ناخدا

آج پھر گھر جاؤں گا تو بیوی ہمیشہ کی طرح ناک سکوڑ کر بیٹھی ہو گی۔ اس کی ہمیشہ ایک ہی رٹ ہوتی ہے، ' تم سے موت کی بو آتی ہے'۔ اسی لیے اس نے پہلے سے ہی گھر کے دروازے کے پیچھےگرم پانی کے دو ٹب بھر کر رکھ دیے ہوں گے۔ ان میں سے ایک کپڑے دھونے جبکہ دوسرا نہانے کے لیے ہے۔ عام طور پر ہوتا یوں ہے کہ جب تک میں جسم سے مردوں کی بو دور نہ کر لوں، وہ مجھے گھر کے اندر داخل نہیں ہونے دیتی۔
میری بیوی کی اس عادت پر میرے دوست تو خوب مذاق اڑاتے ہیں لیکن ہمسائیاں بہرحال میری عزت کرتی ہیں۔ اگرچہ ہمارے یہاں عورت کا مرد کو کسی کام پر مجبور کرنے کا رواج نہیں ہے لیکن میرے دوستوں کو علم نہیں کہ میں اپنی بیوی کا کس قدر احسان مند ہوں۔
جسم سے چپکی مردے کی بو سے چھٹکارا حاصل کرنا بھی ایک فن ہے ۔ اس کا تعلق موت کی وجوہات اور وقت سے جڑا ہے۔ پچھلے پانچ برس کی مشق کے بعد میں اس فن میں طاق ہو چکا ہوں۔ مثال کے طور پر آگ سے جل کر مرنے والوں کی بو دور کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ فی الفور نہانے کا بندوبست کر دیا جائے۔ عام طور پر ایک ہی دفعہ اچھی طرح نہانے سے کام نکل جاتا ہے۔ جہاں تک گلی سڑی لاشوں کی سرانڈ دور کرنے کی بات ہے تو اس کے لیے جسم کو کئی بار سخت داندوں والے برش سے رگڑ رگڑ کر صاف کرنا پڑتا ہے۔ بالوں کو صابن کے ساتھ شیمپو سے بھی دھونا پڑتا ہے اور ناخنوں کے اندر سے بھی میل نکالنی پڑتی ہے۔ عام غسل کی طرح، صرف تین بار پانی بہانے سے ہر گز کام نہیں چلتا۔
میں اپنے گاؤں اور برادری کے لوگوں کا ملک ہوں لیکن تمام فیصلے مل جل کر طے کیے جاتے ہیں ۔ تنازعات کا حل تلاشنے کے لیے جرگے کا انعقاد ہوتا ہے ، مگر یہ ضرور ہے کہ معاملات کو آسانی سے طے کروانے کے لیے لوگ میری رائے کو دوسروں سے مقدم جانتے ہیں۔ منہ پر تو ایسا ہی ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ پیٹھ پیچھے سبھی لوگ میرے بارے میں عجیب و غریب باتیں گھڑتے رہتے ہیں۔ کئی بار ایسا ہوا کہ کسی کام سے واپس گاؤں پہنچا تو چھوٹے بچے دوڑ کر مجھ سے لپٹ گئے ۔ وہ میرے کپڑوں میں ناکیں دبا کر کچھ سونگھنے کی کوشش کرتے رہتے تھے۔ ظاہر ہے، بچوں کے ماں باپ اپنے گھروں میں میرے کام کی بابت بات چیت کرتے رہتے ہیں۔ بچے تو خیر بچے ہیں، بڑے بھی مجھ سے اکثر دور ہی رہتے ہیں۔ وہ بچوں کی طرح عام طور پر میرے کام سے متعلق سوالات نہیں پوچھتے، کیوں کہ دل دہلا دینے والے جوابات سے ان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔
اس گاؤں میں بسنے والے لوگ پشتون ہیں اور سبھی کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں۔ دریائےارغنداب کے کنارے آباد اس وادی کے گاؤں میں انار اور انگور کاشت کیے جاتے ہیں۔ افغانستان کے طول و عرض میں قندھار کے اناروں کی دھوم ہے۔ اکثر جب موسم اور حالات اجازت دیں تو ہم یہ پھل سرحد کے اس پار پاکستان کی منڈیوں میں بھی بھجوا دیا کرتے ہیں جس سے اچھا خاصا منافع مل جاتا ہے۔ پہلے پہل میں بھی کھیتی باڑی کا کام کیا کرتا تھا مگر جب سے جنگ شروع ہوئی ہے، میں نے یہ پیشہ ترک کر دیاہے۔ اب میرے پانچوں بیٹے مل کر یہی کام کرتے ہیں اور اکثر مجھ سے بھی مشورہ وغیرہ کر لیتے ہیں۔ میں بھی وقت ملے تو کبھی کبھار ان کا ہاتھ بٹا لیتا ہوں۔
عام طور پر میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ جیسے آج صبح میں ابھی فجر کی نماز پڑھ کر فارغ ہوا تھا کہ کمانڈر فرہاد کی کال آ گئی۔ یہ صبح کاذب کا وقت تھا، ابھی سورج نہیں نکلا تھا۔ بیوی باورچی خانے میں ناشتہ بنا رہی تھی جب کہ بیٹے اپنے اپنے کاموں کے لیے تیاری پکڑ رہے تھے۔ ایسے میں، میں باہر نکل کر برآمدے میں آن بیٹھا ۔ بیوی نے سبز چائے، چند پتاسے اور گرما گرم توے کا نان لا کر سامنے رکھ دیا۔ یہی میرا ناشتہ تھا۔
'ملک، خاک ریز میں آج صبح ہی صبح شدید فضائی بمباری کی اطلاع ہے' کمانڈر نے چھوٹتے ہی بتایا۔ ' امریکیوں نے غلطی سے اپنے ہی چند فوجیوں پر بم گرا دیے۔ ان کے ساتھ ہمارے افغان پولیس والے بھی تھے اور عین ممکن ہے کہ اکا دکا طالبان بھی اس حملے کا نشانہ بنے ہوں گے'۔
'کل کتنے آدمی تھے اور خاک ریز میں کس جگہ پر؟' میں نے اطمینان سے نان کا نوالہ توڑ کر منہ میں ڈال، اوپر سے چائے کی گھونٹ حلق میں اتارتے ہوئے پوچھا۔ میں اپنے ہمسائیوں کی طرح نہیں ہوں جو غیر ملکیوں سے نفرت کرتے ہیں۔ میں اس سے پہلے بھی جہازوں کو بم برساتے دیکھ چکا ہوں۔ بمباری کی جگہ پر اتنی زیادہ تباہی ہوتی ہے کہ سوچ کر ہی خوف آتا ہے۔ اس طرح کے کئی حملوں میں میرے قریبی دوست بھی بمباری کا نشانہ بن چکے تھے۔ بات یہ ہے کہ مجھے انسانوں سے نفرت نہیں لیکن تمام تر مشاہدے اور وجوہات کی بناء پر میں سوچتا ہوں کہ خدا کی ذات بے نیاز ہوتی ہے۔ امریکیوں کے ہاتھوں اکثر اپنے ہی فوجیوں کی ہلاکت در اصل رب ذوالجلال کا طریق انصاف ہے۔
'ابھی تک تو یہی اطلاع ہے کہ ہلاک شدگان میں کم از کم تین امریکی ہیں۔ ان کا کمانڈر بھی میرے دفتر پہنچ آیا ہے اور جاننا چاہتا ہے کہ کیا اس کام میں تم ہماری مدد کرو گے؟ ' اس نے سنجیدگی سے پوچھا، 'اور جہاں تک جگہ کا تعلق ہے۔ آخر اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ خاک ریز کا سارا ضلع ہی رحیم گل کے قبضے میں ہے'۔
اس سے آگے اس کی آواز میں منت تھی، 'عزیز کاکو، دیکھو یہ انتہائی اہم معاملہ ہے۔ امریکیوں نے خود کہا ہے'۔
میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میں فرہاد کے دل میں اصل بات کیا ہے۔ اس کا مدعا یہ تھا کہ میں اس کی مدد کروں تا کہ وہ امریکیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مضبوط کر سکے۔ سرکاری افسروں کے لیے امریکی نہایت اہم لوگ تھے اور وہ ہر قیمت پر ان کے ساتھ گٹھ جوڑ بنائے رکھتے تھے۔ صوبے میں طاقتور لوگ اکثر امریکیوں سے ثالثی اور پیسے کی درخواست کرتے رہتے تھے تا کہ وہ ان وسائل سے اپنے حریفوں کے ساتھ تنازعات ختم کر سکیں۔ ان میں کئی تو ایسے تھے جو امریکیوں کے ساتھ تعلقات کی بناء پر اچھی خاصی دولت جمع کر چکے تھے۔ فرہاد کا خیال تھا کہ شاید امریکیوں کا نام سنتے ہی میں بھی رال ٹپکاتے، اس کی مدد کو دوڑ پڑوں گا۔ لیکن مجھے کوئی شوق نہیں تھا۔
'ٹھیک ہے، ٹھیک ہے'، میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، 'میں کوشش کروں گا مگر انہیں بتا دو کہ وہ مجھ سے کسی بھی قسم کی کوئی توقع نہ رکھیں'۔
فرہاد کا فون بند ہوا تو میں نے فوراً رحیم گل کو کال ملا دی۔ چونکہ امریکیوں کی وجہ سے یہ معاملہ خاصی پیچیدگی اختیار کر چکا تھا، اس لیے بات چیت آگے بڑھانا نہایت دشوار ہو گیا تھا۔ رحیم گل اور میں اچھے دوست تھے لیکن جنگجوؤں کا کچھ بھروسا نہیں ہوتا ہے۔ عموماً یہ نہایت غیر سنجیدہ اور نا پیش بیں واقع ہوتے ہیں۔ سالہا سال کی مشقت اور جنگجوئی کے باعث یہ دلیل کے ہاتھ سے نکل چکے ہوتے ہیں۔
'آخر میں ان حرام زادوں کی لاشیں تمھارے حوالے کیوں کروں؟' رحیم گل نے فون پر تقریباً چلا تے ہوئے پوچھا۔ عام طور پر وہ جب بھی مجھ سے بات کرتا تھا تو مجھے فٹ پتہ چل جاتا کہ وہ خواہ مخواہمجھ سے چھیڑ چھاڑ کر رہا ہے یا واقعی سنجیدہ ہے؟ لیکن آج اس کے طور ہی بدلے ہوئے تھے۔ اس کی باتوں سے مجھے اس کی طبیعت کا بالکل اندازہ نہیں پا ہو رہا تھا۔
شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے اس کا بھی کبھی امریکیوں سے اس طرح پالا نہیں پڑا تھا۔ شاید وہ ذہن میں ان لاشوں کی ممکنہ قیمت لگانے کی کوشش کر رہا تھا۔ رحیم گل جیسا چھوٹا موٹا کمانڈر، جس کا ہر سال میں تقریباً نو ماہ کا عرصہ جنوب کے صحرا اور کوہستانی علاقے میں خاک چھانتے گزرتی تھی، اس کے لیے امریکیوں کی لاشیں ہاتھ لگنا واقعی بڑی بات تھی۔
'وہ اس لیے رحیم گل کہ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے۔ افغان حکومت اور امریکیوں کے ساتھ یہ بات اسی طرح طے ہے' میں نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا حالانکہ میں جھوٹ بول رہا تھا۔ عام طور پر ہوتا یوں تھا کہ افغانوں کے بدلے افغان لاشوں کو فوراً ہی لوٹا دیا جاتا تھا۔ بعض اوقات ان میں پاکستانی اور ازبک لاشےبھی نکل آتے تھے لیکن وہ بھی اسی شمار میں لگتے تھے۔ ایک دفعہ تو میں نے ایک چیچن کی لاش بھی پہنچائی تھی جس کے بالوں کا رنگ زعفرانی اور آنکھیں خرگوش جیسی تھیں۔ امریکیوں کا معاملہ دوسرا تھا۔ سچی بات یہ تھی کہ ویسے تو مجھے ان معاملات سے کوئی لینا دینا نہیں تھا مگر ظاہر ہے امریکیوں کے لاشے اٹھانا میرے لیے بھی بڑا امتحان تھا۔
رحیم گل میری بات سن کر چپ ہو گیا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ معاملے کی سنگینی پر سوچ وچارکر رہا ہے۔ میں نے بھی اسے سوچنے کا پورا موقع دیا اور اپنی تمام تر توجہ دوبارہ ناشتے کی طرف مبزول کر دی۔ نمکین نان اور میٹھی چائے، حلق تر ہو گیا۔ رحیم گل بیوقوف نہیں تھا کہ فوراً ہی جواب دے دیتا۔ چونکہ میں نے اسے ذاتی طور پر درخواست کی تھی، اسی لیے وہ شش و پنج میں پڑ گیا تھا۔ در اصل میں نے اس پر کئی احسانات کر رکھے تھے۔ کئی مواقع پر میں نے ہی اس کی مدد کی تھی۔ صوبے کے دور دراز علاقوں میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرتے ہوئے ، صرف ایک بار کہنے پر ہی اس کے آدمیوں کے لاشیں صحیح سلامت واپس نکال لایا تھا۔ اسی لیے، وہ مجھے یوں ایک دم انکار نہیں کر سکتا تھا۔
'میں تمہاری بات پر غور کروں گا' اس نے بالآخر جواب دیا۔ 'تم آ جاؤ۔ ان میں جو افغانوں کی لاشیں ہیں، ابھی آ کر کم از کم انہیں تو اٹھا لو۔ امریکیوں کے بارے میں ہم بعد میں بات کریں گے'۔
میں نے پہلے بھی امریکیوں کی لاشیں دیکھ رکھی تھیں۔ کئی سال پہلے کا واقعہ ہے۔ ایک دن قندھار میں میری آنکھوں کے سامنے امریکیوں کے فوجی قافلے میں بم پھٹ گیا۔ دھماکہ اس قدر زور دار تھا کہ فوجی گاڑی کا پورا حصہ اڑ گیا تھا۔ ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیل گیا اور سینکڑوں لوگ جمع ہو گئے مگر کوئی بھی قافلے کی گاڑیوں کے نزدیک جانے پر تیار نہیں تھا۔ کافی دیر بعد بچ جانے والے فوجیوں نے خود ہی ہمت کی اور تباہ شدہ گاڑی میں سے دو لاشیں نکال لیں۔ ان میں سے ایک لاش تو جل کر بالکل سیاہ ہو چکی تھی جبکہ دوسری بھی اس قدر خراب ہو چکی تھی، جیسے بچوں کا کوئی کھلونا گل سڑ جائے تو مڑ ترڑجاتا ہے۔
رحیم گل کے حامی بھرنے کے بعد میں فوراً ہی سفر پر نکل گیا۔ خاک ریز پہنچنے کے لیے ایک طویل صحرائی پٹی عبور کرنی پڑتی ہے۔ راستے کے چاروں اطراف میں بھوری مٹی اور سخت پتھریلا علاقہ ہے جس میں صرف کوچی خانہ بدوش بسر رکھتے ہیں۔ یہاں فصل اگانا ناممکن ہے۔
دو سال قبل امریکیوں نے خاک ریز کے صحرا میں ایک پکی سڑک تعمیر کی تھی جس کی وجہ سے عام افغان لوگ ان سے پہلے سے بھی زیادہ نفرت کرنے لگے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ صوبے کے گورنر نے اس پراجیکٹ میں بدعنوانی سے خوب پیسہ بنایا اور مقامی طالبان کمانڈر کو بھی اچھا خاصا معاوضہ ادا کیا گیا تا کہ وہ تعمیراتی کام میں رخنے نہ ڈال سکے۔ یہ تو تب کی بات تھی لیکن میں ذاتی طور پر اس سڑک سے بہت خوش ہوں۔ کم از کم اس صحرائی پٹی میں بلال کو گاڑی چلانے میں تو آسانی رہتی ہے جبکہ ہمارا سفر بھی آسانی سے طے ہو جاتا ہے۔ بلال میری گاڑی کا ڈرائیور ہے اور کام میں ہاتھ بٹاتا ہے۔
گاڑی کے اندر عام طور پر بلال کی ہی چلتی ہے۔ وہ ہر وقت پاکستانی گانے سنتا رہتا ہے۔ گانوں کی آواز اس قدر اونچی ہوتی ہے کہ سپیکروں کے پھٹے ہوئے پردے لرزنے لگتے ہیں اور گاڑی میں بیٹھنا دو بھر ہو جاتا ہے۔ جہاں سے بھی ہم گزریں، خاک ریز اور ارغنداب کے بیچ دور دور تک کھلے میدان اس شور کو ویسے ہی سنا جا سکتا ہے جیسے دور کھیتوں میں کسی ٹریکٹر کی آواز گونجتی سنائی دیتی رہتی ہے۔ میں اکثر اسے خاک ریز کی حدود میں داخل ہونے کے بعد اتنی اونچی آواز میں گانے بجانے سے منع کرتا ہوں کیونکہ طالبان موسیقی کو پسند نہیں کرتے۔ وہ ہر بار میر ی بات سن کر نہایت فرمانبرداری سے سر ہلاتا ہے اور پھر سگریٹ سلگا لیتا ہے۔ طالبان سگریٹ پینے کو بھی معیوب سمجھتے ہیں۔
میرا سب سے چھوٹا بیٹا اکثر مجھ سے طالبان کی بابت سوال پوچھتا رہتا ہے۔ میں اسے اس دن کا قصہ سناتا ہوں جب طالبان نے ہمارے گاؤں پر دھاوا بولا تھا۔ جب وہ آئے تو انہوں نے کسی کو کچھ نہیں کہا بلکہ صرف روح اللہ کو گرفتار کیا۔ روح اللہ ہمارے گاؤں کا جنگجو سردار تھا جو ان کسانوں کے ہاتھ کاٹ دیتا تھا جو اسے فصل میں حصہ دینے سے انکار کرتے تھے۔ طالبان نے روح اللہ کے گلے میں پٹا باندھا اور کافی دیر تک گاؤں کی گلیوں میں گھماتے رہے ۔ پھر جب سب لوگ جمع ہو گئے تو ان میں سے ایک آدمی نے کلاشنکوف نکالی اور بغیر کچھ کہے سب کے سامنے اس کو موقع پر گولی مار دی۔ وہ واپس جاتے ہوئے روح اللہ کی لاش کو گاؤں کے چوراہے میں لٹکا گئے جو تین ہفتے تک وہی ٹنگی رہی۔ یوں اس گاؤں میں طالبان کی دھاک بیٹھ گئی۔
میں اور بلال وقت سے پہلے ہی منزل پر پہنچ گئے جو مجھے ہر گز پسند نہیں ہے۔بلال نے گاڑی کو شہر سے باہر شمال کی جانب سڑک سے اتار کر پتھریلے میدان میں اتار دی اور ہم قدرے فاصلے پر کھڑے ہو کر رحیم گل کا انتظار کرنے لگے۔ اصل میں ہم جب بھی وقت سے پہلے پہنچ کر انتظار کرتے، طالبان ہم پر معمول سے زیادہ شک کیا کرتے تھے۔ فضائی بمباری نے انہیں اس معاملے میں سنکی بنا دیا تھا۔ چونکہ گرمی بڑھ رہی تھی ، اس لیے بلال نے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔ وہ سر نکال کر کھلے میدان میں دور نظریں دوڑانے لگا تا کہ اٹھتے ہوئے دھوئیں کے آثار ڈھونڈ سکے۔ وہ اکثر بے صبری دکھاتا، مقصد یہ تھا کہ وہ پہلے سے ہی حملے کے محل وقوع کا اندازہ لگا سکے اور اسے رحیم گل کے بتانے سے قبل ہی سمت کا پتہ ہو۔ بلال کو کون سمجھائے کہ صحراؤں میں اس طرح سمت اور فاصلے ماپنا سر اسر بیوقوفی ہے۔
تھوڑی ہی دیر بعد ایک پرانی ڈبل کیب ٹویوٹاڈاٹسن گاڑی ہماری گاڑی کے قریب آ کر رکی جس میں پانچ افراد پھنس کر سوار تھے ۔ ایک دوسرے کے بیچ میں ہی انہوں نے اپنی مشین گنیں بھی ٹھونس رکھی تھیں۔ رحیم گل فرنٹ سیٹ سے اتر اور مجھے ہاتھ کے اشارے سے اپنی گاڑی کے پاس بلایا۔
'تم کتنی دیر سے یہاں انتظار کر رہے ہو؟' اس نے اوپر آسمان میں دور تک جھانکتے ہوئے پوچھا،
'ابھی صرف پانچ سات منٹ ہی گزرے ہوں گے' میں نے کہا، 'اصل میں سڑک بہت ہموار ہے، وقت سے پہلے ہی پہنچ گئے'۔
رحیم گل نے اس بات کا کوئی جواب نہیں دیا اور بدستور سر کے اوپر نیلے آسمان کو ٹٹولتا رہا۔ پھر اس نے اپنے دو آدمیوں کو گاڑی سے اترنے کا اشارہ کیا۔ وہ بمشکل نیچے اترے ، بندوقیں اور کمر سے بندھی کارتوسوں کی پٹیاں سیدھی کیں اور خالی نظروں اور سپاٹ چہروں کے ساتھ ہماری جانب بڑھے۔ میں نے ہمیشہ طالبان کو ایسا ہی پایا ہے، انہیں دیکھ کر میں اکثر سوچتا ہوں کہ بھلا کوئی شخص ہمیشہ چہرے پر ایک ہی طرح کے تاثرات کیسے بنائے رکھ سکتا ہے؟ یک رنگا کیوں کر ہو سکتا ہے؟
ان آدمیوں نے بغیر کچھ کہے ہماری تلاشی شروع کر دی۔ جیبوں میں ہاتھ مار کر شناختی کاغذات، پیسے اور فون نکال لیا۔ فون میں آخری کی جانے والی کالوں کا ریکارڈ چیک کیا اور پھر پورے جسم کی تفصیل سے تلاشی لی۔ وہ ہمارے بازؤں اور ٹانگوں میں ٹریکنگ چپ تلاش کر رہے تھے۔ جب انہیں اطمینان ہو گیا تو وہ رحیم گل کی جانب دیکھنے لگے۔
'پچھلی سیٹ پر بیٹھ جاؤ' رحیم گل نے انہیں حکم دیا، 'اور تم بھی۔۔۔' اس نے مجھے بھی اشارے سے کہا۔
گاڑی میں رحیم گل نے کوئی بات نہیں کی۔ شکر ہے بلال نے پہلے ہی گاڑی کے ٹیپ ریکارڈر کو بند کر دیا تھا اور سگریٹ چھپا لیے تھے۔ ہم رحیم گل کی گاڑی کے پیچھے چلتے گئے۔ رفتہ رفتہ راستہ نا ہموار ہوتا جا رہا تھا اورسامنے دور تک صحرا کا خالی میدان پھیلا ہوا تھا۔ میں نے فیصلہ کیا کہ رحیم گل سے ابھی امریکیوں کے بارے میں کوئی بات نہیں کروں گا۔ عین ممکن تھا، میرے اصرار پر وہ ہتھے سے اکھڑ جائے یا خواہ مخواہ اس بارے بھی شک کرے؟
آگے بڑھنے پر شمال کی جانب دور ایک گاؤں دکھائی دے رہا تھا جو دور سے مٹی اور گارے کا ڈھیر ہی نظر آ رہا تھا۔ اتنے فاصلے سے ایسا لگتا تھا جیسے ان دیہاتوں میں زندگی کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے۔ مال مویشی، فصلیں اور نہ ہی لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ جس طرف دیکھو گارے کی دیواریں تھیں اور سب کچھ انکے پیچھے چھپا ہوا تھا۔ تقریباً بیس منٹ گاڑی مسلسل چلتی رہی اور آخر کار ہمیں راستے سے تھوڑی دور سیاہ دھوئیں کی باریک سی لکیر اٹھتی دکھائی جو خاصے بھاری بھر کم بم پھٹنے کی جگہ کی نشانی تھی۔
دھماکہ بہت زور دار رہا ہو گا کیونکہ دور سے ہی ڈھلوان کے پاس دکھائی دینے والے آثار بتا رہے تھے کہ یہ ایک بہت بڑے گڑھے کا دہانہ ہے۔ میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا مگر یہ گاؤں سے تقریباً ایک کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہو گا۔ ہمارے آگے والی گاڑی کا ڈرائیور اب بہت محتاط ہو گیا تھا۔ کچے راستے سے اترتے ہی اس کی رفتار کافی سست ہو گئی تھی ۔ وہ کھلے میدان میں نصب بارودی سرنگوں کے نقشے کو دیکھ کر آگے بڑھ رہا تھا۔
ہم تقریباً اسی طرح چیونٹی کی چال چلتے ہوئے تقریباً دس مزید منٹ تک مزید سفر کرتے رہے اور بالآخر گاؤں میں داخل ہو گئے۔ گاؤں کے مرکز میں مسجد کے باہر چوپال پر چند لوگ جمع تھے۔ وقوعہ سے نکالی گئی لاشوں کو تیز دھوپ اور گرمی سے بچانے کے لیے سفید چادریں ڈال کر ڈھانپ دیا گیا تھا ۔ یہ کمانڈر فرہاد کے سپاہیوں کی لاشیں تھیں جن کے چیتھڑے بھی اڑ چکے تھے۔ بعض کی حالت تو ایسی تھی کہ کٹی ہوئی لاتوں پر گوشت اور اعضا کو جمع کر کے ڈھیری لگا دی گئی تھی۔ اس احاطے میں زنگ، بارود اور خون کی بو پھیلی ہوئی تھی۔
'تم انہیں اپنی گاڑی میں لاد سکتے ہو' رحیم گل نے مجھے لاشیں اٹھانے کی اجازت دی اور جوتے اتار کر مسجد میں داخل ہو گیا۔ دروازے سے مڑ کر کہا، 'میرے آدمی تمہاری مدد کریں گے'۔
میں اور بلال نے سب سے پہلے ان لاشوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا جن کی حالت قدرے بہتر تھی۔ ایسی صرف دو ہی تھیں۔ لوگوں نے لاشوں کو موٹے اونی کمبلوں میں لپیٹ رکھا تھا جن کے کونوں سے پکڑ کر ہم نے ایک کے بعد دوسری لاش کو گاڑی میں لادنے کا مشکل کام شروع کر دیا۔ اچھی بات یہ تھی کہ حملے کو ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی ورنہ گلی سڑی لاشوں کی سڑاند ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ دھماکہ سے پیدا ہونے والی گرمی سے جسم پر پڑنے والے زخم بھی جل گئے تھے، اس لیے خون وغیرہ بہنے کا مسئلہ بھی پیش نہیں آ رہا تھا۔ رحیم گل کے آدمی مدد کرنے کی بجائے چپ چاپ کھڑے تماشا کرتے رہے۔
افغانستان کے کسی بھی حصے میں چلے جائیں، ہر جگہ پر یہی رواج ہے۔ مہمانوں کو چائے نہ پلانا بد ذوقی سمجھی جاتی ہے لیکن ان حالات میں، ظاہر ہے مجھے کوئی گلہ نہیں تھا۔ لیکن جب رحیم گل مسجد سے تھرموس اور شیشیے کے گلاس اٹھائے برآمد ہوا تو بلال نے مجھے آنکھ ماری ۔ شاید، میری طرح وہ بھی اسی بابت سوچ رہا تھا۔ ہم نے دوسری لاش اٹھائی اور اسے گاڑی کے پیچھے ٹرنک میں لاد دیا۔ سپاہی کا چہرہ سلامت تھا۔ یہ ایک خوبرو جوان کی لاش تھی جس کی ابھی داڑھی بھی پوری نہیں نکلی تھی۔ رحیم گل نے ہمارے لیے خود چائے ڈالی اور یوں تواضع کی۔
'یہ لوگ باقی لاشیں گاڑی میں لاد دیں گے' اس نے اپنے آدمیوں کو انسانی اعضاء کی گٹھڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ اب کی بار رحیم گل کے ساتھی بغیر کچھ کہے فوراً ہی کام پر لگ گئے ۔ وہ بچے کھچےاعضاء کی گٹھڑیاں باندھ کر نہایت بے دردی سے گاڑی میں پھینکنے لگے۔ رحیم گل احاطے سے نکل کر ایک گلی میں چلا گیا۔ میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔
احاطے میں تو درختوں کا سایہ تھا، لیکن باہر خوب گرمی پڑ رہی تھی۔ اگر ایک دن مزید گزر جاتا تو پورے گاؤں میں سڑی ہوئی لاشوں کی بد بو پھیل جاتی ۔ رحیم گل کا رخ وقوعہ کی جانب تھا، جہاں اب دھواں اٹھنا تقریباً ختم ہو چکا تھا۔ اس کے آدمیوں نے امریکیوں کی لاشوں کو وہیں پڑے رہنے دیا تھا۔ ہم ان کی بابت موقع پر پہنچ کر بات کریں گے۔
دھماکے سے پڑنے والا گڑھا گاؤں سے زیادہ دور نہیں تھا لیکن ظاہر ہے، گاؤں کے بیچ سے گزر کر جانا پڑتا تھا۔ گاؤں کی گلیاں قدرے تنگ تھیں اور مٹی کے گھروندے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے۔ کسانوں نے گاؤں کے بیچ میں سے ہی پانی کی چھوٹی سی نہر نکال رکھی تھی جو ڈھلوان میں بہہ کر کھیتوں کو سیراب کرتی اور لوگ اسی پانی کو کھانے پینے اور نہانے وغیرہ کے لیے استعمال کرتے۔ یہ نہر گاؤں کے پیچھے ہی ایک اونچی پہاڑی سے نکلتی تھی جو گاؤں پر سایہ کیے ہوئے تھی۔
دن خاصا چڑھ آیا تھا اور اس پہر گاؤں میں صرف گنے چنے لوگ ہی دکھائی دے رہے تھے۔ مرد کھیتوں میں گندم کی کٹائی میں مصروف تھے جبکہ عورتیں اور بچے گھروں کے اندر بند تھے۔ یہ سب پشتون گھرانے طالبان کے زیر سایہ بسر کر رہے تھے۔ ان دیہاتیوں کے لیے یہاں کسی قسم کی حکومت کا کوئی وجود نہیں تھا۔ وہ لولی لنگڑی حکومت جس کے بار ے سنتے تھے بدعنوان اور فاجر تھی۔ بظاہر یہ دو چیزیں کوئی بھی افغان برداشت نہیں کر سکتا تھا۔
گاؤں سے نکلے تو پہاڑی کے ساتھ نا ہموار راستہ نکلتا تھا۔ رحیم گل کچے راستے پر پہنچتے ہی ایک دفعہ پھر احتیاط کے ساتھ قدم جماتے ہوئے عین وسط میں ناک کی سیدھ میں چلنے لگا۔ میں بھی اس کے پیچھے، قدموں پر قدم رکھ کر چلتا رہا۔ جلد ہی ہم اس جگہ پہنچ گئے جہاں سامنے وسیع وادی نظر آتی تھی اور دور تک کھیت پھیلے ہوئے تھے۔
'ہاں۔۔۔ وہ دیکھو۔ وہ رہے!' اس نے بندوق کی نال سے گڑھے کی ایک جانب پڑے مینڈ کی جانب اشارہ کیا، 'تمہارے دوستوں کی لاشیں وہ سامنے پڑی ہیں'۔
ظاہر ہے، رحیم گل امریکیوں کو میرا دوست قرار دے کر بے عزتی کرنا چاہتا تھا لیکن میں اس کی ان باتوں کا برا نہیں مناتا تھا۔ لیکن یہ بہت عجیب بات تھی کہ صرف افغان پولیس یا امریکی فوج ہی نہیں بلکہ خود اس کے اپنے سینکڑوں ساتھی طویل جنگ کا شکار ہو کر مر چکے تھے لیکن اس کے باوجود وہ مجھ پر لاشوں کے کام سے متعلق یوں غیر جانبداری برتنے کی وجہ سے سیخ پا تھا۔ میں ہمیشہ، جہاں تک میری رسائی ہوتی ، بغیر کچھ سوچے اور تفریق برتے فوراً ہی آسمان سے گرائے جانے والے بموں کے نتیجے میں مرنے والوں کی امداد کو پہنچتا رہا تھا۔ پشتونوں کے یہاں چھپ کر آسمان سے آگ برسانا سخت بزدلی اور دغا کی بات سمجھی جاتی تھی۔ ہم مردوں کی طرح آنکھ میں آنکھ ملا کر دو بدو لڑنے کے قائل تھے۔ ناساپا آسمان سے آنے والی افتاد، جس کی آمد کا بالکل ادراک نہ ہو سکے یا بچنے کی سرے سے کوئی امید بھی نہ ہو، در اصل خدا کا قہر کہلایا جاتا تھا۔ قدرتی آفات وغیرہ اسی زمرے میں شمار کی جاتی تھیں۔ خدا جب ناراض ہوتا تو آفات نازل کرتا تھا، آسمان سے آگ برسنے کا مقولہ تو در اصل نہایت ہی گناہ گاروں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ آگ ایسی چیز ہے جو بے دین آدمی کو اندر سے بھی جلا کر رکھ دیتی ہے۔ یہ نہایت درد ناک اور سخت زندیقوں پر نازل ہونے والی آفت سمجھی جاتی رہی تھی۔ لیکن یہ کیا ہوا؟ ہم افغانوں پر، جو سچے مسلمان بھی تھے، یہ عذاب کہاں سے اتر پڑا؟
'کیا ہم اپنی گاڑی یہاں تک لا سکتے ہیں؟' میں نے پوچھا۔ میرا مقصد اس کا ذہن پڑھنا اور لاشے اٹھانے کی درخواست پر زور دینا تھا۔ 'دیکھو، ان لاشوں کو یہاں سے اٹھا کر گاڑی تک لے جانا ہم دونوں کے لیے نہایت مشکل ہو گا'۔
'تمہیں کس نے کہا ہے کہ تم یہ لاشیں یہاں سے لے جا سکتے ہو؟' رحیم گل نے ترش لہجے میں میری بات کاٹ دی۔ وہ اس وقت دور ایک کھیت کا جائزہ لے رہا تھا جس میں غالباً ایک باپ اور اس کا بیٹا مل کر گندم کی کٹائی میں مصروف تھے۔ 'میرے خیال میں تو ہم انہیں دفن بھی نہیں کریں گے'۔
رحیم گل جیسا تلخ اور سخت جان شخص، جس کی طبیعت میں ترس اور رحم کی ایک رمق بھی باقی نہیں تھی۔ بلاشبہ یہ بات تو وہ بھی سمجھ سکتا تھا کہ یہ نہایت ہتک آمیز رویہ ہے۔ یہ انسانیت کی بے عزتی تھی۔ آخر وہ دشمن ہی سہی، مگر ان کی لاشوں سے بھی اس قدر نفرت کیسے کر سکتا تھا؟
'بے شک وہ جو بھی ہوں، تم پر ان کو دفن کرنا لازم ہے' میں نے سنجیدگی سے کہا۔ 'اگر تم دفن نہیں کرنا چاہتے، نہ کرو لیکن کم از کم مجھے تو ان میتوں کو اٹھانے اجازت دو!'
'پس اگر کوئی تم پر زیادتی کرے تو جیسی زیادتی وہ تم پر کرے ویسی ہی تم اس پر کرو ' رحیم گل نے اب کی بار میری دوبارہ درخواست کو ایک قرانی آیت سے یکسر رد کر دیا۔
رحیم گل کا مسئلہ یہ تھا کہ اس جیسے لوگ صرف انہی لوگوں کو راہ حق پر سمجھتے ہیں جو ان کے خیال میں اس جنگ میں براہ راست شریک تھے۔ یعنی، جن کے ہاتھ لہو سے رنگے ہوئے تھے۔ میں رحیم گل جیسوں کے لیے طویل مدت تک جاری رہنے والی جنگ میں صرف ایک کارگر لیکن انتہائی اہم پرزہ تو تھا لیکن ظاہر ہے وہ بحیثیت مسلمان مجھ کو اسی وجہ سے خود سے کمتر سمجھتا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ میں اس کی طرح ایک جنگجو نہیں تھا۔ اس کا خیال تھا کہ شاید وہ مجھے قرانی آیات سنا کر دین کی لاٹھی سے مات دے سکتا ہے لیکن وہ نہیں جانتا تھا کہ اس میدان میں، میں اس سے کہیں زیادہ خونخوار جنگجو واقع ہوا تھا۔ میں وہ گھوڑا تھا جسے اس میدان میں برتری حاصل تھی۔ مجھے تقریباً قران ترجمے کے ساتھ ازبر تھا،
'اور برائی کا بدلہ تو اسی طرح کی برائی ہے۔ مگر جو درگزر کرے اور معاملے کو درست کر دے تو اس کا بدلہ خدا کے ذمے ہے' میں نے بھی اب اس کی بات کو ایک آیت کی شکل میں جواب دیا۔ یہی نہیں بلکہ اس آیت کی مدد سے میں نے اس کے ایمان کو بھی ایک پتلی لکیر پر لا کھڑا کیا۔
اس سے پہلے کہ وہ جواب دیتا یا مجھ پر برس پڑتا۔ میں نے پہلے ہی ایک دوسری آیت سوچ رکھی تھی، 'اور بھلائی اور برائی برابر نہیں ہو سکتی۔ تو( سخت کلامی کا) ایسے طریق سے جواب دو جو بہت اچھا ہو۔ (ایسا کرنے سے تم دیکھو گے کہ) جس میں اور تم میں دشمنی تھی گویا وہ تمہارا گرم جوش دوست ہے'۔
رحیم گل چونک کر میری طرف مڑا۔ اس نے گھنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور کھنکھار کر گلا صاف کیا۔ میں اسے اس میدان میں دور لے گیا تھا، شاید بہت ہی دور لے گیا تھا۔
' ملک۔۔۔' اس نے آنکھ میچ کر کہا، 'اب کیا ہم یہاں سارا دن قرانی آیات کا تبادلہ کرتے رہیں گے؟' اس کے چہرے پر ہنسی اور لہجے میں بدستور طنز تھا۔ 'آؤ چل کر تمہارے دوستوں کی لاشیں دیکھیں'۔
میں نے اس پر مزید کچھ نہیں کہا۔ ہم آگے پیچھے، تقریباً دو کھیتوں کے برابر فاصلہ طے کر کے دھماکے کی اصل جگہ پر پہنچ گئے۔ امریکیوں کی لاشیں اوپر نیچے، جیسے ٹال لگا کر رکھی ہوئی تھیں۔ ان کے جسموں پر وردیاں تو جل ہی گئی تھیں لیکن ہتھیار تو چھوڑو، فوجی بکتر بھی اتار دیے گئے تھے۔ یہ جلی ہوئی تین لاشیں تھیں ۔ میں نے غور سے دیکھا تو یہ تینوں مجھے قندھار کے امریکیوں کے مقابلے میں قد کاٹھ اور عمروں میں چھوٹے محسوس ہوئے ۔ یہ تو بالکل بچوں کی طرح تھے۔
'انہیں تو یہ بھی پتہ نہیں ہو گا کہ وہ کس چیز کے لیے جنگ لڑ رہے ہیں؟' رحیم گل نے مجھے بتایا۔ 'آخر ایسوں کو ہم عزت کیوں بخشیں؟'
'تدفین عزت بخشنا نہیں ہوتا' میں نے ایک دفعہ پھر کہا۔ میرے لہجے میں رحیم گل کی عقل پر افسوس تھا۔ 'یہ بحیثیت مسلمان تمہاری ذمہ داری ہے'۔
دور ایک کھیت میں وہ باپ اور بیٹا بدستور گندم کاٹنے میں مصروف تھے۔ حبس کی وجہ سے ہوا بند تھی اور گرمی بڑھتی جا رہی تھی لیکن وہ بے نیاز اپنے کام سے کام رکھے ہوئے تھے۔ وہ دوپہر کی نماز تک کٹائی کریں گے۔
'ملک، میں جانتا ہوں کہ تم ان آدمیوں کی لاشیں ساتھ لے جانا چاہتے ہو ۔ لیکن میں اس معاملے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا' رحیم گل نے واپس جاتے ہوئے حتمی فیصلہ سنایا۔ 'ان کی لاشیں یہیں پڑی رہیں گی۔ وہ بھی اب اپنوں کا شمار رکھیں جس طرح ہم اپنوں کو گنتے رہتے ہیں۔ تم ان پتلیوں۔۔۔ افغانوں کی لاشیں لے جاؤ۔ امریکی یہیں رہیں گے'۔ وہ یہ کہہ کر چلا گیا۔
میں نے رحیم گل کا پیچھا نہیں کیا اور نہ ہی اس نے مجھے بلایا۔ میں لاشوں کے قریب ہی آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا۔ جلے ہوئے گوشت کی بو کے بھبھوکے نتھنوں میں گھس گئے لیکن اب مجھے پہلے کی طرح ابکائی نہیں آتی تھی ۔ ایک یا دو دن بعد تو یہاں اتنی شدید بو ہو گی کہ آس پاس کھیتوں میں کسانوں کے لیے گندم کی کٹائی جاری رکھنا ً ناممکن ہو جائے گا۔ پچھلے پانچ برسوں میں، میں نے کل 748 لاشیں دفنائی ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ یہ کس قدر دشوار کام ہے۔ اس جنگ نے ہم سب کو پتھر بنا کر رکھ دیا ہے۔بعضوں نے اپنے بیٹے کھوئے ہیں جبکہ کئی کا ملک تباہ ہو گیا۔ لیکن پتہ ہے بدتر کیا ہے؟ اگر کسی جنگ کے نتیجے میں انسان کی انسانیت ہی مر جائے تو آخر اس سے زیادہ بد تر بات کیا ہو گی؟ میں سوچنے لگا۔
رحیم گل کی اجازت کے بغیر کوئی مائی کا لعل ان لاشوں کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکتا تھا۔ وہ اس وقت ایک سفاک حقیقت کی طرح ہم سب پر مسلط تھا اور اس بارے مزید بات چیت کے لیے ہر گز تیار نہ تھا۔ وہ توقع رکھتا تھا کہ اس کے حکم کے مطابق ہم جلد ہی یہاں سے چلے جائیں۔ وہ مجھے یہاں سے دھکے دے کر تو نکال نہیں سکتا تھا لیکن اس سے کیا شنید؟ وہ پہلے ہی دن بھر کئی دفعہ مجھے خوب ذلیل کر چکا تھا۔
کچھ دیر یہیں بیٹھنے کے بعد میں اس جگہ سے واپس ہو لیا۔ میں نے دور سے دیکھا کہ رحیم گل اپنے آدمیوں سمیت مسجد میں داخل ہو رہا تھا۔ وہ اپنا اسلحہ مسجد کے دروازے کے پاس تعظیماً باہر ہی چھوڑ گئے تھے۔ رحیم گل جیسے آدمیوں کا سارا وقت جنگ اور عبادت میں بٹا رہتا ہے۔ وہ ایک وقت میں ان دونوں کاموں میں سے صرف ایک ہی کرتے ہیں۔ حالانکہ ان دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ عبادت اپنے آپ سے جبکہ جنگ دوسروں سے لڑنے کا نام ہے۔ بعض اوقات میں سوچتا ہوں کہ آخر ہر وقت یہی دو کام کرتے رہنے سے انہیں کیا حاصل ہوتا ہے؟ وہ کیا سے کیا بن جاتے ہیں؟ اگر ان کی اس حالت کو دیکھیں تو ظاہر ہے، ان کی ذہنی کیفیت کو بھی با آسانی سمجھ سکتے ہیں۔
میں الٹے قدموں اسی راستے پر رحیم گل کے پیروں کے نشانات کو تلاشتا ہوا واپس آ گیا۔ راستے میں میرا سامنا کئی دیہاتیوں سے ہوا جن کو رسماً سلام کیا۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا جو غالباً ماشکی تھا۔ اس کا داہنا بازو کٹا ہوا تھا مگر پھر بھی وہ کندھے پر پانی کی مشکیزیںلٹکائے مسجد کی طرف جا رہا تھا۔ مسجد میں اچانک ہی اذان دی جانے لگی۔ اگرچہ مجھے پتہ تھا کہ یہ ظہر کی نماز کا وقت تھا مگر میں سوچوں ہی سوچوں میں تقریباً بھول چکا تھا کہ بلال مسجد کے باہر بیٹھا میرا انتظار کر رہا ہے۔ وہ طالبان کے ساتھ مسجد میں نماز ادا نہیں کرے گا۔ میں نے دیکھا، وہ بجائے اطمینان سے بیٹھا چائے سے شغل کر رہا تھا۔
'وہ سب نماز پڑھنے گئے ہیں' بلال نے کہا۔
میں نے ارد گرد دیکھا۔ رحیم گل کا کوئی بھی آدمی یہاں موجود نہیں تھا۔ مسجد کے اندر ملا کا خطبہ جاری تھا۔ رحیم گل اور اس کے ساتھی تقریباً آدھے گھنٹے تک واپس لوٹ کر آنے والے نہیں تھے۔ جمعہ کے دن دوپہر کے وقت نماز خاصی طویل ہوتی ہے۔ بلال چائے کی پیالی پکڑے میری ہی جانب دیکھ رہا تھا اور سمجھنے کی کوشش میں مصروف تھا۔
'رحیم گل نے کیا کہا؟' بلال نے بالآخر پوچھ ہی لیا،
'وہ ہمیں امریکیوں کی لاشیں لے جانے کی اجازت نہیں دے گا' میں نے مایوسی سے کہا، 'بلکہ وہ تو انہیں دفن کرنے پر بھی راضی نہیں ہے'۔
'کمانڈر فرہاد یہ سن کر ہر گز خوش نہیں ہو گا' بلال نے ہنستے ہوئے کہا، 'اب تو اس دلے کو امریکی ڈالر ہتھیانے کے لیے کوئی اور طریقہ ڈھونڈنا پڑے گا'۔
'فرہاد جائے بھاڑ میں۔۔۔' میں نے بلال کو سختی سے ٹوکا جس پر وہ ایک دم ہڑبڑا گیا ، 'چلو۔۔۔ ہمیں ابھی بہت کام کرنا ہے'۔
مجھے امریکیوں سے کوئی خاص لگاؤ نہیں ہے یا مجھے فرہاد کی اپنے امریکی دوستوں کو خوش کرنے کی خواہش سے بھی کوئی غرض نہیں تھی۔ میں یہ لاشیں یہاں سے لے کر ہی جاؤں گا ۔قران ہمیں تعلیم دیتا ہے کہ شرق اور نہ ہی غرب بلکہ اللہ کی ذات پر یقین رکھنا چاہیے اور ضرورت مند کی مدد کرنا واجب ہے۔ چاہے وہ یتیم ہوں، مسافر یا جنگی قیدی ہوں، سب کے ساتھ یکساں اور رحم کا معاملہ کرنا چاہیے۔
'ملک، زیادہ تیز مت بنو!' بلال نے مجھے متنبہ کیا، 'تم کہاں جا رہے ہو؟'
اس کے ہاتھ میں پیالی سے چائے زمین پر گر گئی۔ وہ ہکا بکا کھڑا تھا۔ میں دوبارہ اسی راستے پر رحیم گل کے قدموں کے نشانات پر چل پڑا۔
'صبر کرو۔۔۔' میں نے کہا اور مسجد کی جانب الٹے قدموں لوٹتے ہوئے کہا، 'وہ بندوقیں۔۔۔'
بلال یہ سن کر اپنی جگہ سے پیچھے ہٹ گیا اور سر پٹخنے لگا۔
' کیا تم پاگل ہو گئے ہو ؟' اس نے بے یقینی سے پوچھا، 'رحیم گل ہم دونوں کو مار کر یہیں زمین میں گاڑ دے گا'۔
'ایسا ہے تو پھر ایسا ہی سہی۔ کم از کم اسے ہمیں جان سے مارنے کے لیے بندوقیں تو نہیں ملیں گی۔ تم گاڑی نکالو'۔
بلال ابھی تک وہیں بت بن کر کھڑا تھا۔ ہم پچھلے تین سال سے اکٹھے یہی کام کرتے تھے مگر آج تک ایک دفعہ بھی وہ میرے کسی بھی فیصلے پر اس طرح متذبذب نہیں ہوا۔ بلکہ اس سے پہلے وہ کبھی اس طرح کے کاموں سے نہیں ہچکچایا۔ ایک دفعہ یوں ہوا کہ ہم تین دن تک مسلسل پندرہ طالبان سپاہیوں کی لاشیں ڈھوتے رہے۔ ان کے جسم گل سڑ چکے تھے اور ان میں سے خون اور سیال بہہ رہے تھے۔ ہم ریگستان کی تپتی گرمی میں انہیں اٹھائے پھرتے رہے۔ اس کی پیلی ٹیکسی میں جنوب کی خاک چھانتے آئے ہیں اور سبھی فریقین کی لاشیں اٹھاتے رہے ہیں۔ فوج، پولیس، طالبان اور اب میرا خیال تھا کہ ہم امریکیوں کی لاشیں بھی ٹھکانے لگا سکتے تھے۔ میں یہ کام حکومت یا طالبان کے لیے نہیں کرتا تھا بلکہ میں یہ مشکل کام ان لوگوں کے لیے بھی نہیں کرتا جو جنگ کے میدان میں قتل کر دیے جاتے ہیں ۔ ان کے پیاروں سے بھی مجھے کوئی مطلب نہیں تھا۔ میں پچھلے کئی برس سے یہ کام خدا کی رضا کے لیے کرتا آیا ہوں۔بلال یہ بات اچھی طرح جانتا تھا۔
رحیم گل اور میں اس لحاظ سے زیادہ مختلف نہیں ہیں، اپنے اپنے مقصد میں ہم دونوں پورے ہیں۔ بات صرف اتنی سی ہے کہ وہ اس معاملے کو سمجھتا ہی نہیں ہے۔ جب وہ اور اس کے آدمی نماز میں مشغول تھے، میں خدا کا کام کرنے نکل پڑا۔ میں نے پانچوں کی بندوقیں اٹھا کر جمع کیں اور انہیں گاڑی میں لدی افغان پولیس اہلکاروں کی لاشوں کے درمیان چھپا دیا۔
اس دوران بلال کے اوسان بحال ہوئے تو وہ فوراً ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھ گیا اور روانگی کے لیے تیار تھا۔ وہ جانتا تھا کہ میں اب پیچھے ہٹنے والا نہیں ہوں۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی اور میرے پیچھے پیچھےوقوعہ کی طرف جانے والے راستے پر چل پڑا۔
یہ معمول کی کاروائی تھی۔ عام طور پر انجان علاقوں میں ہم یہی طریقہ اختیار کیا کرتے تھے۔ جہاں بارودی سرنگوں کا خطرہ ہوتا، میں آگے آگے چلتا تھا اور وہ عین میرے پیچھے گاڑی میرے قدموں کی سیدھ میں چلاتا جاتا۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید گاڑی کے ٹائر انسانی قدموں پر نہیں چل سکتے مگر بات یہ ہے کہ چھوٹے موٹے کورس اور پھر سالہا سال کے تجربے کے بعد زمین کی حالت دیکھ کر دبے ہوئے بموں کے آثار کو پہچانا جا سکتا ہے۔
ہم یوں ہی چلتے چلتے واپس وہیں پہنچ گئے۔ راستے میں چند کسان نماز کے لیے مسجد کی طرف جا رہے تھے۔ ان میں سے بعض نے ہمیں دلچسپی سے دیکھا کہ ایک ادھیڑ عمر شخص آگے جا رہا ہے اور اس کے پیچھے ایک پیلی ٹیکسی ہچکولے کھا رہی ہے، جیسے کسی چرواہے کی منڈھی ہوئی بھیڑ ہو۔ باقیوں نے ہمیں صرف سلام کیا اور اپنی راہ پر نکل گئے۔ آگے بڑھتے ہوئے میرے دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی۔ لاؤڈ سپیکر پر جمعہ کی دوسری اذان دی جا رہی تھی۔
رحیم گل ایک طاقتور شخص تھا اور قندھار کے طول و عرض میں اس کے تعلقات تھے۔ اس کے دوست اور جاسوس ہر جگہ پھیلے ہوئے تھے۔ ویسے بھی طالبان ایک دوسرے کا خوب لحاظ کرتے ہیں۔ اگر میں یہاں سے بچ نکلا تو ممکن ہے کہ کوئٹہ جا کر درخواست کرنی پڑے گی، شاید تب ہی شنوائی ہو گی۔ شاید میرا پرانا دوست منیب اللہ مجھے معافی دلوا سکے؟ آج رات گھر لوٹ کر گیا تو یقیناً بیوی مجھ سے دن بھر کی کار گزاری پوچھے گی اور میں اسے یہ سارا قصہ من و عن سنا دوں گا۔ وہ سوچے گی کہ شاید میں بیوقوف ہوں۔ مجھے بتائے گی کہ میں نے اس کے شوہر کو اپنے ہاتھوں سے قتل کر دیا اور اب وہ ایک بیوہ ہے۔ وہ سچ ہی کہے گی، میں نے شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال دیا تھا۔
وقوعہ پر پہنچتے ہی بلال نے گاڑی سے اتر کر ڈگی کھول دی اور افغان سپاہیوں کی لاشوں پر ایک کمبل بچھا دیا۔ ہم امریکی فوجیوں کی لاشوں کے اس قدر قریب آ چکے تھے کہ کوئی بھی دیکھ کر بتا سکتا تھا کہ ہمارے ارادے کیا ہیں؟ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھنا ضروری نہیں سمجھا۔ میں کسی بھی تماشا کرنے والے سے بحث میں الجھ کر وقت ضائع نہیں کر سکتا تھا۔
بلال نے ہاتھوں پر ربر کے نیلے رنگ کے دستانے چڑھا لیے۔ لاشیں دھماکے کے گڑھے کے پاس ہی اوپر نیچے رکھی ہوئی تھیں۔ سب سے اوپر والی لاش قدرے بہتر حالت میں تھی۔ شاید یہ فوجی دھماکے کے وقت باقی سب سے دور تھا۔ اس کی جلد کی رنگت تو سفید تھی مگر اس وقت جیسے کسی نے اس پر سیاہ پاؤڈر چھڑک دیا ہو۔ میں اس لاش کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ یہ ایک جواں سال لڑکے کی لاش تھی، اس کی عمر بمشکل میرے بیٹے کے برابر رہی ہو گی۔
میں نے اور بلال نے مل کر لاش کو کندھے اور پیروں سے پکڑ کر، جیسے کوئی بوری اٹھاتا ہے۔۔۔ جلدی سے گاڑی میں پھینک دیا۔ مسجد میں اب خطبہ جاری ہے اور غالباً ہمارے پاس کام مکمل کر کے نکلنے میں صرف پندرہ مزید منٹ باقی تھے۔ اس وقت تک رحیم گل اور اس کے آدمیوں کو اسلحے کی چوری کا پتہ چل جائے گا۔ میں نے سنا کہ مسجد میں مولوی صاحب موت اور اس کے بعد پیش آنے والی تکالیف بارے بیان فرما رہے ہیں۔ یہ انتہائی مضحکہ خیز صورتحال تھی، مجھے بے اختیار ہنسی آ گئی۔ میں نے ذہن کو جھٹک کر ایک دفعہ پھر کام پر دھیان جما دیا۔
'ہر نفس کو موت کا ذائقہ چھکنا ہے' مولوی صاحب کا بیان جاری تھا۔ وہ حاضرین کو قران کی ایک آیت پڑھ کر سنا رہے تھے۔ میرے خیال میں مسجد کے اندر موجود ہر شخص، رحیم گل اور اس کے آدمی موت کے ذائقے سے بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے ساری عمر موت کا ذائقہ چکھنے اور چکھانے کے علاوہ کوئی کام نہیں کیا۔ بلکہ، اب انہیں زندگی میں سوائے موت کے ذائقے کے سوا کسی دوسرے ذائقے میں دلچسپی ہی نہیں رہی تھی۔
اس طویل جنگ و جدل نے مجھ پر بھی تو اچھا خاصا اثر کیا تھا لیکن اس کی نوعیت بالکل الگ تھی۔ میں بھی اپنے منہ میں موت کے سوا کوئی ذائقہ چکھنے جوگا نہیں رہا تھا۔ لیکن میرے ساتھ معاملہ یہ ہوا کہ اب میں بھنا ہوا گوشت کھانے سے قاصر تھا۔ اس کی بو سے مجھے کراہت آتی تھی۔ میرے لیے گھر میں سبزی اور چاول ہی پکتے ہیں اور اس میں گوشت سرے سے نہیں ڈالا جاتا۔ عام طور پر افغانوں کے یہاں ہر وقت اس طرح کے کھانے سے تواضع غربت کی نشانی تھی۔ مجھے اچانک اپنی بیوی کا خیال آیا۔ وہ کپڑے دھو کر تاروں پر سوکھنے کے لیے ڈال چکی ہو گی۔ اب تھوڑی دیر میں پلاؤ پکانے میں مصروف ہو جائے گی۔ بعد ازاں شام کے وقت وہ میرے نہانے کے لیے پانی گرم کرے گی اور پھر دو بڑے ٹب بھر کر دروازے میں رکھ دے گی۔
میں انہی خیالات میں گم تھا کہ بلال نے مجھے کندھے سے پکڑ کر جھنجھوڑا۔
'ملک، یہ تم کدھر گم ہو؟' وہ سرگوشی میں بات کر رہا تھا۔ پھر اس نے سر جھٹک کر گاڑی کی طرف اشارہ کیا اور مجھے دوبارہ کام کی طرف متوجہ کرنے لگا۔
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا کہ شاید دیہاتیوں کو اب تک خبر ہو چکی ہے اور وہ دوڑے آتے ہوں مگر ابھی اس مرحلے میں بھی کچھ وقت باقی ہے۔ ہم دوڑ کر پھر سے لاشوں کی جانب لپکے۔ دوسری لاش پہلی سے وزن میں قدرے بھاری تھی۔ اس فوجی کی جلد کی رنگت تک سیاہ تھی۔ یہ لاش جلی ہوئی نہیں تھی بلکہ اس کا رنگ ہی سیاہ تھا۔ یہ ایک سیاہ فام فوجی کی لاش تھی۔
تیسری اور آخری لاش پہلی دونوں لاشوں سے وزن میں کہیں زیادہ تھی اور اس کی حالت بھی دوسروں کی نسبت بہت خراب ہو چکی تھی۔ یہ فوجی یقیناً دھماکے کے وقت سب سے آگے رہا ہو گا کیونکہ اس کی بانہیں بھی جگہ جگہ سے ٹوٹ کر جھول رہی تھیں۔ اندراس باہر آ چکا تھا اور گوشت اور خون کے لوتھڑےنکھڑ رہے تھے۔ بلال نے جلدی سے گاڑی میں سے ایک چادر نکالی اور ہم نے اس لاش کو اس پر رول کر باندھ دیا۔ یوں ایک گٹھڑی سی بنا لی۔ جب ہم نے اس گٹھڑی کو مل کر اٹھایا تو مردے کا چہرہ چادر کے کونے میں سے باہر آسمان کی طرف جھانک رہا تھا۔ پتہ نہیں کیوں، اس فوجی کی لاش دوسروں کی نسبت بہت جلد ہی سڑ گئی تھی؟ میں نے سوچا۔
جب آخری لاش بھی لد چکی تو بلال نے سگریٹ سلگا لیا اور ڈگی بند کر لی۔
'ہمیں جلدی دکھانی ہو گی' میں نے بلال سے کہا۔ اب میں تھوڑی دور نقل و حرکت دیکھ سکتا تھا۔ نماز ختم ہو چکی تھی اور لوگ مسجد سے باہر نکل رہے تھے۔
بلال نے گاڑی سٹارٹ کی اور بجائے واپس گاؤں کی طرف جاتا، گھوم کر کھیتوں کی جانب بڑھتے ہوئے کچا راستہ پکڑ لیا۔ ہم دوبارہ گاؤں کے اندر نہیں جا سکتے تھے۔ اسلحے کے بغیر بھی طالبان ہمیں با آسانی روک لیتے۔ لیکن مسئلہ یہ تھا کہ ہم اس نئے راستے سے واقف نہیں تھے۔ خدا جانے راستے میں کہاں، کس جگہ بارودی سرنگ دبی ہو؟ لیکن اب اس بارے سوچنے کا وقت نہیں تھا۔
بلال گاڑی چلاتے ہوئے پوری طرح احتیاط سے کام لے رہا تھا۔ وہ رفتار کے ساتھ راستے پر بھی دھیان رکھے ہوئے تھا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو رحیم گل اور اس کے آدمیوں کو ہماری حرکت کی خبر ہو چکی تھی اور وہ اور کئی دوسرے ہمارے پیچھے دوڑے چلے آ رہے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں گینتی، بیلچے اور کھانچے پکڑے ہوئے تھے۔ میں نے بلال کا بازو پکڑ کر اسے متنبہ کیا۔ وہ زور سے ہنسا اور گاڑی کا ٹیپ اونچی آواز میں چلا کر رفتار مزید تیز کر دی۔ پاکستانی پاپ گانوں کے شور سے پورا گاؤں گونج اٹھا۔ میں نے دور سے ہی رحیم گل کو بھی دیکھا۔ مجھے ایسا لگا جیسے وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہا ہے۔ مگر ظاہر ہے، اس کی مسکراہٹ ہمیشہ کی طرح استہزائیہ تھی۔
جب ہم واپس پکی سڑک پر پہنچ گئے تو بلال کے اوسان دوبارہ بحال ہوئے۔ لیکن وہ ابھی تک ہسٹریائی انداز میں قہقہے لگا رہا تھا اور بالآخر میرے کہنے پر اس نے گانوں کی آواز دھیمی کر دی۔ در اصل میں اسے بتانا چاہتا تھا کہ میں اس سارے معاملے کی پوری ذمہ داری اٹھانے کے لیے تیار تھا ۔ جو بھی نتیجہ نکلتا، اسے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن ظاہر ہے، ہم دونوں ہی جانتے تھے کہ میری تسلی اور دلاسا کسی کام کا نہیں ہے۔ بالآخر ہم دونوں کو اس حرکت کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
کچھ دور پہنچ کر میں نے بلال کو ایک چھوٹی سی پلیا پر گاڑی روکنے کا حکم دیا۔ گاڑی سے اتر کر میں نے فوراً ڈگی کھولی اور لاشوں کے نیچے دبی بندوقیں نکال لیں۔ پانچوں رائفلیں پل کے نیچے پانی کی خشک سرنگ میں سنبھال کر رکھ دیں۔ ارادہ یہ تھا کہ میں کل رحیم گل کو فون کر کے اس کے آدمیوں کے اسلحے کے محل وقوع سے آگاہ کر دوں گا۔
گاڑی کے اندر بلال بے چینی سے لوٹ رہا ہے۔ وہ بندوقیں یوں بیچ راستے میں پھینک دینے پر سخت مایوس ہے۔ وہ جانتا ہے کہ یہ ضروری تھا ۔ ویسے بھی وہ گاڑی سے باہر میرے کسی بھی عمل پر زیادہ سوال نہیں اٹھاتا۔ ہم نے امریکیوں کی لاشیں چرا لی تھیں لیکن ہم پیشہ ور چور نہیں تھے۔ میں نے فرہاد کا نمبر ملایا۔
'ملک، کیا اطلاع ہے؟' اس نے پہلی گھنٹی پر ہی فون اٹھا کر جلدی سے پوچھا۔
'ہم شہر کی طرف آ رہے ہیں اور آدھے گھنٹے تک پہنچ جائیں گے'، میں نے اطمینان سے جواب دیا۔
' لاشیں تمہارے پاس ہیں؟ تینوں؟'
'اپنے آدمیوں کو بتا دو۔ جب ہم پہنچیں تو وہ پولیس کمپاؤنڈ کے دروازے کھلے رکھیں' میں نے فون بند کرنے سے پہلے کہا۔ میں نے اس سے پہلے کبھی کمانڈر سے اس لہجے میں بات نہیں کی لیکن معاملہ اتنا گھمبیر تھا کہ میں نے اس کے کان میں اس کی بھنک پہنچانا ضروری سمجھا۔
مجھے یقین تھا کہ اس پر امریکیوں کا شدید دباؤ ہے۔ ممکن ہے کہ انہوں نے اس کو لاشیں واپس لانے کے لیے دھمکایا بھی ہو گا۔ کمانڈر فرہاد کی آواز میں پائی جانے والی بے چینی ظاہر کر رہی تھی کہ امریکی اس سے بری طرح نبٹ رہے تھے۔
'ملک ، تمہارا کیا خیال ہے؟ کیا وہ ہمیں قتل کر دیں گے؟' بلال نے سگریٹ سلگاتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔
'معلوم نہیں۔۔۔' میں نے کہا اور تسلی دی، ' ہماری قسمت خدا کے ہاتھ میں ہے'۔
ہم افغان خدا کے نام کو خوب استعمال کرتے ہیں۔ بات بے بات، اشارے کنایوں میں خدا کا نام لیتے رہتے ہیں۔ بلکہ کئی لحاظ سے یہ ہمارا تکیہ کلام بن چکا ہے۔ حالانکہ ہر دفعہ اس کے استعمال میں مطلب جدا ہوتا ہے۔ کیا میری شادی ہو جائے گی؟ اگر خدا نے چاہا۔ کیا میں تمہاری گاڑی لے جا سکتا ہوں؟ اگر خدا نے چاہا۔ کیا اس دفعہ فصل اچھی ہو گی؟ اگر خدا نے چاہا۔
'فرہاد کو ہمارے لیے پیسوں سے بھرا سوٹ کیس تیار رکھنا چاہیے'، بلال نے جوش سے کہا اور گاڑی کی کھڑکی سے باہر سگرٹ کا دھواں پھونکا۔ 'کیا کہتے ہو ملک ، کیا ہم امیر ہو جائیں گے؟'
'ضرور۔ اگر خدا نے چاہا!' میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
جب ہم پولیس کمپاؤنڈ میں داخل ہوئے تو فرہاد پہلے ہی اپنے دفتر سے باہر نکل آیا تھا۔ اس کی چال میں سخت بے چینی اور ہیجان تھا۔ اگرچہ اس کے ساتھ امریکی افسر تو نہیں تھے لیکن ان کی گاڑیاں دفتر کے سامنے ہی کھڑی تھیں جن کے گرد کئی امریکی فوجی اطمینان سے کھڑے سگرٹ پھونک رہے تھے۔ انہوں نے ہماری جانب دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا۔
بلال نے ان سے قدرے فاصلے پر گاڑی روک دی۔ ہم دفتر کے بالکل پہلو میں پہنچ چکے تھے۔ فرہاد نے پہلے تو امریکیوں کو غور سے دیکھا ، پھر اس کے چہرے پر تاثرات متغیر ہو گئے۔ وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑ بڑانے لگا۔ میں جانتا تھا کہ وہ کیا سوچ رہا ہے۔ وہ اس بات پر مایوس تھا کہ سامنے کھڑے اوٹ پٹانگ فوجیوں کی ہی طرح کے فوجی تھے، جن کے لاشے چرانے کے لیے ہم دونوں نے اپنی جانیں بھی داؤ پر لگا دیں؟ اسے یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آخر ان کو کس بات کا گھمنڈ تھا اور ویسے بھی یہ دبلے پتلے، پھوٹک فوجی ہماری گاڑی کی ڈگی میں لدی لاشوں سے مختلف تو نہیں تھے ۔
فرہاد دوڑا ہوا آیا اور میرے لیے گاڑی کا دروازہ کھول دیا۔
'تم نے تو کمال کر دیا ملک!' وہ مجھ سے بغل گیر ہوتے ہوئے بولا۔ اس کے ساتھی فوراً ہی لاشوں سے بھری ڈگی کی طرف لپکے۔ 'ہمارے دوست تمہارے کارنامے پر بہت خوش ہوں گے۔ مجھے یقین ہے تمہیں انعام بھی ضرور ملے گا'۔
میں نے اور بلال نے فرہاد کے آدمیوں کے ساتھ مل کر گاڑی سے لاشیں نکالنا شروع کیں۔ حیران کن طور پر امریکی فوجیوں نے آگے بڑھ کر ہماری کوئی مدد نہیں کی بلکہ ان میں سے بعض ہمارے گرد جمع ہو گئے اور کھڑے تماشا کرنے لگے۔ ان میں سے بعض گالیاں بک رہے تھے اور کچھ بس سر ہلا کر لعن طعن کر رہے تھے۔ مجھے ان میں افسردگی اور ملال نظر نہیں آیا بلکہ میں نے ان کے چہرے پر اپنے ساتھیوں کی لاشیں دیکھ کر ذرہ برابر بھی غم اور دکھ چڑھتے نہیں دیکھا۔ فرنگیوں کی یہ عادات مجھے ہمیشہ چڑاتی ہیں۔ میں ان کے زندگی گزارنے کے فلسفے کو کبھی سمجھ نہیں پایا۔ وہ واقعی افغانوں کے لیے غیر تھے۔ خیر ہم نے لاشیں نکال کر زمین پر بچھائی ایک چادر پر ترتیب سے رکھ دیں۔
فرہاد مجھے لے کر فوراً ہی دفتر میں جانے کو بے چین تھا جہاں امریکی افسر ہمارا انتظار کر رہے تھے۔ میں دفتر کے اندر جانے سے پہلے کچھ سوچ کر واپس آیا اور بلال کی گاڑی میں سے اپنا گرم کمبل نکال لیا ۔ اسے جھٹک کر سلوٹیں دور کیں اور پوری احتیاط کے ساتھ لاشوں کے چہروں کوے ڈھانپ دیا تا کہ وہ تیز دھوپ اور گرمی سے بچے رہیں۔ امریکی فوجیوں میں سے ایک ، جو دوسروں سے عمر میں نسبتاً بڑا لگتا تھا، یہ دیکھ کر پہلی بار میری طرف متوجہ ہوا۔ اس نے مجھے لاشوں کو ڈھکتے ہوئے دیکھ کر تشکر میں سر ہلا دیا۔
فرہاد کے دفتر میں ایک امریکی افسر صوفے پر براجمان تھا اور دوسرے نے فرہاد کی کرسی پر بیٹھ کر میز پر ٹانگیں پسار رکھی تھیں۔ گرما گرم چائے اور خشک میوہ جات سے ان کی تواضع کی جا رہی تھی۔ فرہاد کی میز کے پشت کی دیوار پر افغان صدر کرزئی کا ایک بڑا پورٹریٹ آویزاں تھا، جس کے دونوں اطراف میں پلاسٹک کے پھول ٹنگے ہوئے تھے۔
جب ہم کمرے میں داخل ہوئے تو ان میں سے کوئی بھی ہمارے استقبال کے لیے اٹھ کر کھڑا نہیں ہوا جو سراسر افغان روایات کے منافی تھا۔
'جناب، مسٹر ملک آپ کے فوجیوں کی لاشیں خاک ریز سے لانے میں کامیاب رہا ہے' فرہاد نے امریکیوں کو بتایا۔ جب ترجمان نے انہیں یہی بات انگریزی زبان میں بتائی تو ان کے چہرے پر بھی کوئی تاثر نہیں ابھرا۔ 'لاشیں باہر ہیں اور آپ انہیں واپس اپنی فوجی چھاؤنی میں لے جا سکتے ہیں'۔ فرہاد نے بات پوری کی۔
یہ سن کر دونوں امریکی افسر اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان میں سے ایک نے داہنا ہاتھ اپنی پینٹ پر مل کر صاف کیا اور مصافحہ کے لیے نکال کر میری طرف بڑھا دیا جبکہ دوسرا افسر اٹھ کر کھڑکی کے پاس چلا گیا اور باہر احاطے میں کھڑے ٹرکوں کا جائزہ لینے لگا۔ امریکیوں کا ترجمان ایک نوجوان افغان لڑکا تھا جس نے امریکی فوج کی وردی پہن رکھی تھی۔ وہ سہم کر کھڑا امریکیوں کی طرف دیکھنے لگا کہ شاید فرہاد کی بات کا جواب دیں۔ لیکن ان دونوں نے کچھ نہیں کہا۔ اس پر وہ اور فرہاد، دونوں ہی ایک دوسرے کو بے چینی سے کن اکھیوں سے دیکھنے لگے۔ ان دونوں اشخاص کا سارا دارو مدار ان فرنگیوں پر تھا۔
'اس نے لاشیں کس طرح تلاش کیں؟' کھڑکی کے پاس کھڑے افسر نے ترجمان سے پوچھا،
'میری اس علاقے کے کمانڈر سے اچھی سلام دعا ہے'، میں نے جواب دیا۔ فرہاد نے بھی میری ہاں میں ہاں ملائی اور مسلسل امریکی افسروں کے چہرے پر تاثرات پڑھنے کی کوشش کرتا رہا۔ ' میں اس سے پہلے بھی فرہاد کے کئی آدمیوں کی لاشیں نکال کر لا چکا ہوں'۔
یہ سن کر امریکی افسر نے منہ سیٹی کے انداز میں گول کیا اور کندھے اچک کر سر ہلایا۔ اس کا انداز ایسا تھا جیسے میں نے ابھی ابھی اسے یہ بتایا ہو کہ شاید میں بھی طالبان میں سے ہی ایک ہوں۔
وہ کچھ دیر یوں ہی کھڑا سوچ کر بولا، 'اچھا مجھے سمجھنے میں مدد کرو۔ تمھارا طالبان کے ساتھ براہ راست رابطہ ہے۔ تم ان کے علاقے میں بے دھڑک جاتے ہو۔ ان کی بھی لاشیں اٹھاتے ہو اور تم طالبان بھی نہیں ہو؟ 'یہ سن کر فرہاد کا رنگ فق ہو گیا۔ وہ کھسیانی ہنسی ہنسا اور اس کے پپوٹے بے چینی سے ہلنے لگے۔
سوال کرنے والا امریکی افسر کولہوں پر ہاتھ ٹکائے، تن کر میرے سامنے کھڑا تھا۔ اس کے ساتھیوں نے بھی اس کی بات پر کچھ نہیں کہا، بلکہ ان سب کے چہرے یوں سپاٹ تھے، جیسے ٹھہرا ہوا پانی ہو۔ میں نے پہلے تو سوچا کہ اسے شروع سے پوری کہانی سناؤں ۔ اسے بتاؤں کہ ہم نے کس طرح امریکی فوجیوں کی لاشیں نکالیں، خطرات مول لیے ہیں اور ابھی ہمیں ان لاشوں کو واپس لانے کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے گی۔ لیکن میں نے ایسا کچھ بھی کہنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
' تم نہیں جانتے؟' میں نے امریکی افسر، ترجمان اور فرہاد کو انتہائی سنجیدگی سے مخاطب کرتے ہوئے کہا، 'ہم سب اندر سے طالبان ہیں!'
اس بات پر فرہاد کے منہ سے باریک آواز کھسک گئی۔ شاید وہ ہنسنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ ترجمان میرے الفاظ کو توڑ مروڑ کر نرم کر دے گا، اس لیے میں نے اسے ایسا کرنے سے پہلے ہی منع کر دیا۔
ایک امریکی کو میرے کڑک جواب پر کمرے میں ایک لمحے کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی۔ پھر اچانک، امریکی افسر زور دار آواز میں قہقہہ لگا کر ہنس پڑا۔ وہ اتنی زور سے ہنسا کہ اس کی آنکھیں بند ہو گئیں اور کمر دوہری ہو گئی۔ اس کا ساتھی بدستور ویسے کے ویسے چپ چاپ کھڑا رہا جبکہ فرہاد اور افغان ترجمان بے شرمی سے امریکی افسر کے ساتھ مل کر ہنسنے لگے۔
' تم لوگوں کو خدا غارت کرے!' اس نے ترجمان کی طرف مڑتے ہوئے کہا، ' اس نے بالکل صحیح کہا ہے۔ سو فیصد درست!'۔
پھر مزید کچھ کہے بغیر امریکی آگے پیچھے آناً فاناً کمرے سے نکل کر چلے گئے۔ فرہاد امریکیوں کے یوں اچانک رخصت ہونے پر سٹ پٹا کر رہ گیا۔ وہ دوڑتا ہوا ان کے پیچھے نکل پڑا۔ باہر امریکیوں نے اپنے فوجیوں کی لاشیں افغانوں سے الگ اٹھائیں اور ایک ٹرک میں لاد کر دھول اڑاتے ، آگے پیچھے گاڑیوں کے طویل قافلے میں کمپاؤنڈ سے چلے گئے۔ ان کی فوجی چھاؤنی یہاں سے تقریباً چھ کلو میٹر جنوب کی طرف واقع تھی۔
میں نے زمین پر مٹی میں رلتا ہوا اپنا کمبل اٹھایا اور زور سے جھٹک کر دھول جھاڑی اور کندھے پر ڈال دیا۔ فرہاد ابھی تک دور جاتے ہوئے ٹرک کے قافلے کو دیکھ رہا تھا۔ میں اس کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ وہ مجھ سے آنکھیں نہیں ملا پا رہا تھا۔ میں نے اس کو مزید شرمندہ کرنا مناسب نہیں سمجھا ۔ اسی لیے میں چائے وغیرہ کے لیے رکا اور نہ ہی اس سے مزید کچھ استفسار کیا۔
اب میں یہاں سے سیدھا گھر جاؤں گا۔ کپڑے دھو کر خوب نہاؤں گا اور بیوی کو دن بھر پیش آنے والے واقعات کی رودادمن و عن سنا ؤں گا۔ وہ ساری بپتا سن کر مجھ پر برس پڑے گی لیکن پھر مجھے کھانا بھی کھلائے گی۔ کل صبح میں سب سے پہلے تو رحیم گل کو فون کر کے منانے کی کوشش کروں گا اور پھر تازہ لاشیں اٹھانے کے کام کے لیے نئی فون کالوں کا انتظار کروں گا۔

یہ ماخوذ کہانی  صلہ عمر پر مستقل سلسلے "ماخوذ کہانیاں" کا حصہ ہے۔ اس سلسلے کی تمام تحاریر کی فہرست یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر) پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں یا obangash@gmail.com پر ای میل کریں۔ شکریہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر