جھوٹی

جب میں نے پہلی دفعہ جھوٹ بولا تھا، وہ موقع اچھی طرح یاد ہے۔ میرے حافظہ کی داد دینی پڑے گی کیونکہ یہ بہت پرانی بات ہے۔ ہوا یوں کہ میری ایک دوست تھی۔ اس کے پاس پلاسٹک کی معمولی سی گھڑی ہوا کرتی تھی جو میں حاصل کرنا چاہتی تھی۔ اب یہ تو یاد نہیں کہ آخر اتنی معمولی سی شے کیوں حاصل کرنا درکار تھا، مگر ایسا ہی تھا۔ غالباً میں مجھے اس گھڑی کی ٹک ٹک سن کر لطف آتا تھا۔ وقت کو یوں حرکت کرتے دیکھ کر مسحور رہ جاتی تھی۔ پھر یہ بھی کہ اس وقت مجھے یہ تصور بہت خوب لگتا تھا کہ گھڑی پہننا سیانے پن کی نشانی ہے۔ آدمی مہذب لگتا ہے، بڑے پن کا احساس ہوتا ہے اور طبیعت میں پختگی نظر آتی تھی۔ ظاہر ہے مجھے اس وقت قطعاً یہ سمجھ نہیں تھی کہ جس گھڑی کی مجھے چاہ ہے، وہ در اصل بچوں کا کھلونا ہے۔ یہ انتہائی بچگانہ چیز تھی۔ گھڑی کا رنگ گلابی تھا یا شاید نارنجی مگر پٹا ضرور گلابی تھا۔ ڈائل کی جگہ پر شیشے کی بجائے گھٹیا پلاسٹک اڑسی ہوئی تھی۔ یعنی، بظاہر اس پر دھات نام کی کوئی چیز نہیں تھی۔ چونکہ سیکنڈوں کی سوئی حرکت کرتی تھی، اس لیے اس کے اندر مشین تو ضرور دھاتی رہی ہو گی ۔ سچ تو یہ ہے کہ سوئیوں کی حرکت بارے یہ بات بھی اب میں نے اپنے شعور میں گھڑ لی ہے تا کہ چوری کی کچھ تو معقول وجہ نظر آئے ورنہ اتنی بیکار چیز کوئی کیوں چرائے گا؟ یوں کہے دیتے ہیں کہ وہ ایک گھڑی تھی جو عین ممکن ہے کہ چلتی وغیرہ نہیں تھی۔
ریکارڈ درست رکھوں تو اصل بات یہ تھی کہ میں اپنی ماں کی گھڑی کے ساتھ کھیل لیتی تھی مگر کچھ روز قبل اس نے اچانک میرے ہاتھ سے گھڑی چھین لی اور اچھا خاصا ڈانٹ ڈپٹ بھی دیا۔ وجہ شاید یہ رہی ہو کہ وہ ایک نازک سی گھڑی تھی جس کا پٹا بھی گھس چکا تھا۔ وہ ہر وقت، ہر جگہ اسے پہنے رکھتی تھی۔ ایسا لگتا جیسے یہ اس کے جسم کا کوئی حصہ ہو، اس کی پہچان ہو۔ یہ گھر سے باہر دنیا میں اس کی شناخت کی طرح تھی۔ مطلب یہ کہ اگر کبھی وہ خود گم ہو گئی تو گھڑی کی مدد سے ڈھونڈ لی جائے گی۔ دن بھر پہنے رکھتی اور جب سونے کے لیے لیٹتی تو گھڑی اتار کر بستر کے پہلو میں دھری میز پر پڑے اتھل پیندے والے پیالے میں رکھ دیتی۔ وہ اس پیالے میں کان کی بالیاں اور سونے کی ایک معمولی سی زنجیر بھی رکھا کرتی جو اس نے اپنی منگنی کی انگوٹھی تڑوا کر بنوائی تھی۔ وہ گھڑی کے ساتھ یہ زیور بھی روزانہ پہنا کرتی تھی۔ اس کے علاوہ کچھ دوسری قیمتی اشیاء بھی تھیں جو بینک کے سیف باکس میں محفوظ کر رکھی تھیں۔ مجھے بھی ان چیزوں بارے اس کی موت کے بعد ہی پتہ چلا۔ اگر بلوغت کے گھن چکر سے پہلے میری یاد داشت میں اپنی کوئی شبیہ ہے تو وہ ہمیشہ ایک ایسی تین یا چار سالہ لڑکی کی رہی ہے جو ہر وقت ماں کی ہتھ گھڑی کے ساتھ کھیلتی رہتی تھی اور گرم بستر میں اس سے چمٹی رہتی تھی۔ لیکن تب اس نے وہ گھڑی مجھ سے لے کر واپس رکھ دی اور ڈانٹ بھی پلائی کہ شاید انجانے میں اسے توڑ دوں گی۔
شاید اس چوری کی وجہ یہی تھی۔ میرے تئیں یہ بات انتہائی بے جا تھی کہ میری دوست کے پاس ایسی چیز ہے جس سے کھیلنے کی مجھے بالخصوص ممانعت کی گئی تھی۔ پستی میں گرنے کی ہر کہانی ممانعت سے شروع ہوتی ہے۔ وہ نگوڑی بھی تو ہر وقت شو مارتی رہتی تھی۔ جب دیکھو گھڑی کی نمائش کرتی پھرتی۔ ایک دن میں نے اس کی توجہ بٹا کر گھڑی چرا لی۔ دن بھر تلاشنے کے بعد بھی جب گمشدہ گھڑی نہ ملی تو اس نے خوب غل غپاڑہ مچایا۔ کافی دیر تک بھاں بھاں کر کے روتی رہی اور میں اس دوران بالکل چپ رہی۔ اگرچہ یہ صرف چپ تھی مگر میرے خیال میں یہ میری زندگی کا پہلا جھوٹ تھا۔ مجھ سے بہرحال کسی نے اس کے رونے کی وجہ نہیں پوچھی اور نہ ہی گھڑی کی بابت استفسار کیا۔
اسی رات ماں نے میرے پاس وہ گھڑی دیکھ لی۔ میں بے انتہا خوش تھی اور خوب مگن ہو کر کھیل رہی تھی۔ ظاہر ہے اسے پتہ تھا کہ یہ گھڑی میری نہیں اور نہ ہی اس نے مجھے دلائی ہے۔ میں نے اس افتاد بارے پہلے سے سوچا بھی نہیں تھا۔ ذہن اس بات کی ہر گز سمجھ نہیں تھی کہ اگر میری دوست ارد گرد نہ بھی ہو، مجھے پھر بھی گھڑی کو چھپائے رکھنا ہو گا۔ بہرحال ماں نے باقاعدہ پوچھ تاچھ کی تو اس فاش غلطی کا احساس ہوا۔ پہلی بار خیال آیا کہ معاملہ سنگین ہے۔ اب ڈانٹ اور پھٹک نہیں بلکہ مار پڑے گی۔ اسی خوف میں ایک ترکیب سوجھی۔ وہ یہ کہ بجائے سچ کہوں، کوئی بھی جواب دے کر اپنی جان اور گھڑی، دونوں کو بچا سکتی ہوں۔ چنانچہ میں نے کہا، 'میری دوست نے مجھے دی ہے'۔ 'کیوں؟' اس نے پوچھا۔ 'کیوں کہ یہ مجھے اچھی لگتی تھی'۔ یہ سن کر ماں مطمئن ہو گئی اور پھر اس نے مزید کچھ نہیں پوچھا۔
اس کے بعد یوں ہوا کہ میں جب بھی گھڑی ہاتھ میں تھامتی، ایسا لگتا جیسے کوئی ننھا سا شعلہ پکڑ رکھا ہے۔ اگرچہ میں اس کیفیت کو لفظوں میں ڈھال کر تو بتا نہیں سکتی تھی مگر میں جان گئی تھی کہ ماں نہ تو میرا ذہن پڑھ سکتی ہے اور نہ ہی اسے میرے افعال پر کچھ اتنا خاص اختیار حاصل ہے۔ اس سے پہلے میرا خیال تھا کہ ماں سب جانتی ہے مگر وہ بہر حال سب کچھ نہیں جانتی۔ چونکہ وہ سب کچھ نہیں جانتی، اس لیے یقیناً اسے سب چیزوں پر اختیار بھی نہیں تھا۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ماں باپ جب ایک عمر گزار چکتے ہیں تو بوڑھے ہو کر ہماری آنکھوں کے سامنے مر جاتے ہیں۔ حالانکہ بچہ جب پہلی بار چکما دے کر جھوٹ بولتا ہے تو والدین کی موت کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
یہ اس پہلے جھوٹ کے کچھ عرصے بعد ایک دوسرا واقعہ ہے جو سکول میں پیش آیا تھا۔ اس وقت میں پہلی جماعت میں پڑھتی تھی۔ یہ ایک پرائیویٹ کرسچن سکول تھا جس میں ابھی کچھ دن پہلے ہی مجھے داخل کرایا گیا تھا۔ مجھے دوسرے سکول سے اس لیے نکال دیا گیا تھا کیونکہ ماں کو وہاں پڑھانے والی ایک استانی سے اللہ واسطے کی بیر تھی۔ اس کا خیال تھا کہ یہ عورت درست انگریزی لکھ سکتی ہے اور نہ ہی اسے بولنے کا کوئی ڈھنگ آتاہے۔ بجائے، وہ مجھے اپنی بری عادات سکھا رہی تھی۔ تم گھر میں تھیں تو اچھی خاصی انگریزی بولتی تھیں لیکن ایک مہینے کے اندر ہی اس نے تمہارا لہجہ ہی غارت کر کے رکھ دیا؟ مجھے تب سمجھ نہیں آئی مگر اب سوچتی ہوں تو ہنسی آتی ہے۔ ماں کی بری عادتوں سے مراد یہ تھی کہ میں نے استانی کا انگریزی زبان میں افریقی امریکن لہجہ اپنا لیا تھا۔ ماں ہر گز نسل پرست عورت نہیں تھی بلکہ اسے تو اس نسل پرستانہ سوچ کے وجود کا بھی سرے سے ادراک نہیں تھا۔ میں یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ اس کا ایسا کوئی ارادہ بھی نہیں تھا لیکن اس کے باوجود اس کے لیے یہ بات سمجھ پانا ناممکن تھا کہ در اصل 'درست' اور 'غلط' انگریزی بولنے کے پیچھے کم علمی اور ممکنہ طور پر ذہانت کے علاوہ بھی کئی دوسرے عوامل کار فرما ہو سکتے ہیں۔ چونکہ اس نئے پرائیویٹ سکول میں سارے اساتذہ سفید فام تھے اور فر فر درست انگریزی بولتے تھے، ماں کو تسلی ہو گئی تھی۔
اس زمانے میں پبلک اور پرائیویٹ سکولوں میں صرف ایک ہی فرق تھا۔ شاید تعلیمی معیار کی بابت تو بالکل نہیں تھا مگر ظاہر ہے طالب علموں کے لیے یہ بہت بڑی بات تھی۔ وہ بات یہ تھی کہ پرائیویٹ سکولوں میں مار پٹائی کی اجازت ہوا کرتی تھی جبکہ پبلک سکولوں میں اس کو غیر قانونی درجہ حاصل تھا۔ یہاں ہمہ وقت مار کا ڈر رہتا تھا۔ بلکہ کہیے مجھے تشدد سے یہیں آشنائی ملی۔ اساتذہ کی زبانوں پر تو ہر وقت مار کی دھمکی اٹکی رہتی اور وہ گاہے بگاہے اس کا عملی ثبوت بھی دے دیتے۔ نطشے کا ماننا ہے کہ بچوں کی تدریس اور مار کٹائی کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ ظاہر ہے، اس کا مطلب یہی تھا کہ مار کٹائی کا خوف بچوں کو سیکھنے پر مجبور کر دیتا ہے تا ہم کیا کوئی وثوق سے کہہ سکتا ہے کہ اس خوف سے بچہ کیا سیکھتا ہے؟ جیسے میں نے تشدد سیکھ لیا تھا۔ یہ تو خیر ایک بات ہے۔ اس نئے پرائیویٹ سکول میں میری کسی سے دوستی نہ ہو سکی۔ مجھے ایسا لگتا تھا جیسے مجھ اور دوسرے بچوں کے بیچ کوئی رکاوٹ حائل ہے۔ باقی بچوں کو کئی ایسی چیزوں کا ادراک ہے جن کی مجھ میں سرے سے خاصیت ہی نہیں تھی۔ ماں نے یہ مجھے کیسی عجیب بلا میں گرفتار کر دیا تھا؟
بہرحال یہاں سائنس کا ایک استاد صاحب ہوا کرتے تھے۔ مجھے نام یاد نہیں رہا مگر اطوار خوب یاد ہیں۔ عجیب ہونق آدمی تھا۔ ایسے بولتا تھا جیسے کوئی چوہا کپڑا کتر رہا ہو۔ ہر وقت ناک پر غصہ چڑھائے رکھتا، مجھے زہر لگتا تھا۔ اس کے بال سنہرے تھے اور ادھیڑ عمر شخص تھا۔ وہ زیادہ وقت ہمیں ارتقاء کی تھیوریاں سمجھانے میں صرف کرتا رہتا۔ اس مقصد کے لیے ایک رنگین کتاب کا سہارا لیتا جس میں عمل تخلیق خوب نقش و نگار کے ساتھ، وقت کے دھارے میں بہتا ہوا دکھایا گیا تھا۔ ایک دن وہ ہمیں اسی موضوع کا ثبوت دکھانے کی غرض سے پرانے زمانے کی کوئی لکڑی اٹھا لایا جو اب پتھر بن چکی تھی۔ جیسے میوزیم میں شیشے کے صندوقوں میں قدیم زمانے کی دریافت شدہ اشیاء احتیاط سے رکھی جاتی ہیں، مسٹر جے نے بالکل ویسے ہی وہ سارے پتھر اور کنچے میز پر سجا دیے ۔ پھر ہمیں ایک لائن بنا کر ان کا نظارہ کرانے لگے۔ مگر اس سے پہلے جناب نے خوب زور لگا کر تقریر کی اور ہم بچوں کو دھمکاتے ہوئے سمجھایا کہ یہ پتھر وغیرہ ذاتی طور پر جمع کردہ ہیں۔ شاید وہ دوبارہ کبھی اس طرح کا مواد دوبارہ جمع نہ کر سکے تو ضروری ہے کہ ہم ان چیزوں کو ہاتھ لگا کر چھونے کی ہر گز کوشش نہ کریں۔ دھمکانے کے ساتھ ہی مسٹر جے نے حکم دیا کہ ہم سب ہاتھ پشت پر باندھ لیں اور جب تک دوبارہ اپنی جگہوں پر بیٹھ نہ جائیں، ہاتھ ویسے ہی کمر کے ساتھ پشت پر باندھے رکھیں۔ 'دیکھنے اور مشاہدہ کرنے لیے تم لوگوں کو ہاتھوں کی قطعاً ضرورت نہیں ہے'، وہ چوہے کی طرح چر چر لفظ کترتے دھمکا رہا تھا۔ بولتے ہوئے اس کی شرٹ کے بٹن موٹی توند کے زور سے ٹوٹتے ہوئے محسوس ہو رہے تھے۔
ہم پشت پر ہاتھ باندھے چپ چاپ لائن میں دیکھ کر چلتے رہے۔ اسی اثناء میں، جب مسٹر جے کا دھیان کہیں اور بٹا ہوا تھا، میں نے ہاتھ پشت سے نکال کران نوادرات میں سے ایک پتھر کو چھو لیا۔ اگر آپ اس وقت مجھ سے پوچھتے کہ میں نے ایسا کیوں کیا تو یقیناً میرے پاس اس بات کا کوئی جواب نہ ہوتا۔ لیکن ظاہر ہے، اس میں تجسس کا عنصر تھا۔ تجسس بارے بھی یہ کہ مجھے ان دھول سے اٹے پتھروں میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ تو جیسے کوئی عام پتھر ہی لگتے تھے۔ آپ شاید اس بات کو ڈینگ سمجھیں مگر اصل بات یہ تھی کہ میں گناہ کے بارے متجسس تھی۔ ظاہر ہے چھ سال کی عمر میں بھلا مجھے گناہ کے تصور کی کیا سمجھ رہی ہو گی مگر مانع کی چاہ تو ہر کسی کو ہوتی ہی ہے، نہیں؟ بتائے دوں، مجھے اس وقت تک گناہ کا سرے سے کچھ پتہ نہیں ہوتا تھا۔ اے کاش، میں ویسی ہی رہتی۔ نہیں؟
کیا یہ ممکن ہے کہ مسٹر جے نے مجھے یہ حرکت کرتے ہوئے دیکھا ہو؟ میں اب یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتی۔ ہاں، شاید نہیں؟ وہ جناب ہم سب کو اتنی شاطر نظروں سے تاڑ رہے تھے جیسے کوئی شکاری جانور چھوٹے میمنے کو دیکھتا ہوتا ہے۔ اس بیچ یہ ممکن ہی نہیں کہ مجھے یہ حرکت کرتے ہوئے نہ دیکھا ہو۔ مگر وہیں اس وقت، مجھے اچھی طرح یاد کہ مسٹر جے کا دھیان بٹا ہوا تھا۔ مجھ سے آگے قطار میں کئی لڑکے چلتے جا رہے تھے۔ وہ لڑکے تھے ۔ جیسے لڑکے ہوتے ہیں۔ خواہ مخواہ اودھم مچا رکھا تھا۔ ایک دوسرے سے چھیڑ چھاڑ کرتے، ایسا ظاہر کر رہے تھے جیسے انہوں نے واقعی پتھر کو چھوا ہو۔ حالانکہ لکھ کر رکھیں، مسٹر جے کی موجودگی میں ان میں سے کسی ایک میں بھی اتنی ہمت نہیں تھی۔ وہ مار پڑتی کہ نانی یاد آ جاتی۔ تو میرا خیال ہے، مسٹر جے کا اس وقت دھیان ان لڑکوں کی جانب بٹا ہوا تھا۔ تبھی تو میں نے بھی ہاتھ نکال کر ایک دم پتھر کو چھوا اور پھر پشت سے باندھ لیا۔
سب ستے خیر ہوتی مگر ہر وقت کلاس میں چوں چوں کرنے والے اس لڑکے کا ستیاناس، ایک دم چیخ پڑا، 'مسٹر جے۔۔۔ مسٹر جے، جین نے پتھر کو ہاتھ لگایا ہے'۔ اس کے یوں ایک دم شور مچانے سے پوری کلاس کی نظریں مجھ پر گڑ گئیں۔ میں ہاتھ پشت پر باندھے منہ میچ کر کھڑی تھی۔
اس وقت بھلا میں کیسی لگ رہی تھی؟ مجھے دیکھ کر قطعاً اس بات کا اندازہ نہیں ہو سکتا تھا کہ واقعی میں نے یہ حرکت کی تھی۔ پرانی فوٹو نکال کر دیکھوں تو مجھے اپنی آنکھوں میں کسی بھی قسم کی شرارت نظر نہیں آتی۔ عام سی لڑکی جس کا چہرے پر تاثرات بھی سپاٹ ہی رہا کرتے تھے۔ بے ضرر سی، جیسے کوئی بے زبان اور معصوم لڑکی ہو سکتی ہے مگر اس عمر میں آخر کون ایسا نہیں ہوتا؟ ویسے بھی مجھے ایک دم یوں اچانک بہت سی توجہ پانے کا اس سے قبل کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ظاہر ہے میں ایک دم بے چین ہو گئی اور یوں ہی پریشان نظر آتی ہوں گی؟
مسٹر جے میری طرف بڑھے۔ وہ لہجے میں جھوٹ موٹ کی نرمی گھلا کر، جیسے دھمکانے کو ایک طرف رکھ کر بولے، 'جین۔۔۔ کیا تم نے اس پتھر کو چھوا ہے؟' جس لڑکے نے میری شکایت لگائی تھی، اس سے پہلے کہ وہ میری جگہ جواب دیتا۔۔۔ مسٹر جے نے اسے اشارے سے چپ کرا دیا۔
'نہیں تو' میں نے فٹ کہا اور نظریں بدستور زمین پر گاڑھے رکھیں۔
جین۔ قطار سے باہر آو، مسٹر جے نے حکم دیا، 'باقی سب اپنی سیٹ پر بیٹھ جائیں اور ہاتھ گود میں۔۔۔' باقی کلاس انتہائی تابعداری سے واپس لوٹ گئی۔ میں اپنے تئیں شرمسار تھی مگر اس کے ساتھ پوری کلاس میں ایک عجیب رنگ کا شغل بن چکا تھا۔ وہ سب مجھے پڑنے والی مار کا تماشا کرنے کو بے چین تھے۔
مسٹر جے نے مجھے کلاس سے باہر راہداری میں کھڑا کر دیا۔ میں کافی دیر تک وہیں چپ چاپ کھڑی رہی۔ جب کلاس ختم ہو گئی تو وہ مجھے اساتذہ کے لیے مختص کمرے میں لے گئے۔ سکول کے بچوں کے لیے یہ کمرہ عقوبت خانہ مشہور تھا۔ کمرے میں مجھے ایک چھوٹی سی کرسی پر بٹھا دیا اور خود میرے سامنے یوں تن کر کھڑے ہو گئے جیسے کوئی بلند مشٹندا دیو ہو۔ یہ کمرہ سکول کے باقی کمروں کی طرح، وسیع تھا، جیسے کلاس روم ہو مگر ظاہر ہے اس میں بلا کی بے کیفی اور ترتیب بھری ہوئی تھی۔ ہر چیز سلیقے سے رکھی تھی۔ کمرے کے ایک کونے میں بڑی سی میز تھی جب کہ اس کے ارد گرد بیٹھنے کے لیے چند کرسیاں لگائی گئی تھیں۔ پچھلی طرف ایک غلیظ سا صوفہ بھی تھا۔ کمرے کی کھڑکیاں باہر کھیل کے میدان کی جانب کھلتی تھیں جس میں گھاس کا ایک تنکا بھی نہیں تھا اور ہر وقت دھول اڑتی رہتی تھی۔ دیواریں سکول کے باقی کمروں کی ہی طرح گدلے زردی مائل رنگ میں رنگی ہوئی تھیں جیسے پیلے دانت ہوا کرتے ہیں۔ مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ اس سکول کی دیواریں کس قدر بھدی ہیں۔ کلاس میں تو چلو کچھ نہ کچھ رنگین ٹنگا ہوتا ہے، یہاں تو سوائے بوجھل پن کے در و دیوار میں کچھ بھی نہیں تھا۔
مجھے پتہ ہے کہ تم جھوٹ بول رہی ہو' مسٹر جے نے میز کے حلقے میں سے ایک کرسی نکالی اور میرے سامنے دھر کر بیٹھتے ہوئے کہا۔ موصوف کا رویہ ایسا تھا جیسے کسی عادی مجرم سے مخاطب ہیں۔ میں اس بات پر ایک دم سخت شرمندہ ہو گئی اور چہرہ فوراً ہی لال ہو گیا۔ 'کیا تم جانتی ہو کہ میں کیسے جانتا ہوں؟' مسٹر جے کی آواز میں اب تحکم کے ساتھ غرور بھی تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ یہ شخص مجھے یوں ہراساں کر کے تسکین حاصل کر رہا ہے۔ اس لمحے مسٹر جے اپنی ساری مردانگی ایک چھ سالہ بچی پر دھاک کی طرح بٹھا رہے تھے۔ میں بدستور سر جھکائے، اپنی حرکت کی وجہ سے اس مقام پر پہنچ کر سخت پشیمان تھی۔ 'میں اس لیے جانتا ہوں کیونکہ تم میری طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ بھی نہیں سکتیں۔ تم شرمندہ ہو۔ تمہارا جھوٹ تمہیں اندر سے کھا رہا ہے۔ کیا تمہیں اپنے اندر برا محسوس ہوتا ہے؟' مجھے کچھ اندازہ نہیں تھا کہ اس طرح کے سوالات کا جواب کیا ہو سکتا ہے۔ کچھ نہ سمجھتے ہوئے، میں نے بس جھکا ہوا سر ہاں میں ہلا دیا۔ 'وہ بچے جو جھوٹ نہیں بولتے، ان کے سر فخر سے بلند ہوتے ہیں۔ وہ دوسرے لوگوں کی آنکھ میں آنکھ ملا کر دیکھ سکتے ہیں۔ انہیں کوئی بات بری محسوس نہیں ہوتی'، مسٹر جے کا لیکچر شروع ہوا تو اسی وقت میں نے سر اٹھایا اور جناب کی آنکھوں میں آنکھ ڈال کر دیکھا۔ میں نے دیکھا کہ مسٹر جے کا چہرہ ، اس کا نہیں بلکہ جیسے کوئی دیو آسا ہو۔ جیسے ادھیڑ عمری میں پہنچ کر تقریباً لوگوں کا چہرہ دیو ہیکل نظر آنے لگتا ہے۔ مسٹر جے مجھے وہ لیکچر سنا کر جھوٹ بولنے کا صحیح گر ازبر کرا رہے تھے۔
مسٹر جے اس سکول میں اکیلے نہیں تھے۔ ظاہر ہے باقی بھی کئی اساتذہ تھے۔ اس کے بعد تو جیسے معمول بن گیا۔ ہر کوئی جب کسی شرارت، جھوٹ وغیرہ پر لیکچر دیتا اور باور کراتا کہ چونکہ اس نے ایک عمر گزار رکھی ہے، وہ کیونکر بچوں کی حرکتوں سے واقف ہے، مجھے ہر بار ایک نیا سبق مل جاتا۔ میں کوئی نیا گر سیکھ لیتی۔
میں نے ماں سے اس واقعہ کا ایک دفعہ ذکر کیا تھا۔ یہ سکول کے بعد کی بات ہے۔ اس وقت میں کالج جایا کرتی تھی اور ماں ابھی بھی تندرست تھی۔ ہم دونوں کچن میں بیٹھے کافی پی رہے تھے۔ حالانکہ میں ابھی صرف کالج ہی جایا کرتی تھی لیکن اس کے باوجود خاصی پر جوش اور خود کو سیانی سمجھا کرتی تھی۔ بات یہ تھی کہ مجھے کالج میں با آسانی داخلہ مل گیا تھا اور یہی نہیں بلکہ پڑھائی کا خرچہ بھی ایک سرکاری سکالر شپ سے پورا ہو رہا تھا۔ اس سکالر شپ میں مجھے کچھ لگا بندھا ماہانہ جیب خرچ بھی مل جاتا تھا۔ مجھے ان دنوں لگنے لگا کہ شاید میں اس طرح اپنا بوجھ خود اٹھا رہی ہوں اور ایک طرح سے ماں کی ہم سر اور ہم پایہ بن چکی ہوں۔ چونکہ میں پچھلے چند ماہ گھر سے دور رہی تھی۔ مجھے اس گھر میں اب چیزیں صاف دکھائی دے رہی تھیں۔ مثلاً مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ داخلی دروازے پر ٹنگی ہوئی گھنٹیاں عرصے سے خاموش ہیں۔ کھڑکیوں کے پردے پرانے اور بوسیدہ ہو چکے ہیں۔ ریفریجریٹر پر ہمارے زمانے بھر کی تصویریں اور طرح طرح کے اقوال اور ای میل میں موصول ہوئی نظمیں چسپاں کر رکھی تھیں۔ یہ سب دیکھ کر اول تو یہ خیال آتا تھا کہ جب میں یہاں بسر رکھتی تھی، یہ سب چیزیں دکھائی ہی نہیں دیتی تھیں۔ دوم یہ کہ احساس ہوتا کہ دیکھو تو، کتنا طویل عرصہ گزر چکا ہے۔ میں جوان ہو چکی تھی اور ماں بوڑھی ہو رہی تھی۔
خیر ہم دیر تک باتیں کرتے رہے ۔ پرائیویٹ سکول کی بات بھی چل نکلی تو میں نے کہا، 'چونکہ یہ بات نکل آئی ہے' حالانکہ یہ بات میں نے جان بوجھ کر شروع کی تھی۔ اس سے بھی مجھے آزادی کا احساس ہوا کہ اب میں جب چاہوں، جس موضوع پر چاہوں بات کر سکتی تھی۔ میں نے ماں کو سکول میں پیش آنے والا واقعہ سنایا اور اس قدیم پتھر کا احوال بھی تفصیل سے بیان کیا۔ میں نے جس طرح روداد سنائی، اس میں بولے گئے جھوٹ اور اس کے بعد اپنی خود سری کو صاف گول کر گئی۔ میں نے ساری بات کا زور سزا اور اس سکول میں مسٹر جے ایسے اساتذہ کے رویے پر دیے رکھا۔ میں نے لفظ 'مار کٹائی' استعمال کیا، حالانکہ اس دن مجھے مار نہیں پڑی تھی۔
'کیا؟ تمہیں مسٹر جے نے مارا تھا؟ صرف اس پتھر کو چھونے کی وجہ سے؟' ماں نے حیرانگی سے پوچھا تو میں نے کہا، 'وہ مجھے دوسرے کمرے میں لے گئے اور پیٹا تھا'، میں نے ایک دفعہ پھر تصدیق کی۔
'یہ تو مجھے پتہ ہے کہ اس سکول میں بچوں کو اکثر بچوں مارتے وغیرہ تھے'، ماں نے کہا 'کیوں کہ داخلے کے وقت ایک فارم پر دستخط لیے جاتے تھے۔ ہلکی پھلکی مار پیٹ میں کوئی حرج بھی نہیں ہے۔ یہ تو آج کل لوگوں نے خواہ مخواہ ہی اس رائی کا پہاڑ بنا رکھا ہے۔ بلکہ میرے خیال میں تو بعض اوقات جب حد گزر جائے تو بعض بچوں کو مار کر سبق سکھانا ہی درست طریقہ بھی ہے'۔
'بعض اوقات؟ وہاں تو یہ معمول تھا'، میں نے کہا۔ یہ درست بھی تھا۔ چھوٹی موٹی لغزشوں پر اس سکول میں جتنی مار میں نے کھائی تھی، وہ سب آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل پڑی اور اندر ہی اندر طیش بھر گیا۔ لیکن یہاں، اس کمرے میں یہ برہمی کچھ اتنی بری بھی نہیں لگ رہی تھی۔ مجھے احساس ہو رہا تھا کہ میں اس بات چیت کے مقابلے میں جیت رہی ہوں۔ مجھے اپنا آپ ایک نئی طرف جاتا دکھائی دے رہا تھا اور خوب مزہ آ رہا تھا۔ حالانکہ صاف ظاہر تھا کہ اس مکالمے پر حاوی ہونے کے لیے میں نے چند انتہائی ضروری باتیں گول مول کر دی تھیں۔
'تم شرارتی تو نہیں تھیں'، ماں نے کہا 'بلکہ تم کبھی زیادہ تنگ نہیں کرتی تھیں'۔
'وہ تو بس مار کٹائی کی وجہ ڈھونڈتے رہتے تھے'، میں نے کہا 'میرا خیال تھا کہ شاید میں بہت شرارتی، نک چڑھی اور بری لڑکی ہوں کیونکہ اگر میں بری نہ ہوتی تو کیا مجھے سزا ملتی؟'
ماں بہت دیر تک کافی کے مگ میں دور تک پیندے میں جھانکتے ہوئے اس بات پر غور کرتی رہی یا کیا پتہ، اس کے پاس کہنے کو کچھ نہیں تھا؟ بعد میں اس نے کہا، 'کیا تمہیں پتہ ہے کہ میں نے تمہیں اس سکول سے کیوں نکالا تھا؟' یہ بتاتے ہوئے اس کا لہجہ اور انداز خاصا بوجھل ہو گیا تھا، جیسے شدید تھکن سے دوچار ہو۔ مجھے فوراً ہی احساس ہوا کہ ماں بوڑھی ہو چکی ہے۔ اب کی بار یہ کوئی قیاس نہیں تھا۔ جیسے کہا جاتا ہے کہ بچے بڑے ہو جائیں تو ماں باپ بوڑھے ہو جاتے ہیں وغیرہ۔ وہ واقعی بڑھاپے کی دہلیز میں داخل ہو چکی تھی۔ اس کا جسم تھکن اور دکھ سے چور تھا۔ میں نے اشارے سے کہا کہ میں نہیں جانتی بلکہ کبھی اس بارے سوچا بھی نہیں تھا۔ 'میں ایک دن تمہاری پرنسپل سے ملنی گئی بلکہ اسی نے مجھے ملنے کے لیے بلوایا تھا۔ وہ تمہاری بابت خاصی فکر مند تھی۔ میں سمجھی چونکہ تم اس سکول میں نئی داخل ہوئی تھیں اور تمہیں یہاں مشکل پیش آ رہی ہے وغیرہ۔ لیکن جب میں اس کے دفتر پہنچی تو وہ بجائے تمہارے، مجھ سے میری بابت سوال کرنے لگی۔ چھوٹتے ہی کہا، 'آپ طلاق یافتہ ہیں؟'
'معاف کیجیے گا؟'، ماں نے اسے کہا
'مطلب، کیا آپ کے دوسرے مردوں کے ساتھ تعلقات ہیں؟' یہ سن کر ماں کا چہرہ سرخ ہو گیا اور اسے سمجھ نہ آئی کہ آخر اس بات کا کیا جواب دے۔ پرنسپل نے دوبارہ پوچھا کہ' کیا آپ غیر مردوں کو اپنے گھر بھی بلاتی ہیں؟'
ماں اس سوال پر اس قدر بد حواس ہوئی کہ دیر تک اسے کوئی جواب ہی سجھائی نہ دیا۔' آخر میری ذاتی زندگی سے آپ کا کیا واسطہ ہے؟' بالآخر ماں نے غصے پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
'میرا مقصد آپ کی بیٹی کا بہبود اور تمیز داری ہے'۔ پرنسپل ماں کی ہم عمر تھی مگر قدرے دبلی پتلی واقع ہوئی تھی۔ وہ ہر وقت دفتری جیکٹ اور پتلون پہنے رکھتی جبکہ چہرے پر میک اپ کی موٹی تہہ تھونپی ہوتی۔ بالوں کا جوڑا بنا کر سر کے پیچھے ٹکائے رکھتی، جس سے وہ اپنی عمر سے کہیں بڑی نظر آتی تھی۔ 'بچے بڑوں سے سیکھتے ہیں۔ ان سے بالخصوص جو ہر وقت ان کے ارد گرد ہوں۔ ایک لڑکی کی ماں جو گناہ میں ڈوبی۔۔۔'
یہ سنتے ہی ماں کا پارہ آسمان کو چھونے لگا۔ اس نے پرنسپل کو بیچ بات کے پوری قوت سے چلا کر ٹوک دیا۔ پرنسپل چپ ہو کر ماں کو تکنے لگی۔
'میں یہی بات جاننا چاہ رہی تھی۔ آخر آپ اپنی بیٹی کے لیے کس طرح کی مثال قائم کر رہی ہیں؟'
اب برداشت سے بات باہر ہو گئی۔ ماں اٹھ کر انتہائی غصے کے عالم میں پرنسپل کے دفتر سے نکل گئی۔ 'میں نے تمہیں اسی وقت اس سکول سے نہیں نکالا کیونکہ۔۔۔۔' ماں کے لہجے میں ابھی تک اس عورت کے لیے تلخی بھری ہوئی تھی۔ میں صاف بتا سکتی تھی کہ وہ بیک وقت اس بابت شدید غصے اور بے بسی سے دوچار تھی۔ 'پبلک سکول کے داخلوں کا وقت نکل چکا تھا اور میں نے پرائیویٹ سکول میں پورے سال کی فیس بھی ادا کر دی تھی۔ اس وقت ہمارے پاس پیسوں کی قلت ہوا کرتی تھی۔ ہم اس طرح پیسے نہیں لٹا سکتے تھے۔ ویسے بھی، میرا خیال تھا کہ تمہیں وہاں کوئی مسئلہ نہیں تھا۔ میں نے پوری طرح سوچ لیا تھا کہ تم اگلے برس اس سکول میں نہیں رہو گی لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ تمھیں بھی وہاں بہت مسائل تھے'۔ 'اس سکول میں مجھے ہر ہفتے مار پڑتی تھی'، میں نے دوبارہ کہا۔ اب کی بار میرے لہجے میں بھر پور قوت چھپی ہوئی تھی۔ سچ کہوں تو مجھے ایک دم اپنی کوتاہیوں سے چھٹکارے کا احساس ہوا تھا۔ جیسے میں بے گناہ ثابت ہو چکی تھی۔ اسی وجہ سے مجھے اپنا آپ انتہائی طاقتور لگنے لگا۔ اس لمحے، اگر میرے بس میں ہوتا تو شاید میں ماں سے مزید باتیں اگلواتی اور یوں زندگی بھر پیش آنے والی ناانصافیوں کی یاد تازہ کر کے مزید مبرا ہو سکتی تھی۔
'لیکن تم نے مجھے کبھی اس بارے بتایا تو نہیں۔ اگر تم مجھے بتاتیں تو کیا ایسا ہونے دیتی؟ اب تم نے مجھے بتایا ہی نہیں تو آخر مجھے کیسے پتہ چلتا کہ وہاں تمہیں ہر ہفتے مار کھانی پڑتی تھی؟' اس کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔ جیسے شدید تذبذب کا شکار ہو۔ وہ اسی عالم میں ایک ہی بات دہرائے جا رہی تھی جبکہ ہاتھ میں کافی کا مگ اتنی زور سے پکڑ رکھا تھا جیسے کانچ میں انگلیاں کھبو رہی ہو۔ اگرچہ میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتی مگر مجھے ایسا لگا جیسے ماں خود کو زبردستی وہاں بیٹھے رہنے پر مجبور کیے ہوئے ہے ورنہ اس کا بس چلتا تو اٹھ کر بھاگ جاتی۔
'آخر میں آپ کو کیسے بتاتی؟' میں نے بس نہیں کی اور کہا،' ہر بار جب کسی بات پر مجھے مار پڑتی تھی۔ اگر میں گھر آ کر بتاتی تو ان کی طرح یہی سوچا جاتا کہ شاید میں بہت بری ہوں'۔ میں تقریباً رونے لگی اور ہم دونوں دیر تک اس بات پر غمگین رہے۔ یہ نہایت عجیب بات ہے مگر کیا آپ کو بھی یہ بات انوکھی محسوس ہو گی اگر میں یہ کہوں کہ اب جب میں مڑ کر اس دن کے بارے میں سوچتی ہوں تو وہ موقعہ میری زندگی کی چند خوشگوار یادوں میں سے ایک ہے؟
ماں کو بیماری نے آن گھیرا ۔ جب وہ مر رہی تھی تو آخر میں چیزوں کے بیچ تفریق کرنا بھول گئی تھی۔ وہ چیزیں جو اس کی زندگی کا اہم حصہ تھیں اور وہ چیزیں جو اس نے ٹی وی پر دیکھ رکھی تھیں۔ اسے کینسر تھا اور بیماری پھیل کر دماغ میں سرایت کر چکی تھی۔ میں اس سے پوچھتی کہ کیا وہ مجھے جانتی ہے تو مسکرا کر کہتی، 'تم وہی لڑکی ہو ناں جس نے لاٹری جیتی تھی؟'۔
'میں آپ کی بیٹی ہوں'، درستگی کرتی۔
'اچھا'، وہ بس اتنا کہتی اور بے پرواہی سے سر ہلا دیتی۔ اب اگر میں اس سے بحث کرتی یا درستگی کرتی تو اسے اس بات سے قطعاً کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ اسے کوئی بات سمجھ نہ آتی جیسے وہ خود کون ہے؟ یہ کمرے میں اس کے ساتھ کون ہے؟ یا اس نے ساری زندگی کیا کچھ کیا؟ یا یہ بھی کہ اس نے دوپہر کو کھانے میں کیا کھایا تھا۔۔۔؟ وہ یہ سب بھول چکی تھی۔ بجائے رہنے دیتی، وہ کچھ دوسری باتیں گھڑ لیتی اور گفتگو کا پیٹ بھرتی رہتی تھی۔ اس کے دماغ کو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے۔ بس کچھ نہ کچھ کہہ کر خود کو مطمئن کر لیتی۔ وہ رشتے ناطے، تعلق داری کی ضرورت اور گفتگو کے تقاضوں سے آزاد ہو چکی تھی۔ اسے اپنے ذہنی سکون کے لیے واقعات میں کسی بھی قسم کا جھوٹ گھڑ کر رکھنے یا زندگی کا دھارا درست رکھنے لیے گفتگو تراشنے کی اب کوئی حاجت باقی نہیں رہی تھی۔ آخر میں تو یہ حال ہو گیا کہ میں نے عام بات چیت میں بھی اس کی درستگیاں کرنا چھوڑ دیا۔ زندگی کے چیدہ واقعات کا ریکارڈ ٹھیک کرنا ترک کر دیا۔ اب معمول یہ بن گیا کہ میں اس سے کوئی بھی سوال پوچھ لیتی اور وہ دیر تک الا بلا بولتی رہتی اور میں بستر کے پہلو میں کرسی پر بیٹھی اس کو سنتی رہتی۔ کیا آپ کے خیال میں یہ کٹھور پن ہے؟
جب ماں مر رہی تھی، میں کئی ہفتوں تک اس کے سرہانے بیٹھی رہی۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں کہ آخر وقت، کیا اس کے جسم میں واقعی میری ماں تھی یا کوئی اور حلول کر گیا تھا؟ مجھے علم نہیں، میں اس بابت کچھ نہیں کہہ سکتی۔

(جنوری 2016ء)

یہ کہانی  صلہ عمر پر جاری سلسلے "ماخوذ کہانیاں" کا حصہ ہے۔ اس سلسلے کی تمام تحاریر کی فہرست یہاں کلک کر کے ملاحظہ کریں۔ نئی تحاریراور سلسلوں بارے اپڈیٹ ای میل میں حاصل کرنے کے لیے ابھی سبسکرائب کریں یا سوشل میڈیا (فیس بک، ٹوئٹر) پر فالو کریں۔ سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے رابطہ فارم استعمال کریں یا obangash@gmail.com پر ای میل کریں۔ شکریہ

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر