سیلن

پردیس میں سات برس گزارنے کے بعد میں اپنے شہر لوٹ آیا۔ ریو ڈی جینرو، جسے سب ریو پکارتے ہیں۔
یہ گرمیوں کی بات ہے۔ گھر کا حال کیا بتاؤں؟ نمی سے دیواروں میں سیلا اتر آیا ہے ۔ فرنیچر بھی دیمک کی چاٹ سے بودا ہو رہا ہے۔ جب چھوڑ کر گیا تھا، تب بھی تقریباً یہی حال تھا۔ دیواروں میں سیلن کے ساتھ بارش کے گدلے پانی کی لکیریں اور سبزہ نہ اترا ہوتا تو کون کہہ سکتا ہے کہ میں سات برس دور رہا؟ لگتا کہ میں کبھی گیا ہی نہیں تھا۔ گھر کے اندر سیلے پن کی اس قدر تیز بو تھی کہ دماغ سن ہو گیا۔ اتنی زور کی ابکائی آئی کہ دوڑ کر باہر نکلنا پڑا۔ پھر جلد ہی یہ سوچ کر لوٹ آیا کہ ارے، یہ بو کوئی نئی تو نہیں ہے۔ آہستہ آہستہ، باس کی پھر سے عادت ہونے لگی۔ میں نے سوٹ کیس باہر ہی چھوڑ دیا ہے۔ کمرے کی کھڑکی کھولی، جو اب تک مٹی اور کچرے میں جم کر کر سختی سے بند ہو چکی تھی۔ زور لگا تو لکڑی چرچرائی اور ہلکے سے باہر کی طرف کھل گئی۔ غور سے دیکھا تو بوسیدہ کھڑکی پر سفید روغن کے پارچے نکھڑ کر اتر رہے تھے۔
گھر کے اندر تو سیلا تھا ہی مگر باہر بھی حالات کچھ مختلف نہ تھے۔ کھڑکی کھلتے ہی باہر کی گھٹی ہوئی حبس زدہ ہوا کا جھونکا منہ پر تھپیڑا مار گیا۔ ریو کی ہوا میں ٹھنڈک کا نام ونشان بھی نہیں تھا۔ موسم گرم اور مرطوب ، میں پہلے سے زیادہ پسینے میں نہانے لگا۔ کئی برسوں بعد یوں پسینے سے شرابور ہوا تھا۔ پسینہ نچڑا تو واقعی خیال آیا کہ سات سال گزر گئے ورنہ کچھ عرصے سے وقت کا احساس بھی جیسے مر گیا تھا۔ اب تو یہ بھی یاد نہیں کہ آخری دفعہ میری قمیص پسینے سے کب جسم سے چپکی تھی۔ پسینہ تھا کہ جیسے میں بڑے کی بارش میں بھیگ رہا ہوں۔ بہتیری کوشش کر لی، یاد ہی نہیں آیا۔
نہ جانے کیوں، میں اس بات کو سوچتا ہی رہا۔ ذہن پر پھر سے زور ڈالا تو وہ یاد واپس نہ آئی مگر یہ ضرور ہوا کہ ایک بات کھل کر سمجھ آ گئی۔ پتہ یہ چلا کہ آخر میں نے پردیس ترک کر کے واپس چلے آنے کا بے وجہ فیصلہ کیوں کیا تھا؟ میرا جسم فوراً بھانپ گیا۔ اتنے برس یورپ میں گزارنے کے بعد ریو میں پسینے سے شرابور ہوا تو سمجھ آیا کہ در اصل وہاں کا سخت موسم مجھے کبھی راس ہی نہیں آیا تھا۔ جسم کی پور پور سات برس تک بے کیف موسم سے لڑتی رہی۔ اس قدر مشقت اٹھائی کہ ٹانگوں میں سے جان نکل گئی، بال پتلے ہو کر جیسے تنکا بن چکے تھے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے ہر وقت دل میلا رہنے لگا تھا۔ طبیعت پر بد حواسی چھائی رہتی اور سانس لینے میں دشواری ہو رہی تھی۔ اس طویل لڑائی نے جسم کو بے سدھ کر دیا تھا۔ لیکن یہاں پہنچتے ہی پسینہ اتنا کھل کر بہا کہ سارے مسام کھل گئے۔ میں اپنے آپ کو پھر سے پہچاننے لگا۔ یہ میری توقعات سے بہت بڑھ کر تھا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنی جلدی خود کو ڈھونڈ نکالوں گا۔ جی اتنا خوش ہوا کہ خون جوش مارنے لگا اور یک دم گرم موسم نے اپنائیت سے خود میں لپیٹ لیا۔ میں دھڑام سے پاس ہی پڑے صوفے پر گر گیا ۔ صوفہ حبس زدہ نمی سے گیلا ہو رہا تھا۔ بیٹھتے ہی میں بھی نم ہو گیا تو دل بھی کھل گیا۔ رہا نہ گیا کہ با آواز بلند خود سے پوچھوں، میں کیوں لوٹ آیا؟ کیونکہ ریو میرا گھر تھا۔
یہ کچھ دن پہلے کا واقعہ ہے۔ ایک دن صبح میں سو کر جاگا تو جسم بوجھل ہو رہا تھا۔ بد دلی کے ساتھ گرم بستر سے اٹھا تو باہر موسم یخ اور بے کیف تھا۔ طبیعت کڑ بڑا رہی تھی اور ایسے میں، سامنے ڈرائنگ روم میں تم پر نظر پڑی۔ تم مزے سے پڑی سو رہی تھیں اور سینے پر کوئی کتاب دھری ہوئی تھی۔ بوجھل جسم، یورپ کا بے کیف موسم اور تم۔۔۔ میں نے فوراً ہی کھڑے کھڑے واپس ریو چلے جانے کا فیصلہ کر لیا۔
'سب خیریت ہے؟' تم نے پوچھا ۔' نہیں، سب ٹھیک نہیں ہے۔ مجھے گھر کی یاد آ رہی ہے' میں نے جواب دیا۔ ' میں کچھ عرصے کے لیے واپس لوٹ جانا چاہتا ہوں'۔ تم نے سرد آہ بھری تھی ۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ تمہارے چہرے پر پھیلی طمانیت ایک دم نچڑ کر رہ گئی ہے۔ تم نے کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھا ہو گا۔ اسی لیے سگریٹ سلگایا اور کمرے میں بے چینی سے چکر کاٹنے لگیں۔ ہم دونوں وقت کے نام پر ڈگمگائے اور وقت کے ہی نام پر سنبھل بھی گئے تھے۔ تم سوچ رہی تھیں کہ یہ جدائی، کچھ عرصے، تھوڑے سے وقت کی ہی تو بات تھی۔
بعد اس صبح کے، خاموشی نے ہمارے گھر کی راہ دیکھ لی۔ یہاں تک کہ میری رخصت کے وقت بھی ہم دونوں پر چپ طاری رہی۔ یاد آیا، وداع کے وقت ہم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے تھے۔ ایسا ظاہر کیا جیسے دوبارہ ملنے، پھر سے اکٹھا ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اب میں اپنے آبائی گھر میں اس نم زدہ صوفے میں دراز بیٹھا، پسینے سے شرابور ہوں۔ دیکھو، میں تم سے کیا کہوں کہ یہ محبت کا بیو پار کیسی بری چیز ہے؟ تمہیں کیا پتہ کہ ایک محبت کو چھوڑ کر دوسری محبت خریدنا، کس قدر مشکل کام ہے۔
سات برسوں میں ایک بار، صرف ایک بار ہم اکٹھے ریو آئے۔ مجھے وہ چند دن اچھی طرح یاد ہیں۔ تم شہر کی دل ربائی میں کھو گئی تھیں۔ چھوٹی چھوٹی بات ، ہر ایک تفصیل پر اتنا چہکتیں کہ بیان کرنا مشکل ہے۔ ان دنوں میں ریو کے ذکر سے ہی سخت نالاں ہوا کرتا تھا جبکہ تم ہر وقت شاد اور نہال رہا کرتی تھیں۔ ہم پھر دوبارہ اکٹھے یہاں کیوں نہیں آئے؟ تمہارے بغیر میرا یوں یہاں چلے آنا، بے وفائی ہے؟ کیا تم یہ سوچتی ہو کہ میں تمہیں دغا دے رہا ہوں؟ دیکھو، میں جس قدر بھی چاہوں۔ جتنا دھیان جتا لوں، وہ لفظ کبھی نہیں مل سکتے جو تمہیں میرے بارے اپنے اس خیال سے نجات دلا سکیں۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ یہ سب گوشہ نشینی کی چاہ کا کیا دھرا ہے۔ کیا کروں ؟ مجھے تمہارے شہر میں خلوت نہیں ملی۔ ہاں، یہی بات ہے۔ پھر یوں ہوا کہ اچانک رات کی رات میں ایک دن اکلیاپا تنگ آ کر باہر نکل ہی آیا ۔ ہر وقت آنکھوں کے سامنے ناچتا رہتا اور کچوکے لگاتا کہ بھلا یہ کیسی زندگی جی رہا ہوں؟ تن تنہائی کا سرے سے کوئی وجود ہی باقی نہیں رہا؟ دیکھو تو، یہ کتنی عجیب بات ہے۔ میں وہ شخص ہوں جس نے ہمیشہ اپنے گرد بھیڑ لگائے رکھی۔ لوگوں کو ہی اپنا گھر سمجھا۔ کیا ہوا کہ مجھ جیسے آدمی کو ہی اس انوکھے خیال نے آ لیا؟ اچانک ہی، دم کے دم میں مجھے اس شہر کی آوازیں سائیں سائیں کرتی، پاس بلاتے ہوئے یوں سنائی دینے لگیں کہ جیسے کوئی گم گشتہ محبوب ایک دم پھر سے زندہ ہو کر سامنے آن کھڑا ہو جاتا ہے۔ ساری کمی بیشی، زندگی بھر کا سود و زیاں میرے سامنے ڈھیر ہو گیا۔ میں سوچتا رہ گیا کہ آخر یہ سب اب تک نظروں سے نہ جانے کیسے اوجھل رہا؟ میں چلا تو آیا ہوں مگر اس کے ساتھ یہ ہول بھی اٹھتے ہیں کہ اگر کل کلاں مجھے اس فیصلے، ہڑبونگ میں ریو لوٹ آنے پر پشیمانی شروع ہو گئی تو پھر کیا ہو گا؟ کیا تم میرا انتظار کرو گی؟ کیا تم میری راہ دیکھتی رہو گی؟
سب سے پہلا کام تو یہ ہے کہ دیواروں سے سیلن اتار پھینکوں۔ گھر کے کونے کھدروں میں درزوں کو کھول دوں ۔ عرصے سے بند نکاس کو آزاد کر دوں۔ میں یہاں کھل کر سانس لینے آیا ہوں۔
ریو میں یوں ہوتا ہے کہ گرمیوں کے موسم میں، طوفان باد و باراں کی آمد سے کچھ دیر پہلے فضا میں عجیب سی بوجھل پھسلواں ہو جاتی ہے۔ درختوں کے پتوں سے انتہائی تیز مگر مٹی میں گندھی بھینی خوشبو نکلنے لگتی ہے۔ آسمان پر یکا یک کالے بادل گھر آتے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے اندھیری ہر چیز کو غڑاپ سے نگل لے گی۔ دنیا کو اتھل پتھل کر کے رکھ دے گی۔
طوفان سے پہلے خاموشی تباہی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ ابھی تک تو کچھ نہیں ہوا مگر جلد ہی، بہت جلد ہر چیز حرکت میں آ جائے گی۔ بہت کچھ ہو گا۔ المیے کی خوبصورتی یہی ہے کہ نزول سے عین پہلے تک اس کا سرے سے پتہ ہی نہیں چلتا۔ یہ آن کی آن میں گھیر لیتا ہے۔ ایسے میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو یاد گار بن جاتی ہیں۔ یہ انہونیاں ان عظیم لمحات سے بھی زیادہ خوبصورت ہوتی ہیں جو اس یاد گار کو جنم دیتی ہیں۔ مثلاً شہوت میں تر بوسے سے قبل کا لمحہ۔ عین وہ ساعت جب ایک دوڑ لگانے والا جیت کی لکیر کو پار کرنے کے بہت قریب ہو۔ یا پھر، ریو میں طوفان سے قبل، کچھ وقت نہایت دلکش ہوتا ہے۔
اس سے پہلے کہ بادل برسیں اور چاروں طرف پانی کے ریلے بہتے ہوں، شہر میں اچانک حرکت شروع ہو جاتی ہے۔ لوگ اضطراب سے بد حواس ہو جاتے ہیں۔ پرندوں کے غول ٹوٹ جاتے ہیں اور اکثر ڈار سے بچھڑ کر شور مچانے لگتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے پرندوں کے حلق چیر کر نکلنے والا، یہ کیسا دل خراش شور ہوتا ہے؟ کاکروچ تیزی سے کھسکتے، گرتے پڑتے ، دوڑتے اور پھرتے ، زمین پر رینگتے نظر آتے ہیں۔ بندر پریشانی میں کبھی اس ڈال اور کبھی اس شاخ پر کودنے لگتے ہیں۔ ہر شے پناہ ڈھونڈتی ہے۔ سب چھت تلاشتے ہیں۔ باد و باراں سے عین پہلے ماحول میں رطوبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ شہر اس کے بوجھ تلے پھڑپھڑ اتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ جب ایسا ہو تو پھر ہر زی رو ح جان لیتا ہے کہ جلد، بہت جلد یہ گرم مرطوب، بھاری چپ چپ کرتا موسم ختم ہونے کو ہے ۔ اب بس کچھ دیر کی بات ہے۔ شہر جل تھل ہو جائے گا۔ اس دوراں اگر آپ خوش قسمتی سے کسی محفوظ جگہ پر، مضبوط چھت تلے پہنچ گئے تو قدرت کی رعنائی، بھر پور طاقت کا مظاہرہ کھلی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ آپ دیکھتے ہیں کہ قدرت آسمانوں کے در کھول کر اپنی بے پایاں قوت کو بپھرے ہوئے سانڈ کی طرح کھلا چھوڑ دیتی ہے ۔اس منظر کو دیکھ کر ایک ہی خیال آتا ہے کہ طوفان کی موسلا دھار بارش کے سامنے ہم کس قدر ناپائیدار اور فانی ہیں۔ یوں ایک انجانا خوف گھیر لیتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ دسمبر کے مہینے میں جب چہار سو ٹپ ٹپ برسنے والی بارش گرتی ہے تو عام طور میرا اندر شادمان رہتا ہے۔ ٹھنڈ کی سموئی بارش سے جی بہل جاتا ہے ،مگر یہ دسمبر تو نہیں۔ گرمیوں کی حبس کا موسم ہے، طوفان اور باد و باراں۔۔۔ بجلی چمکنے اور بادل کڑکنے کا موسم ہے۔
میں اندر گھسا صفائی کر رہا تھا۔ گھر کے ساتھ میرے اندر بھی حبس حد سے بڑھ گئی تو کام کاج چھوڑ کر باہر نکل آیا ۔ گلیوں میں بے مقصد مٹر گشت شروع کر دی۔ گلیوں میں ارد گرد عمارتیں بھدی ہیں اور پتلی سڑکوں پر گڑھوں کا گماں ہوتا ہے۔ موسم میں اتنی تپش ہے، جیسے دوزخ ہو۔ سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے اسی جگہ کی ضرورت تھی، دوزخ میں جلنے کا شوق تھا۔ میں ایسے جہنم میں جانا چاہتا تھا، جس سے کم از کم باہر نکلنے کی تمنا تو پیدا ہو ۔
پچھلی بار جب ہم ریو آئے تھے۔ وہ دن یاد کرو، کیبل کار اچانک جھٹکے سے روانہ ہوئی تو تم دہل گئی تھیں۔ میری حالت دیدنی تھی، میں گرم جوش تھا۔ ریو میں شوگرلاف پہاڑ واحد سیاحتی مقام ہے جہاں میں کبھی بھی، کسی بھی وقت جانے کے لیے تیار ہو جاتا ہوں۔ وجہ یہ کہ ہر دفعہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پہلی بار یہاں آیا ہوں۔ در اصل مجھے پہاڑ کی چوٹی سے، اونچی جگہوں پر کھڑے ہو کر پیروں میں بچھی دنیا کو دیکھنے کا بے حد شوق ہے۔ ارکا کی پہاڑی پر، جب کیبل کار آدھا راستہ طے کر چکتی ہے تو مجھے اپنا آپ کسی حیرت زدہ سیاح کی مانند لگنے لگتا ہے۔ جیسے میں کوئی مسافر ہوں جو برازیل کی کھوج میں نکلا ہے۔ خود کو تصور میں پانچ سو سال پہلے کے زمانے میں خیال کرتا ہوں۔ وہ شخص سمجھتا ہوں جس نے ابھی ابھی گوانا بارا کے ساحلوں پر جہاز لنگرانداز کیا ہے اور اس انوکھی جگہ کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں مبتلا ہے۔ میں اس جنت نظیر پر قدم رکھنے والا مہذب دنیا کا پہلا شخص ہوں جو اس پراچین دھرتی کو دیکھ کر انگلیاں دانتوں تلے دبائے، ہکا بکا کھڑا ہے۔ مجھے دوسروں کی طرح کبھی یہاں کے مقامی انڈینز سے ایک ذرہ برابر حسد محسوس نہیں ہوا۔ وہ تو یہاں بہت پہلے سے تھے۔ پرتگالیوں نے تو اس جگہ کو صرف دریافت کیا تھا۔ ریڈ انڈینز تو اس جگہ کا قدرتی حصہ تھے، اس نا مہربان اور رسوا کن مگر انتہائی خوبصورت ماحول کا جز و لا ینفک تھے۔
ایک ہفتے کی دن رات کڑی محنت کے بعد گھر کی صفائی کا یہ ہے کہ اب دیواروں پر کم از کم سیلن نہیں ہے۔ سطح سے اُلی تو ختم ہو گئی ہے مگر بدبو دار ابساہٹ ابھی باقی ہے۔
جب ذہنی الجھن اور اضطراب آن گھیرے تو حالت غیر ہو جاتی ہے۔ ایسے میں صرف بے چینی پر اکتفا نہیں ہوتا بلکہ ساتھ ہی شکوک اور مالیخولیا کا بھی دورہ پڑ جاتا ہے۔ ایسی صورتحال میں، گھر سے نکل جانے میں عافیت ہے۔ مقصد، سکون کی تلاش میں نکل پڑتا ہوں۔ سات برس پہلے تک جب ایسی حالت طاری ہوتی، میں ہمیشہ قریب ہی واقع پبلک سوئمنگ پول کو جائے پناہ بنا لیتا تھا۔ گرمی کے موسم میں، آج پھر طوفان کی آمد آمد ہے۔ میں نے سیدھا جا کر پول میں ڈبکی لگا دی۔ بچے آسمان کے گرجنے پر، مجھے دیکھ کر ہنستے ہیں۔ کیونکہ بجلی پہلے چمکتی ہے اور پھر کچھ لمحوں کے لیے آسمان کو اس طرح روشن کر دیتی ہے جیسے اندھیر نہیں یہ روشن دن ہو۔
ریو کے باسی زندہ دل لوگ ہیں۔ ان کا مسرت بارے خیال یہ ہے کہ پسینہ پٹھوں کو چپڑ دیتا ہے۔ یہ پسینے کی مہربانی ہے کہ ہم اتنی آسانی سے جسم کو متحرک رکھتے ہیں۔
جسم کی حرکت سے یاد آیا، تم کتنی عجیب تھیں۔ پچھلی دفعہ میرے ساتھ ریو آئیں تو بچوں کی طرح ضد کرتی رہیں کہ بالضرور ہی مشہور فانک رقص دیکھنے جاؤ گی۔ فانک کے رقص میں مرد اور عورتیں، دوست اور شہر بھر کے غیر اجنبی اکٹھے ہو کر زمین پر لہکتی ہوئی لکیروں کی شکل میں ناچتے ہیں ۔ گھنٹوں جسموں کو لچکاتے رہتے ہیں۔ ٹانگیں ول کھاتی، ایک دوسروں کی رانوں میں گھسی، الجھتی رہتی ہیں۔ مجھے ہمیشہ ایسا لگتا ہے جیسے یہ سب اپنا اصل ظاہر کرتے ہیں۔ یوں ظاہر کرتے ہیں کہ جیسے پیدا ہی اس لیے کیے گئے ہیں کہ اس طرح گھل مل کر ایک دوسرے کو اچھی طرح جان لیں۔ دیکھو تو لوگوں کو اس دھما چوکڑی میں دوسرے جسموں سے ٹپکتے ہوئے پسینے پر کبھی نالاں نہیں دیکھا۔ کسی کو قطعاً کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔ ریو کے باسیوں کے لیے پسینہ سوائے بہتے ہوئے عام سیال سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ تب بھی، میں تم سے یہی کہا کرتا تھا کہ خدا را، مجھ سے توقع نہ رکھو کہ میں رنگ رلیوں کے میلے کو پسند کروں گا۔ میں آج بھی تم سے اپنے خیال میں یہی گزارش کرتا ہوں، مجھے زندگی میں فانک رقص جیسے میلے سے دور ہی رکھتیں تو ہم دونوں کے لیے بہتر ہوتا۔
یہ صرف میلے کی بات نہیں ہے بلکہ میری ناپسندیدگی رقص کی گرمی سے بھی متعلق ہے۔ گرمی ایسی چیز ہے جو ہر چیز کو پگھلا کر رکھ دیتی ہے۔ چاہے وہ تعلقات ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ وقت کے ساتھ بڑھتی ہی جاتی ہے اور اس کشمکش میں نمی کا بھی کوئی حساب نہیں رہتا۔ کوئی سلوک بھی باقی نہیں رہتا۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ ہر چیز پھٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور کوئی شے قابو میں نہیں رہتی۔ یہ آپے میں نہیں رہتی۔ گرمی اور نمی مل جائے تو ٹھوس اشیاء بھی بہہ نکلتی ہیں، سیال ہو جاتی ہیں۔ لاوا بن جاتی ہیں۔ ہنستے بستے گھر پگھل جاتے ہیں، کاغذ کے ٹکڑے جن پر وعدے وعید لکھے ہوتے ہیں بجھ جاتے ہیں اور یاد گار تصویروں کا بھی رنگ اڑ جاتا ہے۔
پھر تراب بھی ہوتا ہے۔ نامیاتی مٹی، جس میں نمی جیسے ٹھہر کر رہ جاتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ ایسی مٹی زر خیز ہوتی ہے، زمین کو ہرا بھرا رکھتی ہے۔ ایسی مٹی میں ہر چیز گل سڑ کر مٹی ہو جاتی ہے جس سے نئی زندگی جنم لیتی ہے۔ نباتات اگتے ہیں جن کا شوربہ ہم پیتے ہیں اور اپنے جسموں کو طاقت بخشتے ہیں۔ بس یہی چیز مجھے چوبھ لگاتی ہے۔ زمین مردار خور ہوتی ہے۔ یہ سینے پر چلنے، پلنے والے زندوں کو مار کر کھا جاتی ہے۔ جو حال ماضی بن جاتا ہے، اس پر پلتی ہے ۔ نمی ایسی چیز ہے جو یاد کو بھی نگل جاتی ہے ۔ اس کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ یہ سیدھے رستے پر نہیں چلتی، ڈگر بدل دیتی ہے۔ یہ لمبا راستہ اختیار کرتی ہے، عرصے تک زندہ رہتی ہے اور چیزوں کو گھیر گھار لیتی ہے۔ بیسیوں سال تک زندوں کا پیچھا کرتی ہے اور پھر جب اچانک آن لیتی ہے تو پھر ایک لمحے کا بھی پتہ بھی نہیں چلتا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے، اجسام رطوبت میں تبدیل ہو کر اڑ جاتے ہیں اور ان کی یاد بھی کچھ عرصے بعد پہلے مدھم ہوتی ہے اور پھر بھک سے یوں اڑ جاتی ہے جیسے بھاپ ہو۔
یہ تو فضا کی نمی ہے۔ دیکھو تو، ہمارے اندر بھی رطوبتیں ہیں۔ نم ہے۔ انسان بہت عرصے تک یہ مانتا چلا آیا ہے کہ جسم کے اندر صرف چار قسم کی رطوبتیں ہوتیں ہیں۔ خون، بلغم، کرودھ اور سودا۔ اس زمانے میں کہا جاتا تھا کہ صحت مند شخص وہ ہے جو ان چار اقسام کی رطوبتوں میں توازن برقرار رکھے۔ بیمار آدمی کے یہاں یہی رطوبتیں انتشار کا شکار ہوتیں۔ کتنی سادہ سی بات تھی، صحت کا تعلق صرف ان چار جسمانی رطوبتوں سے جڑا ہوتا تھا۔ میں سوچتا ہوں، کیا ریو کے باسیوں کا خمیر ابھی تک اسی زمانے میں پڑا ہے؟ جہاں سے یہ اٹھا تھا؟ رطوبتوں سے، اندر اور باہر کی نمی سے؟ کیا نم دار جسم اور سیلی محبتیں ہی ان کا خاصا ہے؟
گھر کو سدھارنے میں ابھی کتنا کام پڑا ہے اور یہ سوچیں پیچھا نہیں چھوڑ رہیں۔ کتابوں کے بنڈل ابھی تک زمین پر بکھرے ہیں ۔ میں صفائی کا کپڑا ہاتھ میں اٹھائے جوں کا توں کمرے کے وسط میں بت بنا کھڑا ہوں۔ غارت ہوں، یہ سوچیں ٹھہری ہوئی کہانی کو جاری نہیں رہنے دیتیں۔ کاش، اے کاش میری جان ان سوچوں سے چھوٹے تو میں وہ زندگی جو بہت پیچھے چھوڑ آیا ہوں، اسے وہیں چھاڑ کر دوبارہ شروعات کر سکوں۔
ان بے تکان سوچوں کے ساتھ ساتھ ریو میں بھی کئی چیزیں مجھے بالکل بھی پسند نہیں ہیں۔ مثلاً جب گرما کا موسم اپنی جوبن پر ہوتا ہے تو شہر کی عمارتوں سے پانی رستا رہتا ہے۔ ایسے میں یہ شہر بہت بھدا ہو جاتا ہے۔
پھر میں یہاں عجیب و غریب خواب دیکھتا رہتا ہوں۔ خواب میں ویسے تو سمندر شانت ہوتا ہے۔ مگر پھر اچانک لہریں اٹھنے لگتی ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ لپٹے کھاتی اس طرح بڑی ہوتی جاتی ہیں جیسے کوئی کھڈی کی لوم پر لپیٹتا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ لہروں سے خوف آنے لگتا ہے۔ اتنا ڈر لگتا ہے کہ چاہے جہاں بھی ہوں۔۔۔ ریت پر دراز، گشت کرتا ہوں یا سمندر کنارے تیر رہا ہوں، یہ اپنے ساتھ گہرے پانی میں کھینچ لیتی ہیں۔ لہروں کے اندر پہلے تو صرف سفید جھاگ نظر آتی ہے مگر پھر یکدم دنیا جیسے گھومتی ہوئی، رقصاں اور سحر میں جکڑتی جاتی ہے۔ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ میں خود کو گھڑ مچھلیوں، سیپیوں اور مونگوں کے ساتھ تیرتا ہوا پاتا ہوں۔ جب یہ فسوں ٹوٹے تو یک دم تاریکی چھا جاتی ہے اور آنکھ کھل جاتی ہے۔ جسم پسینے میں شرابور، اچھا خاصا نم زدہ ہوتا ہے۔ کمبل الجھا ہوا اور تکیہ فرش پر رل رہا ہوتا ہے۔ اس حالت میں خود سے پوچھے بغیر رہ نہیں پاتا کہ، 'آخر تم یہاں ریو میں، میرے ساتھ کیوں نہیں ہو؟'
میں ہر جمعہ کو پھول خریدا کرتا تھا۔ پچھلے ہفتے کے سوکھے پھول نکال کر گلدان میں تازہ گلدستہ سجا لیتا۔ تب یہ پھول اس نمی کی ماری دنیا میں، سیلی فضاؤں میں میرے لیے تازگی کا سامان ہوا کرتے تھے۔ میرے اندر، خشک دنیا میں ان پھولوں کی نمی زندگی کا سامان بن جایا کرتی تھی۔ اس شہر میں پھول وافر مل جاتے ہیں۔ کھلے لب دار، دو برگے پھول جن پر بارش کی بوندیں برسیں یا آنسو گرتے رہیں، کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ نمی کو جذب کر لیتے ہیں، ساری سیلن سمو لیتے ہیں۔ لیکن، اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ دوبارہ کبھی پھول نہیں خریدوں گا۔
تم نے کہا کہ یہاں آنا چاہتی ہو۔ جہاز کا ٹکٹ اپنی جیب سے خرید لو گی۔ تم نے میرے ساتھ ریو آنے کا خود ہی فیصلہ کیا تو میں نے سرد لہجے میں انتہا کی خشکی پیدا کر کے یوں منع کیا جیسے یورپ کی ہوائیں پیش آتی ہیں۔ میں یورپ جیسا سرد تو نہیں، یہ اس لیے بہانہ بنایا کہ ہر چیز کا وقت مقرر ہوتا ہے۔
تم بھی کیا کرتیں، میرا ساتھ چاہتی تھیں مگر میں نے منع کر دیا۔ یہ نئے سال کی تقریبات کا موقع ہے، میں سمجھ سکتا ہوں کہ تم اس وقت تو ضرور ہی آنا چاہو گی۔ کم از کم آج رات میرے ساتھ بسر کرتیں۔ لیکن میں نہیں مانا۔ رات دس بجے، سفید جوڑا پہن کر تن تنہا ہی نکلا اور کوپا کابانا کی طرف نکل گیا۔ یہ پہلا موقعہ ہے کہ نئے سال کی رات تن تنہا ہوں۔ میرے ساتھ صرف اکلیاپا ہے۔ میں جھیل کے کنارے پیدل چلتا ہوا کان ٹاگلو اور پھر کوپا کابانا پہنچ گیا۔ اس مٹر گشت میں پورا ایک گھنٹہ نکل گیا۔ گیارہ بج گئے ہیں۔ ساحل پر خوب رونق ہے، چاروں طرف بھیڑ ہے۔ جہاں تک نظر جاتی ہے سنہری ریت پر چاندی چمک رہی ہے۔ میں چپل اتار کر ننگے پیر ہی ریت پر چلنے لگا۔ پیر نم ریت میں کھب گئے ۔
آج شام ڈھل کر بھی شدید گرمی ہے۔ حبس سے سانس بند ہو رہی ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی بادل گھر آئیں گے اور شہر کو جل تھل کر دیں گے۔ میں لوگوں کے بیچ سے راستہ بناتا، اجنبی جسموں سے خود کو مسلتا ہوا آگے نکل گیا۔ اس دوران میری نظریں زمین پر ٹکی رہیں۔ ریت پر ہزاروں ننگے پیروں سے سامنا ہوا۔ موم بتیاں روشن ہیں، کشتیاں ہی کشتیاں اور پھول ہی پھول ہیں۔ میرے پاس بھی پھول ہیں۔ میں کہیں سے سفید رنگ کے چار گل یوہل اٹھا لایا ہوں۔
اس سے پہلے کہ ان پھولوں کو رسم کے مطابق پانی میں بہا دوں، سمندر کی جانب منہ موڑ کر کے بیٹھ گیا۔ میں نے آج سے پہلے کبھی ساحل پر اتنی رش نہیں دیکھی۔ میرے گرد ہزاروں لوگ جمع ہیں اور ان کے بیچ کس قدر تنہا ہوں۔ اس سے قبل کبھی اس طرح تنہائی کا شدید احساس نہیں ہوا۔ لیکن، خلوت پریشان نہیں کر رہی۔ میرا خیال ہے کہ یہ خوبصورت ہے مگر دل چاہتا ہے کہ اے کاش، یہ لوگ صرف ایک لمحے کے لیے چپ کر جائیں۔ اتنے خاموش ہو جائیں کہ گہرے سمندر کے ساحل پر سوائے سانسوں کے شور ، کچھ سنائی نہ دے۔ آتی جاتی لہروں میں لوگوں سانسوں کا زور ڈوب جائے اور آخر میں صرف سمندر کا شور باقی رہ جائے۔
ظاہر ہے، ایسا ہونا ناممکن ہے۔ میں اٹھ کھڑا ہوا اور آگے ہی آگے گہرے سمندر کی طرف چل پڑا۔ میں نے ہاتھ میں تھامے پھولوں کو ایک کے بعد دوسرا سمندر کے ترش پانی کے حوالے کر دیا۔ پہلے تین پھول مر جانے والوں کے نام، تا کہ وہ جان لیں کہ ہمیشہ میرے ساتھ، ہمراہ ہوتے ہیں۔ آخری پھول، تم سے منسوب ہے۔ میں نے دل پر پتھر رکھ کر اسے بھی سمندر میں بہا دیا۔
آدھی رات ڈھل چکی ہے۔ لوگ جتھے بنا کر ایک ہی جگہ پر جمع ہو رہے ہیں۔ شیمپین کے جام چل رہے ہیں۔ ہزاروں مرد اور عورتیں ہاتھوں میں ہاتھ تھام کر نئے سال کو خوش آمدید کہنے کی تیاریوں میں تھے۔ میں نے بھی اجنبیوں کے ایک گول چکر میں جگہ بنا لی۔ اس جتھے میں کبھی نہ جاتا مگر انہوں نے مجھے دور سمندر کے پاس اکیلا دیکھ کر بلا بھیجا تو مجھے آنا ہی پڑا۔ ہم نے مل کر الٹی گنتی گنی اور اچانک آسمان میں آتش بازی کی پھل جڑیاں پھوٹنے لگیں۔ ابھی آتش بازی کی چنگاریاں ٹھنڈی بھی نہیں پڑی تھیں کہ آسمان میں لوگوں کی دلچسپی ختم ہو گئی ۔ خود آسمان کا شوق ابھی جوان ہو رہا تھا۔ تھوڑی ہی دیر میں کالے بادل برس پڑے اور بارش کی بوندیں شراب، پسینے اور سمندر کی نمی میں گھل مل گئیں۔ میں اس بات کو کبھی سمجھ نہیں پاؤں گا۔ آخر کیسے، یہ لوگ نئے سال کی رات کسی شبہ کے بغیر ، ایک دوسرے کو یقین دلا دیتے ہیں کہ آنے والا سال، ان کی زندگیوں کا بہترین سال ثابت ہو گا؟
1770ء میں مارکس لوارڈو نے طویل مشاہدے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ریو کے باسی بے حد کاہل ہیں۔
یہاں کی ہوا لوگوں کے جوش و خروش ، پھرتی کو سونٹا لگا کر چپکے چپکے پی جاتی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے اتنی آہستگی سے بات کرتے ہیں کہ اچھی بھلی گفتگو پر سر گوشیوں کا گماں ہوتا ہے۔ ریو کے باسی لفظوں کے استعمال میں بھی سخت کفایت شعاری سے کام لیتے ہیں۔ بول چال میں اتنے کنجوس ہیں کہ ایک دوسرے کو سلام تک نہیں کرتے۔ بس میں داخل ہوں تو آگے نکلنے کی دھن میں، دھکم پیل پر ہر گز شرمندہ نہیں ہوتے۔ کسی کو دو لوگوں کے بیچ سے گزر نا پڑے تو اجازت طلب کیے بغیر بے دھڑک گھس جاتے ہیں۔ راہ چلتے ٹکرا جائیں تو معافی مانگنے کا رواج نہیں ہے۔ شکریہ ادا کرتے ہیں اور نہ ہی کسی سے تمیز روا رکھتے ہیں۔ مختصر کہو، ادب آداب کی ریت روا نہیں ہے۔ میں کافی عرصے بعد ریو آیا تو ایسے ملک سے واپس آ رہا تھا جہاں رشتے بھی لفظوں پر استوار کیے جاتے ہیں۔ مجھے گماں ہوا کہ شاید ریو کے لوگ یورپ کے مقابلے میں خاصے بد مزاج ہیں یا کہو، اب ہو چکے ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں تھا۔ پتہ چلا کہ نہیں، ریو کے لوگ لفظوں سے نہیں بلکہ جسموں سے باتیں کرتے ہیں۔ راہ چلتے ان کے جسم ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے رگڑ کھاتے ہیں، آڑھے ترچھے ہو کر گزرتے ہیں اور رش میں ایک دوسرے کو اس طرح چھو کر گزرتے ہیں کہ جیسے باتیں کرتے ہوں۔ میرے شہر کے لوگ تو لفظوں کی بجائے کاہل اور خواب آلود مگر لچک دار جسموں کی زبان استعمال کرتے ہیں۔ یونہی ایک دوسرے کا شکریہ ادا کرتے ہیں، اجازت طلب کرتے ہیں اور غلطی پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کے تو جسم بولتے ہیں۔ یہاں سب لمس کی بولی بولتے ہیں۔ ملاقات ہو تو صرف رسماً مصافحہ پر اکتفا نہیں کیا جاتا بلکہ گلے لگا کر استقبال کرتے ہیں۔ کوئی اس جسمانی زبان کا برا نہیں مناتا، پسینے میں تر ہوں تو ، کوئی برا نہیں سمجھتا۔ مجھے احساس ہوا کہ ان دونوں جگہوں میں یہی تو فرق ہے۔ مجھے یہ پتہ چلا کہ الفاظ ہمیشہ سچے نہیں ہوتے مگر جسم بہرحال کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔
اگلی صبح میں سویرے جاگ گیا۔ بستر پر دوسری جانب صرف خالی پن تھا۔ میرے لیے یہ انتہائی مشکل انتخاب بن چکا تھا۔ میں سانس لینے کو ہوا اور تھامنے کو ایک ہاتھ کے بیچ پھنس کر رہ گیا تھا۔
ریو کے باسیوں کے لیے خوشی کا ایک تصور یہ ہے کہ اداسی جسم کے مساموں سے سیپ کر نکل جاتی ہے۔
لفظوں کے کھیل میں مالیخولیا کا تعلق افسردگی اور ملال سے جڑتا ہے۔ اداسی یعنی سودا طبیعت میں بد مزاجی اور خلط کی وہ کیفیت ہے جب جسم میں سیاہ نمی کی بہتات ہو جاتی ہے۔ یہ بقراط کی دریافت کردہ باقی تین رطوبتوں یعنی خون، بلغم اور کرودھ سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ کہا جاتا تھا کہ اداسی کا تعلق کسی بھی شے سے نہیں ہے، یہ سراسر خیالی چیز ہے۔
ریو کے لوگ اداسی کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ وہ دکھ اور درد کے ساتھ زندگی گزارنا نہیں جانتے۔ کیا ہوا، جی اداس ہے؟ سمندر میں ڈبکیاں لگاؤ۔ غم ہے؟ ٹھنڈی بئیر کی بوتل اڑاؤ۔ ارے، رنج ہے؟ لاپا میں سامبا ڈانس کرو۔ ان کے نزدیک اداسی جیسی خیالی چیز کا یہی حل ہے کہ اسے موسیقی کے حوالے کر دو۔ لوگوں سے گھل مل جاؤ۔ غم کا علاج یہ ہے کہ اسے خوشی سے مار دو۔
یہی وجہ ہے کہ میں ریو سے چلا گیا تھا۔ اتنا عرصہ، کئی برس تک اس جگہ سے دور رہا۔ خوشی اور خوش رہنے کی پابندی میں تضاد سے بڑی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ ریو میں ہر وقت خوش رہنے کی ضرورت کے ساتھ زندہ رہنا اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ پیرس، لندن یا برلن کی فضا میں چھائی بے کیفی یا سرمئی آسمان کے ساتھ گزارہ کرنا ہو سکتا ہے۔ کسی بھی چیز کی زیادتی بالآخر اسے فرسودہ بنا دیتی ہے۔ ایسی چیز عام ہو کر بالکل بے وقعت ہو جاتی ہے۔ میرے ساتھ بعینہ یہی ہوا۔ ہر وقت خوش رہنے کی دھن اتنی بڑھی کہ بالآخر خوش رہنے کے قابل ہی نہ رہا۔
لیکن پھر مسئلہ یہ ہے کہ ریو میں کوئی کیسے افسردہ رہے، اداس ہو کر کیونکر بسر کرے؟ دل شکستوں کے سر جھکے ہوتے ہیں۔ یہاں قضیہ یہ ہے کہ سر جھکا کر کہیں بھی بیٹھ جائیں تو شہر میں دائیں طرف عظیم الشان، بلند پہاڑیاں جبکہ بائیں جانب ہرے بھرے وسیع میدان کا دلکش نظارہ پھیلا رہتا ہے۔ اس منظر میں اپنا اداس جی، گویا بے لباس نظر آتا ہے۔ سامنے دیکھیں تو، تا حد نگاہ وسیع سمندر پھیلا ہے۔ ایسے میں، جتنی بھی کوشش کر لیں داہنی آنکھ خود سری سے دور تک پھیلے قدرت کے دلکش مناظر کو دیکھنا چاہتی ہے جبکہ باہنی نظر سبزے کو ٹٹولتی رہتی ہے۔ ایسے میں جب اداسی چھائی ہو، یہی دھڑکا لگا رہتا ہے کہ اگر جھکا سر اٹھ گیا تو سامنے سمندر کے اس پار افق پر نظر پڑتے ہی مسکرانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔ یوں اس شہر میں کوئی بھی تا دیر اداس نہیں رہ سکتا۔
اس لیے ضروری ہے کہ شہر میں وہ جگہ تلاشیں جہاں کونے کھدرے میں بھی اداسی بھری ہو۔ کوئی ایسا مقام جہاں گھنٹوں سر جھکائے بیٹھے رہیں ۔ یہ ڈر نہ ہو کہ سر اٹھائیں گے تو ارد گرد دل نشیں مناظر ساری بے آسی چوس لیں گے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس شہر میں ایسی جگہیں کہاں پائی جاتی ہیں؟ کہیں بھی تو نہیں ہیں۔
ٹیلی فون کی لائن کے دوسری طرف ایک لرزتی ہوئی ڈانوا ڈول آواز ہکلاتے ہوئے مجھ سے پوچھتی ہے، 'کیا تم مجھے ایک شہر کے لیے چھوڑ رہے ہو؟'
میں کیا کروں؟ میں نے کبھی سوکھے پن میں زندہ رہنا نہیں سیکھا۔ میں بنجر زمین کا باسی نہیں ہوں۔ وہاں تو روز بروز جلد کھردری ہوتی جا رہی تھی۔ میں وقت سے پہلے بوڑھا ہو رہا تھا۔ لیکن اب ریو میں آہستہ آہستہ دوبارہ زندہ ہو رہا ہوں۔ اب میرا جسم دوبارہ سے جڑ رہا ہے۔ میں جی رہا ہوں۔ پسینے کے موتیوں جیسے قطرے گویا ٹانکوں کا کام کر رہے ہیں۔ ادھڑی ہوئی روح کو پھر سے سی رہے ہیں۔ ایسے میں، مجھے لگتا ہے کہ میں بچ جاؤں گا۔
ریو کے باسیوں کی خوشی بارے ایک انوکھا خیال یہ ہے کہ عورتیں بکنی اور مرد جانگیے پہن کر ساحل سمندر پر مٹر گشت کیا کریں، پانی میں لوٹنیاں لگائیں اور خوب اودھم مچائیں۔ اسی لیے زیادہ تر لوگ یہ بیہودہ لباس پہن کر گلی کوچوں میں بے پرواہ پھرتے رہتے ہیں۔ ریو میں راستوں پر آپ کو دو طرح کے لوگ ملیں گے۔ ایک طرف خوشی کے یہ متمنی ہیں جنہوں نے بکنی اور جانگیے پہن رکھے ہوتے ہیں جبکہ دوسری طرف سوٹ بوٹ میں ملبوس مرد اور عورتیں بکنی کے نیچے اونچی ہیل والی جوتیاں پہن کر پھرتی رہتی ہیں۔
ٹیلی فون پر میں تقریباً منت کرتا ہوں، 'خدا را، کچھ دیر کے لیے رک جاؤ۔ میرا انتظار کرو!'
جب غیر یقینی کی کیفیت طاری ہو تو عام طور پر میں اٹھ کر کھڑکی کے پاس دیر تک کھڑا ہو جاتا ہوں۔ ابھی کا حال یہ ہے کہ کورکا واڈو کے پہاڑ پر سفید دھند کی دبیز تہہ چھائی ہے۔ کھڑکی میں اس کے قدم اور چوٹی دو حصوں میں بٹی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ دھند میں نجات دہندہ مسیحا کا مجسمہ جیسے تیر رہا ہے۔ میں اس مجسمے کے ساتھ اکثر بات کرتا ہوں۔ مجھے اس سے گھنٹوں گفتگو کی عادت ہے۔ اس گھر میں کتنی ہی تنہا، تاریک راتیں ایسی گزری ہیں جن میں سوائے اس مسیحا کے میرا کوئی دوست نہیں تھا۔
یورپ میں میرے اندرونی اعضاء سوکھ رہے تھے، لاغر ہو کر تقریباً ناکارہ ہو چکے تھے۔ اب یہاں آہستہ آہستہ نم ہوا کی وجہ سے یہ دوبارہ جی رہے ہیں۔ ان میں زندگی دوڑنے لگی ہے۔ میں روز فلمینگو پارک میں کئی چکر کاٹتا ہوں اور اکثر اس بے مقصد مٹر گشت کے نتیجے میں خوشی کا بے پناہ احساس طاری ہو جاتا ہے۔
میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اگر کافی دیر تک سکوت جاری رہے تو بات کرنے، کوئی بھی بات کرنے کی ضرورت کو لازمی مت سمجھو۔ نہ جانے کیوں، اس بات پر ٹیلی فون کی دوسری جانب مجھے تم پر اپنی خود غرضی کا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ تمہارے لیے وقت ٹکی ہوئی کوئی چیز ہے۔ یہ ایک ایسا پتھر کا مجسمہ ہے جو ساکت ہے، ہر لحظہ موجود ہے۔ تم نے اسے یوں ٹھہرا رکھا ہے کہ جیسے یہ تمہارا نہیں بلکہ کسی اور کی چیز ہے۔ کسی ایسے کی جو اس میں ہلچل پیدا کرے ، تمہیں ہر وقت یہی انتظار رہتا ہے۔
ساحل سمندر ہمیشہ سے میری جائے پناہ رہا ہے۔ سمندر کی مثال میرے دوسرے گھر کی سی ہے۔ میں ایک گھر سے نکل کر دوسرے میں جا پہنچتا ہوں۔ جب میں بہت چھوٹا ہوا کرتا تھا، سمندر میں تیرنا بہت پسند تھا۔ میں اس میں ڈبکیاں لگاتا اور پانی میں سانس روکے بیٹھا رہتا۔ یہ اسی مشق کا نتیجہ ہے کہ میں بیرونی دنیا کو بھول گیا۔ مجھے لگتا کہ اگر میں دیر تک یوں ہی پانی میں سانس روکے بیٹھا رہوں تو کوئی جل پری مجھے اپنے نرم بازوؤں میں گھیر کر کسی رنگین دنیا میں لے جائے گی۔ جہاں سمندری پھول ہوں گے اور گہرے سمندر کی مخلوق، طرح طرح کے آفرینش ہوں گے۔ وہ ایسی جگہ ہو گی جہاں سانس لینے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں ہو گی۔ وقت کا کوئی تصور ہی نہ ہو گا۔
تب مجھے سمندر کے ساحل پر نم ریت پر گھنٹوں پڑے رہنے میں بھی بہت مزا آتا تھا۔ میں گیلی ریت پر لیٹا رہتا اور بہن میرے جسم کو گیلی ریت میں دفن کر دیتی۔ سوائے چہرے کے، پورا جسم ریت میں ڈوب جاتا۔ میں یوں ہی بے حس و حرکت پڑا رہتا۔ پھر کوئی لہر آتی اور کھارا پانی میرے جسم کو دھو کر، چومتا چاٹتا ہوا واپس سمندر میں مل جاتا۔
میں نے اب نیا اصول اپنا لیا ہے۔ کوپا کا بانا کے ساحل پر جو لہروں کی طرح سفید اور سیاہ پتھروں سے بنا بغلی راستہ ہے، اس پر صرف سیاہ پتھر پر ہی قدم رکھ کر چلتا ہوں۔ اگر کبھی بے دھیانی میں، سفید پتھر پر چلتا ہوا پایا جاؤں تو شرط یہ ہے کہ وہیں سے واپس ، پگڈنڈی کے پہلے سرے سے دوبارہ شروع کروں گا۔ ہر دفعہ جب دھیان جما کر اس راستے سے گزرتا ہوں تو اپنے حال میں زندہ رہتا ہوں۔ ٹھنڈی ہوا میری ٹانگوں کو چھوتی ہوئی، جسم میں نئی توانائی بھر دیتی ہے۔ ہر قدم پر ہمت از سر نو بڑھ جاتی ہے۔ لیکن، ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔ اکثر چلتے چلتے اچانک شرط کا خیال آتا ہے تو خود کو ماضی میں کھویا ہوا پایا جاتا ہوں۔ سیاہ کی بجائے سفید پتھروں پر چلتا ہوا دیکھتا ہوں اور پھر وہیں پہنچ جاتا ہوں جہاں سے شروعات کی تھی۔
اسی لیے اب فون کی گھنٹی بجتی ہے تو میں اسے بجنے دیتا ہوں۔ میں جواب ہی نہیں دیتا۔ آج میں نے بندھے ہوئے سوٹ کیس صحن سے اٹھا لیے ہیں۔ ان میں بھرا سامان سلیقے سے الماریوں میں منتقل کر دیا ہے۔
ریو میں خوشی کا ایک اور تصور بھی ہے ۔ وہ یہ کہ عریانی میں خوشی چھپی ہے۔ عورتیں عریاں لباس پہن کر نکلیں تو انہیں مسلسل توجہ ملتی ہے، وہ تعریف سمیٹتی رہتی ہیں۔ ان کے پاس سے گزرتے ہوئے اکثر مرد انہیں چھوٹے لباس میں دیکھ سیٹی بجاتے ہیں۔ کچھ تعریف کرتے ہیں اور کئی فحش گوئی سے بھی باز نہیں آتے۔ ریو کے مرد اور عورتیں، ان عادات کا بالکل برا نہیں مناتے۔ بجائے غصہ ہوں یا حقارت دکھائیں، ایک دوسرے کی طرف مسکراہٹ اچھال دیتے ہیں۔ یوں ہر کوئی خوش رہتا ہے۔
ریو میں سالانہ جشن کے تہوار، یعنی ' کارنوال' کی آمد آمد ہے۔ شہر بھر کو خوشی کا شدید دورہ پڑا ہوا معلوم ہوتا ہے ۔ چہار طرف بھر پور تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ سالگیرو کے ھال میں رنگ برنگے نغمے اور دھنیں ترتیب دی جا رہی ہیں۔ میں یہاں ایک دوست کا ساتھ دینے آیا ہوں۔ وہ نغموں کے مقابلے میں حصہ لے رہی ہے۔ اگر اس کی ترتیب دی ہوئی دھن کی جیت ہو گئی تو یہ اس برس جشن کا نغمہ قرار پائے گی۔ اس سماں میں، اس شہر کے مثال دیو سا کپڑے میں میرا وجود صرف سوت کے مہین ریشے کی ہے۔ میری ہی طرح سب لوگ، یعنی خون اور گوشت کے بے شمار ریشے مل کر ایک کمبل بن جاتے ہیں جس نے اس شہر کو ڈھانپ رکھا ہے۔ میرے ایک دوست کا کہنا ہے کہ اس شہر میں بسر کرتے ہوئے، یہ ممکن ہی نہیں کہ دوسروں سے لاتعلق رہو۔ کچھ بھی ہو، کوئی بھی آدمی بوسے سے باز نہیں آتا۔ ریو میں آپ تنہا نہیں رہ سکتے بلکہ سب لوگ ایک ساتھ سانس لیتے ہیں۔ ہر شخص اس شہر کے نظام کا ایک پرزہ ہے۔ میں نے اکثر لاتعلق رہنے کی کوشش کی ہے۔ کئی بار میں نے اس شہر کی اعلیٰ و ارفع ہوا سے، جسے اس شہر کا ہر باسی بے حد عزیز رکھتا ہے، جس کی بدولت خود کو دوسروں سے جوڑتا ہے، پھیپھڑوں میں بھرنے کی کوشش کی ہے مگر تقریباً ہمیشہ ہی یہ مشق بے سود ثابت ہوئی۔ میں جب بھی گہری سانس لے کر ہوا اپنے اندر بھرتا ہوں تو فوراً ہی ہول اٹھنے لگتے ہیں۔ مجھے یک دم بحر اوقیانوس کے اس پار یورپ کے شہروں کا خیال آنے لگتا ہے جہاں ہر چیز ترتیب کی متقاضی ہے اور ہر شخص اپنی ہی دھن، دنیا بسائے بیٹھا رہتا ہے۔ یہ سوچ کر ہی خوف و ہراس طاری ہو جاتا ہے۔ ایسے میں سانس رکتی ہوئی محسوس ہوتی ہے اور آکسیجن اتنی کم پڑ جاتی ہے کہ ذہن ماؤف ہو نے لگتا ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے ٹانگوں میں جان نکل جاتی ہے اور پھر جب جی نکلنے کے قریب ہو، سوائے اس کے کوئی حل نہیں رہا کہ میں اپنے جسم کو آزاد چھوڑ دوں۔ اس ہوا کے حوالے کر دوں جسے اس شہر کے لا تعداد لوگ اطمینان سے پھونک رہے ہیں۔ یہاں آپ علیحدہ، بٹ اور کٹ کر نہیں رہ سکتے۔ جلد یا بد دیر اپنا آپ اس شہر میں پائے جانے والی نامعلوم اور دیو ہیکل کشش کے حوالے کرنا پڑتا ہے۔ اپنے جسم کو دوسرے لوگوں کے جسموں کے ساتھ گھل ملانا پڑتا ہے، جسم کی زبان میں بات کرنی پڑتی ہے تا آنکہ آپ کو وہ جسم مل جائے جو آپ کے جسم اور روح کی چاہ ہے۔
میں گھر لوٹ کر آیا تو مجھے کوئی شرمندگی نہیں تھی۔ صرف یہ خیال کچوکے لگا رہا تھا کہ آخر مجھے اب شرمندگی کیوں نہیں ہوئی؟
ٹیلی فون پر تم نے بھی جانچ لیا اور کہا کہ میری آواز بدلی ہوئی ہے۔ میں نے حقیقت چھپا کر کہا، یہ نمی کا اثر ہے۔ سیلن کی وجہ سے آواز کھنکنے لگتی ہے۔
ریو کی ایک بات مجھے بہت ناپسند ہے۔ گرمیوں میں گندی نالیوں سے کاکروچ نکل آتے ہیں اور ہر جگہ دوڑتے پھرتے ہیں۔
یہ شام گئے، سات بجے کے بعد کا وقت ہو گا۔ میں ارپوڈار کی چٹان پر جو واحد بار ہے، اس میں بیٹھا برازیل کے مشہور کاپیرینا کے مشروب سے جی بہلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ حالانکہ شام ڈھلنے کے قریب تھی مگر گلیاں اور ساحل کی ریت ابھی تک گرمی سے تپ رہی تھیں۔ سورج چونکہ ڈوب رہا ہے، زمین پر زردی پھیل گئی تھی جبکہ سمندر شانت اور افق پر سرخی جم رہی تھی۔ آج بدھ کا دن ہے مگر پھر بھی ارپوڈار پر لوگوں کا خاصا رش لگا ہوا تھا۔ کچھ عرصہ قبل تک اسی چٹان پر کھڑے ہو کر ماہی گیر وہیل مچھلیوں کو ہارپون مار کر شکار کیا کرتے تھے۔ مگر اب یہ حال ہو گیا ہے کہ شاذ و نادر ہی کبھی کوئی وہیل مچھلی گہرے سمندر میں چھپکیاں لگاتے نظر آتی ہے۔ اکثر یہ ہوتا ہے کہ جب وہیل نظر آئے تو لوگ چٹان کے کنارے کھڑے، حیرت سے اسے یوں دیکھتے ہیں جیسے کوئی عجوبہ ہو۔ ارد گرد رش ہے اور لوگ خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔ فضا قہقہوں سے گونج رہی ہے۔ کئی سائیکل سوار نیچے چٹان کے پچھواڑے سے گزرتے راستے پر گھنٹیاں بجاتے گزر رہے ہیں اور بہت سے لوگ سیمنٹ کے بینچوں پر بیٹھے ناریل کے پانی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ ریو میں موسم گرما کی شامیں بس معمولی ہوتی ہیں۔ یہاں فرسودہ قصے مشہور ہیں مگر سب سچی باتیں ہیں۔ مثال کے طور پر ریو کے باسیوں کا ماننا ہے کہ زندگی جیسی سادہ چیز کو پیچیدہ بنانا انتہائی بے کار اور بے فائدہ عمل ہے۔ اسی طرح درد اور غم پالنا وقت کا ضیاع ہے ۔ ایک اور مثل یہ ہے کہ دلچسپی کا کوئی بھی سامان، بھلے روح سے خالی ہو۔۔۔ بہر حال مزاج کے لیے سود مند ہوتا ہے۔ یہ سب کتنی واہیات مگر سچی باتیں ہیں۔
جب سورج ڈوب گیا تو میرا مشروب بھی ختم ہو گیا۔ لوگ ڈوبتے ہوئے سورج کو دیکھنے کے لیے چٹان پر اس طرح جمع ہیں جیسے روز محشر کے لیے اکٹھے، فیصلے کا انتظار کرتے ہوں۔ جب جلتا ہوا زرد سورج دور گویا سمندر کے پانی میں ڈوب گیا تو سب نے خواہ مخواہ خوشی سے تالیاں پیٹیں اور سیٹیاں بجائیں۔ بعض شام کے دھندلکوں میں کھڑے دعا میں مشغول ہو گئے۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی؟ میں آج تک اس چٹان پر ہر روز اس تماشے کو احمقانہ سمجھتا آیا تھا۔ آج پہلی بار، اچانک دل میں دوسروں کے ساتھ مل کر سیٹی بجا کر تالیاں پیٹنے کی تمنا پیدا ہوئی۔ اس ہجوم میں مجھ سمیت ہر شخص بے نام تھا۔ میں بھی اسی احساس میں مستغرق، خوش تھا کہ چلو عرصے بعد ایک بار پھر دل میں کچھ امنگ، خوشی اور جوش و خروش کا احساس تو پیدا ہوا۔ جب یہ تماشا تمام ہوا تو لوگ بکھر گئے۔ میں نے بھی اپنے گھر کی راہ لی اور واپسی پر میں سوچتا رہا کہ شاید میرے ساتھ رہنے کے لیے تمہاری موجودگی کچھ اتنی ضروری بھی نہیں ہے۔
کئی دن گزر گئے۔ ٹیلی فون کی گھنٹی نہیں بجی۔ شاید تم اس جواب سے کنی کترا رہی ہو جو میرے لیے نہایت سادہ اور اب بہت آسان ہو چکا ہے۔ تمہارے لیے یہ سننا بہت دشوار ہو گا، تم جانتی ہو کہ اس جواب کو سہہ نہ پاؤ گی۔ ہاں، میں نے تمہیں ایک شہر کے بدلے چھوڑ دیا ہے!
ظاہر ہے، تم اس شہر کو جلا دینا چاہو گی۔ اسی لیے اگر ریو کے خاتمے کے لیے اگر کوئی شایان شان طریقہ ہو تو میں کہوں گا، گرمیوں کے موسم میں، اتوار کے دن سونامی آ جائے۔ ایپانما اور لب لون کے ساحلوں پر لوگ دیکھیں کہ کیسے سمندر پیچھے ہٹ کر کاگرس کے جزیروں تک سمٹ گیا ہے۔ کوپاکا بانا میں لوگوں کو نظر آئے کہ گوانا بارا کی خلیج نیٹوری تک سوکھ گئی ہے۔ سمندر یوں پیچھے ہٹے جیسے اپنی ہی کھال کھینچ رہا ہو۔ ساحل چند منٹوں کے لیے بیابان ہو جائیں، لہریں اپنا گھر چھوڑ جائیں۔ پھر بھر پور قوت سے سمندر لوٹ کر ایک بہت ہی بڑی موج کی صورت میں واپس آئے اور ساحل کو چیرتا ہوا شہر کو ڈبو دے۔ ہم سب پانی کی اس دیو سا موج میں بہہ جائیں اور پانی عمارتوں، جنگلوں، لوگوں اور جانوروں کو نمی سمیت نگل لے۔ شہر کے گلی کوچوں میں سمندر کا نمکین پانی بھر جائے۔ سیاہ اور سیلن زدہ کونوں میں بھی پانی بھر جائے۔ اس افتاد کے باوجود ممکن ہے کہ ریو کی پہاڑی چوٹیاں بچ جائیں۔ ارموس، کورکاواڈو، شوگر لوگ اور گاویا کی چوٹیاں پانی میں تیرتی ہوئی نظر آئیں گی۔
ریو کے باسیوں کا، مجھ جیسوں کا اتنا تو حق ہے کہ ہم جو اس محبت کی سیلن میں تر ہیں، آخری بار اس شہر کو وداعی نظروں سے دیکھ سکیں۔ ہم چاہیں گے کہ تصور میں ہی سہی، ریو ہماری آنکھوں کے سامنے سمندر میں غریق ہو جائے۔ یہ ابرک جیسا شہر، دھندلے پانیوں میں ڈوب جائے۔ یہ اس شہر کی شامت کا کیا خوب منظر ہو گا، تم رقابت سے ہمیں غرقاب دیکھو تو تباہی کا کتنا دلچسپ نظارہ ہو گا؟
مگر دیکھو، پھر کئی برس، صدیاں اور ہزاریاں گزر جائیں گی۔ سمندر پھیل کر ریو سے بہت آگے نکل جائے گا اور دور، بہت دور اسے ریت کا اتنا ذخیرہ مل ہی جائے گا، جس پر ٹیک لگا کر یہ ساحل کی لہروں میں جھاگ اڑاتا، آرام کرتا رہے گا۔ تب ریو کہاں ہو گا؟ تب ریو ایک عظیم الشان شہر کا آثا ہوا کرے گا۔ سمندر کی گہرائیوں میں گمشدہ شہر ہو گا، جہاں طرح طرح کی مچھلیوں اور موتی مونگوں کا مسکن رہا کرے گا۔
یہ تم ہو یا ریو ہو، محبت کب مرتی ہے؟ سیلن آخر کہاں سوکھتی ہے۔

(ماخوذ، 20 نومبر 2016ء)
یہ تحریر صلہ عمر پر جاری سلسلے "ماخوذ کہانیاں" کا حصہ ہے۔ اس سلسلے کی تمام تحاریر کی فہرست یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر