اول المسلمین کے بعد - علی - 08

 
جوں ہی کتوں نے بھونکنا شروع کیا تو عائشہ سمجھ گئیں کہ یہ برا شگون ہے۔ آخر کتوں کا بھونکنا برا شگون کیسے ہو سکتا ہے؟ کتے تو بھونکتے ہی رہتے ہیں۔ صحرا میں شام ہوتے ہی جب بھیڑیے، لگڑ بگڑ اور لومڑیاں گہری ہوتی تاریکی میں شکار کے لیے نکلتے تو پالتو اور جنگلی کتے بھونکا ہی کرتے تھے۔ کتوں کے بھونکنے میں کوئی خاص بات نہیں تھی۔ اصل بات تو اس مقام سے متعلق تھی جہاں کتے بھونک رہے تھے ۔ عائشہ کو فوراً ہی بے چینی شروع ہو گئی۔ یہ وہی جگہ ہے جس کے بارے محمدؐ نے اپنی بیویوں کو بہت پہلے خبردار کر دیا تھا۔
عائشہ کی فوج نے مکہ اور عراق کے دور دراز نشیبی علاقے میں چھوٹے سے نخلستان میں پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔ یہاں رات بسر کرنے کا ارادہ تھا۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا کہ شام کے سائے گہرے ہونے لگے۔ معمول کے مطابق کتوں نے بھونکنا شروع کر دیا۔ عائشہ نے پوچھا، 'یہ کونسی جگہ ہے؟' جواب سن کر وہ سخت خوفزدہ ہو گئیں۔ یہ حوئب کا چشمہ تھا۔
'انا للہ وانا الیہ راجعون'، عائشہ چلائیں۔ یہ کلمہ قران کی دوسری سورت کی ایک آیت کا آدھا حصہ ہے جو عام طور پر مسلمان نقصان، موت ، موت کے منہ میں یا بری خبر سن کر ادا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے، 'ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہیں'۔ عائشہ کی حالت دیکھ کر سب کو پریشانی لاحق ہوئی اور لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے۔ 'کیا تم دیکھتے نہیں؟' وہ التجائی انداز میں بولیں، 'یہ کتے مجھ پر بھونک رہے ہیں۔ پیغمبر نے ایک دفعہ اپنی تمام بیویوں کو نہایت پراسرار طریقے سے مخاطب کر کے کہا تھا، 'اے کاش میں جان سکتا کہ تم میں سے کس پر حوئب کے کتے بھونکیں گے'۔ وہ دیوانہ وار کہتی جاتیں، 'افسوس، صد افسوس! وہ میں ہوں۔ مجھے واپس لے جاؤ۔ مجھے واپس لے چلو!'
آخر عائشہ نے ایسا کیا کر دیا تھا؟ کیا چیز تھی جو انہیں اب یہاں پہنچ کر پریشان کر رہی تھی؟ وہ ایک منظم فوج کو لیے عراق کے میدانوں کی خاک کیوں چھان رہی تھیں؟ پچھلے چند مہینوں میں یہ پہلی بار تھی کہ ان کے دل و دماغ میں شک گھر کر گیا تھا اور اب جب کہ وہ یہاں تک پہنچ ہی چکی تھیں، انہیں اپنا اندر مفلوج ہوتا ہوا محسوس ہوا۔
جب عثمان کی موت کی خبر پہنچی تو وہ اس وقت مکہ میں ہی تھیں۔ انہیں ہر گز یقین نہ آیا۔ پتہ چلا کہ ان کے سوتیلے بھائی محمد بن ابو بکر قاتلوں میں شامل تھا اور سب سے بد تر بات یہ تھی کہ لوگوں نے علی کو اگلی ہی صبح آگے بڑھ کر گلے لگا لیا تھا؟ سننے میں آیا تھا کہ مدینہ میں خوشی کے ڈھول بجائے گئے ہیں۔ ہر طرف منادی کی گئی اور علی کو انتہائی جوش و خروش کے ساتھ 'امیر المومنین' چن لیا گیا ہے۔ اگرچہ عائشہ نے عثمان کو 'سٹھیایا ہوا بڈھا' قرار دیا تھا یا وہ محمدؐ کی چپل اٹھائے مسجد میں چلی آئی تھیں اور کھلے عام عثمان پر محمدؐ کی سنت سے رو گردانی کا الزام لگایا تھا۔ یہ بھی درست تھا کہ انہوں نے خط لکھ کر لوگوں کو خلیفہ کے خلاف بغاوت پر اکسایا تھا یا۔ پھر یہ بھی کہ مدینہ سے نکلتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ان کو موقع ملے تو وہ عثمان کے پیروں سے چکی کے باٹ باندھ کر سمندر میں ڈبو آئیں۔ وہ عثمان کو سبق ضرور سکھانا چاہتی تھیں لیکن ان کے اقوال و افعال کا ہر گز مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ یوں قتل کر دیے جائیں۔ ہر گز نہیں۔ عثمان کا قتل تو رہا ایک طرف، بھلا وہ کب چاہتی تھیں کہ بعد ان کے خلافت کی باگ ڈور علی کے ہاتھ میں آ جائے؟
عثمان کا قتل اور پھر علی کی خلافت، عائشہ کو دونوں ہی باتوں سے شدید صدمہ پہنچا تھا۔ وہ غصے سے بے قابو ہو رہی تھیں۔ بلکہ بوکھلا گئیں۔ اس لیے بغیر سوچے سمجھے سیدھا کعبہ کے احاطے میں جا پہنچیں۔ کالے پتھر کے پہلو میں کھڑے ہو کر اونچی آواز میں، تا کہ سب سن لیں انصاف کے تقاضے میں تقریر کرنے لگیں،
'مکہ کے لوگو!' وہ منادی کرتے ہوئے بولیں، 'بلوائیوں نے، چھاؤنیوں سے آئے بد معاشوں نے، جاہل اور اجڈ بدوؤں اور خارجی غلاموں نے مل کر سازش رچائی ہے۔ ان ظالموں نے نہ صرف یہ کہ مقدس خون کی حرمت پامال کی ہے بلکہ وہ تو شہر مدینہ کی حرمت اور تحریم کی خلاف ورزی کرنے سے بھی باز نہیں آئے۔ یہ ایک انتہائی قبیح اور کریہہ جرم ہے۔ انہوں نے ظلم کیا ہے!' یہ سنتے ہی پورا مجمع جوش سے پاگل ہو گیا۔ لوگ اس ظلم عظیم کے خلاف نعرے لگانے لگے۔ اب عائشہ فیصلہ کن انداز میں تقریر کو جاری رکھے ہوئے تھیں، 'اللہ کی قسم! عثمان کی انگلی کی پور ایسی دنیا سے بہتر ہے جہاں ان کے قاتلوں جیسے لوگ بھرے ہوں۔ اے لوگو! باہر نکلو اور عثمان کے خون کا بدلہ لو۔ یہی امت کی طاقت ہے۔ یہی اسلام کی خدمت ہے!'
عائشہ کی شعلہ بیانی پر مجمع میں جوش و خروش کی ایک لہر دوڑ گئی۔ چاروں طرف ان کے انصاف کے حق میں تقریر پر نعرے بازی ہونے لگی اور لوگ یک زبان ہو کر چلانے لگے، 'عثمان کا انتقام لو! عثمان کا انتقام لو!'۔ لوگوں کے جذبات ا س لیے بھی آسمان کو چھو رہے تھے کہ اگر ام المومنین، یعنی ماننے والوں کی ماں انصاف کی پیروی میں اپنے سوتیلے بھائی کے جرائم پر اسے موت کے گھاٹ اتارنے پر تیار ہے تو اللہ کی قسم، ہر شخص ان کا اس مقصد میں ساتھ دے گا۔ اگر وہ عدل کو رشتہ داری سے مقدم سمجھتی ہیں، اگر ان کے نزدیک راست بازی خون کے بندھنوں سے مقدم ہے تو بخدا ان کا طریق بھی یہی ہو گا۔ محمدؐ اور اسلام کے نام پر وہ ، یعنی مکہ کے بیٹے عثمان کے خون کا بدلہ لیں گے اور مدینہ کے باغیوں کو نیست و نابود کر کے رکھ دیں گے۔
عائشہ نے کبھی رک کر ان محرکات پر غور نہیں کیا جس کے نتائج آگے چل کر مسلمانوں میں باقاعدہ خانہ جنگی کے آغاز کی صورت برآمد ہوں گے۔ انہوں نے کبھی ان نتائج کی پرواہ نہیں کی۔ وہ بلا شبہ فن خطابت میں یکتا تھیں لیکن ایک لمحے کو بھی انہوں نے خود سے یہ سوال نہیں پوچھا کہ آخر وہ ایسا کیوں کر رہی ہیں؟ کیا وہ عثمان کو مشکل میں گھرا، تن تنہا چھوڑ کر مدینہ سے نکل آنے پر خود کو ان کے قتل کا ذمہ دار سمجھ کر ایسا کر رہی تھیں؟ یا اب ان کے اس ہیجان کی اصل وجہ علی تھے؟ شاید وہ علی کو چوتھے خلیفہ کی حیثیت سے قبول نہیں کر پا رہی تھیں؟ یہ سوالات ان کے ذہن میں تب کوندے جب وہ حوائب کے چشمے تک پہنچ آئیں مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی تھی۔ اب یہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ کعبہ کے احاطے میں سیاہ پتھر کے پہلو میں کی گئی تقریر کے نتیجے میں اتنا زبردست رد عمل آیا تھا کہ وہ اپنے تئیں یہی سمجھنے لگیں کہ انصاف کے حصول میں واحد راستہ یہی ہے۔ وہ اس وقت ہیجان میں خود کو ہمیشہ سے زیادہ راہ راست پر گامزن دیکھ رہی تھیں۔
مرنے کے بعد عثمان کو بالآخر وہ جاہ و جلال، بڑائی اور عظمت مل ہی گئی تھی جو بعض لوگ الزام لگاتے آئے ہیں کہ زندگی میں وہ کبھی اس کے اہل ہی نہیں رہے۔ مکہ کے باسیوں کا موقف تھا کہ وہ علی کے پڑوس میں انتہائی بے دردی سے قتل کر دیے گئے۔ علی اچھی طرح جانتے تھے کہ ان کی موت کا ذمہ دار کون ہے۔ بلکہ صرف علی ہی نہیں، مدینہ کا ہر شخص جانتا تھا کہ قاتل کون ہے؟ لیکن اس کے باوجود اس گھناؤنے جرم کے ذمہ داروں کو ابھی تک انصاف کے کٹہرے میں لانے سے گریز کیا جا رہا تھا۔ انہیں تو فوراً سزا ملنی چاہیے تھی مگر ابھی تک ایسا نہیں ہوا بلکہ انہیں تو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے رائے عامہ یہ بن گئی کہ علی نے قاتلوں کو پناہ دے رکھی ہے اور اس طرح وہ بھی اس جرم میں اتنے ہی سزاوار ہیں جتنا خود قاتل تھے۔ بعض لوگوں نے تو یہ بھی کہنا شروع کر دیا کہ در اصل یہ علی ہی تھے جنہوں نے قاتلوں کے ہاتھ مضبوط کیے تھے۔ انہیں شہ دلائی تھی، جب ہی تو وہ ہر حد سے گزر گئے۔ مکہ میں اس بابت ہیجان کی کیفیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جہاں علی کو ہر چیز کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جا رہا تھا، وہاں کسی ایک شخص نے بھی مروان کی طرف انگلی نہیں اٹھائی۔ مروان عثمان کے قتل کے بعد مدینہ سے فرار ہو کر مکہ پہنچ چکا تھا۔ یہاں اس کا استقبال ایک ہیرو کی طرح کیا گیا تھا۔ وہ خلیفہ کے دفاع میں آخری جھڑپ کے نتیجے میں آنے والے زخم دکھاتا پھرتا اور لوگ اس کی مدح سرائی کرتے۔ مروان نے اعلان کی صورت میں ایک شعر بھی کہا جو مکہ میں خاصا مقبول ہوا۔ وہ شعر کچھ یوں تھا کہ، 'علی! اگرچہ تم نے مقتول کو، خود اپنے ہاتھوں سے قتل نہیں کیا / لیکن یقیناً تم نے ہی، چوری چھپے یہ کام ضرور کروایا ہے'۔
پیشہ ور شاعروں نے ہمیشہ کی طرح یہ موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ وہ فوراً ہی اپنے کام پر لگ گئے۔ 'تمہارے اپنوں نے اے علی! پرائیوں کی طرح عثمان کو مار ڈالا۔ اس کے خون پر ان کا کوئی، سچ کہو حق تو نہیں تھا'۔ ایک شاعر نے کہا کہ اس فعل کی اسلامی قانون میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 'جان لو اے علی! تم ہی ان کے سردار ہو، تم ہی قیمت چکاؤ گے'۔ آگے چل کر لکھا ہے، 'اور یقیناً، تمہیں ہی، کیونکہ تم سردار ہو، قیمت تو چکانی ہی پڑے گی!'۔
ابھی علی مدینہ میں پوری طرح سنبھلے بھی نہیں تھے کہ مکہ میں رائے عامہ ان کے سخت خلاف ہو چکی تھی۔ علی نے شہر کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ایک خط لکھا جس میں عوام الناس سے نئے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جب یہ خط مکہ پہنچا تو ان کے خلاف عوامی جذبات اس قدر بھڑکے ہوئے تھے کہ جب کعبہ کے احاطے میں با آواز بلند اس خط کو پڑھ کر سنایا جا رہا تھا، چاروں طرف شور و غل اور لعنت وملامت ہو رہی تھی۔ شاید ہی کوئی شخص ہو جو خط کے مندرجات کو سن سکا ہو بلکہ سننا چاہتا ہو۔ ہجوم بے قابو ہو رہا تھا اور شور میں کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ بنو امیہ کا ایک نوجوان کعبہ کی سیڑھیاں چڑھ کر آیا اور قاصد کے ہاتھ میں سے خط چھین لیا۔ غصے میں چرمی کاغذ کو منہ میں ڈال کر اچھی طرح چبایا اور گودے کو نفرت سے زمین پر تھوک دیا ۔
عائشہ کو انتقام کی آگ میں جلتے ہوئے ایک شہر کی صورت نئی منزل مل چکی تھی۔ مگر جذبات سے بھڑکی ہوئی عوام کو اپنے ارادوں پر عمل کرنے کی اصل شہ اس وقت ملی جب عائشہ کے بہنوئی طلحہ اور زبیر بھی مدینہ چھوڑ کر یہاں پہنچ گئے۔ یہ دونوں بھی اس مختصر شوریٰ کا حصہ تھے جس نے عمر کی موت کے بعد بند کمرے میں طویل مکالمے کے بعد نئے خلیفہ، یعنی عثمان کے انتخاب میں حصہ لیا تھا۔ اس وقت یہ دونوں اجلاس کی ابتداء سے ہی علی کے مخالف تھے ۔ بعد ازاں علی کی ہی طرح یہ دونوں بھی عثمان کے طرز حکومت پر صدا احتجاج بلند کرتے رہے اور ان کے خلاف تحریک میں پیش پیش رہے تھے۔ لیکن ظاہر ہے، ان کی ہر گز مرضی یہ نہیں تھی کہ جب عثمان ہٹائے جائیں تو ان کی جگہ علی خلافت سنبھال لیں۔ اگرچہ طلحہ اور زبیر ،دونوں ہی خاصے با ہمت اور پر عزم ہوا کرتے تھے لیکن خاصے جاہ طلب واقع ہوئے تھے۔ یہ دونوں ہی خلیفہ بننے کے خواہاں تھے مگر مشکل یہ تھی کہ عثمان کے خلاف ایک جان دار تحریک میں پیش پیش رہنے کے باوجود بھی وہ عوامی حمایت حاصل کرنے میں ناکام رہے تھے جو علی کو بہرحال مل چکی تھی۔ اسی وجہ سے ان دونوں کے پاس اب آپس میں گٹھ جوڑ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔
تو کیا ہوا اگر ان دونوں نے ابھی چند ہفتے پہلے ہی، مکہ چلے آنے سے پہلے عوام و خاص کے سامنے علی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی؟ یہاں پہنچ کر دونوں نے قسم اٹھائی کہ باغیوں نے انہیں زبردستی بیعت لینے پر مجبور کیا تھا۔ کہنے لگے کہ انہوں نے تو ایسا بے انتہا مجبوری کی حالت میں کیا تھا۔ ان کا بیان کچھ یوں رقم ہے کہ مدینہ میں دندناتے، مسلح خارجیوں نے ان کے سر پر تلوار سونت کر علی سے وفا داری کا حلف لیا ۔ ان کے الفاظ میں، انہوں نے تو 'مرجھائے ہوئے دل اور پرمژدہ ہاتھ' کے ساتھ بیعت لی۔ یعنی انہوں نے ہاتھ سے ہاتھ ملا لیا مگر دل، بے دل ہی رہے۔ منہ سے حلفیہ بیان تو دے دیا لیکن ان کا دماغ کسی صورت اس کو ماننے پر راضی نہیں تھا۔ اب سب دیکھ سکتے تھے کہ معاملات کس طرف بڑھتے جا رہے ہیں۔ اگرچہ مکہ کی فضا انتقامی خواہشات سے کثیف تھی مگر اس کے باوجود چند معدودے لوگ ایسے بھی تھے جو گاہے بگاہے خدشات کا اظہار کرتے رہتے۔ 'اس سے کچھ اچھا برآمد نہیں ہو گا'۔ ایک شخص کہنے لگا۔ معاملہ جب حد سے بڑھ گیا تو اس صورتحال پر خود طلحہ کا تبصرہ تاریخ میں کچھ یوں درج ہے کہ، 'میں یہ بھی سوچتا ہوں کہ آخر یہ سب کر کے ہمیں کیا ملے گا؟ بعد اس کے، ہمارے ہاتھ تو مثال ایک کتا آئے گا جو زمین پر بکھری غلاظت میں منہ مارتا پھر رہا ہو گا'۔
لیکن طلحہ اور نہ ہی زبیر کے پاس درکار حمایت پوری تھی۔ وہ اپنے بل بوتے پر کبھی بھی خلافت پر فائز ہونا تو دور کی بات، دعویٰ بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اس مقصد کے لیے انہیں عائشہ کی پر زور تائید اور سہارے کی ضرورت تھی۔ اب جب کہ عائشہ کی پشت پر پورا شہر مکہ تیار کھڑا تھا، ان دونوں کا کام آسان ہو گیا ۔ جب انہوں نے مکہ میں رخ بدلتی ہوئی فضا کو دیکھا تو وہ فی الفور مدینہ سے نکل آئے ۔ اب وہ مکہ پہنچ کر عائشہ کی مدد سے آنے والے دنوں میں علی پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کریں گے۔ ان کا مقصد صاف تھا۔ ایک ہی نکتہ تھا کہ کسی طرح علی کو خلافت چھوڑنے پر مجبور کر دیا جائے۔ اچھا، اگر علی خلافت چھوڑ بھی دیں تو پھر بھلا ان دونوں میں سے خلیفہ کون ہو گا؟ یہ سوال انہوں نے بعد کے لیے رکھ چھوڑا تھا ۔ فی الوقت تو اہم یہ تھا کہ وہ اکٹھے ہو کر ایک ہی مقصد کے حصول کی طرف پیش قدمی کریں۔ چنانچہ وہ عائشہ کو ساتھ ملا کر، ان کے اثر و رسوخ کا بھر پور استعمال کرتے ہوئے علی کے خلاف انتہائی منظم اور طاقتور فوج کھڑی کر دیں گے۔ وہ مدینہ پر چڑھائی نہیں کریں گے کیونکہ یہ جگہ اب علی کی طاقت کا گڑھ بن چکی تھی۔ بجائے، وہ انہیں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت آٹھ سو میل دور عراق میں بصرہ کے مضافات میں لا کر گھیرنے کی کوشش کریں گے۔ بصرہ کا چناؤ اس لیے کیا گیا کہ مبینہ طور پر چھاؤنی نما اس شہر میں زبیر کو خاصی حمایت حاصل ہو سکتی تھی۔ ویسے بھی عائشہ کے ہوتے انہیں شکست دینا کوئی آسان بات نہیں تھی، لیکن ضروری تھا کہ عوام کے انتقامی جذبات نہ صرف برقرار رکھے جائیں بلکہ جہاں موقع ملے، قوت میں اضافہ کیا جائے۔ فیصلہ یہ ہوا کہ عائشہ اس لشکر کی سپہ سالار ہوں گی۔ وہ عائشہ سے کہنے لگے، 'جیسے تم نے مکہ کے لوگوں کو عملی قدم اٹھانے پر راضی کر لیا، ویسے ہی ہم بصرہ کے لوگوں کو بھی عثمان کے قاتلوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے پر قائل کر لیں گے'۔
عائشہ کو علی کے خلاف منظم فوجی مہم جوئی پر راضی کرنے میں قطعاً کوئی دقت نہیں ہوئی۔ وجہ یہ تھی کہ عائشہ کو علی کے ہوتے، بہتری کی امید نہیں تھی۔ ہاں اگر ان کے بہنوئیوں میں سے کوئی ایک خلیفہ مقرر کر دیا جاتا ہے تو پھر ظاہر ہے، ان کی وہی حیثیت بحال ہو جاتی جو کبھی ابو بکر اور عمر کے زمانے میں رہا کرتی تھی۔ وہ اس طرح ، اور صرف اسی طرح طاقت اور اختیار کے دھارے میں اپنے شایان شان رتبے تک دوبارہ پہنچ سکتی تھیں۔ چنانچہ وہ ایک دفعہ پھر کعبہ کے احاطے میں جا کھڑی ہو ئیں اور اب دوبارہ انتہائی پر جوش تقریر کی۔ لوگوں کو عثمان کے قتل ، یعنی اس ظلم اور گھناؤنے جرم کی یاد دہانی کرائی ۔ اب کی بار انہوں نے صرف اس تبصرے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ اس ضمن میں عملی قدم اٹھانے کو کہا، 'بصرہ میں اپنے بھائیوں کے پاس جاؤ اور علی کے اختیار کی نفی کر دو۔ انہیں اس کے جرم کی خبر کرو اور عثمان کے قتل کا بدلہ لو' وہ انتہائی جذباتی انداز میں مخاطب تھیں، 'بصرہ کا رخ کرو۔۔۔ عثمان کا بدلہ لو!'۔
اور اب، جب لوگ ان کا ساتھ دیتے ہوئے، ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے بصرہ کے لیے نکل کھڑے ہوئے تھے، عائشہ آدھے راستے میں پہنچ کر چند کتوں کے بھونکنے کی وجہ سے پریشان تھیں؟ مکہ کے لوگ ان کے ساتھ تھے مگر وہ خود الجھن کا شکار ہو چکی تھیں۔ کبھی عائشہ کے لیے لق و دق صحرا میں سفر خاصا رومانوی قصہ رہا کرتا تھا۔ مگر جب 'گمشدہ ہار کا واقعہ' پیش آیا تو سب کچھ بدل کر رہ گیا تھا۔ صرف حالات ہی نہیں بلکہ کئی لوگوں کے بارے ان کی سوچ بھی ہمیشہ کے لیے تبدیل ہو گئی۔ تب کے صحرائی سفر اب ماضی کا قصہ بن چکے تھے۔ اس وقت عائشہ بمشکل ایک لڑکی تھیں اور مہمات کے جوکھم میں ہیجان ڈھونڈ لایا کرتی تھیں ۔ مگر اب حالات اور تقاضے بدل چکے تھے۔ اب ان کی عمر چالیس کے پیٹے میں داخل ہو چکی تھی اور وہ ہزاروں کی تعداد پر مشتمل جنگجوؤں کے انتہائی منظم لشکر کی سپہ سالار تھیں۔ تب تو عائشہ مہمات کا حصہ بننے میں ایک ذرہ برابر تامل نہیں برتتی تھیں مگر آج وہ پہلی بار تذبذب کا شکار تھیں۔
کیا وہ واقعی ان جری جوان جنگجوؤں کو لڑائی میں جھونک دینا چاہتی تھیں؟ یقیناً ایسا نہیں تھا۔ پلان یہ تھا کہ نوبت یہاں تک کبھی نہیں پہنچے گی۔ منصوبے کے مطابق مکہ کی یہ فوج بغیر کسی مزاحمت کے چھاؤنی نما شہر بصرہ کو اپنے ساتھ ملا لے گی۔ جب بصرہ کی چھاؤنی میں تعینات افواج بھی ساتھ آ گئیں تو اس لشکر کی تعداد اور حوصلہ بڑھ کر سوا ہو جائے گا۔ اس طرح انہیں فرات کے ساتھ نشیبی علاقے میں کوفہ کی حمایت حاصل کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی۔ بصرہ اور کوفہ کی حمایت کا مطلب یہ تھا کہ پورا عراق ان کی جھولی میں آن گرے گا ۔ جب یہ ہو چکے گا تو پھر یہ عظیم لشکر معاویہ کی شامی فوجوں کے ساتھ جا ملیں گی ۔ شام کے شہر دمشق میں پہلے ہی عثمان کی خون سے آلود تار تار قمیض اور نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں دیکھ کر لوگ بھڑکے بیٹھے تھے۔ شام کی فوجیں صرف ایک اشارے کی منتظر تھیں۔ عراق اور شام اکٹھے ہو گئے اتنا مضبوط اتحاد تشکیل پائے گا کہ اس کے سامنے علی کے پاس گھٹنے ٹیکنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچے گا۔ جیسے اس سے پہلے وہ تین دفعہ خلافت سنبھالنے سے روکے گئے تھے، اب کی بار پھر پیچھے دھکیل دیے جائیں گے۔ جیسا ہوتا آیا ہے، ویسا ہی ہو گا۔ اصل پلان تو یہ تھا۔ اگر پلان یہی تھا تو پھر کتے کیوں بھونک رہے تھے؟ یہ چپ کیوں نہیں کر جاتے؟
چوبیس گھنٹے گزر گئے اور عائشہ بدستور آگے بڑھنے سے انکار ی تھیں۔ وہ ایک ہی جگہ پر جم کر ایسے بیٹھی تھیں جیسے انہیں بد شگونی کا لقوہ مار گیا ہو۔ طلحہ اور زبیر نے اپنے تئیں انہیں منانے کی بہتیری کوشش کر لی۔ جو ممکن تھا کر کے دیکھ لیا مگر سب بے سود تھا۔ کہا کتے تو بھونکتے ہی رہتے ہیں۔ بھلا وہ مسلسل کیسے بھونک سکتے ہیں؟ اس بات پر تو عائشہ نے دونوں کو بے نقط سنا دیں۔ جب کچھ نہ بن پڑا تو عائشہ سے کہنے لگے، 'تم توہم پرستی کا شکار ہو گئیں؟ توہم پرستی کی تو اسلام میں سخت ممانعت ہے'۔ اس کے باوجود بھی وہ اڑی رہیں اور اپنی جگہ سے ایک انچ بھی ہلنے سے انکار کرتی رہیں۔ پھر ان سے جھوٹ بھی بول کر دیکھ لیا۔ کہا کہ بتانے والے سے غلطی ہوئی تھی۔ یہ حوئب نہیں بلکہ کوئی اور جگہ ہے۔ مگر عائشہ اپنے دل میں اچھی طرح جانتی تھیں کہ یہ وہی جگہ ہے۔ وہ یہ بھی جانتی تھیں کہ ان دونوں کے حیل بہانوں کی کوئی وقعت نہیں، بالخصوص پیغمبر کی کہی بات کے سامنے تو ان کی بات کیا، خود ان کی کوئی اوقات نہیں تھی۔ اگرچہ یہ دونوں عائشہ کے بہنوئی تھے مگر ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کیا یہ دونوں علی کے ہاتھ پر بیعت کر کے مکر نہیں گئے تھے؟ کیا ان دونوں نے اس طرح خود کو جھوٹا اور نا قابل اعتبار ثابت نہیں کر دیا تھا؟
اگر عائشہ اپنی بات ، چھٹی حس پر اس قدر ڈٹی ہوئی تھیں تو پھر انہوں نے آخر حوئب کے کتوں پر دھیان کیوں چھوڑ دیا؟ انہوں نے واپسی پر ہی اصرار کیوں نہیں کیا؟ انہوں نے پھر بھی بصرہ کی ہی راہ کیوں لی؟ شاید کتوں نے پوری قوت سے بھونکنا بند کر دیا تھا۔ یا شاید عائشہ کی بصیرت اور فہم، پس اندیشی نے بالآخر انہیں پیچھے مڑنے سے روک دیا تھا۔ غالباً اب وہ یہ سوچنے لگی تھیں کہ کتوں کا اس رات بھونکنا پیشن گوئی ضرور تھا مگر اب جب کہ انہوں نے اچھی طرح سوچ وچار کر لی ہے، وہ اب صرف اور صرف چند کتے ہی تھے جن کا کام بھونکنے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ ویسے بھی عائشہ کی سمجھ کے سب ہی قائل تھے۔ لوگ ان کی بات پر دھیان دیتے تھے، عمل کرتے تھے۔ جس طرح کی وہ شخصیت تھیں، زیادہ دیر تک کسی نیک یا بد شگون کو خود پر حاوی نہ رہنے دیتیں۔
یہ بات تو طے ہے کہ علی نے بے شک عثمان کے قاتلوں کو سزا دینے کے عوامی مطالبے کو نظر انداز کر دیا تھا، بلکہ کہیے انہوں نے بغیر کچھ کہے یا اس پر عمل کیے، مطالبہ رد کر دیا تھا۔ یہی باغی تھے جنہوں نے علی کو خلیفہ مقرر کیا تھا اور انہوں نے ہی سب سے پہلے، چھوٹتے ہی ان کے ہاتھ پر بیعت بھی کر دی تھی۔ باغیوں کا سپہ سالار کوئی اور نہیں، علی کا لے پالک بیٹا تھا۔ اگرچہ علی نے عثمان کے قتل کی حمایت تو نہیں کی مگر انہوں نے اس فعل کی مذمت بھی تو نہیں کی تھی۔ علی کے الفاظ کچھ یوں درج ہیں، 'میں نہیں کہہ سکتا کہ عثمان کو حق پر قتل کیا گیا یا ان کا نا حق خون ہوا۔ ان کا معاملہ یہ ہے کہ وہ خود بے انصاف تھے'۔ اس بیان سے واضح طور پر ایسا لگتا ہے جیسے باغیوں کو عثمان کے قتل میں علی کی حمایت حاصل تھی۔ اگر عثمان واقعی نا انصاف تھے یا انہوں نے سنت کو ترک کر دیا تھا یا وہ واقعی اسلام کی حدود کو پھلانگتے ہوئے اس کی روح کو بھلا چکے تھے تو پھر ظاہر ہے، باغیوں نے یہ گھناؤنا جرم کسی اچھے مقصد کے تحت ہی کیا ہو گا؟ ایسا کر کے گویا وہ اسلام کا دفاع کر رہے تھے؟ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ گھناؤنا جرم اور اچھا مقصد، ایک ہی جگہ پر اکٹھے نظر آ رہے ہیں۔ یہ تو خیر جملہ معترضہ تھا لیکن اپنے بیان میں علی ، عثمان کو باطل قرار دینے سے بس ایک قدم دوری پر اور نہایت باریک خط پر کھڑے نظر آتے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے عثمان کو مرتد نہیں کہا یا کھلم کھلا بے دین تو قرار نہیں دیا مگر ان کی دلیل صاف ہے۔ یہ وہی منطق ہے جس کے تحت ایک مرتد کو قتل کرنے پر خون بہا ادا نہیں ہوتا۔ جیسے عربوں میں مشہور ہے، 'ایسے شخص کا خون حلال ہو جاتا ہے' ۔ مرتد کو قتل کرنے پر کوئی حد لاگو نہیں ہوتی اور کسی بھی قسم کی سزا کا تقاضا نہیں کیا جا سکتا بلکہ ایسا کوئی بھی دعویٰ بے معنی سمجھا جاتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ علی نے قتل کے بعد جزا و سزا پر توجہ نہیں دی۔ تلافی نہیں کی بلکہ مفاہمت کا راستہ اپنانے پر زور دیا۔ ان کے خیال میں انتقام کسی بھی صورت آگے بڑھنے کا راستہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق اسلام کو ماضی کی بجائے مستقبل پر نظر رکھنے کی ضرورت تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے وقت آنے پر طلحہ اور زبیر کی وفا داری کو بھی قبول کر لیا تھا۔ بھلے یہ دونوں بعد میں کہتے ہوں کہ انہوں نے ایسا بد دلی اور تلوار کی نوک پر کیا تھا، علی خود بھی ان دونوں سے کچھ اتنے خوش نہیں تھے مگر بہر حال اس مرحلے پر انا کو آڑے نہیں آنے دیا۔ صرف یہی نہیں بلکہ علی ابھی تک مکہ اور دمشق کو تواتر سے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا صرف کہتے آ رہے تھے۔ عمومی حالات میں کوئی اور ہوتا تو شاید ابھی تک ان دونوں شہروں سے نبٹنے کے لیے فوجیں روانہ کر چکا ہوتا، جو شہر کی فصیلوں پر تیر برساتے ہوئے زبردستی انہیں خلافت کی پیروی کرنے پر مجبور کر رہی ہوتیں۔ اگر اس وقت کوئی یہ سمجھ رہا تھا کہ شاید ہر قیمت پر تنازعے سے بچنے کی خواہش جاری رہے گی یا علی ایک بار پھر ہمیشہ کی طرح پیچھے ہٹ جائیں گے یا یہ کہ شاید اسے علی کمزور ہیں تو ایسا سمجھنے والے جلد ہی غلط ثابت ہوں گے۔
یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ اگرعلی واقعی خوں ریزی سے بچنے کی کوشش کر رہے تھے تو اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ جب مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ مکہ سے ایک منظم لشکر عائشہ اور ان کے دو بہنوئیوں کی سربراہی میں بصرہ کی طرف نکل چکا ہے تو علی کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ بھی اپنے لشکر کو لے کر ان کے پیچھے نکل پڑیں تا کہ انہیں کسی بھی شر انگیزی سے دور رکھا جا سکے، بر وقت روکا جاسکے۔ جلد ہی علی کے خدشات درست ثابت ہوئے۔ ابھی ان کا لشکر راستے میں ہی تھا کہ وہاں بصرہ میں جھڑپیں شروع ہو گئیں۔
عائشہ اور ان کے بہنوئیوں نے درست اندازہ لگانے میں فاش غلطی کی تھی۔ جب مکہ کا لشکر بصرہ پہنچا تو ان کا سامنا ایسے شہر سے ہوا جس کی وفاداریاں پہلے سے بٹی ہوئی تھیں اور لوگ اس پورے قصے میں ابہام کا شکار تھے۔ بصرہ کے لوگ عربوں کی آپس میں جاری کشمکش سے پہلے ہی تنگ آئے ہوئے تھے۔ اب زیادہ تر کا خیال تھا کہ ان کے سروں پر یہ نئی آفت آن پڑی ہے۔ وہ بلا شک و شبہ عائشہ کی بحیثیت ام المومنین قدر کرتے تھے مگر ان کے نزدیک علی کی عزت کسی بھی دوسرے شخص سے کہیں بڑھ کر تھی۔ وجہ یہ تھی کہ علی نے عثمان کے دور میں تعینات بصرہ کے بدعنوان گورنر کو عہدے سے ہٹا کر نئے گورنر کی تقرری کر دی تھی۔ یہ شخص شہر بھر میں دیانت دار اور اصول پسند مشہور تھا اور یہاں کے شہری اس کی دل و جان سے قدر کرتے تھے۔ چنانچہ جب مکہ کا لشکر یہاں پہنچا تو ان کی توقع کے خلاف کسی نے بھی آگے بڑھ کر کھلے دل سے ان کا خیر مقدم نہیں کیا۔ حقیقت تو یہ تھی کہ انہیں سرے سے شہر میں داخل ہونے کی اجازت ہی نہیں دی گئی۔ نئے گورنر نے اصرار کیا کہ وہ شہر کی حدود سے باہر پڑاؤ ڈال لیں۔ اس نے کہا، 'بہتر یہ ہو گا کہ ہم علی کی آمد کا انتظار کریں'۔ تاہم عائشہ اور ان کے بہنوئی ایسا نہیں چاہتے تھے۔
اسی رات جس کے بارے روایت میں لکھا گیا ہے، 'یہ ایک تاریک اور انتہائی سرد رات تھی۔ آندھی اور بارش کا زور تھمنے میں نہیں آ رہا تھا'۔ ایسے میں طلحہ اور زبیر نے شہر پر دھاوا بول دیا۔ وہ زبردستی شہر میں داخل ہو گئے اور لوگوں سے جھڑپتے ہوئے شہر کی مسجد تک پہنچ گئے۔ ان جھڑپوں میں بیسیوں ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو ئے۔ صبح ہونے تک مکہ کے لشکر نے مال خانے اور اناج کے گوداموں پر قبضہ کر لیا۔ یہیں ان کا سامنا شہر کے گورنر سے ہوا۔ گورنر نے کہا، 'اللہ کی قسم اگر میرے پاس مناسب تعداد میں فوجی ہوتے تو میں تم میں سے ہر ایک کے ساتھ جنگ کرتا اور جنہیں تم نے گزشتہ رات ہلاک کیا ہے، ان کے بدل میں تم سے ایک ایک کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیتا۔ چونکہ تم نے ہمارے بصری بھائیوں کو ہلاک کیا ہے، تمہارا خون ہمارے لیے حلال ہو چکا ہے۔ آخر تم مسلمانوں کے قتل عام کو جائز کیسے سمجھ سکتے ہو؟ جنہیں تم نے گزشتہ رات ہلاک کیا، کیا عثمان کے قاتل وہ لوگ تھے؟ کیا تمہیں خدا کا ذرہ برابر بھی خوف نہیں ہے؟' لیکن اتنی بڑی فوج کے سامنے گورنر کی ایک نہیں چلی۔ اسے فوراً ہی گرفتار کر لیا گیا اور کوڑے مارے گئے۔ سر کے بال اور داڑھی نوچ کر مونڈ دی گئی اور پابند سلاسل کر دیا گیا۔ شہر بصرہ پر خوف کے سائے منڈلا رہے تھے۔ گورنر کے ساتھ یہ سلوک دیکھ کر عوام دب گئی اور جیسا کہ تاریخ میں الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ' بصرہ کے لوگ کولھوں کے بل پر بیٹھے' علی کی آمد کا انتظار کرنے لگے کہ وہ آئیں تو دیکھیے کیا ہوتا ہے؟
علی تک یہ خبر فوراً ہی پہنچ گئی۔ خبر یہ تھی کہ شہر پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔ گورنر کی سخت تذلیل کی گئی ہے اور شہر میں سینکڑوں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ علی یہ سن کر سخت متنفر ہو گئے۔ اگرچہ طلحہ اور زبیر کو خدا کے غیض و غضب کا کوئی پاس نہیں تھا مگر وہ بدستور خوف خدا رکھتے تھے۔ 'اے اللہ، ان کو ہدایت دے اور وہ بخش دے جو انہوں نے کیا۔ انہیں اپنی غلطی کا احساس دلا، انہیں ان کی برائی دکھا' علی رونے لگے، 'اور اے اللہ، مجھے ان کی طرح گمراہی میں مبتلا نہ کریو۔ مجھے مسلمانوں کا خون بہانے سے محفوظ رکھیو اور ہمیں ان جیسے لوگوں سے پناہ میں رکھیو!'۔ لیکن جہاں علی مثالیت پسند مشہور تھے، اس خبر کے بعد حقیقت پسندی سے کام لینے لگے۔ وہ امن کی دعا بھی کرتے رہے مگر اس کے ساتھ ساتھ جنگ کی تیاری پہلے سے بھی تیز کر دی۔
علی نے جنگ کی تیاریوں کے سلسلے میں ہی اپنے بیٹوں حسن اور حسین کو شمال کی جانب کوفہ کے شہر قاصد بنا کر روانہ کیا تا کہ وہ اپنے ساتھ کمک لے کر آ سکیں۔ چند ہفتوں کے اندر ہی وہ کئی ہزار فوجیوں کا لشکر لیے علی سے بصرہ کے مقام پر آن ملے۔ اب دونوں افواج کم و بیش دس دس ہزار مسلح اور انتہائی منظم جنگجوؤں پر مشتمل تھیں۔ اگلے تین دن تک یہ دونوں دیو ہیکل لشکر بصرہ شہر سے باہر ایک تنگ گھاٹی میں خیمے گاڑ کر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے۔
کیا صرف طاقت دکھا دینے سے مکہ کی افواج واپس مڑ جائیں گی؟ یہ علی کا خیال تھا۔ یہی سوچ کر انہوں نے اپنی فوج سے خطاب کیا اور بعد ازاں ان کے الفاظ پرپیشن گوئی کا گماں ہو گا۔ 'میری نیت چیزوں کو درست سمت دینا ہے تا کہ امت دوبارہ سے بھائی چارے کی طرف لوٹ آئے۔ اگر مکہ کے لوگ بیعت کر لیں تو ہم امن قائم کر لیں گے۔ لیکن اگر وہ لڑائی پر بضد رہے تو یاد رکھو، یہ ایسی پھوٹ ہو گی جس کا پھر کبھی ازالہ نہیں ہو سکے گا۔ تو اے لوگو! خود پر قابو رکھو۔ یاد رکھو، یہ تمہارے بھائی ہیں۔ صبر سے کام لو۔ بغیر سوچے سمجھے، پوچھے بنا کسی بھی چیز میں جلدی مت برتنا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ تم آج بحث میں جیت جاؤمگر اس کا کیا، کل کے دن تم وہی بحث کسی نئی دلیل کے ہاتھوں ہار بھی سکتے ہو!'۔
یہ ایسا بھیانک خواب تھا جو ختم ہونے میں نہیں آ رہا تھا۔ بلکہ جوں جوں وقت گزرتا گیا، اس کو روکنا ناممکن ہوتا جا رہا تھا۔ ایک چیز جس کا تقریباً ہر شخص کو ڈر تھا، اب وہی شے آہستہ آہستہ رینگتی ہوئی سر پر آن کھڑی ہو گئی۔ یہ بلا امت میں پہلا فتنہ تھا۔
عربی ایک دقیق اور پیچ دار زبان ہے۔ باقی سامی زبانوں کی طرح یہ بھی لفاظی پر چلتی ہے۔ مثلاً تین مختلف ہم وضع اور ہم ساز الفاظ مل کر ایک ایسا لفظ بن جاتا ہے کہ جس کے بسا اوقات کئی کئی معنی نکل آتے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک ہی لفظ کے بہت سارے مفہوم ہو سکتے ہیں مگر ہر مفہوم کو سیاق و سباق اور ماحول کے تحت ہی استعمال کیا جا سکتا ہے یا کہیے سمجھا جا سکتا ہے۔ اس کی ایک بہترین مثال جانا مانا لفظ 'جہاد' ہے۔ جہاد کے لفظی معنی 'کوشش' یا 'سعی' کے ہیں۔ اس سے کئی مفہوم نکلتے ہیں۔ یعنی اس سے مراد اسلامی طریقے سے زندگی بسر کرنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے، خواہشات کو قابو میں رکھنے کی کوشش بھی ہو سکتی ہے اور اسلام کے دشمنوں سے نبٹنے کی مسلح کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ گویا، ایک ہی لفظ کے تین مطلب نکلتے ہیں۔
جبکہ یہ جو 'فتنہ' ہے، یہ ایک انتہائی حساس اسلامی اصطلاح ہے جو عربی زبان کے اصولوں کے مطابق انتہائی پیچیدہ لفظ بھی ہے۔ اس لفظ کے اصل معنی 'گمراہی' یا 'بھٹکنے' کے ہیں۔ لیکن حساسیت کے تحت نظر اس کے مفہوم کئی ہیں۔ جیسے اس سے مراد آزمائش یا بہکاوا ، سانٹھ گانٹھ یا سر کشی، تنازعہ یا ان بن بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن ہمیشہ ہی اس سے مراد اتھل پتھل یا اچانک تبدیلی یعنی انقلاب ، افراتفری اور بدنظمی لی جاتی ہے۔ مگر سب سے عام معنوں میں یہ لفظ خانہ جنگی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے جو جنگوں میں سب سے بدتر اور تباہ کن جنگ ہوتی ہے۔ قبیلے اور کنبے، یہاں تک کہ گھرانے بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ بھائی آپس میں لڑ تے ہیں اور عین ممکن ہے باپ، بیٹوں کے خلاف صف آراء ہو۔ چچا زاد اور سسرالی ایک دوسرے کے خلاف اسلحہ اٹھائے کھل کرآمنے سامنے آ جاتے ہیں ۔ اس کی مثال کچھ یوں ہے کہ اگر چہ معاشرہ ایک ترپال جیسا مضبوط کپڑا ہی کیوں نہ ہو، فتنہ اس کے سخت ریشوں اور سلائی کو یوں ادھیڑ کر رکھ دیتا ہے کہ ایک ایک تار علیحدہ ہو کر بکھر جاتا ہے۔ جیسے تب ساتویں صدی میں سمجھداروں کو یہی خدشات تھے، بعد کے ہر دور اور آج بھی دین اسلام کو لاحق خطرات میں سب سے بڑا خطرہ فتنہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ یہ اس قدر مہلک شے ہے کہ شاید اس نظریہ حیات، یعنی اسلام کے انتہائی کٹر دشمن بھی کبھی اس کے لیے اتنے ضرر رساں نہیں رہے ہوں گے۔
خیر یہ عجیب منظر تھا۔ دو فوجیں بصرہ شہر کے مضافات میں ریتلی زمین پر ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی تھیں۔ خنجروں کی دھار تیز اور تلواروں کو چمکایا جا رہا تھا۔ چاقو سان پر لگے تھے اور ہر شخص اعصاب کو قابو میں رکھنے کی بہتیری کوشش میں جتا ہوا تھا۔ اس دوران فوجی آپس میں صرف ایک ہی نکتے پر بحث کرتے رہے کہ، یہ تو انتہا ہے۔ کیا وہ واقعی اپنے ہاتھوں سے یہ گناہ عظیم کر سکتے ہیں؟ یعنی کیا وہ دوسرے مسلمانوں کا خون کیا کریں گے؟ ہر شخص کے دل میں خوف کے سائے تھے۔ پھوٹ تو بہت پہلے پڑ چکی تھی۔ اب تو وہ صاف صاف تقسیم کو اپنے سامنے پھن پھیلائے سانپ کی طرح دیکھ رہے تھے۔ اس سانپ کا نام فتنہ تھا۔
میدان جنگ میں بصرہ سے تعلق رکھنے والے ایک تجربہ کار سپاہی کے الفاظ کچھ یوں رقم ہیں کہ، 'طلحہ اور زبیر نے علی کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور اب وہ بغاوت پر اتر آئے ہیں۔ ان کو دیکھو، یہ عثمان کے خون کا بدلہ لیں گے؟ یہ تو وہ ہیں جنہوں نے ہمارے بیچ پھوٹ ڈال دی ہے'۔
ایک دوسرے سپاہی نے فوراً ہی یوں جواب دیا جیسے یہ تقدیر کا لکھا ہو، 'جنگ نا گزیر ہو چکی ہے'۔ جیسے فرات کو الٹا بہانا ممکن نہیں ہے ویسے ہی اب اس جنگ کو روکنا ناممکن ہو چکا ہے۔ "لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ بس منہ زبانی 'ہم ایمان لے آئے' کہیں گے اور بات ختم ہو جائے گی؟ کیا بھول گئے کہ وقت آنے پر وہ آزمائے جائیں گے؟"
لیکن کیا یہ واقعی ایمان کا امتحان تھا؟ اب تو مکہ کے فوجی بھی سوچنے پر مجبور ہو چکے تھے۔ ایک جنگجو کہنے لگا، 'ہم نشیبی علاقے کے چٹیل میدانوں میں پھنس چکے ہیں۔ یہ ہر لحاظ سے، حتیٰ کہ صحت کے لیے بھی نہایت غیر موزوں جگہ ہے'۔ اس شخص کا یہ استعارہ حقیقی تھا کیونکہ جنوبی عراق واقعی ایسی جگہ ہے۔ یہاں پر اتنے وسیع و عریض دریائی میدان ہیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ پھر یہاں نہریں اور دلدلیں ہیں جس کی وجہ سے نمی بڑھ کر ہوتی ہے۔ مچھروں اور حشرات کی بہتات سے حشر نشر ہو جاتا ہے۔ حجاز کی پہاڑیوں سے تعلق رکھنے والے ان جنگجوؤں کے لیے یہ واقعی انتہائی غیر موزوں جگہ تھی۔ حجاز میں زیادہ تر تیز اور خشک ہوائیں چلتی رہتیں مگر یہاں فضا انتہائی بوجھل اور کثیف تھی۔ آسمان بھی نمی کے سبب بے رونق لگتا تھا۔ مکہ سے وہ عائشہ کی آواز پر لبیک کہہ کر یہاں تک تو آ گئے تھے مگر اب اس جگہ پر پہنچ کر انہیں لگ رہا تھا کہ یہاں ان کے لیے کوئی اچھی خبر نہیں تھی ۔ قصہ مختصر، یہ سب چکرا کر رہ گئے تھے۔
یہاں تک کہ اب طلحہ کو بھی فکر ہونے لگی تھی۔ روایت ہے کہ وہ ان دنوں میں زیادہ تر تن تنہا سوچ میں ڈوبے 'داڑھی کھجاتے' رہتے۔ یہ ایک پریشان حال شخص کی شبیہ ہے۔ طلحہ نے یہ بھی کہا، 'ہم سب دوسروں کے خلاف متحد ہو کر آہنی دیوار تھے لیکن اب ہماری مثال لوہے کے دو پہاڑوں جیسی ہو چکی ہے۔ یہ پہاڑ ایک دوسرے کو نیست و نابود کرنے کی ترکیبیں سوچ رہے ہیں'۔
کئی ایسے بھی تھے جو اس بات پر نالاں تھے کہ انہیں کسی ایک فریق کا ساتھ دینے کے لیے دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ محمدؐ کے ایک انتہائی قریبی ساتھی، جو اب خاصے عمر رسیدہ ہو چکے تھے، شکایت کرنے لگے 'اس سے پہلے اسلام میں کبھی ایسی صورتحال پیدا نہیں ہوئی کہ مجھے اگلا قدم اٹھانے میں مشکل پیش آ ئی ہو۔ لیکن یہاں تو ماجرا یہ ہے کہ سمجھ میں نہیں آتا، میں آگے بڑھ رہا ہوں یا پیچھے دھکیل دیا گیا ہوں'۔ ایک قبائلی سردار نے تو میدان ہی چھوڑ دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ فارس کے پہاڑوں کی طرف نکل گیا اور جاتے جاتے کہہ گیا کہ اگر یہ دو لشکر ایک دوسرے کو قتل کرنا چاہتے ہیں تو بخوشی کریں۔ وہ یہ کام میرے اور میرے آدمیوں کے بغیر بھی کر سکتے ہیں۔ اس کے الفاظ میں اس کی انتہائی راست سوچ کچھ یوں عیاں ہے کہ، 'میں ان دونوں فریقین میں سے کسی ایک کا حصہ بن کر دوسرے پر تیر برسانے کی بجائے ساری عمر ایک خصی غلام کی طرح سوکھے تھنوں والی بکریاں چرانے کو ترجیح دوں گا'۔
بصرہ کے لوگ کشمکش کا شکار تھے۔ انہیں سمجھ نہ آتی کہ کس کا ساتھ دیں۔ بصرہ کے ایک شخص نے دوسروں کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا، 'ہر وہ شخص جو کسی بھی طرح سے اس فتنے کا حصہ بنا، یاد رکھو وہ کبھی اس داغ سے پیچھا نہیں چھڑا سکے گا۔ اسے کسی بھی صورت خلاصی نہیں ملے گی'۔ بصرہ کے ہی ایک دوسرے شخص نے کہا، 'اس کا انجام اچھا نہیں ہو گا۔ ہم ایسی بدتر صورتحال میں پھنس جائیں گے جو کسی کو راس نہیں آئے گی۔ اس نفرت انگیز حالت سے نکلنے کی پھر کوئی صورت نہیں ہو گی۔ یہ ایسا چیرا ہے جو بھرنے کا نام نہیں لے گا۔ دین ایسے تڑکے گا کہ مرمت کرنا ممکن ہی نہیں ہو گا'۔ ایک تیسرا شخص جیسے ماتم کرتا ہو، 'اسلام کی چکی کا باٹ اپنی جگہ سے سرک گیا ہے۔ دیکھو تو یہ چکر کھاتے ہوئے کیسے ڈگمگا رہا ہے'۔
ایک شخص ایسا تھا جس کی تنبیہ تو آج بھی تاریخ میں ایسے گونجتی ہے کہ در و دیوار ہلا دے۔ اتنی صاف ، بے باک بات کہی کہ اس میدان میں موجود ہر شخص بعد ازاں مرتے دم تک دل میں یہ پھانس لیے جیا ہو گا کہ کاش، اے کاش ہم ابو موسی کی بات پر توجہ دیے دیتے۔ ایک لمحے کو رک کر اچھی طرح سوچ لیتے، ان کی بات پر عمل کر لیتے۔ ابو موسی محمدؐ کے دیرینہ ساتھیوں میں سے ایک تھے اور عمر کے دور میں کوفہ کے گورنر رہ چکے تھے۔ انہوں نے کہا، 'فتنہ معاشرے کو السر کی طرح گلاکر رکھ دیتا ہے۔ یہ ایسی آگ ہے جس کو چار سمتوں کی ہوائیں پوری قوت سے بھڑکاتی ہیں۔ شمال اور جنوب، مشرق اور مغرب، ہر طرف سے آنے والی ہواؤں میں تباہی کی سڑاند ہوتی ہے۔ فتنہ ایسی بری چیز ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ اندھے اور بہرے وحشی حیوان جیسا ہوتا ہے۔ ایک بار رسا تڑوا لے تو پھر راستے میں آنے والی ہر چیز کو روند کر رکھ دیتا ہے۔ یہ فتنہ تمہیں برباد کر دے گا۔ یہ اس جگہ سے نکلا ہے جہاں تم خود کو محفوظ سمجھتے تھے۔ یہ عالموں اور جاہلوں میں فرق نہیں کرتا۔ تجربہ کار لوگ بھی اس کے ہاتھوں یوں الجھ گئے ہیں کہ ان پر بھی احمق ہونے کا گماں ہوتا ہے۔ وہ جو فتنے کے دوران سویا رہا، اس سے بہتر ہے جو جاگ رہا تھا۔ وہ جو جاگ رہا تھا، اس سے بہتر ہے جو اس دوران کھڑا رہا۔ جو کھڑا رہا، اس سے بہتر ہے جو چل کر اس کےتیز دھارے میں جا پہنچا۔ خدا کے لیے، ہوش کرو اور اپنی تلواریں واپس نیام میں ڈال دو۔ اپنے نیزوں کو پیچھے سرکاؤ اور کمانیں ڈھیلی کر دو'۔
تاہم، اس خوفناک صورتحال میں بھی ایک آخری امید باقی تھی۔ مگر اس امید کو پنپنے کے لیے دونوں لشکروں کے سپہ سالاروں کے ساتھ کی ضرورت تھی۔ بیس ہزار لوگ ہاتھوں میں اسلحہ تھامے، ایک دوسرے سے خوفزدہ، سانس روکے کھڑے دیکھ رہے تھے۔ علی ایک طرف سے سیاہ جنگی گھوڑے کی پشت پر سوار اور دوسرے جانب طلحہ اور زبیر اپنے گھوڑوں پر بیٹھے برآمد ہوئے اور دونوں لشکروں کی صفوں کے بیچوں بیچ راستہ بناتے ہوئے بات کرنے کے لیے آگے آئے۔ وہ گھوڑوں کو دوڑاتے میدان کے وسط میں یوں رکے کہ ایک جنگجو نے منظر ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ، 'وہ اتنے قریب تھے کہ گھوڑوں کی گردنیں ایک دوسرے کو قلمزن کر رہی تھیں'۔ گھوڑوں کی پشت پر بیٹھے بیٹھے انہوں نے بات چیت کا آغاز کیا ۔ فوراً ہی علی نے خیمہ لگانے کا اشارہ کیا تو چاروں طرف خوشی کے نعرے بلند ہو گئے ۔ اس اشارے کا مطلب یہ تھا کہ فریقین مذاکرات پر آمادہ تھے اور سائے میں بیٹھ کر تسلی سے بات کرنا چاہتے تھے۔ مذاکرات کا دور اگلے تین دن تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہا۔ صرف سپہ سالار ہی نہیں بلکہ دونوں لشکروں میں شامل لوگ بھی ایک دوسرے سے بات کرتے رہے۔ مکہ کے ایک شخص نے ان تین دنوں کا حال کچھ یوں سنا رکھا ہے کہ، 'بعض دوسروں سے اختلاف رکھتے تھے اور کچھ نے ایک دوسرے کی راہ کاٹنے کی بھی کوشش کی۔ لیکن ان تین دنوں میں ہم نے صرف امن کی بات کی اور ہر شخص صرف امن اور آشتی کا خواہاں تھا'۔
یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ عائشہ نے مذاکرات میں حصہ نہیں لیا۔ ان تین دنوں میں انہوں نے اس خیمے کا رخ بھی نہیں کیا۔ حالانکہ ان مذاکرات کا جو بھی نتیجہ نکلتا، ان کی منظوری انتہائی لازم تھی۔ عائشہ نے ہی مکہ کے لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر آٹھ سو میل دور اس مرطوب میدانی علاقے میں نکل آنے پر آمادہ کیا تھا۔ یہ عائشہ ہی تھیں جنہوں نے لوگوں کو عثمان کے قتل کا انتقام لینے پر اکسایا تھا اور انہی کے نام پر تو یہ لوگ جمع تھے۔ کیا وہ بھی اس قضیے کا پر امن حل چاہتی تھیں؟ کیا محمدؐ کی کہی بات ابھی تک ان کے کانوں میں گونج رہی تھی جس میں انہوں نے نزاع اور نا اتفاقی سے دور رہنے کو کہا تھا؟ یا کیا اب عائشہ حوئب کے چشمے اور بھونکتے ہوئے کتوں کو یکسر نظر انداز کر چکی تھیں؟
ہم دیکھیں گے کہ اگر لڑائی کی نوبت آئی تو وہ میدان سے باہر نہیں رہیں گی۔ اب کی بار تو بالکل بھی ایسا نہیں ہو گا۔ وہ گھمسان کی جنگ میں مضبوطی کے ساتھ، مرکز میں جم کر کھڑی دکھائی دیں گی اور اپنے لشکر کو بھر پور انداز میں آگے بڑھ کر وار کرنے پر اکسایا کریں گی۔ وہ جرات مند مشہور تھیں اور کافی عرصہ پہلے تک وہ محمدؐ کے شانہ بشانہ جنگی مہمات میں حصہ بھی لے چکی تھیں۔ کیا وہ ذہنی طور پر پہلے سے ہی جنگ کے لیے تیار بیٹھی تھیں؟ کیا ان کا خیال یہ تھا کہ در اصل مذاکرات لا حاصل مشق ہے اور خواہ مخواہ کی کوفت ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں تھا کہ عائشہ یہ گمان کیے بیٹھی تھیں کہ بالآخر یہ بات چیت ناکامی کا شکار ہو گی؟ کیا اسی وجہ سے انہوں نے مذاکرات کے خیمے میں آنا گوارہ نہیں کیا؟ ہم نہیں جانتے کہ جب علی، طلحہ اور زبیر اس خیمے سے تیسرے دن شام کے وقت باہر نکلے، اور جب انہوں نے اپنی افواج کو ہتھیار نیچے کرنے کا اشارہ کیا تو اس وقت عائشہ کی حالت کیا تھی۔ کیا وہ اس پر خوش تھیں یا انہیں مایوسی ہوئی تھی؟ اس دن اور نہ ہی اس دن کے بعد، جب تک وہ زندہ رہیں، انہوں نے اس بات کا کبھی تذکرہ نہیں کیا۔
مذاکرات کے نتیجے میں یہ تینوں امن پر تو راضی نہیں ہوئے لیکن کم از کم جنگ ٹل گئی تھی۔ سادہ الفاظ میں کہیے تو یہ غیر متفق ہونے پر متفق ہو چکے تھے۔
ان میں سے ہر ایک نے حلف لیا کہ اگرچہ مسئلہ حل نہیں ہوا مگر بہرحال مسئلے کا حل طاقت کا استعمال کسی بھی صورت نہیں ہے۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی فوج کو پہلے حملہ کرنے کا حکم نہیں دے گا۔ ایک جنگجو نے اس حالت کو کچھ یوں بیان کیا ،'جب اس رات یہ تینوں خیمے سے نکل کر لوٹے تو گہری نیند سوئے۔ وہ اس سے پہلے اتنی پرسکون نیند کبھی نہیں سوئے ہوں گے کیونکہ یہ تینوں اس رات آزاد تھے۔ ان کے سر پر اب کوئی بوجھ نہیں تھا۔ انہوں نے اپنی ذمہ داری پوری کر لی تھی۔ وہ جو غلطی کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے تھے، پوری قوت سے خود کو کھینچ کر اس تباہی سے دور لے آئے تھے۔ یہ طے ہو گیا تھا کہ یہ تینوں ہی جنگی منصوبوں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں'۔
یہی شخص آگے چل کر بتاتا ہے کہ جب یہ تینوں آرام سے سو رہے تھے، کئی ایسے بھی تھے جنہیں اس رات نیند ہی نہیں آئی۔ اس کے الفاظ کچھ یوں ہیں، 'اسی رات، وہ جو اس مسئلے کی جڑ تھے۔ یعنی وہ جنہوں نے عثمان کا سارا قضیہ کھڑا کیا تھا، انہیں اپنے بستروں پر سانپ لوٹ رہے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی کی بد ترین رات گزاری کیونکہ ان کا انجام نزدیک تھا۔ وہ جلد ہی انصاف کے کٹہرے میں کھڑے کیے جانے والے تھے۔ یہ بدبخت ساری رات جاگتے رہے اور ان میں بات چیت چلتی رہی تا آنکہ انہوں نے اچانک حملہ کرنے کی ٹھان لی۔ انہوں نے اس منصوبے کو کو خفیہ رکھا۔ صبح ہونے سے پہلے ہی باہر نکل آئے اور روشنی کی پہلی پو پھوٹتے، اپنے ہی لشکروں کے اندر دھاوا بول دیا'۔
روایت میں کہیں بھی اس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ آخر یہ کون لوگ تھے؟ کیا وہ مروان کے آدمی تھے جو اس سے پہلے اس دن بھی لڑائی کا موجب بنے تھے جس دن عثمان قتل کیے گئے؟ یا کیا عائشہ کے حکم پر ایسا کیا گیا جو طلحہ اور زبیر کے لڑائی سے پیچھے ہٹنے پر خاصی مایوس تھیں؟ یا پھر جیسا کہ عام خیال کیا جاتا ہے، یہ وہ سر پھرے نوجوان تھے جو لڑائی جھگڑے کے شوقین واقع ہوئے تھے اور قدیم عربوں کی جرات اور ہٹ دھرمی کے قصے سن سن کر سر کش ہو چکے تھے؟ اس ضمن میں روایات میں خاصی الجھن پائی جاتی ہے۔ حقائق گڈ مڈ ہیں اور کہیں کوئی سرا نہیں ملتا۔ ایسا ہونا قدرتی ہے کیونکہ عام طور پر جنگ سے متعلق یا کہیے جنگ کے میدان سے متعلق ملنے والی روایات یوں ہی بے ترتیب اور خلط ملط ہوا کرتی ہیں۔ جو حقائق صاف ہیں، ان کے مطابق ایک چھوٹا گروہ دونوں لشکروں کو آپس میں بھڑا گیا۔ ایک چھوٹا سا گروہ بھی ایسا کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ یہ سچ ہے۔ تین یا چار لوگ بھی بڑی سے بڑی فوج کو حرکت میں لانے کے لیے کافی ہوتے ہیں۔ اچانک ہی لشکر کے ایک حصے میں تلواریں ٹکراتی ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے دوسرے سرے تک افراتفری پھیل جاتی ہے۔ ایک زور دار آواز بھی اتنی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کہ فوج میں یک دم حرکت پیدا ہو جاتی ہے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ صبح سویرے تڑکے کے وقت اچانک ہڑبونگ مچی اور دیکھتے ہی دیکھتے سپاہی اپنی تلواریں سنبھالے باہر نکل آئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں فوجی لڑائی میں جت گئے۔ ایسے میں جب چاروں طرف خوف اور بے جگری کا راج ہوتا ہے، اس کے بیچ، لوگوں کے پاس سوال اٹھانے کا موقع نہیں ہوتا۔ جب ایک فوجی کے سر پر موت منڈلا رہی ہو تو اس کو کیا پڑی ہے کہ پہلا وار کرنے والے کی کھوج کرتا پھرے؟ اس کے لیے اس وقت اپنی زندگی کا دفاع اولین ترجیح ہوتا ہے۔
شایدیہاں صرف اتنا کہنا ہی کافی ہو گا کہ دو انتہائی منظم لشکر جب منہ در منہ کھڑے ہوتے ہیں تو ایسے میں ہر شخص پوری تیاری سے، مسلح ہو کر لڑائی کے لیے تیار کھڑا ہوتا ہے۔ ایسی صورتحال میں لڑائی کے سوا کسی دوسرے نتیجے کی توقع رکھنی ہی فضول ہے۔ ہم یقین سے صرف یہ جانتے ہیں کہ اس بار کوئی اپنے سر پر ذمہ داری نہیں لے گا۔ اس لڑائی کو شروع کرنے کا بھاری پتھر اٹھانے کو کوئی تیار نہیں ہو گا۔ وہ ہزاروں آدمی جو 656 ء میں اکتوبر کے مہینے میں اس دن یہاں انتہائی بے دردی سے قتل کر دیے گئے، ان کی موت کا کوئی ذمہ دار نہیں ہو گا۔
یوں اس جنگ کی ابتداء ہو گئی۔ لوگ اسے جنگ جمل کہتے ہیں مگر اصل میں یہ اس طویل جنگ کی پہلی لڑائی تھی جس کو لڑنے کی خواہش کسی کو نہیں تھی مگر اس سے کنی کترانابھی ہر گز ممکن نہیں تھا۔ یہ ساتویں صدی میں شروع ہونے والی وہ جنگ ہے جو آج اکیسویں صدی میں بھی جاری ہے۔ آج یہ جنگ اسی مقام پر ویسے ہی لڑی جا رہی ہے جہاں صدیوں پہلے اس کی ابتداء ہوئی تھی۔ یہ مقام عراق ہے۔ اس دن شروع ہونے والی خانہ جنگی آج بھی یہاں، یعنی عراق میں بدستور جاری ہے۔ بلکہ عراق ہی کیا، اسلامی دنیا کے کونے کونے میں لڑی جا رہی ہے۔ عراق تب بھی مرکز تھا، آج بھی اس کا منبع ہے۔

صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی اگلی قسط نمبر 9 کے لیے یہاں کلک کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر