آخری رسم

کابل مٹی میں مل گیا مگر لوگ پھر بھی جینے سے باز نہیں آئے۔ ابھی چند ماہ قبل ہی طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا اور تب سے شہر میں بے چینی اور افراتفری چلی آ رہی تھی۔ مضافات میں تو ابھی تک یورش چل رہی تھی۔ روزانہ لاشیں گرتیں اور پہاڑ بی باون طیاروں کی بمباری سے لرزتے رہتے۔ اس کے باوجود زندگی چلتی رہی۔
شہر کی حدود میں واقع ایک بستی میں ڈھول دھمکا لگا ہوا ہے۔ سلطان پشتونوں کے اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے جو نسبتاً آزاد خیال واقع ہوتے ہیں۔ اس نسل کا المیہ یہ ہے کہ بہتیری کوشش کر لیں، پھر بھی خود سے چھٹکارا نہیں مل پاتا۔ دین دھرم تو ظاہر ہے، پشتونوں کے سر کا تاج ہوتا ہے مگر رواج پھر بھی اپنے لیے راہ نکال لاتا ہے۔ سلطان نے روس کے آزاد ماحول میں انجنئیرنگ کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ڈگری لے کر واپس آیا تو افغانستان میں تخریب کا دور چل رہا تھا۔ چونکہ تعمیر کا سرے سے کوئی سوال ہی نہیں تھا اس لیے ہنر بے کار ہو گیا۔ پشاور گیا تو جلو زئی کیمپ میں مہاجر قرار پایا۔ مہاجروں کو نوکریاں نہیں ملتی تھیں، نہ ہی وہ اپنے نام پر کاروبار کر سکتے تھے۔ اس لیے واپس کابل چلا گیا کہ چلو، نام تو سلطان ہی رہے۔ مہاجر کیوں کہلوائے؟ اب یہیں اس کی بسر تھی۔ جیسے تخریب میں تعمیر کا ہنر سیکھا ویسے ہی اب روزگار بھی انوکھا ڈھونڈ ا۔ اندھوں کی بستی میں چراغ اٹھا لایا اور کتابوں کی دکان کھول لی۔ اس کی سادگی دیکھو، جب لوگوں کو جان کی پڑی ہو، آخر کوئی کتابیں کیوں پڑھے گا؟ چہ معنی؟ لیکن چونکہ کابل میں یہ واحد کتب خانہ تھا، اس کی اچھی دکان چل گئی۔ اب اچھی گزر بسر ہو رہی تھی، بلکہ طالبان کے بعد تو اس کا کاروبار خوب چل نکلا تھا۔ اتحادیوں کے ساتھ مغربی آئے تھے، انہیں پڑھنے کا چسکا تھا۔ وہ مطالعے کی عیاشی کے بغیر نہیں رہ سکتے تھے۔ سو چل سو چل، اب یہ مہینے ڈیڑھ بعد پشاور جاتا، ڈھیر ساری کتابیں لے آتا اور وہ ہاتھوں ہاتھ بک جاتیں۔ پچھلے چند ماہ سے اس کی اچھی چاندی ہو گئی تھی۔ شہر میں اب اس کی تین دکانیں تھیں اور دو بڑے گودام تھے۔
آج اس کی بہن شینا مائیوں بیٹھی تھی۔ گھر میں خوب رونق کا منظر ہے۔ کئی عورتیں جمع ہیں۔ فرش پر بھی دریاں بچھا کر ان کا قبضہ ہے۔ کچھ بیٹھی بلبلاتے اور شور مچاتے بچوں کو چاول کھلا رہی ہیں۔ ڈھولک بج رہی ہے اور دو ایک ناچ کر دل بہلا رہی ہیں۔ جو باقی ہیں وہ اس بے ڈھب ناچ کو دیکھنے میں مصروف ہیں یا ہر گزرے لمحے کے ساتھ بلند ہوتے شور میں ایک دوسرے کے کان میں گھسی کھسرپھسر کر رہی ہیں۔ شور بڑھتا ہی جا رہا ہے، گھٹ ہی نہیں رہا۔ آج رات دلہا اور دلہن کے ہاتھوں اور پیروں میں مہندی لگائی جائے گی۔ رنگ چڑھے گا اور مشہور ہے کہ جتنی گہری مہندی کا رنگ نکلا، بیاہی جانے والی کے نصیب اچھے ہوں گے۔ ہاتھ پیروں پر یہ ہلکے مگر نظر میں گہرے نارنجی رنگ کے داغ،جتنی دیر جمائےرکھو، بہر حال دو چار دن میں پھر بھی مٹ ہی جائیں گے۔ رنگ جس قدر گہرا نکلا، شادی کے بعد جوڑے کی زندگی اتنی ہی خوش باش ہوا کرے گی۔ اللہ جانے۔۔۔
کہنے کو تو یہ شینا اور وکیل کی شادی ہے۔ مگر مائیوں کی رات میں دلہا اور دلہن اکٹھے نظر نہیں آ ئیں گے۔ جیسے عورتیں گھر کے اندر جمع ہیں، مردوں کی محفل علیحدہ، پڑوس ایک گھر کے حجرے میں سجی ہے۔ اس گھر میں آج مردوں کا گزر نہیں ہے، باہر ہی رات بسر کریں گے۔ اندر چونکہ صرف عورتیں ہیں تو ان کا کھلا راج ہے۔ ویسے تو چپ چاپ رہتی ہیں۔ گھروں میں دبکی ہوئی جیسے موت کی طرح خاموش ہوتی ہیں۔ مگر ابھی دیکھو تو قہقہے لگ رہے ہیں۔ اتنا اونچا بول رہی ہیں جیسے اس چار دیواری کے اندر، ہر عورت ملکہ ہو اور باقی ساری اس کی رعایا جو اونچا سنتی ہو۔ انہیں کبھی کبھار ہی تو ایسا موقع ملتا ہے چنانچہ کھل کر کھیل رہی ہیں۔ ان عورتوں کو دیکھ کر لگتا ہی نہیں کہ یہ کابل کی عورتیں ہیں۔ ان میں تو جیسے کوئی وحشی اتر آیا ہے۔ سچ پوچھو تو ان سے خوف آتا ہے، جیسے کوئی جنونی ہوں۔ شور و غل کا سماں ہے، ایسے میں یہ ایک دوسرے کے ساتھ اٹھکیلیاں بھی کر رہی ہیں۔ جوان لڑکیاں وہاں کونے میں الگ محفل جمائے، جانے ایک دوسرے کو کیا رام کہانیاں سنا رہی ہیں؟ وہاں کبھی کبھار قہقہہ بلند ہو جاتا ہے تو کوئی ایک لڑکی جھینپتی، شرماتی ہوئی نظر آتی ہے۔ جیسے اس پر کوئی چوٹ لگائی ہو۔ ان لڑکیوں کی مائیں بھی آج عرصے بعد پہلی بار ان سے بے نیاز ہیں۔ مجال ہے کہ کسی ایک لڑکی کی ماں نے اسے یوں بتیسی نکال کر ہنسنے پر ٹوکا ہو؟ بلکہ انہوں نے تو موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی علیحدہ مجلس لگا رکھی ہے۔ اچانک ایک پکی عمر کی عورت کھڑے ہو کر سب کو تحکمانہ انداز میں اپنے گرد جمع ہونے کو کہتی ہے۔ جوان لڑکیاں فٹ سے فرش پر بچھائی دری پر دائرے کی شکل میں چوکڑی مار کر بیٹھ جاتی ہیں۔ درمیان میں ڈھول دھرا ہوا ہے۔ ایک بجاتی ہے، دوسری چمچ سے ڈھول کی کھوکھلی لکڑی ٹکور کر سر پیدا کرتی ہے۔ کئی عورتیں ایک ساتھ، ان جوان لڑکیوں کے گرد گول چکر میں تھاپ پر ناچنے لگتی ہیں۔ ناچنے والیوں کی بانہیں ہوا میں یوں لہرا رہی ہیں جیسے ناگن ہوں۔ عرب بیلی ڈانسروں کی طرح کولہےمٹکائے جا رہے ہیں۔ نوجوان لڑکیاں، جنہیں عام دنوں میں آنکھ اٹھانے کی جرات نہیں ہوتی، آج یوں کھل رہی ہیں جیسے وہ پیدا ہی اس مقصد کے لیے ہوئی ہیں۔ یعنی رقص دکھا کر دوسروں کا ایمان غارت کر دیں۔ لہک کر، کمر مٹکاتی، کبھی فرش پر گھوم کر بیٹھ جاتیں اور پھر، پھرتی سے یوں اٹھ کر ایک دم یوں گھوم کر پھر کھڑی ناچنے لگتیں جیسے موم کی بنی ہوں۔ اداؤں کا مقابلہ چل رہا ہے۔ چہروں پر اتنی خوشی ہے کہ آنکھوں کی ابروئیں بھی ناچ رہی ہیں۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ لڑکیاں ، ان کی مائیں اور دوسری عورتیں تو رہیں ایک طرف، بوڑھی دادیاں اور نانیاں بھی میدان میں اتر آئیں۔ اگرچہ وہ دیر تک رقص میں ٹھہر تو نہیں سکیں، مگر پھر بھی جب تک سانس اکھڑ نہ گئی، ہاتھ نچاتی رہیں۔ انہیں دیکھ کر پرانے زمانے نظر آتے ہیں، ان کے انداز میں شرارت ہے مگر ہائے، وائے اب اتنا دم کہاں کہ دیر تک ٹکا کرتیں؟
شینا اس بڑے کمرے میں، جہاں عورتیں جمع ہیں، سامنے والی دیوار سے لگے صوفے پر سر جھکائے بیٹھی ہے۔ ہال نما کمرے میں بس یہی فرنیچر ہے، جو صرف اس کے لیے یہاں بچھا رکھا ہے۔ باقی دریاں ہیں جن پر عورتوں نے اودھم مچا رکھا ہے۔ انہیں ہنستے، کھل کر بولتے، رقصاں اور سیٹیاں بجاتے دیکھ کر عجیب سی حیرانی ہوتی ہے کہ، ہائیں۔۔۔ یہ سیٹی بھی بجا سکتی ہیں؟ آج رات شینا کے سوا باقی ساری عورتیں، جو چاہیں، کر سکتی ہیں۔ اس کا فی الحال تو یہی کام ہے کہ چپ چاپ دور بیٹھ کر انہیں صرف دیکھا کرے۔ ناچنا تو دور کی بات، شینا کو مسکرانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اگر خوش نظر آئی تو وہ ماں جس کا گھر کل چھوڑ جائے گی، اسے تکلیف ہوتی۔ اپنی ماں کو چھوڑ کر جانے کا سوچے تو غمگین بھی نہیں ہو سکتی کہ بھئی، ساس کیا سوچے گی؟ آخر کرے تو کیا کرے؟ بہتر یہی ہے کہ محتاط رہے۔ ویسے بھی، دلہن کے چہرے مہرے سے ہر طرح لاتعلقی جھلکنی چاہیے۔ نہ ادھر کی اور نہ ہی ادھر کی نظر آئے۔ بلکہ آنکھیں گھما کر یہاں وہاں دیکھنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ آگے کی طرف ، ناک کی سیدھ میں سامنے دیکھتی رہے۔ شینا کچھ اس طرح سمٹ کر، رنگوں میں گھل کر بیٹھی ہے کہ جیسے ساری عمر اسی رات کی تیاری کرتی آئی ہو۔ سیدھی تن کر، ملکہ کی طرح بن ٹھن کر بیٹھی رہتی ہے اور صوفے پر کوئی بھی عورت آ کر ساتھ بیٹھ جائے، اس کی طرف مونہہ موڑے بغیر، سر گوشیوں میں باتیں کرے گی۔ عورتیں بھی بس کچھ دیر اس کے پاس بیٹھتیں کہ یہی رواج تھا۔ کوئی سوال پوچھے تو صرف لب ہلتے ہیں۔ چہرا مہرہ، سر، ناک اور آنکھیں ساکت، ایک ہی سمت میں سامنے ٹکی ہیں۔
مائیوں کا جوڑا رنگ برنگ ہے۔ اس میں سرخ، ہرے، سیاہ اور سنہری شیڈ ہیں۔ جیسے افغانستان کا جھنڈا سنہری اور چمکیلی زر ریشے میں جھاڑ کر اس کے گرد لپیٹ دیا ہو۔ شاید کپڑوں کا ناپ ایسا ہے کہ پتلے دوپٹے تلے چھاتیاں اس طرح ابھری ہوئی نظر آ رہی ہیں جیسے پربت کی دو چوٹیاں ہوں۔ چولی کی انگیا جو اس نے دکان پر ایک ہی نظر کے ماپ سےخریدی تھی، اچھی طرح فٹ بیٹھ گئی تھی۔ کمر کا ناپ بھی سختی سے پورا تھا اور رنگ برنگے کپڑوں تلےکولہوں کی گولائی صاف واضح تھی۔ یہ خوب بن ٹھن کر بیٹھی ہے۔ چہرے پر میک اپ کی بھاری تہہ تھونپی ہے اور آنکھیں سرمہ لگا کر موٹی کر دی گئی ہیں۔ تیز سرخ رنگ کی لپ اسٹک سے ہونٹ جیسے سوج گئے ہوں۔ یعنی شینا کا ظاہری خدو خال خوب تر بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک دلہن کو ایسا ہی نظر آنا چاہیے، وہ کوئی مصنوعی گڑیا ہو۔ کابل کی فارسی اور پشتو میں گندھی ہوئی شہر ی زبان میں گڑیا اور دلہن کے لیے ایک ہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا، دونوں کو ہی عروس کہا جاتا ہے۔
شام گہری ہوئی تو طنبورے اور ڈھول کی تھاپ کے ساتھ کئی لالٹین اٹھائے، عورتوں کا دوسرا جلوس آن پہنچا۔ یہ عورتیں وکیل، یعنی لڑکے والے کے یہاں سے آئی ہیں۔ دلہے کی بہنیں، بھاوجیں، بیٹیاں اور دوسری ہیں جو مل کر کورس میں لوک گیت گا رہی ہیں، تالیاں بجاتی اور رقص کرتی جا رہی ہیں۔
ان عورتوں نے تو بازی لوٹ لی۔ خاصا شہوانی ناچ پیش کیا اور جسم لچکائے۔ شال اور سکارف پہنے ہوئے بھی لڑکیاں دیکھنے والوں میں ہیجان پیدا کر رہی ہیں۔ اتنا شور و غل اور اودھم مچا کہ ہال نما کمرے میں چاروں طرف پسینے کی بو پھیل گئی اور فضا میں نمی صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ اگرچہ کھڑکیاں چوپٹ کھلی ہیں اور پردے ہلکی ہوا سے اڑتے ہیں ۔مگر مجال ہے کہ بہار کے موسم کی تازہ ہوا ان جنونیوں کو ٹھنڈا کر سکے؟ ان عورتیں کو دیکھو تو، آج رات ان کا دھیما پن نجانے کہاں چلا گیا ہے؟
ناچ گانا اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ کھانا نہیں آ گیا۔ پلاؤ سے لبالب بھری پراتیں اسی ہال نما کمرے میں لا کر فرش پر دھری جانے لگیں۔ جو جہاں کھڑا تھا، وہیں دری پر بیٹھ گیا۔ صرف بڑی بوڑھیوں کے لیے دیوار کے ساتھ تکیے لگا کر جگہ بنا دی گئی ہے تا کہ اطمینان سے کھانا کھا سکیں۔ شینا کی چھوٹی بہن لیلٰی اور دوسری لڑکیاں کھانا برت رہی تھیں۔ یہ کھانا گھر سے باہر خالی پلاٹ میں شام سے پہلے ہی اینٹ اور پتھروں سے بنائے لکڑی کے بالن سے جلنے والے چولہوں پر بڑی دیگوں میں پکانا شروع کر دیا گیا تھا۔ پراتوں میں پلاؤ، دنبے کے گوشت کے بڑے پارچے، بھنے ہوئے بینگن اور مسالے دہی میں ملا کر دہی، کُوٹی ہوئی پالک کا شوربہ اور آلو، شملہ مرچ اور لہسن سے تیار کردہ خشک سالن۔۔۔سب کچھ فرش پر ہی رکھ دیا گیا۔ عورتیں باری باری خود ہی اپنے لیے کھانا نکال کر لے جانے لگیں۔ بے ڈھنگ بیٹھی ہوئی، دائیں ہاتھ سے چاولوں کے بڑے نوالے بنا، سیر ہو کر کھاتی رہیں۔ گوشت کے پارچوں کو چیر پھاڑ کر اور شوربے کو بازو جتنے لمبے نان کے ٹکڑوں سے پونچھ کر، دائیں ہاتھ سے ہی کھایا جا رہا ہے۔ بایاں ہاتھ، جسے مکروہ سمجھا جاتا ہے، اس دوران بے کار رہا۔ ہال نما کمرے میں سوائے عورتوں کے کوئی نہیں اور اب ان کے کھانا کھاتے ہوئے چپ چپ کرتے مونہوں کے سوا کچھ سنائی نہیں دے رہا۔ سب کی توجہ تسلی سے کھانے پر مرکوز ہے۔ خاموشی اس وقت ٹوٹی جب تقریباً سب نے سیر ہو کر کھانا کھا لیا اور اب وہ ایک دوسرے کو مزید کھانے پر زور دے رہی ہیں۔ یہ مہمان نوازی کا تقاضا ہے کہ ایک دوسرے کو پوچھیں، انہیں اچھا کھانا پیش کریں اور مزید کی دعوت دیں۔ شینا صوفے پر بت بنے بیٹھی رہی۔
جب یہ ہو چکا، یعنی سب شکم سیر ہو کر لذیز کھانے سے ٹھساٹھس ہو گئیں تو مہندی لگانے کی رسم شروع ہوئی۔ رات کافی گزر چکی ہے، اب کسی میں ہلنے اور ناچنے کی ہمت نہیں ہے۔ بعض عورتیں وہیں دری پر تھک کر سو گئیں۔ کچھ اونگھتے ہوئے بچوں کو اٹھائے، جہاں تھیں، وہیں پڑی ہیں۔ وکیل کے گھر سے آنے والیوں کے پاس انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ وہ مہندی کی رسم دیکھ رہی ہیں۔ وکیل کی بہنیں سبز مہندی کی گندھی لئی باری باریشینا کے ہاتھوں اور پیروں پر ملتی جاتی ہیں۔ صوفے کے پیروں میں فرش پر لڑکیاں ڈھولک کی ہلکی تھاپ پر بے سری مگر دھیمی آوازوں میں مہندی کے گانے گائے جا رہی ہیں۔ جب شینا کے دونوں ہاتھ بھر گئے تو اس نے مٹھیاں بھینچ دیں۔ اس کے ہونے والی نند احتیاط کے ساتھ مٹھی کے ارد گرد، ہاتھ کے خالی کونے کھدروں میں بھی مہندی کا لیپ کر لیتی ہے، پھر دونوں مٹھیوں کو کپڑے میں لپیٹ کر باندھ دیا گیا تا کہ خود شینا کے کپڑے اور بستر کی چادریں وغیرہ گندی نہ ہو سکیں۔ لڑکے والیاں واپس لوٹ گئیں۔ اس سے آگے لیلیٰ کا کام ہے۔ وہ شینا کو دوسرے کمرے میں لے جاتی ہے اور اس کو بھاری بھر کم، کڑھائی کیے ہوئے کپڑے بدلنے میں مدد کرتی ہے۔ یہ دونوں واپس آئیں تو شینا نے کاٹن کی سفید شلوار اور رنگین قمیص پہن رکھی ہے جو اس کے گھٹنوں سے بھی نیچے لٹک رہی ہے۔ مگر یہ ہر گز ڈھیلی نہیں، کمر بدستور چست اور کسی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ لڑکیاں دوڑ کر آگے بڑھتی ہیں اور احتیاط اور آہستگی کے ساتھ، سہارا دے کر شینا کو پکڑ کر یوں لاتی ہیں جیسے وہ خود چلنے سے قاصر ہو۔ اسے لا کر کمرے کے وسط میں لگائے گاؤ تکیہ پر تقریباً لٹا، ٹانگیں پسار کر بٹھا دیا گیا ہے۔ اب اس کے لیے کھانا لایا گیا۔ لڑکیاں اپنے ہاتھ سے اسے گوشت، بھنی ہوئی کلیجی، پلاؤ اور پیاز کھلاتی ہیں۔ یہ بھی ایک رسم ہے۔ شینا کے لیے یہ کھانا دیگ میں نہیں بلکہ اس کی سگی بہنوں نے خود اپنے ہاتھ سے، پورے اہتمام کے ساتھ گھر کے اندر، باورچی خانے میں پکایا ہے۔
گل بی بی ہر چیز پر نگاہ رکھے ہوئے ہے۔ شام سے ماں کا بس یہی کام ہے۔ کیا شینا تیار ہو گئی؟ اس نے میک اپ کرا لیا؟ وہ گڑیا کی طرح لگ رہی ہے؟ عورتیں کہاں ہیں؟ کون آیا ہے؟ کون نہیں آیا؟ کون کہاں رہ گیا؟ کمرے میں دریاں کافی ہیں؟ صوفہ کہاں ہے؟ وکیل کے گھر والیوں کو استقبال اچھے سے ہو گیا؟ انہیں پانی وغیرہ پلایا؟ چائے کا پوچھا؟ ارے، روشنی کا بندوبست کرو۔ کیا سب نے شکم سیر ہو کر کھانا کھا لیا؟ کھانا کم تو نہیں ہوا؟ مہندی اچھے سے لگا لی؟ وکیل کے گھر کی عورتوں کی خاطر مدارت میں کوئی کمی تو نہیں آئی؟ یہ لو، شینا اور لیلیٰ دوسرے کمرے میں اتنی دیر سے کیا پکا رہی ہیں؟ گل بی بی اب لڑکیوں کے حلقے سے دور بیٹھے ٹک دیکھ رہی ہے۔ شینا کی بہنیں اپنے ہاتھ سے اس کے منہ میں نوالے ڈالے جا رہی ہیں۔ یہ دیکھ کر دن بھر میں پہلی بار نہ جانے کیا ہوا، گل بی بی پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ اس کا رونا تھا، باقی بیٹیاں بھی پھس پھس رونے لگیں۔ شینا تو جیسے اسی لمحے کا انتظار کر رہی تھی، وہ ہر ایک کے ساتھ گلے لگ کر رو رہی ہے۔ باقی عورتیں ماں بیٹیوں کو تسلی دیتی ہیں۔ گل بی بی کو یقین دلاتی ہیں کہ شینا کو وکیل کے یہاں اچھے سے بسر کرنے کو ملے گی، اس کا بھر پور خیال رکھا جائے گا۔
شینا کھانا کھا چکی تو رونے دھوتے ہوئے، گل بی بی بھی لڑکیوں کے بیچ آن بیٹھی گئی۔ شینا سمٹ کر ماں سے لگ گئی ہے۔ کچھ ہی دیر میں یہ جیسے کسی نومولود بچے کی طرح گول ہو کر گل بی بی سے لپٹ کر لیٹ گئی۔ شینا نے اپنی پوری زندگی میں ایک رات بھی ایسی نہیں گزاری، جب کمرے میں اس کی ماں نہ ہو۔ میکے میں، اپنی ماں کے ساتھ یہ اس کی آخری رات تھی۔ اگلی رات اس کے شوہر کے نام تھی۔
وہ یوں ہی گل بی بی کے زانوں سے لپٹی فرش پر دری پر بچھائی ہوئی تلائی پر ہی سو گئی۔ چند گھنٹوں بعد اسے لیلیٰ نے جگایا تو ماں کمرے میں نہیں تھی۔ اس نے مٹھیوں پر لپٹا کپڑا اتار دیا۔ خشک مہندی کو رگڑ کر اتار پھینکا اور اب اس کی ہتھیلیاں اور پیروں کے تلوے نارنجی رنگ میں رنگے، ان پر گہرے نقش بنے ہوئے تھے۔ شینا نے خاصا وقت لگا کر گزشتہ رات سے پہنا ہوا میک اپ اتار دیا۔ مصنوعی گڑیا کے اندر سے شینا نکل آئی تو اس کے لیے ناشتہ بھی آ گیا۔ بھنا گوشت، نان، میٹھا اور تلخ چائے کا بھرا ہوا پیالہ، یہ سب اس نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ رات تو تاڑتی عورتوں اور شرم کے مارے، رونے دھونے میں وہ تسلی سے کھا بھی نہیں پائی تھی۔
نو بجتے ہی وہ دلہن بننے کے لیے تیار تھی۔ چہرے پر پھر لیپا پوتی ہو گی۔ بال بنائے جائیں گے۔ نیا جوڑا پہنے گی اور بن سنور کر بیاہی جائے گی۔ شینا، اس کی چھوٹی بہن لیلیٰ اور نئی نویلی بھاوج سونیا پڑوس میں ہی ایک گھر کے کمرے میں گھس گئیں۔ یہ اصل میں اس گھر کی بیٹھک ہے جہاں بیوٹی پارلر بنا دیا گیا ہے۔ یہ سیلون یہاں کافی عرصے سے چل رہا ہے۔ یہاں تک کہ پابندی کے باوجود طالبان کی حکومت میں بھی چلتا رہا۔ گو اس وقت اس طرح کے کاروبار غیر قانونی تھے ،مگر لڑکیوں کو تو بننا سنورنا تھا۔ ظاہر ہے، ان کے ارمان ہوتے ہیں۔ وہ سجنا اور سنورنا چاہتی ہیں۔ دلہن اب سجے بغیر بھلا کیسی دلہن؟ عروس کیونکر بنے؟ اس شوق کو کون روک سکتا تھا؟ سو یہ کام چوری چھپے بھی جاری رہا۔ لڑکیاں ہر حال میں ارمان پورے کرتی رہیں ۔ ان کے اس شوق میں پشتونوں کی ایک دوسری ڈگری ہی کام آئی۔ وہ یوں کہ لڑکیاں سر تا پا برقع پہن کر آتیں۔ غیر قانونی بیوٹی پارلر میں سجتی سنورتیں اور نیا روپ نکال،برقعہ پہن کر ویسے ہی واپس نکل جاتیں۔
یہ ایک معمولی سی بیٹھک ہے ۔ سامنے دیوار پر ضرورت سے بڑا آئینہ نصب ہے۔ لکڑی کا ایک سٹول پڑا ہے اور شیلف بھی ہے۔ شیلف میں کئی بوتلیں اور مختلف قسموں کی کریم کی ٹیوب بھری ہوئی ہیں۔ ان میں بعض تو صاف صاف جیسے کئی دہائیاں پرانی ہوں۔ بعض ٹیوبیں پچکی ہوئی ہیں۔ پشت کی دیوار پر بھارتی اداکاراؤں کے کئی پوسٹر چسپاں ہیں جن میں یہ ناریاں میک اپ اور زیور سے لدی پھندی نظر آ رہی ہیں۔ یہ حسینائیں تصویروں میں مختصر کپڑے پہنے آئینے میں شینا کی طرف خوش کن انداز میں، مخمور مسکراہٹیں بکھیر رہی ہیں اور یہ چپ چاپ سٹول پر جم کر بیٹھی ہوئی سوچوں میں گم ہے۔
شینا کو خوب صورت تو کہا جا سکتا ہے مگر اس کے نین نقش معمولی ہیں۔ جلد کھردری اور پپوٹوں پر جیسے سوجن ہو۔ چہرہ بڑا اور نین نقش کھلے ڈلے، مضبوط ہیں۔ ناک اونچی، قدرے لمبی مگر جبڑا چوڑا ، چہرے کے نین نقش عام سے ضرور تھے مگر اس کا اصل حسن دانتوں، چمکتے اور لانبے بالوں اور بے پناہ شوخی میں سمو گیاتھا۔ وہ پوسٹر کی اداکاراؤں کی طرح پوری کھری تو نہیں تھی مگر بہر حال کچھ نہ کچھ بات تو ضرور تھی۔ یہی وجہ تھی کہ گل بی بی کی ساری بیٹیوں میں شینا کے کئی رشتے آئے تھے مگر بات وکیل کے ساتھ بنی تھی۔ کیوں نہ بنتی، وکیل کے پاس پیسے کی ریل پیل جو تھی۔
'پتہ نہیں کیوں، تم مجھے بہت پسند ہو' وکیل نے شینا کی پھوپھی کے یہاں دعوت میں اکیلا پا کراس سے کہا تھا۔ 'حالانکہ تم خوبصورت بھی نہیں ہو' چونکہ وہ نہایت لبھائے ہوئے انداز میں انتہائی پیار سے بولے جا رہا تھا، شینا نے اس بات کو تب ستائش ہی سمجھا۔
لیکن اب وہ اس بارے تذبذب کا شکار تھی۔ پیچھے سے جھانکتی ہوئی بھارتی فلموں کی خوبصورت اداکارائیں ، اپنے چہرے کے معمولی نین نقش اور وکیل کی کہی وہ بات رہ رہ کر یاد آ رہی تھی۔ جو اس کی شوخی اور دھن تھی، وہ تو ویسے بھی ساری کی ساری ہوا ہو چکی تھی۔ جس طرح کی وہ کھلنڈری اور چنچل ہوا کرتی تھی، کئی دنوں سے اس کا یہ روپ گم گیا تھا۔ ظاہر ہے شادی بچوں کا کھیل تو نہیں ہوتا۔ یہ تماشا اور ڈھونگ تو نہیں ہے؟
یہ اپنی سوچوں میں گم تھی اور بیوٹیشن نے سب سے پہلے بالوں کی کئی لٹیں نکال کر لکڑی کے گھونگروں پر لپیٹ دیا تا کہ زلفوں میں بل آجاویں۔ پھر گھنی بھنوؤں کی باری آئی جو آنکھوں کے اوپر پھیلی ہوئی جھالر لگ رہی تھیں۔ اس سے پہلے کبھی ان کو ہاتھ بھی نہیں لگایا گیا، اسی وجہ سے یہ اتنی گھنی ہو گئیں کہ آنکھوں کے بیچ ناک پر آن مل چکی تھیں۔ انہیں کھسوٹ کر چٹکا جائے گا تا کہ ابرو پتلی لکیر بن جائیں۔ یہ بیاہی ہوئی لڑکیوں کی نشانی تھی۔ غیر شادی شدہ لڑکیاں یوں بھنویں نہیں چٹکا سکتی تھیں۔ ایسا کرتیں تو برا سمجھا جاتا تھا۔ بلکہ مولویانی تو یہاں تک کہتی ہے کہ غیر شادی شدہ لڑکیوں کے لیے یہ فعل حرام ہے۔ بھلا یہ لڑکیاں کیوں اور آخر کس کے لیے سج سنوریں؟ توبہ توبہ۔۔۔ یہ تو حرام کاری ہی ہو سکتی ہے۔ بہر حال، جیسے ہی بیوٹیشن نے چمٹی سے ابرو کھسوٹ کر بال اکھیڑا تو شینا کی چیخ نکل گئی۔ یہ انتہائی تکلیف دہ عمل تھا مگر جب پورا ہو گیا تو ابرو جیسے پیشانی پر قوس کی محراب ہوں۔ شینا کن اکھیوں سے آئینے میں خود کو دیکھ کر اپنی خوب صورتی کو دل ہی دل میں سراہنے لگی۔ اب اس کا چہرہ اوپر کو اٹھا ہوا، پر اعتماد اور پہلے سے کہیں زیادہ دلکش نظر آ رہا تھا۔
'اگر تھوڑا جلدی آ جاتیں تو میں اوپری ہونٹ کے روئیں دار بالوں پر بلیچ لگاتی' بیوٹیشن نے کہا۔ پھر اس نے نچلی دراز سے انتہائی پر اسرار انداز میں بوتل کی ایک شیشی نکال لی اور شینا کو دکھانے لگی۔ بوتل پر چسپاں کاغذ کے لیبل پر لکھا تھا، 'ناپسندیدہ بالوں کے لیے بلیچ کریم۔۔۔ منٹوں میں دلکش بنائے، خوبصورتی ایسی جو سب کو بھائے'۔ 'خیر، کیا کیا جائے۔۔۔ اب تو وقت ہی نہیں ہے۔ ہم یہ نہیں لگا سکتے' بیوٹیشن نے کچھ اس طرح کہا کہ شینا کو دیر سے آنے پر افسوس ہونے لگا۔
بیوٹیشن نے مزید وقت ضائع کیے بغیر چہرے پر میک اپ کا لیپ شروع کر دیا۔ چہرے پر لالی مل دی اور پھر پپوٹوں پر جھمکتے ہوئے سرخ اور سنہری رنگ کی پینسل پھیر کر خوب گہرا اور چمچماتا رنگ نکال لیا۔ انتہائی احتیاط سے دونوں آنکھوں میں سرمے کی تیلی پھیری، جو نبی جی کی سنت ہے مگر پھر فیشن کے مطابق کاجل کی پینسل سے حاشیہ نکالنا بھی ضروری سمجھا۔ ہونٹوں پر گہرے سرخ اور بھورے رنگ کی آمیزش والی لپ اسٹک لگا لی اور گہرے رنگ کی پنسل سے موٹی پرت نکال لی۔ اوپر والا لب پتلا اور نچلا ابھر کر واضح ہو گیا۔ شینا کی آرائش دیکھنے والی تھی، جیسے واقعی کوئی گڑیا ہو۔ عروس بن گئی تھی۔
'ہائیں۔۔۔ میں کچھ بھی کر لوں، تم جیسی خوبصورت تو کبھی نہیں ہو سکتی' شینا نے سونیا سے کہا، جو پشت پر کھڑی اشتیاق سے اس کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھی۔ یہ سن کر سونیامسکرائی اور جھینپ کر منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑانے لگی۔ وہ اب شینا کے سر پر ہلکے نیلے رنگ کا باریک ریشم سے بنا ہوا جالی دار دوپٹہ اوڑھا کر چھیڑ رہی تھی۔
جب دلہن تیار ہو گئی تو سونیا کے بننے اور سنورنے کی باری آئی۔ بیوٹیشن اس کے ساتھ مصروف ہو گئی جبکہ شینا کو شادی کا جوڑا پہنایا جانے لگا۔ پردے کے پیچھے لیلیٰ نے کمر کی گولائی میں ربڑ ی پیٹی لپیٹ کر کس دی، جس سے شینا کی کمر پتلی نظر آنے لگی اور چھاتیاں ابھر گئیں۔ شادی کا جوڑا چمکدار موتیوں سے جڑ کر، ہرے رنگ کے آنکھوں میں چبھنے والے رنگ پر کشیدہ کیا ہوا مہنگا کپڑا تھا۔ کونوں پر لیس لگائی گئی تھی اور جھالر لٹک رہے تھے۔ سنہری رنگ، جیسے سونے کی ہوں، کڑی دار پتلی زنجیروں کی کڑھائی کر رکھی تھی۔ یہی رواج تھا۔ شادی کا پہلا جوڑا ہرا ہی ہونا چاہیے۔ یہ خوشی اور دین اسلام، نبی جی کا رنگ ہے۔
شادی کا جوڑا پہن لیا توسنہرے رنگ کی اونچی ہیل والی جوتی ٹھونس کر پہنا دی، جس پر گولڈن رنگ کا خم دار بکل تھا۔ بیوٹیشن نے اب بالوں میں سے لکڑی کی گھونگر نکال دیے۔ شینا کے بالوں میں اب پیچ تھے ، کنڈل بنا کر جوڑے کی شکل میں کس کر ایک ہرے رنگ کے ہی سخت کنگھے سے سر کی چوٹی پر بٹھا دیا گیا۔ ایک لٹ بہر حال باہر ہی رہنے دی، جس پر بے تحاشہ ہئیرسپرے پھونک کر چہرے پر ایک طرف کو ڈھلکا دیا۔ اب پودینہ کی طرح ہلکے ہرے رنگ کے گھونگٹ کی باری آئی۔ انتہائی توجہ اور احتیاط سے، دوپٹے پر سونے کے رنگ والی جھالر کے درمیان میں سے چول نکال کر اوڑھا دیا گیا اور کلپ لگا کر جما بھی دیا۔ کلپ کے ارد گرد بھی ہلکی سی چمکیلی گرا دی۔ بیوٹیشن نے حفظ ما تقدم کے طور پر ایک دفعہ پھر شینا کے گالوں پر لالی کا برش پھیرا اور دونوں طرف چاندی کے تین چھوٹے تارے چسپاں کر دیے۔ اب شینا پشت کی دیوار پر ٹنگے پوسٹروں کی ہی طرح بھارتی فلموں کی اداکارہ لگ رہی تھی۔
' وہ کپڑا کدھر ہے؟ ارے، وہ کپڑا کہاں گیا؟' لیلیٰ کو اچانک یاد آیا۔ وہ سامان ٹٹولتے ہوئے بوکھلا کر خود سے ہی پوچھ کر جواب دینے لگی 'کہاں گیا؟ یہاں تو نہیں ہے'۔
'کیا کہا؟ نہیں ہے؟' سونیا بھی جیسے ہڑبڑا کر پیچھے مڑی اور شینا کی طرف دیکھنے لگی۔ شینا چپ چاپ، آنکھ جھپکائے بغیر بیٹھی رہی جیسے بت ہو۔
لیلیٰ افراتفری میں اٹھ کر باہر نکل گئی۔ خوش قسمتی سے گھر پڑوس میں ہی تھا۔ اگر وہ یہ کپڑا بھول جاتی؟ یا گھر دور ہوتا ؟ پھر کیا ہوتا؟ یہ کپڑا تو سب سے اہم چیز تھی۔
لیلیٰ اکیلے ہی دوڑتی ہوئی نکل گئی تھی۔ اس نے کسی کو ساتھ لے جانا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ وہ چلی گئی تو سونیا پھر سے بننے سنورنے میں مشغول ہو گئی۔شینا ویسے کی ویسی ساکت بیٹھی رہی۔ تھوڑی ہی دیر میں لیلیٰ لوٹ آئی اور پھر سب نے زرق برق کپڑے پہنے، بالوں اور چہرے پر چمکیلی پھیری اور اچھی طرح تیار ہو کر دیوار کی کھونٹی پر لٹکتے برقعے اوڑھنے لگیں۔ شینا انتہائی احتیاط برت رہی تھی۔ اس کو مشکل یہ تھی کہ برقعہ پہننے سے بالوں کا جوڑا ہل جل جاتا۔ گھر پہنچ کر اسے دوبارہ سنوارنے والا تھا اور نہ ہی اس کا کوئی انتظام تھا۔ خیر، اس نے برقعہ پہن کر اسے پوری طرح سر پر فٹ کرنے سے گریز کیا، بلکہ شٹل کاک کی ٹوپی بس چوٹی پر ٹکا دی۔ جوڑا تو بچ گیا مگر برقعے کی جالی پیشانی پر ہی اٹک کر رہ گئی ۔ یعنی آنکھوں کے سامنے کپڑا تھا اور اب وہ دیکھ بھی نہیں پا رہی تھی۔ وہ خاصی مضحکہ خیز لگ رہی تھی۔ سونیا اور دوسری لڑکیوں نے اسے پکڑ کر سیڑھیوں سے نیچے اتارا، جیسے کسی اندھے کو سہارا دے کر لے جا رہی ہوں۔ خود اس کے لیے بھی چلنا دو بھر ہو گیا تھا، بھاری بھر کم لباس، آرائش کا خیال ، یہ برقعہ اور پھر اونچی ہیل والی جوتی۔۔۔ کیا کرتی؟ حق میں بہتر یہی تھا کہ گر کر ہڈی وغیرہ تڑوا لے مگر پردہ کیے بغیر باہر نکلنے کا سوچنا بھی گناہ تھا۔
خدا خدا کرکے یہ مختصر جلوس قریب ہی، پچھلی گلی میں واقع پھوپھی کے گھر پہنچ گیا۔ یہاں شادی کا فنکشن جاری تھا۔ شینا کی پھوپھی کا گھر خاصا بڑا تھا۔ جیسے ہی دلہن گھر میں داخل ہوئی، اودھم مچ گیا۔ ڈھولک کی تھاپ تیز ہو گئی اور عورتوں نے جتھے بنا کر اسے گھیر لیا۔ وکیل کے یہاں سے بھی مہمان یہیں بلا لیے گئے تھے مگر وہ خود ابھی تک نہیں پہنچا تھا۔ گھر سے باہر صحن میں پردہ لگا کر مردوں کا حصہ الگ کر دیا گیا تھا مگر دونوں طرف مرد اور عورتوں کے حصوں میں دھماچوکڑی مچی ہوئی تھی۔ کھانا برتایا جا رہا تھا اور شور و غل تھا۔ اس دعوت میں پلاؤ، کباب ، کوفتوں ، میٹھے اور طرح طرح کے دوسرے کھانوں کا اہتمام کیا گیا تھا۔ لوگ کھانے پر اس طرح بل پڑے تھے جیسے کئی دنوں سے بھوکے ہوں۔ سینکڑوں کی تعداد میں مہمانوں کو دعوت دی گئی تھی۔ پکوائی کے لیے گاؤں کا واحد باورچی بلایا گیا تھا جو اپنے بیٹوں کے ساتھ مل کر صبح منہ اندھیرے میں ہی کھانا پکانے میں جت گیا تھا۔ اس دعوت طعام کے لیے منگوائے گئے سامان کی تفصیل کچھ اس طرح تھی۔ 150 کلو چاول، 56 کلو دنبے کا گوشت، 14 کلو بچھڑے کا گوشت، 42 کلو آلو، 30 کلو پیاز، 50 کلو پالک، 35 کلو گاجر، 1 کلو لہسن، 8 کلو کشمش، 2 کلو بادام کی گری، 32 کلو کھانے کا تیل، 14 کلو چینی، 2 کلو میدہ، 20 انڈے، مسالوں کی بڑی مقدار، 2 کلو سبز چائے کی پتی، 2 کلو کالی چائے کی پتی، 14 کلو مٹھائی اور 3 کلو جلی ہوئی شکر۔
جب کھانے پر جاری ہڑ بونگ ختم ہو گیا تو مرد یہاں وہاں بکھر گئے جب کہ عورتیں گھر کے اندر برآمدوں میں جمع ہو گئیں۔ زیادہ تر مرد ادھر ادھر کھڑے گپیں ہانک رہے تھے ۔ ان میں سے زیادہ تر پڑوس میں ہی ایک گھر کے اندر بیٹھ گئے جہاں ان کے لیے کرسیاں لگا کر انتظام کر رکھا تھا۔ وکیل بھی یہیں پہنچ گیا تھا۔ اب سے تھوڑی دیر بعد نکاح کا مرحلہ آئے گا جس میں دونوں اطراف اپنی شرائط پیش کریں گے۔ حق مہر اور دوسرے معاملات پر تفصیلی بات چیت ہو گی۔ وکیل کے لیے لازمی تھا کہ وہ شینا کو بغیر کسی وجہ کے طلاق دینے کی صورت میں معقول رقم ادا کرنے کا وعدہ کرے اور اس کے لیے نان نفقہ، یعنی عام ضروریات جیسے کپڑے، کھانا اور گھر وغیرہ کی بھی حامی بھرے۔ شینا کی طرف سے اس کا بڑا بھائی سلطان یہ معاملات طے کرے گا جبکہ دونوں خاندانوں کے مرد ہی اس پر دستخط کریں گے، گواہ ہوں گے۔
جب معاملات طے ہو گئے تو کاغذات پر دستخط کیے گئے۔ گواہوں کے انگوٹھے لگوائے گئے اور دعائے خیر پڑھی گئی۔ پٹاخے پھوٹے تو کان پھٹ گئے اور مرد ایک دفعہ پھر بکھر گئے۔ شینا اپنی پھوپھی کے گھر میں ہی رہی۔ عورتیں کھڑکیوں کے پیچھے جالیوں سے جڑ کر مردوں کو معاملات طے کرتے ہوئے دیکھتی رہیں۔ جب یہ مرحلہ طے ہو رہا تھا، شینا کو دوسرے کمرے میں لے جایا گیا۔ چونکہ اس کی جانب سے سلطان ضامن تھا، وہ دوسری عورتوں کی طرح کھڑکی کے پیچھے سے تماشا بھی نہیں کر سکتی تھی۔ اس لیے بہتر یہی سمجھا گیا کہ وقت بچانے کے لیے اسے شادی کا ہرا جوڑا بدل کر سفید پہنا دیا جائے ۔ سر پر سفید روسی جھالر اوڑھا کر چہرے پر گرا دی گئی۔ نکاح کے بعد اب وکیل کا انتظار تھا کہ وہ آئے اور یہ نیا نویلا جوڑا ایک ساتھ باہر نکلے۔ وکیل شرم سے جھینپتا ہوا دلہن کے گھر میں داخل ہوا تو عورتیں اس کے گرد جمع ہو گئیں۔ جس کو دیکھو، وہی دلہا اور دلہن کو چھیڑ رہی تھی۔ جوڑے کی نظریں زمین میں گڑھی ہوئی تھیں اور چہرے شرم سے لال ہو رہے تھے۔ اسی حالت میں وہ کندھے سے کندھا ملائے، سب سے آگے اور باقی سب پیچھے، آہستہ آہستہ چلتے ، ایک دوسرے سے کتراتے ہوئے باہر نکل آئے۔ رواج تھا کہ یہ دونوں ساتھ قدم بڑھائیں اور جہاں رکیں، کوشش رہے کہ ایک دوسرے سے آگے نہ بڑھیں۔ اگر دلہن یا دلہا میں سے کوئی آگے نکل جاتا تو وہی اس شادی میں آقا سمجھا جاتا۔ مشہور تھا کہ آگے چل کر زندگی میں اسی کا حکم چلے گا۔ اس کھیل میں جیت وکیل کی ہوئی، یا کہیے شینا نے اسے جیتنے دیا۔ ایسا کرنا لازم تھا، کیوں کہ عورت کے لیے شوہر کی اطاعت ضروری قرار دی گئی ہے۔ ویسے بھی، اگر دلہن آگے بڑھ جاتی تو یہ بد شگونی ہوتی۔ کیونکہ یہ رواج بھی نہیں تھا۔ یہ اچھا نہیں لگتا کہ شینا ایک قدم سے وہ اختیار ہتھیا لے جسے سنبھالنے کی اس میں سکت اور نہ ہی یہ روایت کے مطابق اس کا حق ہے۔
خیر، اگلی رسم کے لیے صحن میں دو کرسیاں بچھا رکھی ہیں۔ یہ بھی رواج ہے کہ وہ دونوں ایک ساتھ بیٹھ جائیں۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی پہلے نہیں بیٹھنا چاہتا، سو وہ دونوں کھڑے رہے۔ یہ تماشا دیر تک جاری رہا۔ عورتیں انہیں چھیڑتی رہیں اور گھر کے مرد کھڑے تاڑتے رہے۔ آخر کار سلطان آگے بڑھا اور ان دونوں کے پیچھے جا کر کندھوں سے پکڑ کر ایک ساتھ، ایک ہی وقت میں کرسیوں پر بٹھا دیا۔ عورتیں تو کل رات سے ہی باؤلی ہو رہی تھیں، یہ دیکھ کر مرد بھی تالیاں پیٹنے لگے۔
شینا کی بڑی بہن فیروزہ نے نئے نویلے جوڑے کے سروں پر ایک چادر ڈال کر انہیں ڈھک دیا اور بڑا سا آئینہ ان دونوں کے سامنے چادر کے نیچے سے کھسکا دیا۔ وہ دونوں آئینے میں ایک دوسرے کو دیکھ سکتے تھے۔ وکیل اور شینا نے آج تک ایک دوسرے کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر نہیں دیکھا تھا، یا کہو ایسا ہی ہوا تھا۔ ان کو آئینے میں نظریں کھوبتےدیکھ کر بھی ایسا لگ رہا تھا جیسے انہوں نے اس سے پہلے ایک دوسرے کو کبھی نہیں دیکھا۔ حالانکہ، انہوں نے کئی بار کن اکھیوں سے چھپ چھپا کر دیکھ رکھا تھا۔ بلکہ ان دونوں میں تو بات چیت بھی ہوئی تھی۔ لیکن کیا فرق پڑتا ہے؟ رسمیں تو بہر حال نبھانی ضروری تھیں۔ آئینے میں ہی سہی، آنکھیں چار ہوئیں تو ایسا بھی لگا جیسے وہ ایک دوسرے کو پہلی بار واقعی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے۔ فیروزہ رحل میں قران کا ایک نسخہ اٹھا لائی، جس کا غلاف گل بی بی نے خود اپنے ہاتھوں سے سی کر کڑھائی کیا تھا۔ ان دونوں کے سر کے اوپر یہ قران تھامے رکھا، جس دوران مولویانی نے پہلے تو لمبی تلقین کی اور پھر ان دونوں کے حق میں اس سے بھی طویل دعائیہ کلمات پڑھے۔ ان دونوں نے جواب میں چادر کے نیچےاحتراماً سر ہلا دیے۔ ڈھلکی ہوئی چادر کا کپڑاپھڑپھڑا کر رہ گیا۔
اتنی رسوم تھیں کہ ختم ہونے میں نہیں آ رہیں۔ اب ایک رکابی میں میٹھا لے آئے۔ یہ روٹی کے چورے میں چینی اور تیل ملا کر، الائچی ڈال کر اچھی طرح پکائی ہوئی مٹھائی تھی۔ شینا اور وکیل نے ایک دوسرے کو چمچ سے میٹھا کھلایا اور باقی لوگوں نے ایک دفعہ پھر تالی بجا کر ندیدوں کی طرح خوشی کا اظہار کیا۔ پھر، ان دونوں نے ایک دوسرے کے لیے دودھ سے بنا مشروب بھی گلاسیوں میں ڈالا، جو ان دونوں کی اپنے گھر والوں کے ہمراہ اکٹھے، خوشحال زندگی کی خواہش کا تہیہ تھا۔ صرف جوڑے نے ہی نہیں بلکہ سارے گھر والوں نے مشروب پیا۔کچھ لوگ صرف لیمونیڈ کو شڑپشڑپ پینے پلانے کے شیدائی نہیں تھے۔
'ایک وقت تھا جب ہم ایسے موقع پر شیمپین سے تواضع کیا کرتے تھے'، شینا کی ایک چچی گلاس نیچے رکھ کر قریب ہی کھڑے منصور سےسرگوشی میں گویا ہوئی۔ در اصل وہ اس زمانے کو یاد کر رہی تھی جب شہر کابل خاصا آزاد خیال ہوا کرتا تھا۔ جب شادی بیاہوں میں شیمپین اور انگوری شراب عام مل جایا کرتی تھی۔ 'ہائے ہائے، وہ وقت پھر لوٹ کر کبھی نہیں آئے گا'، اب وہ باقاعدہ آہیں بھر رہی تھی۔ نائیلون کے موزے، مغربی لباس، ننگی بانہیں اور اگر یہ بھی نہیں، کم از کم شٹل کاک برقعے سے پہلے کا زمانہ بھی اب قدیم زمانے کا قصہ لگتا تھا۔
'ارے بُوبُو، یہ تیسرے درجے کی گھٹیا شادی ہے' سلطان کا سب سے بڑابیٹا منصور سر گوشی میں مڑ کر بولا، 'گھٹیا کھانا، سستے کپڑے۔۔۔ یہ کیا ہے؟ کوفتے اور چاول، لمبی قمیصیں اور ڈھیلے کرتے؟ ذرا اس گھونگھٹ کو تو دیکھو؟ بُوبُو، جب میں شادی کروں گا ناں تو دیکھ لینا، انٹر کانٹینینٹل ہوٹل میں رقص گاہ بک کرواؤں گا۔ جس کا جو جی چاہے پہن کر آئے، بلکہ سب کے لیے لازم ہو گا کہ نت نئے فیشن کے کپڑے پہنے اور ہم اس فنکشن میں صرف اچھے کھانے کھلائیں گے۔ امپورٹڈ کھانے۔۔۔' چونکہ یہ ناممکن تھا، بُوبُو نے اسے کن اکھیوں سے طنزیہ انداز میں دیکھا۔ جس پر منصور نے خود کو تسلی دی، 'جو بھی ہو، میں یہاں شادی ہی نہیں کروں گا۔ ادھر نہیں رہوں گا۔ کسی دوسرے ملک میں جا کر بیاہ کروں گا'۔
شینا اور وکیل کی شادی کی خوشی میں بڑی ضیافت کا اسی گھر کے عقبی صحن میں اہتمام کیا گیا تھا۔ یہ بنجر زمین تھی جہاں کچھ بھی نہیں اگتا تھا۔ اس احاطے کی ڈیڑھ فٹ موٹی ، مٹی کی دیواروں میں گولیوں کے سوراخ اور مارٹر شیلوں کے سیاہ نشان تھے۔ نئے نویلے جوڑے کی زیادہ تر تصاویر یہیں بنائی گئیں جن میں وہ دونوں ٹکٹکی باندھے کیمرے میں سامنے دیکھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان تصاویر کو دیکھیں تو دونوں کے چہرے پر کوئی تاثرات نہیں ہیں، یہاں تک کہ مسکراہٹ بھی غائب ہے۔ دلہا اور دلہن کے سپاٹ چہرے اور پیچھے دیوار میں نظر آنے والے گولیوں کے نشانات سے تصاویر میں ایک عجیب کرب بھر گیا ہے۔
ضیافت کے بعد کیک کی باری آئی۔ دونوں مل کر چھری پکڑتے ہیں اور انتہائی احتیاط کے ساتھ کیک کاٹتے ہیں۔ سب سے پہلے دلہا اور دلہن ایک دوسرے کو کیک کھلاتے ہیں مگر چونکہ دونوں کے منہ ادھ کھلے ہیں، ساتھ ہی وہ ہچکچائے بھی ہوئے ہیں تو پہلے سے کہیں زیادہ احتیاط برتے جاتے کہ بجائے کیک دوسرے کے منہ میں جانے کے، چورا بن کر کپڑوں کو برباد نہ کر دے۔
کیک کے بعد موسیقی کا دور چلتا ہے اور رقص شروع ہو گیا ہے۔ یہاں موجود تقریباً مہمانوں کے لیے ملاؤں کی حکومت جانے کے بعد پہلا موقع ہے کہ وہ کابل میں کسی کی شادی میں شرکت کر رہے ہیں۔ بلکہ اس قصبے میں یہ پہلی شادی ہے جس میں اتنا ہلا گلا، موسیقی اور ناچ گانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اس دور میں تو موسیقی کے بغیر شادیوں کا سارا مزہ کرکرا ہو کر رہ گیا تھا۔ چنانچہ، موقع دیکھ کر سبھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے لگے۔ سوائے نئے جوڑے کے، جس کو دیکھو ناچ رہا ہے۔ یہ دونوں سامنے بچھائے صوفے پر بیٹھ کر تماشا دیکھتے رہے۔ یہ شور و غل شام تک جاری رہا۔ چونکہ شہر میں کچھ ہی دیر بعد کرفیو نافذ ہو جائے گا، اس لیے محفل کو سمیٹنا ضروری تھا۔ سب لوگوں کا دس بجنے سے پہلے واپس اپنے گھر پہنچنا انتہائی لازم تھا۔
شام گئے رخصتی کا مرحلہ آیا۔ وکیل اور شینا کو ایک ساتھ، ایک ہی گاڑی میں بٹھا کر سیٹیوں اور لوک گیتوں میں رخصت کیا گیا۔ یہ پرانے ماڈل کی کار تھی جس پر مصنوعی پھول اور تلے چپکا رکھے تھے۔ جس کو پہلے موقع ملا، وہ نئے جوڑے کے ساتھ کار میں گھس گیا۔ وکیل کی کار میں دیکھتے ہی دیکھتے، ان دونوں سمیت آٹھ لوگ سوار ہو گئے۔ دوسری گاڑیوں میں تو اس سے بھی زیادہ ٹھنسے ہوئے تھے۔ گاڑیوں کے اس قافلے نے، جس میں سب سے آگے وکیل کی کار تھی، بجائے سیدھا جائیں، کابل کی گلیوں میں خواہ مخواہ مٹر گشت شروع کر دی۔ چونکہ شام ڈھل چکی تھی، کابل کی سڑکیں خالی تھیں۔ کاریں شوںشوں کرتی ہوئی آگے پیچھے شہر کے بیچ میں سے ساٹھ میل کی رفتار سے کسی چوک چوراہے کی پرواہ کیے بغیر دوڑ رہی تھیں۔ یہ ایک دوسرے کو مات دینے کے لیے دوڑ لگا رہے تھے۔ اسی کشمکش میں دو گاڑیاں آپس میں ٹکرا بھی گئیں، جس سے تھوڑی دیر کو خوشی گہنا گئی مگر چونکہ کسی کو کاری چوٹ نہیں آئی تھی، اگلے ہی موڑ پر پھر سے گاڑیوں کی کھینچ تان شروع ہو گئی۔ خدا خدا کر کے آخر یہ قافلہ وکیل کے گھر پہنچ ہی گیا۔ رخصتی اور بارات کا یہ منظر علامتی طور پر دست برداری اور سونپنے کا مرحلہ تھا۔ شینا اپنا گھر چھوڑ آئی ہے اور اب وہ اپنے شوہر کے گھر کی ہو گئی۔ اس کے یہاں سے جڑ گئی۔
وکیل کے گھر میں صرف انتہائی قریبی رشتہ داروں کو ہی آنے کی اجازت ہے۔ یہاں اس کی بہنوں نے پہلے سے ہی چائے اور دوسرے لوازمات وغیرہ کا انتظام کر رکھا ہے۔ یہ وہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ شینا کے روز و شب گزریں گے۔ یہ وہ محلہ ہے جہاں شینا اور دوسری عورتیں ہینڈ پمپ پر پانی بھرتے ہوئے گپیں لگائیں گی، یہیں وہ سب کے ساتھ مل کر کپڑے دھویا کرے گی اور یہی وہ گھر ہے جس کی ہر شے کی ذمہ داری اب شینا کے حوالے بھی تھی۔
چند بچے، جن کی ناکیں بہہ رہی تھیں، تجسس سے اس بنی ٹھنی، گڑیا جیسی جوان عورت کو دیکھ رہے تھے جو ان کی نئی ماں تھی۔ وہ اپنی پھوپھی کی چادر کے پیچھے چھپنے کی کوشش میں لگے تھے اور دبی نگاہوں سے سر پر کھڑی چم چم کرتی دلہن کو تاڑ رہے تھے۔ گانا بجانا بالکل بند ہو گیا، خوشی کی چلاہٹ اور انبساط بھی نہیں تھا۔ شینا اپنے نئے گھر میں رسمی طریق سے، انتہائی تمکنت اور شان کے ساتھ داخل ہوئی۔ آخر کیوں نہ ہوتی؟ یہ کافی بڑا اور اونچا گھر تھا۔ کابل کے اس حصے میں سبھی گھر کچے تھے مگر چھتیں اونچی اور شہتیری تھیں۔ پھر کیا ہوا؟ یہ شینا کا اپنا گھر تھا۔میکے کی طرح، سلطان کے گھر میں ماں کے پلو سے تو نہیں بندھی رہے گی، جہاں ان بیاہیوں اور گل بی بی کو ایک کونے میں کمرا ملا ہوا تھا۔ یہ گھر اس کے شوہر کی ملکیت تھا۔ جیسے وہاں سلطان کی چھوٹی بیوی سونیاٹھسے سے رہتی تھی، شینا بھی اب یہاں وکیل کے گھر میں ایسے ہی بسر رکھا کرے گی۔ وہ سلطان کا گھر تھا، یہ وکیل کا محل ہے۔ وہاں سونیا کی شان تھی، یہاں شینا کی چلے گی۔ صرف یہ تھا کہ اس گھر کی کھڑکیوں کے کواڑ نہیں تھے بلکہ موٹی پلاسٹک میں کیلیں ٹھونک کر کھڑیاں مقفل کر دی تھیں۔ یہ شینا کا نیا گھر تھا مگر اس کے اندر کھڑکیاں بند رہنے کی وجہ سے تازہ ہوا کا گزران نہیں ہوتا تھا۔ یہ بھلا کیا بات ہوئی؟ شینا نے دل ہی دل میں سوچا۔ آئے روز کابل میں اب بھی بمباری ہوتی تھی، طیاروں نے مضافات کو ابھی تک بخشا نہیں تھا۔ اب وکیل کہاں روز کواڑ لگواتا، کیا خبر کل کو یہ گھر بھی ڈھے جائے؟ یہ اپنے تئیں انتظار میں تھا کہ کب بم گرنے بند ہوں تو یہ کھڑکیوں کے کواڑ اور دیواروں پر نئی لیپ کروائے۔
سب نے گھر کے باہر ہی جوتے اتار دیے اور اب گھٹ خاموشی سے ایک دوسرے کے آگے پیچھے لگے اندر داخل ہو رہے تھے۔ شینا کے پاؤں مہندی کے رنگ سے سرخ ہو رہے تھے اور دن بھر پھنسی ہوئی اونچی ہیل کی جوتی پہنے رکھنے کی وجہ سے سوجن چڑھ آئی تھی۔ شینا کو وکیل کے کمرے میں پہنچا دیا گیا، جہاں پیچھے ہی پیچھے صرف انتہائی قریبی عورتیں چلی آئیں۔ یہ نسبتاً کافی بڑا کمرہ تھا مگر حقیقی طور پر اس میں نیا ڈبل بیڈ بھرا ہوا تھا، جو کمرے کے لحاظ سے انتہائی بے ڈھب لگ رہا تھا۔ شینا نرم بستر پر بچھے گہرے سرخ رنگ کے چمچماتے ہوئے بیڈکوور کو دیکھ کر دل ہی دل میں کھل اٹھی۔ یہ اس نے خود خریدے تھے، تکیے بھی اسی کے ہاتھ کی کڑھائی تھے۔ مقفل کھڑکیوں پر سرخ ہی رنگ کے پردے بھی ڈالے ہوئے تھے، وہ بھی اس نے ہی خود اپنی چاہ سے مانگی ہوئی سلائی مشین پر سی دیے تھے۔ یہ کمرہ ایک دن پہلے ہی تیار کر دیا گیا تھا۔ گزشتہ روز لیلیٰ اور دوسری لڑکیاں اکٹھی ہو کر آئی تھیں اور سجایا تھا۔ شینا اس سے پہلے وکیل کے گھر میں کبھی نہیں آئی لیکن اب یہ اس کا گھر تھا۔ اب کیا، مرتے دم تک یہ اس کا گھر تھا۔ اس کی یہی جاگیر تھی، گھر کا یہ کمرہ اس کا اپنا تھا ۔ وہ اور یہ کمرہ، اب ہمیشہ کے لیے وکیل کے نام تھا۔
شادی کی تقریبات میں کسی نے بھی شینا اور وکیل کو ایک دوسرے کی طرف، ایک دفعہ بھی مسکراتے ہوئے نہیں دیکھا۔ اب جب کہ شینا اپنے گھر پہنچ گئی تھی، اس کی مسکراہٹ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ زیر لب خوش ہوتے ہوئے بولی، 'آ ہاں۔۔۔ دیکھو تو، کمرہ کیسا دلکش لگ رہا ہے؟' زندگی میں پہلی بار اسے ذاتی کمرہ نصیب ہوا تھا۔ زندگی میں پہلی بار وہ فرش کی بجائے آج رات بیڈ پر سوئے گی۔ وہ نئے کمرے میں، اجلے بستر پر بیٹھ گئی۔
ہائے یہ رسم و رواج، ایک کام اب بھی باقی ہے۔ وکیل کی بہن نے شینا کو ایک کیل اور ہتھوڑی تھما دی۔ وہ جانتی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے۔ نئے بستر سے اٹھی اور خاموشی سے لکڑی کے دروازے پر جا کر کھڑی ہو گئی۔ پھر کنڈی کے نیچے، موزوں لکڑی کی ہموار سطح پر کیل ٹھونک دی۔ جب کیل ٹھیک ٹھیک ٹھک گئی تو سب نے پھر سے مل کر خوشی منائی۔ گل بی بی یہ دیکھ کر بھی آنسوؤں کو دباتے ہوئے سڑکنے لگی۔ اس کی بیٹی واقعی پرائی ہو گئی۔ شینا نے اپنی منزل کی کیل اس گھر میں گاڑھ دی تھی۔ بعد اس کے، گل بی بی کا یہاں رکنا غیر ضروری تھا۔ سلطان اپنی گاڑی میں گل بی بی اور دوسری عورتوں کو بٹھا کر اپنے ساتھ واپس لے گیا۔
اگلے دن، ناشتے سے پہلے، صبح تڑکے وکیل کی ایک چچی گل بی بی کے یہاں، یعنی شینا کے میکےپہنچ گئی۔ اس کے پاس ایک تھیلا تھا، جس میں وہ کپڑا تھا جو لیلیٰ تقریباً بھول چکی تھی۔ بقول اس کے یہ کپڑا تو سب سے اہم چیز تھی۔ ادھیڑ عمر عورت نے کپڑا ہتھ تھیلے سے نکالا اور گل بی بی کے حوالے کر دیا۔ اجلے سفید کپڑے پر خون کے سرخ داغ جم رہے تھے۔ گل بی بی داغ دیکھتے ہی شکر ادا کرنے لگی اور پچھلے تین دنوں میں پہلی بار خوشی کے دو موٹے موٹے آنسو گالوں پر ڈھلک گئے۔ گھر کی ساری عورتیں بھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گل بی بی کے گرد جمع ہو گئیں۔ گل بی بی ٹھسے سے سب کو وہ کپڑا دکھا رہی تھی۔ جو عورت دیکھنا چاہتی، وہ دیکھ لیتی۔ ساری ان بیاہی لڑکیوں کو، نا بالغوں کو تو بالخصوص یہ کپڑا دکھایا گیا جس پر خون کے دھبے تھے۔
شکر یہ ہوا کہ آخری رسم نبھانے کی نوبت نہیں آئی ۔ رواج یہ تھا کہ اگر سفید کپڑے پر داغ نہ ہوتے تو وکیل کے یہاں سے یہ کپڑا نہیں بلکہ خون میں نہائی شینا میکے کو لوٹائی جاتی۔
(ماخوذ، نومبر 2016ء)
یہ تحریر صلہ عمر پر جاری سلسلے "ماخوذ کہانیاں" کا حصہ ہے۔ اس سلسلے کی تمام تحاریر کی فہرست یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں۔

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر