ماخذ اور حوالہ جات - اول المسلمین / اول المسلمین کے بعد

اوائل اسلامی تواریخ اور حوالہ جات
ان دونوں کتابوں 'دی فرسٹ مسلم' اور 'آفٹر دی پرافٹ' کو انگریزی زبان میں تحریر اور اردو زبان میں بالترتیب 'اول المسلمین' اور 'اول المسلمین کے بعد' کے عنوانات سے تراجم کرنے میں سب سے زیادہ الطبری (923 – 839) کے حوالہ کا استعمال کیا گیا ہے۔ الطبری کے بارے یہ ہے کہ وہ اسلامی دنیا میں ہر لحاظ سے، اوائل دور اسلامی کی تاریخ کا انتہائی مکرم اور مستند ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کی تصنیف 'تاریخ الرسل و الملک' انتہائی شاندار، متاثر کن اور یادگار کتاب ہے۔ اس تفصیلی تاریخ میں وہ قدیم زمانے، یعنی انجیل کے زمانے سے لوگوں اور پیغمبروں سے شروع ہو کر ، قدیم فارس کی دونوں یعنی روایتی اور حقیقی تاریخ سمیت سارا حال سناتے ہیں۔ پھر وہ انتہائی تفصیل کے ساتھ اسلام کی تاریخ بیان کرتے ہیں جس میں وہ صدیوں کا حال جمع کرتے ہوئے اسلامی تاریخ کا دسویں صدی عیسوی تک کا مکمل، مفصل اور انتہائی مستند حال بیان کرتے ہیں۔ الطبری کی اس شہرہ آفاق تصنیف کا کئی زبانوں، بشمول انگریزی اور اردو میں ترجمہ ہو چکا ہے۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ مکمل کرنے کے لیے ایک انتہائی گراں قدر اور پر شکوہ منصوبہ بنایا گیا تھا جس کی ادارت کا کام احسان یار شاتر نے سر انجام دیا اور اسے نیو یارک کی سٹیٹ یونیورسٹی نے انتالیس جلدوں میں شائع کیا۔ یہ اس قدر محنت طلب کام تھا کہ اسے مکمل کرنے میں تقریباً پندرہ برس لگ گئے، یوں 1985ء اور 1999ء کے دوران یہ کار گراں تکمیل تک پہنچا۔ انگریزی زبان میں اس کا عنوان 'ہسٹری آف الطبری' اور اردو میں یہی تراجم ''تاریخ الطبری' کے نام سے دستیاب ہیں۔ زیر نظر دونوں کتابوں میں الطبری کی تاریخ کا بطور حوالہ استعمال بارے یہ ہے کہ من و عن روایات، مکالمے اور اصطلاحات استعمال کی گئی ہیں۔ کئی جگہوں پر داستان کی روانی کے لیے ان حوالہ جات کو سادہ عبارتوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، مگر ان کے حوالہ جات اور اصل ماخذ بھی ہر باب کے ساتھ دستیاب ہیں۔
تاریخ الطبری بارے کیا کہا جائے؟ یہ نہایت عمدہ کام ہے۔ تاریخ دانی کی زبان میں کہیے تو یہ ہر لحاظ سے، زمان و مکان کے طول و عرض میں غیر معمولی حیثیت رکھتی ہے اور انداز بیان تو نہایت بھلا ہے۔ الطبری، جن کا پورا نام ابو جعفر محمد ابن جریر الطبری ہے۔ انہیں لوگ الطبری کے نام سے جانتے ہیں، جس کی وجہ تسمیہ ابو جعفر محمد ابن جریر کی جائے پیدائش، طبرستان ہے۔ طبرستان بحر قزوین کے جنوبی ساحلوں پر واقع ہے۔ الطبری خود ایک سنی سکالر مشہور ہیں جنہوں نے علم و عرفان حاصل کرنے اور تاریخ مرتب کرنے کی غرض سے عباسی خلافت کے دور میں، بغداد شہر میں مستقل سکونت اختیار کر لی تھی۔ اگرچہ انہیں سنی نظریات کا پیروکار قرار دیا جاتا ہے مگر ان کی ترتیب دیے ہوئے تاریخ کے اس حوالے کے بارے اکثر سنی مکاتب فکر ہمیشہ سے اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ شاید انہیں شیعہ کی حمایت حاصل تھی یا وہ اس مسلک سے ہمدردی رکھتے تھے۔ یہ درست نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ الطبری نے ایک نہایت عملی اور پیشہ ور انداز میں سینہ بہ سینہ چلی آ رہی زبانی تاریخ کو تحریر میں ڈھال کر ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیا۔ اس مقصد کے لیے وہ سلطنت اسلامی کے طول و عرض کا سفر کرتے رہے، سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں لوگوں اور ہر طرح کے لوگوں کا انٹرویو کیا اور ساتھ ہی ساتھ ہر روایت اور بیان کو پورے حوالے، راوی کے حوالے سمیت تحریری شکل دیتے گئے۔ یہ کام اس قدر تفصیل اور احتیاط سے کیا گیا ہے کہ واقعات اور واقعات کا ماخذ بالکل صاف ہے۔ ہر واقعہ کے ماخذ کا اس وقت تک پیچھا کیا اور اسے تاریخ کا تبھی حصہ بنایا جب اس کے عینی شاہد یا حقیقی شخصیت کا حوالہ نہیں مل گیا۔ یعنی، ہر روایت اوائل دور میں جا کر دم لیتی ہے۔ اس طرح تاریخ الطبری میں وہ رنگ اتر آیا ہے جو مغرب کی اپنی تواریخ میں بھی کبھی ممکن نہیں رہا، یعنی الطبری کی تاریخ ہر لحاظ سے غیر جانبدار اور مورخ سے بے تعلق ہو جاتی ہے۔ ساتویں صدی سے گونجتی ہوئی روایات، (یعنی شیعہ اور نہ ہی سنی) نہ صرف ان کی آواز جن سے الطبری کی ملاقات رہی بلکہ ان کی بھی، جن کی یہ تاریخ ہے اور جن کا احوال سنایا جا رہا ہے، اس طرح ترتیب دی گئی ہیں کہ جیسے وہ شخصیات سیدھا قاری سے مخاطب ہوں، یعنی بیچ میں کوئی قلمی اور ذاتی خیال کی رکاوٹ حائل نہیں ہے۔ کہیے، یہ لفظ بہ لفظ بیانات ہیں۔ اس جان توڑ محنت کا نتیجہ یہ ہے کہ تاریخ الطبری اس قدر واضح اور بیانیہ اتنا صاف ہے کہ قاری منظر میں کھب جاتا ہے اور تحریر میں عینی شاہدین کا انداز، آواز میں اتار چڑھاؤ، مزاج اور طور بھی صاف صاف نظر آتا ہے۔ وہ جو بولتے ہیں، کہو تحریر میں صاف سنائی دیتا ہے۔ یہ کمال ہے۔ الطبری کے مقابلے میں جتنی بھی باقی تواریخ لکھی گئی ہیں، وہ تقابل کرنے پر انتہائی خشک اور روح سے خالی نظر آتی ہیں۔
الطبری نے زبانی روایات کو اوائل دور کی میسر تواریخ سے بھی ملایا ہے، بلکہ دوہری محنت کر رکھی ہے اور ہر قدم پر یہ کوشش کی ہے کہ کسی بھی طرح سے وہ یا ان کے زمانے کی تواریخ یا ان کے ذاتی خیالات اس شاندار علمی خدمت میں مدخل نہ ہو سکیں۔ یہ کام انہوں نے اتنی جانفشانی اور ایمانداری سے سر انجام دے رکھا ہے کہ ان کی اپنی لکھی ہوئی چند دوسری تصانیف اور حوالہ جات کو وہ خود اپنے ہاتھ سے مسترد کر دیتے ہیں۔ تاریخ الطبری میں جب واضح اور حقیقی بیان مل جاتا ہے تو وہ اپنی ان باقی تصانیف کو، جو اس کام سے پہلے مرتب کی تھیں، معمولی سا فرق دیکھنے پر بھی خود رد کر دیتے ہیں۔ ان تصانیف اور علمی کاوش کا کسی بھی طرح سے اس تاریخ میں نہ تو حوالہ شامل کیا گیا ہے اور نہ ہی انہیں محفوظ رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اپنی اور کئی دوسری تصانیف ان کے حکم پر یا تو تلف کر دی گئیں یا پھر ان کے بارے الطبری نے خود ہی اس حتمی تاریخ کے اندر باور کرا دیا کہ آئندہ استعمال نہ کی جائیں بلکہ جہاں ملیں، ضائع کر دی جائیں۔ لیکن، جو حوالہ جات مستند تھے یا تہہ در تہہ تحقیق کے بعد بھی باقی رہے، ان کا الطبری نے اس تاریخ میں خوب استعمال کیا ہے۔ مثلاً 680ء میں پیش آنے والے سانحہ کربلا کی زیادہ تر روایات انہوں نے 'کتاب مقتل الحسین' سے نقل کی ہیں جو ابو مخنف کوفی کی تصنیف ہے۔ کوفی نے یہ کتاب کربلا کے واقعہ کے صرف پچاس سال بعد تحریر کی تھی اور یہ اس طرح مستند ہے کہ عینی شاہدین کے بیانات، اقوال اور خیالات مل جاتے ہیں۔ اس کتاب کے روایوں میں کربلا میں بچ جانے والے، حسین کے واحد فرزند علی زین العابدین کے بیانات بھی قلم بند کیے گئے ہیں۔
قارئین میں وہ لوگ جو مشرق وسطیٰ کے مشہور و معروف، انتہائی خوب اور آزاد انداز بیاں میں دلچسپی رکھتے ہیں، الطبری کا مطالعہ ان کے لیے نہایت فرحت بخش تجربہ ہو سکتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے، ہم عام طور پر ایک ہی خط پر، گنے چنے اصولوں کے پابند اور قطعیت سے لکھی گئی کتابیں پڑھنے کے عادی ہیں تو عام قاری، اس سے لطف نہیں اٹھا سکتا۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے مگر یوں کہیے، اس کے لیے ذہن بنانا پڑتا ہے مگر جب ایک دفعہ ذہن بن جائے تو یقین جانیے، مطالعے کا اس سے زیادہ پر لطف تجربہ دوسرا کوئی نہیں ہے۔ الطبری کی تاریخ اٹھا کر دیکھیں تو اکثر ہوتا یہ ہے کہ ایک ہی واقعہ یا مکالمے کو بار بار، اکثر تو درجن بار بیان کیا گیا ہے۔ ہاں یہ ہے کہ، ہر روایت کو مختلف راویوں کی زبانی بیان کیا گیا ہے۔ یوں ہوتا یہ ہے کہ بیانات شخصی حوالہ جات کی وجہ سے زمانے میں آگے اور پیچھے جھولتے رہتے ہیں، مگر دلچسپ عنصر یہ ہے کہ ہر روایت میں کچھ نہ کچھ ایسا ضرور مل جاتا ہے جو پہلے گزر جانے والی روایت میں نہیں تھا۔ یعنی یا تو راوی بھول گیا تھا یا اس کا نقطہ نظر دوسرے سے مختلف رہا تھا، مگر اس واقعہ یا مکالمے کا ہر صورت پورا حال احوال آخر میں مکمل مل جاتا ہے۔ یوں کئی راویوں اور انداز بیانات کو جمع کرنے سے ہر واقعہ یا مکالمے کے بارے پہلے یہ لگتا ہے کہ شاید کھلی چھوٹ ہے، اس انداز بیان کا ڈھانچہ بھی کوئی نہیں ہے مگر آخر تک پہنچیں تو معاملہ بالکل شیشے کی طرح صاف ہو جاتا ہے۔ ہر چیز جگہ پر بیٹھ جاتی ہے اور بڑے منظر نامے پر ایک نہایت واضح ڈھانچہ بن کر انتہائی خوبصورتی سے پس منظر اور زیر نظر ماحول میں فٹ ہو جاتا ہے۔ یوں تاریخ بنتی جاتی ہے اور داستان کھلتی جاتی ہے۔
اب، یہ نکتہ انتہائی اہم ہے، قارئین کی بھر پور توجہ درکار ہے۔ بات یہ ہے کہ الطبری کے طریقہ کار کو دیکھیں تو ہمیں ہر واقعہ کی کئی روایات مل جاتی ہیں، بہت سے راوی ہیں اور کئی زاویے ہیں۔ لیکن، آپ نے ملاحظہ کیا ہو گا کہ ان دونوں کتابوں 'اول المسلمین' اور 'اول المسلمین کے بعد' میں، ہر جگہ، ہر واقعہ اور ہر مکالمے کا ایک ہی نسخہ استعمال ہوا ہے جو اصل میں ایک نسخہ نہیں ہے۔ اصل کتابوں یا تراجم میں الطبری کی طرح کسی بھی واقعہ یا مکالمے کے درجن بھر حوالے شامل نہیں کیے گئے۔ یہ بات جیسے کہ اوپر بیان کی گئی، درست ہے کہ اصل تاریخ، یعنی الطبری کی تاریخ میں یہ ایسے ہی ہے، یعنی ایک واقعہ یا مکالمے کی کئی روایات ہیں جنہیں مختلف گواہوں اور روایوں نے بیان کر رکھا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انگریزی میں مصنفہ اور اردو میں مترجم نے ایک ہی مکالمہ یا حوالہ کیوں شامل کیا ہے؟ یا وہی الفاظ کیوں استعمال کر رکھے ہیں جو ان دونوں کتابوں میں ہم پڑھتے ہیں؟ یہ انتہائی اہم سوال ہے اور اس کا جواب قاری کے لیے اتنی ہی اہمیت کا حامل ہے۔ ہوا یہ ہے کہ، الطبری کی اصل تاریخ میں ہر واقعہ یا مکالمے کے کئی راوی ہیں، بہت سے زاویے ہیں۔ مگر لے دے کر، آخر میں ہر واقعہ یا مکالمے کا احوال اس قدر واضح ہو جاتا ہے کہ معاملہ صاف ہو جاتا ہے۔ تقریباً سب ہی روایات کا بہاؤ ایک ہی جیسا ہے، جو فرق ہے وہ الفاظ کے چناؤ کا ہے، یا جس شخص نے روایت کی اس کے انداز کا ہے، یا جس شخص کو روایت کیا ہے، اس کی طبیعت اور اس کے بارے روایت کرنے والے کا نکتہ نظر ہے۔ یوں ان روایات میں جہاں الفاظ یا بول چال میں فرق ہے، اکثر تفاصیل بھی کم یا زیادہ ہو جاتی ہیں۔ یعنی یہ کہ ایک شخص کو اگر یہ بات یا انداز یاد رہا تو دوسرے شخص کو کچھ حصہ یا تیسرے شخص کو ان دونوں سے زیادہ واضح یاد ہے۔ یعنی، ماخذوں کی یاد داشت کا بھی عمل دخل ہے۔ خیر، مصنفہ کا انگریزی میں اور مترجم کا اردو میں، طریقہ کار یہ رہا ہے کہ ایک ہی واقعہ یا مکالمے کی کئی روایات میں چھان بین کر کے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کونسی روایت استعمال کی جائے یا زیادہ واضح کرنے کے لیے، کون کون سی روایات کو جوڑ دیا جائے یا کئی روایات کو جوڑ کر ایک بنا لیا جائے تا کہ ماحول اور پس منظر کے عین مطابق، صورتحال واضح ہو جائے۔ اسی طرح، اس بات کا بھی بھر پور خیال رکھا گیا ہے کہ انگریزی یا اردو میں ترجمہ کرتے وقت الفاظ کا چناؤ بھی ایسا ہو کہ آخر میں مدعا بیان ہو جائے، صوت سے یا لفظوں کی نفسیات سے ہر واقعہ یا مکالمے کا اصل نکل کر باہر آ جائے۔ مقصد صراحت اور وضوح پیدا کرنا ہے۔ یاد رہے، کسی بھی موقع پر، کسی بھی جگہ پر، ہر گز ہرگز نہ تو انگریزی اور نہ ہی اردو میں، مرصع نگاری سے کام لیا گیا ہے اور نہ ہی اصل بیانات میں کہیں کچھ کمی یا بیشی کی گئی ہے۔ کتابوں کے دونوں نسخوں، چاہے انگریزی یا اردو میں مطالعہ کرنے پر یہی محسوس ہو گا کہ ہر قدم پر، چھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی تفصیل اس طرح بیان کی گئی ہے کہ بجائے عمومیت، اصلیت نکل آئے۔ اسی لیے بیان سادہ، سلیس اور واضح ہے اور تفاصیل خاصی براہ راست یا بلا واسطہ بن جاتی ہیں۔
یہ تو ان روایات کا احوال ہے جہاں بیانات جمع ہو کر ایک ہی نتیجے کا باعث بن جاتے ہیں، یعنی روایات میں انیس بیس کا فرق ہے، زیادہ نہیں۔ لیکن کئی واقعات ایسے بھی ہیں جن کی الطبری کی تاریخ میں مختلف روایات مل جاتی ہیں اور کئی بیانات تو ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ اس صورت میں، اصل نسخے، انگریزی اور اردو میں ترجمہ کرتے ہوئے ان تضادات کا پوری طرح خیال رکھا گیا ہے اور احتیاط برتی گئی ہے۔ یہ بات باور کرانا انتہائی لازم ہے کہ مصنفہ اور مترجم نے اس ضمن میں الطبری کا ہی انداز اپناتے ہوئے اس پر فیصلہ یا حتمی رائے دینے کی بجائے اس پر تکیہ کیا ہے جو الطبری کا بھی خاصہ ہے۔ الطبری اپنی تاریخ کے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں، 'ہر چیز جو یہاں بتائی گئی ہے، اس کے لیے میں نے پوری تحقیق سے کام لے کر، مستند حوالہ جات سے مزین ایسی بنیاد رکھی ہے جس پر میں خود بھروسا کر سکتا ہوں۔ یاد رہے، یہ بنیاد زبانی بیانات اور کلامی روایات پر کھڑی ہے جو کئی کئی راویوں سے منسوب ہیں۔ اس بنیاد میں استعمال ہونے والا علم اطلاع دینے والوں اور راویوں کے اصل بیانات سے حاصل کیا گیا ہے۔ اس علم میں کسی بھی طرح سے مصنف کے ذاتی خیالات، سمجھ، عقل، جذبات یا بصارت کی کھوٹ داخل نہیں ہے۔ اگر اس کتاب میں ماضی کی کسی شخصیت بارے بیانات یا ان شخصیات کے اپنے بیانات شامل کیے ہیں ، جو بعض لوگوں کے لیے باعث تشویش یا تکلیف ہو سکتے ہیں، وہ یاد رکھیں کہ اس کی ذمہ داری ہماری نہیں بلکہ اس شخص کی ہے جس نے یہ ہم تک پہنچایا، یا اپنی ذمہ داری پر روایت کر رکھا ہے۔ یعنی، اس تاریخ کی ذمہ داری راویوں پر ہے۔ ہم نے ان کے بیانات، اقوال اور روایات کو من و عن اسی طرح لکھ دیا ہے جس طرح یہ ہم تک پہنچے تھے'۔
محمدؐ کی سب سے پہلی سوانح حیات ابن اسحاق نے ترتیب دی تھی۔ ان کی جمع کی ہوئی یاد داشتوں کے مجموعہ کو 'سیرت الرسول اللہ' کہا جاتا ہے اور یہی یاد داشتیں آج تک دنیا میں جتنی بھی سیرت کی کتابیں لکھی گئی ہیں، ان کی بنیاد ہیں۔ الطبری کی لکھی ہوئی تاریخ کی ہی طرح ابن اسحاق کی 'سیرت رسول' بھی اسلامی دنیا میں ہر جگہ مستند حوالہ سمجھی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ خود الطبری نے محمدؐ کی زندگی بارے چار جلدوں کے تقریباً مندرجات ابن اسحاق سے ہی مستعار لیے ہیں، جن پر مکمل تحقیق کی گئی۔
محمد ابن اسحاق 704ء کو مدینہ میں پیدا ہوئے اور 767ء کو بغداد میں وفات پائی۔ ان کی جمع کی ہوئی 'سیرت رسول اللہ' کی یاد داشتوں کا اصل مسودہ اب نا پید ہے، کیونکہ ان کے زمانے میں تحریر لکھنا اور پھر اسے باقی رکھنا انتہائی مشکل رہا کرتا تھا۔ لیکن ان کی اصل یاد داشتوں اور حوالہ جات کو ہی استعمال میں لاتے ہوئے بصرہ میں پیدا ہونے والے تاریخ دان ابن ھشام نے 'سیرت ابن ہشام' ترتیب دی تھی، جس میں ابن اسحاق کے اصل نسخوں کو وسعت دی گئی اور اس میں مزید تحقیق شامل ہوئی۔ ابن ہشام نے فسطاط (قاہرہ)، یعنی مصر میں بسر رکھی۔ ابن ہشام کے ہاتھوں ترتیب پانے والی، ابن اسحاق کی 'سیرت رسول' کا 1955ء میں انگریزی ترجمہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے ممکن بنا کر شائع کروایا۔ یہی انگریزی نسخہ، زیر نظر دونوں کتابوں کے لیے بھی استعمال کیا گیا ہے۔
الطبری اور ابن اسحاق کے علاوہ یہاں اوائل دور کے دو مزید مورخین کا ذکر انتہائی ضروری ہے۔ پہلے مورخ بلازری ہیں، جنہوں نے الطبری کی تاریخ کو استعمال میں لاتے ہوئے تاریخ اسلامی میں مزید فصاحت اور نفاست پیدا کی۔ ابو الحسن احمد بن یحیی بلازری فارس میں پیدا ہوئے اور سکونت بغداد میں رکھی اور یہیں 892ء میں وفات پائی۔ ان کی تصنیف، 'فتوح البلدان' یعنی عربوں کی ملکی فتوحات کا انگریزی ترجمہ 1924ء میں نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی پریس نے شائع کیا۔ اسی طرح ان کی دوسری کتاب، 'انساب الاشراف' یعنی 'عربوں کی حسب نسبی تاریخ'، جس میں تمام خلفاء اور زیر نظر دونوں کتابوں میں جتنی بھی شخصیات کا ذکر آیا ہے، ان کے حسب اور نسب کا پورا بیان ملتا ہے، تحقیق کے لیے دستیاب رہی۔ اگرچہ بلازری کی اس کتاب کا انگریزی ترجمہ تو نہیں ہے مگر کوشش کر کے اس کو عربی اور فارسی زبان کی سمجھ رکھنے والے احباب کی مدد سے پوری طرح استعمال میں لایا گیا ہے۔
دوسرے مورخ ابن سعد ہیں۔ یہ وہ ہیں جنہوں نے اوائل دور اسلام کی تقریباً شخصیات کی سوانح حیات لکھ رکھی ہیں۔ ابن سعد کی لکھی ہوئی تاریخی سوانح حیات، بعد کے تقریباً سب ہی مورخین کے لیے مستند حوالہ رہی ہے، یہاں تک کہ الطبری نے بھی ابن سعد کی تصانیف کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ ابن سعد 764ء میں بصرہ شہر میں پیدا ہوئے، بغداد میں سکونت اختیار کی اور یہیں 845ء میں وفات پائی۔ انہوں نے 'کتاب الطبقات' لکھی، جو نو جلدوں پر مشتمل ہے۔ ان نو جلدوں میں محمدؐ، محمدؐ کے اصحاب، اوائل دور کی چیدہ شخصیات اور سکالروں اور بالخصوص خواتین کا حسب نسب، کردار اور زندگیوں کا حال تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ابن سعد کی اس ضحیم تصنیف میں سے منتخب شدہ اقتباسات کا انگریزی ترجمہ بھی ہوا۔ انگریزی زبان میں یہ کل دو نسخے ہیں۔ پہلا، 'مدینہ کی خواتین' 1995ء میں اور دوسرا 'مدینہ کے حضرات' 1997ء میں شائع ہوا۔
قرانی نسخے اور تفاسیر
زیر نظر دونوں کتابوں کو ترتیب دینے اور اردو ترجمہ کرنے کے لیے قرانی آیات کو بھی بطور حوالہ شامل کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے قران کے ایک سے زیادہ انگریزی اور اردو نسخے استعمال میں لائے گئے، تا کہ بیان ، پس منظر اور ماحول کے عین مطابق واضح رہے اور مصنفہ یا مترجم سے کسی بھی قسم کی چوک نہ ہونے پائے۔ یاد رہے، یہاں اصطلاح 'نسخے' استعمال کی گئی ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ مصنفہ اور مترجم یہ سمجھتے ہیں کہ بنیادی اسلامی عقیدہ کے مطابق قران، الہامی کتاب یعنی خدا کا کلام ہے۔ ماننا یہ ہے کہ الہامی کتاب کا ترجمہ نہیں کیا جا سکتا اس لیے ترجمہ کہنا مناسب نہیں۔ دوسری زبانوں میں یہ اصل کلام کا ترجمہ نہیں بلکہ توضیح ہوتی ہے، یعنی صرف اظہار ہے۔ اسے ایسا ہی سمجھا گیا ہے، یہ اصل نسخوں کا ہر گز متبادل نہیں ہیں۔ بہرحال، ضرورت کے تحت انگریزی زبان کے استعمال کیے گئے قرانی نسخوں میں ایڈورڈ پالمر 1900ء، آربیری 1955ء، داؤد 1956ء اور لیلیٰ بختیار 2009ء جبکہ اردو زبان میں مودودی، جالندھری، عثمانی اور تھانوی کے نسخے شامل ہیں۔
علمی ، مسلکی اور تحقیقی حوالہ جات
اوپر بیان کردہ اہم اور کلیدی حوالہ جات کے علاوہ بھی کئی مورخین، نظریہ کاروں، شیعہ سکالرز، سنی سکالرز اور مشرقی و مغربی محققین کے علمی کام کو استعمال میں لایا گیا ہے۔ ان میں سے اکثر کے کام کو ان کے نام کے ساتھ دونوں کتابوں میں شامل کیا گیا ہے لیکن کئی جگہوں پر چاشنی برقرار رکھنے کی وجہ سے ایسا ممکن نہیں رہا۔ بہرحال، یہ اہم ہے کہ ان کا ذکر کیا جائے۔ ان حوالہ جات کی مکمل فہرست زیر نظر دونوں کتابوں کے انگریزی نسخوں کے آخر میں ملاحظہ کی جا سکتی ہے۔

دونوں کتابوں کے مکمل تراجم درج زیل روابط میں ملاحظہ کریں:

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر