اول المسلمین کے بعد - علی - 11

 

صفین سے شکستہ دل فوج علی کے پیچھے پیچھے طویل سفر طے کر کے واپس کوفہ پہنچ گئی۔ کئی لوگ صفین کے میدان میں جنگ کو یوں قرآن کے صدقے اور خدا کے نام پر ثالثی کی صلاح پر منتج ہونے پر اب پہلی بار پشیمان نظر آ رہے تھے ۔  اس میں چھپی مکاری اور چال پر قیاس سے کام لے رہے تھے۔ آہستہ آہستہ ادراک ہو گیا کہ واقعی دغا دیا گیا ہے اور ممکنہ طور پر ان کا ایمان، انہی پر بیچ کر، انہی کے خلاف استعمال کیا گیا۔ وہ لوگ جو میدان جنگ میں قرانی نسخے کے چرمی پارچے نیزوں کی نوک میں پرویا دیکھ کر ایک دم فرط ایمان سے جوش میں آ کر ہتھیار پھینک کر لڑائی سے منکر ہو گئے تھے، تب تو مصالحت پر زور دینے لگے تھے، اب وہی سب سے زیادہ بڑھ چڑھ کر اس ضمن میں تلخی دکھا رہے تھے۔ یہ لوگ کوفہ اور معاویہ اپنے لشکر سمیت واپس دمشق پہنچ چکے تھے۔ چونکہ وہ تو یہاں موجود نہیں تھے جن پر اپنا غصہ اتارتے۔ ان لوگوں نے اپنی تلخی کا سارا ملبہ اس شخص پر گرا دیا جو انہیں صفین کے میدان میں جنگ کرنے لے گیا تھا۔
یہ لوگ علی کو کوسنے لگے کہ انہوں نے عراقیوں کو آخر یہ کس مشکل میں ڈال دیا ہے؟ کہنے لگے کہ زبردستی اس گھن چکر میں پھنسا دیا۔ جلد ہی اس گروہ کی شکل میں علی کے دشمنوں کی فہرست لمبی ہو جائے گی۔ اہم بات یہ تھی کہ اب کی بار دشمن مکہ اور نہ ہی شام بلکہ ان کی اپنی صفوں میں سر اٹھائے گا۔ یہ ایسا دشمن ہو گا جو کسی بھی دوسرے حریف سے کہیں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا تھا۔ وہ اس لیے کہ یہ لوگ باقی مخالفین کی طرح طاقت کے حصول کے لیے نہیں بلکہ نیکو کاری اور پارسائی کی اندھی، غیر لچک دار اور تلخی کی دلیل پر گامزن، تقویٰ کے زعم میں علی کی شدید مخالفت کیا کریں گے۔ انہیں کوئی لالچ نہیں تھی۔ صرف پارسائی کا گھمنڈ تھا۔
اس گروہ کے سربراہ کا نام عبداللہ بن وہب تھا۔ اس نام ، یعنی 'وہب' یا 'وہاب' سے آج اسلامی دنیا کا بچہ بچہ واقف ہے کیونکہ اس سے 'عبد الوہاب' کا خیال آتا ہے جو حالیہ دور میں بنیاد پرست وہابی فرقے کے بانی ہیں۔ آج جدید دنیا میں اس فرقے کی طاقت کا مرکز سعودی عرب ہے اور اسی گروہ کے نظریات دنیا بھر میں سنی شدت پسندی کا موجب ہیں۔ ساتویں صدی کے عبداللہ بن وہب اپنے پیروکاروں کے لیے 'ذو ثفنات' یا قابل تعظیم یا انتہائی پارسا اور متبرک شمار کیے جاتے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ان کا یہ رتبہ 'پیشانی پر محراب' کی وجہ سے مشہور ہو گیا تھا۔ مراد یہ کہ عبادت کے دوران سخت فرش پر کثرت سے ماتھا ٹیکنے کے باعث پیشانی کی جلد سخت اور رنگت گہری ہو گئی تھی۔ یہ نشانی تب اور آج بھی کئی مسلمان علاقوں میں نیک اور متقی لوگوں کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ کئی روایتیں یہ بھی ہیں کہ ان کا یہ نام اس وجہ سے عام ہوا کہ دین کی سربلندی کے لیے لڑی والی جنگوں میں لڑائی کے دوران ایک بازو سے محروم ہو گئے تھے۔ وجہ کوئی بھی رہی ہو، اس نام کے سبب چاروں طرف ان کا دبدبہ اور کثرت عبادت کی وجہ سے دھاک بیٹھ گئی تھی۔
کوفہ پہنچ گئے تو علی نے مسجد میں منبر کی سیڑھیاں چڑھ کر پہلا خطبہ دینا چاہا ۔ ابھی انہوں نے بات شروع بھی نہیں کی تھی کہ وہب نے تنقید شروع کر دی، 'تم نے اور شامیوں نے بے اعتقادی اور تشکک میں ایک دوسرے سے یوں مقابلہ کیا جیسے شرط میں گھوڑے دوڑتے ہیں' پھر اعلان کیا، 'اللہ کا معاویہ اور اس کے حامیوں بارے فیصلہ یہ ہے کہ یا تو وہ توبہ کر لیں ورنہ ان کی سزا قتل ہے۔ اور اے علی! تم نے تو ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے۔ معاہدہ کیا ہے کہ اس قضیے کا فیصلہ آدمی کریں گے؟ تم نے انسانوں کو اللہ کے کلام پر فوقیت دی۔ تمہاری ساری عمر کی نیکو کاری، دو کوڑی کی نہیں رہی۔ تم گمراہ ہو چکے ہو!'۔
وہب کے حامی ان کی پشت پر جمع ہونا شروع ہو گئے اور شور و غل مچانے لگے۔ اونچی آواز میں وہب کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہنے لگے کہ خلیفہ کا منصب کسی ثالثی اور انسانوں کی مجلسوں میں طے نہیں ہوا کرتا۔ اللہ کے پیغمبر کی جانشینی تو رب کی طرف سے عطا ہونے والا حق ہے۔ یہ حق بلا شک و شبہ علی کا تھا مگر علی نے اسے اپنے ہاتھوں سے کھو دیا۔ اب علی بھی معاویہ کی ہی طرح احکامات ربانی کی خلاف ورزی کر رہے ہیں، چنانچہ برابر کے قصور وار ہیں۔ ان دونوں یعنی علی اور معاویہ میں اب کوئی فرق نہیں رہا۔ یہ دونوں ہی خدا کی نظروں میں حقارت اور تنفر کے حق دار ہیں۔ وہ بار بار یہی ایک بات دہراتے رہے، شور بڑھتا گیا اور اس موقع پر ایک نیا نعرہ نکلا۔ یہی نعرہ بعدازاں اس گروہ کا منشور بن جائے گا اور اسی نعرے سے وہ عام لوگوں کو اپنے نظریات کی طرف مائل کیا کریں گے۔ اس دن کوفہ کی مسجد میں پہلی بار بلند ہونے والا نعرہ یہ تھا۔ 'فیصلے کا حق اللہ کا ہے!'، پھر چلاتے، 'صرف اللہ کا!' ۔ آج بھی معمولی رد و بدل کے ساتھ دنیا بھر میں یہ نعرہ کہیں نہ کہیں گونجتا ہی رہتا ہے۔
علی نے جب یہ روش دیکھی تو فوراً ہی جواباً ڈانٹ کر کہا، 'اس میں تو کوئی شک نہیں کہ فیصلہ اللہ کا ہی ہے۔۔۔ صرف اللہ کا ہے۔ تمہارا ہر لفظ سچا ہے مگر تم الفاظ کو یوں کیوں گھما تے، پھراتے کیوں ہو کہ اس کا مطلب غلط نکل رہا ہے؟'۔ علی نے مزید کہا کہ تم لوگوں ہی ہتھیار پھینک کر صفین کے میدان میں مجھے ثالثی پر آمادہ ہونے پر مجبور کیا۔ تب تو تم نے میری ایک نہ سنی، میں کہتا رہا پر تم ٹس سے مس نہ ہوئے ۔ اس دن جس بات پر تم مصر تھے، آج اسی بات پر مجھے ذمہ دار ٹھہرا رہے ہو؟ بدنام کر رہے ہو؟ تم ایسا کیسے کر سکتے ہو؟
لیکن بات یہ ہے کہ جب گناہ گار اپنی غلطی کی اصلاح پر ٹھن جائے تو ایسے شخص کا دلیل اور سمجھ بوجھ سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ وہ بس ہر قیمت، مناسب و غیر مناسب، کسی بھی طرح خود کو گھیر کر پارسائی کے دائرے میں لانا چاہتا ہے۔ اس سر توڑ کوشش میں ہوتا یہ ہے کہ ایسا آدمی جلد ہی اپنی محنت کا اس قدر گرویدہ ہو جاتا ہے کہ خود کو باقی ہر شخص سے کہیں زیادہ نیکو کار اور متقی سمجھنے لگتا ہے اور اپنی اسی دھن میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ 'جب ہم نے ثالثی پر زور دیا تھا' وہب نے جواب دیا، 'ہم گناہ کے مرتکب ہو رہے تھے اور نادانستگی میں کفر کا شکار ہو چکے تھے۔ لیکن اب ہمیں احساس ہو گیا اور ہم اپنی غلطی پر نادم ہیں۔ ہم نے توبہ کر لی ہے۔ تم بھی ایسا ہی کرو تو ہم تمہارا بھر پور ساتھ دیں گے۔ لیکن اگر تم ایسا نہیں کرتے تو جیسا قران میں کہا گیا ہے ویسے ہی ہم بھی تمہاری گمراہی کے سبب ہر طرح کے شخصی امتیاز اور برگزیدہ حیثیت کو رد کرتے ہیں۔ یاد رکھو! خدا کسی بھی طرح غداری ، دغا بازی اور مکر کو پسند نہیں کرتا'۔
وہب نے جوں ہی یہ کہا، مسجد میں لوگ اٹھ کھڑے ہوئے۔ عوام علی کو دین سے غدار قرار دیے جانے پر ہتھے سے اکھڑ رہی تھی۔ یہ دیکھ کر وہب نے کوفہ بھر کو بھی جہالت میں مبتلا قرار دے دیا۔ جہالت یا جہل سے وہب کی مراد اسلام سے پہلے کا دور تھا۔ 'ہمیں یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ میرے بھائیو! اس جگہ کو چھوڑ جاؤ جہاں مکار لوگوں کی بسر ہے' یہ کہہ کر وہب مسجد سے نکل گئے اور پیچھے پیچھے تین ہزار پیروکار بھی شہر سے روانہ ہو گئے۔ یہ لوگ کوفہ سے پچاس میل شمال کی جانب دجلہ کے کنارے، نہروان کے مقام پر اپنے اہل و عیال سمیت ایک نئی بستی بسا لیں گے۔ یہ جگہ وہب کے مطابق پاکیزگی اور بے آلائشی کا گھر ہو گی اور یہاں صرف پارسا اور نیکو کاروں کی، بدعنوان اور گمراہ دنیا سے دور بسر رہا کرے گی۔
اگر اسلام میں بنیاد پرستی کی تاریخ لکھی جائے توبلا شبہ وہب اور ان کے پیروکار سب سے پہلے بنیاد پرست کہلائے جائیں گے۔ یہ گروہ خود کو 'رد کرنے والے' یا 'خوارج' کہلوائیں گے ،جس سے مراد 'خارج ہو جانے والے' یا 'چھوڑ کر چلے جانے والے' ہے۔ وہ اپنے نعرے کے مصداق، اس اصطلاح کا حوالہ بھی خدا، یعنی خدا کے کلام، قران کی نویں سورت کی اس آیت سے اخذ کریں گے جس میں کہا گیا ہے کہ، 'جو لوگ ایمان لائے اور وطن چھوڑ گئے اور خدا کی راہ میں مال اور جان سے جہاد کرتے رہے۔ خدا کے یہاں ان کے درجے بہت بڑے ہیں'۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ قران کی اس سورت کا عنوان بھی 'التوبہ' یا 'توبہ' ہے۔ گویا اس گروہ نے روشن راہ دیکھ لی اور توبہ کر کے سیدھی راہ پر روانہ ہو گئے۔ لیکن ان کا مسئلہ یہ ہو گا کہ اپنی پرانی روش پر بے انتہا شرمسار اور نادم ہوں گے، جس کا کفارہ ادا کرنے کے لیے وہ کچھ بھی کرنے کا عہد کر لیں گے۔ حتی کہ عمل میں شدید کٹر پن کی حد بھی پار کر لیں گے۔ خود کو راہ راست پر رکھنے کی دھن میں یہ لوگ اب زندگی اور معاملات زندگی کی ہر شے کو قران کے ساتھ جوڑ لیں گے اور چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی بات بھی اسی سے منہا کیا کریں گے۔ چونکہ یہ توبہ کے بعد پارسائی اور نیکو کاری کی حدوں کو چھونا چاہتے تھے اس لیے ایک وقت ایسا آئے گا کہ کٹھور پن کی حد تک معاملات دین اور دنیا کو سخت بنا لیں گے کہ اس کی روشنی میں یہ صرف اور صرف خود کو ہی متقی اور راست باز سمجھیں گے۔ کسی دوسرے شخص، گروہ یا قوم کو بالکل بھی خاطر میں نہیں لائیں گے۔ اور جیسا کہ عام طور پر پارسائی اور نیکو کاری کے زعم اور گھمنڈ میں ہوا کرتا ہے، جلد ہی ان کی یہ لگن اور ولولہ بڑھ کر جنون کی شکل اختیار کر لے گا۔ جلد ہی یہ باقی تمام گروہوں کی نظر میں کٹھ ملا یا انتہا پسند وغیرہ مشہور ہو جائیں گے۔
پھر یوں ہوا کہ ہر وہ شے جو خوارج کے طے کردہ معیار سے کمتر یا نا کافی ہوئی، وہ چیز یا فعل بدعت اور ایسا شخص مرتد قرار پائے گا۔ ان کا نظریہ یہ ہو گا کہ ایسی ہر چیز یا شخص کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینا چاہیے کہ مبادا یہ ان کی یا کہیے دنیا میں کسی بھی پارسا یا متقی شخص کی زندگی کو آلود ہ کر سکتا ہے۔ چنانچہ پہلے اگر ان کے یہی خیالات تھے، اب اس ضمن میں عملی اقدامات بھی اٹھانے لگے۔ یہ نہروان اور اس کے مضافات میں واقع دیہاتی علاقوں میں جا بجا عام لوگوں کو جہاں چاہتے، دھر لیتے اور باز پرس شروع ہو جاتی۔ اگر کوئی شخص جوابات یا اپنے افعال میں ان کے طے کردہ دین کے سخت اور بے لچک معیار پر پورا نہ اترتا تو ان کے مطابق 'مجرم' کو مرتد اور اس کے افعال کو بدعت قرار دیا جاتا اور سزا سنائی جاتی۔ سزا عام طور پر وہی ہوتی جو مرتد کے لیے عام تھی، یعنی اس کا 'خون حلال' سمجھتے ہوئے موقع پر ہی موت کے گھاٹ اتار دیتے۔
معاملات یوں ہی چلتے رہے تا آنکہ ان کا سامنا محمدؐ کے ایک دیرینہ ساتھی کے بیٹے سے نہ ہو گیا جو پیشے کے لحاظ سے کسان تھا۔ یہ شخص خوارج کی بنیاد پرستی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ واقعہ یہ ہے کہ وہب کے گروہ سے تعلق رکھنے والے کئی مرد ایک دن اس کسان کے گاؤں میں روزمرہ ضرورت کا مال و اسباب خریدنے پہنچے۔ یہاں ان کا سامنا اس کسان سے ہو گیا اور انہوں نے حسب عادت اس سے باز پرس شروع کی ۔ اس کا حال اور رویہ دیکھ کر اسے سبق سکھانے کی ٹھان لی۔ اس شخص کے والد ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے جنگ جمل کے موقع پر کسی بھی فریق کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ خوارج کی ٹولی نے اسی تناظر میں ایک انتہائی بوجھل اور جذباتی سوال پوچھا، "کیا تمہارے باپ نے تمہیں یہ نہیں بتایا کہ پیغمبر نے خود ان سے کہا تھا، 'ایک زمانہ ایسا آئے گا جس میں فتنہ پھیل جائے گا۔ اس فتنہ پرور دور میں آدمی کا دل اسی طرح مردہ ہو جائے گا جیسے کہ موت کی وجہ سے جسم مر جاتا ہے۔ اگر تم خود کو اس دور میں پاؤ تو بجائے سنگ دل قاتل بننے کے، قتل ہو جانا' کیا انہوں نے ایسا ہی نہیں کہا تھا؟"
اگرچہ کسان خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا مگر پھر بھی نڈر ہو کر جواب دیا کہ بے شک پیغمبر نے اس کے والد سے ہو بہو یہی بات کہی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ ان لوگوں کا ساتھ دینے سے انکار کیا تو ان کی نظر میں وہ بھی غدار اور دغا باز سمجھا جائے گا اور یہ کہ پیغمبر کی کہی اس بات کا بے بنیاد جواز بنا کر یہ اسے قتل بھی کر سکتے ہیں۔ وہ ان کے ارادے بھانپ گیا جو ہر گز نیک نہیں تھے۔ خوارج جوں ہی اسے قابو کرنے کے لیے آگے بڑھے اور تلواریں سونت لیں۔ اس نے اب واقعی دیدہ دلیری کا مظاہرہ کیا اور کہا، 'علی تم سے کہیں زیادہ اللہ کے احکامات اور اس کے رسول کی تعلیمات سے واقف ہے'۔
یہ کہہ کر گویا اس نے اپنی موت کے پروانے پر دستخط ثبت کر دیے۔ خوارج کے نزدیک علی مرتد تھے اور ہر وہ شخص جو کسی مرتد کی حکمرانی یا علمی حیثیت کو قبول کر لے، وہ خود بھی مرتد ہے۔ ایسے شخص کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ سب اس کسان پر بل پڑے اور پکڑ کر ہاتھ پیر باندھ دیے۔ پھر اسے اور اس کی حاملہ بیوی کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے دریا کے کنارے کھجور کے ایک باغ میں لے گئے۔
روایت میں اس کے بعد پیش آنے والے واقعات کی تفصیلات انتہائی واضح انداز میں بیان کی گئی ہیں۔ کہا گیا ہے کہ کھجور کے باغ میں ان کے بیچ یہی کشمکش جاری تھی ۔ ابھی سزا دینے کی تیاری ہو رہی تھی کہ اسی اثناء میں، جس درخت کے نیچے یہ سب جمع تھے، ایک پکی ہوئی کھجور زمین پر گر پڑی۔ خوارج میں سے ایک شخص نے یہ کھجور اٹھا کر منہ میں ڈال دی۔ 'تم نے اس کھجور کے مالک کی مرضی کے بغیر، اس کی قیمت ادا کیے بنا ہی یہ کھجور کھا لی؟' خوارج کی ٹولی کے سربراہ نے اس شخص کو اس حرکت پر ٹوکا۔ 'تھوکو! فوراً تھوکو۔۔۔' تب ہی ایک تیسرا شخص ہاتھ میں ننگی تلوار گھماتے ہوئے آگے بڑھا اور پہلے شخص کو اسی بات پر دھمکانے لگا۔ اس شخص کی پیٹھ پر ایک گائے گھاس چر رہی تھی۔ اچانک ہی یہ گھومتی ہوئی تلوار کی زد میں آ گئی اور اس کی گردن کٹ گئی۔ گائے مر گئی۔ اس پر ٹولی میں شامل سب ہی لوگ ، اس تیسرے شخص کو لعن طعن کرنے لگے۔ اسے کہا کہ وہ فوراً گائے کے مالک کو ڈھونڈ کر لائے اور ان کے سامنے پوری قیمت ادا کرے۔ سب یہیں انتظار کرتے رہے تا آنکہ ان دونوں اشخاص، یعنی کھجور کھانے والے اور گائے کو ہلاک کرنے والے نے مالکان کو ہرجانہ ادا نہیں کر دیا۔ جب کھجور اور گائے کا حساب چکتا ہو گیا ، یعنی یہ کہ پارسائی کا انتہائی ثبوت دے دیا گیا تو پھر یہ دوبارہ کسان اور اس کی بیوی کی طرف متوجہ ہوئے تا کہ اپنی نیکو کاری کا مزید ثبوت دیتے ہوئے ان کے ساتھ بھی انصاف کر سکیں۔ انہوں نے کسان کو گھٹنوں کے بل بٹھا دیا اور اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی بیوی کو قتل کر کے پیٹ چاک کر لیا۔ پیٹ میں سے مرا ہوا بچہ نکالا اور اس کے بھی تلوار آر پار کر دی۔ پھر کسان کا بھی سر قلم کر دیا گیا۔ 'اس کا خون یوں بہہ رہا تھا جیسے چمڑے کا لیس ہوتا ہے'۔ ایک عینی شاہد نے بعد میں قسم اٹھا کر کہا۔ انصاف کے تقاضے پورے کر دیے گئے۔ یعنی کھجور تھوک دی گئی ، گائے کی قیمت بھی ادا ہو گئی اور کسان اپنی بیوی بچے سمیت قتل کر دیا گیا ۔ اس کام سے نبٹ کر انہوں نے اپنی ضرورت کا سامان خریدا اور واپس نہروان کی راہ لی۔
اس ٹولی نے یہ فعل انتہائی سوچ سمجھ کر اور پوری طرح ہوش و حواس میں، اپنے ضمیر اور نیک نیت کو سامنے رکھ کر سر انجام دیا تھا۔ یہاں تک کہ حاملہ بیوی اور اس کے پیٹ میں بچے کو بھی انہوں نے بعد ازاں روایت کیا کہ اللہ کے حکم کے عین مطابق قتل کیا گیا۔ اس کی وجہ یہ بتائی کہ دشمن یا مرتدوں کی عورتیں اور بچے بھی اپنے گمراہ شوہروں اور بھائی ، باپ اور بندوں کے گناہ میں برابر کے شریک ہوتے ہیں۔ وہ ہر گز بے گناہ نہیں ہیں۔ یوں ساتویں صدی عیسوی میں پیش آنے والے اس واقعہ میں اس عمل سے خوارج نے اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک انتہائی دل خراش مثال قائم کر دی۔
اپنے ساتویں صدی کے نقیب، یعنی عبداللہ بن وہب کے نقش راہ پر چلتے ہوئے، عبد الوہاب بھی گیارہ صدی بعد 'ایمان لا کر اور وطن چھوڑ کر' آگے بڑھیں گے اور پیروکاروں کو لیے صحرا عرب کے وسط میں واقع کوہستانی علاقے میں جا کر مستقل سکونت اختیار کر لیں گے۔ یہاں، اس علاقے میں جہاں آج کل جدید شہر ریاض آباد ہے، یہ اپنی فوجی بستی بنا لیں گے۔ اس بستی کے باسیوں کے مطابق وہ تاریکی اور جہالت کے اس دور میں خالص تعلیمات اسلامی پر گامزن ہو کر اس بدعنوانی اور بے دینی کا خاتمہ کرنا چاہتے تھے جو اس دور میں مکہ اور مدینہ میں بھی جاری تھی۔ خوارج کی ہی طرح وہابی بھی، انہی کے نظریات سے متاثر ہو کر، اپنے تئیں پارسائی اور نیکو کاری میں کٹر خیالات کی بنیاد پر صحرا کے طول و عرض میں چھاپہ مار کاروائیوں کا آغاز کر دیں گے۔ انیسویں صدی کے اوائل میں یہ مدینہ میں فاطمہ اور کئی دوسرے لوگوں کے مزارات کو منہدم کر دیں گے۔ یہاں تک کہ محمدؐ کے مزار پر تعمیر کیے گئے مقبرے کو بھی نقصان پہنچے گا۔ ان کے مطابق اس طرح آراستہ اور مزین مقبرے اور مزار بت پرستی کی ایک شکل ہیں۔ وہ اسی پر اکتفا نہیں کریں گے بلکہ عراق کے شہر نجف میں علی اور کربلا کے مقام پر ان کے بیٹے حسین کے مزارات پر قائم مقبروں کو بھی تباہ کر دیں گے۔
وہابیوں کی اسلام کے اصل پیغام کی طرف لوٹ جانے کی چاہ اور اس بابت جوش اور جذبہ بیسویں اور اکیسویں صدی میں بھی کم نہیں ہوا بلکہ اس میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ وہ روز بروز بنیاد پرستی کی نئی حدوں کو چھونے لگے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ ان کا اثر و رسوخ صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہے بلکہ افغانستان میں طالبان تحریک، مصر میں سلفی تحریک اور القاعدہ وغیرہ میں پایا جانے والا جوش و خروش اور جذباتیت میں انہی نظریات کا عمل دخل ہے۔ ان نظریات کے تحت اسلام کے اندر اور باہر، دین کے دشمنان ایک ہی طرح سے خطرناک تصور ہوں گے۔ بلکہ وہ جو اسلام کے اندر ہیں، غیروں کی نسبت زیادہ سخت سزا کے حقدار ہوں گے۔ مثال کے طور پر مصر کے صدر انور سادات کا 1981ء میں قتل، اس کی بہترین مثال ہے۔ وہ یوں کہ اسلامی دنیا میں ہر وہ رہنما جو دشمن کے ساتھ امن قائم کرنا تو دور کی بات، اگر مذاکرات کی بھی جرات کرے گا، بالآخر سب سے بڑا دشمن اور شیطان کا پیروکار کہلائے گا۔ بلکہ صرف ایسا رہنما ہی نہیں بلکہ اس کے پیرو کار، ساتھ کام کرنے والے اور یہاں تک کہ ایسے شخص تھوڑا یا بہت، صرف اتفاق کرنے والے لوگ بھی سخت ترین سزا کے مستحق ہوں گے۔
آج عراقی شیعہ کے یہاں یہ لفظ 'وہابی' ، سنی شدت پسندی کی ہر قسم اور شکل کے لیے بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ وہ اس بابت انتہا پسندوں کی شہریت ، تعلق یا پس منظر کو چنداں خاطر میں نہیں لاتے۔ تب سے آج تک اگر عراق میں جاری خانہ جنگی اور اقتدار کی جنگ کا بغور مشاہدہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ پچھلے تقریباً ڈیڑھ ہزار سال سے شیعہ کی یاداشت میں برتی جانے والی عدم رواداری اور سفاکی ہی چھلکتی ہے جس کے ڈانڈے دجلہ کے کنارے واقع باغ میں پیش آنے والے اس واقعہ سے جا ملتے ہیں جس میں ایک کسان اور اس کی حاملہ بیوی کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق ستم ظریفی تو یہ ہے کہ قاتل اپنے فعل پر مطمئن تھے اور اپنے تئیں نیکو کار اور پارسا بنے پھرتے تھے۔ اس کے ساتھ، شیعہ کو یہ روگ بھی ہے کہ کوفہ میں اس وقت کے منتخب اور حقدار خلیفہ، یعنی علی پر قرآن اور نبوی تعلیمات سے انحراف کا الزام بھی کس طرح، اتنی آسانی سے دھر دیا گیا؟ مزید یہ کہ یہ سب کرنے والے کون تھے؟ الزام تراش وہ ہیں جنہوں نے قران کے ہی نام پر خلیفہ کو ہتھیار پھینکنے پر مجبور کیا تھا؟
علی کے نزدیک کھجور کے باغ میں پیش آنے والا واقعہ صرف احکامات خداوندی کی توہین نہیں بلکہ اس سے بھی کہیں بڑا جرم تھا۔ اطلاع ملتے ہی انہوں نے وہب کو پیغام بھیجا۔ پیغام میں قاتلوں کی حوالگی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ لکھا، "جیسا کہ قرآن میں درج ہے، 'بے شک یہ صریح فسق و فجور ہے' اللہ کی قسم اگر تم نے ایک چوزے کو بھی اس طرح قتل کیا ہے تو اس کی جان کی قیمت اللہ کے یہاں بہت بڑی ہے۔ پھر ایک انسان کی جان کی قیمت، جس کے قتل سے اللہ نے منع کر رکھا ہے، تم اس کی قدر اور قیمت کا خود ہی اندازہ لگا لو'۔
وہب نے جواب دیا، ،'ہم سب ہی ان کے قاتل ہیں۔ اور ہم سب ہی کہتے ہیں کہ اے علی، تمہارا خون حلال ہے'۔
یہ کھلم کھلا جنگ کا اعلان تھا۔ ان الفاظ میں سموئی ہوئی ہیبت اور سفاکی آج بھی دنیا بھر میں، جو مسلمان سنتا ہے، اس کا خون خشک کر دیتی ہے۔ یہ الفاظ کہیں اور نہیں بلکہ تقوی اور راست بازی کی کٹر دھن میں سے نکلے ہیں۔ یہ ان لوگوں کے الفاظ ہیں جو نیکو کاری اور تقویٰ کی انتہا چاہتے تھے مگر کس قدر آسانی سے، بغیر کسی مجبوری اور زبردستی کے خدا کے نام پر قتل بھی کر لیتے ہیں۔ پھر، اپنے اس عمل پر مطمئن بھی ہیں؟ خلافت سنبھالنے کے بعد، یہ تیسرا موقع تھا کہ علی مرتے کیا نہ کرتے کے مصداق، ایک بار پھر اسی راستے پر چل پڑیں گے جس کو وہ ہمیشہ سے حقارت کے لائق سمجھتے آئے تھے۔ وہ ایک مسلمان فوج لیے دوسرے مسلمانوں پر چڑھائی کے لیے نکل پڑیں گے۔
جب علی کی افواج نہروان پہنچیں تو مزید وقت ضائع کیے بغیر، سیدھا ہلا بول دیا۔ یہ مہم انتہائی سبک انداز میں، خون ریزی کی پرواہ کیے بغیر انتہائی سرعت سے نبٹا لی گئی۔ علی کی افواج کے مقابلے میں خوارج کی تعداد بہت کم تھی۔ اس کے باوجود، انہوں نے اپنی جان اور مال کی پرواہ کیے بغیر جنگ لڑی اور ظاہر ہے، بری طرح پسپا ہوئے۔ روایت میں لکھا ہے کہ جنگ کا آغاز ہوا تو خوارج ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھانے کے لیے دہاڑ کر نعرے بلند کرتے ہوئے آگے بڑھے، 'سچائی نے ہمارے لیے اپنا آپ دکھا دیا ہے۔ خدا سے ملنے کی تیاری کرو۔ ٹوٹ پڑو!'۔
اس روز بلند ہونے والا یہ نعرہ، آگے چل کر کئی ہیبت نا ک جنگجوؤں اور آج اکیسویں صدی میں خود کش حملہ آوروں کے لیے فال کی طرح شگون بن جائے گا۔ یہ نعرے کہ، 'جنت پانے کی جلدی اور خدا سے شوق ملاقات!' وغیرہ آج سننے میں عام مل جاتے ہیں۔
خیر، خوارج میں سے صرف چار سو افراد ہی زندہ بچ پائے۔ حالانکہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ علی کے حق میں بہتر یہی ہوتا اگر وہ اس روز کسی کو زندہ نہ چھوڑتے۔ اس دن وہب کے نظریات کو دو ہزار شہداء مل گئے اور جیسا کہ عام طور پر شہداء کے ساتھ ہوتا ہے، ان کی شہادت کی یاد تحریک کے لیے مشعل راہ بن جاتی ہے اور نئے لوگ اس قافلے میں شامل ہوتے رہتے ہیں۔
وہ شخص جس نے فتنے سے بچنے کے لیے کیا کچھ قربان نہیں کیا تھا، اب یہ حال ہو گیا کہ وہ خانہ جنگی میں گھر کر تین خونخوار جنگیں لڑ چکا تھا۔ تینوں جنگوں میں اسے فتح حاصل ہوئی تھی یا کہیے کہ اگر صفین کے میدان میں ان کے آدمی پیچھے نہ ہٹتے تو فتح یاب ہوتے ۔لیکن ذاتی طور پر وہ اس کے باوجود روز بروز اندر ہی اندر بڑھتی ہوئی خود سے نفرت اور کراہت سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔ کیا انہوں نے پچیس سال اس سب کے لیے انتظار کیا تھا؟ بجائے یہ کہ وہ اسلام کو نئی بلندیوں سے سرفراز کرتے، اتحاد اور یگانگت کی نئی تاریخ رقم ہوتی۔ بجائے اس کے، یہاں تو مسلمانوں کا قتل عام ہی رکنے میں نہیں آ رہا؟ آخر یہ کیسا امتحان ہے؟
'جب سے میں خلیفہ بنا ہوں' وہ اپنے ایک ہمزاد سے کہنے لگے، 'معاملات مسلسل میرے خلاف ہی جا رہے ہیں اور میں کمتر ہو کر رہ گیا ہوں' اگر بدعنوانی ، ظلم و ستم اور جبر کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ضروری نہ ہوتا تو 'اللہ کی قسم، میں قیادت کی باگ ڈور چھوڑ دیتا۔ اس دنیا سے اب مجھے کراہت آتی ہے ۔ ایسی ہی گھن آتی ہے جیسی بکری کی ناک میں چربی کے ذائقے میں باس سے آیا کرتی ہے'۔
معاویہ بدستور علی کے خلاف متحرک تھے۔ چنانچہ علی کا یہ خیال کہ روز بروز ان کا حال بد تر ہوتا جا رہا ہے، آگے چل کر بدترین ہو جائے گا۔ جو معاویہ کا طریقہ تھا، وہ اسی پر گامزن رہتے ہوئے ہر موڑ پر علی کی جڑیں کھودنے میں مصروف تھے۔ 'صفین کے بعد۔۔۔' معاویہ نے کافی عرصہ بعد انتہائی اطمینان سے کہا، 'میں نے علی پر یہ جنگ بغیر کسی لشکر اور مشقت کے بھی مسلط کیے رکھی'۔
ثالثی اور تحکیم کا جو معاہدہ صفین میں طے پایا تھا، اس پر عمل در آمد کرنے میں تقریباً ایک سال کا عرصہ لگ گیا۔ کئی سفارتی اور سیاسی تیاریاں تھیں، جو مکمل کی گئیں۔ کئی عوامل اور رکاوٹیں دور کی گئیں۔ جیسے مذاکرات کا ایجنڈا کیا ہو گا؟ دونوں طرف سے وفود میں کون شامل ہو گا؟ یا وفود میں کون شامل نہیں ہو سکتا؟ وفود میں اراکین کی تعداد کیا ہو گی؟ مذاکرات کا دورانیہ کیا ہو گا؟ اس ضمن میں کون سا طریقہ بہتر رہے گا؟ مذاکرات بند دروازے کے پیچھے ہوں گے یا اس کے لیے عوامی کچہری لگائی جائے گی؟ جہاں بھی ہوں، ادوار کا طریقہ کار کیا ہو گا؟ مذاکرات منعقد کہاں کیے جائیں؟ بالآخر فیصلہ ہوا کہ کوفہ اور دمشق کے وسط میں ایک چھوٹے سے قصبے میں یہ سب ہو گا۔ اتنی تیاری کے باوجود بھی جب دونوں وفود جمع ہوئے اور بات چیت میں بھی ہر طرح کے تقاضے پورے کیے گئے لیکن اس مشق کا نتیجہ انتہائی تلخ بر آمد ہوا۔
ہوا یہ کہ معاویہ کی نمائندگی ان کے مشیر خاص اور نائب عمرو کر رہے تھے۔ عمرو نے پہلے پہل اسلام کے لیے مصر فتح کیا تھا اور جلد ہی اپنی خدمات کے صلے میں یہاں کے گورنر مقرر کر دیے جائیں گے۔ علی نے اس موقع پر نمائندگی کے لیے اپنے نائب کو بھجوانا چاہتے تھے۔ یہ وہی جرنیل ہیں جنہوں نے شروع دنوں میں بخوشی معاویہ سے نبٹنے کی حامی بھری تھی کہ، 'میں اسے وہاں چھوڑ کر آؤں گا جہاں اسے آگے اور نہ پیچھے کا رستہ سجھائی دے گا'۔ لیکن علی کے مشیروں نے مشورہ دیا کہ وہ اس جرنیل کی بجائے ابو موسیٰ کو موقع دیں۔ ابو موسیٰ وہ ہیں جنہوں نے جنگ جمل سے پہلے لوگوں کو فتنے سے خبردار کرتے ہوئے تلواروں کو واپس میان میں رکھ کر نیزوں کو پیچھے سرکانے اور کمانوں کو ڈھیلی کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ، 'فتنہ معاشرے کو السر کی طرح گلا کر رکھ دیتا ہے' اور اب جب یہ السر واقعی گلانے اور سڑانے میں لگا ہوا تھا، لوگوں کو ان کی کہی باتیں رہ رہ کر یاد آ رہی تھیں۔ یہ ضرور تھا کہ وہ لوگ جو ابو موسیٰ کو نمائندگی کا موقع دینے کے حق میں تھے، اچھی طرح واقف تھے کہ وہ 'تلوار اور زبان کے وار سہنے میں ہلکے تھے' ، یعنی وہ اپنی عمر کی زیادتی اور طبیعت کی وجہ سے با آسانی تیز طرار لوگوں کی باتوں میں آ جاتے تھے مگر یہ بھی تو تھا کہ یہ ابو موسیٰ ہی تھے جنہوں نے، 'ہمیں اس اندھے کنوئیں میں گرنے سے پہلے خبردار کیا تھا'۔ تب وہ جانتے تھے کہ ہم کنوئیں میں گر رہے ہیں، اب شاید کیا خبر، وہ ہمیں اس اندھیرے سے نکال بھی لیں؟ چنانچہ یہ لوگ کسی بھی طرح کسی دوسرے شخص کو بھجوانے پر راضی نہ ہوئے۔
یہ مجلس خاص دو ہفتوں تک جاری رہی ۔ مذاکرات کے کئی طویل ادوار خدا خدا کر کے تمام ہوئے تو آخر میں ابو موسیٰ اور عمرو مشترکہ بیان جاری کرنے کے لیے باہر نکلے۔ جیسا کہ ابو موسیٰ نے سمجھا تھا، انہوں نے کہا کہ یہ بہترین حل ہے۔ حل یہ ہے کہ ایک شوریٰ منعقد کی جائے گی جو علی کی خلافت اور معاویہ کی بطور گورنر شام توثیق کر دے گی۔ ابو موسیٰ نے یہی اعلان سینکڑوں لوگوں کے سامنے دہرا دیا جو اس وقت ، کئی دنوں سے مذاکرات کے نتائج کا اعلان سننے کے لیے پڑاؤ ڈال کر بیٹھے تھے۔ یہیں پر آ کر معاملات بگڑ گئے۔
وہ یوں کہ جب عمرو اپنی باری آنے پر معاویہ کی طرف سے سمجھوتے کا اعلان کرنے کے لیے پنڈال میں آئے تو بجائے یہ کہ وہ ابو موسیٰ کی بات کی تصدیق کرتے، انہوں نے ابو موسیٰ کے بارے کہا کہ شاید وہ عمر کی زیادتی کی وجہ سے سمجھ نہیں پائے۔ پھر درستگی کے انداز میں کہا کہ در اصل وہ اور ابو موسیٰ اس بات پر تو بالکل متفق ہوئے ہیں کہ شوریٰ منعقد کی جائے گی۔ لیکن اس شوریٰ کا مقصد علی نہیں بلکہ ان کے حریف کو خلیفہ مقرر کرنا ہے۔ عمرو نے اپنے خطاب کو سمیٹتے ہوئے کہا، 'اب میں معاویہ کی بطور خلیفہ تقرری کی توثیق کرتا ہوں۔ وہ عثمان کے جانشین اور ان کے خون کے بدلہ جو ہیں'۔
یہ سنتے ہی چاروں طرف کھلبلی مچ گئی ۔ لوگ گالم گلوچ کرنے لگے اور ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ ہجوم اتنا مشتعل ہو گیا کہ انہوں نے پنڈال کو اکھاڑ پھینکا اور اس قدر ہنگامہ ہوا کہ حالات جہاں تھے، وہیں واپس پہنچ گئے۔ بلکہ اس سے بھی بدتر ہو گئے۔ ابو موسیٰ موقع سے نکل کر فوراً ہی مکہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔ اس دن کے بعد انہوں نے مایوس ہو کر ہر طرح کے ریاستی معاملات سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور اپنی عمر کا آخری وقت عبادت اور گوشہ نشینی میں بسر کیا۔ انہوں نے مکہ میں ہی وفات پائی اور یہیں دفن ہوئے۔ دوسری طرف عمرو واپس دمشق چلے گئے ، جہاں معاویہ کو خلیفہ مقرر کرنے اور رسمی طور پر بیعت کے امور میں مشغول ہو گئے۔
658ء میں پہلی بار اسلامی دنیا کے دو خلفاء تھے۔ بلکہ کہیے، ایک خلیفہ تھا اور دوسرا اس کا مد مقابل خلیفہ تھا۔ مگر پتہ نہیں چلتا تھا کہ ان میں سے کون خلیفہ اور کونسا خلیفہ کا مد مقابل ہے؟
آنے والے دنوں میں علی کے لیے خلافت پر گرفت قائم رکھنا تو دور، اس کے امکانات کا دفاع کرنا بھی مشکل ہو جائے گا۔ چونکہ وہ اصولوں پر سمجھوتے پر راضی نہیں ہوں گے اور محصولات کے معاملے میں تو ہر گز لچک نہیں دکھائیں گے، اس لیے دیکھتے ہی دیکھتے پشت سے لگ جائیں گے۔
اشرافیہ میں اثر و رسوخ رکھنے والے امراء اور قبائلی سردار حسب رواج ، اپنے رتبے اور حیثیت کی وجہ سے برتر سلوک اور امتیاز کے عادی تھے۔ ظاہر ہے، اگر ان میں اور عام لوگوں میں تفریق باقی نہ رہے، یا اس تفریق کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے تو وہ قطعاً ایسے نظام یا معاشرے کا حصہ بننا پسند نہیں کریں گے۔ ایسے لوگ دوسری راہیں دیکھنے لگتے ہیں اور حربے تلاشتے ہیں جس میں ان کا رتبہ اور اکڑ خانی قائم رہے۔ معاویہ ان کی اسی عادات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کے لیے 'شہد میں تولنے' کی اصطلاح استعمال کیا کرتے تھے۔ یعنی یہ کہ اگر علی کے یہاں ان امراء کی دوسرے لوگوں کی نسبت امتیازی حیثیت برقرار نہیں رہتی تو معاویہ ان کی یہ ضرورت پوری کر سکتے تھے۔ اگر علی بدستور اپنے فلسفہ مساوات پر اڑے ہیں تو کیا ہوا؟ معاویہ کو تو ایسا کوئی بھی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ یہاں تک کہ ایسا بھی ہوا کہ جب برابری کے نئے قوانین کے تحت علی کے ایک ہمزاد کے نام جاری خصوصی وظیفہ بند کر دیا گیا تو اسے جلد ہی معاویہ نے پہلے سے بھی کہیں زیادہ مال اور دولت دے کر اپنے ساتھ ملا لیا۔
یہ صرف ایک پہلو تھا۔ 'شہد میں تولنے' کی حکمت عملی کے کئی دوسرے فوائد بھی تھے۔ مثال کے طور پر معاویہ کافی عرصے سے مصر پر نظریں جمائے ہوئے تھے۔ ان دنوں یہاں کے گورنر محمد ابو بکر ہوا کرتے تھے۔ یہ عائشہ کے سوتیلے بھائی اور علی کے لے پالک بیٹے تھے۔ یہ وہی ہیں جنہوں نے پہلے مدینہ اور پھر عثمان کے محل کا گھیراؤ کیا تھا اور بعد ازاں عثمان کو قتل کرنے والی ٹولی کے سرغنہ بھی تھے۔ علی کے خلیفہ مقرر ہوتے ہی محمد ابو بکر کو مصر کا گورنر مقرر کیا گیا تھا مگر ابھی تک وہ اس صوبے کے انتہائی کمزور حاکم ثابت ہوئے تھے۔ خود علی کہا کرتے تھے کہ محمد ابو بکر 'نادان اور نا تجربہ کار جوان لونڈا' ہے۔ جب علی کو اطلاع ملی کہ معاویہ نے عمرو کو مصر پر قبضہ کرنے کے لیے روانہ کر دیا ہے تو انہوں نے اپنے سب سے تجربہ کار جرنیل کو راستہ روکنے کے لیے مصر کی شمالی سرحدوں کے دفاع کے لیے روانہ کیا۔ یہ جرنیل اپنے آدمیوں کو لیے کشتی پر سوار ہو کر سمندر کے راستے روانہ ہوا کیونکہ راستے میں فلسطین پڑتا تھا، جہاں معاویہ کا راج تھا۔ مقصد یہ تھا کہ یہ زمینی راستہ ترک کر کے معاویہ کے حمایتیوں اور جاسوسوں کی بچھائی رکاوٹوں سے بچا جا سکے۔ لیکن یہ خیال خام ثابت ہوا۔ ہوا یہ کہ جب مصر میں بندر گاہ پر کشتی لنگر انداز ہوئی تو جرنیل کے استقبال کے لیے صوبے کے حکام میں سے ایک چیدہ افسر حاضر تھا۔ اس نے ان کی خوب آؤ بھگت کی اور پر پتاک استقبال کیا گیا۔ مگر پس پردہ یہ تھا کہ اس شخص کو معاویہ نے پہلے ہی 'شہد میں تول کر' اپنے ساتھ ملا رکھا تھا، یعنی یہ بک چکا تھا۔ اس نے جرنیل کو رواج کے مطابق مہمان نوازی کے طور پر شہد سے تیار کردہ مشروب پیش کیا۔
شہد سے تیار کردہ اس مشروب میں زہر ملا ہوا تھا۔ شربت نوش کرنے کے بعد چند گھنٹوں میں ہی جرنیل کی موت واقع ہو گئی۔ بعد ازاں عمرو اس واقعہ کو یاد کر کے کہا کریں گے کہ، 'معاویہ کی تو شہد میں بھی فوجیں ہوا کرتی ہیں'۔
کہا جاتا ہے کہ جنگ میں زہر کا استعمال سورمانہ ہتھیار نہیں ہوتا۔ یہ خاموش قاتل ہے جو چن کر مارتا ہے۔ یعنی یہ کہ جنگیں تو کھلم کھلا، منہ در منہ لڑی جاتی ہیں، زہر سے یوں چوری چھپے وار کرنا، کسی بھی طرح سے بہادری نہیں ہے۔ لیکن، معاویہ کو جنگجوئی اور بہادری کی ان الف لیلویٰ داستانوں سے کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی انہیں کہاوتوں سے کوئی فرق پڑتا تھا۔ وہ زہر کو بہترین ہتھیار قرار دیتے تھے۔
معاویہ کے ذاتی معالج کا نام ابن اثال تھا۔ یہ ایک مشہور و معروف عیسائی کیمیا داں اور دوا ساز بھی تھا ۔ اسے زہر بنانے کے فن میں استاد مانا جاتا ہے۔ صرف ابن اثال ہی نہیں بلکہ اس کا عیسائی شاگرد، ابن الحکم بھی ایسا ہی فن مولا گزرا ہے۔ ان دونوں کا تاریخی ریکارڈ اب عام نہیں ملتا لیکن نویں صدی میں بغداد سے تعلق رکھنے والے کیمیا دان، ابن وحشیہ نے اپنی زہر کے علوم سے متعلق شہرہ آفاق کتاب، جو اس نے اپنے بیٹے کے لیے حوالے کے طور پر لکھ رکھی تھی، اس میں ابن اثال اور اس کے شاگرد ابن الحکم کا حال، علم اور کارنامے تفصیل سے درج کر رکھے ہیں۔
ابن وحشیہ کی اس شعبے میں خدمات اور تحقیق حیاتیات اور کیمیا کے علم پر مبنی ہے لیکن اس علمی مواد میں جا بجا توہمات کا تڑکا بھی نظر آتا ہے۔ اس کے باوجود یہ علوم آنے والی صدیوں میں مزید تحقیق اور تکنیک کے لیے حوالے کے طور پر استعمال ہوتے رہیں گے، بلکہ کئی نسخے تو ایسے ہیں جن پر آج بھی کام جاری ہے۔ ان میں کچھ تو نہایت عجیب و غریب ٹوٹکے ہیں۔ مثلاً ایک حصہ ایسا بھی ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ آواز کو بطور زہر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ بعض آوازوں میں یہ قدرت ہوتی ہے کہ مخصوص مواقع اور کیفیات میں ان کے درست استعمال سے کسی بھی شخص کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت صلب کی جا سکتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں آواز کے بارے یہی مانا جاتا تھا اور حوئب کے چشمے پر، ان مخصوص حالات میں عائشہ کا یک دم ہی کتوں کے مسلسل بھونکنے کی آواز پر پہلے پریشانی، پھر ہیجان اور آخر میں دہشت اس کی بہترین مثال قرار دی جاتی ہے۔ یہ تو آواز کا قصہ تھا۔ ابن وحشیہ کے مطابق ابن اثل اور ابن الحکم کی تحقیق کے مطابق زہر کی کئی اقسام ایسی ہیں جنہیں بنانے کے لیے سانپوں، بچھوں اور رتبل مکڑیوں کے سر، دھڑ یا ان سے بنے سیا ل اور رطوبتیں استعمال میں لائی جاتی تھیں۔ ہم جانتے ہیں کہ سانپ وغیرہ تو زہریلے ہوتے ہی ہیں مگر کئی ایسے زہر بھی ہیں جن میں بے ضرر جانوروں کے جسمانی اعضاء اور جسم سے خارج شدہ مادے مصرف میں لائے جاتے ہیں۔ اس زمانے میں وہ زہر جو عام ملتے تھے، زیادہ تر کا تعلق خوراک سے ہوتا تھا۔ گلی سڑی خوراک میں پائے جانے والے جرثوموں، جس کا اس زمانے میں لوگوں کو ادراک نہیں تھا مگر پھر بھی ، بقول ابن وحشیہ اس 'سڑانڈ' کی مدد سے ہدف کو زہر نابی یا کلمگی جیسی بیماریوں میں مبتلا کیا سکتا تھا۔ زہر کی ایک قسم ایسی تھی جسے ضعیف اونٹنی کے خون سے تیار کیا جاتا تھا۔ نحیف اور انتہائی لاغر اونٹنی کے خون کو اسی کے عمر رسیدہ پتے کی رطوبت میں کوٹ لیا جاتا تھا۔ پھر اس پر جنگلی پیاز کے رس اور سال آمونیک (امونیم کلورائد) کا چھڑکاؤ کر کے تقریباً ایک مہینے کے لیے گدھے یا گھوڑے کی لید میں دبا دیا جاتا۔ یہاں تک کہ یہ 'باسی ہو جاتی اور اس پر پھپھوندی لگ جاتی اور اس کے اوپر مکڑی کے جالے جیسے مواد کی تہہ چڑھ جاتی'۔ کھانے یا پینے کی اشیاء میں اس زہر کی تھوڑی سی مقدار، تقریباً دو گرام بھی کسی شخص کو تین دن کے اندر شرطیہ ہلاک کر سکتی تھی۔
اگر کوئی چاہتا کہ مرگ میں دیر نہ ہو تو پھر اس کے لیے سب سے بہترین زہر گلی ہوئی خوبانی سے کشید کردہ سایانائڈ کا زہر ہوا کرتا تھا۔ گلی سڑی خوبانیوں سے کشید کردہ اس زہر کو بادام کی گریوں میں پیس کر کھجور کی شربت یا بکری کے دودھ میں ملا دیا جاتا اور پھر شہد سے گاڑھے کیے ہوئے اس مشروب کو پیتے ہی گھنٹوں کے اندر موت واقع ہو جاتی۔ پھر کئی دوسرے ایسے زہر تھے جو نباتات اور جنگلی بوٹیوں سے تیار کیے جاتے۔ ان میں سب سے مشہور پہاڑی بھنگ اور جنگلی مکو /بیر سے کشید کیے جاتے تھے۔ اچھا، ایک زہریلا پودا ہوتا ہے۔ اس کو ناگ پھنی کہا جاتا ہے۔ اس پودے کی ڈال سے نکالا ہوا زہر تو بڑی مقدار میں تیار کیا جاتا تھا اور اس کی مانگ بھی بہت تھی۔ یہ زہر عام طور پر خنجر یا تلوار کی دھار پر مل دیا جاتا اور دوران لڑائی اگر اس زہر سے تر کیا ہوا ہتھیار استعمال کیا جاتا، یعنی کاٹ لگتے ہی زہر فوراً ہی خون میں سرایت کر کے جسم میں دوڑنے لگتا اور ہدف آنکھوں کے سامنے، منٹوں کے اندر غش کھا کر گرتا اور منہ سے جھاگ بہاتے وہیں مر جاتا۔ ساتویں صدی عیسوی کے اواخر میں دمشق کے کیمیا دانوں نے ایک ایسا زہر بنا لیا تھا جسے بوجوہ 'ترکے کا سفوف' کہا جاتا تھا۔ اس زہر کو بنانے میں شفاف سنکھیا کا عنصر استعمال ہوتا تھا جو بے ذائقہ اور بے بو ہوا کرتا تھا اور اس کا سراغ بھی نہیں ملتا تھا۔ اس کا نام ترکے یا وراثت سے اس لیے جوڑا جاتا تھا کہ یہ زہر عام طور پر وہ لوگ استعمال میں لاتے تھے جو وراثت یا جائیداد کے معاملات میں گھرے، مال ہتھیانے کے چکر میں اپنے قریبی عزیزوں کو وقت سے پہلے دنیا سے رخصت کرنے کے خواہاں ہوتے تھے۔ ایسے لوگوں کو کسی ایسے طریقے کی تلاش رہتی تھی جس میں کسی بھی طرح سے قتل یا غیر قدرتی طریقے سے موت جیسے زہر کا سراغ نہ ملتا ہو۔
اگر ہاتھ میں اس طرح کے کاری ہتھیار، سمجھدار کیمیا دان اور زہر کے سلاح خانے ہوں تو پھر ہم سمجھ سکتے ہیں کہ معاویہ کے لیے علی کے خلاف افواج کے بغیر بھی جنگ مسلط رکھنا کس قدر آسان رہا ہو گا۔ 'شہد' اور 'شہد میں تول' ان کے لیے خوب کار آمد ثابت ہو رہا تھا ۔ یعنی یہ کہ چاہے زہر ملے شہد کا استعمال ہو یا اہم لوگوں کو خرید کر مقصد پورا ہوتا ہو، وہ اپنا کام بدستور جاری رکھے ہوئے تھے۔
شامی فوج نے مصر پر باآسانی قبضہ کر لیا۔ محمد ابو بکر نے جرنیل کی یک دم ہلاکت کے بعد سرحدوں کے دفاع کے لیے ایک فوجی ٹکڑی روانہ کی مگر یہ معاویہ کی فوج کے سامنے ریت کی دیوار ثابت ہوئے۔ انہیں چند گھنٹوں کے اندر ہی زیر کر لیا گیا۔ باقی افواج، محمد ابو بکر کی غیرموثر اور بے کار حکمرانی سے پہلے ہی تنگ آ چکی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے، ان کے اکثر جنگجو ساتھ چھوڑ کر فرار ہو گئے اور زیادہ تر معاویہ کے ساتھ جا ملے۔ خود محمد بن ابو بکر کا انجام یہ ہوا کہ فرار ہوئے تو پیچھا کر کے گرفتار کر لیا گیا۔ اس وقت وہ صحرا کے بیچوں بیچ ایک انتہائی سخت گرم اور ریتلے علاقے میں زخموں اور پیاس سے نڈھال، شدید گرمی میں نیم مردہ حالت میں پائے گئے۔ شامی فوجیوں کے ہاتھ عثمان کے قاتلوں کے گروہ کا سرغنہ آ گیا تھا۔ باوجود یہ کہ زندہ گرفتاری کے احکامات تھے لیکن ان فوجیوں نے کسی بھی حکم کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے محمد ابو بکر کو پکڑ کر ایک گدھے کی لاش، یعنی کارکس میں باندھ کر رسیوں سے سی دیا اور پھر اس کو آگ لگا دی۔ بعض روایات میں درج ہے کہ محمد بن ابو بکر کی سوزش سے پہلے ہی موت واقع ہو چکی تھی۔ کئی روایات میں زندہ جلانے کی اطلاع بھی ملتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ علی اس خبر پر سخت گھبرا گئے اور روایت میں ان کا حال 'مخبوط الحواس' جیسا بیان کیا گیا ہے۔ عائشہ کی حالت بھی علی سے مختلف نہ تھی۔ اگرچہ وہ کبھی بھی اپنے سوتیلے بھائی کے زیادہ قریب نہیں رہیں مگر پھر بھی انہوں نے ماتم کافی عرصے تک جاری رکھا۔ وہ ماتم کرتیں تو اکثر پیغمبر کی دوسری بیوہ، یعنی معاویہ کی بہن ام حبیبہ کو منہ پر کوسنے دیتیں۔ جس پر ام حبیبہ خاصی چہ بہ جبیں رہا کرتیں۔ چنانچہ انہوں نے غصے میں جواب یوں دیا کہ عائشہ کے یہاں بھیڑ کی ادھ جلی سالم ٹانگ بھجوائی جس سے تازہ خون رس رہا تھا۔ ساتھ پیغام بھی بھجوایا کہ 'تمہارے بھائی کو اسی طرح بھون دیا تھا'۔ عائشہ نے جب خون سے نچڑتی ہوئی میمنے کی سڑی ہوئی ٹانگ دیکھی تو ان کا دل خراب ہو گیا۔ وہ کافی دیر تک قے کرتی رہیں اور بعد ازاں وہ خود کہا کرتی تھیں کہ اس دن کے بعد انہوں نے دوبارہ کبھی گوشت کو ہاتھ بھی نہیں لگایا۔
علی کے ہاتھ سے مصر نکل چکا تھا مگر اس کے باوجود چاروں طرف سے حملے متواتر جاری تھے۔ خوارج ایک دفعہ پھر سر اٹھا رہے تھے اور اب کی بار ہزاروں کی تعداد میں لوگ ان کے ساتھ شامل ہو رہے تھے۔ صرف عراق ہی نہیں بلکہ فارس میں بھی خوارج کے حامیوں کی ایک کثیر تعداد جمع ہو چکی تھی جنہوں نے علی کے مقرر کردہ گورنروں کو ٹیکس یعنی زکوۃ ادا کرنے سے انکار دیا تھا۔ گورنر یہ سارا مال جمع کر کے کوفہ بھجوایا کرتے تھے۔ شامی فوج کی ٹکڑیاں اب نڈر ہو کر عراقی حدود میں داخل ہو کر حملے کر رہی تھیں۔ یہاں کی آبادیوں میں ہراس پھیل رہا تھا اور انہیں جان اور مال کی حفاظت کے مسائل کا سامنا تھا۔ عام لوگوں میں یہ خیال عام ہو گیا کہ علی کے لیے تحفظ فراہم کرنا تو دور کی بات، وہ تو بنیادی نظم و ضبط برقرار رکھنے میں بھی بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ عراق اور فارس ہی نہیں بلکہ حجاز اور عرب کے صحرا میں بھی جا بجا یورش شروع ہو چکی تھی اور کئی حملوں کی خبریں ملی تھیں۔ معاویہ نے دمشق میں رہتے ہوئے یمن کے دور دراز علاقوں میں بھی اپنی تعزیزی فوج بھجوائی تھی جنہوں نے بشمول مکہ اور مدینہ، چن چن کر علی کے ہزارہا حامیوں کو راستے سے ہٹانا شروع کر دیا۔ علی اب اپنی آزمودہ افواج کو حرکت میں لانے سے قاصر تھے، بلکہ بری طرح ناکام ہو چکے تھے۔ خانہ جنگی کی کبھی نہ ختم ہونے والی لہر کے احساس سے یہ لشکری بھی کیا کرتے، سخت مایوس ہو چکے تھے ۔ اب یہ مزید کسی بھی طرح سے حرکت کرنے سے معذور تھے ۔ روایت میں علی کی افواج میں شامل رہنے والے جنگجوؤں کے بیانات کچھ اس طرح رقم ہیں کہ مثلاً، 'ہمارے تیر اب تھک چکے تھے' اور 'ہماری تلواریں کند ہو چکی تھی اور ہمارے نیزوں میں جان باقی نہیں رہی تھی۔ ہم مایوسی کی آخری حدوں پر تھے'۔
وہ شخص جو کبھی اپنی خوش بیانی، فہم ، فراست اور خطابت کے لیے مشہور ہوا کرتا تھا، اب اپنے ہی جانباز سپاہیوں کو جوش دلانے ، دشمنان کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے میں ناکام ہو چکا تھا۔ اس سب سے بری طرح جھنجھلا کر انہی کو کوستا تھا اور بزدلی کے طعنے دینے لگتا۔ انہیں نا مرد اور تھوڑ دلا قرار دے کر غیرت دلاتا رہتا۔ 'تم کوفی صرف امن کے زمانے میں شیر ہوتے ہو مگر جب بہادری دکھانے کا موقع آتا ہے تو ایک دم مکار لومڑیاں بن جاتے ہو' علی ایک دن منبر پر کھڑے اپنی افواج کو لعن طعن کر رہے تھے۔ اچانک بد دعائیں دینے لگے، 'اللہ کرے تمہاری مائیں تم سے محروم ہو جائیں۔ میں نے مکہ اور مدینہ میں تمہارے بھائیوں پر ہونے والے ظلم پر تمہیں مدد کے لیے پکارا اور تم حیرت سے منہ کھولے، ناکارہ اونٹوں کی طرح پانی میں نتھنے ڈبو کر غرغراتے رہے؟ تف ہے تم پر! کسی شامی گھڑ سوار کے قریب سے گزرنے کی افواہ بھی سنتے ہو تو اپنے گھروں میں مقفل ہو کریوں چھپ کر بیٹھ رہتے ہو جیسے کرلی بھاگ پر اپنی بل میں گھس جاتی ہے۔ تم پر جس نے بھی اعتبار کیا، اس نے دھوکہ ہی کھایا۔ جو تم پر تکیہ کرتا ہے وہ بے کار ہی مارا جاتا ہے۔ تم نے تو وہ حال کیا ہے کہ میرے دل میں اس سلوک کی وجہ سے پیپ اور سینے میں غصہ بھر گیا ہے۔ اللہ کی قسم! تمہارے ساتھ نباہ کر کے مجھے دکھ اور درد کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اگر میرا مقصد اللہ کا نام بلند کرنا نہ ہوتا تو میں ایک دن بھی تمہارے ساتھ نہ گزارتا، تم پر آسرا نہ کرتا'۔
علی کو اپنے انجام کا ادراک ہو گیا تھا۔ اس دن کے بعد علی کے کوفیوں کے ساتھ نباہ کے بھی اب بس گنے چنے دن ہی باقی تھے۔
26 جنوری، 661ء کو جمعہ کے دن صبح سویرے کا واقعہ ہے۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ علی فجر کی نماز ادا کرنے کے لیے اپنے گھر سے نکل کر بغل میں ہی واقع کوفہ کی مرکزی مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ اندھیرے میں انہیں بالکل اندازہ نہیں ہوا کہ ایک مسلح شخص گھات لگائے مسجد کے دروازے میں چھپا بیٹھا ہے۔ انہیں تو تب پتہ چلا جب اس نے اچانک خنجر بلند کیا اور پیچھے سے خوارج کا مشہور نعرہ بلند کرتا ہوا کہ، 'فیصلے کا حق اللہ کا ہے!'، پھر دہاڑا کہ، 'صرف اللہ کا!' اور حملہ کر دیا۔
تلوار کی ضرب نے علی کو چکرا کر رکھ دیا ۔ ان کا سر چر گیا تھا۔ 'اس شخص کو بھاگنے مت دینا'، وہ گرتے ہوئے چلائے اور وہاں موجود باقی نمازی دوڑتے ہوئے حملہ آور کا پیچھا کرتے مسجد سے باہر نکل گئے اور تھوڑی ہی دور پہنچ کر قاتل کو جا لیا۔
اگرچہ خون مسلسل بہہ رہا تھا مگر علی ابھی تک پوری طرح ہوش و حواس میں تھے۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر لوگوں میں افراتفری پھیل گئی۔ اس فعل کا کوئی انتقام نہ لیا جائے، انہوں نے کہا۔ 'اگر میں زندہ بچ گیا تو میں خود فیصلہ کروں گا کہ اس شخص، جس نے مجھ پر حملہ کیا، اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے۔ اور اگر میں مر گیا تو ضرب کے بدلے ضرب لگا کر معاملہ صاف کر دیا جائے۔ سوائے اس کے کسی دوسرے شخص کو قتل نہ کیا جائے۔ خبردار، تم مسلمانوں کا خون نہیں کرو گے۔ تم یہ جواز نہیں پیدا کرو گے کہ ،'امیر المومنین قتل ہو گیا تو ہم اس کا بدلہ لیں گے'۔ اور کسی بھی طرح اس شخص کو قتل کر لو تو اس کی بے حرمتی مت کرنا، اس کے اعضاء مت کاٹنا ۔ میں نے رسول خدا کو ایک دفعہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ ، 'لاش کی بے حرمتی مت کرو، چاہے یہ ایک پاگل کتے کی ہی نعش کیوں نہ ہو'۔
قاتل کو اگلے ہی دن اپنے کیے کی سزا مل گئی۔ تلوار کے ایک ہی وار سے اس کا کام تمام کر دیا گیا۔ اگرچہ علی کو سر پر آنے والا زخم جان لیوا تو نہیں تھا مگر تلوار کے پھائے پر لگایا ہوا زہر اپنا اثر دکھا چکا تھا۔
حسن اور حسین نے اپنے والد کی میت کو اپنے ہاتھوں سے غسل دیا۔ میت پر جڑی بوٹیوں اور گندھ رس کا لیپ کیا اور پھر کفن کی تین چادروں میں لپیٹ دیا۔ پھر جیسا کہ علی نے وصیت کی تھی، ان کی میت کو انہی کے پسندیدہ اونٹ پر لاد کر کھلا چھوڑ دیا گیا۔ چالیس سال قبل، محمدؐ نے مدینہ پہنچ کر اپنی اونٹنی کو بھی اسی طرح کھلا چھوڑ دیا تھا تا کہ نخلستان میں ان کی رہائش اور مسجد کی جگہ کا تعین ہو سکے۔ جہاں اونٹنی رکی تھی، وہیں مسجد تعمیر کی گئی۔ اب اسی طرح ایک اور اونٹ، مثال زمرہ اولیاء میں شامل جانوروں میں سے ایک جانور علی کے مزار کی جگہ کا تعین کرے گا۔ جہاں یہ اونٹ گھٹنے ٹیکے گا، گویا خدا کی مرضی کے عین مطابق علی کو وہیں دفن کیا جائے گا۔
اونٹ تقریباً آدھا دن تک مسلسل چلتا رہا۔ یہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا جیسے اپنی پشت پر لدھے بوجھ سے خوب واقف تھا اور غم سے اس کا حال ،بد حال ہو۔ یہ کوفہ سے مشرق کی جانب، خاصا باہر نکل کر ایک جگہ پر ٹھہر گیا۔ ایک اجاڑ، ریتلے ٹیلے پر پہنچ کر اس نے گھٹنے ٹیک دیے۔ اس جگہ کو نجف کہا جاتا ہے۔ نجف عربی کا لفظ ہے جس سے مراد ریت کا اونچا ٹیلا ہے۔ حسن اور حسین اس شخص کو یہیں دفن کر دیں گے جس کی قدر و منزلت، عزت اور چاہ سبھی مسلمانوں کے دل میں بیش بہا ہے مگر وہ انہیں دو مختلف حوالوں، خطابات سے جانتے ہیں۔ شیعہ کے یہاں علی پہلے امام اور سنی انہیں خلفاء راشدین میں آخری خلیفہ کہا کریں گے۔
حسن نے بعد از تدفین علی کی قبر پر کھڑے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا، 'آج انہوں (خوارج)نے، حرمت کے مہینے میں، اس متبرک دن میں انہیں (علی کو) قتل کیا ہے۔ یہ وہ دن ہے جس دن قران کی پہلی آیت نازل ہوئی تھی۔ یہ وہ شخص تھا کہ جسے اگر پیغمبر کسی مہم پر روانہ کرتے تھے تو جبرائیل اس کی ایک طرف اور میکائیل دوسری جانب ہوا کرتا تھا اور یہ تینوں شانہ بشانہ، ساتھ ساتھ چلتے تھے۔ اللہ کی قسم! علی سے پہلے جو گزرے ہیں، وہ ان سے برتر نہیں ہیں اور علی کے بعد جو آئیں گے، وہ کبھی ان کی جگہ نہیں لے سکتے'۔
وقت گزرتا جائے گا اور پھر علی کی قبر باقاعدہ مزار بن جائے گا۔ اس پر مقبرہ تعمیر کیا جائے گا اور اس ریتلے ٹیلے کے گرد ایک شہر آباد ہو گا جسے ہم آج نجف کے نام سے جانتے ہیں۔ تاریخ میں ان کا مزار کئی بار تباہ کیا جائے گا اور ہر دفعہ جب اس کی دوبارہ تعمیر مکمل ہو گی تو یہ پہلے سے کہیں زیادہ شاندار اور پر شکوہ عمارت ہوا کرے گی۔ یہاں تک کہ اکیسویں صدی میں سونے کا پانی چڑھا ہوا گنبد ، بیس میل دور سے ہی نظر آتا ہے۔ روضہ کے گرد نجف شہر بیسویں صدی کے اواخر میں اتنا پھیل جائے گا کہ اس کے مقابلے میں کبھی خلافت کا مرکز رہنے والے پر رونق شہر کوفہ پر مضافات کا گماں ہو گا۔ نجف کے سامنے کوفہ کی حیثیت دریا کنارے آباد ایک چھوٹے سے قصبے سے زیادہ نہیں رہے گی۔ یاد رہے، اس شہر، یعنی کوفہ کی اہمیت بھی کبھی ختم نہیں ہو گی۔ مثال کے طور پر جدید دور کے عراق میں مشہور 'لشکر مہدی' کے سربراہ مقتدہ الصدر اور ان سے پہلے جتنے بھی ان کی ہی طرح کے کردار گزرے ہیں، وہ بجائے نجف، کوفہ کی مرکزی مسجد کے منبر پر اپنا مقام بنائیں گے۔ مقصد یہ ہو گا کہ وہ مقتول علی نہیں بلکہ زندہ امام کے قدموں کے نشان پر کھڑے نظر آیا کریں۔ اسی جگہ پر کھڑے ہو کر خطبات دیں جہاں کبھی علی کھڑے ہو کر خطبے اور تقاریر کیا کرتے تھے، درس دیتے تھے۔ علی کی قائم کردہ مثال کی روشنی میں مقتدہ بھی جلد ہی دبے اور ستائے ہوئے لوگوں کے چیمپئن کی طرح مشہور ہو جائیں گے۔
نجف عراق میں واقع جڑواں مقدس شہروں میں پہلا شہر ہے۔ علی کے بعد معاویہ پوری اسلامی سلطنت کی باگ ڈور بغیر کسی مزاحمت ، بلا شرکت غیرے سنبھال لیں گے۔ دوسرا مقدس شہر ابھی آباد نہیں ہوا۔ یہ شہر نہیں بلکہ نجف سے پچاس میل دور شمال میں واقع، گمنام پتھریلا اور ریتلا علاقہ ہے۔ علی کے قتل کے بیس سال بعد ان کے چھوٹے فرزند حسین اس ریت ملے پتھریلے علاقے میں اپنی جان سے جائیں گے۔ پھیلے ہوئے ریتلے صحرا کو کربلا کا نام دیا جائے گا، تاریخ میں اسے 'آزمائش اور مصیبت' یعنی 'کرب اور بلا' کی جگہ کہا جائے گا۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی اگلی قسط نمبر 12 کے لیے یہاں کلک کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر