اول المسلمین کے بعد - علی - 09

وہ اونٹنی جس پر عائشہ سوار تھیں، جوں ہی میدان جنگ میں داخل ہوئی تو فوجیوں کی دہاڑ کانوں کو پھاڑتی ہوئی چاروں طرف بکھر گئی۔ وہ اس کو دیکھ کر جوش سے پاگل ہو رہے تھے۔ یہ ایک سرخ اونٹنی تھی جو صرف اور صرف سواری کے مقصد کے لیے سدھائی گئی تھی۔ اصیل نسل، نہایت سریع ، مضبوط قد کاٹھ اور انتہائی زور آور تھی۔ کوہان پر ہودج نصب تھا جس کے اوپر سایہ قائم کرنے کے ایک چھتر بنایا ہوا تھا۔ اس چھتر کو آج ململ نہیں بلکہ لوہے کی زنجیروں اور زرہ میں لپیٹ کر سرخ ریشم سے ڈھک دیا گیا تھا۔
عائشہ کی اونٹنی کا قد خاصا اونچا تھا۔ اس کے اوپر نصب ہودج بھی حفاظت کی پیش نظر خاصا اٹھاکر باندھا گیا تھا۔ سینکڑوں گھڑ سواروں کے بیچ یہ اونٹنی آہستہ آہستہ لہک کر چل رہی تھی۔ ہودج میدان میں باقی ہر شے سے اونچا اور دور سے ہی واضح نظر آتا تھا۔ گھڑ سوار اور پیادوں کے ہاتھ میں لہراتے ہوئے لشکر کے اونچے جھنڈے بھی ہودج کے سامنے سرنگوں محسوس ہوتے تھے۔ عائشہ کی یہ اونٹنی بجا طور پر لشکر کا مرکز تھی، اسے کسی جھنڈے کی ضرورت نہیں تھی بلکہ کہیے اس لشکر کو ہودج کے ہوتے کسی نشانی کی ضرورت نہیں تھی۔ فوجی میدان میں جہاں ہوتے، وہ بغیر کسی دقت کے عائشہ کی آواز پر دوڑ کر فوراً ان کے گرد گھیرا ڈال سکتے تھے۔ پیغمبر کی بے باک، بے لاگ اور سب سے عزیز بیوی، وہ جس کی گود میں آپؐ نے دم توڑا تھا۔ آج جنگ کے میدان میں لڑائی کے عین بیچ کھڑی تھی۔ عائشہ آج ہر گز پیچھے نہیں رہیں گی۔ وہ کسی بھی صورت ہار نہیں مانیں گی اور جہاں سب سے زیادہ خطرہ ہو گا، یہ اپنی اونٹنی کو ہانک کر عین خطرے کے بیچ پہنچ جائیں گی۔ کسی شخص میں ہمت نہیں ہو گی کہ انہیں میدان سے باہر رکنے پر مجبور کر سکے۔ وہ جنگجوؤں کے ساتھ میدان میں اتری تھیں اور آخری دم تک یہیں، لڑائی کے گھمسان میں ان کے ساتھ ہی جمے رہنے پر تیار تھیں۔ سب سے مقبول 'ام المومنین' آج دس ہزار فوجیوں کے لشکر کی سپہ سالار تھیں۔ اس فوج کا ہر سپاہی ان کے ایک اشارے پر جان قربان کرنے کو تیار کھڑا تھا۔
ہودج کو محفوظ بنانے کے لیے لوہے کی زنجیریں اور زرہ استعمال کی گئی تھیں جس سے یہ وزنی ہو گیا تھا۔ ممکنہ طور پر اس میں سے باہر کا نظارہ کرنا مشکل رہتا ہو گا مگر اونچائی کے سبب عائشہ کو میدان پر نظر رکھنے میں قطعاً کوئی دقت نہیں تھی۔ وہ بلندی پر بیٹھی سارے میدان کی کاروائی کو آسانی سے دیکھ سکتی تھیں، اس لیے کمان آسان ہو گئی تھی۔ جہاں صفوں میں شگاف پڑتا دکھائی دیتا یا انہیں لگتا کہ کوئی ٹکڑی کمزور پڑ رہی ہے، وہ جھٹ اس طرف رخ کرتیں۔ ان کے ساتھ حفاظت پر مامور سینکڑوں گھڑ سوار بھی حرکت میں آ جاتے جو کمزور پڑتی ہوئی ٹکڑیوں کا بھر پور ساتھ دیتے اور آگے بڑھنے میں مدد کرتے۔ گھڑ سواروں کے ساتھ ان کے گرد بیسیوں پیادے بھی جمع تھے جو ان کی اونٹنی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ، پیغام رسانی کا کام بھی کر رہے تھے۔ لشکر کے دو بڑے حصے تھے۔ گھڑ سواروں کی کمان طلحہ اور پیادہ فوج کی سپہ سالاری زبیر کے ہاتھ میں تھی۔ عائشہ ان پیغام رساں پیادوں کی مدد سے مسلسل ان دونوں کے ساتھ رابطے میں تھیں اور جہاں ضرورت پڑتی، ان کے لیے بھی ضروری ہدایات جاری کر دیتیں۔
زرہ بند ہودج پر سرخ ریشم جھنڈے کی طرح لہرا رہا تھا۔ اس کی پھڑ پھڑاہٹ میں عائشہ کی تیز اور حاکمانہ آواز صبح کی خنک ہوا کو چیرتی ہوئی چاروں طرف سنائی دے رہی تھی۔ چونکہ ہودج کو اچھی طرح محفوظ بنایا گیا تھا، اس لیے عائشہ کسی کو دکھائی نہیں دے رہیں تھیں ۔ لیکن ان کی آواز ہر کسی تک پہنچ رہی تھی۔ جیسے کسی انجانی سمت سے آ رہی ہو، گو یا میدان میں بے جگر ی سے لڑتے ہوئے جنگجوؤں کو آسمان سے احکامات مل رہے تھے۔ 'اللہ کی قسم! تم سورماہو۔ تم سا کوئی دوسرا بہادر آج تک جنا نہیں گیا۔ تم پہاڑ کی طرح جم کر کھڑے ہو' وہ اپنے فوجیوں کے حوصلے بڑھا رہی تھیں۔ پھر ان پر زوردیتیں، 'دلیری اور ہمت کا مظاہرہ کرو، اے میرے بیٹو! ان قاتلوں کو دکھا دو کہ تم کیا کر سکتے ہو۔ ان کا وہ حال کرو کہ یہ اس دن کو روئیں جب دنیا میں آئے تھے۔ اللہ کرے ان کی مائیں ان سے محروم ہو جائیں'۔
وہ ایک لمحے کے لیے بھی چپ نہ رہیں۔ ایک بار، دو بلکہ بار بار فوجیوں کو طیش دلاتیں، 'عثمان کے قاتلوں کا انجام موت ہے۔ قاتلوں کے ساتھیوں کی سزا بھی موت ہے۔ عثمان کا بدلہ لو۔۔۔ آگے بڑھو، عثمان کے قتل کو رائیگاں نہ جانے دو!'۔
جنگ کے میدان میں عورتوں کا روایتی کردار یہی تھا۔ لیکن ایسا پہلی بار ہو رہا تھا کہ ایک عورت لڑائی کے بیچ کھڑی یہ کام سر انجام دے رہی تھی۔ عام طور پر عورتیں لشکر کی پشت پر رہا کرتیں، وہیں سے لشکر کا ساتھ دیتیں۔ جنگجوؤں کو طیش دلاتیں اور زخمیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال کرتیں۔ وہ پیچھے رہتے ہوئے دشمن فوج کی مردانگی پر جملے کستیں اور اپنے جنگجوؤں کو آگے بڑھ کر بہادری اور بے جگر ی سے لڑنے پر اکسایا کرتیں۔ وہ لڑائی کے دوران یک زبان ہو کر منہ سے ایک مخصوص آواز نکالتیں جو اس قدر ہیبت ناک ہوتی کہ دشمنوں کے دل میں خوف بیٹھ جاتا۔ ان آوازوں کی مثال مشکی باجے جیسی تھی جو اس زمانے میں بھی دنیا کے کئی دوسرے علاقوں میں جنگ کے دوران بگل کی طرح زور دار آواز میں بجا کر دشمنان کے اوسان خطا کرنے کے کام آتی تھی۔ یہاں گھمسان کا کارن پڑا ہوتا اور وہاں عورتیں چیخ رہی ہوتیں۔ ایسے میں ایک طرف لڑتے رہنے کا دباؤ اور پھر عورتوں کا یہ شور، اس کے سبب فوجیوں کے دلوں میں ڈر جنم لے لیتا۔ دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف ہیجان اور خوف پھیل جاتا۔ اس ہڑبونگ میں ہر شخص جان کی فکر میں مارا مارا پھرتے، دوسروں کو دھکے مار کر پیچھے ہٹاتا، تلواریں ٹکراتیں، اور ہر ایک کی کوشش یہ ہوتی کہ مخالفین کو روندتا ہوا آگے بڑھتا جائے۔ کیونکہ پیچھے مڑنے میں موت تھی اور کہیں ایک جگہ ٹک گئے تو پھر بھی مارے جاتے۔ میدان جنگ میں یوں ایک ہی راستہ بچتا جو آگے کی طرف جاتا تھا اور اس راستے پر عورتوں کی یہی آوازیں ان کا پیچھا کرتی رہتیں۔ یوں میدان میں چاروں طرف فوجی ہانپتے ہوئے دکھائی دیتے اور تیز سانسوں کی آواز اس قدر اونچی ہو جاتی کہ لگتا، جیسے کئی اژدھے پھنکار رہے ہوں۔ جیسے ہی تلوار کا پھایا کسی کے جسم میں گوشت چیرتا ہوا دوسری جانب سے نکلتا تو ایک اندوہناک چیخ بلند ہوتی۔ وقفے وقفے سے مرتے ہوئے اشخاص کی چیخیں سنائی دیتی ہیں اور ایسے میں بالکل پتہ نہیں چلتا کہ کون مر رہا ہے؟ آیا یہ دشمن تھا یا پھر اپنا کوئی جان سے گیا؟ دوسروں کی ویسے بھی کس کو پرواہ ہے جب اپنی جان پر بن آئی ہو؟ کئی زخمی ہو کر زمین پر پڑے کراہ رہے ہوتے۔ سسکیاں بھرتے ہوئے، زخموں سے چور، مرتے ہوئے فوجیوں کی دل خراش چیخیں اس وقت تک سنائی دیتی رہتیں ، جب تک کہ موت آ جائے یا پھر لڑائی ختم ہو کر مرہم کا سامان نہ ہو چکے۔
یہ جدید دور کا شاخسانہ ہے کہ آج عورتوں کو اکثر نازک مزاج سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ ٹھسے سے انہیں 'صنف نازک' قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اس زمانے میں یہ عورتیں ہی تھیں جو اس قدر بھیانک اور دہشت ناک مناظر دیکھ کر بھی اپنی جگہ پر جم کر کھڑی فوجیوں کو آخری دم تک لڑتے رہنے پر اکساتی رہتیں، انہیں جری دشمن کے چھکے چھڑانے پر مجبور کیے رکھتیں۔ اگر کوئی شک میں مبتلا ہو جاتا یا پیچھے مڑ کر بھاگنے کی سوچتا تو یہ اسے شہ دلا کر واپس میدان میں دھکیل دیتیں۔ لوگ ابھی تک ہند کی مثال زور و شور سے دیتے تھے۔ ہند کا شوہر قریش مکہ کا سردار تھا اور محمدؐ کے شدید مخالفین میں سے ایک تھا۔ ابو سفیان سے قبل ہند کا باپ قریش کا سردار ہوا کرتا تھا ۔ وہ مکہ اور مدینہ کے بیچ پہلی باقاعدہ جنگ میں مارا گیا تھا اور ہند اپنے باپ کے قاتل کو اچھی طرح جانتی تھی۔ یہ محمدؐ کے چچا حمزہ تھے۔ چنانچہ جب اگلی دفعہ مکہ کے لشکر نے مدینہ پر دوبارہ حملہ کیا تو یہ ہند تھی جو اپنی افواج کی پشت پر کھڑی باقی عورتوں کے ساتھ مل کر محمدؐ کے لشکریوں کو لعن طعن کر رہی تھی اور اپنے فوجیوں کو شہ دلا کر حملے پر مجبور کرتی رہی۔ ہند انتقام کی آگ میں جل رہی تھی اور اس نے اپنے باپ کے قاتل حمزہ کے سر کی منہ مانگی قیمت مقرر کر رکھی تھی۔ پھر جب لڑائی ختم ہو گئی تو ہند میدان میں اتری اور ایک ایک لاشے کو پلٹ کر دیکھا۔ وہ حمزہ کی تلاش میں تھی، جنہیں ایک حبشی غلام نے نیزے کا وار کر کے موقع پر قتل کر دیا تھا۔
آخر کار ہند کو حمزہ کی لاش مل گئی۔ لاش دیکھتے ہی اس کے حلق سے ایک فلک شگاف، کانوں کو پھاڑتی ہوئی چیخ بر آمد ہوئی جو کئی سالوں بعد بھی، لوگ جب اس کے بارے سوچتے یا بات کرتے تو محسوس ہوتا جیسے ان کا خون جم گیا ہے۔ وہ حمزہ کی آسن میں پڑی ہوئی لاش کے پاس کھڑی رہی۔ پھر اس نے ایک خنجر منگوایا اور دونوں ہاتھوں میں تھام کر پوری قوت سے حمزہ کے جسم میں گھونپ کر چیرا لگا دیا۔ لاش کا پیٹ پھاڑ ڈالا اور اندر ہاتھ ڈال کر کلیجہ نکال لیا۔ اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ دلی مراد بر آنے کے احساس میں، زور زور سے چلاتے ہوئے کلیجے کو دونوں ہاتھوں میں اٹھا کر اپنے سر کے اوپر بلند کر دیا۔ پھر سب لوگ دیکھ رہے تھے کہ ہند ، حمزہ کا کلیجہ دانتوں سے نوچ کر چبا رہی تھی۔ وہ اس کی بوٹیاں چباتی جاتی اور زمین پر تھوکتی جاتی۔ پھر اس چبے ہوئے کلیجے کو دیر تک دیوانوں کے سے انداز میں مٹی پر رولتی رہی۔ اس کا منہ، ہاتھ اور کپڑے حمزے کے کلیجے سے رستے ہوئے تازہ خون سے لال ہو رہے تھے اور وہ مسلسل چیختی چلا رہی تھی۔
کون ہے جو اس منظر کو بھلا سکتا تھا؟ کلیجے سے نکلا گاڑھا خون اس کے منہ سے بہہ کر ٹھوڑی کے نیچے سے ٹپک رہا تھا۔ ہاتھ اور بازو بھی گہرے لال خون سے تر تھے اور آنکھوں میں جیسے انتقام کا خون اترا ہوا تھا۔ یہ اس قدر بھیانک اور دہشت ناک منظر تھا کہ لوگ اتنے عرصے بعد بھی ہند کے بیٹے کو، بعض طنزاً اور کچھ ستائش سے 'کلیجہ چبانے والی' کا بیٹا کہہ کریاد کیا کرتے۔ ظاہر ہے، کوئی بھی شخص انہیں بھی منہ پر ایسا کہنے کی جرات نہیں رکھتا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ ہند کا بیٹا کوئی اور نہیں بلکہ معاویہ تھے۔ معاویہ ایک عرصے سے شام کے گورنر تھے۔ وہ اپنی ماں جیسے ہی واقع ہوئے تھے۔ یعنی ان کے ساتھ دشمنی مول لینے کا خطرہ کوئی نہیں لے سکتا تھا۔
ہند کا خاصا دبدبہ تھا ۔ وہ نامی گرامی اور انتہائی سخت دل عورت تھی۔ وہ بھی بے باک مشہور تھی مگر اس کے باوجود کبھی جنگ کے بیچ، میدان میں نہیں اتری۔ ہمیشہ لشکر کے پیچھے رہ کر اپنا کام سر انجام دیا۔ وہ بھلے انتہائی نڈر رہی ہو مگر اس کی شاہانہ طرز کا تقاضا ہمیشہ یہی رہا کہ وہ لڑائی کے مرکز میں کبھی نہیں جا سکی۔ یہ تو ایسا کام تھا جس کے لیے خانہ بدوش عورتیں ہی مشہور تھیں۔ مثلاً ایک عورت ام سلمہ تھی۔ یہ اپنے قبیلے کی سردار تھی اور اس نے ابو بکر کے دور میں لڑی جانے والی ارتداد کی جنگوں میں اپنے قبیلے کے خلاف جاری مہم میں سپہ سالاری کی تھی۔ شاعر ابھی تک اس کی ہمت اور حوصلے کے گن گاتے تھے۔ اس کی دلیری کو صحرا سے منسوب رومان سے جوڑکر کئی گیت اور نظمیں لکھی جا چکی تھیں۔ اس ضمن میں لکھی جانے والی شاعری میں اس سفید اونٹنی کا بطور خاص ذکر ملتا تھا جس پر سوار ہو کر ام سلمہ انتہائی نڈر انداز میں اپنے لشکر سمیت میدان جنگ میں چلی آئی تھی اور آخری دم تک ہمت اور بلند سری کے باعث باقی جنگجوؤں کے حوصلے کا سامان کرتی رہی تھی۔ کئی روایات میں تو یہ بھی ملتا ہے کہ اس نے باقاعدہ لڑائی بھی لڑی لیکن بالآخر اسے اپنی اونٹنی سمیت ہلاک کر دیا گیا ۔ اس کے قبیلے کو اس لڑائی میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اگرچہ ام سلمہ مسلمان نہیں تھی۔۔۔ یا کہیے ابو بکر کے مطابق وہ مرتد تھی۔ مگر جب عائشہ بصرہ شہر کے باہر اپنی سرخ اونٹنی پر سوار ہو کر میدان جنگ میں اتریں تو یہ پہلی بار تھی کہ ایک مسلمان عورت سپہ سالار کی حیثیت سے لشکر کو لیے لڑائی لڑنے نکلی تھی۔ یہ اسلام میں کسی عورت کا جنگ میں سپہ سالاری کا پہلا اور آخری موقع ہو گا۔
اس وقت تک کسی بھی شخص کو عائشہ، یا کہیے ایک عورت کی سپہ سالاری پر کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کوئی شخص ان کے وہاں موجود ہونے پر انگلی نہیں اٹھا سکتا تھا بلکہ ہر شخص ان کے وہاں اس حیثیت سے موجود ہونے کے حق کو اچھی طرح سمجھتا تھا۔ یہ تو بہت بعد کی بات ہے جب نقادوں نے عائشہ کے یوں پورے لشکر کی سپہ سالاری پر سوالات اٹھانے شروع کیے، بلکہ کسی بھی عورت کی جنگ میں ہی نہیں بلکہ کسی بھی سیاسی اور معاشی شعبے میں سربراہی پر اعتراضات لگا کر تقریباً ناممکن بنا دیا۔ اس لڑائی کے بعد بچ جانے والے ایک شخص نے انتہائی تلخی سے کہا، 'ہم ایک ایسی عورت کے لیے جنگ لڑ رہے تھے جو اپنے تئیں سمجھ رہی تھی کہ جیسے وہ امیر المومنین ہے'۔ ایک دوسرے شخص نے تو تضحیک کی حد کر دی۔ کہنے لگا، 'بجائے یہ کہ گھر میں بیٹھ کر کپڑوں پر بیل اور بوٹے کاڑھتیں، کشیدہ کاری سیکھتیں، وہ گھوڑے پر سوار ہو کر صحرا پار کرنے نکل پڑیں۔ خود کو اتنا صاف ہدف بنا لیا کہ ان کے بیٹوں کو تیر، نیزے اور تلواروں کے وار سہہ کر دفاع کرنا پڑا'۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ اگر اس روز عائشہ کی فوج میدان مار لیتی تو وہی الفاظ جو اب ان کو لعن طعن کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے، ہم دیکھتے کہ کیسے ان کی بہادری، بے جگری اور سپہ سالاری کے گن گانے کے لیے استعمال ہو رہے ہوتے۔ یا اگر وہ ام سلمہ کی طرح میدان جنگ میں ماری جاتیں تو پھر ان کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ آج عظیم داستان بن کر امر ہو جاتا اور یہی لوگ اس کو بار بار بیان کرتے نہ تھکتے۔ لیکن ظاہر ہے ایسا نہیں ہو گا۔
عائشہ اونٹنی پر سوار ، اونچائی سے میدان جنگ کا عجیب منظر دیکھ رہی ہوں گی۔ یہ اس قدر خوفناک اور دل دہلا دینے والا منظر رہا ہو گا کہ اس کی کوئی حد نہیں۔ جس چیز سے مسلمان ڈرتے آئے تھے، اب ان کی آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہا تھا۔ سخت جان اور جانے مانے جنگجوؤں نے بھی بعد میں قسم اٹھا کر بیان دیا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں اتنی بڑی تعداد میں کٹے ہوئے بازو اور ٹانگیں نہیں دیکھیں۔ لڑائی صبح سویرے شروع ہوئے اور سہ پہر تک جاری رہی اور جب یہ تمام ہوئی تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے تھے۔ ان میں زیادہ تر کا تعلق عائشہ کے لشکر سے تھا ، یہ سب منجھے ہوئے جنگجو تھے۔ تین ہزار مر چکے تھے یا مر رہے تھے۔
لڑائی میں بچ جانے والوں نے بعد ازاں میدان میں پیش آنے والے واقعات کی روداد لکھوائی ہے۔ ان کی کہانیاں پڑھیں تو یہ ویسی ہی ہیں، جیسی کسی بھی افتاد میں بچ جانے والوں کی ہوا کرتی ہیں۔ بعض نے جنگ کے حالات کو انتہائی رومانوی انداز میں بیان کیا ہے، اس سے تحریک کا سامان پیدا کیا ہے۔ کچھ ایسے بیان ملتے ہیں کہ ان پر قدیم یونانی سورماؤں کی لازوال داستانوں کا گماں ہوتا ہے۔ یہ سورما آخر تک ڈٹ کر کھڑے رہے اور موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے نبرد آزما نظر آتے ہیں۔ مثلاً ایک جنگجو کے ساتھ یوں ہوا کہ جب کچھ ہاتھ نہ آیا تو وہ اپنی کٹی ہوئی ٹانگ اٹھا کر لڑتا رہا۔ ایک دشمن سپاہی نے تلوار کے وار سے اس کی ٹانگ دھڑ سے جدا کر دی کیونکہ اس کے ہاتھ سے اپنی تلوار چھوٹ کر دور جا گری تھی اور وہ اس کے وار کو روک نہیں پایا تھا۔ اسے لگا کہ شاید اب اس کا کام تمام ہو گیا مگر اسی وقت اس نے بے اختیار آگے بڑھ کر اپنی کٹی ہوئی ٹانگ اٹھا لی ۔ اس سے پہلے کہ دشمن دوسرا وار کرتا، اس نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹانگ اتنی زور سے گھمائی کہ وہ شخص جس نے یہ کاٹی تھی، اس کی ضرب سے چکرا کر گر گیا ۔ اس کا سر پتھر سے ٹکرایا اور وہ موقع پر ہلاک ہو گیا۔ ایک دوسرے جنگجو نے اسے اس حالت میں دیکھا کہ وہ کٹی ہوئی ٹانگ ہاتھ میں پکڑے میدان میں پڑا تھا اور خون بہہ جانے کی زیادتی سے کمزور ہو کر گر پڑا تھا ۔ اس کا سر مرے ہوئے دشمن جنگجو کے سینے پر ٹکا ہوا تھا۔ اس سے پوچھا، 'تمہارا یہ حال کس نے کیا؟' جواب میں وہ آنکھ مار کر مسکرایا اور بولا، ' میرے سر کی گدی نے۔۔۔'۔
موت کے سامنے منہ زوری اور سر کشی کی یہ کہانیاں دنیا میں ہر جگہ بہتات میں مل جاتی ہیں۔ ان قصائص میں مرد ہاتھ اور ٹانگیں کٹ جانے کے بعد بھی بے جگری سے لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ اپنے دلوں سے لڑتے ہیں، جگرے سے وار کرتے ہیں اور بدترین حالات میں بھی ناممکنات کے خلاف انتہائی بہادری سے نبرد آزما رہتے ہیں۔ وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک لڑتے ہیں۔ ضرورت پڑے تو اپنے دانتوں سے تلواریں تھام کر وار کرتے ہیں۔ جیسے پچیس سال بعد حسین کے سوتیلے بھائی عباس کے بارے بھی ایسے ہی واقعات مشہور ہو جائیں گے۔ آج عباس شیعیت میں عظیم سورما مانے جاتے ہیں۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں ، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہ کہانیاں اصل نہیں ہوتیں بلکہ ان کا مقصد تو میدان جنگ میں اتر کر ہمت اور دیدہ دلیری سے لڑنے کی جرات کو عیاں کرنے کے لیے گھڑی جاتی ہیں۔ ہر شخص جانتا ہے کہ ان داستانوں کا حاصل صرف اور صرف پیچھے رہ جانے والوں کے لیے دلیر پن کا سامان کرنا ہے۔ یہ جنگ کی دہشت اور اس سے منسوب خوف اور ہراس کو جنگجوؤں کے دلوں سے دور رکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ جمل (جمل عربی کا لفظ ہے جس کے معنی اونٹنی ہیں) کی تقریباً کہانیوں میں دلیری اور مردانگی اتنی کثرت سے ملتی ہے کہ اس پر صاف صاف حماقت اور بے وقوفی کا گماں ہوتا ہے۔ یہ بہت عجیب بات ہے کہ ان قصوں کا بغور مطالعہ کریں تو اس جنگ کے پس منظر، اسباب میں بکثرت پائی جانے والی حماقت اور بد حواسی، اس جنگ کے بعد بیان کی گئی کہانیوں میں بھی اتنی ہی عام مل جاتی ہے۔ جنگ جمل کی ہر روایت اور ہر ایک راوی پر قدیم یونانی طائفے کا گماں ہوتا ہے جو جنگوں کے دوران شدید نقصان اور المناک واقعات کو ایک ناٹک کی صورت بیان کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ مگر بات یہ ہے کہ ایسا کیوں نہ ہو ؟ ایسا ہونا قدرتی ہے۔ فتنہ اتنی بری چیز ہے کہ یہ روایات خانہ جنگی کی نا گوار، انتہائی کڑواہٹ کو دور کرنے کا سامان بن جاتی ہیں۔ یہ قصے درشتی اور تندی کا وہ حال ہے جو آنے والی صدیوں میں بھی ویسے ہی طاری رہے گا جیسا کہ پہلے دن تھا۔ یہ تلخی آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔
جنگ جمل دست بدست لڑائی تھی۔ آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر وار کیا جاتا اور آگے بڑھ کر حملہ آور ہوتے جن آنکھوں میں جھانکا جا رہا ہوتا، وہ کسی غیر کی نہیں بلکہ اپنے ہی کسی قریبی عزیز کی آنکھیں ہوتیں۔ اس سے کبھی اچھی دعا سلام، جان پہچان یا ناطہ رہا تھا۔ عائشہ اور علی کی افواج میں پیدا ہونے والے انقسام کا چیرا سماجی نظام کی رگ و پے تک اتر گیا۔ قبائل میں پھوٹ پڑ گئی۔ قبائل کے اندر بھی کنبے اور خاندان بھی تقسیم ہو کر رہ گئے۔ اب یہ ایک امت نہیں بلکہ دو فریق تھے۔ ہمزاد، خونی رشتہ دار یہاں تک کہ باپ اور بیٹوں میں لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ صحیح معنوں میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو گئی۔
یہ جدید دور کی جنگ نہیں تھی کہ جہاں فاصلوں کی بدولت نقصان کا ذرہ بھر احساس نہیں ہوتا۔ جدید ٹیکنالوجی کا معاملہ یہ ہے کہ دشمن کی آنکھوں میں جھانکنے یا چیخ و پکار سننے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ دست بدست لڑائیاں تو اندر تک کاٹ کر رکھ دیتی ہیں۔ اپنے ہاتھ سے کیے وار اور پھر اپنی آنکھوں کے سامنے دم توڑتے ہوئے شخص کو دیکھنا جگرے کا کام ہے۔ چاروں طرف خون ہی خون، خون کے پیاسے اور وہ جو کبھی اپنے تھے، اب ان کی آنکھوں میں خون کون دیکھنا، بھلا آسان کام ہے؟ وہ کیا منظر رہا ہو گا جب دو جنگجو لڑتے ہوئے تلوار یا خنجر کا وار کرنے ایک دوسرے کے انتہائی قریب آ جاتے ہوں گے ؟ وہ ایک دوسرے کو کس طرح دیکھتے ہوں گے؟ ان کی نظریں ملتی ہوں گی تو بھلا وہ کیا سوچتے ہوں گے؟ پھر یہ کہ لڑائی صرف خنجروں، چاقوؤں یا تلواروں تک ہی محدود نہیں رہتی تھی۔ اپنی جان بچانے کے لیے جو چیز ہاتھ میں آتی، ہتھیار بن جاتی۔ یہاں کسی نے دوسرے کو گردن سے دبوچ کر آنکھوں میں چبو رکھی ہیں۔ وہاں دیکھیں تو کوئی دوسرے کی ٹانگوں کے بیچ گھٹنے سے چوٹ لگا رہا ہے۔ ادھر ایک شخص نے دوسرے کا سر پتھر پر مار کر ہلاک کر دیا ہے۔ وہ دور دیکھیے، اس شخص کی پسلیوں میں کہنی ماری جا رہی ہے۔ روایات میں ہر جنگجو نے اپنے قصے میں دشمن کے جسم میں تلوار گھونپنے کا ذکر کیا ہے۔ جب ایک ہی وار سے تلوار کی تیز دھار گوشت میں گھس کر پٹھوں کو چیرتی ہو گی تو بھلا کیسا محسوس ہوتا ہو گا؟ آنکھوں کے سامنے انسانی خون کا فوارا پھوٹتا ہوا دیکھنا، کیسا منظر ہوتا ہے؟ چاروں طرف خون کی بو، دہشت، بے لحاظی، افراتفری ، بد حواسی، اتنا خوف کہ مردوں کا پیشاب خطا ہو جاتا، پھٹے ہوئے پیٹ سے بہتی ہوئی آنتیں، گھوڑوں کی خوفزدہ ہنہناہٹ، ہیجان کے مارے آدمیوں کا ہذیان اور ذہن میں ایک ہی بات کہ کسی طرح، کسی بھی طرح آج کا دن نکل جائے اور زندگی بچ جائے۔ کسی بھی طرح ، اگر اس کے لیے دوسرے کی آنکھیں نکالنی پڑیں تو نکال دی جائیں، اپنی جان بچانے کے لیے اگر سامنے کھڑے اپنے جیسے ہی کسی شخص کے اندر سے جان نکال کر خود کے لیے رکھنی پڑی تو کر گزریں گے۔ ایک ہی مقصد اور وہ یہ کہ بس کسی طرح دن کے آخر میں صرف ہم زندہ کھڑے رہیں۔
دوپہر ڈھلنے تک طلحہ اور زبیر دونوں ہی مارے گئے۔ طلحہ گھڑ سواروں کی سپہ سالاری کر رہے تھے اور مردانہ وار لڑے۔ امکان یہ تھا کہ وہ بالآخر غالب آ جاتے اگر انہیں پشت سے تیر کا نشانہ نہ بنایا جاتا۔ انہیں اپنے ہی لشکر میں سے کسی نے قتل کیا۔ مشہور یہ تھا کہ انہیں قتل کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ مروان تھا۔ بعد ازاں مروان نے اس کا اعتراف بھی کیا۔ اس نے اس فعل کی عجب مگر پارسائی میں لپٹی منطق دی۔ کہنے لگا کہ طلحہ نے ہمیشہ عثمان پر کڑی تنقید کی تھی جس کے نتیجے میں بغاوت شروع ہوئی ۔ بغاوت عثمان کے قتل پر منتج ہوئی۔ مروان کے مطابق اب طلحہ کا عثمان کے انتقام کا نام لے کر جنگ کرنا منافقت کے سوا کچھ نہیں تھا۔ چنانچہ مروان نے اس روایت میں، آگے چل کر کہا ہے کہ وہ تو صرف انصاف کے تقاضے پورے کر رہا تھا، ایک منافق کو اس کی منافقت کا ذائقہ چکھا رہا تھا۔
جیسا کہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ متنازعہ شخصیات کا حال کبھی واضح نہیں ملتا۔ اسلامی تاریخ میں بھی یہی بات عام ہے کہ جب بھی مروان کی بات چلتی ہے تو ان روایات میں خاصا ابہام پایا جاتا ہے۔ یہاں بھی کئی لوگ ایسے ہیں جو مروان کے اس فعل اور اس کے جواز سے اتفاق نہیں رکھتے۔ کچھ روایات میں کہا گیا ہے کہ در اصل طلحہ بے جگری سے لڑ کر مخالفین کے چھکے چھڑا رہے تھے۔ قریب تھا کہ وہ غالب آ جاتے مگر مروان نے موقع کا فائدہ اٹھا کر پشت سے وار کیا تا کہ ان کا کام تمام کر کے خلافت کے حصول کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ کو دور کر سکے۔ اگر عائشہ کا لشکر اس روز لڑائی جیت جاتا تو طلحہ ہی خلیفہ مقرر کیے جاتے۔ ایسا ہو جاتا تو ظاہر ہے مروان کے ارادوں پر پانی پھر جاتا۔ کچھ لوگوں نے یہ بھی کہا ہے کہ در اصل مروان جان بوجھ کر پیچھے ہٹا رہا۔ وہ انتظار کرتا رہا کہ جنگ کا اونٹ کسی ایک کروٹ بیٹھے تو وہ بچ جانے والی کروٹ کا ساتھ دے۔ اس نے علی کے سامنے سرخرو ہونے، ان کے دل میں گھر کرنے کے لیے یہ قدم اٹھایا تا کہ اس کی اپنی جان بخشی ہو سکے۔ اس ضمن میں ایک تیسرا خیال بھی عام ہے۔ زیادہ لوگ اس بات پر قائل تھے کہ مروان نے یہ قدم اپنے بل بوتے پر نہیں اٹھایا۔ بلکہ اس پتلی کو تو کہیں دور سے اشارے مل رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عائشہ کا لشکر جنگ ہار گیا تو مروان گھوڑے پر سوار ہو کر صحرا میں بھاگ نکلا اور لمبا سفر طے کر کے شام کے شہر دمشق جا پہنچا۔ ادھر پہنچتے ہی وہاں کے گورنر معاویہ نے اسے اپنے دربار میں کلیدی مشیر مقرر کر دیا۔ لوگوں کا خیال تھا کہ مروان نے معاویہ کی ایماء پر یہ قدم اٹھایا کیونکہ معاویہ خود خلافت پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ رقم تاریخ میں مورخین نے مروان کے معاملے میں چکرا کر یہ سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ آخر سچائی کیا تھی؟ ظاہر ہے، اس کا حتمی جواب تو نہیں دیا جا سکتا لیکن بات یہ ہے کہ مروان کے افعال کی اصلیت جاننے کے لیے ہمیں مروان جیسا ہی شاطر اور پیچ دار دماغ چاہیے ۔ ورنہ اس کی چالیں سمجھنا ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔
زبیر کی موت کا معاملہ بھی کچھ ایسے ہی دغا کا ہے۔ گو ان کے معاملے میں صاف پتہ نہیں چلتا کہ دھوکہ کس نے دیا؟ مشہور یہ تھا کہ جوں ہی لڑائی شروع ہوئی، زبیر نے میدان چھوڑ دیا اور تن تنہا ہی مکہ کی طرف واپسی کی راہ لی۔ چند لوگوں نے اسے بزدلی قرار دیا ہے مگر زبیر کا بطور جنگجو ریکارڈ دیکھا جائے تو یہ بات ہضم نہیں ہوتی۔ زیادہ تر روایات میں کہا گیا ہے اور لوگوں کا عام خیال بھی یہی تھا کہ زبیر معاہدے کو یوں بکھرتا دیکھ کر مایوسی کا شکار ہو گئے تھے۔ غیر متفق ہونے پر متفق ہونا بھی اچھا خاصا طویل اور جان توڑ مرحلہ ثابت ہوا تھا۔ اتنی محنت سے حاصل کیا گیا امن، اتنی آسانی سے پارہ پارہ ہونے پر وہ خاصے دل برداشتہ تھے۔ انہوں نے علی کو زبان دی تھی کہ لڑائی کی شروعات ان کی طرف سے نہیں ہو گی، ایسا ہی وعدہ علی کی جانب سے بھی کیا گیا تھا لیکن بہر حال ہوا یہ تھا کہ کہیں کوئی ایسا ضرور تھا جسے ان دونوں کی زبان کا کوئی پاس نہیں تھا۔ ایک طرح سے ان کی بات کا مان ٹوٹ گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی وہ علی کو ایک دفعہ زبان دے کر پیچھے ہٹ چکے تھے، انہوں نے علی کے ہاتھ پر بیعت لی تھی اور بعد ازاں اس سے منکر ہو گئے تھے۔ وہ بیعت سے مکر جانے پر بھی پشیمان تھے۔ وہ اس وقت تو اپنی زبان پر قائم نہیں رہ سکے تھے مگر اب کی بار وہ اپنے وعدے کا سختی سے پاس کریں گے۔ وہ ہر گز لڑائی نہیں لڑیں گے اور اس کے لیے اپنی جان بھی دے دیں گے۔
مکہ کے لوگوں نے دعوی کیا کہ یہ بدوؤں کی کارستانی تھی۔ مکہ کے قریش بدوؤں کو کمتر سمجھتے آئے تھے اور ان کے خیال میں یہ نا قابل اعتبار تھے۔ میدان جنگ سے واپسی پر زبیر تنہا تھے اور راستے میں انہیں اکیلا دیکھ کر بدوؤں نے انہیں قتل کر دیا۔ لیکن کس کے حکم پر؟ اس سوال پر روایات میں ایک دفعہ پھر مروان کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ دلیل یہ دی گئی کہ اس کا مقصد ان دونوں یعنی طلحہ اور زبیر کو راستے سے ہٹانا تھا، جس میں وہ بالآخر کامیاب رہا۔ لیکن اس بات کا کہیں کوئی ثبوت نہیں ہے۔ زبیرکا ایک ہی بیٹا تھا، بعد ازاں زبیر کے قتل میں محرکات اور اسباب، حقائق کا سامنے آنا تو دور کی بات، اس ان کا نام دوبارہ زندہ کرنے کے لیے بھی کئی برس لگ جائیں گے۔
طلحہ اور زبیر کے بعد عائشہ کو لڑائی میں شکست ہو چکی تھی۔ اصولی طور پر انہیں فوراً ہی ہتھیار ڈالنے کا حکم دے دینا چاہیے تھا۔ لیکن وہ بدستور اپنے لشکر کے جنگجوؤں کو آگے بڑھنے اور حملہ جاری رکھنے کا حکم دیتی رہیں۔ وہ ابھی تک چلا رہی تھیں۔ تیز اور زور دار آواز میں دشنام کرتی جاتیں، ایک ہی لے میں لعن طعن کرتی رہیں۔ پکار پکار کر جنگجوؤں کو اپنی سرخ اونٹنی کے گرد جمع ہونے کا کہتی رہیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ وہ شکست تسلیم کرنے کی حالت میں نہیں تھیں۔ انہیں یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ یا شاید وہ اپنی طبیعت کے ہاتھوں مجبور تھیں۔ وہ ہر صورت، ابھی بھی اپنی ہی کہی بات پوری ہونے کے انتظار میں تھیں بلکہ اسی پر اڑی ہوئی تھیں۔ یا پھر وہ اپنے گر د اتنی خوں ریزی دیکھ کر جذبات میں بہہ گئیں۔ یا شاید وہ سب کو دکھانا چاہتی تھیں کہ وہ اس قدر نا گفتہ بہ صورتحال میں بھی خوفزدہ نہیں ہیں ۔ وہ دونوں لشکروں کے جنگجوؤں پر ثابت کرنا چاہتی تھیں کہ وہ ان کی ہی طرح مضبوط اعصاب اور با ہمت ہیں؟ وہ دکھا دینا چاہتی تھیں کہ وہ کسی بھی طرح سے مردوں سے کم نہیں ہیں۔ عرب جنگجو ہونا اعزاز کی بات تھی، وہ عورت ہوتے ہوئے بھی کسی سخت جان جنگجو مرد سے کم نہیں ہیں۔ وہ ہر گز ہتھیار نہیں ڈالیں گی۔ وہ آخر تک، کڑوے آخر تک، لڑتی رہیں گی۔
میدان جنگ میں اب لڑائی صرف عائشہ کی اونٹنی کے گرد چند سو جنگجوؤں کے بیچ جاری تھی۔ ایک کے بعد دوسرا جنگجو آگے آتا اور بڑھ کر اونٹنی کی مہار تھام لیتا۔ وہ مہار کو مضبوطی سے پکڑ کر اونٹنی کو پیچھے مڑ کر الٹی چھلانگ لگا کر ہنگامے سے دور بھاگنے سے روکے رکھتا۔ ایک بعد دوسرا شخص ، ایک ہاتھ میں مہار اور دوسرے میں جھنڈا اٹھا کر نہتا ہو جاتا اور اگلے ہی لمحے، وہیں کاٹ کر پھینک دیا جاتا۔
ہر بار جب آگے بڑھنے والا جنگجو قتل ہو کر گرتا، کوئی دوسرا شخص مہار تھامنے آ جاتا۔ جب بھی کوئی نیا آتا، عائشہ اس کا نام پوچھتیں۔ وہ اپنا نام بتاتا۔ خاندان، کنبے اور قبیلے کا پتہ دیتا۔ عائشہ ہودج کے اندر بیٹھیں، اونچی آواز میں اس کی نسل کے گن گاتیں، اس کو خطاب عطا کرتیں اور اس کی ہمت کی داد دیتیں۔ پھر لوہے کی زرہ کی زنجیروں کے پیچھے سے دیکھتیں کہ وہ بھی قتل کر دیا جاتا۔
علی کے سپاہی یہ حال دیکھ کر چلانے لگے، وہ عائشہ کے لشکر میں شامل جنگجوؤں کو پیچھے ہٹنے کا مشورہ دینے لگے۔ بعض تو منت سماجت بھی کرتے ہوئے دیکھے گئے۔ اب لڑنے کو لڑائی بچی ہی نہیں، چاروں طرف گھیرا ڈالے وہ گلے پھاڑ کر چلانے لگے۔ اس ضد، اپنے آپ کو یوں بے وجہ قتل کرانے کا کیا مطلب ہے؟ لیکن ان کی استدعا اور ہر دلیل رد کر دی گئی۔ شاید حال یہ ہو چکا تھا کہ اب دلیل کی کوئی گنجائش بچی ہی نہیں تھی۔ ویسے بھی یہ قضیہ یہاں تک کس دلیل کی بنیاد پر پہنچا تھا؟ عائشہ کی اونٹنی کے گرد جاری قتل و غارت کا کسی کھاتے میں کوئی شمار ہی نہیں تھا۔ بلکہ اس جنگ میں ہونے والی کوئی بھی ہلاکت کسی شمار میں نہیں تھی۔ یا شاید، ا ب یہاں پہنچ کر خبط نے صحیح معنوں میں پنجے گاڑھ لیے تھے۔ سوچ کا نام و نشان باقی نہیں رہا تھا اور ہر طرف صرف دیوانگی کا رقص جاری تھا۔ یا شاید پیروکار اب اپنی جانیں لٹا کر رہنماؤں کے سر میں جو سودا تھا، اسے اس طرح باور کرا رہے تھے؟ انہیں اپنی جان دے کر ٹہوکے لگا رہے تھے؟ جنگ جمل کے پس منظر میں اب تک ہزاروں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو چکے تھے، سب جانتے تھے کہ ان کی موت کے ذمہ داروں کا کبھی تعین نہیں کیا جائے گا۔ کوئی شخص ان کی موت کی ذمہ داری نہیں لگے گا ۔ لیکن، اب اونٹنی کے گرد ہو رہیں ہلاکتیں صاف صاف عائشہ کے کھاتے میں ڈالی جا سکتی تھیں۔ تاریخ گواہ ہوتی کہ اگر پہلے ممکن نہیں تھا تو آج، جنگ جمل کے دن سہ پہر کے بعد جاری یہ بے وجہ قتل و غارت لکھی جائے تو اس کا ذمہ دار صاف نظر آنا چاہیے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ جنگ کے بعد کئی لوگوں نے صاف کہا کہ عائشہ خود کو ام المومنین کہلواتی ہیں۔ یہ کیسی ماں ہے جو اپنے بیٹوں کو یوں قتل کروا رہی تھی؟
ایک شاعر نے بعد ازاں لوگوں کے انہی جذبات کو یوں سمیٹا کہ ، 'اے ہماری ماں! یہ تو کیسی ماں ہے؟ ہم نہیں جانتے تھے کہ ایسی بے درد ماں بھی ہوتی ہے۔' ایک دوسری جگہ پر یہی بات آگے بڑھائی گئی ہے کہ، 'کیا تم دیکھتی نہیں تھیں کہ کس طرح؟ کس طرح بہادر آدمیوں پر چاروں طرف سے، ضربیں لگیں، وار ہوئے، جب کوئی گرتا تو اس کے ہاتھ خالی ہوتے تھے۔ کلائیاں کٹ جاتیں تھیں اور ہر مرنے والا، کیا ایسا نہیں کہ بے وجہ، تنہا مر گیا؟'
ایک قصہ گو نے لکھا کہ، 'ہماری ماں ہمیں موت کے کنویں پر پانی پلانے لے آئی۔ ہم بھی اس وقت تک یہ جان لیوا پانی پیتے رہے جب تک ہماری پیاس نہیں بجھ گئی۔ ہم نے جب جب اس کے حکم کی تعمیل کی، ہمارے ہوش غارت ہو گئے۔ جب بھی ہم نے اس کا ساتھ دیا، سوائے دکھ اور درد کے کچھ ہاتھ نہیں آیا!'۔
اس اونٹنی کی مہار تھامے رکھنے کی کوشش میں قریباً ستر آدمی کاٹ کر پھینک دیے گئے۔ اونٹنی کے گرد ان کے مردہ جسموں کاڈھیر لگ گیا۔ اگر یہ دل خراش منظر دیکھ کر عائشہ پر خوف طاری ہوا تھا تو انہوں نے کسی کو اس کا قطعاً پتہ نہیں چلنے دیا۔ اگر اس وقت انہیں خود اپنی زندگی کا خوف تھا تو اس مشکل کا بھی ، انہوں نے کانوں کان کسی کو خبر نہیں لگنے دی۔ وہ یقیناً ہودج پر برستے ہوئے تیروں کو سن سکتی تھیں۔ ایک جنگجو نے روایت کر رکھا ہے کہ ہودج کی زرہ میں اتنے تیر پیوست ہو گئے تھے کہ اس پر 'سیہ' کا گمان ہونے لگا۔ سیہ ایک جانور ہوتا ہے جسے خار پشت یا کانٹے دار جانور بھی کہا جاتا ہے۔ کیا عائشہ کی بے خوفی کی وجہ ہودج پر دفاع کا بہترین انتظام تھا؟ کیا زنجیروں کی موٹی تہوں تلے زرہ بند ہودج کے پیچھے موت پھنکارتی ہوئی سنائی نہیں دیتی تھی؟ کیا وہ آہنی دیواروں کے سبب لوگوں کی مصیبت اور تکلیف دیکھنے سے قاصر تھیں؟ کیا وہ گونگی اور بہری ہو چکی تھیں؟ یا کیا وہ اپنے نظریات کے لیے مرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار بیٹھی تھیں؟ لیکن پھر وہی بات ہے کہ، جس عائشہ کو آپ نے جنگ لڑتے ہوئے دیکھا، وہ عائشہ حقائق نہیں بلکہ سیاست اور اپنے طے کردہ نظریے پر ہر قیمت، نتائج کی پرواہ کیے بغیر چلتے رہنے کی عادی تھیں۔
کون جانتا ہے کہ مزید کتنے آدمی اونٹنی کی مہار تھامے رکھنے کے چکر میں اپنی جان سے ہار جاتے، کٹ کر گرا دیے جاتے اگر علی آگے بڑھ کر دخل اندازی نہ کرتے ۔ اس خواہ مخواہ کے پاگل پن، قتل عام کو نہ روکتے۔ وہ دیکھ سکتے تھے کہ ہتھیار ڈالنے کا تقاضا اور دلیل بے سود ہے۔ عائشہ کا تو معاملہ ایک طرف رہا، ان کے پیروکار بھی اپنی سدھ بدھ کھو چکے تھے اور کسی حجت کو ماننے سے انکاری تھے۔ یہ بھی صاف تھا کہ اگر یہ معاملہ یوں ہی چلتا رہا تو جلد ہی عائشہ بھی قتل کر دی جائیں گی۔ عائشہ کا اس میدان میں علی کی افواج کے ہاتھوں قتل، علی کو کسی صورت بھی قبول نہیں تھا۔ یہ انت ہوتی۔ وہ کسی بھی صورت اس کی اجازت نہیں دے سکتے تھے بلکہ وہ بعد میں اس فعل کا کسی صورت دفاع نہ کر پاتے۔ عائشہ کی یہاں موت، خود ان کی اپنی موت ثابت ہوتی۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں مگر بڑی وجہ یہ تھی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے، عائشہ بدستور ام المومنین تھیں۔ ان کا ایک رتبہ اور مقام تھا۔
'اونٹنی کی کریلی نس کاٹ دو!' علی چلائے، 'اگر اس کی ران میں بڑی نس کٹ جائے تو یہ اپنے پیروں پر کھڑی نہیں رہ سکتی، گر جائے گی۔ انہیں منتشر کرنے کا یہی ایک طریقہ ہے!'۔ اس دیوانگی کو روکنے کا واقعی صرف یہی طریقہ تھا۔ علی کے ایک فوجی کو ان کا مطلب فوراً سمجھ آ گیا۔ وہ عائشہ کے دفاعی حصار پر فائز فوجیوں کے بیچوں بیچ، آنکھ کے جھپکے میں ایک دم چکما دے کر آگے بڑھا اور ایک ہی وار میں اونٹنی کی پچھلی ٹانگوں کی ریشہ دار نسیں کاٹ کر دوسری جانب سے نکل گیا۔
یہ آن کی فان میں ہوا تھا۔ فضا میں ایک دل خراش دہاڑ بلند ہوئی۔ یہ اس قدر درد ناک اور گونج دار چیخ تھی کہ ہر شخص جہاں تھا، وہیں رک گیا۔ جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ دن بھر جاری رہنے والے شور شرابے، بجتے ہوئے بگل کی آوازوں، ہزاروں گھوڑوں کی ہنہناہٹ، مرتے ہوئے آدمیوں کی چیخ و پکار، حملہ کرتے ہوئے جنگجوؤں کی دہاڑ، ہودج سے مسلسل لعن طعن اور ملامت اور جنگ کی افراتفری لوگوں کو روک نہیں پائی تھی مگر اب ایک جانور کی نسیں کیا کٹیں، اس اونٹنی کا درد کی شدت سے ڈکرا کر گرنا تھا کہ لوگ جہاں تھے، وہیں جم کر رہ گئے؟ 'میں نے اپنی زندگی میں کبھی اتنی اونچی آواز میں کسی اونٹ کو یوں چیختے، درد سے بے حال ہو کر چکراتے ہوئے نہیں دیکھا'، ایک جنگجو اس وقت کا حال بیان کرنے لگا تو گویا اسے جھرجھری آ گئی۔ شاید اس اثر کی وجہ یہ تھی کہ جب اونٹنی کا چیخنا چلانا، درد سے ڈکرانا بند ہوا تو اس کے بعد چاروں طرف ایک دم سناٹا چھا گیا تھا۔ دن بھر کے شور شرابے اور ہنگامے کے بعد یہ خاموشی جیسے ہر شخص کے اندر سیپ کر گئی۔
علی کے آدمی، عائشہ کے لشکر کے باقی ماندہ لوگوں کے شانہ بشانہ کھڑے اونٹنی کو کافی دیر تک پہلے لڑکھڑاتے اور پھر ایک دم زمین پر گرتے ہوئے چپ چاپ دیکھتے رہے۔ اونٹنی دھڑام سے زمین بوس ہوئی تو انہیں بھی ایک دم ہوش آ گیا، گویا کسی نے جھنجھوڑ کر جگا دیا ہو۔ وہ دوڑ کر آگے بڑھے اور ہودج کو تھامنے والی رسیاں کاٹ کر اسے الگ کیا۔ عائشہ بدستور اندر ہی رہیں ۔ ہودج کو اسی حالت میں اٹھا کر سیدھا زمین پر ٹکا دیا۔ اندر مکمل خاموشی تھی۔ جیسے اونٹنی سے گرتے ہی انہیں بھی اچانک حقیقت کا ادراک ہو گیا ہو۔ جیسے باقی لوگوں کی طرح وہ بھی، ابھی ابھی ہوش میں آئی ہوں۔ ہودج کے اندر سکوت اتنا ہی شل کر دینے والا تھا جتنا کہ دن بھر اس کے اندر سے ابھرنے والا شور رہا تھا۔
بالآخر ام المومنین کو قابو کر لیا گیا تھا لیکن اب سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آگے کیا کریں؟ کسی شخص میں ہمت نہیں تھی کہ بڑھ کر ہودج کے اندر جھانکے یا عائشہ کو ہاتھ لگانے کی کوشش کرے۔ یہ دیکھ کر علی نے محمد بن ابو بکر، یعنی اپنے لے پالک بیٹے اور عائشہ کے سوتیلے بھائی کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ وہ لوگوں کے ہجوم میں سے راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھا اور ہودج کو اوپر اٹھایا، پھر لوہے کی زرہ کے پردے کو ہٹایا اور پوچھنے لگا، 'کیا آپ ٹھیک ہیں؟'
'میرے جسم میں ایک تیر پیوست ہو گیا ہے'، عائشہ نے سرگوشی میں جواب دیا۔ ان کے بازو میں کاندھے کے قریب واقعی ایک تیر گوشت میں پیوست تھا۔ ہودج کی زرہ میں سے صرف ایک ہی تیر پار ہو سکا اور یہی تیر عائشہ کو زخمی کر گیا۔ عائشہ کے سوتیلے بھائی نے آگے بڑھ کر تیر کو پکڑا اور ایک ہی دفعہ میں کھینچ کر باہر نکال لیا۔ یقیناً عائشہ درد سے بے حال ہو گئی ہوں گی مگر انہوں نے منہ سے ایک آہ بھی نہیں نکلنے دی۔ شکست کھا کر بھی، عائشہ کی طبیعت اور انا انہیں کسی بھی طرح سے کمزوری ظاہر کرنے پر مجبور نہ کر سکی۔
ہودج کے اندر ہی سے عائشہ نے اگرچہ جنگ تو نہیں مگر اس لڑائی میں شکست مان لی۔ وہ اونچی آواز میں گویا ہوئیں، 'اے علی، ابو طالب کے بیٹے! تمہیں فتح مل گئی ہے۔ تم نے اپنی فوجوں کو خوب لڑایا اور وہ اس امتحان میں کامیاب رہے۔ اب تمہیں چاہیے کہ صلہ رحمی کرو!'۔
'اے ماں! اللہ تمہیں معاف کرے'، علی نے جواب دیا۔
'اور تمہیں بھی!' عائشہ نے جیسے ذو معنی انداز میں کہا۔ علی نے ان کے اس طرح جواب کو یکسر نظر انداز کر دیا۔
جیسا کہ عائشہ نے کہا تھا، صلہ رحمی کا ہی سلوک کیا گیا۔ علی نے اپنے لے پالک بیٹے کو حکم دیا کہ وہ عائشہ کو اپنی حفاظت میں بصرہ پہنچائے۔ ان کے زخموں کا علاج کیا جائے اور ان کے ساتھ ہر طور عزت اور احترام کا سلوک کیا جائے۔ جب علی نے یہ حکم جاری کر دیا تو تب جا کر عائشہ ہودج سے باہر نکلیں اور گھوڑے پر سوار ہو کر میدان سے لے جائی گئیں۔ کیا وہ اب اس سارے وقوعے پر پشیمان تھیں؟ کیونکہ وہ کہے جاتیں، 'اے اللہ! کاش میں اس دن کو دیکھنے سے دو دہائیاں پہلے ہی مر کیوں نہ گئی؟' یہ کبھی معلوم نہیں ہو سکا کہ آیا وہ شکست کی وجہ سے ایسا کہہ رہی تھیں ؟یا انہیں اپنے اقوال و افعال پر پشیمانی تھی؟ یا کیا وہ اپنی کمان میں مرنے والے ہزاروں جنگجوؤں کے نقصان پر افسردہ تھیں؟
علی میدان میں ہی رکے رہے۔ جوں جوں شام کے سائے گہرے ہوتے گئے، علی لاشوں سے بھرے میدان میں پیدل چلتے رہے۔ جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے، وہ بھی یہی بات کہتے جاتے جو کچھ دیر پہلے عائشہ کہتی ہوئی رخصت ہوئی تھیں، 'اے اللہ! یہ دن دیکھنے سے دو دہائیاں پہلے ہی میں مر کیوں نہیں گیا؟' وہ بھی واضح طور پر میدان کا حال دیکھ کر سخت مایوس اور افسردہ تھے۔ چنانچہ رات گئے تک میدان میں یوں ہی پیدل پھرتے رہے۔ ان کے لشکر کے فوجیوں نے دیکھا کہ وہ ہر لاشے پر جا کر کھڑے ہو جاتے۔ کچھ دیر کے لیے ٹھہرتے اور مرنے والے کے حق میں مغفرت کی دعا کرتے۔ وہ ہر لاشے، اپنی اور عائشہ کی فوج، دنوں کے جنگجوؤں کی لاشوں پر فاتحہ پڑھتے جاتے۔ مرنے والوں میں کئی ایسے تھے جنہیں علی ذاتی طور پر جانتے تھے۔ علی ان لاشوں پر کھڑے ہو کر ان کی بہادری کا ذکر کرتے اور ان کی موت پر دکھ کا اظہار کرتے۔ وہ اس منظر کو دیکھ دیکھ کر کڑھ رہے تھے۔ مسلمانوں کی اتنی لاشیں دیکھ کر وہ خود پر قابو نہیں کر پا رہے تھے۔ مسلمانوں نے دوسرے مسلمانوں کو قتل کیا تھا۔ وہ میدان جنگ کے اس ہولناک منظر کو دیکھ کر بولے، ' آج میرے زخم تو مندمل ہو گئے'، وہ رونے لگے، 'مگر افسوس، میں نے اپنے ہی لوگوں کا خون کر دیا!'۔
علی اگلے تین دن تک یہیں قیام کریں گے۔ اپنے تئیں وہ تلافی کرنے کی کوشش میں جت جائیں گے مگر یہ گھاؤ اس قدر گہرا ہو گا کہ پھر کبھی بھرنے میں نہیں آئے گا۔ جنگی قیدیوں اور زخمیوں کو زک پہنچانے یا قتل کرنے سے روک دیا گیا۔ اعلان کیا گیا کہ یہ مرتد نہیں بلکہ نیکو کار مسلمان ہیں۔ ان کے ساتھ انتہائی عزت اور احترام کا سلوک کیا جائے ۔ وہ جو میدان چھوڑ کر بھاگ گئے، ان کا پیچھا نہ کیا جائے ۔ وعدہ کیا گیا کہ تمام قیدیوں کو علی کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے بعد رہا کر دیا جائے گا۔ میدان سے اکٹھا ہونے والا مال غنیمت، تلواریں، خنجر، زیورات اور سامان واپس لوٹا نے کا حکم بھی ہوا۔ علی نے اپنی فوج کے جنگجوؤں کو ازالے اور لوٹا دیے جانے والے مال غنیمت کے عوض بصرہ کے مال خانے سے ادائیگی کرنے کے احکامات جاری کیے۔
دشمن کی فوج سے تعلق رکھنے والے مقتولین کو بھی اسی عزت اور احترام سے دفن کیا گیا جس طرح علی کی فوج میں جاں بحق ہونے والوں کے ساتھ عزت اور منزلت کا سلوک ہوا۔ سینکڑوں کی تعداد میں کٹے ہوئے ہاتھ، بازو اور ٹانگیں ایک ہی جگہ پر جمع کر کے ایک اجتماعی قبر کھود لی گئی اور یہ سب اس میں دبا دیا۔ جب یہ سب ہو چکا ، یعنی مرنے والے آخری فوجی کی لاش بھی احترام کے ساتھ دفن ہو چکی تو علی نے میدان سے کوچ کیا اور بصرہ جا پہنچے۔ یہاں انہوں نے پورے شہر کے سامنے خلیفہ کی حیثیت سے دوبارہ حلف لیا اور لوگوں نے قطاریں بنا کر پھر سے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔
علی نے لڑائی کے بعد پوری کوشش کی تھی کہ کسی نہ کسی طرح تصفیہ کو ممکن بنایا جائے۔ چنانچہ انہوں نے شکست خوردہ لشکر کے ساتھ احسن سلوک جاری رکھنے کی تاکید کی تا کہ تلخی کم کی جا سکی۔ جہاں باقیوں کے ساتھ صلہ رحمی برتی گئی، علی عائشہ کے ساتھ کہیں بڑھ کر نرمی کے ساتھ پیش آئیں گے۔ عائشہ ہی اس لشکر کو میدان تک لائی تھیں مگر اب ان کے ساتھ سختی برتنا یا خواہ مخواہ کسر شان کرنے کا مطلب یہ تھا کہ وہ اپنے آپ کو شرمندہ کرتے پھرتے ۔ اس سے کہیں بڑھ کر یہ اسلام کی بے عزتی تھی۔ چنانچہ علی نے اس موقع پر ایک دفعہ پھر سے انتقام کی بجائے اتحاد اور یگانگت کا راستہ چنا۔ جب عائشہ کے بازو میں آنے والا زخم مندمل ہو گیا تو علی نے محمد بن ابو بکر کو ذمہ داری سونپی کہ وہ اپنی حفاظت میں انہیں واپس مدینہ لے جائیں۔ ان کے اس سفر میں یقینی بنایا گیا کہ بصرہ سے چند عورتیں بھی ان کے ہمراہ رہیں تا کہ راستے میں ان کی ضروریات کا پوری طرح خیال رکھا جا سکے۔ پھر جب ان کا قافلہ روانگی کے لیے تیار تھا، عائشہ نے علی کی طرف سے برتی جانے والی مہربانی اور تواضع کا اعتراف کیا، یا کہیے کم از کم انہیں اس کا پوری طرح سے ادراک ہو چکا تھا۔
'میرے بیٹو!' عائشہ نے رخصت ہونے سے قبل بصرہ کے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا، 'یہ درست ہے کہ ہم میں سے اکثر ایک دوسرے کے ناقدین میں شامل ہیں لیکن خدارا، آج کے بعد کبھی اپنے دل میں دوسروں کے لیے کدورت اور بخل کو جگہ نہ دینا۔ اللہ کی قسم، میرے اور علی کے بیچ اس سے زیادہ کبھی کوئی چپقلش نہیں رہی جتنی کہ ایک عورت اور اس کے سسرالیوں کے بیچ عام ہوتی ہے۔ ماضی میں ، میں نے جو کچھ بھی کہا، اس کے باوجود علی نے اپنے آپ کو ایک بہترین اور اعلیٰ ظرف مرد ثابت کیا'۔
عائشہ کی طبیعت اور انہیں قریبی جان پہچان والے لوگ اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ کسی دوسرے شخص، بالخصوص علی کی جانب سے برتی جانے والی عنایت اور رعایت پر اعترافی تقریر میں یہیں، اسی حد تک جا سکتی تھیں۔ ان کا لہجے میں مسکینی اور عاجزی جھلک رہی تھی۔ یہی بہت تھا کہ انہیں اب جا کر ادراک ہو گیا تھا یا بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ وہ اگر کچھ بھی نہ کہتیں تو بھی سچائی صاف صاف نظر آ رہی تھی۔ مگر یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ عائشہ نے ایک وسیع اور طاقتور سلطنت کے امور کو گھریلو جھگڑوں میں خلط ملط کر دیا تھا۔ انفرادی سطح پر رنجشوں کا اجتماعی پیمانے پر خمیازہ اتنا بڑا تھا کہ سوچ دنگ رہ جاتی ہے۔ سلطنت کو بے تحاشہ نقصان اٹھانا پڑا اور ہزاروں کی تعداد میں امتی اپنی جان سے گئے۔ عائشہ کا یہ بیان ایک طرح سے علی کو بطور خلیفہ ماننے کا بھی عندیہ تھا۔ انہوں نے خود اپنی زبان سے اس کا کبھی صاف اظہار تو نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے باقاعدہ رسمی طور پر علی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ لیکن علی اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ زیادہ سے زیادہ یہی کر سکتی ہیں۔ عائشہ کی طبیعت ایسی تھی کہ وہ چاہتے ہوئے بھی، شاید ایسا کبھی نہ کر سکتیں۔ ویسے بھی، اس بات پر زور دے کر یا زبردستی ان کو منوانے میں کچھ نہیں رکھا تھا۔ اس سے پہلے بھی اور اب بھی اگر بات بڑھائی تو اس کے نتائج کبھی اچھے نہیں نکلے تھے۔ 'اللہ کی قسم، اے مسلمانو!' علی نے عائشہ کی تقریر کے جواب میں کہا، 'عائشہ نے سچ کہا اور سچ کے سوا کچھ نہیں کہا۔ یاد رکھو، عائشہ رسول خدا کی بیوی ہیں اور وہ ہمیشہ ان کی بیوی رہیں گی'۔ پھر وہ اپنے بیٹوں حسن اور حسین کو ہمراہ کیے عائشہ کے قافلے کو رخصت کرنے خود ساتھ نکلے۔ جیسا کہ اس زمانے میں عزت بخشنے کا رواج تھا، وہ سفر کے پہلے چند میل گھوڑے پر سوار ہو کر، عائشہ کے قافلے کے ساتھ ساتھ چلتے گئے۔ بصرہ شہر سے باہر پہنچ کر انہوں نے رخصت لی اور عائشہ کا مختصر قافلہ مدینہ کی طرف نکل گیا۔
عائشہ کی مندرجہ بالا اعترافی تقریر، انہوں نے اپنی مرضی سے انتہائی ضروری کام اور سوچ سمجھ کر کی۔ ایک قرض تھا جو انہوں نے گویا چکتا کرنے کی کوشش کی تھی۔ لیکن واپسی کے اس سفر پر، جب وہ جلد ہی واپس اپنے آبائی حجاز کی پہاڑیوں میں گھر پہنچ جائیں گی تو انہیں یہ خیال عود کر آ رہا تھا کہ انہیں صرف لڑائی میں شکست نہیں ہوئی۔ اس کے علاوہ بھی انہیں کئی دوسرے محاذوں پر پسپا ہونا پڑا تھا۔ انہوں نے یہ خود کو کس مصیبت میں ڈال دیا تھا؟ یہ کیسی اذیت جھیل رہی تھیں؟ اگرچہ علی نے شکست کے بعد ان کے ساتھ انتہائی بہترین رویہ روا رکھا تھا، انہیں عزت بخشی تھی۔ مگر سب لوگ علی جیسے تو نہیں تھے۔ علی کے حمایتیوں میں کئی ایسے بھی تھے جو علی کی طرح صرف اچھائی میں یقین نہیں رکھتے تھے۔ عائشہ یہ سفر مکمل کر کے مدینہ میں مستقل سکونت اختیار کر لیں گی اور علی کی عنایت اور ضمانت کے باعث مزید کئی برس تک جئیں گی مگر جب تک زندہ رہیں، انہیں علی کے ایک ہمزاد کی کہی باتیں ہمیشہ کچوکے لگاتی رہیں۔ ابھی وہ بصرہ میں تھیں۔ علی کا یہ رشتہ دار اجازت لیے بغیر ہی عائشہ کے رہائشی کمرے، جہاں وہ زیر علاج تھیں، گھس آیا اور انہیں بے نقط سنانی شروع کر دیں۔ اس کے نتھنے غصے سے پھول رہے تھے اور وہ دیر تک دشنام طرازی کرتا رہا۔
وہ انہیں یاد دہانی کرانے لگا کہ در اصل یہ وہ تھیں جنہوں نے لوگوں کو عثمان کے خلاف اکسایا تھا۔ پیغمبر کی چپل اٹھا کر مسجد میں چلی آئی تھیں۔ کہنے لگا کہ آخر اس تماشے کی کیا ضرورت تھی؟ یہ تو ہر اس چیز کی نفی تھی جس کے لیے محمدؐ تمام عمر جدوجہد کرتے رہے۔ وہ عائشہ کو طعنے دیتے ہوئے کہنے لگا، ' اگر تمہارے ہاتھ پیغمبر کا ایک بال بھی آ جائے تو تم اس کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرو گی'۔ اس کی زبان درازی رکنے میں نہیں آ رہی تھی۔ بدتر تو یہ ہوا کہ اس نے کہا کہ عائشہ نے مسلمانوں کو دوسرے مسلمانوں سے لڑایا، گویا اس طرح قران کے احکامات کی نفی کی۔ الہامی پیغام کو رد کر دیا۔ یہ تو انتہائی گھناؤنا جرم ہے۔ اب وہ چونکہ ہتھے سے اکھڑ چکا تھا، عائشہ سے مزید کہنے لگا، 'تمہاری ہمت کس طرح ہوئی کہ اہل بیت (یعنی محمدؐ کے گھرانے) کو للکارتی رہی ہو؟ ان پر ٹوک لگاتی آئی ہو؟' وہ کہتا رہا، 'ہم محمدؐ کے گھر سے ہیں۔ ہم ان کا خون ہیں۔ ہم ان کی اولاد ہیں۔ تم کون ہو؟ بلکہ، تم ہوتی کون ہو؟ تم تو ان کے پیچھے رہ جانے والی، نو بیویوں میں سے صرف ایک بیوی ہو، ان کے گھر کا مال ہو۔ ویسے بھی، تمہاری حیثیت کیا ہے؟ تمہارے یہاں تو اولاد بھی نہیں ہے۔ تم ٹنڈ منڈے درخت جیسی ہو جس کی جڑ ہوتی ہے، ہرے پتے اور نہ ہی سایہ ہوتا ہے۔ بس اسے ٹیک مل جائے تو بڑی بات ہے'۔
عائشہ کے لیے یہ سب سننا کس قدر دشوار رہا ہو گا؟ انہوں نے اس طرح لعنت و ملامت پر خود پر کیسے قابو کیے رکھا ؟ عام حالات ہوتے تو شاید وہ اس شخص کا منہ نوچ لیتیں، زبان گدی سے کھینچ کر ہاتھ پر دھر دیتیں۔ اس کی ہمت کیسے ہوئی کہ وہ انہیں محمدؐ کی نو بیویوں کے برابر گردان رہا تھا؟ وہ بھی اتنی تلخی سے؟ انہیں محمدؐ کے گھر کی صرف جنس، مال قرار دے رہا تھا؟ وہ عورت جو ہمیشہ یکتائی پر مصر رہی، اسے دعوی رہا کہ وہ محمدؐ کی پسندیدہ بیوی تھی اور ان کے انتہائی قریب تھی۔ اس کے لیے تو یہ بے انتہا بے عزتی کی بات تھی۔ یہی نہیں، اس شخص نے عائشہ کو لا ولدی کا طعنہ کیسے دے دیا؟ اتنی تضحیک؟ مثال بھی ایسی کہ اندر تک کاٹ کر رکھ دے۔ جڑ، شاخیں، پتے اور نہ ہی سایہ۔۔۔ یہ کس قدر ہتک کی بات تھی۔ اس سے بھی بڑھ کر، وہ یہ سوچتی ہوں گی کہ یہ ان کا کیا حال ہو گیا کہ ایک شخص منہ اٹھائے آتا ہے اور ان کے منہ پر یہ سب سنا کر چلا جاتا ہے؟ حالت یہ ہے کہ وہ اسے کچھ کہہ بھی نہیں سکتیں؟ یہ کیا حال ہو گیا بلکہ یہ انہوں نے اپنا کیا حال بنا لیا؟ وہ مرتے دم تک اس حال اور اس شخص کی کہی باتوں کو بھول نہیں پائیں گی۔ وقت آخر بھی وہ اس شخص اور خود کو کبھی معاف نہیں کر سکیں گی۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی اگلی قسط نمبر 10 کے لیے یہاں کلک کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر