک ہاؤ ہو مچ گئی۔ اس شور شرابے سے محمدؐ کی حالت ایک دم پھر بگڑ گئی۔ جوں ہی ان پر دوبارہ غشی کا غلبہ آنے لگا، وہ اس بات پر متفکر ہو گئے کہ آپؐ کو اس قدر دباؤ اور تناؤ سے دوچار کرنا، مناسب بات نہیں ہے۔ بجائے وہ اصل مدعا کی طرف توجہ دیتے، ان کا سارا زور اس بات پر مجتمع ہو گیا کہ کمرے میں خاموشی کی ضرورت ہے۔ اس بات پر بھی، جبکہ وہ خاموشی کی ضرورت پر زور دے رہے تھے، ان کی آوازیں اونچی سے اونچی ہی ہوتی چلی گئیں۔
یہ نہایت عجیب و غریب منظر ہے۔ اس بات کے واضح اشارے ہیں کہ اس کمرے میں موجود لوگ ، جو اس شخص کے انتہا درجے کے وفا دار ہیں، یہ بات کئی مواقع پر ثابت بھی ہو چکی ہے، اب وہی شخص اپنی وصیت لکھوانا چاہتا ہے، شاید وہ اپنا جانشین بھی مقرر کر لے اور اس مسئلے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دے۔ یہ وہ چیز ہے، جو ہر شخص چاہتا ہے کہ، ہو جائے۔ ہر ایک کی یہ خواہش ہے کہ وہ اس بابت جو درست ہے وہ جان لے، اس شخص کی مرضی جان لے۔ لیکن، وہیں اسی وقت، یہی ایک چیز ہے جو کوئی بھی شخص جاننے کی تاب نہیں لا سکتا۔ یہ عجب مشکل ہے۔ یہ ان لوگوں کی مجبوری ہے۔ اگر علی کو جانشین مقرر کر بھی دیا جاتا ہے تو اس کمرے میں موجود کوئی بھی شخص، اس نامزدگی کو کسی بھی صورت تحریر میں نہیں لانا چاہے گا۔
جہاں یہ عجیب صورتحال ہے، نہایت عجیب و غریب منظر ہے، وہیں یہ خالصتاً انسانی خصلتوں کا بھر پور اظہار بھی ہے۔ اس کمرے میں موجود سب ہی انسان ہیں۔ جو اگر ایک طرف انتہائی محترم اور تاریخ کا کلیدی حصہ رہے ہیں، وہیں وہ بنیادی انسانی خاصیتوں، کمزوریوں اور ناکامیوں سے بھی پر ہیں۔ ان میں سے ہر شخص متفکر ہے، کوئی بھی محمدؐ کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا، وہ ایک زمانے میں، جب حالات انتہائی بد تر تھے، اس وقت بھی آپؐ کے ساتھ جم کر کھڑے رہے تھے، ابھی تو انہیں چھوڑ دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ وہ آج بھی ویسے ہی ان کے گرد جمع ہیں۔ محمدؐ کی حفاظت، بیماری سے بچانے اور انہیں ہر طرح کے شر سے، حتی کہ خود اپنی مجبوریوں کے شر سے بھی بچائے رکھنے کی سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پیغمبر خدا کو سکون ملے، اس بیماری میں ان کی زندگی آسان ہو۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ دل کی گہرائیوں سے آپؐ کا بھلا چاہتے تھے، وہ پہلے ہی ان کے وفا دار چلے آ رہے تھے۔ اپنے تئیں ہر ممکن کوشش کر رہے تھے۔ لیکن، جس طرح کے حالات تھے ، اس میں ان کی یہ کوششیں بھی بے سود ثابت ہو رہی تھیں۔ وجہ اوپر بیان ہو چکی ہے، قلم اور کاغذ منگوانے کے فوائد اور نقصانات پر بحث ہونے لگی اور یوں شور و غل بڑھتا ہی گیا۔ اس دھما چوکڑی سے ظاہر ہے، محمدؐ کی صحت برداشت کرنے سے قاصر تھی، وہ ایک دم ہی پھر غش کھا کر بستر پر گر گئے۔ غصے میں بجھے ہوئے ہر لفظ کی دھمک، کانوں کو پھاڑتی ہوئی ہر تیز لے جیسے ان کے دماغ پر ہتھوڑے برسا رہی تھیں۔ کمرے میں ہنگامہ اور شور اس قدر بڑھا کہ آپؐ کی برداشت سے باہر ہو گیا۔ 'مجھے اکیلا چھوڑ دو!' انہوں نے حتمی انداز میں بڑبڑا کر کہا ۔ پھر پوری قوت سے آواز دوبارہ جمع کی ۔ دوبارہ گویا ہوئے تو صرف یہ کہہ سکے ، 'میری موجودگی میں ان بن اور لڑائی بند کرو۔۔۔ ' پھر درد اور بخار کے ساتھ شور نے آن لیا اور وہ بے ہوش ہو گئے۔
اس کشمکش اور کھینچ تانی کے باعث وہ اس قدر ناتواں ہو چکے تھے کہ یہ الفاظ ان کے منہ سے بمشکل سرگوشی بن کر نکلے۔ ایسا لگا جیسے وہ زیر لب کچھ بڑبڑا رہے ہیں۔ صرف عمر تھے جو انہیں سن پائے اور ان کے لیے یہ کافی تھا۔ اب پہلی بار، اپنی زور آور طبیعت اور سے کھری اور اونچی آواز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے چلا کر حکم صادر کیا، 'رسول خدا درد سے نڈھال ہیں، یہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ہمارے پاس قران ہے۔ قران خدا کی کتاب ہے اور ہمارے لیے یہی کافی ہے'۔
تاہم، بعد ازاں یہ کافی ثابت نہیں ہوا۔ شاید یہ کافی بھی ہوتا، بلکہ اسے کافی ہونا چاہیے تھا، لیکن بعد ازاں مسلمانوں کے لیے صرف قران کافی ثابت نہیں ہوا۔ عمر کے الفاظ آج بھی یقین اور کامل، ایمان کی درخشاں مثال بنا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ لیکن، سچ یہ ہے کہ بعد کے دور میں، یہ ہر گز کافی نہیں تھا۔ آگے چل کر وقت آئے گا کہ قران کے ساتھ سنت کو بھی انتہائی اہم ضمیمے کی صورت میں اسلام کا کلیدی حصہ بنا دیا جائے گا۔ سنت سے مراد محمدؐ کے اقوال اور افعال کی وہ ہزاروں اور لاکھوں روایات ہیں جو احادیث کی شکل میں ان لوگوں نے جمع کیں، جو ان کی انتہائی قربت کے دعویدار رہے تھے۔ ان احادیث میں محمدؐ کا طور طریقہ، ہر طرح کا کام، چاہے وہ زندگی کے بڑے اور اہم معاملات سے متعلق ہو یا روزمرہ زندگی کے معمولات ہی کیوں نہ ہوں، پوری تفصیل کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ سنۃ یا سنت، عربی زبان کا روایتی اور قدیم لفظ ہے جس سے مراد آباؤ اجداد کا طور طریق مراد لیا جاتا ہے۔اسی لفظ اور نظریے کی بنیاد کو بعد ازاں ایک گروہ اپنا تعارف بنا لے گا، جنہیں ہم آج سنی کہتے ہیں۔ حالانکہ، شیعہ بھی محمدؐ کے کم و بیش انہی اقوال اور افعال کی پوری توجہ اور اہتمام کے ساتھ پیروی کرتے ہیں۔
بہرحال ، اس وقت عمر کا حکم چل گیا۔ ان کے الفاظ نے اپنا کام کر دکھایا، جو مقصد تھا، وہ پورا ہوا اور مریض کمرے میں ایک دم خاموشی چھا گئی۔ یوں کہیے، ہر شخص کھسیانا ہو کر بالکل چپ ہو گیا۔ اگر محمدؐ واقعی جانشین کی تقرری کرنے کا ارادہ رکھتے تھے تو اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ اب ان میں طاقت باقی نہیں رہی تھی۔ وصیت تو دور کی بات، مسلسل بگڑتی ہوئی صحت اور لوگوں کو بحث و مباحثے اور تو تو میں میں سے بھی نہیں روک سکتے تھے۔ شاید، ان کی بہتر نظر آتی ہوئی صحت سے ان لوگوں کو بھی مغالطہ ہوا تھا۔ ان کی حالت اتنی اچھی نہیں تھی، جتنی سمجھ لی گئی تھی۔ یا شاید، کمرے میں موجود ہر شخص اپنے مفادات کا واقعی تحفظ چاہتا تھا، یا دوسری صورت کہیے، اس کے ساتھ امہ کا تہہ دل سے خیر خواہ تھا، لیکن اس بات میں کوئی شک اور شبہ نہیں کہ تمام تر نیک خیالی کے ساتھ، کچھ اور معاملہ بھی تھا۔ ان میں سے ہر شخص بھلے امہ اور اسلام کی بابت نیک نیت رہا ہو لیکن وہیں تقریباً ہر شخص کو یہ اندیشہ بھی تھا کہ ہو نہ ہو، محمدؐ وہی بات دہرانے جا رہے ہیں جو انہوں نے صرف تین ماہ قبل، مکہ میں اپنی زندگی کے واحد اور آخری حج کی ادائیگی کے بعد واپسی کے راستے میں، اشاروں اور کنایوں میں کہی تھی۔
کیا محمدؐ پہلے سے ہی جانتے تھے کہ اس کے بعد وہ پھر کبھی مکہ نہیں آ سکیں گے؟ کیا وہ بھانپ چکے تھے کہ اب وقت آخر قریب ہے؟ کیا یہی وجہ تھی کہ انہوں نے حج سے واپسی کے دوران، ایک مخصوص موقع پر علی کو باقی سب سے ممتاز قرار دیا تھا؟
شیعہ کا خیال ہے کہ محمدؐاس بارے پہلے سے ہی صاف اشارہ دے چکے تھے، انہیں آخری وقت کی قربت کا پوری طرح سے ادراک تھا۔ اسی لیے، انہوں نے حج کے موقع پر کچھ ان الفاظ میں اس بابت اظہار خیال کیا، 'وقت قریب ہے کہ خدا مجھے واپس بلا لے اور میں یقیناً اس کے حکم کی تعمیل کروں گا۔ میں تمہارے بیچ دو قیمتی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں۔ اگر تم مضبوطی سے انہیں تھامے رہے تو تم کبھی گمراہی کا شکار نہیں ہو سکتے۔ یہ دو چیزیں، قران یعنی اللہ کی کتاب اور دوسرا اہل بیت یعنی میرے گھر کے افراد ہیں۔ ان دونوں کو ایک دوسرے اور خود سے الگ مت کرنا تا آنکہ یہ دوبارہ سے حوض کوثر (جنت کا ایک تالاب) پر واپس میرے پاس نہ پہنچ جائیں'۔
دوسری طرف، سنی علماء کا اس پر اختلاف ہے۔ ان کا نکتہ نظر یہ ہے کہ محمدؐ کے بیان میں ان الفاظ کا بعد میں خود سے اضافہ کر دیا گیا اور ویسے بھی، محمدؐ کے الفاظ سے بالکل واضح طور پر یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ وہ یہ کہتے ہوں کہ وہ عنقریب انتقال کر جائیں گے۔ لیکن، تریسٹھ سال کی عمر، بالخصوص ساتویں صدی عرب میں، ایسی شمار ہو گی ، جب انسانی جسم اور توانائیاں یوں جواب دے سکتی ہیں کہ جوانی کے مزے لوٹنے والے اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔ محمدؐ یقیناً جانتے تھے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والے نہیں ہیں اور ان کا وقت قریب ہے۔ یہ بات تو درست ہے، لیکن اس کا قطعی یہ مطلب نہیں کہ آپؐ کو یہ توقع تھی کہ وہ مستقبل قریب میں، چند ماہ کے اندر ہی، انتقال کر جائیں گے۔ وہ تو صرف مسلمانوں کو موت کی حقیقت سے آگاہ کر رہے تھے۔ موت سے کسی کو بھی چھٹکارا حاصل نہیں اور جب یہ پیش آئے تو وہ صرف یہ یقینی بنا رہے تھے کہ لوگ ذہنی طور پر اس کے لیے تیار ہوں۔
خیر، محمدؐ کا یہ بیان حج کے موقع پر ادا کیے گئے خطبات کی روایات میں جا بجا ملتا ہے اور پھر اس کا دوبارہ اعادہ، اس سفر سے واپسی پر ہوا۔ اس موقع کے وقت اور جگہ پر کسی کو اختلاف نہیں ہے۔ یہ 10 مارچ 632ء ، یعنی محمدؐ کو لاحق ہونے والی جان لیوا بیماری سے تین ماہ قبل کا واقعہ ہے۔ حجاج کا قافلہ محمدؐ کی سربراہی میں مکہ سے واپس لوٹ رہا تھا کہ ایک رات کے لیے ان کا پڑاؤ غدیر خم پر ہوا۔ غدیر خم، ایک چشمے کا نام ہے۔ غدیر سے مراد چشمے یا تالاب کے ہیں۔ اگرچہ یہ آنکھوں کو بھلی لگتی تصویر، جیسے لق و دق صحرا میں سر سبز نخلستان کا ٹکڑا تو نہیں تھا لیکن، بہر حال یہ نخلستان قرار دیا جا سکتا ہے۔ یہاں ہر وقت اتنا پانی میسر رہتا تھا کہ اس کی نمی سے تھوڑی بہت ہریالی ہو جاتی اور کھجور کے چند درختوں کے لیے اگنے کا سامان ہو گیا تھا۔ جزیرہ حجاز و عرب کے مغربی حصے کی بنجر پہاڑیوں اور سوکھی گھاٹیوں میں ایک معمولی سا چشمہ بھی اہمیت کا حامل ہوا کرتا تھا۔ جہاں پانی کی شائبہ بھی ہوتا، وہ جگہ اس راہداری پر سنگ میل کی حیثیت اختیار کر جاتی۔ غدیر خم کی اہمیت نسبتاً بڑھ کر تھی کہ اس مقام پر نہ صرف پانی تھا بلکہ یہ چھوٹی مگر ایک سے زیادہ تجارتی راستوں پر واقع ایک چوراہا ہوا کرتا تھا۔ یہاں پہنچ کر، حجاج کا قافلہ کئی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں بٹ جائے گا اور ان میں سے کچھ مدینہ کی طرف نکل جائیں گے جب کہ باقیوں کا رخ شمال اور مشرق کی طرف، اپنے آبائی علاقوں کی جانب ہو گا۔ یہ آخری رات ہے جب محمدؐ کی موجودگی میں حجاج کی ایک بڑی تعداد جمع ہو گی۔ وہ اکٹھے ہی رات بسر کریں گے۔ اسی رات، یہاں رش میں اضافہ ہو گیا۔ غدیر خم کے مقام پر، لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔ علی، جو کہ آخری حج میں شامل نہیں تھے، یمن میں ایک سر کش گروہ کی کامیابی کے ساتھ سر کوبی کرنے کے بعد یہیں پہنچ چکے تھے۔ یمنی قبائل نے ہتھیار ڈال دیے تھے اور وہ نوزائیدہ اسلامی ریاست کو ٹیکس دینے پر بھی راضی ہو چکے تھے۔ یوں، اس مہم کے بعد جزیرہ عرب کا تقریباً حصہ اسلام میں داخل ہو گیا تھا۔ ہر طرف ایک جشن کا سماں تھا۔ محمدؐ کے لیے یہ خوش خبری تو تھی، اس کے ساتھ ہی انہوں نے مناسب سمجھا کہ اس نادر موقع کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے، وہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے سامنے اپنے دیرینہ ساتھی اور متوسل، جو اب پینتیس سال کا ایک جواں مرد تھا۔ انتہائی سیانا، فہم اور فراست کا حامل، ایسا جنگجو تھا جو ابھی ابھی ایک انتہائی اہم مہم کو کامیابی سے ہمکنار کر کے ان کے پاس واپس پہنچ چکا تھا۔
اس شام، جب قافلے کے لوگوں نے اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کو اچھی طرح پانی پلا اور چارہ کھلا کر سیر کر لیا۔ خود اپنے لیے کھانا پکا کر کھا چکے اور سونے کی جگہیں بھی کھجور کے درختوں تلے ترتیب دی جا چکیں تو محمدؐ نے حکم دیا کہ اونٹ کی کاٹھیوں پر کھجور کے پتے بچھا کر ایک چبوترہ تیار کیا جائے۔ یہ چبوترہ، صحرا میں منبر کا منظر پیش کر رہا تھا۔ عشاء کی نماز کے بعد، آپؐ اس منبر پر چڑھ گئے۔ اس موقع پر، جیسا کہ محمدؐ خطابت کے لیے مشہور تھے، انہوں نے نہایت والہانہ انداز میں علی کو آواز دے کر بلایا اور اپنے ساتھ اس چبوترے پر شانہ بشانہ کھڑے ہونے کو کہا۔ علی آگے بڑھے تو محمدؐ نے جھک کر ان کا ہاتھ تھام لیا اور کھینچ کر اوپر اپنے ساتھ لا کھڑا کیا۔ پھر، انہوں نے علی کا ہاتھ پکڑ کر ہوا میں بلند کیا، ان کی کہنی سے کہنی ملا لی۔ یہ روایتی عرب معاشرے میں اعتماد اور اتحاد کی نشانی ہوا کرتی تھی۔ یہاں، لوگوں کے ایک جم غفیر کے سامنے، انہوں نے علی کے لیے خصوصی دعا کی اور ان کے بارے یوں گویا ہوئے، 'وہ جس کا میں مولا ہوں، اس کا علی مولا ہے'۔ پھر توقف کیا اور بیان جاری رکھا، 'اللہ اس کو دوست رکھے جو علی کو دوست رکھتا ہے اور اس کو دشمن رکھے جو علی کو دشمن رکھتا ہے'۔
اس وقت یہ بات بالکل صاف تھی۔ کسی کو بھی شک اور شبہ نہیں تھا۔ کم از کم عمر کو اس بابت، محمدؐ کی منشاء سمجھنے میں ایک ذرہ برابر مشکل نہیں ہوئی۔ روایت میں آگے چل کر درج ہے کہ عمر نے آگے بڑھ کر علی کو مبارکباد دی اور کہا، 'اب دن اور رات، تم ماننے والے ہر مرد اور عورت کے مولا ہو'۔
کہا جاتا ہے کہ عمر نے بھی محمدؐ کے اس اعلان کو ، ان کی جانشینی کا اعلان سمجھا اور موقع پر ہی تسلیم کیا کہ علی ہی محمدؐ کے جانشین ہیں۔ اگر، ایسا ہے تو یقیناً یہ بات سمجھنی قطی مشکل نہیں کہ وہاں، صرف عمر ہی نہیں بلکہ ہر شخص نے محمدؐ کی بات کا مطلب، یہی سمجھا ہو گا۔ جس قدر، یہاں تک اس روایت کا واضح بیان تاریخ میں درج ہے، اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ تقریباً ہر شخص کا یہی خیال تھا۔ لیکن وائے افسوس، یہاں بھی ابہام نے بالآخر اپنے پنجھے گاڑ لیے۔ کہا جاتا ہے کہ اگر اس موقع پر محمدؐ واقعی باقاعدہ طور پر جانشین کا اعلان کر رہے تھے تو انہوں نے ایسا صاف صاف کیوں نہیں کہہ دیا؟ بجائے یہ کہ سادہ اور آسان الفاظ میں ایسا کہنے کی بجائے وہ اشاروں اور کنایوں کا سہارا کیوں لیں گے؟ بلکہ، اگر ان کا مقصد یہی تھا تو انہوں نے اپنے جانشین کا اعلان حج کے موقع پر مکہ میں کیوں نہیں کیا جب مسلمانوں کی سب سے زیادہ تعداد جمع تھی اور لوگ پوری طرح ان کی طرف متوجہ تھے؟ کہیں، ایسا تو نہیں کہ حج مکمل ہونے اور پھر علی کی کامیابی کے باعث محمدؐ خوشی سے سرشار تھے اور ایسے میں انہوں نے صرف اپنے انتہائی قریبی، جان سے زیادہ عزیز، بیٹے کی مانند علی کے ساتھ محبت اور انس کا اظہار ضروری سمجھا تھا؟ یا کیا، واقعی۔۔۔ غدیر خم پر محمدؐ کا پوری تیاری کے ساتھ ، لوگوں کو متوجہ کر کے یوں ایک چبوترہ بنوا کر، علی کی موجودگی میں یہ بیان، محبت اور انسیت کے اظہار سے بڑھ کر معاملہ تھا؟
اگلے تین ماہ میں، جیسا کہ اس کے بعد آج چودہ سو سال بعد بھی، ہر چیز تشریحات کی نظر ہو جائے گی۔ یہاں تک کہ محمدؐ کے بیانات میں بھی طرح طرح کے مفہوم ڈھونڈے جائیں گے۔ ہم یہ تو جانتے ہیں کہ انہوں نے کیا الفاظ استعمال کیے لیکن ان کا مطلب کیا تھا؟ عربی اس لحاظ سے ایک انتہائی پیچیدہ زبان ہے، یہ تقریباً عقدہ مشکل ہے۔ ہرلفظ جیسے پراسراریت سموئے ہوئے ہے۔ نفاست اور لطافت تو ظاہر ہے، اس کا خاصہ ہے لیکن اس زبان کی سخن سازی میں کئی باریکیاں بھی چھپی ہوئی ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ 'مولا' کو ہی لے لیں۔ اس کے کئی مطلب نکلتے ہیں۔ پالن ہار، رہنما، متولی، محسن، دوست یا پھر ہمدم یا ہمراز۔ کونسا مطلب ہے؟ کیا مطلب ہے؟ کیوں ہے؟ اس سب کا انحصار سیاق و سباق اور ماحول پر ہے۔ تو، یہاں مدعا یہ نہیں کہ محمدؐ نے کیا کہا، انہوں نے 'مولا' کہا۔ اصل مسئلہ تو سیاق و سباق کا ہے، اس ماحول کا ہے جہاں یہ کہا گیا، موقع کا ہے۔ اسی پر ہمیشہ سے ایک بحث چلی آ رہی ہے اور آج بھی لوگ اسی طرح ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو جاتے ہیں۔ سیاق و سباق پر تو ایک لا متناہی بحث ہو سکتی ہے۔ یوں، کہا جاتا ہے کہ اگر عمر نے بھی اسی کی تائید کی جو محمدؐ کہہ رہے تھے، تو عین ممکن ہے کہ وہ بھی اسی بات کو دہرا رہے تھے جو اس مجمع میں موجود ہر شخص اور آج بھی ہر شیعہ اور سنی ایک ہی طرح سے متفق ہیں کہ علی، بلا کسی شک و شبہ کے، تمام مسلمانوں کے خصوصی دوست ہیں۔ ان کی طرح کا مقام، کسی دوسرے کا نہیں ہے۔
اسی طرح، محمدؐ کا غدیر خم کے مقام پر کیے گئے اعلان کا دوسرا حصہ بھی، اس زمانے میں مشرق وسطیٰ کے سارے علاقوں میں دوستی اور نسبت کے اظہار، اعتماد اور اتحاد جتلانے کا رائج طریقہ تھا۔ 'اللہ اس کو دوست رکھے جو تمہارا دوست ہے، اسے دشمن رکھے جو تمہارا دشمن ہو'۔ یہ عام تھا اور تب اس کی قدر کہیں بڑھ کر تھی۔ یہ تو جدید دور کا شاخسانہ ہے کہ اب سیاسی زبان میں اسے انتہائی بھونڈی شکل میں ڈھال دیا گیا ہے۔ بس کہا اور سمجھا جاتا ہے کہ، 'میرے دشمن کا دشمن، میرا دوست ہے'۔ یا پھر، 'میرے دوست کا دوست، میرا بھی دوست ہے'۔ ان عبارات کو غور سے دیکھیں تو مفادات اور خود غرضی کی بو آتی ہے۔ جبکہ، اپنی اصل حالت میں یہ مطلب کے لحاظ سے انتہائی اہم اعلان ہوا کرتا تھا۔ خیر، یہ تو اس طرح کے اعلان کی اہمیت کا بیان ہے، ورنہ اپنی اصل حالت میں کسی بھی طور اس کے معنی یہ کبھی بھی نہیں رہے کہ مراد وراثت سونپنا ہے یا جانشین مقرر کرنا ہے۔ ان کلمات کی اصل تو اعتماد اور بھروسے کا اظہار ہوتا تھا اور آج بھی، تمام لوگ علی پر اندھا دھند اعتماد کرتے ہیں۔ ان کی محمدؐ سے نسبت اور ان کی اہمیت بارے کسی کو ذرہ برابر شک نہیں ہے۔ لیکن، پھر بھی یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے مراد یہی ہے کہ علی، رسول خدا کے جانشین ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟
بات یہ ہے کہ تشریحات، تاویلات اور دلائل سے ہم سمجھتے ہیں کہ بات صاف ہو جائے گی، لیکن ہوتا یہ ہے کہ اس طرح اصل بات مزید دھندلا تی جاتی ہے۔ اس پر کہرا چھانے لگتا ہے۔ یہاں بھی یہی ہوا، جس قدر وضاحت کی کوشش ہوئی، اتنا ہی معاملہ گدلا گیا۔
اچھا، اگر کاغذ اور قلم لے بھی آتے تو محمدؐ کیا لکھتے، یا لکھواتے؟ جیسا کہ شیعہ پورے یقین سے کہتے ہیں کیا وہ لکھواتے۔۔۔ علی ان کے خلیفہ ہیں؟ یا یہ کہ، علی ان کے جانشین ہیں؟ دوسری طرف سنیوں کا کہنا ہے، 'کون جانتا ہے کہ وہ کیا لکھواتے؟ ان کے خیال میں شیعہ نے اس معاملے کو خواہ مخواہ کا طول دے رکھا ہے، وہ اپنے تخیل کے ہاتھوں مجبور ہیں اور کچھ نہیں۔ لیکن، شیعہ اور سنی کے بیچ اس اختلاف کو ایک طرف رکھیے، ذرا سوچیے کہ اگر محمدؐ جو بھی لکھوا لیتے، ان کے ہر لفظ کی بھی وہی درگت بنتی جو ان کے حج کے موقع پر بیانات اور غدیر خم پر کیے اعلان کی بن چکی ہے۔ لوگ ایسے ایسے مطلب نکال لاتے جو ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوتا، ایسی تشریحات آتیں کہ ہم حیران و پریشان رہ جاتے۔
تو بات یہ ہے کہ ایسے مناظروں، بحث دلیل کا کوئی حل نہیں ہوتا۔ تب ہر شخص کا انفرادی سطح پر یہ دعویٰ رہا تھا کہ صرف وہی اصل مطلب سے واقف ہے، جواب جانتا ہے۔ تب کیا، آج بھی یہی ہو رہا ہے۔ ہر آدمی یہی سمجھتا ہے کہ اسے معلوم ہے محمدؐ کا مطلب کیا تھا، وہ کیا لکھوانے جا رہے تھے یا کہیے وہ کیا چاہتے تھے۔ حالانکہ، یہ دعوے تب بھی اور آج بھی، کسی بھی طرف ڈھلکے ہوں، ثابت نہیں کیے جا سکتے اور یہ کسی بھی طرح سے ممکن نہیں ہے۔ حوالہ جات موجود ہیں، تاریخ لکھی ہوئی ہے اور ایسی تفصیل موجود ہے جو کسی بھی دوسرے تاریخی معاملے میں نہیں ملتی۔ تو پھر یہ سارا قضیہ کیوں ہے؟ بات یہ ہے کہ ہمارے لیے ان حوالوں کی حدود کو سمجھنا ضروری ہے۔ اوائل دور میں تحریر کی گئی سوانح حیات ہوں یا تاریخ کا تفصیلی بیان، ہمیں صرف یہ پتہ چلتا ہے کہ تب لوگوں نے کیا کہا؟ کیا کیا؟ یا کیسے کیا؟ ان تواریخ میں کہیں پر بھی یہ درج نہیں کہ اس زمانے کے لوگوں کی نیت کیا تھی؟ یا مقصد کیا تھا؟ یا وہ کیا سوچ رکھتے تھے؟ ستم ظریفی یہ ہے کہ تب اور آج بھی، بحث اس بات پر نہیں ہوتی کہ کیا ہوا، بلکہ ہر شخص اس بات پر سر کھپا رہا ہے کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ ظاہر ہے، ان حوالہ جات میں جو چیز موجود ہی نہیں ہے، وہ کیسے مل سکتی ہے؟ یہ تلاش بے سود ہے۔
جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے، سوال یہ تھا کہ محمدؐ کیا سوچ رہے تھے؟ یہ سوال بعد ازاں علی کے بارے میں بھی آئے گا اور پھر ان کے بعد حسین کی بابت۔۔۔ یوں ایک لڑی سی بن جائے گی۔ یہ سب کیا چاہتے تھے؟ وہ کیا جانتے تھے؟ یا وہ کیا نہیں جانتے تھے؟ ان سب سوالوں کا جواب ہمیں کبھی نہیں مل سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام کی بنیاد میں پڑنے والا شگاف، وقت کے ساتھ پھیلنے کے ساتھ ساتھ ایک منجدھار کی شکل اختیار بھی کر گیا، جو روز بروز گہرا ہی ہوتا چلا جا رہا ہے ۔ آج چودہ سو برس گزرنے کے بعد بھی یہ درز، بھرنے کا نام نہیں لیتی۔ لوگ بھلے جس قدر چاہیں، پر جوش انداز میں دعویٰ کر لیں۔ تمام مذہبی اکائیاں اپنے تئیں جمع ہو کر شور مچائیں۔ دھواں دھار تقریریں کر لیں یا ہر دور کے عالم فاضل گلے پھاڑ کر شور مچایا کریں۔ یہاں تک کہ آنے والے وقتوں میں اس کے سبب خون کی ندیاں بھی بہیں گی ، قتل و غارت کا میدان گرم ہو جائے گا۔۔۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ لوگ یہ نہیں سوچیں گے کہ اس معاملے میں 'قطعی' سچ واحد شے ہے جو کبھی بھی معلوم نہیں ہو سکے گا۔ وہ بے سود شور مچا رہے ہیں، دعووں کا انبار لگا ہوا ہے اور ہر طرف خون ہی خون ہے۔۔۔ دیکھیے، قطعی سچ کا حصول، اس کا دعویٰ تو سائنس میں بھی کوئی نہیں کر سکتا، جہاں ہر شے تحقیق، سچ اور دلیل سے مزین ہوتی ہے۔ آپ تاریخ میں اس کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہیں؟
ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ بخار کا زور بڑھ گیا۔ درد سے محمدؐ کا سر پھٹا جا رہا تھا۔ ہلکی سی آواز بھی جیسے ہتھوڑا بن کر ان کے سر پر ضربیں لگا رہی تھی اور شدید درد جیسے کھوپڑی کو چیر کر مغز میں اتر رہا تھا۔ آپؐ کی حالت اب ایسی نہیں تھی کہ وہ وصیت اور آخری خواہش کا اظہار کر سکیں۔ قلم اور کاغذ نہیں لایا گیا اور اگلی صبح تک ان کی حالت اتنی غیر ہو گئی کہ وہ حرکت کرنے سے بھی رہ گئے۔ رات بیت گئی تو صبح کاذب سے پہلے، وہ جان گئے کہ اب وقت آخر قریب ہے۔ انہوں نے اب ایک آخری درخواست کی، جو مان لی گئی۔ ان کی ہدایت کے مطابق، سات کنوؤں کے پانی سے نہلایا گیا۔ اگرچہ انہوں نے کسی سے کوئی وضاحت نہیں کی لیکن بیویاں جانتی تھیں کہ روایتی طور پر یہ ایک میت کو نہلانے کی رسم تھی۔ محمدؐ کو ان کی خواہش کے مطابق سات کنوؤں سے جمع کیے گئے پانی سے نہلایا گیا اور جب اس طرح پاکی کی رسم پوری ہو چکی تو انہوں نے مسجد کے احاطے میں، وہاں لے جائے جانے کو کہا، جو عبادت کے لیے مخصوص تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہاں صبح کی نماز با جماعت ادا کی جائے گی۔
انہیں سہارا دینے کے لیے دو لوگوں نے مدد کی۔ یہ دو ، علی اور عباس تھے۔ آپؐ ان دونوں کی گردنوں میں اپنی بانہیں ڈال کر سہارے سے چل رہے تھے۔ عائشہ کے کمرے سے لے کر مسجد کے احاطے تک چند گز کا فاصلہ ہے لیکن نقاہت اور بیماری کے سبب، ان کے لیے یہ میلوں دور ثابت ہو رہا تھا۔ احاطہ پار کیا تو مسجد میں ایک سائے والی جگہ پر پہنچ گئے۔ محمدؐ نے یہاں، ایک چبوترے کے ساتھ ٹیک لگا کر بٹھانے کو کہا۔ اگرچہ وہ لیٹے ہوئے تھے لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے بیٹھے ہوں۔ یہاں سے وہ ابو بکر کو صبح کی نماز کی امامت کرتے ہوئے دیکھ سکتے تھے۔
وہ لوگ جو اس دن وہاں موجود تھے، ان میں سے کئی نے روایت کر رکھا ہے کہ وہ صبح کی نماز کا یہ منظر دیکھ کر اور بالخصوص جب ان کے دیرینہ ساتھی ابو بکر کی آواز گونجتی تو سن کر مسکرا تے رہے۔ یہ بھی درج ہے کہ آپؐ کا چہرہ تمتما رہا تھا۔ لیکن، یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ کیا وہ خوشی کی تمتماہٹ تھی یا بخار کی تمازت سے جل رہے تھے۔ شاید، یہ لوگوں کے اپنے ایمان کی حرارت تھی۔ محمدؐ کو ایک بار پھر اپنے بیچ دیکھ کر خوشی، ممنونیت تھی جو انہیں آپؐ کے چہرے پر بھی نظر آتی رہی۔ لوگوں نے دیکھا کہ وہ اطمینان سے بیٹھے، مسجد میں گونجتی ہوئی ان آیات کو سنتے رہے جو پہلی بار انہوں نے جبرائیل سے سنی تھیں۔ لوگ اس منظر کی محویت میں اس قدر کھو گئے کہ وہ بھول چکے تھے کہ محمدؐ شدید بیمار ہیں۔ وہ درد سے دوہرے ہو رہے ہیں اور ابھی تھوڑی دیر پہلے وہ بمشکل مسجد کے احاطے تک پہنچ پائے تھے۔ لوگوں کو ایک دم یقین سا ہو گیا کہ وہ ہمیشہ تندرست رہیں گے، انہیں یہ خیال بھی نہیں آیا کہ وہ انہیں آخری بار دیکھ رہے ہیں۔ جب عبادت مکمل ہو گئی تو علی اور عباس نے ایک بار پھر انہیں سہارا دے کر عائشہ کے کمرے میں پہنچا دیا۔ محمدؐ کے پاس اب صرف چند گھنٹے باقی تھے۔
کچھ لوگ دوسروں سے زیادہ حقیقت پسند تھے، فہم رکھتے تھے۔ 'خدا کی قسم، میں نے محمدؐ کی آنکھوں میں موت دیکھی ہے'، علی کے چچا عباس آپؐ کو عائشہ کے کمرے میں پہنچانے کے بعد انہیں بتانے لگے۔ ان کے مطابق جانشینی کا معاملہ طے کرنے کا یہ آخری موقع تھا۔ انہوں نے علی سے کہا، 'چلو واپس چلیں اور ان سے صاف صاف پوچھیں۔ اگر اختیار ہمیں دے دیا تو کم از کم ہم جانتے ہوں گے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ اگر سب کچھ دوسروں کے حوالے کر دیں تو بھی پرواہ نہیں۔۔۔ مگر ہم ان سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ دوسروں کو ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے کی تاکید کریں'۔
لیکن علی میں اب ہمت نہیں تھی کہ وہ واپس جاتے اور ایک بار پھر محمدؐ کو اس حالت میں پریشان کرتے۔ وہ خود تو وہاں موجود نہیں تھے لیکن گزشتہ روز جو ہنگامہ اس کمرے میں ہوا، ایک بار پھر انہیں تکلیف سے دوچار کرنا ان کے بس کی بات نہیں تھی۔ علی نے کہا، 'واللہ میں نہیں جاؤں گا۔۔۔ اگر یہ ہم سے لے لیا جاتا ہے تو محمدؐ کے بعد، بھلے آپؐ تاکید کر کے گئے ہوں، ہمیں کوئی نہیں دے گا'۔ اس روایت میں بھی، جہاں علی محمدؐ کی حالت بارے تشویش کا شکار تھے، بیان سے ایسا بھی لگتا ہے جیسے دوسروں کی طرح علی بھی معاملات کی صراحت اور وضوح کے لیے تیار نہیں تھے۔
وہ واپس چلے بھی جاتے تو اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ ابھی علی اور عباس یہی بات کر رہے تھے کہ محمدؐ کو غش آیا اور وہ بے ہوش ہو گئے۔ اس کے بعد وہ دوبارہ جانبر نہیں ہو سکے۔ 8 جون، 632ء کو سوموار کے روز، دوپہر کے وقت آپؐ انتقال کر گئے۔
عائشہ بتاتی ہیں کہ جب نزع کی حالت تھی تو محمدؐ کا سر ان کی گود میں دھرا تھا۔ عربی میں ان کے الفاظ یوں ہیں کہ ، 'سینے اور منہ کے درمیان تھام رکھا تھا۔۔۔' ۔ اچانک انہیں لگا کہ جیسے ایک دم آپؐ کا سر بوجھل ہو گیا ہے۔ انہوں نے نیچے دیکھا تو وہ جا چکے تھے اور آنکھیں زندگی سے خالی تھیں۔ ان میں موت جھانک رہی تھی۔ یہ سنیوں کی روایت ہے۔ لیکن، شیعہ کے مطابق جب ان کا انتقال ہوا تو عائشہ نہیں بلکہ ان کا سر علی کی گود میں دھرا ہوا تھا۔ یہ علی کی بانہیں تھیں جنہوں نے رسول خدا کو آخری وقت سہارا دے رکھا تھا ۔ علی نے ہی آخری سانسوں میں محمدؐ کو تین دفعہ کہتے سنا، 'اے اللہ، میرے بعد میری امت پر رحم کر'۔
مرتے ہوئے محمدؐ کو کس نے تھام رکھا تھا، اس کی اہمیت تھی۔ وہ شخص نہایت اہم ہو گا جس نے ان کی آخری سانس ٹوٹتی ہوئے دیکھی۔ اس بکھری سانس کی حرارت کو اپنی جلد پر محسوس کیا۔ جس کے جسم کے ساتھ وہ چمٹے ہوئے تھے یا جس نے ان کو سہارا دے رکھا تھا۔۔۔ وہ ان کا لمس محسوس کر رہا تھا۔ بعد ازاں، یہ تفاصیل انتہائی اہمیت کی حامل ہوں گی۔ اتنی اہم کہ جیسے آپؐ کی روح نے جسم سے نکل کر اس شخص کے جسم میں اس کی روح کے ساتھ بسیرا کر لیا ہو، جس نے مرتے ہوئے انہیں تھام رکھا تھا۔ گویا، یہ وہ شخص ہے جس نے ہاتھوں میں اسلام کا ماضی اور مستقبل، دونوں ہی تھام رکھے ہیں۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی اگلی قسط 13 اگست، 2016ء کو شائع کی جائے گی۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر