کارواں - دوسری قسط

-افغانستان کا ناول-


سرما کا موسم آخری دم پر تھا۔ ایسے میں کابل نہایت عمدہ منظر پیش کر رہا تھا۔ بالخصوص شام ڈھلنے کا وقت تو بہت ہی خوب ہو جاتا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے سورج مغرب میں فارس کی جانب اتنی تیزی سے ڈوبتا جیسے کسی سے ملنے کی جلدی میں دوڑا دوڑا جاتا ہے۔ مٹی کے گھروندے جو عام طور پر دور سے یکساں، ایک ہی رنگے اور پھیکے لگتے، اس وقت چھتوں پر برف کی وجہ سے قدرے بھلے لگتے۔ دھندلکوں میں منڈیروں پر پڑی سفید برف سرمئی ہوتی جاتی۔ ایسے میں ان گھروندوں کے باسی لوٹتے تو کندھوں پر قرابین بندوقیں اٹھائے، دور کھیتوں میں سایوں کی طرح رینگتے ہوئے آنکھوں کو بہت بھلے لگتے۔ مجھ سا اجنبی یہ منظر دیکھ کر دم بخود رہ جاتا، احساس ہوتا کہ آخری دم بھی ایشیاء کے اس منظر کو کبھی نہیں بھول سکتا۔
شاہ خان شہر کے مغرب میں ایک بھدے اور بہت بڑے قلعہ نما گھر میں بسر رکھتا تھا۔ اس کے اردگرد دیواریں کم از کم بھی پندرہ فٹ اونچی رہی ہوں گی۔ میں نے اندازہ لگایا کہ اس چہار دیوار کو بلند کرنے کا کام سینکڑوں مزدوروں نے جان جوکھوں میں ڈال کر سر انجام دیا ہو گا۔ عین ممکن ہے کہ وہ مزدور جیلوں سے ڈھوئے گئے عادی مجرم رہے ہوں گے۔ دیوار کئی ایکڑ رقبے کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ یہ زبردست تعمیر، جو دیکھنے میں بہت ہی پرہیبت لگتی تھی، اس میں نپے ہوئے فاصلے پر چکردار سیڑھیوں کی پہر ےدار برجیاں تھیں اور ایک انتہائی اونچا مینار بھی تھا۔ قلعے کی پشت پر کوہ بابا کی اونچی برف کے غلاف میں ڈھکی چوٹیاں اس کی شان میں اضافہ کر رہی تھیں۔ شاہ خان کا قلعہ نما گھر ہی کیا، کابل میں کہیں بھی چلے جائیں تو یہ چوٹیاں مجھ ایسے بدیسی کو ہمہ وقت یاد دلاتی رہتیں کہ سرما کے موسم میں یہ شہر اور اس کے لوگ، بالخصوص شاہ خان جیسے آدمی عملی طور پر میری دسترس سے باہر ہیں۔ ہاں، اگر میں اپنی جان جوکھوں میں ڈالوں، ان پہاڑوں میں دشوار گزار گھاٹیوں میں اتر کر زندگی کو خطرے میں ڈال دوں تو بات بن سکتی ہے۔ ان گھاٹیوں میں ہر سال کئی لاریاں گم ہو جاتی تھیں اور ان کا نام و نشان بھی نہیں ملتا تھا۔ یہی بات اس شہر کے باسیوں پر بھی صادق آتی ہے جن کے یہاں پہنچ کر لوگ گم ہو جاتے تھے۔ ایلن جاسپر بھی ان کے اونچی دیواروں، قلعوں میں پہنچ کر کھو گئی تھی۔
اس قلعہ کے اونچے دروازے کے باہر، جہاں سے گزر کر شاہ خان کے گھر تک پہنچا جا سکتا تھا، گھنٹی کی رسی ٹنگی ہوئی تھی۔ نور محمد نے یہ رسی کئی بار کھینچی تو سرد ہوا میں بھاری گھنٹی کی آواز دور تک پھیل گئی۔ عام طور پر یہی ہوتا ہے کہ گھنٹی کی آواز سن کر ایسی جگہوں کے پہرے پر مامور پہرے دار بھاری بھرکم دروازے کو دھکیل کر کھولتا ہے مگر جب نور محمد نے دوسری دفعہ رسی کھینچی تو دیواروں کے اس پار مجھے لگا جیسے میرے کانوں میں گھوڑے کے ہنہنانے اور ٹاپوں کی آواز سنائی دی ہے۔ پھر بجائے یہ کہ دروازے کی چھوٹی سی کھڑکی، جس میں سے ملاقاتیوں کی بابت سن گھن لی جاتی تھی، بھاری دروازے وا ہو گئے۔ میں نے دیکھا کہ اس کے پیچھے چھتیس سال کا خوبرو جوان سفید گھوڑے پر سوار، ہمیں خوش آمدید کہہ رہا تھا۔
'مارک ملر۔۔۔ چلے آؤ!' گھڑ سوار شستہ انگریزی میں چلایا۔ یہ شاہ خان کا بیٹا محب خان تھا جو آکسفورڈ اور امریکہ میں وارٹن سکول میں پڑھا ہوا تھا۔ وہ آج کل افغانستان کے دفتر خارجہ میں اعلیٰ درجے کی سفارتی ذمہ داریاں سنبھالے ہوا تھا۔ لیکن اس وقت وہ بجائے سفارتکاروں، کوہستانیوں کا لباس زیب تن کیے روایتی افغانوں کا روپ ڈھالے ہوئے تھا۔ کھڈی پر بنے ہوئے اونی لباس پر بیش قیمت صدری، اس پر روسی طرز کا لمبا چوغا اور سر پر سلور رنگ کی قرقلی پہن رکھی تھی۔ تازہ شیو، چہرہ شائستہ، آنکھیں چمکتی ہوئی۔۔۔ ایک پڑھا لکھا افغان جو اپنے جوبن پر تھا۔ میں اس سے قبل بھی محب خان کے ساتھ کئی بار ملاقات کر چکا تھا۔ میں نے اسے گفتگو میں ہمیشہ نفیس، چال ڈھال میں موقر اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت میں گھمنڈی پایا ہے۔ وہ اونچے قد کا قدرے دبلا پتلا آدمی تھا مگر سر جسم کی نسبت بڑا لگتا تھا جس پر تک سیاہ لانبے بال تھے، جنہیں ہر وقت سلیقے سے سنبھالے رکھتا تھا۔ مجھے اکثر محسوس ہوا کہ بالوں کی وجہ سے اس کی طبیعت میں عجب طرح کا غرور نظر آتا ہے۔ بہرحال، میں اس کی عزت کرتا تھا۔ مجھے یہاں وارد ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا مگر میں نے ابھی تک افغانستان میں محب خان جیسا چالاک اور تیز طرار آدمی دوسرا کوئی نہیں دیکھا تھا۔
میں جب بھی محب خان کے ساتھ ہوتا تو یہ خیال پریشان کرتا کہ اگر کل کلاں افغانستان کا مستقبل، اگر افغانوں کے ہاتھ میں رہنے دیا گیا تو اس کا دارومدار اس بات پر ہو گا کہ کوہستانی ملاؤں اور محب خان جیسے لندن میں آکسفورڈ، پیرس میں سوربن اور امریکہ میں ایم آئی ٹی جیسے اداروں میں پڑھے لکھے لوگوں کے بیچ جاری کشمکس کا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟ مجھے یہ تو پتہ نہ چلتا کہ آخر ان دونوں انتہاؤں میں سے جیت کس کی ہو گی مگر یہ بات طے تھی کہ میں اور کابل کے سفارتخانوں میں کام کرنے والے سبھی لوگ دل سے یہی چاہتے تھے کہ بالآخر محب خان اور اس جیسے جوانان ملت کی جیت ہو۔
'ارے واہ، یہ گھوڑا کہاں سے ملا؟' میں نے احاطے میں داخل ہوتے ہوئے پوچھا۔ دیواروں کے اندر یہ اس قدر وسیع جگہ تھی کہ یقیناً انیسویں صدی میں محاصروں کے دوران ہزاروں لوگوں کی جائے پناہ رہتی رہی ہو گی۔
'اس کی پشت پر ٹھپی مہر کو دیکھو!' وہ گھوڑے پر بدستور سوار، جھک کر مجھ سے مصافحہ کرتے ہوئے چلایا، 'معاف کرنا، میں نے دستانے پہن رکھے ہیں، ٹھنڈ میں لگام قابو رکھنا خاصا مشکل تھا'۔ پھر اس نے گھوڑے کی بائیں جانب پہلو کی طرف اشارہ کیا جہاں انگریزی کا حرف W کی مہر گوشت اور بالوں کو جلا کر ثبت کی گئی تھی۔
'میں سمجھا نہیں!' میں نے کہا،
'سوچو، ملر۔۔۔ سوچو!'
'W'، میں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، 'میں اس نام کے کسی اصطبل کو نہیں جانتا، یہ کہاں ہے؟'
'ارے، یہ اصطبل نہیں۔۔۔ جذبات سے متعلق ہے' محب ہنس کر بولا، 'سوچو، سوچو!'
میں نے ذہن پر بہت زور ڈالا مگر سمجھ نہ آئی، آخر یہ خفی نشان کیا ظاہر کرتا تھا؟ نور محمد نے میرے پیچھے پیچھے گاڑی بھی احاطے میں داخل کی تو گھوڑا انجن کی آواز سن کر گھبرایا اور بدک کر پیچھے مڑ ، برف پر سر پٹ دوڑنے لگا۔ جتنا وسیع یہ احاطہ تھا، اس جگہ کو باغیچہ کہنا احمقانہ بات تھی۔ جس طرح گھوڑا ڈر کر بھاگا تھا، محب خان نے خوبصورتی کے ساتھ اسے قابو کیا اور سر پٹ دوڑا لے گیا۔ میں اس کی گھڑ سواری میں مہارت کا قائل ہو گیا۔
دور سے چکر لگوا کر وہ گھوڑے کو واپس جیپ کے پاس لے آیا تا کہ اسے چلتے ہوئے انجن کی آواز سے آشنا کرا سکے۔ وہ اسے جیپ کے پاس ہی، نہایت پھرتی کے ساتھ گھماتا ہوا میرے قریب لے آیا۔ پھر اچانک، پوری مستعدی سے گھوڑے کی پشت سے کودا اور بجائے مجھ پر گرتا، میرے پہلو میں سیدھا آن کھڑا ہوا، پھر وہ میرے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر دونوں ہاتھوں کو جوڑے، قدمچہ بنا کر بولا، 'اب تم سواری کرو!' اس نے یوں دعوت دی جیسےحکم چلا رہا ہے۔
یہ نہایت عجیب بات ہے مگر افغانوں کی مہمان نوازی بھی عجیب و غریب صورتحال ہوتی ہے۔ کوئی بدیسی ان کی روایت کا کبھی عادی نہیں ہو سکتا۔ جیسے ابھی ابھی، ایک پڑھے لکھے افغان نے بھی نہایت قطعی انداز میں حکم دیا تھا کہ، 'اب تم سواری کرو!'۔ حالانکہ تئیں دوستانہ انداز اپنائے، مہمانداری نبھا رہا تھا مگر مجھ سے غیر کو یہ تحکم ہی محسوس ہو گا۔ ایسی دوستانہ کمان سن کر ایسا لگا کہ اگر میں فی الفور اس کا حکم مان کر گھوڑے پر سوار نہ ہوا تو ابھی کے ابھی، بندوقیں نکل آئیں گی اور لڑائی جھگڑا ہو جائے گا۔ اس کا انداز اور تکلم، پھر تحکم ایسا تھا کہ میں اگر چاہتا بھی تو انکار نہیں کر سکتا تھا۔ چنانچہ ہاتھوں کے قدمچے پر دائیں پاؤں رکھ، اچھل کر سفید گھوڑے پر سوار ہو گیا۔
میں نے گروٹن میں گھڑسواری بھی سیکھی تھی اور اس میدان میں کچھ نہ کچھ گزارہ کر لیتا تھا۔ گھڑ سواری میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ چاہے جس قدر بھی مہارت حاصل کر لیں، سینکڑوں گھوڑے دوڑا چکے ہوں مگر کسی نئے گھوڑے، بالخصوص افغانستان کے اجنبی گھوڑے پر سوار ہو کر آپ اسے فوراً اپنی مرضی پر مجبور نہیں کر سکتے۔ میں نے محسوس کیا کہ یہ گھوڑا اپنی پشت پر کاٹھی اور گھڑ سوار کا عادی ہے۔ اسی لیے جب میں نے پہلی بار لگام ڈھیلی چھوڑی تو وہ اپنا توازن اور پشت پر میرا وزن سنبھالتے ہوئے، میرے ساتھ ایک ہی تعدد پر سر پٹ دوڑنے لگا۔ میں نے سوچا، شاید وہ اتنا تیز دوڑ کر مجھے خوفزدہ کرنا چاہتا ہے لیکن ساتھ ہی وہ لگام پر میرے ہاتھ کی سختی کو متواتر نظر میں رکھے ہوئے ہے تا کہ دبا رہے۔ وہ لگام سے بے نیاز نہیں تھا مگر اس کی بڑھتی ہوئی رفتار میں قابو رکھنا بھی آسان نہیں تھا۔ ضدی بچے کی مانند وہ بھی سوچتا ہو گا کہ اگر وہ مجھے نظر انداز کر دے تو میں بھی اسے اس کے حال پر چھوڑ دوں گا۔ لیکن جب میں نے لگام کو کچھ اس طرح کھینچا کہ وہ میرے ہاتھ تلے رہے، فوراً سنبھل جاتا۔ اس کی چال میں آہستہ آہستہ ٹھہراؤ آتا گیا مگر باغیانہ پن کی ہلکی سی رمق بدستور باقی رہی۔ یہ نہایت عمدہ گھوڑا تھا، میں قلعے کے چار پھیر میں ایک پورا چکر لگا کر واپس جیپ کے پاس لے آیا جہاں محب خان کھڑا نور خان سے باتیں کر رہا تھا۔
جیپ رکی ہوئی تھی مگر انجن بدستور چل رہا تھا۔ میں ان دونوں کے پاس پہنچا تو محب خان نے اچانک آگے بڑھ کر ایکسلریٹر دبا دیا، جس سے انجن گڑگڑایا تو گھوڑا گھبرا گیا، بری طرح بدک گیا۔ وہ اگلی ٹانگیں اٹھا، ہوا میں اچھل پڑا۔ میری خوش قسمتی تھی کہ ابھی لگام ڈھیلی نہیں چھوڑی تھی، فوراً ہی کس کر پکڑیں اور کھینچ لیں تا کہ گھوڑا ایک ہی جگہ پر ٹھہر جائے۔ مجھے محب خان پر سخت غصہ آیا کیونکہ وہ مجھے خطرے میں ڈال کر اپنا گھوڑا سدھا رہا تھا۔ جب گھوڑا کسی طور بھی قابو نہ آیا تو میں نے زور سے اپنی دونوں لاتیں کھول کر اس کے پیٹ میں رسید کیں تو گھوڑا واپس مڑا اور پھر سے میدان میں دوڑنے لگا۔ اب کی بار اس کی رفتار بہت تیز تھی اور وہ مجھے بل دیتا ہوا، اکڑا کر، بالکل بھی خاطر میں نہ لاتے ہوئے سر پٹ دوڑے جا رہا تھا۔ کچھ دیر تک یہی تماشا جاری رہا مگر میں نے آخر اسے قابو کر ہی لیا اور ایک دفعہ پھر واپس جیپ کے پاس لے آیا۔ دھیان سے ایک طرف روک لگا کر درشتی سے آواز لگائی، 'نور محمد۔۔۔ انجن بند کر دو!'۔
اس سے پہلے کہ وہ ایسا کرتا، محب خان نے ایک دفعہ پھر ایکسلریٹر دبا دیا۔ اب کی بار چونکہ میں نے گھوڑے کو پہلے ہی قابو کر رکھا تھا، اس لیے جگہ سے ہلنے نہیں دیا۔ میں کود کر گھوڑے سے اترا اور لگام محب خان کی طرف اچھالتے ہوئے کہا، 'یہ نہایت ہی عمدہ گھوڑا ہے'۔
'ملر، تم بہت خوب گھڑ سوار ہو۔ میں نے آج تک کسی امریکی کو اتنی چابکدستی سے گھوڑا دوڑاتے نہیں دیکھا!' اس پر میں ہنس پڑا تو اس نے پوچھا، 'تمہیں ابھی تک اس مہر کی سمجھ نہیں آئی؟'۔
'افغانوں کے دماغ کا احاطہ کون کر سکا ہے؟' میں نے مذاقاً کہا۔
'میں ان افغانوں میں سے نہیں ہوں' اس نے اعتراف کیا، 'لیکن تمہاری ناکامی سے مجھے حیرت ہوئی!'۔
'تمہیں یہ گھوڑا کہاں سے ملا؟' گھر کی طرف جاتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا۔ شاہ خان کا گھر بھی شاندار تھا، مٹی اور گارے سے بنا ایک محل تھا جو بارہ یا تیرہ چھوٹی عمارتوں پر مشتمل تھا۔
'شمال سے کچھ تاجر لائے تھے۔ ان کے مطابق یہ روس کے آمو دریائی میدانوں میں پال کر لایا گیا ہے۔ میں ایک دن روسی سفارتخانے میں اپنے ایک دوست کو اسے دکھانے لایا تھا۔ یہ گھوڑا روسی بولی میں کمان خوب سمجھتا ہے'۔
'روسی ہو یا کوئی اور، یہ بہت ہی زبردست حیوان ہے' میں نے کہا۔
محب خان مجھے گھر کے مرکزی حصے میں لے گیا، جہاں ایک بہت پرانا اور لکڑی کا بھاری دروازہ تھا۔ اس عمارت کی مٹی اور گارے سے بنائی دیواریں کم از کم ڈھائی فٹ موٹی ضرور ہوں گی۔ 'گرمیوں میں ان سے اندر خوب ٹھنڈک رہتی ہو گی'۔ میں نے دیواروں کی طرف اشارہ کیا، 'اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ان دیواروں نے انگریز کی توپوں کا گیارہ دن تک مقابلہ کیا ہے' محب خان نے میری توجہ دیوار کے ان حصوں کی طرف دلائی جہاں بارود کے گولوں کی بمباری سے گہرے ڈبکے پڑ چکے تھے۔ پھر وہ رکا اور اس نے شاہانہ انداز میں نور محمد کو یہیں ٹھہر کر انتظار کرنے کا اشارہ کیا اور مجھے ساتھ لیے گھر کے اندر شاہ خان سے ملوانے لے گیا۔
شاہ خان کے نام کا کوئی مطلب نہیں ہے بلکہ یہ سرے سے کوئی نام ہی نہیں ہے۔ وہ ایک عالی نسب شخص تھا جو پچھلے تین ادوار میں، تینوں بادشاہوں کا مشیر خاص کے عہدے پر کام کر چکا تھا۔ دبلا پتلا اور رنگت بجھی ہوئی تھی، جبکہ چہرے پر پتلی مونچھ تھی۔ ٹویڈ کا دو سوتی کپڑا پہن رکھا تھا جو لندن سے سل کر آیا تھا جبکہ سامنے، ویسکوٹ میں سونے کی بھاری بھرکم زنجیر لٹک رہی تھی۔ عام طور پر وہ فارسی زبان میں بات کرتا تھا مگر غیر ملکیوں کے ساتھ گفتگو میں فرانسیسی کو ترجیح دیتا تھا کیونکہ سوربن کا تعلیم یافتہ تھا۔ ان دونوں زبانوں کے علاوہ وہ انگریزی، جرمن اور افغانستان کے دیہاتی علاقوں کی زبان پشتو میں بھی یکساں مہارت رکھتا تھا۔ پڑھے لکھے سبھی افغانوں کی طرح شاہ خان بھی فرانس کو تہذیب اور تمدن، جرمنی کو فوجی استعداد، امریکہ کو ڈبہ بند خوراکوں جبکہ انگلستان کو دغا بازی اور منافقت کا سرچشمہ سمجھتا تھا۔ تاہم یہ انگلستان ہی تھا جس کے ساتھ افغانستان نے پڑوس میں ہندوستان کی وجہ سے حالیہ برسوں میں ہمیشہ قریبی تعلقات بنائے رکھے۔ ان دونوں کی مثال شوہر اور بیوی جیسی تھی۔ وہ شوہر جو اپنی بیوی سے سخت نالاں رہتے ہیں مگر اس کے بغیر ان کا گزارہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اگر وہ ان کو چھوڑ جاتی تو یہ اس کے بغیر بے یار و مددگار ہو جاتے۔
شاہ خان کا دوسرے امریکیوں کی بجائے میری جانب میلان اور اعتماد کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اگرچہ میں فارسی نہیں بول سکتا تھا مگر فرانسیسی زبان خوب جانتا تھا۔ وہ اپنے نظریات اور بوسیدہ خیالات کا اسیر تھا جو یہ سمجھتا تھا کہ سفارتکاری صرف اور صرف اسی زبان میں کی جانی چاہیے۔ چنانچہ، آج ہم فرانسیسی میں بات کریں گے۔
جس کمرے میں ہمارے بیچ بات ہوئی وہ افغانستان کی تاریخ میں نہایت اہم جگہ قرار دیا جا سکتا تھا اور اس جدید دور میں اس ریاست کے پیچھے کارفرما سوچ کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہو رہا تھا۔ اس کمرے میں کئی نامی گرامی قتل ہوئے تھے جن کے بعد سلطنت کا دھارا بدل گیا تھا۔ اسی کمرے سے طویل محاصروں میں بسر کرنے کے منصوبے وضع کیے گئے تھے اور یہیں اسی کمرے میں خفیہ ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ سب سے عجیب و غریب یہ تھا کہ اسی کمرے میں شاہ خان کی سرپرستی میں کئی عیسائی جوڑوں کی شادیاں بھی کرائی گئیں۔ جب کبھی یورپ سے بے دخل کیے جانے والا کوئی شخص سفارتخانوں میں مقیم کسی عیسائی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تو وہ شاہ خان کے آدمیوں سے رابطہ کرتا۔ کابل میں ڈھونڈے سے بھی کوئی پادری نہیں ملتا تھا۔
یہ ایک قلعے کے اندر، مضبوط دیواروں میں گھرا ہوا حصار بند کمرہ تھا جو کسی جرمن انجنئیر نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کی تزئین اور آرائش ایک ڈنمارکی نے کی تھی جو صرف اور صرف بہترین پر یقین رکھتا تھا۔ ڈیکور فرانسیسی ذہن کا شاخسانہ تھا جس نے قیمتی سامان صرف ڈھو کر یہاں تک پہنچانے کے عوض گیارہ ہزار ڈالر وصول کیے تھے۔ ایک دیوار پر پکاسو کا شاہکار آویزاں تھا اور چاروں طرف نفاست جھلک رہی تھی۔ مگر اس کے باوجود تزئین اور آرائش کسی بھی طرح کمرے کی ہیبت اور جرمن تعمیرات کا بوجھ کم کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائی تھی۔ یہ عجیب و غریب جگہ تھی، اتنا کچھ ہوتے ہوئے بھی آخر میں یہ صرف اور صرف ایک حجرہ تھا۔ ان افغانوں کے لیے معمولی بیٹھک تھی۔
میں نے دیکھا کہ وسط میں ایک میز پڑی ہے جو یقیناً کوپن ہیگن کے کسی نفیس بڑھئی کے یہاں سے بنوائی گئی تھی۔ اس میز پر ہر طرح کے اخبار جیسے لندن نیوز، مانچسٹر گارڈین، نیوز ویک، ریڈرز ڈائجسٹ اور چھ یا سات مختلف فرانسیسی رسالے بکھرے ہوئے تھے۔ ایک دیوار کے ساتھ بہت بڑا گراموفون لگا رکھا تھا جس کے ساتھ کئی بھونپو سپیکر جڑے تھے۔ شاہ خان اور اس کے بیٹے محب خان، دونوں کو موسیقی سے گہرا شغف تھاجو طرح طرح کے نایاب ریکارڈوں کی لائبریری سے ثابت تھا۔ ایک دیوار کے ساتھ کتابوں کے اونچے شیلف تھے جن میں نامی گرامی برطانوی، اطالوی، فرانسیسی اور امریکی انسائیکلوپیڈیا اور ادب بھر رکھا تھا۔ پہلی ہی نظر میں مجھے اس ذخیرے میں کم از کم چھ مختلف زبانوں کا ادب، ناول وغیرہ دکھائی دیے۔
شاہ خان، جو اس کمرے کی ہی طرح پر شکوہ شخصیت کا مالک تھا مگر بہر حال سلوک سے افغان ہی رہا، دوٹوک انداز میں گویا ہوا، 'کہو، کیا کہنا چاہتے ہو؟'
میں نے چرمی فائل فولڈر نکال کر دکھایا اور کہا، 'ہماری حکومت کو ایلن جاسپر بارے معلومات درکار ہیں۔ دفتر خارجہ نے مکمل رپورٹ مانگی ہے'۔
'لیکن پچھلے ایک برس سے، بلکہ اس سے بھی پہلے سے تمہارے دفتر خارجہ کے افسران یہی کرتے آئے ہیں' شاہ خان نے مجھے ٹال دیا۔ وہ اس وقت ایک آرام دہ مگر نہایت شاندار کرسی پر اطمینان سے نشست سنبھالے ہوئے تھا جو غالباً برلن سے منگوائی گئی تھی۔ میں نے سوچا کہ وہ فرانسیسی جس نے اس کمرے کی آرائش میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی، وہ بھی اس کرسی کو کمرے سے نکالنے میں ناکام رہا تھا۔ لیکن اس نے نفاست برقرار رکھنے کی اپنی سی کوشش کر کے اس کرسی پر ضرور سرخ رنگ کا چمڑا چڑھا دیا تھا۔
'لیکن عزت ماب، اب کی بار معاملہ کچھ ٹیڑھا ہے۔ صرف دفتر خارجہ ہی نہیں بلکہ پنسلوانیا کے سینیٹر نے بھی اس بابت دلچسپی ظاہر کی ہے'۔
'کیا یہ واقعی اتنی اہم بات ہے؟' شاہ خان نے ایک دفعہ پھر لیت ولعل کیا،
'یہ ایسے ہی ہے کہ۔۔۔' میں نے ٹھہر ٹھہر کر ٹوہ لگائی، 'مثال امریکہ میں ایک سینیٹر کو وہی اختیارات حاصل ہیں جو کابل میں آپ کی دسترس میں ہے۔ فرض کریں اگر آپ پیرس میں افغان سفارتخانے سے کسی معاملے پر جواب طلبی کریں، کیا آپ ان سے فوری جواب کی توقع نہیں کریں گے؟'۔
'ضرور، میں ایسا ہی چاہوں گا۔ محب، کیا تم پنسلوانیا کے سینیٹر کو جانتے ہو؟' اس نے مڑ کر بیٹے سے پوچھا،
'کونسا سینیٹر؟' محب نے جواباً پوچھا اور دو سینیٹروں کے نام گنوائے، 'دونوں ہی میرے جانے پہچانے اور پسندیدہ لوگ ہیں'۔
'کیا یہ دونوں واقعی اتنے اہم ہیں؟' شاہ خان نے پوچھا،
'بہت اہم!' اس نے جواب دیا۔ محب خان واقعی غیر معمولی افغان تھا۔ اگرچہ وہ دین دار اور پارسا مسلمان تھا مگر پھر بھی شراب پیتا تھا۔ اس نے میرے لیے بھی ایک گلاس میں وہسکی ڈال دی۔ اس کا باپ پکا مسلمان اور روایت پسند آدمی تھا۔ بیٹے کو اس حرکت پر میرے سامنے ملامت کرنا ضروری سمجھا کیونکہ وہ ایک عیسائی، یعنی غیر کے سامنے مہ نوشی کر رہا تھا۔ اس نے محب خان کو پشتو میں سخت لتاڑا تو میں نے بیچ میں کود کر پشتو میں ہی کہا، 'جناب عالی، یہ اس کا نہیں میرا قصور ہے۔ وہ صرف مہمانداری نبھا رہا ہے'۔ پشتو میں بول کر یاد دہانی کرائی کہ میں فرانسیسی ہی نہیں بلکہ افغانوں کی زبان بھی بول سکتا ہوں۔ شاہ خان فوراً نرم پڑ گیا۔
'مونسئیر ملر، کیا تم ایسا سمجھتے ہو کہ اس بابت واقعی کچھ سنجیدہ قدم اٹھانے کی ضرورت ہے؟'
'بالکل جناب عالی، اگر ایسا نہ ہوا تو سخت سرزنش ہو گی۔ ہو سکتا ہے کہ ناکامی کی صورت میں سفارتخانے کے عملے، بالخصوص مجھے واپس گھر چلتا کر دیا جائےگا'۔
'ہمیں ان بلاؤں سے۔۔۔ جنہیں ہم جانتے تک نہیں، ڈر کر بھاگنے کی بجائے ان مصیبتوں کو جھیلنا چاہیے جو ہمارے سر پڑی ہیں!' شاہ خان نے فرانسیسی میں ہی ہیملٹ کا ایک قطعہ سنایا۔ 'مونسئیر ملر، کیا تمہارے پاس اس بدقسمت لڑکی بارے نئی معلومات ہیں؟'
اس پر میں نے تفصیل کے ساتھ شاہ خان اور محب خان کے ساتھ مل کر ایلن جاسپر اور نظراللہ بارے ان حقائق کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جو ہمارے سفارتخانے کے علم میں تھے۔ قصہ کچھ یوں تھا کہ 1942ء میں خزاں کے میقات میں افغان حکومت نے کابل سے تعلق رکھنے والے ایک خوبرو افغان نوجوان کو امریکہ میں فلاڈلفیا کی پنسلوانیا یونیورسٹی کے وارٹن سکول میں اعلیٰ تعلیم کے لیے سکالر شپ عطا کی۔ یہ نوجوان جس کا نام نظراللہ اور تب عمر چوبیس سال تھی، کابل کے ایک شریف گھرانے سے تعلق رکھتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ خاصا لائق، خوش شکل اور مالی طور پر آسودہ تھا۔ اسی لیے فلاڈلفیا پہنچ کر اس نے ایک استعمال شدہ کیڈلک لگژری گاڑی بھی خرید لی۔
نظراللہ نے جلد ہی اپنی قابلیت، شکل و صورت اور امارت کے سبب فلاڈلفیا کے مڈل کلاس طبقے میں دھوم مچا دی، کہو تو کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ وہ ہر جگہ نظر آتا، پارٹیوں میں، پکنک پر اور سٹوروں پر۔۔۔ الغرض اجنبیت محسوس نہ کرتا اور جہاں چاہتا، وہیں پہنچ جاتا۔ چونکہ وہ اس سے پہلے افغان سکالرشپ پر جرمنی سے انجنئیرنگ کی ڈگری بھی حاصل کر چکا تھا، اسے وارٹن سکول میں اعلیٰ درجے حاصل کرنے میں ذرہ برابر مشکل نہ ہوئی۔
محب نے قصے میں یہاں پہنچ کر لقمہ دیا، 'اگرچہ وہ فلاڈلفیا میں سرگرم تھا، لوگوں سے میل جول میں گہرا شغف رکھتا تھا مگر نظراللہ نے کبھی اپنی تعلیم کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا۔ میں ان دنوں واشنگٹن میں افغان سفارتخانے میں مامور تھا، اکثر اس کی سن گھن لیا کرتا تھا'۔
'کیا جس وقت نظراللہ وارٹن سکول میں تھا، تم دونوں ایک ساتھ نہیں رہے؟' شاہ خان نے پوچھا۔
'نہیں' محب خان نے سمجھایا، 'کیا آپ کو یاد نہیں؟ آپ نے ہی تو اسے اسی لیے وارٹن سکول بھجوایا تھا کیونکہ میں اس سے قبل وہیں پر لکھ پڑھ چکا تھا اور اچھا خاصا نکل آیا تھا'۔
ان دونوں کی باتیں سن کر میں ایک دم چونکا اور محب کی طرف اشارہ کر کے زور سے انگریزی میں چلایا، 'پتہ چل گیا۔ 'W' کا پتہ چل گیا۔ اس سے مراد وارٹن سکول ہے!'
'بالکل'، محب نے بھی گرم جوشی سے جوابی اشارہ کیا اور ہم نے ایک ساتھ شراب کے جام اٹھا لیے۔
'یہ کیا حماقت ہے؟' بوڑھا خان آرام دہ کرسی کے گہرے سرخ چرم پر کسمسا کر بولا۔
'آپ کے بیٹے نے اپنے سفید گھوڑے پر وارٹن سکول کے نشان کی مہر ثبت کر رکھی ہے۔ میرے خیال میں وہ آج بھی وہاں بیتائے دنوں کو یاد کرتا ہے'، میں نے تفصیلات بتائیں۔
'یہ انتہائی بیہودہ بات ہے' شاہ خان نے گرج کر بولا۔ وہ اپنے بیٹے کی شراب نوشی پر نالاں نظر آتا تھا۔
'نظراللہ کو امریکہ میں درجن بھر نوکریوں کی پیشکش ملی تھی' محب خان نے بات جاری رکھی، 'لیکن اس نے واپس لوٹ کر آنے اور اپنے ملک کی خدمت کو ترجیح دی'۔
'اس کی اس لڑکی، جاسپر سے پہلی ملاقات کہاں ہوئی؟' شاہ خان نے سونے کی زنجیر کو درست کرتے ہوئے پوچھا،
'یہ وہ سال تھے۔۔۔' محب خان نے یاد کرتے ہوئے کہا، 'جب امریکہ میں مردوں کی تعداد کم رہا کرتی تھی۔ نظراللہ۔۔۔'
'نظراللہ کا پورا نام کیا ہے؟' میں نے بات کاٹ کر پوچھا،
'اس کا نام صرف نظراللہ ہے' محب نے جواب دیا، 'افغانوں کا ایک ہی نام ہوتا ہے۔ نظراللہ کا نام بھی صرف نظراللہ ہے' وہ ٹھہر کر پھر گویا ہوا، 'ہاں تو میں اس لڑکی کے بارے بتا رہا تھا۔ وہ برائن مائر میں جونئیر تھی۔ میرے خیال میں ان دونوں کی پہلی ملاقات ٹینس کورٹ میں ہوئی ہو گی، دونوں ہی شوقین تھے۔ ایلن جاسپر کا تعلق پنسلوانیا میں ڈارسٹ سے تھا، اچھے خاندان سے تعلق رکھتی تھی'۔
'یہ کہاں ہے؟' میں نے پوچھ تو لیا مگر یہ سننے میں بہت عجیب لگ رہا تھا کہ میں افغانوں سے امریکی جغرافیہ بارے معلومات لے رہا تھا۔ اسی لیے تھوڑا جھینپ گیا۔
'پینس کاؤنٹی میں ایک چھوٹا سا قصبہ ہے' محب نے سمجھایا، 'فلاڈلفیا کے شمال میں واقع ہے'۔
'ان دونوں نے وہیں شادی کیوں نہیں کی؟' شاہ خان نے پوچھا تو میں نے کہا، 'انہوں نے ایسا نہیں کیا، امریکہ میں ممکن نہیں تھا'۔
'بالکل نہیں، ایسا ممکن ہی نہیں تھا' محب خان نے غل مچا کر میری بات سے پرزور اتفاق کیا، 'اگرچہ امریکہ میں ایسا ممکن نہیں تھا اور اس کے والدین بھی آڑے آ رہے تھے۔ لیکن میں بتاؤں، وہ لڑکی نہیں بلکہ آفت تھی۔ بہت ہی بے باک رہی تھی۔ پتہ ہے اس نے کیا کیا؟ جنگ کی پرواہ نہ کرتے ہوئے وہ پہلے انگلستان گئی، وہاں سے پھرتی پھراتی، چالاکی سے ہندوستان پہنچ آئی اور گدھے پر سوار، ایک کارواں کے ساتھ کابل پہنچ گئی۔ اس کی شادی کابل میں ہوئی تھی!'۔
'ہاں، مجھے یاد ہے۔ شاندار شادی تھی۔ جاسپر بھی شوخ واقع ہوئی تھی' شاہ خان نے کہا، 'مونسئیر ملر، کیا تمہارے پاس اس لڑکی کی کوئی تصویر ہے؟'
میں نے فائل میں سے ایلن جاسپر کی کئی تصویریں نکال کر دکھائیں۔ ایک تصویر میں وہ ہائی سکول کی ایک تقریب میں شیکسپئیر کے ڈرامے میں اولیویا کا کردار ادا کر رہی تھی۔ دبلی پتلی، خوبصورت اور بانکی۔ کالج کے زمانے کی ایک تصویر میں وہ کئی دوسروں کے ساتھ مل کر کورس میں گانا گاتی دکھائی دی۔ ایک تصویر میں اس نے چھتی والی ٹوپی پہن رکھی تھی جس میں سے اس کے سنہری بال دکھائی دے رہے تھے، وہ بالکل پری لگتی تھی۔ پھر اس کی اور نظراللہ کی اکٹھی تصاویر بھی تھیں۔ یہ سپید پری اور وہ گندمی شہزادہ۔ ایک تصویر گریجویشن کے موقع پر لی گئی تھی جس میں اس کی روشن آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں۔ اس تصویر میں وہ ذرہ برابر بھی خائف دکھائی نہ دیتی تھی بلکہ بہت خوش تھی۔ میں نے ایلن جاسپر جیسی ہزاروں لڑکیاں دیکھ رکھی تھیں جو امریکہ کے کالجوں میں عام ہوتی ہیں۔ ایلن جاسپر اور اس جیسی دوسری لڑکیاں انگریزی میں خوب چلتی تھیں، ریاضی میں نالائق اور فلاسفی میں بس گزارہ کر لیتی ہیں۔ اس جیسی لڑکیاں ساری کی ساری، پرجوش اور ہلا گلا کرنے والی ہوتی ہیں جو سکول اور کالج کے زمانے میں لازم کسی دور دراز اجنبی ملک جیسے افغانستان، ارجنٹائن یا ترکستان وغیرہ کے خوبرو جوانوں، خوابوں کے شہزادوں کے خواب ضرور دیکھا کرتی تھیں۔ لیکن کالج سے نکلتے ہی وہ ہوشمندی کا ثبوت دیتے ہوئےکسی پڑھے لکھے، مہذب، اچھا کھانے کمانے والے امریکی شخص سے بیاہ کر لیتیں اور سکون سے بسر کرتیں، اپنا گھر بنا لیتیں۔
'تو پھر، ایلن جاسپر کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟' شاہ خان نے پوچھا،
'ہمارے پاس ایسی رپورٹیں ہیں کہ اس کے باپ نے منت سماجت بھی کی، یہ قدم اٹھانے سے بہتیرا روکا مگر اس کا ہمیشہ ایک ہی جواب ہوتا تھا۔ یہی کہ وہ ڈارسٹ، پنسلوانیا سے اکتا چکی ہے اور ان قصبات میں پائے جانے والے مصاحب اور درباری قسم کے مردوں میں سے کسی کے ساتھ شادی کرنے کی بجائے صحرا کے بیچوں بیچ تنہا مر جانا پسند کرے گی۔ وہ ہر گز کسی امریکی سے شادی نہیں کرے گی'۔
'کیا ڈارسٹ اور امریکہ واقعی اتنی واہیات جگہ ہے؟' بوڑھے افغان نے دریافت کیا اور کہا، 'میں نے فرانس میں کئی چھوٹے قصبے دیکھے ہیں۔ میں مانتا ہوں کہ وہ دلچسپی کی جگہیں نہیں تھیں مگر بہرحال یہ اتنے برے بھی نہیں تھے'۔
'میں اکثر وہاں جایا کرتا تھا' محب خان نے جواب دیا، 'مجھے یاد ہے کہ ڈارسٹ ایک نہایت خوبصورت امریکی قصبہ تھا۔ وہاں تعمیرات میں بھی دلچسپی کا خوب سامان تھا، نو آبادیاتی دور کی یاد تازہ ہو جاتی تھی'۔
'ہاں، لیکن تم نے وہاں کبھی خود بسر تو نہیں کی!' شاہ خان نے اس کو ٹوکا،
'میں وہاں بسر کر چکا ہوں' محب نے تصیح کی، 'ایک دفعہ تین دن کے لیے وہاں رہ چکا ہوں۔ ایلن اور نظراللہ مجھے اپنے ساتھ ویک اینڈ منانے لے گئے تھے۔ وہ مجھے اپنے والدین سے ملوانے لے گئی تھی تا کہ انہیں یقین آئے کہ افغانستان میں بھی اچھے، بھلے مانس لوگ پائے جاتے ہیں۔ کیا بتاؤں، سخت اذیت ناک ویک اینڈ تھا'۔
'کیوں؟ کیا اس کے والدین پھر بھی نہیں مانے؟' میں نے پوچھا،
محب جواب دینے ہی لگا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ کمرے میں ہم تینوں کے علاوہ بھی کوئی موجود ہے۔ جیسے کوئی دبے پاؤں داخل ہوا ہو اور چپ چاپ میری پشت پر، انتہائی قریب سے گزر گیا ہے۔ میں نے دیکھا کہ سامنے بیٹھے شاہ خان نے میرے کندھے کے اوپر سے پیچھے نظر ڈالی تھی اور مجھے ایسا لگا جیسے اس نے کسی کو دیکھ کر سر ہلا کر اندر آنے سے ٹوک دیا تھا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا۔ لیکن میں نے نوٹ کیا کہ جب کمرے میں آیا تھا، دروازے کے پاس کرسی پر کوئی ایسی چیز پڑی ہے جو میں پہلے دیکھ نہیں پایا تھا۔ ڈیوڑھی میں دھری اس آرام کرسی پر ہلکے خاکستری رنگ کا ایک برقعہ پڑا ہوا تھا۔
'ماننا تو دور کی بات۔۔۔' محب کی آواز گونجی، 'اس کے والدین سارا وقت مجھ اور نظراللہ سے یوں کتراتے رہے جیسے ہمیں کوڑھ کا مرض ہے'۔
'مسٹر جاسپر کیا کام کرتے تھے؟' میں نے پوچھا، 'انشورنس وغیرہ؟'
'ہاں۔ اس کے ابا شائستہ طبیعت کا مالک تھا اور وہ دوستانہ پن تھا جو عام طور پر دنیا بھر میں انشورنس بیچنے والوں کی خاصیت ہوتی ہے' محب نے بتایا، 'مناسب آدمی تھا۔ مسز جاسپر بھی خوش طبع خاتون تھیں۔ ان دنوں مسٹر جاسپر کسی مقامی ڈرافٹ بورڈ کے چئیرمین بھی تھا، یعنی ذمہ داری بھی سنبھالنے لائق تھا'۔
'لیکن بعد میں۔۔۔' شاہ خان معلوم کرنے کی غرض سے کہا، 'کیا تم نے انہیں افغان روایات سے آگاہ نہیں کیا تھا؟ شادی نہ کروانے کا مشورہ دیا تھا؟'
'میں نے ایسا ہی کیا تھا۔ اس ویک اینڈ کے بعد ایک دن ان دونوں کے ساتھ فلاڈلفیا میں ملاقات رہی۔ اس ملاقات میں، میں اپنے ساتھ واشنگٹن سے افغان سفیر کو بھی ساتھ لے کر گیا تھا۔ صرف ہم چار ہی تھے۔ ایلن اور نظراللہ کو مدعو کیا گیا تھا اور نہ ہی انہیں کبھی اس بارے پتہ چلا۔ ہم نے اس سارے معاملے پر کافی دیر، کھل کر بات کی تھی'۔
'کیا تم نے انہیں حقیقت بتائی تھی؟'
'ہر لحاظ سے مکمل اور پورا سچ بتایا تھا۔ جتنا مجھے یاد پڑتا ہے افغان سفیر اس قدر صاف گوئی پر سخت خفا ہوا تھا بلکہ اس کے خیال میں، میں خواہ مخواہ بڑھا چڑھا کر غلو کر رہا ہوں۔ اس نے ملاقات کے بعد یہ بھی کہا تھا کہ میں نے افغانستان کی ساکھ، اپنے ملک کی شبیہ کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ خیر، میں نے ایلن کے والدین کو صاف بتا دیا تھا کہ اگر ان کی بیٹی نے نظراللہ سے شادی کر لی اور اس کے ہمراہ افغانستان چلی آئی تو اس کا امریکی پاسپورٹ اس سے لے لیا جائے گا اور وہ اس کے بعد کبھی افغانستان چھوڑ کر نہیں جا سکے گی۔ چاہے کچھ بھی ہو جائے، وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کہیں نہیں جا پائے گی۔ پھر وہ افغان ہی تصور کی جائے گی اور ہمیشہ افغان رہے گی۔ یہ بھی کہ وہ اس کے بعد امریکہ یا امریکیوں سے کسی بھی طرح کی مدد کی توقع نہ رکھے'۔
'کیا تم نے انہیں یہ سب ایسے ہی کہا تھا؟ جیسا تم مجھے بتا رہے ہو؟'
'ایسا ہی کہا تھا!'
'تو پھر؟ انہوں نے کیا کہا؟' شاہ خان اور محب خان آپس میں باتیں کر رہے تھے، میں خاموشی سے سنتا رہا۔
'مسز جاسپر رونے لگی تھیں'۔
'کیا تم نے انہیں افغانستان میں تنخواہوں اور رہن سہن، حالات بارے بھی بتایا تھا؟' میں نے بھی کریدا،
' میں نے بتایا تھا۔ جس قدر ممکن تھا، میں نے صاف صاف بتایا تھا' محب نے یقین دلایا، 'میں نے بغیر کچھ لحاظ کیے، بتا دیا تھا کہ مسز جاپر، ایلن کو چاہیے کہ وہ دھوکہ نہ کھائے۔ امریکہ میں نظراللہ بھلے کیڈلک جیسی لگژری گاڑی چلاتا پھرتا ہو یا میں میرے پاس مرسڈیز گاڑی ہے۔ہماری حکومت اس وقت تک خوب عنایتیں کرتی ہے جب تک ہم ملک سے باہر ہوں لیکن جب ہم واپس جائیں گے۔۔۔ نظراللہ اور مجھے وہی تنخواہ ملے گی جو باقی افغانوں کو ملتی ہے۔ یہ ماہانہ تنخواہ بیس ڈالر سے زیادہ نہیں ہوتی'۔
'کیا انہوں نے اس بات کا یقن کر لیا تھا؟'
'انہیں گاڑیاں ہی نظر آئیں، پورا یقین تھا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔ مونسئیر ملر، ڈورسٹ ہو یا کابل، طمع اور لالچ کا ایک ہی رنگ ہوتا ہے۔ ان کا خیال تھا کہ نظراللہ بہت ہی امیر کبیر آدمی ہے'۔
'نظراللہ اب کیا کماتا ہے؟' میں نے تصدیق چاہی،
دونوں باپ بیٹا کچھ دیر پشتو میں اس بابت بات کرتے رہے اور آخر متفق ہو گئے کہ نظراللہ اور اس کی نئی نویلی دلہن نے اکیس ڈالر ماہانہ پر زندگی شروع کی ہو گی اور اب بہت زیادہ بھی ہوا، نظراللہ کو ستائیس ڈالر یا اتنے ہی ملتے ہوں گے۔
'میں نے انہیں یہاں گھر بار اور رہن سہن کے ماحول بارے بھی بتایا تھا' محب نے بات جاری رکھی، 'میں نے کہا تھا کہ ایلن اپنی زندگی کا تقریباً حصہ تنگ و تاریک، جھونپڑ جیسے گھر میں گزارے گی۔ اس کے اردگرد عورتیں ہوں گی جو پردہ نہ کرنے کی وجہ سے ہمیشہ اس سے نفرت کرتی رہیں گی۔'
'خان صاحب، کیا یہ درست ہے؟' میں نے محب کی بات کاٹ کر شاہ خان سے پوچھا، 'کیا افغانستان میں بہت جلد برقعے کا خاتمہ ہونے والا ہے؟'
اس سوال پر شاہ خان پیچھے ہٹ کر کرسی میں تقریباً دراز ہو گیا اور بولا، 'تم امریکی، اللہ جانے کیوں پردے اور برقعے کو لے کر خواہ مخواہ ہی ہر وقت پریشان رہتے ہو۔ دیکھو۔۔۔' اس نے ڈیوڑھی میں کرسی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا، 'میری نواسیاں بھی برقعہ اوڑھتی ہیں حالانکہ ان کی ماں سوربن سے پڑھی ہوئی ہے'۔ میں نے مڑ کر ایک دفعہ پھر کرسی پر بے ترتیب پڑے برقعے پر نگاہ دوڑائی۔
'کیا آپ کی نواسی اسے پسند کرتی ہے؟ برقعہ پہننے میں اس کی مرضی شامل ہے؟'
'ہمیں اس کی مرضی سے کوئی سروکار نہیں ہے' شاہ خان نے سپاٹ لہجے میں کہا۔
'لیکن، روسیوں کو تو ہے' میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ اس کی کمزوری کو چھیڑتے ہوئے کہا، 'روسیوں کا ماننا ہے کہ وہ آپ کو بھی اپنی عورتوں کو آزاد کرنے پر مجبور کر دیں گے جیسے انہوں نے اپنی عورتوں کو آزاد کر دیا ہے'۔
میں سمجھ چکا تھا کہ شاہ خان اس نکتے پر مزید بات کرنا چاہتا ہے۔ وہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ مجھ سے اور روسیوں سے متفق ہے کہ برقعہ اب متروک ہو جانا چاہیے یا سماجی انقلاب کی ضرورت ہے مگر اس نے بحث کو طول دینے کی بجائے بات ختم کرتے ہوئے کہا، 'مجھے پتہ چلا ہے کہ تمہارے سفارتخانے میں کام کرنے والی ایک جوان عورت، مس میکس ویل نام ہے شاید؟ اس کو آج صبح بازار میں تین ملاؤں نے سخت ہراساں کیا ہے۔ میرے خیال میں، تم نے ہی اس کی جان بچائی تھی؟ اگر ایسا ہے تو تم اچھی طرح جان چکے ہو گے کہ یہ متشدد کٹھ ملا ابھی بہت طاقتور ہیں، انتہائی با اثر ہیں۔ اس لیے مونسئیر، افغانستان میں برقعہ تا دیر باقی رہے گا'۔
'اس بابت میں نے ایلن کے والدین کو یقین دلایا تھا۔۔۔' محب خان نے اپنی بات آگے بڑھائی، 'یہی کہ ایلن کو کبھی برقعہ پہننے پر تو مجبور نہیں کیا جائے گا لیکن اگر اس نے روایات کے مطابق پردہ نہ کیا تو اس سبب نظراللہ کا سارا خاندان اس سے نفرت کرتا پھرے گا۔ میں نے انہیں متنبہ کیا تھا کہ اگر ایلن افغانستان میں پردے کے بغیر باہر نکلی تو ملا اسے نہیں چھوڑیں گے۔ مار کٹائی کریں گے، اس پر تھوکیں گے'۔ یہ کہتے ہوئے اس کی آواز میں تلخی در آئی، 'ملر صاحب، میں نے انہیں افغانستان میں فرنگی بیویوں کو درپیش حالات سے بخوبی آگاہ کر دیا تھا بلکہ بعد میں ایلن کو بھی بتا دیا تھا۔ میں نے پوری طرح ایمانداری کا مظاہرہ کیا۔ ایلن کو تو میں نے صاف صاف کہا تھا کہ نظراللہ سے شادی کرنے کے بعد وہ ایک ایسی عورت ہو گی جس کا اپنا کوئی ملک، دیس نہیں ہو گا۔ وہ عورت جس کو کہیں پناہ نہیں ملے گی۔ افغانستان، امریکہ نہیں ہے کہ جج اس کی مدد کو دوڑ پڑیں گے۔ وہ ایسی عورت ہو گی جس کے کوئی حقوق نہیں ہوں گے۔ اس کی حیثیت ایک جانور کی سی ہو گی، جانور!'۔ یہ کہہ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور کمرے میں بے چینی سے چکر لگانے لگا، 'ملر، مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے کیا کہا تھا کیونکہ اس ملاقات کےٹھیک ایک سال بعد میں بالٹی مور سے تعلق رکھنے والی ایک دوسری لڑکی کو یہی بتا رہا تھا، سمجھا رہا تھا۔ یہی باتیں، یہی حالات اور بالکل یہی بیان۔۔۔ وہ لڑکی سمجھدار تھی، میری بات اس کے پلے پڑ گئی اور وہ مجھ سے شادی کے ارادے سے پیچھے ہٹ گئی۔ لیکن تمہاری یہ سر پھری ایلن جاسپر نے میری ایک نہیں سنی، بلکہ کسی کی بھی نہیں سنی اور نظراللہ سے شادی کر لی۔ اب ادھر امریکہ میں سینیٹروں کو بھی پریشانی لگی ہوئی ہے، وہ بھی اس کے بارے جاننا چاہتے ہیں اور کسی کو کچھ علم نہیں!'۔
یہ کہہ کر وہ کرسی میں دھڑام سے بیٹھ گیا اور اپنے لیے گلاس میں شراب انڈیلی۔ کچھ دیر توقف کیا اور پھر کچھ سوچ کر بولا، 'خدا اس لچر افغان حکومت کو غرق کرے۔ یہ کہتے ہیں کہ جب افغان ملک سے باہر جائیں تو ڈھنگ سے، جینٹل مین بن کر بسر کیا کریں۔ اس مقصد کے لیے وہ بھاری رقوم اور سہولتیں دیتی ہے اور مجھ جیسے ندیدے بدیس جا کر فوراً کیڈلک اور مرسیڈیز جیسی گاڑیاں خرید لیتے ہیں۔ تمہارا کیا اندازہ ہے، جب میں وارٹن سکول میں تھا تو مجھے کتنا وظیفہ ملتا ہو گا؟ ہر مہینے ایک ہزار ڈالر ملتے تھے۔ ظاہر ہے، یہ دیکھ کر کوئی بھی لڑکی مجھ سے شادی کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔ لیکن جب یہی حکومت ہمیں واپس افغانستان لے کر آتی ہے تو تمہیں پتہ ہے مجھے ماہانہ کتنی تنخواہ ملتی تھی؟ صرف اکیس ڈالر۔تم خود ہی دیکھو، نظراللہ آجکل قندھار کے جنوب میں آب پاشی کے ایک منصوبے پر کام کر رہا ہے اور کم و بیش ستائیس ڈالر ماہانہ کما رہا ہے'۔
'کیا اس کی بیوی اس کے ساتھ ہے؟' میں نے لگی لپٹی رکھے بغیر پوچھا،
'کونسی والی؟' شاہ خان نے پوچھا،
اس جواب پر میں بھونچکا رہ گیا، 'کیا مطلب کونسی والی؟'،
'کیا تم نے ایلن کے والدین کو اس بارے کچھ نہیں بتایا؟' شاہ خان نے اپنے بیٹے سے پوچھا۔ اس کے لہجے میں ناگواری تھی،
'بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جن کے بارے افغان غیر ملکوں میں بات نہیں کیا کرتے' محب نے جواب دیا۔
'کیا نظراللہ امریکہ جانے سے پہلے شادی شدہ تھا؟' میں نے معاملے کی تہہ تک پہنچے کی کوشش کی،
'ظاہر ہے، وہ شادی شدہ تھا۔ اس کی پہلے سے ایک بیوی ہے' شاہ خان نے سمجھاتے ہوئے کہا، 'لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا'۔
'لیکن اس بات کا فائل میں کوئی ذکر نہیں ہے' میں نے احتجاج کیا،
'تو ابھی ڈال دو۔۔۔' شاہ خان نے بے نیازی سے کہا، 'نظراللہ پہلے سے شادی شدہ تھا۔ جب وہ اس امریکی لڑکی سے ملا، اس کی شادی ہو چکی تھی۔ اگر اس بات سے کوئی فرق پڑتا ہے یا تمہارے خیال میں، ایلن کے والدین کو سکون مل جائے'۔ یہ کہا مگر پھر اپنے لہجے میں تلخی کو بھانپ کر فوراً پینترا بدلا اور قدرے نرمی سے بولا، 'ملر صاحب، برا مت منائیے۔ یہ میری جانب سے تھڑدلی اور غیر مہذب بات تھی۔ میں ایلن کے والدین کا دکھ سمجھ سکتا ہوں اور مجھے ان دونوں کے ساتھ پوری ہمدردی ہے۔ وہ اچھے لوگ ہیں، بیچارے پریشان ہیں کہ ان کی بیٹی کہاں گئی؟ پچھلے تیرہ مہینے سے کوئی اتا پتہ نہیں۔۔۔ ہائے بیچارے!'
شاہ خان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے رومال سے سیاہ آنکھیں پونچھ کر صاف کیں۔ میں نے دیکھا ہے کہ افغان چاہے مرد ہوں یا عورت، رونے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں۔ فوراً ہی ٹسوے بہا لیتے ہیں۔ لیکن شاہ خان کے آنسو سچے تھے، اب وہ واقعی سخت پریشان نظر آ رہا تھا۔
لیکن جب وہ رو چکا تو فوراً ہی سرگوشی میں مجھ سے بولا، 'نظراللہ سے پہلے ہمارے خاندان نے بھی ہوشمندی کا مظاہرہ کیا تھا۔ ہم نے محب کو انگلستان بھجوانے سے پہلے ہی اس کی یہاں، ایک شریف گھر میں شادی کروا لی تھی۔ ہم نےاچھی طرح سوچا کہ، اس کے بعد اگر وہ انگلستان میں کسی انگریز عورت سے شادی رچا بھی لے تو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جب کابل میں رہے گا تو اس کی بیوی یہیں، اس کا خاندان، شریف اور نامی گرامی ہو گی لیکن جب یورپ جائے تو وہاں بھلے اپنی خوبصورت انگریز بیوی کے ساتھ خوش باش بسر کیا کرے۔ مجھے یاد ہے کہ نظراللہ کے باپ سے بھی میں نے یہی کہا تھا۔ ہم نے طے کیا تھا کہ اپنے لڑکوں کو اس وقت تک باہر نہیں بھیجیں گے جب تک ان کے یہاں کم از کم دو بچے پیدا نہ ہو جائیں۔ ملر صاحب، ہماری یہ حکمت عملی اب تک کافی کارگر رہی ہے'۔
'کیا تم نے بالٹی مور سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو یہ بات بتائی تھی؟' میں نے محب سے پوچھا،
'نہیں' محب پوری ایمانداری سے بولا، 'لیکن اصل میں یہی بات تھی جس کی بناء پر میں افغانستان کے پسماندہ حالات ان لڑکیوں اور ان کے والدین کو کھول کھول کر بتاتا رہا۔ افغان سفیر کا خیال تھا کہ میں بڑھا چڑھا کر بتاتا رہا ہوں'۔
میں نے اپنے دونوں ہاتھ گود میں رکھے چرمی فولڈر پر رکھے اور حتمی انداز میں پوچھا، 'ٹھیک ہے، لیکن اب ایلن جاسپر کہاں ہو گی؟'
شاہ خان نے جواب دینے کی بجائے اپنے لیے سنترے کا رس منگوایا۔ وہ افغان جو شراب نہیں پیتے، عام طور پر نارنگی یا جو کا رس پیتے رہتے ہیں۔ افغانستان میں پردے کا رجحان اتنا سخت تھا کہ شاہ خان کے لیے یہ رس ایک بوڑھا شخص لے کر آیا۔ افغان حجروں میں مہمانوں کی خدمت پر ہمیشہ جوان لڑکے یا بوڑھے نوکر ہی مامور دیکھے، کبھی کوئی عورت نظر نہیں آئی۔
'میں نے اس بارے بہت سوچ وچار کی ہے' شاہ خان نے گلاس سامنے رکھ کر کہا، 'قندھار جیسے دور دراز شہر سے معلومات حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے مگر ہم بہر حال کسی نہ کسی طرح نکال ہی لاتے ہیں۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ نظراللہ اور اس کی امریکی بیوی۔۔۔ تم سمجھ رہے ہو ناں، اس کی مسلمان بیوی اپنے بال بچوں سمیت یہیں کابل میں رہائش پذیر ہے؟'
'بال بچوں؟ کیا نظراللہ کے ایک سے زیادہ بچے ہیں؟' میں نے پوچھا،
'ہاں، میں نے بتایا تو تھا کہ کم از کم دو بچوں کی شرط تھی۔ لیکن اس کے ساتھ رعایت برتی تھی، اس کا جانے سے قبل ایک ہی بچہ تھا۔ دوسرا بچے کی پیدائش تو امریکہ سے لوٹ کر آںے کے بعد ہوئی'۔
میں چند لمحے اس بات پر غور کرتا رہا اور پھر توجہ دلائی، 'لیکن اس حساب سے تو وہ دوسرے بچے کی پیدائش سے پہلے دونوں بیویوں کے ساتھ ایک ساتھ بسر کرتا رہا تھا؟'
'ظاہر ہے، اب وہ امریکی بیوی کے یہاں ہوتے، اپنی پہلی بیوی کو چھوڑ تو نہیں سکتا تھا۔ افغان بیوی کے بھی حقوق ہیں۔ وہ اس کی مستحق ہے'۔
'تو حق یہ دیا کہ اسے دوسرا بچہ دے دیا؟' میں نے طنز کیا،
'دیکھو، عورتوں کی جانب ہمارے رویے کو پوری طرح سمجھنا، سمجھانا مشکل ہے' شاہ خان نے اعتراف کیا، 'ہم انہیں عزیز رکھتے ہیں، خوشی دیتے ہیں اور پیار بھی کرتے ہیں بلکہ ان سے عشق کرتے ہیں۔ ہم ان کو پورا تحفظ دیتے ہیں، ہماری تقریباً شاعری عورتوں سے منسوب ہے۔ ہماری محبت اور غیرت ان ہی سے جڑی ہے مگر دیکھو، ہم کبھی یہ نہیں چاہتے کہ وہ ہماری زندگیوں میں کسی پریشانی کا باعث بنیں۔ وہ افراتفری پیدا نہ کریں'۔
'افراتفری؟ میرے خیال میں تو بیک وقت دو بیویوں سے نباہ کرنا بذات خود افراتفری اور پریشانی ہے' میں نےاعتراض کیا،
'میری زندگی بہت پرسکون گزری ہے۔ مجھے تو کوئی پریشانی نہیں ہوئی' شاہ خان نے یقین دلاتے ہوئے کہا، 'حالانکہ میری چار بیویاں ہیں!'
'چار بیویاں؟' میری آواز تقریباً ڈوب گئی۔
میں نے جس بے یقینی سے شاہ خان سے پوچھا تھا، وہ اس سے خاصا محظوظ ہوا۔ اسی لیے نہایت اطمینان سے بولا، 'تم امریکیوں کا خیال ہے کہ شاید ہمیں چار بیویوں کے ساتھ ہم بستری کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا۔ ہم ایک کے بعد دوسری اور تیسری پھر چوتھی کے پاس یہی کرتے پھرتے ہیں، حتی کہ تھک کر چور ہو جائیں۔ ایسا کچھ نہیں ہے، بالکل بھی نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ اس معاملے میں، میں کئی اوسط امریکیوں سے بھی پیچھے ہوں گا۔ میں تمہیں سمجھاتا ہوں۔ دیکھو، امریکی جوان عورت سے شادی کرتے ہیں۔ جب کسی ایک کا دل بھر جاتا ہے تو وہ دوسرے سے چھٹکارا حاصل کر لیتا ہے۔ لیکن میں ایسا نہیں کر سکتا۔ جب میں کسی سے بیاہ کا نباہ کر لوں تو وہ عورت میرے لیے اپنا گھر بار، معاملات سب کچھ چھوڑ کر میرے پاس بس جاتی ہے اور میں چاہوں بھی تو روایت ایسی ہے کہ اسے واپس نہیں بھیج سکتا۔ وہ پوری طرح میری ذمہ داری بن جاتی ہے اور میں اس کی آخری سانس تک سہارا بن کر رہنے کا پابند ہوں۔ ہاں، اگر اسے طلاق دے دوں تو وہ الگ بات ہے۔ عام طور پر ہمارے یہاں طلاق برا فعل سمجھا جاتا ہے، سو کم ہی ایسا ہوتا ہے۔ خیر، یوں سمجھو کہ ہمارے یہاں مرد سالہا سال میں آگے پیچھے، ایک سے زیادہ عورتوں کے ساتھ بیاہ کرتے ہیں اور انہیں پورا تحفظ، گھر بار دیتے ہیں۔ یوں کہو تو امریکہ ہو یا افغانستان۔۔۔۔ آخر میں لے دے کر جمع خرچ ایک ہی جیسا حساب پڑتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ میں اپنی سی بنا کر رکھتا ہوں، تم لوگ وقت آنے پر بگاڑ دیتے ہو تا کہ چھٹکارا حاصل کر سکو!'۔
محب نے لقمہ دیا، 'مسلمانوں کا عورتوں کی طرف یہ رویہ بے وجہ نہیں ہے۔ کئی تاریخ اور سماجی حقائق ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہی حقائق اب امریکہ کو بھی کثیر الازدواجی پر مجبور کر رہے ہیں'۔
اس سے پہلے کہ میں اس عجیب و غریب نظریے پر اعتراض اٹھاتا، شاہ خان بول پڑا، 'محب کی بات ٹھیک ہے۔ اسلام اس زمانے میں آیا جب جنگ و جدل عام تھی اور گھات لگا کر حملے کیے جاتے اور ہمارے مرد قتل کر دیے جاتے تھے۔ اس وقت یہ بہت معمولی بات تھی۔ یوں ہر خاندان اور قبیلے میں عورتوں کی ہر وقت بہتات رہتی تھی۔ محمد چونکہ انتہائی حقیقت پسند آدمی تھے، انہیں اس مسئلے کے تین ہی حل نظر آئے۔ پہلا تو یہ کہ مقتولین کے پیچھے رہ جانے والی عورتیں جسم فروشی کر کے گزارہ کریں، دوسرا یہ کہ انہیں قدیم مذہبی روایت کے مطابق مجرد کر دیا جائے یا پھر تیسرا یہ کہ کوئی ان کے ساتھ شادی کر کے گھر بار اور تحفظ دلائے۔ محمد ہم سب میں، سب سے بہتر اور برتر آدمی تھے، اسی لیے جسم فروشی کی کسی صورت اجازت نہیں دی اور نہ ہی عورتوں کو کلیسا کی نن بننے دیا بلکہ انہیں حقوق سمیت گھر بار اور شوہر عطا کیے۔ اس طرح انہوں نے اس مسئلے کا ہر لحاظ سے بے عیب حل پیش کیا'۔
'لیکن، یہ بات بھلا امریکہ پر کیسے فٹ بیٹھتی ہے؟' مجھ سے رہا نہ گیا تو بیچ میں ہی پوچھ لیا،
شاہ خان نے میرے سوال کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اپنی بات جاری رکھی، 'سو۔۔۔ ہمارے نظام میں منکوحہ کے علاوہ بھی ویسے ہی ایک سے زیادہ عورتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے۔ بیویاں، بھاوجیں، بھانجیاں، بھتیجیاں، پوتی، نواسیاں۔۔۔ والدہ اور دادیاں، نانیاں جن سے میں نکاح نہیں کر سکتا۔ تو عورتیں صرف چار ہی نہیں ہوتیں۔ ویسے ملر صاحب، کیا تم فلاڈلفیا کے قرب و جوار میں، وہاں ایک مشنری سکول ہے، اسے جارج سکول کہا جاتا ہے، اس کے بارے کچھ جانتے ہو؟میں اپنی نواسی صدیقہ کو وہاں بھیجنا چاہ رہا ہوں۔ ویسے ہماری باقی ساری لڑکیاں پیرس میں پڑھی ہیں'۔
میں نے محتاط رہتے ہوئے پوچھا، 'صدیقہ کی عمر کیا ہو گی؟'
'صدیقہ کی عمر؟' شاہ خان کو پتہ نہیں تھا،
'سترہ سال کی ہے' محب خان نے اس کی مدد کی، 'اسے امریکہ بہت پسند ہے تو ہم نے سوچا۔۔۔'
'وہ اچھی جگہ ہے۔ تعلیم بھی معیاری ہے' میں نے بتایا، 'مخلوط تعلیم ہوتی ہے'۔
'کیا وہ عیسائی سکول نہیں ہے؟ کون وینٹ؟' شاہ خان نے حیرت ظاہر کی،
'ارے نہیں!' میں نے کہا،
'پھر امریکہ تو ہر گز نہیں!' شاہ خان نے قدرے خفگی سے کہا، 'اسے پیرس ہی جانا ہو گا۔ لیکن محب نے جو پہلے بات کی، وہ درست ہے۔ وہ حقائق جنہوں نے اسلام میں چار شادیوں کی گنجائش پیدا کی تھی وہ بالآخر پوری دنیا کو پیش آئیں گے۔ فرانس جیسا ملک، میں نے دیکھا ہے کہ وہ اس مسئلے کو حل کرنے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ وہاں ہر طرح کی وبا ہے۔ رکھیل، غیر اخلاقی مراسم، تہمتیں، بدکاریاں اور قتل و غارت۔۔۔ عام ہے'۔
'لیکن محب نے تو امریکہ کے متعلق کہا تھا'، میں نے توجہ دلائی۔
اس پر محب نے وہسکی کا گھونٹ بھرا اور کہا، 'کیا تمہیں پتہ ہے کہ مجھے امریکہ میں کس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا؟ وہاں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے بہت زیادہ ہے۔ بعض شہروں، واشنگٹن اور نیویارک جیسے شہروں میں تو بہت ہی بڑا فرق ہے'۔
'وہ اس لیے کہ تم نے وہاں جنگ کے زمانے میں بسر رکھی' میں نے تصیح کی،
'صرف جنگ ہی نہیں، امن کے دور میں بھی رہ چکا ہوں' اس نے مجھے یاد دلایا، 'تمہارے یہاں نہ صرف آبادی میں عورتوں کا مردوں کے مقابلے تناسب بہت زیادہ ہے بلکہ ایسے جوان مردوں کی تعداد بھی روز بروز بڑھتی جا رہی ہے جو شادی وغیرہ کے جھنجھٹ میں پڑنا ہی نہیں چاہتے۔ وہاں دن بدن ہم جنس پرستی، مادری خلط، ذمہ داریوں سے جی چرانے اور ذہنی خلفشار جیسے مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔۔۔'
شاہ خان نے محب کی بات کاٹی اور کہا، 'ملر صاحب، غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تم جیسے پڑھے لکھے اور سمجھدار لوگ افغانستان میں آ کر حالات دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ کس قدر غیر معمولی جگہ ہے، کسی شیخ چلی کا دیس ہے جو عجیب و غریب توہمات اور مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ لیکن جب میں اور محب فرانس یا امریکہ جاتے ہیں تو دیکھو، ہمارا مشاہدہ بھی تمھارے بارے بالکل یہی ہوتا ہے'۔
'اور سب سے عجیب بات یہ لگتی ہے۔۔۔' محب ہنسا، 'تمہارے یہاں لوگ کسی کو دو بیویوں کے ساتھ دیکھ کر، چاہے وہ اس کی قانونی یا غیر قانونی بیویاں ہوں، حیران و پریشان اور بھونچکا رہ جاتے ہیں۔ اگر کسی جگہ پر ایسے مسائل ہوں جہاں مرد نہ ہوں یا راضی نہ ہوں، تم ہی بتاؤ عورتیں کہاں جائیں؟ ظاہر ہے کسی غیر مرد کی طرف ہی دیکھیں گی۔ میں عورت ہوتا تو یہی کرتا'۔
چونکہ میں شاہ خان کے گھر اس سے اپنے ملک کی خامیوں پر لیکچر سننے نہیں آیا تھا۔ میں نے بات کا رخ واپس اپنے مدعا کی طرف موڑا اور دفعتاً پوچھا، 'تو ایلن جاسپر بارے آخری اطلاع یہی ہے کہ وہ قندھار میں تھی؟'
'یہ پکی اطلاع نہیں ہے' شاہ خان نے بتایا، 'ہمیں یہ معلوم ہے کہ وہ قندھار میں ہی تھی۔ ایک دن بازار میں اس پر ملاؤں نے حملہ کر دیا تھا کیونکہ اس نے برقعہ نہیں اوڑھا ہوا تھا۔ اس نے بھی اپنا آپ منوایا، مڑ کر لڑنے لگی۔ اس کا شوہر بھی کود پڑا۔ دونوں نے مل کر ملاؤں کی خوب دھلائی کی۔ میرا جی خوش کر دیا'۔
'یعنی وہ قندھار میں خاصی مشہور ہو چکی ہے' میں نے لقمہ دیا،
'اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا' شاہ خان ہنسنے لگا، 'ہماری حکومت کے لوگ ملاؤں سے سخت تنگ آ چکے ہیں لیکن نہیں جانتے کہ ان کے ساتھ کیا کریں؟ ایلن اور اس کے شوہر کے ان اقدامات سے نظراللہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا بلکہ اس کو تو ملک کے ایک بہت بڑے پراجیکٹ کا چارج دیا گیا۔ اس نے تو اب تک قلعہ بست میں اپنا صدر دفتر بھی بنا لیا ہے'۔
شاہ خان نے افغان تاریخ کے ایک انتہائی اہم نام قلعہ بست کا نام لیا تو اس کی آنکھیں ایک دفعہ پھر آنسوؤں سے بھر آئیں۔ اس نے پوچھا، 'مونسئیر ملر، کیا تم نے قلعہ بست دیکھ رکھا ہے؟'
میں نے قلعہ بست نہیں دیکھا لیکن میں نے اس بارے کوئی تبصرہ کرنے سے بھی گریز کیا کیونکہ اگر کچھ کہتا تو یہ بوڑھا قوم پرست موقع تاڑ کر ایک دفعہ پھر افغانستان کی گم گشتہ سنہری تاریخ گنوانے کے بہانے لمبی تقریر جھاڑنے لگتا۔ لیکن میری چپ رہ کر جان بچانے کی کوشش رائیگاں گئی۔ شاہ خان نے میری دلچسپی کی پرواہ کیے بغیر کہنا شروع کیا، 'قلعہ بست میں ایک بہت ہی پرشکوہ محراب ہے جو صحرا میں اٹھائی گئی تھی مگر اس کا عکس دریا میں دکھائی دیتا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی عظیم محرابیں ہیں، یہ ان میں سے کسی سے کم نہیں بلکہ سب سے بڑھ کر ہے۔ مجھ سے پوچھو تو یہ مدائن کی محراب سے بھی کہیں بڑھ کر عظیم ہے۔کوئی نہیں جانتا کہ اس کی تعمیر کب شروع ہوئی اور کیسے مکمل ہوئی مگر میں شرطیہ کہہ سکتا ہوں کہ اس سے جڑی شہری تعمیرات بھی یقیناً اپنے زمانے میں پرشکوہ اور شاندار رہی ہوں گی۔ اس کے قرب و جوار میں ہی ایک قلعہ بھی ہے جس میں ہزاروں گھر ہوا کرتے تھے۔ ادھر پورا شہر آباد تھا، کم از کم بھی پانچ لاکھ آبادی رہی ہو گی۔ اب تو ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس شہر کا نام کیا تھا'۔
'وہ قلعہ بست میں کیا کر رہا ہے؟' میں نے موقع تاڑ کر بیان میں مخل ہوتے ہوئے اپنے مطلب کا سوال پوچھ ہی لیا۔ در اصل اس سے پہلے بھی کئی ملاقاتوں میں، میں نے دیکھا ہے کہ جب شاہ خان افغانستان کی شان و شوکت، عروج اور اوج بیان کرنا شروع کرتا تو سکندر اعظم کے دور سے بھی پہلے کے زمانے میں پہنچ جاتا اور اسے کسی بھی طرح روک لگانا ممکن نہ ہوتا۔ ویسے تو مجھے افغانستان کی زیادہ تر تاریخ ایسی ہی یاد آوری محافل میں پتہ چلی ہے لیکن اکثر لوگ من گھڑت قصے سناتے رہتے تھے۔ شاہ خان بارے یہ طے تھا کہ اس کا علم اور بیان کردہ واقعات زیادہ تر حقیقت اور تحقیق پر مبنی ہوا کرتے تھے۔ اگر وہ کہتا ہے کہ قلعہ بست کسی زمانے میں پانچ لاکھ لوگوں کا شہر ہوتا تھا تو ضرور ایسا ہی رہا ہو گا۔ حالانکہ اب تو اس شہر کی تاریخ تو چھوڑو، نام بھی کسی کو یاد نہیں ہے۔
'نظراللہ اور اس کی امریکی بیوی وہاں ہمارے آب پاشی کے ایک بہت بڑے منصوبے کا ابتدائی سروے کرنے گئے تھے' شاہ خان نے تفصیلات بتائیں۔ محب نے مزید بتایا، 'ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ قلعہ بست پہنچ گئی تھی کیونکہ وہ دونوں ادھر سے ہمیں خط لکھتے رہے ہیں۔ لیکن اس بات کو بھی نو مہینے ہو چکے ہیں'۔
'آپ کا ایلن کے محل وقوع بارے ذاتی خیال کیا ہے؟' میں نے پوچھا،
'اس سے پہلے فرنگی بیویوں کے ساتھ جو ہوتا آیا ہے، اس کو مدنظر رکھا جائے تو۔۔۔' محب اور شاہ خان دونوں ہی چاہے کسی بھی زبان میں بات کر رہے ہوں، غیر ملکیوں کے لیے فرنگی کا لفظ ہی استعمال کرتے، 'تین ہی باتیں ہو سکتی ہیں۔ مس جاسپر نے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کر لی ہو گی یا پھر اس کے شوہر نے اسے نظر بند کر دیا ہو گا اور اس کے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہو گا، خط بھی نہیں لکھ سکتی ہو گی۔ یا پھر، اس نے فرار کی کوشش کی ہو گی۔ جنوب میں سرحد کے قریب ہی برطانویوں کا ریل اسٹیشن ہے، تم نے چمن کا نام سنا ہو گا؟ ہم نے وہاں پتہ کرایا ہے لیکن وہ ادھر نہیں پہنچی'۔
'یہ تو اندازے ہیں۔ آپ کا اپنا خیال کیا ہے؟' میں نے اصرار جاری رکھا،
'اگر میں خود کو نظراللہ کی جگہ رکھ کر سوچوں۔۔۔' محب نے کہنا شروع کیا، 'میں انہی خطوط پر سوچوں گا۔ نظراللہ کا اپنی امریکی بیوی سے برتاؤ ٹھیک ٹھاک تھا اور اس نے ہر قدم پر اس کے سامنے خودنمائی سے پرہیز ہی کیا ہے۔ وہ اسے اپنے تحکمانہ خاندان سے بھی دور لے گیا تھا تا کہ اس کے گھر کی عورتیں اس کا جینا دو بھر نہ کر دیں۔ قندھار میں یقیناً وہ اسے سمجھاتا بجھاتا رہا ہو گا کہ اس کی طرح ہی سادہ زندگی اختیار کر لے۔ کچے گھروندوں میں رہنا سیکھ لے اور ستائیس ڈالر ماہانہ آمدنی پر گزارہ کرے۔ یقیناً اب تک ایلن واپس امریکہ جانا چاہتی ہو گی لیکن نظراللہ نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہو گا۔ یہ نظراللہ کا حق بھی ہے۔ میرا خیال یہ ہے کہ چند ناگوار لڑائیوں اور بحثوں کے بعد اس نے جان چھڑا کر فرار کا منصوبہ بنایا ہو گا اور موقع دیکھ کر بھاگ نکلی ہو گی۔ لیکن چونکہ راستہ مشکل ہے اور اسباب تنگ رہے ہوں گے، وہ سرحد تک نہیں پہنچی۔ مطلب یہ کہ راستے میں ہی کہیں جاڑے اور تنگ دستی کے ہاتھوں برباد ہو گئی ہو گی۔ ایسا پہلے بھی ہو چکا ہے'۔
'لیکن نظراللہ نے ابھی تک اس بارے کوئی اطلاع کیوں نہیں دی؟' میں نے جاننا چاہا،
'اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں' محب خان نے باپ کی بات میں بات جوڑ کر کہا، 'پہلی یہ کہ ایلن صرف ایک عورت ہے اور ایک عورت بارے خواہ مخواہ غل مچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ جب بھی وہ لوٹ کر کابل آیا، بتا دے گا۔ دوسری وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ وہ ایلن جاسپر سے واقعی محبت کرتا ہے اور ابھی تک یہی سوچ کر بیٹھا ہے کہ ایلن راہ کی مشکلات سے بچ نکلی ہو گی اور آخر کار لوٹ کر اس کے پاس ضرور آئے گی'۔
ایلن جاسپر کی بری قسمت بارے یہ اندازے ہم تینوں کو اس قدر دکھی کر گئے کہ کمرے میں چند منٹ کے لیے مکمل سکوت طاری رہا، کہنے کو مزید کچھ بھی نہیں تھا۔ گھر کے اندر تاریکی بڑھتی جا رہی تھی اور اس قدر گہری خاموشی تھی کہ میری روح بیتاب ہو گئی۔ اس کمرے کی دیواریں بہت موٹی تھیں۔ گھر سے باہر بھی قلعہ بند تھا، اس لیے کوہ بابا سے اتر کر آنے والی سرد ہوائیں اندر آنے سے پہلے ہی ان دیواروں کے ساتھ ٹکراتیں اور پھٹ کر بکھر جاتیں۔ پھڑپھڑاتی ہوئی کابل کے میدان میں پھیل جاتی تھیں، چنانچہ اندر ان ہواؤں کی سائیں سائیں بھی سنائی نہ دیتی تھی۔ ہم تینوں اکٹھے اس کمرے میں اس وقت بالکل خاموش بیٹھے تھے۔ تھوڑی ہی دیر بعد یوں چپ رہنے پر اس قدر گہرے سکوت کا احساس ہوا کہ اس بوجھل کمرے، موٹی دیواروں اور پر ہیبت قلعے کا سارا وزن بھی مہیب پن کے سامنے ہلکا پڑتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔
مجھ سے رہا نہ گیا۔ سو سکوت توڑا اور فیصلہ کن انداز میں پوچھا، 'خان صاحب، اگر میں قندھار اور قلعہ بست جاؤں؟ کیا آپ کو کوئی اعتراض ہو گا؟ دیکھیں کچھ نہایت اہم امریکی ایلن جاسپر بارے فکرمند ہیں'۔
'ملر صاحب اگر میری عمر اور توانائی تم جیسی ہوتی۔۔۔' بوڑھے خان نے دھیمے لہجے میں انتہائی نرمی سے جواب دیا، 'میں بہت پہلے قندھار جا چکا ہوتا'۔
'یعنی، آپ کی طرف سے مجھے پوری اجازت ہے؟'
'میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ میرے بیٹے کی تند و تیز طبیعت اور سخت باتوں کا ہر گز برا مت منانا، ہم افغان لوگ عورتوں بارے خاصے فکر مند رہتے ہیں۔ وہ ہماری کمزوری ہیں۔ بھلے وہ عورت فرنگی بھی ہو، ہم اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ ہم ان فرنگیوں کی بھی عزت کرتے ہیں جو ہماری عزت بارے فکرمند ہیں'۔
اس بات پر اچانک نہ جانے مجھے کیا ہوا، بعد میں اپنی ہمت پر حیرانگی بھی ہوئی۔ شاہ خان کا جواب سن کر میں نے بے اختیار پوچھ لیا، 'خان صاحب، کیا آپ کے پاس اپنی نواسی صدیقہ کی کوئی تصویر ہے؟ وہ جو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے؟' میں پچھتایا مگر تیر کمان سے نکل چکا تھا۔
'نہیں' شاہ خان نے اطمینان سے جواب دیا، 'ہم سچے مسلمان ہیں اور فوٹوگرافی پسند نہیں کرتے۔ یہ ہمارے مذہبی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ انسانی ماہیت کی خلاف ورزی تصور ہوتی ہے'۔
'بالخصوص عورتوں کی ماہیت؟' میں نے ہنستے ہوئے گرہ لگائی،
'ہاں۔ ایسا ہی ہے کیونکہ یہ پردے کے خلاف ہے۔ مونسئیر ملر، میں تمہیں یہ بتا سکتا ہوں کہ صدیقہ بہت خوبصورت لڑکی ہے اور یہ وہی ہے جسے آج صبح تم نے بازار کی تنگ گلی میں اس فوجی کے ساتھ بوس و کنار کرتے ہوئے دیکھا تھا'۔
میں یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا، کہو ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ میرا خیال تھا کہ شاید گلی کے آس پاس صرف میں ہی موجود تھا، 'ان دونوں فوجیوں کو ہم نے اسی بناء پر پہلے ہی ملک بدر کر دیا ہے۔ وہ اس وقت درہ خیبر کے راستے میں ہوں گے'۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی۔
'اگر تمھارے لوگ انہیں ملک بدر نہ کرتے۔۔۔' شاہ خان نے ترکی بہ ترکی، منہ توڑ انداز میں ایسے کہا جیسے جتاتا ہو کہ اس کی انٹیلی جینس سروس صرف افغانوں ہی نہیں بلکہ امریکیوں کی بھی پوری خبر رکھتی ہے، 'میں اس وقت تم سے بات نہ کر رہا ہوتا۔ محب، مونسئیر ملر کی جیپ تیار کراؤ!' اس نے اپنے بیٹے کو حکم دیا۔
جب محب خان کمرے سے نکل کر چلا گیا تو شاہ خان اپنی کرسی سے اٹھا اور مجھے دروازے تک چھوڑنے ساتھ آیا۔ میں نے کمرے کے باہر کانی نظر سے ایک دفعہ پھر کرسی پر پڑے خاکستری برقعے کو دیکھا۔ وہی جنسی اشتعال جو آج صبح لڑکیوں کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد مجھ پر طاری ہوا تھا، ایک دفعہ پھر سے آن جھپٹا۔ میں اسی طرح بدحواس ہو گیا اور سر گول گھومتا ہوا محسوس ہوا۔ ایسا لگا جیسے برقعے میں صدیقہ کے وجود کا کوئی حصہ ابھی تک خوشبو بکھیر رہا ہے۔
'خدا ان لڑکیوں کو غارت کرے' شاہ خان ہنس کر بولا، 'برقعوں پر گھٹیا فرانسیسی خوشبوؤں کی پوری بوتلیں انڈیل دیتی ہیں تا کہ لڑکے دیکھا کریں، ان کا دھیان جما رہے۔ اس کو سونگھو!' یہ کہتے ہوئے اس نے خاکستری برقعہ اٹھایا اور میرے چہرے پر مل دیا۔ خوشبو بہت تیز تھی اور میرے نتھنوں میں اس طرح بھر گئی کہ چند لمحوں کے لیے میرے لیے سانس لینا دو بھر ہو گیا۔
شاہ خان نے ہاتھ میرے شانے پر رکھا اور کہا، 'مونسئیر ملر، ایلن جاسپر بارے ہمارے پاس مزید اطلاع بھی ہے۔ لیکن میں اس اطلاع کو صائب معلومات قرار نہیں دوں گا۔ یہ بس ایک اندازہ ہے، اڑتی ہوئی خبر ہے۔ چھوڑو رہنے دو، یہ اس قدر بھونڈی بات ہے کہ میں خود اس پر زیادہ توجہ نہیں دوں گا۔ لیکن ظاہر ہے، جیسی تم نے نوعیت گنوائی ہے۔ اس معاملے میں کسی بھی بات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بلاشبہ یہ انتہائی غٰیر مصدقہ اطلاع ہے مگر شاید مجھے اس لیے اہم لگتی ہے کہ اس سے ایلن کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کا زیادہ تو نہیں مگر بہرحال کچھ نہ کچھ حال معلوم پڑتا ہے۔ میں اس بارے مزید کچھ نہیں کہنا چاہتا، تم قندھار تو جا ہی رہے ہو۔۔۔ وہاں پہنچو گے تو خود ہی اس بارے سن لو گے۔ جب سنو تو تم خود ہی فیصلہ کر لینا!'،
' یعنی، آپ مجھے اس بابت کچھ نہیں بتائیں گے؟' میں نے زور دے کر درخواست کی،
'میں کبھی نہیں چاہوں گا کہ تمہاری فائل میں یہ افواہ میرے نام کے ساتھ لف ہو، مجھے سخت برا لگے گا۔ دیکھو یہ میری ساکھ کا معاملہ ہے۔ تم جوان آدمی ہو، سفارتکاری کے میدان میں نئے ہو۔ تمہیں ابھی ایسی ویسی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر میرا معاملہ الگ ہے۔ اللہ کرے تمہارا سفر بخیر ہو'۔ مجھے اس بات پر ہمیشہ خاصی حیرت ہوتی ہے کہ مسلمان بھی خدا کے نام کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں جیسے ہم کرتے رہتے ہیں۔ وہی ایک خدا ہے، آخر میں اسی کا نام جپتے ہوئے شاہ خان مجھے سفر بخیر کی دعا دیتا ہے، میں بھی اسی خدا کے بھروسے پر سفر کے لیے نکلوں گا۔ لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ ایک خدا کی چھتری تلے ہم دونوں پھر بھی مختلف انتہائیں ہیں۔
'قندھار کے سفر کے لیے اجازت نامہ اور راستے میں جہاں ضرورت پڑے، میری طرف سے تعارفی خط کل صبح تمہارے دفتر پہنچ جائے گا'، شاہ خان نے یقین دہانی کرائی۔
'بہت شکریہ، خان صاحب!' میں نے کھلے دل سے جواب دیا۔ اس نے مصافحہ کیا اور آگے بڑھ کر میرے لیے دروازہ کھول دیا۔ باہر کھلے میدان میں جیپ تیار کھڑی تھی۔ میں نے دیکھا کہ محب خان ایک دفعہ پھر سفید گھوڑے پر سوار، برف سے اٹے میدان میں اسے سر پٹ دوڑاتا جا رہا ہے۔جب وہ دور نکل کر اندھیرے میں برف کی پھٹکیوں میں گم ہو گیا تو میں نے یہی سوچا کہ شاید دنیا میں یہ واحد روسی گھوڑا ہے جو اپنی پشت پر فلاڈلفیا میں وارٹن سکول کے نشان کی مہر ثبت کروائے، خدا جانے اندھیروں میں پاگلوں کی طرح کہاں سرپٹ دوڑتا پھر رہا ہے؟

۔کارواں (افغانستان کا ناول) - تیسری قسط کے لیے یہاں کلک کریں -
-تبصرے، سوالات اور معلومات کے لیے سائیڈ بار میں رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ-

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر