کارواں - تیسری قسط

افغانستان کا ناول

افغانستان پر نظر دوڑائیں۔ یہاں ہر عمارت کسی نہ کسی ظلم، زیادتی یا بے حرمتی کا کٹا پھٹا ثبوت نظر آئے گی۔ کابل میں بعض، مثال کے طور پر شاہ خان کا قلعہ کسی زمانے میں محاصروں کا مقابلہ کرنے لیے تعمیر کیا گیا تھا۔ ایسا کئی بار ہوا، گھیر لیے گئے۔ کچھ ایسی تعمیرات بھی ہیں جو انتقام کا نشانہ بن کر مٹی کے ساتھ مٹی ہو گئیں مگر اس سے قبل ان عمارتوں میں خون کی ندیاں بہتی رہیں۔ صرف کابل ہی کیا، پورا ملک تار تار ہے۔ کابل سے نکلیں تو دور دراز مقامات پر آج بھی سکندر اعظم، چنگیز خان، تیمور یا فارس کے نادر شاہ کے بھالوں اور برچھیوں سے لگائے گہرے زخموں کی کھرونچیں صاف نظر آتی ہیں۔ ان عمارتوں کو دیکھ کر ذہن میں صرف یہی خیال آتا ہے کہ کیا دنیا میں افغانستان کے علاوہ کوئی ایسی جگہ ہو گی جس کو تاریخ میں اتنی شدت کے ساتھ، بار بار دہشت اور تباہی نے تاراج کر رکھا ہو؟
ان ساری عمارتوں میں، جہاں تشدد اور بربریت کے پہاڑ توڑے گئے،کوئی بھی جگہ برطانوی سفارتخانے کی دس پندرہ عمارتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ انہی میں سے ایک عمارت میں آج ہم سب جمع تھے۔ اس عمارت نے کئی المیے دیکھے، دلبرداشتہ شکست و ریخت کا سامنا کیا اور جنگوں میں اسی جگہ سے شروع ہونے والے خون خرابے کا قصہ بالآخر یہیں آ کر مزاکرات کی میز پر تمام ہوا۔ یہاں وفاداریاں کوڑیوں کے دام بکا کرتی تھیں اور کئی بار جری مردوں کو چھرے گھونپ کر یا خنجر سے گلے کاٹ کر مار پھینکا گیا تھا۔ اگر ان عمارتوں میں یہ سب کچھ ہو رہنے کے بعد بھی برطانیہ آج بھی افغانستان کے ساتھ بدستور دوستانہ تعلقات قائم رکھنے میں کامیاب ہے تو اسے انگریزوں کی زبردست رجوعیت پسندی کا زبردست نتیجہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔ ہم چند لوگ جو اکلیاپے کے مارے تھے۔ جنھیں سردیوں کے موسم میں دل بہلانے کو کچھ اور سجھائی نہ دیا تو اب ادھر اکٹھے مل بیٹھ کر ڈرامہ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
ان عمارتوں کی جو تاریخ تھی، سو تھی لیکن 1946ء میں برطانوی سفارتخانے کا کمپاؤنڈ افغانستان بھر میں غالباً سب سے زیادہ مہذب اور رکھ رکھاؤ برتانے والی جگہ تھی۔ یہ قلعہ بند، چھاؤنی نما تعمیرات جن کی چار دیواری کے اندر کنوئیں کھدے ہوئے تھے، وسیع رقبے پر باغات تھے جبکہ ایک ٹینس کورٹ اور ریسٹورنٹ بھی تھا۔
عام طور پر یورپی باشندے یہیں پر جمع ہوا کرتے۔ انہوں نے امریکیوں کو بھی بادل ناخواستہ اپنے ساتھ شامل کر رکھا تھا۔ سرما کے دنوں میں سفارتخانوں کا سارا عملہ رات کے وقت یہاں جمع ہوتا اور نت نئے ڈرامے پیش کیے جاتے، محفل سجی رہتی۔ آج رات برطانوی، اطالوی، فرانسیسی، ترک اور امریکی سفارتخانے کے اہلکاروں نے مل کر نیو یارک کے تھیٹروں میں صرف ایک مہینہ پہلے پیش کیے جانے والے تازہ ترین مقبول کامیڈی ڈرامے 'Born Yesterday' کا سکرپٹ پڑھنے کا ارادہ کر رکھا تھا۔ سوئس سفارتخانے میں کام کرنے والی شوخ و چنچل لڑکی انگریڈ، بیلی ڈان کا کردار نبھائے گی۔ ایک برطانوی جو یہ سمجھتا تھا کہ وہ امریکی غنڈوں کی طرح بول چال کر سکتا ہے، ہیری بروک جب کہ روزنامہ نیو ریپبلک کے رپورٹر کا کردار میرے ذمے لگایا گیا تھا۔
ڈرامے کی کاسٹ اطالوی، فرانسیسی اور ترک سفیروں کی بیگمات نے مل کر ترتیب دی تھی۔ آج بھی جب میں پیچھے مڑ کر ان دنوں کو یاد کرتا ہوں تو متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ میں حیران رہ جاتا ہوں کہ ہم سب کابل کی برفیلی راتوں میں اکٹھے بیٹھ کر دانائی کی باتیں کیا کرتے تھے اور تعقلی تواضع اور طویل مباحثوں کے ذریعے ایک دوسرے سے کتنا کچھ سیکھ لیتے تھے۔ باقی دنیا سے کٹ کر کئی سہولیات اور تفریح کا سامان جیسے کتابیں، رسالے، تھیٹر، ہوٹل اور موسیقی کی محافل جیسی عیاشیاں میسر نہیں تھیں۔ ہمارے پاس ایسا کچھ نہیں تھا، صرف اور صرف اپنا آپ تھا اور چند گنے چنے یہی لوگ تھے جن میں سے ہر ایک یکتا شخصیت کا مالک تھا۔ ہم میں سے ہر ایک کی شخصیت کا یہ روپ سالہا سال کی سمجھ بوجھ، تجربات اور یادوں سے مل کر نکھر گیا تھا۔ مجھے انہی دنوں ادراک ہوا کہ انسانوں سے متعلق یہ بات کس قدر حوصلہ افزاء ہے کہ اگر پوری دنیا میسر نہ ہو تو بھی چند معدودے مل جل کر، بدترین حالات میں بھی کس طرح اپنے لیے زرق برق سماجی زندگی کا سامان، الگ دنیا آباد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ میں نے ان دنوں کے بعد آج تک کابل میں واقع ان چھوٹے کمروں میں جمع چند معدودے لوگوں جیسی زندہ دلی، ایک دوسرے کے لیے چاہ، بیچ طویل اور جاندار گفتگو کہیں اور نہیں دیکھی۔ میں نے کسی جگہ ان لوگوں جیسے لوگ نہیں دیکھے جو اپنے آپ میں پورے تھے اور بحیثیت انسان کس قدر دل موہ لینے والے ہوا کرتے تھے۔ ان چند برسوں کے دوران ہر روز دن رات انہی چند لوگوں سے واسطہ رہا، انہی سے میل جول رہا اور ملاقات رہتی تھی مگر مجھے کبھی ان سے بوریت نہیں ہوئی۔ ان کا ساتھ بیتایا وقت اس قدر دلچسپ اور اطمینان بخش ہوا کرتا تھا کہ اس کا بیان مشکل ہے۔ شاید اس طمانیت کی وجہ یہ بھی تھی کہ ہم میں سے کسی کے لیے بھی ایک دوسرے سے فرار ممکن نہیں تھا، ہم ایک دوجے سے بندھے ہوئے تھے، انفرادیت برداشت کرنی پڑتی تھی۔ ہم چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے بھی آپس میں سلے ہوئے تھے۔ اس سلائی میں بھلے ململ میں ٹاٹ کا پیوند ہی کیوں نہ ہو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔
آج رات پیش کیے جانے والے ڈرامے کا سکرپٹ ابھی ابھی ہمارے حوالے کیا گیا تھا اور غلطیوں سے قطاً اجتناب کا حکم تھا۔ ہم نے یہ سکرپٹ پہلے دیکھا اور نہ ہی پڑھنے کا موقع ملا بلکہ ہدایات بھی کوئی خاص نہیں دی گئیں۔ ارادہ یہ تھا کہ ہم سب مل کر اسے پہلی بار پڑھیں گے اور جیسے جیسے رات آگے بڑھے گی، اس کی گتھیاں کھولتے جائیں گے۔ کھیل مقررہ وقت پر شروع ہو جاتا لیکن کچھ دیر ہو رہی تھی۔ مس میکس ویل نہ جانے کہاں رہ گئی تھی؟ چونکہ اس نے ڈرامے کا تیسرا حصہ اچھی خاصی محنت کے بعد، ٹائپ کر کے تیار کیا تھا اور ایک چھوٹا موٹا کردار بھی اس کے لیے رکھ دیا گیا تھا، سب نے مناسب یہی سمجھا کہ اس کا انتظار کیا جائے۔ اس کے باوجود آج رات کی محفل کا میزبان یعنی برطانوی سفیر، مس میکس ویل کی سستی اور اس کے نتیجے میں سب کو پیش آنے والی کوفت سے سخت نالاں نظر آ رہا تھا۔ خیر اس نے بھی مصروفیت ڈھونڈ لی اور وہ سر ہربرٹ کے پہلو میں جا بیٹھا اور اس کو محظوظ کرنے لگا۔ سر ہربرٹ کہنے کو تو تاج برطانیہ کی جانب سے ایشیاء میں افغانستان اور فارس کے سفارتخانوں میں عمومی حالات اور انتظامات کی انسپکشن پر مامور افسر تھا لیکن عملی طور پر وہی برطانویوں کی ڈوریں کھینچا کرتا تھا اور اسی سے دوسرے سفارتخانوں کو قیمتی معلومات مل جاتی تھیں۔ سر ہربرٹ کو خوش رکھنا لازمی تھا۔
'تم فکر مت کرو!' سر ہربرٹ نے تواضع برتتے ہوئے کہا تو سب کی جان میں جان آئی، 'میں نے امریکیوں کو شاذ و نادر ہی کبھی وقت کا پابند پایا ہے''۔
اس چوٹ پر میں نے فٹ جواب دیا۔ میں نے کہا مجھے یقین ہے کہ مس میکس ویل کو ضرور کوئی حاجت رہی ہو گی، ورنہ وقت کی پابند ہے۔ وہ صبح چھ بجے جاگ کر ڈرامے کی تیاری کے کام پر دن بھر جان کھپاتی رہی ہے اور پھر خود کو خطرے میں ڈال کر سکرپٹ اطالوی سفارتخانے پہنچانے نکلی تھی۔سگورینا ریسوپی نے بھی میری ہاں میں ہاں ملائی۔ خیر میں نے بات لپیٹی کہ، 'اس بیچاری کے ساتھ بہت برا ہوا۔ اپنا کام کرنے نکلی تھی مگر راستے میں تین ملاؤں نے اس کے ساتھ۔۔۔'
'کیا ہوا، ہراساں کیا؟' سر ہربرٹ نے پریشانی سے پوچھا،
'اس پر تھوکا، دھکم پیل کی اور پشتو میں گالم گلوچ۔۔۔' میں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا،
'یہ اس ہفتے کے دوران اس طرح کا دوسرا واقعہ ہے' برطانوی سفیر نے بتایا۔
'میرا ذہن تو کہتا ہے۔۔۔' سر ہربرٹ نے رازداری سے کہا، 'کابل میں برطانوی سفارتخانے کی خواتین کو فی الفور عوامی جگہوں پر برقعہ استعمال کرنے کے احکامات جاری کر دینے چاہیے'۔
یہ سن کر سر ہربرٹ کی پشت پر بیٹھی انگریز لڑکی گریچن آسکود تڑپ اٹھی، 'نہیں۔۔۔ خدا کے لیے نہیں۔ سر ہربرٹ! میں آپ کی منت کرتی ہوں، ایسا ہرگز مت کیجیے گا'۔
میں نے اکثر دیکھا ہے کہ برطانوی لڑکیاں عام طور پر لاج پالتی اور کم گوئی سے کام لیتی ہیں لیکن گریچن نہ صرف یہ کہ خوبصورت تھی بلکہ منہ پھٹ بھی واقع ہوئی تھی۔ میں مجبوراً ایسا کہہ رہا ہوں، مجھے اس کے متعلق ایسی بات کہنا مناسب نہیں لگتا۔ در اصل کابل میں یورپی سفارتخانوں میں کم از کم بھی آٹھ خوبرو جوان ایسے ضرور ہوں گے جو گریچن کا ساتھ چاہتے ہوں گے لیکن سب کا خیال تھا کہ گریچن بالآخر مجھے ہی پسند کرے گی۔ میں دل میں سوچتا کہ ایسا تب تک ہی ممکن تھا جب تک وہ میری اصل شناخت یعنی یہودیت سے نا آشنا رہے۔ جس دن اسے پتہ چلا، یہ امید دم توڑ دے گی۔ کابل میں مورگن اور سفیر امریکہ کے علاوہ کسی فرنگی کو میری اصلیت کا علم نہیں تھا۔
افغانستان میں برطانوی اور امریکیوں کے بیچ مراسم کچھ اتنے اچھے نہیں تھے۔ وہ ہمیں بادل نا خواستہ برداشت کرتے آئے تھے اور یہی حقیقت تھی۔ برطانوی سفارتکار کیپٹن مورگن سے سخت اکتائے رہتے تھے اور اسے سفارتی امور میں جاہل اور گنوار سمجھتے تھے۔ ان کے خیال میں امریکی دفتر میں سیکرٹریوں کو ضرورت سے زیادہ تنخواہ ملتی تھی اور ہمارے یہاں میرین فوجی بدتمیز اور بدلحاظ تھے۔ مجھے وہ شوخ اور نڈر مگر جلدباز گردانتے تھے۔ اصل بات یہ تھی کہ برطانوی میرے ساتھ امریکی ہونے کے باوجود صرف اس لیے رعایت برتتے تھے کیونکہ میں کئی یورپی زبانیں اور یہاں کی مقامی زبان پشتو میں بول چال کر سکتا تھا۔ لیکن یہ فرق بھی جلد ہی ختم ہو گیا کیونکہ ان کے یہاں کم از کم تین اہلکار ایسے نکل آئے جو پشتو سمجھ بوجھ سکتے تھے۔ ان میں سے ایک کمزور جسامت کا اہلکار ایسا بھی تھا جو پشتو کے علاوہ روسی اور فارسی زبانیں بھی جانتا تھا۔ کچھ بھی ہو رہتا، برطانوی ہم امریکیوں کو اس لیے بھی برداشت کرنے پر مجبور تھے کیونکہ ہمارے سفارتخانے میں لذیذ کھانے پکتے تھے اور بار عام طور پر چوبیسوں گھنٹے کھلا رہتا تھا۔
دروازے پر آہٹ ہوئی تو سر ہربرٹ بچوں کی طرح مچلا، 'لو۔۔۔ آ ہی گئی!'۔ انگریزوں کی یہ خصلت مجھے بہت بھاتی ہے کہ بوڑھے بھی بچپنے کو زندہ رکھتے ہیں۔ دروازہ کھلا تو سب نے ایک ساتھ مڑ کر دیکھا تو یہ میکس ویل نہیں بلکہ غیر متوقع طور پر، محب خان کھڑا تھا۔ اس نے نیلے رنگ کی پتلی دھاری دار کاتی ہوئی اون کا بونڈ سٹریٹ سوٹ زیب تن کر رکھا تھا اور پیروں میں بھورے رنگ کے چمڑدار آکسفورڈ جوتے اور گلے میں نفیس گلوبند لپیٹا ہوا تھا۔ شام کے برعکس اس وقت وہ مکمل طور پر ایک موزوں سفارتکار کے روپ میں آن کھڑا تھا۔ اس نے مشاق سفارتکار کے ہی انداز میں محفل کے میزبان سے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا اور کہا،
'جناب! اس سے قبل تین دفعہ میں ان محافل میں مدعو رہا ہوں اور تینوں ہی بار آپ نے میرے لیے کردار منتخب کیا تھا۔ کیا آج میں اپنے لیے اپنی پسند کا کردار چن سکتا ہوں؟'
'ضرور خان صاحب، ضرور! آپ تشریف لائے ہیں۔ محفل کو رونق بخشی ہے۔۔۔ ہمیں بہت خوشی ہوئی!' سفیر نے غیر رسمی انداز میں سواگت کیا۔
'مجھے پتہ چلا ہے کہ آج پیش کیا جانے والا ڈرامہ خاصا مزاحیہ ہے؟ مجھے اس محفل کا پتہ بھی نہ چلتا لیکن اطالوی سفارتخانے میں سگورینا ریسوپی نے اس قدر تعریف کی کہ میں آئے بنا رہ نہ سکا'۔ یہ کہہ کر اس نے اطالوی ٹائپسٹ کی جانب شکریے میں سر ہلایا تو وہ جھینپ گئی۔ اس کا گول مٹول، گداز چہرہ قدرے سرخ ہو گیا۔
'اس نے درست کہا!' سر ہربرٹ نے ریسوپی سے اتفاق کیا، 'میرے ایک جاننے والے نے پچھلے ہی مہینے واشنگٹن تھیٹر پر یہ ڈرامہ دیکھا تو ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو گیا۔ اسے یہ کھیل اس قدر پسند آیا کہ فوراً ہوائی ڈاک کے ذریعے پورا سکرپٹ ارسال کر دیا'۔
محب خان نے نشست سنبھال لی۔ کمرے میں ایک دفعہ پھر خالی پن بھر گیا۔ سویڈش لڑکی نے چند لمحوں کے توقف کے بعد پوچھا، 'کیا ہم ڈرامہ شروع نہ کر لیں؟ مس میکس ویل کا کردار تو ویسے بھی دوسرے حصے میں ہے!'
'میرے خیال میں بہتر یہی رہے گا کہ انتظار کریں' سر ہربرٹ نے اصرار کیا، 'جیسا کہ مسٹر ملر نے ہمیں بتایا، اس نے محنت کر کے اتنا کام تیار کیا ہے'۔
اس پر گریچن نے اضافہ کیا، 'اور اس بیچاری کے ساتھ دن میں ملاؤں نے۔۔۔'
سر ہربرٹ نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی محب خان سے پوچھا، 'خان صاحب، ملاؤں کا زور بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ کیا خیال ہے، وہ حاوی ہو جائیں گے؟'
'نہیں، ایسی کوئی بات نہیں ہے!' محب نے محتاط لہجے میں جواب دیا، 'لیکن دوسرے ہاتھ پر وہ پچھڑ بھی نہیں رہے'
'میں نے کچھ عرصہ قبل سنا تھا کہ افغانستان میں برقعے پر مکمل طور پر پابندی لگانے کی بحث ہو رہی ہے' سر ہربرٹ نے بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا اور پھر بات اسی موضوع پر چل نکلی۔ اگرچہ ابھی افغانستان میں نووارد تھا مگر میں نے یہی معمول دیکھا ہے کہ اس ملک میں دو موضوعات ایسے ہیں جن پر بات چھیڑو تو ہر شخص فوراً ہی طوطی کی طرح ٹر ٹر بولنے لگتا ہے۔ اول، عورتوں کا پردہ اور دوم جلاب کے مجرب نسخے ہیں۔ اصل میں بات یہ ہے کہ کابل اور اس کے گردونواح میں پینے کا پانی سخت مضر ہے اور ہر شخص اس کے ہاتھوں تقریباً ہمیشہ ہی زچ رہتا ہے۔ میرا اندازہ درست نکلا، جب برقعے پر سیر حاصل بحث ہو چکی تو سگورینا ریسوپی نے جلابوں کی بات چھیڑ دی۔
'ایک جرمن ڈاکٹر نے حال ہی میں انٹیرو گولیوں سے کئی درجے بہتر نسخہ ایجاد کیا ہے۔ اسے سلفا کہتے ہیں، جنگ کے دنوں میں فوجیوں کے خوب کام آتا رہا ہے'۔
'کیا یہ واقعی مجرب ہے؟' سویڈش لڑکی نے اشتیاق سے پوچھا،
'میرے خیال میں۔۔۔' سر ہربرٹ عادتاً کود کر بولا، 'جلابوں سے بچنے کا سب سے بہترین طریقہ یہ ہے کہ کھانے کے ساتھ خاصی مقدار میں لیس دار اور پھولنے والی خوارکیں جیسے ستو وغیرہ بھی کھاتے رہا کرو۔ اس سے آنتوں میں پانی ٹھہر جاتا ہے اور حیران کن طور پر اسہال کا مسئلہ سرے سے جنم ہی نہیں لیتا۔ ویسے بھی، احتیاط علاج سے بہتر ہے'۔
'واقعی؟' ترک سفیر کی بیوی نے پہلی بار دلچسپی دکھائی، 'میں نے تو آج تک انٹیرو گولیوں پر ہی گزارہ چلایا ہے۔ ان کا اثر تو خوب ہوتا ہے لیکن پیٹ میں گڑبڑ ہو جاتی ہے۔ مروڑ اٹھتے ہیں اور بعض اوقات تو قبض ہو جاتی ہے۔ لیکن، پیچش نہیں ہوتے۔۔۔ خدا غارت کرے، اکثر انٹیرو بھی جواب دے جاتی ہیں۔ مجھے بالکل سمجھ نہیں آتی، یہ دوائیاں زیادہ تر ٹھیک ٹھاک چل جاتی ہیں، لیکن کبھی تو سرے سے اثر ہی نہیں ہوتا۔۔۔'
یہاں سے یہ بحث فرانس کے سائنسدانوں کی طرف مڑ گئی جنہوں نے حال ہی میں تحقیق سے بالکل نئے نسخے دریافت کیے ہیں جو گارنٹی اثر کرتے ہیں۔ فرانسیسی سفیر اس تحقیق پر کافی دیر سے باحث بنا ہوا تھا۔ مجھے رہ رہ کر یہی خیال ستا رہا تھا کہ کابل دنیا میں واحد دارالحکومت ہو گا جہاں چند انتہائی معزز، بین الاقوامی اہمیت کی شخصیات مل بیٹھ کر پوری سنجیدگی کے ساتھ پیٹ کے مروڑوں پر غور و فکر کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک اس وقت افغان معاشرے کا کوئی دوسرا پہلو پیٹ کے مروڑوں سے زیادہ اہم نہیں تھا۔ ویسے یہ بات بھی سو فیصد درست تھی کہ ایشیائی پیچش کے جراثیم انتہائی زہریلے واقع ہوئے ہیں۔ اسہال کی اس بیماری کو مقامی طور پر کابلی چھرکیں کہا جاتا تھا۔ پیچشوں کے ساتھ پیٹ میں اتنا درد اٹھتا کہ خدا کی پناہ۔۔۔ قے آتی، سخت الجھن ہوتی اور چند گھنٹوں کے اندر ہی جسم پانی کی کمی سے نحیف اور سخت کمزور ہو جاتا۔ افغانستان جیسے دیس میں، جہاں لیٹرینوں کا سرے سے رواج ہی نہیں تھا، دست اور اسہال وبا کی صورت خدائی عذاب بن کر سال کے بارہ مہینے نازل رہتے تھے۔ میں شرطیہ کہہ سکتا تھا کہ اس وقت بھی، کمرے میں موجود ہر شخص لازماً اپنے دستی سامان میں ضرورت کی باقی چیزوں کے علاوہ دست کش گولیوں کی شیشی اور ٹوائلٹ پیپر کا ایک آدھ رول بھی اٹھائے ہوئے تھا۔
'خان صاحب، آپ اس بیماری سے بچاؤ کیسے کرتے ہیں؟' فرانسیسی سفیر کی بیوی نے متجسس ہو کر فرانسیسی میں محب سے پوچھا،
'سادہ سی بات ہے' خان نے شستہ انگریزی میں جواب دیا، 'یورپی کابل میں پینے کے پانی کا انتظام دیکھ کر سخت پریشان ہو جاتے ہیں۔ چھوٹی چھوٹی نہروں کے بہتے پینے میں پانی میں بچے موتتے ہیں، یا اس سے بھی پرے، ہگتے رہتے ہیں۔ لیکن ہوتا کیا ہے؟ یہی پانی پی کر بچے مرتے رہتے ہیں جو ہمارے لیے اچھی بات ہے اور نہ ہی بری ہے، یعنی اہم نہیں ہے۔ بچے تو مرتے ہی رہتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسی وجہ سے شماریات والے کہتے پھرتے ہیں کہ افغانستان میں اوسط عمر صرف تئیس برس کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ یہ بات پوری طرح درست نہیں ہے، شماریات سے کچھ بھی ثابت کیا جا سکتا ہے۔ میں آپ کو اصل صورتحال بتاتا ہوں، بات یہ ہے کہ اگر کوئی بچہ ایک دفعہ پیچشوں سے بچ نکلے تو پھر وہ ہر چیز سے بچ جاتا ہے۔ کم و بیش ہر طرح کی بیماری کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔ اپنے اردگرد دیکھیں، آپ کو افغانوں میں کتنی بڑی تعداد میں کڑیل جوان اور عمر رسیدہ بوڑھے نظر آئیں گے۔ یقین کیجیے، عورتیں تو مردوں سے بھی طویل عمریں جیتی ہیں۔ میں تو کہتا ہوں کہ اگر کوئی افغان بچہ سات سال کی عمر تک یہی پانی پی کر بچ گیا تو لکھ کر رکھ لو۔۔۔' وہ سینہ ٹھونک کر ہنستے ہوئے بولا، 'اسے بندوق کی گولی کے سوا کوئی چیز نہیں مار سکتی!'
ایک انگریز ڈاکٹر جو کابل میں چند دن کے لیے مختصر دورے پر آیا ہوا تھا، فوراً بول پڑا، 'محب خان کی بات سو فیصد درست ہے، وہ مزاق نہیں کر رہا۔ پولیو جیسی بیماری کی مثال ہم سب کے سامنے ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ جیسے ملک میں بھی بچوں کی بڑی تعداد۔۔۔'
'ہمارے یہاں کسی بچے کو پولیو نہیں ہوتا!' محب خان نے ڈاکٹر کی بات میں مخل ہو کر زور پیدا کرنے کی کوشش کی، 'لیکن وہ یورپی جو اپنی زندگی کا بڑا حصہ اپنے ملک میں گزار کر یہاں آتے ہیں، بھلے ویکسین وغیرہ بھی لگوا لیں، کابل کے پانی سے ضرور بہرہ مند ہوتے ہیں۔۔۔' اس نے آنکھ ماری اور پھر پوچھا، 'ڈاکٹر صاحب، یورپ میں پولیو کی کیا صورتحال ہے؟'
'کافی ہے۔ ابھی تک مسئلہ حل ہونے میں نہیں آ رہا!' ڈاکٹر نے محب سے اتفاق کرتے ہوئے کہا۔
ابھی یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ دروازے پر آہٹ سنائی دی۔ خدا خدا کر کے مس میکس ویل پہنچ ہی گئی، لیکن اس کی حالت غیر تھی اور چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ جیسے اس نے کوئی بھوت دیکھ لیا ہو، 'میری برداشت جواب دے رہی ہے!' وہ ہسٹریائی انداز میں چلائی اور رونا شروع کر دیا۔
'ارے ارے، کیا ہوا؟' سب نے چلا کر پوچھا،
'آج صبح۔۔۔' وہ غصے میں بولی، 'تین ملاؤں نے مجھ پر حملہ کیا۔۔۔'
'ہمیں پتہ چلا ہے۔ یہ انتہائی افسوسناک واقعہ ہے' سر ہربرٹ نے دلجوئی کی،
'اس سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑا۔۔۔' میکس ویل نے کہا، 'میں اوماہا چھوڑ کر افغانستان دیکھنے آئی تھی اور مجھے یہ دیس بہت پسند ہے' اس نے جب دیکھا کہ حاضرین میں محب بھی موجود ہے تو آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ تھام لیے، 'تمہارا کیا خیال ہے ابھی ابھی میں نے راستے میں کیا دیکھا ہو گا؟ سفارتخانے سے صرف دو سو گز فاصلے پر۔۔۔'
'ملا؟' محب نے شرمندگی سے پوچھا،
'بھیڑیے!' میکس ویل نے پراسرار انداز میں جواب دیا، 'بھیڑیوں کا پورا جتھا تھا۔ وہ کھیتوں میں برف پر بھاگتے پھر رہے تھے'۔
'اوہ اچھا' خان نے اطمینان کا سانس لیا، 'پہاڑوں پر برفانی طوفان نے انہیں میدانوں کی طرف بھاگنے پر مجبور کر دیا ہو گا' پھرسمجھانے کی کوشش کی، 'سردیوں کے موسم میں۔۔۔۔'
'کیا وہ انسانوں پر بھی حملہ آور ہو سکتے ہیں؟' کسی نے پوچھا،
'وہ بھوک سے بے حال ہوتے ہیں' محب نے جواب دیا، 'عین ممکن ہے کل صبح خبر ملے کہ۔۔۔ میں کیا کہوں؟ بھیڑیے ہیں۔ ہندوکش سے اتر کر آئے ہیں'۔
بھوکے جنگلی بھیڑیوں کے پورے جتھے کا یوں کابل شہر کے گردونواح میں کھلے عام دندناتے پھرنا اور کسی بدقسمت جانور یا انسان کا تصور جسے وہ چیر پھاڑ کر رکھ دیں گے، یہ سوچ کر ہی ہم سب پر خوف کے سائے لہرانے لگے۔ ہم یہاں ایک مزاحیہ ڈرامہ پیش کرنے جمع ہوئے تھے مگر اب ہر کوئی سراسیمہ تھا۔ ریڑھ کی ہڈی میں جیسے سرد ہوا اتر گئی ہو۔ سر ہربرٹ نے ملازم کو آواز دے کر بلایا اور پہلے سے ہی دہکتی ہوئی انگیٹھی میں لکڑیوں کے مزید کندے ڈالنے کا حکم دیا۔ لاشعوری طور پر ہم سب سمٹ کر ایک دوسرے کے بہت قریب آ گئے اور یہ محفل اور اس کے شراکین آپس میں پہلے سے کہیں زیادہ جڑ گئے۔ مجھے خوشی ہے کہ مس میکس ویل نے توجہ کا محور بننے کی مزید کوشش نہیں کی۔ صرف اتنا بتایا کہ، 'یہ ہرگز والٹ ڈزنی کے بھیڑیوں جیسے نہیں تھے۔ انتہائی خونخوار جانور تھے۔ گھچے دار، بڑے بڑے بال، خوفناک جانور!' ،
'کیا ان کےنوکیلے دانت بھی تھے؟' سگورینا ریسوپی نے خوفزدہ ہو کر پوچھا،
'پتہ نہیں۔ ان کا جتھا پہلے تو ہم سے کافی دور تھا مگر پھر وہ ہماری طرف لپکے۔ ایک لمحے کو تو ایسا لگا جیسے وہ گاڑی پر جھپٹ پر اسے چیر پھاڑ دیں گے۔ اگر میں خود گاڑی چلا رہی ہوتی تو نہ جانے کیا کر بیٹھتی لیکن ہمارے ڈرائیور صدر الدین نے ہوشیاری کا مظاہرہ کیا اور بہت زور سے ہارن بجاتا رہا۔ جتھا ایسا تھا جیسے بہت سی ٹانگوں والا ایک بڑا جانور ہو۔ وہ ہارن سے ڈر کر بھاگا اور اندھیرے میں غائب ہو گیا۔۔۔'،
'کہاں گیا؟'
'شہر کی طرف۔۔۔' مس میکس ویل نے کہا اور جنوب کی جانب اشارہ کر دیا جہاں ہم سب کی رہائش گاہیں تھیں۔
'اسی لیے ہم اپنے گھروں کی دیواریں اونچی رکھتے ہیں' محب خان نے کہا۔
'یہ کتنا عجیب و غریب، سخت دہشت کا دیس ہے' فرانسیسی سفیر نے اتفاق کیا،
'کیا بھیڑیے آپ لوگوں کے لیے تعجب کا باعث ہیں؟' محب نے سب سے پوچھا، 'اس سے پہلے کہ ہم ڈرامہ پیش کریں، میں جاننا چاہتا ہوں۔ کیا بھیڑیے آپ سب کے لیے اچنبھے کا باعث ہیں؟'
'نہیں، بھیڑیے کوئی انوکھا جانور تو نہیں ہیں!' فرانسیسی سفیر نے جواب دیا، 'اصل میں بات یہ ہے کہ جب ہم کابل میں بسر رکھتے ہیں تو یہاں ہر چیز، جیسے یہی دیکھ لو کہ ایک شہر میں دندناتے ہوئے بھیڑیوں کی کون توقع رکھ سکتا ہے، لیکن یہاں سب ممکن ہے۔۔۔ یہاں ہندوکش جو ہے!'۔
'لیکن دیکھو، ہم بھلے کسی چیز کی توقع رکھتے ہوں یا چلو، نہ رکھتے ہوں لیکن ہم بہرحال اس چیز کا سامنا کرنے کے لیے کبھی بھی پوری طرح تیار نہیں رہ سکتے۔۔۔' سر ہربرٹ نے اپنا خیال پیش کیا۔ وہ بھی اب ڈرامے میں دلچسپی کھو چکا تھا۔ کابل میں کسی بھی وقت محفل برخاست ہو، کیا فرق پڑتا تھا؟ رات کے دس بجے یا صبح کے چار، ایک ہی حساب تھا کیونکہ یہاں سرشام ہی رات کی مہیب تاریکی پھیل جاتی تھی، زندگی رک جاتی تھی۔ 'مجھے یاد ہے جب میں ہندوستان میں تعینات تھا۔ یہ جنگ سے پہلے کی بات ہے۔۔۔' اس نے یہ تو نہیں کہا کہ یہ اچھے دنوں کی بات ہے لیکن اس کا مدعا یہی تھا، 'میں کشمیر میں چھٹیاں منانے گیا ہوا تھا۔ ایک دن بار میں بیٹھے، میں نے اعلان کیا۔ میں نے کہا کہ مقامی پہاڑیوں کے ساتھ مل کر کشمیری بھوری ریچھ کا شکار کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں!'۔
'سرینگر میں ایک شخص تھا، میں اس کو نہیں جانتا تھا لیکن وہ مجھے بہت اچھی طرح جانتا تھا۔ اس نے مجھ سے پوچھا، 'سر ہربرٹ، کیا آپ کو پورا یقین ہے کہ آپ کشمیری ریچھ کو گولی مار سکتے ہیں؟' میں نے اثبات میں جواب دیا کہ ارادہ تو یہی ہے۔ مجھے اس شخص کا یہ سوال اور انداز بالکل پسند نہیں آیا، بلکہ میں اس بے تکی بات پر سخت جھنجھلا گیا تھا'۔
افغان ملازم انگیٹھی میں مزید لکڑی ڈالنے کے لیے آیا تو دروازہ کھلا اور ٹھنڈی ہوا سے کمرے میں سردی ہو گئی۔ سب اپنی جگہوں پر سمٹ گئے، باہر تیز ہوا چل رہی تھی۔ 'اس اجنبی نے میرے جواب کو نظرانداز کر دیا اور ایک دفعہ پھر پوچھا، 'سر ہربرٹ آپ کشمیری ریچھ بارے کیا جانتے ہیں؟' تس پر میں نے قدرے جھلاہٹ سے کہا، 'یہ ایک ریچھ ہوتا ہے۔ ویسا ہی ریچھ جیسا میں نے شملہ کے چڑیا گھر میں بھی دیکھ رکھا ہے۔ راجر۔۔۔ خدا جانے اس کا پورا نام کیا تھا؟ اس نے بھی کشمیری ریچھ کا شکار کر رکھا ہے۔ میں بھی اسی ریچھ کا شکار کروں گا' اس شخص کی پھر بھی تسلی نہیں ہوئی، 'لیکن کیا آپ نےاس سے قبل کبھی کشمیری ریچھ کا خود شکار کیا ہے؟'
یعنی اب تو حد ہی ہو گئی۔ میں نے درشتی سے کہا، 'نہیں!' جس پر وہ بھی ترکی بہ ترکی بولا، 'اگر ایسا ہے تو پھر آپ کو کشمیری ریچھ اور اس کے شکار پر اپنی رائے پالنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ سر ہربرٹ، آپ بے شک کشمیری ریچھ کے شکار کا خیال اپنے دل سے نکال لیں۔ اسے گولی مارنے کی کوشش مت کریں۔ بلکہ میں تو یہی کہوں گا کہ ایسا ہر گز مت کریں!' میرا صبر جواب دے گیا۔ میں نے اس شخص کا شکریہ ادا کیا اور بار سے نکل آیا۔ خیر، ہم شکار کے لیے نکل گئے مگر راستے میں ہمارے کشمیری گائیڈ نے بھی مجھ سے کشمیری زبان میں کم و بیش وہی سوال کیا۔ اس نے پوچھا کہ، کیا میں نے اس سے پہلے ہندوستان میں کبھی ریچھ کا شکار کیا ہے؟ ظاہر ہے، اس کے سوال کا جواب بھی نفی میں دیا۔ گائیڈ نے مجھے یہیں سے پلٹ کر واپس لوٹ جانے کا مشورہ دیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر میری خواہش تیز تر ہو گئی اور کشمیری ریچھ کے شکار کا شوق ساتویں آسمان کو چھونے لگا۔ میں نے اس کی بھی ایک نہیں مانی اور گھوڑوں پر سوار جلد از جلد کشمیر کے اس حصے میں پہنچ گیا جہاں عام طور پر ریچھ وغیرہ دیکھنے کو مل ہی جایا کرتے تھے۔
ہم پورا دن شکار کھیلتے رہے لیکن کوئی ریچھ نظر نہیں آیا۔ شام کے وقت دھندلکے میں درختوں کے ایک جھنڈ میں کچھ حرکت ہوئی۔ اگرچہ میں صاف دیکھنے سے قاصر تھا مگر اچھی طرح جانتا تھا کہ یہ ریچھ ہی ہے۔ چنانچہ، میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، گولی چلا دی۔ ریچھ مرا تو نہیں مگر ظلم یہ ہوا کہ بیچارے کو جان لیوا زخم آئے۔۔۔'
سر ہربرٹ نے یہاں پہنچ کر کہانی روک دی۔ ایک لمحے کو مجھے ایسا لگا جیسے وہ بھی کہانی شروع کرنے پہلے شکار کے اس قصے کی طوالت کا درست اندازہ نہیں لگا پایا تھا یا پھر وہ کسی دوسری وجہ کی بناء پر یہ روداد جاری ہی نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ ان دونوں باتوں میں سے کوئی ایک ضرور تھی۔ لیکن چونکہ اب سب لوگ پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہو چکے تھے، اس نے وہسکی کا گھونٹ بھرا اور نہ چاہتے ہوئے بھی بات آگے بڑھائی، 'میرے خیال میں اس کمرے میں کوئی بھی شخص کشمیری ریچھ بارے کچھ نہیں جانتا، اس لیے میں ہی بتاتا ہوں۔ جب اسے گہرا زخم لگ جائے تو اس کی آواز انسانوں کی طرح ہو جاتی ہے۔ ایسے جیسے کوئی عورت سخت درد کی حالت میں ہو۔ جب وہ زخمی ہو گیا تو درختوں کے جھنڈ میں بھاگ نکلا۔ وہ بے چین ہو کر آگے ہی آگے دوڑتا جا رہا تھا اور خوف کی حالت میں کسی دکھیاری ماں کی طرح فریاد کرتا جاتا، چیختا چلاتا رہا۔ مجھے تو ایسا لگ رہا تھا جیسے میں اس کی چیخوں میں الفاظ تک گن سکتا ہوں، اچھی طرح سمجھ رہا ہوں۔ اس کی آواز میں شدید کرب تھا، جیسے گریہ و بکا مچا کر نالہ کر رہا تھا۔ ظاہر ہے، جلد ہی وہ زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے گا۔ یہ ایسے ہی ہے کہ۔۔۔' سرہربرٹ کو الفاظ نہیں مل رہے تھے، وہ 'یہ ایسے ہی ہے کہ۔۔۔' کی رٹ لگائے ہوا میں ہاتھ نچا رہا تھا۔
تبھی انگیٹھی کے بالکل قریب بیٹھی سر ہربرٹ کی اہلیہ لیڈی مارگریٹ نے کہا، 'یہ سوچ کر ہی دماغ سن ہو جاتا ہے۔ سر ہربرٹ جھنڈ سے نکل کر واپس چلے جانا چاہتے تھے مگر سامان اٹھانے والے ہرکاروں اور گائیڈ نے انہیں روک کر متنبہ کیا کہ اب تو وہ ریچھ کا کام تمام کیے بغیر ہر گز واپس نہ جائیں، یہ ریچھ ان کی ذمہ داری ہے۔ ہربرٹ بھی یہی چاہتے تھے مگر کیا کرتے، ریچھ لنگڑاتے ہوئے آگے دوڑتا جا رہا تھا اور جلد ہی گھنے جنگل میں پہنچ کر کہیں غائب ہو گیا' مارگریٹ نے بات ختم کی تو کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔ انگیٹھی میں جل کر تڑکتی ہوئی لکڑیوں اور باہر تیز ہوا کی سائیں سائیں کے سوا کوئی آواز نہیں تھی۔
'میں نے تقریباً دو گھنٹوں تک اس مرتے ہوئے ریچھ کا پیچھا کیا۔۔۔' سرہربرٹ نے کچھ دیر بعد آہستگی سے کہا، 'یہ کام کچھ اتنا مشکل نہیں تھا کیونکہ ریچھ مسلسل چیخ و پکار کر رہا تھا، جیسے رو رہا ہو۔ تلاش کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی لیکن یہ نہایت بھیانک تجربہ تھا۔ اس کی آہ و بکا اس قدر پراسرار تھی کہ مجھے لگنے لگا جیسے وہ ریچھ، جانور نہیں ہے۔ ہم انسان، اتنے ملول اور محزون مخلوق ہیں کہ ہر طرح کی چیزوں پر اپنے ہتھیار آزماتے ہیں۔ چکور، تیتر، ہرن، خرگوش۔۔۔ ہر چیز پر۔ بالخصوص کمزور چیزوں پر وار کرتے ہوئے تو ہم بالکل اندھے ہو جاتے ہیں۔ میں تم لوگوں کو بتا رہا ہوں، زخموں سے چور چور، وہ ریچھ مجھ سے باتیں کر رہا تھا۔ شدید درد سے چلا کر فریاد کیے جا رہا تھا۔ میں آنکھیں تو بند کر سکتا تھا لیکن اس کی آوازیں کان میں مسلسل گھس کر پردے چیر رہی تھیں، انہیں کیسے روکتا؟ خیر، کافی دیر تلاش کرنے کے بعد میں نے دیکھا کہ وہ ایک درخت کے تنے سے ٹکا، موندھا پڑا کراہ رہا ہے۔ جوں جوں میں اس کے قریب گیا، وہ نت نئے طریقے سے، زور و شور کے ساتھ فغاں کرنے لگا۔ اللہ کی قسم، وہ ریچھ۔۔۔' سر ہربرٹ کی آواز رندھ گئی۔
'کیا آپ نے اسے گولی مار دی؟' فرانسیسی سفیر نے رنجور ہو کر پوچھا،
'ہاں۔ مجھے نہیں پتہ کیسے مگر میں نے اس پر آخری گولی چلا دی۔ پھر میں جلدی سے جھنڈ چھوڑ کر باہر نکل آیا۔ سری نگر پہنچا اور اس شخص کو تلاش کرنے لگا جس نے مجھے بار میں اس کام سے روکا تھا لیکن وہ مجھے پھر نہیں ملا۔۔۔'
'سر ہربرٹ، یہ قصہ سنانے کا مقصد کیا ہے؟' محب خان نے پوچھا، 'اگر آج رات ہم کسی بھیڑیے کو گولی مار دیں تو میرا نہیں خیال وہ ایسا کچھ کرے گا۔۔۔وہ جانور ہی رہے گا!'
'محب خان، مقصد یہ ہے کہ اس کمرے میں موجود ہم میں سے کوئی بھی شخص افغانستان میں پیش آنے والی کسی چیز کے لیے پہلے سے تیاری نہیں کر سکتا۔ جس قدر تیاری کر لے، پوری نہیں پڑے گی۔ میکس ویل، میں تم سے پوچھتا ہوں۔۔۔ کیا واشنگٹن میں دفتر خارجہ والوں نے تمہیں یہاں بھیجنے سے قبل کابل بارے ایک سادہ سی رپورٹ نہیں تھمائی تھی؟ محتاط رہنے کی تاکید نہیں کی تھی؟ اس رپورٹ میں کیا تھا؟ یہی ناں کہ سخت گرمی اور جاڑا پڑتا ہے، گرم کپڑے ساتھ رکھو اور پیچشوں سے ہوشیار رہنا؟'
'ہاں، رپورٹ میں اسی طرح کی گھسی پٹی باتیں تھی' مس میکس ویل نے ہنستے ہوئے کہا،
'اور یہ سب باتیں درست بھی ہیں، نہیں؟'
'بالکل درست ہیں!'،
'لیکن کیا اس رپورٹ کی فرسودہ ہدایات نے تمہیں کابل میں آج کے دن کا سامنا کرنے کے لیے تیاری کرنے میں کوئی مدد دی؟ آج کا دن کیا تھا؟ صبح چھ بجے اٹھ کر دن بھر ڈرامے کا ایک حصہ ٹائپ کرنا کیونکہ تم ہمارے ساتھ اس محفل میں شریک ہونا چاہتی تھیں؟ لیکن غیر متوقع طور پر صبح ہی صبح بازار میں ملاؤں نے گھیر لیا؟ اور رات گئے سڑک پر بھیڑیوں کے جتھے کا سامنا کرنا پڑا؟'
'ظاہر ہے، وہ رپورٹ کسی طور بھی آج کے دن کے لیے مددگار ثابت نہیں ہوئی' میکس ویل نے تحمل سے کہا، 'واشنگٹن کی ہدایات سے مجھے تیار رہنے میں کوئی مدد نہیں ملی۔ میں نے خواب و خیال میں بھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی میں ایسا موقع بھی آئے گا کہ آج رات اس کمرے میں بیٹھی ہوں گی۔ یہ آرام دہ اور سمجھنے والے انسانوں سے بھرا ہوا کمرہ ہے۔ یہاں وہ تمام لوگ موجود ہیں جن کی میں دل و جان سے قدر کرتی ہوں۔ جہاں تک ملاؤں اور بھیڑیوں کی بات ہے، میں ان کا سامنا کرنے کے لیے ہر گز تیار نہیں تھی بلکہ مجھے اس کی سرے سے توقع ہی نہیں تھی۔ ابھی تو میری یہ حالت ہے کہ مجھے یقین ہی نہیں آ رہا کہ میرے ساتھ یہ سب ایک ہی دن میں رونما ہو چکا ہے۔۔۔'
'بالکل، میں یہی کہنا چاہتا تھا' سر ہربرٹ نے ہوا میں انگوٹھا لہرا کر جوش سے کہا، 'حقیقت سے مکمل آگاہی اور ان دو اشخاص کی تنبیہ سمیت کوئی بھی چیز مجھے کشمیری ریچھ کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں کر سکی، بلکہ روک بھی نہیں پائی۔ میں یہ بھی اچھی طرح جانتا ہوں کہ وہ ریچھ جانور ہی تھا۔ جیسا میں نے بیان کیا، ویسا کچھ نہیں ہوا لیکن میرے دماغ میں اس کی حالت ایسی ہی بیٹھ گئی ہے۔ محب خان، بھیڑیے بھی ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ لیکن مس میکس ویل۔۔۔ آج سے چند سال بعد بھیڑیوں کا وہ جتھا تمہارے لیے اتنا ہی حقیقی ہو گا جتنا کہ میرے لیے آج وہ درد کی شدت سے کراہتا ہوا، ادھ موا ریچھ ہے۔ میری بات لکھ رکھو۔۔۔' سر ہربرٹ نے ہم سب کو مخاطب کیا، 'کئی سال بعد افغانستان بھی ہمارے لیے ریچھ اور بھیڑیے کی طرح نہایت تلخ حقیقت بن کر سامنے کھڑا ہو گا۔ ابھی تو یہ ملک ہمارے لیے کھیل ہے، بے ضرر اور کمزور نظر آتا ہے لیکن جب تک ہمیں اس کے درد کا ادراک ہو گا تو یہ ایک بھیانک سچ بن کر پوری دنیا کا منہ چڑا رہا ہو گا'۔
'آپ میرے ملک کو سمجھنے کے لیے بات کو بہت ہی پیچیدہ بنا رہے ہیں' محب خان نے اختلاف کیا، 'یہ بہت سادہ سی بات ہے۔ کرنل سر ہنگرفورڈ ہولڈچ نے انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا میں ہمارے بارے جو چند سطریں لکھ رکھی ہیں، صرف وہی پڑھ لیں تو ساری بات سمجھ میں آ جاتی ہے' محب خان اجنبی لوگوں کے نام کا تلفظ اس بلا کی خوبصورتی اور درستگی سے ادا کرتا تھا کہ میں اکثر حیران رہ جاتا۔
'خان صاحب، آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟' سویڈش لڑکی نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے پوچھا،
'اگر آپ اجازت دیں تو۔۔۔' محب خان نے رسماً سر ہربرٹ کو مخاطب کیا اور سامنے دیوار پر کتابوں کی لائبریری سے بریٹانیکا کی پہلی جلد نکال لایا۔ افغانستان کا مضمون ڈھونڈ کر نکالا اور اعانت آمیز لہجے میں پڑھنا شروع کیا،
'افغان جفاکش اور اکھڑ ہوتے ہیں۔ بچپن سے ہی خونریزی کے عادی اور موت سے خوب آشنا ہوتے ہیں۔ سرکش اور حملہ کرنے میں نڈر لیکن ناکامی سے فوراً دلبرداشتہ ہو جاتے ہیں۔ ہنگامہ پرور اور شورش پسند، قانون کی پابندی اور نظم و ضبط میں کورے مگر کھرے اور خندہ جبیں ہوتے ہیں۔ بالخصوص جب انہیں کسی سے کسی چیز کی چاہ ہو، اس کے لیے تو بچھے جاتے ہیں لیکن اگر اس چیز کی امید ختم ہو جائے تو سخت جابر اور سفاک بن جاتے ہیں۔ یہ بے ایمان اور جھوٹے حلف اٹھاتے ہیں، دغا باز، شیخی باز اور حریص ہوتے ہیں۔ شدید انتقام جو اور اس قدر کینہ پرور ہوتے ہیں کہ بدلہ لینے میں اپنی جان اور مال کے نقصان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ ان کے یہاں جرم عام نہیں ہوتا مگر جب وقوع پذیر ہو تو بلاخوف و خطر ہوتا ہے اور بڑے پیمانے پر ہوا کرتا ہے۔ ان کے یہاں خطا سے بریت آسان ہوتی ہے لیکن ایک دفعہ جرم پکڑا جائے تو ہولناک سزا ملتی ہے۔ افغان آپس میں جھگڑالو ہوتے ہیں، سازشیں کرتے رہتے ہیں اور اکثر ایک دوسرے سے بدظن رہتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے یہاں کشیدگی اور کشت و خون عام ہوتا ہے۔ افغان کبھی اپنے مقصد، سفر اور منزل بارے درست معلومات فراہم نہیں کرتے۔ یہ نسلی طور پر فطرتاً شکاری پرندے واقع ہوئے ہیں۔ عادت اور روایت کے پابند، اجنبیوں کی اپنی چوکھٹ کے اندر عزت کرتے ہیں لیکن راہ میں کسی غیر کو نہیں بخشتے۔ گھر کے اندر مہمانداری میں یکتا ہیں مگر عین ممکن ہے کہ مہمان کو عزت سے رخصت کر کے اسے راستے میں لوٹ لیں۔ انہیں ضبط کا درس اور سرکاری ٹیکس جبر لگتا ہے۔ افغان اپنی نسل پر فخر کرتے ہیں جبکہ آزادی اور مردانگی پر ضرورت سے زیادہ نازاں رہتے ہیں۔ وہ افغانوں کو دنیا کی دوسری کسی بھی قوم سے برتر جانتے ہیں اور دوسرے افغان کو اپنے ہی جیسا، برتر اور برابر سمجھتے ہیں'،
'میں بتاتا چلوں کہ یہ صرف ایک پیراگراف ہے' محب خان نے ہمیں متنبہ کیا، 'میں ہمیشہ سے سوچتا آیا ہوں کہ اس واحد پیراگراف میں افغانوں کی جتنی خصلتیں بیان کی گئی ہیں۔۔۔ مجھے صحیح معنوں میں ایسا افغان بننے میں بھلا مزید کتنا عرصہ درکار ہو گا؟ دغا باز، جھوٹا اور فریبی تو میں پہلے سے ہوں لیکن آپ کے خیال میں ابھی مجھ میں کس چیز کی کمی ہے؟ مثلاً مجھے فطرتاً شکاری پرندے والی بات سرے سے پلے ہی نہیں پڑی۔ آخر ایک شخص خود کو شکاری پرندے میں کیسے ڈھالتا ہے؟ چلو ڈھال بھی لیا تو پھر؟ یہ شکاری پرندے کی فطرت، آخر بلا کیا ہے؟ اسی لیے میں نے اس پیراگراف پر یقین کرنا چھوڑ دیا ہے لیکن اگلے پیراگراف میں کچھ امید نظر آتی ہے۔۔۔ کیا میں وہ بھی سناؤں؟' محب خان نے آنکھ ماری،
'ضرور!' سر ہربرٹ نے اجازت دی،
محب خان مسکرایا، بریٹانیکا کی بھاری بھرکم جلد مضبوطی سے تھامی اور پڑھتا گیا،
'یہ مستقل غربت اور تنگ دستی میں بسر رکھنے کے قابل ہوتے ہیں۔ برطانوی نظم و ضبط میں اچھے فوجی ثابت ہو سکتے ہیں لیکن ان میں سے صرف چند ہی ہندوستانی فوج میں شامل ہیں۔ زیادہ تر آبادی متانت سے پُر اور شراب نوشی سے پرہیز کرتی ہے لیکن ان میں اونچی کلاس کے لوگ اکثر عیاش اور بدکار ہوتے ہیں۔ افغانوں کا اولین تاثر خاصا متاثر کن ہوتا ہے۔ یورپی، بالخصوص وہ جو ہندوستان کے راستے افغانستان جائیں تو وہ ان کی صاف گوئی، کشادہ دلی، مہمان نوازی اور دلیری کے فوراً معترف ہو جاتے ہیں مگر یہ سحر زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ جلد ہی پتہ چل جاتا ہے کہ افغان اتنے ہی بے درد اور دغا باز ہیں جتنے عام طور پر آزاد اور نڈر واقع ہوئے ہیں'۔
محب خان نے یہاں پہنچ کر انسائیکلوپیڈیا کو زور سے بند کیا اور حاضرین پر نگاہ دوڑاتے ہوئے بولا، 'یہ بہت دلچسپ بات ہے۔ اس کتاب کا یہ حصہ ایسے انگریز نے لکھا ہے جو اصل میں اس بات پر حیران تھا کہ آخر افغانوں نے انگریزوں کو جنگ کے میدان میں مار مار کر دنبہ کیسے بنا لیا؟ ایسا ایک نہیں بلکہ دو بار ہوا۔ وہ شخص جس نے یہ سب لکھا ہے، یقیناً کسی دن کمرے میں بند ہو کر سٹول پر کافی دیر مضطرب بیٹھ کر سوچتا رہا ہو گا کہ آخر یہ افغان کس قسم کی قوم ہیں؟ انہوں نے ہماری فوجوں کو شکست کیسے دے دی؟ پھر یہی سوچ کر اس نے کسی ایسے آدمی کی خصلتیں بیان کرنی شروع کر دی ہوں گی جو اس کے خیال میں سب کچھ ہو سکتا ہے لیکن ہر گز انگریز نہیں ہو سکتا۔ جب سمجھ میں آ گئی تو پھر لفاظی جوڑ لی ہو گی اور آخر یہ بریٹانیکا میں افغانستان کا تعارف بن گیا ہو گا۔ یہ تعارف میں نے پہلی بار پڑھا تو اس وقت میں آکسفورڈ میں پڑھنے گیا ہوا تھا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ سب پڑھ کر میرا ردعمل کیا تھا؟ اس وقت؟ آکسفورڈ میں؟ مجھے فخر محسوس ہوا تھا کہ ایک فرنگی نے میرے کردار کا اس قدر گہرائی سے جائزہ لیا ہے اور اتنے شاندار الفاظ میں افغانوں کو یاد کیا ہے۔ آج جبکہ میں اپنی عمر کا بڑا حصہ گزار چکا ہوں، مجھے ان الفاظ میں نفرت اور جہالت ہی نظر آتی ہے۔ حالانکہ یہ ایسا کچھ نہیں ہیں۔ اصل میں یہ ایک عالم فاضل شخص کی جانب سے تحریر کردہ وہ مشاہدہ ہے، عزت افزائی ہے جو اس کی گہری غور و فکر کا نچوڑ ہے۔ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ افغانوں نے لڑ بھڑنے اور شکست دینے کی صلاحیت، حوصلہ کہاں سے حاصل کر رکھا ہے؟ اس میں کن خصلتوں کا ہاتھ ہے۔ یہی دیکھ لیں۔۔۔ اس باب کا خلاصہ حیرت انگیز ہے کہ، ' ۔۔۔۔مگر یہ سحر زیادہ دیر قائم نہیں رہتا۔ جلد ہی پتہ چل جاتا ہے کہ افغان اتنے ہی بے درد اور دغا باز ہیں جتنے عام طور پر آزاد اور نڈر واقع ہوئے ہیں'۔
'محب!' میں تقریباً چلایا، 'میں شرطیہ کہتا ہوں کہ تم نے یہ پورا پیراگراف زبانی یاد کر رکھا ہے۔ نہیں؟'
'ہاں لیکن صرف تعریف والا حصہ!' وہ ہنسا۔
'آپ کے خیال میں 'بے درد اور دغا باز' تعریف کے زمرے میں آتا ہے؟' گریچن نے پوچھا،
'جب خصلتیں بات سمیٹتے ہوئے خصوصیات کے دفاع میں پیش کی جائیں تو تعریف ہی شمار ہوتی ہیں' محب نے جواب دیا، 'مس گریچن، آخری الفاظ یاد رکھیں، وہی اہم ہیں۔ آزاد اور نڈر!' پھر سنجیدگی سے بولا، 'سالہا سال کی رفاقت اور امتحان کے بعد کابل میں برطانوی سفارتخانے کے انگریز اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ میں ان کا وفا دار دوست ہوں۔ ورنہ کیا یہ ممکن ہے کہ یہاں اس عمارت میں کھڑے ہو کر یہ پیراگراف پڑھ سکتا؟ یہ وہ جگہ ہے جہاں میرے 'بے درد اور دغا باز' آباؤ اجداد نے کم از کم دو دفعہ کابل میں موجود ہر انگریز کا سر تن سے جدا کر دیا تھا۔ 1841ء میں ہم نے مکر کیا تھا اور 1879ء میں وہی کھیل دوبارہ رچایا تھا۔ کیوں بھلا؟ وہ اس لیے کہ افغان آزاد اور نڈر ہوتے ہیں اور اس کے لیے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ وہ دنیا کی سپر طاقتوں کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اس کے باوجود مجھے ان محافل میں مدعو کیا جاتا ہے تو یہ انگریزوں کی مہربانی ہے'۔
'میرا نہیں خیال کہ انگریز قتل و غارت کو اتنی آسانی سے بھلا دیتے ہیں' سر ہربرٹ نے سنجیدگی سے کہا، 'بلکہ اسی ایک خیال کی وجہ سے تو کابل میں بسر رکھنے والے انگریزوں کی زندگی میں کچھ نہ کچھ ہلچل، ڈراوے کا سامان باقی رہتا ہے۔ ہمارے لیے ان سرخ اور بوسیدہ دیواروں کے اندر بسر رکھنا ایسا ہی ہے جیسے ہیروشیما میں رہائش ہو۔ ہر وقت یہی کسی جہاز کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ ہم اسی سبب ہر وقت چوکنا رہتے ہیں'۔
'میرے خیال میں ہمیں اب ڈرامہ پیش کرنا چاہیے' میں نے تجویز دی۔
'ظاہر ہے، آپ اس ڈرامے میں ہیرو جو ہوں گے!' ایک نوجوان برطانوی سفارتکار نے مجھے چھیڑا۔ میں اس کی تکلیف سمجھ سکتا تھا۔ وہ اور میں مس گریچن آسکود کی چاہ میں رقیب تھے۔
'یہی نہیں بلکہ۔۔۔' فرانسیسی سفیر نے شرارت سے کہا، 'یہ انگریڈ کو بوسہ بھی دے گا!'
'ضرور بوسہ دوں گا' میں نے پراشتیاق لہجے میں پھیلتے ہوئے کہا، 'لیکن میں یہ چاہتا ہوں کہ ہم اس حصے تک، صبح طلوع ہونے سے پہلے ہی پہنچ جائیں'۔
'بہت چالاک ہو!' انگریڈ ہنسی، 'صبح کے وقت تو ویسے ہی میری حالت بہت خراب ہوتی ہے۔ میں اس وقت چڑیل نظر آتی ہوں'۔
یوں قہقہوں کے بیچ ہم ڈرامہ پیش کرنے کے لیے تیار تھے۔ پہلے حصے میں مکالموں کی ادائیگی ڈرامے کے کرداروں کی طبیعت کے ساتھ میل نہیں کھا رہی تھی۔ وہ انگریز جو ہیری بروک کا کردار پڑھ رہا تھا، ابھی تک آکسفورڈ کا حسن پرست ہی رہا۔ انگرڈ ویسی کی ویسی سویڈش حسینہ رہی۔ اسی طرح باقی سب بھی وہی رہے جو وہ تھے۔ میں بھی ویسے کا ویسا ہی، امریکی سفارتخانے کا معمولی اہلکار ہی تھا۔ اصل میں کردار جم ہی نہیں رہے تھے اور جیسا ہم چاہتے تھے، ابھی تک ویسا تاثر قائم نہیں ہوا۔ لیکن اس بات کی چنداں پرواہ نہیں تھی کیونکہ رات ابھی جوان تھی اور حاضرین تازہ دم اور پوری طرح متوجہ نظر آ رہے تھے۔ دروازے سے باہر بھیڑیوں کا خوف بدستور پھیلا ہوا تھا اور ابھی تک کوئی بھی یہ نہیں بھول پایا تھا کہ وہ یہ سب افغانستان میں سردی کے موسم سے بیزاری کو مٹانے، حقیقت کو کچھ وقت کے لیے فراموش کرنے کی صرف اپنی سی کوشش کر رہا ہے۔ میرے خیال میں صرف محب خان ہی اب تک کے تجربے سے متاثر ہوا تھا کیونکہ پہلے حصے سے جان چھوٹتے ہی اس نے فٹ پوچھا، 'سر ہربرٹ! کیا وہ محافل جن میں، میں شریک نہیں رہا۔۔۔ کیا وہ بھی اتنی ہی دلچسپ رہی تھیں؟'
'جب سے میں کابل آیا ہوں، یہ ایسا ہی رہا ہے' بوڑھے انگریز نے جواب دیا، 'تین ہفتے قبل ہم نے اکٹھے 'گرجا میں خون' پڑھا تھا۔ مجھے تھامس بیکٹ کا کردار ملا تھا۔'
'ارے، اس محفل میں تو مجھے ضرور ہی شامل ہونا چاہیے تھا' محب نے دکھ کا اظہار کیا، 'امریکی کالجوں کے لونڈے لپاڑے ٹی ایس ایلیٹ کو بہت پسند کرتے ہیں۔ وہ اپنے ہی جیسے اس شخص کے مداح ہیں جو شاعر بن گیا اور چونکہ اس نے بعد ازاں امریکہ چھوڑ دیا تھا، وہ اسی وجہ سے اس کی عزت بھی کرتے ہیں۔ ہر جوان امریکی لڑکے کا یہی خواب ہے لیکن سب کے لیے ایسا کر گزرنا ممکن نہیں ہوتا'۔
میں بھی اپنے کام سے اگرچہ محفل پر کوئی خاص اثر پیدا نہیں کر سکا تھا لیکن اپنے کردار میں ضرور کھو گیا تھا۔ میں نے کہا، 'محب، ایلیٹ کی طرح تم بھی تو امریکہ چھوڑ آئے۔ بس فرق یہ ہے کہ اسے کوئی افسوس نہیں تھا لیکن تم ہر روز پچھتاتے ہو!'
'صحیح بات ہے!' محب نے بےتکلفی سے کہا، 'اگر زندگی میں کوئی چیز مجھے بے انتہا پسند رہی ہے وہ تیز رفتار کاریں اور غیر ذمہ داری کا احساس تھا۔ امریکہ میں مجھے یہ دونوں چیزیں میسر تھیں۔ آج افغانستان میں، دن رات کام میں جتا رہتا ہوں تو مجھے شدت کے ساتھ ان چیزوں کے ہاتھ سے نکل جانے کا سخت افسوس رہتا ہے۔' اس کی آواز میں افسردگی تھی مگر پھر اس نے دونوں ہتھیلیاں اٹھا کر توکل دکھایا اور بولا، 'لیکن ظاہر ہے۔۔۔ زندگی میں ایسا وقت ضرور آتا ہے جب ہمیں پختگی دکھانی پڑتی ہے۔ ذمہ داری کا احساس لازم ہو جاتا ہے'۔
'مجھے یقین ہے کہ تمہاری محنت اور قربانی سے یہ ملک بھی ایک دن آگے ضرور بڑھے گا، باقی لوگ بھی پختگی کا ثبوت دیں گے' میں نے برابر جواب دیا۔ محب ابھی تک اپنے تبصرے، 'آزادی اور نڈری' پر قائم تھا۔ اسی لیے میرا جواب سن کر سرخ ہو گیا لیکن اس نے خوش اخلاقی سے سر ہلا دیا۔ وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا جو اپنے حریف سے با آسانی ہار مان لیتے ہیں۔ بہرحال وہ ایسے شخص کی عزت کرتا تھا جو اس پر جوابی وار کر سکے۔
'کیا آپ میں سے کسی کو مزید رم درکار ہے؟' محفل کے میزبان، سفیر برطانیہ نے پوچھا۔ افغان خادموں نے جام بھر دیے اور انگیٹھی میں آگ برابر کر دی تو ہم کھیل کے دوسرے حصے کی طرف متوجہ ہوئے۔ اب تک ہم کرداروں کے ساتھ عادی ہو چکے تھے اور حاضرین نے بھی ہمارے انداز کی انوکھی ندرت کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔ اگر آج رات ہیری بروک، بروکلین کے نہیں بلکہ ٹھیٹھ آکسفورڈ لہجے میں انگریزی بولتا ہے تو بولا کرے۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے؟ ویسے بھی دونوں لہجے ایک ہی جتنے بھدے تھے، میں نے انگریزوں کی رقابت میں سوچا۔ مدعا یہ ہے کہ ہم نے جو جیسا تھا، ویسے کے ساتھ ہی گزارہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ مثلاً جب انگریڈ نے روتلے انداز میں کہا، 'ہیری، کیا تم میرے ساتھ ایک اچھائی کر سکتے ہو، تم مر کیوں نہیں جاتے؟' اس کا انداز اس قدر بھونڈا تھا کہ بیان مشکل ہے۔ بہرحال اس حصے کے آخر تک ہم وہ فضا قائم کرنے میں کامیاب ہو ہی گئے جو عام طور پر ڈرامہ نگاروں کو درکار ہوتی ہے لیکن صرف اتنا ہی کافی نہیں ہوتا، کردار نبھانے والے صداکار بھی تگڑے ہونے چاہیے۔ اچھی بات یہ تھی کہ آج رات صدا کار اور شائقین دونوں ایک ہی تھے۔ ہر شخص دوسروں کی غلطیوں اور کجیوں سے نظر بچا کر اسے قبول کیے ہوئے تھا۔ میرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ہم سے ہر شخص اچھی طرح جانتا تھا کہ اگر آج رات اس بھونڈے تھیٹر میں پیش کیے جانے والے اعلیٰ کھیل میں طمانیت حاصل نہ کر سکا تو اس کے لیے بہت مشکل ہو جائے گی۔ اگر ان محافل میں سکون نہ مل سکا تو پھر افغانستان میں ان محافل کے سوا ایسا کچھ نہیں تھا جہاں وہ مشکلات سے فرار اختیار کر لے گا۔ اسی لیے آج رات، یہیں اسی محفل میں کتھارسس کر لے ورنہ اگلے کئی روز، بلکہ ہفتوں حصہ نہ لینے پر اپنے آپ کو کوستا رہے۔ چنانچہ ہر ایک بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا بلکہ دوسروں کو بھی ساتھ لے کر چل رہا تھا۔ کوشش رہتی کہ گفتگو کا آغاز ہی نہیں، اسے تا دیر جاری بھی جو عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ ہر شخص جانتا تھا کہ اگلے سولہ سے اٹھارہ مہینے تک ہمیں اپنے انہی دوستوں کے ساتھ بسر کرنی ہے، انہی کی باتوں سے لطف اٹھانا ہے یا پھر دوسری صورت، یہاں لطف کی کوئی صورت نہیں ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ کابل میں بسر ہو رہی اس زندگی میں، جہاں فلمیں، خبریں، تھیٹر، موسیقی اور رسائل۔۔۔ الغرض دلچسپی کی ہر چیز ناپید تھی، یکدم عمیق اور معنی خیز بن چکی تھی۔ ہم چند گنے چنے لوگوں کے ساتھ مل بیٹھتے تھے، لوگوں کی بڑی تعداد بارے باخبر رہنے کی بجائے انہی چند معدودوں کی زندگی میں جھانک کر، راز و نیاز کر کے، ایک دوسرے کو اچھی طرح جان پہچان کر ہی مطمئن ہو جاتے تھے۔ہم ایک دوسرے کو کھونے کی عیاشی کے متحمل نہیں ہو سکتے تھے۔ عام طور پر لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید بہتوں کی صحبت میں معنی چھپے ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص یکتا ہے۔ جیسے ہر روز ہمیں اپنے انہی قریبی ساتھیوں کے بارے نئی بات پتہ چلتی رہتی، ان کی شخصیت کا کوئی نہ کوئی در وا ہو جاتا تھا۔ واقعی احساس ہوتا کہ دنیا میں کروڑوں انسان ہیں مگر دیکھو تو، ہر انسان میں ایک جہان دیگر آباد ہے۔ مثال کے طور پر اس رات سے قبل میں ہر گز نہیں جانتا تھا کہ انگریڈ کی ہنسی اس قدر خوبصورت ہے اور وہ حاضر جواب واقع ہوئی تھی۔ ہم انسان جو خود کو سماجی جانور کہتے ہیں، ان کے لیے دوسرے انسانوں سے انسیت پیدا کرنے کے لیے یہ نہایت اہم جز ہے۔ ہمیں ایک دوسرے کی سطحی جان پہچان نہیں بلکہ اندر سے جاننے، جھانکنے اور ایک دوسرے کو ٹٹولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
دوسرے حصے کے آخر تک وہ ماحول میسر آ گیا جو پہلے حصے کے بعد سے بہت مختلف اور کافی بہتر تھا۔ اب یہاں سے جس گفتگو کا آغاز ہوا اس میں مغز ہی مغز تھا۔ سبھی ڈرامے میں کھو چکے تھے اور خالص ادبی باتیں چل رہی تھیں۔ ہم بھلے سکرپٹ پڑھنے میں بھونڈے رہے ہوں مگر اس کمی سے بہت آگے بڑھ چکے تھے۔ بلکہ پہلی بار کرداروں میں زندگی دوڑنے لگی تھی۔ ہیری بروک اور اس کی دلکش محبوبہ، وہ دونوں ہمارے ساتھ برطانوی سفارتخانے کی مضبوط دیواروں کے اندر موجود تھے۔
'میرا خیال ہے کہ تم جیسے لوگ ہمارے ملک میں خوب پھل پھول سکتے ہیں!' محب خان نے اس انگریز کو چھیڑتے ہوئے کہا جو کھیل میں کباڑیے کا کردار ادا کر رہا تھا۔ محب خان کا مطلب وہ انگریز نہیں بلکہ اس کا کردار تھا۔
'ہیری کے متعلق بھی میرا ایسا ہی خیال ہے۔ اس ملک کو ہیری جیسے کئی لوگ درکار ہیں۔ میری رائے میں، ڈرامے میں اس کے کردار کے ساتھ انصاف نہیں ہوا' انگریز نے محب سے اتفاق کیا اور پوچھا، 'ملر، تمہارے خیال میں امریکہ کو۔۔۔ وہ ملک جو آج یہ ہے، اسے بنانے اور بلندی تک پہنچانے میں ہمارے من پسند ہیری جیسے لوگوں کا کردار کتنا اہم رہا ہو گا؟'
'میری رائے میں تو بہت ہی زیادہ۔۔۔ ویسے تم نے خوب مشاہدہ کیا۔ حالانکہ تم نے کبھی امریکہ نہیں دیکھا یا واقعی دیکھ رکھا ہے؟'
'نہیں، میں کبھی امریکہ نہیں گیا۔ لیکن یہ حصہ پڑھتے ہوئے مجھے رہ رہ کر خیال آ رہا تھا کہ ہو نہ ہو، ہیری کا کردار امریکہ کو متحدہ امریکہ بنانے والے عظیم لوگوں جیسا ہی ہے۔۔۔ ہم تو بس اس کی کھال کھینچ رہے ہیں۔ جیسے اس کھیل میں اس کے کردار کی چمڑی ادھیڑ دی گئی ہے۔ اہم نکتہ جو یاد رکھنے لائق ہے اور ہم سرے سے بھلائے بیٹھے ہیں، وہ یہ ہے کہ ہیری ایک قوم کی سوچ کا سرچشمہ ہے۔ ہم بھلے اسے پسند کریں یا نہیں، لاکھوں اختلاف سہی لیکن وہ عظیم کردار ہے'۔
گرما گرم بحث چل رہی تھی۔ ایسے میں مس گریچن نے کمرے میں موجود کئی نوجوانوں کے دلوں پر چھری چلاتے ہوئے پہلی بار میرےواقعی نام سے پکارا اور کہا، 'مارک۔۔۔ مجھے تو تمہارے مکالمے کی ادائیگی کے انداز نے بے حد متاثر کیا ہے۔ تم واقعی کمال ہو۔ کیا تم نے فن ڈراما کی تعلیم بھی حاصل کر رکھی ہے؟'
'سکول میں ایک دفعہ گرما کے کیمپ میں تھیٹر پر ایک ڈرامے 'Outward Bound' میں حصہ لیا تھا، باقی تو کچھ خاص نہیں۔۔۔'
'ہم نے کئی دفعہ اس ڈرامے کو اکٹھے پڑھنے کی ٹھانی ہے' سر ہربرٹ نے ہم دونوں کے بیچ مخل ہو کر کہا، 'لیکن لڑکوں کا خیال ہے کہ وہ ڈراما نہیں بلکہ صرف اور صرف تاریخ کا بوجھل بیان ہے۔ ملر، تمھارا کیا خیال ہے۔ کیا تم بھی ایسا ہی سمجھتے ہو؟'
'ذاتی طور پر میرا بھی یہی خیال ہے لیکن پھر بھی وہ ڈرامہ پڑھنے لائق ہے۔ انتہائی دلچسپ ہے!'
'اس کا اسلوب برطانوی ہے، نہیں؟' سر ہربرٹ نے مجھ سے پوچھا تو میں نے اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کیونکہ میری نظریں اور دھیان گریچن پر جما تھا۔ اس پرہجوم کمرے میں، اچانک میرے دل میں مستقبل سے متعلق ایک انتہائی حسین خیال پیدا ہوا۔ گریچن کی آنکھوں میں جھانکتے ہی خواہش پیدا ہوئی کہ اگر میں اور وہ کابل میں ہی ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہو جائیں تو کیا ہو؟ یہ عین ممکن تھا اور دسترس میں لگ رہا تھا۔ ایسا ہو تو پھر ہم جوڑا کہلایا کریں گے۔ مارک اور گریچن کا نام جڑ جائے گا۔ ہم دونوں یہیں بسر کر لیں گے۔ پھر چند سال بعد ہم دونوں شاہ خان کے قلعے میں شادی کے بندھن میں بھی بندھ جائیں گے، ایسا ہو تو کیا ہی اچھا ہو؟ خان کے گھر کے احاطے میں ایک بڑی کنوپی لگائی جائے گی جہاں محب خان اپنے سفید گھوڑے پر سوار ہو کر ہمارا استقبال کرے گا۔ وہ میرا دوست ہو گا۔
گریچن کی گہری آنکھوں میں جھانکتا ہوا وہ لمحہ اور یہ خیال اس قدر حقیقی محسوس ہوا جیسے کوئی الہام ہوتا ہے۔ گویا، یہ خدا کا اٹل فیصلہ تھا کہ گریچن آسکود اور مارک ملر، دونوں افغانستان میں ایک چبوترے پر آمنے سامنے کھڑے ہو کر ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے کے بندھن میں بندھ جائیں گے۔ میں نے کن اکھیوں سے اس کو پھر دیکھا۔ گریچن کے چہرے پر شرم سے سرخی اور حیا پھیل رہی تھی۔ یقیناً وہ بھی اس وقت اسی خیال میں ہے۔ اسے بھی یہ لمحہ خدا کے کہے حرفوں کی مانند حقیقی اور اٹل محسوس ہو رہا تھا۔ پھر پتہ کیا ہوا؟ میری نظریں اس کے چہرے پر ٹک گئیں۔ لیکن دیکھتے ہی دیکھتے اس کے نین نقش یوں مٹتے گئے جیسے دھواں بن کر اڑ گئے ہوں۔ اس کے چہرے پر مجھے صرف خاکستری رنگ کا برقعہ اڑھا ہوا نظر آنے لگا، پرفیوم کی تیز خوشبو سونگھ میں آئی اور امریکی سٹائل کی لفٹیاں دکھائی دینے لگیں۔ میں نے کانوں میں صدیقہ کا نام گونجتا ہوا سنا اور اسی لمحے مڑ کر صدیقہ کے ماموں محب خان کی جانب دیکھا۔ میں فوراً جان گیا کہ میں کچھ بھی کر لوں، گریچن سے بیاہ نہیں کر پاؤں گا۔ ہم دونوں کے بیچ بھلےجتنے بھی خدا کھڑے اٹل فیصلے صادر کرتے رہیں، میں اس کے ساتھ کبھی نباہ نہیں کر پاؤں گا۔میں تو دل ہی دل میں صدیقہ خان کا چہرہ دیکھنے کی تمنا پال چکا تھا۔ ہوا میں اڑتے ہوئے اس کے برقعے کا ریشمی پلو میری سوچ کا محور بن گیا تھا۔ میرے اندر حسن پرستی اور جنسی اشتعال کا وہی ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر پھر سے موجزن ہو گیا جو اس سے پہلے صبح بازار اور پھر شام کو شاہ خان کے قلعے میں تلاطم برپا کر چکا تھا۔
سر ہربرٹ نے مجھے آواز دے کر اس گڈمڈ خیال سے جگایا، اپنی جانب متوجہ کیا اور پھر سے پوچھا، 'Outward Bound برطانوی اسلوب کا ڈرامہ ہے۔ نہیں؟'
'میں نہیں جانتا' جواب دیا، 'میرا ہمیشہ سے یہی خیال رہا ہے کہ اس کو تخلیق کرنے والا شخص ایک ایسا حساس امریکی ہے جو برطانوی بننے کی ناکام کوشش میں مصروف رہا!'
'تمھارا خیال کبھی غلط نہیں ہو سکتا!' سر ہربرٹ نے مسکراتے ہوئے ذودمعنی انداز میں ایسے کہا جیسے وہ میری کیفیت سے خوب واقف ہے۔
ڈرامے کے تیسرے حصے میں ماحول کی وہ شدت بڑھتی چلی گئی جو ہم دوسرے حصے کے دوران پیدا کرنے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ کرداروں کے لطائف اور ہنسی مزاق پر حاضرین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے۔ میں انگریڈ کے ساتھ جان بوجھ کر چھیڑ چھاڑ کرتا رہا اور ہمارے کرداروں کی اس مل عملی کو خوب پذیرائی ملی۔ بات اتنی بڑھی کہ تقریباً شائقین اسی انتظار میں تھے کہ ڈرامے کے آخر میں انگریڈ کا کیا بنے گا، کیا میں اسے پھانس لوں گا؟ ان کی مراد انگریڈ ہی تھی، اس کا کردار نہیں تھا۔ کھیل میں رنگ جم چکا تھا اور میں چونکہ غیر شادی شدہ تھا، سبھی یہ سوچ رہے تھے کہ شاید انگریڈ کو چاہنے لگا ہوں۔ جھوٹ موٹ ہی سہی، مگر سب کو سچ محسوس ہوا۔
جب ڈرامہ ختم ہوا تو کمرے میں کافی دیر تک تالیاں بجتی رہیں۔ حاضرین نے سب پڑھنے والوں کا شکریہ ادا کیا۔ ہماری وجہ سے انہیں چند گھنٹوں کے لیے ہی سہی، سکون اور کابل کے موسم کی سختی اور بوریت سے فرار مل گئی تھی۔ چونکہ رات کافی بیت چکی تھی، تاریکی اور سردی بھی بڑھ گئی۔ زمان کے ساتھ مکان کا احساس بھی یوں لوٹ کر آیا کہ کمرے سے باہر ہندوکش کی تیز، یخ ہواؤں کی سائیں سائیں دوبارہ سنائی دی جانے لگی۔ حاضرین اپنے حال میں لوٹ کر پہلے سے بھی زیادہ شکر گزار نظر آئے۔ میں جانتا تھا کہ اب سبھی یہ چاہتے ہیں کہ ہم مل جل کر یہیں بیٹھے رہیں، رخصت نہ لیں۔ عارضی ہی سہی مگر وہ تاثر اور دوستانہ ماحول جو ہم سب نے مل کر پیدا کیا تھا، تا دیر قائم رہے۔ سب اسی تگ و دود میں تھے کہ کسی طرح یہ رات ٹھہر جائے اور ہم بیٹھے خوش گپیاں لڑاتے رہیں۔ تبھی محب خان نے یہ سحر توڑ دیا۔ سب کو حیرانگی بھی ہوئی، 'مس انگریڈ، کیا میں آپ کو گھر تک چھوڑ سکتا ہوں؟'
سویڈش لڑکی محب کو دیکھ کر تواضع سے مسکرائی اور کہا، 'ضرور، کیوں نہیں!'۔
اگلے ہی لمحے محب نے اپنا کوٹ پہن لیا اور اس کا کھونٹی سے اتار لایا۔ ڈرائیور کو کوارٹروں سے بلوا لیا۔ جس طرح انگریڈ نے خان کے ہاتھوں گرم کوٹ پہنا تھا اور پھر جڑ کر اس کے بازو سے چمٹ گئی تھی، ہم سب فی البدیہہ سمجھ گئے کہ وہ ڈرامے کے دوران اتنا کاہے کو چہک رہی تھی؟ اس نے اپنے کردار کا سچ مچ گہرا اثر لیا تھا۔ وہ محب کو رجھا رہی تھی۔ ہمیں شک تو تھا مگر ان دونوں کے طور یہی بتا رہے تھے کہ آج رات اکٹھی بسر کریں گے۔ وہ دونوں دروازہ کھول کر روانہ ہوئے تو ٹھنڈی یخ ہوا کے کئی تیز جھونکے راستہ چیر کر اندر گھس آئے۔ انگریڈ ٹھٹھر کر محب خان سے چمٹ گئی۔ ان دونوں بارے پہلے جو ہمیں معمولی شک اور شبہ تھا، وہ بھی جاتا رہا۔
دروازہ بند ہوتے ہی ایک فرانسیسی نے فٹ پوچھا، 'لیکن، محب خان تو شادی شدہ ہے؟'
'اس کی دو بیویاں ہیں' برطانوی سفارت خانے کی ٹائپسٹ نے اس کی مشکل آسان کی،
'دونوں افغان ہیں؟'
'ظاہر ہے۔ وہ ایک امریکی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا مگر ایسا نہیں ہو سکا'۔ لڑکی نے اس کی تشفی کرا دی۔
مجھے علم نہیں کہ اگر اس موضوع پر مزید بات جاری رہتی تو خدا جانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتی۔ سر ہربرٹ نے صورتحال بھانپ کر قدرے بد خوئی سے سب کی پیش بندی کر لی۔ بولا، 'بھئی، میں تو ابھی تک 'Outward Bound' بارے ہی سوچ رہا ہوں۔ ہمیں وہ ڈرامہ ضرور پڑھنا چاہیے۔ میں بار ٹینڈر کا کردار سنبھال لوں گا'۔ یہ کہنا تھا کہ کمرے میں ہڑبونگ مچ گئی۔ کردار بٹنے لگے، ذمہ داریاں سونپی جانے لگیں اور سیکرٹریوں کے بیچ کھیل کا سکرپٹ تیار کرنے، ٹائپ کرنے اور کاپیاں فراہم کرنے پر کھینچ تان ہونے لگی۔ مس میکس ویل نے ایک دفعہ پھر میدان مار لیا۔ اس نے سب سے طویل حصہ تیار کرنے کی حامی بھری اور اس کے پیچھے باقی سیکرٹریاں لائن پر لگ گئیں۔
جب یہ ہو چکا تو سر ہربرٹ نے کہا، 'نوجون عاشق اور حسین محبوبہ کا کردار گریچن اور مارک ادا کریں گے'۔ حاضرین نے ہم دونوں کو ایسے دیکھا جیسے ہمیں ان سے علیحدہ تصور کر لیا ہے، ہم عجوبے ہوں۔ دیکھتے ہی دیکھتے، میرے دل میں پھر سے افغانستان میں گریچن سے اٹل محبت کی چاہ اور خدائی تحکم کا خیال لوٹ آیا۔ گریچن بھی مسکرانے لگی۔ اس کی مسکراہٹ بہت پیاری تھی۔ اس کے تمتاتے ہوئے چہرے پر ایک دفعہ پھر سرخی پھیل رہی تھی، پیشانی پر چمک اور گال گلابی ہونے لگے۔ میں نے دیکھا کہ وہ مجھ سے کچھ کہنے، سننے کو بے تاب ہے مگر میں ہی ہچکچا رہا تھا۔ دو دلی کا شکار، جب کچھ بھی سجھائی نہ دیا تو میں نے یہ کہہ کر طلسم توڑ دیا اور اس کی بھی سن لی، 'گریچن، کیا میں تمہیں گھر تک چھوڑ دوں؟'
لاشعوری طور پر میرا سوال محب خان کے انداز سے اتنا ملتا جلتا تھا کہ صورتحال صاف ہو گئی۔ گریچن پہلے تو شرمائی، پھر دلکشی سے ہنس کر سر ہربرٹ کی جانب مڑ کر بولی، 'سر ہربرٹ، آپ ان لوگوں کو ہم دونوں کے متعلق پیٹھ پیچھے بات کرنے سے بھی ضرور روک لیجیے گا'۔
اس پر کمرے میں زور دار قہقہہ بلند ہوا اور سر ہربرٹ کو لاج آ گئی۔ اس نے اپنی بیوی مارگریٹ کی جانب دیکھا اور سنجیدگی سے کہا، 'میرے خیال میں تم اب تک سمجھ چکی ہو گی کہ کابل میں کوئی بھی خوبصورت اور غیر شادی شدہ لڑکی قیاس آرائیوں سے بچ نہیں سکتی'۔ پھر گریچن کی طرف مڑا اور پوچھا، 'کیا تم واقعی مارک کے ساتھ جانا چاہتی ہو؟'
'جی ہاں!' گریچن نے شوخ چشمی سے چٹخ کر کہا، 'میں مارک کے ساتھ ہی جا رہی ہوں۔ جیسے انگریڈ ، محب خان کے ساتھ گئی ہے'۔ اس نے بات بالکل صاف کر دی۔ ابھی کوٹ بھی نہیں پہنا تھا مگر بڑھ کر فرط شوق میں میرا بازو تھام بھی لیا۔ میں نے محسوس کیا، اس کا جسم حرارت سے پگھل رہا ہے۔
یہ دیکھ کر سر ہربرٹ بے رونقی سے مسکرایا اور کہا، 'میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ فریڈی اور کارل تمہارے اس فیصلے سے سخت ناخوش ہوں گے'۔
'اگلی دفعہ جب ہم ڈرامہ پیش کرنے کے لیے اکٹھے ہوں گے تو میں ضرور انہی دونوں کے ساتھ گھر تک جاؤں گی' وہ شرارت سے ہنسی اور کوٹ پہننے لگی۔
لیڈی مارگریٹ نے مخل ہو کر کہا، 'لیکن اگلے کھیل میں تو تم اور مارک عاشق اور محبوب ہوا کرو گے'۔
گریچن کے چہرے پر ایک دفعہ پھر سرخی پھیل گئی۔ مسکرا کر بولی، 'لیڈی مارگریٹ، شاید آپ نے غور نہیں کیا۔ اس کھیل کے آخر میں وہ لڑکی، ہیرو سے اس قدر تنگ آ جاتی ہے کہ مزید ایک لمحہ بھی اسے برداشت نہیں کر سکتی۔ کیا فرق پڑتا ہے؟ آج رات بھی تو دیکھیں۔۔۔ کچھ دیر پہلے تک مارک اور انگریڈ محبت لٹا رہے تھے۔ لیکن وہ مارک کے ساتھ نہیں بلکہ محب خان کے ساتھ چلی گئی۔ دیکھ لیجیے گا، اگلے کھیل کے اختتام تک میں بھی مارک سے خاصی تنگ آ چکی ہوں گی'۔ یہ کہہ کر اس نے شرارتاً اپنی انگلیاں ابرؤں پر پھیریں اور بولی، 'تب کی تب دیکھیں گے۔ آج رات تو۔۔۔ میرا ہیرو مارک ہے۔ یہ مجھے بھیڑیوں سے بچائے گا!' مجھے حیرت تو ہوئی لیکن اس نے آگے جھک کر میرے گالوں پر ہلکے سے بوسہ ثبت کر دیا۔
'زبردست، گریچن تم چھا گئیں!' لیڈی مارگریٹ نے مچل کر تالی بجائی۔
'دیکھ لو، وہ یانکی تمہاری سیکرٹری کو اڑا لے گیا' سر ہربرٹ نے سفیر برطانیہ پر دھونس جماتے ہوئے کہا اور میں گریچن کو ساتھ لیے کمرے سے نکل کر جیپ کی طرف بڑھ گیا، جہاں نور محمد انتظار کر رہا تھا۔
برطانوی سفارتخانہ کافی بڑا دفتر تھا۔ اگرچہ عمارتیں بھی کئی تھیں لیکن عملہ اتنا زیادہ تھا کہ سب کو ان کوارٹروں میں رہائش نہیں مل پاتی تھی۔ اسی لیے کئی برطانوی اہلکاروں نے مل کر شہر میں ایک گھر کرایے پر لے رکھا تھا جس کی اونچی اور محفوظ دیواریں تھیں۔ ان کا یہ گھر خاصا بڑا تھا اور بازار میں مغرب کی جانب آبادی سے قدرے ہٹ کر واقع تھا مگر یہ علاقہ شہر میں ہی شمار کیا جاتا تھا۔ یہ بہت عمدہ اور خوش باش جگہ تھی۔ یہاں ہر وقت قہقہے بلند ہوتے رہتے اور برطانوی جو دنیا بھر میں غیر ممالک گھومتے، پردیس میں بسر رکھنے عادی ہو چکے تھے، زندہ دلی سے مل جل کر رہا کرتے۔ میں اس سے پہلے بھی ان کےیہاں، اس گھر میں کئی بار مدعو کیا جا چکا تھا اور ہمیشہ ان کے ساتھ بیتائے وقت کا لطف اٹھایا تھا۔ میں ان لوگوں کے خلوص کا قائل تھا لیکن برطانویوں کو دیکھ کر ہمیشہ سوچتا کہ آخر کسی انگریز لڑکی کو دم کیسے کیا جاتا ہے؟ خدا کی پناہ، یہ بہت تیز طرار ہوتی ہیں۔ ہر وقت ہنسی مزاق کرتی رہتی ہیں۔ آخر کوئی انہیں چپ کیسے کرائے؟ ان کے ساتھ برابر، ترکی بہ ترکی حاضر جوابی ممکن ہی نہیں ہوتی۔ اب جبکہ میں انہی میں سے ایک انتہائی حسین برطانوی لڑکی کو ساتھ لیے، اسے گھر چھوڑنے کے بہانے جا رہا تھا، یہ سوالات بدستور میرا منہ چڑا رہے تھے۔
لیکن جوں جوں ہم بل کھاتی ہوئی کچی سڑک پر جیپ میں بیٹھے سفارتخانے سے کابل شہر کی طرف بڑھ رہے تھے، ہم نے دیکھا کہ بائیں جانب دور، یہاں سے بہت دور ہندوکش کی بلند چوٹیوں پر چاند کی چاندنی میں برف چمک رہی ہے۔ اب راز و نیاز سب پیچھے رہ گیا اور ہم دو اجنبی، اجنبی دیسوں سے آئے، اس اجنبی دیس میں دنیا کے بلند ترین مرتفعات میں سے ایک انتہائی دشوار گزار میدان پر اکٹھے، جڑ کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے محسوس کیا کہ گریچن بھی سمٹ کر میرے انتہائی قریب آ گئی ہے۔ میں نے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ جیپ اب شہر میں داخل ہو رہی تھی۔
تبھی ہم نے سامنے سڑک پر کئی لوگوں کو ٹارچ کی روشنیاں اٹھائے دیکھا۔ ان میں سے چند ایک گھوڑوں پر سوار تھے اور باقی پیدل ہی ادھر ادھر اندھیرے میں گلی کوچوں اور اردگرد کھیت کھلیانوں کی تلاشی لے رہے تھے۔ سڑک پر بھی لوگوں کا جم غفیر تھا۔ نور محمد نے گاڑی روک دی اور اتر کر معاملے کی خبر لینے گیا۔ وہ فوراً ہی واپس لوٹ آیا اور بتایا، 'بھیڑیوں نے ایک بوڑھے شخص کو آن کر دبوچ لیا۔ بیچارہ۔۔۔'
یقیناً یہ سب بہت تیزی سے، آناً فاناً پیش آنے والا واقعہ رہا ہو گا۔ پندرہ سے بیس بھیڑیوں کے جتھے نے بیچارے شخص کو آن لیا تھا اور چند منٹوں کے اندر ہی چیر پھاڑ کر رکھ دیا۔ اس کے بعد جتھا کہیں اور، مشرق کی جانب مزید شکار کی تلاش میں نکل گیا تھا۔ اس کے پیچھے کئی سپاہی روانہ کر دیے گئے تھے تا کہ بھیڑیوں میں چند ایک کو مار دیں تو اس طرح باقی جتھا ڈر کر بکھر جائے گا۔ نور محمد نے گاڑی آہستگی سے آگے بڑھائی اور وقوعے کی جگہ کے پاس سے گزرنے لگا۔ زمین پر خون کا چھوٹا سا تالاب نظر آ رہا تھا۔ ہم جلد ہی انگریزوں کے گھر پہنچ گئے۔
گریچن نے پوچھا، 'کیا تم اندر آؤ گے؟' میں نے سوچا کہ کل صبح تو ویسے بھی کوئی شخص گزشتہ شب کی جاندار محفل کے بعد دفتر وقت پر نہیں پہنچ پائے گا۔ پھر انگریزوں کے یہاں رات بھر خوب گپ شپ اور ہو سکتا ہے سیڑھیوں کے نیچے بوس و کنار بھی ہوا کرے؟ یہی سوچ کر میں نے حامی بھر لی۔ لیکن جوں ہی میں اندر داخل ہونے لگا تو مجھے نور محمد کا خیال آیا جو جیپ میں بیٹھا ہوا تھا، 'نور تم گھر جا سکتے ہو۔ میں پیدل چلا جاؤں گا' لیکن اس نے سنجیدگی سے کہا، 'اس وقت پیدل جانا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ رات کافی گہری ہے اور بھیڑیے بھی ابھی تک شہر کی گلیوں میں ہی ہیں'۔ مشرق کی جانب کافی شور و غل بلند ہو رہا تھا اور آس پاس گلیوں میں ہلچل تھی۔ میں نے ٹھہرنے کا ارادہ ترک کر لیا اور فیصلہ کیا کہ آج رات یہاں بسر کرنا مناسب نہیں ہے۔
'میرے خیال میں، میں نور محمدکو گھر تک چھوڑوں گا' میں نے معذرت کی، 'وہ بیچارہ صبح سے میرے ساتھ ہی مصروف ہے'۔
گریچن کے کندھے سے بھی جیسے بوجھ اتر گیا، 'میرا بھی یہی خیال ہے۔ یہ مناسب رہے گا'۔ میں فوراً ہی مڑا اور جلدی سے جیپ میں آ کر بیٹھ گیا۔ مجھے بعد میں احساس ہوا کہ میں نے گریچن کا گھر کے اندر چلے جانے کا بھی انتظار نہیں کیا۔
'چلو! بھیڑیوں کا پیچھا کرتے ہیں!' میں نے چلا کر کہا اور نور نے فوراً ہی گاڑی موڑ کر امریکی سفارتخانے کی مشرق میں ایک کے بعد دوسری تنگ گلیوں میں تلاشی شروع کر دی تا آنکہ ہم شہر کی نکڑ پر جنوب میں سپاہیوں سے جا ملے۔ سپاہی بھیڑیوں کی تلاش میں شمال کی طرف جا رہے تھے۔ ہم نے دیکھا کہ وہ اندھیرے میں بیٹری سے چلنے والی کئی ٹارچیں اٹھائے دریا کے کنارے جا رہے ہیں۔ گھپ اندھیرے میں دور سے وہ کئی روشنیاں تھیں جو پراسرار انداز میں ٹم ٹم کرتی نظر آ رہی تھیں۔
ہم جیپ روک کر یہیں ٹھہر گئے۔ دریا کے کنارے چاروں طرف برف ہی برف پڑی تھی جس پر چاندنی الگ چھنک رہی تھی۔ ایک قدیم شہر کی حد پر، جس کی بائیں جانب ایشیاء کے سر کا تاج ہندوکش سلسلہ نکلتا تھا اور دائیں طرف درہ خیبر تھا۔ شمال میں آمو دریا کا پاٹ اور سمرقند کے وسیع میدان تھے۔ مغرب میں دور ایک ایسی عجیب و غریب جھیل بھی تھی جو گرمی کے موسم میں بھاپ بن کر اڑ جاتی تھی۔ اسی جانب مزید دور نکل جائیں تو اصفہان اور شیراز آباد تھے۔مجھے یکدم وسطی ایشیاء کی وسعت اور بڑائی کا واقعی احساس ہوا۔ عظمت ہی عظمت تھی، یہ شان تقریباً آدھی دنیا محیط تھی۔ دنیا کے اس حصے میں، زمین کے چہرے پر برف کی چادر لپٹی ہوئی تھی۔ جیسے صدیقہ نے پچھلی صبح اپنی جانب متوجہ کرنے کے لیے خاکستری رنگ کے برقعے پر خوشبو لٹا رکھی تھی، اس وقت تاریکی میں خاموشی سے گزرنے والی سرد رات میں دریا کے کنارے مٹی پر برف کی چادر بھی مہک رہی تھی۔ فضا میں چاروں طرف پھیلے ہوئے برف سے جمے کھیتوں کی مٹیاری بو پھیلی ہوئی تھی جو نتھنوں کو تر کیے جا رہی تھی۔ دریا کے کنارے پر دور ٹمٹماتی ہوئی، بھیڑیوں کا پیچھا کرتی روشنیوں نے میری توجہ گھیر رکھی تھی، جیسے ان میں صدیقہ کا چہرہ چھپا ہے۔ ان روشنیوں میں بھی صدیقہ کے وجود کی کشش جتنی ہی طاقت تھی۔ فضا میں پھیلی خوشبو میں بازار کی باس بھی شامل تھی جو رات کے وقت بھی ویسی کی ویسی، بوجھل اور غلیظ تھی۔ اس مقام سے باغ بابر بھی قریب ہی تھا، جس کی دیواروں کے پیچھے سے اٹھتی صںوبر کے درختوں کی میٹھی اور تازہ مہک بھی سونگھائی دے رہی تھی۔ یہ وہ لمحات ہیں جنہیں میں مرتے دم تک نہیں بھول سکتا۔ایشیاء کی وسعت پیروں تلے تھی اور بلند و بالا ہندوکش کی بڑائی جہاں سے یہ بھیڑیے اتر کر آئے تھے، سر کے اوپر سائے کی طرح تنی ہوئی تھی۔ پہلی بار مجھ پر آشکار ہوا کہ میں کس قدر خوش قسمت آدمی ہوں جسے کابل میں بسر رکھنے، یہاں کام کرنے کا موقع ہاتھ آ گیا تھا۔ کابل کے بارے کیا کہتا؟ یہ مجھے اس وقت دور دراز اجنبی دیس میں کسی گمشدہ پرستان کی جادوئی سرزمین پر بچھا ہوا شاہی تخت محسوس ہوا۔
میری محویت کا عالم جنوب میں بندوق کی گولیاں چلنے سے ٹوٹ گیا۔ بندوقوں میں چمقاق جلنے سے کافی دور جلتی بجھتی چنگاریاں صاف دکھائی دے رہی تھیں، یعنی سپاہی اور جتھا ہم سے زیادہ دور نہیں تھے۔ اسی لمحے، جب بندوقیں چل رہی تھیں، چاندنی میں سپید برف کے اوپر اڑتی ہوئی چنگاریاں دیکھ کر مجھے یہی خیال آیا کہ روسی ادیب انہی راتوں کا ذکر کرتے تھکتے نہیں تھے۔ یہ روس کی سفید رات تھیں۔ یہ ایک سیلانی خیال تھا جو گولیوں کی تم تڑاخ میں بکھر کر رہ گیا۔
بھیڑیے دریا کی الٹی سمت میں، بنجر کھیتوں کے بیچوں بیچ جہاں برف کے سوا کچھ نہیں تھا دوڑتے ہوئے نظر آئے۔ یہ تعداد میں پندرہ یا بیس رہے ہوں گے۔ وہ اتنے جڑ کر دوڑ رہے تھے کہ انہیں گننا مشکل ہی نہیں، تقریباً ناممکن تھا۔ اس جتھے کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ کئی جانور نہیں بلکہ ایک بہت بڑی بلا، جس کے کئی سر اور آںکھیں، نوکیلے دانت بھی ہیں۔۔۔ ایک ہی سمت میں دوڑتی جا رہی ہے۔ یہ نہایت دہشت ناک نظارہ تھا۔ ایک بہت بڑی بلا برف پر سو کے لگ بھگ ٹانگوں کی مدد سے دوڑے جا رہی تھی۔ مجھے واقعی یوں لگا جیسے یہ بھوک کے ہاتھوں مجبور، برفانی تودوں سے پریشاں، مغرور اور بے قابو ایک ایسی طاقتور بلا ہے جو ایشیاء اور اس کے جناتی پہاڑوں نے ہم پر کھلی چھوڑ دی ہے۔
بھیڑیوں کے اس جتھے میں کسی بھیڑیے نے یقیناً میری اور نور کی بو سونگھ لی ہو گی کیونکہ پورا جتھا ایکدم راستہ بدل سیدھا ہماری طرف مڑ کر دوڑنے لگا تھا۔ لیکن بھیڑیوں کے سردار کو دور سے شکار کی بجائے صرف ایک مکینیکل جیپ ہی نظر آئی ہو گی جس کی ہیڈ لائٹیں پوری طرح روشن تھیں اور انجن گڑگڑا رہا تھا۔ نور نے جتھے کو اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر ہارن پر زور سے ہاتھ مار دیا جس سے جیپ غرانے کے ساتھ چیخنے بھی لگی۔ جانوروں نے ڈر کر راستہ بدل دیا اور پورا جتھا سرد رات میں اندھیرے کی تاریکیوں میں واپس گم ہو گیا۔
'یہ رہے۔۔۔ وہ گئے!' نور محمد نے گلا پھاڑ کر سپاہیوں کو اصل رخ دکھایا جو اس جتھے کے پیچھے پیچھے دوڑتے ہوئے ہمارے قریب پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے بندوقیں سیدھی کر کے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اندھیرے میں گولیوں کے کئی راؤنڈ چلا دیے۔ گولیاں تاریکی میں تیرتی ہوئی جتھے کا پیچھا کرتی گئیں تو میں نے خود کو منہ ہی منہ میں یہ بڑبڑاتے سنا کہ، 'خدا کرے کہ بھیڑیے بچ نکلے ہوں!'۔
افغان سپاہی بھیڑیوں کو بھگا کر لوٹے تو سیدھا جیپ کے پاس آ گئے اور ہم سے باتیں کرنے لگے۔ وہ ایک ایسے فرنگی کو جو پشتو بھی بول سکتا تھا، اپنے درمیان دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ کچھ دیر بعد ان کا افسر علیحدہ گاڑی میں سوار ہو کر پہنچ آیا اور اسی نے دو آدمیوں کا پہرہ لگا کر باقی سب کو رخصت دے دی۔ 'بہت جلد بہار کا موسم آ جائے گا' افسر نے پشتو میں کہا، 'پھر اگلے برس سردیوں تک بھیڑیوں سے جان چھوٹ جائے گی'۔
صبح کے چار بج چکے تھے لیکن ابھی اگلے چند گھنٹوں تک روشنی کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ نور نے گاڑی سٹارٹ کی اور مجھے گھر تک چھوڑنے کا ارادہ کیا لیکن میں نے اضطراری لہجے میں اس سے درخواست کی، 'چلو، ادھر چلتے ہیں۔ انگریزوں کے گھر چلتے ہیں!'۔ وہ سمجھ گیا۔ ہم وہاں پہنچے تو جیسا کہ میرا خیال تھا، کمروں کی روشنیاں ابھی گل نہیں ہوئی تھیں۔ میں نے دروازے پر دستک دی تو انگریز لڑکیاں مجھے دیکھ کر ہر گز حیران نہیں ہوئیں۔ بعض مرد بھی ابھی تک جاگ رہے تھے اور بیٹھے رات پیش کیے جانے والے ڈرامے کے بارے ہی باتیں کر رہے تھے۔ میں نے یہ کہہ کر اس محفل میں ہلچل پیدا کر دی کہ، 'اس کے بعد تو ہم ساری رات بھیڑیوں کا پیچھا کرتے رہے۔ ہم نے انہیں شہر کے مشرقی کنارے پر دیکھا تھا۔ پھر گولیاں چلیں اور وہ بھاگ نکلے۔۔۔'
'کیا وہ خوفناک تھے؟' گریچن نے سہم کر اس طرح پوچھا کہ مجھے بے اختیار پیار آ گیا۔ وہ بہت دلکش لگ رہی تھی۔ میں نے اسے سارا قصہ سنایا، بھیڑیوں کے بارے بتایا، کابل کے کنارے، برف کی چادر، ہندوکش کی بڑائی، ایشیاء کی وسعت اور روس کی سفید راتوں بارے بتایا، میں نے اسے سب کچھ دل کھول کر بتایا۔ ہم بہت دیر تک بیٹھے باتیں کرتے رہے۔ظاہر ہے، وہ تیز طرار تھی۔ ہنسی مزاق کرتی رہی۔ ٹوکیں لگاتی، قابو میں ہی نہ آتی تھی۔ طویل گفتگو، راز و نیاز، باتوں سے بات نکلتی رہی اور پھر سیڑھیوں تلے دیر تک، بہت دیر تک بوس و کنار بھی ہوتی رہی۔
-سوالات، تبصرے اور معلومات کے لیے سائیڈ بار میں رابطہ فارم استعمال کریں۔ شکریہ-

-000-

اس تحریر کو شئیر کریں
صلہ عمر سوشل میڈیا
صلہ عمر پر دوسری تحاریر