اول المسلمین کے بعد - حسین - 13

 


شیعہ کے مطابق یہ بات قطعاً درست نہیں ہے کہ حسین کو اپنے انجام کی خبر نہیں تھی۔ اس سارے معاملے کا محور ہی یہ نکتہ ہے کہ حسین کو بگڑتے ہوئے حالات کا پوری طرح ادراک تھا۔ وہ اچھی طرح سمجھ رہے تھے کہ کس ڈگر چل رہے ہیں اور بالآخر انجام موت ہے، قربان ہونا ہے۔ انہیں سب پتہ تھا۔ مثلاً، سفر عراق ابھی شروع ہی ہوا تھا اور انہیں کئی لوگوں نے قدم قدم پر متنبہ کیا، آگے نہ بڑھنے کا مشورہ دیا تھا۔ ان کے خیر خواہ خطوط لکھ کر حسین کو حالات سے آگاہ کر رہے تھے۔ صرف انہیں ہی نہیں ، ان کے خاندان کے لوگوں اور بہتر جنگجوؤں سے بھی خط و کتابت جاری تھی، ان سے بھی پیش خیمے کا تذکرہ کیا اور خطرات سے مسلسل آگاہ کرتے رہے۔
'کیا تمہیں واقعی یقین ہے کہ کوفہ کے لوگ تمہاری آواز پر اٹھ کھڑے ہوں گے اور اپنے جابر حاکموں کو گدی سے اتار پھینکیں گے؟' حسین کے ہمزاد بار بار پوچھتے، 'یہ لوگ تو با آسانی بک جاتے ہیں۔ عراقی درہم کے غلام ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ یہ تمہیں بھی بیچ راستے میں چھوڑ دیں گے بلکہ وقت آیا تو یہ تم سے بھی جنگ کرنے سے باز نہیں آئیں گے'۔
ایسا لگ رہا تھا جیسے حسین کو ان باتوں سے اب قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ بلکہ کہیے ان کا رویہ ایسا تھا کہ جیسے انہیں کسی سے کوئی سروکار ہی نہ ہو۔ مثلاً یہ جواب، 'واللہ، اے میرے بھائی! میں جانتا ہوں کہ تم ایسا میری خیر خواہی میں کہتے ہو ۔ تمہاری صلاح سچی اور معقول ہے' مزید لکھتے ہیں، 'لیکن جو قسمت میں لکھا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔ میں رکوں یا چلوں، آگے بڑھوں یا پیچھے ہٹ جاؤں۔۔۔ جو لکھا ہے وہ تو ہو کر رہے گا اور اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا'۔
پھر بھی، قسمت پر اتنا بھروسا؟ آخر کیوں؟ آنے والی خبریں اچھی نہیں تھیں اور اطلاعات میں انتباہ بڑھتے ہی جا رہے تھے۔ اس کے باوجود انہوں نے آخر آگے کا سفر کیوں جاری رکھا؟ مکہ سے نکلے ابھی صرف ایک دن گزرا تھا کہ قاصد ایک دوسرے ہمزاد کا پیغام لایا، 'اللہ کے نام پر واپس لوٹ آؤ' مزید لکھا تھا، 'عراقیوں کے دل بے شک تمہارے ساتھ ہوں گے مگر مجھے ڈر ہے کہ ان کی تلواریں یزید کے لیے چلتی ہیں' حسین نے اس تنبیہ پر بھی اپنے خیر خواہ کو تسلیمی جواب لکھا۔ اس کا خط جیب میں ڈالا اور سفر بدستور جاری رکھا۔
اس سے اگلے دن مکہ کے گورنر کا خط آ گیا۔ اس نے نہ صرف اپنے عہدے بلکہ اپنی جان کو بھی خطرے میں ڈال کر حسین کو یہ خط لکھا تھا۔ خط میں اس نے ذاتی طور پر حسین سے لوٹ آنے کی اپیل کی تھی اور 'خوش اخلاقی، نرمی، کشادہ دلی اور تحفظ' کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن حسین نے جواب دیا، 'حفاظت اور کشادہ دلی کا وعدہ صرف خدا کا ہے۔ وہ سب سے بہتر محافظ اور رحم کرنے والا ہے'۔
جہاں کئی لوگ انہیں متنبہ کر رہے تھے، وہیں کچھ ایسے بھی تھے جو راستے میں ان کے ہمراہ ہو گئے۔ ان کے ساتھ شریک سفر ہو گئے۔ یہ قافلہ جب حجاز کی پہاڑیوں کو پار کر کے جزیرہ عرب کے شمال میں لق و دق صحرا میں داخل ہوا تو رفتار ایسی تھی کہ دن بھر سفر کے بعد رات کا پڑاؤ کسی چشمے یا کنوئیں کے کنارے پڑتا، جہاں سستانے کی جگہ مل جاتی اور اگلے دن کے لیے پانی کا سامان ہو جاتا۔ یوں، جلد ہی ان کے اس سفر کی خبر صحرا میں پھیل گئی ۔ پانی کے ذخیرو ں اور آس پاس آبادیوں میں ان کے مقصد اور ارادوں کا چرچا ہو گیا۔ جو بھی سنتا، ہمت اور نیت کا قائل ہو جاتا، یوں جلد ہی صحرا کے قبائلی جنگجو ان کی صفوں میں شامل ہونے لگے۔ ان میں سے زیادہ تر اس بات پر خوش تھے کہ بالآخر حسین قیادت کو واپس عرب میں لے آئیں گے۔ تین ہفتوں پر محیط اس سفر کا پہلا ہفتہ پورا ہوا تو شروع میں اگر صرف بہتر جنگجو ساتھ تھے، اب تعداد بڑھ کر سینکڑوں تک پہنچ گئی۔ جلد ہی یہ خیال بھی پنپنے لگا کہ عراق تک پہنچتے پہنچتے، یہ مختصر قافلہ ایک بڑے مگر انتہائی منظم لشکر میں بدل جائے گا۔
اس حوصلہ افزاء صورتحال کے باوجود خیر خواہوں کے پیغامات، تنبیہ کا تانتا پھر بھی بندھا رہا۔ ہر ایک خط میں عراق سے دور رہنے کی تاکید کی جاتی، احتیاط سے کام لینے کو کہا جاتا۔ ہر بار، ہر خط کے جواب میں حسین پیغام بھجوانے والے کا شکریہ ادا کرتے ، اس کی تجویز اور تاکید کو 'نیک نیت اور معقول ' قرار دیتے اور اس کو نظر انداز کر دیتے۔ پھر ایک دن وہ پیغام آیا جسے وہ کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کر سکتے تھے۔
قاصد گھوڑے پر سوار تھا۔ وہ اتنی تیزی سے قافلے کی طرف بڑھ رہا تھا جیسے اس کے پیچھے کوئی خطرہ ہو۔ وہ اتنی سرعت سے آگے بڑھ رہا تھا کہ بیسیوں میل دور بھاگتے ہوئے سر پٹ گھوڑے کے کھروں سے دھول اٹھتی ہوئی دیکھی جا سکتی تھی۔ یہ پیغام رساں پیچھے سے نہیں بلکہ سامنے سے آ رہا تھا۔ اس سے پہلے لوگ مکہ اور مدینہ سے انہیں خط لکھ کر حالات سے چوکنا رہنے کی تاکید کرتے رہے تھے مگر پہلی بار کوئی شخص عراق سے پیغام لایا تھا۔ حسین کا قافلہ دن بھر سفر کی تھکان سے چور تھا اور پڑاؤ ڈالنے کی تیاریاں جاری تھیں کہ یہ آدمی آن پہنچا۔ گھوڑے سے اترا، کسی نے پینے کے لیے پانی دیا تو ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا ۔ خبر اتنی اہم تھی کہ اسے فوراً حسین تک پہنچایا جانا انتہائی ضروری تھا۔
اس قاصد کو حسین کے ہمزاد مسلم نے بھجوایا تھا۔ اس سے پہلے مسلم نے خط لکھ کر حسین کو فوراً عراق پہنچنے کی تاکید کی تھی ۔ ان کی اطلاع غلط نہیں تھی۔ کوفہ کے لوگ واقعی ان کے ساتھ نکل آئے تھے اور حسین کے ہاتھ پر بحیثیت خلیفہ بیعت کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے یزید کے گورنر عبید اللہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا پکا تہیہ کیا تھا اور حسین کو بلا بھیجا تھا ، تا کہ ان کی سپہ سالاری میں دمشق پر چڑھائی کر سکیں۔ یزید کے تخت کو اکھاڑ پھینکیں اور حسین کو محمدؐ اور علی کا اصل جانشین بنا کر خلافت کی کرسی پر بٹھا دیں۔ قاصد نے بتایا کہ یہ سب سچ تھا مگر اب حالات بدل چکے ہیں۔ معاملات اتنے آسان نہیں رہے جتنے پہلے دکھائی دیتے تھے۔
مسلم جس قدر خلافت اور اسلام کی اصل روح بارے جذباتی واقع ہوئے تھے، اگر اس کے مقابلے میں معمولی سمجھ بوجھ سے بھی کام لیتے تو فوراً بھانپ جاتے کہ کوفہ کے لوگوں کی طرف سے جوش و خروش سے حمایت کا یقین دلانا صرف وقتی ابال تھا۔ وہ ایک متوکل تھے، یعنی انہوں نے پورے معاملہ کی چھان بین کرنے کی بجائے فوراً ہی لوگوں کی زبان پر توکل، یعنی تکیہ کر لیا۔ وہ بھول گئے کہ وعدہ کرنا ایک بات ہے، مگر اس وعدے کی بنیاد پر ہتھیار اٹھائے، ہمت باندھ کر اسے پورا کرنا، قطعی طور پر الگ چیز ہوتی ہے۔ ہوا یہ کہ مسلم جذبات میں بہہ گئے اور لوگوں کا جوش و خروش دیکھ کر اس چیز پر یقین کر بیٹھے، جو ان کے دل میں تھا۔ جس چیز کی انہیں چاہ تھی، جو وہ ممکن ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔
جیسے مسلم، ویسے ہی کوفہ کے باسیوں کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ معاویہ کے طویل دور میں جس طرز کی حکمرانی عراق میں جاری رہی، گورنر نے جس طرح انہیں دبا کر رکھا تھا، معاویہ کے گزر جانے کے فوراً بعد عوام میں ایک دم امید پیدا ہو گئی تھی۔ لوگ جوش جذبات میں بہہ گئے اور ایسے میں ان کی نظر میں حسین کے علاوہ کوئی نہیں تھا جو قیادت سنبھال کر انہیں اس جبر و استعداد اور نا انصافی سے چھٹکارا دلا سکے۔ لیکن بات یہ ہے کہ امید جس قدر عمدہ خیال ہے، اس کا تصور اتنا ہی دقیق ہوتا ہے ، ذرا سی مشکل آنے پر یہ فوراً، بھک سے کافور بھی ہو سکتا ہے۔ کوفیوں کو اپنے گھر بار کا خیال بھی رکھنا تھا، بچے پالنے تھے، معاش اور گزران کا بھی سوچنا تھا اور اپنی حفاظت بارے بھی پریشان تھے۔ معاویہ کے بعد یزید کا پہلا حکم ہی عراقیوں کے بارے جاری ہوا تھا۔ کوفیوں کو اب جا کر زمینی حقائق کا واقعی ادراک ہوا کہ کچھ بھی نہیں بدلا اور ایسے حالات میں پہلے کی ہی طرح بسر کرنے میں ہی عافیت ہے۔ کسی بھی امید پالنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ در اصل، ان کو دبا کر رکھنے والی قوتیں امید کی اس باریک کرن سے کہیں بر تر تھیں۔
عراق کا گورنر یعنی زیاد کا بیٹا عبید اللہ پہلے ہی جابر اور سخت طبیعت مشہور تھا۔ یزید نے اس کا عہدہ برقرار رکھا تھا اور حکم جاری کیا تھا کہ ممکنہ طور پر اٹھنے والی کسی بھی بغاوت کو سختی سے کچل دے۔ یہ شہ ملتے ہی عبید اللہ اب پہلے سے بھی کہیں زیادہ سخت دلی کا مظاہرہ کرنے والا تھا۔ اپنے باپ کی ہی طرح وہ بھی خود کو صحیح معنوں میں اپنے باپ کا بیٹا ثابت کرے گا۔ زیاد کی ہی طرح بلکہ کسی بھی زمانے میں جابر اور ستم شعار حکمران کی طرح، عبید اللہ کو اس بات کی پوری سمجھ تھی کہ امید بھلے کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو، خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ یہی نہیں، وہ یہ بھی جانتا تھا کہ اس طرح کی کسی بھی امید کی روشنیوں کو کیسے گل کیا جا سکتا ہے، تحریک کیسے ختم ہو۔ لوگ جانتے تھے کہ عبید اللہ کسی بھی صورت حسین کو کوفہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔ خفیہ پولیس، جاسوسوں کا نیٹ ورک، انتہائی سخت جان فوج اور عبید اللہ کی طبیعت، یہ سب جمع کریں تو کوفہ کا بچہ بچہ جان گیا کہ حسین کا اس شہر میں داخل ہونے کا سرے سے کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس بات کا ثبوت یوں سامنے آیا کہ جیسے حسین کوفہ میں جیتے جی داخل نہیں ہو سکتے، مسلم بھی زندہ اور صحیح سلامت شہر سے باہر نہیں جا سکیں گے۔
'خواہ مخواہ خود کو ہلاکت میں مت ڈالو' عبید اللہ نے کوفیوں کو مخاطب کر کے کہا، 'اگر تم میں سے کسی نے اس شخص کو پناہ دی تو یاد رکھو، تمہارا وہ حال کیا جائے گا جو تم نے خود اپنے لیے کمایا ہو گا'۔ یوں، گاجر اور چھڑی کے قصے میں لوگوں کو چھڑی دکھا دی اور گاجر کا یہ ہوا کہ اسی اعلان میں مسلم کی اطلاع دینے یا حوالگی پر ان کے سر کی بھاری قیمت بھی مقرر کر دی گئی۔
کوفہ میں کسی کو ذرہ برابر شک نہیں تھا کہ اگر نا فرمانی کی تو چھڑی کیسے چلے گی۔ عبید اللہ کے ہاتھوں انجام کیسا درد ناک ہو سکتا ہے۔ ماضی میں کئی بار ایسا ہوا کہ جس شخص نے بھی اسے نا خوش کیا، اس کو بیچ چوراہے میں، جہاں اونٹوں کی منڈی لگا کرتی تھی ، پھانسی پر لٹکا دیا جاتا۔ لاش کئی ہفتوں تک یہی ٹنگی سڑتی رہتی اور صرف اس شخص نہیں بلکہ اس کے رشتہ داروں کے بھی گھر مسمار کر دیے جاتے۔ پورے کے پورے کنبے کو شہر بدر کر کے صحرا میں پھینک دیا جاتا اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں رہتا تھا۔ وہ بارہ ہزار جنگجو جنہوں نے جوش خروش میں مسلم کی سپہ سالاری میں حسین کے جھنڈے تلے لڑنے کا وعدہ کیا تھا، اس اعلان کے بعد ایک دم ان کی تعداد گھٹ کر پہلے چار ہزار ہوئی، پھر تین سو رہ گئے اور ایک دن ایسا آیا کہ مسلم کے ساتھ صرف چند لوگ ہی کھڑے تھے۔ جب یہ حال دیکھا تو اگلے ہی دن وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے اور بھرے پرے شہر کوفہ میں مسلم اکیلے رہ گئے۔
کہا جاتا ہے کہ مسلم کی حالت دیکھنے والی تھی۔ وہ شہر بھر میں چھپتے چھپاتے، پا پیادہ پھر رہے تھے۔ راستے میں لوگوں کو روک کر مدد مانگتے تھے اور مدد تو در کنار، پینے کو پانی بھی نہیں ملتا تھا۔ جس دروازے پر جاتے، وہ بند ہی ملتا اور بار بار کھٹکھٹانے پر بھی کوئی باہر نہ نکلتا ۔ عبید اللہ کی خفیہ پولیس کا ایسا ڈر تھا کہ لوگ پناہ تو دور کی بات، انہیں نظر اٹھا کر دیکھنے سے بھی گریزاں تھے۔ پھر ایک دن، اچانک ایک دروازہ کھل ہی گیا اور ان لوگوں نے مسلم کو اندر بلا کر چھپا لیا۔ مسلم کی جان میں جان آ گئی لیکن وہ نہیں جانتے تھے کہ اس شخص نے انہیں بچانے کے لیے نہیں بلکہ بیچنے کے لیے پناہ دی تھی۔ وہ مسلم کو عبید اللہ کے حوالے کر کے انعام حاصل کرنا چاہتا تھا۔
اسی شام عبید اللہ کے سپاہی گرفتار کرنے آئے تو اس وقت تک مسلم نے کسی نہ کسی طرح، ایک انتہائی جرات مند شخص کو پیغام رسانی پر آمادہ کر لیا تھا۔ اسے تاکید کی تھی کہ وہ فوراً روانہ ہو جائے اور رکے بغیر، دن اور رات سفر کرے ۔ سیدھا حسین کے قافلے سے جا ملے اور حسین کو بالمشافہ ملے اور خود یہ اطلاع پہنچائے۔ 'حسین سے کہو کہ وہ واپس لوٹ جائیں' مسلم نے کہا تھا، 'انہیں بتاؤ کہ کوفیوں نے مسلم سے جھوٹ بولا تھا اور وہ انہیں بھی دغا دیں گے'۔
جب مسلم کو زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑ کر گورنر کے محل کی طرف لے جایا جا رہا تھا، یہ قاصد اس وقت تک شہر سے نکل کر صحرا میں گھوڑے پر سوار، سر پٹ حجاز کی طرف دوڑ رہا تھا۔ مسلم کا انجام کیا ہو گا؟ یہ بات مسلم، مسلم کا قاصد اور پورا شہر کوفہ بخوبی جانتا تھا۔ 8 ستمبر 680ء کو سوموار کے دن شام کے اندھیرے پھیلتے ہی کوفہ میں اگر اب تک یزید کے خلاف بغاوت کی کوئی امید باقی بھی تھی تو وہ گل ہو گئی۔ اگلی صبح ، جب حسین اپنے خاندان اور خیر خواہوں کا مختصر قافلہ لیے مکہ سے عراق کے لیے نکل رہے تھے، کوفہ میں مسلم کی سر کٹی لاش زمین پر گھسیٹ کر اونٹوں کی منڈی میں لائی گئی اور اسے عبرت کا نشان بنا کر بیچ چوراہے میں لٹکا دیا گیا۔
قاصد نے کوفہ کا حال اور مبینہ طور پر مسلم کا انجام من و عن سنا دیا۔ ابھی اس کی بات ختم بھی نہیں ہوئی تھی کہ صحرا کے قبائلی جنگجو رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر چپ چاپ، ایک ایک کر کے کھسکنے لگے اور قافلے کا ساتھ چھوڑ گئے۔ آخر میں حسین، ان کا خاندان اور وہی بہتر جنگجو باقی رہ گئے جو ان کے ساتھ مکہ سے چلے تھے۔ حسین کی یہ مہم شروع ہونے سے پہلے ہی ناکام ہو چکی تھی۔ اگر یہ حالات دیکھ کر حسین نے ایک لمحے کے لیے بھی پلٹ کر واپس لوٹ جانے کے بارے سوچا تھا تو اس کا تاریخ میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
ہاں، یہ روایت ضرور ملتی ہے کہ حسین نے کہا، 'ہر شخص نامعلوم راستوں پر سفر کرتا ہے اور اس کی انجانی منزل اس کی طرف بڑھتی رہتی ہے'۔ چنانچہ اگلی صبح انہوں نے سفر جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
تنازعہ اس بات پر نہیں ہے کہ تب واقعہ کیا ہوا، اصل جھگڑا تو یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟ یہ تقریباً سمجھ سے باہر ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس سوال کے جواب کا دارو مدار حسین کی سوچ پر ہے۔ یعنی، وہ کیا سوچ رہے تھے؟
آخر حسین نے یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ ان کی مہم ناکام ہو چکی ہے، سفر کیوں جاری رکھا؟ کیا وہ اپنے حق خلافت پر دعویٰ کی سچائی پر اس قدر قائل تھے کہ زمینی حقائق کو ہی بھلا بیٹھے؟ وہ اپنے نسب، یعنی بزرگی اور عالی شان مقام پر اور نسبت پیغمبری کی وجہ سے اس قدر صالحیت اور دھن میں مبتلا ہو گئے تھے کہ انہیں اپنے مقصد، یعنی خلافت اور امت کے تصور کو دوبارہ زندہ کرنے کے سوا کوئی دوسری شے نظر ہی نہیں آ رہی تھی؟ یا پھر کیا وہ اپنے اعلیٰ اخلاقی اقدار اور غیرت کے بے پناہ احساس کے ہاتھوں پچھڑ گئے؟ اس کے علاوہ کیا کہا جا سکتا ہے کہ وہ اتنے سادہ واقع ہوئے تھے؟ کیا ان کا یہ فیصلہ مایوسی، غیر متوقع نتائج پر نراس کا نتیجہ تھا یا وہ واقعی یوں بے یار و مدد گار، بیچ صحرا میں بے دردی سے قتل ہو کر دنیا کا سب سے انوکھا احتجاج ریکارڈ کروانے کا ارادہ رکھتے تھے؟ کیا وہ اس طرح کٹ کر اسلام کے آفاقی پیغام کو واقعی امر کرنا چاہتے تھے؟ کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آیا حسین کا یہ فیصلہ غیرت کا تقاضا تھا، محض حماقت تھی یا وہ اچھی طرح سوچ سمجھ کر، فہم اور فراست کی انتہاؤں کو پار کر کے، آگے بڑھ رہے تھے؟
حسین جنگجو تھے اور نہ ہی انہیں امور سیاست سے رغبت تھی۔ وہ ایک عالم تھے۔ حسن کے بعد ان کی علمی حیثیت بارے یہ مشہور تھا کہ دنیا میں وہ واحد شخص ہیں جو واقعی محمدؐ کی تعلیمات کو اصل معنوں میں سمجھتا ہے، امت اور اسلام کے الہامی پیغام کی روح کو جانتا ہے۔ اب ان کی عمر بھی خاصی ہو چکی تھی۔ تو پھر آخر مکہ اور مدینہ میں ہی آرام سے، سکون اور اطمینان کے ساتھ بسر کیوں نہ کی ؟ ان کے بعد شیعہ کے اماموں نے جس طرح خود کو ریاست کے امور سے الگ کر لیا، آخر وہی کام حسین نے کیوں نہ کیا؟ انہیں کس بات کی بے چینی تھی؟ یہی نہیں بلکہ آخر انہیں کیا سوجھی تھی کہ اپنی قسمت کوفیوں کے ہاتھ میں دے دی، کیا یہ وہی لوگ نہیں تھے جنہوں نے بیس سال پہلے علی کے احکامات کی تعمیل سے انکار کر دیا تھا؟ انہوں نے تو علی کو کہیں کا نہیں چھوڑا تھا۔ حسن کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ اس بات کو بھی چھوڑیے کہ اس بات کو تو اب بیس سال ہونے کو آئے تھے۔ بیس سال تک وہ معاویہ اور ان کے مقرر کردہ گورنر زیاد کے زیر حکومت رہے اور اب ان پر یزید اور عبید اللہ کا حکم چلتا تھا۔ کیا حسین واقعی یہ سمجھتے تھے کہ وہ بدل چکے ہوں گے؟ کیا ان کی سوچ کے مطابق ان حالات میں بھی حق اور انصاف کی بات جبر اور طاقت کے سامنے کھڑی رہ سکتی ہے؟ یا کیا وہ اس خیال خام میں گم تھے کہ یہ ستر ، بہتر مسلح فدائی یزید کی منظم فوج کو واقعی شکست دے سکتے ہیں؟
سنی علماء کی ایک بڑی تعداد کے نزدیک حسین کا عراق کی جانب سفر اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ایک وسیع سلطنت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لیے نا موزوں امیدوار تھے۔ وہ ان کے اس منصوبہ اور نتیجے میں پیش آنے والے سانحے کو بد قسمتی ہی گردانا کریں گے ۔ ان کا یہ عزم حد سے زیادہ رومان پسندی کی عملی تصویر ٹھہرے گا۔ ان کے مطابق یہ ایسی مہم تھی جس کی کوئی صورت، سر پیر نہیں تھا بلکہ اس کی چنداں ضرورت ہی نہیں تھی۔ حسین کو بجائے حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے تھا، محتاط رہتے اور تاریخ کے سامنے سر نگوں ہو جاتے۔
اس ضمن میں سنی آگے چل کر شیعہ کے سخت مخالف عالم دین، ابن تیمیہ کا حوالہ دیں گے جن کی تصنیفات آج بھی سنی مکتب فکر کا محور سمجھی جاتی ہیں۔ ان کی لکھی ہوئی باتیں، آج سنی آبادیوں کے دماغ میں پختہ ہو کر سختی سے بیٹھ چکی ہیں۔ ابن تیمیہ نے لکھا تھا کہ 'ایک جابر حکمران تلے ساٹھ سال بسر کرنا، کسی نا اہل شخص کی ایک رات کی حکومت سے بہتر ہے'۔ ان کی دلیل یہ تھی کہ غیر موثر انداز میں چلائی جانے والی ریاست میں اسلامی قوانین کا اطلاق تو دور کی بات، ان کا پھلنا پھولنا بھی تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ان کی اسی دلیل کو آگے بڑھائیں تو وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ جیسے پہلے ہوتا تھا یعنی محمدؐ کے زمانے میں رہا کرتا تھا، اب ریاست اور مذہب ایک ہی چیز اور ایک جیسے بھی نہیں رہے۔
'خلفائے راشدین' کی اصطلاح ابن تیمیہ کی ہی ایجاد کردہ ہے۔ مراد یہ تھی کہ یہ چاروں یعنی ابو بکر، عمر، عثمان اور علی سیدھی راہ پر چلائے ہوئے یا سکھلائے ہوئے تھے۔ ان کے بعد آنے والا کوئی بھی خلیفہ صحیح معنوں میں قران اور رسول کی تعلیمات کی بنیاد پر خلافت قائم نہیں کر سکا یا دوسرے لفظوں میں کہیے تو ان چاروں کے بعد کوئی بھی حکمران حق و انصاف کی رو سے، رسالت کے معیار یا ربانی لحاظ سے اہل نہیں تھا۔ چاہے اس کے بعد کتنا ہی پارسا، نیکو کار اور اسلام کا خیر خواہ، سمجھ رکھنے والا شخص حکمران بن جائے یا کئی ایسے بھی گزرے ہیں جنہوں نے خود اپنے لیے 'زمین پر خدا کا سایہ' وغیرہ جیسے خطاب منتخب کیے مگر وہ بہر حال 'راشد خلیفہ' نہیں ہو سکتے اور اس کا دور 'خلافت راشدہ' نہیں کہلائی جا سکتی۔ ابن تیمیہ کے مطابق حکومت چلانے کے لیے یا خدمت اسلام کے لیے یہ قابلیت، یعنی روحانی طور پر سدھایا ہونا کوئی اتنی ضروری چیز بھی نہیں تھی۔ معاویہ کی ہی مثال دیکھ لیں، انہوں نے انتہائی بد تر حالات میں خلافت سنبھالی اور اگر چہ وہ روحانیت پسند نہیں تھے مگر پھر بھی انہوں نے کمال مہارت سے وسیع و عریض سلطنت اسلامی کو بکھرنے سے بچا لیا جس کے بچنے کا کوئی امکان بھی نظر نہیں آتا تھا۔ مزید لکھتے ہیں کہ اگر معاویہ جیسا قابل شخص نہ ہوتا تو شاید اسلام کا آج دنیا میں کوئی نام لیوا بھی نہ ہوتا۔ معاویہ کے بیٹے یزید بارے ان کا خیال یہ ہے کہ انہیں اعتراف ہے کہ اس میں اپنے باپ جیسی سیاسی سمجھ بوجھ نہیں تھی مگر اس کے ساتھ یہ بات بھی تو روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس نے بہرحال کبھی مذہبی یا روحانی بالا دستی کا دعویٰ بھی نہیں کیا۔ اسے اس بات سے کوئی رغبت بھی نہیں تھی اور بحیثیت حکمران، اس کی حکمرانی کو اس طرح قابل برداشت کہا جا سکتا ہے۔ ابن تیمیہ کا کہنا یہ تھا کہ سیاسی رہنماؤں سے روحانی ہدایت یا رہبری کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ ان کا کام تو صرف امور مملکت کو احسن طریقے سے چلانا ہوتا ہے، چاہے وہ اس مقصد کے لیے کوئی بھی طریقہ اختیار کر لیں۔ بھلے وہ جبر اور ظلم کا ہی سہارا کیوں نہ لیں، معاملات ٹھیک طریقے سے چلتے رہنا زیادہ اہم ہے۔ اپنے نکتہ نظر میں یہاں پہنچ کر ابن تیمیہ اپنی پہلی بات یعنی جابر حکمران تلے ساٹھ سال بسر کرنا وغیرہ کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں اور یہ فکر کا ایک چکر بن جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ امویوں اور ان کے بعد آنے والے عباسیوں کے ادوار اور طرز حکومت کے نتیجے میں ایک نئی مذہبی حاکمیت نے جنم لیا۔ اس مذہبی حاکمہ کی اکائی ، یعنی علم دین کے اس طور پنپنے والے ماہر کو 'عالم' یا اسم 'علامہ' کہا جاتا ہے جس کی روش جیسے عیسائیت میں پادریانہ، ویسے ہی اسلام میں ملائیت ہوتی ہے۔ یعنی یہ کہ جوں جوں وقت کے ساتھ اسلامی سلطنت کا مرکزی سیاسی ڈھانچہ کمزور ہوتا گیا، علماء کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا۔ یہاں تک کہ یہ حاکمہ دین اسلام کے دربان بن گئے۔ ان کی مثال ربی سکالروں جیسی ہی کہلائی جا سکتی ہے جو صدیوں سے ایک دوسرے الہامی مذہب یعنی یہودیت اور یہودی ریاست کے تصور کی عمارت پر پہرہ بیٹھے ہوئے تھے۔ حسین کا یہ سفر، یعنی صرف روحانیت اور سماوی سوچ کے بل بوتے پر آگے بڑھنا، آخر کار بڑھتے بڑھتے ابن تیمیہ اور ان کے شاگردوں کے یہاں قابل ملامت، سمجھ سے باہر اور منطق کی رو سے احمقانہ بات ٹھہر گئی ہے۔
دوسری طرف شیعہ ہیں۔ ان کے یہاں حسین کا سفر عراق جرات اور بہادری کی بہترین مثال ہے۔ وہ اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے، قربانی کے جذبے سے سرشار، اپنے پورے ہوش و حواس میں، نتائج سے بخوبی آگاہ ہوتے ہوئے بھی آگے بڑھتے گئے۔ شیعہ کے مطابق حسین کے پاس سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ اپنی جان قربان کر کے امویوں کے ظلم اور جبر، بد عنوانی اور ہوس زر اور دنیا، اقتدار کی حرص کو بے نقاب کر دیں۔ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیں گے اور انہیں گمراہی سے نکل کر اسلام کی سیدھی راہ پر چلنے کی وہ سوچ عطا کریں گے جو کبھی خود پیغمبر کا مقصد رہا کرتا تھا۔ وہ سوچ جو زمانے کی دھول، خلافت اور ملوکیت کے چکر میں گم ہو کر رہ گئی تھی، دوبارہ زندہ کریں گے۔ اہل بیت کے آخری چشم و چراغ کی یہ ادا رہتی دنیا تک دین اسلام اور امت کے تصور کو امر کر دے گی۔ شیعہ کے نزدیک حسین روحانیت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں، الہام کے پیارے ہیں۔ وہ الہام کی سر بلندی کے لیے اپنی جان بالکل ویسے ہی قربان کر دیں گے جس طرح تقریباً چھ سو برس پہلے ایک پیغمبر عیسیٰ، سولی پر چڑھ گئے تھے۔ یہ بعینہ ویسی ہی مقدس قربانی ہے، اپنی مرضی سے دوسروں کی، رہتی دنیا کی بھلائی کے لیے اپنی جان کا زیاں بھی قبول کر لیں گے۔ حسین کی موت بالآخر نجات کا پیمان بن جائے گی اور دین اسلام کی آزادی کا نعرہ کہلائے گی۔
اسی نکتہ نظر کے تحت حسین کی کہانی جلد ہی شیعہ اسلام کی بنیاد بن جائے گی۔ شیعہ اس سانحہ کو دین اسلام کی خدمت کا معیار مقرر کر دیں گے اور اس واقعہ سے شوق کشید کیا کریں گے۔ اسے الہامی پیغام کی نسبت جوش اور جذبے کا تول بنا لیں گے۔ مکہ سے عراق کی جانب یہ طویل سفر بالآخر شیعہ کے یہاں 'گت سمنی' کی طرح مشہور ہو جائے گا۔ گت سمنی سے مراد یروشلم کا وہ باغ ہے جس میں عیسیٰ کو دھوکا دیا گیا تھا۔ عیسائیت میں اسے اذیت کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ وہ جانتے تھے کہ کوفیوں نے دغا دے دیا ہے ، انہوں نے پرواہ کیے بغیر پھر بھی یہ سفر جاری رکھا۔ اس سفر کے آخر میں موت تھی، گت سمنی میں عیسیٰ کو بھی پتہ تھا، شیعہ کہیں گے کہ حسین بھی یہ بات اچھی طرح جانتے تھے، مگر پھر بھی چلتے ہی رہے۔
مکہ سے روانہ ہوئے تین ہفتے گزر چکے تھے اور ان کا قافلہ کوفہ سے بیس میل کے فاصلے پر پہنچ چکا تھا۔ رات گزارنے کے لیے قادسیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا گیا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں عمر کے دور میں فارسی افواج کے خلاف حتمی لڑائی لڑی گئی تھی۔ وہ تابناک فتح اب کسی اور ہی زمانے کی بات لگتی تھی، جیسے کوئی ماضی کی الف لیلویٰ داستان ہو۔ حالانکہ یہ صرف تینتالیس برس پہلے کا واقعہ تھا۔ اس بابت سوچیں اور موازنہ دوسرے الہامی مذاہب سے کیا جائے تو لگتا ہے جیسے خلافت صدیوں کا سفر برسوں میں طے کر گئی ہے۔ خیر، یہاں لڑائی نہیں ہو گی۔ اس قصے کا انجام یہاں نہیں لکھا جائے گا۔ عبید اللہ نے گھڑ سواروں کی کئی ٹکڑیوں کو کوفہ کے آس پاس مضافاتی علاقے میں تعینات کر دیا تھا ۔ مقصد یہ تھا کہ کوفہ جانے والے تمام راستوں پر پہرہ بٹھا کر بند کر دیا جائے۔ وہ راستہ جو قادسیہ سے ہو کر کوفہ جاتا تھا، اس پر بھی یہ گھڑ سوار چوکنا کھڑے تھے۔ گورنر کا حکم تھا کہ حسین کو زنجیروں میں جکڑ کر اس کے دربار میں پیش کیا جائے تا کہ وہ خود ، بنفس نفیس اپنے ہاتھ پر یزید کے لیے حسین کی بیعت لے سکے۔
لیکن حسین کو ابھی زنجیروں میں نہیں جکڑا جائے گا۔ عبید اللہ کا دبدبہ تھا مگر اسے پتہ چل جائے گا کہ ہر شخص اس سے دبنے والا نہیں ہوتا۔ سو گھڑ سواروں کی یہ ٹکڑی جس نے قادسیہ سے ہو کر جانے والا راستہ روک رکھا تھا، اس کا سپہ سالار حر تھا۔ حر کا مطلب آزاد یا آزادی نژاد کے ہیں۔ حر اپنے نام کی لاج رکھے گا اور عبید اللہ کے احکامات کو پس پشت ڈال کر پیغمبر کے نواسے کے خلاف طاقت کے استعمال سے انکار کر دے گا۔ یہی نہیں بلکہ وہ امن کی خواہش دل میں لیے حسین سے بات کرنے آگے بڑھے گا تو معنی خیز انداز میں اپنی ڈھال بھی نیچی کر لے گا۔ حر نے بھی انہی کی طرح، خیر خواہوں کی طرح ، جو پچھلے تین ہفتوں سے حسین کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے تھے، اس نے بھی اپنے تئیں سعی کی۔ اس نے کہا کہ اگر وہ یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرنا چاہتے تو نہ سہی مگر خدا کے واسطے، وہ آگے نہ بڑھیں۔ اس کی بات مان لیں اور مکہ واپس لوٹ جائیں۔
'اللہ کی قسم، ہر گز نہیں!' جواب آیا، 'میں اس کے ہاتھ پر بیعت کر کے خود کو ذلیل کروں گا اور نہ ہی ایک ڈرپوک غلام کی طرح فرار کا راستہ اختیار کروں گا۔ مجھے یزید نہ سمجھو۔ میں حسین ہوں جو مرتبے پر سودا نہیں کر سکتا اور ہر گز تذلیل کا راستہ اختیار نہیں کرے گا'۔ پھر اپنے مرتبے، قدر و منزلت کا مظاہرہ کرنے کے لیے حسین اپنے گھوڑے کی کاٹھی پر تن کر بیٹھ گئے اور حر کے آدمیوں سے خطاب کیا۔ ان میں سے زیادہ تر وہ کوفی تھے جنہوں نے اس سے پہلے ان کی رہنمائی میں یزید کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا وعدہ کیا تھا مگر اب اپنی بات سے پھر چکے تھے۔
'میرے پاسں تمہارے بھیجے ہوئے خطوط سے بھرے دو تھیلے ہیں!' حسین نے زور دار آواز میں کہا، 'تمہارے بھیجے ہوئے قاصدوں نے تمہاری خیر خواہی اور وفا داری کا عہد پہنچایا تھا اور اگر تم اب اپنے عہد پر قائم رہو تو یقیناً سیدھے راستے پر گامزن ہو گے۔ میری زندگی، تمہارے ساتھ گزرے گی۔ میرا خاندان، تمہارے خاندانوں کے ساتھ ہو گا۔ لیکن اگر تم نے اپنا عہد و پیمان بھلا دیا ہے تو تم نے اپنی بد قسمتی کو دعوت دی ہے اور منزل کھو چکے ہو۔ یاد رکھو، آج جو اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکا وہ کسی اور کا نہیں بلکہ اپنی روح اور ضمیر کا غدار ہے'۔
یزید اور عبید اللہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، 'لوگو خبردار ہو جاؤ! دنیا سے اچھائی اٹھ رہی ہے اور جو کبھی اچھائی تھی، آج برائی میں ڈھل چکی ہے۔ کیا تم نہیں دیکھ سکتے کہ سچائی کا خاتمہ ہوتا جا رہا ہے؟ برائی کا زور بڑھتا ہی جا رہا ہے اور کوئی اس کے سامنے کھڑا نہیں ہوتا؟ اگر ایسا ہے تو ایسا ہی سہی، میں ان جابروں اور ظالموں کے تلے، دب کر گزاری جانے والی زندگی کو آفت اور اذیت سمجھتا ہوں۔ ایسی زندگی پر لعنت، میں ایسی زندگی پر موت کو ترجیح دوں گا۔ شہادت کو فوقیت دینا پسند کروں گا!'
انہوں نے کہہ دیا۔ انہوں نے بالآخر کہہ ہی دیا۔ پہلی بار اپنے منہ سے 'شہادت' کا نام لے لیا جس کا وہ ارادہ باندھے ہوئے تھے۔ اس کو وہ اپنی منزل بنا چکے تھے، جس تک پہنچنے کے لیے انہوں نے یہ طویل سفر اختیار کیا تھا۔ شہادت کی موت بھی انہیں مایوس نہیں کرے گی، وہ آہستہ آہستہ ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔
یہ جو لفظ 'شہادت' ہے، اس کے بھی کئی معنی ہیں۔ جس طرح لفظ 'جہاد' کے کئی مطلب نکلتے ہیں، شہادت کا بھی یہی قصہ ہے۔ ان دونوں الفاظ کی اصل روح کو اس وقت، اس کہر زدہ منظر نامے میں دیکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے جب اسلام کے نام پر شہادت سے مراد خود کش بمباری لی جاتی ہے یا ریاستی و غیر ریاستی عناصر کے ہاتھوں اسے بے دریغ قتل عام کا جواز قرار دیا جاتا ہو۔ مطلب یہ کہ پارسائی اور انصاف کے نام پر، سچائی کی اکڑ اور نیکو کاری کی دھن میں دھت ہو کر خود کو اور کئی دوسروں کو ہلاک کر کے سمجھتے ہیں کہ شاید قربانی دیتے ہیں یا جدوجہد کرتے ہوں۔ مگر اصل میں وہ انسانیت کی اساس کو ہی بھلا دیتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ شہادت کے معنی 'خود کو قربان' کرنے کے ہی ہیں، مگر وہیں شہادت کا مطلب 'گواہی دینے' بھی تو ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس لفظ کے انگریزی زبان میں بھی دو ہی مطلب نکلتے ہیں۔ انگریزی میں 'شہید' کے لیے جو لفظ ‘martyr’ استعمال کیا جاتا ہے، اس کا ماخذ یونانی زبان ہے۔ یونانی زبان میں اس لفظ کے معنی 'گواہ' کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ایمان لانے یا کلمہ توحید کو 'کلمہ شہادت' بھی کہا جاتا ہے۔ یہ کلمات، ایمان لانے یا یقین کرنے کا اظہار ہیں۔ یہودیوں کے یہاں بھی، قدیم کتاب مقدس، یعنی تورات میں شمع کا جو حصہ ہے، اس کی پہلی دو آیات میں بھی ایمان لانے یا یقین کے اظہار کو عبرانی زبان میں 'شہادۃ' کہا گیا ہے جس سے مراد 'گواہی دینا' یا 'تائید کرنا' ہے۔ دونوں عقائد کی روح سے 'شہادت' کا مطلب 'گواہی' کے ہیں یا ان سے مراد ' کلمہ حق کی آواز بلند کرنے ' یا اس کی 'تصدیق' ہیں۔ یوں، شہادت کے انہی دوہرے معنوں کے سبب، یعنی 'قربانی' اور 'گواہی یا آواز بلند کرنے' کی وجہ سے 1979ء میں ایرانی انقلاب کے پیچھے کار فرما سوچ اور فکر کو شہ ملی۔ اس سوچ کے خالق نے انتہائی خوبصورتی سے حسین کی موت کو 'حریت پسندی' کی آواز بنا کر پیش کر دیا۔
گماں غالب ہے کہ آج مغرب اور مشرق میں بھی کئی جگہوں پر علی شریعتی کے نام سے شاید ہی لوگ واقف ہوں مگر یہ وہ ہیں جنہیں ایران میں تقریباً آیت اللہ خمینی کی ہی طرح عزت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ شریعتی کوئی عالم دین نہیں تھے بلکہ سوشیالوجی یا عمرانیات کے پروفیسر تھے۔ علم دین سے دلچسپی تھی اور اس سے جڑی عمرانیات پر خاصی کمان رکھتے تھے۔ انہوں نے فرانس کی مشہور سوربن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی۔ اس دوران انہوں نے مغربی فلاسفی اور ادب کا بغور مطالعہ کیا ، فرانز فانن اور سارتر کے ساتھ ساتھ چی گویرا کی کئی تصنیفات کے فارسی زبان میں تراجم بھی کیے۔ شریعتی کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے عمرانیات اور علم دینیات کو یک جان کر کے اسلامی انسان دوستی کا ایسا تصور پیش کیا جس نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔ چونکہ وہ ایک جوشیلے اور والہانہ مقرر بھی تھے، اس لیے ان کے تصور کو مقبولیت حاصل کرنے میں پر لگ گئے۔ 1970ء کے اوائل میں انہیں سننے کے لیے ہزاروں کا مجمع اکٹھا ہو جاتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جس دن ان کا لیکچر ہوتا، ہال کے آس پاس تہران کی گلیوں میں ٹریفک جام ہو جاتی اور معمولات زندگی کٹ کر رہ جاتے۔ ہزاروں لوگ خاموشی سے سڑکوں پر بیٹھے، دور دور تک لگائے گئے لاؤڈ سپیکروں پر انہیں بولتا ہوا سنتے رہتے۔ ان کے کالم اور تقاریر چھپ کر بازاروں میں پہنچتیں تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتیں اور ہر اشاعت ایک عرصے تک ایران کی مقبول ترین تصانیف کی فہرست میں سب سے اوپر لگی رہتی۔ طالب علم اور مزدور، مذہبی اور سیکولر حلقے، مرد اور خواتین، الغرض جو بھی انہیں سنتا، گرویدہ ہو جاتا۔ شریعتی سے متاثر یہی لوگ بعد ازاں سڑکوں پر نکل آئیں گے اور شاہ ایران کے خلاف تحریک بن جائیں گے۔ اس سے یہ ہوا کہ عوام میں امید اور قوت کی ایک لہر دوڑ گئی اور ایسا لگ رہا تھا جیسے شریعتی نے تن تنہا، چند برسوں کے اندر ہی شیعہ اسلام کے اہم ترین واقعہ میں پھر سے روح پھونک دی ہے۔
شریعتی ایک انتہائی مقبول لیکچر میں، حسین کی شہادت کو شہادت کی کسی بھی آمیزش سے پاک، بے داغ اور خالص ترین مثال قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حسین نے نہ صرف حاکم وقت کی جبر اور ظلم پر مبنی حکومت کے ساتھ تعاون سے انکار کر دیا بلکہ خاموش رہنے پر بھی مجبور کیے جانے کا دباؤ بھی قبول نہیں کیا۔ بجائے پیچھے ہٹنے کے، انہوں نے آگے بڑھ کر موت کو ترجیح دی اور موت بھی ایسی پائی کہ حقیقی معنوں میں 'شعور کا انقلاب' برپا کر دیا۔ یہ ایسا انقلاب تھا جو زمان و مکان کی قیود سے آزاد ہے اور تاریخ میں رہتی دنیا تک باقی رہے گا۔ اس کی بازگشت سنائی دیتی رہے گی۔ ان کے الفاظ میں حسین کی شہادت آزادی اور حریت کا 'ابدی اور ارفع ' مظہر بن گئی۔ شریعتی اپنے اسی لیکچر میں سننے والوں کو واپس ساتویں صدی میں لے جاتے ہیں، حسین کو سوچتا، ان کے دماغ میں چل رہے تفکر سے روشناس کراتے ہیں ۔ پھر جب واپس حال میں لوٹ کر آتے ہیں تو انہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ در اصل لوگوں کو آج بھی شاہ ایران کی جابرانہ حکومت کی صورت ویسی ہی مشکل کا سامنا ہے جو کبھی حسین کو در پیش رہی تھیں۔
'حسین کے پاس ترکہ رکھنے کو کچھ بھی باقی نہیں تھا' شریعتی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے گویا ہوتے ہیں، 'کوئی فوج نہیں، ہتھیار نہیں، دولت نہیں، اختیار نہیں، قوت نہیں، یہاں تک کہ ماننے والے پیروکار بھی نہیں رہے تھے۔ کچھ بھی نہیں تھا۔ امویوں نے سماج کی بنیادوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا۔ غاصبوں کی اصل طاقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنا راج تلوار اور بندوق کے زور پر قائم رکھتے ہیں یا پھر جہاں کچھ نہ بن پڑے یا ضروری سمجھیں، پیسے سے وفا داری خرید لیتے ہیں۔ ان دو حربوں سے وہ عوام کو دبا لیتے ہیں، انہیں چپ کرا دیتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے، جب کوئی نہیں بولتا تو پھر طاقت کا منبع جابر حکمران کے ہاتھ میں چلا جاتا ہے۔ ایسی مملکت میں خیالات اور نظریات کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔ دماغوں میں خناس بھر دیا جاتا ہے۔ طرح طرح کی باتوں کا پرچار شروع ہو جاتا ہے ، سکولوں اور مدرسوں میں یہی جھوٹ بولا اور پڑھایا جاتا ہے، لوگوں کو دن رات یہی بکواس سننے کو ملتی رہتی ہے۔ دین کے نام پر ایسی خرافات عام ہو جاتی ہیں کہ اللہ کی پناہ، قوم کی اجتماعی سوچ شل ہو کر رہ جاتی ہے۔ جہاں اوپر بیان کردہ کوئی بھی حربہ نہ چلے تو پھر آخری صورت یہ ہوتی ہے کہ ایمان اور یقین کا گلا کاٹنے کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔ یزید نے یہی فیصلہ کیا تھا اور حسین کی اصل طاقت یہی تھی۔ اسی واحد اور آخری طاقت، یعنی ایمان کے ساتھ وہ میدان میں اتر گئے اور ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے'۔
'یہ وہ آدمی ہے جو ان اقدار کو اپنائے ہوئے تھا جو کب کی تباہ، گم کر دی گئی تھیں۔ یہ ان لوگوں کے نقش قدم پر چل رہا تھا جن کی یاد تک محو ہو چکی تھی۔ وہ خالی ہاتھ نکلا اور اس کے پلے کچھ بھی نہیں تھا۔ امام حسین اب بے اختیار ہیں، بے بس ہیں اور ان کی دو مجبوریاں تھیں۔ وہ ہر گز چپ نہیں رہ سکتے تھے لیکن وہ لڑنے سے بھی قاصر تھے۔ ایسی مظلومیت میں بھلا وہ کیا کرتے؟ ان کے پاس صرف ایک ہتھیار تھا اور وہ ہتھیار موت ہے۔ اگرچہ وہ دشمن کو شکست نہیں دے سکتے تھے مگر کم از کم اسے رسوا تو ضرور کر سکتے ہیں؟ وہ مر کر اسے بے عزت تو کر سکتے ہیں؟ اس کی قلعی تو کھول ہی سکتے ہیں؟ اگر چہ وہ جابر حاکم کو زیر نہیں کر سکتے مگر وہ اس کو ملامت تو کر سکتے ہیں؟ حسین کے لیے شہادت گھاٹے کا سودا نہیں ہے بلکہ یہ تو ان کا انتخاب ہے۔ وہ خود کو قربان کر کے آزادی کی دہلیز پر مستقل نام لکھوا دیں گے۔ آزادی ان کے نام کا آستانہ بن جائے گی۔ وہ ہار کر بھی جیت جائیں گے'۔
ملاحظہ کیجیے کہ جوں جوں شریعتی آگے بڑھ رہے ہیں، شہادت کے معنی صرف 'گواہی' نہیں رہتے بلکہ یہ آہستہ آہستہ 'کشف' کا روپ ڈھالتی جا رہی ہے۔ جبر اور استبداد، بدعنوانی اور جور ظلم کو بیچ چوراہے میں ننگا کر رہی ہے۔ حسین کی شہادت ان کا خاتمہ نہیں بلکہ نکتہ آغاز بن چکا ہے۔ ان کی موت گھروں سے نکل کر عمل پر اکسانے والا نعرے کا روپ دھار رہی ہے۔
'شہادت کی اپنی ایک چمک دمک ہے۔ اس کی صفت تابندگی ہے۔' شریعتی نے اعلان کیا، 'اس سے دنیا میں روشنی اور گرمائش پیدا ہوتی ہے۔ اس سے تحریک جنم لیتی ہے۔ شہادت سے بصارت ملتی ہے، تصور نکلتا ہے۔ امید پھوٹتی ہے۔ شہید مر کر جابر کی مذمت کرتا ہے اور اپنے جیسے دبے ہوئے دوسرے لوگوں کو نئی، روشن راہ دکھاتا ہے۔ لوگوں کے یخ جمے ہوئے دلوں میں زندگی کا گرم خون اور احیاء کی لہر دوڑا دیتا ہے'۔
حسین کی طرح قربان ہو جانے کا تصور صرف ایک دین یعنی اسلام یا ایک خطے یعنی مشرق وسطیٰ تک محدود نہیں ہے۔ یہ دنیا بھر کے لیے ایک پیغام ہے۔ جہان بھر میں جہاں بھی، جس کونے میں بھی انسان بستے ہیں، ان میں سے ہر انسان کے لیے ، ہر دور میں مثال ہے۔ حسین کا یہ فعل 'جبر اور استعداد کے بوجھ تلے کچلے ہوئے تاریخ کے تمام لوگوں' کی بات ہے۔ پسے ہوئے طبقات کے ہونے کی گواہی ہے اور ان کی دبی ہوئی آواز ہے۔ حسین قتل کر دیے گئے، مگر مارے نہیں جا سکے۔ وہ ایک سوچ کی شکل میں زندہ ہیں۔ تب سے آج تک دنیا بھر میں جہاں بھی ظلم اور جبر کے خلاف، حریت کے لیے لڑی جانے والی ہر لڑائی میں شریک رہے ہیں۔ وہ ظالم سے نجات کی ہر تحریک کے علم بردار چلے آ رہے ہیں اور سارے زمانوں میں جس جگہ پر بھی آزادی کی کوئی جنگ لڑی گئی، وہ اس کے ہراول دستے میں جانباز سپاہی کی طرح ہمیشہ موجود رہے ہیں۔ حسین کربلا کے میدان میں قتل کر دیے گئے مگر مارے نہیں جا سکے۔ وہ نسل انسانی میں ہر زمانے کے دبائے ہوئے لوگوں کے لیے حریت کا نام بن گئے'۔
شریعتی 1977ء میں صرف چوالیس سال کی عمر میں چل بسے تھے۔ یہ ایران میں برپا ہونے والے انقلاب سے صرف دو سال قبل کا واقعہ ہے، جب ایران کے کونے کونے میں اور بالخصوص تہران میں شاہ ایران کے خلاف تحریک زوروں پر تھی۔ طالب علم جتھے بنا کر سڑکوں پر نکلتے اور جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے شاہی پولیس کے ساتھ بھڑ جاتے، گولیاں چلتیں اور ان مظاہروں میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوتے رہے۔ شریعتی کی موت کا سبب دل کا جان لیوا دورہ بتایا جاتا ہے۔ انہیں ایران سے جلا وطن کر کے انگلستان میں پناہ لیے ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے کہ موت کی اطلاع آ گئی۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی موت شاہ کی پولیس کے ہاتھوں مسلسل ذہنی دباؤ، بار بار کی بے وجہ گرفتاری، قید تنہائی اور اعصاب شکن تفتیش کا نتیجہ تھا۔ کئی لوگ ایسے بھی ہیں جن کا خیال ہے کہ دراصل شریعتی کو شاہ کی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے جلا وطنی میں زہر دے کر مارا تھا۔ شاید کوئی انتہائی مہلک، فوری اثر کرنے والا زہر تھا، جسے نوک دار زیر جلد انجیکشن وغیرہ سے علاج کے دوران لگایا گیا اور شریعتی کی موت ہو گئی۔ اگرچہ ان الزامات کے کوئی ثبوت نہیں ملے مگر زہر کے پراپگنڈہ کی ہوا آگے چل کر یوں بھی چلی کہ شاید یہ زہر کی ان اقسام میں سے کوئی ایک زہر تھا جو ممکنہ طور پر پہلی بار معاویہ کے ذاتی معالج ابن اثل نے چودہ سو برس پہلے دریافت کیا ہو گا۔ یہ تو شریعتی کا قصہ ہے مگر ہر دو صورت، شاہ نے بہت دیر کر دی۔ شریعتی نے اپنی شعلہ بیان تقریروں اور پر مغز لیکچروں کی مدد سے حسین اور حسین کی کربلا میں شہادت کو انقلاب کی بھڑکتی ہوئی، انتہائی منظم تحریک میں بدل کر رکھ دیا تھا۔ اب اسے روکنے کا کوئی طریقہ کارگر نہیں ہو سکتا تھا۔
یہ پہلی بار نہیں تھی۔ صدیوں سے حسین کی شہادت شیعہ اسلام میں کئی بار اور بیسیوں مواقع پر انقلابی فکر کی بنیاد بنتی چلی آ رہی ہے۔ یہ اچھائی اور برائی کی ابدی جنگ کا نشان رہا ہے مگر شریعتی نے پہلے بار یہ کیا کہ اسے ایک نئے درجے ، یعنی حریت کی الہیاتی فکر اور تحریک بنا دیا۔ عاشورہ کے دس دن اس سے پہلے صرف ماتم اور گریہ کے لیے وقف تھے مگر شریعتی نے اس عشرے کو امید اور فلسفہ فعالیت میں ڈھال دیا۔ کربلا سے مراد اب صرف کرب اور بلا نہیں ہو گی، یہ صرف اور صرف ظلم کی علامت نہیں ہے بلکہ کربلا سے امید کشید کی جائے گی۔ یہ تاریخی سانحہ جبر کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کا نشان بن جائے گا۔ شریعتی آگے چل کر انہی تصورات کی بنیاد پر شیعہ کو نئی راہ دکھائیں گے اور انقلاب پسند نوجوان تہران کی سڑکوں پر بے خوف و خطر نکل کرخوں ریز تحریک کا حصہ بن جائیں گے۔ شاہ کی افواج ان پر بہیمانہ تشدد کریں گی اور گولیوں کی بوچھاڑ ہو گی۔ مگر تحریک رکنے کا نام نہیں لے گی اور اس باڑ میں بھی سڑکوں پر ایک ہی نعرہ سنائی دے گا، 'ہر دن عاشورہ ہے اور ہر جگہ کربلا ہے'۔ یہ نعرہ آج بھی، عاشورہ کے دس دنوں میں اور جہاں کہیں ظلم برپا ہو۔۔۔ سنائی دے جاتا ہے۔
اگرچہ حسین نے شہادت کو گلے لگانے کا فیصلہ کر لیا تھا مگر حر کسی بھی صورت یہ طوق اپنے گلے میں نہیں ڈالے گا۔ وہ کسی بھی طرح محمدؐ کے نواسے پر ہاتھ نہیں اٹھائے گا۔ حر کو ایک عجب صورتحال کا سامنا تھا، بلکہ کہیے اسے دوہری مشکل در پیش تھی۔ ایک طرف تو عبید اللہ کے صاف احکامات تھے مگر دوسری جانب وہ حسین کی تہہ دل سے عزت کرتا تھا۔ حسین اہل بیت میں سے آخری چشم و چراغ تھے۔ وہ رسول کے نواسے ، ان کا خون تھے۔ حر کسی بھی صورت حسین کو آگے بڑھنے، کوفہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا مگر وہیں، ان پر حملہ بھی تو نہیں کر سکتا تھا۔ انہیں قابو کرنا تو دور کی بات، صرف روکنے کے لیے بھی ہتھیار نہیں اٹھا سکتا تھا۔ آخر وہ کیا کرے؟ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن!
کافی دیر گو مگو کی یہی حالت رہی مگر پھر حسین نے خود ہی حر کی مشکل آسان کر دی۔ وہ یہاں نہیں رکیں گے، وہ آگے کوفہ کی جانب بھی نہیں بڑھیں گے اور مکہ کی طرف تو ہر گز لوٹ کر نہیں جائیں گے۔ انہوں نے یہاں سے وہ راستہ اختیار کیا جس کی کسی کو توقع نہیں تھی۔ انہوں نے اپنے قافلے کو شمال کی جانب، صحرا میں روکھے اور پتھریلے علاقے کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔ یہ بنجر علاقہ تھا جہاں کھڑے ہوں تو آنکھوں کے سامنے ایک وسیع وادی نظر آتی ہے۔ اس ہموار، میدان جیسی وادی میں دجلہ اور فرات کے دریاؤں کی وجہ سے ہریالی ہے۔ حر اپنی فوجی ٹکڑی سمیت اس چھوٹے سے قافلے کے ساتھ ساتھ یوں چل رہا تھا جیسے حفاظت پر مامور ہو۔ اس کا انداز قطعاً دشمن کو ہدف سے دور لے جانے والا نہیں تھا۔ چلتے چلتے دن ڈھل گیا اور شام کا دھندلکا پھیلنے لگا۔ عورتیں اور بچے تھک کر چور تھے اور پیاس سے ادھ موئے ہو رہے تھے۔ حسین نے حکم دیا کہ پتھریلی سطح سے ہٹ کر نیچے کی طرف، جہاں فرات کی ایک شاخ بہتی تھی اور سامنے کھیت اور باغات تھے، پڑاؤ ڈال دیا جائے۔ یہ محرم کی پہلی تاریخ اور جمعہ کا دن تھا، حسین اپنی منزل پر پہنچ چکے تھے۔ ان کا سفر یہیں تمام ہو گا، وہ یہاں سے مزید آگے نہیں جائیں گے۔
دو دن بعد، یعنی محرم کی تین تاریخ کو اس چھوٹی سی خیمہ بستی کو پوری فوج نے گھیر لیا۔ جب عبید اللہ تک یہ خبر پہنچی کی حر نے بجائے حسین کو گرفتار کرنے کےشمال کی جانب سفر کرنے کی اجازت دے دی ہے تو اس نے تقریباً چار ہزار گھڑ سواروں اور پیادہ جنگجوؤں اور تیر اندازوں پر مشتمل فوج کوفہ سے روانہ کی۔ لشکر کی سپہ سالاری عمر بن سعد کے ہاتھ میں تھی مگر روانہ کیے جانے والی فوج کی کمان ایک انتہائی بے درد اور سنگ دل جرنیل کے حوالے کی گئی۔ وہ کام جو حر پورا نہیں کر سکا، یہ شخص کرے گا۔
اس شخص کا نام شمر تھا۔ معاویہ، یزید اور عبید اللہ یا ابن زیاد کے بعد یہ چوتھا نام ہو گا جو شیعہ کی تقویمی یاد داشت میں جم کر بیٹھ جائے گا۔ ان چاروں کو شیعہ کے یہاں سے لعن طعن، ملامت اور حقارت کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔ خیر، شمر کے لیے احکامات صاف تھے۔ وہ یہ کہ حسین کی خیمہ بستی کا محاصرہ کر لے اور کسی صورت دریا تک پہنچنے نہ دے ۔ اتنی سخت ناکہ بندی کرے کہ تپتی ہوئی بلا کی، دم گھونٹ دینے والی گرمی میں اس قافلے کو ایک قطرہ بھی پانی میسر نہ آنے پائے۔ مقصد یہ تھا کہ پیاس سے نڈھال ہو کر حسین گھٹنے ٹیک دیں گے۔
حسین کے ساتھ بہتر جنگجو تھے۔ ان کا مقابلہ چار ہزار فوجیوں پر مشتمل انتہائی منظم ، تربیت یافتہ اور پوری طرح مسلح لشکر سے تھا، یعنی بچ کر نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ یہ تو اعداد و شمار کی بات ہے ورنہ حسین کو اب کہیں جانے کی ضرورت ہی نہیں تھی، بچ نکلنے کی حاجت اور نہ ہی کوئی خواہش تھی۔ کہا جاتا ہے کہ حسین نے آخری وقت پر ایک انتہائی معقول تجویز پیش کی تھی مگر اب اس بات سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اب جبکہ وہ اپنی منزل تک پہنچ چکے تھے، یہ قصہ تاریخ میں نہیں لکھا جائے گا بلکہ تاریخ اس داستان کا حصہ بن جائے گی۔ اس چھوٹی سی خیمہ بستی کے پیاسے، پریشان حال مکین تاریخ کے دھارے میں، وقت کی قید سے آزاد ہو کر امر ہو جائیں گے۔ ان میں سے ہر ایک کا شمار ابد تک زندہ رہنے والے ہیرو اور غیر معمولی برگزیدگی کے حامل ولیوں میں ہوا کرے گا۔
تاریخ میں اگلے سات دن کا قصہ محاصرہ کرنے والوں اور محاصرین میں سے بچ جانے والے، دونوں نے ہی یاد داشتوں کی صورت تفصیل کے ساتھ بیان کر رکھا ہے۔ ان سات دنوں میں پیش آنے والے واقعات کا احوال کھول کھول کر اس طرح سناتے ہیں کہ ایک لمحے کی چُوک نہیں ہوتی۔ ان روایات کا مطالعہ کریں تو ایسا لگتا ہے جیسے آنکھوں کے سامنے، ریت اور پتھر سے بنی ہوئی اس دنیا سے کہیں بڑے سٹیج پر یہ واقعات فلم کی طرح چل رہے ہیں۔ تب بھی، جب راویوں نے ان سات دنوں کا حال بیان کیا ہے، ان کا طرز بیان ایسا ہے کہ انہیں خوب علم تھا کہ آگے چل کر یہ واقعات مقدس اور متبرک بن جائیں گے۔ صاف نظر آتا ہے کہ کیسے عینی شاہدین کی آنکھوں کے سامنے تاریخ قدرتی اصولوں کو بھی خاطر میں نہیں لاتی، حقائق کو ایک طرف رکھ کر کسی دیو مالائی داستان کی شکل اختیار کر رہی ہے۔ ایسی داستان جو رہتی دنیا تک امر ہو جائے گی اور اس کی گونج زمانوں کی آخری حد تک سنائی دے گی۔ یہاں شمر اور اس کے چار ہزار فوجی اس انتظار میں تھے کہ کب حسین اور ان کے ساتھی پیاس سے نڈھال ہو جائیں تو ان کی ضد کا قصہ تمام ہو، یہ خود کو روک کر کھڑے تھے۔ حسین کے جنگجو گاہے بگاہے انہیں طیش دلانے کے لیے چھوٹی موٹی جھڑپوں میں الجھاتے رہے۔ اس نوک جھونک کا بھی تاریخ میں حال تفصیل سے ملتا ہے، ایسے جیسے کبھی نہ مرنے والی یاد تخلیق کی جا رہی تھی۔ ان سات دنوں میں، شیعت کی سب سے نمایاں، ایک کے بعد دوسری تمثالی مورت میں زندگی کی روح پھونکی جا رہی تھی۔ یہ علامتیں ہمیشہ کے لیے امر ہو جانے والے، دیو مالائی خاکے تخلیق ہو رہے تھے۔
مثال کے طور پر حسین کے بھتیجے اور حسن کے بیٹے قاسم کا حال سن لیں۔ ان کی شادی حسین کی بیٹی سے اسی محصور خیمہ بستی میں ہوئی۔ اس بستی کے مکین جانتے تھے کہ موت ان کے سر پر کھڑی ہے مگر اس کے باوجود انہوں نے موت کے منہ میں زندگی دوڑا دی۔ انہوں نے مستقبل کو حال میں ڈھال دیا۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کی شادی تو ہوئی ، رخصتی بھی ہوئی مگر دلہا اور دلہن کبھی اکٹھے نہیں ہو پائے۔ جیسے ہی شادی کی تقریب تمام ہوئی، قاسم نے تن تنہا باہر نکل کر دشمن کے ساتھ بھڑ جانے کی اجازت مانگی۔ یہ قاسم کی شادی کا دن تھا، ان کی کسی خواہش کو رد نہیں کیا جا سکتا تھا۔ وہ اپنی شادی کا جوڑا پہنے، تلوار سونت کر باہر نکلے اور شمر کی افواج کی طرف، مسلح صفوں کا رخ کر لیا۔
'جس سمت قاسم نے رخ پکڑا، اس جگہ پر ہم دس لوگ تعینات تھے اور سارے گھوڑوں پر سوار تھے'، شمر کے ایک فوجی نے بعد ازاں بیان دیا، 'ایک نوجوان لڑکا، سر سے پیر تک سفید کپڑوں میں ملبوس ہماری طرف بڑھتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کے ہاتھ میں تلوار تھی۔ ہمارے گھوڑے اس کو دیکھ کر ہنہنا رہے تھے اور بے چینی میں اپنی جگہ پر کھڑے چکر لگاتے ہوئے، کھروں سے مٹی کھودتے، ہتھے سے اکھڑ رہے تھے۔ وہ لڑکا خاصا گھبرایا ہوا تھا اور پریشانی میں سر جھٹک رہا تھا۔ کبھی دائیں اور پھر بائیں دیکھتا۔ میں نے دور سے اس کے کانوں میں دو بالیاں چمکتی ، لہراتی ہوئی دیکھیں'۔ اس کے کانوں میں چمکتی بالیاں زیادہ دیر تک نہیں لہرا سکیں۔ نئے نویلے دلہا کو موقع پر کاٹ کر پھینک دیا گیا اور شادی کے دن کی ساری خوشی کافور ہو گئی۔
پھر عباس ہیں۔ عباس، حسین کے سوتیلے بھائی تھے۔ وہ زرہ بکتر پہنے ہوئے تھے اور ان کے سر پر لوہے سے بنا جنگی خود سختی سے ٹکا ہوا تھا۔ اس آہنی کلاہ پر بگلے کے پروں کا اونچا طرہ سجایا گیا تھا جو جری اور بہادر جنگجوؤں کا امتیاز سمجھا جاتا تھا۔ حسین کی خیمہ بستی میں پینے کے لیے ایک بوند پانی نہیں بچا تھا۔ چھوٹے بچے پیاس سے بلبلا رہے تھے، روتے تھے اور عورتوں کے لیے انہیں سنبھالنا مشکل ہو گیا تھا۔ عباس یہ دیکھ کر سخت آوردہ ہوئے اور پوری طرح مسلح ہو کر بکری کی کھال کا کوزہ اٹھائے باہر نکلے اور دشمن کی صفوں میں سے راستہ بناتے ہوئے دریا کے کنارے پہنچ گئے۔ مشکیزے میں پانی بھرا اور واپسی کی راہ لی مگر راستے میں گھات لگا کر دھر لیے گئے۔ وہ تنہا تھے اور مقابلے پر بیسیوں فوجی کھڑے تھے۔ وہ دیر تک دیدہ دلیری سے لڑتے رہے، کئی زخم کھائے اور آخر کار ان کا وہ بازو کٹ گیا، جس سے تلوار چلاتے تھے۔ یہاں پہنچ کر کہا جاتا ہے کہ کٹے ہوئے بازو سے خون کا فوارہ چھوٹ رہا تھا مگر عباس دشمنوں کی طرف دیکھ کر ہنس پڑے۔ قہقہہ لگایا اور کہا، 'اسی لیے اللہ نے ہمارے دو بازو پیدا کیے ہیں'۔ جو ہاتھ سلامت تھا، اس میں تلوار تھامی اور پھر سے لڑائی میں جت گئے۔ پانی کا مشکیزہ سینے سے لگائے، مشکیزے کا منہ دانتوں میں دبا کر تھام کر لڑتے رہے۔ جلد ہی دوسرا بازو بھی کاٹ دیا گیا اور اب دنیا کی کوئی طاقت انہیں مرنے سے نہیں بچا سکتی تھی۔ وہ تلوار جو ان کے سینے میں گھونپی گئی، وہ پہلے پانی کے مشکیزے میں آر پار ہوئی۔ عباس کے سینے سے خون کا فوارہ پھوٹ پڑا اور پانی کے ساتھ مل کر زمین پر کافی دیر بہتا رہا اور پھر ریت میں جذب ہو گیا۔ عباس کی لاش کے ارد گرد، چاروں طرف سرخی پھیل گئی۔
پھر حسین کے سب سے بڑے فرزند کا احوال ہے۔ ان کا نام علی اکبر تھا ۔ وہ ابھی بلوغت کی عمر کو ہی پہنچے تھے اور چہرے پر شباب کی تازگی جھلکتی تھی۔ انہوں نے بھی تن تنہا نکل کر لڑائی کی اجازت طلب کی۔ وہ پیاس سے نڈھال تھے مگر لڑنے کے لیے پر عزم نظر آتے تھے۔ 'ایک نوجوان کو دیکھا جو سیدھا ہماری طرف بڑھ رہا تھا۔ اس کا چہرہ اتنا روشن تھا، جیسے چاند کا پارہ ہو!' علی اکبر سے بھڑنے والے فوجیوں میں سے ایک نے روایت کی ہے، 'اس کی چپل ٹوٹی ہوئی تھی ۔ اب مجھے یاد نہیں کہ دائیں پیر کی تھی یا بائیں تھی۔ میرا خیال ہے، بائیں پیر کی تھی'۔
علی اکبر کو چند منٹوں کے اندر ہی انتہائی بے دردی کے ساتھ تلوار وں اور برچھیوں کے کئی وار کر کے قتل کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ حسین 'شکرے کی طرح' جھپٹے اور اس سے پہلے کہ گھڑ سوار بے حرمتی کرتے، انہوں علی اکبر کا لاشہ بازوؤں میں اٹھا لیا۔ شیعہ کے پوسٹروں میں ہمیشہ سے یہ منظر ایسا ہی دکھایا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج اسی طرح کے چند دوسرے پوسٹر عراق کے بازاروں میں عام مل جاتے ہیں جن میں جان بوجھ کر بعینہ حسین جیسا ہی انداز اپنایا گیا ہے۔ ان پوسٹروں میں لشکر مہدی کے سربراہ مقتدی الصدر اپنے والد صادق الصدر کے لاشے کو دونوں بازوؤں میں اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں۔ صادق الصدر ایک نامی گرامی اور شیعہ میں قابل تعظیم علامہ گزرے ہیں جنہیں اپنے دو بیٹوں کے ساتھ 1998ء میں، صدام حسین کی خفیہ پولیس نے قتل کر دیا تھا۔
تاریخ میں کربلا کی جتنی بھی روایات ہیں، شاید ان میں سب سے زیادہ اثر انگیز حسین کے نومولود بیٹے کی شہادت کا واقعہ ہے۔ اس کی عمر صرف تین ماہ تھی اور اب پیاس اور جسم میں پانی کی شدید کمی کے باعث اس قدر ناتواں ہو چکا تھا کہ حلق سے رونے کی آواز بھی نہیں نکل رہی تھی۔ وہ چلاتا تھا مگر سنائی نہ دیتا، آخر میں تو تھک ہار کر بے سدھ ہو گیا۔ حسین سے اس بچے کی حالت دیکھی نہ گئی اور جب انہیں نا امیدی میں کچھ اور نہ سوجھا تو بچے کو اٹھایا اور خیمہ بستی سے باہر نکل آئے۔ کہتے ہیں انہوں نے اس معصوم کو دونوں ہاتھوں میں اٹھا رکھا تھا اور دشمن فوج کا ہر سپاہی انہیں اس بے بسی کے عالم میں صاف دیکھ سکتا تھا۔ خود حسین کا حلق پیاس سے سوکھ کر کانٹا ہو چکا تھا اور جب گویا ہوئے تو آواز نکلنے کی بجائے گلے میں ہی رندھ کر رہ گئی۔ وہ شمر کے آدمیوں سے التجا کر رہے تھے کہ بچوں کی حالت پر تو رحم کرو، کم از کم انہیں تو پانی پلا دو۔
جواب میں رحم کی بجائے ایک تیر اڑتا ہوا آیا اور حسین کے بازوؤں میں تھامے ہوئے بچے کی گردن میں پیوست ہو گیا۔ خون کی ایک ننھی سے پھوار نکلی اور حسین کے ہاتھ رنگ گئے، چہرے اور داڑھی پر بھی سرخ چھینٹے اڑنے لگے۔
کہا جاتا ہے کہ اس نومولود بچے کا خون حسین کی انگلیوں کو رنگتا ہوا، بہنے لگا اور ریتلی زمین پر ٹپ ٹپ گرنے لگا۔ حسین کا جیسے جگر چر گیا۔ انہوں نے دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شمر، شمر کے آدمیوں، عبید اللہ اور یزید کو بد دعا دی۔ خدا سے درخواست کی کہ اب تو ان ظالموں پر قہر کی بجلی گرا دے، اب تو بس ہو گئی ہے۔ یہ واقعہ بار بار بیان کیا گیا ہے، نسل در نسل تفصیل سے سنتے چلے آ رہے ہیں ۔ یوں وقت کے ساتھ آخر میں اس دل خراش کہانی سے کئی مفہوم بر آمد ہوتے چلے گئے۔ وقت آئے گا کہ لوگ کہیں گے، حسین نے بد دعا دی اور نہ ہی خدا سے قہر نازل کرنے کی التجا کی۔ انہوں نے تو رحم کی استدعا کی تھی۔ انہوں نے تو کہا تھا کہ 'اے اللہ، گواہ رہیو اور اس قربانی کو قبول کرنا!' ۔ ان کی دعا فوراً قبول ہو گئی تھی۔ لوگوں نے دیکھا کہ خون کے قطرے زمین پر گرنے کی بجائے کشش ثقل کے قوانین کو پچھاڑ کر سیدھا آسمان کی طرف اڑنے لگے اور پھر کبھی واپس نہیں آئے۔
پھر عاشورہ کی شام آ گئی۔ عاشورہ، یعنی دسواں دن اور شیعہ کے نزدیک یہ دن کسی بھی دوسرے دن سے برتر اور محترم ہے۔ حسین نے رات گئے اپنے بچے کھچے، پیاس سے نڈھال آدمیوں سے التجا کی کہ وہ انہیں ان کے حال پر، ان کی قسمت کے لکھے پر چھوڑ جائیں۔ ' میں اللہ کو گواہ بنا کر تم سب سے کہتا ہوں کہ میری طرف سے تم سب آزاد ہو۔ میں نے تمہاری وفا داری کا عہد بخش دیا۔ تم پر کسی بھی قسم کی کوئی پابندی نہیں ہے۔ رات کی تاریکی میں اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ۔ رات کے اندھیرے کو اونٹ کی طرح استعمال کرو اور اس کی پشت پر سوار ہو کر نکل جاؤ۔ یزید کے آدمی میرے پیچھے پڑے ہیں اور انہیں میرے سوا کسی سے کوئی مطلب نہیں ہے۔ اگر وہ مجھے آن پکڑیں گے تو اس کے بعد وہ کسی کو کچھ نہیں کہیں گے۔ میں تمہاری منت کرتا ہوں، اپنے گھروں کو، اپنے پیاروں کے پاس لوٹ جاؤ!'۔
لیکن ان کا کوئی آدمی اپنی جگہ سے نہیں ہلا، سب کے سب ان کے گرد ٹک کر جمع رہے۔ ان کے منہ سوکھے ہوئے تھے، ہونٹوں پر پیپڑیاں جم چکی تھیں اور پیاس سے آواز سخت اور کھردری ہو چکی تھی۔ انہوں نے ساتھ نہ چھوڑنے کی قسم کھائی۔ 'اے حسین! ہم اس وقت تک آپ کے شانہ بشانہ کھڑے رہیں گے، لڑ کر مر جائیں گے جب تک آپ اپنی منزل تک نہیں پہنچ جاتے' ، ایک شخص منادی کرنے لگا اور باقی سب نے اس کی تائید کی۔ دوسرے نے کہا، 'اللہ کی قسم، اگر مجھے کوئی کہے کہ میں مار کر جلا دیا جاؤں گا اور میری راکھ اڑا دی جائے گی، پھر زندہ کیا جاؤں گا اور ایسے ہی بار بار، ہزار بار جلا کر مار دیا جاؤں گا تو اے حسین، میں آپ کا ساتھ پھر بھی نہیں چھوڑوں گا۔ میں آپ کا ساتھ کیسے چھوڑ دوں جب کہ میں جانتا ہوں کہ موت صرف ایک بار آنی ہے؟'
'پھر اللہ کو یاد کرو اور اس سے رحم کی استدعا کرو' حسین نے تلقین کرتے ہوئے کہا، 'کل یہاں ہمارا آخری دن ہو گا۔ انجام آن پہنچا ہے!'۔ پھر انہوں نے کچھ دیر توقف کیا، خیمے میں خاموشی چھائی رہی اور آخر کار دوبارہ بولے تو صرف قران کی وہ آیت پڑھی، جو عام طور پر موت کے سامنے، موت کی خبر اور نقصان کی اطلاع پر کہی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا، 'بے شک ہم اللہ کی ملکیت ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں'۔
چونکہ یہ آخری شب تھی، اسی لیے اس خیمہ بستی کے ہر شخص کے لیے خاصی طویل رات رہی ہو گی۔ پوری رات عبادات اور مناجات کے ساتھ لڑائی کی تیاریاں جاری رہیں۔ حسین کی تیاری یہ تھی کہ انہوں نے زرہ بکتر اتار دی اور ایک سفید اور بے شکن جوڑا پہن لیا، گویا کفن اوڑھ لیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ ایک پیالے میں مرکلی کی گوندھ پگھلا کر لائی جائے۔ انہوں نے اپنے جسم پر اس گندھ رس سے مالش کی، خوشبو لگائی اور باقی سب کو بھی ایسا ہی کرنے کو کہا۔ سب جانتے تھے کہ یہ موت کی تیاری ہے، لاشے کو آخری رسومات کے لیے تیار کرنے کا طریقہ ہے۔
'یہ سب دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو ڈگمگا رہے تھے مگر میں نے بڑی مشکل سے خود پر قابو کیے رکھا، اپنے آپ کو روکے رکھا!' بعد ازاں حسین کی ایک بیٹی اس رات کا احوال سناتے ہوئے کہنے لگیں، 'میں چپ رہی ۔ میں جانتی تھی کہ مصیبت اور آزار کی وہ آخری گھڑی آن پہنچی ہے جس کے لیے ہم نے یہ طویل سفر اختیار کیا تھا'۔
آنسوؤں کے بارے کہا جاتا ہے کہ یہ متعدی ہوتے ہیں۔ چھوت کی طرح اچانک نکل آتے ہیں اور پھیل جاتے ہیں۔ کسی فلم یا اصل زندگی میں بھی، لوگ خود کو پھوٹ پھوٹ کر رونے سے روکتے ہیں۔ کیونکہ عام خیال یہی ہے کہ یہ کمزوری کی علامت ہے یا پھر ہم اپنی انا اور مرادنگی کے ڈھونگ میں یہ چاہتے ہیں کہ ہمدردی کا سامان پیدا نہ ہونے پائے۔ لیکن، بسا اوقات آنسوؤں کو روکے رکھنا انتہائی مشکل ہو جاتا ہے اور پھر جب آپے سے باہر ہو جائیں تو آنکھیں خود بخود نم ہو جاتی ہیں، نظر دھندلانے لگتی ہے اور اسی کشمکش میں آنسوؤں کی جیت ہو جاتی ہے۔ ہم بے اختیار رونے لگتے ہیں، غم سے چور ہو جاتے ہیں۔
لیکن شیعہ کے یہاں آنسوؤں کو روکے رکھنے کا کوئی تصور نہیں ہے، بلکہ یہ آنسو بہانے کا سامان کرتے ہیں۔ شیعہ رونے کی ترغیب دیتے ہیں، اس کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ غم اور دکھ، ان کے یہاں ایمان کے کامل ہونے کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔ یہ نہ صرف کفارہ ہے بلکہ ہول و ہیبت کا کھلم کھلا اظہار ہونے کے ساتھ مستقل ایقان کا بھی مظہر ہے۔ ان کے نزدیک ہر آنسو بیش قیمت ہے، اس کے بہائے جانے کا مقصد ہے۔
مقصد یہ ہے کہ پچھلے تقریباً چودہ سو برس سے مسلسل، عاشورہ کے دس دن کربلا میں پیش آنے والی ابتلا ، اس کٹھن گھڑی کی ہر ہر چھوٹی اور بڑی تفصیل دہرا کر یاد کی جاتی ہے اور اس دل خراش آزمائش میں مبتلا ہر کردار کو دوبارہ سے زندہ کیا جاتا ہے۔ شیعہ اسلام میں اس کڑے امتحان کی کہانی اس قدر نمایاں حیثیت رکھتی ہے کہ ہر سال، صدیوں سے اس کا تذکرہ اور یاد مقدس نوشتہ کے جیسے، اجتماعی یاد داشت میں بار بار واقعات دہرا کے اور کردار تخلیق کر کر کے باقی رکھی گئی ہے۔
ہر سال تعزیہ منایا جاتا ہے، ماتم کیا جاتا ہے اور جذبات کو بھڑکانے والی تماثیل کا بندوبست ہوتا ہے۔ یہ اتنے بڑے پیمانے پر ہوتا ہے کہ دنیا بھر کی شیعہ آبادیوں میں تقریباً ہر جگہ پر اس کا نظارہ کیا جا سکتا ہے ۔ کوشش رہتی ہے کہ پچھلے برس سے کہیں بڑھ چڑھ کر اہتمام کیا جائے۔ جلوس نکلتے ہیں، گریہ ہوتا ہے، لوگ زنجیر زنی کرتے ہیں اور غم میں خود کو تھپکتے، چھاتیاں پیٹتے ہیں۔ جھنڈے بلند کیے جاتے ہیں ، کربلا کے کئی کرداروں ، واقعات کی شبیہ دوبارہ سے تخلیق کی جاتی ہے اور پانی کی بے شمار سبیلیں لگتی ہیں ۔ نوحے لکھے اور پڑھے جاتے ہیں۔ سلام ، درود اور کربلا کے قصے سنانے کے لیے خصوصی محافل اور مجالس کا انعقاد ہوتا ہے اور لوگ سیاہ پوش، یعنی غم کے رنگ میں ڈھل کر عاشورہ کے دس دن مسلسل ماتم کناں رہتے ہیں۔ اہتمام کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ قرون وسطیٰ کے دور سے جاری، عیسائیوں میں انتہائی مقبول سالانہ یسوع کی اوبرآمرگاؤ تماثیل ، عاشورہ کے ہیجان خیز تجربے کی طویل داستان کے سامنے ایک زرد اور اندھے نقطے سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ جہاں طوالت، وہیں تعزیہ میں اہتمام بھی خاصا ٹھاٹھ دار اور پر شکوہ ہوتا ہے۔ واقعات کا احوال شان دار ہوتا ہے۔ وہ یوں کہ ان تماثیل یا قصہ گوئیوں میں مکالمے، صرف بات چیت نہیں ہوتیں بلکہ لمبی تقاریر اور طویل بحثیں لگتی ہیں۔ صرف سوال اور جواب پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ پوری گفتگو ہوتی ہے، جس میں احساسات کو واضح آوازوں اور الفاظ میں ادا کیا جاتا ہے۔ یوں سمجھ لیں کہ سالہا سال کی مشق اور صدیوں سے کی جانے والی آبیاری کا نتیجہ ہے کہ اتنی تفصیل اور باریکی سے مزین کیے جانے والی تماثیل مشہور زمانہ براڈ وے یا ویسٹ اینڈ کے تھیٹروں میں بھی بیان نہیں کیا جا سکتا، حالانکہ ان دونوں مقامات پر پیش کیے جانے والی تماثیل بارے کہا جاتا ہے کہ وہ ناظرین میں جذبات دوڑا دیتے ہیں۔ عاشورہ کی محافل میں عام قصہ گوئی اور تمثیلی نقلیں اور تجربات، ہر طرح سے برتر ہیں۔ دیکھنے اور سننے والوں پر وجدانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور وہ پورے انہماک سے کہیں کھو جاتے ہیں، جیسے سارے واقعات اپنی آنکھوں کے سامنے وقوع پذیر ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ سٹیج پر جب سیاہ مگر نہایت طمطراقی شاہانہ لباس پہنے یزید یا عبید اللہ یا شمر کے کردار سامنے آتے ہیں تو چاروں طرف سے لوگ پھنکارتے ہوئے، سی سی کی آوازیں نکالتے، ان پر آوازیں کستے ہیں۔ نئی نویلی دلہن جب اپنے خوبرو دلہا کو میدان جنگ میں بھیجنے سے پہلے وداع کرتی ہے تو دیکھنے والوں کے آنسو رکنے میں نہیں آتے اور ہال میں سسکیاں سنائی دیتی ہیں، آہیں بھری جاتی ہیں۔ حسین کا اپنے بیٹے کی لاش کو دشمن فوجیوں کے سامنے دونوں ہاتھوں میں اٹھائے بلند کرنے کا ذکر آتا ہے یا تمثیل میں اس منظر کو دیکھتے ہیں تو لوگ بے اختیار چھاتیاں پیٹنے لگتے ہیں، چاروں طرف ہلکی آواز میں بین سنائی دیتی ہے، بیچ میں کوئی کوئی سسکارتا ہے اور عورتیں یوں دبی دبی آوازیں نکالتی ہیں جیسے کوئی دم گھونٹ کر مار رہا ہو۔ پھر وہ یوں بین کرتی ہیں، روتی ہیں جیسے ان کا سینہ ہلکا ہو گیا تو چودہ سو سال پہلے پیش آنے والا المیہ ٹل جائے گا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان تماثیل اور داستان گوئی کے کئی رنگوں میں، جذبات اور تپاک اس وقت صحیح جوش میں نہیں آتا جب حسین کو قتل کر دیا جاتا ہے۔ اصل لمحات تو وہ ہیں جب دسویں کی رات وہ زرہ بکتر اتار کر کفن پہن لیتے ہیں۔ سوز و گداز اور جاں بلبی میں اب تک جتنے لمحات آئے ہیں، ان میں سب سے رقت آمیز یہ وقت ہے۔ کئی لوگوں کو یہ بات بہت عجیب محسوس ہوتی ہو گی مگر دیکھنے والی آنکھ کے لیے داستان میں یہ انتہائی کٹھن اور برداشت سے باہر تجربہ ہوتا ہے۔ یہ موت کے سامنے کھڑی ایک انتہائی ٹھہری ہوئی، چپ چاپ اور پر سکون گھڑی ہے۔ شاید، اپنی نوعیت کا یہ واحد لمحہ ہے جب اگلی صبح اپنی جان کے جانے کا سارا غم دور ہو گیا ہے، تکلیف جاتی رہی اور حسین نے اپنی قسمت کو قبول کر لیا۔ تقدیر کو مان لیا اور اب وہ کٹ مرنے کے لیے پوری طرح، دل و جان سے تیار ہیں۔
دس دن تک جاری رہنے والی تقریبات اور تماثیل کا حاصل یہ وقت ہے۔ لوگوں کی بڑی تعداد 'حسینیہ' میں جمع ہوتی ہے۔ حسینیہ سے مراد 'حسین کے گھر' ہیں۔ یعنی وہ بڑے بڑے ہال، جن میں بیٹھ کر ذاکر کربلا کی داستان سناتے ہیں۔ مرد حضرات بھی گریہ کرتے ہیں، روتے ہیں، پیٹتے ہیں اور ساری رات آنسو بہاتے ہیں۔ اصل مقصد ماتم نہیں بلکہ اس دل چیر دینے والی داستان پر ایک جگہ جمع ہو کر، انفرادی سطح پر انعکاس ہے، غم میں ڈوب کر مراقبہ کرنا ہے، غور و فکر کو دعوت دینا ہے۔ عورتیں ایک دوسرے کے گھروں میں جمع ہو کر حسین کی بیٹی اور ان کے بھتیجے کی شادی کی رات کے لیے چھتر بناتی ہیں۔ پھر اسے ریشم اور پھول کی لڑیوں سے سجاتی ہیں، فرش پر پھول کی پتیاں بچھائی جاتی ہیں۔ وہ پورے اہتمام کے ساتھ اس شادی کا بستر سجاتی ہیں جو کبھی مکمل نہیں ہو سکی اور نہ ہی ہو پائے گی۔ اسی طرح گھروں میں پنگوڑے لائے جاتے ہیں۔ ان پنگوڑوں کو حسین کے نومولود بیٹے کے لیے سجایا جاتا ہے اور اس میں اس معصوم بچے کے لیے کھلونے اور میٹھی ٹافیاں بھر کر رکھی جاتی ہیں۔ شادی کا بستر اور بچے کا پنگوڑا سجانا، اس مشق کا مقصد سوچ وچار کرنا ہے کہ روزمرہ زندگی ، شادی بیاہ اور بچے پالنے وغیرہ کے معاملات میں پھنس کر نہ رہ جائیں بلکہ ٹھہر کر غور کریں کہ اس سے کہیں بڑا کوئی مقصد ہے، فرض کے تقاضے ہیں۔ پھر ان معمولات کا صرف یہی پر مغز پس منظرنہیں ہے بلکہ عورتیں اس طرح کی رسم اور روایات زندہ رکھ کر، آج اکیسویں صدی میں بھی حسین کو اپنی گھریلو زندگی کے معاملات میں مدخل کر کے خدا سے دعا کرتی ہیں کہ ان کے صدقے، بچوں کو، یعنی مستقبل کو ہر طرح کے شر، تشدد اور خطرات سے محفوظ رکھے۔ عاشورہ کے دس دن، ان معمولات کے بیچ ہر وقت گریہ جاری رہتا ہے۔ مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے۔۔۔ الغرض ہر کوئی ماتم کناں رہتا ہے۔ چھاتیوں پر مکے مارتے ہیں، اپنے چہروں کو پیٹتے ہیں، نوچتے ہیں اور ساتھ لبوں پر ایک ہی نام رہتا ہے، 'حسین، حسین، حسین، حسین۔۔۔' یہ عالم تب تک جاری رہتا ہے جب تک گریہ کرنے والا تھک کر چور نہ ہو جائے اور ہمت جواب نہ دے چکے۔
ہر سال، محرم کے مہینے میں پہلے عشرے کی محنت اور ماتم ، دسویں دن یعنی عاشورہ کے دن انتہا پر پہنچ جاتا ہے۔ صبح ہوتے ہی مرد، عورتیں، جوان، بوڑھے اور بچے گھروں سے نکل آتے ہیں اور اکٹھے ہو کر دیہاتوں اور قصبات میں سینکڑوں اور شہروں میں ہزاروں کی تعداد میں بازاروں، سڑکوں اور جہاں جگہ ملے جلوس نکالتے ہیں۔ مردوں کے کئی جتھے ایک ہی رو اور انداز میں مٹھیاں بھینچ کر چھاتی پیٹتے ہیں اور یوں پسلیوں کے ڈھانچے پر ضرب لگنے سے گونج پیدا ہوتی ہے۔ ہر قدم، ہر مکے پر ساتھ ہی وہ کہتے جاتے ہیں، 'یا حسین۔۔۔ یا حسین!'۔ دن بھر یہی جلوس چلتے رہتے ہیں اور سوائے اس کے کچھ سنائی نہیں دیتا کہ ، 'اے حسین۔۔۔ اے حسین!'۔ یہ دن، ہر طرح سے حسین کا دن بن جاتا ہے۔
اگر ایک آدمی اپنی چھاتی کوخالی مٹھیاں بھینچ کر پیٹے اور اس سے گونج پیدا ہو جائے تو اس سے ہوش مندی اور سکون کا احساس ہوتا ہے۔ مگر جب ہزاروں کی تعداد میں لوگ ایک ساتھ چھاتیاں پیٹ کر گونج پیدا کریں تو میلوں د ور بیٹھ کر بھی یہ آواز سن سکتے ہیں۔ یہ کسی بھی شہر میں بجائی جانے والی گھنٹی یا بڑا ڈھول پیٹ کر پیدا کی جانے والی آواز یا اشارے سے کہیں اونچی گونج ہوتی ہے۔ یہ گونج مسلسل سنتے رہیں تو سوچ کر ہی ہول اٹھتا ہے کہ در اصل یہ زندہ لوگوں کی چھاتیوں سے نکلی گونج ہے جو گوشت کے گوشت سے ٹکرانے پر پیدا ہو رہی ہے۔
کچھ لوگ تو حد سے بڑھ جاتے ہیں۔ وہ خود کو خالی مٹھیوں سے نہیں بلکہ زنجیروں کے سانٹ سے پیٹتے ہیں۔ ہر زنجیر کے سرے پر ایک چھوٹا سا تیز دھار بلیڈ لگا ہوتا ہے۔ وہ پہلے ان زنجیروں کو بائیں کندھے کے اوپر سے اور پھر سامنے سے گھما کر دائیں کندھے کے اوپر سے پیٹھ پر بغیر رکے ضربیں لگائے جاتے ہیں اور پیٹھ لہو لہان ہو جاتی ہے۔ کچھ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو چاقو پکڑے اپنی پیشانیوں کو چھیل دیتے ہیں۔ ماتھے سے خون بہہ کر چہرے پر پھیل جاتا ہے اور آنسوؤں میں گھل کر ٹپ ٹپ گرتا رہتا ہے۔ ان مناظر کو دیکھ کر حیرت اور استعجاب تو ہوتا ہی ہے، ساتھ ہی ساتھ انوکھا اور تقدیس سے بھرا خوف اور دہشت بھی طاری ہو جاتی ہے۔
ماتمی جلوسوں میں لوگ کئی پوسٹر، بینر اور سب سے زیادہ، جھنڈے اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ یہ جھنڈے خصوصی طور پر سیاہ ریشم سے تیار کیے جاتے ہیں اور کونے پر سنہری یا ہرے رنگ کی گوٹا کناریاں، پھول اور بوٹے کاڑھے ہوتے ہیں۔ ہرا رنگ اسلام اور سیاہ ماتم کی نشانی ہے۔ ان میں سے کچھ جھنڈے اور بینروں کا ایک ہی معیار برقرار رکھا جاتا ہے۔ حسین سے منسوب ان چند جھنڈوں کا تقریباً ہر جگہ پر عرض ایک ہی ہوتا ہے اور یہ سب سے اونچے لہرائے جاتے ہیں۔ زیادہ تر تو ان پر حسین کا نام کاڑھا ہوتا ہے مگر اکثر ایسے بھی نظر آتے ہیں جس پر ان کی شبیہ بنائی ہوتی ہے۔ یہ ایک خوبرو نوجوان کی شبیہ ہے جس کے کاندھے پر ہرے رنگ کا کپڑا، جسے عربی میں 'کوفیۃ' کہا جاتا ہے، ڈھلکا رہتا ہے۔ باقی کے جھنڈے اور بینر عاشورہ کے لیے مخصوص ہوتے ہیں، جن پر اکثر خون، ماتمی کلمات وغیرہ درج ہوتے ہیں۔ کئی جگہیں ایسی بھی ہیں جہاں ان بینروں پر حسین کی ننگے سر، پیشانی سے خون بہتے ہوئے اور منہ شدید ایذا کی حالت میں منہ کھلا ہوا دکھایا جاتا ہے۔ یہ بینر جب ہوا میں لہراتے ہیں تو ایسا لگتا ہے جیسے ان کا سر خلا میں ٹنگا ہوا ہے اور یہ ایک برچھی کی نوک میں پرو رکھا ہے۔
ان ماتمی جلوسوں میں ، سب سے ممتاز نشان ایک سفید، بن سوار کے گھوڑا ہوتا ہے ۔ یہ حسین کا گھوڑا ہے، جس کی کاٹھی خالی ہے۔
10 اکتوبر، 680ء یعنی دس محرم کے دن سورج طلوع ہوا تو صبح سے ہی شدید گرمی ہو چکی تھی۔ جوں جوں دن بڑھتا گیا، گرمی کی حدت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ ایک کے بعد دوسرا، حسین کے ساتھ بہتر جنگجو باری باری، اپنی باری آنے پر تن تنہا خیموں سے نکلے اور قتل کر دیے گئے۔ دوپہر تک صرف حسین باقی تھے۔
انہوں نے اپنے گھر کی خواتین سے رخصت لی اور اپنے سفید اصیل نسل کے نراسپ گھوڑے پر سوار ہو گئے۔ اس گھوڑے کو 'ذو الجناح' کہا جاتا ہے۔ جس کا مطلب 'بازوؤں یا پروں والا' کے ہیں مگر اصل معنوں میں مراد 'تعاقب کرنے والا' کے ہیں۔ اسی لیے، اس کا نام 'لحق' بھی مشہور ہے۔ بہر حال، حسین ذو الجناح پر سوار ہو کر خیمہ بستی سے نکل کر میدان میں آ گئے اور لڑنے کے لیے تیار تھے۔ وہ گھوڑے کو سر پٹ بھگاتے ہوئے سیدھا دشمن کی صفوں میں جا گھسے اور چاروں طرف سے ان پر تیروں کی بوچھاڑ ہو گئی۔ یہ تیر اور بھالے گھوڑے کی رانوں میں پیوست ہو گئے تھے، وہ شدید زخمی ہو چکا تھا مگر پھر بھی دوڑتا رہا۔ کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ کمان کو گھوڑے کی ٹانگوں سے اٹھا کر تیر چلا سکے۔ اس پر حسین گھوڑ آسن میں سوار، دائیں اور کبھی بائیں اپنی تلوار گھماتے جاتے اور راستے میں آنے والا کوئی بھی شخص اس کی زد سے بچ نہ پاتا۔ چند لمحے تو بالکل بھی یقین نہیں آ رہا تھا کہ چار ہزار کے لشکر کے مدمقابل وہ واحد آدمی ہیں۔ 'اللہ کی قسم! میں نے اس سے پہلے اور نہ ہی اس کے بعد اس طرح کی دلیری کہیں دیکھی ہے' لڑائی کے بعد شمر کا ایک آدمی بتانے لگا، 'پیدل فوجی تو انہیں دور سے ہی سر پٹ اپنی طرف آتا کر یوں پیچھے ہٹ رہے تھے جیسے بکریاں ایک بھیڑیے کو شکار کرتے، آگے بڑھتے ہوئے دیکھ کر دبک جاتی ہیں'۔
ظاہر ہے، حسین کی دلیری کا یہ عالم زیادہ دیر تک قائم نہیں رہا۔ 'تم کس چیز کا انتظار کر رہے ہو؟' شمر اپنے فوجیوں پر برس رہا تھا، 'او نامرد کے بچو، او بزدل کی اولادو، او اس شخص کے پلو جس کا خوف کی وجہ سے خواہ مخواہ دونوں اطراف سے پیشاب خطا ہو جاتا ہے۔۔۔ حملہ کرو اور اسے مار ڈالو۔ تمہاری مائیں تم سے محروم ہو جائیں۔۔۔' ابھی شمر یہی کہہ رہا تھا کہ ایک تیر اڑتا ہوا آیا اور حسین کے کندھے میں پیوست ہو گیا۔ اتنی زور کا دھچکا لگا کہ وہ گھوڑے کی پشت سے زمین پر گر گئے، گھوڑا آگے نکل گیا اور شمر کے آدمی چاروں طرف سے ان پر ٹوٹ پڑے۔
شمر کے آدمی بتاتے ہیں کہ جب کام تمام ہو گیا تو حسین کے جسم پر لاتوں کے بتیس اور خنجر اور برچھیوں کے تینتیس زخم آئے تھے۔ اب بھی ان کی تسلی نہیں ہوئی۔ گویا ثبوت چھپانا چاہتے ہوں، لاشے کو، حسین کے، پیغمبر کے نواسے کے، اہل بیت کے پانچ افراد میں سے آخری کے لاشے کو دیر تک گھوڑوں کی سموں تلے روندتے ہوئے کچلتے رہے۔ کربلا کی ریتلی مٹی میں انہیں رول کر پامال کرتے رہے ۔
جب یہ ہو چکا تو سنیوں کے نزدیک جو صرف تاریخ ہے، شیعہ کے یہاں مقدس اور متبرک تاریخ کا روپ دھار لے گی۔ ان کے نزدیک تاریخ نے تقدیس اور عقیدت کا لباس پہن لیا اور شیعہ کے یہاں مشہور، تاریخ میں پیش آنے والے آگے کے واقعات کا احوال تبرک اور معظم یاد داشتیں ہیں۔ مثلاً، تاریخ میں جتنی بھی روایتیں درج ہیں۔ ان میں کہیں بھی حسین کی تین سالہ بیٹی سکینہ کا میدان جنگ میں بھٹکتے پھرنے کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اسی طرح کسی بھی جگہ حسین کا گھوڑا 'ذو الجناح ' آنسو بہاتا ہوا نہیں ملتا اور نہ ہی دو فاختائیں نظر آتی ہیں جو حسین کے قتل ہوتے ہی نہ جانے کہاں سے ، مبینہ طور پر جنت سے اڑتی ہوئی آئیں اور میدان میں پہنچ گئیں۔ لیکن لاکھوں شیعہ کے سامنے ان حقائق کا تذکرہ کون کر سکتا ہے؟ شیعہ جو عاشورہ کو اپنا سب کچھ سمجھتے ہیں، انہیں اب کون سمجھائے کہ یہ سب عقیدت کا نتیجہ ہے، ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اصل میں یہ جو کربلا کی داستان ہے، اس کو شیعہ کے یہاں اتنی بار دہرایا جا چکا ہے، اس کے گرد اتنے تانے بانے بنے گئے ہیں کہ اس میں نظر آنے والی گہرائی اور شدت کے سامنے کوئی عقلی دلیل ٹھہر ہی نہیں سکتی۔ حسین سے اس طرح جڑ گئے ہیں جیسے کٹر عیسائی یسوع کو ، ان کے ساتھ پیش آنے والے مافوق الفطرت قصے کو ایمان کی حد تک مانتے ہیں۔
شیعہ کے یہاں مشہور ہے کہ کیسے ذو الجناح، جو عرب کے اصیل گھوڑوں میں سب سے یکتا تھا، وہ حسین کو قتل کیے جانے کے بعد واپس لوٹ کر آیا اور اپنی پیشانی کو ان کے خون میں ڈبو کر رنگ دیا۔ پھر وہ سر پٹ بھاگتا ہوا خیمہ بستیوں میں عورتوں کے خیمے کے پاس چلا آیا۔ عورتوں نے دیکھا کہ اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ اپنی پیشانی کو زمین پر پٹخ پٹخ کر مار رہا تھا جیسے ماتم کرتا ہو۔ پھر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ نہ جانے کہاں سے، آسمان سے دو سفید فاختائیں اڑتی ہوئی آئیں اور اپنے پر حسین کے خون میں تر کر لیے۔ پھر یہ دونوں فاختائیں جنوب کی جانب اڑنے لگیں۔ پہلی کا رخ مدینہ اور دوسری کا مکہ کی طرف تھا۔ یہاں پہنچ کر جب مکہ اور مدینہ کے لوگوں نے ان پرندوں کو دیکھا تو وہ سمجھ گئے کہ یہ کیا سانحہ ہے جو دور کہیں، عراق کے ریتلے میدان میں رونما ہو چکا ہے۔ ان شہروں میں فوراً ہی بین اور رواس پٹاس شروع ہو گی اور دونوں شہر غم اور سوگ میں ڈوب گئے۔ پھر کہا جاتا ہے کہ کیسے تین سال کی سکینہ اپنے ابا کی تلاش میں میدان میں بھٹکتی پھر رہی تھی، انہیں پکار رہی تھی اور کیسے ایک ایک لاشے کو ٹٹول کر دیکھ رہی تھی اور اس کے ہاتھ، کپڑے اور منہ خون سے لت پت تھا۔ پھر جب اسے ایک لاشہ نظر آیا، جس نے پکار کر اسے پاس بلایا۔ سکینہ سمجھ گئیں کہ یہی اس کے ابا ہیں۔ وہ سمٹ کر اس خون اور مٹی سے اٹے ہوئے لاشے کے پہلو میں لیٹ کر مزے سے بے خبر سو گئی۔
جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا، اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ کیا عباس واقعی ایک بازو کٹ جانے کے بعد، دوسرے بازو سے بدستور لڑتے رہے؟ یا کیا گھوڑا زمین پر سر پٹخ کر واقعی رو سکتا ہے؟ یا کیا اس ریتلے صحرا میں ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ دو فاختائیں اڑتی ہوئی ایسے آئیں، جیسے جنت سے اتری ہیں؟ ایمان اور ضرورت کا تقاضا یہی تھا کہ مان لیا جائے، مشہور ہو جائے کہ واقعی ایسا ہوا تھا۔ کئی صدیوں سے بار بار، ہر برس دہرائی جانے والی کہانیاں مسلم اور ناقابل تردید سچ کا روپ اختیار کر گئیں۔ اگر واقعتاً یہ کہانیاں سچ نہ بھی ہوں، ان میں واضح کیے جانے والے معنی اور مفہوم بلا شبہ سچ ہیں۔ جیسا کبھی عیسیٰ کی موت کے ساتھ ہوا تھا، حسین کا قتل بھی تاریخی واقعے کی بجائے تاریخ سے ماورا، زمینی حقائق سے کہیں بر تر حقیقت بن جائے گی۔ یہ محض ایک دن نہیں رہا بلکہ یہ ایمان اور القا ، یعنی عقیدے کا حصہ بن گیا۔ یہ یقین کا ایسا سمندر ہے جس میں جذبات اور شریعت کے دریا ایک ساتھ بہتے ہوئے آتے ہیں اور یہاں آ کر ایمان کے اس بحر بے پایاں میں مل جاتے ہیں۔
شمر کے آدمیوں نے حسین کا سر تن سے جدا کر دیا۔ ان کے بہتر ساتھیوں کے سر بھی اسی طرح کاٹ کر جسم سے الگ کر دیے گئے۔ ان میں سے زیادہ تر کو بوریوں میں بھر کر گھوڑوں کے گلے میں لٹکا لیا گیا۔ ہر سر، قتل کا ثبوت تھا۔ وہ نشانی جو کوفہ میں عبید اللہ کو پیش کر کے انعام کمانے کا ذریعہ ہو گی۔ لیکن حسین کے سر کو کسی بوری میں نہیں ڈالا گیا بلکہ اسے الگ کر کے رکھ دیا گیا، کیونکہ اصل قیمت تو اس سر کی تھی۔ شمر نے حکم دیا کہ ایک برچھی کی نوک پر حسین کا سر پرو کر لشکر کے آگے آگے، کسی فتح کی جانے والی ٹرافی کی طرح سجا کر چلایا جائے۔ ایک وہ دن تھا جب صفین کے میدان میں قران کے پارچے نیزوں پر لگائے گئے تھے، آج کربلا میں حسین کا سر ویسے ہی اٹھا رکھا تھا۔
شمر نے سر کٹے بہتر لاشے دفنائے نہیں بلکہ حکم دیا کہ انہیں صحرا میں لگڑ بگڑوں اور بھیڑیوں کے لیے چھوڑ دیا جائے تا کہ وہ انہیں نوچ کھائیں۔ عورتوں اور بچوں کو زنجیروں میں جکڑ کر کوفہ تک حسین کے نیزے پر بلند کیے ہوئے سر کے نیچے پیدل چلا کر لایا گیا۔ جب وہ گورنر کے محل میں پہنچے تو شمر نے حسین کا سر برچھی سے اتار کر اس کے پیروں میں اچھال دیا۔ عبید اللہ نے یہ دیکھ کر قہقہہ لگایا اور شمر کو شاباش دی۔ اس نے سر کو اپنی چھڑی سے چند ٹوکیں لگائیں اور پھر اتنی زور سے ضرب ماری کہ یہ سخت پتھریلے فرش پر دور تک لڑھکتا چلا گیا۔ یہ دیکھ کر حاضرین میں پیغمبر کا ایک بزرگ ساتھی سے رہا نہ گیا ، وہ اس بے حرمتی پر سخت خوفزدہ ہو گیا۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا اور جان کے خطرے سے بے پرواہ ہو کر بولا، 'اپنی چھڑی کو دور کرو، تمہیں خدا کا واسطہ!' پھر جیسے پھٹ پڑا، 'جس چہرے کی تم تضحیک کر رہے ہو، میں نے پیغمبر خدا کو کتنی ہی بار اس چہرے کو چومتے ہوئے دیکھا ہے'۔ پھر یہ شخص روتا ہوا، اس سے پہلے کہ عبید اللہ کے فوجی اسے روک پانے، چھڑی کے سہارے ٹیک لگا کر چلتا ہوا باہر نکل گیا۔ بلکہ، کسی میں حتی کہ عبید اللہ میں بھی اس کو روکنے کی ہمت نہیں تھی۔ وہ باہر نکلا اور باہر جمع لوگوں سے آخری بار مخاطب ہوا،
'ایک غلام نے دوسرے غلام کو اقتدار اور طاقت دی تو اس نے لوگوں کو اپنی میراث بنا لیا' آواز میں زور تھا، 'تم۔۔۔ اے عرب کے لوگو، تم ! آج کے بعد غلام ہو۔ تم نے فاطمہ کے بیٹے کو قتل کر دیا ہے اور یہ حرام زادہ گورنر تمہیں حکم دیتا ہے اور تم چوں چراں کیے بغیر مان لیتے ہو؟ تم نے ذلت اور خجالت کا لبادہ اوڑھ لیا ہے۔ اللہ کرے وہ جو اس تذلیل اور فروتنی کو قبول کیے بیٹھے ہیں، ان پر قہر نازل ہو'۔
اس بوڑھے شخص کا غم اور غصہ، نراس زدہ ہول لوگوں کے اجتماعی ضمیر اور عمل میں جم کر بیٹھ گیا۔ محمدؐ کو گزرے ابھی پچاس برس بھی نہیں گزرے تھے اور یہاں ان کے گھر کے مردوں کا قتل عام ہو چکا تھا۔ عورتوں کی تذلیل کی جا رہی تھی اور بچے زنجیروں میں جکڑے، سہم کر بیٹھے تھے۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی، پورے عالم اسلام میں غم و غصہ کی تلخ لہر دوڑ گئی۔ جو سنتا، وہی شرمندگی سے سر جھکا لیتا، ندامت کے آنسو تھے کہ رکنے میں نہیں آتے تھے۔ یوں، محمدؐ کے گھرانے، یعنی اہل بیت کا ایک نیا نام مقبول عام ہو گیا۔ اب انہیں اہل حزن، یعنی غم اور اندوہ کا گھر بھی کہا جانے لگا۔
حسین کا اس طور صحرا میں حقارت اور انتہائی اندوہناک طریقے سے قتل ہو جانا، چھ سو سال قبل عیسیٰ کے بہیمانہ قتل کی طرح خاتمے کا نہیں بلکہ ایک نئی شروعات کا نشان ثابت ہو گا۔ یہ اس داستان کا انجام نہیں بلکہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی اگلی قسط نمبر 14 کے لیے یہاں کلک کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر