اول المسلمین کے بعد - حسین - 12



9 ستمبر 680ء کو صبح کے وقت منہ اندھیرے میں مکہ سے ایک مختصر قافلہ برآمد ہوا۔ علی کے فرزند حسین کی سربراہی میں نکلنے والے اس قافلے کا رخ عراق کی جانب تھا۔ بیس سال قبل ان دونوں بھائیوں، حسن اور حسین نے علی کو عراق میں ہی کوفہ کے مضافات میں واقع ایک ریتلے ٹیلے پر دفنا کر شمالی عرب کے لق و دق صحرا میں سے ہوتے ہوئے واپس حجاز کی راہ لی تھی۔ تب ان دونوں کے حوصلے پست تھے اور یہ تقریباً نا امید ہو چکے تھے۔ حسین نے یہ طویل عرصہ ناقابل برداشت حد تک اپنی آنکھوں کے سامنے معاویہ کو سلطنت اسلامی پر گرفت مضبوط کرتے اور نہایت اطمینان سے حکمرانی کرتے ہوئے دیکھ کر گزارا تھا۔ ان کے لیے ان دو دہائیوں میں صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا اور اب مزید تحمل کی کوئی گنجائش باقی نہیں تھی۔ مگر اب انتظار کی گھڑیاں ختم ہو چکی تھیں۔ معاویہ انتقال کر گئے تھے اور حسین کا ارادہ خلافت کو ان کے تئیں اصل مقام ، یعنی اہل بیت کو واپس لوٹانا تھا۔
وہ انقسام جو محمدؐ کی وفات کے ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا اور بعد ازاں اس کا شگاف اس قدر پھیل گیا کہ علی کو بھی لے ڈوبا ۔ اب یہ پھوٹ تیسری نسل کو منتقل ہو چکی تھی۔ یہاں پہنچ کر پہلی بار واقعی احساس ہو تا تھا کہ دیکھو، کیا سے کیا ہو گیا؟ لوگ کتنے بے حس ہو چکے ہیں اور ان کے دل پتھر ہو کر رہ گئے ہیں۔ اب وقت آئے گا کہ انہیں کوئی ایک دم جھنجھوڑ کر رکھ دے گا اور احساس دلائے گا کہ معاملات کس قدر خراب ہو چکے ہیں۔ یوں ہو گا کہ اس قدر گہرا گھاؤ لگے گا کہ آنے والی صدیوں میں اسلام کے جسم کی ہر ایک پور سے خون رسے گا اور یہ زخم کسی طور بھی بھر نہیں سکے گا۔ بلکہ روز بروز گہرا ہی ہوتا چلا جائے گا۔ لمحوں کی اس قدر افسوسناک خطا ہو گی کہ اس کا خمیازہ صدیوں تک مسلمانوں کے بچے بچے کو اپنی پوری زندگی بٹ کر جینے کی قیمت سے ادا کرنی پڑے گی۔ یہ پھوٹ، پھٹ کر امت کے ہر تصور کو ریزہ ریزہ کر دے گی اور زمانوں تک یہ عمل جاری رہے گا۔ یہ آج بھی بدستور جاری ہے، تقریباً ساڑھے چودہ سو برس بعد بھی یہ ناسور اسی طرح تازہ ہے جیسے کل کا واقعہ ہو۔
حسین اپنی عمر میں اب پچاس کے پیٹے میں تھے اور ان کی شکل و صورت سے ان پچاس برسوں کا بوجھ صاف ظاہر ہوتا تھا۔ اس عمر تک پہنچ کر یقیناً ان کی داڑھی میں چاندی اتر آئی ہو گی، آنکھوں کے گرد حلقے اور چہرے پر جھریاں ہوں گی۔ لیکن آج ایران اور عراق کے بازاروں میں با آسانی دستیاب پوسٹروں میں دکھائی گئی شبیہ میں وہ ایک بیس بائیس برس کا خوبرو نوجوان نظر آتے ہیں۔ ان تصویروں میں ان کی لانبی زلفیں ہیں جو شانوں پر ڈھلکی رہتی ہیں۔ داڑھی گھنی اور سیاہ کالی ہوتی ہے۔ روشن پیشانی، چہرے پر جوانی کے رنگ بکھرے اور کالی آنکھوں میں جھانکیں تو نرمی کے ساتھ ساتھ ثابت قدمی اور مستقل مزاجی کا احساس ہوتا ہے۔ آنکھوں میں اداسی چھائی ہے لیکن پھر بھی وہ پر اعتماد نظر آتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے دنیا بھر کی خوشیاں اور غم ایک ساتھ ان کے چہرے میں بھر گئے ہیں اور حسین دکھ اور سکھ کو ایک ہی جیسے قبول کیے، ان دونوں حالتوں کو ایک ہی جیسے خود سے لپٹائے ہوئے ہیں۔
مغربی ممالک میں اگر کوئی انجانا شخص ان پوسٹروں کو دیکھے تو اسے ان تصاویر پر عیسیٰ کی شبیہ کا گماں ہو گا، فرق صرف یہ ہے کہ یہاں ملنے والے پوسٹروں میں حسین کو قدرے صحت مند دکھایا گیا ہے۔ ویسے بھی، ان دونوں یعنی عیسیٰ اور حسین میں کئی قدریں مشترک ہیں۔ جیسے اگر علی شیعہ اسلام کی بنیاد ہیں تو حسین اس میں قربانی کی علامت بن جائیں گے۔ عراق پہنچنے پر ان کے ساتھ جو سانحہ پیش آیا، وہ شیعت علی کا ولولہ انگیز نوشہ ، کسی الہامی کتاب کا اقتباس بن جائے گا۔ ان کی کہانی شیعہ اسلام کے جذباتی اور روحانی قالب میں ڈھل جائے گی۔
فی الوقت تو یہ ہے کہ جب حسین کا قافلہ حجاز کی پہاڑیوں سے نکل کر صحرا میں داخل ہوا تو دور سے دیکھنے پر کوئی بھی غیر جانبدار شخص دیکھ کر یہی کہہ سکتا تھا کہ وہ بالضرور ہی اپنے مقصد میں ناکام ہوں گے۔ اگر ان کا مقصد خلافت کا دوبارہ حصول تھا تو یہ چھوٹا سا قافلہ اس کے لیے قابل رحم حد تک نا کافی تھا۔ اونٹوں کی قطار آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہی تھی۔ ان اونٹوں پر حسین کے گھرانے کی عورتیں اور بچے سوار تھے جبکہ حفاظت کے لیے صرف بہتر مسلح جنگجو ہمراہ تھے۔ اونٹوں کے علاوہ چند گھوڑے بھی تھے جو اونٹوں کی ہی مہاروں سے بندھے، اونٹوں کی ہی رفتار سے آگے بڑھ رہے تھے۔ اس قلیل شمار کے باوجود، یہ قافلہ انتہائی اعتماد کے ساتھ آگے بڑھ رہا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ ایک دفعہ وہ عراق پہنچ جائیں تو کوفہ کے لوگ حسین کے جھنڈے تلے جمع ہو جائیں گے۔
حسین کا یہ اعتماد اور یقین بلا وجہ نہیں تھا۔ یہ سفر شروع ہونے سے پہلے تک کچھ ایسے ہی اشارے ملے تھے کہ عراقی عوام واقعی بیتابی سے ان کی راہ دیکھ رہی ہے۔ معاویہ کی وفات کے بعد جب سے یزید نے دمشق میں خلافت کا تخت سنبھالا تھا، چند ہفتوں کے اس عرصے میں مکہ اور کوفہ کے بیچ کئی خطوط کا تبادلہ ہو چکا تھا۔ کوفہ اور مکہ کے بیچ آٹھ سو میل کا فاصلہ ہے مگر کہا جاتا ہے کہ اس قلیل عرصے میں بھی اتنے خط آ ئے تھے کہ گھوڑے کی زین کے ساتھ لٹکائے جانے والے دو سفری تھیلے با آسانی بھر جاتے۔ یہ سارے خطوط کوفہ میں شیعت علی کی جانب سے لکھے گئے تھے، حسین کے خیر خواہوں نے بھجوائے تھے۔
'جلدی پہنچو، اے حسین!' خط لکھنے والوں نے اصرار کیا تھا، 'لوگ تمہاری راہ دیکھ رہے ہیں۔ وہ تمہارے سوا کسی کے بارے نہیں سوچتے۔ آؤ اور اپنا جائز حق حاصل کرو، پیغمبر کے اصل جانشین کی نشست سنبھالو۔ تم پیغمبر کے نواسے ہو، ان کا خون ہو۔ تم اپنی ماں فاطمہ کے بیٹے ہو جو پیغمبر کی بیٹی تھیں۔ فوراً پہنچو اور قیادت کو واپس وہیں پہنچا دو جہاں اس کا حق ہے۔ عراقیوں کو وہ عزت اور منزلت واپس لے کر دو جو علی نے دلائی تھی۔ تم علی کے بیٹے ہو۔ ہم تمہارے جھنڈے تلے جمع ہو کر شامیوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ ہم اسلام کی اصل روح واپس لے کر آئیں گے'۔
ان سب خطوط میں اہمیت کا حامل وہ رقعہ تھا جو حسین کے چچا زاد مسلم نے لکھا تھا۔ مسلم کو حسین نے ہی عراق بھیجا تھا تا کہ وہ جائیں اور عراقیوں کی جانب سے کی جانے والی گزارشات بارے تحقیق کریں۔ یہ معلوم کریں کہ کیا وہ واقعی حسین کی رہنمائی کے خواہشمند ہیں؟ 'میرے ساتھ بارہ ہزار مسلح افراد ہیں جو آپ کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے تیار ہیں' مسلم نے لکھا تھا، 'فوراً پہنچیں۔ فوراً پہنچیں اور اس لشکر کی سپہ سالاری سنبھالیں جو آپ کے لیے جمع ہوا ہے'۔
یہ وہ بلاوا تھا جس کے لیے حسین نے انیس برس کا کڑا انتظار کیا تھا۔ جب سے عراق میں علی کا قتل ہوا تھا، تب سے ان کے کان یہ پکار سننے کے لیے ترس گئے تھے۔
جس دن علی کا قتل ہوا، اس دن کا احوال بھی تفصیل سے سن لیجیے۔ کہا جاتا ہے کہ اس صبح صرف علی کو ہی حملے کا نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔ کئی روایات ایسی ہیں جن کے مطابق خوارج نے مصر میں عمرو اور شام میں معاویہ کو بھی قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ لیکن عمرو بیماری کے سبب مسجد نہیں جا سکے تھے۔ انہیں معدے میں خرابی کی شکایت تھی۔ چنانچہ، اس روز صبح حملہ آور نے گورنر کے چوغے میں ملبوس جس آدمی پر دھاوا بولا تھا، وہ گورنر نہیں بلکہ گورنر کا ماتحت تھا۔ دوسری طرف شام میں، اگرچہ قاتل کے ہاتھ معاویہ تک پہنچ گئے تھے مگر اس حملے میں انہیں صرف معمولی زخم آئے تھے۔ اسلامی سلطنت کے جلد ہی بلا شرکت غیرے حکمران بننے والے معاویہ، بس عارضی تکلیف میں مبتلا ہوئے۔
کئی لوگ ایسے تھے جنہوں نے اس ضمن میں فوراً ہی نکتہ چینی شروع کر دی اور سوال اٹھایا کہ کس طرح اتنی آسانی سے ان تینوں میں سے چن کر صرف علی ہی قتل ہوئے؟ یہی نہیں، ان کی موت تلوار کے وار سے نہیں بلکہ معاویہ کے پسندیدہ ہتھیار، زہر سے ہوئی تھی؟ ایسے لوگوں کو جلد ہی انتہائی سرعت اور ماہرانہ طریقوں سے خاموش کرا دیا گیا یا کر دیا گیا۔
علی کے قتل بارے ایک کہانی اور بھی مشہور ہوئی۔ کہا جاتا تھا کہ قاتل نے یہ فعل اپنی محبت کے لیے کیا۔ یعنی یہ کہ وہ ایک ایسی عورت کا ساتھ چاہتا تھا جس کا باپ اور بھائی خوارج میں سے تھے اور نہروان کے مقام پر جنگ میں ہلاک کر دیے گئے تھے۔ 'میں تم سے اس وقت تک بیاہ نہیں کروں گی جب تک کہ تم مجھے وہ نہ دلا دو، جس کی مجھے چاہ ہے'، قصے میں اس عورت کی زبانی کہا جاتا، 'مجھے تین ہزار درہم، ایک غلام، ناچنے اور گانے والی ایک لڑکی اور ابو طالب کے بیٹے علی کی موت چاہیے'۔ اس فہرست میں ناچنے اور گانے والی لڑکی' کا مطالبہ دیکھیں تو ظاہر ہوتا ہے کہ یہ من گھڑت کہانی ہے۔ وہیں، حملہ صرف علی پر ہی تو نہیں ہوا تھا؟ جن اشخاص نے مبینہ طور پر معاویہ اور عمرو پر حملہ کیا تھا، ان کے بارے تو ایسے قصے مشہور ہوئے اور نہ ہی ان کا تذکرہ کسی روایت میں ملتا ہے۔ بلکہ صاف کہنا چاہیے کہ یہ من گھڑت قصہ ہے۔ چلو، علی کے قاتل کا مسئلہ تو محبت تھا، باقی دو حملہ آوروں کا محرک کیا تھا؟ لیکن اس طرح کے قصے اور کہانیوں سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں تھا اور نہ ہی ان کی کوئی ضرورت تھی۔ معاویہ خلیفہ بن گئے تو اس کے بعد ان کی حکومت میں عام مسلمانوں کے لیے بہتر یہی تھا کہ وہ ان کٹر اور کٹھ ملا خوارج کو اور صرف انہی کو علی کے قاتل گردانا کریں اور ان سے متعلق گھڑے ہوئے قصے اور کہانیوں پر یقین کر لیں۔
بہیمانہ قتل کا یہ ہے کہ اس میں مقتول کو فوراً ہی ہیرو بنا دیا جاتا ہے۔ ماضی کے سارے گناہ نہ صرف یہ کہ معاف کر دیے جاتے ہیں بلکہ جلد ہی لوگ ان کی فاش غلطیوں کو بھی بھلا دیتے ہیں۔ اس شخص کی کہی ہر بات کی ناگہانی نقصان کی روشنی میں از سر نو تشریح کی جاتی ہے اور وہ حکمت عملی، جس پر مقتول کو زندگی بھر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا تھا، اب آگے کا واحد راستہ بن کر رہ جاتی ہے۔ پیچھے رہ جانے والوں کی سیاسی زندگی حسرت اور یاس کی عملی تصویر بن جاتی ہے اور وہ اسی گھن چکر میں پھنس کر رہ جاتے ہیں کہ کاش، اے کاش ! اگر یہ شخص قتل نہ کر دیا جاتا تو نہ جانے انہیں کیسی بھلی زندگی گزارنے کو ملتی؟ کتنے ہی معاملات ایسے ہیں، جو اس شخص کی وجہ سے درست رہتے اور اگر قتل نہ ہوتا تو نہ جانے وہ ان کی مشکلات کی کیسی بھلی ترکیبیں نکال لاتا؟ عوام کی یہ روش ساتویں صدی کوفہ میں بھی ویسی ہی تھی جیسی کہ آج دنیا بھر میں ہم جا بجا دیکھتے ہیں۔ جس تلوار سے علی کی زندگی کا چراغ گل ہوا، اسی تلوار نے ان کے بارے سارے شبہات کو ہوا کر دیا۔ وہی عراقی جو علی کی زندگی میں بقول انہی کے، ان کے لیے 'کمتری کا باعث' بن چکے تھے، اب یہی عراقی علی کو موت کے بعد علی کو قطعی اور مطلق مقتدر ، اعلیٰ اور بالا دست بنا لیں گے۔ وہ ان کی حاکمیت کا یوں پرچار کریں گے کہ بسا اوقات محمدؐ اور علی رتبے اور حیثیت میں مساوی نظر آیا کریں گے۔
تلوار چلانے والا خوارج میں سے ہی ایک ہو گا مگر کوفہ والے پھر بھی غم و غصے میں لپٹے کھا رہے تھے۔ وہ اندر ہی اندر اس بات پر پیچ و تاب کھانے لگے کہ ممکنہ طور پر اس قتل کے پیچھے معاویہ کا ہاتھ ہو سکتا تھا۔ عمومی رائے یہ بن گئی کہ علی سچ ہی کہتے تھے۔ عراقی اس سے پہلے جس کام سے وہ بے حسی کی حد تک انکار کرتے آئے تھے، علی کے حکم سے پیچھے ہٹ گئے تھے، وہ انتہائی ضروری تھی۔ یعنی، معاویہ کے خلاف کھلم کھلا جنگ لازم تھی۔
چنانچہ وہ علی کی تدفین کے فوراً بعد مسجد میں جمع ہو گئے اور ان کے فرزند حسن جو طبیعت میں عالم واقع ہوئے تھے، ان کے ہاتھ پر بیعت کے لیے تیاریاں کرنے لگے۔ لوگوں کا مطالبہ تھا کہ وہ عراقیوں کی رہنمائی سنبھال لیں اور شام کے خلاف باقاعدہ فوجی مہم کا آغاز کریں۔ باوجود اس کے کہ حسن کے گرد ہر شخص ہی جوش اور جذبے سے پاگل ہو رہا تھا، خود حسن پر اس سب کا چنداں اثر نہیں ہوا۔ وہ حقیقت پسند ہی رہے۔ گو انہوں نے کوفہ کے لوگوں کی وفا داری قبول تو کر لی مگر وہ اسے عزت اور منزلت کی بجائے بوجھ سمجھ رہے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جنگ سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا، بلکہ یہ گھاٹے کا سودا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ شامی افواج اچھی خاصی منظم اور تربیت یافتہ تھیں اور عراقیوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ مسلح تھیں۔ اس کے ساتھ ساتھ، یہ خیال کہ خانہ جنگی جاری رہے گی اور وہ اس ہولناک جنگ جو ختم ہونے میں نہیں آتی، اور وہ اس میں آخر میں صرف ایک پرزہ بن کر رہ جائیں گے، اس خیال سے ہی گھن آتی تھی۔
اس کے علاوہ انہیں رہ رہ کر علی کی آخری بات یاد آ رہی تھی۔ زہر کے ہاتھوں مرتے ہوئے انہوں نے دونوں بیٹوں کو تفصیل سے وصیت کی تھی۔ اس وصیت کا لب لباب یہ تھا کہ، 'اس دنیا کے پیچھے ہر گز مت لگنا خواہ دنیا تم سے بغاوت ہی کیوں نہ کر دے۔ اگر تم سے کوئی چیز چھن جائے تو اس پر رنجور مت ہو۔ اتحاد اور یگانگت کو فروغ دو اور نیکی سے کام لو۔ فتنہ سے دور رہنا اور کبھی جھگڑے اور نفاق میں مت پڑیو'۔ آخر میں قران کی آیات سنائی تھیں، 'اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھو اور تفرقے میں مت پڑو' اور کسی شخص کی تہمت اور الزام تراشی کی بجائے 'خدا سے ڈرتے رہنا'۔
دونوں بیٹے باپ کے تابعدار تھے، ان کی خوب مانتے تھے۔ لیکن حسن علی کو اپنی ہی تعلیمات سے ہٹ جانے پر قصور وار سمجھتے تھے۔ مثلاً، علی تفرقے سے سخت نفرت کرتے تھے مگر اس کے باوجود خود کو اس خانہ جنگی میں گھسیٹتے چلے گئے؟ یہی نہیں، انہوں نے اس سے بچنے کی سرے سے کوشش بھی نہیں کی؟ حسن انہیں اس بات پر کبھی معاف نہیں کر سکتے تھے۔ وہ عثمان کو خاصا پسند کرتے تھے جو بھلے حکمرانی میں اپنی ہی کرتے تھے مگر ایمان کی بات آئی تو انہوں نے آخر تک اس پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ خانہ جنگی سے انکار کرتے رہے اور بالآخر قتل بھی ہو گئے۔ حسن کو تیسرے خلیفہ کے یوں بزرگی کی عمر میں اس طرح بے دردی سے قتل کیے جانے کا سخت رنج تھا۔ وہ اس سے پہلے بھی گاہے بگاہے اپنے والد کو یوں عثمان کے قاتلوں کو معافی اور امان دینے پر دبے لفظوں میں تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے اور اس کے بعد شروع ہونے والی خون ریزی اور دہشت پر تو سخت ناراض تھے۔ اب جب کہ علی بھی اس نفاق کی بھینٹ چڑھ گئے تو حسن کے لیے جنگ آخری حربہ ہوتا۔ وہ کسی بھی طرح سے یہ جنگ جاری نہیں رکھنا چاہتے تھے۔ معاویہ کو حسن کی طبیعت کا خوب علم تھا اور ان کے جاسوس، ان کے ان خیالات کی پوری خبر رکھتے تھے۔
معاویہ چونکہ سیاست میں خوب ماہر تھے، وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ قلم، تلوار کی ہی طرح کارگر ہو سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے حسن کے نام چند خط لکھے۔ ان مراسلوں کا بغور مطالعہ کیا جائے تو بندہ عش عش کر اٹھتا ہے۔ ایک ایک لفظ میں چاشنی بھری گئی ہے اور جیسا کہ ان معاملات میں انتہائی ضروری ہوتا ہے، خیالات کا کھل کر اظہار عام ملتا ہے اور دلائل سے کام لیا گیا ہے۔ یہ دلائل انتہائی معقول ہیں۔ مثال کے طور پر، معاویہ نے کھلے دل کے ساتھ حسن کی روحانی قابلیت اور علامہ طبیعت اور مرتبے کا اعتراف کیا ہے۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر صرف روحانیت ہی واحد پیمانہ ہو تو بلاشبہ حسن کے علاوہ دوسرا کوئی بھی شخص خلافت کا حقدار نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ وہ یہ بھی ثابت کرتے ہیں کہ ان حالات میں خود ان کے علاوہ کوئی دوسرا اہل بھی نہیں ہے۔ اپنے بارے میں مزید لکھتے ہیں کہ اب وہ عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں انہیں اس دھوکے باز دنیا کے طریق کی اچھی سمجھ ہے اور خلافت سے متعلق دنیاوی معاملات چلانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اسی طرح ان خطوط میں خلافت کو درپیش مسائل بارے انتہائی مدلل انداز میں حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ جیسے سرحدوں کی حفاظت، خوارج کی بڑھتی ہوئی یورش اور خلافت کی سالمیت اور دین اسلام کی حفاظت وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے ۔ وہ حسن کی دین سے متعلق علوم پر گرفت اور روحانیت پسندی سے خاصے متاثر نظر آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حسن پیغمبر خدا کے نواسے ہیں، انہیں اس بات کا پورا احساس ہے اور وہ اس وجہ سے بھی ان کی دل سے عزت کرتے ہیں لیکن خلافت کو جو مسائل درپیش ہیں، اس کے لیے اس وقت ایک انتہائی مضبوط اور اعصابی طور پر ناقابل شکست حکمران کی ضرورت ہے۔ معاویہ اپنے ان خطوط کو آخر میں یوں سمیٹتے ہیں کہ اس وقت امت کو ایک عالم اور فہیم کردار کی نہیں بلکہ ایک انتہائی تجربہ کار اور منجھے ہوئے حکمران کی ضرورت ہے۔
ایک بات اور، ان خطوط میں دلیل کے ساتھ معاویہ اپنا جانا پہچانا حربہ، یعنی 'شہد میں تولنا' نہیں بھولے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اگر حسن خلافت کے حق سے دستبردار ہو جاتے ہیں اور معاویہ کو بطور خلیفہ تسلیم کر لیتے ہیں تو وہ ان کو قربانی کے بدلے میں محدود اور طویل مدت، دونوں ہی صورتوں میں ہر قدم پر بھر پور ساتھ اور معقول اخراجات زندگی اور ہرجانہ ادا کرنے کا یقین دلاتے ہیں۔ انہیں عراق کے خزانےسے بھاری مال غنیمت عطا کیا جائے گا اور وعدہ کرتا ہوں کہ وہ یعنی معاویہ اپنے وقت آخر پر، حسن کو جانشین یعنی اگلا خلیفہ مقرر کر جائیں گے۔
حسن معاویہ کی جانب سے اس خیر سگالی کی طرف فوراً ہی راغب ہو گئے۔ حقیقت پسندی کا تقاضا بھی یہی تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جنگ ان کے بس کی بات نہیں ہے اور صرف وہی نہیں بلکہ سب مسلمان ایک عرصے سے امن کی خواہش رکھتے ہیں۔ وہ خود بھی امن کی زندگی گزارنا چاہتے تھے۔ تسلی کے ساتھ مطالعے اور عبادت میں مشغول رہ کر بسر کرنا چاہتے تھے۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی خوب جانتے تھے کہ ان کے حمایتی کس طرح کے لوگ ہیں۔ وقت آنے پر وہ اسی طرح پلٹا کھا سکتے تھے جیسا کہ اس سے پہلے علی کے ساتھ کر چکے ہیں۔ وہ اپنے والد کو عراقیوں کے ہاتھ پہلے اٹھان اور پھر انتہائی قلیل عرصے میں برباد ہوتے اور ہر موڑ پر دشوار گزار حالات سے دوچار ہوتا دیکھ چکے تھے۔ اگر چہ عراقی فی الوقت تو جذبات میں بہہ کر علی کو اپنا قبلہ بنا چکے ہیں مگر ان کا کیا بھروسا ہے؟ وہ کسی بھی وقت پینترا بدل سکتے ہیں۔ جتنی جلدی وہ علی کے نام پر جمع ہو گئے تھے، اتنی ہی تیزی سے اپنی روش بدل بھی سکتے ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے خوارج نے علی کے ساتھ یہی سلوک نہیں کیا؟ خوارج کون تھے؟ یہی لوگ نہیں تھے؟ قصہ مختصر، حسن نے اچھی طرح سوچ سمجھ کر معاویہ کے دلائل مان کر ان کی تجویز کو قبول کر لیا مگر حسن کے اس فیصلے پر مہر عراقی ثبت کریں گے۔
کوفہ کے لوگ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ شاید حسن نے انہیں شام پر ایک خونخوار جنگ مسلط کرنے کے اعلان کے لیے بلایا تھا۔ مگر حسن اپنے والد کی طرح القائی خطیب نہیں تھے۔ انہوں نے بجھے ہوئے انداز میں، ایک انتہائی معتدل بیانیے پر مشتمل ، سپاٹ تقریر کر ڈالی۔ وہ دھیمی آواز میں، ایک ہی لہجہ اختیار کیے، ہر لفظ کو ایک ہی جیسے تول میں بولتے گئے۔ اگرچہ وہ متانت برتتے ہوئے انتہائی سنجیدہ طریقے سے مخاطب تھے مگر تقریر میں جوش اور نہ ہی جان تھی۔ ایسا ہونا قدرتی بھی تھا کیونکہ وہ منبر پر چڑھ کر کھڑے لوگوں کی خواہشات نہیں بلکہ اپنے خیالات کا اظہار کر رہے تھے۔ وہ چیز سمجھانے کی سر توڑ کوشش کر رہے تھے جس پر خود ان کو یقین تھا۔ انہوں نے لوگوں کو جہاد اکبر کی طرف بلایا، یعنی زندگی بھر اپنے اندر بہتر مسلمان بننے کی جدوجہد جاری رکھنے پر زور دیا۔ پھر انہوں نے جہاد اصغر یعنی مسلح جدوجہد کو بھی ضروری قرار دیا مگر تقویٰ اختیار کرتے ہوئے، اپنے آپ کو بہتر بنانے کو افضل گردانا۔ پھر کہا کہ اگر کوفہ کے لوگ جنگ و جدل سے منہ موڑنے کو شرمناک تصور کرتے ہیں تو وہ یہ مت بھولیں کہ، 'دنیا میں شرمندگی، خجالت اور ندامت، آخرت میں جہنم کی آگ سے کہیں بہتر ہے'۔ آخر میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ معاویہ کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ امن قائم کرنے کو ترجیح دیں گے اور ماضی میں جتنی بھی خون ریزی ہوئی، وہ امن کے لیے بخوشی عفو عام اور درگزر پر راضی ہو جائیں گے۔
یہ بلاشبہ دلیری کا مظاہرہ تھا۔ در پیش حالات میں یہ الفاظ بہادری اور جرات کا مظہر تھے لیکن لوگوں نے فوراً ہی اسے بزدلی، نا مردی اور بودے پن سے تعبیر کر دیا۔ 'یہ تو پریشان ہے'، 'گھبرا کیوں رہا ہے؟'، 'ارے، تم تذبذب کا شکار کیوں ہو؟' لوگ چلانے لگے۔ جنگجو دہاڑنے لگے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے، 'حسن کو دیکھو! اس کا ارادہ تو ہتھیار ڈالنے کا ہے۔ ہمیں ہر صورت اسے روکنا ہو گا'۔ یوں وہ شخص جو امن کا خواہاں تھا، مزید تشدد اور قتل و غارت سے بچنا چاہتا تھا، دیکھتے ہی دیکھتے چند لمحوں میں اسی قباحت کا نشانہ بن گیا۔ حسن کے اپنے ہی آدمی ان پر بل پڑے اور خود سری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان سے کھینچ تان کرنے لگے۔ گھسیٹ کر منبر سے اتار لائے اور چوغہ اتار کر تار تار کر دیا اور کپڑے بھی پھاڑ دیے۔ اب جس کا ہاتھ پہنچتاتھا، انہیں ہراساں کرنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بات اتنی بڑھی کہ اچانک ہی کہیں سے ایک خنجر برآمد ہوا۔ یہ تو پتہ نہیں چلا کہ خنجر کس نے نکالا مگر اس کی تیز دھار حسن کی ران کا گوشت چیرتی ہوئی نکل گئی۔ یہ کاری زخم نہیں تھا مگر خون کا فوارا چھوٹ گیا۔ شاید، اس دن خون پھوٹنے کی وجہ سے ہی حسن کی جان بھی بچ گئی۔ جیسے ہی وہ زمین پر گرے، بہتے ہوئے خون کا منظر دیکھ کر لوگ ایک دم پیچھے ہٹ گئے۔ وہ جو سرکشی پر اتر آئے تھے، ایک دم جیسے انہیں ہوش آ گیا، جنون ہوا ہو گیا۔ انہیں خیال آیا کہ جوش میں نہ جانے وہ کیا کر گزرتے؟ جذبات سے مغلوب ہو کر وہ ایک اور مقدس ہستی کے قتل کے کتنے قریب پہنچ چکے تھے؟
اگر اس سے پہلے حسن کے ذہن میں آگے کے لائحہ عمل ، اپنے فیصلے پر کوئی شک اور شبہ رہا بھی تھا تو اس دھما چوکڑی کے بعد جاتا رہا۔ اگر وہ چاہتے بھی تو کسی صورت ایسے لشکر کی سپہ سالاری قبول نہیں کر سکتے تھے جو یوں، ایک دم ہی، بغیر سوچے سمجھے اپنے ہی رہنما کی شدید مخالفت پر اتر سکتے تھے۔ خلافت سے دستبرداری ہی آگے کا واحد راستہ تھا اور معاویہ کی تجاویز بھی معقول تھیں۔ ویسے بھی، انہوں نے حسن کوآج نہ سہی، آگے چل کر خلافت سونپنے کا یقین دلایا تھا۔ حسن نے اپنے تئیں یہ ضرور سوچا ہو گا کہ اگر ان کے والد، یعنی علی اگر خلافت کے لیے تین ادوار پر مشتمل کئی برسوں پر محیط عرصے تک انتظار کر سکتے ہیں، امن اور یگانگت کے لیے قربانی دے سکتے ہیں تو وہ بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر چند برس، صرف ایک دور کے ختم ہونے کا انتظار نہیں کر سکتے؟
حسین نے حسن کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کی درخواست کی۔ 'میں تم سے التجا کرتا ہوں، معاویہ کی بجائے علی کے الفاظ پر دھیان دو۔ علی کی بات مانو!'۔ یعنی یہ کہ ان کے خیال میں معاویہ چال چل رہے تھے اور دھوکہ دہی سے باز نہیں آئیں گے۔ ان کا طریقہ واردات، ڈھنگ ہی یہی ہے۔ حسین نے طویل بحث کی کہ انہیں اس شخص سے اچھائی کی قطعاً کوئی امید نہیں اور بھلے وہ کتنے ہی وعدے کر لے، بھروسا مند نہیں ہے۔ لیکن جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے، چھوٹے بھائی کی بڑے کے سامنے کم ہی چلتی ہے ۔ ویسے بھی حسن ٹانگ پر زخم کھا کر پہلے ہی اپنے فیصلے پر قائل ہو چکے تھے۔
حسن لنگڑا کر چلتے ہوئے دوبارہ منبر کی سیڑھیاں چڑھے تا کہ کوفہ کے لوگوں سے آخری بار مخاطب ہو سکیں۔ 'اے عراق کے لوگو! تم نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے، میرے ہاتھ پر بیعت کی ہے۔ مجھ سے وفا داری کا وعدہ کیا ہے اور قسم اٹھائی ہے کہ جو میرا دوست ہے، وہ تمہارا بھی دوست ہو گا'، انہوں نے یہاں توقف کیا۔ پھر آواز مجتمع کر کے ایک دفعہ پھر اسی وعدہ پر قائم رہنے کا مطالبہ کیا۔ مزید گویا ہوئے، 'میں نے یہ درست سمجھا کہ معاویہ کے ساتھ امن قائم کیا جائے اور ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی جائے۔ ان کی حیثیت تسلیم کر لی جائے کیونکہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہر وہ چیز جو کسی انسان کے خون کو بہنے سے روک سکتی ہے، ہر اس شے سے بہتر ہے جو خون بہانے کا سبب بن جائے'۔
حسن نے تقریر ختم کی تو چاروں طرف خاموشی تھی۔ ٹک خاموشی، جیسے لوگوں کو ان کے اندر بھی چپ لگ گئی ہے ۔ اسی سماں میں حسن منبر سے اترے اور لوگوں کے بیچ میں سے راستہ بناتے ہوئے مسجد سے باہر نکل گئے اور سب انہیں جاتا، ٹکر ٹکر دیکھتے رہے۔ حسن نے اپنے بھائی حسین کو فوراً ہی تیاریاں مکمل کرنے کا حکم دیا اور فوراً مدینہ کی طرف کوچ کا فیصلہ کیا۔ وہ جلد سے جلد یہاں سے نکل جانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جس قدر تیزی سے ممکن ہو سکے، وہ چلے جائیں۔ کوفہ سے جتنی جلدی رخصت مل جائے، وہ اس پر خدا کے شکر گزار ہوں گے۔
ان حالات میں آخر حسن کو کون الزام دے سکتا تھا؟ شیعہ انہیں اس فیصلے پر ہر گز قصور وار نہیں سمجھتے۔ شیعہ اسلام میں وہ دوسرے امام مانے جاتے ہیں۔ علی اور محمدؐ کے جائز وارث اور جانشین ہیں۔ انہوں نے ایک سلطنت کی حکمرانی ٹھکرا دی تھی ۔ اقتدار تو خیر آنی جانی چیز ہے، لوگ کہیں گے کہ انہوں نے ایسا کر کے رہتی دنیا تک سر پر روحانی بالا دستی کا تاج سجا لیا۔ تقریباً سبھی مسلمانوں کا ماننا ہے کہ حسن نے اپنا ایمان دنیاوی آلائشوں اور عارضی طاقت میں نہیں بلکہ روحانیت اور آخرت کی ابدی زندگی میں رکھ دیا۔ کئی نکتہ چین بھی ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ ان کے اس فیصلے میں بہر حال عراق کے خزانے سے ملنے والے بھاری مال و دولت کا بھی ہاتھ تھا۔
یہ تو معلوم نہیں کہ حسن کو خزانے سے کتنی مقدار میں مال و دولت حوالے کی گئی۔ ویسے بھی ایسی صورتحال میں، ان معاملات کا کبھی پتہ نہیں چلتا۔ کچھ لوگوں نے روایت کی ہے کہ یہ پچاس لاکھ چاندی کے درہم تھے، یعنی اس زمانے میں مدینہ جیسے شہر میں ایک متمو ل اور طویل زندگی گزارنے کے لیے کافی تھے۔ اس معاہدے کی دوسری شق بارے ہم دیکھیں گے کہ آگے چل کر حسن اس دولت کے بل بوتے پر خوشحال اور لمبی زندگی گزارنے کے لیے تا دیر زندہ نہیں رہیں گے۔ معاویہ کے متعلق حسین کا شبہ بھی درست ثابت ہو گا۔
معاویہ اب آشکارا پانچویں خلیفہ تھے۔ وہ انتہائی شان اور ٹھسے سے کوفہ میں داخل ہوئے اور خوب دھوم دھڑکا کیا گیا۔ انہوں نے کوفہ کے لوگوں کو ان کے ہاتھ پر بطور خلیفہ بیعت کرنے کے لیے تین دن کا وقت دیا اور انحراف کی صورت انجام سے متعلق متنبہ کرنے یا اس کی مثال قائم کرنے کی نوبت ہی نہیں آئی۔ پورے شہر نے پہلے ہی دن وفا داری کا اعلان کر دیا اور جوق در جوق قطاروں میں لگ کر روایتی انداز میں بیعت کی۔ شہر کا ماحول دیکھنے لائق تھا، چاروں طرف جوش و خروش اور ولولہ تھا۔
اگرچہ عراقیوں کے دل معاویہ کے ساتھ نہیں تھے مگر ان کے مفادات بالضرور ہی ان سے جڑے تھے۔ کوئی انہیں اس روش ، ان کی متلون مزاجی اور ڈھل مل پر لعن طعن کرتا ہے تو کئی ایسے بھی ہیں جن کے خیال میں کوفہ کے لوگ عملی اور حقیقت پسند واقع ہوئے تھے۔ ویسے بھی، عراقی کافی عرصے سے معاویہ جیسے ہی کسی 'مرد آہن' کی تلاش میں تھے۔ علی ساری عمر اتحاد اور امت میں یگانگت کی صرف بات کرتے رہے مگر معاویہ در اصل وہ شخص تھے، جو ان کے لیے یہ مقصد حاصل کر سکتا تھا۔ جیسا کہ علی کا ماننا تھا، معاویہ یہ انتہائی مشکل کام ایمان اور اصولوں کی تحت نہیں بلکہ زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے، انتہائی عملی طریقے سے سر انجام دیں گے۔
پانچ سال کی طویل اور خون ریز خانہ جنگی کے بعد اب بالآخر امن اور قانون کی بالا دستی قائم ہو جائے گی۔ وہ سلطنت جو ماضی قریب میں تقریباً تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی تھی ، اب ایک دفعہ پھر اپنے پیروں پر کھڑی ہونے لگی ۔ ایک طرح سے کہیے، فتنے سے چھٹکارا حاصل ہو گیا تھا، ریاست کو بچا لیا گیا تھا۔ معاویہ انیس برس تک حکمرانی کریں گے اور بالآخر جب انہیں موت آن لے گی تو وجوہات قدرتی ہوں گی، جو اپنے آپ میں اس دور میں قائم امن اور خوشحالی کا اشاریہ کہلایا جا سکتا ہے۔ ان کی موت پر ایک قصیدہ گو لکھے گا، 'عربوں کی تلوار اور تیر سے خدا نے بالآخر نفاق، نزاع اور جنگ و جدل کا خاتمہ کر دیا'۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب تو سبھی ان کے گن گاتے تھے، قصیدے لکھے گئے اور ان کی شان میں غنائی نظمیں تخلیق ہوئیں۔ کیوں نہ ہوتیں؟ انہوں نے پوری سلطنت میں امن قائم کیا تھا لیکن یاد رہے امن سے پہلے کے نفاق اور پھوٹ میں جو کردار معاویہ کا رہا ہے، اس کا تذکرہ زبان پر لانے کی کسی شاعر میں کبھی ہمت ہی نہیں ہوئی۔ شاعروں کو بھی کیا دوش دیا جائے، ان کے وہ کام قصیدہ اور سورمائی داستانوں میں ڈھل ہی نہیں سکتے تھے۔
کوفہ کا شہر بھی بالآخر اطاعت شعار ہو گیا تو وہ شخص جس کا قول یہ رہا ہے کہ، 'اسے کسی خوش نما جگہ پر پھوٹتے ہوئے تازہ پانی کے چشموں سے زیادہ کوئی چیز نہیں بھاتی۔۔۔'۔ تب تو اشارہ دمشق کی طرف ہوا کرتا تھا مگر اب شام کے بعد عراق بھی ہاتھ تلے آتے ہی کم از کم سطحی طور پر ایسی ہی جگہ بن جائے گا۔ وہ خوش و خرم، انتہائی اطمینان سے اس پورے خطے پر تعیش اور تاشی کے ساتھ حکمرانی کرتے رہے۔ وہ طاقت کا استعمال کرنا جانتے تھے، انہیں نوازنے کا ہنر آتا تھا اور طیش بھی صرف حسیت اور ضرورت کے مطابق ہی دکھاتے تھے۔ ایک طرح سے یہ جدید طرز حکومت کہلایا جا سکتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ معاویہ نے دمشق میں عربی گھوڑوں اور اونٹوں کا ایک بڑا قافلہ داخل ہوتے دیکھا۔ اس قافلے کے ساتھ ایک بڑی تعداد میں کاکیشیائی حسین باندیاں بھی تھیں۔ اس منظر کو دیکھ کر ٹھنڈی سانس لی اور اپنے حال پر طمانیت اور خلافت میں پھیلی خوشحالی کا سوچ کر کہنے لگے، 'اللہ ابو بکر کو غریق رحمت کرے، انہوں نے کبھی اس دنیا کی چاہ نہیں کی اور نہ ہی دنیا کو ان کی کبھی کوئی خاص ضرورت رہی۔ پھر دنیا نے عمر کی خواہش کی لیکن ان کا یہ تھا کہ وہ ساری زندگی دنیا سے دور بھاگتے رہے۔ ان کے بعد عثمان آئے۔ انہوں نے اس دنیا کو خوب استعمال کیا مگر یہ دنیا انہیں کھا گئی۔۔۔ لیکن میرا یہ ہے کہ میں اس دنیا میں بہت خوش پھرتا ہوں!'۔
معاویہ نے علی کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔ وہ ان کا نام یوں گول کر گئے جیسے اس طرح انہیں تاریخ سے بھی مٹا دیں گے۔ لیکن وقت آئے گا، جب تاریخ ان کا نام یاد رکھے گی۔ معاویہ ایک مدبر سیاستدان کا دماغ رکھتے تھے جس نے علی جیسے روحانیت پسند کے مقابل بازی مار لی تھی۔ وہ پہلے ہی جانتے تھے کہ دنیاوی معاملات میں علی جیسے شخص کی ایک نہیں چلے گی اور بالآخر جیت انہی کی ہونی تھی۔ اس دنیا میں چالاکی ہی کام آتی ہے، صرف زیرک دماغ ہی چل پاتے ہیں۔ جب ایسا ہوتا ہے تو ایک کو 'خاک اور خار' پر بسر کرنی پڑتی ہے مگر دوسرا' حسین باندیوں کی صحبت میں تازہ دم اصیل نسل کے گھوڑوں کی سواری' کا لطف اٹھاتا ہے۔
اگرچہ معاملات پوری طرح ہاتھ میں تھے مگر معاویہ کو خوب پتہ تھا کہ عراقی بہرحال مسئلہ بن سکتے ہیں۔ انہوں نے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت تو کر لی تھی مگر معاویہ ان کے حلف اور وفا داری، یعنی زبانی کلامی عہد پر تکیہ نہیں کر سکتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے علی کی اطاعت کا وعدہ کیا تھا اور پھر سر کشی پر اتر آئے تھے۔ حسن کو یقین دہانی کرائی تھی مگر وقت آنے پر ان کی در گت بنا ڈالی۔ معاویہ کو کسی بھی صورت عراقیوں سے کسی بھی طرح وفا داری کی امید نہیں تھی۔ اگر وہ ایسا سوچتے تو بلا شک و شبہ ان کی اپنی بے وقوفی ہوتی۔ لیکن اس کے باوجود یہ انتہائی ضروری تھا کہ ان لوگوں کے عہد و پیمان پر کسی نہ کسی طرح یقین کر کے انہیں اطاعت گزاری پر برقرار رکھا جائے۔ چونکہ انہیں یقین تو نہیں تھا اس لیے اطاعت حاصل کرنے کے لیے سخت اقدامات کی ضرورت تھی۔ اس مقصد کے لیے انہیں کسی ایسے شخص کی خدمات درکار تھیں جو کوفہ کے لوگوں کو راہ راست پر رکھ سکے، سختی برت سکے اور کسی بھی بد مزہ صورتحال کو آہنی ہاتھوں سے کچلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ حسن کو کوفہ سے جاتا دیکھ کر یہاں کے لوگ ایک طرح سے خوش تھے۔ صرف لوگ ہی خوش نہیں تھے، حسن نے بھی جان چھوٹنے پر سکھ کا سانس لیا تھا۔ لیکن اب یہی لوگ، جلد ہی اپنی سوچ کہ شاید معاویہ کی صورت انہیں نا خدا مل گیا تھا، بدلنے پر مجبور ہو جائیں گے۔
معاویہ نے زیاد کو عراق کا گورنر مقرر کیا۔ زیاد ایک منجھے ہوئے جنگجو اور سپہ سالار مگر انتہائی سخت طبیعت کے مالک تھے۔ انہیں کسی زمانے میں 'ابن ابی' بھی کہہ کر یاد کیا جاتا تھا۔ ابن ابی کا مطلب 'اپنے باپ کا بیٹا' ہے۔ زیاد کے والد کی شناخت، بیک وقت متنازعہ اور تفریح کا سامان تھی۔ لوگوں میں یہ مشہور تھا کہ در اصل زیاد ، معاویہ کے والد ابو سفیان کی ناجائز اولاد ہیں۔ کچھ کہتے کہ ان کی ماں ابو سفیان کی باندی تھی، بعض نے زیاد کی ماں کو 'داشتہ' بھی کہا ہے۔ سب سے بدتر، کچھ لوگ کہتے کہ وہ عیسائی تھی اور زیاد 'نیلی آنکھوں والی ماں کا بیٹا' ہے۔ یہ افواہیں بہت پہلے کی بات ہے۔ اب کسی میں جرات نہیں تھی کہ زیاد کو یوں پکارا کرے یا ان کی پیٹھ کے پیچھے بھی اس طرح کے ٹھٹھے اڑا سکے۔ زیاد کا ایسے لوگوں سے نبٹنے کا طریقہ یہ تھا کہ وہ افواہیں پھیلانے والے کو پکڑ کر زندہ زمین میں گاڑ دیتے یا بوٹی بوٹی نوچ کر آگ میں جلا دیتے۔ زیاد اپنی بات واضح کرنے میں عجب رنگ رکھتے تھے۔ ان کا طریقہ انتہائی ظالمانہ اور قانون وغیرہ کے دائرے سے کہیں باہر ہوا کرتا تھا اور وہ رعایا کو کسی بھی طرح خاطر میں نہیں لاتے تھے۔
'مجھے اپنے ہاتھ اور زبان سے محفوظ رکھنا' وہ گورنر کا منصب سنبھالنے کے بعد کوفہ کے لوگوں سے خطاب کر رہے تھے، 'اور میں تمہیں اپنے ہاتھ اور تلوار سے محفوظ رکھوں گا۔ اللہ کی قسم! مجھے تم لوگوں میں کئی ایسے نظر آتے ہیں جو میرے غضب کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ تو کان کھول کر سن لو، اگر اپنی بھلائی چاہتے ہو تو کوشش کرو، تمہارا نام ان لوگوں میں نہ آنے پائے'۔
پہلے پہل تو کوفہ کے لوگوں نے زیاد کی خوب عزت کی، وہ لحاظ کرتے اور ڈر کے مارے دب کر رہتے۔ علی کے دور میں پھیلی ہوئی انارکی اور خانہ جنگی کے بعد کم از کم زیاد نے عوام کو تحفظ دلا دیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے یہ امن زبردستی قائم کر رکھا تھا۔ 'وہ حکم دیتے اور لوگ ان کی اطاعت اور تابعداری پر مجبور ہو جاتے' ایک کوفی نے بعد میں اس دور کو یاد کرتے ہوئے بتایا، 'اگر کسی مرد یا عورت سے راہ چلتے کوئی چیز گر جاتی تو کسی میں اتنی جرات نہیں ہوتی تھی کہ اس شے کو ہاتھ بھی لگا سکے۔ یہ وہیں زمین پر پڑی رہتی، تا آنکہ اس چیز کا مالک واپس آ کر خود نہ اٹھا لیتا۔ عورتیں رات کو دروازے کھلے چھوڑ کر سو جاتی تھیں۔ اگر زیاد کے پہرے میں کسی کے گھر سے ایک رسی بھی چوری ہو جاتی تو انہیں خبر ہوتی تھی کہ چور کون ہے؟'۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے 1930ء کے عشرے میں اٹلی کے لوگوں نے مسولینی کی آمرانہ طرز حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا اور صبر کر کے، اس طور کو مان کر بسر رکھتے تھے۔ مسولینی کے دور میں لوگ کہا کرتے تھے کہ 'اس نے کمال ہی کر دیا۔ دیکھو تو، ٹرینیں اپنے مقررہ وقت پر چلتی ہیں'۔ ساتویں صدی عیسوی میں عراقیوں نے بھی خود کو زیاد کے راج کے ساتھ ہم آہنگ کر لیا، اس پر مجبوراً راضی تھے۔ زیاد کے دبدبے اور سختی کا یہ عالم تھا کہ خوارج بھی اب کولہوں کے بل بیٹھ گئے اور مجال ہے کہ پہلے کی طرح اکڑ فوں کرتے۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں ہر وقت مکافات کا دھڑکا لگا رہتا۔ سہم کر رہتے کہ نہ جانے کس وقت انتقامی کاروائیوں کا آغاز ہو جائے۔
عراق کے لوگوں کو اس تحفظ اور امن کی قیمت خوف اوردہشت میں بسر رکھنے کی صورت ادا کرنی پڑی۔ زیاد نے اس دور میں خفیہ پولیس کا نظام تشکیل دیا تھا جس کے ذمے نہ صرف پورے عراق میں 'گم ہونے والی رسیوں' کا پتہ لگانا تھا بلکہ ساتھ ہی کونے کونے میں چھوٹی اور بڑی ہر طرح کی مخالفت اور مبینہ سازشوں کی پوری خبر رکھنے کا کام بھی تھا۔ جیسا کہ پہلے ہی دن لوگوں پر واضح کر دیا تھا، وہ کبھی کسی کے ساتھ رعایت نہیں برتتے تھے۔ لچک دکھانے کا تو سوال ہی نہیں تھا، سخت گیری اور غیر مصالحانہ طرز تھی۔ جرم ثابت ہو جاتا تو اکثر اجتماعی سزائیں دی جاتیں۔ باغات جڑ سے اکھاڑ دیے جاتے، زمین پر قبضہ کر لیا جاتا، ایک شخص کے جرم پر اس کے کنبے اور کبھی کبھار پورے قبیلے کے گھر مسمار ہو جاتے، رشتہ داروں کو دھر لیا جاتا اور جہاں ضروری سمجھا جاتا، بے انتہا سختی برتی جاتی۔ یہی نہیں، وہ لوگوں کو ایک دوسرے کے خلاف جاسوسی پر بھی ڈرا دھمکا کر تیار رکھتے۔
'ہر شخص اپنے آپ کو بچائے!' حکم جاری ہوا، 'موذی اور تخریب کاروں، خلیفہ کے مخالفین کی مجھے پوری خبر ملنی چاہیے۔ ان کی فہرستیں تیار کرو اور چپ چاپ میرے حوالے کر دو تو تمہاری جان بخشی ہو سکتی ہے۔ تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، ہاتھ بھی نہیں لگائے گا۔ لیکن اگر تم نے انکار کیا تو یاد رکھو، میں تمہاری حفاظت کا ذمہ دار نہیں ہوں۔ ایسے کسی بھی شخص کا خون اور جائیداد، حلال ہو گی' ۔یہ زیاد کے کئی حکم ناموں میں سے کشید کردہ چند احکامات ہیں۔
خفیہ پولیس، جاسوسوں کے نیٹ ورک اور انتقامی کاروائیوں کے بل بوتے پر زیاد نے جس طرح عراق پر حکمرانی کی، چودہ سو برس بعد بالکل اسی طرح ایک اور آمر بھی حکومت چلایا کرے گا۔ زیاد کی طرح صدام حسین بھی سنی تھے اور انہیں شیعہ کی اکثریتی آبادی پر حکمرانی کرنا تھی۔ اس مشکل کام کو احسن طریقے سے سر انجام دینے کا ان دونوں کو یہی طریقہ سوجھا۔ اگر لوگوں کے دلوں میں علی کا غم تھا تو زیاد اس کا کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ وہ عوام کے دلوں پر تو کنٹرول نہیں کر سکتے تھے مگر ظاہر ہے وہ ان کے عمل اور ہر قدم پر، ذہنوں پر ہر طرح سے اثر انداز ہو سکتے تھے، نظر رکھ سکتے تھے۔ زیاد اتنے ہی سنگ دل واقع ہوئے تھے جتنے صدام کے قصے مشہور ہیں۔ یعنی، ان کا یہ طریقہ ایسا کارگر تھا کہ ایک طویل عرصے تک ان دونوں کو اپنی جگہ سے ہلانا، حکومت سے علیحدہ کرنا ممکن نہیں رہا۔ زیاد تو نہیں ہلے مگر صدام کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ انہیں اقتدار سے الگ کرنے کے لیے مغرب کو جھوٹ کا سہارا لے کر پورے ملک پر دھاوا بولنا پڑا تھا۔
زیاد کو عراق کا گورنر مقرر کرنے کا ایک مقصد تھا جو سمجھ میں بھی آتا ہے۔ معاویہ نے چن کر اس کام کے لیے انتہائی موزوں شخص کا انتخاب کیا تھا مگر وہیں انہیں یہ بھی ڈر تھا کہ کل کلاں زیاد اپنی نئی دریافت کردہ حکمرانی کی صلاحیتوں کے بل بوتے پر، عراقی افواج کی مدد سے انہی کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوں۔ اس لیے ضروری تھا کہ وہ عراق کے گورنر کو ہر طرح کا اختیار سونپنے کے علاوہ یقینی بناتے کہ زیاد ہمیشہ انہی کے وفا دار رہیں گے۔ اسی لیے معاویہ نے فیاضی برتتے ہوئے اب جا کر وہ اہم قدم اٹھایا، جس کا انہیں اس سے پہلے کبھی خیال نہیں آیا تھا۔ انہوں نے یہ کیا کہ عوامی سطح پر زیاد کو ابو سفیان کا جائز بیٹا قرار دے کر ان کے ساتھ صاف خون کا رشتہ جوڑ دیا۔ اس ضمن میں باقاعدہ حکم نامہ جاری ہوا اور معاویہ نے انہیں اپنے سوتیلے بھائی کی حیثیت عطا کر کے عزت افزائی کی۔ معاویہ کے اس اعلان پر زیاد کو ماضی میں لاحق کلنک کے اس ٹیکے سے چھٹکارا مل گیا اور اس عزت افزائی پر تذلیل کے سارے داغ دھل گئے۔ ساتویں صدی میں مشرق و سطیٰ کے طول و عرض میں طاعون کی کئی چھوٹی بڑی وبائیں پھوٹی تھیں۔ ان میں سے ایک وبا کا نشانہ زیاد بھی بن گئے۔ ان کے انتقال کے بعد معاویہ نے موزوں سمجھا کہ زیاد کی وفا داریوں کا کھلے دل سے اعتراف کیا جانا چاہیے۔ چنانچہ انہوں نے زیاد کے بیٹے، یعنی اب معاویہ کے جائز بھتیجے عبید اللہ یا ابن زیاد کو عراق کا نیا گورنر مقرر کر دیا۔ زیاد کے بارے تو افواہیں تھیں، عبید اللہ نے صحیح معنوں میں خود کو 'ابن ابی' یعنی 'اپنے باپ کا بیٹا' ثابت کرتے ہوئے، انہی کی طرز حکمرانی کو جاری رکھا۔
عراق پوری طرح زیر ہو گیا اور شیعت علی کی تقریباً نشانیاں یعنی ہمدردی وغیرہ دب گئی۔ تجارتی راہداریاں ہر طرح سے محفوظ تھیں اور تجارت بغیر کسی دباؤ کے پوری زور شور سے جاری تھی۔ سلطنت جس کی حدیں مغرب میں الجیریا اور شمال میں اس علاقے تک پھیل چکی تھیں جہاں آج کل پاکستان واقع ہے۔ اس وسیع و عریض مملکت کے کونے کونے سے محصولات جمع ہو کر دمشق پہنچ رہے تھے اور معاویہ کے لیے ہر طرح سے سے سکون اور اطمینان کا دور دورہ تھا۔ صرف ایک چیز تھی جو انہیں ابھی بھی پریشان کیے رکھتی تھی۔ یہ وہ وعدہ تھا جو انہوں نے حسن سے کیا تھا، یعنی وقت آنے پر انہیں اپنا جانشین بنا کر اگلا خلیفہ مقرر کرنا تھا۔ حسن کو دستبرداری پر آمادہ کرنے کے لیے اس وقت یہ وعدہ ضروری تھا۔ انہوں نے یہ حامی بھری تھی، اکثر گھاگ سیاستدان اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے ایسا ہی کرتے ہیں، اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ترجیحات کے ساتھ حالات بھی بدل جاتے ہیں۔ اس طرح کے وعدے وعید، تھوڑے عرصے بعد بے کار ہو جاتے ہیں۔ ایک عظیم فرمانروا کی قدر و قیمت اس کی زبان نہیں بلکہ میراث ہوا کرتی ہے۔ تاریخ بعد ازاں اس بات کا ثبوت ان کی چھوڑی ہوئی سلطنت اور عظیم الشان بادشاہی کی صورت میں رقم کرے گی۔ معاویہ سے پہلے تک ' خلافت راشدہ' کا دور تھا، لیکن اب وہ پہلی بار ایک خاندان کا شاہی سلسلہ، یعنی ' خلافت امویہ' جاری کریں گے۔ یعنی یہ کہ معاویہ کے بعد ان کا فرزند یزید حکومت کی باگ ڈور سنبھالے گا۔
معاویہ کے یہ ارادے، یعنی اپنے خاندان کا عہد سلسلہ شاہی کی خواہش خلافت کی ہئیت اور شکل کو بدل کر رکھ دے گی۔ تاریخ میں ان کا یہ قدم امت کے تصور پر کاری وار سمجھا جائے گا۔ اس بابت شیعہ اور سنی، دونوں ہی متفق ہیں۔ محمدؐ کے بعد اسلام کے اولین برسوں میں جو جمہوری روایت قائم ہوئی تھی، یعنی شوریٰ کا تصور ماضی کا قصہ بن کر کر رہ جائے گا۔ اگرچہ تب بھی، زیادہ تر یہ تصور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ آشکار نہیں ہوا تھا مگر پھر بھی اصولی طور پر اس کا کبھی نہ کبھی وجود رہا ہی تھا۔ اس پر عمل در آمد پوری طرح نہیں کیا گیا مگر پھر بھی لوگ ایک زمانے تک استصواب رائے اور ہم آہنگی پر زور دیتے رہے تھے، اب تو وہ معمولی سی کرن بھی آئی گئی ہوئی۔ جیسے کبھی بازنطینی جور و جبر اور استبدادی حکومت میں عیسائیت کو تصرف میں لا کر اپنا قبلہ سیدھا کر رکھا تھا، اسلام کو اموی اپنے مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کیا کریں گے۔
اس طرز کا آغاز خود معاویہ نے کیا تھا، یزید کو جانشین مقرر کرنے سے بھی کافی پہلے ہی اس کی داغ بیل ڈال دی تھی۔ انہوں نے قدیم شاہی روایت کے مصداق، یروشلم کے شہر میں تاج پوشی کی رسم ادا کی تھی اور خود کو اسلامی سلطنت کا بلا شرکت غیرے خلیفہ اور اصل میں بادشاہ قرار دیا تھا۔ یہاں انہوں نے ماضی کے بازنطینی بادشاہوں کا کردار اپنا لیا تھا، ان کی ہی طرح شاہانہ طرز اختیار کیا تھا اور جیسے ان سے پہلے بازنطینی بادشاہ عیسائی مقدس مقامات کے سرپرست اعلیٰ سمجھے جاتے تھے، معاویہ بھی خود کو یہی کہلوائیں گے۔ وہ اب دونوں مذاہب، یعنی عیسائیت اور اسلام کے مقدس مقامات کے مربی اور نگہبان تھے۔ ان کی فوج میں کئی سپہ سالار عیسائی تھے، ان کے ذاتی معالج ابن اثل بھی عیسائی تھی۔ 'دمشق کا یوحنا' نامی عیسائی راہب اور مشہور پادری کے دادا، ساری عمر معاویہ کے دربار سے منسلک رہا اور ان کی نسل خلافت امویہ کی وظیفہ خوار رہی ۔ مقصد یہ ہے کہ معاویہ کی حکومت پر ہر طرح سے بازنطینی رنگ چڑھا ہوا تھا، وہی رسمیں، رواج اور طور طریقے تھے۔ اسی وجہ سے خلافت کا تصور جلد ہی موروثی ملوکیت یا شاہی نظام حکومت میں ڈھل جائے گا اور آخر کار معاویہ مرتے وقت اس بات پر قائل ہوں گے کہ اپنے بیٹے کو خلافت کا جانشین مقرر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور معاویہ کی سوچ اور طرز حکمرانی پر بلا شبہ یہ گماں ہوتا ہے کہ یہ بازنطینی اور فارسی زمین پر رائج، اسی پرانے نظام حکومت کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ بعد ازاں سکالر، یہاں تک کہ سنی علماء بھی معاویہ کو 'راشد' یا 'خلیفہ راشد' یعنی سچی راہ پر سدھایا ہوا، سکھلایا ہوا حکمران نہیں مانیں گے۔ حکومت کی اس قدیم شہنشاہی بارے یہ ہے کہ آگے چل کر ہم دیکھیں گے کہ یزید اس قدیم شاہی طرز زندگی کا بگڑا ہوا، مگر واقعی جیتا جاگتا ثبوت ہے۔
یزید اس برباد نسل کی تصویر تھا جسے جوانی میں عیاشی اور اسراف کے سوا کچھ نہیں سوجھا۔ یعنی یہ کہ اسے کسی بھی طرح سے ایک فرد کے اسلامی تصور میں فٹ نہیں کیا جا سکتا۔ حسن نے یزید کے بارے کہا، 'وہ ریشم پہن کر نشے میں دھت رہتا ہے'۔ یہاں تک کہ زیاد بھی معاویہ کے اس جانشین پر اکثر غصہ رہا کرتے تھے۔ بلکہ وہ معاویہ کے ان خیالات، یعنی یزید کو اگلا خلیفہ بنانے کے ارادوں پر ان کے منہ پر بھڑک جایا کرتے تھے۔ انہوں نے معاویہ کو ان الفاظ میں متنبہ کیا تھا کہ یزید 'باآسانی پھانسا جا سکتا ہے اور یہ لاپرواہ اور غافل واقع ہوا ہے۔ اسے شغل میلے اور شکار کے علاوہ کچھ سمجھ نہیں ہے'۔ معاویہ کا بیٹا یزید بلاشبہ طور پر ٹیکساس کے کسی امیر زادے کی مثال تھا جسے بیٹھے بٹھائے باپ کی امارت اور وسیع اختیار ہاتھ لگ گیا تھا۔
لیکن چیدہ لوگوں کے اوپر بیان کردہ خدشات، یزید کے بارے غلط اندازہ لگانے کے مترادف ہیں۔ کیا معاویہ اتنے ہی سادہ واقع ہوئے تھے کہ انہیں اپنے بیٹے کے لچھن معلوم نہ ہوتے؟ وہ شخص جو سامنے کھڑے کسی بھی آدمی کو دیکھ کر اس کی حیثیت پہچان لیتا تھا، کیا وہ اپنے بیٹے سے نا واقف رہا ہو گا؟ معاویہ کبھی بھی ایک عیاش اور بد کار آدمی کو جانشین بنا کر اپنی میراث اور نام کو خراب نہیں کر سکتے تھے۔ شاید یزید کو شراب نوشی پسند رہی ہو، وہ ریشم پہنتا ہو یا اکثر موج میلا کرتا رہا ہو مگر عملی میدان میں اس نے ہمیشہ خود کو ایک بہترین منتظم اور سپہ سالار ثابت کیا تھا۔ بھلے وہ اسلامی اصولوں کے تحت 'مومن' کی مثالی تصویر نہ رہا ہو، سلطنت کے امور چلانے کے لیے اس سے بھلا کیا فرق پڑتا ہے؟ معاویہ خود یہاں تک کیسے پہنچے تھے؟ ویسے بھی معاویہ یزید کو ایک تخت شاہی کا جانشین بنانا چاہتے تھے، منبر پر کھڑا کر کے خطبات دلانا مقصد نہیں تھا۔
معاویہ نے یقیناً ان اعتراضات کا خوب جواب سوچ رکھا تھا۔ وہ دلائل سوچتے ہوں گے اور انہوں نے اپنے تئیں ہر موقع پر اپنے اس ارادے کا خوب دفاع کیا تھا۔ وہ کیوں نہ سوچتے؟ مثلاً، اہل بیت کا خلافت پر دعویٰ، ان سے کیسے مختلف تھا؟ کیا ان کا مطالبہ خونی رشتوں اور موروثیت پر مبنی نہیں تھا؟ معاویہ کا یہ قدم کوئی انوکھا تو نہیں تھا، علی نے خلافت سنبھال کر کیا موروثیت کو شہ نہیں دی؟ پھر یہ بھلا کیا بات ہوئی کہ اگر کوئی شخص خوش قسمتی سے اس خاندان میں پیدا ہو گیا ہے تو کیا نسب کے ساتھ ساتھ اسے ورثے میں روحانی طاقت اور قیادت کا اختیار، یعنی سب کچھ مل گیا؟ باقی لوگ کہاں جائیں؟ کیا پانچویں خلیفہ کا بیٹا، خلافت کا اتنا ہی حقدار نہیں ہے جتنا چوتھے خلیفہ کا فرزند خود کو سمجھتا ہے؟ اور خلافت کوئی بچوں کا کھیل تو نہیں ہے، وہ استحکام جو معاویہ نے اپنی قابلیت پر اسلامی سلطنت کے لیے حاصل کر لیا تھا، کیا ان کے بعد اسے قائم رکھنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ معاویہ کی مرضی پر عمل کیا جائے؟
علاوہ ازیں، یہ ایسی بات تو نہیں تھی کہ جیسے معاویہ محمدؐ کے خاندان سے خلافت چھین رہے ہوں۔ ہاں، اہل بیت کو اس سے علیحدہ ضرور کر رہے تھے مگر خاندان کا تصور گھرانے سے کہیں بڑا نہیں ہے؟ کیا معاویہ بھی پیغمبر کا خاندان نہیں تھے؟ کیا محمدؐ ان کے بہنوئی نہیں تھے؟ اور کیا بنو امیہ کے لوگ آپؐ کے خاندان کے لوگ نہیں ہیں؟ معاویہ کے دادا امیہ، محمدؐ کے دادا عبد المطلب کے چچا زاد تھے، اس طرح معاویہ اور یزید دونوں ہی آپؐ کے دور پار سے رشتہ دار ہیں۔ یہ درست ہے کہ وہ شجرہ نسب میں کسی دوسری لکیر پر ہیں مگر اس سے کیا فرق پڑتا ہے، لے دے کر وہ ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں ہے؟
یقیناً معاویہ ایسا ہی سوچتے رہے اور گاہے بگاہے مختلف عوامی مجالس اور ذاتی محافل میں یہی منطق سامنے لاتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ وقت آنے پر انتہائی آسانی سے یزید کو جانشین مقرر کر کے دنیا سے رخصت ہو جائیں گے۔ خیر یہ بھی حقیقت ہے کہ انہیں اس کے لیے کسی ماحول کو ترتیب دینے کی، اس مشق کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔ بلکہ جلد ہی انہیں اس بارے سوچنے کی بھی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔ ہوا یہ کہ حسن چھیالیس سال کی عمر میں، تقریباً مدینہ لوٹنے کے نو سال بعد انتقال کر گئے۔ سنی کہا کریں گے کہ ان کی موت قدرتی وجوہات کی بناء پر ہوئی جبکہ شیعہ اس ضمن میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان کے یہاں مشہور ہے کہ معاویہ نے وقت سے پہلے ہی حسن کو راستے سے ہٹانے کے لیے، اپنے پسندیدہ ہتھیار یعنی زہر ملا شہد پلا کر مروا دیا۔
کچھ سنی سکالروں اور شیعہ کے مطابق معاویہ کو ا س مقصد کے لیے ان کی کمزوری ہاتھ آ گئی تھی۔ جس نے حسن کو وہ زہر ملا شہد پلایا، اس پر کسی کو شک بھی نہیں تھا۔ یہ حسن کی بیویوں میں سے ایک تھی جس کا نام جعدہ تھا۔ جعدہ نے حسن سے اس امید پر بیاہ کیا تھا کہ وہ اپنے والد، یعنی علی کے بعد خلیفہ مقرر کیے جائیں گے۔ اس کا خیال یہ تھا کہ وہ حسن کے بچوں کی ماں ہو گی، یعنی طاقت اور اختیار اس کے ہاتھ میں ہو گا۔ حسن کی دوسری بیویوں سے کئی بیٹے پیدا ہوئے لیکن جعدہ کے بطن سے کوئی اولاد نہیں ملی۔ نہ ہی اس کی پہلی خواہش پوری ہوئی، یعنی سلطنت کے خلیفہ کی بیوی کا رتبہ بھی ہاتھ نہیں آیا۔ جب حسن نے معاویہ کی طرف سے پیش کی جانے والی خلافت سے مشروط علیحدگی قبول کر لی تو جعدہ کو اس کا خاصا رنج تھا۔ وہ اب مدینہ میں رہائش پذیر ایک عالم کے گھر میں بے اختیار گھریلو عورت تھی اور مدینہ میں اس کی دلچسپی کا کوئی سامان نہیں تھا۔ جہاں حسن کی رہائش تھی، وہ جگہ بھی عام سی تھی اور ان کا امور خلافت تو دور کی بات، مدینہ کے معاملات میں بھی کوئی کردار نہ ہونے کے برابر تھا۔ لوگوں کا خیال یہ ہے کہ جعدہ نے سوچ رکھا تھا کہ اگر اس کا شوہر خلیفہ نہیں بن سکتا تو ایک دوسرا شخص تو ضرور ہی بنے گا۔ کیوں نہ، حسن کا پتہ کاٹ کر اس شخص سے نباہ کر لیا جائے ؟ شاید اس طرح اس کی خواہشات پوری ہو جائیں؟ شاید یہی سوچ کر اس نے معاویہ کی پیشکش قبول کر لی تھی۔
معاویہ نے جعدہ کو اس کام کے لیے منہ مانگی قیمت ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ صرف مال و دولت نہیں تھا بلکہ یزید سے اس کے نکاح کی بھی حامی بھری تھی۔ اگر حسن راستے سے ہٹ جائیں یا ہٹا دیے جائیں تو پھر یزید کو جانشین بنانا کوئی مشکل نہیں تھا۔ یزید خلافت سنبھال لیتا اور جعدہ کی مرضی پوری ہو جاتی۔ معاویہ نے کبھی کسی کا قرض نہیں چھوڑا، وہ مال و دولت کے معاملے میں عثمان کی ہی طرح سخی واقع ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے جعدہ کو حسب وعدہ مال و دولت تو دے دیا مگر بیٹے کا ہاتھ نہیں دیا۔ روایت میں ملتا ہے کہ حسن کی موت کے بعد حال ہی میں بیوہ ہونے والی جعدہ نے جب وعدے کے دوسرے حصے کی طرف معاویہ کی توجہ مبذول کروائی تو انہوں نے اسے جھڑک دیا، 'کیوں بھلا؟ کیا میں اپنے بیٹے کا بیاہ ایسی عورت سے کرواؤں گا جو اپنے شوہر زہر بھی دے سکتی ہے؟'
شیعہ اسلام کے دوسرے امام حسن کو مدینہ کے مرکزی قبرستان میں دفن کیا گیا حالانکہ یہ ان کی وصیت نہیں تھی۔ ان کی آخری خواہش یہ تھی کہ وہ اپنے نانا، یعنی محمدؐ کے پہلو میں دفن کیے جائیں۔ محمدؐ کی قبر عائشہ کے سابقہ رہائشی کمرے ، مسجد کے احاطے میں واقع تھی۔ حسن کی آخری خواہش کے مطابق جب ان کی میت کو مسجد کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو مدینہ کے گورنر نے آگے بڑھ کر ان کا راستہ روک لیا اور مرکزی قبرستان کی طرف رخ موڑنے کا حکم دیا۔ معاویہ حسن کو پیغمبر کے پہلو میں دفن ہو کر امر ہونا، کسی بھی صورت قبول نہیں کر سکتے تھے۔ وہ مزارات اور مقبروں کی طاقت سے خوب واقف تھے۔
اس ضمن میں کئی روایات ایسی بھی ہیں جس میں حسن کی تدفین کے معاملے میں ایک دوسری شخصیت پر بھی الزام دھر دیا گیا ہے۔ جنگ جمل کے بعد سے اب کئی برس ہو چلے تھے اور عائشہ نے مدینہ میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ وہ اب سیاست اور امور مملکت سے دور، بمشکل اسلام کی سفیر کے طورپر بسر کر رہی تھیں۔ وہ اب اپنی عمر کے اس حصے میں تھیں کہ بزرگوں میں شمار ہوتا تھا اور لوگ ان کی عمر اور رتبے کا احترام کرتے تھے۔ وہ چھوٹے موٹے تنازعات حل کرواتیں، لوگ شادی بیاہ کے فیصلوں میں ان سے مشورہ کرتے اور جہاں ان کو ضرورت پڑتی، وہ محمدؐ کے ساتھ بِتائی زندگی کے احوال سناتیں اور اکثر اسی دور کی یاد داشتوں کا سہارا لے کر اپنی من مرضی چلاتیں۔ ایسا لگتا تھا کہ شاید انہوں نے ماضی کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا ہے لیکن جب انہوں نے سنا کہ لوگ حسن کا جنازہ مسجد کی طرف لے جا رہے ہیں اور وہیں تدفین کا ارادہ رکھتے ہیں تو فوراً ہی دیرینہ آزردگی اور بیر پھر سے نکل آئی۔ وہ باہر نکل آئیں۔
جو شخص عائشہ کی غلطیوں پر انتقام الہی بن کر ٹوٹ پڑا تھا، یعنی علی کا بیٹا پیغمبر کے پہلو میں دفن کیا جائے گا؟ اس جگہ پر جہاں کبھی ان کی رہائش ہوا کرتی تھی؟ بلکہ وہ جگہ تو قانونی طور پر ابھی بھی عائشہ کے نام تھی۔ کیا ہوا اگر محمدؐ کے بعد ان کی بیواؤں کو وہاں سے نکال کر نخلستان میں نسبتاً کھلی جگہ پر منتقل کر دیا تھا، آپؐ کے زمانے کی نسبت سے تو یہ احاطہ جس میں رہائشی کمرے تھے، بیواؤں کے ہی تو نام تھے۔ وہ کسی بھی صورت اس بات کی اجازت نہیں دے سکتی تھیں۔ چنانچہ انہوں نے ذاتی استعمال میں رہنے والا بھورے رنگ کا خچر سواری کے لیے تیار کرنے کا حکم دیا۔ زین کس دی گئی اور عائشہ اس پر سوار ہو کر سیدھا جنازے کے جلوس کا راستہ روک کر سامنے کھڑی ہوئیں۔ اس وقت یہ جلوس مسجد کے نزدیک ہی تنگ گلیوں میں سے گزر رہا تھا۔ 'وہ کمرہ ابھی بھی میری ملکیت ہے' عائشہ نے بلند آواز میں کہا، 'میں اس کمرے میں مزید کسی کی تدفین کی اجازت نہیں دوں گی'۔
جلوس فوراً ہی رک گیا اور شریک افراد چپ چاپ کھڑے تھے۔ جلد ہی مزید لوگ بھی پہنچ گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ہجوم چار گنا ہو گیا۔ دونوں طرف لوگوں کی ایک بڑی تعداد جمع تھی اور لگ رہا تھا کہ ہاتھا پائی شروع ہو جائے گی۔ کچھ لوگ حسین کی طرف داری کر رہے تھے جو اپنے بھائی کی میت جلوس کے آگے رکھ کر پاس ہی کھڑے تھے۔ دوسری طرف عائشہ کی حمایت میں بھی کئی لوگ نکل آئے تھے، جو خچر پر جم کر بیٹھیں، پیچھے ہٹنے سے انکاری تھیں۔ عائشہ کے ایک بھانجے نے آگے بڑھ کر معاملہ رفع دفع کروانا چاہا، 'ہم ابھی تک جنگ جمل میں آئی چوٹوں کو سہلا رہے ہیں۔ وہ زخم تو بھرنے میں نہیں آتے اور آپ اب چاہتی ہیں کہ لوگ بھورے خچر کی لڑائی میں جت جائیں؟' بات بڑھتی گئی اور دونوں اطراف سے تند و تیز جملوں کا تبادلہ ہو رہا تھا۔ سب نے تیاری کر لی کہ اب لوگ ایک دوسرے سے بھڑ جائیں گے۔ یہ خطرہ بھانپتے ہی حسین نے فوراً ایک حل پیش کیا تا کہ بد مزگی نہ ہو۔
حسین نے کہا کہ یہ درست ہے کہ ان کے بھائی نے پیغمبر، یعنی اپنے نانا کے پہلو میں دفن کیے جانے کی خواہش رکھتے ہوئے، یہی وصیت کی تھی لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ شرط بھی لگائی تھی کہ ایسا صرف اور صرف تب کیا جائے اگر 'نقص امن کا کوئی خدشہ نہ ہو'۔ چونکہ اب بات بڑھ کر لڑائی کی حد تک جا پہنچی ہے اور 'نقص امن' کا اندیشہ ہے ۔ ڈر یہ تھا کہ حسن کے جنازے پر لوگ ایک دوسرے کو کاٹ پھینکیں گے، چنانچہ حسین نے حکم دیا کہ جلوس کا رخ بدل دیا جائے اور بجائے مسجد، مرکزی قبرستان میں تدفین کی جائے گی۔ انہیں محمدؐ کے پہلو میں تو دفن نہیں کیا جا سکا مگر ان کی قبر اپنی ماں، یعنی فاطمہ کی قبر کے ساتھ ہی بنا دی گئی۔
یوں یہ قصہ بھی تمام ہو گیا۔ کوئی وثو ق سے نہیں کہہ سکتا کہ ایسا معاویہ کے حکم پر، یعنی ان کے مقرر کردہ مدینہ کے گورنر کی ایماء پر ایسا کیا گیا یا یہ عائشہ کے اصرار کے سبب ہوا ۔ لیکن ظاہر ہے، یہ معاویہ کا زمانہ تھا اور ان کا حکم چلتا تھا۔ ایسے میں، سارا الزام عائشہ کے سرپر دھر دینے سے ساری توجہ ان کی طرف مبذول ہو گئی اور معاویہ صاف دامن بچا گئے۔ بے باک اور کبھی نہ دبنے والی ام المومنین، پہلے صرف رتبے مگر اب عمر کی زیادتی کی وجہ سے بھی، کسی بھی طرح کی نکتہ چینی سے نکل چکی تھیں۔ لوگ ان کا لحاظ کرتے تھے اور ظاہر ہے، اس معاملے میں بھی کسی شخص نے ان کی طرف سیدھی انگلی اٹھانا مناسب نہیں سمجھا۔
اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ عائشہ ابھی تک ذاتی زور اور اپنا ہی طور طریقہ برقرار رکھے ہوئے تھیں۔ مثال یوں کہ آگ تو بجھ گئی تھی مگر چنگاریاں اب بھی باقی تھیں۔ 'کیا تمہیں خوف نہیں آتا کہ کسی دن میں تم سے اپنے بھائی محمد بن ابو بکر کے قتل کا بدلہ لینے کا فیصلہ کر لوں؟' عائشہ نے ایک دفعہ معاویہ سے پوچھا، جو اس وقت مدینہ میں تھے اور عائشہ کا حال احوال پوچھنے خود ان کے یہاں آئے ہوئے تھے۔ وہ بعد میں بھی کئی محفلوں میں اس ملاقات کا تذکرہ کرتے رہے اور وہ آخر میں کہتے جو عائشہ کے بارے ان کی کہی یہ بات آج بھی زبان زد عام ہے کہ، ' کبھی کوئی موقع ایسا نہیں آیا کہ کسی معاملے کو میں بند رکھنا چاہوں تو وہ اسے بند ہی رہنے دیں اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی مسئلے کو کھولنا چاہوں تو وہ مجال ہے کہ اسے آسانی سے کھلنے دیں؟' امور خلافت سے زبردستی علیحدگی اور اب گوشہ نشینی میں بسر رکھتے ہوئے بھی عائشہ اپنی حیثیت اور رتبہ قائم رکھنے پر مصر تھیں، وہ اپنی عزت کروانا جانتی تھیں مگر اب یہ تھا کہ وہ زیادہ تر وقت کڑھنے میں گزرتا تھا۔
یہ عمر کا وہ حصہ تھا جس میں ان کے مشغولات بھی وہی تھے جو آج کل بھی عملی زندگی سے فراغت پانے کے بعد نامی گرامی عمر رسیدہ بزرگوں کے ہوا کرتے ہیں، یعنی وہ اپنی یاد داشتیں جمع کرتی رہتیں یا کہیے لکھوایا کرتی تھیں۔ وہ محمدؐ کے ساتھ بِتائی زندگی کے واقعات یاد کر کے سناتی رہتیں۔ بعد ازاں ان کے بیان کردہ یہ واقعات 'حدیث' کی شکل اختیار کر لیں گے۔ یعنی لوگ ان واقعات میں سے محمدؐ کے اقوال اور طور طریقے کشید کیا کریں گے اور ان کے افعال اور تعلیمات سنت بن جائیں گی۔ سنت کے بارے یہ ہے کہ فقہ اسلام میں قران کے بعد سنت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ عائشہ یہ واقعات بار بار سناتیں اور ہر بار تفصیلات کو پہلے سے زیادہ شستہ بنا دیتیں۔ اگر کوئی ان کی توجہ اس طرف مبذول کرواتا کہ شاید ان سے غلطی ہوئی ہے کیونکہ پچھلی دفعہ ان کا بیان مختلف تھا تو بجائے صاف تصحیح کے وہ طریقہ اختیار کرتیں جو آج جدید دور کے سیاستدانوں میں عام ہے۔ یعنی وہ کہتیں کہ تب ان سے اس بابت کہنے میں کوئی بھول چوک ہو گئی ہو گی مگر اب جو وہ بات کہہ رہی ہیں، وہی درست سمجھی جائے۔ یا پھر وہ سوال پوچھنے والے کو بیچ بات کے ہی ٹوک دیتیں اور اکثر اپنے پہلے بیان سے منکر ہو جاتیں، کہتیں کہ انہوں نے کبھی ایسا کہا ہی نہیں تھایا صاف صاف کہہ دیتیں کہ پچھلی باتوں کو چھوڑو، جو اب کہہ رہی ہوں، وہی ٹھیک ہے۔
اس طور دستبردار ہو کر زندگی گزارنے کا اثر تھا یا عمر کا تقاضا تھا کہ اب وہ پہلی سی بات نہیں رہی تھی۔ ایک دم بھڑکتی نہیں تھیں اور لہجہ بھی دھیما ہو گیا تھا۔ حسن کی موت کے بعد چند برسوں کے اندر ہی معاویہ نے خلافت کو بادشاہت میں بدل کر رکھ دیا تھا۔ عائشہ یہ حال دیکھ کر اکثر علی کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی غلطی پر پشیمان رہتیں۔ 'پیغمبر خدا کے بعد مجھ سے کئی غلطیاں سرزد ہوئیں'، انہوں نے اعتراف کیا ہے۔ وہ اب بھی سیاسی منظر نامے پر نظر رکھتی تھیں، ان سے ملنے والوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔ عرب کے طول و عرض سے قبائلی سردار جب بھی مدینہ آتے، وہ عائشہ کے یہاں ضرور ہی حاضری دیتے اور یہ ان سے بات چیت میں اکثر ایسی ہی باتیں کرتیں۔ لوگ ان کی خدمت میں تحفے پیش کرتے اور انہیں خوب عزت بخشی جاتی، رتبے کا لحاظ کیا جاتا اور پیغمبر کی نسبت سے ان کی بے حد ستائش ہوتی۔ لیکن عائشہ جانتی تھیں کہ ان کے یہ مشغولات کس قدر بے معنی ہیں۔ ایک وقت تھا کہ وہ اسلام کی داستان میں مرکزی کردار تھیں مگر اب ان وہ کونے سے لگ چکی تھیں۔ وقت بدل گیا تھا، خلافت اور اس کا تصور بھی جاتا رہا تھا۔ ایسے میں عائشہ کے پاس سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اس عظیم نظریہ حیات اور امت کی زندہ یاد گار بن کر بسر کیا کریں۔
گو عائشہ نے خود کو سیاست اور امور سلطنت سے دور کر لیا تھا مگر کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہیں اب بھی چین نہیں آتا تھا۔ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ قبائلی سردار مدینہ جاتے تو ان کے یہاں حاضری لگاتے، اسی طرح نامی گرامی سپہ سالار اور یہاں تک کہ معاویہ خود بھی ان کی خیر خبر رکھتے تھے۔ دوسروں کے ساتھ ساتھ مصر کے گورنر عمرو بھی اکثر عائشہ سے ملنے آ جاتے۔ عمرو جب بھی جاتے، کوئی لگی لپٹی نہ رکھتے اور اکثر حد پار کر جاتے۔ عائشہ جانتی تھیں کہ وہ خود ایسا نہیں کہتے بلکہ جب بھی انہیں اکسانے والی باتیں کرتے ہیں تو اس میں معاویہ کی بھی مرضی شامل ہوتی ہے۔ ایک دن عمرو عائشہ سے کہنے لگے کہ کیا ہی اچھا ہوتا اگر تم جنگ جمل میں ماری جاتیں۔ وہ اس بات پر ہکا بکا رہ گئیں، فوراً ہی وجہ پوچھی اور یہ عائشہ ہی تھیں جو عمرو جیسے شخص سے الجھ سکتی تھیں۔ غیر متوقع طور پر انتہائی بے تکلفی سے جواب آیا ، 'کیونکہ اس طرح تم عروج کے زمانے میں مر جاتیں اور جنت میں جاتیں۔ جبکہ ہم تمہاری موت کو علی کے ہاتھوں سرزد ہونے والا مذموم اور ملعون فعل مشہور کر دیتے'۔
یہ کہہ کر عمرو تو چلے گئے مگر ظاہر ہے عائشہ کوباقی ماندہ عمر اس بارے کڑھتا رہنے کے لیے مدینہ میں ہی چھوڑ گئے۔ وہ ہمیشہ ہی خود کو اسلام کا مرکز، امت کی دیوی سمجھتی آئی تھیں۔ وہ خود کو مسلمانوں کی ملکہ سمجھتی تھیں مگر کیا وہ کسی کی بچھائی شطرنج کی اس بازی پر صرف اور صرف ایک پیادہ تھیں؟
معاویہ نے حسن کی موت کے بعد رسمی طور پر اپنے بیٹے کو جانشین مقرر کرنے کا اعلان کر دیا۔ انہوں نے حسین کا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔ اپنے تئیں وہ بے شک و شبہ یہ سمجھتے تھے کہ وہ علی کے چھوٹے فرزند کو بھی پہلے کی طرح خلافت سے علیحدگی پر آمادہ کر لیں گے۔ ان کا خیال یہ تھا کہ علی بھی ثالثی پر رضا مند ہو گئے تھے اور حسن نے بھی وقت آنے پر مشروط علیحدگی اختیار کر لی تھی، حسین بھلا ایسا کیوں نہیں کریں گے؟ کیا وہ ان دونوں سے مختلف تھے؟ واقعتاً بھی ایسا ہی تھا۔ اگلے دس برس، جب تک معاویہ زندہ رہے، حسین مجہول ہی رہے۔ وہ اس بابت خاموشی اختیار کیے رہے۔ حسین جانتے تھے، خاموشی میں ہی عافیت ہے۔ وہ علی اور حسن کا حال دیکھ چکے تھے۔ صبر کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ معاویہ کے اختیار میں اس دنیا کی ہر چیز تھی مگر عمر واحد شے تھی، جس کو ڈھلنے سے وہ روک نہیں سکتے تھے۔ وقت پر معاویہ کا بھی موت پر کوئی اختیار نہیں تھا۔
معاویہ زندگی بھر گٹھیا، جوڑوں کے درد اور موٹاپے میں مبتلا رہے اور بالآخر اسی کے سبب جان سے ہار گئے۔ بیماری کے باوجود آخری دن تک ان کا طور یہی رہا کہ معاملات پر گرفت مضبوط رہے۔ وہ تکیے کے سہارے سیدھا بیٹھے رہتے اور آنکھوں میں سرمہ لگاتے تا کہ اس طرح جاندار نظر آیا کریں۔ چہرے پر ہر وقت تیل مل کر رکھتے تا کہ چمک سے منہ پر زندگی کی رونق اور جسمانی قوت کا شائبہ باقی رہے۔ اگر زندگی بھر ان کا طریق غرور اور شان تھا تو اب اس عمر تک پہنچ کر وہ خود نمائی میں بھی مبتلا ہو گئے لیکن آخری دنوں میں انہیں اچانک پرہیز گاری اور تقویٰ کا بھی خیال آیا۔ تاکید کی کہ مرنے کے بعد انہیں اس قمیص میں دفنایا جائے جو محمدؐ نے خود انہیں دی تھی۔ وہ اب تک پیغمبر کی یہ قمیص اور چند ناخن سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔ 'نبی کے ناخنوں کو کاٹ کر ان کا کترن بنا لینا اور میرے منہ اور آنکھوں پر چھڑک دینا۔ شاید اس طرح خدا ان کے صدقے مجھ سے رحم کا معاملہ کرے؟'۔
معاویہ مرے تو یزید ان کے سرہانے اور حسین دماغ پر کھڑے تھے۔ انہوں نے یزید کو وصیت کی اور کچھ اس طرح خبردار کیا، 'حسین کمزور اور ادنیٰ شخص ہے لیکن عراق کے لوگ بغاوت کے لیے اسے اکسانے سے باز نہیں آئے گا۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو تم اسے شکست دینا اور پھر معاف کر دینا کیونکہ وہ پیغمبر کا نواسا ہے اور اس کا یہی بڑا حق ہے'۔
اگر یزید معاویہ کی بات پر توجہ دیتا تو شاید صدیوں سے جاری نزاع اور جھگڑا ٹل سکتا تھا۔ وہ انقسام جو اب دب چکا تھا، وقت کے ساتھ ختم ہو جاتا لیکن ظاہر ہے، شاید اس کے ساتھ امت اور خلافت کا تصور بھی مر جاتا۔ لیکن ایک یا دوسری صورت، ہم جانتے ہیں کہ تاریخ بنانے والے زیادہ تر وہی ہوتے ہیں جو سرکش واقع ہوئے ہوں۔
22 اپریل، 680ء کے دن یزید کو نیا خلیفہ بنا دیا گیا۔ منصب سنبھالتے ہی اس کا پہلا کام پیر جمانا اور خود کو مستحکم کرنا تھا۔ فوراً ہی زیاد کے بیٹے عبید اللہ کی بطور گورنر عراق توثیق کر دی تا کہ اگر وہاں کوئی مخالفت سر بھی اٹھائے تو فی الفور کچلی جا سکے۔ ساتھ ہی مدینہ کے گورنر کو خط کے ذریعے حکم جاری کیا کہ حسین کو گرفتا ر کر لے۔ 'اتنی سختی سے پیش آؤ کہ حسین کے پاس حرکت کا موقع بھی نہ رہے اور نئے خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت سے قبل کوئی قدم نہ اٹھا سکے۔ اگر وہ تعاون نہ کرے یا مزاحمت پر اتر آئے تو بے شک ختم کر دو'۔
لیکن مدینہ کا گورنر ، جو معاویہ کے احکامات کی فوراً تعمیل کرتا تھا، یزید کا خط پڑھ کر پس و پیش سے کام لینے لگا۔ حسن کی میت کو محمدؐ کے پہلو میں دفن ہونے سے روکنا ایک بات تھی مگر حسین کا، یعنی پیغمبر کی بچ جانے والی آخری نشانی، ان کے نواسے کو کیسے قتل کرتا؟ یہ سوچ کر ہی اسے ہول اٹھتے تھے۔ 'میں یہ نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی مجھے اس کے عوض ساری دنیا کی مال و دولت لا دے اور اختیار دلا دے، میں پھر بھی یہ نہیں کر سکتا'، گورنر نے اپنے مشیروں سے کہا۔
شاید یہ مدینہ کا گورنر ہی تھا جس نے حسین کو حالات بارے متنبہ کر دیا تھا یا شاید یہ گورنر کے مشیروں میں سے کوئی تھا، جس نے حسین کو خبر کر دی اور احتیاط برتنے کا مشورہ دیا۔ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ جس دن یزید کا خط پہنچا، اسی رات تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حسین نے اپنے قریبی رشتہ داروں، عزیزوں اور خیر خواہوں کو جمع کیا اور فوراً ہی مدینہ سے رخصت لی۔ اس قافلے کا رخ مکہ کی طرف تھا۔
حسین ابھی مکہ بھی نہیں پہنچے تھے کہ ایک کے بعد دوسرے قاصد کی آمد شروع ہوئی۔ یہ قاصد بغیر رکے، کوفہ سے طویل اور تھکا دینے والا سفر طے کر کے حسین تک پہنچ رہے تھے۔ ان کے ہاتھ میں خطوط ہوتے جن میں حسین سے عراق جانے کی استدعا کی گئی تھی۔ لوگ منتیں کر رہے تھے کہ وہ آئیں اور انہیں یزید اور اس کے گورنر عبید اللہ کی زیادتیوں سے چھٹکارا دلائیں۔ ان سے کہا گیا تھا کہ وہ مزید کوئی تامل نہ برتیں اور خلافت کا دعویٰ کریں اور اسلام کی روح کو زندہ کریں جو امویوں کے ہاتھ ملوکیت کی شکل میں کچلی جا چکی تھی۔ حسین مکہ پہنچ چکے تھے اور ان خطوط کی بہتات میں بالآخر وہ خط آ گیا جس کا حسین کو شدت سے انتظار تھا اور وہ قائل ہو گئے۔ یہ خط مسلم کی جانب سے لکھا گیا تھا۔ مسلم حسین کے ہمزاد تھے، جنہوں نے انہیں فوراً عراق کا رخ کرنے کا مشورہ دیا تھا اور تصدیق کی تھی کہ ان کے ساتھ بارہ ہزار مسلح افراد کا لشکر جمع ہے جو ان کے جھنڈے تلے، ایک اشارے پر لڑ مرنے کو تیار کھڑے ہیں۔
اس خط کے جواب میں حسین کا فیصلہ اسلام میں تفریق کا حتمی قدم ثابت ہو گا، آپ اپنی سہولت کے لیے اسے تابوت میں کیل وغیرہ بھی قرار دے سکتے ہیں۔ یہ دراڑ اب ایسے شگاف میں بدل جائے گی جو کبھی بھر نہیں سکتی۔ مسلمانوں کے دل و دماغ، سائیکی میں یہ نفاق بیٹھ جائے گا اور اسلام کا الہامی تصور، یہ نظریہ حیات اور آفاقی پیغام خلافت اور ملوکیت کے چکر میں پھنس کر کہیں گم ہو کر رہ جائے گا۔ وہ اندھیرا ہو گا کہ چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی اس کا سراغ نہیں ملے گا۔ شیعہ اسلام کے تیسرے امام، پہلے کے فرزند اور دوسرے کے بھائی، حسین ابن علی 680ء میں ستمبر کے مہینے میں اپنے خاندان اور بہتر مسلح جنگجوؤں کے ساتھ مکہ سے نکلے اور عراق کا قصد کیا۔ وہ نہیں جانتے تھے کہ یہ صرف ایک سفر نہیں بلکہ ان کا سفر آخرت ہے۔ وہ اپنی موت کی طرف بڑھ رہے تھے۔ ایک ماہ کے اندر وہ انتہائی بے دردی سے قتل کر دیے جائیں گے۔ معاویہ کا خیال تھا کہ حسین 'کمزور اور ادنیٰ' شخص ہے مگر اب یہ 'معمولی' آدمی ہمیشہ کے لیے امر ہو جائے گا۔ 'شہداء کا شہزادہ' بن جائے گا۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی اگلی قسط نمبر 13 یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر