اول المسلمین کے بعد - محمدؐ - 05


عائشہ یا علی، ان میں سے جس نے بھی آخری وقت پر محمدؐ کو تھام رکھا تھا، اسے اب ان کے گزر جانے کی خبر باہر پہنچانے کی ضرورت نہیں پڑی۔ کمرے میں بین شروع ہو گئے۔ پہلے عائشہ اور پھر دوسری بیویاں ہسٹریائی انداز میں چیخنے لگیں۔ یہ اس قدر تیز، دل خراش اور کانوں کو چیرنے والا شور تھا کہ سننے والے کہتے ہیں کہ اچانک شروع ہونے والے رواس پٹاس میں اس قدر کرب اور درد بھرا تھا کہ بس، بیان سے باہر ہے۔ دور سے سننے پر لگ رہا تھا جیسے کوئی زخمی جانور تکلیف سے بے حال، درد کی شدت سے کراہتے ہوئے جان دے رہا ہو۔ اس رونے میں انتہا کا دکھ چھپا ہوا تھا۔ اتنا کہ اس کا کوئی حساب ہی نہیں۔ جلد ہی، یہ چیخیں مسجد کے احاطے سے نکل کر پورے نخلستان میں پھیل گئیں۔ جو سنتا وہی چیخنے لگتا۔۔۔ ہر آنکھ اشکبار تھی۔ لوگ ایک دوسرے کو دیکھ کر ہی سمجھ گئے کہ کیا واقعہ پیش آیا ہے۔
مرد اور عورتیں، جوان اور بوڑھے ہر شخص غم سے نڈھال تھا،گریہ و بکا کر رہا تھا۔ جس کو دیکھو، وہی غم سے بے حال تھا۔ جیسے ہر شخص اس خبر کے سامنے سر نگوں ہو گیا، ہار چکا ہو۔ لوگ دونوں ہاتھوں سے چہرے یوں پیٹ رہے تھے جیسے کوئی چپتیں لگا کر ہوش دلا نے کی کوشش کر رہا ہو۔ پھر ذرا سنبھلتے تو سینہ پیٹنے لگتے۔ بند مٹھیوں سے دبکے لگنے پر جسم یوں بول رہے تھے جیسے کسی پرانے پیڑ کا کھوکھلا تنا ہوں۔ کئی تو ایسے تھے جنہوں نے اپنے ناخنوں سے پیشانیاں کھرچ ڈالیں اور خون بہہ کر آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں گھل گیا۔ انہیں دیکھ کر لگتا، جیسے آنکھیں واقعی خون کے آنسو رو رہی ہیں۔ اسی طرح، کچھ لوگ زمین سے دھول اٹھا کر اپنے سر پر ڈالتے اور دوسرے ہاتھ سے سر پر چپت لگاتے جاتے، ان کے چہرے مٹی سے اٹے ہوئے تھے۔ یہ اس زمانے میں، ماتم کنائی کی روایتی رسومات تھیں۔ آج بھی، یہی رسوم پورے زور و شور سے ہر سال عاشورہ کے موقع پر دنیا بھر میں شیعہ علی کے بیٹے حسین کی المناک موت کا غم، ویسے ہی مناتے ہیں، جیسا کہ ساتویں صدی عرب میں رائج تھا۔ ماتم کی یہ رسومات در اصل کئی معنوں سے پُر ہیں۔ یہ ایک ہی وقت میں بچھڑنے کے غم، چھوڑ دیے جانے کے دکھ اور بے سہارا ہو جانے کی ترجمانی کرتی ہیں۔ یعنی یہ کہ نہ صرف لوگ مرنے والے کا ماتم کرتے ہیں بلکہ خود اپنے لیے بھی غم سے دوچار ہوتے ہیں۔ یعنی، وہ متروک ہو گئے، مرنے والے کے بغیر وہ کہیں کے نہیں رہے۔ بے قائد اور بے نوا ہو گئے۔
"ہم سیاہ اندھیری رات میں ، طوفان میں گھری ہوئی منتشر بھیڑوں کی طرح تھے جو افراتفری میں ادھر، ادھر دوڑتی پھرتی ہیں'، مہاجرین میں سے ایک شخص نے اس دن کے واقعات، روایت کیے۔ یعنی ، حال یہ تھا کہ لوگوں میں بے یقینی پھیلی ہوئی تھی۔ انہیں سمجھ نہ آتا کہ کیا کریں تو یہاں وہاں بھاگتے پھر رہے تھے۔ مثال بھیڑوں کی طرح تھی جنہیں ہانکنے اور چھت دینے والا چرواہا، اب باقی نہیں تھا۔ آخر پیغمبر خدا کیسے مر سکتے ہیں؟ لوگوں نے ابھی صبح کے وقت انہیں مسجد میں دیکھا تھا۔ کیا ان کا چہرہ تمتما نہیں رہا تھا؟ موت نے بہر حال آخر آن لیا تھا، اپنی حقیقت منوا لی تھی لیکن کوئی بھی شخص اس کلی سچائی کو ماننے سے گریزاں تھا۔ اس بات کو تسلیم کرنا، اس کا تصور کرنا انتہائی مشکل تھا ۔ اس قدر مشکل کہ اندازہ لگائیے، عمر جیسے شخص کی حالت اتنی غیر تھی کہ وہ بھی ہتھے سے اکھڑ گیا۔ عمر جنگجو اور مضبوط اعصاب کے مالک تھے۔ دو دن پہلے ہی تو وہ زور دار آواز میں خدا کی کتاب بارے کہتے ہوئے پائے گئے تھے کہ مسلمانوں کے لیے صرف یہ ایک کتاب ہی کافی ہے۔ اس وقت تو وہ پورے یقین اور ٹھسے سے ایسا کہہ رہے تھے کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، قران کے ہوتے ہوئے، امت گمراہ نہیں ہو سکتی۔۔۔ لیکن اب یہ حال تھا کہ وہ بھی بوکھلائے ہوئے، ماننے سے قاصر تھے کہ بالآخر موت بازی لے گئی۔
عمر ایک ہی تکرار کیے جاتے کہ سب کچھ بلکہ کچھ بھی ہو سکتا ہے مگر ایسا ہر گز ممکن نہیں ہے۔ بلکہ، ان کے نزدیک تو دل میں ایسا خیال لانا بھی گناہ ٹھہرا، کفر کا سامان قرار پایا۔ وہ بڑبڑا رہے تھے کہ محمدؐ تو صرف کچھ دیر کے لیے بچھڑ گئے ہیں۔ وہ جلد ہی لوٹ کر آنے والے تھے۔ غم سے حالت اتنی غیر ہوئی کہ دوڑتے ہوئے لوگوں کے بیچ پہنچ گئے۔ اس سے پہلے کہ کوئی روک پاتا، مسجد کے احاطے میں ہجوم کے بیچ کھڑے چلا رہے تھے ۔ نفی کا شکار تھے۔ کہنے لگے، ' واللہ، محمدؐ مرے نہیں ہیں۔ موسیٰ کی طرح اپنے خدا کے پاس گئے ہیں۔ جیسے وہ چالیس دن کے لیے جا کر چھپ گئے تھے۔ آپؐ بھی ویسے ہی واپس آئیں گے جیسے موسیٰ آ گئے تھے۔ حالانکہ لوگ کہتے تھے کہ موسیٰ مر گئے ہیں۔ واللہ، رسول خدا انہی کی طرح لوٹ کر آئیں گے اور اپنے ہاتھ سے ان لوگوں کے ہاتھ اور ٹانگیں کاٹ دیں گے، زبان کھینچ لیں گے جو یہ سمجھتے ہیں کہ وہ چل بسے ہیں'۔
اگر عمر کا مقصد لوگوں کو شانت کرنا تھا تو یہ منظر جس میں ان جیسا جری اور نڈر آدمی ہسٹریائی انداز میں نفی کا شکار ہو کر چلا رہا تھا، عوام میں بے چینی اور ہول مزید بڑھ گیا۔ تب ہی غم سے نڈھال اور دکھ کے بوجھ تلے دبے، جھکی کمر کے ساتھ ابو بکر سامنے آئے اور عمر کے شانے ہاتھ رکھ کر دلاسا دیتے ہوئے کہنے لگے، 'نرمی سے کام لو عمر، نرمی سے۔ چپ ہو جاؤ!'۔ پھر وہ عمر کا ہاتھ تھام کر ایک طرف لے گئے۔
لوگوں کی نظریں اب ابو بکر پر جمی تھیں جنہوں نے عمر کی جگہ سنبھال لی تھی۔ انہوں نے کچھ دیر توقف کیا ۔ پھر قرانی آیا ت کی تلاوت شروع کی۔ غیر متوقع طور پر ان کی آواز مضبوط اور غیر متزلزل تھی۔ وہ دو ٹوک لہجے میں مخاطب تھے۔ لوگوں کو ابو بکر جیسے کمزور اور ناتواں شخص سے اتنی ہمت اور صبر کی امید نہیں تھی۔ جن آیات کی وہ تلاوت کر رہے تھے، یہ احد کی لڑائی کے بعد نازل ہوئی تھیں۔ یہ وہ موقع تھا جب آپؐ کے پیروکار، میدان جنگ میں ان کی موت کی افواہ سن کر بوکھلا گئے تھے اور افراتفری میں میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے تھے۔ 'محمدؐ اس کے سوا کچھ نہیں، بس ایک رسول ہیں۔۔۔' ابو بکر نے زور دے کر قران کی تیسری سورت میں شامل یہ آیت دہرائی، پھر ٹھہرے ہوئے لہجے میں آگے کا الہامی بیان جاری رکھا، 'پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے؟'
اس کے بعد ابو بکر نے وہ بات صاف صاف کہی جو لوگ اپنی زبان تو دور کی بات، دل و دماغ میں بھی لانے سے قاصر تھے۔ لیکن، اس وقت سب کو یہی بات سننے کی اشد ضرورت تھی۔ 'وہ جو محمدؐ کی عبادت کرتے ہیں' ابو بکر نے اعلان کیا، 'محمدؐ انتقال کر گئے ہیں۔ مگر وہ لوگ جو اللہ کی عبادت کرتے ہیں، جان لیں کہ اللہ زندہ ہے اور وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے'۔
یہ سنتے ہی مجمع پر ایک دم خاموشی چھا گئی۔ پہلے تو دبی دبی سسکیاں سنائی دیں۔ پھر لوگوں نے دیکھا کہ عمر کو فوراً ہی جیسے اس بات کا ادراک ہو گیا۔ خود عمر سے روایت ہے، 'واللہ، جب میں نے ابو بکر کو وہ الفاظ کہتے سنا تو میں گم سم، سٹ پٹا کر رہ گیا۔ جب سمجھ آ گئی کہ محمدؐ اب ہمارے بیچ نہیں رہے تو مجھ پر غشی طاری ہو گئی۔ ٹانگیں جواب دے گئیں اور میں دھڑام سے زمین پر گر پڑا'۔ عمر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ ایک بوڑھے شخص کے تحمل اور حقیقت پسندی نے عمر جیسے زور آور شخص کی ہیبت کو دھیما کر دیا۔ ایک سخت جان، غصیلا شخص روتے ہوئے معصوم بچے میں بدل گیا۔ عمر کے بعد باقی لوگوں کو بھی آہستہ آہستہ کمزوری بشر، یعنی فنا پذیری کا ایک بار پھر سے یقین ہو گیا تو اب واقعی ماتم کا آغاز ہوا۔ مرد اور عورتیں دونوں ہاتھوں سے چہروں کو بے اختیار پیٹنے لگے، مکوں سے سینہ کوبی جاری رہی۔ لوگوں کے جسم پٹنے سے مسجد میں دھمک پیدا ہونے لگی اور ہر شخص زار وقطار رونے لگا۔ کئی بے ہوش ہو گئے۔ شام گئے تک یہی سماں رہا اور جب رات آئی تو مدینہ میں اس قدر آہ و بکا، گریہ تھا کہ اصطبلوں اور باڑوں میں بندھے جانور بھی بے چین ہو گئے۔ آس پاس کی پہاڑیوں اور صحرا میں گیدڑ اور جنگلی جانور بھی شور مچانے لگے۔ یوں آہستہ آہستہ لوگ حقیقت کی طرف لوٹتے چلے گئے۔
کئی ایسے تھے، جنہیں زمینی حقائق کا دوسروں کی نسبت جلد ہی احساس ہو گیا۔
علی نے اپنے تین انتہائی قریبی مرد رشتہ داروں کے ہمراہ خود کو عائشہ کے کمرے میں محمدؐ کی میت کے ساتھ بند کر لیا اور رواج کے عین مطابق انتہائی اہم ذمہ داری سنبھال لی۔ یعنی، وہ آپؐ کو دفنانے کے لیے تیاری کرنے لگے۔ یہ خاصا طویل عمل ہوا کرتا تھا، جس میں سب سے پہلے تو میت کو نہلایا جاتا ہے۔ پھر جسم پر طرح طرح کی جڑی بوٹیوں سے بنی لئی کا لیپ کر کے آخر کفن میں لپیٹ دیا جاتا۔ لیکن غم کی اس حالت میں بھی کئی ایسے تھے جن کے لیے، محمدؐ کی تدفین سے زیادہ مستقبل اہم تھا۔ 'طوفان میں گھری ہوئی منتشر بھیڑوں' کو چرواہے کے انتخاب کا انتہائی مشکل اور کئی زیادہ، یعنی کسی بھی حالت میں پیچھا نہ چھوڑنے والے کٹھن مرحلے کا سامنا تھا۔
اس بابت حالات کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ محمدؐ کے انتقال کے صرف چند گھنٹوں کے اندر ہی مدینہ کے آبائی لوگوں اور مکہ کے مہاجرین کے بیچ عرصے سے سلگتی ہوئی بد اعتمادی اور بد گمانی ایک دم ہی پھدک کر منظر نامے کی سطح پر ابھر آئی۔ ہوا یہ کہ ابن عبادہ، جو اس وقت مدینہ کے دو بڑے قبائل میں سے ایک کے نامی گرامی سردار تھے، فوراً ہی شوریٰ کا اجلاس بلا لیا۔ شوریٰ سے مراد، قبائلیوں کی روایتی بیٹھک ہے جس میں طویل بحث اور مکالمے کے ذریعے دیرینہ مسائل کا حل تلاش کیا جاتا، معاہدے طے پاتے اور تنازعات کا پر امن تصفیہ کیا جاتا تھا۔ ایک طرح سے کہیے تو ساتویں صدی عرب میں اس مجلس کی مثال اس عقبی کمرے جیسی تھی، جس میں رہنما اور اشرافیہ جمع ہو کر عوام کی نظروں سے دور، علیحدگی میں اہم فیصلے کیا کرتی ہے۔ چوں کہ شوریٰ میں صرف اہم فیصلے ہی ہوا کرتے، اس لیے اس کے اجلاس کو عوام سے دور، مخفی رکھا جاتا اور صرف وہی لوگ شرکت کرتے، جنہیں دعوت دی جاتی۔ شوریٰ کے اس اجلاس کے لیے فوراً سے پہلے ہی دعوت نامے بھیج دیے گئے، جو سب کے سب مدینہ سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات یعنی انصار کے لیے ہی مخصوص تھے۔ مکہ سے تعلق رکھنے والی آبادی، یعنی مہاجرین یا ان کے کسی نمائندہ کو اس اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں دی گئی۔
مدینہ کی آبادی، یعنی انصار نے محمدؐ پر اس لیے اعتماد کیا تھا کہ وہ انہیں اپنا ناتے دار سمجھتے تھے۔ مطلب یہ کہ آپؐ کے والد کا ننھیال مدینہ سے تھا۔ اس سے بھی پہلے، محمدؐ کے دادا عبد المطلب کی والدہ بھی مدینہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ اسی سبب، مدینہ کے لوگ آپؐ کو اپنا ہی شمار کرتے تھے۔ لیکن، ان کے ساتھ ہجرت کے دوران مدینہ پہنچنے والے دور پار کے خاندان کے بہتر افراد کا معاملہ دوسرا تھا۔ اگرچہ، انہیں مدینہ میں خوش آمدید کہا گیا تھا۔ ان کے گزر بسر کا پورا انتظام تھا لیکن زیادہ تر لوگوں نے انہیں دل سے قبول نہیں کیا تھا۔ یہ درست ہے کہ اسلام میں سب برابر ہیں۔ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں۔ ان کی مثال ایک خاندان جیسی ہے۔ لیکن بھائیوں کے بیچ بھی، بلکہ کہیے بھائیوں کے بیچ تو بالضرور ہی حسد اور بخل کی بدی جنم لے کر رہتی ہے۔ انصار کی نظر میں یہ مکی، یعنی مکہ کے ہی رہے۔ جیسا کہ حکم دیا گیا تھا، بجائے یہ کہ مہاجرین کو قبول کیا جاتا، انصار نے ہمیشہ انہیں برداشت کیے رکھا۔ اگرچہ حالات بدل چکے تھے۔ وہ بھلے ان کے بھائی قرار دے دیے گئے تھے لیکن مدینہ کے لوگوں کے لیے وہ بدستور ٹکر کے شہر مکہ سے تعلق رکھنے والے، قریش ہی تھے۔ قریش سے مدینہ کے دونوں بڑے قبائل کوسدا کا بیر تھا۔ اور اب جب کہ اچانک محمدؐ چل بسے تھے۔ ان کے بعد تو وہ طاقت جو انہیں جوڑ کر رکھے ہوئے تھی، ہوا ہو گئی۔ یک دم ہی، قبیلے اور کنبے کی سیاست نے ایک بار پھر جست بھری اور ہر حد پھلانگتی ہوئی منہ پر آن کھڑی ہوئی۔
شوریٰ کا اجلاس شروع ہوا تو تا دیر جاری رہا کیونکہ کامیابی کا دارو مدار شرکاء کے بیچ ہم آہنگی اور مطابقت رائے قائم ہونے پر تھا۔ ایک لحاظ سے تو یہ خیال خام ہے کہ عام طور پر لوگوں کو ایک ہی نکتے پر راضی کرنا، تقریباً ناممکن ہوا کرتا ہے مگر پھر بھی، چونکہ یہ معاملہ انتہائی اہم تھا۔۔۔ اس لیے اجلاس کی کاروائی اس وقت تک جاری رہتی جب تک کہ اتفاق رائے قائم نہ ہو جاتا۔ اس وقت تک بات چیت چلتی ہی رہتی جب تک کہ مکالمے میں کسی ایک کی جیت نہ ہو جاتی، مخالفین دلیل سے زیر ہو جاتے یا کہیے، عمومی رائے ایک ہی جانب نہ ڈھلک جاتی۔ یہاں کئی ممکنات کا پورا ایک جمگھٹا تھا۔ سب سے خوب تو یہ ہوتا کہ لوگ ایک دوسرے کو دلیل سے قائل کر لیتے۔ اگر یہ نہیں ہوتا تو خدشہ تھا کہ مار دھاڑ شروع ہو جائے گی اور زور آور زبردستی دوسروں کو اپنی رائے ماننے پر مجبور کر سکتا تھا۔ چونکہ، کوئی بھی شخص اس طرح کے نتائج کا متحمل نہیں ہو سکتا تھا، اس لیے فیصلہ کیا گیا کہ شوریٰ کو پورا موقع دیا جائے۔ جتنا وقت درکار ہو، اس مکالمے کو جاری رکھا جائے۔ جلدی برتنے میں کسی کی بھلائی نہیں تھی۔ اسی لیے ہر رہنما، بزرگ، نمائندہ اور سردار اپنی باری آنے پر جتنا چاہتا، بولتا رہا اور ہر شخص کو جتنی دیر درکار ہوتی، بولنے کا موقع دیا جا رہا تھا۔
اجلاس میں شریک چند ہی لوگ تھے جو لکھنا اور پڑھنا جانتے تھے لیکن خطابت اور فن تقریر میں ہر آدمی یکتا تھا۔ اس زمانے میں، لوگ لفاظی میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ ایسا صرف عرب نہیں بلکہ تاریخ میں کسی بھی ما قبل ابجد یا سادہ الفاظ میں لکھائی کی ایجاد سے پہلے کے زمانے میں معاشروں کو دیکھ لیں، فن خطابت زوروں پر ہوا کرتا تھا۔ تو تب نہ صرف یہ کہ فن تقریر میں بلاغت اور خطیبانہ طرز ادا کی خوب پذیرائی ہوا کرتی تھی بلکہ اس فن کے ماہرین بھی حد سے زیادہ اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ لوگ، ایسے شخص کو توجہ سے سنتے، لطف اٹھاتے اور بالآخر گرویدہ ہو کر اسی کے پیچھے چل پڑتے۔ اکثر ایسا لگتا کہ مضمون سے زیادہ زبان میں فصاحت اور بلاغت اہم ہے۔ تقریر جس قدر گرجدار اور بھاری بھرکم الفاظ سے بھری ہوتی، اشاروں، کنایوں سے مزین ہوتی اور تفاصیل سے پر ہوتی، اس سے مقرر کے رتبے اور وزن کا تعین کیا جاتا۔ اب اس زمانے میں رائج انہی عوامی اصولوں کی وجہ سے مدینہ کے باسی، نقصان اٹھائیں گے۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اتنا اہم اجلاس، زیادہ تر تک چھپا کر جاری رکھنا ناممکن تھا۔ جلد ہی اس گٹھ جوڑ کی خبر پھیل گئی اور شوریٰ کے جمع ہونے کے چند گھنٹوں کے اندر ہی دوسرے لوگ، یعنی مکہ کے مہاجرین، حالانکہ مدعو نہیں تھے، انہوں نے خود ہی اس اجلاس میں شرکت کا فیصلہ کر لیا۔
جس روز محمدؐ کی وفات ہوئی، یعنی سوموار کے دن شام تک ابو بکر نے عمر کو سمجھایا بجھایا اور انہیں غم سے باہر نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ پہلے تو ایک دم لوگوں میں پھیلی افراتفری اور اب انصار کی جانب سے بغیر کسی سے رجوع کیے یوں شوریٰ کو جمع کرنے کی افتاد کو دیکھتے ہوئے ابو بکر نے کہا کہ ایک دفعہ محمدؐ کی جانشینی کا معاملہ طے ہو جائے، پھر غم منانے کو بہت وقت ہو گا۔ ان کی رائے یہ تھی کہ لوگوں کو یوں امت کے معاملات کے ساتھ کھلواڑ کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ جس طور شوریٰ کا یہ اجلاس بلایا گیا تھا، اگرچہ قابل قبول تو نہیں تھا لیکن پھر بھی، کسی بھی صورت مدینہ کی آبادی کا یوں علیحدہ ہونا سخت تشویشناک بات تھی۔ وہ کسی بھی صورت ایسا ہونے کی اجازت نہیں دے سکتے تھے۔ اگر یہ روش جاری رہی تو جلد ہی سب کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور آپؐ کی زندگی بھر کی محنت اکارت جائے گی۔ ایک طرف لوگوں کو اکٹھا رکھنے کا مرحلہ در پیش تھا جبکہ دوسری جانب یہ بھی ضروری تھا کہ انتخاب بھی ایسا ہو کہ اسلام کا نیا رہنما ایسا شخص ہو جو امت کو یکجا کرے۔ اس میں پھوٹ کو رد کرے اور لوگوں کو اسی نقطے پر جمع رکھنے کے قابل ہو، جو محمدؐ کا خاصہ تھا۔
یہاں اس بات کا تذکرہ نہایت اہم ہے کہ ابو بکر کی طرح عمر بھی اب تک یہی سمجھتے چلے آ رہے تھے کہ محمدؐ کے بعد نیا رہنما بالضرور ہی مہاجرین میں سے ہو گا۔ ان کی اس سوچ کی وجہ یہ تھی کہ مہاجرین وہ لوگ ہیں جو شروع دن سے ہی محمدؐ کا ساتھ دیتے چلے آ رہے ہیں۔ یہ وہ ہیں جو آپؐ کے سب سے پرانے ساتھی تھے۔ یہی نہیں، مہاجرین میں چند لوگ ایسے بھی تھے جو انتہائی با اثر تھے۔ وہ محمدؐ کی زندگی میں ان کے اہم ترین مشیر ہوا کرتے تھے۔ علی کے ساتھ ان گنے چنے لوگوں میں عمر اور ابو بکر تو شامل ہی تھے، ان کے علاوہ ایک شخص ا ور بھی تھا۔ یہ عثمان تھے۔ عثمان ایک انتہائی خوب رو، امیر و کبیر آدمی تھے، جن کا تعلق بنو امیہ سے تھا۔ بنو امیہ مکہ کے قبیلے قریش میں سب سے دولت مند کنبہ تھا۔
اگرچہ قریش یعنی مکہ کی اشرافیہ، بالخصوص بنو امیہ کے لوگ صرف دو سال پہلے تک محمدؐ کے انتہائی شدید دشمن ہوا کرتے تھے۔ لیکن، عثمان نے اپنے کنبے کے عمومی رویے کے بر عکس بہت عرصہ پہلے ہی اسلام قبول کر لیا تھا۔ صرف یہی نہیں، وہ مکہ سے تعلق رکھنے والی گنتی کے امیر کبیر لوگوں میں سے ایک تھے، جنہوں نے آپؐ کے حکم پر لبیک کہا تھا اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر مدینہ چلے آئے تھے۔ اپنی زیادہ تر دولت اسلام کی تحریک کے لیے وقف کر دی تھی اور اپنے رشتہ داروں اور ناتے داروں کی بھر پور مخالفت کے باوجود محمدؐ کا ساتھ دیا تھا۔ اسی وجہ سے محمدؐ، عثمان کے ہمیشہ دلدادہ رہے تھے۔ اسی لیے آپؐ نے ممنونیت میں پہلے اپنی ایک بیٹی کا رشتہ ان سے طے کیا۔ جب وہ چل بسیں تو پھر دوسری بیٹی کا ہاتھ بھی خود ہی عثمان کے ہاتھ میں دے دیا۔ عثمان، اس لحاظ سے ایک جدا رتبے اور مقام پر فائز تھے۔ یعنی، ان کو یہ امتیاز حاصل تھا کہ وہ محمدؐ کے دو ہرے داماد تھے۔ عثمان کا تحریک سے لگاؤ اور پھر ان کا امت میں رتبہ، اس بات کا متقاضی تھا کہ جب جانشینی کی بات چلے تو وہ لازماً موقع پر موجود ہوتے۔ ان کی رائے عمر اور ابو بکر کی ہی طرح صائب اور انتہائی اہم تھی۔
محمدؐ کی بیماری کے آخری دنوں میں عثمان مریض کمرے میں موجود نہیں تھے۔ بلکہ وہ تو مدینہ میں بھی نہیں تھے۔ جیسا کہ دولت مند لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے وہ اپنی شاہانہ طرز برقرار رکھتے ہیں۔ انہیں استحقاق حاصل ہوتا ہے، جہاں چاہیں، جب چاہیں اور جیسے چاہیں، بسر کرتے ہیں۔ عثمان بھی گرمی کے دن عام طور پر مدینہ سے باہر اپنی ذاتی جاگیر میں بسر کرتے تھے۔ یہاں ہوا نسبتاً تازہ اور ٹھنڈی رہا کرتی تھی۔ لیکن، اب محمدؐ کے بعد ان کی مدینہ میں موجودگی انتہائی اہم ہو چکی تھی اور انہیں جلد از جلد واپس پہنچنے کے لیے پیغام بھجوا دیا گیا۔ پیغام کچھ یوں تھا کہ مہاجرین کو اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ وہ شوریٰ کے اجلاس میں مدعو ہیں یا نہیں، وہ بہرحال وہاں جا پہنچیں گے اور عثمان کو چاہیے کہ فوری طور پر اس اجلاس میں شرکت کے لیے پہنچ جائیں۔
مہاجرین کے گروہ کی سربراہی عمر اور ابو بکر کر رہے تھے۔ یہ دونوں کثیر تعداد میں لوگوں کو ساتھ لیےزبردستی اور بزور بازو، اجلاس میں جا پہنچے۔ چونکہ مہاجرین کے لیے ضروری تھا کہ وہ اپنا راستہ بنانے کے لیے بڑی تعداد کے ساتھ آئیں، سو وہ آئے۔ نتیجہ وہی ہوا جو متوقع تھا۔۔۔ یعنی شوریٰ کے اراکین یعنی انصار کی نسبت مہاجرین تعداد میں زیادہ ہو گئے۔ اب اس شوریٰ میں تمام اہم لوگ موجود تھے اور عثمان کو خبر کر دی گئی تھی۔ مگر ایک شخص، جس کی اس شوریٰ کے اجلاس کی کاروائی میں براہ راست دلچسپی تھی، وہ نہیں آ پائے گا۔ اس موقع پر اس شخص کی غیر موجودگی کی وجہ سے کئی لوگ آج بھی کہتے ہیں کہ اس شوریٰ کی بہر حال، بوجوہ کوئی اہمیت نہیں تھی یا کہیے یہ شوریٰ اسی وجہ سے اپنا جواز کھو بیٹھی تھی۔ یہ شخص علی تھے۔
مدینہ کے انصار کے لیے مہاجرین میں علی واحد شخص تھے جنہیں وہ بہر طور اپنے رہنماء کی حیثیت سے برضا اور بخوشی قبول کر لیتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ مکہ کے باقی لوگوں کی نسبت وہ انہیں زیادہ قریبی سمجھتے تھے۔ محمدؐ کی والدہ ننھیال کا تعلق مدینہ سے تھا۔ علاوہ ازیں، محمدؐ اور علی کے دادا، یعنی عبد المطلب کا ننھیال بھی اسی نخلستان سے تھا، چنانچہ ان کا مدینہ سے بہر حال تعلق نکل آتا۔ چونکہ، محمدؐ کے قریبی مرد رشتہ داروں میں صرف علی ہی باقی تھے، اس لیے مدینہ کے لوگوں کے لیے انہیں اپنانے کی خواہش قدرتی تھی۔ لیکن، علی کی محمدؐ کے ساتھ یہی قربت اور نسبت کا نتیجہ تھا کہ آج وہ شوریٰ کے اس اہم اجلاس سے غیر حاضر تھے۔
یقیناً، علی کو شوریٰ کی خبر پہنچ گئی ہو گی۔ ان کے چچا، عباس جنہوں نے آج صبح ہی علی کے ساتھ مل کر محمدؐ کو سہارا دیا تھا اور بعد ازاں مصر تھے کہ علی واپس جائیں اور محمدؐ سے جانشینی کے بارے حتمی فیصلہ لیں۔ اب بھی، وہ علی پر زور دے رہے تھے کہ وہ بجائے میت کے سرہانے بیٹھے رہیں، انہیں چاہیے کہ شوریٰ میں جائیں اور اپنے حق کا دعویٰ کریں۔ انہوں نے علی کو یقین دہانی کرائی کہ ان کی جگہ وہ محمدؐ کی میت کے پاس موجود رہیں گے اور ایک لمحے کے لیے نہیں ہلیں گے۔ عباس کا ماننا تھا کہ اتنے اہم معاملے، بالخصوص جتنا کچھ داؤ پر لگا تھا، اس وقت ضروری تھا کہ علی سب کچھ چھوڑ کر صرف رہنمائی کا دعویٰ کریں۔
اگرچہ عباس نے اپنے تئیں بہتیری کوشش کر لی لیکن ہم تخیل میں علی کو سر جھٹکتے، ان کی ہر دلیل کو رد کرتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ بھلے کچھ بھی کہا کریں، علی وہاں سے ہلنے والے نہیں تھے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ جیسے، وہ غم سے نڈھال تھے؟ محمدؐ سے ان کی نسبت، اس وقت انہیں دنیاوی کسی بھی چیز سے روکے ہوئے تھی؟ یا پھر وہ باقیوں کی اس روش، یعنی ابھی محمدؐ کی تدفین بھی نہ ہوئی تھی، یوں اختیار کے پیچھے اودھم مچاتے دیکھ کر متنفر تھے؟ کیا وہ اس شخص کی میت کو یوں چھوڑ سکتے تھے جس نے انہیں باپ بن کر پالا تھا، ان کو زندگی کی ہر سہولت عطا کی تھی؟ وہ شخص جو ان کا مائی باپ تو تھا، علی کے والد کا بھی چہیتا تھا۔ وہ جس نے انہیں ہمیشہ باقیوں سے کہیں بڑھ کر عزت بخشی تھی ، اپنی بیٹی کا ہاتھ خود اپنے ہاتھوں سے ان کو تھمایا تھا۔۔۔ بھلا علی اس شخص کی میت کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتے تھے؟ حالات و واقعات کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو یہ بات صاف عیاں ہے، علی کی زندگی شاہد ہے کہ جس طرح وہ محمدؐ کے ساتھ ہر موڑ پر شانہ بشانہ کھڑے رہے، اب مرنے کے بعد بھی وہ ان کی میت کو اکیلا چھوڑنے والے نہیں تھے۔ ہر چیز سے بڑھ کر، علی اپنے عہد اور نسبت کے پکے تھے۔ وہ میت کے ساتھ رہیں گے اور انہیں یقین تھا کہ مدینہ کے لوگ کسی بھی صورت ان کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے ۔ کیا ہوا جو وہ خود وہاں موجود نہیں ہیں؟ مدینہ کے انصار ہر صورت ان کی رہنمائی کا حق منوا کر رہیں گے۔
اگرچہ علی خود تو ایمان اور عہد کے پکے تھے، لیکن یہ پہلا موقع نہیں ہو گا جب دوسروں پر تکیہ کر لینے کی وجہ سے وہ نقصان اٹھائیں گے۔
سنیوں کے مطابق ، شوریٰ کا یہ اجلاس حکمت اور اتفاق رائے قائم کرنے کی بہترین مثال ہے۔ یہ امت کا واقعی امتحان تھا جس میں امت کے ماننے والے سرخرو ہوئے۔ یعنی، انہوں نے پہلی بار مشترکہ طور پر، مل جل کر ایک انتہائی اہم تنازعے کا حل تلاش کر لیا اور درست فیصلے پر پہنچے۔ پیغمبر نے مرتے ہوئے امت پر اعتماد کیا تھا اور صحیح رہنما کو چن کر، محمدؐ کے پیروکار اس قضیے سے نکل آئے ۔ بلکہ یہی تو وہ شے ہے جس کی محمدؐ نے ہمیشہ سے چاہ کی تھی۔ آپؐ کی خواہش یہی تھی کہ لوگ معاملات کو یوں ہی مکالمے سے طے کیا کریں۔ اس حوالے سے سنی پوری شد مد کے ساتھ محمدؐ سے منسوب یہ قول روایت کیا کریں گے کہ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ، 'میری امت کبھی بھی ضلالت اور گمراہی پر متفق نہیں ہو سکتی'۔ ہر لحاظ سے امت کی حیثیت متبرک اور مقدس ادارے کی تھی اور یہی وجہ ہے کہ اس کی اجتماعی رائے سے اتفاق واجب التعظیم اور اہم ہے۔ امت کی متفقہ رائے کبھی غلط نہیں ہو سکتی۔ لیکن، آنے والی صدیوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ سنی علماء کا یہ خیال بجائے امت کی حرمت، شیعہ کے خلاف دلیل کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔ اس کا مطلب کچھ یوں نکالا جائے گا کہ مسلمانوں میں وہ لوگ جو اکثریت یعنی سنیوں سے متفق نہیں ہیں، کٹر معنوں میں کہا جاتا ہے کہ اکثریت یعنی سنیوں سے اتفاق نہیں رکھتے، سر اسر گمراہی اور غلطی کا شکار ہیں۔ مراد، شیعہ اپنی ہٹ دھرمی یا کہیے اختلاف رائے کی وجہ سے خود بخود امہ کے تصور سے خارج ہو جاتے ہیں۔
دوسری جانب شیعہ ہیں۔ ان کے نزدیک امت نہیں بلکہ ہمیشہ سے امت کی قیادت مقدس اور محترم رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سنیوں نے خدائے ذوالجلال کی جانب سے نازل ہونے والے حکم، یعنی اختیار کی عطا کو منسوخ کر دیا۔ بجائے وہ حق دار کو اس کا حق دیتے، انہوں نے اسے آپس میں تقسیم کر دیا۔ بجائے خدا کی سنتے، خود ہی تعین کرنے بیٹھ گئے۔ مزید یہ کہ خدائی احکامات اور اختیار پر یہ غاصبانہ قبضہ پہلے ہی دن دیکھنے میں آ گیا تھا۔ اسلامی تاریخ کی پہلی شوریٰ نے اپنی حد سے بڑھ کر زبردستی احکام الہیٰ میں دخل اندازی کی تھی۔ پیغمبر کی وصیت تو صاف تھی۔ یعنی، صرف اور صرف علی ہی رسول خدا کے جائز اور واقعی جانشین ہوں گے۔ یوں، شیعہ کے مطابق علی کے سوا کسی دوسرے شخص کو خلیفہ تسلیم کرنا، نہ صرف محمدؐ بلکہ اسلام اور خدا کے ساتھ غداری ہے۔
یہ بات تو طے ہے کہ شوریٰ کا اجلاس شروع ہوا تو ارادہ نیک تھا۔ لوگ پوری نیک نیتی سے اتحاد برقرار رکھنا چاہتے تھے، بلکہ یہی وہ ایک چیز ہے جو وہ دل و جان سے چاہتے تھے لیکن یہی واحد شے ہے جس کا حصول ناممکن نظر آ رہا تھا۔ جوں ہی مکہ کے مہاجرین بزور بازو اس اجلاس میں آن پہنچے تو مدینہ کے انصار تب ہی سمجھ گئے کہ اب ان کی خواہش، یعنی ان میں سے کوئی ایک یا ان کے کسی قریبی شخص کے لیے رہنما مقرر ہونا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ یہ اس لیے واضح ہے کہ حالات کا رخ بدلتا دیکھ کر انہوں نے فوراً پینترا بدلا اور بجائے ایک نئی تجویز سامنے رکھی۔ اس تجویز کے مطابق دونوں گروہوں کے لیے علیحدہ رہنماؤں کا انتخاب کیا جانا تھا۔ تاریخ میں یہ بات کچھ یوں درج ہے، "انہوں نے کہا، 'کیوں نہ ہم انصار اپنا جبکہ مہاجرین اپنے لیے علیحدہ رہنما منتخب لیں؟' "لیکن، ابو بکر اور عمر نے اصرار کیا کہ امت کا صرف ایک ہی رہنما ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ جرح بھی کی کہ یہ رہنما، مہاجرین میں سے ہی کوئی شخص ہو نا چاہیے۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ مہاجرین وہ لوگ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ وہ محمدؐ کے اپنے قبیلے، قریش سے تعلق رکھتے تھے اور یہ مہاجرین کی ہی دلی خواہش تھی جس کے سبب آج بجائے غیر ملک میں یروشلم ، مکہ اور جزیرہ عرب مومنین کے لیے مرکز اور ایک بڑا تجارتی خطہ بن چکا تھا۔ ویسے بھی، اسلام تو اتحاد کا درس دیتا ہے بلکہ اس کی تو اصل روح ہی اتفاق اور ایکا ہے۔ علاوہ ازیں، سب سے اہم بات یہ ہے کہ معاملہ صرف مدینہ یا مکہ کا نہیں ہے، بلکہ ہمیں تو ایسے شخص کو منتخب کرنا چاہیے جو ان دونوں شہروں کو متحد رکھ سکے۔ ان دونوں شہروں کے لوگ اور پورے جزیرہ عرب کی آبادی، ایک ہی شمار ہوا کرے اور ان میں کوئی تفریق نہ ہو۔ کہنا یہ تھا کہ یہ کام تو صرف اور صرف قریش سے تعلق رکھنے والا ہی کوئی شخص پورا کر سکتا ہے۔
ظاہر ہے، شوریٰ میں بحث طول پکڑتی گئی۔ ساری رات اور پھر اگلا پورا دن بغیر کسی تعطل کے کاروائی جاری رہی۔ ایک کے بعد دوسری تقریر ہوتی رہی۔۔۔ ہر تقریر طویل، گرج دار ، اشاروں کنایوں سے لدی اور پر مغز تھی۔ شوریٰ میں موجود سبھی لوگوں کے ذہن میں لوگوں کی فلاح اور بہبود سب سے اہم تھی اور اس بات کا اعادہ تقریباً ہر شخص اپنی تقریر میں خاصی تفصیل سے دوبارہ اور سہ بارہ کیے جا رہا تھا۔ عام طور پر اس طرح کے مواقع پر ایسی تقاریر، یوں ہی ہوتی ہیں۔ لیکن، ویسے ہی یہ بات بھی ہے کہ ایسی تقریریں کرنے والوں کے لیے لوگوں کے فلاح کے ساتھ ساتھ ذاتی مفاد بھی مقدم ہوا کرتا ہے، صرف اتنا ہے کہ اس کا تذکرہ ہمیں تقریروں میں نہیں ملتا۔ اس بابت، آفاقی کلیہ یہ ہے کہ رہنمائی کے خواہشمندوں کے لیے عوامی معاملات سے لگاؤ اور فلاح اکثر ہی ان کے ذاتی مفادات کے ساتھ ہم مکان بیٹھتا ہے، بالخصوص ایسے حالات میں، جب شخصیات انتہائی اہم ہوں۔ اس صورت تو بالضرور ہی ایسا ہوتا ہے جب عوامی معاملات ان سے جڑے ہوں اور ان شخصیات کی ذاتی زندگی کا عوامی معاملات پر دار و مدار ہو۔
چنانچہ، مہاجرین نے پوری توجہ انصار کو قائل کرنے پر مرکوز کر دی اور جلد ہی ان پر حاوی ہو گئے۔ طویل بحث کے بعد اب بات تو صاف ہو گئی کہ جانشین مکہ اور پھر قبیلہ قریش سے ہی ہو گا۔ یہ تو فیصلہ ہو گیا لیکن سوال یہ تھا کہ آخر قریش میں سے وہ شخص کون ہو گا؟ جہاں قریش، یعنی اس قبیلے کی اہمیت پر دلیل دی گئی تھی، اصولی طور پر یہاں بھی یہی ایسا ہی ہوتا۔ مطلب یہ کہ امت میں اگرچہ سب برابر تھے، لیکن پھر بھی حسب اور نسب کا اصول یعنی اعلیٰ شجرہ نسب سے تعلق رکھنے والوں کی طرف جھکاؤ قائم تھا، اس کو مقدم رکھا گیا تھا۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا تھا کہ شرافت اور برگزیدگی تو خون میں شامل ہوتی ہے۔ ایسے معاشرے میں، جہاں حسب اور نسب کی اہمیت کسی بھی دوسری چیز سے بڑھ کر تھی بعد میں جب خانہ جنگی کا واقعی آغاز ہوا تو ہم دیکھیں گے کہ اس زمانے میں بھی جنگجو میدان میں اترنے سے پہلے اور کسی دوسرے پر وار کرنے سے پہلے با آواز بلند اپنا شجرہ گنوایا کریں گے۔ مراد یہ ہے کہ پہلے زمانوں میں اور اب محمدؐ کے بعد بھی، شجرہ کی اہمیت کم نہیں ہو سکی۔ اگرچہ قبائلی روایات کے معنی اصولی طور پر امت میں ڈھل گئے لیکن، حسب اور نسب سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی اہم ہی سمجھا جاتا رہا۔ تو اگر لوگ اپنے شجرہ پر نازاں رہتے تھے یا اپنے خاندان کی شرافت اور اعلیٰ نسبی کے دعویدار ہوا کرتے تھے، جیسا کہ ہم نے ابھی ابھی دیکھا، قریش کی بالا دستی قائم کی گئی تو اس اصول کے تحت علی کو تو بغیر کسی حیل اور حجت کے محمدؐ کا جانشین مقرر کر دیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آخر کیوں؟
ایسا نہیں ہوا کیونکہ یہ سب اتنا سادہ نہیں ہے، جتنا سمجھ لیا گیا تھا۔ محمدؐ کی حیران کن طور پر پر اثر شخصیت کا جادو اور تحریک اسلام کی کامیابی کے نتیجے میں قائم ہونے والا اختیار ایک بات تھی۔ یہ انتہائی غیر معمولی کامیابی تھی ۔ لیکن، قبائلی اثر و رسوخ میں تو ان کا کنبہ اور اب علی، قریش جیسے بڑے قبیلے میں بے اختیار تھے۔ محمدؐ اور علی کا تعلق بنو ہاشم سے تھا جبکہ قریش کی باگ دوڑ بنو امیہ کے ہاتھ میں تھی۔ بنو امیہ کے لوگوں نے کئی سالوں تک محمدؐ کی زبردست مخالفت کی تھی۔ وہ ان کے جانی دشمن رہے تھے کیونکہ آپؐ کی تعلیمات، بالخصوص برابری کے پرچار کی وجہ سے ان کی بے پناہ دولت، امارت اور اقتدار کو خطرات لاحق ہو گئے تھے۔
سو بنو ہاشم میں ایک پیغمبر کا وارد ہونا، اس کنبے کا امتیاز بن گیا۔ قریش، بالخصوص بنو امیہ نے بھی طویل دشمنی کے بعد محمدؐ کی حاکمیت کو قبول کر لیا تھا ۔ وہ ان کے ساتھ معاملہ تھا۔ اب آپؐ کے گزر جانے کے بعد حاکمیت کی یہ دلیل باقی نہیں رہی تھی۔ اب جبکہ وہ نہیں رہے تو قدرتی طور پر بنو ہاشم کا امتیاز ختم ہو گیا تھا۔ چنانچہ، نیا استدلال یہ تھا کہ اب قریش کے دوسرے کنبوں کو بھی رہنمائی کا اختیار ملنا چاہیے۔ اختیار پر ان کا بھی حق ہے۔ کہا گیا کہ محمدؐ کی ہمیشہ سے تعلیم یہی رہی تھی کہ اختیار ایک ہی جگہ پر جمع نہ ہو ۔ طاقت تقسیم ہونی چاہیے، دوسروں کو بھی انتظام اور انصرام میں، شامل حال کیا جانا چاہیے۔ وہ ساری زندگی، ایک شخص کی دوسرے پر، ایک کنبے کی دوسرے تمام کنبوں، یا ایک قبیلے کی باقی تمام قبائل پر فوقیت کے خلاف رہے ۔ علی کو منتخب کرنے کا مطلب یہ تھا کہ محمدؐ کے بعد ایک اور ہاشمی سربراہ بن جائے گا اور یوں خطرہ تھا کہ اسلام موروثی ملوکیت کا شکار ہو جائے گا، یعنی ریاست ایک ہی خاندان کی بادشاہت بن کر رہ جاتی۔ ایسا ہونے کا مطلب یہ تھا کہ محمدؐ کی ساری زندگی کی محنت اکارت جاتی۔ اس سے بھی بڑھ کر الہامی پیغام کی نفی ہو جاتی۔ رہنمائی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے آپ وراثت میں حاصل کریں، یہ کوئی جائیداد تو نہیں۔ قیادت کا تعین خون یا حسب نسب نہیں بلکہ اہلیت کی بنیاد پر ہونا چاہیے اور یہی محمدؐ کی مرضی تھی۔ اپنے اس دعوے ، یعنی محمدؐ کی مرضی والی بات میں وزن پیدا کرنے کے لیے کہا گیا کہ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کبھی باقاعدہ وارث یا جانشین مقرر نہیں کیا۔ انہیں اپنے لوگوں پر پورا بھروسا تھا کہ وہ اپنے لیے، مل جل کر بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ وہ ہر شے، مال و دولت، اختیار یا اپنے مفادات پر امت کی حرمت اور تقدس کو برقرار رکھیں گے۔ وہ ہمیشہ اصل روح کو زندہ رکھیں گے۔
بلاشبہ یہ تاویل جمہوریت کی حمایت میں دی گئی دلیل معلوم ہوتی ہے۔ لیکن بغور دیکھیں تو یہاں جمہور کا دائرہ کار محدود ہے۔ یعنی شوریٰ کے اراکین جمہور کے ہاتھوں منتخب نہیں ہوئے تھے بلکہ اثر و رسوخ اور اپنی نسبی حیثیت کی بنا پر شریک تھے ۔ پھر اس شوریٰ کا پہلا قدم ہی ایک قبیلے تک اختیار کا حق محدود کرنا تھا، جو ایک لحاظ سے نا گزیر لگتا ہے مگر جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ مگر اس روز اختیار اور قیادت کے حوالے سے ابھرنے والا یہ نکتہ، ان واقعات کی نفی تھا جو پچاس سال بعد پیش آئیں گے۔ جب دمشق میں بنو امیہ سے تعلق رکھنے والا ایک خلیفہ تخت شاہی اپنے بیٹے کے حوالے کر کے پہلی بار ایک سنی شاہی سلسلے کی بنیاد رکھے گا۔ تب پیش آنے والے ان واقعات کے نتائج علی کے بیٹے حسین کے لیے خاصے بھیانک ثابت ہوں گے۔ مگر اس دن کی مناسبت سے کہیں تو سچ یہ ہے کہ اپنی اصل حالت میں ، محمدؐ کے بعد مدینہ میں منعقد ہونے والی اس شوریٰ کی مندرجہ بالا دلیل آنے والی صدیوں میں قائم ہونے والی ہر بادشاہت، خود ساختہ خلافت، شاہی عمل داری، قلمروی، سلطنت، فرمانروائی، راج اور آمریت کے بطن سے جنم لینے والی سبھی صدارتوں کے خلاف تھی۔ اسی طرح جہاں ایک طرف اس دلیل کے تحت اقتدار اور اختیار ایک کنبے سے نکل کر سبھی میں بٹنا تھا، وہیں یہ دلیل بنو امیہ کے لیے بھی دوبارہ اقتدار کے حصول کا راستہ بن گئی جو قیادت کو چند ہاتھوں میں مجتمع رکھنے کی طرز حکومت کے نہ صرف عادی بلکہ ماہر تھے۔
چاہے یہ ساتویں صدی کا زمانہ ہو یا آج اکیسویں صدی کا جدید دور چل رہا ہو۔ مشرق یا مغرب، ہر جگہ پر چند خاندان، گروہ یا کنبے ہمیشہ سے ایسے ہوتے ہیں جن کی جڑوں میں حکمرانی اور قیادت مزمن سمجھی جاتی ہے۔ ان کی عادات اور اطوار، سمجھ اور بوجھ ، طرز زندگی ہی حکومت کرنے کی طرف مائل ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے موروثی طور پر یہ چند لوگ پیدا ہی اس مقصد کے لیے ہوئے ہیں۔ در اصل، یہ ایک رویہ ہے۔ ایک ایسا انداز فکر جس میں اپنے تئیں یہ لوگ حکمرانی کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔ وہ طرز فکر کے اس تسلسل کو قائم رکھنا چاہتے ہیں جسے جمہوریت کی زبان میں 'عوامی فلاح اور بہبود کی روایت' کہا جاتا ہے۔ اس روایت کو جاری رکھنے کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ تسلسل قائم رہے اور حکومت ایک کے بعد دوسری نسل یا انہی کے ایک گروہ سے دوسرے گروہ کو بالضرور ہی منتقل ہونی چاہیے۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ باقاعدہ طور پر موروثی بادشاہت یا سلطنت کا وجود ہو، پس یا پیش منظر میں رہ کر، کسی بھی صورت ممکن ہو، ایسا ہونا ان کے نزدیک انتہائی ضروری ہے۔ اسی لیے ان کو جس زاویے سے دیکھیں، وہ اختیار سے چمٹے نظر آئیں گے۔ آج دنیا بھر میں ہم اس رویے کی کئی مثالیں صاف دیکھ سکتے ہیں۔ تب، ساتویں صدی میں قریش کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ عام طور پر سمجھا جاتا تھا اور خود قریش کا یہی دعویٰ تھا، پھر قریش میں بھی بنو امیہ وہ کنبہ تھا، جو اس نقطہ نگاہ کے ساتھ اپنی حاکمیت قائم کیے ہوئے تھا اور ان کے بارے عام خیال بھی یہی تھا کہ حکمرانی ان ہی کا خاصہ ہے۔ اس لحاظ سے، یعنی 'پیدا ہی حکومت کے لیے ہوا ہے' کے نظریہ کے تحت اگر شوریٰ کی نظر کسی پر ٹکتی تو بنو امیہ کی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے امیر کبیر، عثمان تھے۔ لیکن، وہ ابھی تک اجلاس میں شریک نہیں ہو سکے تھے، بلکہ مدینہ بھی نہیں پہنچے تھے۔ دو سال پہلے ہی ، مکہ نے باقاعدہ مدینہ کی اسلامی ریاست کے سامنے ہتھیار ڈالے تھے۔ اب تک مکہ کی اشرافیہ نے بنو امیہ کی قیادت میں محمدؐ اور مدینہ یعنی اسلام کے خلاف کم از کم دو بڑی جنگیں لڑی تھیں اور کئی سالوں تک جاری رہنے والی کشمکش میں جھڑپوں کا تو کوئی حساب ہی نہیں تھا۔ ان لڑائیوں اور جھڑپوں کا کسی کو شمار بھی یاد نہیں ہے۔ ان جنگوں اور لڑائیوں کی یاد ابھی تازہ تھی، زخموں پر ابھی تک ان جھڑپوں میں آنے والے زخموں کے نشان باقی تھے۔ ایسے میں، مدینہ کے انصار کسی بھی صورت بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخص کی قیادت قبول کرنے پر راضی نہیں تھے، بھلے وہ عثمان جیسی محترم اور قابل اعتماد شخصیت ہی کیوں نہ ہو۔
منگل کے روز، شام ہونے تک ایسا لگ رہا تھا کہ شوریٰ مکمل طور پر ڈیڈ لاک کا شکار ہو گئی ہے۔ قریب تھا کہ شرکاء مسلسل بحث کے باعث تکان سے اضطراب شکار ہو جاتے اور اعصاب جواب دے جاتے۔ قریب تھا کہ یہ بھڑ جاتے۔ ممکنہ طور پر ایسا ہونا قدرتی تھا۔ وہ پچھلے چوبیس گھنٹوں سے تقاریر سن رہے تھے، باری آنے پر تفصیل سے بول رہے تھے۔ سوچ سمجھ کر، تول کر بات کر رہے تھے۔ تجاویز پر غور کرتے اور جوابی تجاویز پر سر کھپاتے رہے تھے لیکن اتنی طویل مشقت کے بعد بھی حل کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی تھی۔ تب وہ ہوا جس کو شطرنج کے کھیل میں شہ مات کہا جاتا ہے، ابو بکر اور عمر نے ایک نہایت عمدہ چال چلی۔
کیا انہوں نے اس کی پہلے سے تیاری کر رکھی تھی؟ یہ کوئی نہیں جانتا ، بلکہ کوئی نہیں کہہ سکتا۔ لیکن ہوا یہ کہ طویل مشاورت اور تھکا کر چور کر دینے کی حد تک کوفت کے بعد جانشینی کا مشکل مرحلہ ایک دم، نہایت خوش اسلوبی سے پورا ہو گیا۔ یہ اتفاق رائے تک پہنچنے کی اتنی زبردست حکمت عملی تھی کہ اس قدر گھمبیر مسئلہ ایک دم حل ہو گیا۔ جس آسانی سے سب لوگ راضی ہوئے تھے، علی کے پیروکار ہمیشہ یہی شک کرتے چلے آ رہے ہیں کہ شاید یہ پہلے سے طے شدہ معاملہ تھا۔
ہوا یوں کہ پہلے ابو بکر نے عمر کو خلیفہ کے طور پر نامزد کیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ محمدؐ کے انتقال کے فوراً بعد عمر کے ہسٹریائی انداز میں ہوش کھو دینے کی وجہ سے کسی بھی طرح سے اس مرحلے پر وہ موزوں انتخاب نہیں تھے۔ یہ ایسا موقع تھا، اسلام کو جنگجوؤں کی نہیں بلکہ مرہم رکھنے والے کی ضرورت تھی۔ اس نامزدگی کے جواب میں عمر نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اور بجائے، عثمان کو نامزد کر دیا۔ جیسے عمر کے بارے ابو بکر جانتے تھے، عمر بھی عثمان کی بابت پوری طرح آگاہ تھے کہ بنو امیہ سے تعلق ہونے باعث وہ کسی صورت بھی خلیفہ مقرر نہیں کیے جائیں گے۔ وہ اس وقت کے حساب سے فوراًً ہی نا اہل قرار دے دیے جاتے۔ پھر، ایسا ہی ہوا۔ دونوں ہی تجاویز کی ایک دم شدید مخالفت شروع ہو گئی اور بات اتنی بڑھ گئی کہ شرکاء ہاتھا پائی پر اتر آئے۔
تقاریر جلد ہی شور شرابے میں بدل گئیں۔ اب تک ہر شخص تحمل کا دامن تھامے چلا آ رہا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے صبر چھوڑ گیا اور ایک دوسرے کی طرف انگلیاں اٹھنے لگیں۔ یہاں تک کہ ابن عبادہ جو مدینہ سے تعلق رکھتے تھے اور دلیل پر راضی چلے آ رہے تھے، وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے شوریٰ کا اجلاس بلایا تھا، اب وہ کھل کر سامنے آ گئے اور مہاجرین پر قیادت ہتھیانے کے حربے استعمال کرنے کا الزام لگا دیا۔ ابھی ان کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ چاروں طرف سے مہاجرین مکے لہراتے ہوئے ابن عبادہ پر ٹوٹ پڑے اور بیچ اجلاس میں انہیں جا لیا۔ کمرے میں دھینگا مشتی شروع ہو گئی اور ابن عبادہ کو اتنا پیٹا کہ وہ بے ہوش ہو گئے۔
اجلاس کا یہ حال دیکھ کر لوگوں پر سراسیمگی چھا گئی۔ یہ اچانک کیا ہوا؟ مار دھاڑ سے لوگ ہکا بکا تھے۔ مہاجرین کے یوں اچانک تشدد پر اتر آنے سے مدینہ کے لوگوں کی ساری اکڑ فوں نکل گئی۔ وہ فوراً ہی مزاحمت سے پیچھے ہٹ گئے۔ ابن عبادہ بے ہوش تھے، ان کے سر سے خون نکل رہا تھا ۔ انصار میں ابن عبادہ کا یہ حال دیکھ کر ہراس پھیل گیا اور وہ سخت نراس تھے۔ ہر شخص دم بخود تھا کہ شوریٰ جیسے معتبر اجلاس کی کاروائی بھی اس نہج پر پہنچ سکتی ہے؟ شرکاء میں سے کسی کے دل میں اب مزید بحث مباحثے، مکالمے اور مذاکرے کی کوئی خواہش باقی نہیں تھی۔ اسی لیے جب آخری تجویز سامنے آئی تو سب نے جیسے اس کے سامنے ہار مان لی۔ اس موقع یا کہیے آخری تجویز بارے شیعہ کا ہمیشہ سے یہ دعویٰ رہا ہے کہ یہ پہلے سے ہی طے شدہ چال تھی۔ دوسری جانب، سنی کہا کریں گے کہ یہ اتفاق رائے اور حکمت کی بہترین مثال تھی۔ ہوا یہ کہ شوریٰ کی یہ در گت بنتے دیکھ کرعمر اچانک اٹھے اور اپنی دانست میں حتمی سمجھوتے کا بہترین طریقہ پیش کیا۔ اس بابت تاریخ میں عمر سے منسوب روایت میں ان کا انداز مختصر اور شستہ مگر حتمی ہے۔ وہ دو ٹوک، فوجی انداز میں بیان کرتے ہیں، "جھک جھک بہت بڑھ گئی اور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی تو ماحول بہت گرم ہو گیا۔ آوازیں اونچی ہوتی جا رہی تھیں اور خدشہ تھا کہ اب یا تب، بس پھوٹ پڑ نے والی ہے۔ ایسے میں، میں نے کہا، ' ابو بکر، اپنا ہاتھ باہر نکالو!'، انہوں نے ایسا ہی کیا اور میں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر دی۔ میری دیکھا دیکھی، پہلے مہاجرین اور پھر انصار نے بھی اپنی باری پر بیعت کر لی'۔
یوں، یہ معاملہ بالآخر طے ہو گیا۔ محمدؐ کے جانشین یعنی خلیفہ ابو بکر ہوں گے۔ وہ محمدؐ کی سب سے ممتاز ، بے باک اور کئی لوگوں کے نزدیک نزاعی بیوہ عائشہ کے والد تھے۔
محمدؐ کی تدفین حیران کن طور پر انتہائی سادہ اور افراتفری کے عالم میں کی جائے گی ۔ در حقیقت، اس بابت خاصی راز داری برتی جائے گی۔ آج، جس طور کی رش ہم محمدؐ کے روضے پر دیکھتے ہیں، یہ بات نہایت تعجب کا باعث ہے کہ تب، یعنی تدفین کے موقع پر اس بابت قرب و جوار میں کسی کو بھی کانوں کان خبر نہیں ہوئی۔ اب تو یہاں ہر وقت زائرین کا رش رہتا ہے ۔ روضے پر آج بھی ممکنہ طور پر نقص امن کے خدشے سے نبٹنے کے لیے چوبیسوں گھنٹے غیر محسوس انداز میں پہرہ دیا جاتا ہے۔
جس وقت علی اور ان کے قریبی رشتہ داروں کو ابو بکر کے انتخاب کی خبر پہنچی تو محمدؐ کو گزرے ڈیڑھ دن بیت چکا تھا۔ جون کی گرمی میں، ان کی تدفین کی رسومات جلد از جلد مکمل کیے جانے کی متقاضی تھیں۔ رواج کے مطابق تو میت کو چوبیس گھنٹوں کے اندر دفن کر دیا جانا تھا لیکن شوریٰ کے اجلاس کی وجہ سے، جہاں چیدہ لوگ، قبائلی سردار اور محمدؐ کے مشیران اور کنبوں کے سربراہ جمع تھے، تاخیر ہو رہی تھی۔ ایسے میں علی اور عباس کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ انتظار کریں۔ اب جب کہ شوریٰ کی کاروائی مکمل ہو چکی تھی ۔ ابو بکر کی بطور خلیفہ تقرری ہو گئی تو علی کے لیے حالات کا دھارا، دیکھتے ہی دیکھتے چند گھنٹوں کے اندر بدل گیا۔ عین ممکن تھا کہ ابو بکر آپؐ کی تدفین کا انتظام کچھ اس طرح کروانا چاہیں گے جو آپؐ کے شایان شان تو ہو لیکن اس کے ساتھ اس موقع پر ابو بکر کے انتخاب، یعنی محمدؐ کے جانشین کے طور پر زبردست مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملے۔ دوسرے الفاظ میں کہیے، وہ اس اجتماع کو اپنے انتخاب کی توثیق کے لیے استعمال میں لا سکتے تھے۔ علی انہیں اس موقع سے محروم کر دیں گے۔ محمدؐ کی تجہیز و تکفین کا کوئی اجتماع منعقد نہیں کیا جائے گا بلکہ انہیں رات کی تاریکی میں انتہائی خاموشی کے ساتھ دفن کر دیا جائے گا۔
بدھ کے دن، صبح تڑکے میں، عائشہ کی آنکھ مسجد کے احاطے میں زمین کھرچنے اور کھودنے کی آواز سے کھل گئی۔ چونکہ محمدؐ کی میت ان کے کمرے میں رکھی گئی تھی اس لیے وہ حفصہ کے ساتھ ان کے یہاں منتقل ہو گئیں۔ حفصہ کا کمرہ یہاں بس چند قدم دوری پر تھا۔ چونکہ وہ غم سے نڈھال تھیں اور پچھلے دو دن کی شب بسری سے کافی تھک چکی تھیں، اس لیے باہر نکل کر دیکھنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ اگر وہ اٹھ کر دیکھتیں تو انہیں پتہ چلتا کہ یہ شور پتھریلی زمین کھدنے کا تھا۔ علی اور ان کے قریبی رشتہ دار کدال اور بیلچے سنبھالے محمدؐ کی قبر، عائشہ کے کمرے میں تیار کر رہے تھے۔
بعد میں اس کی وجہ کچھ یوں بتائی جائے گی کہ محمدؐ نے ایک بار کہا تھا کہ پیغمبر کو وہیں دفن کرنا چاہیے جہاں اس کی موت واقع ہوئی ہو۔ چونکہ آپؐ کا انتقال اسی کمرے میں سونے کے لیے بنائے گئے چبوترے پر ہوا تھا، آخری آرام گاہ بھی یہیں بنانا لازم ٹھہرا۔ ان کی قبر اس چبوترے کے قدمچے میں بنائی گئی۔ جب ضرورت کے مطابق، قبر کافی گہرائی تک کھود لی گئی تو میت کو بستر سمیت احتیاط سے اٹھا کر، سر کا رخ مکہ جانب رکھ کر، اس میں اتار دیا گیا۔ پھر جلدی سے دہانہ پتھروں سے ڈھانپ کر مٹی ڈال دی گئی اور کیچڑ سے لپائی بھی ہو گئی۔ اس کے اوپر پتھر کی سلیٹ کا ایک کتبہ بھی نصب کر دیا گیا۔
یوں، نمود و نمائش کے بغیر انتہائی سادگی سے محمدؐ کو دفنا دیا گیا۔ عوامی سطح پر رسومات ادا کی گئیں اور نہ ہی جنازے کا اجتماع منعقد ہوا۔ نوحہ گروں کے جلوس نکلے اور نہ ہی ان کی بیاد منائی گئی۔ نوحے لکھے اور نہ ہی کسی نے ان کے قصیدے گائے۔ اس موقع پر ان کی بیویوں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا۔ مہاجرین اور انصار میں سے بھی کوئی نہیں تھا حتی کہ ان کے دیرینہ ساتھیوں کو بھی زحمت نہیں دی گئی۔ جس طرح پچھلی شام شوریٰ نے جانشینی کے معاملے پر اپنا فیصلہ سنایا تھا، علی نے محمدؐ کی تدفین کا یوں اہتمام کر کے منہ در منہ حساب برابر کر دیا۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دے دیا، اپنی مرضی بتا دی۔ وہ سب سے نالاں تھے۔ انہوں نے اپنا احتجاج اس طرح ریکارڈ کرایا اور بغیر کچھ کہے یوں ہی خفگی کا اظہار بھی کر دیا۔ عائشہ کا کمرہ، وہ جگہ جہاں ان کی بسر رہی تھی اب محمدؐ کا مزار بن چکا تھا ۔ ان کے والد اسلامی ریاست کے پہلے خلیفہ مقرر ہو چکے تھے۔ ابو بکر خلافت کے دور میں، پہلے خلیفہ تھے۔ ان کے بعد اور علی سے پہلے، یعنی اگلے پچیس برسوں کے دوران دو مزید خلفاء مقرر کیے جائیں گے۔ علی اس ربع صدی کو 'خاک اور خار کے سال ' کہا کرتے تھے۔ ان کے لیے دھول اور کانٹوں پر بسر ہونے والے اس طویل زمانے کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔

صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی اگلی قسط نمبر 6 کے لیے یہاں کلک کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر