اول المسلمین کے بعد - حسین - 15


2004ء میں کربلا کے مقام پر عاشورہ کے اجتماع پر پے در پے کئی حملوں اور 2006ء میں عسکریہ کے مقام پر مسجد اور مزارات کو تباہ کر کے جس طرح سفاکی اور بربریت کا مظاہرہ کیا گیا، دونوں واقعات ایک دم خبروں کی سرخیاں بن گئے۔ اب دنیا بھر میں سب کا یہی اتفاق ہے کہ یہ دونوں حملے آج عراق میں جاری طویل فرقہ بند تصادم کی لہر کا نکتہ آغاز ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ حالیہ دور میں یہ واقعات عراقی عوام کی اجتماعی یاد داشت اسی طرح میں کھب کر نقش ہو گئے ہیں جیسے چودہ سو سال پہلے پیش آنے والے سانحات کی یاد تازہ ہے۔ مراد یہ ہے کہ ایک طویل عرصے بعد یہ محسوس ہوا کہ کربلا کی کہانی کا کوئی انت نہیں ہے۔ اس سانحے کے پیچھے کار فرما سوچ ویسی کی ویسی پختہ ہے اور وقت کے ساتھ یہ قصہ بڑھتا ہی جائے گا۔ نہ صرف یہ کہ لہو لہو داستان جاری رہے گی بلکہ آنے والے برسوں میں، ہر بار کسی نئے موڑ پر جب بھی ظلم اور سنگ دلی کا مظاہرہ کیا جائے گا، اس کی اہمیت دو گنی اور چو گنی ہو جائے گی۔
لیکن بات یہ ہے کہ اس طرح کے معاملات میں منزل کا کبھی بھی، صاف صاف تعین بھی تو نہیں کیا جا سکتا؟ لیکن یہ ضروری تھا اور پھر یہ کہانی آخر کہاں رکتی اور کیونکر ختم ہوتی؟ کربلا کے میدان میں قتل حسین کے سو سال کے اندر شیعہ اور سنی کے بیچ تقسیم ایک واضح شکل اختیار کر گئی۔ تقسیم کا خط کھنچ گیا اور اب صورتحال یہ تھی کہ شیعہ اور سنی صحیح معنوں میں ایک ہی جسم کے دو الگ دھڑے بن گئے۔ یہ تو بالآخر ہونا ہی تھا مگر انتہا یہ ہوئی کہ جب اس پھوٹ کا واقعی ایک ڈھانچہ نظر آنے لگا تو اسے سیاسی نہیں بلکہ دین کی بنیاد پر کھڑا کیا گیا۔ اس کی بھی وجہ تھی۔ وہ یہ کہ وسیع و عریض اسلامی سلطنت میں خاصا تنوع پایا جاتا تھا۔ بے شمار نسلی گروہ تھے اور کئی علاقائی تہذیبیں اور مختلف معاشرے ایک ہی جھنڈے تلے جمع تھے۔ اب، اس عظیم الشان سلطنت میں غیر معمولی تنوع اور نمایاں گروہی اور علاقائی اختلافات تو تھے مگر اس کے ساتھ واضح سیاسی ہم آہنگی کا کو انتظام بھی نہیں تھا، چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ سلطنت کو چلانے کے لیے ایک مرکزی سیاسی ڈھانچے کو برقرار رکھنا انتہائی مشکل ہو گیا۔ مثلاً، نویں صدی عیسویں میں جوں جوں عباسی خلافت کمزور ہو رہی تھی، سلطنت میں نچلی سطح پر سیاسی اور بڑے منظر نامے پر مذہبی حاکمہ مضبوط ہونے کے ساتھ، قدرتی طور پر پہلے صرف دو مگر پھر آگے چل کر، جیسے آج کی دنیا میں نظر آتا ہے، کئی گروہوں میں بٹتی چلی گئی۔ چونکہ سیاسی موافقت اور اس بابت عمومی اتفاق رائے موجود نہیں تھا اور سلطنت کو قائم رکھنے کے لیے یہ انتہائی ضروری تھا، اس لیے علماء یعنی مذہبی سکالروں نے اس انتہائی اہم ضرورت کے پیش نظر یہ مطابقت اور ہم آہنگی دین کی بجائے علاقائی، نسلی اور گروہی بنیادوں پر تشکیل دینا شروع کر دی ۔ یوں ایک ہی سلطنت میں، ایک ہی دین کے کئی رنگ نظر آنے لگے جو بعد میں ہم دیکھیں گے کہ کیسے واضح ہو جائیں گے۔ علماء نے اس طرح خود اپنے لیے بھی وہ مقام اور رتبہ حاصل کر لیا جو آج بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ یعنی رنگ برنگے گروہ اور ان دھڑوں کے بانی اور روح رواں عالم، عام مل جاتے ہیں۔ یعنی آج ہمیں کئی مکاتب فکر، گروہ اور فرقے نظر آتے ہیں اور ہر علاقے کا اپنا ایک علیحدہ رنگ ملتا ہے، اور ہر عالم اپنا علیحدہ حلقہ بنا کر بیٹھا ہے۔ جب امہ اس قدر متنوع ہو کہ آج پانچ میں سے چار مسلمان غیر عرب ہیں تو دین اور اسلامی دنیا کا یوں تہہ در تہہ کئی رنگوں میں بٹ جانا، اور بھی آسان ہو گیا ہے۔
یہ تو خیر وقت کی دھول کا نتیجہ ہے ورنہ واقعی بٹوارے کی، جیسا اس انقسام کو آج ہم دیکھتے ہیں، شروعات کیسے ہوئی، یہ بھی سن لیجیے۔ سب سے پہلے تو احادیث کے شیعہ اور سنی ، جدا مجموعے سامنے آ گئے۔ ان مجموعوں میں پائے جانے والے فرق کی بنیاد تاریخی یاد داشتوں کے حوالے اور اصل روایات ہیں۔ چونکہ تب پیش آنے والے واقعات کے کئی نسخے تھے، طرح طرح کی روایات مل جاتی تھیں اور اس زمانے کے ہر شخص کا اپنا مشاہدہ، ان کے بارے نکتہ نظر اور احوال بتانے کا طریقہ جدا اور موقف تھا، اس لیے اختلافات پیدا ہونا قدرتی بات ہے، یا کہیے ان روایات کا مختلف نظر آنا قدرتی بات ہے۔ لیکن اصل مسئلہ یہ نہیں ہے کہ ایک ہی واقعہ کی کئی راویات ہیں، یہ تو تاریخ کی خوبصورتی ہے۔ شیعہ اور سنی میں اختلافات اس بات پر نہیں کہ یہ کب ، کیا، کہاں اور کیسے ہوا؟ اصل جھگڑا تو یہ ہے کہ جو ہوا، کہا اور کیا گیا۔۔۔ اس کا اصل مطلب کیا ہے؟ مثال کے طور پر، جہاں سنی یہ سمجھتے ہیں کہ ہجرت کے دوران ہمراہی اور محمدؐ کی بیماری کے دوران امامت کا منصب سنبھالنا ثبوت ہے کہ آپؐ ابو بکر کو ہی جانشین مقرر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ دوسری طرف شیعہ کا نکتہ نظر یہ ہے کہ غدیر خم کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ محمدؐ علی کو ہی جانشین بنانا چاہتے تھے۔ یہ شیعہ اور سنی کے بیچ واقعات اور روایات پر اختلاف کا صرف ایک نمونہ ہے ورنہ تاریخ ایسی مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن یہی کلیہ پوری تاریخ پر لاگو کریں ، یا کہیے بڑے منظر نامے کو دیکھیں تو اختلاف کچھ یوں ہے۔ ہوا یہ کہ سنیوں نے اپنے مکتب فکر میں تاریخ کو اسی طرح لاگو کیا، جس طرح یہ وقوع پذیر ہوئی تھی۔ مگر شیعہ نے اس کے بر خلاف تاریخ کو اس صورت میں اپنا لیا جیسا ان کے خیال میں اسے اصولی طور پر رونما ہونا چاہیے تھا۔ شیعہ یہ بھی مانتے ہیں کہ اگرچہ دنیاوی لحاظ سے تو تاریخ کا یہ رخ نہیں بن پایا مگر ان کی دنیا میں، ان کے لیے یہ ہمیشہ یوں ہی رہے گا۔ ان کے مطابق، یہ صرف دنیاوی میراث کا معاملہ تو نہیں ہے، اس کے ساتھ روحانیت کا ایک جہان جڑا ہے۔ قصہ مختصر، ایک جملے میں کہیں تو اختلاف 'کیا ہوا' اور 'کیا ہونا چاہیےتھا' کا ہے اور ظاہر ہے، اس بحث کی کوئی انت، ہو ہی نہیں سکتی۔
خیر، دسویں صدی تک خلافت عباسیہ تو تھی مگر سنی نظریات کے حامل عباسی خلفاء کی حیثیت برائے نام رہ گئی۔ اصل سیاسی طاقت اور حکومت آل بویہ کے ہاتھ میں چلی گئی تھی۔ بویہ فارس کے شمال مشرقی علاقے سے تعلق رکھنے والے شیعہ نظریات کا حامی گروہ تھا۔ یہ بویہ ہی تھے جنہوں نے عاشورہ کے دس دن پر مشتمل ان ماتمی رسوم اور شعائر کی بنیاد ڈالی تھی جنہیں آج ہم ہر جا دیکھتے ہیں۔ لیکن خلافت کے لیے صرف بویہ ہی مسئلہ نہیں تھے، اس دور میں ان کی ہی طرح کم از کم دو حکومتیں دوسری بھی تھیں، جو خلافت کی اصل باگ ڈور چلا رہی تھیں۔ بجائے خلافت سنبھلتی، وقت گزرنے کے ساتھ مرکزی حکومت کی حالت پتلی ہی ہوتی چلی گئی اور 1258ء میں اتنی کمزور ہو گئی کہ ہلاکو خان، جو چنگیز خان کا پوتا تھا، اس کی سپہ سالاری میں منگولوں کے حملے کے سامنے ٹھہر نہ پائی۔ اس کا عملی طور پر خاتمہ ہو گیا۔ کسی زمانے میں یہ ایک انتہائی مضبوط اور عظیم الشان سلطنت ہوا کرتی تھی مگر اب حال یہ ہوا کہ غرق ہو کر کئی چھوٹی چھوٹی، علاقائی سلطنتوں میں بٹ گئی۔ کئی شاہی سلسلے تھے، جن میں شیعہ اور سنی، دونوں ہی طرح کے سلاطین کا راج چلتا تھا۔ یعنی، دینی بنیادوں پر سیاسی رائے عامہ بنانے کے نتائج کھل کر سامنے آ گئے۔
یہ سلسلہ مزید دو صدی تک جاری رہے گا اور خلافت کے حالات میں قدرے بہتری آئے گی۔ بہتری سے مراد یہ ہے کہ بجائے چھوٹی سلطنتیں ہوں، اب صحیح معنوں میں دو بڑی سلطنتیں ہوں گی۔ صورتحال یہ ہو گی کہ مشرق وسطیٰ ایک دفعہ پھر اسی طرح تقسیم ہو چکا ہو گا جس طرح یہ کبھی بازنطینی اور فارسی سلطنتوں میں رہا کرتا تھا۔ لیکن اب کی بار نقشہ یہ ہو گا کہ ایک طرف ترکی میں سنی خلافت عثمانیہ اور فارس ، یعنی آجکل ایران میں شیعہ صفوی سلطنت قائم ہو گی۔ صفوی سلطنت وہ ہے جس نے پہلی بار شیعہ اسلام کو ریاست کا سرکاری مذہب بنایا تھا۔ قدیم زمانے کی سلطنتوں کی طرح ان دونوں کے بیچ بھی گہری چپقلش رہے گی اور ان دونوں طاقتوں کے بیچ ایک بار پھر ، اس کی بد نصیبی ملاحظہ کریں، عراق واقع ہو گا۔ ان بڑی سلطنتوں کی سرحدیں عراق میں ملتی تھیں اور اسی علاقے میں ان کے بیچ پر تشدد تصادم ہوا کریں گے۔
دونوں سلطنتوں کی آپس میں جاری چپقلش کے سبب عراق خون خرابے کا میدان بنتا ہی رہا مگر اس کے ساتھ، فرقہ بندی کی وجہ سے بھی ہولناک تشدد اور تباہی نے بھی اس بد قسمت علاقے کا مستقل گھر دیکھ لیا۔ مثلاً کربلا اس سارے عرصے میں کئی بار حملوں کا نشانہ بنا۔ ان میں سب سے خونخوار حملہ 1802ء میں وہابیوں نے کیا تھا۔ اسی طرح 1843ء میں ترک افواج نے بھی اس پر چڑھائی کی اور وحشیانہ طریقے سے شہر کی کل آبادی کے تقریباً پانچویں حصے کا گلے کاٹ کر قتل عام کر دیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حملے کے دوران کربلا کا شہر ذبح خانے کا منظر پیش کر رہا تھا، گلیوں میں خون ہی خون بہہ رہا تھا۔ لیکن ایک بات توجہ کی متقاضی ہے کہ ان حالات میں بھی، یہاں اور دنیا بھر میں شیعہ اور سنی آبادی کا بڑا حصہ، یعنی لوگ اختلاف رائے پر ایک دوسرے کا احترام کرتے رہے، عام عوام میں اس بابت، عمومی حالات میں کوئی غم و غصہ یا بھڑکاؤ نہیں تھا۔ روزمرہ معمولات زندگی میں تو اکثر ان اختلافات کو یکسر خاطر میں نہیں لاتے تھے ۔ بات یہ تھی کہ دونوں مسالک کے علماء کی بھر پور کوشش کے باوجود بھی، یعنی نظریات کا ٹھیلا الگ کر دینے اور علیحدہ علیحدہ رائے عامہ بنانے کے بعد بھی، مقبول مذہبی رجحانات اور عقائد کو کنٹرول نہیں کیا جا سکا۔ وہ رسوم اور رواج جو عام لوگوں میں مقبول تھے ، وہ سرکاری اور حکومتی ترجیحات سے میل نہیں کھاتے تھے۔ مثلاً عام شیعہ اور سنی ، دونوں دھڑے ہمیش ہی دل و جان سے علی کی تعظیم سے کرتے تھے اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ اسی طرح بنیاد پرست سنی مکتب فکر میں مزارات کی زیارت وغیرہ 'شرک اور بت پرستی' کے زمرے میں رکھا جاتا تھا مگر عوام الناس نے، یعنی کئی سنی گروہوں نے بھی اس عمل کو ترک نہیں کیا۔ وہ بدستور زیارت کے لیے جاتے ہیں، دعائیں اور منتیں مانگتے ہیں ۔ جو لوگ نہیں بھی جاتے، وہ مزارات میں دفن ہستیوں کی دل سے عزت اور ان کی حیثیت اور رتبے کا اعتراف کرتے ہی ہیں۔ جہاں ایک طرف عاشورہ کے موقع پر اکثر ہی ماتمی جلوس اور دعائیہ تقاریب شدت پسند سنی حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں، وہیں گلی محلوں اور عام عوام میں سنی اپنے شیعہ ہمسائے کے ساتھ تعاون کرتے ہی ہیں۔ اکثر تو ان کے ساتھ مل کر شعائر میں باقاعدہ حصے لیتے ہیں اور عام گلی محلوں میں ایک دوسرے کی طرز زندگی پر ، معاشرے کے دونوں دھڑوں کی ایک دوسرے پر رسوم اور ریت کی چھاپ ہمیشہ سے واضح نظر آتی رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی بھی دور میں شیعہ سنی فرقہ وارانہ مسائل کی جڑ دینی اختلافات نہیں بلکہ اس وقت کی سیاست اور سرکاری ضرورت رہی ہے۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے، ایمان اور ایقان، یعنی عقیدے کے ساتھ ہمیشہ سے ہی یہی سلوک ہوتا چلا آیا ہے۔ چاہے یہ آج امریکہ جیسے جدید ملک میں عقیدے کا سوال ہو یا کئی صدی پہلے مشرق وسطیٰ کا سیاسی منظر نامہ ہوا کرے، عقیدے کو سیاسی مقاصد کے لیے ہمیشہ ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ عقائد اور نظریات کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ یہ نہایت آسانی سے مقصد پورا کر دیتے ہیں مگر جہاں تک شیعہ اور سنی اختلافات کی بات ہے، یہ تو ایسی سوکھی اور تیل میں تر لکڑی کا بالن ہے جسے سیاسی مفادات حاصل کرنے کے لیے تیلی دکھانے کی ضرورت بھی نہیں ہے، ہلکی سی چنگاری بھی شعلوں کو آسمان تک پہنچا سکتی ہے۔
خیر، اس دور میں اگر کوئی توازن رہا بھی کرتا تھا، وہ پہلی جنگ عظیم کے بعد خلافت عثمانیہ میں تقسیم در تقسیم کی وجہ سے بگڑ جائے گا۔ مغرب کا اثر و رسو خ بڑھنے اور مداخلت کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کا حلیہ بدل جائے گا۔ مغربی طاقتیں نڈر ہو کر، اس خطے کی اپنی ترجیحات اور تاریخ کی باریکیوں کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے کئی تبدیلیاں لائیں گی۔ وہابی اور سعودی اتحاد جب جزیرہ نما عرب پر قبضہ کریں گا تو ایسا کرنے میں انہیں برطانیہ کی پشت پناہی حاصل ہو گی ۔ اسی طرح شیعہ اکثریتی عراق پر ایک بیرونی سنی بادشاہ لا کر بٹھا دیا جائے گا اور نازیوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والا رضا خان، شاہ ایران بن جائے گا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ دنیا میں سپر پاور بن کر ابھرا ۔ سرد جنگ کے نظریات کی ضرورت کے تحت امریکیوں نے ایران میں فوجی انقلاب کی راہ ہموار کی اور نئے منتخب شدہ وزیر اعظم محمد مصدق کی حکومت کا تختہ الٹ دیا ۔ اس کی جگہ رضا خان کے بیٹے شاہ رضا پہلوی کو شاہ ایران کی مسند پر لا بٹھایا اور اس کی خوب حمایت کی۔ یہ رضا شاہ پہلوی کے دور حکومت کی ہی بات ہے کہ جب پہلی بار ایران میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کے خیال نے جنم لیا تھا۔ اندازہ لگائیں کہ تب ایرانیوں کے ان خیالات کو امریکی انتظامیہ کی طرف سے خوب شہ ملتی تھی۔ جہاں ایک طرف شاہ ایران کو حمایت دی، وہیں دوسری جانب اس سارے عرصے کے دوران تقریباً ساری امریکی حکومتوں نے وہابی نظریات کی حامل سعودی بادشاہت کی بھی پشت پناہی جاری رکھی۔ مقصد صرف معدنی تیل کے ذخائر تک رسائی نہیں تھا بلکہ وہ سعودی فرمانرواؤں کے ذریعے بحیرہ احمر کے اس پار سوویت یونین کے حمایت یافتہ صد ناصر کی حکومت کو بھی نکیل ڈال کر رکھے ہوئے تھے۔ سعودی بادشاہت کی مثال صدر ناصر اور سوویت یونین کے خلاف امریکہ کے قلعہ کی تھی۔ یہ قصہ یہیں نہیں رکا بلکہ گزشتہ صدی میں اسی کی دہائی کے دوران امریکہ نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ اتحاد کیا اور افغانستان میں سوویت حملے کے خلاف 'مجاہدین'، جنہیں صدر ریگن 'حریت پسند' اور 'خدائی جنگجو' کہا کرتے تھے، فنڈ کرنا شروع کر دیا۔ سوویت یونین کے خلاف کئی عشروں سے جاری اس مہم کے نتیجے میں اس کا بھٹا تو بیٹھ گیا مگر افغانستان اور پاکستان میں اس 'جہاد' کے انتہائی مضر نتائج بر آمد ہوئے۔ امریکہ کے نکلتے ہی افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہو گئی اور آخر کار معاملات 'تحریک طالبان' کے ابھرنے پر منتج ہوئے۔ اسی دہائی کا واقعہ ہے کہ امریکہ نے اسی پر بس نہیں کی بلکہ خود کو ایران اور عراق جنگ میں بھی دھکیل دیا۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ اس جنگ میں امریکہ دونوں فریقین کو اسلحہ فراہم کرتا ہوا پایا گیا۔ ہوا یوں کہ اس نے کھل کر عراقی صدر صدام حسین کی پشت پناہی کی، مقصد انقلاب کے بعد ایران کو امریکہ مخالف نظریات پر سبق سکھانا تھا۔ مگر وہیں، دوسری طرف امریکہ 'یرغمالیوں کے بدلے ہتھیار' نامی گھٹاٹوپ پالیسی پر بھی گامزن رہا۔ یعنی ایران کی سخت مخالفت کے باوجود، اسے عراق کے خلاف ہتھیار فراہم کرنے پر مجبور ہو گیا۔
اوپر بیان کردہ امریکہ کی عجیب و غریب، غیر منطقی، سخت گیر اور بے ڈھب دخل اندازیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ شیعہ اور سنی دونوں ہی گروہوں کے یہاں مغرب کے خلاف شدید نفرت پیدا ہو گئی۔ یہ طبقات مغربیت سے اتنے سخت متنفر ہوئے کہ آج ہم شیعہ اور سنی، دونوں ہی فرقوں کی انتہا پسندانہ سوچ اور انقلابی سیاست کو مغرب سے بیزاری اور تنفر کی بنیاد پر کھڑا دیکھتے ہیں۔
آج اس پورے خطے میں مغربی طاقتوں کی ساز باز اور سازشوں کے خلاف پائے جانے والے خوف اور آزردگی کا ایران سے تعلق رکھنے والے تہذیبوں کے تنقید نگار علی احمد نے خوب اظہار کیا ہے۔ احمد نے 1962ء میں ایک انتہائی مقبول، بیسٹ سیلر کتاب 'غرب زدگی' لکھی تھی۔ اس مشہور زمانہ تصنیف میں وہ مغرب کی تہذیبی اور معاشی بالا دستی کو ایک مہلک اور تباہ کن بیماری قرار دیتے ہیں۔ ان کا خیال یہ ہے کہ اس بیماری کو ایرانی قوم کے سیاسی نظام سے نکال پھینکنا، ان کے الفاظ میں 'جڑ سے اکھاڑنا' انتہائی ضروری ہے۔ آگے چل کر وہ کہتے ہیں کہ پہلے ایرانی نظام اور پھر مجموعی طور پر دین اسلام اور پوری امت سے اس ناسور کا خاتمہ کرنا لازم ہے۔ احمد کے یہ خیالات سنی اور شیعہ اختلافات کی بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے، دور ملک مصر میں بنیاد پرست نظریہ ساز سید قطب کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ سید قطب وہ شخص ہیں جنہوں نے جدید اسلامیت کی نظریاتی بنیاد رکھنے میں خاصا اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے 1964ء میں ایک کتاب 'این الطریق' کے نام سے شائع کی، جس کا انگریزی میں 'سنگ میل' کے نام سے ترجمہ بھی ہوا۔ قطب لکھتے ہیں، 'زمین پر اللہ کی بادشاہت قائم کرنے اور آدمی کی بادشاہت ختم کرنے سے مراد یہ ہے کہ غاصبوں سے اختیار چھین لیا جائے اور اسے واپس اللہ کو لوٹا دیں۔ اصل اختیار صرف اللہ کا ہے'۔ آخری بات، بلا شک و شبہ ساتویں صدی میں خوارج کے نعرے یعنی 'حکم اور فیصلہ صرف اللہ کا ہے! ' کی گونج ہے ۔ تب خوارج نے علی کی شدید مخالفت کی تھی اور بالآخر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ سید قطب ساری زندگی 'اخوان المسلمین' نامی تنظیم سے جڑے رہے۔ اس تنظیم کو کئی دہائیوں تک سعودی یعنی وہابی مکتبہ فکر کی بھر پور حمایت حاصل رہی ہے۔
قصہ مختصر، جدید دور کے اسلام میں شیعہ اور سنی بنیاد پرست دھڑوں نے ایک ہی طرح سے اپنا یہی وطیرہ بنا لیا کہ ساتویں اور بیسویں صدی کی زبردست آمیزش تیار کی جائے۔ یعنی یہ کہ کربلا کے عنصر اور مغرب مخالف جذبات کو یکجا کر دیا جائے۔ بیسویں صدی میں اسی کی دہائی کے دوران اس طرح کے نظریات کا پنپنا تھا کہ امریکی حمایت یافتہ سعودی بادشاہت کو خطرے کا اندیشہ ہوا۔ یہ وہ وقت تھا کہ جب حا ل ہی میں برپا ہونے والے ایرانی انقلاب کا طوفان تھمنے میں نہیں آ رہا تھا اور سعودی اچھی طرح جانتے تھے کہ عین ممکن ہے، کل کلاں سنی بنیاد پرستوں کی توانائیاں عرب میں بھی ایرانی انقلاب یعنی شیعہ جیسی کسی سیاسی کایا پلٹ کا سبب بن سکتی ہیں۔ چنانچہ سعودیوں نے اپنی اس مشکل کا حل یہ نکالا کہ بجائے بنیاد پرستوں اور ان کے نظریات کو گھر میں رکھا کریں، کیوں نہ اس ٹک ٹک کرتے ہوئے بم کو کسی دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے؟ ہم نے دیکھا کہ اس عرصے کے دوران، سعودی ایک دم ہی دنیا بھر میں وہابی شدت پسندی کے برآمد کنندہ بن گئے اور ساری کی ساری سنی بنیاد پرست توانائی شیعہ مخالف تحریکوں میں جھونک دی۔ یہ سعودیہ اور خلیجی ریاستوں کی طرف سے ملنے والی افرادی اور مالی قوت کا نتیجہ تھا کہ افریقہ سے انڈو نیشیا تک سارے عالم اسلام میں ایرانی انقلاب کے بعد کی از سر نو مستحکم ہوتی ہوئی شیعہ شناخت اور طاقت کو قابو کرنے ، اسے باندھنے کی کوششیں شروع ہو گئیں۔ یوں، آج جدید دور میں شیعہ اور سنی کے بیچ پھوٹ اور انقسام، ایک دفعہ پھر اسی طرح سیاسی ہتھیار بن گیا، جس طرح پہلے دن سے بنتا چلا آیا ہے۔
اس آمنے سامنے کے دوران، لڑائی مار کٹائی میں ظاہر ہے سنیوں کا پلڑا بھاری رہتا ہے ۔ انہیں یہ برتری حاصل ہے کہ عالم اسلام میں شیعہ کی تعداد بمشکل پندرہ فیصد ہے۔ لیکن اس طرح کی مجموعی شماریات گمراہ کن ہو سکتی ہیں، یاد رہے عالم اسلام میں خاصا تنوع پایا جاتا ہے اور علاقائی و نسلی عوامل انتہائی اہم ہیں۔ وہ یوں کہ مشرق وسطیٰ میں، یعنی اسلام کے مرکز میں شیعہ کی آبادی تقریباً پچاس فیصد ہے۔ یہی نہیں، اس شیعہ آبادی کی بسر ان ملکوں میں ہے جہاں معدنی تیل کے بیش بہا خزانے ہیں۔ ایران، عراق ، خلیج فارس اور یہاں تک کہ سعودی عرب کے مشرقی حصے میں بھی شیعہ کی اکثریت ہے۔ جب تک دنیا کی معیشت کا انحصار معدنی تیل پر رہے گا، یہ بازی اسی طرح لگی رہے گی جیسے کبھی اسلامی سلطنت کے سنہری دور میں جمی رہتی تھی۔ ایسے میں، تنازعہ وہی رہے گا جو کبھی ساتویں صدی میں بھی فتنے کا باعث تھا۔ یعنی، اسلام کی قیادت کس کے ہاتھ آئے گی؟ پہلے یہ قضیہ صرف مشرق وسطیٰ تک محدود تھا مگر اب یہ بین الاقوامی سطح کا مسئلہ بن جائے گا۔ اس زمانے میں علی اور معاویہ کے بیچ چپقلش تھی، آج جدید دور میں شیعہ ایران اور سنی سعودی عرب ، عالم اسلام کی سیاسی قیادت اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے گتھم گتھا رہیں گے۔ درد ناک بات یہ ہے کہ ان دونوں طاقتوں کے بیچ جاری اقتدار اور اختیار کی یہ جنگ ان کے اپنے یہاں ، یعنی ایران اور سعودی عرب یا خلیجی ریاستوں میں نہیں بلکہ عالم اسلام کے چند انتہائی بد قسمت ممالک جیسے عراق کے شہروں، شام کے میدانوں، پاکستان کی گلیوں اور افغانستان کے پہاڑوں میں لڑی جا رہی ہے۔
دوسری طرف مغرب ہے۔ عراق اور افغانستان میں ہزاروں امریکی فوجی مروانے کے بعد ہی ریاست ہائے متحدہ کو بھی سمجھ آئی کہ جب مغربی طاقتیں قیادت اور اختیار کی اس جنگ میں دست اندازی کرتی ہیں تو اس طرح وہ خود کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیتی ہیں۔ یہ صرف جانی اور مالی ضیاع نہیں بلکہ یہ بھی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں یہ تاثر بڑھتا جا رہا ہے کہ مغرب نے جان بوجھ کر شیعہ سنی تفریق کا فائدہ اٹھاتے ہوئے، اسے شہ دے کر اپنے مفادات کا تحفظ کیا ہے، مقاصد حاصل کیے ہیں۔ 2003ء میں عراق پر حملے کے بعد جو افراتفری اور انارکی پھیلی، امریکیوں کے نظر میں معمول کی جنگوں میں سے کسی ایک جنگ کے صرف غیر متوقع نتائج رہے ہوں گے لیکن عراقی اسے سوچی سمجھی سازش سمجھتے ہیں۔ 'حملہ آور نے ہمیں ایک دوسرے سے جدا کر دیا ہے' مقتدی الصدر 2007ء میں خطاب کر رہے تھے، 'اتحاد میں طاقت ہے اور پھوٹ کمزوری ہے'۔
فتنہ کے اب نئے معنی اور مفہوم نکل رہے ہیں اور یہ پہلے سے کہیں زیادہ پریشان کن حد تک اشتعال انگیز ہیں۔ وہ یوں کہ اس خطے میں رائے عامہ یہ بنتا جا رہا ہے کہ اسلام کے اندر تنازعات اور خانہ جنگی پر بیرونی قوتوں ، یعنی دشمنان اسلام نے دیدہ و دانستہ سازشیں رچا کر اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہے تا کہ مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا جائے۔ دشمنان اسلام یہ چاہتے ہیں کہ مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ لڑ مر کر کمزور ہو جائیں اور دنیا سے اسلام کا خاتمہ ہو جائے۔ اس سوچ کی ایک چھوٹی سی مثال یہ ہے کہ، عراق جنگ کے دوران کافی عرصے تک میڈیا اور عوامی حلقے، چاہے وہ مشرق وسطیٰ میں ہوں یا امریکہ سے تعلق رکھتے ہوں، 'صلیبی جنگ' جیسی اصطلاحات کا خوب اچار بناتے رہے۔
یہ سطور مغرب کے سر سمجھ اور بوجھ کا سہرا باندھنے والی بات ہو گی ،حالانکہ خود سر مغربی طاقتوں نے شاید ہی کبھی فہم اور فراست سے کام لیا ہو۔ دیکھیے، اگر مغرب نے واقعی شیعہ اور سنی کے بیچ پھوٹ کا فائدہ اٹھایا ہے تو ہم صاف دیکھ سکتے ہیں کہ اس کی اسے بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ ایسی کوششوں کے نتیجے میں مغرب کو ہمیشہ بازی الٹی پڑی ہے۔ اب تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور مغربی طاقتوں کو اچھی طرح سمجھ آ گئی ہے کہ اگر شیعہ سنی کی آگ میں کودیں اور توقع یہ رکھیں کہ اس تندور میں ان کا بال بھی بیکا نہیں ہو گا، یہ احمقوں کی جنت میں رہنے والی بات ہے۔ یہ سمجھ پہلے سرے سے تھی ہی نہیں۔ مثال کے طور پر اگر بش انتظامیہ کو کربلا کے واقعہ، اس عنصر کی طاقت کی ذرہ برابر بھی سمجھ ہوتی تو امریکی افواج کو نجف اور کربلا کے مقدس شہروں سے کوسوں دور، کم از کم سو میل کے دائرے سے بھی باہر، بہت دور رہنے کا حکم ملتا۔ لیکن ظاہر ہے، یہ بھی خوش فہمی ہی ہے۔ جیسے ساتویں صدی میں یزید، ویسے ہی اکیسویں صدی میں جارج بش، تب اور آج بھی تاریخ اکثر غافلوں اور لا پرواہوں کے ہاتھوں ہی لکھی گئی ہے۔ یہ بنی یا بگڑی ہے۔
تقریباً ایک صدی پر محیط، پے در پے ناکام مہمات اور انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں مداخلت کے بعد اب ضرورت ہے کہ مغربی طاقتیں پیچھے ہٹ جائیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ مشرق وسطیٰ اور باقی دنیا میں جہاں جہاں اس کے اثرات ہیں، شیعہ اور سنی انقسام سے جڑے جذبات انگیز معاملات کو نیک نیتی کے ساتھ قبول کریں اور اس معاملے کا اس طرح لحاظ اور پاس رکھیں، جو اس کا تقاضا ہے۔ کربلا کی کہانی زمانے کی لاتیں کھا کر بھی باقی ہے بلکہ دن بدن اس کی طاقت میں صرف لیے اضافہ نہیں ہو رہا کہ یہ اخلاقیات وغیرہ کی گہرائیوں کا پتہ دیتی ہے یا یہ صرف نیکی اور بدی کا تصور نہیں ہے۔ اچھی طرح سمجھ لیں کہ یہ صرف اور صرف تصوریت اور عملیت کی جنگ نہیں ہے یا اس کے پیچھے صرف سمجھوتہ کرنے یا نہ کرنے کا سوال نہیں ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اس کی بنیاد میں جو نظریاتی پتھر رکھے گئے ہیں، وہ اس مادے سے بنے ہیں جو وقت آنے پر سیاست اور عقیدے، دونوں کا برابر امتحان لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ضرورت پڑے تو یہ انقسام کسی بھی زبردست تحریک میں روح پھونکنے کا حامل ہے۔ یہی نہیں، جب ایسا ہوتا ہے تو پھر ابھرنے والا منظر نہایت خوفناک ہوتا ہے، اس منظر میں سیاست اور عقیدہ ایک دوسرے کو قطع کرتا ہوا، یہاں اور وہاں جھولتا رہتا ہے۔ اس بات سے پھر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ تقدیس کہاں ملے گی؟ جیسا کہ شیعہ کا ماننا ہے، یہ محمدؐ کے گھرانے، ان کے خون میں ہوتی ہے یا دوسری طرف جو سنی مانتے ہیں، یہ اجتماعیت یا امت میں رکھی ہے؟ مغرب کو یہ بات پلے سے باندھ لینی چاہیے کہ وہ قوت جو اسلام کی ان دو شاخوں کو جوڑے ہوئے ہے، ان طاقتوں سے کہیں بڑی ہے جو ان کے بیچ تقسیم کا باعث بن گئی۔ مغرب یہ نہ بھولے کہ مسلمان ، شیعہ یا سنی، ان کا بچہ بچہ اس اتحاد اور یگانگت پر یقین رکھتا ہے جس کی تعلیم محمدؐ نے خود دی تھی۔ وہ اگر آج جدا ہیں مگر اپنے دھڑوں کے اندر سختی سے اسی نظریے پر قائم ہیں، یعنی اتحاد اور یگانگت قائم رکھنے کا رواج رکھتے ہیں۔ بھلے پھوٹ ہو، دھڑ بھی جدا ہوں مگر یہ مت بھولیے کہ ہر شے سے اوپر، ہر اختلاف، نزاع اور جھگڑے سے بالاتر، مسلمانوں کے دل بدستور محمدؐ کے لیے دھڑکتے ہیں۔ اسلام کا یہ ہے کہ الہام کا پیغام اور محمدؐ کا نام مل کر ایسا تصور بن جاتے ہیں ، جس کو قائم رکھنے کی دھن میں پیش پیش رہنے کی خواہش کا نتیجہ ہے کہ شیعہ اور سنی کی یہ داستان پیش آئی ۔ اختلاف اسلام پر کبھی نہیں رہا، تضاد تو اس کی روح کو صحیح معنوں میں برقرار رکھنے کے طریقہ کار اور قیادت پر ہوا ہے۔ دین اسلام کے تصور کی مضبوطی اور گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اسلام کا بچہ بچہ، مرد اور عورت، عوام اور خواص ۔۔۔ الغرض ہر شخص اس کو زندہ رکھنے لیے ایک دوسرے سے آگے نکل گیا۔ یہ مسلمانوں کے اسی جنون کی حد تک شوق کا نتیجہ ہے کہ اسلام تو باقی ہے مگر اس کے نام لیوا، یعنی وہ خود ٹوٹ کر رہ گئے۔
-ختم شد-
صلہ عمر پر ان دو کتابوں 'اول المسلمین: محمدؐ کی کہانی' اور 'اول المسلمین کے بعد: شیعہ اور سنی کی داستان'  کا 36 اقساط پر مشتمل تراجم کا یہ طویل سلسلہ مکمل ہو چکا ہے۔ ان دونوں کتابوں کو تخلیق کرنے میں جن حوالہ جات کا استعمال ہوا ہے، ان کی تفصیل  یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔
صلہ عمر پر جلد ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا جائے گا۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر