کبوتر

پچھلے چار ماہ سے یہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ صبح سویرے ایک موٹے اور پسوڑے کبوتر کی غٹرغوں سے آنکھ کھل جاتی ہے۔ اللہ غارت کرے، یہ وہی کبوتر ہے یا یہ پتہ نہیں وہی ہو گا؟ مجھے تو یہ وہی ایک ہی لگتا ہے۔ یہ بھی پتہ نہیں کہ یہ کبوتر ہی ہے یا کبوتری ہو گی؟ اس بات کی تو کسی صورت تصدیق ممکن نہیں ہے۔ بعض اوقات تو مجھے لگتا ہے جیسے اس کی کوئی چیز کھڑکی سے باہر یا اندر رہ گئی ہے، جسے تلاشنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں ہفتے کے روز سارا دن کھڑکی کھلی چھوڑ دیتا ہوں۔ ظاہر ہے یہ انتہائی احمقانہ بات تھی مگر پھر بھی مجھے لگتا جیسے میں اپنے تئیں رحمدلی سے کام لے رہا ہوں۔ کبوتر کے لیے آسانی کا سامان کرنے کی سعی کہہ لیں یا کچھ بھی، میرا خیال یہ تھا کہ اس طرح کبوتر کی زندگی آسان ہو جائے گی۔ تاہم وہ کبھی کھلی کھڑکی سے اندر نہیں آیا۔ میرا تجسس بڑھ گیا۔ اب اکثر اس سے چپکے چپکے باتیں بھی کرنے لگا۔ میرا سوال ہمیشہ یہی ہوا کرتا کہ ساری دنیا چھوڑ، آخر وہ میرے ہی گھر کی کھڑکی پر کیوں بیٹھا رہتا ہے؟ جواب ہمیشہ 'غٹرغوں' ہی ملتا۔
میں نے اس کو کوئی نام نہیں دیا۔ وجہ یہ تھی کہ اس طرح قربت بڑھ جاتی ہے، جو مجھے منظور نہیں تھا۔ ایک دن اس نے تو بہر حال چلے جانا تھا اور میں اپنے دل و دماغ میں اس سے وابستگی جوڑے بیٹھا، خواہ مخواہ کوفت میں مبتلا رہتا۔ چنانچہ باقاعدہ نام دینے کی بجائے، میں نے اسے ہمیشہ صرف ایک کبوتر ہی سمجھا۔ موٹا، پسوڑا کبوتر۔ میں اسے منہ پر جناب کبوتر کہہ کر بلاتا ہوں مگر پیٹھ پیچھے زیادہ تر اس کا نام، موٹا یا پسوڑا ہی رہتا ہے۔ چہرے مہرے سے خاصا گنوار اور عجیب وحشی لگتا ہے مگر یہ ماننے میں کوئی عار نہیں کہ اس کی غٹرغوں سننے میں خاصی ملائم ہے۔ ہر وقت کھڑکی کے شیشے سے جڑا، دم سادھے بیٹھا رہتا ہے۔ مجھے یہ ڈر تھا کہ شاید اس کی ٹانگ یا پر وغیرہ کٹ گیا ہے، جس کی وجہ سے یہ اڑتا وغیرہ نہیں۔ اسی غرض سے وائلڈ لائف والوں کو کئی بار شکایت بھی درج کروائی مگر انہوں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی بلکہ الٹا مذاق اڑانے لگے۔ میری پڑوسن، جو ایک عمر رسیدہ عورت ہے اور اکیلی رہتی ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ محکمہ والے اس ضمن میں کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ کبوتروں کی جان بچانا ان کی ذمہ داریوں میں شامل نہیں ہے۔ اس لیے مجھے خود ہی کچھ کرنا پڑے گا۔ چنانچہ اگلی ہی صبح، چھٹی والے دن میں کڑچا اور چھوٹی بالٹی اٹھائے دیوار چڑھ گیا۔ میں دیوار پر تقریباً لٹک گیا تھا اور اس کے باوجود اوپر دیکھنے میں مشکل پیش آ رہی تھی۔ پانچ سات منٹ کی چھپن چھپائی کے بعد ہی کبوتر نے غٹرغوں سے متوجہ کیا۔ وہ میرے سر کے اوپر سے ہوتا ہوا کھڑکی کی بائیں جانب نکل گیا تھا۔ میں داہنی طرف سے اچک کر چھتی پر چڑھ کر بیٹھ گیا۔ وہ پہلے تو ہلا ہی نہیں۔ مگر اس سے پہلے کہ میں عارضی پنجرے میں اسے پکڑتا۔۔۔ وہ پھڑ پھڑا کر مزید دور ہو گیا۔ میں نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے وہیں بیٹھ کر دیکھتے ہوئے اوپر اور نیچے سے بغور معائنہ کیا، بھر پور نظروں کے ساتھ ٹٹولا کہ شاید کوئی زخم ہو، فرکچر یا سر میں لقوہ ؟ یا پھر کوئی اور مسئلہ؟ ہاتھ سے جھاکا دیا کہ پھڑپھڑائے تو شاید نقص کا پتہ چل سکے۔ لیکن بظاہر کچھ نظر نہیں آیا۔ کبوتر بالکل تندرست تھا۔ مجھے سمجھ نہیں آئی، آخر اس کو یہاں ٹکے رہنے کی کیا ضرورت ہے؟ تنگ آ کر سوچا کہ پڑا ہے تو ہماری بلا سے پڑا رہے ۔
بعد اس کے ہم دونوں کے بیچ ایک گرم جوشی اور انبساطی کا تعلق پیدا ہو گیا۔ وہ ہر وقت کھڑکی کے باہر بیٹھا رہتا اور میں اندر سے اس کو تاڑتا رہتا۔ اس کے ہر دم کمرے کی جانب متوجہ رہنے کی وجہ سے آشنائی کا احساس ہوتا تھا۔ بلکہ اس سبب ہم دونوں کے بیچ اچھی خاصی بے تکلفی ہو گئی تھی۔ بس ایک چیز کا طمع تھا کہ میں تو کبوتر سے خوب باتیں کرتا رہتا، اپنی ساری پبتا سناتا تھا مگر اس نے کبھی اپنے بارے کچھ بھی بتانا مناسب نہیں سمجھا۔ سچی بات یہ تھی کہ وہ میری بابت اب تقریباً سب کچھ جان چکا تھا لیکن میں اس کے بارے کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ سوائے اس کے وہ ایک موٹا پسوڑا کبوتر ہے جسے غٹرغوں کے سوا کچھ نہیں سوجھتا اور تقریباً ہر وقت بے مقصد میری کھڑکی کے باہر بیٹھا رہتا ہے۔ اس کی بلبلی آںکھوں میں بھی کچھ نہیں دکھتا تھا، دھندلاہٹ اور مبہم سا سبزہ تھا۔ بسا اوقات میرا دل چاہتا کہ اس سے گردن کے اوپر پڑے ول کے بارے پوچھوں، جس سے اس کے سر کے عین پیچھے ہر وقت ایک کریز سی نکلی رہتی تھی۔جیسے اونی کپڑے کی سلوٹ ہو۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ یہ پیدائشی ہے یا کسی حادثے کا نتیجہ تھا؟
ایک دن یوں ہوا کہ بوجوہ میری طبیعت کچھ مرجھائی ہوئی تھی۔ اس دن کے واقعات پر مجھے آج بھی شرمندگی ہے۔ لا ابالی اور بے پرواہی کی حد ہی ہو گئی۔ جاسمین کے ساتھ الجھ کر بحث میں کافی گرما گرمی ہو گئی اور بات اچھی خاصی تلخی پر جا پہنچی۔ سونے پر سہاگہ یہ ہوا کہ میں نے بغیر کچھ سوچے سمجھے، پریشانی کے عالم میں کبوتر کو اپنے رم کے گلاس سے تھوڑی شراب بھی پلانی چاہی۔ اس برے وقت میں تو یہ ہنسوڑ اور مزاحیہ بات لگ رہی تھی مگر اب سوچتا ہوں کہ یہ انتہائی گری ہوئی کٹھور حرکت تھی۔ مجھے جاسمین اور جناب کبوتر کے ساتھ یہ سلوک روا نہیں رکھنا چاہیے تھا۔ خیر، کبوتر نے سر کو ٹہوکا لگا کر قریب ہی پڑے گتے کے ڈبے میں زور سے چونچ ماری۔ پھر اس کے پانی کی کٹوری جس میں تھوڑی شراب ملی ہوئی تھی، اس نے ٹھونگا لگایا اور سر جھٹکنے لگا۔ مجھے تو لگتا ہے اس نے پانی پیا ہی نہیں۔ صرف سونگھا تھا۔ اب یہ بھی علم نہیں کہ آخر ایک کبوتر کس قدر سونگھ سکتا ہے؟ بہر حال ایک ٹھونگا لگا کر وہ پیچھے ہٹ گیا۔ وہ میرے ساتھ شراب پینے پر راضی نہیں تھا۔ مجھے اس بات پر تھوڑا دکھ ہوا۔ ایسا لگا جیسے رد کر دیا گیا ہوں۔ یہی نہیں، وہ موٹا پسوڑا کبوتر مجھے اسی حالت میں چھوڑ کر اڑ بھی گیا اور پھر دیر تک واپس نہیں آیا۔ ظاہر ہے، میں بالکل تنہا رہ گیا۔
اس دن صرف وہ موٹا پسوڑا کبوتر ہی نہیں بلکہ میرے ہاتھوں کے طوطے بھی اڑ گئے۔ مجھے اچھی طرح حلق میں رم کی تلخی یاد ہے۔ ہر گھونٹ پر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی حلق میں سیسے کا لٹو چلا رہا ہو۔ یہ لٹو سینے کو چیرتا اور دل میں سوراخ کرتا، کچوکے لگاتا نیچے ہی نیچے اترتا جاتا ہے۔ جب میں اچھی خاصی شراب پی چکا تو معدے میں گویا پوری سرنگ نکل چکی تھی۔ کچھ دیر یوں ہی گزر گئی۔ پھر سارا درد عجیب بے کیفی بن گیا اور اندر سلگ سلگ کر ایسا ناسور بن گیا جیسے زخم میں برسوں کی پیپ پڑی ہو۔ اس کیفیت سے مجھے احساس ہوا کہ میں اندر سے کس قدر دکھی اور زخم خوردہ آدمی ہوں۔ ظاہر ہے، یہ درد کا ناسور پورے جسم میں نہیں تھا مگر ان جگہوں پر، جہاں اس کی اہمیت تھی، وہ اعضاء جیسے بلب جان ہو رہے تھے۔ جاسمین اور میں کافی دنوں سے چن چن کر ایک دوسرے کو تکلیف دینے والے والے الفاظ ڈھونڈ نکالتے رہے جن کے نشتر ایک دوسرے کو چبھویا کریں۔ میں اس کے چہرے پر ان الفاظ کو بنتا اور پھر کئی کئی دن تک گلابی ہونٹوں کے سرے پر ٹکا ہوا دیکھتا رہتا۔ وہ موقع تلاشتی، لڑائی بھڑتی تا کہ تیز دھار الفاظ ضائع نہ جائیں۔ میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ شروعات کہاں سے ہوئی تھی؟ ذہن پر زور دوں تو یاد نہیں آتا، جیسے یاد داشت سلب ہو گئی ہو۔ میرے خیال میں یہ سب کسی چھوٹی سی بات پر اختلاف سے شروع ہوتا تھا اور پھر جھگڑا آگ کی طرح پھیل جاتا۔ اب صحیح یاد نہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے چھوٹی سی بات پتہ نہیں کیسے لڑائی میں بدل گئی؟ ایسی لڑائی جس سے بچنے کے لئے ہم اپنے آپ کے گرد قلعے باندھ لیتے ہیں مگر جیسے جیسے بات اور وقت بڑھتا ہے، بچنا محال ہوتا جاتا ہے۔ جس قدر کوشش کر لو لڑائی ہو کر رہتی ہے۔ ظاہر ہے یہ انتہائی دھیما اور ڈھیلا ڈھالا عمل ہوتا ہے۔ کیونکہ کوئی کتنی دیر قلعہ بند رہے؟ خود کو قابو میں رکھے؟ اندر بھر جاتا ہے، کوفت بڑھتی جاتی ہے اور تھک کر چور ہو جائیں تو پھر ایک دم پھٹ پڑتے ہیں۔ ایک ایک کر کے آنکھوں کے سامنے گہرے تعلق کا سرا ٹوٹتا ہے اور سرد مہری نکل آتی ہے جو دیکھتے ہی دیکھتے مہر مروت، لحاظ اور تعلق کو چاٹ جاتی ہے۔
کسی بھی چیز سے بڑھ کر مجھے یہ بات سب سے زیادہ کھلتی تھی کہ رفتہ رفتہ ہمارے تعلق میں تازگی اور غیر رواجی ختم ہوتی جا رہی تھی۔ ایک دوسرے کی وہ جان پہچان ہونے لگی جو شناسا تھی۔ یہ خوب آگاہی راس نہیں آتی۔ صرف میرے بس کی بات ہوتی تو شاید ہم کبھی خوگر نہ ہوتے، یہ حد پار نہ کرتے۔ میں تو یہ چاہتا تھا کہ ہم دونوں کے بیچ ایک ماند برقرار رہتی، دھند ہمیشہ چھائی رہتی۔ ہم دونوں کی کمزوری اور اندیشے بے نام رہتے۔ ایک پردہ حائل رہتا۔ یہ کیا ہوا؟ یہی تو ہوا۔ ہاں، بالکل یہی ہوا۔ شناسائی بتدریج گلے کا طوق بن گئی۔ جوں جوں ہم ایک دوجے کے بارے جانتے گئے۔ ایک دوسرے سے واقف ہوئے۔ کمزوری جان گئے تو یہی جان پہچان ہتھیار بن گئی۔چنانچہ جب وقت آیا تو کمزور لمحات میں سب رازفاش ہو گئے۔ جان پہچان الفاظ کی شکل میں بھڑکتے ہوئے شعلوں کی طرح اگلے گئے۔ یہی نہیں ہم نے ایک دوسرے کی انہی باتوں کو نام بھی دینا شروع کر دیا۔ الفاظ تراشے جانے لگے۔ مثال کے طور پر مجھے جاسمین میں ڈر پوکی اور سنگدلی نظر آنے لگی۔ اس کے جسم کی خوشبو بھی عام دنیاوی سی چیز بن کر رہ گئی۔ مجھے اندازہ ہوا کہ میں اس کی آنکھوں کے نیچے کس قدر آسانی سے بڑھتے ہوئے حلقے نہ صرف دیکھ سکتا تھا بلکہ یہ اس سے پہلے کبھی مجھے نظر ہی نہیں آئے۔ میں اس کی سرمئی آنکھوں کے مرکز میں، جہاں اس سے پہلے سر مستی رہا کرتی تھی، اب سوائےچھوٹی لکیروں کے کچھ نہیں دیکھ پا رہا تھا۔ میں یہ مہین سی لکیریں بھی گن سکتا تھا۔ واقفیت کی حد کا اندازہ لگائیں کہ اب مدہوشی کی حالت میں ہوتے ہوئے بھی، اس کی آنکھوں کے خمار کو جانچ لیتا تھا۔
سچ یہ ہے کہ مجھے چنداں پتہ نہیں چلا کہ یہ سب کیسے ہوا؟ حالانکہ ہم دونوں ہی بے انتہا احتیاط برتتے چلے آ رہے تھے۔ ہم ایک دوسرے کے قریب آنے سے ہمیشہ گریزاں رہے۔ یہ ایسا جوکھم تھا جو ہم دونوں میں سے کوئی بھی نہیں اٹھانا چاہتا تھا۔ یہ ایک خوف بہم تھا۔ بالخصوص ان حالات میں، جبکہ جاسمین کسی اور کی منگ تھی۔ نہ صرف یہ کہ وہ کسی اور کی ہو چکی تھی بلکہ برا تو یہ ہوا کہ وہ اس حال میں خوش بھی تھی۔ وہ شادی کرنا چاہتی تھی اور میں اس کی خوشی میں خوش رہنے کا متمنی تھا۔ میں چاہتا تھا کہ اسے وہ حاصل ہو جو اس کی چاہ ہے۔ ویسے بھی، وہ دونوں جیسے ایک دوسرے کے لیے ہی بنے تھے۔ جاسمین کی لانبی گھنی زلفیں اس کے ابھرے ہوئے جبڑوں کے ساتھ خوب جچتی تھیں۔ لیکن مجھ پر جو حال تھا، اس کا احوال صرف کبوتر ہی بتا سکتا تھا۔ میں اندر ہی اندر، اس بات پر کڑھتا رہتا تھا۔ صرف کبوتر نے ہی مجھے اس بابت شدید اذیت اور ذہنی کوفت کی حالت میں دیکھ رکھا تھا۔ کبوتر جانتا تھا کہ میں کس آزار میں مبتلا ہوں، میری جان پر کیا بن پڑی تھی۔ کبوتر یہ بھی سمجھتا تھا کہ میں نیتھن کو کسی بھی صورت دکھ نہیں دینا چاہتا تھا۔ وہ میرے بچپن کا دوست تھا بلکہ کہو، اس گزرے ہوئے زمانے کی آخری نشانی تھا۔ میں اس کی دوستی کو سنبھال کر رکھنا چاہتا تھا۔ موٹے پسوڑے کبوتر نے اپنی گدلائی آنکھوں سے دیکھ رکھا تھا کہ میں جاسمین کے ساتھ تعلق کو کس طرح دن میں بار بار، ہزار بار عقلی ترازو میں تولتا رہتا تھا۔ کبھی اس سے جڑ جاتا اور کبھی دور نکل جاتا۔ اس ساری کوفت کا حاصل یہ ہوا کہ آخر کار میں سمجھ گیا کہ میں اصل بات کبھی نہیں جان پاؤں گا۔ میں اس معمے کو کبھی سمجھ نہیں سکوں گا۔ میں کبھی پتہ نہیں چلا سکوں گا کہ آخر میں کیا چاہتا ہوں؟ میں دو دلی کا شکار تھا۔ مجھے خوشی یہ تھی کہ اس اضطراب میں کبوتر واحد ذی روح ہے جو میری حالت کو سمجھتا ہے اور کبھی میرے بارے الٹی سیدھی، اپنی من چاہی رائے قائم نہیں کرے گا۔ مجھے اس کبوتر کی قدر ہونے لگی۔
یہ کس قدر انوکھی بات ہے کہ نیتھن کے ایکسیڈنٹ کے سات یا آٹھ دن گزر چکے تھے، یعنی میں اور جاسمین ایک دوسرے کے قریب آ چکے تھے اور ہم مکانی دیکھیے کہ کبوتر بھی اسی دوران کھڑکی پر آن بیٹھا تھا۔ گویا وہ جانتا ہو کہ چشم پوشی کے اس مرحلے میں مجھے کسی کا ساتھ چاہیے تھا یا شاید مجھے ایک دوست کی اشد ضرورت ہے۔ پہلے چند روز تو میں سخت اذیت سے دوچار رہا۔ اس دن میں جاسمین کو ہسپتال سے ساتھ ہی لے کر گھر آ گیا۔ اس کے کپڑے خون میں لت پت تھے اور حالت غیر تھی۔ میں نے کپڑے اتار کر اسے شاور کے نیچے بٹھا دیا۔ اس کا اور نیتھن کا خون گرم پانی میں گھل کر موری میں بہہ گیا تو ہم دونوں کو ہی تشفی اور دلاسے کی ضرورت تھی۔ یہ سکون ہمیں ایک دوسرے کی بانہوں میں ہی مل سکتا تھا مگر ہم خود کو روک کر بیٹھے تھے۔
وہ دونوں لمبی چھٹیوں پر سیر کے لیے نکلے ہوئے تھے۔ واپسی پر رات کے وقت اندھیرے میں نیتھن کو سڑک پر گڑھا نظر نہیں آیا۔ موٹر سائیکل اچھلی اور۔۔۔ جاسمین یوں سارا احوال سنا رہی تھی جیسے اس پر دوبارہ گزر رہی ہو۔ اس قصے میں سب سے تکلیف دہ بات یہ تھی کہ اختتام در اصل شروعات تھیں۔ حادثے کے بعد میں نے اسے دیکھا تو وہ خوف اور سردی سے کپکپاتے ہوئے ٹھنڈے فرش پر بیٹھی اپنے آپ سے منہ ہی میں کچھ بڑبڑا رہی تھی۔ اس حالت میں دیکھ کر شاید ہی کوئی اس کے بارے رکھ رکھاؤ یا رسمی طریق کا مظاہرہ کر سکتا تھا۔ اس کے کپڑوں پر جا بجا خون اور پیشاب کے دھبے دیکھ کر خوف زدہ بچے کا گمان ہو رہا تھا ۔ جبکہ اس کے دل میں ہراس اور مایوسی بھری ہوئی تھی۔ تقریباً پورا ایک گھنٹہ میں اس کے پاس فرش پر چپ چاپ بیٹھا رہا اور وہ مسلسل بڑبڑاتی رہی۔ جب ہم اس کی مرہم پٹی کروا کر فارغ ہوئے تو ہسپتال سے رخصت ہوئے نرس نے اطلاع دی کہ نیتھن کوما میں چلا گیا ہے اور مزید کچھ دن تک اسے ہسپتال سے فارغ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ انتہائی غیر متوقع صورتحال تھی۔ شام تک سب کچھ ٹھیک تھا۔ اس حادثے کا سرے سے کوئی احتمال بھی نہیں تھا۔ آج بھی جب میں اس شام میں پھیلی افراتفری بارے سوچتا ہوں تو بالکل یقین نہیں آتا۔ جاسمین کافی دیر بعد بھی صوفے میں گٹھڑی بن کر سمٹی ہوئی ہانپ رہی تھی۔ مجھے صرف یہی سنائی دے رہا تھا، علاوہ اس کی بڑبڑاہٹ کے ہر چیز جیسے ساکت اور کھوکھلی تھی۔ ہم چھ منزلہ عمارت کی پانچویں منزل پر تھے مگر مجھے چھت کے اوپر اور نہ ہی نیچے کچھ سنائی دے رہا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے پوری دنیا صرف ہم دو ہی باقی ہیں اور بے پناہ اداسی کی گچ مٹی ہے جو ہمیں اپنی ثقل کے بوجھ تلے دبائے جا رہی ہے۔بہر حال، ہم دونوں کو ہی کسی سہارے کی ضرورت تھی۔ کسی سے لپٹ کر سنبھالے جانا مطلوب تھا۔ ہم دونوں ہی اس دوران سخت سراسیمہ رہے، ایک دوسرے میں کھب کر بھی بد حواس تھے۔ کچھ بھی حائل نہ رہا مگر پھر بھی الجھن اور ہچکچاہٹ طاری رہی۔ حد پار ہو گئی۔ ہم دونوں کی مضطرب آوازیں نکل کر تیز سانسوں میں ڈھل گئیں اور جسم ایک دوسرے سے بل کھا کر یوں لپٹ گئے جیسے آپس میں گوندھ دیے ہوں۔ مجھے بس اس کے جسم کا تھر تھراتے ہوئے لرزنا اور سخت اینٹھنا یاد ہے۔ جب یہ تمام ہو گیا تو سوائے اس کے کچھ خیال نہ آیا کہ اب یہ ہمارے بس کی بات نہیں رہی۔ ہم بھلے ایسا ہونا نہ چاہتے ہوں مگر یہ پھر دوبارہ ہو کر رہے گا۔ ہم ایک دوسرے سے الگ نہیں رہ سکتے تھے۔
اگلے چند روز تک ہسپتال معمولات کا محور بن کر رہ گیا۔ نیتھن کے سرہانے لگی مشینوں پر دل کی دھڑکن کے اشارے کی آواز اور چہار سو پھیلی بلیچ کی بو کے سوا ہمارے بیچ کچھ بھی نہیں تھا۔ کہو، کہنے کو بھی کچھ نہیں تھا۔ میں صاف دیکھ رہا تھا کہ جاسمین مجھ سے کہیں زیادہ اذیت میں مبتلا ہے کیونکہ لمبی چھٹیوں کے سیر سپاٹے کے دوران ہی اس نے نیتھن سے شادی کی حامی بھر لی تھی۔ مجھے یہ سمجھ آئی کہ اسے اپنے افعال پر زور نہیں تھا۔ اسے سجھائی نہیں دے رہا تھا کہ اس کے کونسے کام غلطی تھے۔ اس سے کس زمرے میں بھول چوک ہوئی تھی، غلط اندازے لگائے تھے۔ وہ ان لوگوں میں سے تھی جو ہر چیز پر پشیمان ہو جایا کرتے ہیں۔
حادثے کے تقریباً ایک ہفتے بعد جاسمین کے گلے پر خراشیں، ٹانگوں اور بانہوں پر نیلے زخم اب مندمل ہو رہے تھے۔ جوں جوں نیلگوں ختم ہوا اس کی ندامت میں اضافہ ہوتا گیا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ نیتھن کے بغیر ہی زندہ تھی۔ وہ جی رہی تھی بلکہ اس کے بنا ہی اچھی بھلی ہوتی جا رہی تھی۔ اس کی سوجھی ہوئی داہنی آنکھ اب پہلے کی طرح تپکتی نہیں تھی یا کم از کم اتنی نہیں تھرتھرا رہی تھی کہ اسے درد کا احساس ہوا کرتا۔ اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھ بھی اب پہلے کی طرح سوکھے پتوں کی طرح لرزتے نہیں تھے یا بظاہر ایسا ہی لگ رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ اب وہ پھر سے اپنے آپ میں پوری ہو چکی تھی، جیسے رات کی تازگی سنبھال کر بیٹھی ہو۔ بالوں کو اچھی طرح سنبھال کر ہر وقت جوڑا بنائے رکھتی اور دو تین دنوں سے سونے کا وہ لاکٹ بھی پہنے ہوئے تھی جو اس نے ہماری پہلی ملاقات کے روز پہن رکھا تھا۔
ہم عجیب دو دھاری پر چل رہے تھے۔ اس رات جو کچھ ہوا، ہم بار بار وہیں پہنچ جاتے۔ تب حد پار ہوئی تھی، اب بالکل مٹ کر رہ گئی۔ خود سے لڑتے جھگڑتے اتنا تھک گئے کہ اب مزید بھڑنے کی سکت باقی نہیں تھی۔ ویسے بھی لڑنا بے سود تھا۔ یہ ہفتے کے دن کی بات ہے۔ شام کے وقت ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ خود فریبی کی انتہا یہ ہو چکی تھی کہ ہم نے بہانہ یہ بنایا کہ اس سارے معاملے کو سلجھانے کے لیے ہمیں بیٹھ کر تسلی سے بات کرنے کی ضرورت ہے۔ فیصلہ کیا کہ جاسمین شام کی چائے پر میرے گھر آئے گی اور وہیں بات کر لیں گے۔ چائے کے معاملے میں ہم انتہائی مختلف واقع ہوئے ہیں۔ جاسمین میٹھی اور سفید مکھن کی طرح جب کہ میں کڑک اور کڑوی چائے پینے کا عادی ہوں۔ وہ چسکیاں لے کر کچھ سوچتے ہوئے جبکہ میں شڑاپ شڑاپ فوراً ہی پیالی خالی کر دیتا ہوں۔ وہ اپنے لیے ہمیشہ گاڑھے دودھ سے چائے بنایا کرتی ہے، اسے پتلا دودھ بالکل پسند نہیں تھا۔ مجھے اس بات کا علم جاسمین اور نیتھن کے بیچ لڑائی کی وجہ سے ہوا۔ ہوا یوں کہ ایک دن نیتھن کا چھوٹا بھائی آئیسک ان سے ملنے آیا ہوا تھا۔ وہ انیس سال کا کھلنڈرا سا اور لاپرواہ لڑکا ہے۔ چنانچہ اس نے بجائے دودھ کی ایک بوتل ختم کرے، نئی کھول دی۔ در اصل یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں ہے مگر پھر بھی سوچیے تو پتہ چلتا ہے کہ اسے اس بات کا قطعاً کوئی خیال نہیں تھا کہ اس طرح چیزوں کی تازگی ختم ہو سکتی ہے یا دودھ جیسی چیز خراب بھی ہو سکتی ہے۔ اس کی یہ حرکت اسی وجہ سے جاسمین کو سڑا گئی جبکہ نیتھن کے نزدیک یہ کوئی اتنی اہم بات نہیں تھی۔ جو سطحی لحاظ سے دیکھیں تو واقعی کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ اس پر جاسمین بگڑ کر نرم مگر انتہائی جفت آواز میں آئیسک کو اس کھلی چھٹی پر تلملانے لگی۔ تھوڑی دیر بعد یہ بات آئی گئی ہو گئی۔ اس کے طیش کا اصل جن تو اس وقت نکلا جب واقعی ایک پر مغز بحث شروع ہوئی۔ ہوا یوں کہ آئیسک نے بوکو حرام کے متعلق کچھ کہہ دیا جس سے جاسمین کو گماں ہوا کہ شاید وہ ان کی حرکات کا دفاع کر رہا ہے۔ یہ انتہائی مضحکہ خیز بات ہے کہ ہم انسانوں کے بیچ کس قدر تیزی اور اتنی آسانی سے بھونڈا پن باہر نکل آتا ہے اور آنکھوں کے سامنے مکروہ ناچ ناچنے لگتا ہے۔ ان تینوں کے بیچ توں تکرار اتنی بڑھی کہ بات آئیسک کی لا پرواہی اور دودھ کی بوتل تک جا پہنچی۔ میں وہاں سے چلا آیا۔ دودھ کی بوتل میرے ذہن میں بیٹھ گئی اور تب سے یہ بات میرے دل و دماغ کے شور و غوغا کے گرد جیسے ہالہ بن کر ہر وقت چھائی رہنے لگی۔
میں دودھ کی قدرے بھاری بوتل ہاتھ سے لگائے، توجہ مجتمع کیے سوچ رہا تھا کہ ہمارے بیچ یہ آنکھ مچولی چائے، خطا کے احساس اور ایک دوجے کی خیر خواہی کے نام پر آخر کتنی دیر تک چل سکتی ہے؟ توقع کے بر خلاف یہ تعلق ابھی تک چل رہا تھا جیسے شدید گرمی کے باوجود پانی بہت آہستہ بخارات میں بدل رہا ہو، جو ظاہر ہے قدرتی نہ ہوتا۔ غیر متوقع بات ہوا کرتی۔ جوں ہی میں گھر کے قریب پہنچا، اسے دوسری طرف سے آتے ہوئے دیکھا۔ ہم نے ایک دوسرے کو دیکھ کر زیادہ جوش و خروش اور نہ ہی عمومی سرسری دکھائی۔ بس ہاتھ ہلا دیا۔ میں نے اسے دودھ کی بوتل دکھائی تو اسے بھی فوراً جھگڑے کی بات یاد آ گئی۔ بجائے اس دن پر بات کرتے، ہم نے اس موضوع کو یوں ہی رہنے دیا جیسے انگور کھاتے کھاتے خوشے میں خراب دانہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔
'آج مجھے ایسے لگا جیسے وہ میرا ہاتھ دبا رہا ہو' جاسمین بولی۔
نیتھن کی حالت ہم دونوں کے بیچ گفتگو کے لیے انتہائی آسان موضوع بن چکا تھا۔ میں نے جانتے بوجھتے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اس کی بات خاصی نا معقول تھی۔ نیتھن کسی بھی صورت حرکت کے قابل نہیں تھا۔ مگر میں نے پھر بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی اور پھر پوچھا،
'کیا تم سوئی تھیں؟'
'بس، سوتی جاگتی رہی۔ لیکن اب میری نیند پہلے سے بہتر ہے۔ پچھلے دو دن سے مجھے کوئی ڈراؤنا خواب نہیں آیا'۔
گفتگو میں جب بھی کبھی روک آتی یا بے وجہ چپ پڑ جاتی تو اس توقف کو توڑنے کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی ایسی بات شروع کرنی پڑتی جو پہلے سے ہی ہمارے علم میں ہوا کرتی تھی۔ مثلاً اس کے ایکسرے کا نتیجہ، نیتھن کے باس سے ہونے والی بات چیت، اس کی طبی وجوہات کی بناء پر چھٹی کا دورانیہ وغیرہ۔ مگر یہ باتیں ہمیشہ بہت جلد ختم ہو جاتیں۔
مجھے قدرے حیرت ہوئی کہ اصل بات، جس کے لیے میں نے اسے بلا بھیجا تھا، وہ بجائے جاسمین نے شروع کی۔ اس نے لگی لپٹی رکھے بغیر ہی کہا، 'یہ ایک غلطی تھی' کچھ دیر توقف سے سانس جمع کی اور پھر بولی، 'میں قطعاً نہیں چاہتی کہ اس وجہ سے نیتھن کی بحالی پر اثر پڑے'۔ وہ ہم دونوں کے لیے اس بے ڈھب کیفیت کو آسان بنا رہی تھی۔ اصل بات تو یہ تھی نیتھن کے متعلق ابھی تک کچھ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا تھا۔ پتہ نہیں، وہ دوبارہ کبھی کوما سے نکل بھی پاتا ہے یا نہیں مگر پھر بھی۔۔۔
'میں سمجھ سکتا ہوں'، مختصراً کہا۔
'مجھے بالکل اندازہ نہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔۔۔ میرے خیال میں ، میں صرف۔۔۔ ہم صرف۔۔۔ پتہ نہیں!' وہ کسمسا کر بولنے لگی تو میں نے بیچ میں ہی ٹوک دیا،
'شاید اس کی وجہ صدمہ تھا۔ یا بے آرامی؟ یا پتہ نہیں کیا۔۔۔ میں اس بارے زیادہ نہیں سوچنا چاہتا'۔ میں نے یہ کہہ کر اس کو درد ناک حالت سے نکالنا چاہا۔
'میں دوبارہ ایسا نہیں کر سکتی' اس نے انتہائی توجہ سے کہا جس پر میں نے کوئی جواب نہیں دیا لیکن میں جانتا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہی ہے۔ اس کی بات میں وزن نہیں تھا۔ کمرے میں پھر چپ طاری ہو گئی۔
'کمپنی کی طرف سے کوئی جواب آیا؟' جاسمین کو چپ توڑنے کے لیے نئی بات ڈھونڈنے میں پورے دو منٹ لگ گئی۔ کوئی ایسی بات، جس سے گفتگو جاری رہ سکے۔
'خط کا لفافہ وہاں پڑا ہے۔۔۔' میں نے کھانے کی میز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا، 'مجھ میں اسے کھول کر پڑنے کی ہمت نہیں ہوئی'۔ اس نے گفتگو جاری رکھی،
'تمہارا کیا خیال ہے کہ انہوں نے کیا جواب دیا ہو گا؟'
میرے پاس اس بات کا بھی کوئی جواب نہیں تھا۔ میں یہاں سے جانا تو چاہتا تھا۔ اس خلا کو توڑ کر باہر نکلنا چاہتا تھا۔ میرے جسم کی پور پور اس حالت سے نکل کر بھاگ کھڑے ہونے کی صدا لگا رہی تھی لیکن مسئلہ یہ تھا کہ میرے پاس تبدیل کرنے، نکل کر جانے کو کوئی جگہ بھی نہیں تھی۔ میں خود کو دھوکہ نہیں دے سکتا تھا، میں جاسمین کو بھی دھوکہ نہیں دے سکتا تھا۔
بے دھیانی میں میری نظریں جاسمین کی برہنہ رانوں پر جا ٹکیں۔ اس کی ایک کے اوپر دھری ہوئی دوسری ٹانگ بالکل صاف، ملائم اور چلن جبکہ نچلی بھدی اور کٹھور سی لگ رہی تھی، جیسے سوکھے ہوئی بے ثمر درخت کی ڈال ہوتی ہے۔ وہ مجھے تاڑتے ہوئے دیکھ کر جھینپ سی گئی۔
'مجھے یقین ہے کہ خط میں کوئی خوش خبری ہی ہو گی'، وہ اپنی ٹانگوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے یوں بولی جیسے میں اسے دق کر رہا ہوں۔ میں فوراً کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا اور منہ موڑ کر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا۔ اس طرح ہم دونوں کے بیچ پورے کمرے کا نپا تلا فاصلہ آ گیا۔ کمرہ بہت بڑا نہیں تھا مگر میں نے سوچا، شاید اس طرح بیچ میں مدھم روشنی اور خلا کی وجہ سے وہ خود کو محفوظ تصور کر سکتی ہے۔ اپنے تئیں میں چوکسی دکھا رہا تھا مگر ظاہر ہے یہ انتہائی بد لحاظ بات تھی۔ بہرحال اس چھوٹے سے کمرے کے کونے میں جا کھڑے ہونے سے بھلے فاصلے نہیں مٹے مگر دوری ضروری آ گئی تھی۔ چونکہ میں کھڑکی سے آگے جا نہیں سکتا تھا، سو وہیں ٹکا رہا۔ میں اس سے فاصلہ رکھنا چاہتا تھا مگر زیادہ دور بھی نہیں جا سکتا تھا۔ میں فاصلے کے باوجود زیادہ دور جانا ہی نہیں چاہتا تھا۔
'اگر یہ خوش خبری نہ بھی ہوئی تو کوشش ہو گی کہ میں جلد ہی اس بات کو بھول جاؤں'، میں نے بے یقینی سے کہا تو وہ بولی، 'ہمم۔۔۔ یہ کوئی اتنی مشکل بات تو نہیں۔ تم یہیں رہ سکتے ہو'۔
یہ سن کر میں ایک دم دلگیر سا ہو گیا۔ کیا وہ میری حالت کو اس قدر فرسودہ اور بے وقعت سمجھ رہی تھی؟ میں یہ سمجھتا رہا کہ شاید وہ بے حس نہیں ہے۔ وہ میرے یوں چلے جانے کی چاہ، اس گھن چکر سے نکلنے کی ضرورت کو بخوبی سمجھتی ہو گی۔ مگر وہ تو اس معاملے میں بالکل کوری نکلی تھی۔ میرا خیال تھا کہ کم از کم وہ جھوٹ موٹ، اس احساس کا ڈھونگ تو رچا ہی سکتی تھی؟ مگر نہیں۔ ویسے یہ کوئی انہونی بات بھی تو نہیں تھی۔ ہم دونوں ہی کئی طرح سے ، پچھلے کافی عرصے سے ڈھونگ کا سہارا لیے ہوئے تھے۔ اس حادثے سے قبل بھی ہم یہ ناٹک کرتے ہی آئے تھے۔ خیر میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔ در اصل مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اسے اپنی حالت کی خبر کیسے کروں؟ کیسے بتاتا کہ میرے اندر چل رہا جھکڑ کس قدر زور آور ہے؟ یہی نہیں بلکہ میں نے اسے اس لیے بھی کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ صرف وہ ہی نہیں بلکہ میں بھی اس بات پر اندر سے مزید چھل کر رہ جاتا کہ وہ میری حالت کو سمجھ ہی نہیں پا رہی۔ یہ انتہائی تکلیف دہ بات بن جاتی، جیسے ناسور ہو۔ ویسے بھی یہ ان باتوں کے لیے ہر گز مناسب وقت نہیں تھا۔ میرے اندر مزید درد جمع ہونے کی کوئی گنجائش باقی نہیں تھی۔ بالخصوص نیتھن کو پیش آنے والے حادثے کے بعد تو ہماری زندگیوں میں بہت سا درد پہلے ہی بھر چکا تھا اور ابھی مزید درد باقی تھا۔ میں جھوٹ نہیں کہوں گا۔ اندر ہی اندر مجھے اپنی سنگ دلی کا احساس ضرور ہوا مگر بجائے اس کی بات کا جواب دیتا، میں نے اسے سیدھا ہی کہا کہ میں اس سارے قصے کے متعلق نیتھن کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔ اسے اس بابت پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ ہم دونوں کے بیچ راز رہے گا۔ مجھے حیرت تو ہوئی مگر اطمینان یہ ہوا کہ اس کے چہرے پر تاثرات سے یہی لگا کہ در اصل وہ یہی سننا چاہتی تھی۔ اسے دوبارہ میرے قریب آنے کے لیے بس، یہی چند جملے درکار تھے۔ وہ پھر سے میری طرف کھنچی چلی آئی۔
اب کی بار ہم دونوں کے بیچ کسی بھی طرح کی بے چینی نہیں تھی۔ ہم نے قطعاً جلد بازی سے کام نہیں لیا۔ وہ مجھے بتا رہی تھی کہ تنہا بسر کرنا کس قدر مشکل کام ہے۔ نیتھن کے ساتھ ایک برس گزارنے کے بعد وہ صرف خود کے لیے کھانا پکانے کے اندازے بھی بھول چکی تھی۔ اب جب بھی وہ پکاتی ہے، کچھ نہ کچھ ہمیشہ بچ رہتا ہے۔ اس کی یہ بات سن کر میں زور سے ہنس پڑا۔ یہ تنہا رہنے کے مضمرات کی انتہائی بودی اور مزاحیہ مثال تھی۔بھلا، یہ کوئی پریشانی کی بات ہے؟ اس پر وہ بھی دیر تک ہنستی رہی۔
'کیا وہ کوما سے نکل آئے گا؟' جاسمین کے سوال میں نراس تھا۔ ابھی تک ہم نے ہی اس بابت کچھ نہیں سوچا تھا۔ کیا پتہ نیتھن مر جائے ؟یا بدتر یہ کہ وہ ہمیشہ کے لیے مجہول ہو جائے؟ ہمیں بالکل اندازہ نہیں تھا کہ جب وہ کوما سے نکلے گا تو اس کی حالت کیا ہو گی۔ اس کی ٹانگ تو پہلے ہی کاٹ دی گئی تھی، کیا وہ اس بابت شدید ڈپریشن کا شکار ہو جائے گا؟ کیا پتہ اس کی یاد داشت ہی چلی گئی ہو؟ یا اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت لوٹنے میں طویل عرصہ درکار ہو؟ ہم دونوں ہی اپنے تئیں، ممکنات کی آخری حد میں ہی سوچنے کو تیار نہ تھے مگر لا شعور میں یہ بات ضرور تھی کہ در اصل نیتھن واقعی مر بھی سکتا ہے!
میں جاسمین کو اس کے سوال پر کسی بھی طرح سے جھوٹی تسلی نہیں دینا چاہتا تھا، اس لیے میں نے اس کے لیے شراب کا گلاس بنا دیا۔ یہ گھٹیا قسم کی انتہائی سستی شراب تھی جو عام حالات میں بھی کوئی نہیں پینا چاہے گا۔ اس وقت تو شاید یہ انتہا درجے کی بد ذوقی شمار ہوتی۔ مگر سفید انگور کی سستی شراب کے چند گھونٹ ہی کافی ثابت ہوئے اور اس کے بعد معاملات نہایت آسان ہو گئے۔ ہم اس خار اور آنکڑوں سے بھرے جنگل میں دوڑنے کے قابل ہو گئے، ہمیں بارب کی چبھن کا بالکل پتہ نہیں چلا۔ ہم کسی بھی قیمت پر ایک دفعہ پھر حد پار کرنے کے لیے راضی تھے۔ اب کی بار اخیر اچھی ہوئی گویا کانٹوں پر تار پور کی قالین بچھا لی تھی۔ ہم دونوں ہی اس حالت کو بخوبی سمجھ چکے تھے۔ ایک دوسرے کی خواہشات کو جانچ لیا تھا۔ اس سراب کو بھانپ گئے تھے۔ میں نے دیکھا کہ اس نے سونے کا وہی لاکٹ پہن رکھا تھا، جو زور زور سے ہلتے ہوئے اس کے جسم کی برہنگی کو مزید واضح کر رہا تھا۔ جاسمین کو کبوتر کی بالکل خبر نہیں تھی مگر نہ جانے کیوں، میری نظریں بجائے جاسمین کے سپید جسم، موٹے پسوڑے کبوتر کی گدلی آنکھوں میں گڑھی ہوئی تھیں۔
کبوتر نے بھی جاسمین کے جانے کا انتظار کیا۔ اب صرف میں ہی نہیں بلکہ وہ بھی اس کے مسلسل کرب اور ندامت پر گویا دریدہ تھا۔ ہم نے اکٹھے کڑک چائے پی۔ ہم دونوں نے ہی مل کر اندازہ لگایا کہ اب مجھے پہلے کی طرح ندامت نہیں تھی، بلکہ میں شرم کی ساری حدیں پار کر چکا تھا۔ اگر پچھتاوے کا کوئی ٹھیکرا باقی بھی تھا تو اب اس کے کونے کھنڈے ہو چکے تھے۔ اب یہ غبی باتیں مجھے زخم دینے کے قابل نہیں تھیں۔
اب تو یہ بہت پرانی بات لگتی ہے۔ مجھے وقت کے ساتھ جاسمین کے جسم کی ہر پور کا اندازہ ہو گیا۔ اس کا ہر درز، چیرا ور خم میرا دیکھا بھالا تھا۔ میں اس کی ہنسی کی کھنک کو سمجھنے لگا تھا۔ پتلی آواز کا اتار چڑھاؤ میرا دیکھا بھالا، ہر سسکی، ہلکے سےغرانا اور نظروں کی ایک ایک گھوری شامل حال ہو گئی۔ سخت صعوبت کے بعد نیتھن بھی تین دن پہلے کوما سے نکل آیا۔ ڈاکٹروں نے اس کی نلکیاں وغیرہ اتار دی تھیں اور اس کے جسم اور اعصاب کی حالت کا تفصیل سے جائزہ لیا جا رہا تھا۔ اس کے ہاتھوں میں ابھی تک کپکپاہٹ تھی۔ چہرے پر موت کے منہ سے زندہ نکل آنے کے بعد خوف کا سایہ جم کر بیٹھ گیا تھا۔ ہر روز صبح ہوتے ہی اس کی حالت غیر ہو جاتی، جیسے وہ خود کو اس دنیا میں بن بلایا مہمان سمجھتا ہو۔ میں نیتھن کو پچھلے بیس برس سے جانتا ہوں۔ وہ انتہائی خود اعتماد اور زندگی گزارنے میں مشاق شخص تھا۔ میں ہمیشہ اس کی روح میں پائے جانے والے ان مٹ پن کا مداح رہا ہوں مگر اب اس کو کٹی ہوئی ٹانگ کے ساتھ یوں بھولا بھٹکا، جسم کی بے گھری کی حالت میں دیکھ کر عجیب سا احساس ہوتا تھا۔ وہ محتاجی اور غیر محتاجی کی حالت کے بیچ معلق بے ڈھنگا سا، آدھا تیتر اور آدھا بٹیر لگ رہا تھا۔
نیتھن کے لیے سب سے مضحک چیز لنگڑا کر چلنا تھا۔ جیسے کوئی دو سال کا بچہ گھسٹ کر چلنے کی کوشش میں بار بار گر جاتا ہو۔ وہ بجائے جسم کا سارا بوجھ نئی ٹانگ، بیساکھی پر ڈال دیتا اور یوں ٹنگا ہوا لگتا۔ چونکہ اس طرح وہ کبھی بھی دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا نہ ہو سکتا، اس لیے ہم دونوں نے کسی نہ کسی طرح اسے بیساکھی چھوڑنے پر راضی کر ہی لیا۔ اب وہ بجائے کرچ، ہم دونوں کے کندھوں کے سہارے چلنے کی کوشش کرتا رہتا۔ وہ ایک بازو میرے، جب کہ دوسرا جاسمین کے کندھے پر لٹکا، بیچ میں لنگڑا کر چلنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کو دیکھ کر تین سر والے، سخت سراسیمہ دیو کا گماں ہوتا۔ میں نے اسے اپنا یہ خیال بتایا تو تینوں دیر تک اس بات پر ہنستے رہے۔ میں جاسمین کے چہرے پر ندامت صاف دیکھ سکتا تھا مگر جوں ہی نیتھن بیچ سے ہٹتا، یہ خجالت غائب ہو جاتی۔ بجائے ہم دونوں اس شرمساری پر توجہ دینے کی کوشش کرتے، شراب کے نشے میں دھت ہو کر پھر سے اپنے جسموں کو شرم اتار کر اس احساس کو تار تار ادھیڑنے پر لگا دیتے۔ جاسمین اکثر اس چکر سے نکلنے کی بات کرتی ہے۔ ہمیشہ کہتی ہے کہ بس یہ آخری بار ہے۔ لیکن پھر فوراً ہی مجھ پر بل پڑتی ہے، برا بھلا کہتی اور میں جان لیتا ہوں کہ اس کا ایسا کچھ ارادہ نہیں ہے۔ چونکہ مجھے اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اس لیے اس کی الزام تراشی پر چنداں توجہ نہیں دیتا لیکن مجھے یہ دھڑکا ضرور لگا رہتا ہے کہ اگر وقت کے ساتھ اس کی یہ مہین سے تندی بھی جاتی رہی تو پھر ۔۔۔؟
چونکہ موسم بدل رہا ہے، اس لیے کبوتر کے لیے ہر وقت کھڑکی کھلی رکھنا ممکن نہیں رہا۔ فضا میں خنکی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے ہٹیلی گرمی کا زور ٹوٹ رہا ہے۔ اس لیے، بس ہلکی سی چیت کھلی رکھتا ہوں جس میں سے صرف باہر کا تھوڑا بہت شور ہی سنائی دیتا ہے۔ کبھی کبھار وہ اپنی چونچ اس کھلی کھڑکی کی چیت کے ساتھ جوڑ کر بیٹھ جاتا ہے لیکن اگر میں اسے اندر لانے کی کوشش کروں، وہ پھڑ پھڑا کر کھڑکی کی دوسری طرف بیڈ روم کی دیوار کے ساتھ چھجے پر نکل جاتا یا اڑ کر گلی میں نکل جاتا اور گھنٹوں غائب رہتا ہے۔ ظاہر ہے، میں نے اس سے فاصلہ رکھنے اور دور رہتے ہوئے پاس ہونے کا گر سیکھ لیا ہے۔ اگر میں ایسا نہ کروں تو شاید اسے ہمیشہ کے لیے کھو دوں گا۔
آج نیتھن کی سالگرہ ہے۔ ہم اسے اس کی دوسری زندگی کا پہلا جنم دن قرار دے رہے ہیں۔ جاسمین نے اس موقع کی مناسبت سے شاندار دعوت کا اہتمام کر رکھا ہے۔ میں اسی کے لیے تیاری میں مشغول ہوں۔ بلا شک و شبہ یہ انتہائی خوشی کا موقع ہے۔ نیتھن نے واقعی موت کو شکست دی ہے۔ موت کے منہ سے اپنے لیے ایک نئی طرز کی زندگی نکال لایا ہے۔ آسمان پر سیاہ کالے اور سرمئی بادل پھیلے ہیں جب کہ فضا میں جیسے کسی نے کہرے کا سفوف چھڑک دیا ہے۔ آج انتہائی غبار آلود اتوار ہے۔ کھڑکی کے باہر ٹٹولنے پر بھی مجھے کبوتر نظر نہیں آیا۔ میں نے اسے کل سے نہیں دیکھا۔
خیر میں نے کندھے اچکے اور کندھوں پر کوٹ لٹکا لیا۔ گردن کے گرد مفلر لپیٹا اور دستانے پہن کر کمرے کے وسط میں پڑی میز سے چابیاں اٹھا لیں۔ کبوتر اس کمرے میں چھپے ہر راز سے واقف ہے۔ اس نے اپنی سبزے سے گدلی آنکھوں سے سب تماشا دیکھ رکھا ہے۔ میں اسی سوچ میں غرق تھا کہ سامنے کتابوں کے شیلف میں جاسمین کے جھمکے نظر آئے جو دور سے جھلملا رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر ایک دم مجھے حادثے کی رات کا خیال آیا، جب میں اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا تھا۔ اس کڑی رات جاسمین کو سنبھالا دینے، سہارنے پر نیتھن دن رات میرا مشکور رہتا ہے۔ کمپنی کا خط وہیں کھڑکی کے پاس میز پر باقی چیزوں کے ساتھ ہی دھرا ہے جس پر کھلی چیت میں بارش کی چھاٹ سے سلوٹیں پڑ چکی ہیں۔ خط کی بغل میں جاسمین اور نیتھن کی شادی کا دعوت نامہ بھی پڑا ہوا ہے۔
باہر فضا خاصی ابر آلود ہے، آج موسلا دھار بارش ہو گی۔ میں نے آگے بڑھ کر کھڑکی بند کرنی چاہی تو کسی چیز کے گھسٹنے کی ہلکی سی آواز آئی۔ جیسے کاغذوں کا بھاری پلندا سرکا ہو۔ سر باہر نکال کر چھتی پر جھانکا تو سیمنٹ کے فرش پر کئی دن سے بارش کا پانی جمع ہو کر تالاب سا بن گیا تھا۔ پانی میں ایک گول مٹول پتھر کے گرد کبوتر پر پھیلائے لپٹا، بے سدھ پڑا تھا ۔ اس کے ننھے دل میں حرکت بالکل جامد ہو چکی تھی۔ آنکھیں بند اور جسم ٹھنڈا یخ ہو رہا ہے۔ مرنے کے بعد بھی چونچ اس قدر سختی سے دبا کر بند ہے جیسے ڈرتا ہو کہ بے دھیانی میں کوئی بات پھسل جائے گی۔
(ماخوذ، دسمبر 2016ء)
یہ کہانی  صلہ عمر پر جاری سلسلے "ماخوذ کہانیاں" کا حصہ ہے۔ اس سلسلے کی تمام تحاریر کی فہرست یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر) پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں یا obangash@gmail.com پر ای میل کریں۔ شکریہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر