اول المسلمین کے بعد - حسین - 14




جیسا شمر نے چاہا تھا، ویسا نہیں ہوا۔ اس کے حکم کے مطابق لگڑ بگڑوں اور بھیڑیوں کو لاشیں بھنبھوڑ کر چیر پھاڑنے کا موقع نہیں مل سکا۔ ہوا یہ کہ جب لڑائی ختم ہو گئی تو اس کی افواج نے مقتولین کے سر کاٹ کر رکھ لیے، خیمہ بستی کو آگ لگا دی اور بچ جانے والوں کو قیدی بنا کر اپنے ساتھ لے گئے۔ جب چلے گئے تو آس پاس کے لوگ نکل آئے۔ یہ دریا کے پار واقع کھجوروں کے باغات اور کھیت کھلیانوں میں کاشت کرنے والے دہقان تھے۔ انہوں نے بہتر سر کٹی لاشیں ایک جگہ پر جمع کیں اور انہیں میدان میں ہی دفن کر کے قبروں پر نشانی لگا دی۔ اس واقعہ کے چار سال بعد یہاں زائرین کی آمد و رفت کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہو ا۔ پہلی بار یہاں آنے والے یہ چند ہزار لوگ تھے جو آنے آج ان لاکھوں زائرین کے پیش رو نقیب کہلائے جا سکتے ہیں جو ہر سال یہاں ضرور آتے ہیں۔ ہر سال، محرم کے مہینے میں ان شہداء کی برسی کے موقع پر بڑی تعداد میں لوگ حاضری لگانے آتے رہے اور یہ زائرین ہی تھے جنہوں نے اس بنجر اور پتھریلی صحرائی میدان کا نام کربلا رکھ دیا۔ یعنی، کرب اور بلا۔ یہ میدان اور بالخصوص وہ جگہ جہاں بہتر شہیدوں کی قبریں بنائی گئی تھیں، مصیبت اور آزمائش کا مقام کہلائی۔
حسین کا مزار بھی یہیں ہے مگر ان کا سر چونکہ شمر کے آدمی اپنے ساتھ لے گئے تھے، بعد ازاں اس کی علیحدہ تدفین بارے کئی روایتیں مشہور ہو جائیں گی۔ کربلا کے بعد جو واقعات پیش آئے اور وہ چیدہ مقامات جو اس کہانی سے جڑے ہوئے تھے، تقریباً ہر جگہ پر سر کی تدفین کا دعویٰ سامنے آیا۔ زیادہ تر لوگوں کا خیال یہ ہے کہ حسین کا سر دمشق کی مرکزی مسجد کے ساتھ ہی ، شمالی دیوار کے سائے تلے دفن کیا گیا تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ حسین کا یہ مزار مصر میں قاہرہ کی جامع مسجد الازہر کے داخلی راستے کے ساتھ جو روضہ ہے، ادھر واقع ہے۔ کئی ایسے بھی ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ حسین کے سر کو بعد ازاں امانت کے طور پر، یعنی حفاظت کی غرض سے آذر بائیجان لے جایا گیا اور وہیں مزار بنا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ حسین کا سر واپس کربلا لایا گیا تھا اور پورے اعزاز کے ساتھ یہیں تدفین کی گئی۔ در اصل اس داستان میں وقت کے ساتھ یہ بات اہم نہیں رہی کہ حسین کا جسم یا جسمانی اعضاء کہاں گئے؟ وہ کہاں دفن ہوئے؟ اہم یہ کہ حسین کی کہانی زندہ رہی۔ آج بھی دنیا کے کونے کونے میں باقی ہے اور جہاں چلے جائیے، آپ حسین کو وہیں پائیں گے۔ یہ سوچ ان مٹ ہو گئی ہے۔ حسین کی کہانی کیونکر باقی رہی؟ یہ آج بھی کیوں زندہ ہے؟ لوگ پوچھتے ہیں کہ یہ تفاصیل کہاں سے آتی ہیں؟ کس نے بتایا؟ کربلا کا احوال ان کے قافلے میں بچ جانے والوں نے اور شمر کی افواج نے سنایا تھا ۔ کربلا کی لڑائی میں بچنے والے حسین کے گھر کی عورتیں، لڑکیاں اور ایک لڑکا تھا۔
علی زین العابدین، حسین کے فرزند تھے جو اس وقت بلوغت کی عمر میں تھے۔ انہوں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا۔ لڑائی کے دن یہ خیمے میں بستر پر پڑے رہے کیونکہ یہ اٹھنے سے بھی قاصر تھے۔ شدید بخار کی وجہ سے تقریباً بے ہوش تھے۔ بھوک اور پیاس سے نڈھال ، انتہائی بے بسی کے عالم میں اپنے دوستوں، قریبی عزیزوں اور آخر میں اپنے ابا کو خیمہ بستی سے باہر جاتے، موت کے گھاٹ اترتا ہوا دیکھتے رہے۔ جب لڑائی ختم ہو گئی، یعنی حسین کو قتل کر دیا گیا تو شمر کے آدمیوں نے خیمہ بستی کا گھیرا تنگ کر لی۔ وہ سیدھا عورتوں کے خیموں میں گھس آئے تھے۔ یہاں انہوں نے پہلی بار زین العابدین کو بیماری کی حالت میں بے سدھ پڑے دیکھا۔ وہ آسان ہدف تھے اور امکان تھا کہ موقع پر قتل کر دئیے جاتے مگر ان کی پھوپھی، یعنی حسین کی بہن زینب بیچ میں آ گئیں۔
'کبھی شیطان کو اپنی دیدہ دلیری چھیننے مت دینا، کمزوری مت دکھانا۔۔۔' حسین نے پچھلی رات ہی انہیں تلقین کی تھی ۔ اب وہ اسی وجہ سے بہادری دکھائیں گی۔ وہ تیزی سے دوڑتی ہوئی آئیں اور خود کو دھکیل کر بھتیجے اور شمر کے بیچ لا کھڑا کیا۔ وہ تن کر کھڑی تھیں اور شمر کو للکار رہی تھیں کہ اگر ہمت ہے تو پہلے انہیں اور پھر زین العابدین کی طرف بڑھے۔ 'اگر تم نے اسے قتل کیا تو اس سے پہلے، مجھے مارنا ہو گا' وہ غصے میں تقریباً پھنکارتے ہوئے بولیں۔
شمر جیسے شخص میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ پیغمبر کی نواسی کو عمداً قتل کر سکے۔ بجائے اس کے ، حکم دیا کہ لڑکے کو عورتوں اور بچوں کے ساتھ ہی جنگی قیدی بنا لیا جائے۔ زینب نے اس دن نہ صرف حسین کی نشانی، یعنی بچ جانے والے اس بیٹے کی جان بچائی بلکہ وہ آگے چل کر کربلا کی یاد کو بھی زندہ رکھیں گی۔ اس عالم میں جب انہیں زنجیروں میں جکڑ کر، کپڑے تار تار تھے اور سر پر چادر بھی نہیں تھی، پہلے کوفہ اور پھر شام لے جایا جا رہا تھا تو وہ سارے راستے بین کرتی رہیں۔ ان کے غم میں ڈوبے ہوئے رنجور الفاظ اور بے بسی کی حالت آنے والی صدیوں میں عالم اسلام کا پیچھا کرتی رہے گی۔
'اے محمدؐ، محمدؐ، میرے محمدؐ! جنت کے فرشتے تم پر رحمت بھیجا کریں' وہ بین کر رہی تھیں، ' دیکھو اے محمدؐ، محمدؐ، میرے محمدؐ! اپنے حسین کو دیکھو۔ کھلے آسمان تلے، خون میں لت پت، سر ، ہاتھ اور بازو، ٹانگیں کاٹ کر پھینک دیا گیا۔ اے محمدؐ، محمدؐ، میرے محمدؐ! تمہاری بیٹیاں قید میں ہیں، تمہاری اولاد کو مار دیا اور مشرق کی ہوا لاشوں پر دھول اڑا رہی ہے۔۔۔ اے محمدؐ، محمدؐ، میرے محمدؐ!'
عراق کے کونے کونے میں یہ خبر، آل محمدؐ کی حالت زار کا احوال خود بخود ہی پھیل گیا۔ کسی کو بتانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی کہ مشرق سے چلنے والی ہوا اپنے ساتھ کیا لائی ہے۔ عراق میں یہ ہوائیں عام طور پر دھول کے طوفانوں کے لیے مشہور تھیں، جس میں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ لغوی معنوں میں بھی ان ہواؤں سے مراد مصیبت اور آزمائش کی گھڑی ہے۔
شمر کے آدمی بھی زینب کو اس طرح دل چیر دینے والے الفاظ اور بین کے ساتھ ماتم کرتے دیکھ کر شرمندہ ہو گئے یا کم از کم ان میں سے چند ایک نے ایسا ہی روایت کیا ہے، 'اللہ کی قسم! اس نے تو ہر شخص کو رلا دیا۔ دوست اور دشمن، کون تھا جو اس بین اور چیخ و پکار کو سن کر نہیں رویا؟'۔ لیکن اگر یہ فوجی واقعی شرمندہ تھے یا شدت جذبات سے روئے بھی ہوں گے مگر پھر بھی حکم کے پابند رہے۔ عبید اللہ نے قیدیوں کی سر عام تذلیل کی، انہیں کوفہ کی گلیوں میں ننگے سر اور پیر گھمایا ۔ جب اس کی تشفی ہو گئی تو قیدیوں کو کٹے ہوئے بہتر سروں سمیت دمشق میں یزید کے دربار میں حاضر کرنے کے لیے بھجوا دیا۔
بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ عبید اللہ نہیں بلکہ خود یزید تھا جس نے حسین کے سر پر چھڑی سے ٹوکیں لگائی تھیں۔ زور کی ضرب لگا کر سر زمین پر لڑھکا دیا تھا اور جب اس کے پیروں میں سر پھینکا گیا تو اس نے دیکھ کر قہقہے لگائے تھے۔ لیکن زیادہ تر روایات میں یہی درج ہے کہ وہ شمر اور عبید اللہ پر برس پڑا تھا ۔ ان کے اس بابت شدید جوش اور تذلیل میں حد سے گزرنے پر سخت سرزنش کی تھی۔ یقیناً ایسا ہی ہوا ہو گا، کیونکہ اس کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے زینب بنفس نفیس، خود وہاں موجود تھیں۔
کہتے ہیں وہ زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھیں، کپڑے تار تار اور ننگے سر تھیں۔ منہ اور بالوں میں دھول اٹی ہوئی تھی اور کوفہ سے یہاں تک صحرا میں تقریباً پیدل سفر کرنے کی وجہ سے پیروں میں چھالے پڑے ہوئے تھے۔ سخت تکان کا شکار تھیں اور کئی دن کی مسافت اور مشقت سے حالت خراب ہو چکی تھی۔ لیکن اس کے باوجود وہ اموی خلیفہ یزید کے سامنے ، اس کے بھرے دربار میں، گھمنڈ اور نخوت سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔ کہتے ہیں، ان کا سر اعتماد سے اس طرح بلند اور آواز میں اس قدر رعب تھا کہ جیسے یہ دربار، یزید نہیں بلکہ ان کا ہو۔ وہ یزید کو اس کا نام لے کر مخاطب کر رہی تھیں اور سر عام اس کو ملامت کرنے لگیں، 'تم، تمہارا باپ اور تمہارا دادا۔۔۔ تم سب نے میرے باپ علی کے ، میرے بھائی حسین کے اور میرے نانا محمدؐ کے دین کو قبول کیا تھا' اب جیسے وہ دہاڑتے ہوئے بولیں، 'پھر بھی تم نے انہیں رسوا کیا اور ان کی تذلیل کی؟ ان کے ساتھ نا انصافی کی، ان کے نام کی بے حرمتی کی اور ان پر جبر اور ظلم کیا؟ اسی دین کو کچل دیا جس کو تم تینوں ، تین نسلوں سے مانتے آئے ہو؟'
تاریخ میں درج ہے کہ یہ سن کر یزید رو پڑا، 'اگر میں خود وہاں ہوتا تو اے حسین! تم کبھی مرتے نہیں۔ تمہارے ساتھ قطعاً یہ سلوک نہ ہوتا' اس نے اپنے سر کی قسم اٹھائی ۔ پھر فوری طور پر حکم جاری کیا کہ قیدیوں کے ساتھ انتہائی عزت اور اکرام کا سلوک کیا جائے۔ انہیں یزید کے گھر کی عورتوں کے ساتھ، نہایت احترام کے ساتھ ان کے لائق جگہ دی جائے اور ہر ممکن خوب سے خوب تر خیال رکھا جائے۔ کربلا کے چالیس دن بعد، جس دن کو شیعہ 'اربعین' یا 'چہلم' کہتے ہیں، یزید نے حسین کے گھرانے کی ان عورتوں، لڑکیوں اور واحد بچ جانے والے لڑکے علی زین العابدین کو ذاتی طور پر تحفظ اور دیکھ بھال کی یقین دہانی کرائی۔ ان کے ساتھ ایک فوجی دستہ مقرر کیا اور پورے انتظام کے ساتھ، شاہی قافلے کی صورت واپس مدینہ روانہ کر دیا۔
شاید زینب کا خطاب سن کر یزید کو ایک دم معاویہ کے الفاظ یاد آ گئے ہوں گے جو انہوں نے مرتے ہوئے اس سے کہے تھے، '۔۔۔ تم اسے شکست دینا اور پھر معاف کر دینا کیونکہ وہ پیغمبرکا نواسا ہے اور اس کا یہی، بڑا حق ہے'۔ اگر اس کو اپنے کیے کا رنج تھا یا واقعی یہی بات تھی تو افسوس، اب بہت دیر ہو چکی تھی۔ شیعہ کے یہاں تو اسے سخت ذلت آمیز اور گالم گلوچ کی زبان میں یاد کیا جائے گا مگر تقریباً سنی بھی اسے اس گھناؤنے جرم پر کبھی معاف نہیں کریں گے۔ اس کے نام اور یاد کے ساتھ کڑواہٹ اور تلخی جڑ جائے گی۔ واقعہ کربلا کے فوراً بعد ہر طرف جیسے بغاوت شروع ہو گئی۔ یہاں تک کہ مدینہ اور مکہ میں بھی یورش کا عالم تھا۔ تقریباً تین سال بعد جب شامی افواج مکہ میں عائشہ کے بدقسمت بہنوئی زبیر کے فرزند کی سربراہی میں اٹھنے والی بغاوت سے نبٹتے ہوئے شہر پر دوبارہ قبضہ کرنے کے قریب تھیں، دمشق سے یزید کے مرنے کی اطلاع آ گئی۔ شاید ہی کسی شخص نے اس کے مرنے پر آنسو بہائے ہوں۔ یزید کے مر جانے کے چھ ماہ بعد، کسی نے اس خبر پر تو بالکل بھی توجہ نہیں دی کہ اس کا تیرہ سالہ بیٹا، بیماری سے چل بسا۔ وہیں، اس بات میں بھی کوئی شک اور شبہ نہیں کہ مروان، جس نے یزید کے بعد خلافت سنبھال لی تھی، اس کے مرنے پر غم نہیں بلکہ خوشی کا سماں تھا۔ مروان وہی شخص ہے جو عثمان کی نیابت پر فائز تھا اور ان کی خلافت اور علی کے دور میں بھی، مبینہ طور پر پس پردہ کئی سازشوں میں ملوث رہا۔ یزید کے مرتے ہی اس کو موقع مل گیا اور اس نے اقتدار ہتھیا لیا مگر ایک سال کے اندر ہی، کہا جاتا ہے کہ بیوی کے ہاتھوں گلا گھونٹ کر مار دیا گیا۔
اس سارے عرصے میں، 'کربلا کا عنصر' زوروں پر تھا۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جا رہا تھا، کربلا کی کہانی زور پکڑ رہی تھی، اس کا بیانیہ مضبوط ہی ہوتا گیا۔ کربلا میں بچ جانے والوں نے اس دل خراش واقعہ کی یاد بھر پور انداز میں تازہ رکھی۔ پیش آنے والے واقعات کو جہاں موقع ملتا، دہراتے رہے۔ لوگ چونکہ اب بھی شرمسار تھے، انہوں نے کفارہ ادا کرنے کی غرض سے ان یاد داشتوں کو ازبر کر لیا بلکہ اسی پر جڑ گئے۔ عرب ،شام اور عراق حتی کہ دور دور جیسے الجیریا اور ہندوستان سے بھی لوگ بچ جانے والے اہل بیت، جو اب اہل حزن کہلائے جاتے تھے، مکہ میں عمرہ اور حج جبکہ مدینہ میں زیارت کے لیے آتے رہے تو اہل بیت کے یہاں بھی ضرور جاتے ، ان سے ملتے اور اپنے ساتھ 'کربلا کا عنصر' پلے سے باندھ کر واپس اپنے علاقوں میں لوٹتے رہے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے، اس سانحے کا احوال اور اس کے پیچھے عوامل اور حسین کی سوچ، ایک انتہائی طاقتور تحریک میں بدل گئی۔ ساتویں صدی عیسوی میں کربلا کے سانحے میں بچ جانے والوں کی یاد داشتیں اور سنائی رو داد، آج اکیسویں صدی میں بھی جوں کی توں زندہ ہے اور ہر دور میں کسی نہ کسی انقلابی تحریک کی بنیاد بن ہی جاتی ہے۔
ایرانی نژاد پروفیسر علی شریعتی، جن کے پیش کردہ نظریات 1979ء میں ایرانی انقلاب کی بنیاد بنے تھے، لکھتے ہیں کہ 'مذہب اور عقائد انتہائی طاقت ور اور غیر معمولی شے ہے ۔ آپ اسے ایسا حیران کن رجحان کہہ سکتے ہیں جو لوگوں کی زندگیوں میں کئی طرح سے انتہائی متضاد کردار ادا کر سکتا ہے۔ اگر یہ سڑے ہوئے معاشروں میں دوبارہ جان ڈال سکتا ہے تو وہیں یہ بھی عین ممکن ہے کہ ہنستے بستے سماج کو برباد کر کے رکھ دے۔ یہ سوچ کو دبا کر سلا بھی سکتا ہے اور ضرورت پڑے تو تحریک پیدا کر کے سوئے ہوئے شیر کو جگا بھی سکتا ہے۔ لوگ اس کے ہاتھوں اسیر بھی ہو جاتے ہیں اور انہیں اسی کے سبب نجات بھی مل سکتی ہے۔ یہ ایک ہی وقت میں اطاعت اور فرمانبرداری بھی سکھاتا ہے اور غدر، باغیانہ پن پر بھی اکسا سکتا ہے'۔
خمینی نے شریعتی کو خوب اچھی طرح سمجھ رکھا تھا۔ شریعتی کی ہی طرح، خمینی کے خطبات ، تعلیمات اور افعال میں بھی کربلا کو انقلاب سے لدی ہوئی علامت کے طور پر صاف دیکھا جا سکتا ہے۔ وہ بھی اپنے نکتہ نظر کو اسی بات پر مجتمع کرتے ہیں کہ در اصل کربلا بغاوت، ظلم اور جبر سے انحراف، شہادت سے جڑے جذبات، سماجی اور سیاسی اہمیت کا حامل واقعہ ہے جو کسی بھی دور میں، کسی بھی جگہ پر اور کسی بھی صورتحال میں با آسانی فٹ کیا جا سکتا ہے۔ شاہ ایران کی حکومت میں، جب سیاسی اختلاف رائے پر جیل کی صعوبتیں عام تھیں اور پر تشدد کارروائیوں میں ماورائے عدالت قتل ہو ا کرتے تھے، مذہب احتجاج اور مزاحمت کی زبان بن کر ایرانی عوام کے لیے چھتر چھایا فراہم کر سکتا تھا۔ لیکن یہ تحریک صرف مذہب اور عقیدے کے نام پر نہیں چل سکتی تھی۔ اس لیے اسے 'کربلا کے عنصر' کے پہیے لگا دیے گئے۔ 'کربلا کا عنصر' اس تحریک کا اس قدر جاندار مصدر تھا کہ ذرا اندازہ لگائیے، اوپر بیان کردہ خطوط پر ترتیب دی جانے والی انقلابی تحریک دیکھتے ہی دیکھتے ہر کسی کی آواز بن گئی۔ یہ کربلا کے بیانیے کا ہی کمال تھا کہ مذہبی حلقوں اور سیکولر طبقات، آزاد خیال اور قدامت پسند آبادیوں، شہر کے مارکسی ہوں یا روایت پسند دیہاتی، الغرض سب کے نظریات اور عام عوام کی سماجی اور معاشی ضرورتیں اس تحریک کے ساتھ یکساں انداز میں انتہائی خوبصورتی کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئیں۔
خمینی نے نومبر 1978ء میں، جب وہ فرانس میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے، ایرانیوں کے نام یہ پیغام نشر کیا، ' اس برس عاشورہ کے خون آلود جھنڈے لے کر نکلو ۔ جہاں ممکن ہو یہ جھنڈے اس دن کی نشانی کے طور پر بلند کرو جب کچلے اور ستائے ہوئے لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور جابر، ظالم اور بے انصاف حکمرانوں سے انتقام لیں گے'۔ پھر یہی ہوا۔ اس برس عاشورہ کے دن، یعنی 11 دسمبر کو خمینی کی اس اپیل کا نتیجہ تھا کہ روایتی ماتمی جلوس ، انتہائی کارگر سیاسی ہتھیار میں تبدیل ہو گئے۔ عوامی دباؤ اور سخت احتجاج کے بعد شاہ ایران نے دو دن کے لیے مارشل لاء ہٹا دیا اور شہروں میں کرفیو نرم کر دیا گیا۔ نویں اور دسویں محرم کے دو دنوں میں خمینی کی درخواست پر لاکھوں لوگ نکلے اور گلیوں کوچوں، بازاروں اور شاہراؤں پر جلوس ہی جلوس تھے۔ محرم کے ماتمی جلوسوں میں عام طور پر بلند ہونے والا نعرہ 'موت بر یزید!' یعنی 'یزید کی موت'، اس برس، 'موت بر شاہ!' یعنی 'شاہ کی موت!' بن گیا۔
چالیس دن بعد، یعنی چہلم کے موقع پر خمینی نے دوبارہ اپیل کی اور 'کربلا کے عنصر' کو بدستور تحریک کا مرکز بنائے رکھا۔ انہوں نے شاہ کی پولیس کے ہاتھوں گلی کوچوں میں قتل ہو جانے والوں کو ان کے ساتھ ملا دیا جو چودہ سو برس پہلے یزید کی افواج کے ہاتھوں شہید کر دیے گئے تھے۔ 'یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ہمارے شہداء کا خون، کربلا کے شہداء کے خون ، ان کے قتل کا تسلسل ہے' خمینی نے لکھا، 'یہ ہمارا دینی اور قومی فرض ہے کہ اس دن، یعنی چہلم کے دن جلوس نکالیں اور اس ظلم پر سراپا احتجاج بن جائیں'۔ اب کی بار مارشل لاء نہیں ہٹایا گیا، سخت کرفیو میں بھی کربلا کا سانحہ ایک دفعہ پھر لاکھوں لوگوں کو سڑکوں پر لانے کا محرک بن گیا۔ لوگوں کا ایک سمندر تھا، جس جلوس میں دیکھیے، ہزاروں اور لاکھوں لوگ جمع تھے۔ شاہ کی پولیس نے پھر گولیاں چلائیں اور اس موقع پر مزید شہداء نکل آئے۔ اس کے بعد تو جیسے ساری رکاوٹیں بے معنی ہو گئیں۔ بات اتنی بڑھی کہ مہینے کے آخر تک شاہ کو حکومت چھوڑ کر جلا وطنی اختیار کرنی پڑ گئی۔
انقلاب آ چکا تھا لیکن کئی لوگ کہتے ہیں کہ انقلاب تو آ گیا مگر ساتھ ہی انتقام بھی شروع ہو گیا۔ تحریک کے کامیاب ہوتے ہی پرانی رنجشیں، مخالفتیں اور نظریات کی جنگ دوبارہ سے شروع ہو گئی۔ انقلاب کے صرف دو ماہ بعد ہی ایران کو 'اسلامی جمہوریہ' بنانے کا اعلان کر دیا گیا اور خمینی نے خود کو 'سپریم لیڈر' مقرر کر دیا۔ آزاد خیال مسلمان اور سیکولر حلقے اب خود کو اس مذہبی آگ کی تپش سے جھلسا ہوا پائیں گے، جسے انہوں نے مذہبی حلقوں کے ساتھ مل کر بھڑکایا تھا۔ انقلاب ، ملائیت کے سامنے سرنگوں ہو چکا تھا۔ وہ آزادی جو قدیم زمانوں سے ایران یعنی فارس کا خاصا ہوا کرتی تھی، جاتی رہی۔ انصاف کے ایسے معیار مقرر ہوئے کہ جلد ہی ملک میں جاری طرز حکومت کو 'اسلامی آمریت' جیسے ناموں سے بھی پکارا جانے لگا۔ ہزاروں سیکولر اور آزاد خیال، انتہائی سرگرم عمل کارکن جو انقلاب میں پیش پیش رہے تھے، انہیں پابند سلاسل کر دیا گیا اور زیادہ تر کو موت کی سزائیں سنائی گئیں۔ عورتیں سر تا پا سیاہ حجابوں کے پیچھے چلی گئیں ۔ وو جوان عورتیں جو صرف پتلی چادریں لپیٹ کر ہاتھ میں ہلکی مشین گنیں اٹھائے، انقلاب کے دنوں میں تہران کی سڑکوں پر نعرے لگایا کرتی تھیں ، خود کو 'زینب کی سپاہی' کہلواتی تھیں، جلد ہی روایتی کام کاج اور دروازے کے اندر، معمولی نوعیت کے دفتری امور میں مشغول کر دی گئیں۔ شریعتی کی زیادہ تر تعلیمات کو غیر اسلامی قرار دے دیا گیا۔ ان کی تصویریں کبھی خمینی کے قد آدم پوسٹروں اور بینروں پر ایک ساتھ نظر آتی تھیں، اب کہیں نظر نہیں آئیں گی۔ تب سے سرکاری تقریبات، اشتہارات، پوسٹروں، بینروں، ٹی وی، ریڈیو، ڈاک ٹکٹوں اور کرنسی نوٹوں پر بھی صرف خمینی ہی نظر آتے ہیں۔ شریعتی یوں غائب ہوئے، جیسے کبھی رہے ہی نہیں تھے۔
یہ قصہ یہیں پر تمام نہیں ہوا بلکہ 'کربلا کا عنصر' اس کے بعد بھی بدستور استعمال میں رہا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اب اسے رد و بدل کر کے، جوڑ توڑ اور قومیت کے لیے کار آمد بنا دیا گیا۔ یہ پچھلی صدی میں اسی کی ہی دہائی کا واقعہ ہے، جب ایران اور عراق کے بیچ جنگ جاری تھی۔ ہزاروں نو عمر لڑکے، سر پٹیاں جن پر 'کربلا' کاڑھا ہوتا تھا، جنگی علاقوں میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے کام پر لگا دئیے گئے۔ یہ بارودی سرنگیں صاف کرنے کا روایتی طریقہ اختیار نہیں کرتے تھے، جس کے لیے مہارت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہوتا یہ تھا کہ یہ جتھوں میں تقسیم ہو کر آگے پیچھے کئی صفیں بناتے اور ناک کی سیدھ میں عراقی سرحد کے اس پار جہاں بارودی سرنگیں نصب کی گئی تھیں، دوڑ لگا دیتے۔ راستے میں جتنی بارودی سرنگیں آتیں، پھٹ جاتیں اور یوں ایرانی افواج کے لیے راستہ صاف ہو جاتا۔ ان میں سے ہر لڑکا ایمانی جذبات سے شرابور، جنت کمانے کی دھن میں گم ہوتا تھا، یا صاف کہیں تو گم کر دیا جاتا تھا۔ اسی طرح ہراول دستوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے وقتاً فوقتاً مشہور گائیکوں اور قوالوں کے اگلے مورچوں پر جا کر محافل منعقد کرنے کا بھی انتظام کیا جاتا۔ یہ گائیک کربلا کو یاد کر کے گریہ و زاری کرتے، واویلا مچاتے اور فوجیوں میں کہرام مچ جاتا۔ صرف افواج ہی نہیں، یہ گویے بھی ایمان کی حرارت میں پکے تھے۔ اس زمانے میں سب سے مشہور ہونے والا ایسا ہی ایک گائیک، 'خمینی کی بلبل' کہلایا۔ خمینی 'کربلا کے عنصر' کو کام میں لاتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچ گئے تھے، اسی کو مصرف میں لا کر حکومت کا انتظام پوری طرح سنبھال لیا اور پھر اسی کے بل بوتے پر ایران میں ملائیت کا گھر کھڑا کیا۔ وہ مذہب کے اسی کردار کو ، جس کردار سے عرصہ پہلے شریعتی نے خبردار کیا تھا، سامنے لے آئے۔ یعنی پہلے مذہب کے ذریعے لوگوں کو شاہ کے خلاف بھڑکایا، پھر اسی کے بل بوتے پر ایرانی عوام کو ریاست کے اصل حاکموں، یعنی ملاؤں کی اطاعت اور فرمانبرداری پر مجبور کر دیا گیا۔
یہ تو ایران کا قصہ ہے۔ دوسری طرف وہ جگہ جہاں کربلا نے جنم لیا تھا، یعنی عراق میں اس عنصر کو آسانی سے قابو نہیں کیا جا سکے گا۔ یہاں تو اس کے ساتھ ماجرا یہ ہوا کہ کربلا کے واقعے نے ماضی اور حال کو ہی نہیں، مستقبل کو بھی ایک ہی طرح، ایک ساتھ جوڑ دیا۔ آج چودہ صدیاں گزر گئیں مگر عراق میں زمانے کی ان تین حالتوں میں کبھی کوئی فرق ہی نہیں رہا۔
کربلا میں حسین کے پانچ بیٹوں میں سے صرف ایک ہی زندہ بچ پایا ۔ شیعہ کے لیے وہی ایک ہی کافی تھا۔ علی زین العابدین، شیعہ کے بارہ اماموں میں چوتھے امام ہوں گے۔ ان بارہ اماموں کی تصویروں والے پوسٹر شیعہ کے یہاں عام مل جاتے ہیں۔ ان تصاویر میں زیادہ تر سارے امام اردو کے ہندسے آٹھ (۸) کی شکل میں دو صفیں بنا کر بیٹھے نظر آتے ہیں اور علی ان سب کی امامت کرتے ہوئے، یعنی سالار کی حیثیت میں نظر آتے ہیں۔ امامت باپ سے بیٹے کو منتقل ہوتی رہی۔ امام کا منصب سنبھالنے والا ہر بیٹا بالضرور ہی عالم دینیات، الہام کا پیارا اور الہام کی ہی طرف سے عطا ہونے والے اس رتبے کا نہ صرف اہل سمجھا جاتا تھا بلکہ اس نے اپنی زندگی اسی مقصد کے لیے وقف کر رکھی ہوتی تھی۔ شیعہ کا ماننا ہے کہ کربلا کے بعد سے ہر امام کو زہر دے کر عمداً مارا گیا۔ یہ امام پہلے امویوں اور پھر ان کے بعد آنے والے عباسیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ ان میں سے ہر ایک، سوائے آخری یعنی بارہویں امام کے، باقی سب کو ایک ایک کر کے یوں ہی قتل کر دیا گیا۔ ان پوسٹروں میں بارہویں امام کے چہرے کی کوئی شبیہ نہیں ملتی۔ تو جہاں تصویر ہونی چاہیے، وہاں سفید ہالہ سا بنا ہوتا ہے، جس سے مراد یہ ہے کہ تقدس اور حرمت کی روشنی اس قدر تیز ہو سکتی ہے کہ دیکھنے والے کی آنکھیں چندھیا جائیں گی۔
شیعہ کا نکتہ نظر اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ اماموں میں سے چوتھے، پانچویں اور چھٹے نے۔۔۔ یعنی بالترتیب حسین کے فرزند، پوتے اور پڑپوتے جعفر صادق نے مدینہ میں بھر پور زندگی گزاری۔ جعفر صادق وہ ہیں جنہوں نے پہلی بار شیعہ کے مذہبی عقائد کو باقاعدہ شکل دی۔ شیعہ میں عام خیال یہی ہے کہ انہیں بھی زہر دے کر مارا گیا تھا مگر یہ تاریخی حقیقت سے زیادہ ایمان کا معاملہ بن چکا ہے۔ ریکارڈ میں اس بابت کوئی ایسی اطلاع، غیر قدرتی طریقے سے موت کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ لیکن یہ بات درست ہے کہ جب عباسیوں کا دور آیا تو بارہویں کے علاوہ اس دور کے باقی ماندہ تمام اماموں کی طبعی عمریں، اپنے آباء کے مقابلے میں کم رہی ہیں۔ مراد یہ ہے کہ وہ بہت جلد اس دنیا سے چل بستے رہے یا غالباً روانہ کر دیے گئے۔
کربلا کے تقریباً ستر سال بعد عباسیوں نے امویوں کو حکومت سے نکال باہر کیا اور خلافت کو شام سے واپس عراق میں لے آئے۔ 762ء میں انہوں نے دجلہ کے کنارے سلطنت کا ایک نہایت شاندار دار الخلافہ تعمیر کروایا۔ یہ شہر ایک بے عیب دائرے کی شکل کا ہوا کرتا تھا۔ اسے اوائل دور میں عربی زبان میں 'مدینۃ السلام' یعنی 'امن کا شہر' کہا گیا لیکن جلد ہی اس کا نام تبدیل ہو کر بغداد پکا ہو گیا۔ بغداد فارسی کا لفظ ہے جس کے معنی 'جنت کا تحفہ' ہیں۔
آٹھویں صدی عیسوی کے اواخر میں مشہور عباسی خلیفہ ہارون الرشید کا دور چل رہا تھا اور اسلامی سلطنت کی سرحدیں سپین سے لے کر ہندوستان تک پھیل چکی تھیں۔ ایسے میں، بغداد بے شمار علوم، بشمول سائنس اور آرٹ کا انتہائی مشہور اور غیر معمولی مرکز بن چکا تھا۔ یہ شہر بغداد ہی تھا جہاں علم ریاضی نے جدت اور نت نئی دریافتوں میں آسمان کی حدوں کو چھو لیا۔ اس میں کوئی شک نہیں اور اس دور میں ہونے والی تحقیق کا بھی کوئی جواب نہیں۔ مثلاً ریاضی کا مشہور علم الجبرا، اسی دور میں پروان چڑھا۔ 'الجبرا' عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس دور میں فنون لطیفہ اور ادبی تخلیقات بھی بے پناہ ہوئیں۔ جیسے سب سے مشہور زمانہ کہانیوں کی کتاب 'الف لیلۃ و لیلۃ' یعنی 'ایک ہزار ایک رات' اسی دور میں عربی ادباء نے لکھی تھی جس میں بعد ازاں ایرانی، مصری اور ترک قصہ خوانوں نے بھی حصہ ڈالا۔ اس کتاب میں کئی کہانیاں اور حکایات ایسی ہیں، جو 'ہارون الرشید کے زمانے۔۔۔' سے شروع ہونے والے افسانوی قصے اور حکایات ہیں۔ اسی دور میں مورخین کی بھی خوب چاندی تھی۔ تاریخ دان، مثلاً الطبری کی ہی مثال لے لیں۔ ال طبری کی لکھی تاریخ پر ہی یہ کتاب اور آج کئی دوسری تواریخ اور پیغمبر خدا کی سوانح لکھی گئی ہیں، اسی دور سے تعلق رکھتے تھے۔ الغرض، یہ علم و ادب کے لیے واقعی سنہری دور تھا اور بغداد اس کا مرکز تھا۔ لیکن شیعہ کی نسبت سے کہیں تو انہیں اس سنہری دور کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑی تھی۔
ہوا یہ تھا کہ عباسیوں نے شیعہ کی پر زور حمایت کے بل بوتے پر امویوں سے قیادت اور اختیار واپس حاصل کیا تھا۔ عباسی خود کو عباس سے جوڑتے تھے۔ عباس، محمدؐ کے چچا تھے اور یہ سلطنت عباسیہ کے خلفاء انہی کی اولاد تھے۔ اگرچہ عباس ہو بہو 'اہل بیت' تو نہ تھے مگر ان کی اولاد نے اپنے آپ کو ان کے سب سے قریب ہی گردانا اور یہ حقیقت بھی تھی۔ لیکن جب ایک دفعہ اقتدار عباسیوں کے ہاتھ آ گیا تو انہوں نے بھی شیعہ کا نعرہ ترک کر دیا اور یوں انہیں، یعنی شیعہ کو ایک دفعہ پھر سے غداری اور جفا کے احساس اور حالات نے آن گھیرا۔ یوں، شیعہ میں بھی اسی وجہ سے تقسیم در تقسیم شروع ہو گئی۔ وہ جو عباسیوں کے سخت خلاف تھے، ان میں زیدی سب سے آگے تھے۔ یہ یمن سے تعلق رکھنے والے شیعہ سلسلے کے داعی تھے اور ان میں سے اکثر کا یہ ماننا تھا کہ در اصل امامت صرف سات لوگوں تک محدود ہے۔ ان کے علاوہ اسماعیلی ہیں جو پہلے پہل یہ مانتے تھے کہ امام پانچ ہی ہیں اور یوں انہوں نے اپنے لیے علیحدہ سے قیادت کی جنگ چھیڑ دی۔ ایک اسماعیلی شاخ نے فاطمید نامی شاہی سلسلے کی بنیاد رکھی اور مصر پر اپنی خلافت قائم کی۔ یہ یہی اسماعیلی تھے، یعنی فاطمید سلطنت کے سلاطین جنہوں نے شہر قاہرہ کی بنیاد رکھی تھی اور مصر پر دسویں سے بارہویں صدی تک حکومت کی۔ اسماعیلی فرقے کی دوسری شاخ آج بھی باقی ہے اور آغا خان اس کے روح رواں ہیں۔ لیکن شیعہ کی اکثریت آخر میں زیادہ سے زیادہ بارہ اماموں پر متفق ہو جائے گی اور انہی بارہ اماموں کے طریق پر زندگی گزارنے پر زور دیا جائے گا۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ اماموں کا زیادہ تر زور اسی بات پر رہا کہ بجائے سنی خلفاء کی مخالفت جاری رکھیں، اپنے دینی عقائد اور مشغولات پر توجہ دی جائے۔
حسین کے بعد سب ہی اماموں کا یہی وطیرہ رہا۔ انہوں نے خود کو سیاسی امور سے دور کر لیا اور خالصتاً سارا وقت علم دینیات کے لیے وقف کر دیا۔ امویوں نے بھی ایک طرح سے ان کی اس حکمت عملی کو قبول کر لیا اور وہ انہیں اس وقت تک چھیڑنے سے باز ہی رہے جب تک کہ وہ صرف مدینہ میں بیٹھ کر علم و عرفان نہیں پھیلاتے رہے۔ جہاں تھوڑی سی مشکل پیش آتی، اب بات چیت کر کے، مکالمے کے ذریعے معاملات کو سنبھال لیتے۔ مگر عباسی پھر بھی آ کر رہے ۔ لیکن آتے ہی، انہیں ان اماموں سے خطرے کی بو آنے لگی۔ یہ امام بجا طور پر محمدؐ کی نسل سے تھے اور ان کا شجرہ سیدھا نبی سے جا ملتا تھا، جو ظاہر ہے عباسیوں کا نہیں تھا اور یوں شیعہ کا نام لے کر ان کے دعویٰ قیادت کے خلاف جاتا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ جو امام ہیں، کسی بھی وقت، اگر وقت آیا تو مزاحمت اور بغاوت کا نشان بن سکتے ہیں۔ لوگ ان کے گرد جمع ہو جائیں گے۔ جہاں امویوں نے ان اماموں کو مدینہ میں امن اور آشتی سے بسر کرنے کی اجازت دے دی تھی، عباسیوں نے انہیں یہیں نہیں رہنے دیا بلکہ اپنے قریب لے آئے، تا کہ نظر رکھ سکیں۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ساتویں امام کے دور امامت سے، ہر امام کو عراق بلا لایا جاتا اور یہاں اس کا زیادہ وقت جیل میں گزرتا یا پھر اسے ہر وقت اپنے گھر میں ہی نظر بندی جھیلنی پڑتی۔ چونکہ ان کی بسر پہرے میں رہا کرتی تھی اور اس پر امن زمانے میں بھی، ان میں سے کوئی ایک بھی اپنی طبعی عمر کو نہیں پہنچ پایا۔ عین ممکن ہے کہ انہیں زہر دے کر مار دیا گیا ہو گا۔
مشرق وسطیٰ، بالخصوص عراق میں آج سنہری گنبد والے کئی مزارات ہیں۔ عام لوگ بالخصوص مغرب کے لوگ ایران اور عراق میں واقع ان سنہری گنبد والے مزاروں کی تعداد اور مقبروں کی ایک ہی جیسی طرز تعمیر اور مختلف شہروں میں واقع ہونے کے سبب، ان کے بارے اور پس منظر کو سمجھنے میں دشواری محسوس کر سکتے ہیں۔ احوال یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر مقبرے، شیعہ اماموں کے ہیں۔ علی کے مزار پر تعمیر شدہ سنہری مقبرہ نجف میں واقع ہے۔ کربلا میں ایسے دو مقبرے ہیں، جن میں سے ایک حسین اور دوسرا ان کے سوتیلے بھائی عباس کا ہے۔ ان دونوں مزارات پر ہر سال عاشورہ کے موقع پر اور عام دنوں میں بھی زائرین کا رش لگا رہتا ہے، لیکن اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں ہے کہ باقی کے مزارات عظمت میں ان سے کم ہیں۔ بغداد کی ہی حدود میں واقع 'کاظمین' کے نام سے موسوم سنہری گنبد والے مقبرے ہیں جن میں ساتویں اور نویں اماموں کے مزارات ہیں۔ ایران کے شہر مشہد میں 'مقبرہ امام رضا ' ہے جس میں آٹھویں امام کا مزار ہے۔ دسویں اور گیارہویں اماموں کی قبریں بغداد شہر سے ساٹھ میل دور شمال کی جانب دریائے دجلہ کے ساتھ واقع قدیم شہر سامرہ یا سامرا کے 'عسکریہ' کے مقبروں میں واقع ہیں۔
سامرہ میں دفن دو اماموں کے مزارات کو 'عسکریہ' کہا جاتا ہے۔ وجہ تسمیہ ان کے شب و روز اور بالآخر انجام سے جڑی ہے۔ عسکریہ عربی کا لفظ ہے جس سے مراد فوجی چھاؤنی یا کیمپ ہے۔ خلافت عباسیہ میں سامرہ کی یہی حیثیت تھی، مثال یوں سمجھیں کہ جیسے یہ شہر اس سلطنت کا پینٹاگون ہوا کرتا تھا۔ دسویں اور گیارہویں امام کو یہیں پر اپنے گھروں میں نظر بند کر کے رکھا گیا تھا اور ان کا نام بھی اسی نسبت سے 'عسکری' مشہور ہو گیا، یعنی 'وہ جو فوجی چھاؤنی میں' میں بسر رکھتے تھے یا ان کی بسر عسکریہ میں تھی۔
شیعہ کے یہاں عسکریہ کے مزارات کی اہمیت ایک لحاظ سے دوسرے تمام مزارات سے کہیں بڑھ کر ہے۔ شیعہ کا ماننا ہے کہ بارہویں امام نے یہیں، سامرہ کی چھاؤنی میں گیارہویں امام کے یہاں جنم لیا تھا۔ یہ امام، یعنی بارہواں امام محمدؐ کا صحیح معنوں میں جانشین ہے۔ فاطمہ اور علی کا خون ہے اور رہتی دنیا تک شیعہ کا نجات دہندہ ہے۔
بارہویں امام کی سالگرہ ہر سال اسی جوش و خروش سے منائی جاتی ہے جیسے عیسائی کرسمس یا عیسیٰ کی پیدائش کا دن مناتے ہیں۔ شیعہ کے یہاں اگر عاشورہ غم اور ماتم کا دن ہے تو بارہویں امام کی سالگرہ خوشی اور جشن کا موقع ہوتا ہے۔ جیسے کرسمس کی شام، ویسے ہی شیعہ کے یہاں 'عبادت اور نیک تمناؤں کی رات' منائی جاتی ہے۔ اس رات گھروں میں چراغاں کیا جاتا ہے، قمقمے روشن ہوتے ہیں اور لوگ دعوت اور خوشی کی محافل کا اہتمام کرتے ہیں۔ اسلامی مہینے شعبان کی پندرہ تاریخ کی رات شیعہ خوشی مناتے ہیں اور خوب ہلا گلا ہوتا ہے۔ بچوں میں مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور آتش بازی کے مظاہرے ہوتے ہیں۔ اس رات کو قسمت کی رات بھی کہا جاتا ہے۔ ماننا یہ ہے کہ عبادات اور دعائیں فوراً قبول ہوتی ہیں، تقدیر لکھی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر شیعہ اس رات سامرہ کا نہیں، جہاں بارہویں امام کی پیدائش ہوئی تھی ، بلکہ کربلا کا رخ کرتے ہیں۔ ان کا ماننا یہ ہے کہ امام لوٹ کر یہیں آئیں گے اور یوں آئیں گے کہ ایک طرف حسین اور دوسری جانب عیسیٰ ہوں گے۔
بارہویں امام کا پورا نام محمد ال مہدی ہے۔ مطلب یہ کہ وہ جسے مقدس روح، الہام نے سکھلا، سدھا رکھا ہے۔ انہیں کئی دوسرے ناموں سے بھی پکارا جاتا ہے، جیسے 'ال قائم' یعنی وہ جو باقی ہے مگر اٹھا دیا گیا، 'صاحب الزماں' یعنی زمانوں کا شاہ، 'ال منتظر' یعنی جس کا انتظار کیا گیا ہے۔ عام طور پر ، روزمرہ بات چیت میں لوگ انہیں 'امام مہدی' یا 'مہدی' ہی کہہ کر پکارتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ وہ گیارہویں امام اور بازنطینی فرمانروا کی مقید پوتی کی خفیہ شادی کے نتیجے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی پیدائش کو بھی مخفی رکھا گیا تھا تا کہ عباسیوں کو خبر نہ ہو اور انہیں بھی زہر نہ دے دیں۔ لیکن مہدی کے والد، یعنی گیارہویں امام کا 872ء میں انتقال ہوا تو اس وقت مہدی کی عمر صرف پانچ سال تھی۔ یوں، انہیں تحفظ اور بچا کر رکھنے کی اشد ضرورت تھی۔ شیعہ میں یہ ایمان کی حد تک مانا جاتا ہے کہ اسی سال مہدی کو خود الہام نے دنیا سے چھپا لیا اور سامرہ شہر کے نیچے واقع ایک غار میں اتار دیا۔
مزید یہ مانتے ہیں کہ وہ کافی عرصہ تک اس غار میں ہی بسر کرتے رہے۔ ان کا یہاں انتقال نہیں ہوا بلکہ وہ 'احتجاب' یا 'گرہن' کی حالت میں چلے گئے، یعنی چھپ گئے۔ یہ لفظ احتجاب یا اصل معنوں میں گرہن جو ہے ،اس حالت کے مفہوم کو خوب بیان کرتا ہے۔ وجہ یہ کہ یہ ستاروں کے علم یعنی فلکیات کی اصطلاح ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ جب ایک فلکی جسم دوسرے اور تیسرے فلکی جسم کے بیچ حائل ہو جائے تو دوسرے فلکی جسم کا مشاہدہ کرنا نا ممکن ہو جاتا ہے۔ چاند گرہن یا سورج گرہن آسانی سے سمجھ میں آنے والی مثالیں ہیں۔ یہ تو لغوی معنی ہیں مگر مہدی سے متعلق ایمان کو سمجھنے کے لیے یہ لفظ 'گرہن' پورا نہیں پڑتا، اسی لیے 'استعجاب' کا استعارہ استعمال کیا جاتا ہے۔ استعجاب سے مراد اخفا، راز داری یا پردہ داری وغیرہ ہے۔ اسی لیے عام طور پر مہدی کو مخفی امام بھی کہا جاتا ہے، شیعہ پوسٹروں میں ان کی شبیہ نہیں ملتی۔
شیعہ کہتے ہیں کہ مہدی کا یہ استعجاب یا اخفا مستقل نہیں ہے۔ یہ ایک عارضی حالت ہے۔ اسے عدم موجودگی یا عدم وجود نہ سمجھا جائے بلکہ یہ صرف ظہور کا تعطل ہے۔ یہ تعطل اب تقریباً ایک ہزار سال سے جاری ہے۔ مہدی بالآخر لوٹ آئیں گے، بلکہ یوں کہیے کہ دوبارہ اسی وقت ظاہر ہوں گے جب قیامت قریب ہو گی۔ وہ قیامت سے پہلے امن اور انصاف قائم کریں گے، بدی کو ایک جنگ میں شکست دیں گے۔
مہدی کے ظہور کی تاریخ اور دن سب کو معلوم ہے۔ وہ دسویں محرم کو، یعنی جس دن حسین کو کربلا میں قتل کیا گیا تھا، ظاہر ہوں گے۔ لیکن کس سال؟ یہ کسی کو معلوم نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس طرح دوبارہ ظہور ہمیشہ ہی قریب الوقوع محسوس ہوتا ہے۔ یعنی ہر سال یہ امکان رہتا ہے کہ شاید اب کے برس وہ ظاہر ہو جائیں؟ یہ بھی مشہور ہے کہ ان کا ظہور امت کے لیے سخت پریشانی اور مشکل کے دور میں ہو گا اور وہ مسلمانوں کی مشکل آسان کریں گے۔ یعنی، وہ اسلام کے مسیحا ہوں گے۔
گیارہویں صدی میں لکھے جانے والے ایک تحقیقی مقالے، جس کا حوالہ آج مسلمانوں کے یہاں زور و شور سے دیا جاتا ہے، اس میں ان نشانیوں اور شگون کو جمع کیا گیا ہے جو سنیوں کے مطابق امام مہدی کے ظہور اور شیعہ کے یہاں دوبارہ ظہور تک رونما ہوں گی۔ ان میں سے اکثر نشانیاں اور علامتیں عیسائیوں کے لیے نئی نہیں ہیں، عیسائیت میں انہیں 'کشفی رویت' کہا جاتا ہے۔ مثلاً، قدرت کا طریقہ (موسم وغیرہ) بدل جائے گا، سورج اور چاند گرہن ایک ہی مہینے میں دیکھنے کو ملیں گے، سورج مغرب سے طلوع ہو گا، سیاہ آندھی چلے گی، زلزلوں کی بہتات ہو جائے گی اور دنیا بھر میں فصلوں پر ٹڈی دلوں کے حملے بڑھ جائیں گے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ قدرت کے طریقے یعنی موسمیاتی تبدیلیاں ، قدرتی آفات، نظام قدرت میں بد نظمی اور انتشار میں انسان کا عمل دخل ثابت ہے۔
اوپر بیان کردہ شگون کے علاوہ بھی کئی دوسری نشانیاں ہیں۔ جیسے لا دینی بڑھ جائے گی۔ آسمان سے آگ برسے گی جو کوفہ اور بغداد کو نیست و نابود کر کے رکھ دے گی۔ جھوٹے مہدی ظہور کا دعویٰ کریں گے اور ایک دوسرے سے خونی جنگ کریں گے۔ مسلمان تنگ آ کر ہتھیار اٹھا لیں گے اور بیرونی حملہ آوروں کو نکال کر اپنی زمین کا دوبارہ سے انتظام سنبھالیں گے۔ ایک بہت بڑا تنازعہ کھڑا ہو گا جس میں سارا ملک شام تباہ ہو جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔
یہ سب اور کئی دوسری نشانیاں آج کے جدید دور میں مشرق وسطیٰ پر فٹ بیٹھتی ہیں۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ ایرانیوں نے ان طاقتوں کو 1979ء کے انقلاب میں تنگ آ کر نکال باہر کیا جو بیرونی پشت پناہی سے حکومت کر رہی تھیں۔ تب انقلابیوں نے کئی امریکیوں کو یرغمال بنا لیا تھا اور پھر بعد میں حکومت ایران نے انہیں، یعنی شاہ کے حامی مغربی ایجنٹوں کو ملک بدر کر دیا تھا۔ اسی طرح 2003ء میں بغداد پر امریکی حملے کے شروع دنوں میں آسمان سے بموں کی شکل میں آگ برسائی گئی۔ آج جھوٹے مہدی اس امریکی جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی قیادت کے خلا کو پر کرنے کے لیے ایک دوسرے سے مسلح ہو کر گتھم گتھا ہیں۔ شام میں جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے مگر اس ملک بارے مشرق وسطیٰ میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کا اصل تنازعہ اسرائیل کے ساتھ ہے۔ ملک اسرائیل اور فلسطین کا علاقہ کبھی اسلامی سلطنت میں صوبہ شام کا حصہ ہوا کرتا تھا۔
خمینی نے اقتدار سنبھالتے ہی امریکہ کے خلاف شدید مخالفت پر مبنی انداز اپنا لیا اور قدم جمانے کی غرض سے یہ اعلان کیا کہ وہ مہدی کے نمائندہ ہیں۔ گویا وہ مہدی کی مرضی، انہی کا کام کر رہے تھے۔ جلد ہی یہ افواہ بھی مشہور ہو گئی کہ مہدی کوئی اور نہیں بلکہ خمینی خود ہیں اور ان کا دنیا میں پھر سے ظہور ہو چکا ہے۔ یہ تو پتہ نہیں چل سکا کہ افواہ کہاں سے نکلی۔۔۔ کیا کیا جائے کہ افواہوں کے ساتھ یہی مسئلہ ہوتا ہے کہ ماخذ کا پتہ نہیں چلتا، لیکن ایسا ماننے میں کوئی عار نہیں کہ عام طور پر افواہ وہیں سے جنم لیتی ہے جس کے مفادات جڑے ہوں یا جسے افواہ سے فائدہ پہنچتا ہو۔ چونکہ عام لوگ، کربلا کے عنصر پر مبنی بیانیے کی وجہ سے خمینی کو پہلے ہی 'حسین کا جانشین' اور 'اس دور کا حسین' وغیرہ قرار دیتے آ رہے تھے، یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے کہ وہ تیسرے امام سے سیدھا بارہویں امام کی مسند پر جا بیٹھیں۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جلد ہی خمینی اپنے لیے بھی 'امام' کا خطاب منتخب کریں گے اور اب وہ 'روح اللہ خمینی' یا صرف 'خمینی' نہیں بلکہ 'امام خمینی' بن جائیں گے۔ گماں یہ ہو گا کہ جیسے وہ بارہ اماموں کے جانشین ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ اپنے بارے ان افواہوں کی خمینی نے تصدیق کی اور نہ ہی کبھی تردید کرنے کی ضرورت محسوس کی۔ خیر، یہ افواہیں آخر کار اس وقت دم توڑ گئیں جب خمینی 1989ء میں انتقال کر گئے۔ انہیں تہران میں دفن کیا گیا اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی قبر پر بھی سونے کا پانی چڑھا کر ایک سنہری گنبد تعمیر کیا گیا۔ اس مقبرے کے گنبد اور چار میناروں کا ڈیزائن تقریباً علی اور حسین کے مزارات جیسا ہی ہے۔
یہ نجات دہندہ کا جو معاملہ ہے، بہت دور تک جاتا ہے۔ پچھلی صدی میں اسی کی دہائی کے دوران ایران اور عراق کے بیچ جنگ میں بھی اس سے خوب مدد لی گئی۔ ایرانی افواج کے ہر اول دستے رات گئے جب اگلے مورچوں پر چوکنا بیٹھے ہوتے تو اچانک کیا دیکھتے کہ سامنے سے ایک سفید لباس میں ملبوس بزرگ ہستی، سفید رنگ کے ہی گھوڑے پر سر پٹ دوڑتی ہوئی دکھائی دیتی۔ کہا جاتا کہ آخر یہ مہدی کے علاوہ کون ہو سکتا ہے؟ یہ پر اسرار بزرگ ہستیاں، بعد میں پتہ چلا کہ اصل میں پیشہ ور ادا کار تھے۔ان کا مقصد وہی اثر پیدا کرنا تھا، جس کی ایرانی افواج کو اس وقت اشدضرورت تھی۔ تاہم ثابت ہو جانے کے بعد بھی، ان 'کرشمات' بارے کبھی کسی نے وثوق سے یہ نہیں کہا کہ اصل میں یہ کیا قصہ تھا۔ یہ اظہار عقیدت تھا یا وہی پرانا حربہ جس کے تحت انتہائی درشتی کے ساتھ ہر دلعزیز عوامی سوچ اور ایمان کو بیچ میں لا کر جھوٹی سازش رچانا مقصود ہوتا ہے؟
خیر، یہ تو تب کی بات تھی۔ لیکن 2005ء میں جب احمدی نژاد نے ایرانی صدارت سنبھالی تو ان کا طریق کسی بھی طرح سے سازشی یا چھل پرت نہیں تھا۔ احمد نژاد ایک انتہائی صاف گو اور کھرا آدمی مشہور ہے اور یہ بات درست ہے۔ وہ اپنی سوچ کسی مقبول رائے عامہ کو توڑ مروڑ کر ترتیب نہیں دیتے بلکہ جس چیز پر ان کا ایمان ہے، اسی کو سیدھا سیدھا، لگی لپٹی رکھے بغیر کہہ دیتے تھے۔ اسی وجہ سے انہیں مغرب میں انتہا کی حد تک خطرہ سمجھا گیا اور ان کے دور میں ایران کے دنیا کے ساتھ سفارتی تعلقات تقریباً ہمیشہ ہی کشیدہ رہے۔ بات یہ تھی کہ وہ جو کہا کرتے تھے، باقی دنیا، یہاں تک کہ ایران کے اتحادی ملکوں کے لیے بھی پریشان کن رہا کرتا تھا۔ مثلاً صاف کہتے تھے کہ حکومت ایران کی پالیسی اس اصول پر کار بند ہے کہ مہدی کے ظہور کو جلد از جلد ممکن بنایا جائے۔ مہدی یا مسیحا کا یہ وہ تصور ہے جس سے عیسائی بنیاد پرست پہلے سے واقف ہیں۔ کٹر عیسائیوں کے یہاں بھی بہت عرصہ سے عیسیٰ، یعنی یسوع مسیح کے دوبارہ ظہور بارے یہی بیانیہ رہا ہے اور اپنے تئیں، ان کی کوشش یہی رہتی ہے۔ دوسری جانب کٹر یہودیوں بنیاد پرستوں کا حال یہ ہے کہ وہ بھی اسی طرز، یعنی یہودیت میں پہلے مسیحا کا جلد از جلد ظہور چاہتے ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر، اسرائیل پر بھی نکتہ چینی ہوتی ہے، کٹر یہودیوں کے ان عزائم پر دنیا بھر میں اکثر تشویش پائی جاتی ہے۔ بہرحال اس طرح کے بیانات کی وجہ سے احمدی نژاد صرف اپنے ہی نہیں بلکہ دوسروں کے بھی 'سچائی کی حد تک ، مقبول ایمانی جذبات' پر مبنی مذہبی نظریات کے در پر دستک دیتے ہوئے پائے جاتے رہے۔ معاملہ پھر بھی سنبھل جاتا مگر ہوا یہ کہ وقت کے ساتھ احمد نژاد کا انداز عجب رخ اختیار کرتا گیا۔ اب وہ نہ صرف پہلے سے زیادہ 'جلد از جلد ظہور' کی اشاریت کو کام میں لانے لگے بلکہ اپنے اس تصور کو انہوں نے اسے ایرانی انقلاب کی بنیاد یعنی امریکہ اور اسرائیل مخالف مشن کے ساتھ بھی جوڑ دیا۔ آخر میں یہ حال ہو گیا کہ ان کی طرز حکمرانی اور سفارتی معمولات اسی ایک نکتے تک محدود ہو کر رہ گئے اور دنیا بھر میں ایران کے نام کو شدید نقصان پہنچا۔ صرف نام ہی نہیں، ایرانی عوام کی حالت روز بروز بدتر ہوتی چلی گئی۔ صرف مغرب ہی نہیں، دنیا بھر میں ایرانی ریاست کے اس طرز عمل کی وجہ سے سفارتی اور ریاستی حلقوں میں شدید خوف پایا جاتا تھا۔ وجہ صاف تھی کہ ایک طرف تو ان عزائم کے پیچھے 'کشف' کا عنصر تھا جسے ایرانی صدر نے صاف صاف کہہ دیا تھا، دوسرا یہ امکان تھا کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی ہو سکتے ہیں۔ ان حقائق کو سامنے رکھیں تو بڑی طاقتیں اس پریشانی میں گھر گئیں کہ اگر ایسا ہو گیا تو دنیا بھر کے لیے اس سوچ کے انتہائی خطرناک نتائج بر آمد ہو سکتے ہیں۔ یہ تو ایران کا قصہ ہے لیکن بات چل نکلی ہے تو پھر، یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اسرائیل کی باگ ڈور کس کے ہاتھ میں ہے؟ کیا وہاں بھی ایٹمی ہتھیار موجود ہیں؟ یا اسرائیل کی قیادت کس طور سوچتی ہے؟ بڑی طاقتوں کا ماننا ہے کہ اسرائیل کو وہ اپنے ہاتھ تلے رکھ کر قابو میں رکھ سکتے ہیں مگر شاید ایران کے معاملے میں، جہاں دوسرے عقائد اور ممالک بارے رویہ سخت نفرت پر آراستہ ہو اور ایسا دور آئے کہ ریاست کے اصول ہی قیامت برپا کرنے کی کوششوں پر چلائے جاتے ہوں، ایسے ملک کی ضمانت دینا، باقی تو سب کے لیے مگر اتحادیوں کے لیے بھی انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔
عراق میں یہ ہوا کہ 'کشف' کو حقیقت کا روپ دینے میں قطعاً کوئی مشکل نہیں ہوئی بلکہ یہ خود چل کر گھر میں آ گیا۔ 2003ء میں امریکی حملے کے بعد وہ افراتفری پھیلی، تباہی ہوئی کہ مثال محال ہے۔ کشفی نظریات کی عملی شکل کی ایک مثال یہ ہے کہ بنیاد پرست مذہبی رہنما مقتدی الصدر نے اپنی ملیشیا فوج کا نام انتہائی طاقتور، 'لشکر مہدی' منتخب کیا۔ یہ تو رہا ایک طرف، مقتدی الصدر کا عزم صرف امریکہ کو عراق سے نکال باہر کرنا نہیں تھا بلکہ اب جبکہ صدام حسین کی حکومت کا خاتمہ ہو چکا تھا، وہ اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ، جب یہ ہو رہے یعنی امریکہ نکل جائے تو پھر سنی شدت پسندی کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیں گے۔ 2008ء میں انہوں نے ایسا کر بھی دیا جب 'لشکر مہدی' کی مسلح تحریک کے سیاسی اور سماجی ونگ بھی قائم کر دیے، یعنی وہ اب پوری طرح سے پرانے کھاتے، یعنی طویل مدتی ایجنڈے کے تحت شیعہ سنی خانہ جنگی میں جت جائیں گے۔ ان کی یہ تحریک 'ممھدون' کہلائے گی، جس سے مراد 'مہدی کے لیے راہ ہموار کرنے والے' ہے۔
لیکن یہاں اس ایک مثال سے یہ نکتہ قابل غور ہے کہ اگر کشف، ایمان اور یقین کو مستقبل کے لیے امید کا نشان بنایا جا سکتا ہے تو وہیں یہی کشف، ایمان اور یقین اس امید کے خلاف بھی استعمال ہو سکتا ہے۔ فروری 2006ء میں یہی ہوا۔ ہوا یہ کہ کسی شخص نے، عین ممکن ہے کہ اس شخص کا تعلق سنی شدت پسند گروہ القاعدہ تھا، سامرہ میں عسکریہ کی مسجد میں انتہائی خوف ناک دھماکہ کر دیا۔ حملہ اس قدر شدید تھا کہ مقبرے کا سنہری گنبد زمین بوس ہو گیا اور یوں شیعہ اور سنی کے بیچ ایک دفعہ پھر سے انتقامی کارروائیوں کا آغاز ہو گیا۔ یہ عین اس وقت ہوا جب کافی عرصے بعد پہلی دفعہ محسوس ہو رہا تھا کہ شاید عراق میں اب امن قائم ہو رہا ہے اور خانہ جنگی کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ حالات اس وقت اور بھی بد تر ہو گئے جب اگلے ہی برس عسکریہ کی مسجد اور مقبرے میں پہلے دھماکے سے بچ جانے والے دو میناروں کو بھی ایک اور دھماکے سے اڑا دیا گیا۔
عراق میں القاعدہ اس سے زیادہ سخت طریقے سے اپنا پیغام ریکارڈ نہیں کروا سکتی تھی۔ اس حملے کے بعد شیعہ کے بچے بچے کے ذہن میں یہ بات سختی سے بیٹھ گئی کہ اس تباہی، بالخصوص عسکریہ کے مقام پر ہونے والی تباہی کا کیا مطلب ہے۔ دیکھیے، یہاں صرف دسویں اور گیارہویں امام کے مزارات ہی نہیں ہیں بلکہ ادھر 'الغائبہ' یعنی 'استعجاب' کا مقام بھی ہے۔ یہ غار جس میں بارہویں امام نے اتر کر عارضی طور پر دنیا سے 'استعجاب' اختیار کر لیا تھا، دوبارہ ظہور تک وہ اوجھل ہی رہیں گے۔
اس حملے میں اصل ہدف یہ غار تھا۔ مزارات پر پہلے بھی حملے ہوتے رہے ہیں۔ پچھلی صدیوں میں کئی بار، باقی تو چھوڑو، حسین کے مزار پر بھی کئی حملے ہوئے۔ ماضی قریب میں تو صدام حسین کے فوجیوں نے بھی ایک دفعہ اس پر دھاوا بول دیا تھا۔ اگر کوئی حسین کے مزار پر حملہ کرتا ہے تو اس کا مطلب، وہ شیعہ اسلام کے قلب پر وار کرتا ہے۔ اگر کوئی نجف میں علی کے مزار کو نقصان پہنچاتا ہے، جیسا کہ 2004ء میں امریکی افواج نے یہاں سے لشکر مہدی کو نکالنے کے لیے حملہ کیا تھا، گویا وہ شیعہ اسلام کی روح کے در پر ہے۔ لیکن سامرہ میں عسکریہ کے مزارات پر حملہ؟ شیعہ کے نزدیک یہ انتہائی بد ترین فعل ہے۔ یہ مہدی پر ، یعنی شیعہ کی امید اور شناخت پر کھلم کھلا حملہ ہے۔ عسکریہ کے مقبروں کی دھماکے کے نتیجے میں تباہی صرف ماضی یا حال پر حملہ نہیں تھا بلکہ پرانے دشمن نے شیعہ کے مستقبل پر وار کیا تھا۔
صلہ عمر پر 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان' کی 'آخری قسط' یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر