اول المسلمین کے بعد - علی - 07



اگرعثمان کا تعلق اشرافیہ سے نہ ہوتا تو عین ممکن ہے، امت اتنی خوں ریزی اور صدیوں سے جاری قتل و غارت سے بچ جاتی۔ یہاں تک کہ خود عثمان کی اپنی جان بھی نہ جاتی۔ پھر یہ بھی ہے کہ عثمان چونکہ ہر لحاظ سے بھرے پرے تھے۔ خون ، خاندان اور خو سب کچھ تو تھا۔ اچھی خوراک، فضا اور صحت بھی تھی تو لمبی عمر پائی۔ سوال یہ ہے کہ ان کی قسمت میں لکھی ہوئی یہ طویل شاہانہ زندگی، کیا واقعی نعمت تھی ؟ لوگ آج بھی اس پر خوب بحث کرتے ہیں۔ ہوا یہ کہ غیر متوقع طور پر عثمان نے طویل عمر پائی اور خلافت سنبھالنے کے بعد بھی، جیسا کہ مختصر شوریٰ کے لوگوں کا خیال تھا، یہ صرف سال دو کی بات نہیں رہی۔ وہ مزید بارہ برس تک جیے ۔ اور پھر جب بیاسی سال کی عمر میں ان کی موت واقع ہوئی تو تب بھی، مرنے کی وجہ قدرتی نہیں تھی۔ ان سے پہلے عمر بھی قاتلانہ حملے میں موت کا شکار ہوئے تھے، اب تیسرے خلیفہ عثمان بھی قتل کر دیے جائیں گے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اب کی بار قاتل مسلمان تھا اور کئی لوگوں کا خیال ہے کہ بھلے وہ مسلمان ہو، چاہے کسی مسلمان کے خون کی حرمت پامال کر دی گئی ہو، یہ گھناؤنا فعل رہا ہو ، قاتلوں کے پاس بہرحال اس انتہائی قدم کی معقول وجہ تھی۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں، عثمان کا تعلق قریش مکہ کے نامی گرامی کنبے بنو امیہ سے تھا۔ وہ ہمیشہ سے امیرانہ طرز زندگی کے عادی تھے اور جیسا کہ اشرافیہ کا طریق ہوتا ہے، وہ بھی رہن سہن کے اس طریقے کو اپنا حق، استحقاق سمجھتے تھے۔ وہ مردانہ وجاہت اور چہرے کے خوبصورت خدوخال کے لیے مشہور تھے ۔ چونکہ امراء کے طبقے سے تعلق تھا تو لازمی، شاہانہ آداب اور طمطراق کے سبب، خوش لباس واقع ہوئے تھے۔ اسی سبب، عام لوگوں میں ان کے حسن اخلاق، نفاست اور طبیعت میں سخاوت کا چرچا رہا کرتا تھا۔ اگرچہ ان کے چہرے پر چیچک کے ہلکے داغ تھے لیکن اس کے باوجود کئی لوگوں نے روایت میں ان کی 'سنہری جلد' اور 'سرخ و سپید رنگت' کا ذکر کیا ہے۔ کئی روایات میں کہا گیا ہے کہ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ سجی رہتی تھی ۔ جب کھلکھلا کر ہنستے تو چمکتے ہوئے دانت واضح ہو جاتے۔ چمک کاری کی وجہ دانتوں کی سفیدی نہیں بلکہ سونے کی وہ تار تھی جو وہ ہمیشہ دانتوں پر زیبائش کی غرض سے پہنے رکھتے تھے۔ لیکن با ت یہ ہے کہ نفاست، زیبائش کا شوق، امیرانہ روش اور سونے اور جواہرات سے عثمان کا یہی لگاؤ آگے چل کر پیش آنے والے دل خراش واقعات کا سبب بن جائے گا۔
عثمان کے پیش رو، عمر کو بہت پہلے ہی اس بات کا ادراک ہو گیا تھا۔ فتح کے بعد جب فارس کے شاہی دربار سے ہیرے، جواہرات اور دوسرا قیمتی سامان مدینہ پہنچا تو انہوں نے خوشی اور اطمینان کا اظہار نہیں کیا تھا۔ غیر متوقع طور پر، وہ سونے کے اونچے ڈھیر کو دیکھ کر رنجیدہ ہو گئے تھے۔ بیش قیمت زیور اور جواہرات، تلواریں جن میں ہیرے جڑے ہوئے تھے اور ریشم کے انتہائی مہنگے بنڈل۔۔۔ یہ سب دیکھ کر عمر زار و قطار رونے لگے۔ 'میں روتا ہوں'، وہاں جمع لوگوں کے ہجوم کو مخاطب کر کے کہا، ' دھن دولت اور امارت سے ما سوائے نفرت، عداوت اور کڑواہٹ کے کچھ حاصل نہیں ہوتا'۔
عثمان کے دور خلافت میں بھی اسلامی سلطنت میں مزید کئی فتوحات ہوئیں۔ سرحدیں پھیل کر مغرب میں مصر، مشرق میں فارس کے آخری کونے اور شمال میں بحیرہ قزوین تک پہنچ چکی تھیں۔ جتنی تیزی سے سلطنت پھولی، اتنی ہی سرعت کے ساتھ مدینہ میں امت کا خزانہ بھی بھرنے لگا، بے پناہ وسائل جمع ہو چکے تھے اور سمجھ میں نہ آتا کہ آخر اس مال و دولت کو کہاں خرچ کیا جائے؟ نتیجہ وہی نکلا جس کا عمر کو ڈر تھا۔ محمدؐ نے ایک طویل جدوجہد کے بعد مکہ کا اقتدار و اختیار قبیلہ قریش میں عثمان کے کنبے بنو امیہ سے حاصل کیا تھا۔ اگرچہ فتح مکہ کے بعد آپؐ نے قریش اور بنو امیہ کے کئی نامی گرامی افراد کو اختیارات سونپے تھے، مگر اب بہرحال پہلے جیسی بات نہیں تھی۔ اب تک یہ حکام خلافت، بالخصوص مدینہ کو جوابدہ چلے آ رہے تھے۔ اب بنو امیہ سے ہی تعلق رکھنے والے عثمان نے دوبارہ سے حکومت کی باگ ڈور سنبھال لی تھی، بنو امیہ کے لوگوں نے اس سنہری موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ انہوں نے وہی پرانی روش، یعنی اشرافیہ کی طرز حکومت والی عادات اپنا لیں۔ یہ امراء اختیار ہاتھ آتے ہی ایک بار پھر سے خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے لگے۔ وہ دوبارہ سے امور ریاست میں دخل اندازی کرنے لگے، جدی پشتی خاندانی امتیاز اور تکبر عام ہو گیا۔ عثمان کا حال یہ تھا کہ وہ انہیں روکنے سے قاصر تھے یا شاید وہ انہیں روکنا ہی نہیں چاہتے تھے۔
دین اسلام سے عثمان کی وفا داری پر کسی کو شک نہیں تھا لیکن وہیں یہ بات بھی صاف ہے کہ وہ اپنے خاندان اور کنبے کے بھی خیر خواہ تھے۔ اگرچہ انہوں نے اپنے خاندان کی بھر پور مخالفت کے باوجود اسلام قبول کیا تھا۔ اوائل دور اسلام میں جب تحریک کا مستقبل بھی خاصا مخدوش لگتا تھا، وہ سب کچھ چھوڑ کر محمدؐ کے ساتھ مدینہ چلے آئے تھے۔ اپنے خاندان کو وداع کہہ دیا تھا لیکن اس کا قطعی یہ مطلب ہر گز یہ نہیں تھا کہ وہ اپنے کنبے سے دور ہو گئے تھے۔ عرب معاشرے میں خاندان، کنبہ یا قبیلہ اکائی کی حیثیت رکھتا تھا، انفرادی شناخت کا سرے سے کوئی تصور نہیں تھا۔ بہرحال، ہوا یہ کہ پھیلتی ہوئی سلطنت میں اہم فوجی عہدے دار، گورنر اور اعلیٰ حکام۔۔۔ تقریباً سب ہی عہدے بنو امیہ کے لوگوں میں بٹ گئے۔ اہل لوگوں کو نظر انداز کر کے اقربا، یعنی دوستوں اور رشتہ داروں کو آگے لایا گیا۔ جیسا کہ عام طور پر ایسے معاملات میں ہوا کرتا ہے، اقربا پروری کے نتیجے یا کہیے اس چور دروازے سے حکومت، بالخصوص اہم عہدوں تک پہنچنے والے افراد خود کو ہر شے سے مبرا سمجھتے ہیں اور جلد ہی بدعنوانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس دور کے تقریباً سب ہی عہدے داروں نے، جو سفارش اور نور نظری کی بنیاد پر ترقی حاصل کیے ہوئے تھے ، بلا شک و شبہ بے انتہا درجہ کے بدعنوان کہلائے جا سکتے ہیں۔ اسلامی تاریخ میں اس دور کی لا تعداد مثالیں درج ہیں۔ ایک مثال کچھ یوں ہے کہ محمدؐ کے ایک انتہائی قریبی ساتھی جو ابو بکر اور عمر کے دور سے اور اب عثمان کی اسلامی فوج میں سپہ سالار چلے آ رہے تھے، امت کے خیر خواہ تھے، بالآخر پھٹ پڑے۔ ہوا یہ کہ وہ بھر پور محنت کرتے، جہاں ان کی عمل داری تھی وہاں امن اور خوشحالی لاتے، ٹیکس جمع کرتے مگر اس کا صلہ تو ان کو ملتا جنہیں خلیفہ کی جانب سے حکومت اور انتظام کے لیے مقرر کیا گیا تھا بلکہ ساتھ ہی یہ کہ ذرا ان کا دھیان بٹتا، بدعنوانی شروع ہو جاتی۔ ان کے زیر اطاعت حکام لوٹ کھسوٹ کرنے لگتے۔ جلد ہی ان کا اثر رسوخ بھی بڑھنے لگا اور عمل دار کا اختیار محدود ہو کر کسی قابل نہ رہا۔ وہ عثمان کے سامنے پھٹ پڑے، 'دوسرے لوگ تو گائے کا دودھ نکال کر لے جائیں اور میرا کام صرف یہی ہے کہ میں ان کے لیے گائے کو سینگوں سے پکڑ کر قابو کیے رکھوں؟'
ابو بکر اور عمر کے دور میں محمدؐ کی روایت، یعنی سادگی اور عقیدہ مساوات انسانی کا دور دورہ تھا۔ لیکن اب حال یہ ہو چکا تھا کہ شاہانہ طرز زندگی اور طمطراق عام تھا۔ ۔ لوگ نمایاں طور پر ٹھسے سے شاہی زندگی بسر کرنے لگے اور ایک دوسرے سے برتر نظر آنے کا سامان کرنے لگے۔ خود عثمان نے اپنے لیے مدینہ میں ایک نہایت شاندار محل تعمیر کروایا جس کے گرد باغات تھے۔ اس محل کے مینار سنگ مرمر سے تعمیر کیے گئے اور اندر خوب آرائش کی گئی۔ خطے کے کونے کونے سے لائے گئے کئی باورچی تھے جو طرح طرح کے کھانے پکایا کرتے۔ ابو بکر اور عمر نے جہاں نسبتاً اعتدال پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لیے خلیفہ یعنی 'محمدؐ کے نائب' کا خطاب اپنایا تھا۔ مگر عثمان نے بجائے اپنے لیے پر شکوہ اور ان دونوں سے برتر میریت منتخب کی۔ وہ خود کو 'اللہ کا نائب' کہلوانے پر زور دینے لگے۔ مراد یہ تھی کہ محمدؐ کے بعد اب وہ زمین پر خدا کے نمائندہ تھے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عثمان کے بعد ایک ایسی روایت چل پڑی جس کے تحت مستقبل کے رہنما دنیاوی طاقت اور اختیار ہتھیانے کے لیے بھی خدائی تصدیق کا دعویٰ کریں گے۔ رہنما تو رہے ایک طرف، ہم دیکھیں گے کہ کئی ایسے بھی آئیں گے جو بعد ان کے، انہی خطوط پر چلتے ہوئے تقریباً نبوت کے دروازے پر دستک دیتے ہوئے پائے جائیں گے۔ ان کے علاوہ کچھ ایسے بھی ہوں گے، جو نبوت کے دعویدار تو نہ ہوں گے مگر بہر حال اپنے فائدے کے لیے کوئی نہ کوئی خدائی جواز ڈھونڈ ہی لائیں گے۔
جلد ہی قدیم دور سے چلی آ رہی، مکہ کی حکومت امراء جس کا محمدؐ نے قلع قمع کر دیا تھا، ایک بار پھر سر اٹھانے لگی۔ اب یہ مکہ کی اشرافیہ نہیں بلکہ مسلم اشرافیہ کہلائی جانے لگی۔ عثمان نے کئی قیمتی املاک اپنے رشتہ داروں کو بخش دیں۔ ان میں کئی ایسی تھیں جن میں ہزاروں گھوڑوں والے اصطبل اور سینکڑوں غلام ہوا کرتے تھے۔ اسی طرح دجلہ اور فرات کے بیچ واقع وسیع زرعی اراضی بنو امیہ سے کے رئیسوں میں بانٹ دی گئیں۔ ایک وقت ایسا آیا کہ اس قدیم نشیبی خطے، یعنی العراق کو 'باغ امیہ' کہا جانے لگا۔ عثمان کی خلافت کئی تاریخی کارناموں اور انتہائی اہم کامیابیوں سے تعبیر ہے۔ جیسے، پہلی بار قران کو ترتیب دے کر واقعی ایک تحریری کتاب کی شکل دی گئی ، اس کے علاوہ سلطنت اسلامی یعنی خلافت کی سرحدیں شمال میں قدیم یونان کی آڑی تہذیب یعنی ایجین، مغرب میں شمالی افریقہ کی ساحلی پٹی اور مشرق میں ہندوستان کی فصیلوں تک پھیل چکی تھیں۔ یہ فتوحات اور قران کی ترتیب اور کتابی شکل کا کارنامہ بنو امیہ کو بڑے پیمانے پر با اختیار بنانے کے سبب گہنا کر رہ گئیں۔
مکہ کا وہ طبقہ جو کبھی سرداری پر فائز تھا، ایک بار پھر اقتدار میں آ گیا اور انتقامی کاروائیاں شروع کر دی گئیں۔ اس بات میں کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں تھا کہ گائے کا دودھ کون دوہتا ہے، کون لے جاتا ہے اور وہ کون ہیں جو سینگ پکڑے، منہ دیکھتے رہ جاتے ہیں۔ وہ جن کے ذمے صرف سینگ تھامے رکھنا تھا، بدعنوانی اور اقربا پروری کے خلاف آواز بلند کرنے لگے۔ اس کے جواب میں اعلیٰ حکام نے بھی وہی سلوک کیا جیسا کہ عام طور پر ہوا کرتا ہے۔ جن لوگوں پر ان کا اختیار چلتا، املاک اور جائیدادیں ضبط ہونے لگیں، آئے دن ملک بدری کے احکامات جاری کیے جاتے، جو زیادہ چوں چراں کرتا اسے پابند سلاسل کر دیا جاتا۔ یہی نہیں، تاریخ میں درج ہے کہ اس زمانے میں کئی لوگوں کو سیاسی، سماجی اور معاشی تباہی کے ساتھ ساتھ جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑا۔ محمدؐ کے دیرینہ ساتھی یہ حال دیکھ کر چپ نہ رہ سکے اور احتجاج کرنے لگے۔ جس مختصر شوریٰ نے عثمان کو خلیفہ چنا تھا، اس میں عثمان کے علاوہ باقی پانچ بھی اب کھل کر سامنے آ گئے اور گاہے بگاہے تنقید کرنے لگے۔ احتجاج کا حصہ بن گئے۔ اس تحریک میں سب سے آگے علی تھے۔
علی نے متنبہ کیا کہ اسلام کی املاک اور امت کی تجوری میں نقب لگائی جا رہی ہے۔ بنو امیہ کی مثال بھوکے جانوروں جیسی تھی جو نظر میں آنے والی ہر چیز کو چیر پھاڑ کر ہڑپ کر رہے تھے۔ تاریخ میں اس بابت خلیفہ کا رد عمل کچھ یوں بیان ہوا ہے، 'عثمان ان باتوں پر چنداں کان نہیں دھرتے تھے۔ ان کے گرد ہر وقت بنو امیہ کے لوگوں کا جمگھٹا رہتا اور وہ انتہائی خود پسندی اور تکبر سے شانے اچک کر تمام الزامات رد کر دیتے۔ بنو امیہ خدا کی نعمتوں اور سامان اسباب کو یوں چٹ کرتے جا رہے تھے جیسے اونٹ بہار کے موسم میں چراہ گاہیں صاف کر لیتے ہیں'۔ علی اور دوسرے نامی گرامی اصحاب محمدؐ کا کہنا یہ تھا کہ جلد ہی یہ ہریالی ختم ہو جائے گی اور پیچھے بنجر صحرا کے کچھ نہیں بچے گا۔
اگرچہ سب ہی احتجاج میں ایک عرصے سے حصہ ڈال رہے تھے لیکن عائشہ کی شعلہ بیانی نے فوراً ہی سب کی توجہ حاصل کر لی۔ وہ پہلی اور شاید آخری بار علی کی کسی بات سے متفق دکھائی دے رہی تھیں۔ 'وہ سٹھیایا ہوا سترا بہترا۔۔۔' عائشہ عثمان کے بارے کہنے لگیں۔ دوسری روایات میں وہ عثمان کو کئی دوسرے القابات سے بھی نوازتی نظر آتی ہیں۔ جیسے قبر میں پاؤں لٹکے ہیں، ٹنڈ منڈ رعشہ زدہ ، کانپتا ہوا بوڑھا آدمی اپنے رشتہ داروں میں محبوس ہے۔ اس کے بعد تو ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے ہر شخص کے منہ میں گز گز بھر لمبی زبان نکل آئی ہے اور وہ خلیفہ کو لعن طعن کرنے لگا۔ لوگ عثمان کا مذاق اڑانے لگے اور جہاں موقع ملتا، ان کی برائی کرتے۔
بعض لوگوں کا خیال تھا کہ عائشہ نے اچانک خاموشی ا س وجہ سے توڑی ہے کہ عثمان نے سالانہ وظیفے کو گھٹا کر باقی امہات المومنین کے برابر کر دیا تھا۔ یعنی انہوں نے عائشہ کی برتری کو چیلنج کیا تھا۔ بعض ایسے بھی تھے جن کے خیال میں عائشہ کی دیرینہ خواہش یہ تھی کہ ان کے چچا زاد، یعنی طلحہ خلافت سنبھالتے۔ لیکن اس بات میں کوئی شک نہیں ہے کہ دوسروں کی طرح عائشہ بھی واقعی اس بات پر بالضرور ہی غصہ تھیں کہ بدعنوانی نا سور کی طرح بڑھتی جا رہی تھی اور بنو امیہ تمام حدوں کو پھلانگ رہے تھے۔ جلد ہی اس کا واقعی ثبوت بھی سامنے آ گیا جب عثمان کے سوتیلے بھائی ولید کے بارے انتہائی رسوا کن بات منظر عام پر آ گئی۔
ہوا یہ کہ ولید کو عراق کے وسطی شہر کوفہ کا گورنر مقرر کیا گیا تھا۔ وہ اکثر اپنی اور نہ ہی خاندان کی عزت کی پرواہ کرتے ہوئے کوفہ کے لوگوں کے ساتھ بد تمیزی اور ہتک آمیز سلوک کرتا۔ یہاں تک کہ اسے اشرافیہ سے منسوب آداب اور اخلاق کا بھی پاس نہ رہا۔ عربوں کی روایتی ادعا پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئے روز شہر کے لوگوں، بالخصوص وہاں کی اشرافیہ کو سامنے بلا کر، نام لے کر گنوار، نا معقول اور مقامی آبادی کو ایرے غیرے، گھٹیا قرار دیتا۔ وہ لوگوں کے الزامات اور زیادتی پر سر جھٹک کر کہتا، 'نا انصافی سے پابند سلاسل کرنا؟ زمین اور املاک پر نا جائز قبضہ؟ عوامی خزانے میں لوٹ مار؟ ' ولید کے مطابق یہ ساری شکایتیں، 'ادوم کے میدانوں میں چرنے والی بکریوں کے پاد سے زیادہ کچھ نہیں تھیں'۔
تا ہم ان شکایتوں میں سے، یا کہیے بکریوں کے پادوں میں سے ایک، کسی نہ کسی طرح اڑتی ہوئی مدینہ پہنچ ہی گئی۔ شکایت یہ تھی کہ ولید شراب کے نشے میں دھت مسجد جا پہنچا ۔ عین اس وقت جب عبادت کے لیے صفیں ترتیب دی جا رہی تھیں، یہ لوگوں کے سامنے لڑکھڑاتا ہوا آیا، نشے میں دھت تھا ۔ منبر کے پیچھے قے کر دی۔ کوفہ کے عوامی حلقوں کی جانب سے ایک نمائندہ وفد یہ شکایت لے کر مدینہ پہنچا اور تقاضا تھا کہ فی الفور ولید کو واپس بلا کر سخت سزا دی جائے۔ لیکن عثمان نے ان کی شکایت پر ذرا بھی کان نہیں دھرا اور ان کا مطالبہ یکسر رد کر دیا۔ یہی نہیں، بدتر تو یہ تھا کہ عثمان نے انہیں اس طرح کی الزام تراشی اور گورنر کے خلاف زبان درازی پر سختی سے جھڑک دیا اور سخت سزا کی دھمکی دے ڈالی۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو یہ وفد عائشہ کے پاس جا پہنچا اور پیروی کی درخواست کی۔ عثمان تک یہ خبر پہنچی تو انہوں نے ناک سکیڑ کر کہا، 'کیا عراق کے سر کش لچے اور لفنگوں کو عائشہ کے گھر میں پناہ لینے کے سوا کوئی دوسری جگہ نہیں ملتی؟'
اگرچہ عثمان نے اپنے تئیں کوفہ کے وفد کو بے نقط سنائی تھیں۔ ان پر چوٹ لگائی تھی مگر اس کا اثر عائشہ پر ہوا۔ اب یہ صرف 'عراق کے سر کش لچے اور لفنگوں' کا ہی نہیں، عائشہ کی بھی عزت اور بے عزتی کا مسئلہ بن گیا۔ چنانچہ جب عثمان کے یوں ، وفد کے ساتھ ناروا اور استہزائی سلوک کی خبر پھیلی تو لوگوں کا تقریباً یہی خیال تھا کہ یہ حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ شاید عائشہ کا عثمان کے بارے یہ خیال کہ وہ 'سٹھیا' گئے ہیں، درست ہی تھا۔ شاید عثمان کی گرفت واقعی کمزور ہوتی جا رہی تھی، یا کم از کم ان کے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت تو بالضرور ہی ختم ہو کر رہ گئی تھی۔ وہ کسی کا لحاظ نہیں کرتے تھے۔ اور پھر جب مدینہ کے انصار سے تعلق رکھنے والے ایک انتہائی عزت دار بزرگ کے ساتھ ان کا رویہ دیکھ کر تو لوگوں کو اس بات کا پوری طرح یقین ہو گیا۔ یہ بزرگ آدمی ایک دن مسجد میں کھڑے ہو ئے اور عراق سے آئے وفد کے مطالبات کی عوامی حمایت کا اعلان کیا۔ اس پر عثمان غصے سے آگ بگولہ ہو گئے۔ انہوں نے اس شخص کو اٹھوا کر مسجد سے باہر پھینکوا دیا۔ پہلے دھکم پیل اور پھر اس قدر درشتی سے باہر نکالا کہ گرنے سے اس کی چار پسلیاں ٹوٹ گئیں۔
اگر اس سے پہلے عائشہ کو عثمان کے رویے پر صرف بے عزتی محسوس ہوئی تھی، اب وہ سخت برہم ہو گئیں۔ یہ کیا بات ہوئی کہ مجرم تو آزاد پھرتا ہے مگر جو انصاف کا نام بھی لے تو اسے یوں مارا پیٹا جائے؟ اب انہیں کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ کسی میں اتنی مجال نہیں تھی کہ ان کے راستے میں رکاوٹ ڈالتا۔ وہ کسی پردے، حجاب یا حکم کی پرواہ نہیں کریں گی۔ گھر سے باہر نکلتے ہوئے منہ پر چادر ڈال کر پردے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی آواز بھی دبا دی جائے گی۔ مسجد میں تو وہ بالکل بھی چپ نہیں بیٹھیں گی۔ چنانچہ اس واقعہ کے بعد، جوں ہی لوگ جمعہ کے دن فجر کی نماز کے لیے جمع ہوئے تو عائشہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔ وہ ہاتھ میں محمدؐ کے زیر استعمال رہنے والی چمڑے کی چپل اٹھائے ہوئے تھیں۔ 'کیا تم پیغمبر کی یہ چپل دیکھتے ہو؟ یہ ابھی تک ادھڑی بھی نہیں ہے۔' عائشہ نے منبر پر بیٹھے عثمان کو مخاطب کرتے ہوئے چلا کر کہا، 'یہ ابھی تک صحیح سلامت ہے۔ اسی کی سلائی بھی ویسی کی ویسی ہے اور تم نے سنت کو بھلا دیا؟ ان کے طریق کو چھوڑ دیا؟'
آخر عثمان نے کیا سوچ کر عائشہ کے بارے یہ گماں کر لیا تھا کہ وہ دب جائیں گی؟ کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ طویل عرصے سے انہوں نے خاموشی اختیار کر رکھی تھی؟ ویسے بھی اگر سوچیں تو چپل جیسی حقیر شے کو یوں علامت بنا کر استعمال میں لانا، اخیر حکمت عملی ہے۔ عثمان، ایسی عورت کو کیونکر نظر انداز کر گئے؟ بہر حال عائشہ کے اس انوکھے احتجاجی مظاہرے کے نتیجے میں مسجد میں ایک دم ہڑبونگ مچ گئی۔ لوگ فوراً ہی ان کی حمایت میں نکل آئے اور ہر شخص اپنی چپل اٹھائے عثمان کی طرف لہرانے لگا۔ چاروں طرف سے خلیفہ پر آوازے کسے گئے اور ملامت ہونے لگی۔ یوں اسلامی ریاست اور امت میں ایک نیا ہتھیار نکل آیا اور اس کا بھر پور اور انتہائی پر اثر مظاہرہ شروع ہو گیا۔ یہ ہتھیار اس کے بعد کبھی خاموش نہیں ہوا اور آنے والے وقتوں میں تقریباً ہر دور کے خلفاء، شاہوں اور سلاطین کے خلاف استعمال ہوتا رہا۔ اگر کوئی پراپگنڈے کا ایک ہتھیار نکالتا، جواب میں حکمران کوئی دوسرا سامان پیدا کر لیتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پیغمبر کی نشانیاں جیسے چپل، چوغہ، دانت، ناخن، سر اور داڑھی کے بال۔۔۔ جسے جو ملا، اس کو اختیار اور اپنا اثر و رسوخ پکا کرنے کے لیے استعمال کرنے لگا۔ آج بھی ہم اسلامی دنیا میں ہر جگہ یہ نشانیاں جا بجا سنبھالی ہوئی دیکھتے ہیں۔ مساجد، خانقاہوں اور درباروں میں یہ باقیات عام مل جاتی ہیں۔ عام مسلمان دیوانہ وار ان نشانیوں کے گرد جمع ہو جاتے ہیں۔
خیر، عثمان کے پاس ولید کو واپس بلا لانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ تاہم وہ اس کا حکم دینے میں پس و پیش سے کام لیتے رہے اور سخت سزا جیسے کوڑے مارنے پر تو سرے سے پہلو تہی کر گئے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ کوڑے مارنے کے لیے کوئی شخص راضی نہیں ہے۔ حالانکہ ایسا ہر گز نہیں تھا۔ مدینہ کا ہر شخص اور کوفہ کے وفد کے نمائندے ولید کو سبق سکھانے کے لیے تیار بیٹھے تھے۔ اس ضمن میں ان کے پیش رو، عمر کی مثال ابھی زندہ تھی۔ لوگوں کی یاد داشت میں ابھی تک اس واقعے کی یاد تازہ تھی جب انہوں نے اپنے سگے بیٹے کو شراب نوشی اور بازار میں غل غپاڑہ مچانے پر کوڑے مارنے کی سخت سزا سنائی تھی۔ کوئی رعایت نہیں برتی تھی اور جب ان کا بیٹا سزا کے بیچ میں ہی زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسا تو انہوں نے ماتم کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ عمر کے دور میں تو اسلام کے اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا تھا اور خاندان اور کنبے کے ساتھ تو ہر گز، ہر گز رعایت نہیں برتی جاتی تھی۔ اس دور کے یہی اصول اب عثمان کی خلافت میں بری طرح پامال ہو رہے تھے۔ نہ صرف یہ کہ وہ سزا دینے میں پس و پیش سے کام لے رہے تھے بلکہ کنبے اور خاندان کے دباؤ میں انصاف کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر تھے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جلد ہی حالات اس قدر نازک ہو گئے کہ عثمان کے لیے سوتیلے بھائی کو واپس بلا کر صرف عہدے سے برخاست کرنا کافی نہیں تھا۔ عرب، مصر اور عراق میں ہر طرف خطوط لکھے گئے جن میں سخت ترین اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ان خطوط میں سب سے زیادہ جذباتی اور آتش ناک وہ تھے جو خود عائشہ نے تحریر کروائے اور اپنی نگرانی میں اسلامی سلطنت کے کونے کونے میں پھیلا دیے۔ انہوں نے تمام امہات المومنین کی طرف سے سچے مسلمانوں کو اپیل کی تھی کہ وہ آگے آئیں اور اسلام کی حفاظت کریں۔ نا انصافی اور بد عنوانی کی حوصلہ شکنی کریں اور ان کے شانہ بشانہ تحریک کا حصہ بنیں۔ ان خطوط کی ترسیل کے نتیجے میں ملنے والا رد عمل دیکھ کر خود عائشہ بھی حیران تھیں۔ چند ہفتوں کے اندر ہی جنگجوؤں کی تین مسلح ٹکڑیاں مدینہ پہنچ گئیں۔ ان میں سے دو عراق کی چھاؤنیوں کوفہ اور بصرہ جبکہ تیسری مصر کی چھاؤنی فسطاط سے یہاں پہنچی تھی۔ فسطاط اسلامی ریاست میں مصر کا پہلا دارالحکومت تھا جو بعد میں قاہرہ کہلائے جانے والے شہر کے جنوبی حصے میں واقع تھا۔
یہ جنگجو 'ایرے غیرے' یا 'لچے لفنگے' نہیں تھے۔ یہ سینکڑوں کی تعداد میں انتہائی منظم، اسلامی افواج کے جانباز سپاہی تھے۔ ان کی سپہ سالاری انتہائی قابل اور عالی نسب اشخاص کے ہاتھوں میں تھی، جنہوں نے ایک عرصے تک اسلام کی سر بلندی کے لیے مشرق وسطیٰ کے کونے کونے میں فوجی اور تبلیغی مہمات چلائی تھیں۔ اس سے یہ بات تو طے ہو گئی کہ مطالبہ جائز تھا اور اب لوگ کسی بھی صورت پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ مطالبہ یہ تھا کہ عثمان فیصلہ کن کاروائی کا حکم دے کر ان کی شکایات کا ازالہ کریں یا پھر خلیفہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیں۔ اس تحریک میں اب کئی نامی گرامی لوگوں نے بھی خاموشی توڑ کر شمولیت اختیار کر لی تھی۔ دوسروں کے ساتھ ساتھ، پہلے خلیفہ ابو بکر کے فرزند، یعنی عائشہ کے سوتیلے بھائی، محمد بن ابو بکر چیدہ لوگوں میں شامل تھے۔ یہ وہی ہیں جن کی والدہ سے علی نے نکاح کیا تھا اور انہیں لے پالک بیٹا بنا لیا تھا۔ اب وہ لڑکا علی کے سائے میں پرورش پا کر کڑیل جوان ہو چکا تھا۔ لیکن اس میں اپنے والد جیسی متانت اور اور نہ ہی سوتیلے باپ جتنی فراست تھی۔ محمد بن ابو بکر کے حکم پر تینوں فوجی ٹکڑیوں نے، بجائے یہ کہ مدینہ پہنچ کر طاقت کے مظاہرے کے بعد بکھر جاتے، مدینہ سے باہر صحرائی پٹی میں پڑاؤ ڈال دیا۔ ایک طرح سے یہ حملے کی تیاری سمجھی جا سکتی ہے۔
مدینہ میں اس قدم سے بے چینی پھیل گئی اور سبھی سراسیمگی کے عالم میں اگلے مرحلے ، بلکہ نتائج کا انتظار کرنے لگے۔ کیا خلافت کا تختہ الٹنے کی تیاری ہو رہی تھی؟ کیا یہ فوجی ٹکڑیاں محل پر دھاوا بول دیں گی؟ کیا خلیفہ پر بھی حملہ کیا جائے گا؟ یقیناً یہ ناممکن تھا۔ چاہے کچھ بھی ہو، ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل نہیں کر سکتا تھا۔ اگرچہ یہ جنگجو بجا طور پر باغی ہی تھے۔ وجہ یہ کہ ریاست کی نظر میں وہ منتخب شدہ خلیفہ کی مرضی اور اختیار سے منحرف تھے اور تقریباً بغاوت پر آمادہ تھے۔ باوجود یہ کہ وہ باغی تھے، انہوں نے ابھی تک صرف فوجی طاقت کا صرف منظر ہی پیش کیا تھا، نخلستان کے اندر داخل ہونے سے کترا رہے تھے۔ بجائے یہ کہ وہ فوری طور پر کوئی انتہائی قدم اٹھاتے، ان باغیوں نے فیصلہ کیا کہ وہ علی سے رجوع کریں گے۔ ان کی نظر میں مدینہ کے اندر علی واحد شخص تھے جو اتحاد کو ہمیشہ سے باقی ہر چیز پر فوقیت دیتے چلے آئے تھے۔ اب ثالثی بھی انہی کے ذمے لگا دی گئی۔
اگلے دو ہفتے تک علی نے ثالثی اور مصلح کا بھر پور کردار ادا کیا۔ اگرچہ فریقین میں سے ایک گروہ کی سربراہی ان کے لے پالک بیٹے کے ہاتھ میں تھی۔ علی اس کے مطالبات سے پوری طرح متفق بھی تھے لیکن وہ دیکھ سکتے تھے کہ محمد بن ابوبکر انتہائی نا عاقبت اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، فوجی طاقت کے استعمال میں عجلت برت رہا تھا۔ وہ ہر قدم پر بلا سوچے سمجھے فوجی چڑھائی کی دھمکی دینے لگتا۔ علی کو اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ دوسرے فریق کی سربراہی عثمان کے ہاتھ میں تھی۔ وہ بھلے ان کے طرز حکومت سے اختلاف رکھتے ہوں بلکہ کہیے ہر اس چیز کی نفی کرتے چلے آ رہے ہوں جس پر علی کا یقین تھا لیکن بہرحال، وہ منتخب شدہ خلیفہ تھے۔ علی نے عثمان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور وفا داری کا یقین دلایا تھا۔ اب اس مشکل مرحلے پر وہ وفا داری کا بھر پور ثبوت دیں گے۔ یہ وفا داریاں خلیفہ سے نہیں بلکہ خلافت سے جڑی تھیں۔ اسلام اور امت کے مفادات عزیز تھے۔ ان کا کردار ایک ایماندار ثالث کا رہے گا، جس میں وہ دونوں فریقین میں سے کسی کے بھی طرف دار نہیں ہوں گے۔ بلکہ ان کی تمام تر نیک خواہشات اسلام کے ساتھ ہوں گی۔ جو دین اور امت کے حق میں بہتر ہو گا، وہی فیصلہ کرائیں گے۔ شاید وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہو جاتے مگر ہر قدم پر انہیں عثمان کے ایک رشتہ دار، جو ان کا چچا زاد تھا اور خلیفہ کی نیابت پر فائز تھا، مشکل کا سامنا کرنا پڑتا۔ مروان نامی یہ شخص، مفاہمت کے ہر قدم پر روڑے اٹکانے لگا۔
مروان ایک دوسرے نام یعنی ابن ترید سے بھی جانا جاتا تھا۔ ابن ترید سے مراد 'جلا وطن کا بیٹا' ہیں، یا کم از کم یہ اس وقت کا نام ہے جب اس کے خاندان کو ملک بدری کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس کا قصہ کچھ یوں ہے کہ مروان کے باپ کا نام حکم تھا جو بنو امیہ سے تعلق رکھتا تھا ۔ یہ عثمان کا چچا تھا اور محمدؐ کا سخت مخالف تھا۔ جب آپؐ نے مکہ فتح کر لیا تو قریش کو ایک آخری موقع دیا ، جس کے تحت وہ اسلام قبول کر کے امت میں شامل ہو سکتے تھے۔ یہ رعایت قریش کے ہر شخص سوائے مروان کے باپ، صلاح عام تھی۔ مروان کے باپ پر محمدؐ نے کبھی اعتبار نہیں کیا۔ بلکہ یہ آخری شخص تھا جس نے بالکل آخری وقت پر ایمان تو قبول کر لیا لیکن اس کے طریق میں خاصی تضحیک تھی، جیسے مذاق اڑا رہا ہو۔ اس پر محمدؐ نے حکم جاری کیا کہ وہ اور اس کے خاندان کو جلا وطن کر دیا جائے ۔ یہ اپنے کڈے سمیت مکہ کے جوار میں واقع طائف شہر منتقل ہو گیا۔ ابو بکر اور عمر دونوں نے ہی محمدؐ کے حکم، یعنی اس کی جلا وطنی کو برقرار رکھا تھا۔ لیکن جب عثمان نے خلافت سنبھالی تو اپنے چچا زاد یعنی مروان کی جلا وطنی ختم کر کے نہ صرف اسے مدینہ واپس بلا لیا بلکہ اسے خلیفہ کا نائب بھی مقرر کر دیا۔ مہر خلافت اب زیادہ تر اسی کے پاس جمع رہتی۔ یہ نیابت کا عہدہ تھا۔ بے انتہا اختیار ہاتھ میں آتے ہی مروان نے اس کا فائدہ اٹھانے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔
مصر فتح ہوا تو مال غنیمت میں سب سے زیادہ حصہ مروان نے اپنے لیے رکھ لیا۔ اسی طرح جانوروں کے لیے جو چارہ بازار میں بکنے آتا، اس کی تجارت پر اجارہ داری قائم کر لی اور گاہے بگاہے ذخیرہ اندوزی کرتا اور مصنوعی قلت پیدا کر کے خوب فائدہ اٹھاتا۔ اس نے اسی پر اکتفا نہیں کیا۔ یہ انتہائی چالاک آدمی تھا جس کی شاطر نظریں اس سے بھی کہیں بڑے حصے پر لگی تھیں۔ تقریباً چالیس برس بعد یہ خلافت پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو جائے گا مگر تب اس کی حکومت صرف ایک سال ہی چل پائے گی۔ اس کا انجام یہ ہو گا کہ یہ ایک معزز آدمی کو معزول کرے گا جو اس صدمے سے چل بسے گا۔ پھر یہ اس کی بیوہ سے زبردستی شادی رچا لے گا۔ اس شخص کی بیوہ نوکروں کو ساتھ ملا کر اسے بستر پر قابو کر ے گی اور تکیوں اور رضائیوں تلے سانس گھونٹ کر موت کے گھاٹ اتار دے گی۔ یہ انتہائی ذلت آمیز موت کا شکار ہو گا اور لوگ مزے لے لے کر اس کی موت کا قصہ سنایا کریں گے۔ تاریخی حوالوں میں بھی اس بابت لوگوں کے بیان میں اس سے چھٹکارے پر خوشی دیدنی ہے۔
فی الوقت عثمان کی خلافت میں مروان چڑھتا ہوا سورج تھا۔ خلیفہ تک کس کی پہنچ ہو گی، امت کا ہر معاشی فیصلہ، اطلاعات اور نشریات کا سارا ذمہ اور باقی کئی اہم امور اب اس کے ہاتھ میں تھے۔ کوئی شخص اس کی اجازت کے بغیر خلیفہ سے بات کرنے کا بھی مجاز نہیں تھا۔ کئی لوگوں کا خیال تھا کہ عثمان عمر رسیدگی کے باعث اب امور ریاست چلانے کے قابل نہیں رہے، اسی لیے انہوں نے کنارہ کر لیا ہے اور اب وہ زیادہ تر وقت عبادت اور پڑھنے لکھنے میں گزارتے ہیں اور یہ مروان ہے جو خلافت کی باگ دوڑ چلا رہا ہے۔ اب عثمان کا زیادہ تر وقت قران کا تحریری نسخہ ترتیب دینے میں گزرتا تھا اور انہیں بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے ان کے رشتہ دار کس طرح ان کے اختیار کا ناجائز استعمال کر رہے ہیں۔ اگر روایت میں ان بیانات پر غور کیا جائے تو کئی لحاظ سے یہ بات درست معلوم ہوتی ہے یا پھر دوسری طرف یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بعد ازاں عقلمندی کا تقاضا یہی تھا کہ سیاسی کثافت کو دور کرنے کا صرف طریقہ یہی تھا کہ بجائے منتخب شدہ خلیفہ عثمان، مروان کو اس سارے قضیے کا ذمہ دار ٹھہرا دیا جائے۔
خیر باغیوں نے شہر کے باہر پڑاؤ جاری رکھا۔ مروان نے ان کے مطالبات نہ ماننے پر زور دیا اور اس کا خیال تھا کہ ان سے کسی بھی قسم کی رعایت نہ برتی جائے ۔ بلکہ آہنی ہاتھوں سے نبٹا جائے۔ وہ اصرار کرتا رہا کہ اگر آج ان کو منہ لگایا تو آئے دن لوگ یوں ہی مدینہ پر چڑھائی کرتے رہیں گے اور جلد ہی صوبوں میں کھلی بغاوت شروع ہو جائے گی۔ کمال ہوشیاری سے مروان نے اس نکتے کو یوں توڑ مروڑ دیا کہ اس پر راست بازی اور خلیفہ کے حق استحقاق کا گمان ہونے لگا۔ فریب اور مکر کی بہترین مثال، مروان نے چھل پرت کر کے عثمان کو اس بات پر قائل کر لیا کہ بحیثیت خلیفہ انہیں ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کی حاجت نہیں اور ڈرنے کی تو قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ حالانکہ، آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ مروان کا یہ خیال غلط ثابت ہو گا۔ مروان نے انتہائی نیکو کاری کا انداز بنا کر کہا، 'اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ آپ خطا پر خطا کرتے جائیں کیونکہ خدا کے یہاں توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ لیکن، خوف کے ہاتھوں ڈر کر پیچھے ہٹ جانا، اپنے کیے پر نادم ہونا اور تائب ہو جانا۔۔۔ یہ انتہائی رسوا کن بات ہے'۔ اگلا قدم اس نے مدینہ کے باہر جمع باغیوں کو دھمکانے کی غرض سے یہ اٹھایا کہ وہ خود ان کے خیموں میں چلا آیا اور ان کے بیچ کھڑے ہو کر دھواں دھار تقریر کی، انہیں لعن طعن اور ملامت کرنے لگا۔
'تم لوگوں کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ کیا تم خلافت کو تاخت و تاراج کرنا چاہتے ہو؟' مروان چلایا، 'تمہاری شکلیں بگڑ جائیں، تم غارت ہو جاؤ۔ تم یہاں ہماری زمین پر، ہم سے ہماری املاک چھیننا چاہتے ہو؟ نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔ واللہ، اگر تمہارا ارادہ یہی ہے تو جان لو، تمہارا حشر اچھا نہیں ہو گا۔ وہیں واپس چلے جاؤ جہاں سے تم آئے ہو کیونکہ ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے جو ہمارا ہے'۔
یہ علی کی ثالثی کی کامیابی کہلائی جا سکتی ہے کہ اس دن مروان کو لوگوں نے وہیں کھڑے کھڑے قتل نہیں کر دیا۔ باغیوں نے اس پر تیر نہیں برسائے بلکہ گالیاں دے کر وہاں سے نکال دیا۔ آج تو بچت ہو گئی لیکن علی جانتے تھے کہ اگر یہی چلن رہا تو مزاحمت کو روکنا ناممکن ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے عثمان کو خبردار کرنا مناسب سمجھا۔ کہا کہ دیکھیے، مروان کی وجہ سے انہیں انتہائی مشکل ہو رہی ہے۔ اس کی شعلہ انگیز باتوں اور اقدامات سے وہ کسی بھی طرح سے ثالثی نہیں کر پا رہے اور اگر اس کے بعد، اس کے اقوال و افعال کی وجہ سے کوئی مشکل ہوئی، بد امنی پھیلی یا لوگوں نے دھاوا بول دیا تو وہ کسی بھی طرح سے ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔ عثمان کو چاہیے کہ وہ اپنے چچا زاد کو روک لگا کر رکھیں، اس کا منہ اور ہاتھ بند کروائیں۔ لیکن عثمان نے علی کی اس بات پر کوئی توجہ نہیں دی۔ بلکہ انہوں نے اپنی پسندیدہ بیوی نائلہ کو بھی جھڑک دیا، جو حالات کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے اس معاملے میں علی کی طرف دار تھیں۔ وہ مروان کی حرکات میں چھپے خطرات کو اچھی طرح سمجھ سکتی تھیں ۔ مگر عثمان اپنی بات پر اڑے رہے۔ کیا وہ اپنے کنبے سے وفا داری جتا رہے تھے؟ یا کیا وہ واقعی عمر رسیدگی کے باعث اب سوچنے سمجھنے سے قاصر ہو چکے تھے؟ کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ تھا۔ ویسے بھی، اب اس بات سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا۔
تین دن بعد جمعہ کا دن تھا۔ عثمان مسجد میں آئے اور منبر پر نشست سنبھال لی۔ لوگوں نے سیٹیاں بجا کر اور پھبتیاں کس کر ان کا استقبال کیا۔ ایک عمر رسیدہ شخص نے تو اپنی چھڑی بھی دکھائی۔ وہ ہاتھ میں کچھ چیزیں اٹھائے ہوئے تھا۔ وہ عثمان پر چلایا، 'دیکھو! ہم تمہارے لیے ایک ناکارہ اونٹنی لائے ہیں۔ اس کے ساتھ اون کا ایک ادھڑا ہوا، پھٹا پرانا چوغہ اور لوہے کا طوق بھی ہے۔ اس منبر سے اترو تا کہ ہم تمہارے گلے میں طوق پہنائیں، پھٹے ہوئے چوغے میں لپیٹ کر اونٹنی پر سوار کرائیں اور باہر جہاں مدینہ کا کوڑا کرکٹ سڑتا ہے، وہاں چھوڑ آئیں'۔
اس شخص کا یہ کہنا تھا کہ چاروں طرف لوگوں نے شور شرابہ شروع کر دیا۔ ہجوم مشتعل ہو گیا اور لوگ منبر پر پتھراؤ کرنے لگے۔ ان میں سے ایک پتھر سیدھا عثمان کی پیشانی پر لگا اور وہ گر کر بے ہوش ہو گئے۔
مسجد کے منبر پر بیٹھے خلیفہ پر پتھراؤ؟ یہ ہر طرح سے کھلی بغاوت تھی۔ جیسا کہ مروان زور دیا تھا، شاید بغاوت کو آہنی ہاتھوں سے کچل دینے کا وقت آن پہنچا تھا۔ لیکن عثمان جو ابھی تک پتھراؤ کی وجہ سے بے حال تھے، لوگوں کے یوں ایک دم، الٹا ان ہی پر برسنے پر دم بخود تھے، انہوں نے طاقت کے استعمال سے انکار کر دیا۔ بھلے ان سے خلافت میں کئی غلطیاں سرزد ہوئی ہوں، وہ آخر کار ایک پارسا ، سچے اور خدا پرست مسلمان تھے۔ وہ کسی بھی صورت کسی مسلمان کا خون بہانے کا حکم نہیں دے سکتے تھے۔ جہاں انہوں نے سختی کے ساتھ طاقت کے استعمال سے روک دیا، وہیں اتنی ہی سختی سے خلیفہ کا عہدہ چھوڑنے، استعفیٰ دینے سے بھی انکار کر دیا۔ شاید وہ حالات کی نزاکت کو سمجھ نہیں رہے تھے یا شاید وہ واقعی یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ محمدؐ نہیں بلکہ خدا کا نائب ہیں؟ ان کا اصرار تھا کہ ایک خلیفہ کے مستعفی ہونے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ زور دے کر کہا، 'میں خدا کی طرف سے عطا کیے ہوئے کپڑے کیسے اتار دوں؟' یوں کہیے، یہ کہہ کر عثمان نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر دیے۔
مگر سوال یہ تھا کہ خلیفہ کی موت کا پروانہ کون لکھے گا؟ جو موجود تو تھا مگر لکھنا ابھی باقی تھا۔ جلد ہی یہ پروانہ بھی منظر عام پر آ گیا جسے ہم آج 'خفیہ خط' کے نام سے جانتے ہیں۔ حالات جب حد سے آگے بڑھ گئے تو چاروں طرف سے سفارت اور مفاہمت کی کوششیں شروع ہوئیں۔ جب واقعی یہ لگ رہا تھا کہ فتنہ ٹل گیا ہے، یہ خط اچانک منظر عام پر آ گیا۔ جیسے، کوئی جادو گر اپنی ٹوپی سے کبوتر نکال لاتا ہے۔
مسجد میں پتھراؤ کے بعد عثمان کی حالت غیر ہو گئی۔ وہ صحیح معنوں میں ہکا بکا تھے۔ جیسے کسی نے انہیں جھنجھوڑ کر جگا دیا ہو، وہ حالات کے اس نہج پر پہنچتا دیکھ کر خاصے افسردہ تھے۔ آخر کار انہوں نے باغیوں کے تقاضے کو سمجھنا شروع کیا اور ان کے مطالبے کے عین مطابق وعدہ کیا کہ وہ نہ صرف دو انتہائی نزاعی گورنروں یعنی کوفہ میں اپنے سوتیلے بھائی ولید اور مصر میں فسطاط کے گورنر، یعنی اپنے بہنوئی کو عہدے سے برطرف کر دیں گے۔ بلکہ مصر میں علی کے لے پالک بیٹے محمد بن ابو بکر کو نیا گورنر بھی مقرر کر دیا ۔ مزید یہ کہا کہ اگر کسی کو ان کی نیت اور فرمان پر شک ہے تو علی ان کے ضامن ہیں۔
اگر کوئی یہ سمجھنا چاہے کہ ایک دم امن قائم ہونے پر جو احساس ہوتا ہے، وہ کیا ہوتا ہے تو وہ اس دن مدینہ کی حالت دیکھا کرے۔ بحران ٹل گیا تھا اور انصاف کے تقاضے پورے ہو چکے تھے۔ علی کی ضمانت پر باغیوں نے فوراً ہی خیمے اکھاڑے اور واپس اپنی چھاؤنیوں کی طرف لوٹ جانے کا قصد کیا۔ سب کچھ خوش اسلوبی سے چل رہا تھا لیکن صرف تین دن بعد یہ ہوا کہ مصر واپس جاتے ہوئے، راستے میں محمد بن ابو بکر اور ان کے آدمیوں نے ایک قاصد کو دیکھا، جو ان کے پیچھے پیچھے گھوڑے پر سر پٹ چلا آ رہا تھا اور مبینہ طور پر قافلے سے آگے نکل کر پہلے ہی مصر پہنچنا چاہتا تھا۔
محمد بن ابو بکر کے حکم پر اس قاصد کو بیچ راستے میں دھر لیا گیا اور اس سے پوچھ گچھ کی۔ پتہ چلا کہ یہ قاصد خلیفہ کے لیے کام کرتا ہے۔ انہوں نے اس کے گھوڑے کی زین کے تھیلے کی تلاشی لی۔ اس تھیلے میں پیتل کی ایک بڑی دوات تھی جو عام طور پر پیشہ ور انشاء نویسوں کے استعمال میں رہتی تھی۔ اس کے ساتھ، سیاہی کا پاؤڈر اور گھولنے کے لیے سیال بھی تھا۔ اسی طرح تھیلے میں چرمی کاغذ اور پروں سے بنے قلم ، چاقو اور مہریں بھری ہوئی تھیں۔ اس تھیلے میں ایک خفیہ خانہ بھی تھا جس میں انہیں عثمان کی طرف سے جاری ہونا والا، ذاتی مہر بند خط ملا۔ یہ خط ان کے بہنوئی کے نام تھا۔ وہی بہنوئی جو مصر کا گورنر تھا اور جسے عثمان نے برطرف کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
اس خط کے مندرجات کے مطابق واپس لوٹنے والے باغیوں کے سپہ سالاروں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ تاکید کی گئی تھی کہ پہلے ان کے سر کے بال اور داڑھیاں مونڈ دی جائیں اور پھر ان میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارے جائیں۔ اگر اس کے بعد بھی کوئی زندہ بچتا ہے تو اسے پابند سلاسل کر دیا جائے۔
اس کے بعد کیا بچتا ہے؟ دھوکے اور فریب، دوہری چال کا تحریری ثبوت ہاتھ میں آتے ہی باغیوں نے آگے بڑھنے کی بجائے واپسی کی راہ لی۔ تین دن کے اندر وہ مدینہ پہنچ گئے اور اس دفعہ انہوں نے نخلستان سے باہر مضافات میں ٹھہرنے پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ کسی بھی صورت مذاکرات پر آمادہ نہیں تھے اور پہنچتے ہی محل کا گھیراؤ کر کے محاصرہ کر لیا۔
خط پر مہر یقیناً عثمان کی ہی تھی۔ انہوں نے مہر دیکھ کر اس کا اعتراف بھی کر لیا کہ مہر انہی کی تھی۔ لیکن خط کا کیا؟ انہوں نے قسم اٹھائی کہ خط اور اس کے مندرجات کا انہیں قطعاً کوئی علم نہیں تھا۔ کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا پورا سچ کیا ہے، یہی سچ ہے یا پھر تردید کا معقول جواز پیدا کیا جا رہا تھا؟ بعض لوگ طرح قائل تھے کہ عثمان جھوٹ بول رہے ہیں، دوسروں کا خیال یہ تھا کہ عثمان کی سچائی اور راست بازی پر کوئی شک نہیں تھا بلکہ یہ مروان کی کارستانی ہے۔ انہوں نے خط کی تحریر کی طرف اشارہ کیا، جو ان کے مطابق مروان کے ہاتھ کی لکھائی تھی۔ کچھ لوگوں نے کہا کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ خط کس نے تحریر کیا، کس کی لکھائی تھی یا اس کے پیچھے کون تھا ۔ اگر عثمان کی مرضی کے بغیر، ان کے علم سے باہر خلیفہ کی مہر کا یوں استعمال ہو سکتا ہے تو یہ انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت تھا۔ اسی بنا پر وہ مزید اس عہدے کے لائق نہیں تھے۔ ایک افواہ یہ بھی اڑی کہ در اصل یہ علی تھے جنہوں نے پورے پلان کے تحت یہ خط لکھوایا تھا، پھر اسے مصر روانہ کیا اور جانتے بوجھتے قاصد کو پکڑوا دیا تھا تا کہ عثمان کو ہٹانے کی راہ ہموار ہو سکے۔ اس افواہ کے جواب میں بھی ایک نئی بات فوراً ہی منظر عام پر آ گئی کہ در اصل علی کے خلاف یہ مروان کی رچائی ہوئی سازش ہے۔ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مدینہ کی فضا کا کیا حال ہو گا، جتنے منہ اتنی باتیں۔ جس کا جو جی چاہتا بے پر کی اڑا دیتا اور یوں ایک کے بعد دوسرا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے کئی سازشی نظریے جمع ہو گئے۔ اس سارے غبار میں صرف ایک بات یقینی تھی، سب ہی جانتے تھے کہ عثمان کا خاتمہ قریب ہے۔
باغیوں کی نیت عثمان کو قتل کرنے کی نہیں تھی۔ یا کم از کم پہلے پہل ان کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ وجہ یہ تھی کہ انہوں نے مدینہ پہنچتے ہی صرف محل کا محاصرہ کیا تھا، دھاوا نہیں بولا تھا۔ ان میں سے چند ایک ایسے ضرور تھے جو شروع دن سے خلیفہ کے خلاف' کھلم کھلا جہاد' پر زور دیتے چلے آ رہے تھے۔ لیکن وہ بھی ہچکچا رہے تھے کہ نا سمجھی میں ایسا قدم اٹھ جائے جس کے بعد قتل و غارت کی ایک لہر شروع ہو جائے گی۔ جو آنے والی صدیوں میں اسلامی تاریخ کو گہنا کر رکھ دے گی اور آج بھی اس کا اثر ختم ہونے میں نہیں آ رہا ہے۔ تقریباً سب ہی لوگ اس بات پر متفق تھے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کرے، یہ آخری حد ہو گی۔ یہ تو ایک عام مسلمان کے خون کی حرمت تھی، خلیفہ پر وار کرنے کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
باغیوں کا مطالبہ کسی بھی صورت عثمان کو قبول نہیں تھا۔ وہ خلیفہ کی فوری اور غیر مشروط علیحدگی چاہتے تھے۔ بات چیت اور مذاکرات کا اب کوئی راستہ باقی نہیں تھا۔ علی نے پوری کوشش کر کے دیکھ لی لیکن ان کی تمام تر سعی بے سود تھی۔ وہ معاہدے کے ضامن تھے اور جس قدر باغی اس دغا پر رنجیدہ تھے، اتنا ہی علی بھی اس دھوکے پر خفا تھے۔ وہ صاف صاف دیکھ سکتے تھے کہ اس کے نتیجے میں پرتشدد کاروائیاں شروع ہو گئیں تو وہ کس قدر بھیانک رخ اختیار کر سکتی ہیں۔ چنانچہ، انہوں نے اپنے بیٹوں حسن اور حسین جو اب جوانی میں تھے، انہیں عثمان کے محل پر پہرہ بٹھا دیا۔ ان کے ہاتھ میں اس کے سوا کرنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ عثمان کس قدر ضدی اور ضرورت پڑی تو کسی بھی صورت پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہوں گے۔ وہ اب تقریباً بے بس ہو چکے تھے اور آنے والی تباہی کو روکنے سے قاصر تھے۔ یہ انتظام کر کے وہ مسجد میں جا بیٹھے اور اب ان کا زیادہ تر وقت وہیں گزرنے لگا۔
حالات ایسا رخ اختیار کر گئے تھے کہ عائشہ کا حال بھی اب علی سے مختلف نہیں تھا۔ وہ بھی اب اس مسئلے کا حتمی حل تلاشنے سے قاصر تھیں۔ مناسب یہی تھا کہ علی کی طرح وہ بھی کنارہ کر لیتیں اور اپنے طریقے سے انہوں نے یہی کیا۔ جیسے علی، ویسے ہی معاملات اب عائشہ کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ اب وہ کچھ بھی کر لیں، اس 'سٹھیائے ہوئے سترے بہترے' کے خلاف لوگوں کے جذبات کو ٹھنڈا کرنے میں ناکام رہتیں۔ عائشہ کو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ حالات یہ رخ اختیار کر لیں گے۔ انہوں نے تو محمدؐ کی چپل کو علامت بنا کر عثمان کو ہوش دلانے کی کوشش کی تھی، انہیں خبردار کیا تھا۔ لیکن اب ایسا لگ رہا تھا کہ جس راستے پر وہ عثمان کو واپس لانا چاہتی تھیں، وہ کہیں گم ہو کر رہ گیا تھا۔ ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ 'خفیہ خط' جیسی گھناؤنی سازش بھی رچائی جا سکتی ہے۔ آخر یہ کیونکر ہوا کہ حالات ایسے بن گئے کہ ایک طرف علی اور دوسری جانب عائشہ ، دونوں ہی بے بس تھے۔ وہ دونوں ہی ایک کشتی کے سوار تھے اور مدینہ کے گنے چنے فہم و فراست، سمجھ رکھنے والوں میں سے یہ دو نامی گرامی لوگ بھی ہار مان چکے تھے؟ عائشہ کا سوتیلا بھائی، ابو بکر کا بیٹا خلیفہ کے گھر کا محاصرہ کیے ہوئے تھا؟ یہ کیسی مشکل تھی کہ اب وہ پورے ہوش و حواس میں، نہ تو اپنے بھائی اور نہ ہی عثمان کی طرف داری کر سکتی تھیں؟ جب روز بروز یہ کشمکش بڑھتی ہی گئی، عائشہ بھی گہرے ہوتے تصادم اور خیر خواہی اور بد خواہی، اپنے اور پرائے کے گھن چکر میں پھنس کر رہ گئیں۔ دونوں طرف ان کے اپنے ہی تھے۔ پھر یوں ہوا کہ ایک دن ان کے اعصاب جواب دے گئے اور انہوں نے بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کنی کنارہ اختیار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ انہوں نے قصد کیا کہ وہ عمرے کی غرض سے مکہ چلی جائیں گی۔
جیسے ہی مروان کو عائشہ کے اس ارادے کی خبر ہوئی، وہ فوراً ہی خطرے کو بھانپ گیا۔ عائشہ کا ان حالات میں چلے جانے کا مطلب یہ تھا کہ باغیوں کو کھلی چھٹی مل جاتی اور وہ اس کو یوں سمجھتے کہ وہ کچھ بھی کرنا چاہیں کر سکتے تھے ۔ ان کو یہ پیغام ملتا کہ عائشہ ان کے راستے میں حائل نہیں ہوں گی۔ بلکہ وہ تو اس کا یہ مطلب بھی سمجھیں گے کہ اس فعل سے وہ باغیوں کے مطالبات اور اقدامات کی خاموش مگر انتہائی موثر انداز میں حمایت کر رہی ہیں۔ مروان رات کی تاریکی میں محل سے نکلا اور عائشہ کے گھر پہنچ گیا۔ اس نے زور دیا کہ وہ یوں نہیں جا سکتیں۔ اس کے بیان کا لب لباب یہ تھا کہ عائشہ نے اپنی تقاریر اور خطوط سے یہ حالات پیدا کرنے میں حصہ ڈالا تھا، اب دوسروں کے ساتھ یہ ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ مدینہ میں ہی ٹھہریں اور مسئلے کا حل تلاش کریں۔ اگر عثمان نے انہیں ' لچے لفنگوں کو پناہ دینے' کا طعنہ دیا تھا تو یہ ان کے حصے پر غلطی تھی۔ عثمان کو اس وقت عائشہ کے اثر و رسوخ کی اشد ضرورت ہے اور اس سے پہلے کہ معاملات ہاتھ سے پوری طرح نکل جائیں، عائشہ آگے بڑھیں اور اپنا کردار ادا کریں۔
لیکن اب بہت دیر ہو چکی تھی ۔ مروان نے عائشہ سے رجوع کرنے میں بہت دیر کر دی تھی۔ اگر خلیفہ کا دست راست چند ہفتے پہلے اپنی انا کو ایک طرف رکھ کر ان کی طرف چلا آتا تو وہ یقیناً کچھ نہ کچھ کر ہی لیتیں۔ وہ اس وقت اسے لعن طعن کرتیں اور پھر جو ہو سکتا، کر گزرتیں۔ مسئلے کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کرتیں بلکہ اپنے لیے بھی کوئی نہ کوئی راہ نکال لاتیں۔ لیکن اب کرنے کو کچھ نہیں بچا تھا۔
یہ حال دیکھ کر مروان آپے سے باہر ہو گیا اور چلانے لگا۔ اس نے عائشہ پر الزام لگایا، 'تم ملک کو یوں فتنے میں جھونک کر اب الٹے قدم بھاگ رہی ہو؟' عائشہ نے اس کے الزام کے جواب میں غصے سے کہا، 'اللہ کرے تم اور تمہارا وہ چچا زاد، جس نے تم پر اعتبار کیا۔۔۔ دونوں ہی کے پاؤں میں چکی کے باٹ باندھے جائیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو میں اپنے ہاتھوں سے تم دونوں کو سمندر کی تہہ میں دفنا کر آؤں گی'۔ یہ کہہ کر انہوں نے رخصت لی اور مکہ روانہ ہو گئیں۔
خاتمے کا آغاز ایک افواہ سے ہوا۔ باغیوں میں یہ بات پھیل گئی کہ محاصر خلیفہ کی مدد کے لیے شام کے گورنر کی جانب سے روانہ کی گئی کمک راستے میں ہے اور جلد ہی مدینہ پہنچ جائے گی۔ یہ کمک کبھی نہیں آئی اور کوئی نہیں جانتا کہ شام کے گورنر کو کبھی خلیفہ کی جانب سے کمک بھجوانے کا کوئی حکم بھی دیا گیا تھا یا نہیں؟ اور اگر گورنر کو یہ حکم ملا بھی تھا تو اس نے اس کو نظر انداز کر دیا تھا، کیونکہ یہ کمک کبھی مدینہ نہیں پہنچی اور اس کے اجراء کا تاریخ میں بھی کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ہر دو صورت، اگر شام سے کمک روانہ بھی ہوتی تو یہ بے سود تھا۔ بلکہ اس خبر یا کہیے افواہ سے تو جیسے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی گئی۔ قصہ تمام ہو گیا۔ افواہ نے اپنا کام کر دکھایا اور انجام آن پہنچا۔
حتمی جھڑپ میں پہلی موت، محمدؐ کے ایک دیرینہ مگر عمر رسیدہ ساتھی کی ہوئی۔ وہ بیساکھیوں کے سہارے چلتے ہوئے آگے آئے اور محاصرے کی حد میں داخل ہو گئے۔ وہ اپنے تئیں مفاہمت کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے چلا کر عثمان کو آواز دی اور کہا کہ وہ بالکونی پر نکل کر خلافت سے علیحدگی کا اعلان کریں۔ عثمان کی بجائے اندر سے مروان کا ایک آدمی نکلا اور اس نے دور سے نشانہ باندھ کر اس عمر رسیدہ بزرگ کو پتھر دے مارا۔ یہ پتھر ان کے سر پر لگا اور وہ موقع پر ہلاک ہو گئے۔ یہ شخص جس نے پتھر مارا تھا، بعد میں بلک بلک کر روتا ہوا پایا گیا۔ دھاڑیں مارتا اور کہتا، 'اللہ، اے اللہ! میں ہی وہ بدنصیب ہوں جس نے لوگوں کے بیچ لڑائی شروع کروائی'۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا یہ اس شخص کا انفرادی فعل تھا یا اس نے مروان کے حکم پر ایسا کیا تھا؟
تاریخ میں اس روز کو 'محل کا دن' کے نام سے یاد کیا گیا ہے حالانکہ ساری کاروائی بمشکل ایک گھنٹے کے اندر مکمل کر لی گئی تھی۔ محل کے محافظوں کی تعداد باغیوں کے مقابلے میں بہت کم تھی۔ جب مروان اور علی کے بڑے بیٹے حسن زخمی ہو گئے تو باقی محافظ پیچھے ہٹ کر بھاگ نکلے۔ راستہ صاف ہو گیا تو باغیوں کا ایک چھوٹا گروہ ،جس کی قیادت محمد بن ابو بکر کے ہاتھ میں تھی، موقع دیکھ کر محل میں داخل ہو گیا۔ وہ سیڑھیاں چڑھ کر عثمان کے ذاتی رہائشی کمرے میں پہنچ گئے جہاں اس وقت عثمان اور ان کی شامی بیوی نائلہ موجود تھے۔
بزرگ خلیفہ عثمان غیر مسلح تھے اور فرش پر بیٹھے چرمی کاغذ پر تحریر شدہ قران کے ایک نسخے کا مطالعہ کر رہے تھے۔ قران کا یہی نسخہ بعد ازاں حوالے کے طور پر استعمال کیا جائے گا اور پوری مسلم دنیا میں قران کی یہی حالت اور اس کی ترتیب مستند تسلیم کی جائے گی۔ باغیوں کا مسلح گروہ کمرے میں داخل ہو کر ان کے سر پر آن پہنچا مگر وہ بدستور اطمینان سے بیٹھے، قران کا مطالعہ کرتے رہے جیسے یہ لازوال الہامی نسخہ، ان کی حفاظت کرتے ہوئے فانی انسانوں کی تلواروں کے وار سے بچا لے گا۔ شاید عثمان کا یہی اطمینان اور یوں باغیوں کو نظر انداز کر کے مطالعے میں مشغولیت دیکھ کر محمد بن ابو بکر کو طیش آ گیا۔ عثمان ابھی بھی ،جب کہ یہ لوگ ان کے سر پر آن پہنچے تھے، خود کو ناقابل تسخیر سمجھ رہے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ شاید وہ دنیاوی طاقتوں کے ضرر سے محفوظ ہیں۔ وہ مبرا ہیں؟ حالانکہ صاف طور پر وہ ایک انتہائی خطرناک حالت میں گھر چکے تھے۔ یا شاید شدت پسندی نے باغیوں کے ذہنوں میں اب تک اپنے قدم اس قدر مضبوطی سے جما لیے تھے کہ اب تشدد اور مار دھاڑ، خلیفہ پر حملہ مبرم ہو چکا تھا۔ اس کا کوئی علاج نہ تھا، گویا یہ بس ایک کام تھا۔ ان کا سامنا گریز ناپذیر سے تھا۔
محمد بن ابو بکر نے پہلا وار کیا۔ اسلام کے پہلے خلیفہ ابو بکر کا بیٹا، تیسرے خلیفہ کے قاتلوں میں سب سے آگے تھا۔ خنجر کا تیز وار جو عثمان کی پیشانی کو چیرتا ہوا نکل گیا اور خون کا فوارہ پھوٹ گیا۔ خون دیکھتے ہی دوسرے بھی ہتھے سے اکھڑ گئے۔ عثمان اپنی پشت پر گر پڑے اور باغی ان کے سینے پر چڑھ گئے۔ کئی خنجروں سے پہلے ایک ، دوسرا اور پھر تیسرا حملہ ہوا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پے در پے وار ہونے لگے اور چند منٹوں کے اندر اسلام کے تیسرے خلیفہ عثمان کا کام تمام ہو گیا۔ خون کے چھینٹے دیواروں، قالین اور سامنے پڑے رحل پر سجے قران کے صفحات پر بھی پڑے۔ یہ اس قدر عجیب و غریب، بے حرمتی کا منظر رہا ہو گا کہ آج بھی اس کا تصور کریں تو عثمان خون کے چھینٹے پوری تاریخ اسلام پر اڑتے ہوئے نظر آئیں گے۔ یہ منظر اسلامی تاریخ کے کونے کھدرے تک ہولناکی پھیلا دے گا اور یہ منظر آج بھی اور آنے والے وقت کے آخری لمحے تک شیعہ اور سنی سمیت تمام مسلمانوں کا پیچھا کرے گا۔ اگرچہ عثمان کی جان بہت پہلے نکل چکی تھی مگر کمرے میں ہیجان بھرا ہوا تھا۔ قاتل دیر تک ان کے مردہ جسم میں خنجر گھونپتے رہے۔
نائلہ نے یہ منظر دیکھا تو وہ دوڑ کر عثمان کی جانب لپکیں۔ وہ قاتلوں کو خدا اور رسول کے واسطے دے کر روکنے کی کوشش کرنے لگیں کہ کم از کم لاشے کی بے حرمتی نہ کریں۔ وہ ہاتھ جوڑے خون میں لت پت عثمان کی میت پر گر پڑیں اور ایسے میں ایک جانب سے خنجر لہرایا اور نائلہ کے داہنے ہاتھ کی انگلیاں کاٹتا ہوا دوسری جانب نکل گیا۔ وہ درد سے چیخ اٹھیں۔ نائلہ کی چیخ اس قدر تیز اور دل خراش تھی کہ کٹے ہوئے ہاتھ سے نکلتے ہوئے خون نے سر پر جھکے قاتلوں کے منہ رنگے اور خطرے کی سیٹی جیسی، کان چیرتی ہوئی نائلہ کی چیخ ان کے کانوں میں پڑی تو تب جا کر انہیں روک لگی ۔ وہ سب ایک دم پیچھے ہٹ گئے۔
کہا جاتا ہے کہ محمد بن ابو بکر نے عثمان پر پہلا وار کیا لیکن ان کے خنجر نے جان ضبط کرنے والی ضرب نہیں لگائی۔ اس بات کا کبھی پتہ نہیں چل سکے گا کہ عثمان کی جان کس کے خنجر نے لی، قاتلوں میں سے کون تھا جس کے ہاتھ نے انہیں ہلاک کیا۔ لیکن اصل سوال یہ نہیں ہے۔ اصل سوال جو ہمیشہ ہی اسلام کا پیچھا کرتا رہے گا، وہ یہ ہے کہ آخر اس ہاتھ، خنجر کو کون لایا تھا؟ اس سب کے پیچھے کون تھا؟ یا ، اس سب کے پیچھے کون نہیں تھا؟ بنو امیہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے بعد ازاں تاریخ میں درج کروایا کہ، 'یہ ایسی تلوار تھی جسے عائشہ نے میان سے نکالا، طلحہ نے دھار تیز کی اور علی نے اسے زہر میں تر کیا'۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال یہ تھا کہ یہ سب مروان کی کارستانی تھی۔ مروان نے ہی تلوار کھینچی، اسی نے دھار تیز کی اور یہی وہ شخص ہے جس نے اسے زہر میں ڈبو کر قاتلوں کے ہاتھ میں تھما دیا۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے، جن کا ماننا تھا کہ یہ مدینہ سے دور، شام میں بیٹھے طاقتور گورنر معاویہ کا کیا دھرا تھا۔ معاویہ کے بارے افواہ تھی کہ انہوں نے کمک بھجوانے کا وعدہ کیا تھا اور وہ امداد کبھی نہیں پہنچی۔
اس تمام قصے میں صرف ایک بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ تیسرے خلیفہ عثمان کے قتل میں معلوم اور نامعلوم، سب ہی لوگوں کا ہاتھ تھا۔ قاتلوں کے ارادے ایک ہی وقت میں نیک اور بد تھے۔
قتل کے وقت عثمان نے جو قمیض پہن رکھی تھی، وہ جگہ جگہ سے پھٹ چکی تھی اور خون سے تر تھی۔ عثمان تو مر گئے مگر ان کی یہ قمیض اب ایک لمبے عرصے تک زندہ رہے گی۔ قتل کے بعد کسی نے، کوئی نہیں جانتا کہ کس نے، مگر اس کی اہمیت کو سمجھتے بوجھتے، دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نکال لایا اور اس میں نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں اور چند دوسری باقیات لپیٹ کر اپنے ساتھ لے گیا۔ اگلی صبح، مدینہ اور اس کے مضافات میں عثمان کے قتل کی خبر کے جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی اور پتہ چلا کہ علی نے نئے خلیفہ کی حیثیت سے منصب سنبھال لیا ہے۔ ایسے میں، ایک چھوٹا سا قافلہ مدینہ سے نکل کر ایک سفر پر گامزن تھا۔ اس قافلے کا رخ ستر میل دور دمشق کے شہر کی جانب تھا اور ایک گھوڑے کی زین میں کسے ایک عام سے تھیلے میں کچھ سامان بھرا ہوا تھا۔ یہ سامان، عثمان کی خون سے آلود تار تار قمیض اور نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں تھیں۔
کیا اس قافلے کو روانہ کرنے والی عثمان کی شامی بیوی، نائلہ تھیں؟ یا مروان تھا؟ یا ام حبیبہ تھیں جو محمدؐ کی بیواؤں میں واحد اموی تھیں اور شام کے گورنر معاویہ کی بہن تھیں؟ وہ جو کوئی بھی تھا، اس کا مقصد واضح تھا۔ یہ ڈراؤنی اور مہیب باقیات بالآخر انتقام کا تقاضا کرنے کے لیے انتہائی موثر ہتھیار ثابت ہوں گی۔ جب یہ باقیات دمشق پہنچیں اور معاویہ کو پیش کی گئیں تو حکم جاری ہوا کہ عثمان کی قمیض اور کٹی ہوئی انگلیوں کو دمشق کی مرکزی مسجد میں نمایاں جگہ پر نمائش پر رکھ دیا جائے۔ یہ باقیات اگلے ایک برس تک یہیں عوام کی نظروں کے سامنے پڑی رہیں گی۔
اس زمانے کے ایک شامی تاریخ دان نے درج کر رکھا ہے، 'ہر روز قمیض کو منبر پر سجا دیا جاتا۔ بعض اوقات اسے منبر پر بیٹھنے کی جگہ پر بچھا دیا جاتا اور کبھی کبھار پورے منبر کو اس سے ڈھک دیا جاتا۔ نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں قمیض کے کف سے بندھی ہوتی تھیں۔ ان میں سے دو انگلیاں پوری طرح جوڑوں سمیت سلامت اور ہتھیلی کے ایک حصے سے جڑی ہوئی تھیں۔ دوسری دو انگلیاں کٹ کر علیحدہ ہو گئی تھیں اور آدھا انگوٹھا تھا۔ لوگ روز آتے اور ان باقیات کو دیکھ کر زار و قطار رونے لگتے۔ کئی شامی فوجیوں نے قسم اٹھائی کہ جب تک وہ عثمان کے قاتلوں کو قتل نہ کر دیں یا اگر ان کے مقصد کے اس راستے میں کوئی رکاوٹ ڈالے، اسے بھی قتل نہ کر دیں، وہ اپنی عورتوں کے ساتھ شب بسری نہیں کریں گے۔'
مدینہ میں عثمان کو انتہائی جلدی اور خاموشی سے دفن کر دیا گیا۔ انہیں ابو بکر اور عمر کی طرح محمدؐ کے پہلو میں نہیں بلکہ نخلستان کے مرکزی قبرستان میں دفن کیا گیا۔ اگر اس موقع پر کسی نے ماتم کیا یا سوگ منایا تو وہ ذاتی سطح پر اپنے گھر میں محدود رہا۔ عوامی سطح پر تو مدینہ میں نسبتاً سکون کی فضا تھی۔ مدینہ کے لوگ، باغیوں کی قیادت میں علی کی طرف متوجہ ہوئے اور انہیں اپنا اگلا رہنما مقرر کر دیا۔ ویسے بھی، ان حالات میں اب مدینہ میں علی کے سوا سربراہی کے لائق کوئی دوسرا بچا ہی نہیں تھا۔ وہ شخص جو ہمیشہ سے حق رہبری پر اصرار کرتا آیا تھا، بالآخر اسے وراثت مل ہی گئی۔ مدینہ کے لوگوں کو بالآخر ان کا من چاہا خلیفہ مل گیا تھا۔ عوامی سطح پر نخلستان کی فضا میں اسی وجہ سے طمانیت بھری تھی۔
16 جون، 656ء کے دن، لوگ جوق در جوق مسجد میں جمع ہو کر علی کے ہاتھ پر بیعت کرنے لگے۔ بالآخر 'خاک اور خار' کے سال تمام ہو گئے۔ یہ نہ صرف علی بلکہ ان کے حامیوں اور امت کے دوسرے لوگوں کے لیے بھی ان کے تئیں مشکل وقت کا اختتام تھا۔
لیکن انہیں کون بتاتا کہ خاک اور خار سے چھٹکارا اتنا آسان نہیں ہوتا۔ منہ میں بھری مٹی اتنی آسانی سے کہاں ہضم ہوتی ہے َ؟ کانٹوں سے لگے زخم، نا سور بن جائیں تو پھر کہاں بھرتے ہیں؟ لوگوں کو بالکل خبر نہیں تھی کہ علی کا دور صرف پانچ سال پر مشتمل ہو گا۔ اس وقت تو وہ خوشیاں منا رہے تھے، ہر طرف نئے رہنما کا خیر مقدم جاری تھا۔ علی نے اپنے لیے خلیفہ کا خطاب پسند نہیں کیا بلکہ امیر المومنین ہی کہلوایا۔ کہنے لگے کہ خلیفہ صرف اور صرف ابو بکر اور عمر کا خطاب تھا۔ ان کے بعد تو بنو امیہ نے اس خطاب کو بدعنوانی اور اقربا پروری سے آلودہ کر دیا تھا۔ بجائے اس کے، وہ اپنے لیے ایک نیا خطاب، 'امام' پسند کریں گے۔ امام کے لغوی معنی اس شخص کے ہیں جو پہل کرے، آگے کھڑا ہو۔ ایک طرف تو یہ خطاب نہایت عاجزانہ اور انکسار سے پُر تھا کہ یہ وہ شخص ہے جو نماز میں جماعت کی رہبری کرتا ہے۔ مگر دوسری طرف امام سے مراد یہ تھی کہ علی تمام مسلمانوں کے روحانی اور سیاسی رہنما ہیں۔ ہم دیکھیں گے کہ آگے چل کر 'خلیفہ' اور' امام' کے خطابات کے بیچ، سیاست اور دینیات کی ایک پوری دنیا جگہ گھیرنے کو تیار کھڑی ہو گی۔
علی کی منزل یہ تھی کہ وہ محمدؐ کے بعد واقعی وہ رہنما ثابت ہو سکتے تھے ، جنہیں شیعہ اور سنی دونوں کی ہی حمایت حاصل ہوتی اور وہ اسلام کے واقعی رہنما قرار پاتے۔ اگرچہ سنی علی کی اسی طرح عزت و حرمت کرتے ہیں جیسا کہ وہ ان سے پہلے تین خلفاء کے قائل ہیں اور وہ انہیں چوتھا خلیفہ گردانتے ہیں۔ ان کے یہاں یہ چار، خلفاء راشدین کہلاتے ہیں۔ یعنی سیدھی راہ پر، راہنمائی کے اہل ہیں۔ لیکن شیعہ خلافت کے سرے سے قائل ہی نہیں ہیں۔ وہ علی کو بھی خلیفہ نہیں مانتے اور ان سے پہلے تین خلفاء کا حق اختیار تو ان کے نزدیک وجود ہی نہیں رکھتا۔ ان کے مطابق علی تب، آج اور ہر زمانے میں محمدؐ کے جائز اور واقعی جانشین رہیں گے۔ وہ صحیح معنوں میں اسلام کے روحانی رہبر ہیں جن کا علم، فہم اور فراست ان کے بعد ان کے فرزندوں حسن اور حسین کو منتقل ہوا تا کہ وہ آگے چل کر اپنی اولاد کو یہ حق اور خدائی دین منتقل کر سکیں۔ علی بارہ اماموں میں پہلے امام تھے جو محمدؐ اور فاطمہ کے ساتھ، ان کا گھرانہ شمار ہوتے ہیں۔ صرف، اور صرف یہی لوگ ہیں جو واقعی محمدؐ کا گھرانہ ہیں۔
جون کی اس دوپہر، جب سب لوگ قطاروں میں کھڑے علی کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے، اس وقت کسی کے ذہن میں شیعہ اور سنی کا تصور بھی نہیں تھا۔ ہر شخص اپنی باری آنے پر آگے بڑھتا، علی کے ہاتھ پر ہاتھ دھر کر، بازو جوڑتا اور خدا کے حضور حلف اٹھاتا کہ علی کا دوست اس کا دوست ہے اور علی کا دشمن بھی اس کا دشمن ہے۔ لوگوں میں عام خیال یہ تھا کہ آخر کار، تقسیم اور پھوٹ کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ علی وہ شخص ہیں جو دین اسلام کی حفاظت کریں گے اور امت کو یکجا کر دیں گے۔ اس کے بعد لالچ نہیں رہے گی، کوئی شخص اپنے آپ کو دوسرے سے برتر نہیں سمجھے گا، سرفرازی اور برگزیدگی کا دعویٰ نہیں کرے گا اور بد عنوانی کو جڑ سے نکال کر پھینک دیا جائے گا۔ بنو امیہ نے جو جال بچھایا تھا، ان کی تمام تر چالیں اب ناکام کر دی جائیں گی۔ مستقبل میں ان کی طرف سے کی جانے والی ایسی کوئی بھی کوشش دوبارہ ہوئی تو امت ان سے نبٹ لے گی، لوگ اپنے ہاتھ سے ایسی کسی بھی سازش کا خود گلا گھونٹ دیں گے۔ ایک نئی صبح طلوع ہو چکی تھی، ایک نئے دور کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔ علی کی رہنمائی میں، لوگوں کا خیال تھا کہ وہ ایک بار پھر پیغمبر کے دکھائے سچے راستے پر گامزن ہو جائیں گے۔ انہیں کوئی دوبارہ بھٹکا نہیں سکے گا۔
اسی احساس کے تحت یہاں مدینہ میں جشن کا سماں تھا۔ ڈھول بج رہے تھے اور بچے یہاں وہاں کھیل کود اور رقص کرتے پھرتے تھے۔ عورتوں نے جوش میں آ کر شور مچانا شروع کیا تو کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ فضا میں ایک خوشی پھیلی ہوئی تھی۔ جب مدینہ میں یہ سب ہو رہا تھا، وہاں عثمان کی خون آلودہ قمیص اور نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں دمشق میں مرکزی مسجد کے منبر پر نمائش کے لیے پہنچائی جا رہی تھیں۔ عائشہ کا اب مکہ میں قیام تھا، وہ آگے کی حکمت عملی پر غور کر رہی تھیں۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی قسط نمبر 8 کے لیے یہاں کلک کریں۔  نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر