اول المسلمین کے بعد - علی - 10



یہ وہ دن تھا جس کا علی اور ان کے حمایتیوں کو کافی عرصے سے انتظار تھا۔ طلوع ہونے والا سورج صحیح معنوں میں ان کے نام تھا۔ جنگ جمل میں حیران کن فتح کے بعد پہلی بار ایسا لگ رہا تھا کہ علی کے پیر واقعی جم چکے ہیں ۔ لیکن اس کے ساتھ اسی تابناک دن میں ان کی فتح کا سورج ہزاروں نیکو کار مسلمانوں کے خون سے گہنایا ہوا بھی تھا۔ علی کو یہ احساس بھی ضرور ہی کچوکے لگاتا ہو گا کہ وہ چیز جس کی ایک طویل عرصے تک تمنا کیے رکھی، ہاتھ آتے ہی اب کھسکنا شروع ہو چکی تھی۔ انہیں خلافت سنبھالے بمشکل چار ماہ ہی گزرے تھے اور اس دوران کیا سے کیا ہو گیا؟ اب وہ صرف ساڑھے چار برس ہی مزید اس منصب پر ٹک پائیں گے۔
اوائل دور کے اسلامی مورخین نے جس طرح علی کے اس مختصر دور خلافت کا حال بیان کیا ہے، اس پر ہر لحاظ سے کلاسیکی المیہ کا گماں ہوتا ہے۔ کلاسیکی المیہ ایک ادبی اصطلاح ہے جس سے مراد کسی تاریخی شخصیت کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا ایسا تسلسل ہے جو ارسطو کے بقول پڑھنے سے ' دلوں میں خوف اور رحم کے جذبات' پیدا کر دیتا ہے۔ تاریخ میں جس شخص کی یہ کہانی ہے، وہ انتہائی پارسا اور راست باز حکمران ہے جو اپنی شخصی خوبیوں کے ہاتھوں زیر ہو جاتا ہے۔ تفصیل سے پڑھیں تو یہ ایک ایسے آدمی کی داستان معلوم ہوتی ہے جو انتہائی اصول پسند واقع ہوا ہے ۔ وہ مرتے دم تک اپنی اصلیت یعنی بنیاد سے جڑا رہتا ہے اور اسی کی وجہ سے قتل بھی کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسے حکمران کا قصہ ہے جو دوستوں اور دشمنوں دونوں کی ہی عداوت اور بغض کا برابر شکار ہوا۔ یہاں تک کہ اس کی قسمت نے بھی ساتھ نہیں دیا ۔ بدقسمتی کا دور پہلے دن ہی شروع ہو گیا اور تب تک چلتا رہا جب تک کہ وہ تھک ہار کر جان سے ہاتھ نہیں دھو بیٹھا۔ تقدیر کا لکھا ان کی زندگی اور اختیار، دونوں کو ہی لے ڈوبا۔
مثلاً، علی نے خلافت کن حالات میں سنبھالی تھی؟ یہ فاسد اور بگڑا ہوا زمانہ تھا۔ ایسی صورتحال تھی جس پر ان کا کوئی بس نہیں چلتا تھا۔ انہوں نے اپنے تئیں عثمان کے قتل کو روکنے کی بہتیری کوشش کی لیکن سب بے سود ثابت ہوا۔ بلکہ حالات بگڑتے ہی چلے گئے۔ اگرچہ انہوں نے اپنی زندگی کے پچیس سال اسلام کی بقا ء اور امت کے بیچ اتحاد کو قائم رکھنے کے لیے قربان کر دیے اور جانی مانی فہم اور فراست کو پس پشت ڈال دیا تھا۔ اپنے اس مطالبے سے پیچھے ہٹ کر بسر کی جو ان کے تئیں جائز حق تھا لیکن پھر بھی معاملات یوں بگڑے کہ مثال ریت ہاتھوں سے پھسل جاتی ہے۔ اس سب کے باوجود بھی وہ ابھی تک امت کو یکجا رکھنے کا تہیہ کیے ہوئے تھے۔ مگر وہ جو تدبیر کر لیں، پھوٹ اور بد امنی کا یہ بھیانک خواب ختم ہونے میں نہیں آئے گا ۔ جس قدر اس سے کنی کترائیں گے، اتنی ہی تندی سے سیدھا مرکز میں لا کر کھڑے کر دیے جائیں گے۔ اس داستان میں فتنے کا اژدھا انہیں نگل لےگا۔
قسمت نے علی کے ساتھ عجب کھیل کھیلا تھا۔ تاریخ انہیں عجب موڑ پر لا کر چھوڑ گئی تھی۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ دعا مانگنے میں بھی احتیاط کرنی چاہیے اور خواہش دیکھ بھال کر پالنی چاہیے۔ لڑائی کے بعد جب علی میدان جنگ میں بکھری لاشوں میں سے ہر شخص کے سر پر کھڑے ہو کر اس کے حق میں دعا مانگتے ہوں گے، ایک کے بعد دوسرے واقف کار کو یوں بد حال ہوا دیکھتے ہوں گے تو ان کے دل و دماغ میں صرف ایک ہی بات گردش کرتی ہو گی جو سہ پہر کو عائشہ بھی کہہ گئی تھیں۔ ہر لاشے کو دیکھ کر وہ بھی یہی سوچ رہے تھے کہ یہ دن دیکھنے سے پہلے وہ مر کیوں نہیں گئے؟ علی نے عائشہ کے ساتھ صلہ رحمی کا سلوک کیا تھا۔انہیں بخش دیا تھا۔ اگر وہ نہ بھی کہتیں تو علی اچھائی سے ہی پیش آتے لیکن ان کی طبیعت میں یہ نرمی بھی کسی کام آئی؟ فتنہ تو پھر بھی ناسور کی طرح پھیل گیا۔ ان کی فطرت میں پائی جانے والی خوبیاں خانہ جنگی کو تو روک نہیں لگا سکیں۔ جس چیز کا سب سے زیادہ خوف تھا، وہی ہو کر رہی۔ اس سے بھی بدتر یہ تھا کہ علی کی طبیعت میں یہ بھلائی اگر ابھی تک امت کے کسی کام نہیں آئی تو آخر کار ان کو بھی لے ڈوبے گی۔ وہ ابھی پوری طرح سے سمجھ نہیں پائے تھے لیکن جلد ہی وہ اچھی طرح جان جائیں گے کہ یہ تو صرف ایک لڑائی تھی۔ اصل جنگ تو ابھی شروع ہوئی ہے۔
علی کا ڈراؤنا خواب ابھی ختم نہیں ہوا تھا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ اس جنگ میں کہیں زیادہ طاقتور اور مہیب حریف دور بیٹھا موقع تاڑ رہا ہے۔ دمشق میں شام کے گورنر معاویہ اس عرصے میں خاموشی سے علی کو خانہ جنگی میں گھرتے ہوئے دیکھتے رہے۔ معاویہ کے حکم پر عثمان کی خون آلود قمیص اور نائلہ کی کٹی ہوئی انگلیاں ابھی تک پر ہر روز نئے جوش و خروش سے مسجد کے منبر پر سجائی جاتی تھیں۔ یہ نشانیاں ہر چڑھتے دن کے ساتھ علی کے ان حالات میں خلافت سنبھالنے کے جرم کا ثبوت بن کر شامی لوگوں کے دل و دماغ میں گھر کر رہی تھیں۔ اگرچہ شامی فوجیوں نے تو عثمان کے قتل پر فوراً انتقام کی ٹھان لی تھی لیکن معاویہ کو جلدی دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ وہ انتظار کر رہے تھے کہ اگر عائشہ کامیاب ہو کر ان کے حصے کا کام بھی کر لیتی ہیں تو ظاہر ہے، انہیں خواہ مخواہ اس آگ میں کودنے کی کیا ضرورت تھی؟ لیکن اب چونکہ عائشہ کو شکست ہو چکی تھی، اس لیے معاویہ نے اپنی چال چلنے کا فیصلہ کیا۔ معاویہ نے ناپ تول کر اندازہ لگایا کہ اگر علی فتح حاصل کرنے کے بعد عائشہ کے ساتھ اچھائی کا برتاؤ کر سکتے ہیں تو یہی فطرت، ان کی کمزوری بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ یہ ایسا ہتھیار ہے جو علی کو خود بخود تباہی کے دہانے تک لے جائے گا۔
یہ معاویہ نام جو ہے، اس کی چار صوتی لہریں ہیں۔ مو، ہا، وی اور یا۔ آنے والی صدیوں میں اس نام میں ہر صوت، اس کا ہر لفظ اور ایک ایک حرف شیعہ کے یہاں دشنام کا عنوان بن جائے گا۔ شیعہ چاہے معاویہ کو برا بھلا کہیں یا ان کے نزدیک وہ 'شیطانیت کا نچوڑ' ہوا کریں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس دور میں معاویہ واحد شخص تھے جن کے پاس اتنی سیاسی بصیرت اور عقل تھی کہ اسلام علی کی موت کے بعد بھی باقی رہا، لوگ پھر سے اکٹھے ہوئے۔ جس طرح شیعہ ان کو یاد کرتے ہیں، وہ کسی بھی طرح ، جیسے کسی فلم کا یک رخی ولن ہوتا ہے، ویسے نہیں تھے۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ ان کی ظاہری شکل و صورت سے ایسا ہی گمان ہوتا ہو۔ تاریخ میں ان کا خاکہ کچھ یوں لکھا گیا ہے کہ توند نکلی ہوئی تھی۔ آنکھیں ابھری ہوئی جیسے ابل رہی ہوں۔ پیروں میں گٹھیا تھی اور جوڑوں کے درد میں مبتلا تھے۔ اسی وجہ سےوہ لنگڑا کر چلتے تھے اور سیدھا کھڑے رہنے سے قاصر تھے۔ یہ تو ان کی ظاہری شکل و صورت تھی، جس میں کئی عیب رہے ہوں گے مگر ان جسمانی کمیوں کا ازالہ تیز اور غیر معمولی دماغ کی صورت پورا تھا۔ اگرچہ وہ علی کی طرح روحانی طور پر جوہر صفت تو نہیں تھے مگر فن حرب سے مالا مال اور سیاسی طور پر چابک دست تھے۔
معاویہ کی گورنری میں شام کے معاملات انتہائی احسن طریقے سے چل رہے تھے۔ اکثر کہا کرتے، 'انہیں کسی خوش نما جگہ پر پھوٹتے ہوئے تازہ پانی کے چشموں سے زیادہ کوئی چیز نہیں بھاتی۔۔۔' ان کا اشارہ شام کی طرف تھا۔ شام کے شہر دمشق میں ان کی حکومت تھی اور یہ اس قدر پھیلا ہوا متنوع شہر تھا کہ یہاں 'خوش نمائی' اور 'تازہ پانی کے چشمے' جاری رکھنا، کسی بھی حاکم کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ مگر یہ معاویہ کی ہی ذہانت اور قابلیت تھی کہ ایک عرصے سے یہاں معاملات خاصے پر امن چلے آ رہے تھے اور یہاں کے انتظام کا خاصا مشکل کام نہایت آسان معلوم ہوتا تھا۔ ان کی اپنی زبانی یہ روایت ملتی ہے کہ معاویہ ایسا شخص ہے 'جسے صبر اور غور و فکر کرنے کی نعمت عطا ہوئی ہے۔' مراد یہ تھی کہ وہ انتہائی زمانہ ساز اور چالاک واقع ہوئے تھے۔ یہ ایسی صفات ہیں جو قدیم بازنطینی سلطنت کی سیاست میں اہم تصور کی جاتی تھیں ۔ قدیم شہر دمشق، جو ایک لمبے عرصے تک بازنطینی سیاست کا محور چلا آ رہا تھا، معاویہ اس چالباز شہر اور اس کے باسیوں کے معاملات کو خوش اسلوبی سے چلاتے آ رہے تھے۔ معاویہ نے لمبے عرصے تک یہاں حکومت چلا کر یہ سارے گر سیکھ لیے تھے۔ اب وہ اسی تجربے کو استعمال میں لا کر خلافت کے معاملات کو اپنے حق میں ہانک لائیں گے۔
معاویہ نے ایک دن عمر بن العاص جو ان کی فوج کے سپہ سالار اور نائب بھی تھے ، ان سے پوچھا، 'تمہاری مہارت اور چالاکی کی حد کیا ہے؟' جرنیل فخر سے بولا، 'میں کبھی ایسی صورتحال سے دوچار نہیں ہوا کہ مجھے اس مشکل سے نکلنے کی تدبیر معلوم نہ ہو!'۔ معاویہ نے یہ سن کر قہقہہ لگایا اور نہلے پر دہلا پھینک کر بولے، 'مجھے دیکھو! میں کبھی کسی بھی ایسی صورتحال میں پھنسا ہی نہیں کہ اس سے نکلنے کی تدبیر سوچنے کی ضرورت پیش آیا کرے!'۔
آٹھ صدیاں پہلے میکاویلی نے ایک کتاب لکھی تھی۔ اس کا عنوان، 'شاہ' یا 'شہزادہ' تھا۔ معاویہ اس عنوان کی بہترین مثال ہیں۔ وہ طاقت اور اختیار حاصل کرنے اور پھر اسے ہر صورت برقرار رکھنے میں ماہر تھے۔ نتائج پر نظر رکھنے والا ایسا صاف نظر شاہ تھے، جو عمل پر یقین رکھتا تھا۔ جوڑ توڑ میں کوئی جوڑ نہیں تھا اور معاملات پر اثر انداز ہو کر نتائج بدلنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے تھے۔ وہ میکاویلی کے بقول، 'نیکی اور بدی سے مبرا ہوتا ہے'۔ چاہے اس کے لیے رشوت کا سہارا لینا پڑے، خوشامد کرنی پڑے ، ذہانت کا استعمال ہو یا پھر انتہائی عمدگی سے عیاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکار چالیں چلنی پڑیں۔ معاویہ کے والد، ابو سفیان مکہ کے نامی گرامی اور انتہائی دولت مند تاجر ہوا کرتے تھا، اثر و رسوخ بھی بے انتہا تھا۔ یہ خاندان محمدؐ کے الہامی پیغام کے منظر عام پر آنے سے پہلے بھی جزیرہ عرب اور مشرق وسطیٰ، بالخصوص شام میں خاصا اثر و رسوخ رکھتا تھا کیونکہ یہ ان کی تجارتی ضرورت تھی۔ ابو سفیان کی ملکیت میں دمشق کی کئی قیمتی املاک اور جائیدادیں تھیں۔ ابو سفیان نے مکہ کی اشرافیہ کے ساتھ مل کر محمدؐ کی پر زور مخالفت کی تھی لیکن بعد ازاں جب فتح مکہ کے موقع پر پرانی رنجشیں اور دشمنیاں بھلا دی گئیں تو دوستی اور خیر سگالی کا ثبوت دونوں خاندانوں میں رشتہ داری اور تعلق کو بڑھا ثابت کیا گیا۔ محمدؐ نے ابو سفیان کو عزت دی۔ خدیجہ کے بعد، آپؐ کی آٹھویں بیوی کا نام ام حبیبہ تھا۔ ام حبیبہ معاویہ کی بہن تھیں۔ یہی نہیں، آپؐ نے معاویہ کو بعد اس کے ہمراہ رکھا اور اپنے ذاتی انشاء نویس کے عہدے پر فائز کیا۔ معاویہ کے اس عہدے کی وجہ سے انہیں زیادہ تر وقت محمدؐ کے ساتھ گزارنا پڑتا بلکہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آخری دنوں میں، جب آپؐ بستر مرگ پر تھے، معاویہ سارا وقت عائشہ کے کمرے میں موجود رہے۔ خود معاویہ کا بھی یہی کہنا تھا لیکن دوسرے لوگ جو ان دنوں آپؐ کے نزدیک رہے تھے، انہوں نے اس بات کا بطور خاص کہیں ذکر نہیں کیا۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کا عوام میں تذکرہ وہاں موجود باقی حاضرین کے اپنے مفاد میں نہیں تھا ، جو سمجھ میں بھی آتا ہے۔
معاویہ کو شام کا گورنر مقرر کرنے والے اسلام کے دوسرے خلیفہ عمر تھے۔ بعد ازاں عثمان نے بھی ان کا یہ عہدہ برقرار رکھا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عثمان کا تعلق بھی بنو امیہ سے تھا بلکہ یہ دونوں ایک ہی دادا کی اولاد تھے۔ ابتدا بارے یہ بات طے ہے کہ معاویہ امور حکومت چلانے میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ اسی وجہ سے عمر نے انہیں اس انتہائی مشکل بازنطینی سیاست سے آلودہ صوبے کا گورنر مقرر کیا تھا۔ علی نے خلافت سنبھالی تو معاویہ کو شام پر حکمرانی کرتے، بیس سال کا طویل عرصہ بیت چکا تھا۔ یہ صوبہ جس میں آج کی دنیا کے کئی ممالک جیسے ترکی، لبنان، شام، اردن، اسرائیل اور فلسطین شامل تھے، معاویہ کا گھر بن چکے تھے۔ اختیار اور اثر و رسوخ، مقبولیت کو دیکھا جائے تو یہ خطہ بجا طور پر معاویہ کی ذاتی جاگیر کہلایا جا سکتا تھا۔ ان کے طرز حکمرانی کے باعث یہ ان کی اصل طاقت تھا۔
یہ تو معاویہ کی گورنری کا حال تھا۔ خلافت کے معاملات میں اگر ان کا کوئی کردار رہا تھا تو وہ اب تک انہوں نے وہ کام ہمیشہ پس منظر میں ہی رہ کر ادا کیا ۔ یہ بات درست ہے کہ عثمان کے قتل میں ان کے ملوث ہونے کی افواہیں بھی گردش کرتی رہی تھیں۔ مثلاً پوچھا جاتا کہ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ 'خفیہ خط' جس کی وجہ سے باغی ہتھے سے اکھڑ گئے، مروان نے معاویہ کے ہی کہنے پر جاری کیا ہو؟ اسی طرح، سوال اٹھایا جاتا کہ کیا معاویہ نے جان بوجھ کر خلیفہ کی جان بچانے کے لیے کمک روانہ کرنے میں پس و پیش سے کام نہیں لیا؟ بلکہ انہوں نے تو سرے سے اپنے چچا زاد کی مدد ہی نہیں کی۔ اگر ان افواہوں میں کوئی سچائی تھی تو اس کا کبھی کوئی ثبوت نہیں مل سکا۔ ان کے بابت یہ سوالات ہمیشہ ہی بے جواب رہے اور معاویہ کی اس ضمن میں یہی مرضی تھی۔ وہ ان سوالوں کو ہمیشہ بے جواب ہی رکھنا چاہتے تھے۔ وہ اس لیے کہ بالفرض اگر ان افواہوں میں کوئی سچائی تھی بھی تو بات خود بخود صاف ہو جاتی۔ لوگوں کو پتہ چل جاتا کہ اصل طاقت کا منبع کہاں ہے؟ اور اگر یہ الزامات غلط بھی ثابت ہوتے تو بھی اس کا فائدہ معاویہ کو پہنچتا۔ یعنی ان کا اصل مقصد ، یعنی حکومت برقرار رکھنے کی خواہش ثابت ہو جاتی اور لوگ انہیں اپنے خاندان کا خیر خواہ ہی سمجھتے۔ تو ظاہر ہے، ان افواہوں کی تصدیق یا تردید کیوں کی جائے؟ ہر دو صورت یہ افواہیں معاویہ کے حق میں استعمال ہو سکتی تھیں۔ لوگ انہیں اصل طاقت سمجھتے تھے۔ وہ کٹھ پتلیوں کا آقا کہلائے جاتے تھے۔ یعنی وہ جو پردے کے پیچھے رہ کر بونے نچاتا ہے۔ اگر ایسا تھا تو یوں ہی سہی، ویسے بھی ان کی شخصیت سے جڑی اس پراسراریت نے ان کا دبدبہ بڑھا دیا تھا۔ کوئی شخص معاویہ کو نظر انداز کرنے یا ان کے منہ لگنے کی غلطی نہیں کر سکتا تھا ۔ علی یہی فاش غلطی کر بیٹھے۔
معاویہ کی گورنری کے طویل عرصے میں ہمیشہ یہی لگتا رہا کہ وہ اپنے منصب پر خوش ہیں اور وہیں رہیں گے۔ حالانکہ ، وہ اس تمام عرصے میں صحیح وقت کا انتظار کرتے رہے اور کمال صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے موقع تاڑ رہے تھے۔ انہوں نے اس دوران ذرہ برابر بے چینی کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ٹک کر بیٹھے رہے اور انتہائی تعیش میں بسر رکھی۔ دمشق میں گورنر کے لیے نہایت شاندار محل جسے 'الخضراء' کہا جاتا تھا، تعمیر کروایا ہوا تھا۔ خضرہ کے مطلب سبز یا ہرے کے ہیں۔ چونکہ یہ محل بیش قیمت سبز سنگ مرمر سے تعمیر کیا گیا تھا، دمشق میں یہ اپنی طرز کی پہلی عمارت تھی۔ اسی وجہ سے اس کا یہی نام مشہور ہوا۔ یہ اس قدر شاندار عمارت تھی کہ اس کے سامنے مدینہ میں عثمان کا محل کچھ بھی نہیں تھا۔ ایک طرح سے کہیے تو اس دور میں مدینہ اور دمشق، اختیار کی رو سے ایک دوسرے کے مدمقابل قرار دیے جا سکتے تھے لیکن اس کے باوجود عثمان اور معاویہ کے بیچ کبھی کسی چپقلش یا حسد کی کوئی خبر نہیں آئی۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ معاویہ اور عثمان طبیعتاً دونوں ہی سخی واقع ہوئے تھے لیکن عثمان، معاویہ کی طرح سنگ دل نہیں تھے۔ معاویہ اور عثمان میں یہی فرق تھا۔ عثمان نے شام کے گورنر کی خلیفہ کے مقابلے میں یوں ریاست کے اندر ایک ریاست کو پنپتے دیکھ کر بھی کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔ یہی کیا، عثمان بے رحمی سے قتل کر دیے گئے کیونکہ اس سے پہلے انہوں نے باغیوں کے ساتھ سختی دکھانے سے انکار کر دیا تھا۔ معاویہ ، عثمان کی طرح نہیں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ نرمی اور سختی کا معیار کیا ہونا چاہیے، کہاں رحم دلی سے پیش آنا ہے اور کون سا مقام ہے جہاں سنگ دلی کے بغیر گزارہ نہیں ہو گا۔
'اگر کسی شخص کی ڈور ایک بال جتنی باریک شے جتنی بھی میرے ہاتھ میں ہو تو میں اس بال کو ٹوٹنے نہیں دیا کرتا'، معاویہ کہا کرتے، 'اگر وہ اس بال کو کھینچتا ہے تو میں ڈھیل دیتا ہوں اور اگر وہ ڈھیلا پڑ جائے تو میں ضرور کھینچتا ہوں'۔ اسی طرح مخالفین سے نبٹنے بارے کہتے، 'جہاں کوڑے سے کام چل سکتا ہے تو میں کبھی تلوار استعمال نہیں کروں گا اور جہاں زبان سے بات بن جائے تو ایسی جگہ پر چابک سے مارنے کی کوئی ضرورت نہیں'۔
اسی طرح، اگر کوئی بات ناگوار گزرتی تو اس پر بھڑکتے نہیں تھے اور نہ ہی طاقت اور اختیار کے نشے میں دھت ہو کر فوراً حکم صادر کرتے۔ بلکہ ان کا رد عمل انتہائی پر اسرار اور سک ہوتا تھا۔ اسی وجہ سے ہمیشہ ان کے سامنے کھڑا کوئی بھی آدمی نفسیاتی طور پر ہڑ بڑا کر رہ جاتا۔ اس پر لرزہ طاری ہو جاتا۔ شام کی افواج کے سپہ سالار نے روایت کی ہے کہ، "جب کبھی میں دیکھتا کہ معاویہ اطمینان سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئے ہیں اور پھر ٹانگ پر ٹانگ چڑھا کر ، آنکھیں جھپکا تے ہوئے انتہائی حاکمانہ انداز میں کہتے کہ، 'بولو!' تو بخدا، سامنے کھڑے شخص پر ترس آنے لگتا۔' معاویہ نے اپنی اسی عادت کی وجہ سے کبھی اس بات پر بھی کبھی رد عمل ظاہر نہیں کیا جس کو وہ سخت ناپسند کرتے تھے۔ یہ ان کا وہ لقب تھا جو ہند کی وجہ سے مشہور ہو گیا تھا۔ ہند معاویہ کی ماں تھی۔ ہند کی نسبت سے معاویہ کو 'کلیجہ کھانے والی کا بیٹا' بھی کہا جاتا تھا۔ ظاہر ہے ان کے منہ پر تو ایسا کہنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی لیکن وہ خوب جانتے تھے کہ لوگ پشت پر یہی پکارتے ہیں۔ وہ اس لقب میں چھپے طنز کو اچھی طرح دیکھ سکتے تھے کیونکہ اس زمانے میں اگر کسی کو باپ کی بجائے ماں کے نام سے یاد کیا جائے تو لوگ برا جانتے تھے۔ مطلب یہ کہ گویا ایسے شخص کے باپ کا پتہ نہیں ہے تبھی ماں کی نسبت سے مشہور ہے۔ معاویہ کی برداشت کی حد یہ تھی کہ انہوں نے اس پر بھی کچھ نہیں کہا، 'میں لوگوں اور ان کی زبانوں کے بیچ کبھی نہیں آتا' اکثر کہا کرتے، 'اس وقت بیچ میں نہیں آتا جب تک کہ وہ اور ان کی زبانیں ہمارے اور ہماری حکومت کے بیچ نہ آ جائیں۔' ویسے بھی، اس لقب پر پابندی لگانے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ ہند کی شبیہ جس میں وہ حمزہ کا کلیجہ دونوں ہاتھوں میں تھامے چبا رہی ہے۔ اس کے منہ اور ہاتھوں سے خون نچڑ رہا ہے، اس قدر ہیبت ناک ہونے کے باوجود اب معاویہ کے ہی حق میں استعمال ہو رہی تھی۔ ایسی ماں کے بیٹے سے لوگ صرف خوف ہی نہیں کھاتے تھے بلکہ عزت کرنے پر بھی مجبور ہو جاتے تھے۔
علی چونکہ محمدؐ کے دیرینہ ساتھیوں میں سے تھے، ان کا معاملہ دوسرا تھا۔ وہ کسی بھی طرح سے معاویہ سے دبنے والے نہیں تھے۔ جوں ہی خلیفہ مقرر ہوئے، ان کا ارادہ عثمان کی طرز حکومت کی روش کو توڑنا تھا۔ اسی مقصد کے لیے انہوں نے پہلا کام ہی یہ کیا کہ عثمان کے نامزد کردہ تمام صوبائی گورنروں کو مدینہ بلا بھیجا۔ معاویہ کے سوا باقی تمام نئے خلیفہ کا حکم ملتے ہی فوراً مدینہ پہنچ گئے۔ دمشق سے معاویہ کی آمد تو دور کی بات، اس حکم کا کوئی جواب بھی نہیں آیا۔ معاویہ کسی بھی صورت علی کے ہاتھوں گورنری سے عہدہ برا ہونے پر راضی نہیں تھے بلکہ ان کا ارادہ تو الٹا خلیفہ کو ہی معز دل کرنے کا تھا۔
علی کے مشیران نے ان خدشات کا کھلے عام اظہار کیا اور خبردار کیا کہ معاویہ کو اپنے ساتھ ملائے رکھنا انتہائی ضروری ہے اور اس کا ایک ہی طریقہ ہے۔ وہ یہ کہ ان کا عہدہ یعنی شام کی گورنر ی برقرار رکھی جائے۔ کہا یہ گیا کہ بجائے معاویہ کو طیش دلائیں، علی کو سیاست سے کام لینا چاہیے۔ یعنی یہ کہ فی الوقت معاویہ کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے، بلکہ بہلاوے سے کام لیتے ہوئے للو پتو، وعدے پر ٹرخائیں۔ معاملات سنبھل جائیں تو صحیح وقت آنے پر مراد یہ کہ جب علی کے پیر جم جائیں، مشیران خود ہی گورنر سے نبٹ لیں گے۔ 'اگر آپ فی الوقت معاویہ کو بیعت پر راضی کر لیں تو انہیں جلد ہی ان کے عہدے سے ہٹانے کی ذمہ داری میری ہے'، علی کے ایک سپہ سالار نے وعدہ کیا، 'میں یقین دلاتا ہوں کہ اس عارضی سیری کے بعد میں معاویہ کو صحرا کے بیچ لے جا کر ایسی جگہ چھوڑ آؤں گا جہاں اس کو آگے اور نہ ہی پیچھے کا کوئی راستہ سجھائی دے گا۔ اس طرح اے علی! آپ کو کوئی نقصان پہنچے گا اور نہ ہی اس پر کوئی ندامت ہو گی'۔
علی نے یہ تجویز سختی سے مسترد کر دی۔ ترکی بہ ترکی جواب دیا، 'مجھے کوئی شک نہیں کہ تمہاری یہ تجویز اس دنیا کے لیے انتہائی کار آمد ہے لیکن مجھے تمہاری اور نہ ہی معاویہ کی پوشیدہ چالوں سے کوئی لینا دینا ہے۔ میں اپنے ایمان میں یوں کھوٹ نہیں لگا سکتا اور نہ ہی اپنے کسی آدمی سے اس طرح کی کسی بہیمانہ سازش کی توقع رکھتا ہوں۔ معاویہ کو کسی بھی صورت گورنر کے عہدے پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔ میں صحیح وقت تک تو کیا، دو دن کے لیے بھی اسے اس طرح کی حکمرانی کی اجازت نہیں دے سکتا'۔
لیکن ہوا کیا؟ جنگ جمل میں فتح کے وقت علی کو خلافت سنبھالے چار ماہ گزر چکے تھے مگر معاویہ ابھی تک شام کے گورنر تھے۔ معاویہ نے نئے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت بھی نہیں کی تھی۔ وقت آنے پر جواب بھی دیا تو اس میں کھلم کھلا انحراف تھا۔ علی کو خط لکھا، 'اے علی! دھیان سے کام لو اور اگلا قدم سنبھل کر اٹھائیو ورنہ میرے ہاتھ بندھے نہیں ہیں۔ مجھ سے تمہیں اس قدر سخت جنگ ملے گی کہ یاد رکھو گے۔ یہ بھڑ ہر شے کو ہڑپ کر لے گی۔ اس میں ہر چیز جل کر خاک ہو جائے گی۔ عثمان کا قتل انتہائی گھناؤنا جرم تھا۔ اس قدر وحشت انگیز کہ جس نے سنا، اسی کے بال سفید ہو گئے۔ اس کریہہ جرم کا بدلہ سوائے میرے کوئی نہیں لے سکتا'۔
معاویہ کا مقصد علی کو طیش دلانا تھا اور یہی ہوا۔ علی کا جواب غضب ناک تھا، 'اللہ کی قسم! اگر معاویہ نے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت نہ لی تو میں اس کا معاملہ آہن سے طے کروں گا۔ اسے میری تلوار کا سامنا کرنا ہو گا'۔ اگرچہ مشیران نے احتیاط برتنے کا مشورہ دیا تھا مگر علی نے اس خط میں ان کے خدشات پر کان نہیں دھرے، وہ اس خط میں بار بار معاویہ کے ساتھ سختی سے نبٹنے کی قسم کھاتے رہے۔
علی کے ایک مشیر نے ان سے کہا، 'اے علی! تم یقیناً ایک جری اور بہادر آدمی ہو مگر یا درکھو، تم لڑاکا نہیں ہو۔ تم جنگجو تو ہو مگر جنگجوئی تمہارا میدان نہیں ہے۔۔۔'
ابھی اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ علی نے فوراً ٹوک دیا، 'کیا تم چاہتے ہو کہ میں ایک لگڑ بگڑ کی طرح ٹانگوں میں سر دبائے، ایک کونے میں دبکا رہوں؟ وہ لگڑ بگڑ جو ہلکی سی آہٹ پر بھی خوف سے تھر تھر کانپنے لگتا ہے ؟ پھر مجھے بتاؤ، میں حکومت کیسے کروں گا؟ میں خود اس صورتحال سے بچنا چاہتا ہوں۔ میرا ارادہ کسی بھی طرح جنگ و جدل نہیں ہے۔ لیکن اللہ گواہ ہے، میں تمہیں بتا رہا ہوں، سوائے تلوار کے کوئی دوسرا حل نہیں ہے!'
ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس مشیر نے علی کو اچھی طرح پہچان لیا تھا۔ علی اصل جنگجو تھے۔ ایسا جنگجو جو لڑنے کو تیار رہتا ہے مگر جنگ سے نفرت کرتا ہے۔ بالخصوص خانہ جنگی سے تو وہ کوسوں دور بھاگتا ہے۔ علی کو اگر جنگ کی چاہ نہیں تھی، پھر بھی جنگ جمل لڑی۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ بھلے قیمت کچھ بھی ہو، وہ اپنے مقاصد اور نظریات سے پیچھے ہٹنے والے نہیں تھے۔ اگر اس کے لیے لڑنے کی نوبت آئی تو بھڑ جائیں گے۔ وہیں یہ بھی ہے کہ یہ جنگ علی کی مرضی نہیں تھا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ آخری وقت تک اس سے بچنے کی کوشش کرتے رہے اور قریب تھا کہ امن پا لیا جاتا مگر ایسا نہیں ہوا۔ اور اب ایک دفعہ پھر وہ بھر پور تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں گے مگر مزید خوں ریزی سے حتی الامکان بچنے کی سر توڑ کوشش کریں گے۔ ان کا خیال یہ ہو گا کہ اب تک شاید معاویہ بھی خانہ جنگی بارے وہی خیالات پال چکے ہیں، جو ان کے اپنے بن گئے تھے۔ شاید یہ دونوں ہی خانہ جنگی کی ہولناکی کو سوچ کر ایک نئی جنگ سے باز رہیں۔
آنے والے وقت میں کئی لوگ کہیں گے کہ علی سادہ لوح واقع ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ اکثر کے نزدیک تو یہ سراسر حماقت تھی۔ کچھ ایسے بھی ہیں، جن کا خیال یہ ہے کہ علی کو اپنی عزت اور منزلت کا احساس اور یہ فخر لے ڈوبا۔ وہ معاویہ کے خلاف فوجی اقدامات سے ہچکچا رہے تھے۔ معاملہ یہ تھا کہ ایک راست باز شخص کا مدمقابل ایسا آدمی تھا جو ہر طرح کی حدود سے خود کو مبرا سمجھتا تھا۔ لیکن بات یہ ہے کہ سمجھ بوجھ اور فہم و بصیرت ہمیشہ ہی اچھی چیز ہوتی ہے۔ یہ دونوں ہی سمجھتے تھے کہ علی اور معاویہ کے بیچ جاری تندی اور پھر دور باشی کی اصل وجہ یہ تھی کہ اگر حق حکمرانی ایک طرف تھا تو سیاسی مہارت دوسرے کے ہاتھ میں تھی۔ کسی ایک کو دوسرے پر سبقت حاصل نہیں تھی بلکہ یہ برابری کی ٹکر تھی۔ اب یہاں، صرف عقیدت مند ہی ہوں گے جو یہ سمجھیں گے کہ شاید راست بازی کا پلڑا بھاری ہو گا ورنہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ آخر کار بات دوسرے کی ہی چلے گی۔
معاویہ پر بیعت کے لیے دباؤ بڑھانے کے لیے علی نے حال ہی میں خوں ریز جنگ میں آزمودہ فوج کو بصرہ کے شمال میں واقع کوفہ کی طرف کوچ کا حکم دیا۔ کوفہ، دمشق سے ڈیڑھ سو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ علی نے یہاں لمبے عرصے تک قیام کا اشارہ دیا ، اسی لیے کی تیاری اور انتظام شہر میں پہنچتے ہی شروع کر دی گئی۔ مدینہ لوٹ جانے کی بجائے یہاں ٹک کر پڑاؤ ڈالنے سے علی کا پیغام صاف تھا۔ وہ یہ کہ اگر معاویہ نے جنگ کی سوچی تو پورا عراق ان کے خلاف اٹھ کھڑا ہو گا۔
پہلے پہل کوفہ صرف ایک چھاؤنی ہوا کرتا تھا لیکن اب دیکھتے ہی دیکھتے ، تھوڑے عرصے میں ہی فرات کے کنارے آباد یہ تیزی سے پھیلتا ہوا شہر بن گیا۔ دریا کے کنارے پر عثمان کے دور میں تعینات حکام کی شاندار رہائش گاہیں تھیں اور بازاروں میں ہر وقت رونق لگی رہتی تھی۔ علی نے سابقہ گورنر کے محل میں بسر کرنے سے انکار کر دیا۔ وہ اسے 'قصر الخبل' کہا کرتے جس سے مراد خبط یا بد عنوانی کا قلعہ تھا۔ بجائے اس کے، انہوں نے اپنا دفتر شہر کی مرکزی مسجد سے ملحق ایک کچے مکان میں لگا لیا اور وہیں رہائش اختیار کی۔ اعلان کیا گیا کہ اب مزید محلات کی تعمیر نہیں کی جائے گی۔ یہاں ہرے سنگ مرمر کی کوٹھیاں نہیں ہوں گی۔ اہل و عیال کے ساتھ کسی بھی طرح سے رعایت نہیں برتی جائے گی اور اقربا کے ساتھ کسی بھی قسم کا سلوک ترجیحی روا نہیں ہو گا۔ اسی طرح عوامی فلاح کے معاملات میں قطعاً منافع خوری برداشت نہیں کی جائے گی۔ خلیفہ عدل و احسان، انصاف کی عمل داری کو یقینی بنائیں گے اور حکمرانی کا طرز دیانت اور صالحیت قرار پائے گا۔ کوفہ کے لوگ جلد ہی علی کے دلدادہ ہو گئے۔
اس کی صرف یہی وجہ نہیں تھی۔ عدل و انصاف کے پرچار اور اس ضمن میں عملی اقدامات سے فرق تو پڑا تھا، جس کی وجہ سے لوگ علی سے کافی خوش تھے ۔ مگر عراقیوں کی خوشی کی اصل وجہ کوفہ کو نیا دارالحکومت بنانے کا فیصلہ تھا۔ کوفہ صحیح معنوں میں اسلامی سلطنت کا مرکز بن چکا تھا۔ یہاں کے باسی اب 'صوبائی گنوار' اور 'جاہل، اجڈ بدو' نہیں تھے۔ وہ اسلام اور امت کا نئے مرکز کی اکائی تھے اور جس شخص نے انہیں یہ امتیاز دلایا تھا، یہ اس کے گن گاتے تھے۔ انتہائی تیزی سے پھیلنے والے اس شہر میں، خلیفہ بھی آ گئے تو یہاں جلد ہی طرح طرح کے لوگ آنے لگے۔ سامان تجارت لیے تجار، فصلیں اور اجناس اٹھائے دہقان، صنعت کار، مزدور پیشہ کاریگر ، دانشور، عالم اور فنکار۔۔۔ الغرض یہ شہر جلد ہی خطے میں وہ حیثیت اختیار کر گیا جیسا آج کی دنیا میں تیزی سے آگے بڑھتے اور پھیلتے ہوئے کئی شہروں کی مثال دی جا سکتی ہے۔ جیسے آج، ویسے ہی تب بھی اس تنوع کی وجہ ان شہروں میں بہتر طرز زندگی کے واقعی مواقع تھے یا ان شہروں کی بابت ایسا مشہور ہوتا تھا۔ فارس کے لوگ، افغانی، عراقی اور کرد جو اگرچہ اسلام قبول کر چکے تھے مگر ابھی تک ان کی حیثیت دوسرے درجے کے مسلمانوں کی چلی آ رہی تھی۔ علی کی خلافت میں وہ امت کا برابر حصہ قرار دیے گئے اور سب کے ساتھ مساوات کا سلوک ہوا۔ عمر کے زمانے میں پنپنے والی عربوں کی امتیاز سے متعلق سوچ اور بعد ازاں عثمان کے دور میں امویوں کی برتر حیثیت پر اصرار ماضی کا قصہ بن چکے تھے۔ علی پیغمبر کے عزیزوں اور رشتہ داروں میں سب سے قریبی ساتھی تھے، وہ اب ایک دفعہ پھر سے لوگوں کو نبی کے اصل، الہامی پیغام یعنی عدل، برابری اور امت کی یگانگت کی طرف لے جائیں گے۔ جلد ہی علی کے زیر انتظام علاقے کے مسلمانوں میں اتحاد اور یکجہتی کے آثار دوبارہ نظر آنے لگے۔
علی کوفہ میں مستقل بنیادوں پر منتقل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے۔ منصوبہ یہ تھا کہ معاویہ کے ساتھ شام کے معاملات نبٹتے ہی وہ فوراً مدینہ لوٹ جائیں گے لیکن آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ وہ دوبارہ کبھی مدینہ نہیں جا سکیں گے۔ ایک دفعہ جب یہاں جم گئے تو یہ بھی ہوا کہ اسلامی سلطنت کی طاقت خود بخود ہی عرب سے نکل کر اس خطے ،بالخصوص کوفہ میں منتقل ہونے لگی۔ معاویہ ایک عرصے سے یہی چاہتے تھے۔ وہ پہلے ہی یہاں شام میں بسر رکھتے تھے، بلکہ اب تک تو یہی ان کی اصل طاقت کا گڑھ تھا۔ اب اس طرح، یعنی علی کے ہاتھ پر بیعت سے انکار کے قضیے میں انہوں نے اپنی اس سوچ کو بھی، غیر ارادی طور پر عملی جامہ پہنا دیا۔ یہ معاویہ کی سر کشی تھی جو علی کو یہاں تک لے آئی تھی اور علی کے پیچھے پیچھے اختیار خلافت اور ساری طاقت بھی یہیں آ گئی تھی اور آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ معاویہ کی یہی کھلم کھلا حکم عدولی عراق کو 'شیعت علی' کا مرکز بھی بنا دے گی ۔ اسلام میں 'شیعہ اسلام '، یہیں پروان چڑھے گا۔
خیر یہ تو حالات کی نشاندہی ہے ورنہ اسلامی طاقت کے مرکز کا عرب سے نکل آنا اچنبھے کی بات نہیں ۔ جلد یا بدیر ایسا ہو کر رہتا۔ وجہ یہ ہے کہ چونکہ عراق مشرق وسطیٰ کے وسط میں واقع ہے تو ظاہر ہے اس خطے کو چلانے کے لیے ساری طاقت قدرتی طور پر یہیں آن کر ٹکتی۔ اس خطے میں دجلہ اور فرات کے دریا بہتے تھے۔ ان دریاؤں کے کناروں پر واقع نشیبی میدان انتہائی زرخیز تھے۔ شمال میں جزیرہ کی ہری چراہ گاہیں تھیں اور قدیم تجارتی شاہراہیں اور تہذیبی مراکز اسی خطے میں واقع تھے۔ ایک طرح سے کہیے تو عراق کی مثال مشرق وسطیٰ کے قلب کی سی تھی۔ اگر اسلامی سلطنت کی طاقت کا مرکز اب عراق بن چکا تھا تو یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ اس سے پہلے کی سلطنتوں کا مرکز بھی یہی خطہ رہا تھا۔ جیسے یہیں پر قدیم شہر بھی آباد چلے آ رہے تھے۔ مثال کے طور پر سمیری تہذیب کا شہر 'ار' کوفہ سے سو میل دریا کے نشیبی علاقے میں واقع ہوا کرتا تھا۔ اشوریوں کی قدیم سلطنت کا دار الخلافہ 'نینوا'، آج کے عراقی شہر موصل کے قریب ہی آباد رہا۔ کوفہ سے چالیس میل دور شمال میں مشہور و معروف بابل کا عظیم الشان شہر ہوا کرتا تھا۔ پھر فارسی سلطنت کا جوہر کہلانے والا شہر'مدائن' بھی تھا جو کسی زمانے میں جدید بغداد کی بغل میں آباد پر رونق آبادی ہوا کرتی تھی۔ اب قدیم زمانے سے چلی آ رہی روایت کے تحت، یہ خطہ جو جغرافیائی لحاظ سے اہم تھا اور یہاں زرخیز زرعی رقبے تھے، ایک دفعہ پھر مشرق وسطیٰ کے طول و عرض کا مرکز بنتا جا رہا تھا۔ کہیے، یہ صحیح معنوں میں مشرق وسطیٰ کی طاقت کا محور تھا، کسی بھی سلطنت کی طاقت اس خطے سے زیادہ دیر دور نہیں رہ سکتی تھی۔ مشرق وسطیٰ میں سلطنتیں چاہے کہیں بھی پیدا ہوں، انہیں جوانی یہیں بیتانی پڑتی تھی۔ علی اور معاویہ دونوں ہی اچھی طرح جانتے تھے کہ آج یا کل، وسیع سلطنت اسلامی کا انتظام درست طریقے سے چلانے کے لیے طاقت کا مرکز بھی یہیں بنانا تھا۔ یہ نا گزیر تھا۔
مکہ سے تعلق رکھنے والی اسلامی اشرافیہ یعنی بنو امیہ کے لیے طاقت اور اختیار کا یوں عراق اور شام میں جا کر ٹک جانا ایک بھیانک خواب کی مانند تھا۔ عثمان کی خلافت میں جو طاقت اور اختیار انہیں دوبارہ حاصل ہوا تھا، اب وہ کچھ بھی کر لیتے، دوبارہ حاصل کرنا ناممکن ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اگر ایک دفعہ جزیرہ عرب بالخصوص مکہ اور مدینہ سے اختیار چھن جاتا اور عراق کے 'دوسرے درجے کے' وہ مسلمان، جنہیں اسلامی امت کا حصہ بنے جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہیں ہوئے تھے، با اختیار ہو رہے تھے۔ بلکہ، یہ کیا بات ہوئی کہ وہ عربوں پر راج کیا کریں گے؟ ذرا عربوں کی حالت با رے غور کیجیے، اسلام کا مرکز وہاں سے نکلنے پر، بلکہ نکل کر غیر عربوں میں منتقل ہونے پر ان کی کیفیت کیا ہو سکتی ہے؟ ظاہر ہے، چونکہ یہ قبائلی تھے تو ان کے لیے عزت اور غیرت کا مسئلہ بن گیا تھا۔ وہ اسے اپنی بے عزتی سمجھنے لگے۔ ان کے نزدیک اب غیروں، یعنی 'صوبائی لچوں اور لفنگوں' کا اختیار چلتا تھا اور ذرا دیکھو تو، انہوں نے علی کا مستعدی اور پر جوش انداز میں کیسے ساتھ دیا تھا؟ کیا مکہ اور مدینہ کو کونے سے لگا دیا جائے گا؟ یہ دونوں شہر اب کیا صرف حج اور زیارت کی جگہ رہ جائیں گے؟ یہی نہیں، مکہ اور مدینہ طاقت کے مرکز سے انتہائی دور واقع ہوں گے تو پھر ان کی سلطنت میں حیثیت کیا ہو گی؟ کیا اب ان دونوں شہروں کی مثال اس تماشائی جیسی ہو گی جس نے ایمان کے زور پر قائم اس ریاست کا بیج بویا تھا۔ اس کی آبیاری کی تھی اور اب جب یہ پھیل کر عظیم الشان سلطنت کا تناور درخت بن گئی تو کیا مکہ اور مدینہ ایک طرف کھڑے ثمرات کو بٹتے ہوئے دیکھتے ہی رہ جائیں گے؟
اس دور میں، عربوں بالخصوص اشرافیہ کے ذہنوں میں پنپنے والی یہی سوچ بعد ازاں ایک نئے انداز میں عملی شکل اختیار کر لے گی۔ اسی اشرافیہ کی اگلی نسلیں مستقبل کے کئی اسلامی سلطنتیں اور خلافتیں ، حکومتیں قائم کریں گے اور ٹھسے سے حکمرانی کیا کریں گے مگر وہ پھر دوبارہ کبھی بھی عرب میں بسر نہیں کر سکیں گے۔ صدیاں گزر جائیں گی اور اسلامی سلاطین کی طاقت عراق، شام، ایران، مصر تک پھیل جائے گی۔ یہاں تک کہ سپین، ہندوستان اور ترکی میں بھی ان کی حکومتیں ہوں گی مگر جزیرہ عرب میں دوبارہ کبھی اسلامی سلطنت کا مرکز نہیں بن پائے گا۔ بلکہ یوں ہو گا کہ حجاز اسلام کے ریاستی اور انتظامی معاملات سے کٹ کر بہت دور ہو جائے گا۔ ہم دیکھیں گے کہ ان معاملات میں جزیرہ نما عرب کی حیثیت قدیم دور، یعنی اسلام سے پہلے کے زمانے کی سی ہو جائے گی۔ ایک طرح سے کہیے، یہ خطہ باقی اسلامی سلطنت سے دور ہو جائے گا اور یہاں صرف لوگ حج اور زیارت کے لیے آیا کریں گے۔ یہ خطہ سیاسی طور پر کٹ جائے گا اور یہاں کے مقامی عربوں کی حالت یہ ہو گی کہ وہ کسی بھی طرح سے اسلامی دنیا پر اگلے کم از کم ایک ہزار برس تک سیاسی اثر و رسوخ کھو دیں گے، بلکہ وہ اسے حاصل کرنے کی کوشش بھی نہیں کریں گے۔ زمانے کی دھول میں اٹھارہویں صدی آن پہنچے گی، جب بنیاد پرست وہابی گروہ دوبارہ سے جڑیں پکڑے گا اور یہ عراق میں شیعہ کے نزدیک مقدس مقامات، مقبروں، درگاہوں اور تبرکات خانوں پر حملے کریں گے، بلکہ مکہ اور مدینہ کے مقدس مقامات میں بھی کئی کاروائیاں ہوں گی۔ بعد ازاں بیسویں صدی میں سعود خاندان کے ساتھ الحاق کر کے یہاں سعودی بادشاہت کا حصہ، بلکہ بنیاد بن جائیں گے اور یوں وہابیوں کا اثر و رسوخ دنیا بھر میں پھیل جائے گا اور آج اکیسویں صدی میں بدستور یہی حالت قائم نظر آتی ہے۔ جزیرہ نما عرب و حجاز کا یہ خطہ جو تیل کی دولت سے مالا مال ہے، آج سعودی عرب کہلاتا ہے، ایک دفعہ پھر دولت اور عالمی سیاسی منظر نامے پر اپنی حیثیت کی وجہ سے دوبارہ اسلام میں مقام حاصل کر لے گا۔ مطلب یہ کہ جزیرہ عرب و حجاز ایک دفعہ پھر بڑی حد تک وہ حیثیت حاصل کرنےمیں کامیاب ہو جائے گا جو کبھی اس کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔ مغربی طاقتیں جو تیل کی بھوکی ہیں، وہ بھی سعود کے شاہی خاندان کا ساتھ دیں گی ۔ جدید دور میں یہیں پر شدت پسند سنی تحریک جنم لے گی جو آگے چل کر مغرب کے لیے بڑا خطرہ بن جائے گی مگر مغربی طاقتیں جو عام طور پر جمہوریت کے گن گاتے نہیں تھکتیں، تیل کی دھن میں سعودی عرب بلکہ خلیج کی تمام عرب ریاستوں میں شہنشاہیت کا ساتھ دینے پر مجبور ہوں گی۔
خیر علی کوفہ میں آن کر بس گئے تو اب صرف ایک چیز تھی جو معاویہ کے مقاصد میں اگلا قدم اٹھانے کے لیے دستیاب ہونا ضروری تھی۔ وہ چیز یہ تھی کہ انہیں علی کے خلاف جنگ میں شامی عوام کی بھر پور اور غیر مشروط حمایت درکار تھی۔ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ صرف لوگوں کی رضامندی یا جنگی تجویز کی ہاں میں ہاں ملانے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ان کا اس بابت حتمی قدم تبھی کامیاب ہو گا جب عوامی سطح پر جنگ کا پر زور مطالبہ سامنے آئے گا۔ اس بات کی مثال یوں سمجھیے کہ وہ ابھی تک چولہے پر ایک برتن میں عوامی جذبات کو عثمان کی خون آلود قمیص اور نائلہ کی کٹی انگلیوں کو دمشق کی مسجد میں نمائش کی آگ سے ہلکی آنچ پر صرف گرماتے چلے آ رہے تھے۔ لیکن اب ضرورت اس امر کی تھی کہ ان جذبات کو ایک دم ابال کر یوں بھڑکا دیا جائے کہ بھک سے اس دیگچی کا ڈھکن اڑ جائے۔ اس مقصد کے لیے وہ آج جدید دنیا میں بھی کاری سمجھی جانے والی چال چلیں گے۔ وہ علی کا غرور، یعنی ان کی غیرت و حمیت اور نیکو کاری کو خود اپنا لبادہ بنا لیں گے۔
اس ضمن میں ایک منظم اور باقاعدہ مہم چلائی جائے گی تا کہ بالآخر معاویہ انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور نظر آئیں۔ زور دار جنگی وار کو ممکن بنانے کے لیے ضروری تھا کہ وہ اس میدان میں عوامی غم و غصہ کے ہاتھوں دھکیلے جائیں۔ اگر وہ علی کے ساتھ جنگ کا اعلان کرتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی فعل نہ ہو بلکہ ایسا نظر آئے کہ وہ لوگوں کی خواہشات کا احترام میں اس 'ناپسندیدہ' فعل پر مجبور ہیں۔ وہ لوگوں کی مرضی کے سامنے سر خم کرتے ہوئے، انہی کے انصاف کے مطالبے کا پاس رکھتے ہوئے، انہی کے حکم کی تعمیل کرتے ہوں۔ ایسا ہونا چاہیے۔
اس منظم مہم میں سب سے پہلے استعمال کیا جانے والا ہتھیار شاعری تھا۔ جدید دنیا اور بالخصوص مغرب میں لوگوں کو شاید یہ بات نہایت عجیب لگتی ہو کہ آخر شاعری کو کیسے استعمال کریں گے؟ وجہ یہ ہے کہ آج کل شاعروں کو عام طور پر آسانی سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے مگر ساتویں صدی عیسوی میں مشرق وسطیٰ کا نقشہ کچھ اور ہی ہوتا تھا۔ تب شاعروں کی خوب چلتی تھی، کہیے وہ اس دور کے نامی گرامی، عوام میں مقبول 'ستاروں' کی طرح ہوا کرتے تھے۔ خاص طور پر طنزیہ شاعری اور ہجو لکھنے والوں کی تو بہت ہی زیادہ مانگ تھی۔ ان شاعروں کا کلام، قصے اور کہانیاں نہ صرف بار بار، کئی کئی محفلوں میں پڑھا جاتا تھا بلکہ لوگ اس کا تذکرہ کرتے تھے اور مقبول شاعری تو ہاتھوں ہاتھ بکتی تھی۔ اسی شاعری کی روشنی میں عوامی رائے عامہ ہموار ہوتی تھی۔ اس زمانے میں بھی، جب لکھنا اتنا عام نہیں تھا مگر شاعری پھر بھی بالخصوص چرمی کاغذوں پر تحریر کر کے رکھی جاتی تھی۔ اسے لکھنے اور سنبھال کر رکھنے کا مقصد بعد میں پڑھنا یا کتب خانوں کا پیٹ بھرنا نہیں بلکہ زبانی یاد کرنا ہوتا تھا۔ زیادہ تر لوگ پڑھنے لکھنے سے قاصر تھے، اس لیے گنے چنے لوگ اس لکھے کو بار بار پڑھتے اور تقریباً سب ہی لوگ اس کو سنتے، دہراتے اور زبانی ازبر کر لیتے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے چاروں طرف یہ شاعری پھیل جاتی۔ نہ صرف یہ کہ محفلوں میں سنائی جاتی بلکہ گلی کوچوں، بازاروں ، سرائے محلوں اور یہاں تک کہ مسجدوں میں بھی باقاعدہ نشستیں منعقد ہوا کرتی تھیں۔ جس کلام میں زیادہ کاٹ ہوتی اور جو شعر یا جملہ اندر تک کاٹ سکتا، اس کی مانگ بھی اتنی ہی زیادہ ہوا کرتی تھی۔ ایسے اشعار اور طنزیہ جملے دیرپا گردش میں رہتے اور اکثر ضرب المثل کا روپ دھار لیتے۔ لازمی بات تھی، ایسے کلام کو تخلیق کرنے والے شعراء کی بھی خوب پذیرائی ہوتی۔ انہیں شہرت اور داد کے ساتھ انعام و اکرام بھی ملتا تھا۔
اس زمانے میں اس قسم کی شاعری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بسا اوقات اس کی وجہ سے معاملات ہاتھ سے نکل جایا کرتے تھے۔ شعلہ بیان کلام کی وجہ سے لوگ بدک جاتے تھے اور عوام مشتعل ہو جاتی تھی۔ رہنماؤں کا صبر جواب دے جاتا اور اس کے اکثر انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوتے۔ اکثر شاعروں کو بھی اپنی جان کے لالے پڑ جاتے۔ مثال کے طور پر اس شاعرہ کا تذکرہ آج بھی بہت عام ہے جو محمدؐ کی مدینہ میں بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر اتنی سیخ پا ہوئی کہ اس نے آپؐ کی مخالفت میں شعر کہے۔ اس نے کہا، 'اے خزرج کے ناکارہ، نامردو! / کیا تم بھڑوے ہو؟ / تم ایک اجنبی کو اپنے گھونسلے پر قبضہ کرنے دو گے؟ / تم اس سے یوں امید لگا بیٹھے ہو/ جیسے مرد جو کی شراب کو لالچ سے دیکھتا ہے / کیا کوئی ایک بھی ایسا شخص نہیں ہے / جو اس کوئل سے اس گھونسلے کو بچائے؟' اگرچہ ترجمہ کی وجہ سے اصل شعروں کا ردھم اور کاٹ دار تاثیر تقریباً ختم ہو کر رہ جاتی ہے مگر پھر بھی حقارت صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کے یہ اشعار محمدؐ کے مخالفین نے خوب اچھالے اور نتیجہ یہ نکلا کہ اگلی ہی رات یہ عورت اپنے گھر میں، بستر پر سوئی ہوئی تھی ۔ اسے محمدؐ کے حکم پر اس بے عزتی پر قتل کر دیا گیا۔ اس کی موت کی خبر اتنی ہی تیزی سے پھیلی جتنی تیزی سے اس کی شاعری مشہور ہو جایا کرتی تھی۔ مدینہ کے شعراء کو پیغام مل گیا اور جلد ہی ان میں سے زیادہ تر وہ جو کبھی بڑھ چڑھ کر آپؐ کی مخالفت میں کلام اچھالا کرتے تھے، اب ان کی مدح سرائی کرنے لگے۔
اکیسویں صدی میں دنیا بھر کے لوگ، بالخصوص مغرب کے باسی ڈینش اخباروں میں چھپنے والے محمدؐ کے کارٹونوں پر رد عمل پر حیرت سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی فرانس میں ایک رسالے کے دفتر کو بھی ایسی ہی 'بے حرمتی' پر مسلح حملے میں شدید جانی اور مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اسلامی دنیا میں پیدا ہونے والے اس رد عمل سے تو ایسا لگتا ہے جیسے اسلام میں طنز اور مزاح کی کوئی روایت سرے سے کبھی رہی ہی نہیں۔ حالانکہ اوائل دور اسلام میں اس کی انتہائی مضبوط روایات ملتی ہیں۔ یہ اس قدر پر اثر ذریعہ رہا ہے کہ اکثر جھڑپوں، لڑائیوں اور جنگ و جدل کا موجب بن جاتا تھا۔ ساتویں صدی عیسوی میں شاعری، بالخصوص طنزیہ شاعری اور ہجو کی حیثیت ایک کاری ہتھیار کی سی ہوا کرتی تھی۔ آج بھی، مسلمان اسے ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ سلمان رشدی کا ناول، 'شیطانی آیات' نے اسلامی دنیا میں اتنی زیادہ ہلچل اسی لیے پیدا کی کیونکہ یہ سوچا سمجھا اور انتہائی مہارت سے تراشا ہوا طنز تھا۔ رشدی نے اسلام کی ریڑھ کی ہڈی، یعنی قرانی آیات اور احادیث کو نشانہ بنایا تھا۔ مغرب میں بھلے طنز، جیسے کارٹون وغیرہ اور کاٹ دار نثر کو بے ضرر سمجھا جاتا ہو، شاید مغربی حلقوں کا خیال یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ یہ مزاح ہے یا پھر ہنسی مذاق کی بات ہوگی۔ اگر یہ نہ بھی ہو تو ان کے نزدیک یہ صرف تمثیل ہے۔ علامت یا کہیے خوش طبع ظرافت ہوتی ہو گی مگر اسلامی دنیا میں اس کو لغوی معنوں میں، دین کی اساس پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ یاد رکھیے، جب لفظوں کے معنی حرف بہ حرف لغوی سمجھے جاتے ہوں تو ایسے لفظ ہتھیار بن جایا کرتے ہیں۔ ایسے ہتھیار جو آگے چل کر جنگ میں بدل جاتے ہیں اور جنگوں میں خون ریزی اور قتل و غارت، عام بات ہے۔
اس زمانے میں طنز یہ شاعری اور ہجو صرف دشمن کے لیے گھڑی جاتی تھی، اسی لیے آج جب مسلمانوں کا بظاہر بے ضرر طنز اور مزاح پر خون کھولتا ہے تو وہ مغرب کو اور ان مغربی اخباروں، رسائل اور سلمان رشدی جیسوں کو اپنا دشمن سمجھنے لگتے ہیں۔ خیر، بات یہ چل رہی تھی کہ اس زمانے میں ایسی شاعری اور داستانیں عام طور پر دشمنوں کے خلاف تخلیق کی جاتی تھیں۔ معاویہ اچھی طرح جانتے تھے کہ ایسی شاعری، اس موقع پر شام جیسے صوبے میں، جہاں پہلے ہی عوامی جذبات علی کے خلاف پک رہے تھے، اگر وہ دشمن کی بجائے خود ان کے خلاف مشہور ہو جائے تو کیا ہو گا؟ یہ ہو گا کہ لوگ ان کو جنگ پر مجبور کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ چنانچہ دمشق میں، جہاں معاویہ کی مرضی کے خلاف چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی تھی، انہی کے خلاف طنزیہ شاعری عام ہونے لگی۔ اس شاعری میں معاویہ کی کھل کر بے عزتی کی جاتی۔ شاعر ان کی مردانگی پر سوال اٹھاتے اور کمزوری کے طعنے دیتے کہ وہ عثمان کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے آخر آگے بڑھ کر علی پر وار کیوں نہیں کرتے؟ کیا وہ ڈرتے ہیں؟ کیا وہ نامرد ہیں؟
تاریخ میں روایت ہے کہ اس شاعری کے اکثر نسخے تا دم تحریر، کئی جگہ پر دستیاب تھے اور ان میں سے اکثر اگر معاویہ کے چچا زاد ولید نے خود نہیں لکھے مگر ان کے دستخط ضرور ثبت ہیں۔ ولید عثمان کا سوتیلا بھائی تھا۔ یہ وہی ہے جو عثمان کے دور میں کوفہ کا گورنر ہوا کرتا تھا اور بعد ازاں اس کی شکایت مدینہ پہنچنے پر تیسرے خلیفہ کے خلاف بغاوت کا قضیہ شروع ہوا تھا۔ ولید کے ہاتھوں سے لکھی ہوئی شاعری کا ایک نسخہ کچھ یوں ہے، 'اے معاویہ! تم ایک خصی اونٹ کی طرح ہو / ایسا اونٹ جو شہوت تو رکھتا ہے / دمشق کے محل میں دبکا بیٹھا ہے/ وہ اونٹ جو لت میں بے چین ہے مگر ہلنے سے قاصر ہو'، آگے چل کر اس نظم کو کچھ یوں لپیٹا کہ، 'اللہ کی قسم! اگر عثمان کا بدلہ لینے میں تم نے / ایک دن کی بھی مزید دیر کر دی تو / میں کہوں گا، تمہاری ماں ہی بانجھ تھی / ان سانپوں کو اپنے قریب مت آنے دینا / ان کے تلواروں سے لیس ہاتھوں سے ڈرتے کیوں ہو؟ / باہر نکلو! علی کو جنگ کا مزہ چکھا دو / اس کے بال خوف سے سفید کر دو!'
دوسرے شاعروں نے معاویہ پر زور دیا کہ 'بادبان کی رسی کھولو اور کشتی کو نکلنے دو!' اور 'دیر مت کرو ، اس موقع سے فائدہ اٹھاؤ'۔ لیکن اس زمانے میں سامنے آنے والی شاعری، جس کا بڑا حصہ تاریخ میں موجود ہے، اس میں سب سے مشہور اور دمشق بھر میں مقبول سلسلہ وہ تھا جس میں کھلے عام مخالفین کو نشانہ بنایا گیا۔ اس شاعر نے کہا، 'میں شام کو عراق کے راج پر کراہت میں مبتلا دیکھتا ہوں اور عراق کے لوگوں کو شام سے گھن آتی ہے۔ ہر شخص دوسرے سے نفرت کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ علی ہمارا مولا ہے؟ لیکن میں، بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ہمیں ہند کا بیٹا ہی کافی ہے!'۔
ظاہر ہے، دمشق کے بازاروں میں یہ شاعری معاویہ کے علم سے باہر اور ان کی منظوری کے بغیر شائع ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ جس طور ان کی شام کے معاملات پر گرفت تھی، ایک لفظ بھی اتنی آزادی سے نہیں اگلا جا سکتا تھا۔ بالخصوص شاعروں کے ساتھ ایسے کلام پر روایتی طور پر پیش آنے والے سلوک کی تاریخ دیکھیں تو یہ بات ہضم نہیں ہوتی کہ معاویہ کو ان کی کارستانیوں کا علم ہی نہیں تھا یا انہیں معاویہ کی منظوری حاصل نہیں تھی۔ دمشق میں کسی شخص میں معاویہ کے غیض و غضب کو دعوت دینے کی ہمت نہیں تھی۔ اگر انہیں اس کی خبر نہیں بھی تھی تو بھی، معاویہ نے اس شاعری پر کسی قسم کا رد عمل ظاہر نہیں کیا، کسی کو ٹوکا تک نہیں۔ بلکہ اس سلسلے کو جاری رہنے دیا گیا۔ روایات کے مطابق یہ شاعری اس باقاعدہ مہم کا حصہ تھا جس کے تحت معاویہ جنگ کے لیے عوامی رائے عامہ ہموار کرنا چاہتے تھے ۔ در حقیقت، اس طرح وہ عوامی خواہشات کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھال رہے تھے۔ حالیہ دور میں ایسی ہی چال کی عمدہ مثالیں ہمیں جدید دور کی جمہوری حکومتوں میں بھی عام ملتی ہے۔ 2003ء میں جب امریکہ نے عراق پر حملہ کرنے کی ٹھانی تو اس کے لیے اسی طرح کی چال استعمال کی گئی تھی۔ ہوا یہ تھا کہ بش انتظامیہ نے دنیا بھر کی جمہوری ریاستوں پر اثر انداز ہو کر، غلط بیانی سے کام لیتے ہوئے انہیں اپنے ساتھ ملا لیا تھا اور پھر جب چاروں طرف امریکہ پر دباؤ بڑھنے لگا تو عالمی برادری کی بڑی طاقتوں نے یکجا ہو کر عراق پر دھاوا بول دیا تھا۔ بعد ازاں اس جنگ کے محرکات غلط ثابت ہوئے اور ہم نے دیکھا کہ دنیا بھر میں جمہوریت اور جمہوری ریاستوں کی خوب جگ ہنسائی ہوئی۔
جب مہم میں پہلا مقصد حاصل ہو گیا۔ یعنی عوامی رائے عامہ ہموار ہو چکا تو معاویہ نے علی کے ساتھ جنگ کا اعلان، ایک خط کے ذریعے کیا۔ 'اے علی! تمہیں ہر خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کے لیے یوں ہانک کر لے جانا پڑا ہے جیسے کسی اونٹ کے نتھنوں میں چھڑی ڈال کر کھینچنا پڑتا ہے' خط کی شروعات میں ہی ایسے مخاطب کیا گیا جیسے تاثر دیتے ہوں کہ علی خلیفہ نہیں بلکہ خلافت کے جھوٹے دعویدار ہیں۔ اس خط میں معاویہ نے علی پر لوگوں کو عثمان کے خلاف 'چوری چھپے اور کھلے عام' بغاوت پر اکسانے کا الزام لگایا۔ کہا کہ عثمان کے قاتل 'تمہاری ریڑھ کی ہڈی، تمہارے مددگار، تمہارے ہاتھ اور تمہارے مصاحبین تھے۔ اور یہ کہ شام کے لوگ تمہارے ساتھ اس وقت جنگ کرتے رہیں گے جب تک کہ تم ان قاتلوں کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہیں کر دیتے۔ اگر تم ایسا کرتے ہو تو خلیفہ کا انتخاب شوریٰ کے ذریعے، تمام مسلمانوں کی نمائندگی کے تحت ہو گا۔ کبھی یہ اختیار حجاز کے لوگوں کے ہاتھ میں تھا مگر انہوں نے اس کے استعمال کو ترک کر دیا۔ اب یہ حق شام کے لوگوں کے پاس ہے'۔
دوسرے الفاظ میں، یہ اختیار معاویہ کے ہاتھ میں تھا۔ شام کے گورنر خود خلیفہ بننے کے لیے تیار تھے اور اپنے ارادے صاف ظاہر کر دیے۔
657ء میں، گرما کے موسم کے اوائل میں شامی اور عراقی فوجیں 'صفین' کے میدان میں آمنے سامنے کھڑی ہوں گی۔ صفین کا میدان دریائے فرات کے مغرب میں واقع ہے۔ آج کل یہ علاقہ شام کے شمالی صوبے کا حصہ ہے۔ علی کی افواج دریا کے ساتھ ساتھ کوفہ سے پانچ سو میل دور، شمال کی جانب نکل آئیں۔ وہ جتنی دور جاتے، ہوا اتنی ہی بہتر ہوتی جاتی۔ فرات کے نشیب میں جو حبس اور نمی کی کیفیت رہا کرتی تھی، صفین کے میدانوں میں نہیں تھی۔ شمال کی جانب جس قدر آگے بڑھتے مٹی چکنی اور دریا کا دہانہ تنگ ہوتا جاتا۔ یہاں پہنچ کر میدان سکڑنے لگتے ہیں اور چاروں طرف ہری بھری وادیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ صحرا کے ریتلے سراب کہیں پیچھے رہ جاتے ہیں اور جزیرہ کی وسیع و عریض چراہ گاہیں ہیں جن کی پشت پر شمال کی ہی طرف دور برف سے ڈھکی چوٹیاں نظر آتی ہیں۔ کوفہ میں پہنچ کر جس دریا کا پانی گدلا جاتا ہے اور پاٹ کئی میلوں پر پھیلا رہتا ہے، یہاں وہ شور مچاتی ہوئی ندی جیسا لگتا ہے، جس میں پگھلی ہوئی برف کا صاف شفاف پانی موجیں مارتا ہے۔
اگر وہ مزید آگے بڑھیں تو قدموں میں شام پھیلا ہو گا۔ شام میں دولت اور خوشحال سے مالا مال شہر دمشق ہے جس کی حیثیت اس پورے خطے میں ایک تاج کی سی ہے۔ یقیناً اس لشکر میں شامل ہر شخص نے دمشق بارے سن رکھا تھا۔ کئی تو یہاں آتے جاتے بھی رہے تھے۔ وہ جانتے ہیں کہ دمشق میں خوشحالی ہے۔ یہاں نہریں بہتی ہیں۔ ہرے بھرے درخت ہیں اور بازاروں میں طرح طرح کے بدیسی پھل مل جاتے ہیں۔ یہاں سبز محل ہے جس کے معمولی سے کونے کھدرے کی تعمیر میں بھی قیمتی سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے اور اس کے اندر ہیرے اور جواہرات بھرے ہیں۔ کئی تخت ہیں جن پر قیمتی پتھر جڑے ہیں اور شہر بھر میں جہاں دیکھیے، تازہ پانی کے چشمے پھوٹتے ہیں۔ صحرا کے باسیوں کے لیے تازہ پانی کا خیال ہی تابناک ہوتا ہے۔ اگر کسی جگہ پر راہ چلتے، ہر چار قدم پر پھوٹتے ہوئے چشمے اور فوارے ہوں تو کیا حالت ہو گی؟ یہ کیسی جگہ ہے جہاں تازہ، شیشے کی طرح صاف شفاف پانی اس قدر بہتات میں ہے کہ لوگ اسے کھیل کود، آنکھوں کی فرحت کے لیے فوارے پھوڑ کر، صرف عیاشی کے لیے بہاتے رہتے ہیں؟ یقیناً، ایسی جگہ پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے ایک کیا، کئی جنگیں لڑی جا سکتی تھیں۔
ہزاروں مسلح جنگجو سینکڑوں میل کا طویل اور جان جوکھم میں ڈالنے والا سفر طے کر یہاں صرف امن قائم کرنے تو نہیں آئے تھے۔ جب دونوں لشکر صفین کے مقام پر آمنے سامنے آن پہنچے تو اب یہ معاملہ بڑھ کر عزت اور غیرت کا بھی بن گیا۔ دونوں فریقین کی کوشش یہ تھی کہ جو بھی ہو، پہل دوسرا کرے اور وہ مظلوم نظر آئیں۔ کوئی بھی جارح نہیں کہلوانا چاہتا تھا بلکہ کوشش تھی کہ مجروح قرار پائیں۔ کئی ہفتوں تک یہ لشکر یہیں جمع رہے اور حملے میں پہل کرنے سے گریزاں تھے۔ اکا دکا جھڑپیں اور منہ در منہ جھگڑے ہوئے مگر ان سے وہ اثر نہیں ہوا جو جنگ جمل میں محدود پیمانے پر شروع ہونے والی لڑائی سے ہوا تھا، یعنی ایک دم ہی خوفناک جنگ شروع ہو گئی تھی۔ بلکہ ان جھڑپوں پر تو یہ گماں ہو رہا تھا جیسے مقصد نقصان پہنچانا نہیں بلکہ صرف مشق کرنا ہو۔ گنے چنے ہتھیاروں کا استعمال ہوتا اور کوشش ہوتی کہ جانی نقصان نہ ہونے پائے۔ روایات میں ملتا ہے کہ لڑتے لڑتے اگر نماز کا وقت آ جاتا ، یاد رہے اس وقت تک دن میں صرف تین نمازیں ادا کی جاتی تھیں، جنگجو لڑائی سے الگ ہو جاتے۔ ہتھیار کندھے پر لٹکائے آدھا میل دور اپنے لشکروں میں واپس چلے جاتے ۔ ان دنوں کی ایک یاد داشت ایک شخص نے کچھ یوں بیان کی ہے کہ ،'رات گئے تو یہ بھی ہوتا کہ دونوں لشکروں میں سے لوگ اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر دوسرے کے خیموں میں پہنچ جاتے اور رات بھر بیٹھے باتیں کرتے اور مشروبات سے تواضع کی جاتی'۔
آخر یہ جنگجو آپس میں کیا باتیں کرتے تھے؟ ظاہر ہے، زیر بحث معاملہ یہی قضیہ رہتا ہو گا جس کے فوجی حل کے لیے وہ وہاں جمع تھے۔ جنگجو ہی نہیں، لشکروں کے سپہ سالار اور رہنما بھی آپس میں بدستور بات چیت جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس مقصد کے لیے دونوں لشکروں کے پڑاؤ کے بیچ میں، وسطی میدان میں ایک مضبوط چبوترے پر مچان کس کر اوپر پنڈال بنا دیا گیا۔ پنڈال کی اطراف میں دونوں لشکروں کے جھنڈے لہرا رہے تھے۔ یہاں علی اور معاویہ کے لشکر کے وفود جمع ہوتے اور مذاکرات کے دور چلتے۔ مقصد ایک دوسرے کے ارادوں کی خبر رکھنا اور بات چیت سے تصفیہ کی کوششوں کو آگے بڑھانا تھا۔ معاویہ کو مذاکرات کے ان ادوار میں واضح برتری رہا کرتی تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے وفود کا سیاسی اور سفارتی معاملات کا وسیع تجربہ تھا۔ دمشق بازنطینی سلطنت میں سیاست اور سفارت کا گڑھ ہوا کرتا تھا، شامی تیز لوگ تھے۔ پھر یہ بھی تھا کہ معاویہ علی کے خانہ جنگی بارے خدشات اور ہولناکی پر متفکر رہنے کی کیفیت سے پوری طرح آگاہ تھے۔ علی پہلے ہی اس جنگ میں خوں ریز لڑائی لڑ چکے تھے، جس کے نتیجے میں انہیں فتح مل گئی تھی مگر بھاری نقصان پر سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آیا تھا۔ اب معاویہ علی کے انہی خدشات اور ہراس کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرنے کے راستے ڈھونڈیں گے۔ معاویہ کو بے شک ہر لحاظ سے برتری حاصل ہوتی مگر بہرحال ان سے بہتر کون سمجھ سکتا تھا کہ اگر مقاصد حل ہو سکتے ہیں تو پھر اس کے لیے خواہ مخواہ قتل و غارت اور بد امنی کی کیا ضرورت ہے؟
اگرچہ معاویہ نے ایک خط کے ذریعے عوامی سطح پر علی سے خلافت سے الگ ہو کر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اب وہیں انہوں نے اپنے وفود کو اس کا ایک متبادل حل بھی تجویز کرنے کو کہا، جس کے لیے بطور خاص راز داری برتنے کی تاکید کی تھی۔ یہ حل کچھ یوں روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ علی اور معاویہ آپس میں جنگ سے بچ سکتے ہیں اگر وہ اسلامی سلطنت کو بانٹ دیں۔ تجویز کے مطابق شام، فلسطین اور مصر کا سارا اختیار اور محصولات معاویہ کو ملتیں اور علی کے پاس عراق، فارس اور جزیرہ نما عرب کا اقتدار ہوتا۔ اس حل کے تحت سلطنت صحیح معنوں میں یعنی امر واقع تقسیم ہو جاتی۔ عرب فتوحات سے پہلے تقریباً یہی تقسیم بازنطین اور فارس کی سلطنتوں میں پائی جاتی تھی۔ یہی سرحدیں تھیں اور اسی طرح کی صورتحال رہا کرتی تھی۔ صرف فرق یہ تھا کہ تب شہنشاہ ہوا کرتے تھے اور اب ایک کی بجائے دو خلفاء ہوا کریں گے۔
ظاہر ہے علی نے اس تجویز کو یکسر مسترد کر دیا اور یہ غیر متوقع نہیں تھا۔ اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ علی نے ہمیشہ امت کی یکجہتی کا نعرہ بلند کیا تھا۔ اگرچہ یہ تجویز آخر کار ناکام ہی ٹھہرتی مگر ایک لحاظ سے یہ علی کے لیے بے عزتی کی بات تھی۔ یعنی ایک طرف تو ان کی سوچ پر ضرب تھی اور دوسری طرف چونکہ وہ اب خلیفہ تھے، ان کی سرپرستی میں خلافت کا بٹ جانا، ناکامی ٹھہرتی۔ غیرت کا مسئلہ بن کر ہو سکتا تھا کہ اس طرح علی طیش کھا جاتے اور فوراً ہی حملہ کر دیتے اور یوں پھر بھی، یعنی تجویز رد ہونے کی صورت میں بھی معاویہ مجروح اور علی جارح مشہور ہو جاتے۔ بجائے جنگ شروع کرتے، علی نے جنگ و جدل کو ٹالنے کی ایک آخری کوشش کی۔ وہ گھوڑے پر زرہ پہن کر، پوری طرح مسلح ہو کر چبوترے تک گئے اور معاویہ کو خود باہر نکل کر سامنے آنے کو کہا۔ ان کی آواز پہلی صفوں کو صاف سنائی دے رہی تھی۔ انہوں نے شام کے گورنر کو دست بدست لڑائی کے لیے للکارا۔ کہا کہ بجائے لشکر آپس میں بھڑ کر خون کی ندیاں بہائیں، وہ دونوں لڑ مر کر اس سارے قضیہ کا موقع پر فیصلہ کر لیتے ہیں۔ جو بچ جائے، وہی خلیفہ کہلائے گا۔
معاویہ کا نائب، جو ایک جری اور جانا مانا جنگجو تھا۔ نام عمرو تھا اور انہوں نے مصر میں اسلام کے لیے فتح حاصل کی تھی۔ یہ محمدؐ کے دیرینہ ساتھیوں میں سے ایک تھے۔ عمرو نے معاویہ کو مشورہ دیا کہ وہ علی کی اس منہ در منہ لڑائی پر راضی ہو جائیں۔ چونکہ وہ خود جنگجو تھے، جنگجوؤں کی سی ہی غیرت میں کہا، 'ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک شخص سامنے کھڑا للکار رہا ہو اور کوئی پیچھے ہٹ جائے، ایسے موقع پر انکار کی کوئی وجہ نہیں ہوتی'۔ پھر زور دے کر کہا، 'علی نے تمہیں انتہائی مناسب تجویز پیش کی ہے'۔
لیکن معاویہ کو خواہ مخواہ غیرت دکھانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ وہ اس طرح کی صفات اور عادات کو علی کے لیے ہی رکھ چھوڑیں گے۔ وہ حقیقت پسند تھے اور انتہائی عملی شخص واقع ہوئے تھے۔ فوراً ہی جواب لوٹایا، 'یہ کسی بھی طرح سے مناسب تجویز نہیں ہے۔ علی نے ہمیشہ اس شخص کو موت کے گھاٹ اتارا ہے جس سے منہ در منہ لڑائی کی ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کا ہاتھ اوپر ہو گا'۔ معاویہ کے اس انکار کے بعد سوائے جنگ کے کوئی راستہ نہیں تھا۔
علی وہیں سے واپس مڑے اور اپنے لشکر کی صفوں میں جا پہنچے۔ لشکر کے تیار کھڑے جنگجوؤں کو مخاطب کر کے تقریر کی، 'شامی صرف اس دنیا کی خاطر لڑ رہے ہیں تا کہ وہ اس فانی جگہ پر بادشاہ کہلائیں اور غاصب طریقے سے حکمرانی کرتے پھریں۔ اگر انہیں آج جیت ہوئی تو یاد رکھو تمہاری جان اور مال محفوظ نہیں رہیں گے۔ بلکہ تمہارا ایمان اور خدا پر یقین بھی بیچ کھائیں گے۔ آگے بڑھو اور ان سے آج لڑو ورنہ اللہ تم سے ہمیشہ کے لیے اسلام کی حکمرانی چھین لے گا اور یاد رکھو، اگر خدا نے تم سے یہ نعمت چھین لی پھر دوبارہ تم کبھی سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہیں رہو گے'۔ پر زور تقریر سے لشکر میں جوش اور خروش دیدنی تھا۔ جنگجو نعرے بازی کرنے لگے اور کانوں پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ علی نے اپنی تقریر جاری رکھی اور ان کی آواز بلند ہوتی گئی جیسے وہ ہزاروں کے لشکر سے بھی اونچا بولتے ہوں، گویا دہاڑ رہے ہوں۔ لہجے میں سفاکی پیدا کرتے ہوئے اپنے جنگجوؤں کا دیر تک پر جوش تقریر سے خون گرماتے رہے، انہیں جری اور بہادر گردانا اور انہیں حق سے محروم، محکوم قرار دیا۔ 'دشمن کے چھکے چھڑا دو!' انہوں نے کہا، 'اس وقت تک وار کرو جب تک کہ تلوار کی ضربوں سے کھوپڑیاں ٹوٹ نہ جائیں اور آنکھیں باہر نہ نکل آئیں۔ ایسے وار کرو کہ آنکھیں پھٹ کر چہرے پر بہنے لگیں اور ان کے سینے خونم خون ہو جائیں'۔
اب کی بار جنگ شروع ہو گی تو نماز کے لیے بھی لڑائی نہیں رکے گی۔ اب چھوٹی موٹی جھڑپیں اور مشقیں نہیں ہوں گی۔ ایک دوسرے کے خیموں میں آنے جانے کی فرصت نہیں ہو گی اور بات چیت کا ہر راستہ بند ملے گا۔ جنگ صفین تین دن تک جاری رہی ۔ لڑائی اتنی شدید تھی کہ دوسری رات اندھیرے میں بھی جاری رہی۔ اس رات کو لوگ بعد ازاں 'چیخ و پکار کی رات' کے نام سے یاد کیا کریں گے۔ کہتے ہیں اس رات چاروں طرف جنگجو مرد دہاڑتے رہے، گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور تلواریں ٹکراتیں تو رات کی خاموشی میں عجیب شور سنائی دیتا۔ وقفے وقفے سے جب کوئی شخص زخمی ہو کر گرتا یا مرنے لگتا اس کی چیخیں اور درد سے کراہیں آسمان سر پر اٹھا لیتیں۔ یہ اس قدر دل خراش چیخیں ہوتی تھیں کہ سننے والوں کا رات بھر کلیجہ منہ کو آتا رہا۔ آج کل ایسی چیخیں ہم لوگوں کو، جو اپنے گھروں کی راحتوں اور سہولیات میں بسر رکھتے ہیں، کہاں سنائی دیتی ہیں؟ بلکہ ہم میں سے تقریباً لوگ تو شاید ایسی چیخیں سننے کی سرے سے تاب ہی نہیں رکھتے۔ ہم تو اس دور سے تعلق رکھتے ہیں جہاں گاڑی کی ٹکر سے اگر کوئی جانور زخمی ہو کر سڑک کنارے مرتے ہوئے درد سے چیختا ہے تو ہمارے دل دہل جاتے ہیں۔ ذرا سوچیے، وہ کس قدر بھیانک رات ہو گی؟
اس قدر گھمسان کا رن پڑا کہ خود علی جان سے جاتے جاتے بچے۔ قریب تھا کہ وہ قتل کر دیے جاتے۔ ایک عینی شاہد نے روایت کیا ہے کہ میدان میں جہاں علی موجود تھے، ان کے ارد گرد اتنے زیادہ تیر گر رہے تھے کہ جیسے بارش برستی ہے۔ اس کے الفاظ میں، 'علی کے دو لڑکوں، حسن اور حسین کے لیے ڈھالوں سے تیروں کے پھالے روکنا مشکل ہو گیا تھا۔ برچھیوں اور تیروں کی بہتات تھی'۔ ان دونوں نے علی پر زور دیا کہ جتنی جلد ہو سکے، تیز چلتے ہوئے یہاں سے نکلنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ وہ انتہائی آسان ہدف بن چکے تھے۔ علی نے اس موقع پر وہ مقبول جواب دیا جو آج بھی زبان زد و عام ہے۔ لڑائی کے میدان کے عین وسط میں، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے، تیر تلواروں اور برچھیوں کے سائے تلے علی نے وہ کہا جو اس روز تو نہیں مگر بعد ازاں سچ ثابت ہوا۔ علی کے اس بیان پر لوگوں کو غیب دانی کا گماں ہوتا ہے۔ اسی سبب، ہر شخص ان کی روحانی طاقت اور امتیاز کا قائل ہے۔
'میرے بیٹو!' انہوں نے اطمینان سے آگے بڑھتے ہوئے کہا، 'تمہارے باپ کا جو دن لکھا ہے، وہ آخر کار آ کر رہے گا۔ جو وقت معین ہے، وہ تیز چلنے سے ٹل تو نہیں جائے گا اور نہ ہی آہستہ چلنے کی وجہ سے وہ وقت جلد آ سکتا ہے۔ تمہارے باپ کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ موت اس کو آن پکڑے یا وہ آگے بڑھ کر موت کو گلے سے دبوچ لے'۔
آج وہ دن نہیں تھا۔ صفین کے میدان میں موت علی کا گلا دبوچنے میں ناکام رہے گی۔ تیسرے روز جو کہ جمعہ کا دن تھا، سورج طلوع ہوا تو علی کا لشکر میدان مار چکا تھا۔ شامی افواج کی صفیں ٹوٹ رہی تھیں اور ان میں بد حواسی پھیل چکی تھی۔ عراقی سست رفتاری سے ہی سہی مگر ان پر قابو پا کر، بھاری نقصان کے باوجود آگے بڑھ رہے تھے۔ اب یہ صرف چند گھنٹوں کا کھیل تھا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ جلد ہی علی کی افواج ، معاویہ کے لشکر پر حتمی فتح حاصل کر لیں گی۔
یہ صورتحال دیکھ کر معاویہ کے معاون عمرو نے انہیں قائل کر لیا کہ جو بازی کسی بھی طرح سے جیتی نہ جا سکتی ہو، اس کو پلٹنے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے۔ عیاری اور چال بازی سے کام لینا چاہیے۔ کہا کہ انہیں، یعنی معاویہ کو چونکہ روحانیت اور پارسائی سے کچھ لینا دینا نہیں تھا تو پھر فکر کی چنداں ضرورت نہیں۔ وہ چاہیں تو ایمان اور الہام ربانی کو دفاع کے لیے بھر پور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ معاویہ جلد ہی مان گئے۔ چنانچہ، میدان جنگ کی بدلتی ہوئی صورتحال کو دیکھتے ہوئے شامی افواج کو حکم جاری ہوا کہ وہ کسی بھی صورت پیچھے نہ ہٹیں۔ ہتھیار ڈالنے کی تو سرے سے کوئی ضرورت نہیں تھی بلکہ قران کے تحریری نسخے جو چرمی کاغذ پر لکھے گئے تھے، میدان جنگ میں لائے گئے۔ ان نسخوں کو معاویہ کے لشکر میں شامل نامی گرامی اور جری گھڑ سواروں میں بانٹ دیا گیا۔ احکامات یہ تھے کہ ہر گھڑ سوار نسخے کا ایک چرمی کاغذ باقی نسخے سے علیحدہ کرے اور اپنی برچھی کی نوک میں پرو کر سیدھا علی کے لشکر میں جا گھسے۔ بجائے یہ کہ معاویہ کی افواج ہتھیار ڈالنے کے روایتی طریقے یا جسے عام طور پر امن کی استدعا کہا جاتا ہے، سفید جھنڈے لہرانے کی بجائے معاویہ اور عمرو کے حکم پر قران لہرائیں گی۔
دنیا بھر میں کوئی ایسا سفید جھنڈا نہیں ہو گا جو برچھیوں کی نوک پر پروئے ہوئے قرانی نسخوں کا مقابلہ کر سکے۔ گھڑ سوار یہ چرمی کاغذ جن پر قرانی آیات تحریر تھیں لہراتے جاتے اور ساتھ ہی اونچی آواز میں پکارتے جاتے کہ، 'اللہ کے لیے لڑائی بند کر دو! تمہیں رب کا واسطہ یہ خوں ریزی بس کر دو! تمہیں قران کی قسم، اس الہامی کلام پر خون کے چھینٹے مت پڑنے دینا! تم مسلمان مرد ہو، اپنے ہتھیار نیچے کر لو!'۔ جہاں دیکھتے کہ عراقی بدستور لڑنے پر آمادہ ہیں، شامی فوجی معاویہ کے بتائے الفاظ دہرانے لگتے، جن کو سنتے ہی خود بخود لڑائی رک جاتی۔ وہ چلاتے، 'اللہ کے لیے! اللہ کے لیے بس کر دو! اللہ کی کتاب، اللہ کا نام کو ہمارے بیچ فیصلہ کر نے دو!'۔
علی یہ دیکھ کر حیرت اور غم و غصے سے دنگ رہ گئے۔ قرانی آیات کو یوں برچھیوں کی تیز دھار نوک پر لہرانا تو دور کی بات، ایسا سوچنا بھی بے حرمتی کے زمرے میں آتا تھا مگر یہاں تو جان بچانے اور دنیا پانے کے لیے لوگ یہ بھی کر گزرے تھے۔ یقیناً علی کی افواج یہی سمجھ رہی تھیں کہ شامی امن کی استدعا کر رہے ہیں۔ وہ منت کر رہے ہیں۔ علی کا خیال تھا کہ جیسا وہ اس فعل سے بد ظن محسوس کر رہے ہیں، ان کی افواج بھی شاید اسے اتنا ہی بد تر عمل سمجھ رہے ہوں گے۔ وہ بھی معاویہ کی چال کو بھانپ چکے ہوں گے، اس کرتب کو اچھی طرح جان چکے ہوں گے۔ 'انہوں نے مقدس کتاب کو یوں اس لیے لہرا رکھا ہے تا کہ تمہیں دھوکہ دے سکیں!' علی اپنے فوجیوں پر چلائے، 'ان کا مقصد تمہیں گھات لگا کر مارنا ہے۔ وہ تمہیں اپنی چال میں پھنسا رہے ہیں!'۔
لیکن اگر علی کے ساتھیوں میں سے آدھوں کو ان کا مدعا سمجھ میں آ رہا تھا تو باقی کے نصف اس چال کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ وہ چلا کر علی کو جواب دینے لگے، 'جب ہمیں اللہ کی کتاب کا نام لے کر واسطہ دیا جائے تو پھر ہمیں اس کا احترام کرنا چاہیے۔ ہم قران کے خلاف تو جنگ نہیں کر سکتے!'۔ فوجی ٹکڑیوں کے سپہ سالاروں کے بار بار حکم کے باوجود بھی ہوا یہ کہ اکثریت نے ہتھیار پھینک دیے اور پیچھے ہٹ گئے۔ فتح سے صرف ایک قدم کی دوری پر علی دیکھتے رہ گئے کہ کس طرح ان کے ہاتھ سے جیت چھین لی گئی۔
'اللہ کی قسم!' علی اپنے فوجیوں پر برس رہے تھے، 'میری بات یاد رکھنا کہ تمہیں بے و قوف بنا دیا گیا'۔ لیکن ظاہر ہے، ایسے موقع پر استدلال کہاں کام کرتا ہے۔ ایمان کے سامنے دلیل کہاں کھڑی رہ سکتی ہے؟ عثمان کے قتل کے موقع پر قرانی نسخوں پر خون کے چھینٹے گرے تھے۔ وہ شبیہ ابھی تک لوگوں کے دل و دماغ میں تازہ تھی۔ وہ کسی بھی صورت دوبارہ ، اسی طرح مقدس کتاب کی یوں بے حرمتی ، یعنی انسانی خون سے آلود کرنے پر راضی نہیں ہوں گے۔
جوں ہی لڑائی تھمی، معاویہ نے فوراً ہی اپنا قاصد دونوں افواج کے بیچ میں لا کھڑا کیا۔ اس پیغام رساں نے لکھا ہوا پیغام اونچی آواز میں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ سن سکیں، پڑھ کر سنایا جس میں یہاں سے آگے بڑھنے کا نیا طریقہ پیش کیا گیا تھا۔ تجویز یہ تھی کہ خلافت سنبھالنے کا جو قضیہ ہے، بجائے یہ کہ انسان، اللہ کو خلیفہ چننے کا اختیار دیا جائے۔ اس کے لیے لڑائی نہیں بلکہ قران سے رجوع کیا جائے۔ دونوں فریقین کو چاہیے کہ اپنے بھروسہ مند نمائندوں کا انتخاب کریں، جو ثالث کا کردار ادا کریں گے۔ وہ مل جل کر، باہمی اتفاق رائے سے اس مسئلے کا حل تجویز کریں گے۔ وہی فیصلہ کریں کہ خلیفہ بننے کا حقدار کون ہے ۔یوں معاویہ نے خود کو باقاعدہ طور نہ صرف خود کو خلافت کے امیدوار کے طور پر نامزد کر دیا بلکہ قران کو بیچ میں لا کر، اسے مذاکرات کا ذریعہ بھی بنا دیا۔ تاریخ میں پہلی بار، قران ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے جا رہا تھا ۔
علی اس دوران قدم قدم پر مات کھاتے جا رہے تھے۔ وہ حیران و پریشان، آنکھیں پھاڑے ، معاویہ کی چالوں کو صرف دیکھ ہی سکتے تھے۔ کم از کم علی کے پاس ان کا کوئی توڑ نہیں تھا۔ وہ صاف صاف دیکھ سکتے تھے کہ معاویہ نے کس طرح صورتحال کو عیاری سے بدل کر رکھ دیا تھا۔ یہ نہایت عجیب بات ہے کہ ایک انتہائی دنیا دار شخص کس طرح عقیدے اور ایمان کو ایک انتہائی روحانیت پسند شخص کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعما ل کر رہا تھا۔ علی کی افواج مضبوطی سے اپنی جگہ پر جم کر کھڑی تھیں اور فوجی کسی بھی طرح سے مزید لڑائی پر آمادہ نہیں تھے۔ کچھ نہ بن پڑا تو علی کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہ رہا کہ وہ ثالثی کی اس تجویز کو مان لیں۔ 'اے لوگو! بھولنا مت کہ میں نے تمہیں اس سے منع کیا تھا' انہوں نے تجویز قبول کرنے سے پہلے اپنے جنگجوؤں سے کہا، 'تم دیکھ لینا کہ اس سے تمہاری قوت جاتی رہے گی، تمہیں ہر طرف سے تباہی ملے گی اور تمہیں وراثت میں پستی اور کم مائیگی ملے گی۔ مجھے تم پر شرم آتی ہے۔ تمہاری مثال اس ڈرپوک اور کم اصل اونٹنی کی طرح ہو گی جو نجاست کے ڈھیر میں گھس کر بیٹھی گلی سڑی کھرچن ڈھونڈتی پھرتی ہے۔ یاد رکھو! تم آج کے بعد پھر کبھی عروج نہیں دیکھ سکو گے!'۔
علی کو مدینہ میں خلیفہ مقرر ہوئے ابھی ایک سال سے بھی کم عرصہ گزرا ہو گا ۔ جنگ جمل کے بعد معاملات کا ہاتھ سے کھسکنے کا احساس رہا ہو گا مگر جنگ صفین میں پیش آنے والے واقعات کے بعد یقین ہو گیا کہ ان کی حکومت زیادہ دیر چل نہیں سکے گی۔ ایک معرکہ تو سر کر لیا تھا، وہ یہ لڑائی بھی تقریباً جیت چکے تھے مگر اب یہاں پیدا ہونے والی صورتحال کے بعد جنگ بتدریج ہار تے چلے جائیں گے۔

صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی اگلی قسط نمبر 11 یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر